Tuesday, June 11, 2024

عالم سے سوال پوچھنے کے آداب

 
عالم سے سوال پوچھنے کے آداب
 
علم شرعی، نبوت کا علم ہے اور جب ہم کسی عالم دین سے کوئی شرعی مسئلہ پوچھتے ہیں تو یقینا اس کے لئے آداب اپنانے کی ضرورت ہے۔ بنابریں حالات و ظروف کے تئیں کچھ رہنما اصول آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔
(1)سلام کے ساتھ مسئلہ کا آغاز:
بہت سے لوگ بغیر سلام کئے اپنی بات شروع کردیتے ہیں، یہ غلط ہے ہمیں پہلے سلام لکھنا چاہئے اور صحیح سے سلام لکھنا چاہئے ۔ بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ یا تو انگلش میں مخفف سلام کرتے ہیں یا اردو میں غلط لکھتے ہیں ۔آپ تین طرح سے سلام لکھ سکتے ہیں ۔
السلام علیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
(2) تخاطب میں احترام : ہم جب کسی دنیاوی بڑے آدمی سے بات کرتے ہیں تو بڑی عزت واحترام سے بات کرتے ہیں ، ان کے مقام ومرتبہ کا خیال کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ عالموں سے مسئلہ پوچھتے وقت آداب بھول جاتے ہیں ۔ ہمیں عالم سے سوال کرتے وقت ان کے مقام ومرتبہ کا خیال کرنا چاہئے جیسے مولانا یا شیخ جیسے مناسب لفظ کے ذریعہ مخاطب کریں اور ادب واحترام سے سوال کریں ، عالم کو سر یا جناب کہہ کر مخاطب کرنا غلط کرنا ہے۔
(3) سوال مختصر اور واضح ہو: ہم اپنی بات کو لمبی کردیتے ہیں مگر بسا اوقات مسئلہ واضح نہیں ہوتا اس لئے جب سوال کریں تو پہلے سوچ لیں اور پھر مناسب الفاظ کا انتخاب کرکے واضح انداز میں اور مختصر سوال کریں ۔ خود بھی باربار سوال پڑھ کر دیکھیں کہ کیا مسئلہ واضح ہے پھر عالم کو بھیجیں ۔
(4)وقت کی قدر کریں: صرف ضروری سوال کریں اور فضول سوال ، بلامقصد سوال ، ادھرادھر کی الٹی سیدھی پوسٹ بھیج کر عالم سے چیک کروانا سوائے ضیاع وقت کے اور کچھ نہیں ہے جبکہ وقت بہت قیمتی ہے ، آپ بھی اس کی حفاظت کریں اور دوسروں کا بھی وقت بچائیں ۔
(5) ایک بار میں ایک مسئلہ پوچھیں : ہم ایک ساتھ علماء سے بہت سارے سوالات کرتے ہیں جبکہ یہ بڑی خطا ہے۔ آپ کو سوشل میڈیا کی سہولت میسر ہوئی ہے جس کے ذریعہ بڑے سے بڑے عالم سے رابطہ ہوجاتا ہے تو یہ ایک بڑی نعمت ہے ۔ الحمدللہ۔ اس سے مناسب طور پر فائدہ اٹھائیں ۔ کسی عالم سے کبھی کوئی مسئلہ پوچھیں تو ایک بار میں ایک سوال پوچھیں کیونکہ جو علماء سوشل میڈیا پر لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ان کے پاس آپ جیسے بہت سارے لوگوں کے سوال آتے ہیں ان سب کو جواب دینا ہوتا ہے پھر ان کے پاس اپنے مشاغل و ضروریات ہوتے ہیں ۔
(6) سوال پوچھتے وقت جلدبازی سے گریز کریں: عموما سوشل میڈیا نے لوگوں کو جلدباز بنادیا ہے اور لوگ دینی مسئلہ بھی جلدبازی میں پوچھنا چاہتے ہیں ، یہ علم وادب کے خلاف ہے ۔ ویسے جلدبازی کسی معاملہ میں ٹھیک نہیں ہے لیکن شرعی مسئلہ پوچھنے میں جلدبازی کرنا بالکل غلط ہے ۔
(7) ایمرجنسی سوال کے لئے قریبی عالم سے رابطہ کریں: بسا اوقات بہت ضروری مسئلہ ایمرجنسی کی صورت میں پیش آتا ہے ، ایسا کوئی مسئلہ سوشل میڈیا پر کسی عالم کو بھیج کر انتظار نہ کریں یا کبھی اس طرح سوال نہ کریں کہ یہ ایمرجنسی مسئلہ ہے اس کا فوری جواب چاہئے ۔ اس طرح کے مسئلہ میں آپ اپنے علاقہ کے معتبر عالم سے بذریعہ فون رابطہ کریں اور ان سے براہ راست مسئلہ پوچھیں ۔
(8)مسئلہ بیان کرنے میں حق نہ چھیائیں : کبھی کبھی اپنے فیور میں فتوی حاصل کرنے کے لئے بعض لوگ چالاکی سے سوال کرتے ہیں اور اصل حقیقت چھپاکر اس طرح سوال کرتے ہیں تاکہ اسے اپنے من مطابق جواب مل جائے ، یاد رہے اللہ آپ کی نیت اور آپ کے عمل کو دیکھ رہا ہے  اس لئے آپ سوال کرتے وقت حق بات ہی  لکھیں یا بولیں ۔
(9) حق ملنے پر تسلیم کریں: آپ نے کسی عالم سے کوئی فتوی حاصل کیا اور فتوی قرآن وحدیث کی روشنی میں ہو تو آپ اس پر عمل کریں بھلے وہ آپ کے من موافق نہ ہو، کوئی مسئلہ شریعت سے ثابت ہوجائے اس پر ہمیں عمل کرنا چاہئے اور اس میں کسی قسم کا تعصب نہیں برتنا چاہئے ۔
(10) جس نے رہنمائی کی ان کا شکرگزار بنیں : جن سے آپ دین پوچھتے ہیں اور وہ اپنا وقت نکال کر آپ کو جواب دیتے ہیں تو جواب ملنے پر ان کا شکریہ ادا کریں یعنی بدلہ میں کم ازکم جزاک اللہ خیرا کہیں ۔
(11) جواب نہ ملنے پہ  دوسرے عالم سے رابطہ کریں: ممکن ہے کہ کبھی آپ کو کسی عالم سے پوچھنے پر اپنے سوال کا جواب نہ ملے ، اس کے متعدد وجوہات ہوسکتے ہیں ، یہاں ہمیں چاہئے کسی دوسرے معتبر عالم سے وہ مسئلہ پوچھ لیں ، آج زمانہ گلوبل ہوگیا ہے اور دنیا کے کسی کونے میں موجود عالم سے مسئلہ پوچھنا اور جاننا آسان ہوگیا ہے ۔
(12)تحریری اہم مسئلہ مستند ادارہ سے حاصل کریں: کسی کو تنازع کے حل کے لئے تحریری فتوی کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ اسے  سماج یا فریق مخالف کو دکھاسکے  مثلا طلاق ، خلع، وراثت ، تجارت اور مالی حقوق وغیرہ جیسے مسائل ۔ ایسی صورت میں  اپنے علاقہ کے سلفی ادارہ سے رابطہ کریں اور ان سے فتوی حاصل کریں وہ آپ کو ادارہ کے لیٹرپیڈ پر دستخط ومہرکے ساتھ فتوی دیں گے ۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں ادب واحترام کے ساتھ علماء سے علم سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم جو علم حاصل کریں اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
 

مکمل تحریر >>

Tuesday, November 8, 2022

تقریر و تحریر میں آیت و حدیث کا نمبر بتانا

 
تقریر و تحریر میں آیت و حدیث کا نمبر بتانا

مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ
 
قرآن و حدیث دین کے ماخذ اور اس کی دلیل ہیں ۔ ہمیں کسی بھی مسئلہ میں دینی رہنمائی چاہئے تو انہی دو کتابوں میں دلیل تلاش کرنی ہے یا اس بات کو یوں کہیں کہ جب ہم قرآن یا حدیث کی روشنی میں کوئی مسئلہ بیان کرتے ہیں تو آیت اور حدیث ذکر کرتے ہیں ۔
کسی مسئلہ میں حوالہ کے طور پر آیت اور حدیث ذکر کردینا ہی کافی ہے ، عہد صحابہ میں دینی مسئلہ اسی طرح بیان کیا جاتا تھا کہ قرآن میں اللہ نے یہ فرمایا اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا۔ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، دین میں نئی نئی چیزیں داخل ہوتی گئیں بلکہ یہ کہہ لیں جس قدر اسلام کے نام پر گمراہ فرقے بنتے گئے ان کے ذریعہ دین کے نام پر نئی نئی باتیں پھیل گئیں۔ ایک عام آدمی کےلئےصحیح اور غلط میں فرق کرنا دشوار ہوگیا۔
قرآن کی حفاظت اللہ نے لے رکھی ہے ، اس وجہ سے الحمد للہ قرآن مکمل محفوظ رہا لیکن حدیث کچھ مدون اور کچھ بکھری پڑی تھیں ، یہی وجہ ہے کہ مکرکرنے والے جھوٹی جھوٹی باتیں گھڑ گھڑ اسلام کی طرف منسوب کرنے لگے ، ایسے میں اللہ تعالی نے نیک لوگوں کو حدیث کی تدوین کی توفیق دی اور اس طرح احادیث بھی مدون ہوگئیں تاہم امام بخاری وامام مسلم کے علاوہ اکثر محدثین  نےتدوین حدیث میں صحت  وضعف کا  اس طرح التزام نہیں کیا بلکہ حدیث کے نام سے موسوم کلام کو اپنی اپنی کتابوں میں جمع کردیا یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ تمام کتب احادیث میں صحیح وضعیف دونوں قسم کی احادیث پائی جاتی ہیں۔ اس کے پیچھے بھی ان محدثین کی نیک نیتی ہی تھی مگر اہل بدعت وتصوف اورگمراہ لوگوں نے ان کتابوں میں موجود ضعیف احادیث کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ محدثین نے اللہ کی توفیق سے ان کتب کی احادیث کی صحت و ضعف کو بھی بیان کردیا ہے مگر خواہش پرست لوگ قیامت تک ضعیف و موضوع احادیث سناسناکرسادہ لوح  عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے اور بتاتے رہیں گے دیکھو، یہ بات حدیث میں آئی ہے۔
دین اسلام کے صاف شفاف چہرے کو داغدار کرنے والے جھوٹے مسلمانوں نے جہاں ضعیف وموضوع احادیث کا سہارا لیا وہیں قرآنی آیات کی من مانی تفسیر وتشریح کی ، صحیح احادیث کا غلط مفہوم بیان کیاچنانچہ اس طرح بھی عوام کو گمراہ کیا گیا اور گمراہ کیا جارہا ہے ۔
جو علمائے حق ہیں وہ صوفیوں ، بدعتیوں ، گمراہوں اور باطل پرستوں کی فریب کاریوں سے بالکل واقف ہیں اور احقاق حق اور ابطال باطل کے لئے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں لیکن اہل باطل کی کوششوں کے مقابلے میں اہل حق کی کوشش کم ہونے کے سبب عوام کی اکثریت گمراہی کا شکار ہے۔
ایسے حالات میں جب امت کو جھوٹی دلیل دے کریا سچی دلیل کا غلط معنی بتاکر گمراہ کیا جاتا ہو ہمارے لئے بہتر ہے کہ قرآن وحدیث کے نصوص کا حوالہ بھی پیش کریں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ حوالہ پیش کرنا کوئی غلط بات ہےیا کسی ڈاکٹر وانجینئر کی تقلید ہے بلکہ جب سے کتابیں مدون ہوئیں تب سے حوالہ ذکر کئے جاتے ہیں تاکہ اصل مرجع سے حوالہ کو ملایا جاسکے ۔
اب رہا مسئلہ قرآن کی آیت نمبر اور حدیث نمبر کا تو میں نے بتلایا کہ یہ اسلاف سے ہی روایت چلی آرہی ہے تاہم اس وقت حوالہ میں آسانی پیدا ہوگئی ہے۔
نبی ﷺ کا ایک فرمان جو صحیح بخاری میں ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اس وقت جو بھی عالم تقریر کرے یا تحریر لکھے، صحیح بخاری کی حدیث ذکر کرتے وقت صحیح بخاری کا حوالہ ضرور ذکر کریں گے ۔ مذکورہ کتاب میں نبی ﷺ کا فرمان ہے: "ام القرآن هي السبع المثاني والقرآن العظيم"(صحیح البخاری:4704)
ترجمہ:ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے سورہ فاتحہ کو سبع مثانی کہاہے  یعنی سورہ فاتحہ  سات آیتوں والی سورت ہے،  نبی ﷺ کا آیات کی تعداد بیان کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپﷺ بھی آیات شمار کرتے تھے۔ جب اسی طرح کوئی مقرر آیت پیش کرکے نمبر بتاتا ہے تاکہ لوگوں کے لئے مصدرتک جلد پہنچنا آسان رہے، اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مفیدسے مفید تر ہے ۔
ماخذ کی تدوین کے  بعد کتب ومقالات اور فتاوی میں حدیث کا مکمل حوالہ ہمیں ملتا ہےیعنی نام کتاب، جلد نمبرپھرکس کتاب اور کس باب میں ہے ، احادیث کی تخریج میں بھی یہی اہتمام کیاجاتا ہے۔ اب چونکہ احادیث پہ رقم درج کردیا گیا ہے جوکہ پہلے نہیں تھا تو حوالہ میں کتاب اور باب ذکر کرنے کے بجائے نمبر بتا دینا کافی ہوجاتا ہے ، گویا حدیث کی کتاب وباب بتانے کا مقصد بھی وہی تھا جو اس وقت حدیث نمبر بتانے کا ۔
ایک حافظ قرآن کو بھی بسا اوقات ایک آیت تلاش کرنے میں وقت لگ جاتا ہے اور ایک عالم کو بھی آیت اور حدیث تلاش کرنے  میں محنت لگتی ہے پھر عوام کے لئے یہ کام کس قدر دشوار ہوگا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔
اس لئے میں سمجھتا ہوں اس وقت قرآن کی آیت اور حدیث کا نمبر فراہم کرنے میں جہاں اہل علم کے لئے آسانی ہےوہاں عوام کے لئے بھی بیحد آسانی ہے ۔ اس آسانی کا فائدہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی  بھی بآسانی نمبر کے ذریعہ قرآن میں اور حدیث  میں اصل دلیل دیکھ کر اطمینان قلب کرسکتا ہے ، بلکہ بہت سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی سیدھی رہنمائی کا سبب بن سکتا ہے اور واقعتا یہ سبب بن بھی رہاہے، مجھے اس کا تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ اگر پرانے حوالہ کی طرح حدیث بتائی جائے یعنی نام کتاب، جلد نمبر، کتاب اور باب تو عام آدمی کے لئے دشوار حوالہ ہے جبکہ نمبر کے ذریعہ بتایا گیا حوالہ سب کے لئے یکسان مفید وآسان ہے ، اسی غرض سے نمبر بھی دیا گیا ہےجبکہ یہ نمبر پہلے نہیں تھا۔
ان سارے حقائق کی روشنی میں ایک پڑھا لکھا آدمی تقریر میں آیت نمبر اور حدیث نمبر بتانے کا مذاق اڑائے تو  اس کا مطلب ہےیا تو وہ عوام کی پہنچ سے دوراور ان کی ضرورت سے ناواقف ہے یا کسی کے کام سے حسد ہے۔
بہرحال قرآن کی آیات اور احادیث پر نمبرڈالنے کا کام علماء نے ہی کیا ہےاور امت کی بہتری و فائدے کے لئے کیا ہے، یہ کسی ڈاکٹراورانجینئر کا کام نہیں ہےاس لئے جو تقریرمیں آیت وحدیث نمبر بیان کرنے کو کسی ڈاکٹر کی تقلید کہتے ہیں ان کو اپنی معلومات واسلوب درست کرنا چاہئے ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, January 12, 2022

کہیں یہ طریقہ رواج نہ پاجائے ؟؟؟؟

 

کہیں یہ طریقہ رواج نہ پاجائے ؟؟؟؟

مقبول احمد سلفی

اسلامک دعوۃ سنٹر-مسرہ -طائف

شہری جمعیت اہل حدیث حیدرآباد وسکندرآبادکےمرکز لنگرہاوس میں یکم جنوری کو ایک میٹنگ طلب کی گئی جس میں صوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ کے ذمہ داران بشمول شیخ حسین مدنی کو بھی مدعوکیا گیا۔ معاملہ میاں بیوی کے درمیان کا تھا ،ایک شوہر کی طرف سے اپنی بیوی پرکچھ الزام تھےجو مرکزکی اس بیٹھک میں اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھی۔ اسی مسئلےسے متعلق رومن اردومیں ایک درخواست دی گئی تھی جس کو حل کرنے کے لئے شہری اور صوبائی جمعیت کے ذمہ داران مرکز میں جمع ہوئے تھے ۔

ابھی اس بیٹھک میں بحیثیت ملزم ایک عورت تھی ، اسے اپنے الزام کے معاملے میں صفائی پیش کرنی تھی مگر اپنا الزام رفع کرنے کی بجائے اس نے سب کی توجہ دوسری طرف موڑ دی اور کچھ منٹوں میں اب ایک دوسری شخصیت کو موردالزام ٹھہرادیاجن کے بارے میں عوام کے علاوہ علماء طبقہ بھی حسن ظن رکھتاہےاور علمی خدمات کی وجہ سے وہ لوگوں میں قدرکی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔

عورت کی بات جاری ہی تھی کہ ایک شخص مجلس سے اٹھ کر شیخ حسین مدنی کو مارنا شروع کردیتا ہے ، اس کو دیکھ کئی افراد مارنے دوڑتے ہیں اور بری طرح مارتے ہیں حتی کہ موبائل چھین لیاہے اور جبرا استعفی لکھوایا جاتا ہے ۔ہم جیسے بہت سارے لوگوں کو جمعیت اہل حدیث کے پلیٹ فارم سے اس قسم کاگھناونا واقعہ دیکھنے اور سننے کوملا یہ بیحدافسوسناک ہے ۔

اس معاملے میں ایک بڑا خطرہ جو مجھے محسوس ہورہا ہے یہ ہے کہ جس طرح قابیل نے ہابیل کو قتل کرکے دنیا کو قتل سے متعارف کرایا اور یہ طریقہ دنیا میں رائج ہوگیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے (گناہ کا) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی پڑے گا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی۔(مسلم7321)

کہیں یہ افسوسناک واقعہ بھی اہل علم سے بغض وحسد کرنے والوں اور شرپسندوں کےدرمیان رواج نہ پاجائے ۔الحفظ والاماں

ا س واقعہ میں جمعیت وجماعت دونوں کے لئے عبرت کا سامان ہے۔ وائرل ویڈیو سے جو صاف صاف معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ میاں بیوی سے متعلق مالی معاملات(درخواست کے تناظر میں ) کے حل کے لئے شہری جمعیت حیدرآباد وسکندرآباد نے صوبائی جمعیت کے ذمہ داروں کو بھی بلایا اور اس پورے معاملے کو رکارڈ کرنے کے پہلے سے منصوبہ بنایا مگر پہلے سے ٹھوس ایجنڈا طے کرکےذمہ داران وحاضرین کو اسی ایجنڈے کے تحت گفتگوکرنے کا پابند نہیں بنا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ملزمہ عاقلہ کئی منٹ تک مالی معاملہ سے ہٹ کراپنی خدمات بیان کرتی رہی اور شیخ حسین مدنی پر مختلف الزامات لگاتی رہی مگر کسی ذمہ دار نے اسے نہ ٹوکا اور نہ اسے روکا ، آزادی سے بولنے دیا گیا یہاں تک کہ ملزمہ سے ثبوت طلب کئے بغیراور فریق مخالف سے وضاحت حاصل کئے بغیر کئی افراد نے شیخ کو زدوکوب کیا ۔یہ حقیقت سنی سنائی نہیں بلکہ رکارڈ شدہ ویڈیو سے ظاہر ہے ۔میٹنگ ہال میں جو کچھ ہوا وہ رکارڈ ہوا ہی ، اس رکاڈنگ نے جمعیت اور علماء کے تئیں جماعت میں بیحد انتشار برپا کیا۔

اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے میں چند امور ذکر کرنا چاہتا ہوں جو جمعیت وجماعت دونوں کے لئے اہم ہیں ۔

(1) اس معاملے میں سب سے اہم ترین معاملہ ایجنڈے کا ہے ، غورکرنے کا مقام ہے کہ شہری جمعیت کے ساتھ صوبائی جمعیت کی بیٹھک ہے اور ایجنڈا طے نہیں ہے ، ایجنڈارومن اردو میں حاصل شدہ کئی صفحات پر مشتمل درخواست ہے ، اس درخواست سے جو بات سمجھ میں آجائے یا جس سطر پہ نظر چلی جائے اس پہ بات شروع کردینی ہے۔اگر یہ دعوی کیاجائے کہ ایجنڈا طے شدہ تھا تو یہ دعوی باطل ٹھہرے گا کیونکہ عاقلہ کی جن باتوں سے فتنہ برپا ہوا وہ درخواست میں مذکور نہیں ہے پھر ایجنڈا طے کیسے ہوا؟ اس لئے چھوٹی بڑی تمام قسم کی جمعیات کو چاہئے کہ کسی بھی میٹنگ کے لئے ایجنڈا پہلے سےطےشدہ ہواور حاضرین کو اسی کے تحت گفتگو کی اجاز ت ہو۔

(2)جمعیت کی میٹنگ میں ایجنڈے کے تحت مدعو کئے گئے تمام افراد گفتگو میں شریک ہوسکتے ہیں مگر کسی کی غلطی ذکر ہوجانے پر دوچندافرادکا اپنی مرضی سے سزا دینے لگ جانا نہ صرف باہم مشورہ کے خلاف ہے بلکہ سماجی اور قانونی اعتبار سے بھی جرم ہے ۔ اگر لنگر ہاوس میں کسی عورت نے ایک عالم دین پر الزام لگایا تو اس کا فیصلہ مکمل کمیٹی کرتی پھر کوئی قدم اٹھایا جاتا مگر یہاں یک طرفہ بات سن کر، مجلس کے فیصلے ، دلائل اور فریق مخالف کی پرواہ کئے بغیر چندلوگوں نے اپنی مرضی سے عالم کو مارا پھر انہوں نےبغیر اتفاق رائے کے استعفی طلب کیاجس سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں یہ پہلے سے منصوبہ بندی تو نہیں ؟یہاں تک کہ رسوائی والے مناظر قید کرکے وائرل بھی کردئے گئے نہ عالم کی عزت کا خیال رہا اور نہ ہی جمعیت وجماعت کی پرواہ رہی۔

(3) چونکہ جمعیت عوام کی خیروبھلائی کے لئے بنائی جاتی ہے اس لئے کسی کوعہدہ دیتے وقت صلاحیت وصالحیت دونوں دیکھنا ازحدضروری ہے ۔غلطی سے اگر ایسا کوئی ذمہ دار منتخب ہوگیا ہو جو جماعت کا خیرخواہ نہیں تو اسے برطرف کردینا چاہئے ۔

(4) شہری جمعیت حیدرآبادوسکندرآباد اورصوبائی جمعیت تلنگانہ کے حالات سے معلوم ہوتا ہے مرکزی جمعیت اہل حدیث دہلی کی نگرانی میں ان دونوں کی تنظیمی باڈی کو درست کیا جائے تاکہ جمعیت اور جماعت کو فتنہ وفساد سے محفوظ رکھا جائے ۔

(5)حساس قسم کے مسائل کے حل کے لئے ارباب حل وعقد ہی مدعو کئےجائیں اور ایسے لوگوں کو اس بیٹھک سے دور رکھاجائے جو مسائل حل کرنے کے بجائے فتنے کا سبب بن سکتے ہوں۔

(6)بہت سے مسائل علمی شخصیات اوراصحاب شر ف کی عزت وآبروسے جڑے ہوتے ہیں ، ایسے مسائل عوام میں ظاہر ہونے سے پورے علمی حلقے کی رسوائی ہوتی ہے ایسے مسائل کے حل کے لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ موقع پرستوں کو کسی قسم کا شہ نہ ملے بلکہ یہاں ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ آن رکارڈ ہواور نہ ہی کسی اور ذریعہ سے اس کی تشہیر ہوجیساکہ مذکور حادثہ سے ہمیں سبق ملا۔

(7) جہاں تک مسئلہ عوام کا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ عوام سے پہلے عاقلہ کا کام تھا کہ اسے اپنے مسئلے میں پوری طرح سوچ بچارلینا چاہئے کہ کیا بولنا ہے ؟ زنا کا معاملہ بچوں کاکوئی کھیل نہیں ہے ۔اگر اس نے واقعی جان بوجھ کر شیخ پرتہمت لگائی تھی تو فاسقہ وفاجرہ کہلائے گی لیکن اگر سچ بیان کررہی ہے اس یقین کے ساتھ کہ زنا کی تہمت لگاکر میں چار عینی گواہ نہیں پیش کرسکوں گی تو ایسی صورت میں اس مسئلے کو چھیڑنا دین سے عدم واقفیت کے ساتھ ایک عالم کی آبروزیری کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ زنا کی تہمت پر چار عینی گواہ نہ پیش کرسکے تو الزام لگانے والے حدقذف ہےبلکہ تہمت لگانے والوں میں شامل سب قابل حد ہیں جیسے واقعہ افک میں حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے ساتھ ہوا۔ اس لحاظ سے مارنے والوں کو دہری سزا ملنی چاہئے، ایک سزاظلم کی اور دوسری سزاتہمت میں شامل ہونے کی ۔یہ الگ بات ہے کہ متہم اگر معاف کردے تو حدقذف اورظلم کی سزا دونوں معاف ہوسکتی ہیں۔

(8) واقعہ افک میں عوام کی یہ رہنمائی موجود ہے کہ اگر اچھے لوگوں پر تہمت لگائی جائے تو تہمت سنتے ہی فورا اسے جھوٹ اور بہتان قرار دے ۔ کیا آپ نے اوپر کی باتوں سے یہ نہیں جان لیا کہ خود تہمت لگانے والی/والا اگر چار گواہ پیش کرنے کی قدرت نہ رکھتی/ رکھتا ہو تو اسے بھی اپنی زبان بندرکھنی چاہئے پھر عوام اس مسئلے میں کیوں کر اٹکل لگائے گی ۔ ہاں جسے اپنی آخرت برباد کرنی ہووہ اٹکلیں لگائے اور بے قصور کو جو چاہے کہے ۔

(9)واقعہ افک سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متہم نے اپنی برات کا اظہار نہیں کیا بلکہ الزام لگانے والے کے ذمہ ثبوت وگواہ پیش کرنا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے : البینۃ علی المدعی یعنی دلیل دینا دعوی کرنے والے ذمہ ہے ۔ اسی طرح یہاں پر رسول اللہ کا یہ فرمان بھی یادکرنا چاہئے: اگر صرف دعویٰ کی وجہ سے لوگوں کا مطالبہ مان لیا جانے لگے تو بہت سوں کا خون اور مال برباد ہو جائے گا(صحیح مسلم:۱۷۱۱)

اس لئے شیخ حسین مدنی کی طرف سے وضاحتی بیان طلب کرنا صحیح نہیں ہے وہ اس وقت کس صدمے میں ہوں گے وہی جان سکتے ہیں ۔ انہوں نے ایف آئی آر کیا تھا جو صفائی طلب کرنے والوں کے حق میں کافی ہے اگرچہ کسی کے کہنے پہ انہوں نے واپس لے لیا۔

(10)واقعہ افک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مومن پر زناکی تہمت لگائی جائی اور گواہ نہ پیش کئے جاسکیں تو پھر مومن کی برات کا اعلان کیا جائے جس طرح اللہ نے سیدہ عائشہ کی برات کا اعلان کیاتاکہ  اس کی عزت دوبارہ بحال ہوسکے لہذا جمعیت وجماعت کے ذمہ واجب ہے کہ ملزمہ اگر گواہ نہ پیش نہ کرسکے تو شیخ حسین مدنی کی برات کا اعلان کریں ۔

جان رکھیں کہ ایک عام مسلمان کی عزت پامال کرنا حرام ہے تو جو وارثین انبیاء ہیں ان کی عزتوں کو اچھالنا کس قدر سنگین جرم ہے ۔ ہم میں سے کوئی بھی گناہوں سے پاک نہیں ہے مگر ہم سب کو اپنی اپنی عزت پیاری ہے اور اسلام نے سب کی عزتوں کی حفاظت کی ہے پھر ہم کیوں عداوت ودشمنی میں کسی کی عزت اچھال دیتے ہیں ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام ہمیں نہیں معلوم کہ جو کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے گا اللہ تعالی قیامت کے روز اس کے عیب کو چھپائے گا۔ (مسلم:2699)

منکر پر نکیر بلاشبہ کرنا چاہئے مگر حکمت کے ساتھ اور تنہائی میں ۔جیسے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا عیب کوئی نہ جانے ویسے ہرکوئی چاہتا ہے اس کا عیب دوسرا نہ جانے ۔ اس پہلو پر تفصیل سے میں نے "رازچھپانے کے فوائداور اس کوظاہر کرنے کے نقصانات" میں ذکرکیا ہے جو میرے بلاگ، محدث فورم ، اردومجلس فورم اور دیگر سوشل سائٹس پر مل جائے گا۔ اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه

مکمل تحریر >>

Wednesday, December 1, 2021

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

 
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
کل رات میں نے ہاشمی میاں کی ایک تقریر سنی جو تین مہینے قبل یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ہے ، پوری تقریر حکومت کے خلاف تھی ، اس نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان آدم علیہ السلام کی سرزمین ہے ہم لوگ انہی کی اولاد ہیں اس لئے تمہاری (ہندوں)گھر واپسی ہوگی ہماری نہیں۔ کل تک یہ حضرت حکومت کو بتلاتے رہے کہ اہل حدیث دہشت گرد ہے، دیوبندی دہشت گرد ہے ، جماعت اسلامی دہشت گرد ہے حتی کہ اس نے حکومت سے پکڑوانے کی پہچان بھی بتلائی ہے ۔پکڑوانے کا طریقہ یہ ہے کہ دہشت گردی کاموں میں ملوث افرادسے سوال کرو ماتم وعزاداری کرتے ہو کیا ؟ بولے ہاں تو سمجھو شیعہ ہے ۔ سوال کرو قبر پہ پھول چادر چڑھاتے ہو کیا ؟ بولے ہاں تو سمجھو بریلوی(سنی) ہے ۔ اور جو کہے دونوں غلط ہے ، دونوں بدعت ہے تو سمجھو وہابی ہے۔یہی دہشت گرد ہوگا کیونکہ وہابی ہی دہشت گرد ہوتا ہے۔
نوٹ: ہاشمی کی نظر میں دہشت گردی بریلویوں کی مخالفت کا نام ہے۔
بہرکیف ہاشمی کی نئی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی کانفرنس کی طرح اب کوئی کانفرنس کرانا مشکل ہوگیا ہے یا حکومت سے وفاداری کا صلہ ملنا بند ہوگیا ہے اس لئے اب حکومت کو للکاررہا ہے۔ بات تو صحیح کررہا ہے مگر پہلی جیسی نہیں ہے اس لئے سوچنے والی ہے۔
اس بیان سے ایک بات اور صاف ہوجاتی ہے کہ حکومت کے مسلم مخالف ایجنڈے میں اس وقت بریلوی بھی پوری طرح شامل ہے ، انفرادی طور پر کسی میرجعفر اور میرصادق کو کرامات سے نوازا جاتا ہو یہ بعید نہیں ہےاس لئے اب بریلویوں کو حکومت کے تئیں خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔
اس پس منظر میں مولانا کلیم صدیقی ، عمر گوتم اور ان کے بیٹے عبداللہ کی گرفتاری کو دیکھتے ہیں اورپھر دیوبندی اور بریلوی علماء کے مختلف بیانات سنتے ہیں جن میں اب ڈاکٹر ذاکر نائک کے ساتھ برے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے تو قوی امکان کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے دیوبندیوں اور بریلویوں نے حکومت کو معصوم مسلمانوں کے خلاف (بشمول ذاکر نائک) جو مواد فراہم کرنا تھا کردیا اور حکومت نے انہیں جو اکرامیہ دینا تھا دے دیا۔ اب حکومت کا منشا بلاتفریق تمام مسلمانوں پرقہر برپا کرنا ہے۔ حالات بتارہے ہیں کہ اللہ نے ڈاکٹرذاکر نائک کی حفاظت فرمائی اور مناسب وقت پر ملک سے نکل جانے کی توفیق دی ورنہ آج وہ جیل کی سلاخوں میں نہیں ہوتے بلکہ غائب کرکے قتل کردئے گئے ہوتے۔
اہم نصیحت:
سطور بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اوپر حکومت کے مظالم ہمارے اپنوں کی کرم فرمائی ہے جسے ایک مصرعہ میں اس طرح کہا جائے گا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ہمارے درمیان اتحاد ہو اور ہم میں کوئی میر جعفر کا کردار ادا نہ کرے تو کبھی دشمن ہم پر غالب نہ آئے گا۔ اللهم اهد قومي فانهم لا يعلمون
مقبول احمد سلفی طائف-سعودی عرب
 
مکمل تحریر >>

Sunday, June 14, 2020

موت: ایک بہترین واعظ وناصح



موت: ایک بہترین واعظ وناصح

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف -مسرہ

قرب قیامت کی ایک نشانی زمانے کی برق رفتاری اور اس کا ایک کٹورے میں اس طرح سمٹ جانا ہے کہ آن کی آن میں ایک کونے کی خبر دوسرے کونے میں پھیل جائے ۔ آج صورت حال ایسی ہی ہے کہ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والا کوئی حادثہ لمحہ بھر میں کرہ ارض پر منشر ہوجاتا ہے اور ہر چھوٹا بڑا اس سے پل بھر میں آگاہ ہوجاتا ہے ۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگانا کہ دنیا اپنی انتہا اور ہم قیامت سے بیحد قریب ہیں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔
موت کا سلسلہ زندگی کی ابتداء اور کائنات کی تخلیق کے وقت سے جاری ہے ، ہر دور میں زندہ لوگوں نے اپنے وقت میں مرنے والوں کو دفن کیا ہے۔ یہ سلسلہ ابتدائے آفرینش سے  آج تک بدستور قائم ہے تاہم آج کی روایت میں ایک نئے باب کا بایں طور اضافہ ہوا کہ پہلے والے اپنے قرب وجوار کی موت سے ہی آگاہ ہوپاتے جبکہ آج کے دور والے دنیا بھر میں مرنے والوں سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور برق رفتار سواریوں سے دور دواز کی تدفین میں شامل بھی ہوجاتے ہیں ۔
کل اور آج کی موت میں ایک بڑا فرق یہ بھی نظر آتا ہے کہ گزشتہ زمانے والے ایک موت سے بھی کانپ جایا کرتے تھے جبکہ آج ہم سیکڑوں موت دیکھ کر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔سوشل میڈیا پرلمحہ بہ لمحہ موت کی خبریں سنتے اور پڑھتےہیں،جابجا قتل وخون کے خوفناک مناظر دیکھتے ہیں ، زندگی کواکثرلہولہان اور موت کی ارزانی وفراوانی دیکھتے ہیں جس کی وجہ سےہمارے  دل سخت اور نصیحت قبول کرنے سے گریزاں ہیں ۔
موت ایک بہترین ناصح ہے اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس سے ہمارے اندر آخرت کی فکر پیدا ہو، دنیا کی رنگینی اور عیش وعشرت والی زندگی سے بے رغبتی پیدا ہواور دل میں نیک کاموں کا جذبہ اور برے کاموں سے بچنے کا داعیہ موجزن ہو۔ بغیر جنازہ کےبھی قبرستان کی زیارت اس لئے مشروع ہے تاکہ ہم نصیحت حاصل کریں اور موت سے پہلے آخرت میں نجات کا سامان مہیا کرلیں ۔ذرا ٹھہرکراور تدبر کے ساتھ قبرستان کی زیارت کی دعا پر غور کریں تو بند آنکھوں سے محسوس ہوگا کہ ان مردہ لوگوں میں ایک لاش ہم بھی ہیں ، ہم بھی ان لوگوں کی طرح ایک قبر میں اکیلے لیٹے ہیں ، منکرنکیر ہم سے بھی سوال کررہے ہیں، اس قبرکی تنہائی اور اس کے فتنے کا شکار ہم بھی ہوسکتے ہیں ۔
صحیح مسلم میں الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ تین طرح کی دعائیں وارد ہیں ۔
1-السَّلَامُ علَيْكُم أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ المُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وإنَّا، إنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ، أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ العَافِيَةَ{صحيح مسلم:975}
ترجمہ:سلام ہو تم پر اے صاحب گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں سے اور تحقیق ہم اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ ہم اپنے اور تمہارے لئےعافیت کی دعا مانگتے ہیں۔
2-السَّلَامُ علَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ المُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ المُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وإنَّا إنْ شَاءَ اللَّهُ بكُمْ لَلَاحِقُونَ{صحيح مسلم:974}
ترجمہ:سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلےدونوں پر رحم فرمائے،اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ہی والے ہیں۔
3-السَّلَامُ علَيْكُم دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ ما تُوعَدُونَ غَدًا، مُؤَجَّلُونَ، وإنَّا، إنْ شَاءَ اللَّهُ، بكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الغَرْقَدِ{صحيح مسلم:974}
ترجمہ:اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے!تم پر اللہ کی سلامتی ہو،کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا،وہ تم تک پہنچ گیا۔تم کو(قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی،اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔اے اللہ!بقیع غرقد(میں رہنے ) والوں کو بخش دے۔
ان دعاوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایک تعلیم یہ دی ہے کہ میت کے حق میں دعائے عافیت وسلامتی کی جائے اور دوسری بات یہ بتائی کہ ہم بھی تمہارے پاس جلد ہی اللہ کے حکم سے آنے والے ہیں ۔ کیا قبرستان کی زیارت کرتے اور یہ دعا پڑھتے ہوئے دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی حقیقت اور موت کا یقینی آنا معلوم نہیں ہوتا ؟ کیا ہمیں نہیں لگتا ہے کہ بظاہر اس وقت ہم قبرستان میں کھڑے ہیں مگر ہماری حقیقت بھی ان مردوں کی سی ہے ؟
اس لئے کہتا ہوں کہ موت ایک بہترین واعظ اور عمدہ ناصح ہے ، یہ نہ لمبی چوڑی تقریر کرتی ہے اور نہ بڑی بڑی تحریروں سے نصیحت کرتی ہے بلکہ موت کے ایک منظر سے عبرت ونصیحت کی ہزار دستانیں بیان کرتی ہے ۔ موت کی خبرمیں، کفن اورجنازہ کے لبادہ میں ، دفن اور قبرکےمنظر میں سوسوپندونصائح ہیں ۔ ایک لفظ میں یوں سمجھیں کہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے ایک موت میں ہزار ہانصیحتیں پوشیدہ ہیں جبکہ ناقبت اندیش اور انجام سے بے پرواہ لوگوں کے لئے ہزار اموات بھی کوئی نصیحت آموز نہیں ۔
موت کے دامن میں اورمیت کے جنازہ میں سراپا نصیحت ہی نصیحت ہے ۔ ایک خوبصورت بدن، فولادی جسم وجان، شعاعوں اور کرنوں کو مٹھی میں قید کرنے والا انسان ، اپنی خوبیوں یا خامیوں سے دنیا میں اجالا یا اندھیرا بکھیرنے والا آدمی آج کس قدر بے حس وحرکت پڑا ہے ؟ اس کی حالت اس قدر نازک وسنگین کہ نہانے ، اٹھانے اور کفن ودفن کے لئے دوسروں کا سہارا چاہئے ۔ظلم کرنے والا کی خواہش تمام مگر اذیتناک سزائیں اس کی گھات میں ہیں جبکہ عدل واحسان کا پیکر انسانی اٹھ تو گیا مگر آخرت کی نعمتیں اس کے انتظار میں ہیں ۔ کتنے ایسے لوگ تھے جو اٹھتے بیٹھتے محفلوں میں ہوتے، مال وزر سے نہاتے اور لوگ جھک جھک کر آداب بجالاتے مگر جاتے ہوئے اکیلا ایسا فقیر بن گیا جس کے پاس نہ خود کا گھر، نہ لباس ، نہ دولت ، نہ حلقہ روابط و معاون ہیں جبکہ بہت سے بوسیدہ حالوں کے حق میں اس قدر دعائے رحمت ومغفرت کہ تنگ وتاریک قبر میں اخروی عیش وآرام سے مالامال ہے۔
اس لئے میرے مسلمان بھائیو!موت صرف کسی کے گزرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں ہمارے لئے صدہا وعظ ودرس پنہاں ہیں  اس سے ہم سبق حاصل کریں اور اپنے اندر فکر آخرت پیداکرتے ہوئے اخروی نجات کا سامان مہیا کریں ۔ نصیحت حاصل کرنے کے لئے نہ صرف دلوں کو نرم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ عبادت الہی کا خوگراور تقوی کا پیکر بننا پڑے گا۔ عبادت وفرائض میں کوتاہی برتنے والا اور منکرات پہ اللہ کا خوف نہ کھانے والا کبھی موت سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کا دل اس قابل ہوسکتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو بہاسکے ۔ اللہ تعالی ہمارے دلوں کو نرم کردےاورہمیں تقوی شعاری کی راہ پر چلنے والا بنادے ۔ آمین

مکمل تحریر >>

Wednesday, May 20, 2020

آپ لکھیئے مگر وہ جو بعد میں بھی کام آئے ۔



آپ لکھیئے مگر وہ جو بعد میں بھی کام آئے ۔

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، طائف (مسرہ)

زبان ، قلم اور علم بڑی امانت ہے ، ان کی حفاظت اوران کے استعمال میں دیانتداری بیحد ضروری ہے ۔ آپ بہت کم بولئے ، کبھی کبھی قلم پکڑیئے اور ٹھہر ٹھہر کر علم لٹائیے ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن بڑبڑبولیئے، دھڑدھڑ قلم پکڑیئےاور بکربکرلکھتے رہیے، یہ کمال نہیں ہے ۔ کمال اس میں ہے جب آپ لوگوں کوحق کی طرف رہنمائی کررہے ہیں ۔
سوشل میڈیا کاحال آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہاں مثبت چیزوں کی قدر کم ہوتی ہے ، منفی چیزوں میں وہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جو جبہ ودستارکے مالک ہیں بلکہ اس میدان میں سفید ریش بھی نظر آتے ہیں ۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ اگر کسی کی تعریف کرو توسب لوگ چپ رہیں گے اور جب کسی پر تنقید کروتو سبھی حصہ داری نبھائیں گے ۔ ہوبہو اس کا منظر فیس بک اور واٹس ایپ پر نظر آتا ہے ۔
بعض لوگوں کو لکھنے کا شوق ہوتا ہے وہ بس لکھتے جاتا ہے ، اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کیا لکھتا ہے ؟ اس کا فائدہ کیا ہے یا اس کے نقصانات کیا مرتب ہوں گے ؟ بس لکھنا ہے ، بلاضرروت لکھناہے، بغیرکسی کے پوچھے لکھناہے کیونکہ اسے لکھنے کی عادت لگ گئی ہے ۔ ایسے لوگوں کو نصیحت زیادہ فائدہ نہیں پہنچائے گی لیکن پھربھی نصیحت کرنا تو حق بنتا ہے ،، ایسے بعض افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ جس بات کی ضرورت ہو وہ لکھیں ، جس سے فائدہ پہنچے وہ لکھیں اور جو آپ کو دنیا میں اور مرنے کے بعد  بھی کام آسکے ایسی  بات لکھیں ۔لکھ لکھ کر ڈھیرلگادئے اور مرنے کے بعد پتہ چلا ، وقت بھی گنوائےاور انرجی بھی لوس کئے پریہ سب کسی  کام کانہیں ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بڑے بڑے جبہ ودستار نے واہ واہی کی تھی پھر دربارآخرت میں رسائی کیوں نہیں ہوئی ؟
اسی لئے کہتا ہوں کہ لکھیئے مگر ایسی بات جو بعد میں بھی کام آئے ، لوگوں کی خوشنودی پانے کے لئے ، منفی کمنٹ کی بھیڑ لگانے کے لئے اور طرم خان بننے کے لئے مت لکھیئے ، لکھیئے تو کام کی چیز لکھیئے کیونکہ آپ عالم ہیں،داعی ہیں اور خالص توحید والا عقیدہ رکھتےہیں۔ للو پنجو سے اپنے آپ کو ممتاز کیجئے۔
الحمدللہ بہت سارے علماء اپنی تحریروں کے ذریعہ اور بہت سارے علماء اپنی تقریروں کے ذریعہ امت اسلامیہ تک دلائل کی روشنی میں حق پہنچانے میں لگے ہوئے ،  ان علماء کی نہ صرف قدر ہونی چاہئے بلکہ حوصلہ فزائی بھی کرنی چاہئے ۔ میں سمجھتا ہوں سلفی علماء حق بیانی میں قرآن وحدیث سے استدلال کرتے ہیں اور لوگوں کو دین کی صحیح رہنمائی کرتے ہیں پھر بھی اجتہادی مسائل میں آپس میں اختلاف ہوجانا کوئی بعید نہیں ہے ، اس طرح کے اختلاف پہلے بھی رہے ہیں خصوصا پیداہونے والے نئے مسائل میں ۔
علماء میں ہر کسی کا حق ہے کہ دین کے احکام ومسائل دلائل روشنی میں لوگوں پر واضح کرےاور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی توفیق سے اس کام میں علمائے حق کی معتدبہ تعداد منہمک ہے ۔ رمضان المبارک کے موقع سے عالمی وبا کورونا اورملکی لاک ڈاؤن کی صورت میں امت میں عبادات واحکام سے متعلق قسم قسم کے مسائل پیدا ہوئے ، ان مسائل کو علماء نے اپنی تقریروتحریر کے ذریعہ واضح کیا اور لوگوں نے علماء کے علوم سے فائدہ اٹھایاخواہ جمعہ کا مسئلہ ہو، تراویح کا مسئلہ ہو یا اعتکاف کا مسئلہ ۔ عیدالفطر کی نماز سے متعلق بھی علماء کے مختلف بیانات اور تحریرات لوگوں کے سامنے ہیں ۔
عیدالفطرکی نمازکے مسئلے میں علماء کے درمیان کئی باتوں میں اختلاف نظر آتا ہے ان اختلاف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بعض لوگ جن کو کچھ بھی لکھنے کا شوق ہے اور وہ بہت سارے افراد جو سوشل میڈیا کا منفی استعمال کررہے ہیں ،ان کی نظر میں یہ فتوی بازی لگ رہی ہے ۔معلوم ہونا چاہئےکہ کسی مسئلے میں علم اور تحقیق پیش کرنا فتوی بازی نہیں ہےعلماء کا حق اور فریضہ ہے ۔ہر خطیب وداعی لوگوں کے سامنے دین کے احکام بیان کرتا ہے اور ہرمحقق ومصنف کتاب وسنت کی روشنی میں اپنے اپنے اندازواسلوب میں تحقیق پیش کرتا ہے ، یہ سب مفتی نہیں کہلاتے ہیں بلکہ یہ ان کا حق اور فریضہ ہے ، اپنےفریضے کی ادائیگی کررہے ہیں ۔ بلاشبہ فتوی دینا مستنداداروں اور شعبہ افتاء کا کام ہے اور آپ جانتے ہیں عموما فتاوی میں کسی مسئلے کے تمام پہلوؤں پر مدلل بحث نہیں ہوتی کیونکہ اصل مقصد لوگوں کو کسی مسئلے میں ایک موقف کی وضاحت ہوتی ہے،بسااوقات اصل مسئلہ کی بھی دلیل مذکور نہیں ہوتی یا استدلال کبھی کمزور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کسی مسئلے میں موجود ہرہرپہلو پر دلائل سے بحث کرتے ہیں اور ان دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں ، مسائل پہ دقیق بحث اور ان کاتحلیل وتجزیہ یہی تو سلفیت کی امتیازی خوبی ہے ورنہ ہم بھی مقلدوں کی طرح اندھے ہوجاتے اور بلادلیل فتوی اوربلاچوں چرا علماء کی بات مان لیتے ۔ہاں میں ان لوگوں کے خلاف ضرور ہوں جوکتاب وسنت کاپختہ علم نہیں رکھتے اور مسائل بیان کرتے ہیں  بطور خاص عصری علوم والے ۔
اس لئے کہتا ہوں لکھیئےمگر ایسی بات جس سے انسانیت کی تعمیر ہواور آپ کا لکھا ہوا آپ کو بعد میں بھی کام آئے ۔ کمنٹ کا ایک خطاکار جملہ بھی آخرت میں نقصان پہنچائے گا اس لئے منفی افراد کی منفی پوسٹ پر ان کا جرم اور حوصلہ نہ بڑھائیں بلکہ آپ بھی مثبت بنیں ، مثبت کام کریں اور لوگوں کو بھی اس طرف راغب کریں ۔  
مکمل تحریر >>

Tuesday, September 3, 2019

طالبان علوم نبوت کے نام


طالبان علوم نبوت کے نام

مقبول احمد سلفی
دفترتعاونی برائے دعوت وارشاد ،مسرہ،طائف (سعودی عرب)

آج بڑی تعداد میں اسلام کے دعویدار  ملت اسلامیہ سے خارج  نظر آتے ہیں ۔ توحید سے منحرف، دین حنیف کی دعوت دینے سے قاصراور عملا شریعت سے کوسوں دور ہیں جبکہ انہیں گمان ہے کہ وہی اسلام کے حقیقی علمبرداراوردین  کے اصل محافظ ہیں ۔ان گمراہ فرقوں میں شیعہ، صوفی ٹولہ اور خوارج ہیں۔
اللہ کا فضل ہے کہ اس نےہمیں خالص دین اور خالص توحید سے نوازابلکہ اس  کی ہی توفیق  وہدایت سے اہل توحیدکی ایک مختصر جماعت انبیاء کے مشن پہ کماحقہ قائم ہیں اور دعوت دین کا اہم فریضہ سر انجام دے رہی ہے ۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زبان وبیان سے توحید کی نشر واشاعت میں کوشاں ہیں ۔ گوکہ آج لوگوں کی چاہت ہے کہ نئی نئی باتیں سنائی جائیں، عجیب وغریب واقعات ذکر کئے جائیں، عقل کو حیران کردینے والے کشف وکرامات بیان کئے جائیں مگر اہل توحید نے ہمیشہ لوگوں پر توحید کی دعوت پیش کی ۔اللہ ہمیں تاعمر اس مشن کو شوق وجذبے ، اخلاص وللہیت اور جہدپیہم کے ساتھ تھامے رہنے کی توفیق دے ۔یقین کریں جو فرقہ توحید سے منحرف ہے اوراس کی دعوت سے روگرداں ہے وہ بلاشک وشبہ گمراہ فرقوں میں سے ہے ، اہل السنہ والجماعت کی اصل پہچان اور ان کی اہم ترین دعوت ،توحید کی دعوت اور اس کی نشر واشاعت ہے۔
عزیزطلبہ ! اللہ نے ہمیں نہ صرف مسلمان بنایا ہے بلکہ اہل توحید میں سے ہونے کا شرف بخشا، یہ اللہ کا ہم پہ خاص فضل واحسان ہے ورنہ کتنے فرقے اسلام کا دعویدار ہونے کی باوجود گمراہوں میں سے ہے ۔ اس واسطے ہمارے اوپراللہ کاشکر عظیم لازم ہے۔
آپ طالبان علوم نبوت ہیں، اس چشمہ صافی سے سیراب ہورہے ہیں جس سے روح کی تطہیر ہوتی ہے ،انسانیت زندہ ہوتی ہے، شعوروآگہی کو لذت حیات ملتی ہے ، قوموں کو عروج ، معاشرے کو پاکیزگی اور فرد کو حقیقی سعادت نصیب ہوتی ہے۔آپ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کو اللہ اپنا محبوب بناتا ہے، آپ کی قسمت میں علوم نبوت سے سیراب ہونا، سیرت وکردار میں محمدی تصویر بننا اور انبیائی مشن قائم رکھنا ہے ۔ سبحان اللہ
آج آپ طالب علم ہیں ، کل معلم انسانیت بنیں گے ، آج چٹائی پہ بیٹھتے ہیں کل درس وتدریس کی کرسی پہ بیٹھیں گے ، آج علم نبوت کے خوشہ چیں ہیں کل علوم نبوت کے وارث بنیں گے ۔ آپ بڑے خوش نصیب ہیں ، اپنے اندر احساس کمتری، معاشی پریشان خیالی، مادیت کا غلبہ، عصر حاضر کی جھوٹی رونقیں، جدید ادب اورجدیدکلچرکے نام پہ لغو ،بے حیائی اورجہالت کو داخل ہونے کا کوئی راستہ نہ دیں۔
چونکہ آپ علم نبوت کے طالب ہیں، آپ کے سر انبیائی مشن آنے والا ہے ، اس وجہ سے یہاں آپ سے چند اہم اور ضروری باتیں کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ شعور پہلے سے ذہن میں پختہ رہے اور عمربھر اس شعور کو کبھی ماند نہ ہونے دیں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من سلك طريقًا يطلبُ فيه علمًا ، سلك اللهُ به طريقًا من طرقِ الجنةِ ، وإنَّ الملائكةَ لتضعُ أجنحتَها رضًا لطالبِ العِلمِ ، وإنَّ العالِمَ ليستغفرُ له من في السماواتِ ومن في الأرضِ ، والحيتانُ في جوفِ الماءِ ، وإنَّ فضلَ العالمِ على العابدِ كفضلِ القمرِ ليلةَ البدرِ على سائرِ الكواكبِ ، وإنَّ العلماءَ ورثةُ الأنبياءِ ، وإنَّ الأنبياءَ لم يُورِّثُوا دينارًا ولا درهمًا ، ورَّثُوا العِلمَ فمن أخذَه أخذ بحظٍّ وافرٍ(صحيح أبي داود:3641)
ترجمہ: جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لئے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا۔
ذرا اس حدیث پہ غور کریں کہ کتنا بڑا مقام ہے نبوت کا علم حاصل کرنے والےاور علم حاصل کرکے عالم بننے والوں کا ۔ آپ ڈاکٹروانجینئر نہیں بنے تو پستی کا احساس نہیں کرنا ہے، علم نبوت سے بڑھ کو دنیا کا کوئی علم نہیں ہے ۔ دنیاوی علوم، دنیا میں محض دنیاکمانے تک محدود ہےجبکہ علم نبوت کا دنیا میں ، مرنے کے بعداور آخرت تک اس کااجروفائدہ پہنچاتا ہے۔
اس حدیث کی گہرائی میں جاکر غور کریں تو انبیاء کی زندگی میں تین قیمتی سرمایہ ملتا ہے ۔ پہلا سرمایہ علم، دوسرا سرمایہ عبادت اور تیسرا سرمایہ دعوت یعنی انبیاء سب سے بہترین عالم ہوتے ہیں، کثرت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والے ہوتے ہیں(عبادت میں اللہ کی رضا کا ہر کام داخل ہے) اور اپنی امت تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں تمامتر کوشش صرف کردیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت محمدیہ میں علم اور عالم ، عبادت اور عابد ، دعوت اور داعی کے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ اور علم، عالم، عبادت، عابد، دعوت اور داعی کے الفاظ انبیاء کے لئے خصوصی طور پر وارد ہوئے ہیں ۔
پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالی نےنبی محمد ﷺ کو مخاطب فرمایا:اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق:1)
ترجمۃ: پڑھیئے اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
وحی کی تلاوت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنکبوت:45)
ترجمہ:جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے بیشک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے ۔
عبادت پہ جہد کثیر کا ذکر کرتے ہوئے مغیرہ بن شعبہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صلَّى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليه وسلم حتَّى انتفخَت قدماهُ، فقيلَ لَهُ: أتتَكَلَّفُ هذا وقد غُفِرَ لَكَ ماتقدم من ذنبِكَ وما تأخَّرَ، قالَ: أفلا أَكونُ عبدًا شَكورًا(صحيح الترمذي:412)
ترجمہ:رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ کے پیر سوج گئے تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا آپ ایسی زحمت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا:کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟۔
اللہ کی طرف اس کی وحدانیت کی دعوت دینے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا جو کہ اصلا تمام انبیاء کی دعوت ہے:
قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (یوسف:108)
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔
بلکہ اللہ نے اپنے پیغمبر محمد ﷺ کو بطور خاص تبلیغ کرنے کا حکم دیا:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (المائدة:67)
ترجمہ:اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے ۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالٰی لوگوں سے بچا لے گا بے شک اللہ تعالٰی کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
پھر اللہ نے رسول اللہ کی شدید دعوتی فکر وبے چینی کا ذکر فرماتے ہوئے کہا:
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا (الکہف:6)
ترجمہ:پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے؟  
ہم انبیاء کے وارث بنیں گے تو ظاہر سی بات ہے ان کی زندگی کے جو اہم ترین اوصاف ہیں انہیں اپنانا پڑے گا تاکہ وراثت کی ذمہ داری ٹھیک ٹھیک نبھاسکیں بلکہ دیکھا  جائےتو تمام اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسول ان اوصاف سے متصف ہونے کا حکم دیتے ہیں ۔
نبوت کا علم سیکھنا فریضہ قراردیتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ ، وإِنَّ طالبَ العلمِ يستغفِرُ له كلُّ شيءٍ ، حتى الحيتانِ في البحرِ(صحيح الجامع:3914)
ترجمہ: علم کا حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے اور بے شک طالب علم کے لئے ہرچیز مغفرت کی دعا کرتی ہے حتی کہ مچھلیاں سمندر میں۔
عبادت تو تخلیق انسانی کا مقصد ہی ہے جیساکہ اللہ نے فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56)
ترجمہ: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔
اورقرآن کی مندرجہ ذیل آیت کا خصوصیت سے مخاطب آپ طالبان علوم نبوت ہیں ، ارشاد الہی ہے :
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران:104)
ترجمہ: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہيۓ جوبھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم دے اوربرے کاموں سے روکے ، اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں۔
اوپر کی باتوں کا خلاصہ نکالنا چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمومی طور پر عام مسلمانوں کو بھی علم حاصل کرنے ، مقصد حیات پورا کرنےیعنی رب کی بندگی کرنے اور دعوت الی اللہ کا کام کرنے کی ضرورت ہے مگر وارثین انبیاء کے سر سب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔انہیں نبوت کی صحیح معرفت ہونی چاہئےتاکہ پختہ علم سے لیس راسخ عالم بنیں جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے :
وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ(آل عمران:7)
ترجمہ:ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لا چکے ، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔
جب راسخ علم نہیں ہوگا تو نہ صرف عبادت میں کجی ہوگی بلکہ اپنی کج علمی سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ اسی طرح زمانہ طالب علمی سے ہی عبادت کی پابندی کریں مگر طلبہ میں اس وصف کی بڑی کمی محسوس کی جاتی ہے ۔ جب ابھی سے عبادت میں کمزوری ہوگی تو آگے بھی کمزوری لاحق رہے گی اور تصو ر کریں جب نبوت کا عالم وداعی عبادت میں کوتاہ ہوپھر اسکے علم اور دعوت میں اثر کہاں سے پیدا ہوگا ۔ کلام میں تاثیر اللہ کی جانب سے ہے جو بغیر صالحیت اور بندگی کے کیسے آسکتی ہے ؟
اب تیسرے وصف پہ غور کریں کہ ایک طالب علم ، فارغ ہوکر عالم توبن گیا، عبادت پہ پابندی بھی کرنے والا ہے مگر دعوت دین کا فریضہ ترک کردیا ہے، اس نے یکسر اپنا میدان بدل لیا؟ کیا وہ وارث انبیاء ہے ؟ کیا اس کے علم کا کوئی فائدہ خود اس کی ذات کو یا دوسروں کو پہنچے گا یا پھر کسی کا خود عمل کرلینے اور دوسروں کو اس کی دعوت نہ دینے سے اللہ کے یہاں اس کی عبادت مقبول ہوگی جبکہ وہ عالم دین ہو۔ ہرگزاس کی عبادت مقبول ہوگی ۔ ان ساری باتوں کا ایک جملے میں خلاصہ یہ ہے کہ طلبہ محنت ومشقت کے ساتھ پختہ علم حاصل کرکے مثالی عالم بنیں، عالم بھی ایسا کہ جملہ قسم کی عبادات  میں بھی کثرت اجتہاد کریں اورقوم وملت کو لوٹنے والے تو بہت مگر آپ  دین کے بے لوث خام بنیں۔  اللہ کا فرمان ہے :
قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (سبا:47)
ترجمہ:کہہ دیجئے! کہ جو بدلہ میں تم سے مانگوں وہ تمہارے لئے ہے میرا بدلہ تو اللہ تعالٰی ہی کے ذمے ہے ۔ وہ ہرچیز سے باخبر اور ( مطلع ) ہے ۔
گرامی قدر عزیزطلبہ ! اپنے مقام ومرتبہ کو پہچانیں اور اپنے اندر انبیاء کے تینوں اہم اوصاف پیداکریں۔دنیا آپ کی پیاسی ہے، کفر وشرک کے عہد میں صدائے حق بلند کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ ان قلیل افراد میں بھی اپنے فریضے سے برگشتگی اختیار کرنے لگیں تو پھر کون امت کی اصلاح کرے گا؟ عزم مصمم پیدا کریں، زمانے کارخ موڑنے کا تہیہ کریں، لوگوں کو شرک وکفر کے دلدل سے نکالنے کی فکر کریں اور اپنے ساتھ ساتھ افراد امت کے لئے بھی نجات کا راستہ ہموار کریں ۔
عزیزطلبہ! آج کے سوشل میڈیا کے دور میں آپ سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جامعہ میں رہتے ہوئےاپنے اساتذہ سے علم حاصل کریں، لائبریری کی کتابوں سے استفادہ کریں ۔ میرے پاس بہت سارے طلبہ کے سوالات آتے ہیں میں انہیں اپنے اساتذہ کی طرف رجوع کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔آپ علم کے سمندرمیں ہیں ، وہاں سے علم لیں ۔یاد رکھیں سوشل میڈیا کا علم پائیدارنہیں ہے ،کتابی علم ہی پختہ ہے ۔صرف اونچی جماعت کے طلباءسوشل میڈیا کا استعمال کریں وہ بھی  بقدر ضرورت اور بطور تعاون اور اسا س کے طور پر اپنے اساتذہ اور لائبریری سے استفادہ کریں۔ جس قدر ممکن ہو قرآن بھی حفظ کرتے رہیں،حفظ متون حدیث کا خصوصی اہتما م کریں ۔ یہی چیزیں آگے دعوت دین، تقریر وتحریراور استشہاد وبیان میں کام آئیں گی ۔
اللہ سے تمام سلفی  اداروں کی حفاظت، ان کے ذمہ داروں کے حوصلوں میں بلندی، طلباء اور اساتذہ کے لئے علم وعمل میں پختگی اور اخلاص کی عاجزانہ ومخلصانہ دعا کرتاہوں ۔ جو بھی سلفی  اداروں کے لئے کسی شکل میں تعاون پیش کررہے ہیں اللہ جل شانہ ان جملہ احباب کے لئے جنت کا راستہ آسان بنائےاور تاقیام قیامت سلفی ا داروں کا فیض ساری دنیا میں جاری وساری رکھے ۔ آمین یارب العالمین ۔
مکمل تحریر >>