Sunday, February 15, 2026

رمضان کا مقصداور اس کی تیاری

 رمضان کا مقصداور اس کی تیاری

مقبول احمد سلفی / جدہ دعوہ سنٹر(سعودی عرب)

تمام تعریفیں، بڑائیاں اور ہرقسم کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی پوری کائنات کا بادشاہ ہے، ہمارا نگہبان ہے، تمام مخلوقات کا پالنے والا ہے، ان کی ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ درود و سلام ہو اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کرام پر، خصوصاً حضرت محمد ﷺ پر۔

الحمدللہ! ہم لوگ ماہِ رمضان کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایک  بابرکت مہینہ آنے والا ہے، جو عنقریب ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ وہ مہینہ جس میں اللہ ربّ العزت نے ہر قسم کی بھلائی، خیر و برکت رکھی ہے۔ ہمیں اس مہینے کو پانا ہے، اور جب پائیں تو اس میں بھرپور محنت کرنی ہے، کوشش و جدوجہد کرنی ہے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کر سکیں۔ہمیں اس کا اچھے ڈھنگ سے استقبال کرنا ہے۔ سب کے ذہن میں ایک سوال ہوتا ہے کہ رمضان کی تیاری کیسے کرنی ہے اور اس  کا استقبال کس انداز میں کرنا ہےیعنی  رمضان  کی آمدسے پہلے اپنے آپ کو کس طرح تیار کرنا ہے؟سب سے پہلے سمجھ لیجیے کہ اللہ ربّ العالَمین نے اس مبارک مہینے کو ہمیں کیوں عطا فرمایا ہے؟ اس کی حکمت اور مصلحت کیا ہے؟قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرہ: 183)

ترجمہ:اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

یہ روزہ کوئی نفل عبادت نہیں بلکہ ایک فریضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امتِ محمدیہ پر فرض کیا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس فریضے کی حکمت بیان فرمائی — "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" — تاکہ تم متقی بنو۔یعنی رمضان کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ جب تک انسان کے اندر تقویٰ نہیں ہوگا، وہ دین پر پختگی سے عمل نہیں کر سکتا، نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے، نہ رب سے صحیح معنوں میں ڈر سکتا ہے۔مسجد کی طرف جانے میں، عبادت کی انجام دہی میں، غفلت  اور منکرات سے بچنے میں — یہی تقویٰ کام آتا ہے۔نماز کے وقت، جب آپ  نماز کے لیے جائیں گے اور اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑے ہوگے، تو یہی تقویٰ ہمارا ساتھ دے گااور ہماری مددگار بنے گا۔ اگر تقویٰ نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے—انسان اندر سے کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ ہمارے اندر تقویٰ پیدا کرنا چاہتا ہے۔تقویٰ کیا ہے؟

لفظی اعتبار سے تقویٰ کا مطلب ہے ڈرنا اور شرعی اعتبار سے اللہ سے خوف رکھتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کرنا اور منہیات سے بچتے رہنا۔ تقویٰ یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ یہ سمجھے کہ ایک ہستی ہے جو اسے دیکھ رہی ہے، جو اس کے ہر عمل سے باخبر ہے۔ جب یہ احساس دل میں آ جائے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، تو انسان ہمیشہ اللہ سے جُڑا رہتا ہے، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور جس چیز سے اللہ نے روکا ہے، اُس سے بچتا ہے۔علماء نے تقویٰ کی بہت سی تعریفیں بیان کی ہیں، لیکن  اس کی جامع تعریف یہی  ہے:"اللہ نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے اُن پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے روکا ہے اُن سے رک جانا—یہی تقویٰ ہے۔"دوسرے لفظوں میں، مأمورات پر عمل کرنا (یعنی اللہ کے احکام کو بجا لانا) اور منہیات سے رک جانا (یعنی جن چیزوں سے روکا گیا ہے اُن سے پرہیز کرنا)—یہی تقویٰ ہے۔یہ وہ چیز ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، سوائے اللہ کے۔ یہ کسی ظاہری چیز کا نام نہیں—یہ ایک چھپی ہوئی کیفیت ہے۔ انسان کتنا متقی اور پرہیزگار ہے، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔تقویٰ کا تعلق چہرے کے نشانات سے نہیں، نہ کپڑے کی لمبائی یا داڑھی کی طوالت سے۔ بہت سے لوگ ظاہری لحاظ سے پارسا نظر آتے ہیں مگر تقویٰ دل میں ہوتا ہے، جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اَلتَّقْوٰی ھَاھُنَا" —تقویٰ یہاں ہے — اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ  اشارہ فرمایا۔(صحیح مسلم:2564)

اس بارے میں صحیح بخاری کی حدیث بھی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ألَا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً: إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألَا وهي القَلْبُ(صحيح البخاري:52)

ترجمہ: سن لو جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا جسم درست ہوگا اور جہاں بگڑا سارا جسم بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔

یہ جو دل ہے، یہی وہ مرکز ہے جہاں تقویٰ کی اصل جگہ ہے۔ پورے جسم کی درستگی، انسان کے اعمال کی صحت حتیٰ کہ روح کی سلامتی کے لیے اس مقام کا درست ہونا، یعنی دل کا درست ہونا، بہت ضروری ہے۔ اسی لیے میں نے بتایا کہ کس آدمی کے اندر تقوی ہے اور کون کتنا متقی ہے،  صرف اللہ ربّ العالمین ہی جانتا ہے۔انسان اللہ سے کتنا ڈرتا ہے، اپنی عبادتوں میں کتنا خلوص رکھتا ہے، اپنے اعمال میں کتنا تقویٰ اختیار کرتا ہے — یہ سب اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو اپنی نظر میں فضیلت اور برتری کا معیار بنایا ہے۔

اللہ کے نزدیک وہی برتر اور عالی مقام انسان ہے جس کے دل میں زیادہ تقویٰ ہے، زیادہ پرہیزگاری ہے، اور زیادہ اخلاص ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَباكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بالتَّقْوَى(مسند احمد:23489وصححه ألباني)

ترجمہ: لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی قدر و منزلت کا پیمانہ تقویٰ کو بنایا ہے۔ جس کے دل میں تقویٰ ہے، وہ اللہ کے نزدیک بڑا انسان ہے۔ اور جس کے اندر تقویٰ نہیں، اس کی کوئی حقیقی برتری نہیں، چاہے دنیاوی حیثیت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو۔لہٰذا کسی انسان کو اس کے قد، حسن، یا ظاہری عبادت سے نہ پرکھو۔ انسان کا مقام اس کے دل کے خلوص اور اس کے تقویٰ سے متعین ہوتا ہے، اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(الحجرات:13)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔

رمضان اسی لیے آیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں تقویٰ پیوست کر دے۔ ہمیں اس تقویٰ کو سمجھنا ہےاور اس کو اپنانا ہے ۔جو بھی عمل ہم اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انجام دیتے ہیں — وہ سب اعمالِ تقویٰ ہیں۔ یعنی ہر وہ نیکی، ہر وہ عبادت جس کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا ہے، وہ تقویٰ ہے۔ یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے کہ دین میں غلو (حد سے بڑھ جانا) تقویٰ نہیں۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے جسم کو اذیت دے کر، سخت مجاہدہ  کر کے یا خود کو مشقتوں میں ڈال کر تقویٰ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں ہے، بلکہ یہ دوسرے مذاہب مثلاً ہندوؤں کی رہبانیت جیسا ہے۔وہ لوگ اپنے جسم کو تکلیف دیتے ہیں — کوئی آدمی کانٹوں پر لیٹتا ہے، کوئی دھوپ میں کھڑا رہتا ہے، کوئی کھانے یا گوشت سے پرہیز کرتا ہے، کوئی پانی میں رہتا ہے — کہ شاید اس طرح وہ روحانی بلندی حاصل کر لے۔اسی طرح صوفیاء بھی یہ سمجھتے ہیں کہ خود کو مشقت میں ڈالنا، مثلاً الٹا لٹک کر ذکر کرنا یا دنیا چھوڑ کر جنگلوں میں رہنا، تقویٰ کی علامت ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دین میں اس طرح کا غلو یا خود کو اذیت دینا تقویٰ نہیں ہے۔تقویٰ صرف اور صرف سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے سے حاصل ہوتا ہے۔جو انسان پوری دیانت اور اخلاص سے سنت پر عمل کرتا ہے، وہی متقی ہے۔اس کی دلیل وہ واقعہ ہے جب تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے گھر آئے تاکہ وہ آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں جان سکیں  کہ آپ ﷺ کس طرح اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ (صحیح البخاری:5063)

اب یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ  جو شخص سنت کو ترک کرے، وہ متقی نہیں ہو سکتا۔تقویٰ صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے دین پر، اپنی عبادتوں میں، اپنے روزے، نماز، نکاح، اور تمام اعمال میں سنت کے مطابق عمل کرتا ہے۔انسان ولی (اللہ کا دوست) اسی وقت بنتا ہے جب وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور ایمان پر قائم رہتا ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، وہی درحقیقت ولی ہے۔پس، رمضان اسی لیے آ رہا ہے — تاکہ انسان کو متقی اور ولی بنایا جائے۔رمضان ایک ایسا روحانی کورس ہے جس میں بندہ بھوک، پیاس، اور خواہشات پر قابو پا کر تقویٰ سیکھتا ہے۔یہ کورس صرف ایک مہینے کا ہے، مگر اس کا انعام بہت بڑا ہے یعنی  اللہ کی قربت اور ولایت۔رمضان کا مقصد یہ نہیں کہ دین و عبادت میں غلو کیا جائے۔نبی کریم ﷺ نے دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا۔اصل عبادت وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو۔

جو شخص سنت کے مطابق عبادت کرتا ہے، وہ بظاہر سیدھا سادہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں وہی متقی اور اللہ کے نزدیک محبوب ہوتا ہے۔جبکہ جو دکھاوے کے لیے عبادتیں کرتا ہے، تام جھام دکھاتا ہے، یا غیر سنتی طریقے اختیار کرتا ہے — وہ لوگوں کو زاہد و عابد نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ دین میں غلو کر رہا ہوتا ہے۔پس جو شخص سنت کے مطابق عبادت کرے گا، وہی اہلِ تقویٰ ہے۔رمضان اسی لیے آتا ہے — تاکہ لوگوں  کو متقی بنایا جائے، ولی اللہ بنایا جائے۔اگر کوئی شخص سنت کی روشنی میں, اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ روزہ رکھ لے, تو یہ اس کے لیے ولایت حاصل کرنے کا بہترین نظام ہے۔یہ ایک ایسا کورس ہے جو نہ مہنگا ہے، نہ مشکل — بس ضرورت ہے کہ انسان سچے دل سے رمضان کا استقبال کرے اور اخلاص وللہیت کے ساتھ اس ماہ میں اجتہاد کرے ۔ ہمارے سامنے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا عملی نمونہ موجود ہے۔

رمضان کا  ایک مقصد تو واضح کردیا ، رمضان کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو معاف کرنا چاہتا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ بندے اس مہینے میں عبادت کریں تاکہ وہ ان کی مغفرت فرمائے۔اور انسان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے۔جس طرح ہم دنیا میں ایک مہینہ محنت کرتے ہیں اور آخر میں ہمیں تنخواہ ملتی ہے، اسی طرح رمضان میں بھی بندہ عبادت کا کام کرتا ہے — اور اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں مغفرت عطا فرماتا ہے۔اس بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الأدب المفرد میں ایک حدیث بیان  کی ہے،نبی ﷺ کا فرمان ہے :شقِيَ عبدٌ أدركَ رمضانَ فانسلخَ منهُ ولَم يُغْفَرْ لهُ(صحيح الأدب المفرد:500)

ترجمہ: بدبخت ہے وہ جس نے رمضان پایا اوریہ مہینہ اس سے نکل گیا اور وہ اس میں( نیک اعمال کرکے) اپنی بخشش نہ کرواسکا۔

رمضان آتا ہے تاکہ بندہ مغفرت کے دروازے کھٹکھٹائے — نماز، روزہ، ذکر، صدقہ، اور توبہ کے ذریعہ۔اللہ تعالیٰ تو رمضان اپنے بندوں کو بخشنے کے لیے بھیجتا ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس مہینے کو ضائع نہ کریں بلکہ اسے اللہ کی مغفرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں۔رمضان کا مقصد یہ ہے کہ بندوں میں  تقویٰ پیدا ہو، اور بندے ، اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت حاصل کرے۔

رمضان حقیقت  میں بخشش کا مہینہ ہے  لہٰذا اس مہینے کو پا کر ایسے اعمال انجام دینا چاہئے جن سے اللہ اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ(آل عمران:133)

ترجمہ:اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

 "سَارِعُوا" یعنی جلدی کرو، دوڑو، سستی نہ کرو۔جیسے ایک انسان راستے میں جا رہا ہو اور اچانک اسے زمین پر دس ہزار ریال کی گَڈی نظرآ جائے — اگرچہ وہ لنگڑا ہو، بیمار ہو، اس میں اچانک نئی تیزی آجائے گی۔کیوں؟ کیونکہ اس کے  سامنے ایک قیمتی چیز نظر آ رہی ہے جو اس کے جوش و ولولے کو بڑھا رہی ہے۔بالکل اسی طرح، رمضان بھی ہمیں روحانی جوش دینے کے لیے آ رہا ہے — یہ مغفرت کا مہینہ ہے، جنت پانے کا مہینہ ہے۔اگر کوئی اس مہینے کو سستی اور غفلت کے ساتھ گزارے، تو سمجھ لو اس کا ایمان کمزور ہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان پایا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی، اور اللہ نے کہادوڑو مغفرت کی طرف، اور جنت کی طرف یعنی وہ اعمال کرو جن سے اللہ معاف فرما دیتا ہے، اور وہ اعمال کرو جن کے نتیجے میں وہ جنت عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ جنت کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے — تو سوچو اس کی لمبائی کتنی ہوگی؟یعنی یہ بہت وسیع، بے حد و حساب جنت  کشادہ ہے جس کے حصول کے لیے اللہ ہمیں دوڑنے کا حکم دے رہا ہے۔

رمضان ہمیں جگانے کے لیے آ رہا ہےہماری روح کو بیدار کرنے کے لیے،ہمارے ایمان کو تازگی دینے کے لیے،ہماری غفلت زدہ ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے،اور ہمارے اندر دینی جذبہ اور ایمانی حرارت پیدا کرنے کے لیے۔اگر ہم رمضان کو پا کر بھی ویسے ہی رہ گئے جیسے رجب یا شعبان  اور دیگرماہ میں تھےایمان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، تقویٰ میں کوئی ترقی نہیں آئی،اعمال میں کوئی بہتری نہیں آئیتو پھر حقیقت میں رمضان پانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔پس رمضان کا مقصد ہے:دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا۔گناہوں کی مغفرت حاصل کرنا۔اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے رمضان فرض کیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ رمضان کی تیاری کیسے کی جائے؟

اس کے لیے پانچ بنیادی نکات سامنے رکھیں۔اگر ہم ان پانچ باتوں پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ رمضان کا استقبال بہترین انداز میں کر سکیں گے،اس سے تقوی بھی حاصل ہوگا اور اس کے ذریعہ اللہ کی مغفرت بھی پائیں گے۔

پہلا نکتہ:اللہ ربّ العالَمین سے دعا اور توفیق طلب کریں۔دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس مبارک مہینے تک صحیح سلامت پہنچا دے۔ ہماری زندگی اور عمر میں برکت دے اور رمضان تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائےتاکہ ہم اس خیر و برکت والے مہینے سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ہمیں صرف یہ دعا نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں رمضان تک پہنچا دے، بلکہ یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ ہم رمضان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔رمضان تو بہت لوگ پاتے ہیں، لیکن اس سے حقیقی فائدہ بہت کم لوگ اٹھاتے ہیں۔لہٰذا ہمیں اللہ سے یہ دعا کرنی ہے:یا اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچنے کی توفیق دے۔ہمیں رمضان میں نیک اعمال کی توفیق عطا فرما۔ہمیں صحت اور تندرستی نصیب فرما تاکہ ہم عبادت کر سکیں، اور کثرت سے نیک کام انجام دے سکیں۔یہ تمام کام — روزہ رکھنا، عبادت کرنا، قرآن پڑھنا، شب بیداری کرنا — سب اللہ کی توفیق سے ممکن ہیں۔اگر اللہ نہ چاہے تو ہم رمضان میں داخل ہی نہیں ہو سکتے،اگر اللہ نہ چاہے تو ہم عبادت کی توفیق نہیں حاصل کر سکتے،اگر اللہ نہ چاہے تو صحت نہیں رہے گی، یا سستی اور غفلت ہمیں گھیر لے گی،اور پھر ہم رمضان سے فائدہ نہ اٹھا پائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ توفیق ایک عظیم نعمت ہے۔نہ جنت صرف اعمال سے ملے گی، نہ ہدایت صرف کوشش سے حاصل ہوگیبلکہ ہر نیکی کی بنیاد اللہ کی توفیق پرمنحصر ہے۔توفیق انہی کو ملتی ہے جن کے دل میں نیک نیتی ہوتی ہے اور جو اللہ سے خیر چاہتے ہیں۔بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس میں خامیاں تلاش کرتے ہیں، یہ لوگ "اسلامو فوبیا" پھیلاتے ہیں، اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔قرآن ان کے ہاتھ میں ہے، مگر ہدایت ان کے دل میں نہیں،کیونکہ ہدایت توفیق اللہ کی طرف سے نصیب ہوتی  ہے۔اس لیے ہمیں مسلسل دعا کرنی چاہیے:اے اللہ! جب میں قرآن پڑھوں تو میری سمجھ میں آ جائے،اے اللہ! میں تیرے دین پر تیری ہدایت کے مطابق عمل کر سکوں،اے اللہ! مجھے رمضان میں عبادت کی، روزہ رکھنے کی، اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما،جیسا تو چاہتا ہے اور جیسا تیرے نبی ﷺ نے عمل  کیا ہے۔

دوسرا نکتہ: رمضان کی تیاری کے لیے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم اللہ ربّ العالمین کے حقوق کے معاملات کو صاف (تصفیہ) کریں،اپنی پچھلی زندگی میں جو کوتاہیاں ہوئیں، انہیں درست کریں، ان کی تلافی کریں۔اللہ کے حقوق میں دو طرح کے معاملات ہیں:

وہ حقوق جو صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے،بلکہ اُن کے ساتھ حق ادا کرنا بھی لازم ہوتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ نے کئی سالوں کی زکات ادا نہیں کی،تو صرف توبہ کافی نہیں۔آپ کو وہ زکات ادا کرنی ہی ہوگی،کیونکہ یہ دراصل بندوں کے حق سے بھی جڑی ہوئی چیز ہے یعنی مال غریبوں کا حق ہے۔اس لیے بغیر ادائیگی کے معافی نہیں۔اسی طرح اگر آپ کے ذمہ رمضان کے روزے باقی ہیں جو بیماری، سفر یا کسی عذر کی وجہ سے رہ گئے،یا عورتوں کے یہاں حیض، نفاس، حمل، یا رضاعت کی وجہ سے چھوٹے،تو صرف توبہ کافی نہیں، بلکہ قضا روزے رکھنا لازم ہے۔ بالخصوص عورتیں بلوغت سے لے کر چالیس پچاس سال (انقطاع حیض)تک ہر سال رمضان کے  کچھ روزے چھوڑتی ہیں مثلا حیض ، یا نفاس یا حمل ورضاعت کے سبب۔اگر کسی خاتون  کے ذمہ ایسے روزے باقی ہوں،تو وہ اب رمضان سے پہلے جتنے ہو سکے قضا کرے اور جوباقی رہ جائے رمضان کے بعد قضا کرےلیکن پکا ارادہ کرے کہ یہ چھوٹے روزے پورے کرنے ہیں۔بعض علماء کہتے ہیں کہ  حمل و رضاعت کے سبب چھوٹے روزوں کا فدیہ کافی ہے،لیکن راجح بات یہی ہے کہ قضا لازم ہے، فدیہ نہیں دینا ہےکیونکہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت بیمار کے حکم میں ہےاور بیمار جب صحت یاب ہو جاتا ہے تو اس پر چھوٹے ہوئے روزے رکھنا واجب ہوتا ہے،لہٰذا یہاں بھی قضا کرنی ہوگی۔اسی طرح  اگر کسی شخص پر حج فرض ہوچکا ہے مگر وہ سال در سال سے ٹالتا رہا تو توبہ کافی نہیں، اسے لازماً حج ادا کرنا ہوگا۔ وہ شخص فوراً نیت کرے اور موقع ملتے ہی فریضہ حج  ادا کرے۔لہٰذاجن  بھائیوں کے ذمہ روزے باقی ہیں، وہ انہیں پورا کریں، قضا کرنے میں غفلت ہوئی ہو تو اس کے لئے اللہ سے توبہ بھی کریں نیزجن بہنوں کے ذمہ روزے باقی ہیں (حیض، نفاس، حمل، رضاعت وغیرہ سے)، وہ بھی قضا کریں۔قضا روزے پندرہ  شعبان کے بعد بھی رکھے جا سکتے ہیں ۔یہ سب کچھ اسی لیے ہے کہ رمضان میں جب ہم نئے سرے سے تقویٰ اور مغفرت کی طرف قدم بڑھائیں تو اس سے پہلے پہلے حقوق اللہ کا معاملہ ختم ہوگیا ہو۔

اللہ کے حقوق کی ایک دوسری قسم وہ ہے جو توبہ کے ذریعہ معاف ہو سکتی ہے جس کا تعلق گناہ کبیرہ سے ہے جیسے نماز، کفر، شرک اور بدعت وغیرہ۔اگر کسی نے اپنی زندگی کے کئی سال نماز نہیں پڑھی، اب وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے گناہ — یعنی کبیرہ گناہوں کے علاوہ — وہ تو نیک اعمال سے ہی مٹ جاتے ہیں:وضو، تلاوت، ذکر، نماز، دعا، صدقہ — ان سب سے اللہ ربّ العالَمین بندوں کے چھوٹے گناہ مٹا دیتا ہے۔لہٰذا، رمضان کے استقبال سے پہلے حقوقُ اللہ کے معاملات درست کریں،تاکہ دل پاک ہو، ضمیر ہلکا ہو، اور رمضان میں عبادت کا ذوق و شوق بڑھ جائے۔کیونکہ جب انسان اپنے پرانے گناہوں، قرضوں، اور واجبات کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے،تو نہ اس کے اندر سکون رہتا ہے نہ عبادت کی لذت۔اس لیے پہلے دل اور عمل کو پاک کریں،پھر رمضان کا خالص استقبال کریں۔

تیسرا نکتہ: اب تیسرا اہم مرحلہ ہے — بندوں کے حقوق ادا کرنا۔اللہ کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم بندوں کے حقوق صحیح طور پر ادا کریں۔حقوقُ العباد ان معاملات کو کہتے ہیں جو انسانوں کے درمیان ہوتے ہیں — خاص طور پر مالی معاملات۔اگر ہم نے کسی کی زمین، جائیداد، یا مال ناحق لے رکھا ہے، تو واپس کر دیں۔اگر ہم نے کسی سے قرض لیا اور واپس نہیں کیا، تو توبہ کافی نہیں، اسے ادا کرنا ہی ہوگا۔بہت سے لوگ قرض لے کر تاخیر کرتے ہیں، بہانے بناتے ہیں ۔یہ تاخیر دراصل خیانت اور ناشکری ہے۔قرض دینا احسان ہے، اور قرض واپس کرنا آپ کا فرض ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا مال دھوکے، فریب، چوری، یا تجارت میں بددیانتی سے لیا گیا ہو،تو فوراً توبہ کریں اور حقدار کو وہ مال واپس کریں۔یہی حقوق العباد کی صفائی ہے۔یاد رکھیں کہ بندوں کا حق ادا کیے بغیراس کا گناہ  اللہ معاف نہیں کرے گا۔

مالی حقوق میں تو حق واپس کرنا ہوتا ہے لیکن حقوق العباد مالی حق کے علاوہ زبانی اور جسمانی تکلیف سے ہو جیسے اگر ہم نے کسی کی غیبت کی ہے، کسی کے خلاف سازش کی ہو، یا کسی شخص کو بدنام کرنے کے لیے اس کی برائی کی ہو، کسی کی   چغلی کی  ہو اورلوگوں کے درمیان  فساد پھیلایا ہو، تو یہ  بھی بہت سنگین گناہ ہے ۔ان تمام صورتوں میں ظلم کرنے والاآدمی مظلوم سے جاکر اپنی غلطی کی دل سے معافی مانگے، نیز جہاں کہیں غیبت وچغلی کی اور بدنام کیا ہے وہاں اس کی براءت بیان کرے۔ جس پر ظلم کیا ہے، اگر وہ معاف کردیتا ہے تبھی اللہ کے یہاں ظالم کو معافی ملے گی ، ورنہ اللہ کے یہاں معافی نہیں ملے گی۔

چوتھا نکتہ: رمضان کی تیاری کا چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ ہم رمضان سے متعلق علم حاصل کریں۔جب ہم رمضان میں داخل ہونے جا رہے ہیں، تو پہلے یہ سیکھنا ضروری ہےکہ روزے کے آداب واحکام  کیا ہیں؟روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا طریقہ کیا ہے؟روزے کی فضیلتیں اور نواقض (توڑنے والی چیزیں) کیا ہیں؟روزہ کے مستحب  اعمال جیسے تراویح، دعا، اذکار، اور دیگر عبادات کا مسنون  طریقہ  اور احکام کیا ہے؟جس طرح حج یا عمرہ سے پہلے اس کے مناسک سیکھنا ضروری ہوتا ہے،اسی طرح رمضان سے پہلے روزہ  اور عبادت کے بنیادی مسائل سیکھنا لازمی ہے۔کیونکہ عمل سے پہلے علم کا ہونا ضروری ہے، تاکہ سنت کے مطابق عمل کیا جاسکے۔اگر ہم نماز پڑھنے والے ہیں، تو ہمیں نماز کا طریقہ اور اس کے اذکار سیکھنا چاہیے۔اگر ہم روزہ رکھتے ہیں، تو ہمیں روزہ  کے شرعی آداب واحکام  معلوم ہونا چاہیے۔عام لوگ تو عام لوگ ہیں ، افسوس کی بات یہ ہے کہ  بہت سے پڑھے لکھے لوگ (ڈاکٹر، انجینئر، افسر وغیرہ)دنیاوی علوم میں تو مہارت رکھتے ہیں، مگر ان کے پاس دین کی بنیادی معلومات نہیں ہوتی  جبکہ ہر مسلمان کے پاس اسلام کی بنیادی معلومات ہونی چاہئے۔ کلمہ ، نماز، روزہ ، زکوۃ اور حج کے ساتھ عقیدہ کی معرفت حاصل ہونی چاہئے۔ رمضان میں روزہ کے ساتھ عبادات پر زیادہ توجہ مرکوز رکھنی چاہئے  بلکہ نماز تو عمر بھر کا معاملہ ہے۔ اس نماز کو جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ دلائل کی روشنی میں جاننے کی ضرورت ہے تاکہ ہمہ وقت سنت کے مطابق عبادت کی جائے اور اسی طرح رمضان روزہ رکھنے کے لئے آیا، اس کے کیا آداب واحکام ہیں ، علماء کی طرف رجوع کرکے اس کا علم حاصل کرنا چاہئے۔ آج کا زمانہ کافی ترقی یافتہ ہے، گھر بیٹھے دین سیکھ سکتے ہیں اور علماء سے بآسانی رابطہ کرسکتے ہیں۔ رمضان سے قبل عموما  بہت ساری جگہوں پر یا آن لائن صورت میں رمضان کا کورس کرایا جاتا ہے، ایسے کورس میں شرکت کرکے علم حاصل کریں بلکہ آپ کے پاس  اس سے متعلق کتاب بھی ہونی چاہئے نیز بیانات سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ہمیں صرف روزہ کے مسائل ہی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روزہ کے ساتھ، نماز پڑھنے کا طریقہ، زکوۃ دینے کا طریقہ، ذکر وتلاوت  اور دعاکے آداب،اور کھانے پینے سے لے کر توحید وشرک ،  عقیدہ کی معلومات ، حلال وحرام کا علم  یعنی دین کی بنیادی معلوم حاصل کریں۔

جب آپ دین کا علم حاصل کرکے یقین کے ساتھ عمل کریں گے تو وہ عمل سنت کے مطابق  ہوگا، اس میں غلطی کرنے سے بچیں گے ، غلو اور سنت کی خلاف ورزی سے بچتے رہیں گے۔ سنت کے مطابق عمل کرنے کا نام ہی تقوی ہے جس کے لئے اللہ تعالی نے رمضان کا روزہ فرض کیا ہے۔

پانچواں نکتہ: رمضان کی تیاری کا پانچواں اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ توبہ کے بعد ہم پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔قرآن میں ارشاد ہے:"فَفِرُّوا إِلَى اللّٰهِ "اللہ کی طرف دوڑویعنی اپنا رخ دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف کرو۔ہم اکثر دنیا کی طرف دوڑتے ہیں — رزق، شہرت، مال، عیش و آرام کے پیچھے۔لیکن اللہ ہمیں بلا رہا ہے کہ اپنی جان، وقت، اور دل کو میری طرف موڑو۔توبہ کرنے کے بعد صرف پچھتاوا کافی نہیں بلکہ رجوع الی اللہ ضروری ہےیعنی اللہ کی بندگی، ذکر، محبت، اور قرب کی طرف لوٹنا۔یہی رجوع انسان کے ایمان کو زندہ کرتا ہے،دل کے زنگ کو صاف کرتا ہے،اور بندے کو رمضان کے استقبال کے لائق بناتا ہے۔رمضان کی تیاری کے یہ پانچ نکات مکمل ہوئے:دعا اور توفیق طلب کرنا۔اللہ کے حقوق ادا کرنا۔بندوں کے حقوق ادا کرنا۔علمِ دین، خاص طور پر روزے اور نماز کے احکام سیکھنا۔توبہ کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرنا۔یعنی حقیقی رجوع الی اللہ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اللہ کی طرف کیسے آئیں؟

ایسا ظاہر ہو کہ بندہ واقعی رمضان کے استقبال کی تیاری کر رہا ہے۔جس طرح ہم بازار جانے سے پہلے مکمل تیاری کرتے ہیںکپڑے درست کرتے ہیں، جیب میں پیسے دیکھتے ہیں، بیگ لیتے ہیں،اہلِ خانہ سے مشورہ کرتے ہیں، سوچتے ہیں کہ کون سا سامان لینا ہےاسی طرح رمضان کی طرف بھی ہمیں سوچ سمجھ کر، منصوبے کے ساتھ بڑھنا چاہیے۔رمضان کی تیاری کا مطلب صرف نیت نہیں بلکہ عملی تیاری ہے۔ تیاری کیا ہے، اللہ سے توفیق مانگنا۔حقوقُ اللہ ادا کرنا۔حقوقُ العباد ادا کرنا۔رمضان کے احکام و مسائل سیکھنا، اوراب ان سب پر عمل کرنا شروع کر دینا۔یعنی ابھی سے اپنے اندر تبدیلی لانا۔اگر ہم نے واقعی رمضان پانے کا ارادہ کیا ہے،تو ابھی سے نماز کی طرف متوجہ ہوں،قرآن کی تلاوت میں دل لگائیں،دینی کتابوں کا مطالعہ شروع کریں،دینی اجتماعات میں شریک ہوں،قرآن اور حدیث و سیرت کی کتابیں پڑھیں،اور دینی ماحول سے جڑ جائیں۔ایسا محسوس ہو کہ انسان حقیقتاً اللہ کی طرف آ رہا ہے،اپنے دل، عمل، اور نیت کے ساتھ۔جب بندہ توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے،جیسا کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(التحریم:8)

ترجمہ:اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو، قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔

سچی توبہ (توبۃ النصوح) کی تین شرائط  ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر سچے دل سے شرمندہ ہو۔دل سے یہ احساس ہو کہ واقعی ہم نے غلطی کی ہے۔دوسری شرط یہ ہے کہ بندہ اس گناہ کو فوراً چھوڑ دے۔مثلاً جو پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا،اب توبہ کے بعد نماز کی پابندی کا آغاز کرے۔اور تیسری شرط یہ ہے کہ بندہ پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کرے گا۔یہ صرف زبانی وعدہ نہیں بلکہ دل کا مضبوط عزم ہونا چاہیے۔جب بندہ ان تین شرائط پر توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہ بخش دیتا ہےبلکہ اس کے گناہ نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔یہی وہ رجوع الی اللہ ہے جو رمضان سے پہلے مطلوب ہےوہ رجوع جو ایمان کو تازگی، دل کو نرمی، اور روح کو قربت الہی بخشتا ہے۔جب بندہ سچی توبہ کرتا ہے اور اس میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہیںندامت (پشیمانی)،ترکِ گناہ (گناہ چھوڑ دینا)،پختہ عزم (آئندہ نہ کرنے کا یقین)تو یہ توبہ توبۃ النصوح کہلاتی ہے۔اگر بندہ ان شرائط کے ساتھ اللہ ربّ العالَمین سے توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے سے بڑے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے،سوائے حقوقُ العباد کےکیونکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ بندوں کے ذریعہ ہی حل ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان کی تیاری کے پانچ نکات یہ ہوئے:اللہ سے دعا اور توفیق طلب کرنا۔یعنی رمضان تک پہنچنے اور اس میں عبادت کرنے کی استطاعت مانگنا۔حقوقُ اللہ کا معاملہ درست کرنا۔جیسے زکات، روزے، اور حج جیسی ذمہ داریاں ادا کرنا۔حقوقُ العباد کا معاملہ صاف کرنااور بندوں کا حق واپس دینایعنی قرض، امانت، دھوکے یا غیبت کا معاملہ درست کرنا۔رمضان کے احکام اور آداب سیکھنا۔روزے، نماز، تراویح، دعا، اور اذکار کے مسائل جاننا تاکہ سنت کے مطابق عمل ہو۔اللہ کی طرف رجوع اور زندگی میں تبدیلی لانا۔توبہ کے بعد عملی تبدیلی،تاکہ لوگوں کو دیکھ کر لگے کہ یہ شخص بدل گیا ہےجو بے نمازی تھا اب نمازی بن گیا،جو جھوٹ بولتا تھا اب سچ بولنے لگا،جو قرآن سے دور تھا اب قرآن پڑھنے لگا،جو دین سے غافل تھا اب علما ءکی مجلسوں سے جڑ گیا ہے۔یہی رمضان سے پہلے کی اصل روحانی تیاری ہے۔اگر ہم میں یہ تبدیلی نظر آنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ ہم رمضان کا خوش آمدید صحیح معنوں میں کر رہے ہیں۔

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ  ہماری زندگیوں میں برکت عطا فرمائے،ہمیں رمضان تک پہنچا دے، جب ہم رمضان پائیں تو ہمیں سنت کے مطابق عبادت کرنے کی توفیق دے۔اس بابرکت مہینے میں ہماری مغفرت فرمائے،ہماری مشکلات آسان فرمائے، ہماری دنیا اور آخرت کے معاملات درست فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین

مکمل تحریر >>

Tuesday, April 1, 2025

رمضان سے متعلق چند باطل افکاروعقائد کا علمی جائزہ

 

رمضان سے متعلق چند باطل افکاروعقائد کا علمی جائزہ

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر- السلامہ-سعودی عرب

رمضان ایک مبارک و محترم اور عظمت و فضیلت والا مہینہ ہے ، سال میں ایک بار اللہ رب العالمین مسلمانوں کو قلب وروح کی تطہیر ، سیئات کی مغفرت، حسنات میں اضافہ اور اعلی درجات کے حصول کا موقع فراہم کرتا ہے۔ قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو رمضان کے فیوض وبرکات سے مستفید ہوتے ہیں اور حسرت وافسوس ایسے لوگوں پرجو ماہ مبارک کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس تحریر کے ذریعہ میں رمضان سے متعلق لوگوں میں پائے جانے والے چند باطل عقائد کی تردید کے ساتھ چندباطل افکار ونظریات کو واشگاف کروں گاجن میں بعض شہبات کاازالہ بھی شامل ہوگا۔ سب سے پہلےآپ کی خدمت میں            چند باطل عقائد کی حقیقت  پیش کرتا ہوں ۔

(1) رمضان کے استقبال میں روزہ رکھنے کی ممانعت: رمضان کے استقبال سے مراد یہ ہے کہ آپ رمضان کی آمد سے قبل توبہ کرلیں، اللہ کی طرف لوٹ جائیں اور رمضان میں کثرت کے ساتھ عبادات کرنے کے لئے خود کو تیارومتفرغ کرلیں ۔ اور یاد رکھیں کہ رمضان کے استقبال کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے، اس کی کوئی مخصوص دعا نہیں ہے اور نبی ﷺ نے رمضان کے استقبال میں اس کی آمد سے قبل روزہ رکھنے منع فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ(صحیح البخاری:1914)

ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔

اس وجہ سے اگر کوئی رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھتا ہے تو اس کا روزہ باطل ولغو ٹھہرے گاالایہ کہ اگر کسی کو روزہ کی عادت ہو تو اپنی عادت کے مطابق روزہ رکھ سکتا ہے جیسے کوئی سوموار یا جمعرات  کا روزہ رکھتا ہویا ایام بیض کا روزہ مہینہ کے آخر میں رکھتا ہو، یا نذر یا کفارہ یا قضا کا روزہ بھی رکھ سکتا ہے ۔

(2)روزہ کی فرضیت کا انکار: آج زمانے میں الحاد وکفر اس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس کے اثرات مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور بہت سارے لوگ  نام کے مسلمان نظر آتے ہیں جبکہ ان کا عمل وکردار ہرگز مسلمانوں جیسا نہیں ہوتا۔ روزہ کے تعلق سے دیکھیں تو بہت سارے مسلمان کہنے والے بغیرکسی عذر کے کبھی بھی رمضان کا روزہ نہیں رکھتے گویا رمضان کے روزہ سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ بعض بے دین اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ  روزہ کا انکاربھی کرتے ہیں جبکہ بعض زبان سے نہیں  بولتے ہیں مگر عملی طور سے ظاہرکرتے ہیں کہ وہ روزہ کے منکر ہیں ۔ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن روزہ بھی ہے ، جو کوئی اس رکن کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔ مسلمانوں میں روزہ چھوڑنے کے اعتبار سے کئی اقسام ہیں، ان سب کا حکم جاننے کے لئے شیخ ابن باز ؒکا ایک فتوی نقل کرتا ہوں ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایسے مسلمان کا کیا حکم ہے جو بغیر شرعی عذر کے کئی سالوں سے روزہ کا فریضہ ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے جبکہ وہ دیگر فرائض کا التزام کرتا ہے۔ کیا اس کے اوپر قضا یا کفارہ ہے اور اگر اس کے اوپر قضا ہے تو ان تمام مہینوں کی کیسے قضا کرے گا؟

اس پر شیخ نے جواب دیا کہ جس نے رمضان کا روزہ ترک کیا اس حال میں کہ وہ مکلف ہو مرد یا عورت میں سے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ،اس کے اوپر اس عمل سے توبہ کرنا ہے اور اس کی قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہے اگر کھلانے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر محتاج ہے یعنی  کھلانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کے لیے قضا اور توبہ ہی کافی ہے کیونکہ رمضان کا روزہ فرض ہے، اللہ تعالی نے مکلف مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قراردیا ہے۔ جو اسے چھوڑتا ہے اسے تعزیرا سزا دی جائے گی ، اس کے معاملہ کو ولی الامر یا هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر تک پہنچایا جائے گا، اگر وہ رمضان کے وجوب کا انکار نہیں کرتا اور اگر وہ رمضان کے وجوب کا انکار کرتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والا ہے، شرعی عدالت میں قاضی کی جانب سے توبہ قبول کروایا جائے گا، اگر توبہ کر لیتا ہے تو ٹھیک اور اگر توبہ قبول نہیں کرتا ہے تو وہ واجب القتل ہے مرتد ہونے کی وجہ سے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو اپنا دین بدل دے اس کو قتل کر دو۔ ہاں اگر کوئی مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ چھوڑتا ہے تو اس کے اوپر کوئی حرج نہیں ہے البتہ اس پر واجب ہے کہ جب تندرست ہو جائے یا سفر سے واپس آئے تو اس کی قضا کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔(ویب سائٹ شیخ ابن باز)

اس مقام پر ایک اور شرعی مسئلہ جان لیتے ہیں کہ بعض لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر وہ نماز نہیں ادا کرتے جبکہ روزہ کی طرح نماز بھی اسلام کا ایک رکن ہے بلکہ کلمہ کے بعد سب سے زیادہ نماز کی ہی اہمیت ہے۔ جو نماز کی فرضیت کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں ہے ایسا آدمی روزہ رکھ لے تو اس کے روزہ کا کوئی فائدہ نہیں یا یوں کہیں کہ اس کا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ جو زبان سے نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرے مگرعمل بے نمازی والا ہواس کا روزہ بھی بے فائدہ ہےالبتہ جو سستی کی وجہ سے کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے اس پر کافر کا حکم نہیں لگے گا تاہم فرائض میں کوتاہی کی وجہ سے کبائرکا مرتکب ماناجائے گا، ایسے شخص پرتوبہ  کرنا ضروری ہے۔

(3)آمدرمضان کی خوشخبری دینا:  رمضان کی آمد کی خبر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر لوگوں میں ماہ رمضان کی آمد سے قبل یہ خبرگردش کرتی ہے کہ " جس نے سب سے پہلے رمضان کی خبردی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی"۔ یہ جھوٹی خبر ہے مگر اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کی جاتی ہے جبکہ یہ اسلامی عقیدہ سے متصادم ہے۔ کوئی بغیرثبوت کے کوئی بات نہ نبی ﷺ کی طرف منسوب کرسکتا ہے اور نہ ہی بغیردلیل کے کوئی ثواب یا فضیلت بیان کرسکتا ہے ۔  ،نبی ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933) ۔

ترجمہ: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔

چونکہ مذکورہ بالا خبرجھوٹی ہے، کتاب وسنت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے لہذا کسی مسلمان کےلئے جائز نہیں ہے کہ رمضان کی آمد پہ  یہ جھوٹی بات بیان کرے اور یہ بھی معلوم رہے کہ نبی کی طرف عمدا  جھوٹی بات منسوب کرنے والا خود جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے۔

(4)افطار میں احتیاط کا نظریہ:  احناف اور بریلوی دونوں افطار کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اس میں پانچ سے دس منٹ کی تاخیر کرتے ہیں جبکہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ(صحیح البخاري 1957)

ترجمہ: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی افطاری کرتے رہیں گے ۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہی غروب شمس کا علم ہوفورا افطار کرلینا چاہئے ، اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے بلکہ دوسری جگہ اس عمل کو مسلمانوں کی سربلندی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، لِأَنَّ الْيَهُودَ وَ النَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ(سنن ابي داود:2353، حسنہ البانی)

ترجمہ:دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں۔

گویا افطار میں تاخیر کرنا یہود ونصاری کی علامت ہے، مسلمانوں کو افطار میں تاخیرسے باز رہنا چاہئے، جو لوگ عمدا افطار میں احتیاط کے نام پر تاخیر کرتے ہیں وہ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ  اللہ تعالی نے محمد ﷺ کی زندگی میں ہمارے لئے بہترین اسوہ رکھا ہےاس لئے  اپنی عقل کو بالائے طاق رکھ کر دین اور عبادت میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا ہمارے اوپر لازم ہے۔افطار میں رسول اللہ ﷺکی اس سنت کو ترک کیا جاتا ہے بلکہ  حد تو اس وقت ہوجاتی ہے جب افطار میں سنت رسول کی مخالفت کرنے والے مقلدین، سنت کے مطابق عمل کرنے والے اہل حدیث سے کہتے ہیں کہ تم سب لوگوں کا روزہ قبول نہیں ہوگا کیونکہ تم لوگ افطار میں جلدی کرتے ہو۔

(5)   رمضان المبارک اور قضائے عمری: مقلدوں میں چھوٹی ہوئی نماز کے تعلق سے قضائے عمری کا عمل پایا جاتا ہے جبکہ شریعت میں عبادت کا معاملہ واضح ہے ۔ کسی کو بھی بال یا ذرہ برابر بھی عبادت میں اضافہ یا کمی کرنے کا اختیار نہیں ہےجبکہ احناف نے قضائے عمری کے نام سے باقاعدہ نمازکا طریقہ مشہورکر رکھا ہے اور جہال اس طریقہ پر عمل کرتے ہیں ۔ احناف نے قضائے عمری کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں ، میں یہاں رمضان سے متعلق قضائے عمری کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔

٭ قضائے عمری سے متعلق ایک بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کوایک دن کی پانچ نمازیں مع وتر پڑھ لی جائیں تو عمر بھر کی چھوڑی ہوئی نمازیں ادا ہوجائیں گی ۔ یہ لوگوں کا جھوٹ ہے، اس بات کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

٭قضائے عمری سے متعلق ایک دوسری بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ" جو رمضان کے آخری جمعہ میں چار نفل ایک سلام سے پڑھ لے ، نماز کی ہررکعت میں فاتحہ کے بعد سات مرتبہ آیۃ الکرسی اور پندرہ مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے (کسی نےسورت اخلاص کی بجائے سورت کوثر بھی بتایا ہے) تو تمام عمر کی قضا نمازوں کا کفارہ ہوجائے گااگرچہ سات سوسال کی نمازیں قضا ہوں تب بھی یہ چار رکعت نماز کفارہ کے لئے کافی ہے"۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی روایت مستند کتب حدیث میں نہیں ہے البتہ ایک جھوٹی اور باطل روایت کا تذکرہ ملاعلی قاری حنفی اپنی کتاب "الموضوعات الکبری" میں کرتے ہیں کہ جو شخص رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز بطور قضاپڑھ لے تو اس کی ستر سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی تلافی ہوجائے گی ۔ اس روایت کو ذکر کرکے ملا علی قاری خود فرماتے ہیں کہ یہ باطل روایت ہے بلکہ اس وقت علمائے احناف بھی قضائے عمری کے نام سے اس مروجہ چار رکعت والی نما ز کو باطل قراردیتے ہیں ۔ بریلوی علماء بھی اس مروجہ قضائے عمری کو بے اصل اور بدعت قرار دیتے ہیں اس کے باوجود حنفی عوام رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ کا نام دے اس کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور قضائے عمری سے متعلق باطل عقیدہ رکھتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔

(6) رمضان میں مخصوص عبادات :  اہل بدعت اور اہل تصوف میں رمضان کے دنوں میں بدعتی اعمال وعبادات کی بہتات ہے ۔ ذکر، دعا، تلاوت اور نماز سے متعلق مختلف قسم کے مصنوعی اور بدعتی اعمال انجام دئے جاتے ہیں جن سب کا اس مضمون میں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ رمضان کی پہلی تاریخ سے لے کر آخری رمضان تک بلکہ شب عید تک بہتیرے قسم کے بدعتی وظائف و اعمال انجام دئے جاتے ہیں جیسے رمضان کی پہلی رات مخصوص عبادت وذکر کئے جاتے ہیں، عورتیں اہتمام وخصوصیت کے ساتھ صلاۃ التسبیح باجماعت پڑھاکرتی ہیں،شبینہ تراویح پڑھی جاتی ہے،ایام بیض کی چاندراتوں میں مخصوص اعمال انجام دئے  جاتے ہیں بلکہ  رمضان کی رات میں خصوصا گیارہ وبارہ کی درمیانی رات میں دودو کرکے  بارہ نوافل مخصوص طرزپر(ہررکعت میں فاتحہ کے بعد بارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنا ہے پھر آخر میں سومرتبہ درود پڑھ کر نبی ﷺ کو ہدیہ کرنا ہے) پڑھی جاتی ہے اس عمل سے ہرقسم کی مشکلات ، رکاوٹ ، بندش اور مصیبت وبلاٹل جاتی ہے ۔ صوفی لوگ اس نماز کے لئے خانقاہ میں باقاعدہ جماعت کراتےہیں ۔عبقری نام سے گمراہی پھیلانے والا شخص حکیم محمد طارق محمود مجذوبی لاہور میں تسبیخ خانہ تعمیر کررکھا ہے جس میں اس قسم کے بدعتی وظائف انجام دیتا ہے اور رمضان میں یہ بارہ نوافل کی باجماعت نماز پڑھاتا ہے۔ پھر شب قدر کی الگ الگ رات میں الگ الگ قسم کی مخصوص عبادت انجام دی جاتی ہے۔ ان تمام باطل وظائف اور عبادات کے سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر صرف محمد ﷺ کے طریقہ کے مطابق کیا جائے گا۔ جو نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹ کر کوئی ذکر کرے یا کسی قسم کی عبادت انجام دے وہ باطل و مردود ہے، اللہ اسے قبول نہیں فرمائے گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(محمد:33)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔

اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)

ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔

(7) خواتین کا گھر میں اعتکاف:اعتکاف کے لئے مسجد خاص ہے اس وجہ سے اگرعورت بھی اعتکاف کرنا چاہے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا پڑے گا جیسے عہد رسول کی خواتین اور ازواج مطہرات مسجد میں اعتکاف کرتی تھیں مگر برصغیرہندوپاک میں عورتیں اپنے گھرمیں اعتکاف کرتی ہیں۔ اس سےان کا اعتکاف نہیں ہوگا۔ عورتوں کے اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ شوہر اس کی اجازت دے اور  مسجد میں عورتوں کے لئے علاحدہ محفوظ انتظام ہو تو وہ مسجدمیں اعتکاف کرسکتی ہیں ۔اگر عورت مسجد کو چھوڑ گھر میں اعتکاف کرے تو اس کا اعتکاف لغووباطل ہے۔

(8) الوداعی جمعہ کا تصور اور رمضان کی جدائی بیان کرنا:رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ کہاجاتا ہے جبکہ الوداعی جمعہ کہنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ جمعہ ہفتہ کا ایک دن ہے جو ہرہفتہ آیاکرتا ہے ۔پھر لوگ اس جمعہ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور بعض بدعات کا بھی ارتکاب کرتے ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہےاور ایک بدعت رمضان کو رخصت کرنا اور اس کی جدائی کرنا ہے چنانچہ لوگوں میں رمضان کے رخصت کرنے کے پیغامات نشر ہونے لگتے ہیں  حتی کہ خطیب ممبر سے اس ماہ کو رخصت کرتا ہے اور رخصت کرنے کی ایک دعا بھی بیان کی جاتی ہے جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔    درحقیقت یہ عمل ہی بدعت ہے۔ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب سے رمضان کے رخصت کرنے اور رمضان کو الوداع کہنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی اورنہ ہی اس کے لئے کوئی دعا ثابت ہے ۔

رمضان سے متعلق عقائد وعبادات کے باب میں اور بھی بہت تفاصیل ہیں مگر یہاں اہم باتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے ، اب رمضان سے متعلق چند باطل افکار ونظریات اور چندشبہات وغلط فہمیوں  پر طائرانہ نظر ڈاتے ہیں ۔

(1)بعض جگہوں پر کچھ لوگ زور و شور سے یہ آواز بلند کررہے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کررہے ہیں کہ سعودی عرب کے حساب سے روزہ رکھنا چاہئے اور عید منانا چاہئے۔ یہ عمل دلائل اور اسلاف امت کے تعامل کے خلاف ہے ۔ نبی ﷺ نے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید منانے کا حکم دیا ہے اس لئے روزہ اور عید میں سعودی عرب کی پیروی کرنے کا نعرہ لگانا امت میں انتشار پھیلانے جیساہے۔ بعض علاقوں میں وحدت رویت کا نعرہ لگانے والوں کے عملوں سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں عوام سے اپیل ہے کہ کسی اختلاف کا شکارہوئے بغیر جماعت کو لازم پکڑے رہیں۔

(2)رمضان سے متعلق لوگوں کا ایک نظریہ یہ ہے کہ اس مہینہ میں شادی کرنا منع ہے جبکہ کتاب وسنت میں رمضان میں شادی کی کہیں پر ممانعت وارد نہیں ہے لہذا لوگوں کی یہ فکر باطل ہے۔ مسلمان رمضان میں بھی شادی کرسکتا ہے۔

(3)لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ افطارکے وقت بندے اور رب کے درمیان کا پردہ اٹھا دیا جاتا ہے ۔ اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ۔

(4)یہ بات بھی کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے کہ رمضان میں فوت ہونے سے حساب وکتاب نہیں ہوتا اور مرنے والا بلاحساب جنت میں چلاجاتا ہے ۔ ایک حدیث اس طرح کی آتی ہے کہ جو اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھے اور اسی حالت میں مرجائے تو جنت میں داخل ہوگا۔(احمد:22813) مگر اس میں بلاحساب جنت میں جانے والی بات مذکور نہیں ہے۔

(5)بعض لوگ رمضان کو زکوۃ ادا کرنے کا مہینہ سمجھتے ہیں اور   زکوۃ دینے کے لئے رمضان کا انتظار کرتے ہیں  جبکہ یہ بات درست نہیں ہے ۔ زکوۃ کا تعلق نصاب اور سال پورا ہونے سے ہے ۔جب مال  نصاب تک پہنچ جائے اور اس مال پرجب سال مکمل ہواسی  وقت زکوۃ ادا کرنا ہے۔اس سے متعلق یہاں پر چند مزید مسائل سمجھ لیں ۔

٭ اگر کسی کے مال زکوۃ پر رمضان سے پہلے سال مکمل ہورہا ہے اس کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرے بلکہ جیسے مال پر سال مکمل ہواس کی زکوۃ اسی وقت فوراادا کرے ۔

٭ اگر کسی کے مال پر رمضان کے بعد مثلا ایک یا دو ماہ بعد سال مکمل ہورہا ہے ، ایسا آدمی اگر کسی فقیر ومحتاج کی ضرورت کی بناپر وقت سے پہلے رمضان میں زکوۃ دینا چاہے تو ضرورت ومصلحت کے تئیں وقت سے پہلے زکوۃ دی جاسکتی ہے مگر زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر جائز نہیں ہے۔

٭ تنخواہ والوں کو ماہ بماہ پورے سال تک تنخواہ ملتی رہتی ہے ، پورے سال کی تنخواہ پر ایک ساتھ سال گزرنا مشکل ہے ، ایسی صورت میں بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ملازم تنخواہ کی زکوۃ دینے کے لئے ایک مہینہ خاص کرلے اور ہرسال ایک مہینہ میں اس کے پاس جتنے پیسے ہوں سب جوڑ کر زکوۃ ادا کردے خواہ پیسوں پر جتنے بھی ایام گزرے ہوں ۔ رمضان ایک مبارک مہینہ ہے ، کوئی تنخواہ دار ملازم  آدمی رمضان کو زکوۃ کے لئے خاص کرلے تو ہرسال وہ رمضان میں اپنی تنخواہ کی زکوۃ ادا کیا کرے ۔ تنخواہ کی زکوۃ کے سلسلے میں یہ مناسب رائے ہے۔

٭ زکوۃ کے علاوہ صدقات کا معاملہ الگ ہے، آدمی اپنی مرضی سے جب چاہے اور جس قدر صدقہ کرے،رمضان میں نبی ﷺ کثرت سے صدقہ دیا کرتے تھے تو ہم بھی اپنی استطاعت کے حساب سے جتنا چاہیں نفلی صدقہ کریں۔

(6)تراویح پڑھانے والے زیادہ مال کے حرص میں جہاں زیادہ نذرانہ ملے اس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں ، یہ قابل افسوس پہلو ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ خلوص وللہیت کے ساتھ جہاں جگہ خالی ملے وہاں تراویح پڑھائے، اس سے  عبادت میں خلوص رہے گا اور الحمدللہ تمام مساجد والے حفاظ کو نذرانہ ضرور دیتے ہیں اس لئے زیادہ نذرانہ کی حرص نہ کرے۔تراویح سے متعلق عام لوگوں  میں بھی ایک غلط نظریہ پایا جاتا ہے ،  وہ یہ ہے کہ  تراویح میں قرآن مکمل ختم ضروری سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے قیام اللیل کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے ، نہ نماز میں سکون ہوتا ہے اور نہ تلاوت میں سنجیدگی ہوتی ہے۔تراویح میں اصل یہ ہے کہ سکون سے قرات کی جائے اور سکون سے قیام کیا جائے خواہ پورے رمضان میں جس قدر قرآن کے پارے ختم ہوسکیں ۔

(7)بعض لوگوں کے یہاں بلکہ اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ رمضان کی ستائیسویں رات شب قدر ہے اس وجہ سےدیگر راتوں کی بنسبت   اس رات کا اہتمام زیادہ ہوتا ہے ، کھانے پینے سے لے کر عمدہ لباس تک لگایا جاتا ہے اور بطور خاص اس رات صدقہ وخیرات کا زیادہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ خاص ستائیسویں رات کو شب قدر سمجھنا غلط ہے ۔ نبی ﷺ کے فرمان کی روشنی میں  آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک شب قدر ہوسکتی ہے مگرخاص کون سی رات ہے کسی کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں ہے۔ مسلمانوں کو رمضان کے آخری عشرہ کی تمام طاق راتوں میں عبادت پر اجتہاد کرنا چاہئے بلکہ آخری عشرہ کی تمام راتوں  میں عبادت کی جائے ، یہ زیادہ افضل ہے۔

(8)رمضان کے آخر میں ہرجگہ اور ہرکس وناکس کی زبان پہ یہ جملہ عام ہوتا ہے کہ امسال فطرانہ کتنا روپیہ ہے ؟ گویا لوگوں نے رقم کو ہی فطرانہ سمجھ رکھاہے اورانہیں گائیڈ کرنے والے علماء بھی ایسے ہی ہیں جو پہلے سے کلکولیٹرسے حساب کئے بیٹھے ہوتے ہیں۔ فطرانے کی اصل فی کس ڈھائی کلو اناج ہے ۔فطرہ دینے والا کھانے کے کسی بھی اناج سے ڈھائی کلو دے سکتا ہے ۔ ایک ریٹ لگانے والے علماء کو اناج کے بجائے روپیہ نکالنے اورایک مخصوص اناج کا ریٹ فکس کرنے کا کس نے اختیار دیا ہے ؟ علماء کو چاہئے کہ لوگوں کو فطرانے کی حقیقت بتائیں تاکہ فطرانہ لینے اور دینےوالے تمام لوگوں کو آسانی ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ بوقت ضرورت فطرانے کی رقم بھی نکالی جاسکتی ہے ۔

اختصار کے ساتھ میں نے رمضان المبارک سے متعلق غلط قسم کے بعض  افکار ونظریات اور عقائدواعمال کا جائزہ پیش کردیا ہے۔ آخر میں اللہ رب العالمین سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اخلاص وللہیت کے ساتھ اپنی بندگی کرنے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے ۔آمین

 

مکمل تحریر >>

Sunday, March 2, 2025

تقوی کی اہمیت اور اس کے مظاہر

 تقوی کی اہمیت اور اس کے مظاہر

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعدہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب


تقوی اندرون قلب کے پاکیزہ اور مخفی وصف کانام ہے مگراس  کا اثر روح کے ساتھ پورے جسم پر ظاہر ہوتا ہے کیونکہ انسانی اعمال وکردار کا مرکز دل ہے، یہیں سے اچھے برے تمام قسم کے افعال صادر ہوتے ہیں۔ جس کا دل پاکیزہ ہےگویااس میں تقوی موجود ہے اور اس تقوی کے سبب اس کےپورے  جسم سے اچھے افعال صادر ہوتے ہیں اور جس کے دل میں مرض و آلائش ہے اس سے برے کام صادر ہوتے ہیں۔

علماء نے تقوی کو مختلف پیرائے میں بیان کیا ہے ان سب باتوں کو جمع کرکے ایک مختصر جملہ میں کہاجائے تو مامورات کی انجام دہی اور منہیات کو ترک کردینے کا نام تقوی ہے یعنی جن کاموں کو اللہ تعالی نے کرنے کا حکم دیا ہے اسے عمل میں لانا اور جن باتوں سے منع کیا ہے ان سے رک جانا تقوی ہے۔ اور تقوی کا تعلق دل ہے یا یہ کہہ لیں کہ تقوی کا محل دل ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج:32)

ترجمہ:یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔

اس آیت میں شعائر کی تعظیم کو دل کا تقوی قرارد یا گیا ہے اور نبی ﷺ نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره(صحيح مسلم:2564)

ترجمہ: تقویٰ یہاں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إلى صُوَرِكُمْ وأَمْوالِكُمْ، ولَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُمْ وأَعْمالِكُمْ(صحيح مسلم:2564)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔

معلوم ہوا کہ اعمال کا تعلق دل سے ہے اور اس دل کی پرہیزگاری کا نام تقوی ہے۔ جب تک یہ دل ٹھیک ہے ، پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب دل کو مرض لاحق ہوجاتا ہے تو پورا جسم بیمار ہوجاتا ہے چنانچہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألَا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً: إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألَا وهي القَلْبُ(صحيح البخاري:52)

ترجمہ: سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں تقوی کی اس قدر اہمیت ہے کہ قرآن اور حدیث میں جابجا اس کا بیان ہے، ان سب کا احاطہ اس جگہ ممکن نہیں ہے تاہم کچھ اہم نقاط بیان کر دیتا ہوں جن سے اندازہ لگانا کافی ہوگا۔ پہلے ہم نے تقوی اور اس کا محل سمجھ لیا، اب اختصار کے ساتھ تقوی کی اہمیت وفضیلت کو واضح کرنے والے چند عناصر پر نظر ڈالیں۔

(1)تقوی کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے سب سے پہلے اس بات کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ نبی ﷺ سے جو خطبہ مسنونہ منقول ہے جسے خطبۃ الحاجہ بھی کہتے ہیں اس خطبہ میں آپ ﷺ ہمیشہ تقوی سے متعلق تین آیات کی تلاوت کیاکرتے، وہ تین آیات اس طرح سے ہیں۔

پہلی آیت :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (آل عمران:102)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے ، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

دوسری آیت:يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء:1)

ترجمہ:اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ،اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔

تیسری آیت:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب:70-71)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔

ان آیات پر گہرائی سے غور کرکے دیکھیں کہ تقوی کی اہمیت کو واضح کرنے والی  یہ کس قدر عظیم آیات ہیں اور زندگی کے کن کن امور میں تقوی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ ان آیات کی تلاوت کے بعد آپ ﷺ پھر وعظ ونصیحت فرماتے۔ گویا دین میں تقوی ہی اصل ہے اور اس کو ہرچیز پر فوقیت و ترجیح حاصل ہے۔

(2)تقوی کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے اسے اپنے نزدیک برتری و عظمت کا معیار بنایا ہے یعنی جو جس قدرآدمی  متقی ہوگا اللہ کے نزدیک وہ اسی قدر، قدر ومنزلت والاہوگا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(الحجرات:13)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔

نبی ﷺ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور کالے و گورے کا فرق مٹاتے ہوئے بڑے خوبصورت انداز میں تقوی کی اہمیت کو واضح کیا ہے، آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

يا أيها الناسُ ! إنَّ ربَّكم واحدٌ، و إنَّ أباكم واحدٌ، ألا لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ، و لا لعجميٍّ على عربيٍّ، و لا لأحمرَ على أسودَ، و لا لأسودَ على أحمرَ إلا بالتقوى إنَّ أكرمَكم عند اللهِ أتقاكُم، ألا هل بلَّغتُ ؟ قالوا : بلى يا رسولَ اللهِ قال : فيُبَلِّغُ الشاهدُ الغائبَ( السلسلة الصحيحة:2700)

ترجمہ:لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، خبردار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر فرمایا: حاضر لوگ یہ باتیں غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔

(3)تقوی کے بغیر آدمی کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا یعنی جب تک اس کے دل میں عمل کے تئیں اخلاص نہیں ہوگا اور اخلاص نیت سے عمل نہیں کرے گا وہ عمل عنداللہ مقبول نہیں ہوگا، فرمان الہی ہے:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ(الحج:37)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کا تقوی (پرہیزگاری) پہنچتا ہے ۔

ایک دوسرے مقام پر اسی بات کو اللہ تعالی اس طرح بیان کرتا ہے:إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ(المائدۃ:27)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔

(4)تقوی سفر آخرت کا سب سے بہترین توشہ ہے اس لئے اللہ نے اپنے بندوں سے تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ آخرت میں  یہ توشہ اس کے کام آسکے۔ اللہ فرماتا ہے:وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (البقرۃ:197)

ترجمہ:اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔

(5)تقوی دنیا میں بھی معاون، غم کا ساتھی ، رزق کا سبب اور پریشانی سے نکلنے کا راستہ ہے تو آخرت میں بھی اسی میں کامیابی اور اسی بنیاد پرنجات بھی موقوف ہے، اللہ رب العزت کا فرمان ہے:ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (مریم:72)

ترجمہ:پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے:إن للمتقين مفازا (النبا:31)

ترجمہ: بے شک تقوی والوں کے لئے کامیابی ہے۔

(6)اور تقوی کا سب سے بڑا انعام حصول جنت ہے، جو آدمی تقوی سے لیس ہوگا،وہ آخرت میں کامیاب ہونے والوں میں ہوگا اور اسے جنت نصیب ہوگی۔ اللہ نےجابجاقرآن میں اس بات کا ذکر کیا ہےچنانچہ  ایک مقام پرفرمان الہی ہے:

وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ (ق:31)

ترجمہ:اور جنت پر ہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کردی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی۔

ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے:

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن:46)

ترجمہ:اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔

اسی طرح نبی ﷺ نے متعدد احادیث میں تقوی کی فضیلت کا بیان کیا ہے حتی کہ آپ نے اسے دخول جنت کا سبب قرار دیا ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں:

سُئِلَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ عن أَكْثرِ ما يُدخلُ النَّاسَ الجنَّةَ ؟ فقالَ : تَقوى اللَّهِ وحُسنُ الخلُقِ، وسُئِلَ عن أَكْثرِ ما يُدخِلُ النَّاسَ النَّارَ، قالَ : الفَمُ والفَرجُ(صحيح الترمذي:2004)

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ۔

تقوی سے متعلق یہ چند اہم فوائد بیان کیا ہوں جس سے اس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اب اس کے بعد اختصار سے تقوی کے مظاہر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کے فوائدوبرکات جو اوپر بیان کئے گئے ہیں ان  کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

تقوی کے مظاہر کی بات کی جائے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ  ایمان کے سارے شعبے تقوی کے مظاہر ہیں بلکہ سارے اعمال خیر تقوی میں داخل وشامل ہیں۔ آئیے پہلے ایمان کے شعبوں سے متعلق حدیث پر نظر ڈالتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الإِيمانُ بضْعٌ وسَبْعُونَ، أوْ بضْعٌ وسِتُّونَ، شُعْبَةً، فأفْضَلُها قَوْلُ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وأَدْناها إماطَةُ الأذَى عَنِ الطَّرِيقِ، والْحَياءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإيمانِ(صحيح مسلم:35)
ترجمہ:ایمان کے ستر سے اوپر (یا ساٹھ سے اوپر) شعبے (اجزاء) ہیں۔ سب سے افضل جز لاالہ الا اللہ کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت (دینے والی چیز) کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیابھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے۔

مذکورہ بالا حدیث میں ایمان کے جن شعبوں کی بات کی گئی ہے یہ سب تقوی والے  اعمال اوراس کے  مظاہر ہیں چنانچہ لاالہ الااللہ کہنا تقوی ہے، راستے سے موذی چیز کوہٹادینا تقوی ہے اور حیا کرنا بھی تقوی ہے۔امام ابوبکربیہقی ؒ نے ان ستر شاخوں کا تذکرہ فرمایا ہے جس کے لئے شعب الایمان اوردوسری کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔تقوی کے بڑے   مظاہر میں سے وہ سارے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن عرش الہی کے تلے سایہ پانے کا سبب بننے والے ہیں۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى في ظِلِّهِ يَومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّهُ: إمَامٌ عَدْلٌ، وشَابٌّ نَشَأَ في عِبَادَةِ اللَّهِ، ورَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ في المَسَاجِدِ، ورَجُلَانِ تَحَابَّا في اللَّهِ، اجْتَمعا عليه وتَفَرَّقَا عليه، ورَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وجَمَالٍ فَقالَ: إنِّي أَخَافُ اللَّهَ، ورَجُلٌ تَصَدَّقَ بصَدَقَةٍ فأخْفَاهَا حتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ ما تُنْفِقُ يَمِينُهُ، ورَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ(صحيح البخاري:1423)

ترجمہ: سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو، وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے، دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں، اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔

اس حدیث کی روشنی میں عدل کرنا، نوجوانی میں عبادت کرنا، مسجد سے دل اٹکا رہنا، اللہ کی محبت میں جمع اور جدا ہونا، برائی کی دعوت ملنے پر اللہ کا خوف کھانا، چھپاکر صدقہ کرنا اور تنہائی میں اللہ کو یاد کرکے رونا تقوی کے مظاہر ہیں۔ جو کوئی ان میں سے ایک عمل میں اپنے اندر پیدا کرلے اس کی نجات کے لئے آخرت میں کافی ہے کیونکہ یہ تقوی کامظہرہے اور تقوی کی بنیاد پرہی کسی کو نجات ملے گی ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سات میں سے صرف کوئی ایک کام کرنا چاہئے، نہیں ہرگز نہیں۔ ایک مومن کو یہ سارے کام کرناہے اور تقوی نام ہے اللہ کے جمیع اوامر کی بجاآوری اور جمیع منہیات سے رکنے کا۔ صحابہ کرام ایمان کے اعلی درجات پر فائر تھے، ان کی زندگی میں تقوی شعاری کا پرتو بڑے نمایاں طور پر نظر آتا ہے ،اس لئے ہمیں اپنے اندر تقوی پیدا کرنے کے لئےجہاں  سیرت نبوی پڑھنے کی ضرورت ہے وہیں صحابہ کرام کی پاکیزہ زندگی کا مطالعہ بھی  کرنا چاہئے، اس سے ایمان کو مہمیز ملے گی اور عمل وتقوی کا جذبہ بیدار ہوگا۔

دین میں غلو کرنا تقوی نہیں ہےجیساکہ صوفیاء اور اہل بدعت کرتے ہیں۔ عبادت کے ذریعہ جسم کو تکلیف پہنچانا، غیرمسنون طریقہ پر اعمال کا ڈھیرلگانا اور جو عمل شریعت محمدمیں نہ ہواسے انجام دینا تقوی نہیں ہے ۔ دین پر سنت کے مطابق اعتدال ووسطیت سے عمل پیرا ہونا تقوی ہے ۔ صحیح بخاری میں تین صحابہ کا واقعہ ہے، ان لوگوں نے زیادہ عبادت کرنے کا ارادہ کیا، ایک یہ نیت کی کہ رات میں نہیں سوئے گا، ایک نے نیت کی وہ مسلسل روزہ رکھتا رہے گا اور ایک نے نیت کی وہ شادی نہیں کرے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے ان تینوں کو اپنے ارادہ سےمنع کیا اور یہ کہا کہ میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہوں  مگر روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں سوتا بھی ہواور شادی بھی کرتا ہوں ۔ پھر آپ نے عمل میں سنت کی تابعداری کا حکم دیا جیساکہ بخاری کے الفاظ ہیں۔

أَمَا واللَّهِ إنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وأَتْقَاكُمْ له، لَكِنِّي أصُومُ وأُفْطِرُ، وأُصَلِّي وأَرْقُدُ، وأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فمَن رَغِبَ عن سُنَّتي فليسَ مِنِّي( صحيح البخاري:5063)

ترجمہ:سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔

گویا معلوم یہ ہوا کہ سنت کے مطابق عمل کرنے کا نام تقوی ہے ، خودساختہ طریقوں پر چلنا، دین میں حد سے تجاوز اور غلو کرنا اور بدعتی راستوں پر چلنا تقوی نہیں ہے۔

اللہ رب العالمین کا شکر واحسان ہے کہ اس نے ہمیں تقوی سے متصف ہونے سے کے لئے باضابطہ طورپر ایک ماہ کا پاکیزہ کورس مہیا فرمایا ہے ، وہ رمضان المبارک کا ایک مہینہ ہے جس میں آدمی روزہ رکھ کر اور نوع بنوع تقوی کے اعمال انجام دے کر اللہ کا پرہیزگار بندہ بن جاتا ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 183)

ترجمہ:اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے روزہ کو تقوی پیداکرنے کا ذریعہ بتایا ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزہ حصول تقوی کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے ، جو ایک ماہ خلوص وللہیت کے ساتھ روزہ رکھ لے وہ اللہ کی توفیق سے متقی وپرہیزگار بن جائے گا۔ جس کے اندر تقوی پیدا ہوجاتا ہے وہ متقی کہلاتا ہے ، ایسا آدمی اللہ کا ولی کہلاتا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ، الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ، لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (یونس:62-64)

ترجمہ:یاد رکھو کے اللہ کے اولیاء(دوستوں) پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ ان کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

یہاں پر اللہ نے اپنے اولیاء کی پہچان بتائی ہے اور ان کے لئے انعام کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اللہ کے ولی کی پہنچان یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لانے والا اور تقوی والا ہو۔ گویا رمضان حصول خیرکا سنہرا موقع ہے، اس  سےفائدہ اٹھاکر آدمی پرہیزگاری اور اللہ کا قرب وولایت حاصل کرسکتا ہے ۔ جو پرہیزگاری اور قرب حاصل کرلے اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے۔ جیساکہ رب فرماتا ہے: وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ (الجاثیۃ:19)
ترجمہ: اور اللہ متقیوں کا ولی ہے۔

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے اوامر کی بجاوی اور اس کی منہیات سے بچنا تقوی ہے اور یہ تقوی محمد ﷺ کی سنت کے مطابق دین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔تقوی کے مظاہر میں ایمان کی جمیع شاخیں حتی ایمان کے سارے کام اور خیروبھلائی کے تمام اعمال  شامل ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں لوگوں کے دل سے اللہ کا ڈر وخوف نکل  گیاہے، لوگ برائی کے معاملہ میں اس قدر جری ہوگئے کہ اپنے مالک ومولی کا ذرہ برابرڈر نہیں ہوتا ہے۔ آج ضرورت اس بات  کی ہے کہ ہم اپنے ایمان کی سلامتی کے لئے ، اپنے عمل کی قبولیت کے لئے اور آخرت میں نجات پانے کے لئے اپنے دل میں خوف الہی پیدا کریں اور ہرایک معاملہ میں اللہ کی رضا تلاشتے ہوئے اسے سنت رسول کے مطابق انجام دیں ۔

مکمل تحریر >>