Wednesday, December 5, 2018

کیا فرمانبرداربیوی کا سبق آمواز واقعہ صحیح ہے؟


کیا فرمانبرداربیوی کا سبق آمواز واقعہ صحیح ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ عہد رسول اللہ میں ایک عورت کو اس کے شوہر نے گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا تھا ، جب اس عورت کا باپ بیمار ہوا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے باپ کی عیادت کے لئے پوچھا تو آ پ نے شوہر کی اطاعت کا حکم دیااور جب باپ کی وفات ہوگئی تو اس کے جنازہ میں شرکت کرنی چاہی تو بھی شوہر کی اطاعت کا حکم دیا اور آپ نے یہ فرمایا کہ شوہر کی اطاعت کی وجہ سے تمہارے باپ کو اللہ نے معاف کردیا ہے ۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پہ کافی گردش میں ہے، لوگوں کو آگاہ کرنے کے مقصد سے اس واقعہ کی حقیقت بیان کی جاتی ہے ۔
اس واقعہ کا متن مسند ابن حمید میں اس طرح مذکور ہے۔
((أن امرأة كانت تحت رجل فمرض أبوها فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إن أبي مريض وزوجي يأبى أن يأذن لي أن أمرضه فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم أطيع زوجك فمات أبوها فاستأذنت زوجها أن تصلي عليه فأطاعت زوجها ولم تصل على أبيها فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم قد غفر الله لأبيك بطواعيتك لزوجك))
ترجمہ: ایک عورت کی ایک مرد سے شادی ہوئی تھی ، اس عورت کا باپ بیمار پڑ گیا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سوال کیا کہ میرا باپ بیمار ہے اور میرا شوہر باپ کی عیادت کرنے سے منع کرتا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایاکہ شوہر کی اطاعت کرو چنانچہ اس کا باپ مرگیا تو ان نے شوہر سے باپ کے جنازہ کی نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی (تو اس نے منع کیا) ، اس نے شوہر کی فرمانبرداری کی اور باپ کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی ۔ نبی ﷺ نے اس عورت سے فرمایا کہ شوہر کی فرمانبردای کی وجہ سے تمہارے باپ کو اللہ نے بخش دیا دیا ہے ۔
یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ مسند عبدبن حمید میں رقم: 1369 کے تحت ہے ۔
یہ واقعہ بہت ساری کتابوں میں موجود ہے مثلا أبو القاسم الأصبهاني کی الترغيب والترهيب (2/249 رقم:1522) میں , أبو أحمد بن عدي کی الكامل في ضعفاء الرجال ( 7/ 2611) میں , أبو محمد بن حزم کی المحلى ( 10 / 332 )میں ، الحكيم التّرمذي ّکی نوادر الأصول ( 1/ 557-558 رقم : 793و794)میں ، حافظ ابن حجر کی المطالب العالية( 2/ 197 رقم: 1682) میں,بوصيري کی إتحاف الخيرة المهرة( 4/ 535 رقم: 4322و4323 ) میں اورجلال الدين السيوطي کی الدر المنثور في التفسير بالمأثورمیں وغیرہ وغیرہ.
ان ساری جگہوں پہ جس سند سے مروی ہے وہ سند ہے : "يوسف بن عطية عن ثابت البناني عن أنس بن مالك"
اس سند میں یوسف بن عطیہ بہت ہی ضعیف راوی ہے۔ کئی محدثین نے اسے ضعیف اور کئی نے متروک الحدیث قرار دیا ہے ۔
یہ حدیث طبرانی کی المعجم الأوسط ( 8/ 315 رقم 7644 ) میں ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے وہ طریق اس طرح ہے :
حدثنا محمد بن موسى, ثنا محمد بن سهل بن مخلد الإصطخري, ثنا عصمة بن المتوكل, حدثنا زافر, عن ثابت بن البناني, عن أنس بن مالكٍ, عن النبي - صلى الله عليه وسلم – " أنَّ رجلاً خرج وأمرَ امرأته أنْ لا تخرج من بيتها, وكان أبوها في أسفل الدار وكانت في أعلاها, فمرض أبوها, فأرسلت إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فذكرت له ذلك, فقال: " أطيعي زوجك " فمات أبوها, فأرسلت إلى النبي - صلى الله عليه وسلم – فقال: " أطيعي زوجك " فأرسل إليها النبي - صلى الله عليه وسلم - : " إنَّ الله غفر لأبيها بطاعتها لزوجها " .
قال الإمام الطبراني : لم يرو هذه الأحاديث عن زافر بن سليمان إلاَّ عصمة بن المتوكل.
اولا امام طبرانی نے بھی یہ اشارہ کردیا کہ اس حدیث کو زافر بن سلیمان سے صرف عصمہ بن متوکل نے روایت کیا ہے ۔
اس حدیث کو ہیثمی نے بھی مجمع الزوائد میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں عصمہ بن متوکل ضعیف ہے ۔ (مجمع الزوائد:4/316) شیخ البانی نے بھی الإرواء:(7/76-77)میں ضعیف قرار دیا ہے۔
اس طرح ہم نے جان لیا کہ یہ قصہ جو دو سندوں سے مروی ہے دونوں میں ضعیف راوی ہونے کے سبب یہ ضعیف ہے اس لئے اس قصہ کو بیان کرکے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔
قصہ گو مقررین اس قسم کے نادر قصص لیکر بڑے دردیلے انداز میں بیان کرتے ہیں انہیں اس قسم کے واقعہ کی حیثیت کا علم ہی نہیں ہوتا اور عوام سمجھتی ہے کہ فلاں مقرر بڑا دردیلا بیان کرتا ہے ۔ ہمیں دردیلا بیان، انوکھے قصے اور نادر واقعات پہ نہیں جانا چاہئے جس بات کی ٹھوس دلیل ہو اسے ہی سننا اور بیان کرنا چاہئے ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, September 19, 2018

قضائے حاجت کے وقت سر ڈھکنے کا حکم


قضائے حاجت کے وقت سر ڈھکنے کا حکم

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، طائف (سعودی عرب )

عصر حاضر کے حمام میں کافی سہولیات ہوتی ہیں ، پردے کا بھی معقول انتظام ہوتا ہے ایسے حمام میں ننگے ہوکر نہانا جائز ہے تاہم ستر کے ساتھ غسل کرناافضل ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : إنَّ اللهَ عزَّ وجلَّ سِتِّيرٌ، فإذا أَرادَ أَحدُكُم أن يَغتَسِلَ، فلْيَتوارَ بِشيءٍ.(صحيح النسائي:405)
ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ بہت پردے والا ہے, جب تم میں سے کوئی غسل کرنے کا ارادہ کرے تو کسی چیز کی اوٹ میں چھپ جائے۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم حمام میں ننگے نہیں نہا سکتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نہاتے وقت اوٹ یا آڑ بنالے تاکہ لوگوں کی نظرو ں سے چھپ جائے اور کمرے کی شکل میں بنے حمام تو مکمل پردہ ہے ۔ حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کا ننگے ہوکر نہانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے ۔
یہاں جو اصل مسئلہ بیان کرنا ہے وہ بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت سر ڈھکنے کا ہے ۔ کیا شریعت میں ایسی کوئی دلیل ہے جس سے پتہ چلے کہ بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت سر ڈ ھک لینا چاہئے ۔ امام بیہقی السنن الکبری میں باب تغطیۃ الراس عند دخول الخلاء کے تحت دو مرفوع احادیث ذکر کئے ہیں ۔
پہلی حدیث : ( أخبرنا ) عبد الخالق بن علي المؤذن ، أنا أبو أحمد بن حمدان الصيرفي ، نا محمد بن يونس القرشي ، ثنا خالد بن عبد الرحمن ، عن سفيان الثوري ، عن هشام بن عروة ، عن أبيه ، عن عائشة قالت : كان النبي - صلى الله عليه وسلم - إذا دخل الخلاء غطى رأسه ، وإذا أتى أهله ، غطى رأسه .
ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتےتو سر کو ڈھک لیتے اور جب بیوی کے پاس آتے تو سر کو ڈھک لیتے ۔
اس حدیث کی سند آپ کے سامنے ہے اس میں ایک راوی محمد بن یونس ہیں ان پر حدیث گھڑنے کا الزام ہے جس کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے ۔
٭ ابن عدی نے کہا کہ اس میں ابوالعباس الکدیمی ہے جس کے متعلق حدیث گھڑنے اور چوری کرنے کا الزام ہے ۔ (الكامل في الضعفاء:7/555 )
* علامہ نووی ؒ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ۔(المجموع: 2/93 و الخلاصۃ : 1/149)
٭ شیخ البانی نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ (السلسلة الضعيفة:4192)
دوسری حدیث : ( أخبرنا ) أبو عبد الله الحافظ إجازة ، أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الصبغي ، أنا إسماعيل بن قتيبة ، نا يحيى بن يحيى ، أنا إسماعيل بن عياش ، عن أبي بكر بن عبد الله ، عن حبيب بن صالح قال : كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا دخل الخلاء ، لبس حذاءه ، وغطى رأسه .
ترجمہ: حبیب بن صالح بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلاء جاتے تو جوتا پہن لیتے اور اپنے سر کو ڈھک لیتے ۔
اس روایت کو ذکر کرنے سے پہلے ہی بیہقی نے کہہ دیا کہ حبیب بن صالح کی روایت مرسل ہے اور مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے ۔
٭ ابن دقیق العید نے اس روایت کو مرسل کہا ہے ۔ (الامام : 2/468)
٭ ذہبی نے اس روایت کو مرسل اور ابوبکر کو ضعیف کہا ہے ۔ (المہذب:1/104)
٭ شیخ البانی نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔ (السلسلة الضعيفة:4192)
بیہقی کی ان دو مرفوع روایات کا حال ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ دونوں ضعیف ہیں اس لئے ان سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔ بیہقی نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ابوبکر صدیق سے ایک روایت مروی ہے وہ صحیح ہے ۔ وہ روایت مجھے مصنف ابن ابی شیبہ میں ملی ، میں اسے احمد بن حنبل ؒ کی الزہد کے حوالے سے نقل کرتا ہوں ۔
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، اسْتَحْيُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَظَلُّ حِينَ أَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ فِي الْفَضَاءِ مُغَطِّيًا رَأْسِي اسْتِحْيَاءً مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .(الزهد لأحمد بن حنبل » رقم الحديث: 766)
ترجمہ: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ کی حالت میں فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! اللہ تعالی سے حیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، میں جب فضا میں قضائے حاجت کرنے جاتا ہوں تو اپنے رب سے حیا کرتے ہوئے سر کو ڈھک کر سایہ کرتا ہوں ۔
یہ موقوف روایت ہے یعنی صحابی کا عمل ہے اور اس کی سند میں سارے رواۃ ثقہ ہیں اس وجہ سے یہ اثر صحیح ہے ۔ اور بھی اسلاف سے بیت الخلاء جاتے وقت سر ڈھکنے کا ذکر ملتا ہے جیسے مصنف ہی میں ابن طاوس سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ جب بیت الخلاء جاؤ تو سر ڈھک لو میں نے پوچھا ایسا کیوں ؟ تو انہوں نے کہا پتہ نہیں ۔
اسلاف کے آثار کی وجہ سے فقہاء نے بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت سر ڈھکنے کو مستحب قرار دیا ہے مگر یہاں میرا اعتراض ہے کہ کسی عمل کو بغیرشرعی نص کے مستحب قرار دینا محل نظر ہے ۔ اس سلسلے میں نہ تو اللہ کا فرمان ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺسے کوئی مرفوع حدیث ثابت ہے ۔ہاں کوئی صحابی رسول ، خلیفہ المسلمین سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن کسی کا یہ کہنا کہ سر کھولے بغیر حمام نہیں جاسکتے سو فیصد غلط ہے ۔ جب ہم ننگے سر نماز پڑھ سکتے ہیں ، جماع کے وقت ننگا ہوسکتے ہیں ، ننگے ہوکر حمام میں غسل کرسکتے ہیں ، ضرورت پڑے تو اکیلے میں بھی ننگا ہوسکتے ہیں تو سر کھولنے میں کیا حرج ہے ، سر تو مردوں کے لئے پردہ میں داخل نہیں ہے ۔


مکمل تحریر >>

Tuesday, September 18, 2018

اہل بیت کی فضیلت میں ایک ضعیف حدیث


اہل بیت کی فضیلت میں ایک ضعیف حدیث

مقبول احمد سلفی السلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)


بریلوی طبقہ کے لوگ شیعہ کی ہمنوائی میں اہل بیت کے متعلق کافی غلو کا شکار ہے ، موضوع اور ضعیف احادیث کو بنیاد بناکر لوگوں میں جھوٹی جھوٹی باتیں مشہور کرتا ہے ۔اہل بیت کے دشمن کی پہچان یا اس کا انجام بتلانے کے لئے بیہقی کی ایک روایت بیان کی جاتی ہے اور کہاجاتا کہ
((آپ جانتے ہیں دشمن اہل بیت کون لوگ ہیں ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"جو میری اہل بیت کا حق نہ پہچانے وہ یا تو منافق ہے یا نطفہ حرام کی پیدائش یا حیضی بچہ ہے۔حوالہ:شعب الایمان: 1614 فتاوی رضویہ ج 23 الصواعق المحرقہ۔))
یہ بات بریلوی کی مختلف کتابوں میں ہے حتی کہ فتاوی رضویہ میں  جیساکہ حوالہ میں بھی مذکور ہے ۔ چلیں بیہقی کی روایت دیکھتے ہیں ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ، ثنا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حَصِينٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَعْرِفْ حَقَّ عِتْرَتِي ، وَالأَنْصَارِ ، وَالْعَرَبِ ، فَهُوَ لأَحَدِ ثَلاثٍ : إِمَّا مُنَافِقًا ، وَإِمَّا لِزَيْنَةٍ ، وَإِمَّا لِغَيْرٍ ، وَإِمَّا لِغَيْرٍ ، فَهُوَ رَائِيٌّ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ " . زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ غَيْرُ قَوِيٍّ فِي الرِّوَايَةِ
(شعب الإيمان للبيهقي: 1497)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخض میرے اہل بیت اور انصار اور عرب کا حق نہیں پہچانتا تو اس میں تین چیزوں میں سے ایک پائی جاتی ہے : یا تو وہ منافق ہے یا وہ حرامی ہے یا وہ ایسا آدمی ہے جس کی ماں بغیر طہر کے اس سے حاملہ ہوئی ہو۔بیہقی نے کہا کہ اس روایت میں زید بن جبیرہ قوی نہیں ہے ۔
 بیہقی نے اس روایت کو ذکر کرکے خود اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کردیا یعنی اس میں ایک راوی غیرقوی ہے تو روایت ضعیف ہوئی ۔
ذہبی نے کے کہا اس میں زید بن جبیرہ ہے اس کے متعلق جرح منقول ہے ۔(ميزان الاعتدال:2/100)
ابن عدی نے کہا کہ اس میں زید بن جبیرہ ہے جب یہ روایت کرتا ہے تو عام طور سے کوئی اس کی متابعت نہیں کرتا۔ (الكامل في الضعفاء:4/155) اس لئے انہوں نے ضعفاء کی کتاب میں درج کیا ہے ۔
ابن القيسراني نے کہا کہ اس میں زید بن جبیرہ منکرالحدیث ہے ۔(ذخيرة الحفاظ:4/2405)
شیخ البانی نے بھی اسے سلسلہ ضعیفہ میں شامل کیا ہے ۔
حدیث اپنے سند و متن کے ساتھ آپ کے سامنے ہے ۔ سند کی حالت یہ ہے کہ اس میں ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ عموما بریلوی طبقہ اس حدیث کا ایک لفظ عترتی یعنی اہل بیت لیکر بیان کرتا ہے جبکہ وہاں پر انصار کا لفظ ہے اور عرب کا بھی ذکر آیا ہے ۔ چونکہ یہ بریلوی عرب کو گالیاں دیتے ہیں ، برابھلاکہتے ہیں ، وہابی نجدی نہ جانے کیسے کیسے القاب دیتے ہیں یہاں تک کہ علماء ، مشائخ اور ائمہ حرمین شریفین تک کو گندی گندی گالیاں دیتے ہیں اس وجہ سے حدیث میں مذکور عرب  کا لفظ بیان نہیں کرتے ۔ کس قدر ظالم ہیں ایک طرف اہل بیت کے لئے اس قدر شیعہ محبت اور دوسری طرف عرب دشمنی ؟  العیاذ باللہ
سادہ لوح قوم کو کس طرح بے وقوف بنایا جاتا ہے؟ شیعہ سے محبت میں اہل حدیثوں سے کس طرح دشمنی اور عرب مخالفت کی جاتی ہے ؟
اس حدیث کی روشنی میں کیا بریلوی پر وہ بات صادق نہیں آتی جو حدیث میں مذکور ہے اس لئے کہ وہ عرب کو گالیاں دیتے ہیں ؟  اگر حدیث صحیح بھی ہوجائے توبھی اہل حدیث اہل بیت کا جو صحیح مقام ہے وہ انہیں دیتے ہیں ، نہ غلو کرتے ہیں ، نہ جھوٹی شان بیان کرتے ہیں اور نہ گھڑی ہوئی موضوع وضعیف احادیث کا سہارا لیتے ہیں اور نہ ہی اس معاملہ میں شیعہ کی ہمنوائی کرتے ہیں۔ معتدل انداز میں اہل بیت کا ذکر خیر کرتے ہیں جبکہ بریلویوں کے یہاں اہل بیت کے نام پر شیعہ کی طرح بدزبانی کی جاتی ہے ۔ اللہ انہیں ہدایت دے ۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, September 5, 2018

سونے سے پہلے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھنے والی حدیث ضعیف ہے۔


سونے سے پہلے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھنے والی حدیث ضعیف ہے۔

حضرت أنس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :
إذا وضَعتَ جنبَك علَى الفِراشِ وقرأتَ فاتِحةَ الكتابِ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فقد أمِنتَ من كلِّ شيءٍ إلاَّ الموتَ.(أخرجه البزار :7393 والھیثمی فی مجمع الزوائد:10/124)
ترجمہ: جب تو اپنا پہلو بستر پر رکهے ، اور تو فاتحة الكتاب اور قل هو الله أحد پڑهہ لے ، تو سوائے موت کے ہرچیز سے محفوظ ہوجائے گا۔
یہ روایت ضعیف ہے ، علامہ سیوطی ، محمد بن محمد الغزي، حافظ ابن حجر العسقلاني، علامہ شوکانی اور شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔
تفصیل کے لئے دیکھیں : الدر المنثور:1/18 ، إتقان ما يحسن:1/373، بذل الماعون:87، ضعيف الترغيب: 347)


مکمل تحریر >>

Tuesday, August 28, 2018

سفرجل سے متعلق وارد احادیث کی حقیقت


سفرجل سے متعلق وارد احادیث کی حقیقت

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

سفرجل (عربی لفظ) سیب کی شکل کا ایک پھل ہے جسے اردو میں بہی، ہندی میں بیل، فارسی میں شُبل، سنسکرت میں وسعت کی دیوی، انگریزی میں Quince کہتے ہیں ۔ اس پھل کے تعلق سےعمومی طور پر لوگوں میں اور خصوصی طورپریونانی اطباء میں مختلف قسم کے فوائد مشہور ہیں جن کا یہاں ذکر کیا جائے گا تاکہ ان کی شرعی حیثیت معلوم ہوسکے ۔ عوام میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ حاملہ عورت اگر اس پھل کو کھائے تو خوبصورت بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ آئیے سفرجل سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں ۔
(1) جابر بن عبداللہ کی حدیث :
كُلوا السَّفَرْجَلَ، فإنَّه يجلِّي عنِ الفؤادِ، و يَذهبُ بِطَخَاءِ الصدرِ (أخرجه أبو نعيم في الطب النبوي:794)
ترجمہ: سفرجل کھاؤ کیونکہ وہ دلوں کو جلا بخشتا ہے اورسینے سے بوجھ اتار دیتا ہے۔
حکم:اس کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔ (ضعيف الجامع؛ 4205)
(2) انس بن مالک کی حدیث :
كُلُوا السَّفَرْجَلَ على الرِّيقِ ؛ فإنه يُذْهِبُ وَغَرَ الصدرِ(أخرجه أبو نعيم في الطب النبوي:793والديلمي في الفردوس:4712)
ترجمہ: نہار منہ بہی کھایا کروکیونکہ یہ سینے کے غلبہ اور اس کی حرارت کو دور کرتا ہے ۔
حکم: اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔ (السلسلة الضعيفة: 4099)
مذکورہ صحابی سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں ۔
أكْلُ السّفَرْجَلِ يَذْهَبُ بِطَخاءِ القَلْبِ.
ترجمہ: بہی کھانا دل کے بوجھ کو دور کرتا ہے ۔
حکم : اسے شیخ البانی نے موضوع کہا ہے ۔ ( السلسلة الضعيفة:7044)
(3) عوف بن مالک الاشجعی کی حدیث :
كُلوا السَّفرجلَ ، فإنَّهُ يُجمُّ الفؤادَ ، ويُشجِّعُ القلبَ ويحسِّنُ الوَلدَ(الجامع الصعير)
ترجمہ: بہی کھایا کرو کیونکہ یہ دل کو ٹھیک ،قلب کو مضبوط اور لڑکے کو حسین بناتا ہے ۔
حکم : اس کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے (ضعيف الجامع:4206)
(4) سعد بن ابی وقاص کی حدیث :
أتاني جبريلُ عليه الصلاةُ والسلامُ بسفرْجلةِ من الجنةِ ؛ فأكلتُها ليلةَ أُسريَ بي، فعلقتْ خديجةُ بفاطمةَ، فكنت إذا اشتقتُ إلى رائحةِ الجنةِ ؛ شممتُ رقبةَ فاطمةَ۔( أخرجه الحاكم :4738)
ترجمہ: میرے پاس جبریل علیہ السلام جنت سے سفرجل(بہی) لیکر آئے ، اسے میں نے اسراء کی رات کھایاتو خدیجہ فاطمہ سے بالکل جڑ گئیں یعنی خدیجہ فاطمہ میں جاگزیں ہوگئیں ، جب بھی مجھے جنت کی خوشبو کی چاہ ہوتی ہو تو فاطمہ کی گردن کو چو م (سونگھ) لیتا۔
حکم : اس حدیث کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے (السلسلة الضعيفة:5027)
(5) طلحہ بن عبیداللہ کی حدیث :
دخَلتُ علَى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ وبيدِهِ سفَرجَلةٌ : فقالَ : دونَكَها يا طَلحةُ فإنَّها تُجِمُّ الفؤادَ(سنن ابن ماجہ : 3369)
ترجمہ: حضرت طلحہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ہاتھ میں سفرجل(بہی کا پھل)تھا ۔آپنے فرمایا:اے طلحہ!یہ لے لو ‘اس سے دل کو راحت(اورقوت) حاصل ہوتی ہے۔
حکم : اس کی سند کو شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔(ضعيف ابن ماجه:675)
عن طلحة بن عبيد الله قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، وفي يده سفرجلة فرماها إلي أو قال : ألقاها إلي ، وقال : " دونكها أبا محمد ، فإنها تجم الفؤاد( المستدرك على الصحيحين:5645)
ترجمہ: حضرت طلحہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ہاتھ میں سفرجل(بہی کا پھل)تھا ،آپ نے اسے میری جانب بڑھایااور فرمایا:اے ابومحمد!یہ لے لو ‘اس سے دل کو راحت(اورقوت) حاصل ہوتی ہے۔
حکم : اس حدیث کو حاکم نے صحیح الاسناد کہا ہے مگر دوسرے محدثین نے ضعیف کہا ہے جیساکہ اوپر شیخ البانی کا حکم موجود ہے ، اسی طرح ذہبی نے کہا کہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن حماد الطلحي ہے جس کے متعلق ابوحاتم نے منکر الحدیث اور ابن حبان وغیرہ نے "لایحتج بہ" اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی کہا ہے ۔(ميزان الاعتدال:2/557)
(6) عبداللہ بن عمر کی حدیث :
أن النبيَّ صلى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أهدي إليه سفرجلاتٌ من الطائفِ فأعطاهن معاويةَ وقال تلقاني بها في الجنةِ.
ترجمہ: عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو طائف کا سفرجل ہدیہ کیا گیا، آپ نے اسے معاویہ کو دیا اور کہا کہ تم اس کے ساتھ مجھے جنت میں ملوگے ۔
حکم : خلیلی نے کہا کہ حفاظ نے کہا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔(الإرشاد:1/271 )
أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم دفع إلى معاويةَ بنِ أبي سفيانَ سفرجلةً وقال : الْقني بها في الجنَّةِ . قال : فانصرفتُ فلم أعُدْ إليه۔
ترجمہ: عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے معاویہ بن سفیان کو سفرجل دیا، اور کہا کہ تم اس کے ساتھ مجھ سے جنت میں ملو ، راوی نے کہا کہ میں واپس چلا گیا پھر لوٹ کر آپ کے پاس نہیں آیا۔
حکم: اسے ابن الجوزی نے موضوع کہا ہے ۔(موضوعات ابن الجوزي:2/261)
أنَّ جعفرَ بنَ أبي طالبٍ أهدَى إلى النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم سفرجلًا فأعطَى معاويةَ ثلاثَ سفرجلاتٍ وقال : الْقني بهنَّ في الجنَّةِ۔
ترجمہ: : عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی طالب نے نبی ﷺ کو سفرجل ہدیہ کیا ، آپ نے اس میں سے تین عدد معاویہ کو دیا اور کہا کہ تم اس کے ساتھ مجھ سے جنت میں ملو ۔
حکم : اسے ابن الجوزی نے موضوع کہا ہے ۔(موضوعات ابن الجوزي:2/260 )
(7) عبداللہ بن عباس کی حدیث :
دخلتُ على النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم وبيدِه سفرجَلةٌ فقال لي : دونَكها يا عبَّاسُ فإنَّها تُذكي الفؤادَ( أخرجه ابن حبان في المجروحين:1/277، وابن عدي في الكامل في الضعفاء:4/123)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ہاتھ میں سفرجل(بہی کا پھل)تھا ، آپنے فرمایا:اے عباس!یہ لے لو ‘یہ دلوں کو پاگیزہ کرتا ہے۔
حکم : ابن عدی نے الکامل اور لسان المیزان میں اور ابن القيسراني نے ذخیرہ میں منکر کہا ہے ۔(ذخيرة الحفاظ:3/1328)
جاء جابرُ بنُ عبدِ اللهِ إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بسفرجلةٍ قدم بها من الطائفِ فناوله إياها فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إنه يذهبُ بطخاوةِ الصدرِ ويجلو الفؤادَ(أخرجه الطبراني :11/112، 11209)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جابربن عبداللہ نبی ﷺ کے پاس آئے ساتھ میں سفرجل(بہی) تھا جو طائف سے لائے تھے ، پس آ پ نے اسے تناول فرمایا تو نبی ﷺ نے فرمایا: یہ سینے کے بوجھ کو اتارتا ہے اور دل کی بیماری کو دور کرتا ہے۔
حکم : ہیثمی نے کہا کہ اس کی سند میں علي القرشي ہے جسے میں نہیں پہچانتا ہوں اور بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( مجمع الزوائد:5/48)
(8) عبداللہ بن زبیر کی حدیث:
أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ كانت في يدِه سفرجلٌ فجاءَ طلحةُ فقالَ دونَكَها يا أبا محمَّدٍ فإنَّها يُجِمُّ الفؤادَ .(العلل المتناهية في الأحاديث الواهية لابن الجوزي:رقم الحديث: 1074)
ترجمہ: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ہاتھ میں سفرجل(بہی) تھا ، طلحہ آئے تو آپ نے کہا ابومحمد! یہ لے لو ‘اس سے دل کو راحت(اورقوت) حاصل ہوتی ہے۔
حکم: اس حدیث کو ابن الجوزی نے اپنی اس کتاب میں درج کیا ہے جس میں ضعیف احادیث کو ذکر کیا ہے یعنی العلل المتناهية في الأحاديث الواهية ۔
اوپر آٹھ راویوں سے سفرجل کے متعلق متعدد احادیث بیان کی گئیں ، ساتھ ہی ان کا حکم بھی بتادیا گیا جس سے آسانی کے ساتھ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ سفرجل(بہی) کے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ہے لہذا ہم سفرجل کے فوائد بیان کرکے ان کو نبی ﷺ کی طرف منسوب نہ کریں کیونکہ اس سے متعلق ساری احادیث ضعیف ہیں اور ضعیف احادیث سے دلیل نہیں پکڑی جاتی ہے ۔
یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہے کہ طبی تجربات کی روشنی میں سفرجل کے جو فوائد ہمیں معلوم ہوتے ہیں ، ہم ان کا انکار نہیں کرتے ، اور فوائد حاصل ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا بھی منع نہیں ہوگا ۔ منع صرف یہ ہے کہ اس کا کوئی فائدہ ذکر کرکے نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا جائے ۔
مزید ایک بات قابل وضاحت ہے کہ شیعوں کی کتاب میں سفرجل کے بڑے فوائد بیان کئے گئے ہیں ، ہم میں سے بعض لوگ ان کی کتابوں کی مشہور باتوں کو اپنے درمیان پھیلاتے ہیں اور اسے حدیث رسول سمجھتے ہیں مثلا سفرجل کھانے سے چالیس مرد کی قوت پیدا ہوتی ہے ، یہ شیعی کتاب مستدرک الوسائل میں موجود ہے مگر ہمارے درمیان اس بات کو کافی شہرت حاصل ہے ۔
یہاں ہم یہ بھی جان گئے ہیں کہ حاملہ عورتوں کا سفرجل کھانا ضعیف حدیث میں مذکور ہے اس لئے ہمیں اس بات کو بیان کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, June 12, 2018

کیا جھگڑا لڑائی کرکے دو رکعت نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتا ہے ؟


کیا جھگڑا لڑائی کرکے دو رکعت نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتا ہے ؟
مقبول احمد سلفی
 ایک بھائی نے سوال کیا ہے کہ کیا جھگڑا لڑائی کرکے دو رکعت نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتا ہےکیونکہ میں نے یہ حدیث پڑھی ہے جسے شیخ البانی نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں درج فرمایا ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعًا : تَكْفِيْر كُل لِحَاء رَكْعَتَان.(السلسلۃ الصحیحۃ:3689)
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ہر جھگڑے (یا گالی ) کاكفارہ دو ركعتیں ہیں۔
اس حدیث کی روشنی میں مجھے الجھن ہورہی ہے کہ کسی سے جھگڑا لڑائی کرنا حقوق العباد میں داخل ہے پھر کسی کا دل دکھاکر، کسی سے جھگڑا لڑائی کرکے ، کسی کو گندی گندی گالی دے کر ، کسی کو مارپیٹ کر دو رکعت نماز پڑھنے سے کیسے گناہ معاف ہوگا جبکہ بہت ساری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ صرف نیکی کرنے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے ،بندے کا حق واپس کرنا پڑتا ہے ۔ ذرا اس حدیث کی وضاحت کرکے میری الجھن دور کریں ، اللہ آپ کو اس کا بہتر بدلہ دے گا۔
جواب : اس روایت کو شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے لیکن حقیقت میں یہاں شیخ البانی سے چوک ہوئی ہے ،اس روایت کو عبدالواحد بن قیس حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت کرتےہیں اور عبدالوحد نے ابوھریرہ کو پایا ہی نہیں ہے ۔ خود شیخ البانی ؒ نے سلسلہ ضعیفہ میں انہیں مختلف فیہ قرار دیا ہے اور ان کی ایک روایت کوجسے عبادہ بن صامت سے روایت کرتے ہیں انقطاع کے سبب ضعیف  قرار دیا ہے ۔ صالح بن محمد بغدادی کا قول نقل کرتے ہیں کہ عبدالواحد کی ابوھریرہ سے روایت آتی ہے جبکہ عبدالواحد کا ان سے سماع ثابت نہیں ہے اور ذہبی کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوھریرہ کو نہیں پایا اس لئے ان کی روایت مرسل ہے ،انہوں نے عروہ اور نافع کو پایا ہے ۔ پھر آخر میں شیخ البانی کہتے ہیں کہ اس بنیاد پر کہ انہوں نے عبادہ بن صامت کو نہیں پایا ہےسند ااپنے ضعف کی وجہ سے منقطع ہوگی ۔ تفصیل کے لئے دیکھیں :
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة [2 /340]
وہی عبدالواحد یہاں بھی اس روایت میں ابوھریرہ سے روایت ہیں تو شیخ البانی کے اصول سے ہی یہ روایت منطقع ہوجاتی ہے ۔ لہذا اس روایت سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔  


مکمل تحریر >>

Sunday, August 13, 2017

فجر اور مغرب کی نماز کے بعد بغیر کلام کئے پڑھا جانے والا ذکر

فجر اور مغرب کی نماز کے بعد بغیر کلام کئے پڑھا جانے والا ذکر

مقبول احمد سلفی

لوگوں میں ایک حدیث عام کی جارہی ہے وہ اس طرح سے ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبح اور مغرب کی نمازوں کے بعد کلام کرنے سے پہلےسو بار درود پڑھ لے تو اللّٰہ تَعَالٰی اس کی سو ضرورتیں پوری فر ما دیتا ہے,تیس دنیاکی اورستر آخرت میں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ(یاللہ آنحضرت ﷺ پر رحمت نازل فرما۔
حوالہ : جلاء الافہام ص: 359
یہ حدیث مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔
من صلَّى عليَّ مائةَ صلاةٍ حين يُصلِّي الصُّبحَ قبل أن يتكلَّمَ قضَى اللهُ تعالَى له مائةَ حاجةٍ ، يُعجِّلُ له منها ثلاثين ويدَّخِرُ له سبعين ، وفي المغربِ مثلُ ذلك . قالوا : وكيف الصَّلاةُ عليك يا رسولَ اللهِ ! قال : { إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } [ الأحزاب : 56 ] اللَّهمَّ صلِّ على محمَّدٍ حتَّى تعُدَّ مائةً۔
ترجمہ: جس نے مجھ پر سوبار درود پڑھا فجر کی نماز کے بعد بغیر کلام کئے تو اللہ تعالی اس کی سو حاجتین پوری کردیتا ہے ، ان میں سے تیس پہلے ہی دنیا میں بھیج دیتا ہے اور ستر (آخرت کے لئے) مؤخر کردیتا ہے ۔ اور مغرب میں بھی اسی کے مثل ۔ صحابہ نے پوچھا کہ آپ پر ہم کیسے درود پڑھیں ؟ تو آپ نے فرمایا:{ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا }(بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود پڑھتے ہیں ، اے مومنو! تم بھی نبی پردرود اور سلام پڑھا کرو) ، اللھم صلی علی محمد سوبار۔
اس روایت کی سند کو سخاوی نے ضعیف کہا ہے ۔ (القول البديع:253)
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ سند ضعیف ہونے کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے ، اسی طرح بیہقی میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ جس نے جمعہ کے دن اور اس کی رات جس نے مجھ پر سوبار درود پڑھا تو اللہ کی سو حاجتوں کو پورا کردیتا ہے ، تیس دنیا کی اور ستر آخرت کی ۔ یہ  بھی سنداً  ضعیف ہے ۔  
یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے صبح وشام اورکلام کے ذکر کے بغیر۔
من صلَّى عليَّ في يومٍ مائةَ مرةٍ قضَى اللهُ له مائةَ حاجةٍ سبعون منها لآخرتِه وثلاثون منها لدنياه۔
ترجمہ: جس نے مجھ پر دن میں سوبار درود پڑھا تو اللہ اس کی سو حاجت پوری کرتا ہے ، ستر آخرت کی اور تیس دنیا کی ۔
اس حدیث کے متعلق شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ یہ جھوٹوں کا ایک جھوٹ ہے۔(مجموع فتاوى ابن باز:26/104)
خلاصہ یہ ہوا کہ سوبار درود پڑھنے اور سوضرورتیں پوری ہونے والی حدیث ضعیف ہے۔
مکمل تحریر >>

Thursday, July 20, 2017

حدیث: اللہ تھوڑے عمل سے راضی ہوجاتا ہے


حدیث: اللہ تھوڑے عمل سے راضی ہوجاتا ہے

مقبول احمد سلفی

ایک حدیث پاک آتی ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان ہوئی ہے ،ابن ابی الدنیا نے اسے اپنی کتاب الفرج بعد الشدۃ میں اس طرح بیان کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبِ بْنِ خَالِدٍ الْمَدَايِنِيُّ ، قَالَ : ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، يَقُولُ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادَةٌ ، وَمَنْ رَضِيَ بِالْقَلِيلِ مِنَ الرِّزْقِ ، رَضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ ۔
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی طرف سے کشادگی کا انتظار کرنا عبادت ہے اور جو تھوڑے رزق پر راضی ہوجاتا ہے، اللہ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوجاتا ہے۔
اسے بیہقی نے شعب الایمان میں ، ابومنصور دیلمی نے مسندالفردوس میں اور امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں ذکر کیا ہے ۔
اس حدیث کی سند میں پہلا راوی ابوسعید عبداللہ بن شبیب متروک الحدیث ہے اور دوسرا راوی اسحاق بن محمد فروی ضعیف ہے اسے نسائی، ابوداؤد اور دارقطنی نے ضعیف کہا ہے ۔
امام غزالی کی کتاب احیاء کی اس حدیث کی تخریج کرتے وقت حافظ عراقی نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے ( تخريج الإحياء: 5/64)
شیخ البانی نے مشکوۃ کی تخریج میں کہا ہے کہ اس کی  دوسندیں ہیں اور وہ دونوں ضعیف ہیں ۔ اس لئے  شیخ نے سلسلہ ضعیفہ میں 1573، 1925، 2373 کے تحت اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اسی طرح ضعیف الجامع میں بھی 1331  اور 5601 کے تحت ضعیف کہا ہے ۔
ابن الجوزی نے بھی اسے غیرصحیح کہا ہے ۔( العلل المتناهية: 2/806)
مکمل تحریر >>

Sunday, July 2, 2017

تحقیق حدیث: ایک آیت سیھکنے کا اجر سورکعت عبادت سے بہتر

تحقیق حدیث: ایک آیت سیھکنے کا اجر سورکعت عبادت سے بہتر

مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر-طائف

یہ بات سلف صالحین کے اقوال سے معلوم ہوتی ہے کہ طلب علم نفلی عبادت سے بہتر ہے اور حصول علم بھی عبادت میں داخل ہے ۔عالم کی عابد پر فضیلت صحیح حدیث سے ثابت ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
وإنَّ فضلَ العالمِ على العابدِ كفضلِ القمرِ ليلةَ البدرِ على سائرِ الكواكبِ(صحيح أبي داود:3641)
ترجمہ: اور بلاشبہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسے ہی ہے جیسے کہ چودھویں کے چاند کی سب ستاروں پر ہوتی ہے۔
اسی سبب علماء کو انبیاء کا وارث کہا گیا ہے البتہ یہاں ایک حدیث کی تحقیق مقصود ہے جس میں ذکر ہے کہ ایک آیت کاعلم سیکھنا سو رکعت نفل سے بہتر ہے۔چنانچہ ایسی حدیث مسند احمد اور ابن ماجہ میں موجود ہے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ، عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ(ابن ماجة:30)
ترجمہ: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا:’’ ابو ذر! اگر تو صبح کو( علم سیکھنے کے لئے) نکلے اور اللہ کی کتاب کی ایک آیت سیکھ لے، یہ تیرے لئے سو رکعت (نفل) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور اگر تو صبح نکل کر علم کا ایک باب سیکھ لے، خواہ اس پر عمل کر سکے یا نہ کر سکے، یہ تیرے لئے ہزار رکعت (نفل) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
حدیث کا حکم : یہ حدیث ضعیف ہے ۔
اولا: اس میں عبداللہ بن غالب عبادانی ہے جس کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی نے مستورکہاہےیعنی جس پر جرح وتعدیل  نہیں ہے۔
ثانیا: اس میں عبداللہ بن زیاد بحرانی ہے جس کے متعلق ذہبی نے کہا کہ میں نہیں جانتا ہوں وہ کون ہے ۔ ابن ابی حاتم رازی اور حافظ ابن حجر نے مجہول کہا ہے۔
ثالثا: اس میں ایک ضعیف راوی بھی ہے وہ علی بن زید ہے ، اسےامام احمد، ا بن معین، نسائی،دارقطنی،ابراہیم بن یعقوب جورجانی،ابن حجر عسقلانی،علی بن مدینی،محمدبن سعد کاتب واقدی،وہیب بن خالدوغیرہم نے ضعیف کہا ہے ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف الترغیب، ضعیف ابن ماجہ اور ضعیف الجامع میں ضعیف قرار دیا ہے ۔
اس حدیث کا دوسرا ٹکڑا کہ علم کا ایک باب سیکھنا ہزار رکعت نفل سے بہتر ہے ،یہ ابن عباس اور ابن عمر  سے  دوسری احادیث میں بھی مروی ہے وہ بھی ضعیف ہے ۔

مکمل تحریر >>

Saturday, March 18, 2017

"جمعہ کی نماز کے بعد ایک اہم وظیفہ" سے متعلق ضعیف حدیث

"جمعہ کی نماز کے بعد ایک اہم وظیفہ" سے متعلق ضعیف حدیث

جمعہ کی نماز کے بعد تین سورتوں کی قرات سے متعلق اجر کا ذکر آتا ہے ، وہ حدیث اس طرح سے آئی ہے ۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الزَّيَّاتُ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنَ عُثْمَانَ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْجَرَّاحِيُّ ، وَابْنُ عِمْرَانَ قَالُوا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ الأَقْطَعُ ، ثنا أَبِي ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " مَنْ قَرَأَ بَعْدَ صَلاةِ الْجُمُعَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَجَارَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا مِنَ السُّوءِ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى (فضائل سورة الإخلاص للحسن الخلال)
ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو جمعہ کی نماز کے بعد سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس سات مرتبہ پڑھ لے گا اللہ اس کو دوسرے جمعہ تک اس کی وجہ سے آفت وشر سے محفوظ رکھے گا۔
اس حدیث کی سند میں خلیل بن مرہ ہے جسے بیہقی، نسائی ، احمد بن عبداللہ عجلی ، حافظ ابن حجرعسقلانی اور یحی بن معین وغیرہم نے ضعیف قرار دیا ہے۔
اس وجہ سے حافظ ابن حجرؒ نے اس کی سند کو کمزور کہا ہے ۔ (الفتوحات الربانية:4/233)
شیخ البانی ؒ نے بھی ضعیف کہا ہے ۔(السلسلۃ الضعیفۃ : 4129)

مقبول احمد سلفی 
مکمل تحریر >>