Wednesday, April 24, 2024

عید ملن کی تقریب اور کیک کا فسانہ

 
عید ملن کی تقریب اور کیک کا فسانہ
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر ،السلامہ ، سعودی

سعودی عرب میں عام طور سے کمپنیوں اور اداروں میں عام رواج ہے کہ عید کے بعد جب سب لوگ اپنے اپنے کام پر لوٹ جاتے ہیں تو کمپنی یا ادارہ کی طرف سے مؤظفوں کے لئے عید ملن کی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس تقریب میں ایک دوسرے سے علیک سلیک کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دعاؤں سے نوازتے ہیں۔
ماشاءاللہ عربوں کو اللہ تعالی نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے وقت بے پناہ دعائیں دیتے ہیں ، رمضان کے موقع پر ایک دوسرے کے لئے دعاؤں کی کثرت ہوجاتی ہے اور عید کے موقع پر مبارکبادی کے معاملہ میں تو صحابہ کرام جیسا اسوہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ تو ملنے جلنے والوں کے ساتھ کا معاملہ ہے اور جو لوگ ایک جگہ کام کرتے ہیں ، جب وہ عید کی چھٹی پر ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان کو اس وقت مبارکبادی اور رمضان میں کئے گئے اعمال صالحہ کی قبولیت کی دعائیں دیتے ہیں جب سب اپنے کام پر لوٹتے اور ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔
دوسری طرف بر صغیر ہند و پاک کے مسلمان ہیں جو نہ رمضان میں رمضان کی عبادتوں کی قبولیت کے لیے لوگوں کو دعائیں دیتے ہیں، نہ صاف دل سے عید پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور نہ ہی عید کے بعد اعمال کی قبولیت کے لیے ایک دوسرے کو دعائیں دیتے ہیں بلکہ ہماری زبانیں ایک دوسرے کو برا کہنے ، گالی دینے اور تکلیف دینے میں زیادہ تیز چلتی ہیں ۔
یاد کیجئے جب اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا تھا تو آپ نے الہی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے قبولیت عمل کے واسطے سے اللہ سے کون سی دعا کی تھی۔
(رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)(سورة البقرة:127)
ترجمہ: اے ہمارے رب! تو ہم سے قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اس آیت کی شرح پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے اسلاف عمل کرنے کے بعد اس کی قبولیت کے لیے اللہ تعالی سے خوب خوب دعائیں کرتے تھے جیساکہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی لیکن آج ہم نے اس عمل کو بھلا دیا اور جن کے یہاں یہ عمل پایا جاتا ہے ان پر اعتراض کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔
عید ملن کی تقریب عرب قوم میں کمپنیوں اور اداروں کے مؤظفوں کے لئے مبارکبادی اور دعا کے ساتھ ایک طرح کی دعوت بھی ہوتی ہے اور اس دعوت میں کمپنی کی طرف سے تمام مؤظفوں کے لئے کھانے کا اہتمام ہوتا ہے۔کہیں کہیں کھانے کے ساتھ کیک بھی کاٹا جاتا ہے جیساکہ ہم نے حرمین شریفین کی ریاست کی جانب سے منعقد تقریب عید ملن میں شیخ سدیس حفظہ اللہ کو ایک ویڈیو میں کیک کاٹتے ہوئے دیکھا ہے۔
اس کیک میں سب سے اوپر ریاست حرمین شریفین کا لوگو ہے جس لوگو میں خانہ کعبہ کی بھی تصویر ہے، اس لوگو کے نیچے عید مبارک لکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے 1445 لکھا ہوا ہے۔ شیخ سدیس نے جہاں پر چاقو چلایا ہے، وہاں پر 1445 لکھا ہوا ہے۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ جب کیک بڑے سائز کا ہو تو اس کو چاقو سے کاٹ کر ہی ایک دوسرے کو تقسیم کیا جائے گا اور شرف کے لیے کسی بڑے کو کیک کاٹنے کے لیے کہہ دیا جاتا ہے۔ گویاحقیقت میں ریاست حرمین شریفین کی اس تقریب میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر اعتراض کیا جائے لیکن بدعتی اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی موقع ہاتھ لگے اور قران و حدیث کے نام لیواؤں کو بدنام کریں۔ شیخ سدیس کے اس عمل پر بھی بدعتیوں نے اعتراض کیا اور لوگوں میں یہ پرچار کیا کہ شیخ سدیس کیک کے ساتھ خانہ کعبہ کو بھی کاٹ رہے ہیں جبکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ 1442 کی بھی ایک ویڈیو پائی جاتی ہے جس میں شیخ سدیس کیک کاٹ رہے ہیں اور اتفاق سے اوپر سے یعنی لوگو کے پاس کیک کاٹ رہے ہیں مگر ان کا چاقو کعبہ پر نہیں چلا ہے۔ یقین نہ آئے تو ذرا غور سے ویڈیو دیکھیں ۔
ایسی صورت میں کیک کاٹنے کو خانہ کعبہ کو کاٹنا نہیں کہا جائے گا اور میں اس عمل کی وکالت بھی نہیں کر رہا ہوں بلکہ میں خود بھی یہ چاہتا ہوں کہ ایسے اعمال سے پرہیز کرنا ہی بہتر ہے پھر بھی یہ کہنے میں مجھے کوئی تردد نہیں ہے کہ اس مقام پر بدعتیوں کا اعتراض کرنا بالکل بیجا ہے۔
اس جگہ بدعتیوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ محض کیک کاٹنا غلط ہے یا کیک پر خانہ کعبہ بنا تھا اس لئے کاٹنا غلط ہے تو پھر تمہاری غیرت اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب تم عید میلاد النبی کے نام پر ، کیک پر محمد لکھتے ہو اور اسے چاقو سے کاٹتے ہو اور اس وقت تمہاری غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب تم نبی کے نام پر محفل میلاد سجاتے ہو اور اس میں نہ صرف ڈھول تاشے بجاتے ہو بلکہ مجرا کرنے والی فاحشہ عورت تک کو نچواتے ہو۔ اگر تم واقعی اصلاح چاہتے ہو تو تم اپنے ان اعمال کی اصلاح کر لو۔
 
مکمل تحریر >>

Wednesday, November 22, 2023

لڑکیوں کی عمرکے لحاظ سے روزوں کی قضا سے متعلق غلط امیج


 لڑکیوں  کی  عمرکے لحاظ سے روزوں کی قضا سے متعلق غلط امیج
 
سوشل میڈیا پر ایک امیج(پیغام ) گردش میں دیکھا جو رمضان کے روزں کی قضا سے متعلق ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ حیض کی وجہ سےزندگی میں  جو روزے چھوٹ گئے ہیں ان کا اندازہ کیسے لگائیں اور کیسے قضا کریں ۔ اس امیج کی حقیقت نیچے بیان کی جاتی ہے۔
یہ نقشہ  مکمل طور پر غلط ہے ۔ اس میں سب سے پہلی خرابی تو یہ ہے کہ اس سے یہ میسیج جارہا ہے کہ عورت  رمضان کے چھوٹے روزے عمر میں کبھی بھی رکھ سکتی ہے  جبکہ معلوم ہونا چاہئے کہ رزوں کی قضا رمضان سے رمضان تک ہی ہونا چاہئے مگر شرعی عذر ہو تو اور مسئلہ ہے  بلکہ بعض اہل علم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ روزوں کی قضا میں تاخیر ہوتو قضا کے ساتھ فدیہ بھی ہے ۔میرے نزدیک فدیہ کی دلیل نہیں ہےبس قضا کرنا ہے۔  
دوسری بات یہ ہے کہ ہر عورت کا حیض مختلف ہوتاہے کسی کو ایک دن، کسی کو تین دن، کسی کو سات دن یعنی مختلف عورتوں کے مختلف ایام ہوتے ہیں ان سب کے لئے کوئی ایک  ٹیبل نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ ایک ماہ میں حیض کی وجہ سے 23 روزے کبھی بھی قضا نہیں ہوسکتے ہیں ، اگرکسی کو زیادہ دن خون آئے تو بھی پندرہ دن سے زیادہ حیض نہیں مانا جائے گا، پندرہ دن کے بعد والا خون استحاضہ کا مانا جائے گااور استحاضہ میں عورت کو نماز و روزہ کی پابندی کرنی ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اس میں جو ہرسال کے قضا روزے کے الگ الگ ایام بتائے گئے ہیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، جس عورت کو جتنا روزہ شرعی عذر کی وجہ سے چھوٹا ہوگا اتنا ہی قضا کرے گی اور قضا کے معاملہ میں ہرعورت کا معاملہ الگ ہوگا حیض کے فرق کی وجہ سے۔
 آخری بات یہ ہے کہ بارہ سال بلوغت کی عمر متعین نہیں ہے ، بلوغت کی نشانی ظاہر ہونے سے لڑکی بالغ ہوجائے گی، چاہے حیض شروع ہوجائے یا بغل وزیر ناف کے بال آجائے یا احتلام ہونے لگے ، اس اعتبار سے آٹھ  سال کی بچی بھی بالغ ہوسکتی ہے تو بلوغت کا اعتبار عمر سے نہیں، نشانی سے ہوگا۔
 
واللہ اعلم
مقبول احمد سلفی 

مکمل تحریر >>

Monday, September 25, 2023

ہم میلادنہیں مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں

 
ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں
تحریر: مقبول احمدسلفی
 
آپ نے باغ فدک کا واقعہ پڑھاہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محض اللہ کے رسول کی محبت میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک سے حصہ نہیں دیا تھا۔ اس میں خلیفہ اول کا ذاتی کوئی مفاد نہیں تھا، صرف اور صرف رسول اللہ کی سچی محبت کارفرما تھی مگر اس واقعہ کو بنیاد بناکر پوری شیعہ قوم ابوبکررضی اللہ عنہ کو بدنام کرتی ، گالی دیتی اور برے برے القاب سے پکارتی ہے ۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے وہ واقعہ پھر سے دہرا لیجئے تاکہ موضوع کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
٭پہلی حدیث میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مطالبہ ہے، بخاری میں حدیث اس طرح سے مروی  ہے۔
عن عائشة ان فاطمة، والعباس عليهما السلام اتيا ابا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان ارضيهما من فدك، وسهمهما من خيبر.(صحیح البخاری:6725)
ترجمہ:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ اور عباس علیہما السلام، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔
٭سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس مطالبہ پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا جواب بخاری کی اگلی روایت کے حوالہ سے پڑھیں۔
فقال لهما ابو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا نورث ما تركنا صدقة، إنما ياكل آل محمد من هذا المال"، قال ابو بكر: والله لا ادع امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته(صحیح البخاری:6726)
ترجمہ:ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔
فدک کے مطالبہ کے بعد ابوبکررضی اللہ عنہ کے جواب سے ہمیں کیا پتہ چلا؟
ہمیں یہ پتہ ابوبکررضی اللہ عنہ محبت رسول میں سراپا ڈوب کر یعنی خالص محمد ﷺ کی محبت کے پیش نظر آپ نے سیدہ فاطمہ کا مطالبہ منظور نہیں کیا۔ اس کے پیچھے ہرگزہرگز کوئی ذاتی مفاد نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی حدیث پر عمل کیا اور سنت کو زندہ کیا مگر شیعہ حضرات ابوبکررضی اللہ عنہ کی  اس خلوص بھری محبت کو بغض سے موسوم کرتےاور غصب کانام دیتے ہیں ۔
ٹھیک یہی معاملہ بریلوی حضرات کا میلادالنبی ﷺ سے متعلق اہل حدیث جماعت کے تئیں ہے ۔
ہم اہل حدیث نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کی وجہ سے آپ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں ، ہمارے سامنے آپ ﷺ کے متعدد فرامین ہیں جو میلادالنبی منانے سے روکتے ہیں مگر بریلوی حضرات ہماری اس محبت کو عداوت اور گستاخی کا نام دیتے ہیں ۔
آئیے چند نصوص آپ کی خدمت میں پیش کرکے ہم رسول اللہ ﷺسے سچی محبت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔
اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو اپنی اور رسول کی اطاعت کا واجبی حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران:32)
ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ منہ پھیریں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔
اس آیت میں صرف یہی نہیں کہاگیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ جو اطاعت نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ گویا اطاعت الہی اور اطاعت رسول ، محبت الہی کا ذریعہ ہے ۔
دوسری جگہ اللہ قرآن میں رسول کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء:65)
ترجمہ:سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول کے حکم وارشاد میں ذرہ برابر بھی  دل میں تنگی محسوس نہیں کرنی ہے، بلاچوں وچرا آپ کے حکم کو پورے طورپرماننا ہے یعنی اتباع رسول کا کامل نمونہ پیش کرنا ہے۔ یہی اتباع رسول محبت الہی اور محبت رسول کا سبب ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)
ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی محبت کا معیار اتباع رسول کو قرار دیا ہے ، یہی معیار رسول کی محبت کا بھی ہے یعنی جو رسول کی اطاعت کرے گا وہ اللہ سے بھی محبت کرتا ہے اور رسول سے بھی محبت کرتا ہے ۔
ان چند نصوص سے معلوم ہوا کہ ااتباع رسول محبت رسول کا نام ہے ، اس کے برخلاف کوئی رسول کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے ، یا آپ نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان کاموں سے نہیں رکتا ہے تو وہ رسول سے محبت نہیں کرتا بلکہ وہ رسول سے عداوت کرتا ہے ۔
پہلے وہ نصوص دیکھیں جن میں آپ ﷺ نے ہمیں مرضی عمل  کرنے اور  دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرنےسے منع کیا ہے ،یعنی صرف اور صرف وہی کام کرنا ہے جو جس کا حکم آپ ﷺ نے دیا ہے اور جس کام کا حکم نہیں دیا ہے وہ نہیں کرنا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
من أحدث في أمرِنا هذا ما ليس فيه فهو ردٌ(صحيح البخاري:2697)
ترجمہ: جس کسی نے ہمارے دین میں نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے‘ تو وہ مردود ہے۔
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے : وَكلَّ محدثةٍ بدعةٌ وَكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ(صحيح النسائي: 1577)
ترجمہ: اور ہر نو ایجاد شدہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
اب وہ نصوص دیکھیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو رسول کی اطاعت نہیں کرتےاور آپ کا حکم نہیں مانتے وہ ظالم ہیں، ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور وہ حوض کوثر سے دھتکارے جائیں گے ۔
فرمان الہی ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَیرِ هُدًى مِنَ اللهِ إِنَّ اللهَ لَا یهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ (القصص:50)
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو اللہ تعالى کی (نازل کردہ شرعی) ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے ۔ یقینا اللہ تعالى ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:63)
ترجمہ:جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انھیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا فرَطُكم على الحوْضِ ، وليُرفَعنَّ رجالُ منكم ثمَّ ليختلِجن دوني ، فأقولُ : يا ربِّ أصحابي ؟ فيُقالُ : إنَّك لا تدري ما أحدثوا بعدك(صحيح البخاري:6576)
ترجمہ: میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹادیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
خلاصہ کلام یہ ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت  ویسے ہی کرتےہیں جیساآپ نےاطاعت کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے ، یہی اطاعت آپ سے محبت کی پہچان ہے اور آپ نے ہمیں دین میں نیا کام کرنے سے منع فرمایا ہے جس سے ہم رکتے ہیں ، یہ بھی اطاعت کا حصہ ہے اور یہ محبت رسول کی پہچان ہے ۔ جو رسول سے محبت کا دعوی کر ے مگر آپ کا حکم نہ مانے ، آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے ، وہ رسول سے محبت نہیں کرتا ہے اور دین میں نیا نیا کام ایجاد کرے وہ بھی رسول سے محبت نہیں کرتا کیونکہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کررہا ہے ۔ اب ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر ہم عیدمیلادالنبی نہیں مناتے کیونکہ آپﷺ نے ہمیں نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس پر عمل کرکے دکھایا ، یہ دین میں نئی ایجاد ہے تو ہم سچے محب رسول ہیں کہ نہیں ؟ اسی لئے  کہتے ہیں کہ ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں لیکن ہماری سچی محبت کو عداوت وگستاخی کا نام دیا جاتا ہے ، یہ ٹھیک شیعوں کے  معاملہ  جیساہے جس طرح وہ باغ فدک کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔یا لیت قومی یعلمون
اسی تناظر میں  آخر میں یہ  بات عرض کرتا چلوں کہ چند دن پہلے بریلویوں کے امیر الیاس قادری عطاری کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ بتارہے تھے کہ اگر کوئی کہے کہ مجھے باپ سے محبت ہے مگر وہ اس کی بات نہ مانے تو وہ نافرمان ہے۔
یہی بات عربی شعر میں کچھ اس انداز میں کہی گئی ہے ۔
لوکان حبک صادقا لاطعتہ - ان المحب لمن یحب مطیع
شعر کا ترجمہ: اگر تمہاری محبت سچی ہوتی توتم اسکی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کامطیع و فرمانبردار ہوتا ہے۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, April 18, 2023

الوداعی جمعہ کا تصور اور قضائے عمری کی حقیقت

الوداعی جمعہ کا تصور اور قضائے عمری کی حقیقت

تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر- حی السلامہ -سعودی عرب
 
رمضان المبارک کا آخری جمعہ عوام میں  الوداعی جمعہ کے نام سے مشہور ہے  اور اس جمعہ کو وہ اہمیت دی جاتی ہے جو اہمیت عید کو حاصل ہے ۔وقت سے پہلے غسل کرکے،عمدہ سے عمدہ لباس میں سج  دھج کراور خوشبو لگاکر بڑے تزک واحتشام سے جمعہ میں حاضری دی جاتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کو الوداعی جمعہ کہنا کہیں سے ثابت نہیں ہے حتی کہ اس بارے میں کوئی ضعیف حدیث بھی مروی نہیں ہے اور عقلا بھی یہ بات غلط ہے کیونکہ سال کے بارہ مہینے ہیں اور ہر ہفتہ جمعہ کا دن آتا ہے اور ہرماہ کے اختتام پربھی جمعہ آتا ہے پھر رمضان کا آخری جمعہ ہی الوداعی جمعہ کیوں  کہلائے گا؟
دراصل اس آخری جمعہ کو مشہورکرنے کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے زندگی بھر کی چھوڑی ہوئی نماز معاف کرانے کا بدعتی طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے جس کو قضائے عمری کا نام دیا جاتا ہے ۔ قضائے عمری سے متعلق متعدد قسم کی جھوٹی باتیں گھڑی گئی ہیں ۔
٭ قضائے عمری سے متعلق ایک بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کوایک دن کی  پانچ نمازیں مع وتر پڑھ لی جائیں تو عمر بھر کی چھوڑی ہوئی نمازیں ادا ہوجائیں گی ۔ یہ لوگوں کا جھوٹ ہے، اس بات کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
٭قضائے عمری سے متعلق ایک دوسری بات یہ پھیلائی گئی ہے کہ جو رمضان کے آخری جمعہ  میں چار نفل ایک سلام سے پڑھ لے ، نماز کی ہررکعت میں فاتحہ کے بعد سات مرتبہ آیۃ الکرسی اور پندرہ مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے ( کسی  نےسورت اخلاص  کی بجائے سورت کوثر بھی بتایا ہے ) تو تمام عمر کی قضا نمازوں کا کفارہ ہوجائے گااگرچہ سات سوسال کی نمازیں قضا ہوں تب بھی یہ چار رکعت نماز کفارہ کے لئے کافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی روایت مستند کتب حدیث میں نہیں ہے البتہ ایک جھوٹی اور باطل روایت کا تذکرہ ملاعلی قاری حنفی اپنی کتاب "الموضوعات الکبری میں کرتے ہیں کہ جو شخص رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض  نماز بطور قضاپڑھ لے تو اس کی ستر سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی تلافی ہوجائے گی ۔  اس روایت کو ذکر کرکے ملا علی قاری  خود فرماتے ہیں کہ یہ باطل روایت ہے بلکہ اس وقت علمائے احناف بھی قضائے عمری کے نام سے اس مروجہ چار رکعت والی نما ز کو باطل قراردیتے ہیں ۔ بریلوی علماء بھی اس مروجہ قضائے عمری کو بے اصل اور بدعت قرار دیتے ہیں ۔
جب حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ میں قضائے عمری کی نیت سے پڑھی جانے والی نماز کو دیوبندی اور بریلوی دونوں طبقات میں بے اصل اور بدعت ہے تو پھر ان کے ماننے والوں میں یہ نماز ابھی بھی کیوں رائج ہے اور اس جمعہ کو کیوں دیگر جمعہ پر فوقیت دی جاتی ہے ، سوچنے والی بات ہے ۔
خلاصہ کلام کے طور پر تین باتیں عرض کرتا ہوں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ  رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو الوداعی کہنا غلط ہے، اس جمعہ کا بھی وہی نام ہے جو رمضان کے پہلے، دوسرے اور تیسرے جمعہ کا نام ہے ، یہ الگ بات یہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ خصوصا اس کی راتیں پہلے دونوں عشروں سے زیادہ اٖفضل ہیں کیونکہ اس میں شب قدر ہے مگر آخری عشرہ کے صرف ایک دن یعنی جمعہ کو فوقیت دینا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کو قضائےعمری کی نیت سے  کوئی نماز پڑھنا بدعت و مردود ہے، اس نماز سے عمربھر کیا ایک دن کی نماز کی تلافی نہیں ہوگی اور دین میں بدعت انجام دینے  کی وجہ سے گناہ الگ سے ملے گا۔
تیسری بات یہ ہے کہ میں علمائے احناف سے بھی گزارش ہے کہ آپ لوگ زور وشور سے مروجہ قضائے عمری کی بدعت کو عوام پر واضح کریں بلکہ  عملی شکل میں پوری قوت سے اس کو مٹانے کی کوشش کریں  کیونکہ یہ بدعت آپ کے ہی یہاں پائی جاتی ہے ۔
 

مکمل تحریر >>

Monday, April 10, 2023

رمضان کے آخری عشرہ سے متعلق امام کعبہ کی طرف منسوب جھوٹی تجویز


 

رمضان کے آخری عشرہ سے متعلق امام کعبہ کی طرف منسوب جھوٹی تجویز


پہلی بات یہ ہے کہ امام کعبہ کی طرف منسوب یہ جھوٹ ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ امام کعبہ نے ایسی کوئی بات کہی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ تحریر سے معلوم ہوتا ہے برصغیرہندوپاک کے کسی بدعتی کی یہ شرارت ہے کیونکہ اس میں روپیہ کا لفظ مذکور ہے جبکہ سعودی عرب میں روپیہ نہیں چلتا ، ریال چلتا ہے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں ایسی تعلیم نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے امام کعبہ ایسی تعلیم نہیں دے سکتے ہیں۔

آخری عشرہ سے متعلق اہم بات: رمضان المبارک کا آخری عشرہ  اجر وفضیلت کے اعتبار سے بہت ہی مبارک  ومفید ہے تو کیا اس عشرہ میں ایک ہی روپیہ خرچ کرنا چاہئے، یا صرف دو رکعت نماز پڑھنی چاہئے اور تلاوت کے لئے صرف سورہ اخلاص کو خاص کرلینا چاہئے جس کی دلیل وارد نہیں ہے؟ نہیں ہرگز نہیں ۔

ہمیں اس عشرہ میں رسول اللہ ﷺ کا عمل تلاش کرنا چاہئے تاکہ ہم بھی آپ ﷺ کی طرح عبادت کریں ۔ چنانچہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ سے متعلق آپ ﷺ کا عمل بیان کرتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری دس دنوں میں داخل ہوتے تو ﴿عبادت کے لئے﴾ کمر کس لیتے، خود بھی شب بیداری کرتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔(حوالہ صحیح بخاری:2024)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں آخری عشرہ میں کثرت سے عبادت کے کام انجام دینا چاہئے جیسے نماز، تلاوت، ذکر، دعا، توبہ، استغفار، صدقہ اور دیگر اعمال صالحہ کی انجام دہی کے ساتھ دوسروں کا نیکی پر تعاون ۔کیونکہ یہی وہ عشرہ ہے جس میں لیلۃ القدر(شب قدر) ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس رات قیام کرنے سے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔اس لئے آخری عشرہ میں جس قدر عبادت کا کام کریں گے وہ ہمارے حق میں اتنا ہی بہتر اور مفید ہے ۔ شب قدر کی ایک مخصوص دعا ہے اس کو کثرت سےپڑھنا چاہئے ، وہ دعا یہ ہے:

اللَّهمَّ إنَّكَ عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعفُ عنِّي

(اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے لہذا تو مجھے معاف کردے)

تحریر: شیخ مقبول احمد سلفی (جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب)

  

مکمل تحریر >>

Tuesday, November 8, 2022

تقریر و تحریر میں آیت و حدیث کا نمبر بتانا

 
تقریر و تحریر میں آیت و حدیث کا نمبر بتانا

مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ
 
قرآن و حدیث دین کے ماخذ اور اس کی دلیل ہیں ۔ ہمیں کسی بھی مسئلہ میں دینی رہنمائی چاہئے تو انہی دو کتابوں میں دلیل تلاش کرنی ہے یا اس بات کو یوں کہیں کہ جب ہم قرآن یا حدیث کی روشنی میں کوئی مسئلہ بیان کرتے ہیں تو آیت اور حدیث ذکر کرتے ہیں ۔
کسی مسئلہ میں حوالہ کے طور پر آیت اور حدیث ذکر کردینا ہی کافی ہے ، عہد صحابہ میں دینی مسئلہ اسی طرح بیان کیا جاتا تھا کہ قرآن میں اللہ نے یہ فرمایا اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا۔ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، دین میں نئی نئی چیزیں داخل ہوتی گئیں بلکہ یہ کہہ لیں جس قدر اسلام کے نام پر گمراہ فرقے بنتے گئے ان کے ذریعہ دین کے نام پر نئی نئی باتیں پھیل گئیں۔ ایک عام آدمی کےلئےصحیح اور غلط میں فرق کرنا دشوار ہوگیا۔
قرآن کی حفاظت اللہ نے لے رکھی ہے ، اس وجہ سے الحمد للہ قرآن مکمل محفوظ رہا لیکن حدیث کچھ مدون اور کچھ بکھری پڑی تھیں ، یہی وجہ ہے کہ مکرکرنے والے جھوٹی جھوٹی باتیں گھڑ گھڑ اسلام کی طرف منسوب کرنے لگے ، ایسے میں اللہ تعالی نے نیک لوگوں کو حدیث کی تدوین کی توفیق دی اور اس طرح احادیث بھی مدون ہوگئیں تاہم امام بخاری وامام مسلم کے علاوہ اکثر محدثین  نےتدوین حدیث میں صحت  وضعف کا  اس طرح التزام نہیں کیا بلکہ حدیث کے نام سے موسوم کلام کو اپنی اپنی کتابوں میں جمع کردیا یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ تمام کتب احادیث میں صحیح وضعیف دونوں قسم کی احادیث پائی جاتی ہیں۔ اس کے پیچھے بھی ان محدثین کی نیک نیتی ہی تھی مگر اہل بدعت وتصوف اورگمراہ لوگوں نے ان کتابوں میں موجود ضعیف احادیث کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ محدثین نے اللہ کی توفیق سے ان کتب کی احادیث کی صحت و ضعف کو بھی بیان کردیا ہے مگر خواہش پرست لوگ قیامت تک ضعیف و موضوع احادیث سناسناکرسادہ لوح  عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے اور بتاتے رہیں گے دیکھو، یہ بات حدیث میں آئی ہے۔
دین اسلام کے صاف شفاف چہرے کو داغدار کرنے والے جھوٹے مسلمانوں نے جہاں ضعیف وموضوع احادیث کا سہارا لیا وہیں قرآنی آیات کی من مانی تفسیر وتشریح کی ، صحیح احادیث کا غلط مفہوم بیان کیاچنانچہ اس طرح بھی عوام کو گمراہ کیا گیا اور گمراہ کیا جارہا ہے ۔
جو علمائے حق ہیں وہ صوفیوں ، بدعتیوں ، گمراہوں اور باطل پرستوں کی فریب کاریوں سے بالکل واقف ہیں اور احقاق حق اور ابطال باطل کے لئے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں لیکن اہل باطل کی کوششوں کے مقابلے میں اہل حق کی کوشش کم ہونے کے سبب عوام کی اکثریت گمراہی کا شکار ہے۔
ایسے حالات میں جب امت کو جھوٹی دلیل دے کریا سچی دلیل کا غلط معنی بتاکر گمراہ کیا جاتا ہو ہمارے لئے بہتر ہے کہ قرآن وحدیث کے نصوص کا حوالہ بھی پیش کریں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ حوالہ پیش کرنا کوئی غلط بات ہےیا کسی ڈاکٹر وانجینئر کی تقلید ہے بلکہ جب سے کتابیں مدون ہوئیں تب سے حوالہ ذکر کئے جاتے ہیں تاکہ اصل مرجع سے حوالہ کو ملایا جاسکے ۔
اب رہا مسئلہ قرآن کی آیت نمبر اور حدیث نمبر کا تو میں نے بتلایا کہ یہ اسلاف سے ہی روایت چلی آرہی ہے تاہم اس وقت حوالہ میں آسانی پیدا ہوگئی ہے۔
نبی ﷺ کا ایک فرمان جو صحیح بخاری میں ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اس وقت جو بھی عالم تقریر کرے یا تحریر لکھے، صحیح بخاری کی حدیث ذکر کرتے وقت صحیح بخاری کا حوالہ ضرور ذکر کریں گے ۔ مذکورہ کتاب میں نبی ﷺ کا فرمان ہے: "ام القرآن هي السبع المثاني والقرآن العظيم"(صحیح البخاری:4704)
ترجمہ:ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے سورہ فاتحہ کو سبع مثانی کہاہے  یعنی سورہ فاتحہ  سات آیتوں والی سورت ہے،  نبی ﷺ کا آیات کی تعداد بیان کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپﷺ بھی آیات شمار کرتے تھے۔ جب اسی طرح کوئی مقرر آیت پیش کرکے نمبر بتاتا ہے تاکہ لوگوں کے لئے مصدرتک جلد پہنچنا آسان رہے، اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مفیدسے مفید تر ہے ۔
ماخذ کی تدوین کے  بعد کتب ومقالات اور فتاوی میں حدیث کا مکمل حوالہ ہمیں ملتا ہےیعنی نام کتاب، جلد نمبرپھرکس کتاب اور کس باب میں ہے ، احادیث کی تخریج میں بھی یہی اہتمام کیاجاتا ہے۔ اب چونکہ احادیث پہ رقم درج کردیا گیا ہے جوکہ پہلے نہیں تھا تو حوالہ میں کتاب اور باب ذکر کرنے کے بجائے نمبر بتا دینا کافی ہوجاتا ہے ، گویا حدیث کی کتاب وباب بتانے کا مقصد بھی وہی تھا جو اس وقت حدیث نمبر بتانے کا ۔
ایک حافظ قرآن کو بھی بسا اوقات ایک آیت تلاش کرنے میں وقت لگ جاتا ہے اور ایک عالم کو بھی آیت اور حدیث تلاش کرنے  میں محنت لگتی ہے پھر عوام کے لئے یہ کام کس قدر دشوار ہوگا اندازہ لگاسکتے ہیں ۔
اس لئے میں سمجھتا ہوں اس وقت قرآن کی آیت اور حدیث کا نمبر فراہم کرنے میں جہاں اہل علم کے لئے آسانی ہےوہاں عوام کے لئے بھی بیحد آسانی ہے ۔ اس آسانی کا فائدہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی  بھی بآسانی نمبر کے ذریعہ قرآن میں اور حدیث  میں اصل دلیل دیکھ کر اطمینان قلب کرسکتا ہے ، بلکہ بہت سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی سیدھی رہنمائی کا سبب بن سکتا ہے اور واقعتا یہ سبب بن بھی رہاہے، مجھے اس کا تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ اگر پرانے حوالہ کی طرح حدیث بتائی جائے یعنی نام کتاب، جلد نمبر، کتاب اور باب تو عام آدمی کے لئے دشوار حوالہ ہے جبکہ نمبر کے ذریعہ بتایا گیا حوالہ سب کے لئے یکسان مفید وآسان ہے ، اسی غرض سے نمبر بھی دیا گیا ہےجبکہ یہ نمبر پہلے نہیں تھا۔
ان سارے حقائق کی روشنی میں ایک پڑھا لکھا آدمی تقریر میں آیت نمبر اور حدیث نمبر بتانے کا مذاق اڑائے تو  اس کا مطلب ہےیا تو وہ عوام کی پہنچ سے دوراور ان کی ضرورت سے ناواقف ہے یا کسی کے کام سے حسد ہے۔
بہرحال قرآن کی آیات اور احادیث پر نمبرڈالنے کا کام علماء نے ہی کیا ہےاور امت کی بہتری و فائدے کے لئے کیا ہے، یہ کسی ڈاکٹراورانجینئر کا کام نہیں ہےاس لئے جو تقریرمیں آیت وحدیث نمبر بیان کرنے کو کسی ڈاکٹر کی تقلید کہتے ہیں ان کو اپنی معلومات واسلوب درست کرنا چاہئے ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, October 19, 2022

مدینہ میں سکھل نامی کھجور کی حقیقت

 مدینہ میں سکھل نامی کھجور کی حقیقت

سوال:مدینہ میں سکھل نامی کوئی کھجور ہے جس میں گٹھلی نہیں ہوتی اور اس کھجور سے متعلق ایک یہودی کے ایمان لانے کا واقعہ ملتا ہے ، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب : لوگوں میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک شریر یہودی نے آپ ﷺ کو کھجور کی ایک گٹھلی دے کرفرمائش کی کہ اگر آپ اس کو بو کر کل تناور درخت بنادیتے ہیں جس میں پھل بھی آجائے تو میں ایمان لے آؤں گا۔ نبی ﷺنے اس کے کہنے کے مطابق کردکھایا مگر چونکہ یہودی نے زمین سےاسی شام گٹھلی نکال لی تھی اس لئے اس درخت کےکھجور میں بھی گٹھلی نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر یہودی ایمان لے آتا ہے ۔
میں نے واقعہ کو اختصار سے بتایا ، اس طرح کا کوئی واقعہ کتب حدیث میں مذکور نہیں ہے، یہ جھوٹی بات ہے اور جھوٹی بات کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنا بڑا جرم ہے بلکہ قصدا ایسا کرنے والا جہنم رسید ہوگا۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933)
 جہاں تک مدینہ میں سکھل نامی کھجور کی بات ہے تو احادیث میں سخل کا لفظ آیا ہے جس کو شاید بگاڑ کر سکھل بولا جاتا ہے ۔ صحیح لفظ السُّخَّل (سین کو پیش اور خاء کو زبر مع تشدید) جو ردی کھجور کے معنی میں آتا ہے۔ مستدرک حاکم کی روایت دیکھیں :
سہل بن حنیف سے روایت ہے:أمَرَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بصَدَقةٍ، فجاء رَجُلٌ من هذا السُّخَّلِ بكَبائسَ -فقالَ سفيان: يَعنِي الشِّيصَ-، فقالَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: مَن جاء بهذا؟ وكان لا يَجيءُ أحَدٌ بشَيءٍ إلَّا نُسِبَ إلى الَّذي جَلَبَه؛ فنَزَلَت: {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: 267]. قالَ: ونَهى رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ عنِ الجُعْرورِ، ولَونِ الحُبَيقِ أن يُؤخَذَا في الصَّدَقةِ. قالَ الزُّهرِيُّ: لَونانِ من تَمرِ الصَّدَقةِ.(المستدرك على الصحيحين:1480)
ترجمہ: نبی ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک آدمی نے ردی کھجور لایا، ابوسفیان کہتے ہیں الشیص یعنی ناقص اور ردی کھجور۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کون لایا؟ تو جو کوئی کچھ لاتا لانے والے کی طرف منسوب کیا جاتا ۔ اسی پس منظر میں یہ آیت نازل ہوئی۔{وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ}
ترجمہ:اوراس میں سے گندی چیز کا ارادہ نہ کرو، جسے تم خرچ کرتے ہو۔
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔
اس حدیث میں سخل کا لفظ ردی کھجور کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی یہ ایسی کھجور ہے جسے صدقہ کے طور پر قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اس حدیث میں مذکور آیت یہ بات بالکل اچھی طرح واضح کردیتی ہے۔
اس حدیث میں سخل کے علاوہ جعرور اور لون الحبیق کا بھی ذکر ہے جو ردی کھجور میں شمار ہوتی ہے اور بطور زکوۃ قبول نہیں کی جائے گی ۔
اب یہ بات حدیث کی روشنی میں واضح ہوگئی کہ سخل (جس کا اطلاق ناقص و ردی کھجورپرہوتاہے) نامی کھجور بے گٹھلی نہیں بلکہ ردی کھجور ہے اور یہ کوئی برکت والی کھجور نہیں ہے جس کی طرف التفات کیا جائے ۔ یہ تو ردی کھجور ہے اور ظاہر سی بات ہے اپنے لئے کوئی ردی مال کو پسند نہیں کرے گا اوراس کھجور سے منسوب یہودی والا واقعہ سراسر جھوٹا ہے۔
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ
17۔10۔2022
مکمل تحریر >>

Friday, April 22, 2022

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا رمضان کے تیسرے جمعہ سے متعلق وظیفہ

 

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا رمضان کے تیسرے جمعہ سے متعلق وظیفہ  
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، مسرہ -طائف
رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ سے متعلق پاکستان کے ایک معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی صاحب (اپنی جماعت کے حلقہ میں شیخ الاسلام سے ملقب ہیں) کی ایک آڈیو واٹس ایپ پر کافی دنوں سے وائرل ہے خصوصا عورتیں اسے کافی شیئر کررہی ہیں ۔ اس آڈیو میں شیخ الاسلام صاحب فرماتے ہیں کہ "رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ سے متعلق ایک وظیفہ ہے جو بزرگوں کے ذریعہ آزمایا ہواہے ،اس کی فضیلت یہ ہے کہ  رمضان میں تیسرے جمعہ کے دن کسی وقت اس وظیفہ کو کیا جائے تو اللہ تعالی بڑے سے بڑے مرض کو جسم سے ٹال دیتا ہے۔ اس لئے ہرکوئی یہ وظیفہ کرے اور اس نسخہ کو گھروں میں ، رشتہ داروں میں ، سلسلہ اشرفیہ ، امدادیہ کے پڑھنے والوں میں عام کردیا جائے۔ طریقہ یہ ہے، درورد ابراہیم گیارہ  بار، سورہ الم نشرح اکیس بار، سورہ قدر اکیس بار اور پھر درود ابراہیم گیارہ بار۔ یہ پڑھ کر دعا کی جائے ، اس کے پڑھنے والے کے اوپر بڑے سے بڑا مرض ہو اور چھوٹے سے چھوٹا مرض ہو، اللہ تعالی اسے اس مرض سے نجات دے دیتا ہے ۔ آڈیو میں پھر کہتے ہیں سبھی لوگ پڑھیں،خاص طور سے سبھی بچے بچیاں اور خانقاہ کے لوگ "۔ مفتی صاحب کی بات ختم ہوئی ۔
یہ آڈیو کئی دفعہ میرےپاس تحقیق کی غرض سے آئی ، میں نے مختصر ا یہ جواب دیا کہ یہ بدعتی طریقہ ہے اور چونکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دیوبندیو ں کےشیخ ومفتی ہیں جن کا تعلق تصوف سے ہے جیساکہ خود آڈیو میں مفتی صاحب سلسلہ اشرفیہ امدادیہ اور خانقاہ کا ذکر بھی کررہے ہیں اس لئے ان کے یہاں الگ الگ کاموں کا وظیفہ بنانا پرانا طریقہ رہا ہے ۔ ان کو تصوف کے بزرگوں سے یہ اجازت ملی ہوئی ہے کہ جب جس کام کے لئے جو چاہو وظیفہ گھڑ لو، شادی کے لئے یہ وظیفہ پڑھ لو، نوکری کے لئے یہ وظیفہ پڑھ لو، غرض کہ ہر کام کے وظائف گھڑ لئے جاتے ہیں۔مجال ہے کہ اس جماعت کا کوئی عالم (جو خودکوقرآن وحدیث کا عالم کہتا ہو) ان بناوٹی وظائف پہ انگلی اٹھادے،  اور عوام تو کالانعام ہے ہی ، شیخ الاسلام اور مفتی کا نام دیکھتے ہی وائرل پہ وائرل کرنے لگ جاتی ہے جیسے کوئی وحی نازل ہوگئی ہو ۔ امت کے عام ، خاص اور شیخ الاسلام کا یہ حال ہوگیا ہے ؟
بھلا بتائیے رمضان ، ایک مبارک مہینہ ہے اس سے متعلق کوئی عمل اور اس عمل کی فضیلت بتانے کا حق اللہ اور اس کے رسول کو ہے مگر امت کا ایک عالم اپنی طرف سے کیسے رمضان کے تیسرے جمعہ کا کوئی عمل اور پھر اس عمل کی  فضیلت اپنی طرف سے وضع کرسکتا ہے ؟ کس قدر حیرانی کی بات ہے ؟
مجھے یاد آرہا ہے کہ کورونا کی شروعات میں بھی مفتی صاحب کی ایک آڈیو  وائرل ہوئی تھی جس میں مفتی صاحب کہتے ہیں مجھے تبلیغی جماعت کے ایک آدمی کا فون آیا جو بڑے نیک آدمی ہیں، ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بکثرت ہوتی رہتی ہے ، انہوں نے بتایا کہ ان کو گزشتہ رات رسول کریم کی زیارت ہوئی، جس میں مجھے پیغام دیا کہ تم لوگوں سے کہو، یا تم پڑھو تین مرتبہ سورہ فاتحہ ، تین مرتبہ سورہ اخلاص اور تین سو تیسرہ مرتبہ حسبنااللہ ونعم الوکیل ، موجودہ حالات میں حفاظت ہوگی ۔ ذرا مفتی صاحب کا علم اور معیار علم دیکھیں کہ ایک تبلیغی  کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو رسول کی زیارت بکثرت ہوتی رہتی ہے، پھر رسول کا پیغام اس تبلیغی کو ملتا ہے جسے مفتی صاحب ٹی وی چینل پر بیان کرتے ہیں ۔ مزید برآں وہ تبلیغی کہتا ہے کہ آپ اسے لوگوں میں عام بھی کردیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
کیا اتنے بڑے شیخ الاسلام اور مفتی اس طرح کی باتوں کی تائید کرسکتے ہیں اور لوگوں میں ٹی وی چینلوں کے ذریعہ عام کرسکتے ہیں ؟ رسول کی زیارت کوئی عام بات ہے جو ایک آدمی کے لئے لکھ دی گئی ہو اسے بار بار زیارت رسول ہوگی ؟ اس طرح کی بات رسول کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے صحابہ بھی نہیں کر تے پھر کیسےایک عام تبلیغی کثرت زیارت کا دعوی کرتا ہے  ۔ پھر رسول کا پیغام بھی اسے ملتا ہے  اور بڑے علم والے تصدیق بھی کرتے ہیں اور لوگوں میں عام بھی کرتے ہیں ۔
خیر!جو لوگ واقعی قرآن وحدیث کو ماننے والے اور ان پر عمل کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں سراسر جھوٹی ہیں اور چونکہ صوفیوں کے یہاں وظائف گھڑے جاتے ہیں، عادت بنی ہوئی ہے اس لئے جب جس طرح کی آفت ہو اس قسم کا کوئی وظیفہ گھڑ لیا اور لوگوں میں عام کردیا ۔ صوفیوں میں ایک بات بڑی عام ہے وہ رسول کی زیارت اور زیارت کے ذریعہ پیغام ۔ پیغام دراصل خود کا بنایا ہوا وظیفہ ہوتا ہے اپنے نام سے وظیفہ کی دوکان کم چلے گی اس لئے رسول کی طرف منسوب کردیا تاکہ یہ دوکان زیادہ چلے ۔ بس اتنی سی حقیقت ہے ۔ واقعی امت خرافات میں کھوگئی ہے اور اصل دین ختم ہوتا جارہا ہے ۔
مجھے کسی طبقہ کے عالم سے بیر نہیں ہے لیکن جو بے دینی پھیلائے ، دین کی جگہ مصنوعی باتوں کو پھیلائے تب تکلیف ہوتی اور کوشش کرتا ہوں کہ کم ازکم بے دینی پہ لوگوں کو مطلع کرکے اپنی دینی ذمہ داری نبھادوں ۔ مفتی تقی عثمانی صاحب بھی میرے نزدیک محترم ہیں مگر ان کی کبھی کبھار اس قسم کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں تو دلی تکلیف ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے مجھے اس وقت تکلیف ہوئی  جب انہوں نے فرحت ہاشمی صاحبہ کے خلاف غلط فتوی دے کر لوگو ں میں غلط فہمی پھیلائی ، میں نے اس فتوی کا تعاقب کیا جو میرے بلاگ پر موجود ہے ، پھر کورونا کے وقت مصنوعی وظیفہ کی وکالت کی وہ بھی رسول اللہ کی طرف نسبت کرکے ، شاید ہرپڑھے لکھے کو معلوم ہے کہ رسول اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کا اخروی انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایک بار پھر مفتی صاحب نے رمضان کے تیسرے جمعہ کا وظیفہ بتاکر تکلیف پہنچائی ہے ۔
آج مفتی صاحب کی ایک نئی  آڈیو ملی جس میں انہوں نے رمضانی وظیفہ کا انکار کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ آڈیو میری ہے ہی نہیں ۔ انصاف کا تقاضہ اور سچے عالم کی شان تو یہ ہوتی ہے کہ اگر معلوم ہوجائے مجھ سے علمی خطا ہوئی ہے تو اس سے رجوع کرلیں ، اس سے شان گھٹتی نہیں بڑھتی ہے ۔
آخری آڈیو میں مفتی صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے وظیفے آتے ہی نہیں اور میں کبھی اس  طریقے سے وظیفہ بتاتا بھی نہیں سوائے ایک مرتبہ کووڈ کے بارے میں کچھ دیا تھا۔ آگے کہتے ہیں کہ ظاہر سی بات ہے اس آڈیو میں جو باتیں کہی گئیں ہیں یعنی درود شریف پڑھنا  یا دو سورتیں پڑھنا ، جب بھی آدمی پڑھے ان شاء اللہ اجر ملتا ہے ۔
اس تردیدی بیان میں بھی رمضانی  وظیفہ کی حمایت مخفی طور پر موجود ہے جوکہ دومنٹ اٹھائیس سکنڈ  آڈیو سننے کے بعد معلوم ہوتا ہے بلکہ یہاں تک شبہ ہوتا ہے کہ کووڈ کا ٹیلفون بھی بہانہ ہو ،وظیفہ اپنا ہو۔کل ملاکر یہ ہے کہ مفتی صاحب اعتراض سے محض دامن بچانا چاہتے ہیں ، اس موقع سے داغ دہلوی کا یہ شعر یاد آتا ہے ۔
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
آخر میں مفتی صاحب سے عرض ہے کہ اللہ نے آپ کو علم دیا ہے اور لوگوں میں علمی مقام عطا فرمایا ہے ، یہ دونوں اس وقت مفید ہوں گے جب آپ صحیح دین لوگوں تک پہنچائیں گے ورنہ یہ دونوں وبال جان بھی بن سکتے ہیں ۔ رسول اللہ کے دعوتی شہر طائف سے ایک کم علم بندہ آپ سے التجا کرتا ہے کہ آپ امت کو وہ بات بتائیں جو رسول اللہ نے طائف والوں کو اور پوری دنیا کو بتائی ہیں ، اسی میں آخرت کی کامیابی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اور ہم سب کو حق بات بولنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ آمین

مکمل تحریر >>

Tuesday, February 15, 2022

بدعت کو پہچانئے

بدعت کو پہچانئے
________________________
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر طائف،سعودی عرب
 
الحمد للہ اسلام ایک واضح اور صاف ستھرا دین ہے جس کی تعلیمات اور احکام ومسائل روشن دن کی طرح عیاں وبیاں ہیں مگر اسلام کے نام لیواؤں میں سے صوفیوں اوربدعتیوں نے اس صاف ستھرے دین کو جہاں غیرمسلموں کی نظر میں بدنام کیا ہے ،وہیں عام مسلمانوں پر بھی اسے مشکل بنادیا ہے۔ جو اصل دین ہے اس کو چھوڑکر،ان بدعتیوں نے دین میں نئی نئی بدعات وخرافات گھڑ لئے اوران پر سختی سے عمل کیااور عوام کو باور کرایا کہ یہی اصل دین ہے، جو اس پر عمل کرتا ہے وہ اصل سنی ہے اور جو عمل نہیں کرتا ہے وہ بدعقیدہ ، مرتد اور نبی کا گستاخ ہے۔ العیاذ باللہ
کس قدر حیرانی وتعجب کی بات ہے کہ اصل دین کو پس پشت ڈال دیا گیا بلکہ اصل دین پر عمل کرنے والوں کو باغی، مرتد،گستاخ اور بدعقیدہ کہاجاتا ہے اور دین کے نام پر نئی نئی بدعات کو اصل دین سمجھاجاتا اور بدعتی خود کو اصل سنی کہتا ہے۔
؎خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد-جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔
اسلام کے لئے خطرات، خدشات اور نقصانات کی بات جائے تو جو یہودونصاری نہیں کرسکے وہ ان بدعتیوں نے اسلام کے لئے خطرات پیداکئےاور دین میں نت نئے بدعات رواج کر دین اسلام کے اصل چہرے کومسخ کیا۔کفار ومشرکین مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بدعتی اصل اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں اس لحاظ سے بدعتی اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کا احساس کرکے آج سادہ مسلمانوں کو سلیس انداز میں بدعت سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں تاکہ ان پر بدعت کی حقیقت منکشف رہے اور شاید کسی بدعتی کو بھی سمجھ آجائے اور اسلام کو نقصان پہنچانے سے باز آجائے یا کم از کم خود کو نقصان سے بچائے۔
بدعات کی ایک لمبی فہرست ہے،ان سب کا نام گنانا مشکل ہے ، چند بدعات بہت مشہور ومعروف ہیں جن سے بدعتیوں کی اصل پہچان ہوتی ہےان کو بتاکر ان کی حقیقت بتانے کی کوشش کروں گا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمان نبی کا نام آنے پر انگوٹھاچومتے ہیں، اذان سے قبل خودساختہ درود پڑھتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتےہیں، میلاد مناتے ہیں، مزارات پرعرس ومیلے لگاتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، جھنڈیاں لگاتے ہیں ، قبروں پر پھول و چادر چڑھاتے ہیں، وہاں اذان دیتے ہیں،ان کا طواف کرتے ، سجدہ کرتے اور وہاں نماز وقرآن پڑھتے ہیں۔اسی طرح تعزیہ منانا، مردوں کو پکارنا، غیراللہ کا وسیلہ لگانا،غیراللہ کی نذرماننا،قل،تیجہ ،ساتا، دسواں، اکیسواں، چہلم ، گیارہویں منانا، لکھی روزے، ہزاری روزے، ام داود کی نماز، صلاۃ الرغائب، نمازغوثیہ، ختم قادریہ، جعفرصادق کے کونڈے، شب معراج کا جشن ، پیروں کی بیعت،امام ضامن وتعویذات عطاریہ،نوحہ خوانی وسوگ، بدشگونی و نحوست اور خودساختہ اورادووظائف (درود غوثیہ، درود تاج، درود تنجینا، درود لکھی وغیرہ)ان بدعتیوں کے امتیازی اعمال وافعال ہیں۔ یہ سب اعمال اور ان جیسے سیکڑوں اعمال دین کے نام پر بدعتیوں کی طرف سے ایجاد کرلئے گئے ہیں ، انہی کو دین سمجھا جاتا ہے، اسی کے گردان کی زندگی گھومتی ہے اور یہی سب کچھ کرتےکرتے بدعتیوں کی موت آجاتی ہے۔
مذکورہ چند بدعات کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ، وہ یہ ہے کہ ہم کو کیسے پتہ چلے گا کہ مذکورہ سارے اعمال بدعتی ہیں اور ایک بدعتی کو کیسے سمجھائیں گے کہ ان اعمال سے دور رہو، یہ جہنم میں لے جانے والے ہیں؟ چنانچہ پہلے ہم بدعت کی صحیح تعریف دیکھیں گے اور تعریف بھی شارع شریعت یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کریں گے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ(صحيح البخاري:2697،صحيح مسلم:1718،سنن أبي داود4606, سنن ابن ماجه:14,مشكوة المصابيح:140 )
ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام ایجادکیا جو دین میں نہیں تو وہ رد ہے۔
یہی حدیث صحیح مسلم میں اس طرح مروی ہے،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔
اس حدیث کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہےاور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جامع الکلم میں سے ہےاور یہ بدعات و نئی ایجادات کی تردید میں صریح حدیث ہے ۔شرح مسلم للنووي(2/15 ح 1718)
بدعتیوں کی بدعات حدیث رسول کی کسوٹی پر:
حدیث رسول کے مکمل الفاظ پر نظر رکھتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ کے کلام کے اعتبار سے غور کرتے ہیں کہ یہ حدیث کس طرح بدعات کی صریح تردید کرتی ہے؟
مَن أَحْدَثَ: جو اپنی خواہش اور مرضی سے کوئی کام ایجاد کرے۔
في أَمْرِنَا هذا: یہاں امرسے مراد دین ہے یعنی دین میں کوئی نیا کام اپنی طرف سے ایجاد کرے۔
ما ليسَ فِيهِ:جو دین میں سے نہیں ہو۔ بریلوی عالم مفتی احمد یارخاں نعیمی " ما ليسَ فِيهِ" کی شرح میں لکھتے ہیں جو قرآن وحدیث کے مخالف ہو۔(دعوت اسلامی کی ویب سائٹ:بدعت کی اقسام)
فَهو رَدّ: تو وہ عمل بدعتی کے لئے مردود وباطل ہے۔
حدیث کی شرح کے ساتھ اب ان بدعات میں سے ایک نمونہ لیکر دین کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں مثلا نبی کا نام آنے پر انگوٹھوں کو آنکھوں سے لگاکر چوما جاتا ہے اور یہ اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ یہ دینی عمل ہے ایسا کرنا چاہئے ، اس سے ثواب ملتا ہے ۔ جب دین کی کتاب قرآن وحدیث میں اس عمل کو تلاش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں مذکور ہے ، اس کا مطلب ہے کہ کسی آدمی نے اپنی طرف سے اس عمل کودین سمجھ کر ایجاد کرلیا ہے ۔اسی کا نام بدعت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں مردود ہے۔
اب آئیے بدعتیوں کے کچھ شبہات کا بھی جائزہ لیتے ہیں تاکہ مزید بہتر طریقے سے بدعت کی حقیقت کو سمجھ سکیں ۔ میں بدعتیوں کے تین بڑے شبہات اور ایک اہم مغالطے کا ذکر کروں گا ۔
پہلا شبہ : جب ہم بدعتیوں کو بتاتے ہیں کہ انگوٹھا چومنا بدعت ہے، میلاد منانا بدعت ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں ان باتوں کا کہیں پر حکم نہیں دیا گیا ہے تو آگے سے بدعتی جواب دیتا ہے کہ رسول کے زمانے میں گاڑی نہیں تھی، بس نہیں تھی، ٹرین نہیں تھی ، جہاز نہیں تھاتم ان پر کیوں سواری کرتے ہو؟کیا یہ بدعت نہیں ہے ؟ تم خودبھی رسول کے زمانے میں نہیں تھے لہذا تم بھی بدعت ہو۔
جواب: اس شبہ کو جاننے کے لئےمندرجہ بالا حدیث رسول پر پھر سے نظر ڈالیں۔ اس حدیث کی شرح میں چار باتوں کا میں نے خلاصہ کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہروہ کام جو اپنی طرف سے ایجاد کرلئے جائیں جیساکہ الفاظ "من عمل عملا" سے بالکل واضح ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ نئے کام دین میں ایجاد کئے جائیں یعنی دنیاوی معاملے میں نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ نئی ایجاد قرآن یا حدیث میں سے نہیں ہو۔ تو وہ نیا عمل بدعت ہے جو کہ مردود ہے اور یہ چوتھی بات ہے۔ بدعتی جب یہ کہے کہ رسول کے زمانے میں ٹرین نہیں تھی تم اس پر سواری کیوں کرتے ہو کیا یہ بدعت نہیں ہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ ہم نے کب کہا کہ جو چیز رسول کے زمانے میں نہیں تھی اس کا استعمال بدعت ہے، یہ تو ہم نے کبھی کہا ہی نہیں ، یہ تو تم کہتے ہو ۔ ہم تو بدعت کی وہی تعریف کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے وہ یہ ہے کہ جو کوئی اپنی طرف سے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرلے جو قرآن وحدیث میں سے نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے۔ اب ذرا تم ہی بتاؤ کہ کیا ٹرین کوئی عمل یا کام ہے ؟ یہ تو ایک سامان ہے ۔ بدعت کا تعلق سامان سے تو نہیں ہے بلکہ عمل سے ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا ٹرین کی ایجاد دین کے معاملے میں ہے یا دنیاوی معاملہ ہے ؟ ظاہر سی بات ہے ایک کم عقل بھی کہے گا یہ دنیاوی معاملہ ہے جبکہ رسول نے بدعت کی تعریف میں فرمایا ہے جو دین کے معاملے میں کوئی نیا کام ایجاد کرے وہ عمل بدعت ہے ۔
دوسرا شبہ: لوگوں میں ایک شبہ یہ بھی عام ہے کہ آپ کہتے ہیں فلاں کام بدعت ہے جبکہ فلاں مولوی کہتا ہے یہ کام دین ہے اس کے کرنے سے ثواب ملے گا۔ تو ہم کس کی بات صحیح مانیں ۔ آپ بھی مولوی ، وہ بھی مولوی ۔ہم کس مولوی کو درست مانیں ۔
جواب: اس شبہ کو دینی اعمال کی روشنی میں مثال دے کر سمجھا تا ہوں ۔ آپ ذرا غور کریں ، جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو سب سے پہلے نماز کی نیت کرتےہیں، پھر تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھتے ہیں،قیام کرتے ہیں، پھر رکوع کرتے ہیں، پھر سجدہ کرتے ہیں، اس طرح ایک رکعت ہوتی ہے پھر اسی طرح دوسری رکعت پڑھتے ہیں۔ دورکعت والی نماز میں قعدہ کرکے سلام پھیرتے ہیں ، مغرب کی نماز میں دو رکعت پہ قعدہ کرکے پھر تیسری رکعت کے لئے اٹھتے ہیں، پھر تیسری رکعت مکمل کرکے دوسرا قعدہ کرکے سلام پھیرتے ہیں۔ ظہر ، عصر اور عشاء میں چار چار رکعت پڑھتے ہیں۔ نماز کو اس شکل میں کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا اس لئے نہیں پڑھتے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز کی تعلیم دی ہے۔ اوربخاری میں آپ کا یہ فرمان ہے : تم لوگ اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
اسی طرح جب آپ بیت اللہ کا حج کرتے ہیں تو یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے حج کا کام شروع کرتے ہیں، اس دن منی جاتے ہیں، یوم عرفہ کو عرفات جاتے ہیں، اسی دن سورج ڈوبنے کے بعد مزدلفہ آتے ہیں، یہاں رات بسر کرتے ہیں۔یوم النحر کو فجر کے بعد جمرات پر جاتے ہیں اور وہاں تین جمرات ہیں مگر آج کے دن صرف ایک جمرہ کو جو مکہ سے متصل ہے سات کنکری مارتے ہیں۔ پھر قربانی کرتے ہیں ، حلق کرواتے ہیں اور حرم شریف پہنچ کر طواف افاضہ اور سعی کرتے ہیں ۔ اس کے بعد واپس منی آجاتے ہیں ،یہاں ایام تشریق گزارتے ہیں اور تینوں دن تینوں جمرات کو سات سات کنکری مارتے ہیں. آخر میں طواف دواع کرکے وطن واپس لوٹ آتے ہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ آپ کیوں ایسا کرتے ہیں ، کیا کسی پیر نے کہا ایسا کرو، کسی ولی کے کہنے سے ایسا کرتے ہیں ؟ یا آپ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے ؟ بلاشبہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہےاور ہم حج اس طرح اس لئے کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اس طرح حج کیا ہے اور کرنے کا حکم دیا ہے جیساکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أَيُّها الناسُ خُذُوا عَنِّي مناسكَكم (صحيح الجامع:7882)
ترجمہ: اے لوگو! تم مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔
میں نے صرف دو چیز نمازاور حج کی مثال دی ہے جبکہ پورے دین کا یہی حکم ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دین کے تمام معاملات میں ہم وہی کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب:21)
ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:
أطيعوا الله وأطيعوا الرسول (النساء:59)
ترجمہ: الله کی اطاعت کرو اور رسول الله ﷺ کی اطاعت کرو۔
اس لئے اگر کوئی مولوی آپ کو بدعت کی تعلیم دے یا وہ بات بتائے جس کی دلیل نہیں ہے تو اس مولوی کی بات نہیں ماننی ہے کیونکہ رسول اللہ نے بدعت سے منع کیا ہے اور صرف اسی عالم کی بات ماننی ہے جو قرآن اور حدیث کے مطابق بتائے کیونکہ دین قرآن اور حدیث کا نام ہے ۔
تیسرا شبہ: عوام کی طرف سے ایک تیسرا شبہ پیدا کیا جاتا ہے کہ اجر ثواب کی نیت سے اگر کوئی کام کرتا ہے تو اس میں حرج کیا ہے ، نیت تو اچھی ہے ۔
جواب: اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ صرف اچھی نیت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ عمل بھی سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے ورنہ وہی عمل بدعت کہلائے گا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مردودوباطل ہے ۔ اس شبہ کو ایک حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ بدعت کا ارتکاب کرنے میں کیا حرج ہے؟
صحیح بخاری (5063) میں انس بن مالک سے روایت ہے،انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
اس حدیث پہ اچھی طرح غور کریں، ایک طرف تین جلیل القدر صحابہ، دوسری طرف ان سب کی نیت بھی اچھی پھر کیوں رسول اللہ نے انہیں اچھی نیت سے منع کیا؟ ان سب کے عمل میں حرج کیا ہے؟ حرج یہی ہے کہ ان سب کاعمل سنت کے خلاف تھا ، اس لئے ان سے آپ نے فرمایا جو سنت کے خلاف عمل کرے وہ ہم میں سے ہی نہیں ہے ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ اچھی نیت کے باوجود سنت کی خلاف ورزی کی وجہ سے عمل مردود ہورہا ہے یہی حال ہر قسم کی بدعت کا ہے یعنی ہر بدعت مردود ہے۔
بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم کا مغالطہ:
بدعتی لوگ عوام میں ایک مغالطہ پھیلاتے ہیں وہ مغالطہ یہ ہے کہ ہر قسم کی بدعت سے اسلام نے منع نہیں کیا بلکہ کچھ بدعت اچھی ہوتی ہیں ان پر عمل کرسکتے ہیں اور کچھ بدعت بری ہوتی ہیں جن سے بچنا ہے گو یا ان بدعتیوں نے اپنی بدعات کی حمایت میں بدعت کی دوقسمیں کی ہیں ایک بدعت حسنہ اور دوسری بدعت سیئہ ۔اس تقسیم سے بدعتیوں کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے دین میں جوبھی بدعات وخرافات ایجاد رکھے ہیں ان کو جواز فراہم کرنا تاکہ عوام کو یہ بتلایا جاسکے کہ ہم جو بدعت کرتے ہیں وہ بدعت حسنہ ہے اس کے کرنے سے گناہ نہیں، اجر ملتا ہےاور جس بدعت پر گناہ ملتا ہے وہ دوسری بدعت ہے، بدعت سیئہ ۔
حقیقت میں بدعت کی یہ تقسیم اسی طرح سے فرضی اور بناوٹی ہے جیسے ان کی تمام بدعات فرضی وبناوٹی ہیں۔ اگر کہیں بدعت حسنہ کا ذکر ملتا ہے تو وہاں لغوی معنی کا اعتبار کیا گیا ہے جبکہ شرعی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقسم کی بدعت کو ضلالت وگمراہی قرار دیا ہے ۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرماتے:
إن اصدق الحديث كتاب الله , واحسن الهدي هدي محمد , وشر الامور محدثاتها , وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار(صحيح سنن النسائي:1579)
ترجمہ: سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
اس حدیث سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں نیا کام کوئی بھی ہو وہ بدعت میں شمار ہوگااس لئے یہ کہنا کہ بدعت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی غلط ہے اور حدیث رسول کے خلاف ہے ۔
آخر میں بدعتیوں کا حکم بھی جانتے چلیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ہی سب سے زیادہ رسول سے محبت کرتے ہیں، ہم ہی زیادہ آپ پر درود پڑھتے ہیں لہذا ہم لوگ ہی آخرت میں رسول کے ساتھ ہوں گے ، ہم لوگوں کو آپ کی شفاعت نصیب ہوگی اور جنت میں داخل ہوں گے ۔ کچھ اسی قسم کی باتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک بریلوی شاعر جمیل الرحمن رضوی قادری اپنے نعتیہ کلام کے مقطع میں کہتا ہے ۔
؎میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد -میرا لاشہ بھی کہے گا الصلاۃ والسلام
ان بدعتیوں کے دعوی کی حقیقت مذکورہ بالا آخری حدیث سے لگائیں کہ ایک طرف رسول اللہ کی تعلیم یہ ہے کہ سب سے سچی کتاب قرآن ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاہے مگر یہ لوگ نام تو نبی کا لیتے ہیں مگر کام سب بدعت والا کرتے ہیں ۔ جو لوگ قرآن اور طریقہ محمد سے ہٹ کر دین میں بدعات ایجاد کرتے اور ان پر عمل کرتے ہیں کیا وہ لوگ محب رسول ہوسکتے ہیں ؟ ہرگزہرگز بدعتی محب رسول نہیں ہوسکتا بلکہ بدعتی جو خود کو سچا محب رسول کہتا ہے اس کا دعوی کھوکھلا اور جھوٹا ہے ۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ نے ان بدعتیوں کے بارے میں آگاہ کردیا کہ ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔ بھلا جو عمل جہنم میں لے جانے والا ہو اس عمل کی بنیاد پر رسول اللہ کی شفاعت کیسے ملے گی ؟ اتنا ہی نہیں اللہ تعالی آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان بدعتیوں کی بدعات کے بارے میں آگاہ بھی کرے گا اور جب بدعتی لوگ حوض کوثر کے پاس آئیں گے تو بھگادئے جائیں گے ۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ ناسٌ مِن أصْحابِي الحَوْضَ، حتَّى عَرَفْتُهُمُ، اخْتُلِجُوا دُونِي، فأقُولُ: أصْحابِي! فيَقولُ: لا تَدْرِي ما أحْدَثُوا بَعْدَكَ(صحيح البخاري:6582)
ترجمہ:میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے سامنے لائے جائیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں گے۔ میں اس پر کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
کتنا عجیب حال ہے بدعتیوں کا ؟ زندگی بھر یارسول اللہ کا نعرہ لگاتے رہے، میلاد مناتے رہے، جلوس نکالتے رہے، جھنڈیاں لگاتے رہے،تعظیم رسول میں قیام کرتے رہے، کھڑے ہوہوکر اجتماعی درود پڑھتے رہے اور انگوٹھا چومتے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت میں رسول اور حوض کوثر سے دور کردئے گئے ۔
؎ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔
جو لوگ جانے انجانے کسی طرح سے بھٹک گئے ہیں ان سبھی سے درخواست ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ، سابقہ گناہوں سے توبہ کرلیں اور سچے محب رسول بننے اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر پینے کے لئے اللہ کی کتاب قرآن کریم اور رسول اللہ کی پیاری سنت احادیث طیبہ کے مطابق عمل کریں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس مضمون کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے راہ راست پر آنے کا ذریعہ بنائے ۔
نوٹ:جو لوگ اس مضمون کا ویڈیوبیان سننا چاہتے ہیں وہ محرر کے یوٹیوب چینل پہ پانچ فروری ۲۰۲۲ کو اپ لوڈ کیا گیا بیان بعنوان "بدعت کو پہچانئے" سن سکتے ہیں۔
 

مکمل تحریر >>