Sunday, February 23, 2020

آج کی روشنی ، کل کا اندھیرا



آج کی روشنی ، کل کا اندھیرا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گرچہ آج کا زمانہ بہت ہی ترقی کرچکا ہے مگر اصلیت گم اور فریبی پہلواجاگرہوتاجارہا ہے ، کل اندھیرا تھا تو اس قدر فریب نہیں تھا جس قدر آج روشنی میں فریب دیا جارہاہے ۔ ربڑ سے چاول ، شکر سے شہد اور کیمیکل سے جعلی دودھ تیار ہوتا دیکھ کرکون اس زمانے کی ترقی کا قائل نہیں ہوگا ؟ مگر کیا انسانیت کے حق میں ایسی ترقی مفید ہے یا مضر ایک سوال پیدا ہوتا ہے ؟ ترقی یافتہ دور کے ایسے چاول، شہد اور دودھ کھانے پینے سے صحت برقرار رہ سکتی ہے یا بگڑ ے گی اپنے آپ میں ایک سوال ہے ؟ چہروں پر جھریاں ، آنکھوں پر موٹی پلکیں اوربوسیدہ کپڑے پہننے والے پرانے خیالات کے بزرگ آج بھی جدت پسند طبیعت سے یہی کہتے ہیں ۔
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے ۔ روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
ایک صدی پیچھے پلٹ کر بزرگ کے پرانے خیالات تولتے ہیں تو واقعی ہم دیکھتے ہیں کہ باغوں میں آم کم پھلتے تھے مگر ان میں قدرتی مٹھاس ہوتی، چاول وگیہوں کی پیداوار کم تھی مگر صحت مند غذا تھی ، چراغوں کی شعائیں مدھم تھیں مگر آج کی طرح لوٹ ومار نہیں تھی، آدمی کم تھے مگر ہاتھوں سے فولادی کام کیا کرتے تھے جوآج مصنوعی آلات کررہے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ بزرگ کی باتوں میں ہمیں صداقت نظر آئی اور ہم بھی زبان حال سےکہنے لگے کہ اے کاش آج بستیاں جلانے والی روشنی نہیں ہوتی ، صحت بگاڑنے والی مصنوعی غذا نہ ہوتی ، پھلوں کے مصنوعی ذائقے نہ ہوتے،قتل وخون مچانےوالی ترقی نہ ہوتی بلکہ وہی پرانی سی دیواریں، مدھم دئے ، صحت مند غذا ئیں اور باہم تعاون کرنے والے فرد ومعاشرہ ہوتے۔
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر شمالی طائف (مسرہ)
مکمل تحریر >>

Saturday, July 1, 2017

ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ اور ان کے ادارہ الہدی کے متعلق ایک خاتون کے سوالات اور مفتی تقی عثمانی صاحب کے جوابات کی حقیقت

ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ اور ان کے ادارہ الہدی کے متعلق ایک خاتون کے سوالات اور مفتی تقی عثمانی صاحب کے جوابات کی حقیقت

تحریر: مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر- طائف

پاکستان کی ایک خاتون مسز سیما افتخار صاحبہ جن کا دعوی ہے کہ انہوں نے الہدی انٹرنیشنل سے اسلامک اسٹڈیز سے ایک سالہ ڈپلومہ کورس کیا ہے ، ان کا  کہنا ہے کہ وہ طلب علم کی حیثیت سے الہدی جوائن کی تھی مگر بعد میں اس کے عقائد صحیح معلوم نہیں ہوئے تو ان کے متعلق مفتی  تقی عثمانی صاحب صاحب سے رجوع کیا۔
مسز سیما افتخار کا کہنا ہے کہ ہماری استاد اور الہدیٰ انٹر نیشنل کی نگران محترمہ فرحت ہاشمی صاحبہ کے نظریات کا نچوڑ پیش خدمت ہے ۔
1۔اجماع امت سےہٹ کر ایک نئی راہ اختیار کرنا
2۔غیر مسلم اور اسلام بیزار طاقتوں کے نظریات کی ہمنوائی
3۔تلبیس حق و باطل
4۔فقہی اختلافات کے ذریعے دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنا
5۔آسان دین
6۔ آداب و مستحبات کو نظر انداز کرنا۔
ان چھ نکات کے بعد پھر سیما صاحبہ نے ان کی کچھ تفاصیل ذکر کی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
1۔اجماع امت سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کرنا
1۔قضائے عمری سنت سے ثابت نہیں صرف توبہ کرلی جائے قضا ء ادا کرنیکی ضرورت نہیں ہے
2۔3 طلاقوں کو ایک شمار کرنا
3۔نفل نمازیں صلوٰۃ التسبیح ، رمضان میں طاق راتوں خصوصاً 27 ویں شب میں اجتماعی عبادت کا اہتمام اور خوتین کے جمع ہونے پر زور دینا
4۔غیر مسلم ،اسلام بیزار طاقتوں کے خیالات کی ہمنوائی:
5۔مولوی(عالم)،مدارس اور عربی زبان سے دور رہیں،
6۔علماء دین کو مشکل بناتے ہیں آپس میں لڑتے ہیں ،عوام کو فقہی بحثوں میں الجھاتےہیں ، بلکہ ایک موقع پر تو فرمایا کہ اگر آپ کو کسی مسئلے میں صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف لے لیں لیکن علماء کی بات نہ لیں ،
7۔مدارس میں گرائمر ،زبان سکھانے،فقہی نظریات پڑھانے میں بہت وقت ضائع کیا جاتا ہے، قوم کو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو قرآن صرف ترجمہ سے پڑھادیا جائے،
ایک موقع پر کہا (ان مدارس می جو 7,7,8,8سال کے کورس کرائے جاتے ہیں یہ دین کی روح کو پیدا نہیں کرتے ہیں) اشارہ درس نظامی کی طرف ہے ،
8۔وحید الدین خان کی کتابیں طالب علموں کی تربیت کیلئے بہترین ہیں نصاب میں بھی شامل ہیں اور اسٹالز پر بھی رکھی جاتی ہیں ،کسی نے احساس دلایا کہ ان کے بارے میں علماء کرام کی رائے کیا ہے تو کہا کہ ‘‘حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے’’

3۔تلبیس حق و باطل :
1۔تقلید شرک ہے (لیکن کونسی بر حق ہے اور کس وقت غلط ہے یہ کبھی نہیں بتایا )
2۔ضعیف حدیث پر عمل کرنا تقریباً ایک جرم بناکر پیش کیا جاتا ہے (کہ جب بخاری صحیح ترین احادیث کا مجموعہ ہے تو ضعیف کیوں قبول کی جائے )

4۔ فقہی اختلافات کے ذریعہ دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنا:
1۔اپنا پیغام ،مقصد اور متفق علیہ باتوں سے زیادہ زور دوسرے مدارس اور علماء پر طعن و تشنیع ،
2۔ ایمان، نماز،روزہ ،زکوٰۃ ،حج ،کے بنیادی فرائض ،سنتیں ،مستحبات ،مکروہات سکھانے سے زیادہ اختلافی مسائل میں الجھایا گیا (پروپیگنڈا ہے کہ کسی تعصب کا شکار نہیں اور صحیح حدیث کو پھیلا رہے ہیں ،
3۔نماز کے اختلافی مسائل رفع یدین فاتحہ خلف الامام ،ایک وتر ،عورتوں،کو مسجد جانے کی ترغیب، عورتوں کی جماعت ان سب پر صحیح حدیث کے حوالہ سے زور دیا جاتا ہے،
4۔زکوٰۃ میں غلط مسائل بتائے جارہے ہیں ،خواتین کو تملیک کا کچھ علم نہیں ،

5۔آسان دین:
1۔دین مشکل نہیں ،مولویوں نے مشکل بنادیا ہے ،دین کا کوئی مسئلہ کسی بھی امام سے لے لیں اس بھی ہم دین کے دائرے میں ہی رہتے ہیں ،
2۔حدیث میں آتا ہے کہ آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو ،لہذا جس امام کی رائے آسان معلوم ہو وہ لے لیں ،
3۔روزانہ یٰس پڑھنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ،نوافل میں اصل صرف چاشت اور تہجد ہے، اشراق اور اوابین کی کوئی حیثیت نہیں ،
4۔دین آسان ہے ،بال کٹوانے کی کوئی ممانعت نہیں ،امہات المؤمنین میں سے ایک کے بال کٹے ہوئے تھے.
5۔دین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پکنک ،پارٹیاں ،اچھا لباس ،زیورات کا شوق ،محبت ۔من حرم زینۃ اللہ ۔۔۔۔
6۔ خواتین دین کو پھیلانے کیلئے گھر سے ضرور نکلیں ،
7۔محترمہ کا اپنا عمل طالبعلموں کیلئے حجت ہے ،محرم کے بغیر تبلیغی دوروں پرجانا،قیام اللیل کیلئے راتوں کو نکلنا ،میڈیا کے ذریعہ تبلیغ (ریڈیو ،ٹی وی ، آڈیو)،


6۔آداب و مستحبات کی رعایت نہیں
1۔خواتین ناپاکی کی حالت میں بھی قرآن پاک چھوتی ہیں ،اٰیات پڑھتی ہیں
7۔متفرقات:
1۔قرآن کا ترجمہ پڑھاکر ہر معاملہ میں خود اجتہاد کی ترغیب دینا
2 ۔قرآن و حدیث کی فہم کیلئے جو اکابر علماء کرام نے علوم سیکھنے کی شرائط رکھی ہیں ان کو بیکار ،جاہلانہ باتیں اور سازش قرار دینا ،
3۔کسی فارغ التحصیل طالبہ کے سامنے دین کا کوئی حکم یا مسئلہ رکھا جائے تو اس کا سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ،
ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ گلی گلی ،محلے محلے الہدیٰ کی برانچز کھلی ہوئی ہیں اور ہر قسم کی طالبہ ،خواہ اس کی تجوید بھی درست نہ ہوئی ہو آگے پڑھا رہی ہے ،اور لوگوں کو مسائل میں الجھایا جارہا ہے ۔
گھر کے مردوں کا تعلق مسجد سے ہے (جہاں نماز کا طریقہ فقہ حنفی کے مطابق ہے)گھر کی عورتیں مردوں سے الجھتی ہیں ہمیں مساجد کے مولویوں پر اعتماد نہیں ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نےسائلہ کے مذکورہ سوالات کا جواب مندرجہ ذیل الفاظ میں دئے ہیں ۔
الجواب حامدًا ومصلیاً
سوال میں جن نظریات کا ذکر کیا گیا ہے خواہ وہ کسی کے بھی نظریات ہوں ان میں سے اکثر غلط ہیں ،بعض واضح طور پر گمراہانہ ہیں ،مثلاً اجماع امت کو اہمیت نہ دینا،تقلید کو علی الاطلاق شرک قرار دینا ،جس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سو سال کی تاریخ میں امت مسلمہ کی اکثریت جو ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید کرتی رہی ہے وہ مشرک تھی ،یا یہ کہنا کہ قضاء عمری فوت شدہ نمازوں کو قضاء کرنے کی ضرورت نہیں ،صرف توبہ کافی ہے
۔(1،2)
بعض نظریات جمہور امت کے خلاف ہیں مثلاً تین طلاقوں کو ایک قرار دینا،بعض بدعات ہیں مثلاً صلاۃ التسبیح کی جماعت( 3 )،یا قیام اللیل کیلئے راتوں اہتمام کے ساتھ لوگوں کو نکالنا ،یا خواتین کو جماعت سے نماز پڑھنے کی ترغیب ، بعض انتہائی گمراہ کن ہیں مثلاً قرآن کریم کو صرف ترجمہ سے پڑھ کر پڑھنے والے کو اجتہاد کی دعوت ،یا اس بات پر لوگوں کو آمادہ کرنا کہ وہ جس مذہب میں آسانی پائیں اپنی خواہشات کے مطابق اسے اختیار کرلیں یا کسی کا اپنے عمل کو حجت قرار دینا
(4)۔اور ان میں سے بعض نظریات فتنہ انگیز ہیں مثلاًعلماء و فقہاء سے بد ظن کرنا ،دینی تعلیم کے جو ادارے اسلامی علوم کی وسیع و عمیق تعلیم کافریضہ انجام دے رہے ہیں ،ان کی اہمیت ذہنوں سے کم کر کے مختصر کورس کو علم دین کیلئے کافی سمجھنا ،نیز جو مسائل کسی امام مجتہد نے قرآن و حدیث سے اپنے گہرے علم کی بنیاد پر مستنبط کئے ہیں ان کو باطل قرار دیکر اسے قرآن و حدیث کے خلاف قرار دینا اور اس پر اصرار کرنا ۔
جو شخصیت یا ادارہ مذکورہ بالا نظریات رکھتا ہو اور اس کی تعلیم و تبلیغ کرتا ہو وہ نہ صرف گمراہانہ ،گمراہ کن یا فتنہ انگیز نظریات کا حامل ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے ، اور اگر کوئی شخص سہولتوں کی لالچ میں اس قسم کی کوششوں سے دین کے قریب آئیگا بھی تو مذکورہ بالا فاسد نظریات کے نتیجے میں وہ گمراہی کا شکار ہوگا۔لہٰذا جو ادارہ یا شخصیت ان نظریات کی حامل اور مبلغ ہو ،اور اپنے دروس میں اس قسم کی ذہن سازی کرتی ہو اس کے درس میں شرکت کرنا ،اور اس کی دعوت دینا ان نظریات کی تائید ہے جو کسی طرح جائز نہیں (5)،خواہ اس پاس کسی قسم کی ڈگری ہو ،اور گلاسگو یونیورسٹی کی ڈگری بذات خود اسلامی علوم کے لحاظ سے کوئی قیمت نہیں رکھتی ،بلکہ غیر مسلم ممالک کی یونیورسٹیوں میں مستشرقین نے اسلامی تحقیق کے نام پر اسلامی احکام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور دین کی تحریف کا ایک سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کیا ہوا ہے ۔ان غیر مسلم مستشرقین نے (جنہیں ایمان تک کی توفیق نہیں ہوئی)اس قسم کے اکثر ادارے در حقیقت اسلام میں تحریف کرنے والے افراد تیار کرنے کیلئے قائم کئے ہیں ، اور ان کے نصاب و نظام کو اس انداز سے مرتب کیا ہے کہ اس کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے (الا ماشاءاللہ )اکثر دجل و فریب کا شکار ہو کر عالم اسلام میں فتنے برپا کرتے ہیں ۔لہٰذا گلاسگو یونیورسٹی سے اسلامی علوم کی کوئی ڈگری نہ صرف یہ کہ کسی شخص کے مستند عالم ہونے کی کوئی دلیل نہیں بلکہ اس سے اس کی دین فہمی کے بارے میں شکوک پیدا ہونا بھی بیجا نہیں ۔دوسری طرف بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان یونیورسٹیوں سےڈگریاں حاصل کیں ۔اور عقائد فاسدہ سے محفوظ رہے ،اگرچہ ان کی تعداد کم ہو ۔لہٰذا یہ ڈگری نہ کسی کے مستند عالم ہونے کی علامت ہے اور نہ محض اس ڈگری کی وجہ سے کسی کو مطعون کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کے عقائد و اعمال درست ہوں ۔
مذکورہ بالا جواب ان نظریات پر مبنی ہے جو سائلہ نے اپنے استفتاء میں ذکر کئے ہیں اب کون شخص ان نظریات کا کس حد تک قائل ہے ؟اس کی ذمہ داری جواب دہندہ پر نہیں ہے۔(مفتی تقی عثمانی صاحب کی بات ختم ہوئی) ۔
سائلہ کے سوالات اور مفتی تقی عثمانی صاحب کے جوابات کا تجزیہ
جواب دینے سے قبل یہ بات عرض کرنی ضروری ہے کہ سائلہ نے کہیں پر اپنے دعوی کے لئے کوئی دلیل نہیں پیش کی ہے یعنی ڈاکٹر صاحبہ سے متعلق جو باتیں کی ہیں ان میں سے کسی کا حوالہ نہیں دیا ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ یہ سوالات قطعا اس خاتون کے نہیں ہوسکتے ہیں جو الہدی میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئی ہوکیونکہ سوالات کا اکثر حصہ الزامات پر مبنی ہے ۔ بھلاکوئی طالبہ اپنی استاد پہ کیسے الزام لگا سکتی ہے ۔تیسری بات یہ ہے کہ جواب دینے سےقبل مفتی صاحب نے کم ازکم الزامات کی تحقیق نہیں کی ہے،نہ ہی جواب دینے میں کتاب وسنت کو معیار بنایا ہے بلکہ مسلک حنفی کو سامنے رکھتے ہوئے اہل حدیث عالمہ پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا ہے،اس سے مقصد دنیا میں بالخصوص ملک پاکستان میں خواتین میں قرآن وحدیث کے تئیں  بیداری اور کتاب وسنت کی بالادستی سے حسد کے سوا کچھ نہیں ۔ 
مذکورہ بالا تحریر میں ڈاکٹر صاحبہ پہ لگائے گئے الزامات کی فہرست دیکھیں ۔
٭ اجماع امت سے ہٹ کر نئی راہ نکالنا(اہلحدیث کے یہاں اجماع کا انکار نہیں،ہاں فقہ حنفی کے مسائل جو کتاب وسنت سے ٹکرائے ان کا انکار اجماع امت کا انکار نہیں ہے ، بیچارے مقلدین اسے اجماع امت کا انکار اور نئی راہ نکالنا کہتے ہیں گویا اجماع کیا ہے انہیں خود ہی پتہ نہیں)
٭ غیرمسلم اور اسلام بیزار طاقتوں کے نظریات سے ہمنوائی (یہ سراسر الزام ہے اور مسلکی تعصب کا نتیجہ ہے،مسلکی عناد میں ایسا الزام لگاناکوئی بعید نہیں)
٭ تلبیس حق وباطل (یہ بھی مسلکی بغض وعناد سے بھرا الزام ہے)
٭ فقہی اختلاف کے ذریعہ دین میں شکوک پیدا کرنا(قرآن وحدیث کی دعوت دینے والے داعیان وداعیات کو ایسے الزام سے بھی متہم کیا جاتا رہاہے تاکہ عوام کو ان کے قریب جانے سے روکا جاسکے، کتاب وسنت کی روشنی میں مسائل بیان کرنے سے لازما فقہ حنفی کے ہزاروں مخالف سنت مسائل کا رد ہوتا ہے جس کانام مقلدین یہ دیتے ہیں کہ اختلافی مسائل کے ذریعہ لوگوں کو شک میں مبتلا کیا جاتا ہے حالانکہ قرآن وحدیث چھوڑ کے خود ہی لوگوں کو خودساختہ مسائل میں الجھائے ہوئےہیں )
٭ آداب ومستحباب کو نظر انداز کرنا( الحمد للہ اہل حدیث جماعت میں عقائد کے ساتھ اعمال میں واجبات ،فرائض،آداب، سنن، مستحبات ، مشروعات، مباحات  سب کا خیال کیا جاتاہے ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ احناف کے یہاں صرف فضائل اعمال پر ہی زور دیا جاتا ہے ، اور اس باب میں صحیح احادیث سے قطع نظر کثرت سے ضعیف احادیث پر عمل کیا جاتا ہے جبکہ اہل حدیث فضائل اعمال میں بھی صحیح احادیث کا اہتمام کرتے ہیں۔نیز سائلہ نے خود بھی بتلایا ہے کہ ڈاکٹرصاحبہ نفلی نمازیں صلاۃ التسبیح اور قیام اللیل وغیرہ پر زور دیتی ہیں، اس بات سے الزام کی  مزیدحقیقت سامنے آجاتی ہے )
٭ عالم ،مدارس اور عربی زبان سے دور رہیں (اگرعالم ومولوی مدارس اور عربی زبان سے دور ہوں گے تو پھر کون قریب ہوں گے ، ایسی تعلیم تو کوئی تقلید کرنے والا بھی نہیں دے گا ، قرآن وحدیث کے عاملین کے لئے سوچا بھی نہیں جاسکتا)
٭ مدارس اور علماء پر طعن وتشنیع( اپنی حنفی عوام بطور خاص اہل مدارس اور علمائے احناف کو ڈاکٹر صاحبہ سے متنفر کرنے والا الزام ہے ،اس کی دور دور تک کوئی حقیقت نہیں)
٭ زکوۃ میں غلط مسائل بتانا(اس بات کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ قرآن وحدیث کی دعوت دینے والے کبھی مسائل غلط نہیں بتاتے ، ہاں کسی عالم سے بھول ہوجانا الگ بات ہے )
٭ محترمہ کا اپنا عمل دین میں حجت ہے (یہ سارے الزامات میں سب سے بڑا ہے ، دین میں کسی کا عمل حجت نہیں سوائے رسول اللہ ﷺ کے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے : لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃیعنی تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی نمونہ ہے )
٭ فہم قرآن وحدیث کے لئے اکابرین کی شرائط بیکار، جاہلانہ اور سازش ہیں۔(یہ بھی غلط بات ہے ، دین میں فہم سلف معیار ہے ،قرآن وحدیث کو ویسے ہی سمجھنا ہے جیسے سلف صالحین نے سمجھا ہے ،قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے  اگر کوئی حنفی فقہ کو شرائط کے طور پر پیش کرے تو ظاہر ہی بات ہے یہ غلط ہے جس کی روشنی میں قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے بہت سارے علوم چاہئے ، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن وحدیث کو عام آدمی نہیں سمجھ سکتا سوائے علماء کے )
ان الزامات کے علاوہ سوالات میں بعض باتیں حق اور کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت ہیں مگر مسلک حنفی کا ماننے والا محض تقلید اور فقہی جمود کے سبب انہیں تسلیم نہیں کرتا ۔ ان کی چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
دین آسان ہے : اس میں کوئی شک نہیں کہ دین آسان ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے : ان ھذاالدین یسریعنی دین آسان ہے مگر تقلید کی دعوت دینے والے محض اس خوف سے کہ اگر عوام دین سمجھنے لگی تو تقلید کا جمود ٹوٹ ہوجائے گا ،کتاب وسنت کی بالادستی قائم ہوجائے اور فقہ حنفی کا تسلط وتغلب ختم ہوجائے گا، اس بناپر دین کو مشکل باور کراتے ہیں۔
تقلید شرک ہے :اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ فلاں عالم یا امام یا مفتی جو کہے وہ حلال یا حرام ہے بغیر کسی دلیل کے تو یہ غیراللہ کو رب بنانا ہے اسے شرک کہتے ہیں ۔ اس کی وضاحت سورہ توبہ کی آیت نمبر اکتیس میں دیکھ سکتے ہیں۔
قضائے عمری:پنچ وقتہ نمازیں اپنے وقت پر فرض ہیں،کوئی انہیں اپنے وقت سے ٹال نہیں سکتا ۔ جو نماز کو ان کے اوقات میں  فرض ہونے کا یقین رکھ کرجان بوجھ کرادا نہ کرے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ ے وہ بلاشبہ صریح کفر کرتا ہے ۔ بطور مثال  تیس برسوں سے جوجان بوجھ کر نماز چھوڑتا رہا کیا چند اوقات میں ان برسوں کی ساری نمازوں کو جمع کرکے پڑھنے سے جان بوجھ کر نماز چھوڑنے کا گناہ بغیر توبہ کے معاف ہوجائے گاجبکہ ایک دن کی پانچ نمازیں بھی بغیر عذرکے جمع کرکے نہیں پڑھ سکتے ، عذر کی بنیاد پر بھی صرف دونمازوں کو جمع کرنے کا حکم ہے۔ پھر بغیر عذرکے برسوں کی نمازیں کیسے جمع کرسکتے ؟ اب تو مولوی حضرات آسان نسخہ بتانے لگے ہیں کہ فلاں دن اتنے رکعات ادا کرلو قضائے عمری ہوجائے گی ۔ یا للعجب
تین طلاقوں کو ایک شمارکرنا: کتاب وسنت کے براہین سے واضح ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار کی جائے ،اگر فرحت ہاشمی صاحبہ قرآن وحدیث سے ثابت اس مسئلہ کو بتائے اور کوئی سائلہ کسی مفتی صاحب سے ڈاکٹر صاحبہ کی بات پہ سوال کرے تو مفتی صاحب کا حق بنتا ہے کہ اگر وہ واقعی مفتی ہیں تو کتاب اللہ اور سنت رسول سے جواب دے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے ،ورنہ  تقلیدکرنے والوں کے یہاں مفتی ہونا مضحکہ خیز ہے جہاں ایک امام بقیہ سارے عامی یعنی جاہل ہیں کسی کوعالم کہلانے یا مفتی بننے کا کوئی حق نہیں ہےکیونکہ بہرکیف تقلید ایک کی ہی کرنی ہے ۔
نمازکے مختلف فیہ مسائل صحیح احادیث سے بتانا: کیا بھلی بات کہی مگر صد افسوس ہےکہ اس پر  بھی تنقید ہی مقصود ہے ،غور کریں سائلہ کے جملہ پر" نماز کے اختلافی مسائل رفع یدین، فاتحہ خلف الامام ،ایک وتر ،عورتوں کو مسجد جانے کی ترغیب، عورتوں کی جماعت ان سب پر صحیح حدیث کے حوالہ سے زور دیا جاتا ہے" ۔ خود ہی کہتے ہیں کہ ان مسائل پہ ترغیب صحیح احادیث کی روشنی میں دیتے ہیں یعنی جس بات کی دلیل ہے اس کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں بھلا یہ بھی کوئی اعتراض کی بات ہے ، اگر اس پر اعتراض ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ دینی حیثیت سے اعتراض ہوگا بلکہ اعتراض تقلیدی نظر سے ہوگا۔
سورہ یسین کی فضیلت : ڈاکٹر صاحبہ کی بات درست ہے ، سورہ یاسین کے متعلق یہ بات جان لیں کہ اس سورہ کی فضیلت میں کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ہے ۔
 ضعیف حدیث پرعمل : محدثین نے ضعیف ا حادیث اس لئے الگ کئے ہیں تاکہ ان سے بچاجائے ۔ضعیف احادیث میں موضوع بھی داخل ہیں جنہیں گھڑ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کردی گئی ہیں ۔ محدثین نے حدیث کی صحت وضعف کی چھان پھٹک کے لئے بلند وبے مثال معیار قائم کئے ،ان کے جہد کا خلاصہ یہی ہے کہ ضعیف وموضوع روایات پر لوگوں کو مطلع کیا جائے اور ان پر عمل نہ کیا جائے ۔ فقط فضائل اعمال میں ضعیف احادیث پر عمل کیا جائے گا ،اس کے لئے بھی کئی شروط ہیں جن کی معلومات علوم حدیث سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔
رمضان میں قیام اللیل کی جماعت : رمضان المبارک میں نبی ﷺ سے جماعت کے ساتھ تراویح کی نماز پڑھنا ثابت ہے ، تراویح کو ہی تہجد اور قیام اللیل کہا جاتا ہے ۔ بعض لوگ تراویح اور تہجدمیں فرق کرتے ہیں جوکہ صحیح نہیں ہے اور حدیث کے الفاظ من قام (جوقیام اللیل کرے) کے خلاف ہے۔ اس وجہ سے رمضان میں  خواتین بھی جماعت سے قیام اللیل کرسکتی ہیں خواہ مردوں کے ساتھ قیام کرے یا الگ سے عورتوں کی جماعت بناکر۔
سائلہ کے سوالات کی میں نے حقیقت بیان کردی ، ان حقائق کی روشنی میں مفتی تقی عثمانی صاحب کے جواب کی بھی حقیقت طشت از بام ہوجاتی ہے ۔ دراصل ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ خالص کتاب وسنت کی تعلیم دے رہی ہیں اور دن ورات دعوتی وتعلیمی مشن میں زوروشور سے لگی ہوئی ہیں ،جس کے باعث آج پاکستان بھر میں گھرگھر اور گلی گلی قرآن وحدیث کا نعرہ بلند ہورہاہے ۔ خواتین کتاب وسنت کی روشنی میں مسائل کو سمجھنے کے قابل ہورہی ہیں ، مردوں میں بھی کتاب وسنت کی تعلیم عام ہورہی ہے ۔ بیرون ملک بھی آپ کی تعلیم کا گہرا اثر پڑرہاہے ۔ یہی چیز کتاب وسنت سے دوری اختیار کرنے والوں کے لئے حسد کا باعث بنی ہے جس کے باعث اپنی عوام کو الہدی سنٹرسے نفرت دلائی جاتی ہے ۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ اس ادارے میں یا اس کی نگراں فرحت صاحبہ میں کوئی غلطی نہیں ہے ، غلطیاں ہوں گی مگر دین کا کام کرنے والی بے مثال خاتون پر الزام لگانا کم ازکم ایک مسلم خاتون کا شیوہ نہیں ہوگا۔ رہے وہ مسائل  جومسلک کی بنیاد پر مختلف ہیں تو یہ باتیں اس وقت تک مختلف رہیں گی جب تک مسلمانوں کے بیچ تقلید رہے گی ۔ڈاکٹرصاحبہ کی  کچھ باتوں  سے میں بھی اتفاق نہیں رکھتا اگر واقعی انہوں نے ان کی تعلیم دی ہیں مثلا اجتماعی نمازتسبیح کا اہتمام کرنا، عورتوں کا بال کٹوانا، وحیدالدین خان کی کتابوں کی دعوت دینا، مدارس میں عربی قواعدوزبان اور فقہی مسائل کی تعلیم کو وقت کا ضیاع سمجھنا۔ ان باتوں کے لئے اصلاح کا پہلو مدنظر رکھا جائےاور غلط باتوں پہ انہیں مطلع کیا جائے ،ان شاء اللہ  حق واضح ہونے پر وہ اسے قبول کریں گی۔
نوٹ : ڈاکٹر صاحبہ کےعقائدونظریات اور  دعوت وتعلیم کے متعلق جاننے کے لئے ان کی ویڈیوز دیکھی جاسکتی ہیں جو سیکڑوں کی تعداد میں انٹرنیٹ پرموجودہیں۔اور سائلہ کے سوالات ومفتی تقی عثمانی صاحب کے جواب مندرجہ ذیل رابط پہ دیکھ سکتے ہیں ۔



مکمل تحریر >>

Saturday, August 20, 2016

بارش میں نہانے سے پاک ہونا

بارش میں نہانے سے پاک ہونا
===============
کیا بارش کے پانی میں نہانے سے یا بارش کا پانی پینے سے گناہ دھل جاتے ہیں ؟
یہ عوام میں پھیلی ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ گناہوں کا مٹنا نیکیوں کے سبب ہے اور بارش میں نہانا کوئی نیکی نہیں ہے ۔ اگر بارش میں نہانے یا اس کا پانی پینے سے آدمی کے گناہ دھل جائیں تو پھر بارش میں نہانے والا یا اس کا پانی پینے والا کوئی گنہگار نہیں رہے گا۔ البتہ ہندؤں کے یہاں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ جو گنگا نہالے اس کے پاپ دھل جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس ہندوانہ عقیدے سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی ہو۔ بہرکیف یہ بات غلط ہے ۔

واللہ اعلم

مقبول احمد سلفی 
مکمل تحریر >>

Monday, December 28, 2015

فقرسے متعلق عوام میں پھیلی 40 غلط فہمیاں


فقر سے متعلق عوام میں پھیلی 40 غلط فہمیاں
مقبول احمد سلفی

سوشل میڈیا پہ کئی مہینوں سے ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ 40 باتوں سے گھر میں غربت آتى
ہے۔ آئیے ان باتوں کی طرف چلتے ہیں۔
(1)غسل کھانے میں پیشاب کرنا:
حمام میں پیشاب کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے مگر اس وقت کے حمام مٹی کے ہوتے تھے مگر آجکل کا حمام پکا ہوتا ہے ، اس لئے اس میں پیشاب کرنا جائز ہے ۔ اور یہ نبی ﷺ کے فرمان میں نہیں ہے کہ حمام میں پیشاب کرنے سے
غربت آتی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے مگر یہ جھوٹ ہے ۔

(2)ٹوٹي ہوئی كنگھي سے كنگا کرنا:
آپ ﷺ کا حکم ہے : ''جس کے بال ہوں وہ ان کی عزت کرے۔'' (ابو دائود ، کتاب الترجل)۔
اس حدیث سے پتہ چلا کہ بالوں کی زینت کے لئے کنگھی کرنی چاہئےچاہے کنگھی ٹوٹی ہو یا سالم ، اگر کام لائق ہے تو کنگھی کریں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی اس کے کرنے سے غریبی آتی ہے ۔
(3)ٹوٹا هوا سامان استعمال کرنا: ٹوٹا ہوا سامان کام کے لائق ہو تو اس کا استعمال جائز ہے ۔
حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنھم کے لئے ایک چوڑے برتن میں کھانا لائیں۔(اتنے میں) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آگئیں۔ انہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اور ان کے پاس ایک پتھر تھا۔ انہوں نے پتھر مار کر برتن توڑدیا۔ نبی اکرمﷺ نے برتن کو دونوں ٹکڑوں کو ملا کر رکھا اور دوبار فرمایا:"کھاؤ ، تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی"۔ اس کے بعد رسو ل اللہﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا برتن لے کر حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنھا کے ہاں بھیج دیا اور حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنھا کا(ٹوٹا ہوا) برتن حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو دے دیا۔سنن النسائی:3966)
٭علامہ البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔(صحیح سنن النسائی:3693)

(4)گھر میں كوڑا کرکٹ رکھنا:
 گھر کا کوڑا کرکٹ گھر کے کسی کونے میں جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، جب زیادہ ہوجائے تو پھینک دے ۔ اس میں ایک احتیاط یہ ہونا چاہئے کہ کھانے پینے کی بچی ہوئی زائد چیزیں ضائع نہ کرے بلکہ کسی کو دیدے ۔ گھر میں کوڑا رکھنے سے غریبی آتی ہے یہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جھوٹی بات ہے ۔

(5) رشتےدارو سے بدسلوکی کرنا:
ایسا کوئی خاص فرمان نبوی نہیں ہے کہ رشتے داروں سے بدسلوکی غربت کا سبب ہے ، لیکن بہت سارے ایسے نصوص ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ معصیت اور گناہ کے کام سے زرق میں تنگی ہوتی ہے ۔

(6)بائیں پیر سے پیجاما پہننا:
ممکن اس سے مراد ہو پاجامہ پہننے میں بائیں جانب سے شروع کرنا۔ نبی ﷺ شرف والا کام دائیں سے پسند فرماتے تھے ، اس بنا پر دائیں جانب سے پاجامہ پہننا بہتر ہے مگر کسی نے بائیں سے پہن لیا تو کوئی معصیت نہیں ہےاور نہ ہی یہ فقر و فاقہ کا سبب بنے گا۔

(7)مغرب عشاء کے درمیان سونا:
مغرب اور عشاء کے درمیان سونا مکروہ ہے ، اس کا سبب عشاء کی نماز فوت ہوجاناہےاس لئے نبی ﷺ عشاء سے پہلے سونا اور عشاء کے بعد بات کرنا ناپسند فرماتے تھے۔ اگر کوئی عادتا نہیں ضرورتا کبھی سو جائے تو وہ عشاء کی نماز آدھی رات سے پہلے کبھی بھی پڑھ لے ۔

(8)مہمان آنے پر ناراض ہونا:
اسلام نے مہمان کی خاطر داری پہ ابھارا ہے ، لہذا کسی مہمان کی آمد پہ ناراضگی کا اظہار نہ کرے۔ مہمان نوازی باہر سے آنے والے مسافر کے واسطے واجب ہے اور جو مقیم ہو اس کی ضیافت احسان و سلوک کے درجے میں ہے۔ جس نے ضیافت میں احسان کو چھوڑا اس پہ گناہ نہیں مگر واجبی ضیافت کے ترک پہ معصیت آئے گی۔

(9) آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا:
اسے بے وقوفی، حماقت ، ناسمجھی اور فاش غلطی کہہ سکتے ہیں۔

(10)دانت سے روٹی کاٹ کر کھانا:
دانت سے روٹی کاٹ کر کھانے سے غریبی نہیں آتی ، اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کوئی مالدار ہی نہیں ہوتا کیونکہ دانتوں سے کاٹ کرہی لوگ بڑے ہوتے ہیں۔ روٹی تو ہاتھ سے بھی توڑی جاسکتی ہے مگر ایسی بھی بہت چیزیں ہیں جنہیں اکثر دانت سے ہی کاٹ کر کھایا جاتا ہے ۔ آج انگریزی اسٹائل آیا ہے اور دیہاتوں میں تو نہیں شہروں میں کھانے کے ساتھ چاقو رکھ دیتے ہیں جبکہ آج سے پہلے یہ اسٹائل نہیں چلتا تھا۔

(11)چالیس دن سے زیادہ زیر ناف کے بال رکھنا:
چالیس دن کے اندر زیر ناف مونڈ لینا چاہئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہی حد مقرر کی ہے جو اس سے زیادہ تاخیر کرتے ہیں وہ سنت کی مخالفت کرتے ہیں ۔

(12)دانت سے ناخن کاٹنا:
اسلام میں کہیں دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانعت وارد نہیں ہے، لیکن چونکہ اسلام حفظان صحت پہ دھیان دلاتا ہے ۔ اس لئے اگر دانٹ سے ناخن کاٹنے میں کوئی طبی نقصان کا پہلو نکلتا ہو تو اس سے پرہیز کیا جائے اور اگر اس میں نقصان نہیں تو بھی دانت سے ناخن کاٹنا صحیح نہیں لگتا کیونکہ ناخن میں گندگی ہوتی ہے اور گندی چیز کو منہ سے پکڑنا اور دانتوں سے کاٹنا صحیح نہیں ہے،خصوصا لوگوں کے سامنے ۔

(13) کھڑے کھڑے پیجاما پہننا:
پاجامہ کھڑے اور پڑے دونوں پہن سکتے ہیں ، آپ کو جو سہولت ہو وہ اختیار کریں۔ اور کسی پہ کوئی گناہ کوئی فقر نہیں شریعت کی جانب سے ۔

(14)عورتوں کا کھڑے کھڑے بال باندھنا:
یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اس میں ایک ہی بات اہم ہے کہ عورت اجنبی مرد کے سامنے بال نہ باندھے ۔ باقی وہ کھڑے ہوکر ، بیٹھ کر اور سو کر کسی بھی طرح بال باندھ سکتی ہے ۔

(15)پھٹے ہوئے کپڑے جسم پر سینا:
پھٹے ہوئے کپڑے جسم پہ ہوتے ہوئے رفو کرنا آسان ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اتارنے کی ضرورت پڑے تو بہرصورت اسے اتارنا ہی ہوگا۔

(16)صبح سورج نکلنے تک سونا:
انسان کو چاہئے کہ وہ صبح سویرے بیدار ہو، فجر کی نماز پڑھے اور پھر روزی کی تلاش میں نکلے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : مَن صَلَّى الصُّبحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ (مسلم : 657)
ترجمہ: جس نے فجر کی نماز پڑھی وہ اللہ کے امان میں آگیا۔
جو بندہ نماز چھوڑ کر روزانہ تاخیر سے اٹھے اس کی قسمت  میں بربادی ہی بربادی ہے کیونکہ اس نے اپنے رب سے امان اٹھا لیا، اس کے ساتھ کبھی بھی اور کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔

(17)درخت کے نیچے پیشاب کرنا:
کسی بھی چیز کے سایہ میں خواہ درخت کا ہو یا کسی اور کا اس کے نیچے پیشاب و پاخانے سے منع کیا گیا ہے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :
اتقوا اللاّعِنَيْن، الذي يتخلى في طريق الناس أو في ظلهم. (مسلم)
ترجمہ : لعنت کا سبب بننے والی دوباتوں سے بچو، ایک یہ کہ آدمی لوگوں کے راستے میں قضائے حاجت کرے ، دوسرے یہ کہ ان کے سائے کی جگہ میں ایسا کرے۔
طبرانی نے معجم الاوسط میں پھلدار درخت کے نیچے قضائے حاجت کی ممانعت والی روایت ذکر کی ہے ، یہ روایت ضعیف ہے ۔ پھلدار درخت سایہ والی مذکورہ بالا حدیث کے ضمن میں ہے کیونکہ عام طور سے ہردرخت کا سایہ ہوتا ہے ۔ لیکن جو درخت عام ہو اور ویسے ہی بلاضرورت آبادی سے دور سنسان جگہ پہ پڑا ہو تو اس کے نیچے قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں۔

(18)  بیت الخلا میں باتیں کرنا:
قضائے حاجت کے وقت بات کرنا منع ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لا يخرجُ الرجلانِ يضربانِ الغائطَ كاشفَينِ عن عوراتِهما يتحدَّثانِ ، فإنَّ اللهَ يمقُتُ على ذلك(صحیح الترغیب للالبانی: 155)
ترجمہ : ”دو آدمی قضاء حاجت کرتے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کہ دونوں ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ رہے ہوں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتے ہیں“۔
یہاںسوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کل گھروں میں حمام بناہوتا ہے تو کیا اس میں باتیں کرنا جائز ہے ؟
حدیث کی رو سے اس حالت میں کلام منع ہے جب دوآدمی ننگے ہوکر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بات کرے لیکن حمام میں بات کرنے کی ممانعت پہ کوئی دلیل نہیں ہے ۔ پھر بھی بہتر صورت یہی ہے کہ حمام میں قضائے حاجت کرتے وقت بات نہ کرے لیکن ضرورت پڑے یا پھر قضائے حاجت سے پہلے حمام میں داخل ہوتے وقت بات کرسکتا ہے ۔

(19) الٹا سونا:
پیٹ کے بل سونا ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے، اس کی کراہت کی وجوہات میں جہنمیوں کے سونے کی مشابہت اور جسمانی نقصان وغیرہ ہیں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :{يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ} ( سورة القمر : 48) 
ترجمہ: جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا)دوزخ کی آگ لگنے کے مزے چکھو ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"إِنَّ ھٰذِہِ ضِجْعَۃٌ یُبْغِضُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی یَعْنِی الْاَضْطِجَاعُ عَلَی الْبَطَنِ"۔(صحیح الجامع الصغیر:2271)
ترجمہ : ’’ یقینا اس طرح لیٹنے کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے یعنی پیٹ کے بل (اوندھا)لیٹنا۔‘‘
الاضطجاع علی البطن: … یعنی ایسے سونا کہ پیٹ زمین کی طرف اور پشت اوپر کی طرف ہو،
اس لئے کسی کو پیٹ کے بل نہیں سوناچاہئے مگر ایسا سونے سے غریبی آتی ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔

(20)قبرستان میں هنسنا:
قبرستان ایسی جگہ ہے جہاں جاکرآخرت یاد کرنی چاہئے اس لئے وہاں ہنسنا ناسندیدہ عمل ہے ۔ وہاں بات کرتے ہوئے یا یوں ہی ہنسی آگئی تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اس سے رزق پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

(21)پینے کا پانی رات میں کھلا رکھنا:
 کھانے پینے کا برتن رات میں کھلا رکھنے سے غربت نہیں آتی ، البتہ سوتے وقت غداء والا برتن ڈھک دیا جائے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أطفِئوا المصابيحَ إذا رقدتُم ، وغلِّقوا الأبوابَ ، وأوكوا الأسقِيةَ ، وخَمِّروا الطَّعامَ والشَّرابَ - وأحسَبُه قالَ - ولو بِعودٍ تعرُضُه عليهِ(صحيح البخاري: 5624)
ترجمہ : رات میں جب سونے لگو تو چراغ بھجادیا کرو ،دروازے بند کردیا کرو ، مشکیزے کا منھ باندھ د یاکرو ،کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو ، اگرڈھکنے کیلئے کوئی چیز نہ ملے تو (بسم اللہ کہکر )کوئی لکڑی ہی چوڑائی میں رکھ دو۔
ایک دوسری روایت اس طرح ہے :
غطُّوا الإناءَ . وأوكوا السِّقاءَ . فإنَّ في السَّنةِ ليلةً ينزلُ فيها وباءٌ . لا يمرُّ بإناءٍ ليسَ عليهِ غطاءٌ ، أو سقاءٍ ليسَ عليهِ وِكاءٌ ، إلَّا نزلَ فيهِ من ذلِكَ الوباءِ . صحيح مسلم: 2014)
ترجمہ : نبی ﷺ نے فرمایا: برتن ڈھک دو، مشکیزے کا منہ بند کرو، اس لئے کہ سال میں ایک رات ایسی آتی ہے جس میں بلا نازل ہوتی ہے ، اور جس چیز کا منہ بند نہ ہو اور جو برتن ڈھکا ہوا نہ ہو اس میں یہ وبا اتر پڑتی ہے۔
برتن کھلاچھوڑنے سے غریبی آنے والی بات شیعہ کتب سے منقول ہے ، اس کی کتاب میں لکھا ہے کہ بیس خصلتیں ایسی ہیں جن سے رزق میں کمی آتی ہے ، ان میں سے ایک پانی کے برتن کا ڈھکنا کھلا رکھنا ہے ۔ (بحار الأنواراز محمد باقر مجلسی ج 73، ص 314 ح1)

(22)رات میں سوالي کو کچھ نہ دینا:
یہ بات بھی شیعہ کتب سے آئی ہے ، اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ۔
رات ہو یا دن سائل کو اگر دینے کے لئے کچھ ہے تو دینا چاہئے کیونکہ اللہ کاتعالی کا فرمان ہے
وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ( الذاریات : 19(
ترجمہ : اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا۔
قرآن کی آیت "وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ " (حشر:9)سے پتہ چلتا ہے کہ رات کے وقت ہی آپ ﷺ کے پاس ایک سائل آیا تھا مگر آپ کے پاس کچھ نہیں تھا تو آپ نے انہیں کچھ نہیں دیا اوراس سائل کی ضیافت دوسرے صحابی کے ذمہ لگائی ۔

(23)برے خیالات کرنا:
انسان گناہوں کا پتلہ ہے ، اس سے ہمیشہ غلطی ہوتی رہتی ہے ۔ اس کے دماغ میں برے خیالات آتے رہتے ہیں ۔ ایک مسلم کا کام ہے کہ وہ ان برے خیالات سے توبہ کرتا رہے اور انہیں عملی جامہ پہنانے سے بچے ۔ اللہ تعالی اپنے بندوں پہ بہت مہربان ہے وہ بندوں کےدل میں پیدا ہونے والے برے خیالات پہ پکڑ نہیں کرتا جب تک کہ اسے عملی جامہ نہ پہنا دے ۔
إنَّ اللهَ تجاوزَ عنْ أمتي ما حدَّثتْ بهِ أنفسَها ، ما لمْ تعملْ أو تتكلمْ(صحيح البخاري:5269)
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے میری امت کے ان وسوسوں سے درگزر فرمایا ہے جو سینوں میں پیدا ہوتے ہیں ، جب تک لوگ ان پر عمل نہ کریں یا زبانی اظہار نہ کریں۔
اس لئے یہ بات کہنا غلط ہے کہ برے خیالات سے غریبی آتی ہے ، البتہ ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ برائی اور فحش کام کرنے سے غربت آسکتی ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ( سورۃ البقرۃ: 268)
ترجمہ : شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔

 (24) بغیر وضو کے قرآن مجید پڑھنا:
افضل یہی ہے کہ وضو کرکے قرآن کی تلاوت کرے لیکن بغیر وضو کے بھی مصحف سے تلاوت کرنا جائز ہے ، اس لئے یہ بات کہنا مبنی بر غلط ہے کہ بغیر وضو کے قرآن مجید پڑھنے سے فقر آتا ہے ۔


(25) استنجا کرتے وقت باتیں کرنا:
 آج کل گھروں میں بیت الخلا بنے ہوتے ہیں اور آدمی پردے میں ہوتا ہے ، اس لئے ضرورت کے تحت استنجا اورقضائے حاجت کے وقت کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
اس سلسلے میں ایک حدیث آتی ہے :
لا يَخرجِ الرَّجلانِ يَضربانِ الغائطَ ، كاشفَينِ عَن عورتِهِما يتحدَّثانِ فإنَّ اللَّهَ يمقُتُ علَى ذلِكَ( السلسلۃ الصحيحة : 7 / 321 )
ترجمہ : دو مردوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ بیت الخلاء کے لئے نکلیں ، تو اپنی اپنی شرمگاہ کھلی رکھـ کر آپس میں باتیں کرنے لگیں، کیونکہ اللہ تعالی اس عمل سے ناراض ہوتا ہے۔
اس حدیث میں قضائے حاجت کے وقت بات کرنے کی ممانعت دوباتوں کے ساتھ ہے ۔
اولا: دونوں بات کرنے والے آدمی اپنی شرمگاہ کھولے ہوئے ہوں ۔
ثانیا: وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں۔
یونہی استنجا اورقضائے حاجت کے وقت بات کرنا مکروہ ہے مگر ضرورت کے تحت بات کرسکتے ہیں۔
شیخ ابن عثیمین ؒ سے سوال کیا گیا کہ قضائے حاجت سے پہلے حمام کے اندر بات کرنے کا کیا حکم ہے ؟
توشیخ نے جواب دیا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، خصوصا جب ضرورت درپیش ہو، کیونکہ اس کی ممانعت کی کوئی صراحت نہیں ہے سوائے اس صورت کے جب دوآدمی ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کے پاخانہ کرے اور دونوں باتیں کرے ۔اور مجرد قضائے حاجت والی جگہ کے اندر سے کلام کرنے کی ممانعت نہیں ہے ۔

(26)ہاتھ دھوئے بغیر کھانا كھانا:
 کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا ضروری نہیں ہے ، روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے ہاتھ دھوئے بغیر بھی کھانا کھایا ہے ۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے والی کوئی روایت صحیح نہیں ہے سوائے ایک روایت کے جو نسائی میں ہے ۔
عن أم المؤمنين عائشة –رضي الله عنها- أن رسول الله –صلى الله عليه وسلم – كان إذا أراد أن ينام وهو جنب توضأ ، وإذا أراد أن يأكل غسل يديه۔(رواہ النسائي وصححه الألباني )
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی سونے کا ارادہ کرتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے تو وضو کرتے اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔
اس روایت میں مطلق ہاتھ دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ جنابت سے متعلق ہے ، اس لئے یہ کہا جائے گا کہ اگر ہاتھ میں گندگی لگی ہو تو کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا لینا چاہئے وگرنہ ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس سے متعلق غربت والی بات جھوٹی ہے ۔

(27)اپنی اولاد کو كوسنا:
اولاد کی تربیت والدین کے ذمہ ہے ، ماں باپ بچوں کی تربیت کے لئے ڈانٹ سکتے ہیں ، کوس سکتے ہیں ، بلکہ مار بھی سکتے ہیں کیونکہ بچوں کے سلسلے میں اہم چیز ان کی تربیت ہے ۔
تربیت کی غرض سے بچوں کو مارنے کا حکم ہمیں اسلام نے دیا ہے :
مُرُوا أولادَكم بالصلاةِ و هم أبناءُ سبعِ سِنِينَ ، واضرِبوهم عليها وهم أبناءُ عشرِ سِنِينَ ، وفَرِّقُوا بينهم في المضاجعِ( صحيح الجامع للالبانی : 5868)
ترجمہ : ’’جب تمہاری اولاد سات سال کی عمر کو پہنچ جائے توانہیں نماز کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو (نماز میں کوتاہی کرنے پر) انہیں سزا دو، اور بچوں کے سونے میں تفریق کردو۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں :باپوں اور ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو ادب سکھلائیں۔ طہارت اور نماز کی تعلیم دیں اور باشعور ہونے کے بعد(کوتاہی کی صورت میں)ان کی پٹائی کریں۔(شرح السنۃ:2/407)

(28)دروازے پر بیٹھنا:
دروازہ سے لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے، اس لئے ادب کا تقاضہ ہے کہ دروازے پہ نہ بیٹھا ، نبی ﷺ نے حکم فرمایاہے کہ راستے  کو حق دو۔
لیکر اگر اپنا گھر ہو ، لوگوں کی آمد و رفت نہیں ہو تو پھر اپنے گھر کے دروازے پہ بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ فرشتے جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پہ کھڑے رہتے  ہیں ۔
إذا كان يومُ الجمعةِ كان على كلِّ بابٍ من أبوابِ المسجدِ ملائكةٌ يكتبون الأوَّلَ فالأوَّلَ . فإذا جلس الإمامُ طوَوْا الصُّحفَ وجاؤوا يستمعون الذِّكرَ .(صحيح مسلم: 850)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں، پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں(اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتے ہیں)۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر (جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں) لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
دروازے پہ فرش بچھانے سے متعلق انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت :
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُفْرَشَ عَلَى بَابِ الْبُيُوتِ، وَقَالَ: نَكِّبُوهُ عَنِ الْبَابِ شيئًا".(إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة)
اس کی سند میں موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي ضعیف راوی ہے ، اس لئے یہ ناقابل اعتبار ہے ۔

(29)لہسن پیاز کے چھلکے جلانا:
یہ بات بھی شیعہ سے منقول ہے ، ان کی کتاب جامع الاخبار میں مذکور ہے جسے بعض صوفیوں نے اپنی کتاب میں ذکر کردیا اور عوام میں مشہور ہوگئی ۔ اس بات کو ترکستان کے حنفی عالم برھان الدین زرنوجی نے اپنی کتاب "تَعْلِیْمُ الْمُتَعَلِّمِ طَرِیْقُ التَّعَلِّمِ" میں ذکر کیامگراسلام میں اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

(30)فقیر سے روٹی یا پھر اور کوئی چیز خریدنا:
یہ بات بھی شیعہ کی کتاب جامع الاخبار میں موجود ہے ۔
فقیر تو خود ہی محتاج ہوتا ہے وہ کیوں کسی سے کچھ بیچے گا اور اگر اس کے پاس کوئی قیمتی سامان ہے تو اسے بیچ سکتا ہے ۔ فقیر سے کچھ خریدنا فقر کا سبب ہو تو کوئی فقیر مالدار نہیں ہوسکتا اور فقیر سے خریدنے والا کوئی مالدار نہیں رہ سکتا ۔ عقل ونقل دونوں اعتبار سے یہ جھوٹی بات ہے ۔

(31)پھونک سے چراغ بجھانا:
یہ بات شیعہ کتاب جامع الاخبار سے منقول ہے جو ہمارے لئے حجت نہیں ہے ۔ چراغ تو پھونک سے ہی بجھایا جاتا ہے ، کوئی دوسرے طریقے سے بجھائے اس میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن پھونک سے چراغ بجھانا باعث فقرہے مبنی برغلط ہے ۔
نورخدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

(32 )بسم اللہ پڑھے بغیر کھانا:
کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہنا واجب ہے ۔
عن أُمُّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ (صحيح سنن أبي داود:3202 ) .
ترجمہ : ام کلثوم عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے، اور اگر اللہ تعالی کا نام لینا ابتدا میں بھول جائے تو کہے: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ.
واقعی بسم اللہ کے بغیر کھانا کھانا باعث نقصان وخسران ہے ، اس کے کھانے میں شیطان شامل ہوجاتاہے اس لئے یہ کہاجاسکتاہے کہ اللہ کے ذکر کے بغیرمستقل کھانا کھانے سے وہ کھانے  کی نعمت اور اس کی برکت سے محروم ہوجائے گا لیکن اگر بھولے سے ایسا ہوجائے تو اللہ تعالی نے بھول چوک کو معاف کردیاہے ۔

(33 )غلط قسم کھانا:
اسلام میں جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے نبی ﷺ کا فرمان ہے :
الكبائرُ : الإشراكُ باللهِ ، وعقوقُ الوالديْنِ ، أو قال : اليمينُ الغَموسُ(صحيح البخاري:6870)
ترجمہ: کبیرہ گناہ یہ ہیں:اللہ کے ساتھ شرک کرنا،والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی قسم کھانا۔
ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے ، اس لئے ایک مسلمان کو قطعی طورپر جھوٹی قسم نہیں کھانا چاہئے ۔ اگر کسی نے سابقہ کسی معاملے پہ عمدا جھوٹی قسم کھائی ہے تو سچی توبہ کرے، اگر جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی کا حق مارا تو اس کو واپس کرے اور اگر آئندہ کسی کام کے نہ کرنے پہ قسم کھائی اور وہ کام کرلیا تو قسم کا کفارہ ادا کرے۔اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اسی طرح ان مسکینوں کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن یعنی غلام یا باندی کوآزاد کرنا ہے۔ جسے یہ سب کچھ میسر نہ ہو تووہ تین دن روزہ رکھے۔

(34 )جوتا چپل الٹا دیکھ کر سیدھا نہیں کرنا:
اسلامی اعتبار سےاس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔نبی ﷺ کے زمانے میں بھی جوتا تھا مگر آپ ﷺ سے ، صحابہ کرام سے یا ائمہ اربعہ سے اس قسم کی کوئی بات منقول نہیں ہے ۔
ابن عقیل حنبلی ؒ نے کتاب الفنون میں لکھا ہے :
"والويل لمن رأوه أكب رغيفا على وجهه،أو ترك نعله مقلوبة ظهرها إلى السماء"۔(الآداب الشرعية1 /268-269)
ترجمہ : بربادی ہے اس کے لئے جس نے الٹی ہوئی روٹی دیکھی یا پلٹا ہوا جوتا جس کی پیٹھ آسمان کی طرف ہو اسے چھوڑدیا۔
اس کلام میں بہت سختی ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کلام کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ۔
نبی ﷺ جوتے میں نماز پڑھتے تھے ۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا ؟
أكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه؟ قال:نعم [رواه البخاري: 386]
ترجمہ:کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔
ظاہر سی بات ہے جوتے میں نماز پڑھتے ہوئے جوتا پلٹے گا ۔
اس لئے الٹے جوتے کے متعلق مذکورہ بالا باتیں کرنا ٹھیک نہیں ہے البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ جوتے کے نچلے حصے میں گندگی لگی ہوتی ہے بنابریں الٹے جوتے کو پلٹ دیا جائے تاکہ لوگ اس سے گھن نہ محسوس کریں ۔

(35)حالات جنابت میں حجامت کرنا:
حالت جنابت میں مردوعورت کے لئے محض چند چیز ممنوع ہیں ، ان میں نماز،طواف ، مسجد میں قیام اور قرآن کی تلاوت وغیرہ ۔ بقیہ دیگرکام جنبی انجام دے سکتا ہے ۔ حالت جنابت میں حجامت کو باعث فقر بتلانا غیراسلامی نظریہ ہے ۔

(36 )مکڑی کا جالا گھر میں رکھنا:
یہ بات بھی باطل ومردود ہے ۔ اس بات کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی جاتی ہے ۔
طهّروا بيوتكم من نسيج العنكبوت ، فإنّ تركه في البيوت يورث الفقر .
ترجمہ : گھروں کو مکڑی کے جالوں سے صاف رکھا کرو کیونکہ مکڑی کے جالوں کا گھر میں ہونا افلاس کا باعث ہے۔
یہ بات تفسیر ثعلبی اور تفسیر قرطبی کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے مگر اس کی سند میں عبداللہ بن میمون القداح متروک متہم بالکذب راوی ہے ۔ " تهذيب التهذيب " (6 /44-45) .

(37 )رات کو جھاڑو لگانا:
رات ہو یا دن کسی بھی وقت جھاڑو لگاسکتے ہیں ، اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے ، نہ ہی اس کام سے معصیت ہوتی ہے ۔ اس لئے رات کو جھاڑودینا تنگدستی کا سبب بتلانا توہم پرستی اور ضعف اعتقادی ہے ۔ مسلمانوں میں بریلوی طبقہ اس توہم کا شکار ہے ۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت دے ۔

(38 )اندھیرے میں کھانا:
ویسے اجالے میں کھائے تو اچھی ہے مگر کسی کو اجالامیسرنہ ہوسکے تو اندھیرے میں کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سورہ حشر میں ایک انصاری صحابی کا ذکر ہے جنہوں نے مہمان رسول ﷺکو اندھیرے میں مہمانی کرائی باوجودیکہ چراغ موجود تھا مگر انہوں نے بیوی کو چراغ بجھانے کہا تاکہ اندھیرے میں مہمان شکم سیر ہوکر کھائے اور میزبان بھوکا رہے ۔ اس منظر کو اللہ دیکھ رہا ہے اس نے آیت نازل کی :
ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة(الحشر:9)
ترجمہ : وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں گوخود کوکتنی ہی سخت حاجت ہو۔

(39 ) گھڑے میں منہ لگا کر پینا:
پانی کا کوئی بھی برتن ہو اگر منہ لگاکرپینا آسان ہو، اس کا حجم بڑا نہ ہویااس کا دہانہ کشادہ نہ ہوجس سے منہ میں مقدار سے زیادہ پانی جانے کا خطرہ ہوتو برتن سے منہ لگاکر پیاجاسکتا ہے ۔ متفق علیہ ایک روایت میں مشک سے منہ لگاکر پانی پینے کی ممانعت ہے ۔
وعن ابن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من قي السقاء(صحيح البخاری :5629 )
ترجمہ:اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے دھانے سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔
اس حدیث کے علاوہ ایک دوسری حدیث ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے مشک میں منہ لگاکر پانی پیا ہے۔
دخلَ عليَّ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فشرِبَ من في قربةٍ معلَّقةٍ قائمًافقمتُ إلى فيها فقطعتُهُ (صحيح الترمذي:1892)
ترجمہ: (ایک دن ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے لٹکی ہوئی مشک کے منہ سے پانی پیا، چنانچہ میں مشک کے منہ کے پاس جا کر کھڑی ہوئی اور اس کو کاٹ لیا ۔
خلاصہ کے طورپہ یہ کہنا چاہوں گا کہ برتن چھوٹا ہو تو اس میں منہ لگاکر پانی پئیں ، بڑا ہو تو دوسرے چھوٹے برتن میں انڈیل کر پئیں اور اگر بڑے برتن سے پینے کی حاجت پڑجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

(40 )قرآن مجید نہ پڑھنا:

قرآن پڑھنے اور عمل کرنےکی کتاب ہے جو اس سے دوری اختیار کرتاہے وہ واقعی اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتاہے ۔ نبی ﷺ نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ہے اس سے ایمان میں زیادتی، علم وعمل میں پختگی اور زندگی کی تمام شئ میں برکت آتی ہے ۔ اس لئے قرآن پڑھنے کا معمول بنائیں اور سمجھ کر پڑھیں ۔جو بلاسمجھے پڑھتے ہیں وہ نزول قرآن کے مقصد سے بے خبراور تلاوت کے آداب سے ناواقف ہیں۔ 
مکمل تحریر >>