Monday, October 16, 2017

ہندوستانی مسلمان اور غیرمسلم تہوار دیوالی کی مٹھائی

ہندوستانی مسلمان اور غیرمسلم تہوار دیوالی کی مٹھائی

تحریر:مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر ، شمالی طائف (مسرہ)

دنیا میں اسلام کے علاوہ بہت سے مذاہب ہیں اور اسلام سمیت تمام مذاہب میں مذہبی تہوار منایا جاتا ہے ، شاید ہی ایسی کوئی قوم یا ایسا کوئی مذہب ہے جس میں تہوار نہ منایا جاتا ہو۔ اپنے اپنے رنگ ڈھنگ میں سبھی قوم تہوار مناتی ہے ۔ ہندوستان میں دیوالی کے موقع پر مٹھائی کھانے کھلانے کی رسم بہت مشہور ہے ۔ ویسے ہندوستان کثیر الادیان، کثیراللسان اور کثیر الاقوام ہے ۔ یہاں مختلف قسم کی بولیاں بولنے والے ، مختلف قسم کی تہذیب ماننے والے اور مختلف قسم کے ادیان وملل پر چلنے والےلوگ پائے جاتے ہیں ۔ صرف مسلمانوں میں یہاں کئی فرقے ہیں اوران میں  مسلکی اختلاف اس قدر شدید ہے کہ اتنی شدت شاید پوری  دنیاکے مسلمانوں میں کہیں نہیں پائی جاتی ۔ مسلمانوں کے باہمی تنازعات کا یہ حال ہے تو پھر مختلف ادیان کے درمیان کیسامعاملہ ہوگا سمجھ سکتے ہیں ۔صرف ہندو قوم کی شدت منافرت اور اسلام کے تئیں بعض وعناد کی مثال دینا چاہتاہوں کہ یہاں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر میں بے شمار علماء ، خطباء اور واعظین ہیں  ۔ اپنے اپنے مسلک ومذہب کی ترویج واشاعت میں رات دن کوشاں ہیں ، بڑے بڑے اجتماعات، کانفرنسیں، سیمنار، تبلیغی دورے اورگشت وچلہ کشی  ہوتی رہتی ہیں مگر کسی میں کیامجال کہ ہندؤں میں بھی تبلیغ کرسکے؟ الا ماشاء اللہ
اہل حدیث جماعت میں ایک شیر دل  مرد آہن  ڈاکٹر ذاکر نائک پیدا ہوا جنہوں نے پورے ہندوستان کی ہندو قوم کو اپنے پررونق اسٹیج سے للکارا ، ہزاروں کو حلقہ بگوش اسلام بھی کیا مگر ہند کی اکثریتی قوم ہندو اپنی کافرانہ طاقت کے بل بوتے ان کے سامنے بند باندھنےاور انہیں دعوت اسلام سے روکنے میں کامیاب ہوگئے، ان کے عالمی دعوتی ادارے پر پابندی عائد کردی گئی ۔ مجھے حیرت دعوت حق کی روک اور ڈاکٹر صاحب کی بندش پہ کم اور مسلکی بغض وعناد میں ڈوبے عیار ومکار علماء سوء پر زیادہ ہے جن میں سے بہت سے کھلے اور بہت سے درپرہ اپنے ہی دین اسلام کی اشاعت روکنے میں شازشیں رچتے رہے  اوربالآخر دیار ہند میں غیرمسلموں میں تیزی پھیل رہی دعوت اسلام پہ بندش لگوانے میں کامیاب ہوگئے ۔کل قیامت میں اللہ تعالی کو ایسے علماء کیا جواب دیں گے ؟
ہندوستان میں اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں ، گائے حلال ہے مگر ذبح نہیں کرسکتے ، قربانی نہیں دے سکتے ، حالات کا تقاضہ ہے کہ جس طرح اللہ نے تبلیغ میں حکمت وبصیرت کو مدنظر رکھنے کا حکم دیا ہے یہاں رہنے سہنے میں بھی مومنانہ فراست ، حکیمانہ طور طریق اور بصیرت اندوز بودوباش اختیار کی جائے ۔ ہندوستانی علماء کے سامنے مسلم عوام دیوالی کے موقع سے عام طور پر سوال کرتے ہیں کہ کفار کی دیوالی پہ ہم ان کی پیش کی ہوئی مٹھائی کھاسکتے ہیں کہ نہیں؟ ۔ اس  سوال کے جواب میں بعض علماء ان کی مٹھائی کھانے سے سخت انداز میں منع کرتے ہیں اور بعض کے یہاں حکمت وبصیرت کے مدنظر کھانے کا حکم ملتا ہے ۔ ذیل میں اسی مسئلہ کی مختصر وضاحت مقصود ہے۔
غیرمسلم سے اس کے تہوار پہ ہدیہ قبول کرنے سے متعلق علماء کے دو نظرئے سامنے آتے ہیں ۔
(1) ایک نظریہ تو یہ ہے کہ اس کی طرف سے ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس موقع سے ہدیہ قبول کرنا اس کے تہوار میں تعاون ہوگا۔
(2) دوسرےنظریہ کے حساب سے کفار کی طرف سے ان کی عید کی مناسبت سے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے ۔
پہلے نظریہ کے حاملین عمومی دلائل پیش کرتے ہیں جن میں کفر و شرک پر تعاون پیش کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔
یہ اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ کفاراپنے تہوار پہ اکثر غیراللہ کی عبادت بجالاتے ہیں ، ہم مسلمانوں کو ان کے کسی ایسے تہوار پر تعاون نہیں پیش کرنا چاہئے جس میں غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بطور پڑوسی اور میل جول کی وجہ سے اگر کوئی ایساہدیہ پیش کرے جوغیراللہ پہ نہ چڑھایاگیا ہواور نہ ہی وہ ہدیہ شرعا حرام ہو تو اس کے قبول کرنے میں میری نظر سے کوئی قباحت نہیں ہے ۔ یہ احسان وسلوک کے درجہ میں ہوگا۔ اور اس کا حکم عام ہدیہ کی طرح ہوگا جس کی قبولیت کا ثبوت ملتا ہے البتہ جومٹھائیاں مسلمانوں کی تضحیک ورسوائی ، ان کو نیچا دکھانے ، یا کسی طرح اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے تقسیم کرے تو اسے قبول نہیں جائے ، اس میں سراسراسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے مثلا
٭ راستے میں تہوار کی نسبت سے تقسیم ہونے والی مٹھائی قبول نہ کی جائے ۔
٭ محفل قائم کرکے مسلمانوں کے نام پر یا عام محفل میں تقسیم ہونے والی مٹھائی اور ہدئے قبول نہ کئے جائیں ۔
٭بلاپہچان گھر آنے والی مٹھائی بھی تسلیم نہ کی جائے ۔
٭ اسلام اور مسلمانوں کو برابھلاکہنے والے کافر سے بھی مٹھائی قبول نہ جائے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا رشتہ رکھاجائے ۔
٭ ہندؤں کے ساتھ بیٹھ کر ایک جگہ مسلمانوں کو مٹھائی نہیں کھانی چاہئے ۔
٭جو اہانت وحقارت سے مٹھائی پیش کرے اس کی مٹھائی بھی قبول نہ کی جائے ۔
ان باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ جانیں کہ اسلام امن و سلامتی اور الفت ومحبت کا درس دیتا ہے اپنے اسی خوبی سے دنیا میں پھیلا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام غیرمسلموں کے ساتھ نرمی برتنے ، احسان وسلوک کرنے اور خاص طور سے اسلام کی طرف مائل لوگوں کی تالیف قلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔ زکوۃ کا ایک مصرف ایسے ہی قسم کے لوگ ہیں ۔اللہ تعالی غیرمسلموں سے احسان کا حکم دیتے ہوئے فرماتاہے :
لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ(الممتحنہ: 8)
ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں کیساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کی وجہ سے تم سے لڑائی نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے بے دخل نہیں کیا، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
تمام کافروں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جائے گا۔ وہ کافر جو بے ضررہوں، یا اسلام کی طرف مائل ہوں ، یا مسلمانوں کی مدد کرنے والے ہوں ایسے لوگ ہمارے احسان کے مستحق ہیں ۔
بعض کافروں نے عہد رسالت میں بھی اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ دیا ، تاریخ اٹھاکر دیکھیں ، شعب ابی طالب کا تین سال کا ظالمانہ محاصرہ بعض کافروں کی مدد سے ختم ہوا۔
اسی طرح اسیران بدر سے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لو كان المُطْعَمُ بنُ عَدَيٍّ حيًّا ، ثم كلَّمَني في هؤلاء النُّتْنَى لترَكْتُهم له.(صحيح البخاري:4024)
ترجمہ: اگر مطعم بن عدی آج زندہ ہوتا اور مجھ سے ان گندے قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کرتا تو میں انہیں اس کی خاطر رہا کردیتا ۔
مطعم بن عدی مشرک تھا لیکن اس نے رسول اللہ ﷺکی اس وقت مددکی تھی جب آپ طائف سے زخمی حالت میں واپس تشریف لائے ۔اس نے آپ ﷺکواپنی پناہ میں لیکر مکہ میں داخل کیا ۔آپ ﷺنے اس کے احسان کا بدلہ اتارنے کےلئے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے ۔
آج بھی ایسےکفارہرجگہ  موجود ہیں جو مسلمانوں کے لئے نفع بخش ہیں ، ہندوستان میں اکثر مسلمان ظلم کے شکار ہیں اور دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں، ان میں سے بعض مسلمانوں کوکافروں کی امداد مل جاتی ہے جبکہ مسلمان وکلاء، مسلمان وزراءاور مسلمان امراء ورؤساء ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہتے ہیں ۔
اس قسم کے اچھے لوگ کافر ہونے کے باوجود مسلمان کا درد محسوس کرتے ہیں اورانہیں ظلم سے نجات کے لئے ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس بات کو وہ مسلمان جس کو کسی کافر نے مدد کی ہو اچھی طرح محسوس کرسکتے ہیں۔
ہندوستان والوں کو یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں ہندؤں کی اکثریت کی بناپر مسلمانوں کے ہزاروں قسم کےدنیاوی  معاملات ہندؤں سے وابستہ ہیں، بلکہ کثیر تعداد میں مسلمانوں کے دوست واحباب ہندو ہیں ۔ کافروں سے قلبی دوستی اسلام میں جائز نہیں ہے لیکن دینی غرض سے کافروں سے تعلق رکھنا جائز ہے۔ ان سے ملنے جلنےاورمعاملات کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ایسے ماحول میں کافروں سے سارے معاملات کرنا اور خوشی کے موقع پر اپنے ملاقاتی جو اسلام اور مسلمانوں کی قدر کرتاہو بلکہ مسلمانوں کا تعاون کرنے والا ہو تحفہ قبول نہ کرنا اس کے دل میں اسلام کے تئیں تنافر پیدا کرسکتا ہےاور یہ اسلام کے حسن سلوک اور تالیف قلب کے خلاف ہے ۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں غیرمسلموں کو دین کی دعوت دینا کتنا دشوارہے ، عید کا موقع ایک سنہرا موقع ہے جب ہم مائل بہ دین اسلام اور معاون ہندؤں سے حسن سلوک کے ساتھ کچھ کہہ سنا سکتے ہیں ۔ ساتھ ہی اوپر مذکور میرے چند موانع کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ میں سرے سے کفار کے تہوار پہ مٹھائی اور ہدیہ تسلیم کرنے کا قائل نہیں ہوں تاہم سرے سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔جیسے ہم مسلمان اپنی عیدوبقر عید پہ کافروں کو تحائف دے سکتے ہیں بلکہ قربانی کا گوشت دے سکتے ہیں اسی طرح کافر پڑوسی، میل جول والا، معاملات والا، احسان وسلوک والا، اسلام کی طرف رغبت رکھنے والا، مسلمانوں کا تعاون کرنے والا ، اچھے اخلاق والا جسے اسلام کی دعوت دی جاسکے وغیرہ سے ان کے تہوار دوالی پہ مٹھائی یا وہ تحفہ اور کھانا قبول کرسکتے ہیں جو اسلام میں اصلا حلال ہو۔
ساتھ ہی یہ بات بھی واضح رہے کہ کفار کے تہوار پہ مبارک باد دینا جائز نہیں ہے ، ان کے تہوار پہ خود تحفہ دنیا چائز نہیں ہے ، ان کے تہوار میں کسی کفر وشرک والے کام پر تعاون کرنا چائز نہیں ہے اوران کے تہوار میں استعمال ہونے والی مخصوص مذہبی اشیاء کی تجارت جائز نہیں ہے ۔
بعض علماء نے بھی تہوار پہ غیرمسلم سے ہدیہ قبول کرنے کی بات کی ہےجن شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی ہیں۔ ان کے علاوہ امام احمد بن حنبل اور سعودی عرب کے مشہورعالم شیخ محمد بن صالح المنجد کی یہی رائے ہے ۔

مکمل تحریر >>

Thursday, January 5, 2017

حج و عمرہ سے واپسی پہ غیرمسلم کو زمزم وکھجور دینا

حج و عمرہ سے واپسی پہ غیرمسلم کو زمزم وکھجور دینا

مقبول احمد سلفی
داعی /اسلامک دعوۃ سنٹر-طائف

اللہ کی طرف سے حجاج ومعتمرین کے لئے مکہ مکرمہ  کا سب سے انمول تحفہ یہاں کا زمزم اور کھجور ہے ۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے زائرین مکہ یہاں سے اپنے وطن کے لئے کم از کم دو چیزیں ضرور لے جاتے ہیں ، ان دونوں چیزوں کے لے جانے کا اصل  مقصد لوگوں کو مقدس سرزمین کا مبارک تحفہ پیش کرنا ہے جو(زمزم) بلد الحرام  کے علاوہ دنیا کے کسی حصے میں دستیاب نہیں ہے ۔
احادیث صحیحہ سے پتہ چلتا ہےکہ ماء زمزم بابرکت اورشرف والا ہے جیساکہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے بارہ میں فرمایا :
إنها مباركة إنها طعام طعم۔
ترجمہ : بلاشبہ یہ بابرکت اورکھانے والے کےلیے کھانا بھی ہے۔ (صحیح مسلم : 2473 )
اسی طرح حدیث میں زمزم کو"شفاء سقم"(یہ بیمار کے لیے شفا ہے) کہا گیا ہے۔ (صحیح الجامع للالبانی : 3572 )
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے بیحد عقیدت ہے اور شفا ہونے کے سبب مختلف بیماریوں میں بھی اسے استعمال کرتے ہیں ۔
آج سائنس نے تحقیق کرکے ہمیں یہ بتلایا ہے کہ زمزم میں موجود کیمیائی اجزاء کے بے شمار طبی فوائد ہیں اور بہت ساری بیماریوں کے سد باب کا ذریعہ ہیں۔ ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں ۔
زمزم اعضاء کی حرارت وحدت کو ختم کرتا ہے، قے، متلی، قبض،پیٹ، جوڑ،اور آنت کے درد، ذیابطس، پیچس، پتھری، ہیضہ، زہر، کمزوری، بدہضمی،تھکن، دمہ، زکام، جراثیم اور بواسیر کو دور کرتا ہے۔ یہ ریاحی امراض ، جلدی امراض ، پیٹ کے امراض اور مختلف قسم کے زیریلے امراض میں بیحد مفید ہے ۔ اسی طرح چستی، قوت حافظہ اور قوت بدن میں اضافہ کا سبب ہے ۔ ان کے علاوہ نہ جانے کتنے طبی فوائد ہیں جنہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔
جو لوگ حج یا عمرہ سے واپس جاتے ہیں، ان کے پاس پڑوس میں رہنے والے غیرمسلم جب حاجی صاحبان کے گھر مکہ مکرمہ سے واپسی پرزمزم پینے کے لئے جوق در جوق لوگوں کو جاتا دیکھتے ہیں تو اس کے دل میں بھی زمزم پینے کی خواہش ہوتی ہے۔زمزم سے مسلمانوں کی عقیدت دیکھ کر بعض غیرمسلم مانگنے بھی آجاتے ہیں۔ ایسے عالم میں ہمیں چاہئے کہ انہیں یہ عظیم تحفہ پیش کریں ، ساتھ ہی یہاں ایک اور کام کریں ۔ آپ کے پاس ابراہیم واسماعیل وہاجرہ علیہم السلام  کی سیرت ، زمزم کا واقعہ اورمناسک حج وعمرہ کے بعض توحیدی پہلو بیان کرنے کا سنہری موقع ہے،آپ ان سے بیان کریں ، زمزم کے کچھ روحانی فوائد بھی بیان کریں ، ہوسکتا ہے آپ کی کسی بات سے متاثر ہوجائے یا زمزم سے کوئی خاص فائدہ حاصل ہو اور یہ اس کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے ۔ حالات وظروف کے حساب سے متعدد بار بھی ملاقات کی جاسکتی ہے اور مختلف پہلو ؤں پر مزید بات چیت کی جاسکتی ہے ۔ زمزم سے متاثر ہوکر اسلام  قبول کرنے والوں کے بعض واقعات ملتے ہیں ۔ایک عجیب واقعہ میرے ساتھ   اس طرح پیش آیا۔

یہ واقعہ ہے سعودی عرب کے بریدہ کی جومنطقہ قصیم کا ایک معروف شہرہے ۔ یہاں پر نیپالیوں کی تعداد دیگرمنطقہ کے مقابلے کچھ کم نہیں ۔ بہت ساری کمپنیوں میں سیکڑوں کی تعدادمیں ہیں۔ ان میں بیشتر تعدادغیرمسلموں کی ہے ۔ ان نیپالی غیرمسلموں کو اسلام کی طرف بلانے کے لئے کئی دعوتی ادارے سرگرم عمل ہیں۔ ان میں سرے فہرست دفتر تعاونی برائے دعوت وارشاد وسط بریدہ کا نام آتاہے ۔ میں نے اسی دعوتی سنٹر سے غیرمسلموں کے درمیان دعوتی مشن شروع کیا۔
قصہ مختصریہ کہ ایک نیپالی ٹھیک ہمارے مرکزاوررہائش کے تعلیمی شعبے کے پاس رہا کرتا تھا ، وہ شکل سے مسلمان ظاہرہوتاتھا اس لئے بہت سارے مسلمان اسے مسلم سمجھ کر سلام کیاکرتےتھے، مزے کی بات یہ کہ وہ ہلکی سی داڑھی بھی رکھتاتھا۔اچانک میری ملاقات ان سے ہوئی ، مجھے بھی مسلم ہونے کا گماں ہوالیکن میرے دوسرے ساتھی نے بتایاکہ آپ اسے سمجھائیں یہ غیرمسلم ہے ۔ میں نے اس سے بات چیت کی اور اسلام کی حقیقت سے اسے روشناس کیااورجاتے وقت اسےچند نیپالی کتابیں دی ۔کئے روز گزرے اور کئی بار اس سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔
ایک دن صبح اچانک وہ بھاگے بھاگے اسلامی سنٹرپہنچااوراس نے ارادہ ظاہرکیاکہ میں مسلمان ہونا چاہتاہوں، میں نے اس سے سبب پوچھاتو اس نے تفصیل سے اپنی کہانی سنائی ۔
آج کی رات میں نے خواب دیکھاکہ میں ایک بہت عالیشان مسجد کے پاس ہوں ،مجھے پیاس لگی ہے ۔ میرے سامنے پانی تھالیکن وہ گدلاتھا،اس پانی کے آگے صاف وشفاف پانی کا ایک چشمہ نظر آرہاتھا۔میں نے صاف پانی پینے کے لئے آگےبڑھاتو یہ گدلاپانی میرے راستہ کی رکاوٹ بننے لگا ، جتنی بارکوشش کی ناکام رہا۔ گدلے پانی کی وجہ سے صاف پانی تک رسائی ممکن نہ ہوسکی ۔ اتنے میں میری نیند کھل گئی اورمیرے دل میں عالیشان مسجد کی تصویرتھی جس سے یہ احساس دل میں پیداہونے لگا کہ میں نمازپڑھنے والوں میں سے نہیں اورمیں مسلمان نہیں جسکی وجہ سے میں صاف پانی نہیں پی سکا۔ اس لئے میں مسلمان ہوجاتاہوں تاکہ صاف پانی پی کراپنی پیاس بجھاسکوں۔
اس لئے میں نے اسلام لانے کا پکا ارادہ کرلیاہے ۔اوراس نے کلمہ پڑھ لیا۔
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، الحمد للہ علی ہذہ النعمۃ ۔
کچھ دنوں بعد میں نے اسے عمرے کی ادائیگی کے لئے بیت اللہ کا ہمسفر بنایا، جب پہلی نظراس کی بیت اللہ شریف پرپڑتی ہے تو چیخ اٹھتاہے کہ یہی تو وہ مسجد ہے جسے میں نے خواب میں دیکھاتھا اورمیری ہدایت کا ذریعہ بنا۔ سبحان اللہ العظیم۔
اورمیں نے زمزم پلاکراس کی پیاس ہمیشہ کے لئے بجھا دی ۔ اورپھراسی سال اپنے ہمراہ حج جیسی عظیم عبادت کروائی ، اوروہ الحمد للہ اب اسلام پر مضبوطی سے عمل پیراہے ، اوربرجستہ کہتاہے کہ اگرمجھے کاٹ بھی ڈالے تواسلام سے نہیں پلٹوں گا۔
اللہ تعالی سے دعاہے کہ ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطافرمااور غیرمسلموں کے درمیان بھی دعوت وتبلیغ کرنے کا شوق وجذبہ اورحوصلہ دے ۔ اوراسلام کو ہرجگہ سربلندی عطافرما۔ آمین



مکمل تحریر >>

Monday, November 7, 2016

کیا مسلمانوں کو نمستے /نمسکار کرنا چاہئے ؟

کیا مسلمانوں کو نمستے /نمسکار کرنا چاہئے ؟
==================
مقبول احمدسلفی
دفتر تعاونی برائے دعوت وارشاد-طائف

پہلے نمستے اور نمسکار کا معنی سمجھ لیں تاکہ اس کی حقیقت جان سکیں ۔
یہ دونوں سنسکرت الفاظ ہیں جو ہندو مذہب میں سلام کے طور پر بولے جاتے ہیں مگر ان الفاظ میں شرکیہ عقائد و اعمال پائے جاتے ہیں۔
نمستے : یہ دوالفاظ سے بناہواہے ۔ ایک ہے نَمَہ جس کا مطلب ہوتا ہے جھک گیا اور دوسرا ہے تے جس کا معنی آپ کے ہے، اس کا پورا مطلب ہوا میں آپ کے لئے جھک گیا۔
نمسکار بھی نمستے کے ہم معنی ہے ، اس کا معنی بھارت کوش ہندی لغت میں لکھا ہے احترام سے جھک کر کیا گیا آداب گویا دونوں ہم معنی ہیں۔
نمستے یا نمسکار میں جسمانی اعضاء کا بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے کل چھ طریقے ہیں ۔
(1) صرف سر کو جھکانا
(2) صرف ہاتھ جوڑنا
(3) سر جھکانا اور ہاتھ جوڑنا
(4) ہاتھ جوڑنا اور دونوں گھٹنے جھکانا
(5) ہاتھ جوڑنا، دونوں گھٹنے اور سر کو جھکانا
(6) ڈندوت پَرنام کرنا، اس میں آٹھ اعضاء (دوہاتھ، دوگھٹنے،دوپیر، سر اور سینہ) زمین سے لگتے ہیں ، اسے "ساس ٹانگ پرنام" بھی کہاجاتا ہے۔ساس ٹانگ کے متعلق ایک صفت اور ملتی ہے کہ اس ہیئت میں نظر ناک پر ہو ، اس صفت کو ملانے سے سجدہ کی کیفیت بنتی ہے مگر مسلمانوں کی مشابہت کی وجہ سے ہندو اس پر صحیح سے عمل نہیں کرتے ۔ 
نمسکار میں پائے جانے والے شرکیہ عقائد واعمال :
(1)ہندؤں کا عقیدہ ہے کہ آتما ہی پرماتما ہے یعنی انسان کے اندر موجود روح میں خدائی طاقت ہے اس باطل عقیدے کے لحاظ سے ہندؤں کا کہنا ہےکہ جب کوئی کسی کو نمستے کرتا ہے تو ایک روح دوسری روح کو سلام بجالاتی ہے ۔
(2) نمسکار کے جتنے طریقے اوپر مذکور ہیں وہ سارے عبارت کی کیفیت وہیئت ہیں ، سر جھکانا، ہاتھ جوڑنا، گھٹنے جھکانااور ڈنڈوت کرنا انتہائی تعظیم کی کیفیت ہے ، یہ اعمال کسی انسان کے لئے بجالاناشرک ہے ۔
(3) ہندؤں کا عقیدہ ہے کہ نمسکار کرتے وقت آسمان سے روح کی دیوی اترتی ہے ۔جس قدر نمسکار کی ہیئت اونچی ہوگی اس قدر چیتنی دیوی(روح کی دیوی) اترتی ہے ۔ اگر نمسکار میں ہاتھ کا استعمال کیا گیا تو زمین کی خدائی طاقت بھی آتی ہے ۔
(4) ہندؤں کاماننا ہے کہ نمسکار کرنے سے انسان کے اندر خدائی اثرات پیدا ہوتے ہیں ، یہ اثرات انسان کے چاروں طرف بھی ہوتے ہیں۔
(5) نمسکار کرتے وقت آنکھیں بند کرنے سے ایشور نظر آتا ہے اور انسان کے اندرکی آتما(ایشور) پر نظر کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔
(6) اگر معمولی نمسکار کیا جائے اور ہاتھ میں کوئی چیز ہو تو نقصان ہوسکتا ہے ۔ 
ایک اشکال کا جواب:
یہاں ایک مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم ان عقائد اور ان حرکات سے الگ ہوکر صرف زبان سے نمسکار کریں تو اس میں کوئی حرج ہے ؟

ہاں اس میں بھی اشکال ہے کیونکہ نمستے لفظ کے اندر ہی عبادت کا معنی پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیساکہ کوئی ہم سے کہے  "وندے ماترم"(اے ماں! ہم تیرے پجاری ہیں) کہو۔ اس وقت آپ کیا کہیں گے ؟ ہمارا جواب ہوگا کہ ہم نہیں اسے نہیں کہیں گے کیونکہ یہ شرکیہ کلام ہے۔ نمسکار پہ بھی ہمارا یہی جواب ہونا چاہئے کہ یہ شرکیہ لفظ ہے اسے استعمال نہیں کریں چاہے نمسکارکا عقیدہ و طریقہ ہندو جیسانہ ہو۔
مکمل تحریر >>

Sunday, October 30, 2016

غیرمسلم تہوار کی مٹھائی : تجزیاتی تحریر

غیرمسلم تہوار کی مٹھائی :  تجزیاتی تحریر
==================
مقبول احمد سلفی

غیرمسلم سے اس کے تہوار پہ ہدیہ قبول کرنے سے متعلق علماء کے دو نظرئے سامنے آتے ہیں ۔
(1) ایک نظریہ تو یہ ہے کہ اس کی طرف سے ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس موقع سے ہدیہ قبول کرنا اس کے تہوار میں تعاون ہوگا۔
(2) دوسرےنظریہ کے حساب سے کفار کی طرف سے ان کی عید کی مناسبت سے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے ۔

پہلے نظریہ کے حاملین عمومی دلائل پیش کرتے ہیں جن میں کفر و شرک پر تعاون پیش کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔
یہ اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہے کہ کفاراپنے تہوار پہ اکثر غیراللہ کی عبادت بجالاتے ہیں ، ہم مسلمانوں کو ان کے کسی ایسے تہوار پر تعاون نہیں پیش کرنا چاہئے جس میں غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بطور پڑوسی اور میل جول کی وجہ سے اگر کوئی  ایساہدیہ پیش کرے جوغیراللہ پہ نہ چڑھایاگیا ہواور نہ ہی وہ ہدیہ شرعا حرام ہو تو اس کے قبول کرنے میں میری نظر سے کوئی قباحت نہیں ہے ۔ یہ احسان وسلوک کے درجہ میں ہوگا۔ اور اس کا حکم عام ہدیہ کی طرح ہوگا جس کی قبولیت کا ثبوت ملتا ہے البتہ جومٹھائیاں مسلمانوں کی تضحیک ورسوائی ، ان کو نیچا دکھانے ، یا کسی طرح اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے تقسیم کرے تو اسے قبول نہیں جائے ، اس میں  سراسراسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے مثلا
٭ راستے میں تہوار کی نسبت سے تقسیم ہونے والی مٹھائی قبول نہ کی جائے ۔
٭ محفل قائم کرکے مسلمانوں کے نام پر یا عام محفل میں تقسیم ہونے والی مٹھائی اور ہدئے قبول نہ کئے جائیں ۔
٭بلاپہچان گھر آنے والی مٹھائی بھی تسلیم نہ کی جائے ۔
٭ اسلام اور مسلمانوں کو برابھلاکہنے والے کافر سے بھی مٹھائی قبول نہ جائے اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا رشتہ رکھاجائے ۔
٭ ہندؤں کے ساتھ بیٹھ کر ایک جگہ مسلمانوں کو مٹھائی نہیں کھانی چاہئے ۔
٭جو اہانت وحقارت سے مٹھائی پیش کرے اس کی مٹھائی بھی قبول نہ کی جائے ۔
غیرمسلم تہوار پہ ہدیہ قبول کرنے سے متعلق بعض آثار ملتے ہیں جنہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں ذکر کیا ہے ۔
ان میں سے ایک یہ ہے ۔
حدثنا جرير ، عن قابوس ، عن أبيه ؛ أن امرأة سألت عائشة قالت : إن لنا أظآرا من المجوس ، وإنه يكون لهم العيد فيهدون لنا ؟ فقالت : أما ما ذبح لذلك اليوم فلا تأكلوا ، ولكن كلوا من أشجارهم۔
ترجمہ:قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے ہوئے کہا: ہماری کچھ مجوسی پڑوسن ہیں ، اوران کے تیوہار کے دن ہوتے ہیں جن میں وہ ہمیں ہدیہ دیتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے؟ تو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اس دن جو چیز ذبح کی جائے اسے نہ کھاؤ ، لیکن ان کی طرف سے سزی اور پھل کی شکل میں جو ملے اسے کھالو۔[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 8/ 87]
اس کی سند میں موجود قابوس بن ابی ظبیان پر ضعف کا حکم لگایا جاتا ہے جبکہ اسے کئی محدثین نے قابل حجت قرار دیا ہے ۔
(1) امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین رحمہ اللہ اس کی توثیق کی ہے۔
(2) ابواحمد بن عدی نے "لاباس بہ" کہکر توثیق کی ہے۔
(3) علامہ ذہبی نے تاریخ الاسلام میں قابوس کو"حَسَنُ الْحَدِيثِ " کہا ہے ۔
(4) احمد بن سعید نے اسے "جائز الحدیث " کہاہے۔
(5) امام طبرانی نے ایک روایت کو جس میں قابوس موجود ہےاسے حسن کہا ہے۔
(6) امام ابن حجر نے اپنی کتاب "الداریہ فی تخریج احادیث الھدایہ" میں ایک روایت کو جس میں قابوس موجود ہے اس سے استدلال کیا ہے ۔
(7) امام ترمذی نے قابوس والی ایک روایت کو حسن کہا ہے ، روایت وحکم دیکھیں :
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْنَا لابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ: {مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ}[الأحزاب: 4] مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ: قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا يُصَلِّي؛ فَخَطَرَ خَطْرَةً؛ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ: أَلاَ تَرَى أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ، قَلْبًا مَعَكُمْ وَقَلْبًا مَعَهُمْ؟! فَأَنْزَلَ اللَّهُ:{مَاجَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ }[الأحزاب: 4].(ترمذی :3199)
قال ابوعیسی : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
گویا قابوس ترمذی کے نزدیک قابل حجت ہیں۔ ترمذی کی 3927 نمبر کی حدیث میں بھی قابوس موجود ہے، اس روایت کے متعلق امام ترمذی نے صرف قابوس کے والد ابوظبیان کا سلمان فارسی کے زمانہ نہ پانے کی بات ذکرکی ہے ۔
(8) احمد شاکر نے بھی ترمذی والی سند کو صحیح کہا ہے ۔(مسند أحمد: 4/132 )
اسی طرح دوسرا اثر دیکھیں :
حدثنا وكيع ، عن الحسن بن حكيم ، عن أمه ، عن أبي برزة ؛ أنه كان له سكان مجوس ، فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان ، فكان يقول لأهله : ما كان من فاكهة فكلوه ، وما كان من غير ذلك فردوه ۔
ترجمہ:ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے کچھ مجوسی پڑوسی تھے جو انہیں نیروز اور مہرجان کے تیوہاروں میں ہدیہ دیتے تھے ، تو آپ اپنے گھروالوں سے کہتے تھے کہ : میوے کی شکل میں جوچیز ہو اسے کھالو اور اس کے علاوہ جو ہو اسے لوٹادو[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 8/ 88]
اس میں حسن بن حکیم ثقفی کی ماں جوکہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے مولاۃ ہیں کا حال نامعلوم ہے۔ یہ اثر ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے ۔
حدثنا وكيع عن الحكم بن حكيم عن ابيه عن أبي برزة :أنه كان له سكان مجوس ، فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان ، فكان يقول لأهله : ما كان من فاكهة فكلوه ، وما كان من غير ذلك فردوه ۔ (اعلام السنن 12/706 علامہ ظفر احمد عثمانی تھانوی)
مجہول الحال کی روایت متابعات و شواہد میں قابل قبول ہے ۔
تہوار پہ غیرمسلم سے ہدیہ قبول کرنے سے متعلق شیخ الاسلام کے علاوہ امام احمد بن حنبل اور سعودی عرب کے مشہور شیخ محمد بن صالح المنجد کی یہی رائے ہے ۔
ہندوستان والوں کو یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں ہندؤں کی اکثریت کی بناپر مسلمانوں کے ہزاروں قسم کے معاملات ہندؤں سے وابستہ ہیں، بلکہ کثیر تعداد میں مسلمانوں کے دوست واحباب ہندو ہیں ۔ کافروں سے دوستی اسلام میں جائز نہیں ہے لیکن دینی غرض سے کافروں سے تعلق رکھنا جائز ہے ۔ ایسے ماحول میں کافروں سے سارے معاملات کرنا اور خوشی کے موقع پر اپنے ملاقاتی جو اسلام اور مسلمانوں کی قدر کرتاہو تحفہ قبول نہ کرنا اس کے دل میں اسلام کے تئیں تنافر پیدا کرسکتا ہےاور یہ اسلام کے حسن سلوک اور تالیف قلب کے خلاف ہے ۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں غیرمسلموں کو دین کی دعوت دینا کتنا دشوارہے ، عید کا موقع ایک سنہرا موقع ہے جب ہم مائل بہ دین اسلام ہندؤں سے حسن سلوک کے ساتھ کچھ کہہ سنا سکتے ہیں ۔ ساتھ ہی اوپر مذکور میرے چند موانع کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ میں سرے سے کفار کے تہوار پہ مٹھائی اور ہدیہ تسلیم کرنے کا قائل نہیں ہوں تاہم سرے سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔

مکمل تحریر >>

Monday, January 11, 2016

کافر کے جنازہ میں شرکت کرنا

کافر کے جنازہ میں شرکت کرنا
===============
کسی کافر کی میت پہ اس کی تعزیت (استغفار جائز نہیں) کرنا جائز ہے لیکن اس کے جنازہ میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔
آپ ﷺ ابوطالب کی موت پہ ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی تدفین میں جبکہ ابوطالب نے قدم قدم پہ آپ کی مدد کی تھی ۔
ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے کفار سے موالات کو منع فرمایاہے اور کافر کی میت میں شرکت موالات میں سے ہے ، اس میں کافر کا احترام اور اس سے محبت کا اظہار ہے ۔ جنازہ کے پیچھے چلنا، یہ تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ حق ہے، اسے کافروں کو کیسے دیا جاسکتاہے ۔
اوپر کافرمیت کی تعزیت کی بات ہے یہ اسلام کے احسان و سلوک کے تئیں ہے ۔

واللہ اعلم

مقبول احمد سلفی



مکمل تحریر >>

Wednesday, January 6, 2016

کافر کی بات کا اعتبارکرنا کیسا ہے ؟

کافر کی بات کا اعتبارکرنا کیسا ہے ؟
============
جو جھوٹ بولنے والا ہو اس کی بات کا کوئی اعتبارنہیں ہوتا خواہ مسلم ہو یا کافر۔
لیکن ایسا نہیں ہے کہ کافر میں سب جھوٹ ہی بولنے والے ہیں ، ان میں بھی سچے لوگ ہیں ۔ جو سچ بولنے والے ہوں یا بات سچ ہونے کی کوئی معقول وجہ ہو تو کافر کی بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ واضح رہے یہ دنیاوی معاملات میں بس ، دینی معاملات وہی مانا جائے گا جو اسلام کہتا ہے ۔


واللہ اعلم
مکمل تحریر >>

Wednesday, December 2, 2015

کیا دعوت تبلیغ کی وجہ سے غیر مسلموں کو ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے ؟

کیا دعوت تبلیغ کی وجہ سے غیر مسلموں کو ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے ؟
=======================
جی ہاں دعوت و تبلیغ کی غرض سے ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے ، فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین حفظہ اللہ سے پوچھا گیا، کیا غیر مسلم ترجمہ و تفسیر قرآن چھو سکتا ہے ؟ شیخ نے جواباً فرمایا اگر غیر مسلم قرآن کے معنی اور مفہوم کو جاننا، سمجھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو اور اس کی ہدایت کی امید ہو تو اسے ترجمہ و تفسیر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے گرچہ اس میں ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآنی آیات بھی تحریر ہوں ، دیکھئے (ابو انس علی بن حسین کی کتاب فتوی و احکام الی الداخلین فی الاسلام) آج چونکہ غیر مسلموں میں قرآن فہمی کا ذوق و شوق بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لئے قرآن کے ترجمہ کو مسلمانوں اور غیر مسلموں میں زیادہ سے زیادہ پھیلانا چاہئے تاکہ قرآن کا پیغام گھر گھر پہنچے اور غافل لوگ ہوش میں آئیں نیز غیر مسلموں پر اللہ کی حجت قائم ہو۔


 منقول 
مکمل تحریر >>

Monday, November 30, 2015

مسجد میں غیر مسلم کا داخل ہونا

مسجد میں غیر مسلم کا داخل ہونا
===============
مسجد میں ضرورت کے تحت غیرمسلم کا داخل ہونا جائز ہے ۔ نبی ﷺ نے ثمامہ بن اثال کو اسلام لانے سے پہلے مسجد نبوی میں رسی سے باندھا تھا۔ اسی طرح ثقیف اور نجران کا وفد اسلام لانے سے پہلے مسجد میں داخل ہواتھا۔
اس لئے کسی ضرورت کے تحت مسجد میں غیر مسلم داخل ہوسکتا ہے ۔
مثلا
مسجد کی مرمت اور اس کی اصلاح کے لئے
مسجد میں پانی پینے کی غرض سے
دینی لکچر اور پروگرام میں شریک ہونے کے لئے وغیرہ

اگر ساتھ میں انہیں مسجد کے آداب بتا دئے جائیں تو بہتر ہے تاکہ وہ مسجد کے تقدس کی پامالی نہ کرے مثلا ساتر لباس پہن کر مسجد آنا، مسجد میں گندگی نہ پھیلانا، یہاں گندی بات نہ کرنا وغیرہ

واللہ اعلم

کتبہ

مقبول احمد سلفی
مکمل تحریر >>

Sunday, November 22, 2015

کافر کی موت پہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہنا

کافر کی موت پہ "إنا لله وإنا إليه راجعون" کہنا
====================


شیخ ابن باز رحمہ اللہ  کہتے ہیں کہ:
" کافر کے مرنے پر "إنا لله وإنا إليه راجعون"  اور "الحمد لله"کہنے میں کوئی حرج نہیں ، چاہے وہ آپکے اقرباء میں سے نہ ہو، کیونکہ سب لوگوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کا جانا ہے، اور تمام لوگ اللہ تعالی کی ملکیت میں  ہیں، چنانچہ ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں"انتہی
" فتاوى نور على الدرب " (ص 375)


واللہ اعلم.
مکمل تحریر >>

Tuesday, November 3, 2015

غیرمسلموں سے ان کے تہوار پہ ہدیہ قبول کرنا

غیرمسلموں سے ان کے تہوار پہ ہدیہ قبول کرنا
======================

مقبول احمد سلفی


یہ بات اہل علم کے درمیان متفقہ ہے کہ غیرمسلموں کو ان کے تہوار پہ ہدیہ دینا منع ہے کیونکہ ان مواقع پر انہیں تحائف دینا باطل تہوار اور تقریبات کا اقراراور ان میں شرکت کرنے کے مترادف ہے۔
البتہ اگر غیرمسلم اپنے تہوار پہ تحفہ دے تو اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ ان کے تہوار میں شرکت یا معاونت نہیں کہلائے گا بلکہ احسان و سلوک کے درجے میں آئے گا جو اللہ تعالی کے مندرجہ ذیل فرمان سے معلوم ہوتا ہے :
لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ(الممتحنہ: 8)
ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں کیساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کی وجہ سے تم سے لڑائی نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے بے دخل نہیں کیا، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
گویا جیسے غیرتہوار پہ غیرمسلم سے ہدیہ قبول کرسکتے ہیں ویسے ان کے تہوار پہ بھی قبول کرسکتے ہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اس سلسلے میں کچھ آثار و اقوال ملتے ہیں جنہیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ۔
وأما قبول الهدية منهم يوم عيدهم ، فقد قدمنا عن علي -رضي الله عنه- أنه أتي بهدية النيروز فقبلها. وروى ابن أبي شيبة في المصنف : حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه أن امرأة سألت عائشة ، قالت : إن لنا أظآرا من المجوس ، وإنه يكون لهم العيد فيهدون لنا . فقالت : "أما ما ذبح لذلك اليوم فلا تأكلوا ، ولكن كلوا من أشجارهم "وقال حدثنا وكيع عن الحسن بن حكيم ، عن أمة ، عن أبي برزة : أنه كان له سكان مجوس ، فكانوا يهدون له في النيروز والمهرجان ، فكان يقول لأهله : " ما كان من فاكهة فكلوه وما كان من غير ذلك فردوه " .
فهذا كله يدل على أنه لا تأثير للعيد في المنع من قبول هديتهم ، بل حكمها في العيد وغيره سواء ؛ لأنه ليس في ذلك إعانة لهم على شعائركفرهم . لكن قبول هدية الكفار من أهل الحرب وأهل الذمة مسألة مستقلة بنفسها ؛ فيها خلاف وتفصيل ليس هذا موضعه ، وإنما يجوز أن يؤكل من طعام أهل الكتاب في عيدهم ، بابتياع أو هدية ، أو غير ذلك مما لم يذبحوه للعيد ، فأما ذبائح المجوس ، فالحكم فيها معلوم ، فإنها حرام عند العامة.
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کفار کی عید کے دن ان سے تحائف قبول کرنے کے بارے میں ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوروز کے دن انہیں تحفہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔


اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے کہ: ۔۔ "ایک عورت نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا: ہمارے بچوں کو دودھ پلانے والی کچھ مجوسی خواتین ہیں، اور وہ اپنی عید کے دن تحائف بھیجتی ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "انکی عید کے دن ذبح کئے جانے والے جانور کا گوشت مت کھاؤ، لیکن نباتانی اشیاء کھا سکتے ہو"


ابو برزہ کہتے ہیں کہ : ان کے قریب کچھ مجوسی رہائش پذیر تھے جو نوروز اور مہرجان کے دن تحائف بھیجتے تھے، تو ابو برزہ اپنے اہل خانہ سے فرماتے: انکی طرف سے آنے والے پھل کھا لیا کرو، اور اس کے علاوہ دیگر اشیاء مسترد کردو"


ان تمام سے پتا چلتا ہے کہ کفار کی عید کے دن ان کے تحائف قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ عید یا غیر عید میں انکے تحائف قبول کرنے کا ایک ہی حکم ہے؛ کیونکہ اس کی وجہ سے انکے کفریہ نظریات پر مشتمل شعائر کی ادائیگی میں معاونت نہیں ہوتی۔۔۔"
اس کےبعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے متنبہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اہل کتاب کا ذبیحہ اگرچہ حلال ہے، لیکن جو انہوں نے اپنی عید کے لئے ذبح کیا ہے وہ حلال نہیں ہے، چنانچہ آپ کہتے ہیں: "اہل کتا ب کی طرف سے عید کےدن ذبح کیے جانے والے جانور کے علاوہ انکے [نباتاتی]کھانے وغیرہ خرید کر یا ان سے تحفۃً لیکر کھائے جا سکتے ہیں۔
جبکہ مجوسیوں کے ذبیحہ کا حکم معلوم ہے کہ وہ سب کے ہاں حرام ہے۔
(اقتضاء الصرط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم)
امام احمد سے بھی اس پہ جواز نقل کیا گیا ہے۔ ہدیہ قبول کرنے سے متعلق چند باتیں دھیان میں رہے ۔
(1) یہ ہدیہ ایسا پکوان نہ ہو جو پوجا میں استعمال کیا گیا ہومثلا پرساد وغیرہ
(2) ہدیہ میں حلال چیزیں ہی قبول کی جائیں گی مثلا میوے جات ۔
(3) ان چیزوں کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا جن سے غیرمسلم اپنے معبود سے نزدیکی تلاش کرتے ہیں مثلا ذبیحہ ، انڈے، اگربتی ، موم بتی اور رسومات میں استعمال ہونے والی دیگراشیاء۔
(4) جو تحفہ اسلامی اعتبار سے قابل قبول نہ ہو تو اسے ہزگر قبول نہ کریں ساتھ ہی عدم قبولیت کی وجہ ان سے بتلادیں۔
(5) تحفہ قبول کرنے کا مقصد کافروں سے دوستی کرنا نہیں بلکہ احسان و سلوک کرنا تاکہ انہیں اسلام کی طرف مائل کیا جاسکے ۔


واللہ اعلم


مکمل تحریر >>

Sunday, June 7, 2015

کافر میت کو دیکھ کر فی نار جہنم کہنا

کافر میت کو دیکھ کر فی نار جہنم کہنا

مقبول احمد سلفی
اگر ہمیں یہ یقین ہے کہ حالت کفر پر مرا ہے اور ظاہری علامات سے بالکل واضح ہے تو ہم اسے جہنمی کہہ سکتے ہیں، اس کے لئے فی نار جہنم کا لفظ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان: وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً [الجن : 23]
ترجمۃ : اور جو اللہ ، اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
مگر دوسرے کافر کو سناکر اسے تکلیف دینا مناسب نہیں ، ہمارا اسلام جہاں زندہ انسانوں کی قدر کرتا ہے وہیں میت کافر کا بھی احترام سکھاتا ہے ۔ آپ ﷺ نے جب ایک یہودی کا جنازہ دیکھا تو کھڑے ہوگئے ۔
لہذا کسی کو کافر یا جہنمی کہنے میں میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے ، جب ظاہری علامات سے پوری طرح عیاں ہو تو پھر اسے کافر، جہنمی یا فی نار جہنم کہا جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب


مکمل تحریر >>

Sunday, May 24, 2015

کافر کے لئے دعا کرنا

کافر کے لئے دعا کرنا

کیا کافر کے لئے دعا کی جاسکتی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور عوام پر یہ بات مخفی ہے ۔ اس لئے ہم اس کی مختصر وضاحت کردیتے ہیں۔
کافر کے لئے دعا کرنے کی چند صورتیں ہیں ۔
(1) پہلی صورت یہ ہے کہ اس کے لئے ہدایت کی دعا کی جائے ۔ یہ جائز ہے اور حدیث سے ثابت ہے ۔
دلیل : عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :" اللهم أعز الإسلام بأحب هذين الرجلين إليك بأبي جهل أو بعمر بن الخطاب"۔ ( رواه الترمذي وصححه الألباني)
ترجمہ : ابن عمررضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے اللہ دو آدمیوں میں سے کسی ایک کو پسند فرماکر اسلام کو تقویت پہنچا، یعنی ابوجہل یا عمر بن خطاب۔
(2) دوسری صورت کافر کے لئے مغفرت کی دعا کرنا تو یہ بالاتفاق حرام ہے، اس پر اجماع ہے ۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کافر کا جنازہ پڑھنا اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنا نص قرآنی اور اجماع سے حرام ہے ۔(المجموع 5/120)
(3) تیسری صورت کافرمریض کے لئے شفا کی غرض سے دعا کرنا جائز ہے جبکہ اس کے اسلام لانے اوراس کا دل مائل کرنے کا قصد کیا گیا ہو۔ اور اسی طرح مرض کی حالت میں اس کی عیادت کرنا بھی جائز ہے ۔ چونکہ حالت مرض میں آدمی کا دل نرم پڑجاتا ہے اور حق قبول کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اس مناسب سے کافر مریض کی عیادت کرنا بیحد مفید ہے ۔
ایک بار ایک یہودی غلام بیمار پڑگیا، تو نبی ﷺ نے اس کی عیادت کی اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر آپ نے اس سے کہا اسلام لے آؤ تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھاجو وہاں موجود تھا تو باپ نے کہا کہ ابوالقاسم ﷺ کی اطاعت قبول کرلو پس اس نے اسلام قبول کرلیا۔ آپ ﷺ وہاں سے نکلے اور کہہ رہے تھے کہ بڑائی ہے اس کی جس نے اس کو آگ سے نجات دی۔ (صحیح بخاری)
Top of Form


مکمل تحریر >>

Wednesday, March 25, 2015

غیرمسلم کو قربانی یا عقیقہ کا گوشت دینا

غیرمسلم کو قربانی یا عقیقہ کا گوشت دینا

جب غیر مسلم ہمارے ساتھـ جنگ کے درپے نہ ہوں ، تو ان کو قربانی یا عقیقہ کا گوشت اور دیگر کھانے کی چیزیں دی جاسکتی ہیں، اس لئے کہ الله تعالى کا فرمان ہے کہ :
"ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﯾﻦ ﻛﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﯼﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﻼﻭﻃﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻛﯿﺎﺍﻥ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻠﻮﻙ ﻭﺍﺣﺴﺎﻥ ﻛﺮﻧﮯﺍﻭﺭ ﻣﻨﺼﻔﺎﻧﮧ ﺑﮭﻠﮯ ﺑﺮﺗﺎؤ ﻛﺮﻧﮯ ﺳﮯ للہ ﺗﻌﺎلی ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﻛﺘﺎ، ﺑﻠﻜﮧ للہ ﺗﻌﺎلی ﺗﻮ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ

اور اس وقت یہ گوشت وغیرہ ان غیرمسلموں کو دینا مستحب و مؤکد ہوجائے گا، جب کہ اس سے ان کے اندر اسلام سے محبت پیدا ہوتی ہو، اور وہ لوگ اسلام میں داخل ہوسکتے ہوں ۔

واللہ اعلم 
مکمل تحریر >>