اسلام ، شہادت اور ماتم
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ(سعودی عرب)
اس میں کوئی شک نہیں کہ واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک
المناک باب ہےمگر کیا آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ شیعہ حضرات کیوں ماتم کرتے ہیں
اور کیوں صحابہ کرام پر سب وشتم کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے کی اصل وجہ جان کر حیران ہوجائیں
گے۔
خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورخلافت کے آخری
لمحات میں عالم اسلام کے مختلف حصوں میں فتنے سر اٹھاچکے تھے، ان سب کے پیچھے
یہودی فتنہ پرور عبداللہ بن سبا کا ہاتھ تھا۔ ابن سبا یمن کا باشندہ ہے، یہ عثمان
رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ آتا ہے اور بظاہراسلام قبول کرتا ہے مگر بباطن
کافر ہی رہتا ہے۔ اور پھر مدینہ سے لے کر کوفہ، بصرہ اور مصر تک اسلام کے خلاف
سازشیں کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنی
حمایت کے لئے ایک انبوہ تیار کرلیتا ہے۔ بالآخر وہ مصر سے ایک ٹرینڈ لشکر کے ساتھ
مدینہ پہنچ کرسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرکا محاصرہ کرلیتا ہے، اس میں کوفہ
وبصرہ کے سبائی بھی شریک ہوتے ہیں۔ کئی
دنوں کے محاصرہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں شہید کردیا جاتا ہے۔ اناللہ
واناالیہ راجعون
یہیں سے فتنہ کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ عبداللہ بن سبا وہ
اہم کردار ہے جس نے پورے عالم اسلام میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فتنہ
کھڑا کیا اور ان کے قتل کی سازش رچی ، بالآخر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگیا۔
کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ اسے کوفہ وبصرہ اور مصر وغیرہ میں اپنا حمایتی بنالیا ۔
اسی ابن سبا نے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو کیا، آپ کو معبود
ہونے کا عقیدہ بیان کیا، آپ کے بارے میں کہا کہ ہرنبی کے وصی ہوتے ہیں اور حضرت
علی، محمد ﷺ کے وصی ہیں۔ یہی خلافت کے حقدار ہیں۔ اسی سبب حضرت ابوبکر، حضرت عمر
اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی برائیاں بیان کرتا اور اسی سبب حضرت عثمان کے قتل
کا منصوبہ بنایا۔ چونکہ اہل بیت کی فضیلت میں کئی احادیث موجود ہیں۔ اس وجہ سے ابن
سبا حضرت علی کے بارے میں غلوکرکے بہت سارے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب
ہوگیا۔
یہیں سے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ شیعہ مذہب کا
بانی بھی یہودی ابن سبا ہی ہے کیونکہ اسی نے حضرت علی کی جھوٹی محبت ، جھوٹی شان
اور جھوٹی فضیلت بیان کرکے اس طرف لوگوں کو مائل کیاجو ایک فرقہ کی شکل اختیار
کرلیا۔اسی ابن سبا کی ناپاک کوشش سے خوارج
بھی ظہورپذیرہوا۔
بہرکیف! حضرت عثمان کی شہادت کے بعد عالم اسلام میں فتنے کا
ایک ایسا طوفان کھڑا ہوگیا کہ حضرت علی کو قاتلین عثمان سے قصاص لینے میں رخنہ
پڑگیا۔ ایک وقت آیاحضرت علی بھی شہید
کردئے گئے، پھر آپ کے بعد حضرت حسن کو بھی زہردے کر شہید کردیاگیا۔ تاریخ نے یہ دن
بھی دیکھا کہ یزید بن معاویہ کے دور میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی
کربلا میں شہید کیا گیا۔ نواسہ رسول کی شہادت کسی اور نے نہیں ،کوفہ کے ان لوگوں نے کی جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر کوفہ آنے
کی دعوت دی۔ شیعہ آج تک بلکہ قیامت تک ماتم کرتے رہیں گے تاکہ وہ اپنا جرم
چھپاسکیں۔ بعض علماء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ماتم اللہ کی طرف سے ان مجرموں اور
ظالموں کے سر پر سزا ہے جو قیامت تک کے لئے مسلط کردی گئی ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے
کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قاتل مجوسی غلام کو شیعہ اپنا ہیرو مانتے ہیں اور
ایران کے شہر کاشان میں اس کے نام سے ایک مزار بھی بنارکھا ہے جس کی زیارت کرتے
ہیں۔اس مزار سے جہاں ایران کی اہل سنت سے دشمن ظاہرہوتی ہے وہیں شیعہ کی صحابہ سے
دشمنی بھی جگ ظاہر ہے۔ جس حضرت عمرکو اہل سنت سینے سے لگاتے ہیں، ان کے قاتل کا
مزار بناکر اس کی عبادت کرتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ واقعہ کربلا کے پیچھے سبائی گروہ ہے جسے
عبداللہ بن سبا نے تیار کیا تھامگر آج اصل قاتل پر پردہ ڈال کریزید بن معاویہ کو
موردالزام ٹھہراتے ہیں اور اس راستے سے پھر متعدد صحابہ کرام کو مطعون کیا جاتا
ہے۔ یاد رکھیں، شیعہ اتنا ہی شاطر ومکار ہے جتنا عبداللہ بن سبا تھا۔ شیعہ کے یہاں
تقیہ ایک اصول کی حیثیت سے مانا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت شیعہ جب چاہے اور جس طرح
چاہے جھوٹ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اصل قاتل کو چھپاکرتقیہ کرتے
ہوئے یزیدبن معاویہ پر الزام لگاتا ہے اور اس بہانے صحابہ کرام کو بھی نشانہ بناتا
ہے۔ مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب بھولے بھالے مسلمان ان یقیہ باز جھوٹے مکاروں کے
مکروفریب کا شکارہوکریزید پر لعنت بھیجتے ہیں حتی کہ کتنے مسلمان متعدد صحابہ پر
طعن وتشنیع کرتے ہیں۔
اب آپ کے سامنے صحیح بخاری سے تین احادیث پیش کرتا ہوں جن
سے آپ بآسانی واقعہ کربلا کی حقیقت ، قاتل حسین اور یزید بن معاویہ کا کردار جان
سکتے ہیں ۔ آپ یہاں یہ جانتے چلیں کہ صحیح بخاری
کی احادیث پر پوری امت کا اجماع ہےیعنی تمام طبقہ کے مسلمان اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ صحیح
بخاری میں موجود تمام احادیث صحیح ہیں۔
(1)پہلی حدیث یزید
بن معاویہ کی بیعت سے متعلق اہل مدینہ کا اتفاق:
نافع نے بیان کیا:لَمَّا
خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَر حَشَمَهُ
وَوَلَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ،
وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ،
وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ
اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ
أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ، وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتِ
الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ(صحيح البخاري:7111)
ترجمہ: جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے
انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا
اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور
ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم
میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر
بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی
یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق
نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
اس حدیث میں ابن عمررضی اللہ عنہما کے یہ کلمات ہیں:
"وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ
وَرَسُولِهِ" یعنی اور ہم نے اس شخص
(یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے۔یہاں صراحت کے ساتھ بیان ہے کہ اہل مدینہ جن میں صحابہ
کرام بشمول ابن عمر اور آپ کے گھرانہ والے یزید کے نام پر بیعت کرچکے تھےجبکہ یہ
معاملہ اور حدیث، شہادت حسین کے بعد کی ہے۔ پھر آج یزید پر الزام لگانا، ان کو
قاتل کہنااور لعنت بھیجنا اپنی آخرت خراب کرنا ہے۔ اگر یزیدمورد الزام ہوتے تو
پہلے ابن عمربولتے مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا بلکہ یزید کی بیعت توڑنے پر
حدیث رسول سنا کر اہل مدینہ کو سخت تنبیہ کی اور فرمایا کہ بیعت توڑنے والوں سے
میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔
(2)دوسری حدیث قاتل حسین سے متعلق:
ابن ابی نعم سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
, وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ،
فَقَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ
ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ النَّبِيُّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ
الدُّنْيَا"(صحيح البخاري:3753)
ترجمہ: انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا
اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں
یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ
دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے
بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو
قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ
دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
یزید بن معاویہ شام میں رہتے تھے جبکہ حسین رضی اللہ
عنہ کا قتل عراق میں کربلا کے مقام پر ہوا۔ اور اوپر والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ
قتل حسین میں شام کے کسی آدمی کا یا یزید بن معاویہ کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ عراقی کا
ہاتھ ہے ۔ اور عراق کے جس خطے میں شہید
کئے گئے اس کے آس پاس ابن سبا کے زیر اثر وجود میں آنے والا گروہ سبائی یعنی شیعہ
لوگوں کی کثرت تھی ۔ واضح لفظوں میں کہیں تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل کوفی
لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو بلایا تھا۔
(3)تیسری حدیث یزید بن معاویہ کی فضیلت سے متعلق:
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:أَوَّلُ
جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ(صحيح البخاري:2924)
ترجمہ: سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے
بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔
اس حدیث میں لفظ
"مغفورلھم" کے تحت یزیدبن معاویہ بھی شامل ہیں کیونکہ وہ
قسطنطنیہ پر پہلے حملہ میں مسلمانوں کے سپہ سالار رہے ہیں جیساکہ صحیح بخاری میں
ہی موجود محمد بن ربیع الانصاری سے مروی حدیث میں ان کا یہ قول موجودہے۔
قَالَ مَحْمُودُ: فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو
أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي
غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ
بِأَرْضِ الرُّومِ(صحيح البخاري:1186)
محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ
میں بیان کی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری
رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع
ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔
ان تین احادیث سے موٹے طور پر ایک عام آدمی کے لئے یہ
سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ واقعہ کربلا کے
نام پر شیعہ حضرات اور ان کے بہکاوے میں آنے والے نادان مسلمان یزید بن معاویہ کو
جس قدر جی بھر کر گالیاں دیتے ہیں، لعن وطعن کرتے ہیں اور ظالم وقاتل سمجھتے ہیں، معاملہ
ایسا نہیں ہے۔یزید تو وہ ہے جس کے لئے اہل مدینہ بشمول صحابہ نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی تھی۔
وہ مغفرت والی حدیث کا مصداق بھی ہے اور اس کا قتل حسین رضی اللہ عنہ سے تعلق نہیں
ہے۔ قاتل تو اہل عراق ہیں۔ شام کا رہنے والا قاتل نہیں ہے۔
شہادت حسین رضی اللہ عنہ واقعی ہمارے لئے بہت ہی المناک
واقعہ ہے مگر یہاں ٹھہر کر سوچتے ہیں کہ کیا شہادت حسین کا مطلب ماتم کرنا، سوگ
منانا، نوحہ کرنا، خود کو لہولہان کرنا اورغم منانا ہے؟ آئیے اس سوال کا جواب چند
احادیث کی روشنی میں جانتے ہیں۔
(1)نبی ﷺ فرماتے ہیں:رَأْسُ
الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ
الْجِهَادُ(سنن ترمذي:2616)
ترجمہ: دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون (عمود) نماز
ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
(2)نبی ﷺ فرماتے ہیں:
وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ(صحيح
البخاري:2818)
ترجمہ: یقین جانو جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
(3) نبی ﷺ فرماتے ہیں: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ
اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ(صحيح
البخاري:123)
ترجمہ: جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے، وہ
اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔
(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے
کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَلَمْ
يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ(صحیح
مسلم:1910)
ترجمہ: جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا
ارادہ ہی کیا، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا۔
(5) نبی ﷺ فرماتے ہیں:مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ
بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ
(صحيح مسلم:1909)
ترجمہ: جو شخص سچے دل سے اللہ کی شہادت مانگے، اللہ اسے
شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو۔
اس حدیث کی روشنی میں اللہ تعالی سے اس طرح دعا مانگنی
چاہئے۔(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ)
(6) نبی بذات خود کس
قدر شوق شہادت رکھتے تھے، ملاحظہ فرمائیں:
وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،
ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ(صحيح البخاري:36)
ترجمہ: اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا
جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔
(7)حضرت
عمر رضی اللہ عنہ شہادت کے لئے اس طرح دعا مانگتے تھے:
أنَّ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عنه قال: اللهُمَّ ارزُقْني
شَهادةً في سَبيلِكَ، واجعَلْ مَوتي في بَلَدِ رَسولِك صلَّى اللهُ عليه
وسلَّم(صحيح البخاري:1890)
ترجمہ:اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور
میری موت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں مقدر کر دے۔
(8)شہید
کا مقام و مرتبہ بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ
لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ
عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى
رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا
فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ،
وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ(سنن ترمذي:1663)
ترجمہ: اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں، (1)
خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، (2) وہ جنت میں اپنی
جگہ دیکھ لیتا ہے، (3) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، (4) «فزع الأكبر» (عظیم گھبراہٹ
والے دن) سے مامون رہے گا، (5) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک
یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، (6) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی
کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
(9)شہید
کے مقام سے متعلق یہ بھی ملاحظہ کریں کہ جنت میں شہید کی کیا تمنا ہوگی۔ حضرت انس
رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ
الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ
مَنْزِلَكَ؟، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ
وَتَمَنَّهْ؟، فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى، إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي
إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ
الشَّهَادَةِ(مسند احمد:12273)
ترجمہ: قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا
جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکا نہ کیسا پایا؟
وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکا نہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور
تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ
مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں بیسوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں
کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔
اس معنی کی حدیث صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ
إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ
يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ: عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا
يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ (صحيح البخاري:2817)
ترجمہ: کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل
ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے
شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو
(اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔
شہادت سے متعلق ان تمام احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ
ایک مومن کے اندر شہادت کی تمنا اور اس کا شوق ہوتا ہے، وہ اللہ سے شہادت کی دعا
مانگتا ہے اور اللہ کی راہ میں دسیوں دفعہ شہید ہونے پر فحر محسوس کرتا ہے کیونکہ
شہادت کا مقام بہت بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے پیارے اصحاب نے دین
اسلام کے لئے تن من دھن کی قربانی پیش کی تب جاکر کہیں اسلام دنیا میں پھیلا۔
تاریخ اسلام شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کا فقط کربلا کی شہادت کو
پورا اسلام سمجھنا غلط ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ شہادت حسین کی اہمیت
نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ بھی عظیم شہادت ہے ۔ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مقام
بھی بہت بلند ہے۔اس سلسلے میں بہت سارے دلائل ہیں تاہم بطور مثال دو چند احادیث
پیش کرتا ہوں۔
(1)نبی
ﷺ فرماتے ہیں:هَذَانِ ابْنَايَ
وَابْنَا ابْنَتِيَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ
مَنْ يُحِبُّهُمَا (سنن ترمذي:3769)
ترجمہ: یہ دونوں(حسن وحسین) میرے بیٹے اور میرے نواسے
ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی
محبت کر جو ان سے محبت کرے۔
(2)نبی
ﷺ فرماتے ہیں:هُمَا
رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا(صحیح البخاری:3753)
ترجمہ: یہ دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما)
دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
(3)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ
حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ
الْأَسْبَاطِ (سنن ترمذي:3775)
ترجمہ:حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس
شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں۔
(4)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا
شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ(سنن ترمذي:3768)
ترجمہ:حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
فضائل حسین رضی اللہ عنہ اپنی جگہ مسلم ہے مگر ان کی شہادت
پہ سوال ہے کہ کیا شہادت پہ ماتم کیا جائے گا، غم منایا جائے گا، تعزیہ بناکر
اسےبازاروں اور گلے گوچوں میں گھمایا جائے گا، تلوار بازی، ڈنڈے بازی، مداری اور
سرکس کے کرتب دکھائے جائیں، کالے لباس لگاکررونا دھونا، گریبان چاک کرنا، نوحہ
وگریہ وزاری کرنا درست ہے؟
دراصل یہ سارے کام، اوپر پیش کردہ شہادت
سے متعلق وارداحادیث کے منافی تو
ہیں ہی، اسلام کی بہت ساری سنہری تعلیمات کے خلاف بھی ہیں۔ اس میں بعض کام شرکیہ
ہیں اور بعض کام کفر و معصیت اور بدعت وگمراہی سے متعلق ہیں۔ نبی ﷺ کی زندگی میں کتنے صحابہ ، صحابیات شہید
ہوئے اور کتنے وفات پائے، آپ نے کبھی غم منانے کا حکم نہیں دیا ہے اور نہ ہی آپ نے
بذات خود غم منایا ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کی زوجہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور
سیدہ زینت بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا وفات پائیں ، آپ نے غم نہیں منایا۔ آپ کی زندگی
میں تین بیٹیاں (رقیہ، ام کلثوم اور زینت رضی اللہ عنہن) اور تین بیٹے(قاسم،
عبداللہ اور ابراہیم) وفات پائے مگر آپ نے کبھی غم نہیں منایا۔
آپ نے اوپر شہادت کی حقیقت سمجھ لی، اب اسلامی تعلیمات کی
روشنی میں تعزیت، سوگ اور ماتم کو بھی
سمجھ لیں تاکہ واقعہ کربلا کے نام پر آج
لوگ جو کچھ کررہے ہیں اس کی اصل حقیقت اچھے سے سمجھ سکیں۔
تعزیت اور رسم تعزیہ: اسلام میں تعزیت موجود ہے۔ تعزیت کہتے ہیں کہ جس کسی
مسلمان کے گھر وفات ہوجائے اس کو الفاظ کے ذریعہ صبر وتسلی دلانا۔ گویا تعزیت
زبانی طور پر کسی کو صبر وتسلی دلانے کو کہتے ہیں۔یہ تعزیت صرف وفات کے وقت ہوتی
ہے۔ اسی تعزیت سے تعزیہ نکلا ہوا ہے یعنی لوگ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے نام
پر رسم تعزیہ مناتے ہیں۔ ابھی آپ کو بتایا ہوں کہ اسلام میں تعزیت ہے اور اس تعزیت
کا تعلق محض زبان سے ہے ، وہ بھی فقط وفات کے وقت مگر یہاں لوگ حسین رضی اللہ عنہ
کی شہادت پر بانس وکمچی اور کاغذ سے بنے مندر نماز تعزیہ بناکر رسم تعزیہ ہرسال
بطور غم مناتے ہیں۔ اس کا اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ یہ شیعوں کی
ایجاد ہے، انہی شیعوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور یہی ان کے غم میں رسم
تعزیہ مناتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی، بہت سارے بدعتی مسلمان بھی رسم تعزیہ منانے
لگے ۔ یہ رسم بدعت و ضلالت کا نام ہے۔دین کا سچا موحد جو نبی ﷺ اور آپ کے اہل بیت
سے سچی محبت کرتا ہو، وہ کبھی اس قسم کی بدعت وضلالت کا کام نہیں کرے گا۔
سوگ اور ماتم : اسلام میں سوگ کی اجازت ہے مگر صرف عورتوں کے لئے ۔ مردوں
کے لئے سوگ بالکل بھی نہیں ہے۔ جب عورت کا کوئی قریبی رشتہ دار وفات پاجائے تو تین
دن سوگ کرسکتی ہےاور شوہر وفات پاجائے تو چار ماہ دس دن سوگ کرنا ہے۔ سوگ ، رونے
دھونے اور چیخنے چلانے کا نام نہیں ہے بلکہ سوگ ترک زینت کا نام ہے۔ اس سے متعلق
حدیث پر نظر ڈالیں تو بات سمجھ میں آجائے گی۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى
مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا،
وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا
ثَوْبَ عَصْبٍ(صحيح البخاری: 313)
ترجمہ: ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے
منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان
دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین
بھی ہوتی تھی) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں۔
یہ حدیث اپنے معنی میں بالکل واضح ہے کہ سوگ صرف عورت
کے لئے ہے ، سوگ کرنے کا مردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ایک دوسری حدیث میں
خصوصیت کے ساتھ عورت کا ذکر بھی آیا ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ،
إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا
مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا، إِلَّا
إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ(صحيح مسلم:938)
ترجمہ: کوئی عورت کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ
نہ منائے مگر خاوند پر، (اس پر) چار مہینے دس دن (سوگ منائے) نہ وہ عَصب کے خانہ
دار کپڑے کے سوا کوئی رنگا ہوا کپڑا پہنے، نہ سرمہ لگائے، مگر (اس دوران میں) جب
(حیض سے) پاک ہو تو معمولی سی قُسط یا اظفار (جیسی کوئی چیز) استعمال کر لے۔
اسی وجہ سے ہم
دیکھتے ہیں کہ جب کسی عورت کا شوہر مرتا ہے تو وہ سوگ میں ہوتی ہے مگر کسی مرد کی
بیوی مرتی ہے تو وہ مرد سوگ نہیں کرتا۔پھر شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر
سالہاسال سے ہونے والا یہ ماجرا کیا ہے، وہ بھی عورت ومرد، بچے جوان بوڑھے سبھی مل
کر؟ بلاشبہ یہ دین میں اضافہ ہے ، اسی کو
بدعت کہتے ہیں۔
سوگ کو آپ نے سمجھ لیا کہ یہ عورتوں کے لئے ہے ، وہ بھی
موت کے وقت ۔ اس کا مردوں سے تعلق نہیں ہے۔ جہاں تک ماتم کا معاملہ ہے تو یہ کبھی
بھی اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ مرد کے لئے ماتم کرنا جائز ہے اور نہ عورت کے
لئے ماتم کرنا جائز ہے۔ اسلام میں سرے سے ماتم کرنا حرام ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ سے رواہت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ
, وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: جو شخص (کسی میت پر) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے
اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ لوگوں کو سیدھے راستے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین
