Friday, July 12, 2024

رسم تعزیہ داری ، اسلام اور شرعی تعزیت کی کسوٹی پر

 رسم تعزیہ داری ، اسلام اور شرعی تعزیت کی کسوٹی پر
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ – سعودی عرب
 
آج کل محرم میں جس قسم کی  تعزیہ داری کی رسم ادا کی جاتی ہے اسلام میں اس کی حیثیت کیا ہے اس کو جاننے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تعزیت کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
تعزیت کو عربی میں تعزیۃ لکھتے ہیں جیسے رحمت کو عربی میں رحمۃ لکھتے ہیں اور تعزیت کا لغوی معنی تسلی دینا اور شرعی اصطلاح میں تعزیت کہتے ہیں میت کے رشتہ دار کو صبر کی تلقین کرنا اور انہیں تسلی دینا تاکہ اس کا غم ہلکا ہو اور اسے دلاسہ ملے ۔
جب سے شیعوں نے ماتم اور تعزیہ داری کو رواجا اور مسلمانوں کے قبرپرست طبقہ نے اسے اپنایا ہے  اس کے بعد اردو لغت والوں نے تعزیت کا ایک معنی اور بڑھادیا ۔ پہلے سے تعزیت کا ایک معنی ہے ہی تسلی دینا اور ایک دوسرا معنی جیسے فرہنگ آصفیہ میں ہے۔"حضرت امام حسن و حسینؑ کی تُربتونکی نقل جو کاغذ اور بانس کے قُبہ کے اندر مُحرم کے دنوں میں دس روز تک اُنکا ماتم یا فاتحہ دلانے کے واسطے بطور یاد گار مناتے ہیں"۔
یہاں پر ایک شیعی ویکی پیڈیا کے حوالے سے بھی تعزیت کا مطلب جانتے چلیں تو موضوع کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ شیعہ ویکی پیڈیا کیا کہتا ہے"تعزیہ شیعوں کا ایک رسم ہے جو امام حسینؑ کے جنازے یا ان کے روضے کی شبیہ بناکر عاشورا کے دن عزاداری کے جلوس میں نکالے جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں تعزیوں کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ تعزیہ سونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل اور کاغذ سے تیار کیا جاتا ہے۔ عراق میں تعزیہ کو شبیہ اور ایران میں نخل گردانی کہا جاتا ہے"۔
اسلام میں تعزیت کسی کی موت پر اس کے رشتہ داروں سے کی جاتی ہے تاکہ میت کے گھروالوں کو تسلی ہو کیونکہ جس کے گھر وفات ہوتی ہے وہ لوگ غمگین اور اداس ہوتے ہیں ۔ اسلام نے ایسے موقع سے تعلیم دی ہے کہ میت کے گھروالوں کو تسلی دی جائے اسے تعزیت کہتے ہیں ۔ تعزیت سے متعلق متعدداحادیث ملتی ہیں ، آئیے چند ایک احادیث دیکھتے ہیں اور اسلام میں تعزیت کی حیثیت جانتے ہیں ۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللہ عنہ ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور بایں الفاظ تعزیت فرمائی:
إنَّ لِلَّهِ ما أَخَذَ، وله ما أَعْطَى، وكُلٌّ عِنْدَهُ بأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ، ولْتَحْتَسِبْ(صحيح البخاري:1284)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے‘ جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔
اس حدیث میں آگے مذکور ہے کہ نبی ﷺ بچے کی جانکنی کا حال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس لئے ممکن ہے کہ میت کے شدت غم میں انسان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائے مگر میت کے زور زور سے رونا، چیخناچلانا، گریبان چاک کرنااور سینہ کوبی کرنا منع ہے ۔
ایک دوسری حدیث میں تعزیت کی فضیلت بیان کی گئی ہے چنانچہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
ما من مؤمنٍ يعزِّي أخاهُ بِمُصيبةٍ إلَّا كساهُ اللَّهُ سبحانَهُ من حُلَلِ الكرامةِ يومَ القيامَةِ(صحيح ابن ماجه:1311)
ترجمہ:جو مومن اپنے بھائی کو کسی مصیبت پر تسلی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت افزائی کا خلعت عطا فرمائے گا۔
سنن نسائی(2090) میں ایک واقعہ موجود ہے۔ قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے (گود میں) بٹھا لیتے (چنانچہ کچھ دنوں بعد) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو (جب) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا:
 مالي لا أرى فلانًا ؟ قالوا : يا رسولَ اللَّهِ ، بُنَيُّهُ الَّذي رأيتَهُ هلَكَ ، فلقيَهُ النَّبيُّ فسألَهُ عن بُنَيِّهِ ، فأخبرَهُ أنَّهُ هلَكَ ، فعزَّاهُ علَيهِ ، ثمَّ قالَ : يا فلانُ ، أيُّما كانَ أحبُّ إليكَ أن تُمتَّعَ بِهِ عمُرَكَ ، أو لا تأتي غدًا إلى بابٍ من أبوابِ الجنَّةِ إلَّا وجدتَهُ قَد سبقَكَ إليهِ يفتَحُهُ لَكَ ، قالَ : يا نبيَّ اللَّهِ ، بل يَسبقُني إلى بابِ الجنَّةِ فيَفتحُها لي لَهوَ أحبُّ إليَّ ، قالَ : فذاكَ لَكَ(صحيح النسائي:2087)
ترجمہ:کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، (اور) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی (موت کی خبر) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ (جب) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے ایسا (ہی) ہو گا۔
اس میں کلمہ استشہاد ہے "فعزاہ علیہ یعنی نبی نے اس آدمی کی تعزیت فرمائی جس کا بچہ مرگیا تھا ۔ اسی کلمہ کی مناسبت سے امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے" بَابُ: فِي التَّعْزِيَةِ" یعنی باب: تعزیت کا بیان۔
اس مقام پر موضوع سے متعلق ایک اہم حدیث بھی دیکھتے چلیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک تابعی نے اہل بیت سے کیسے تعزیت کی ؟
شہر بن حوشب کہتے ہیں: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ،(میں اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعزیت کے لیے آیا) تو وہ کہنے لگیں: ایک دفعہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چادر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز لائیں، میں نے اس کو رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”حسن، حسین اور اپنے چچازاد کو بھی بلاؤ“، جب سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: یہ میری خاص اولاد ہے، اور میرے اہلِ بیت ہیں۔ اے اللہ! ان سے گندگی اور نجاست کو دور کر دے، اور ان کو اچھی طرح پاک کر۔(معجم صغير للطبراني: 846)
مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وفات کے وقت میت کے گھر والوں کو صبر دلایا جائے ، وہ آپ کسی طرح کے الفاظ کے ساتھ صبروتسلی دلا سکتے ہیں ، معین الفاظ میں تعزیت کرنا کوئی ضروری نہیں ہے ۔ نیز تعزیت کے باب میں جہاں تک سوگ کا معاملہ ہے وہ صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے یعنی مردوں کے لئے کبھی بھی سوگ جائز نہیں ہے ، صرف عورتوں کے لئے سوگ جائز ہے کیونکہ سوگ ترک زینت کو کہتے ہیں ۔ آئیے حدیث دیکھتے ہیں :
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ»(صحیح البخاری:313)
ترجمہ:ام عطیہ سے رویت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب ( یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی ) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں ( عدت کے دنوں میں ) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا جب انتقال ہوا تو انہوں نے صرف تین دن ہی سوگ منائیں جبکہ بیٹے سے جدائی کا غم ایک ماں کو کس قدر ہوگا اندازہ لگاسکتے ہیں ، محمد بن سیرین سے روایت ہے :
تُوفِّيَ ابنٌ لأمِّ عطيةَ رَضِيَ اللهُ عنها ، فلمَّا كان اليومُ الثالثُ ، دعت بصُفْرَةٍ فتمسحتْ بهِ ، وقالت : نُهِينا أن نُحِدَّ أكثرَ من ثلاثٍ إلَّا بزوجٍ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے صفرہ خلوق ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے سوگ صرف عورت کے لئے جائز ہے ، مرد کے لئے نہیں ، دوسری بات یہ ہے کہ عورت اپنے رشتہ دار کی موت پر تین دن سوگ مناسکتی ہے، یہ جائز ہے مگر واجب نہیں ہے تاہم شوہر کی وفات پر واجبی طور پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ہے اور یہ سوگ وفات کے وقت زندگی میں ایک بار ہے ، باربار اور ہرسال سوگ جائز نہیں ہے ۔
شریعت محمدی میں میت کے گھروالوں کی  تعزیت سے متعلق اختصار کے ساتھ یہ بات جان لیں کہ جب کسی کے گھر فوتگی ہو تو اس وقت گھر والے غمکین ہوتے ہیں ایسے میں میت کی مغفرت کے لئے دعا دی جائے اور گھر والوں کو تسلی اور صبرکی تلقین کی جائے اور پڑوسی کا حق بنتا ہے کہ اس دن میت کے گھروالوں کے لئے کھانا بنایا جائے اور گھروالوں کو مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کی جائے ۔ تعزیت کے لئے کوئی خاص دن نہیں، کوئی خاص طریقہ نہیں، اور کوئی خاص الفاظ ضروری نہیں ۔
اسلامی تاریخ میں متعدد واقعات رونماہوگئے اور متعدد شہادتیں ہوئیں، ان شہادتوں میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہے مگر شہادت  حسین کے بہانے شیعوں نے تعزیہ کی رسم ایجاد کی اور آج مسلمانوں کی اکثریت بھی شیعوں کی طرح تعزیہ داری کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔  یہ ہرگز نہیں بھولیں کہ رسم تعزیہ شیعوں کی ایجاد ہے اوریہ رسم تعزیہ سیدنا حسین کی یاد میں بطور تعزیت ہے ۔ تعزیہ میں شہید کی قبر کی شبیہ  ہوتی ہے جوسونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل  اور کاغذ  سے تیار کی جاتی ہے۔
جب آپ اسلامی تعزیت اور رسم تعزیہ کا موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسم تعزیہ بالکل اسلام کے خلاف ہے، اس کا اسلام سے  دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے ، اسلامی شریعت سے تعزیت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے سارے اعمال خود سے وضع کئے گئے ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسم تعزیہ کیسے اسلامی تعزیت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(1) نبی ﷺ کی وفات 9/ربیع الاول گیارہ ہجری کو ہوئی جبکہ کربلا کا واقعہ 10/محرم اکسٹھ ہجری کو پیش آیا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ دین اسلام نبی ﷺ کے عہدمبارک میں ہی مکمل ہوچکا تھالہذا دین وہی ہے جو قرآن وحدیث میں موجود ہے اور قرآن وحدیث سے باہر کوئی عمل دین نہیں ہے ۔  رسم تعزیہ سیدنا حسین سے جڑی ہوئی ہے جو یقینا اسلام مکمل ہونے کے بعد کی پیداوار ہے ۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی کی وفات یا شہادت پر رسم تعزیہ منانے کا حکم نہیں دیا ہے ۔ آپ نے وفات کے وقت میت کے گھر والوں سے محض تعزیت کا حکم دیا ہے جس کا ذکر سطور بالا میں ہے مگر بانس وکاغذ اور لکڑیوں کے توسط سے  لمبا سا جہاز ماڈل قبر کی شبیہ بنانے کے کا کہیں حکم نہیں دیا ہے ، نہ کسی صحابی کے لئے اور نہ ہی اہل بیت کے شہید کے لئے اور نہ خصوصیت کے ساتھ حسین کے لئے ۔ یہ نئی ایجاد بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
(2)تعزیہ تعزیت سے ماخوذ ہے اور اسلام میں تعزیت زبانی طور پر میت کے گھروالوں کو دلاسہ اور تسلی دینے کو کہتے ہیں مگر رسم تعزیہ داری میں میت کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور ہرسال دس محرم کو تعزیہ منایا جاتا ہے ۔  کسی میت یا شہید کی شہادت کے دن بھی  ایک مرتبہ بھی شہید کی قبر کی شبیہ نہیں بناسکتے ہیں تو ہرسال اس عمل کا دہرانا بھی کسی طرح جائز نہیں ہے اور کتنے گئے گزرے مسلمان ہیں جو قبروں کی شبیہ بناتے ہیں ، گلی کوچے گھماتے ہیں پھر تالات میں بھسم کرتے ہیں کیا یہ ہندؤں کی مورتی پوجا جیسی عبادت نہیں ہے ؟  ہندو بھی  اپنے تہواروں پراپنے بزرگ لوگوں کی مورتی بناتے ہیں ، اس کی تعظیم وعبادت کرتے ہیں اور پھر اسے پانی میں بہادیتے ہیں یعنی جو سب اعتقادات و اعمال ہندو اپنے مورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ٹھیک ویسے ہی اعتقاد وعمل کے ساتھ تعزیہ داری کی جاتی  ہے ۔اس لحاظ سے یہ شرکیہ وکفریہ  عمل بھی ہے اور اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا کہ وہ ہرگناہ کو معاف کردے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گالہذا مسلمانوں کو اس شیعی ایجاد شرکیہ وکفریہ عمل سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
(3) تعزیہ میں موجود قبر کو زندہ حسین سمجھا جاتا ہے ، ان کی تعظیم کی جاتی ہے، ان کے لئے نیاز کی جاتی ہے، نذر مانی جاتی ہے  اور ان سے مدد مانگی جاتی ہے حتی کہ ان  کا سجدہ بھی کیا جاتا ہےاور تعزیہ کے نیچے سے بچوں کو گزارا جاتا ہے اس اعتقاد کے ساتھ صاحب قبر کی پناہ میں آجائے گا۔ گویا ایک انسان کو معبود کی حیثیت سے پوجا جاتا ہے ، اگر یہ شرک نہیں ہے تو پھر کس کا نام شرک ہے  اور اگر کوئی کلمہ پڑھ کر یہ سارے مشرکانہ اعمال انجام دے گا تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو مورتی پوجنے والوں کا حشر ہوگاکیونکہ ان دونوں میں اعتقاد وعمل کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے ۔
(4)کہیں پر تعزیہ میں ذوالجناحین (دوپروں والے گھوڑے) اور دلدل نامی سواری تیار کرکے اس کا جلوس نکالا جاتا ہے ، یہ دیکھنے میں عجیب مورتی کی شکل میں ہوتی ہے ، اسے نفع ونقصان کا مالک سمجھ کراس کی تعظیم کی جاتی ہے ، اس سے مرادیں مانگی جاتی ہیں ، اس کی زیارت اور اس کے جلوس میں شامل ہونا باعث اجروثواب سمجھا جاتا ہے ۔ عموما اس طرح کی رسم شیعہ انجام دیتے ہیں مگر اس میں تعزیہ منانے والے بھولے بھالے مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں جو بیحد شرمناک ہے ۔ اللہ تعالی نے ہمیں بتوں کی عبادت سے نجات دے کر اسلام میں داخل فرمایا پھر بھی بعض مسلمان عمدا یا سہوا بتوں ، گھوڑوں، پتھروں ، قبروں اور مورتیوں کی عبادت کسی نہ کسی شکل میں کرتے ہیں ۔ہم  ایسے بے راہوں کے لئے اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے ہیں ۔
(5)تعزیت تو میت کے غم پہ صبر دلانے کو کہتے ہیں مگر تعزیہ داری میں باقاعدہ ڈھول بجایا جاتا ہے، اس میں ناچا اور تھرکا جاتاہے ، جوان لڑکے اورجوان لڑکیاں  اس میں رقص کرتے ہیں اور خوب خوب ہنستے گاتے ، کھیل تماشہ کرتے اورمیل ٹھیلہ لگاتے ہیں ۔اولا ڈھول باجوں کی  تعزیہ سے کوئی نسبت نہیں بنتی ، ثانیا ڈھول ورقص ہمیشہ منع ہے پھر تعزیہ کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ نبی ﷺ نے ان جیسے آلات کو شیطان کا ساز قرار دیا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ اس امت میں خسف،مسخ اور قذف واقع ہوگا ، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ایساکب ہوگا؟ آپ نے فرمایا:جب ناچنے والیاں اورباجے عام ہوجائیں گے اورشراب خوب پی جائے گی۔(صحیح الترمذی:2212)
مسلم بھائیو!اللہ کبھی تمہارے ان عملوں سے راضی نہیں ہوگابلکہ تم ایسے اعمال کرکے قہرالہی کو دعوت دے رہے ہو، ذرا غور کروکہ شہدائے کربلا کے واسطے یوم شہادت پر شہنائی بجاناکیا حب اہل بیت ہے یا یہ اہل بیت سے بغض کی علامت ہے اور جواسلام عورتوں کواپنے  گھر میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے مگرتم انہیں گھروں سےسڑکوں، گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر نکالتے ہو، خود بھی ناچتے ہو، ان سے بھی نچواتے ہواور یوں مسلم خواتین کی عزت اپنوں اور غیروں کے سامنے  نیلام کرتے ہو ۔
(6) تعزیہ کی مناسبت سے مرثیہ خوانی، نوحہ، ماتم ، گریبان چاک ، چیخنا چلانا ، رونادھونا کیا جاتا ہے ۔ ہم نے سطور بالا میں بتایا ہے کہ صرف وفات کےوقت  میت کے گھروالوں میں خاتون کو تین دن سوگ منانے کی اجازت ہے اور شوہر کی وفات ہو تو چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم ہے مگر مردوں کو سرے سے کبھی بھی سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے ، سوگ صرف عورت کے لئے وہ بھی وفات کے وقت ۔ اور ماتم ونوحہ تو کبھی بھی اسلام میں جائز نہیں ہے ، نہ موت کے وقت اور نہ زندگی میں کبھی ۔ نبی ﷺ کافرمان ہے :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ليس مِنَّا من ضربَ الخدودَ ، وشَقَّ الجيوبَ ، ودعا بدَعْوَى الجاهليَّةِ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دور جاہیلت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
بلکہ میت پر رونے دھونے اور نوحہ کرنے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے ، نبى كريم ﷺ نے فرمايا:ميت كو قبر ميں اس پر كيے گئے نوحہ كى وجہ سے عذاب ہوتا ہے(صحيح البخارى:1292)
نیز آپ ﷺ كا فرمان ہے:يقينا ميت كو اس كے گھر والوں كے رونے سے عذاب ديا جاتا ہے۔(صحيح البخارى:1288)
ذرا سوچو کہ تم ماتم ونوحہ کرکےحب اہل بیت کاثبوت دے ہواور ثواب دارین حاصل کررہے ہو یا شہدائے کربلا کو تکلیف پہنچارہے ہو؟
(7)اسی طرح تعزیہ کے پس منظر میں صحابہ کرام کو سب وشتم کیا جاتا ہے بالخصوص امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیا جاتا ہے ، صحابہ کو گالی دینا شیعہ کی خاص پہچان ہے مگر آج شیعہ کے جھانسے میں بہت سارے مسلمان آگئے اور مسلمان بھی بعض صحابہ کو برا بھلا کہنے لگے ۔ اس بارے میں مختصرا یہ جان لیں کہ ایک دل میں ایمان اور صحابی کا بغض دونوں جمع نہیں ہوسکتا ہے ۔ اگر دل میں ایمان ہے تو صحابی کی محبت ہوگی اور اگر کوئی آدمی صحابی سے بغض رکھتا ہے تو اس کے دل میں ایمان نہیں ہوگا۔
(8) تعزیہ میں ایک عمل خود کو تکلیف دینا ہے جیسے تلوار وچاقوسے خودکو زخمی کرنا، دھاردار اسلحے سے جسم لہولہان کرنا، آگ زنی   ، سینہ کوبی ا   ور زنجیر زنی کرکے خود کو نقصان پہنچانا ۔یہ سارے شیعی اعمال ہیں اور یہ ان کے برے کرتوت کے نتیجے ہیں جن کے سبب بطور ذلت ورسوائی یہ قیامت تک خود کو اذیت وتکلیف میں مبتلا رکھیں گے ۔واضح رہے ان المناک حرکتوں کااسلام سے اور شرعی تعزیت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام تو خود کو ادنی سی تکلیف پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ شیعوں کی دیکھادیکھی  کہیں کہیں بریلوی لوگ بھی اسی طرح کی حرکتیں انجام دیتے ہیں ۔برصغیر میں اکثر بریلوی تعزیہ میں تلوار، زنجیراور لاٹھیوں سے عجیب وغریب  کھیل ، تماشے ،کرتب اور سرکس والا عمل کرتے ہیں ، یہ عمل چوک چوراہوں ، گلی کوچوں اور بازاروں میں انجام دیا جاتا ہے ،ان حرکتوں کو دیکھ ایسے  بدنصیب مسلمانوں پر افسوس ہوتا ہے ۔ کیا نبی کی امت ایسی ہوسکتی ہے اور ایسے لوگ خود کو اصلی سنی کہتے ہیں ۔ میں نے سنا ہے کہ ان بریلویوں کو بعض جگہوں پر شیعوں سے تعزیہ منانے کے پیسے بھی ملتے ہیں اور ان پیسوں سے یہ بریلوی دھوم دھام سے تعزیہ مناتے ہیں ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ صحابہ کو گالی دینے والے شیعوں کی محفل عزاداری میں بریلوی شوق سے جاتے ہیں ، ان کی طرح ماتم اور تعزیہ مناتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ دیوبندی یا اہل حدیث سے سلام کرنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ان  کو بدمدہب اور بدعقیدہ کہاجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گمراہ مسلمانوں کو گمراہ فرقوں سے ہی محبت ہوسکتی ہے ۔
(9) تعزیہ میں غیراللہ کے نام کی نذرونیاز کی جاتی ہے ، مختلف قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں اور انہیں مزارات پر پیش کئے جاتے ہیں اور لوگوں میں بھی تقسیم کئے جاتے ہیں اور جھوٹی روایات کا سہارا لے کر ان نذرونیاز کےجھوٹے  فضائل بیان کئے جاتے ہیں  ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ نذر عبادت ہے اور غیراللہ کے لئے نذر ماننا اور غیراللہ کے لئے نیاز کرنا شرک ہے اور اللہ شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔
(10)مسلمانوں میں الحمدللہ اہل حدیث جماعت بدعتوں سے بالکلیہ دور ہے ، رسم تعزیہ داری سے بھی دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے  بلکہ اس کفریہ اور شرکیہ رسم کی سخت لہجہ میں کوئی جماعت تردید کرتی ہے تووہ  اہل حدیث جماعت ہی ہے ۔ دیوبند کے علماء بھی تعزیہ کو نہیں مانتے اور اپنی عوام کو اس سے روکتے ہیں پھر بھی کہیں کہیں دیوبندی عوام اس کام میں ملوث ہیں ۔ جہاں تک بریلویوں کا مسئلہ تو یہ لوگ ڈنکے کی چوٹ پہ علی الاعلان تعزیہ بناتے ، مناتے اور یہ باورکراتے ہیں کہ اصلی مسلمان اور اہل بیت سے سچی محبت کرنے والے یہی بریلوی ہیں جبکہ میں بتاچکاہوں کہ تعزیہ بدعت ہے، کفربھی ہے اور اس میں شرکیہ عمل بھی پایا جاتا ہے ۔ کم ازکم بریلوی اپنے اعلی حضرت احمد رضا کے فتوی جو رسالہ تعزیہ داری میں موجود ہے اسی  کومان لے اوراسی پر عمل کرلےیہی بہت ہے ۔ اس رسالہ میں احمد رضا کا کہنا ہے "اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت وناجائز وحرام ہے۔
ویسے تعزیہ سے متعلق بہت سارے اور بھی امور پائے جاتے ہیں جن کا اسلام سے تعلق نہیں ہے تاہم میں نے اہم ترین دس امور کا ذکر کیا ہے اور خلاصہ کے طور پر ایک جملہ میں یہ سمجھ لیں کہ تعزیہ داری سرے سے ناجائز اور حرام ہے اورتعزیہ کےساتھ جتنے اعمال انجام دئے جاتے ہیں وہ بھی تعزیہ کی طرح ہیں ناجائز ہیں کیونکہ جس عمل کی بنیاد ہی حرام ہے اس سے جڑے تمام اعمال بھی حرام ٹھہریں گے ۔ اور قرآن وحدیث کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیہ داری کرنےو الے مذکورہ بالا اعمال سے توبہ کئے بغیر مرگئے تو اللہ کے یہاں ان کی بخشش محال ہےاور جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں یعنی حسن وحسین رضی اللہ عنہما وہ خود بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے نام پر بے پناہ بدعت ومعصیت اور کفروشرک کرنے والے لوگ جنت میں داخل ہوں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے  کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے تاکہ صراط مستقیم پرآجائیں اور مذکورہ بالا کفرومعصیت سے تائب ہوکر سچے ایمان والے اور پکے توحیدوالے بن جائیں ۔
 

مکمل تحریر >>

Sunday, June 23, 2024

استعانت کے باب میں بریلویوں کا ایک فریب

 
استعانت کے باب میں بریلویوں کا ایک فریب
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ – سعودی عرب
 
بریلویت ایک ایسے طریقے کا نام ہے جس میں  اللہ کو چھوڑ کر غیراللہ سے مانگا جاتا ہے ، غیراللہ کو سجدہ کیا جاتا ہے ، اس کو مشکل کشا اورحاجت روا مانا جاتا ہے اس لئے بریلویوں کو جب اولاد چاہئے، یا مصیبت دور کرنا ہو، یا روزی روٹی کا سوال ہو، یہ لوگ مرے ہوئے مردوں کو پکارتے ہیں اور ان سے اولاد، بارش، روزی روٹی  بلکہ سب کچھ مانگتے ہیں اور مصیبت میں بھی غیراللہ کو ہی پکارتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان بریلوں کی تمام تر بھاگ دوڑ قبرومزار اور میت وغیراللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ حالانکہ یہ شرک کا راستہ ہے جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے ۔
جب ان قبرپرستوں کو فرمان الہی اور فرمان رسول سنایا جاتا ہے تو حق تسلیم کرنے کی بجائےالٹا حق بتانے والے کو ہی غلط بتاتے ہیں اور اپنی بات منوالے کے لئے باطل استدلال پیش کرتے ہیں ۔اس تحریر میں ان لوگوں کے ایک باطل استدلال کی حقیقت آپ سے بیان کروں گا۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم بریلوی کو کہتے ہیں کہ غیراللہ سے مدد نہ مانگو، غیراللہ کو نہ پکارا تو بریلوی جواب دیتا ہے کہ پھر تم ماں سے روٹی کیسے مانگتے ہو، باپ سے پیسہ کیوں مانگتے ہو، درزی سے کپڑا کیوں سلاتے ہو؟ اس طرح متعدد باتیں بیان کرتا ہے ۔ بریلوی کا یہ جواب بالکل باطل ہے ۔ آئیے اس بات کی حقیقت جانتے ہیں ۔
مدد طلب کرنا جسے عربی میں استعانت کہتے ہیں ۔ اس کی دو قسمیں ہیں ۔
(1) استعانت کی پہلی قسم "ما تحت الاسباب"ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم دوسروں  سے ایسے امور میں مدد حاصل کرسکتے ہیں جو اسباب ووسائل کے تحت ہوں  یا یہ کہہ لیں کہ جو اس کے اختیار میں ہو جیسے ماں سے کھانا مانگنا، باپ سے پیسے مانگنا، درزی سے کپڑے سلاناوغیرہ ۔ ان کے بس میں یہ اختیارات ہیں اس لئے ان چیزوں میں دوسرے سے مددلے  سکتے ہیں لیکن ان کے بس میں اولاد دینا نہیں ہے تو ان سے اولاد نہیں مانگیں گے ۔
(2)استعانت کی دوسری قسم "مافوق الاسباب" ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جواسباب کے تحت نہ ہو، اسباب ووسائل سے اوپر کی چیز ہویا یہ کہہ لیں کہ جس بات کا اختیار کسی مخلوق کو نہ ہو وہ چیز مخلوق سے مانگنا شرک ہے ، وہ صرف اور صرف اللہ سے ہی مانگیں گے ۔
گویا مدد حاصل کرنے کی دو قسمیں ہیں مگربریلوی حضرات ان دونوں قسموں کو خلط ملط کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں  اور باور کرانا چاہتے ہیں کہ غیراللہ کو مدد کے لئے پکارنا جائز ہے جبکہ ہمیں صاف صاف معلوم ہورہا ہے کہ مخلوق سے ہم وہی چیز مانگ سکتے ہیں جس کا اللہ نے اسے اختیار دیا ہے یعنی جو استعانت کی پہلی قسم سے تعلق رکھتی ہے اور مخلوق سے ہم وہ چیز نہیں مانگ سکتے ہیں جس کا اختیار اللہ نے اسے دیا ہی نہیں ہے ۔ بطور مثال بخاری کی ایک حدیث پر غور کریں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مردی ہے ، نبی ﷺ اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے ہیں:
يَا فَاطِمَةُ بنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي ما شِئْتِ مِن مَالِي، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شيئًا.(صحيح البخاري:4771)
ترجمہ: اے فاطمہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں، میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔
دنیا میں نبی ﷺ کے پاس مال دینے کا اختیار تھا تو آپ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ اگر تجھے مال کی ضرورت ہو تو مانگ سکتی ہو مگر آخرت میں اللہ کے یہاں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاسکوں گا۔
اس بات کو سمجھ لینے کے بعد کہ مخلوق سے ہرچیز نہیں مانگ سکتے ہیں ، مخلوق سے صرف "ماتحت الاسباب " ہی مانگ سکتے ہیں اور "مافوق الاسباب " کا مخلوق سے سوال کرنا شرک ہے ۔
 کوئی آپ سے سوال کرے کہ غیراللہ کو پکارنا شرک کیوں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پکار اور دعا عبادت ہے اور جملہ قسم کی عبادت صرف اور صرف اللہ کے لئے ہے ۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ "، ثُمَّ قَرَأَ: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 ". (سنن ترمذی:3372، صححہ البانی)
ترجمہ:دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» ”تمہارا رب فرماتا ہے، تم مجھے پکارو، میں تمہاری پکار (دعا) کو قبول کروں گا، جو لوگ مجھ سے مانگنے سے گھمنڈ کرتے ہیں، وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے“ (غافر: 60) پڑھی“۔
اس میں حدیث بھی ہے اور قرآن کی آیت بھی ۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا عبادت ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ جملہ قسم کی عبادت اللہ کے لئے ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے علاوہ غیرکو پکارنا عبادت کی ضد ہے جسے شرک کہا جاتا ہے ۔ اور قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اللہ کو ہی پکاریں گے  ، وہ ہماری دعا کو قبول کرتا ہےاور جو اللہ کو نہیں پکارتا ہے وہ جہنم رسید کیا جائے گا۔ اللہ اکبر۔غیراللہ کو پکارنے کا انجام کس قدر بھیانک ہے ؟اسی لئے تو  متعدد مقامات پر اللہ نے حکم دیا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو جیسے اللہ کا یہ فرمان ہے:
وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ(الاسراء :23)
ترجمہ:اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا۔
کوئی آپ سے یہ کہے کہ پھر اللہ نے قرآن میں وسیلہ اختیار کرنے یا نماز سے مدد مانگنے کا حکم کیوں دیا ہے، نماز بھی تو غیراللہ ہے بلکہ ایک بریلوی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ نے پچاس وقت کی نماز فرض کی تھی، موسی علیہ السلام کی وجہ سے پانچ وقت کی نماز ہوئی تو تم لوگ پانچ وقت کی نماز کیوں پڑھتے ہو، پچاس وقت کی نماز پڑھو؟
واضح رہے کہ ہم موسی علیہ السلام کی وجہ سے پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتے ہیں بلکہ اللہ نے ہی نماز کا حکم دیا ہے اور اللہ نے ہی پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے ، اس لئے اسے اللہ کا حکم مان کراس پر عمل کرتے ہیں ۔  
ودسری بات  یہ ہے کہ اللہ کو پکارتے ہوئے تین قسم کے وسیلے اختیار کرسکتے ہیں یعنی ہمارے لئے تین قسم کے وسیلے جائز ہیں ۔
پہلا وسیلہ : اللہ کے اسمائے حسنی کا، ہم اللہ کے ناموں کا وسیلہ لگاکر اللہ کو پکار سکتے ہیں ۔
دوسراوسیلہ : اپنے نیک عملوں کا ، ہم اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دے کر اللہ کو پکار سکتے ہیں جیسے غار میں پھنسے تین لوگوں نے اپنے اپنے نیک عمل کاوسیلہ لگایا۔
تیسراوسیلہ: زندہ لوگوں کا، ہم زندہ نیک وموحد آدمی سے دعا کرواسکتے ہیں جیسے صحابہ کرام نے حیات رسول میں نبی ﷺ سے دعا کروائیں، عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی، اور جیسے ہم زندہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ دعا میں یاد رکھنا یا میرے لئے دعا کرنا ، یہ وسیلہ جائز ہے ۔
ان تین صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت میں وسیلہ لگاتا ہے  تو جائز نہیں ہے جیسے کسی مخلوق کی ذات کا وسیلہ لگانا جائز نہیں ہے، کسی میت کا وسیلہ لگانا جائز نہیں ہے۔جو لوگ اس طرح دعا کرتے ہیں کہ نبی کے وسیلہ سے دعا قبول فرما یا فلاں پیرومرشد کے صدقہ طفیل دعا قبول فرما ، یہ جائز نہیں ہے ۔
سورہ مائدہ میں اللہ کا وسیلہ اختیار کرنے کا جو حکم ہے اس کا مطلب ہے کہ نیک اعمال کا وسیلہ اللہ کے لئے اختیار کرواور اسی طرح نماز سے مدد طلب کرنا بھی نیک عمل کا وسیلہ لینا ہے جو وسیلہ کی جائز قسم ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک مومن کو صرف اللہ کو ہی مدد کے لئے پکارنا چاہئے اسی بات کا ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے اس سلسلے میں چند دلائل ملاحظہ فرمائیں اور اپنے ایمان واعمال کی اصلاح کریں ۔
ہم ہرنماز کی ہررکعت میں یہ آیت تلاوت کرتے ہیں ۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (اے اللہ !ہم فقط تیری ہی عبادت کر تے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چا ھتے ہیں) اس آیت میں ہم اللہ سے وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے سوا کسی سے مدد نہیں مانگیں گے ، صرف تجھ سے ہی مدد مانگیں گے گویا یہ آیت ہمیں غیراللہ سے مدد مانگنے سے روکتی ہے ۔
اوراللہ تعالی نےواضح طور پر تمام قسم کے غیراللہ کو پکارنے سے منع فرمادیا ہے ، فرمان الہی ہے:
وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ(یونس:106)
ترجمہ:اور اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو جو نہ تجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تو نے یہ کام کیا تو ظالموں میں شمار ہو گا۔
اللہ نے یہاں تک بتادیا کہ تم جن مردوں کو مدد کے لئے پکارتے ہو وہ قامت تک تمہاری پکار کا جواب نہیں دے سکتے ہیں ، اللہ فرماتا ہے :
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّـهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ * وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ(الاحقاف:5-6)
ترجمہ:اور ایسے لوگوں سے زیادہ کون گمراہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں جو قیامت تک ان کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کی آواز سے بھی بے خبر ہوں اور جب سب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادات سے انکار کر دیں گے۔
اسی طرح نبی ﷺ نے بھی تعلیم دی ہے کہ جب تم سوال کرو تو اللہ سے اور جب مدد مانگو تو اللہ سے ، چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ(ترمذی:2516، صححہ البانی)
ترجمہ: جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے ہمیں یہاں تک تعلیم دی ہے ، آپ مزید فرماتے ہیں :
وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ۔
ترجمہ: اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔
ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ اللہ کے علاوہ ذرہ برابر بھی کوئی دوسرا نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتا ہے لہذا ہرحال میں اور ہر کام کے لئے ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے  ۔اور جو دینی یا دنیاوی معاملات میں"ماتحت الاسباب" کے قاعدہ کے تحت  ہم ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں دراصل یہ  مسئلہ الگ ہے، ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے اچھے کاموں پر ایک دوسرے کا تعاون کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ(المائدۃ:2)
ترجمہ: اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں آپس میں تعاون کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دو۔
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے :
ما أَرَى بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنكُم أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ.(صحيح مسلم:2199)
ترجمہ: تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فا ئدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے ایسا کرنا چا ہیے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توحید پر قائم رکھے ، شرک و بدعت سے بچائے اور بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو سیدھے راستے کی ہدایت فرمائے۔
مکمل تحریر >>

Sunday, December 3, 2023

مفتی حنیف قریشی صاحب مناظرہ جیت جاتے تو کیا ہوتا؟

 
مفتی حنیف قریشی صاحب مناظرہ جیت جاتے تو کیا ہوتا؟
تحریر: مقبول احمد سلفی -جدہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس بات کو بہت سارے بھائیوں نے بیان کیا ہے کہ مفتی حنیف قریشی تو اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے گئے تھے، اور ویڈیوز سے معلوم بھی ہورہا ہے کہ مناظر ہ کا موضوع شان اولیاء تھاکیونکہ  انجینئرمحمد علی مرزاصاحب کی جس بات سے بریلویوں کو ناراضگی ہے وہ اصل بات  باباؤں کے جھوٹے کرامات کی تردید ہے ۔ ظاہر سی بات ہے بریلویت باباؤں کے کشف وکرامات کے گرد گھومتی ہے ، مرزا نے اس پر زوردار چوٹ لگائی ہے ، اسی سے بریلویت خفا ہے اور اسی خفگی کو دور کرنے مفتی صاحب گئے تھے۔
اب یہاں ٹھہر کرسوچیں کہ اگر مفتی حنیف قریشی صاحب مرزا صاحب سے مناظرہ کرلیتے اور اس مناظرہ میں مفتی صاحب  جیت بھی جاتے تو اس سے  سچے مسلمانوں کا کیا بھلا ہوجاتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اس سے ہمیں کوئی بھلائی نصیب نہیں ہوتی اور نہ عوام کے سامنے اسلام کی سچی تصویر آپاتی ۔
مفتی حنیف قریشی کو پہلے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے، وہ بریلویت سے بھی آگے نکل کر شیعیت کی اولین صف میں کھڑے نظر آتے ہیں اور بڑی بے ادبی  وگستاخی کے ساتھ اپنا کفریہ و شرکیہ عقیدہ بیان کرتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا مختلف ٹی دی چینلوں پر مفتی صاحب کس طرح جارحانہ انداز میں  قاری خلیل الرحمن جاویدصاحب کےساتھ بات کرتے ہیں ۔ ایک طرف قاری صاحب صبر وتحمل کے ساتھ اور دلائل دے کر صحیح مسئلہ بتاتے ہیں تو دوسری طرف مفتی صاحب جذباب میں گفتگو کرتے ہیں ۔
اس لئے ہمیں اس مناظرہ سے خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، مناظرہ میں مفتی صاحب کی جیت باباؤں کی جیت مانی جاتی  اور  مناظرہ نہ ہوا تب بھی کتنے  لوگ باباؤں کے کرامات کی جیت قرار دے رہے ہیں ۔ 
انجینئرمحمد علی مرزاکبھی کسی عالم دین سے مناظرہ نہیں کرسکتے ہیں ، وہ اتنے دنوں سے مناظرہ کا چیلنچ دے دے کر علماء کو بھانپ لیا ہے کہ کیسی کیسی شرط لگانی ہے جس سے مناظرہ سے فرار مل سکے ۔یقین جانیں  وہ ابھی بھی چیلنج کرے گا اور شاید جب تک زندہ رہے مناظرہ کا چیلنج کرتارہے مگر کبھی مناظرہ کے لئے بیٹھے گا نہیں ، ہمیشہ یہی کہے گا جو شرط دیا تھا وہ کہاں پوری ہوئی ، پہلے شرط تو پوری کروپھر مناظرہ کرو۔ یہی وجہ ہے کہ اہل حدیث عالم حافظ ابویحی نورپوری صاحب مناظرہ کے لئے جہلم گئے اور بغیر مناظرہ کے واپس آئے، حنفی عالم مفتی طارق مسعود صاحب مناظرہ کے لئے جہلم گئے اور بغیر مناظرہ کے واپس آئے، اور آج پھر بریلوی عالم مفتی حنیف  قریشی صاحب مناظرہ کے لئے جہلم  گئے اور بغیر مناظرہ کے واپس آئے ۔آپ ان باتوں سے اچھی طرح اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مرزا کبھی مناظرہ کی غرض سے ادنی سے ادنی عالم کا سامنا بھی نہیں کرسکتے ہیں ، جماعت کے بڑے عالم کی شرط تو صرف راہ فرار کی غرض سے ہے جیساکہ میں نے پہلے کہا کہ وہ اتنے دنوں سے مناظرہ کا چیلنج دے دے کر سیانا ہوگیا ہے اور یہ معلوم ہوگیا ہے کہ کیسی کیسی شرط لگانی ہے جس سے اسے راہ فرار مل سکے ۔
مناظرہ کے معاملہ میں میرا یہ ماننا ہے کہ مرزا کے پاس مناظرہ کی ذرہ برابر بھی  اہلیت نہیں ہے ، انہوں نے ترجمہ پڑھ پڑھ کر اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے جبکہ ہمارا دین عربی زبان میں ہے ، اس دین سے جڑے متعدد علوم وفنون ہیں ۔ دین اسلام کا ایک پائیدار عالم عربی زبان کے ساتھ قرآن وحدیث سے جڑے جملہ  علوم وفنون کا جانکار ہوتا ہے ۔ مرزا صاحب جب عربی عبارات نہیں پڑھ سکتے ، سمجھنا تو دور کی بات ہے ، انہیں اسلامی علوم و فنون سے  واسطہ نہیں ہے   پھر وہ دین اسلام کا مناظر کیسے ٹھہرے گا؟  اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ مناظر نہیں ہےیا مناظرہ کی اہلیت نہیں رکھتا ہے تو پھر علماء کا مرزا کو مناظرہ کے لئے چیلنج کرنا کیا واقعتا ٹھیک ہے؟ کیا اس سے مسلمانوں کو فائدہ ہوسکتا ہے یا نقصان ہورہا ہے اس کو پروموٹ کرکے؟
میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ  مناظرہ کے لئے مرزا کا چیلنج قبول کرنا یا مرزا کو چیلنج دینا بالکل بھی صحیح نہیں ہےوجہ صاف ہے کہ نہ وہ مناظرہ کی اہلیت رکھتا ہے اور نہ ہی وہ مناظرہ کرنا چاہتا ہے ۔ 26 /نومبرکے مناظرہ کا سب کو انتظار تھا جبکہ مرزاصاحب کے آفیشیل یوٹیوب چینل پر اتوار کے درس کا اعلان پہلے سے کیا جاچکا تھا ، اگر مرزا کو مناظرہ کرنا ہوتا تو وہ بھی مناظرہ کا اعلان کرتے یامناظرہ کے لئے خود کو فارغ رکھتے مگراتوار کو لچکرکااعلان کرکے بیٹھے ہیں ۔کیا آپ  اس  بات سے اندازہ نہیں لگاسکتے ہیں ۔
خواہ مخواہ بعض علماء نے مرزا کا نام لے کرانہیں  زیادہ ہائی لائٹ کردیا ، اب وہ لوگوں میں مشہور ہوچکا ہے لہذا ان کی غلط فہمیوں کاازالہ تو بنتا ہے مگر مناظرہ کے لئے دوبارہ کوشش کرنا بے سود معلوم ہوتا ہے ۔ علمی انداز میں ان کی غلط فہمیوں کا رد ہو یہی کافی ہے ۔مرزا کے فتنے سےبڑھ کر بھی بڑے بڑے فتنےہمارے یہاں موجود ہیں کیا ہم ان فتنوں کا حل مناظرہ ہی سمجھتے ہیں ؟ نہیں نا تو اس مرزئی فتنے کو بھی اسی انداز میں لیں ۔ ہاں آن لائن گفتگو کے لئے کسی مسئلہ پر آئے تو آن لائن مباحثہ کیا جاسکتا ہے مگر اکیڈمی جاکر اور فیس ٹو فیس مناظرہ کے لئے اب سوچنا بھی بے سود ہے۔
 
مکمل تحریر >>

Monday, September 25, 2023

ہم میلادنہیں مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں

 
ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں
تحریر: مقبول احمدسلفی
 
آپ نے باغ فدک کا واقعہ پڑھاہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محض اللہ کے رسول کی محبت میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک سے حصہ نہیں دیا تھا۔ اس میں خلیفہ اول کا ذاتی کوئی مفاد نہیں تھا، صرف اور صرف رسول اللہ کی سچی محبت کارفرما تھی مگر اس واقعہ کو بنیاد بناکر پوری شیعہ قوم ابوبکررضی اللہ عنہ کو بدنام کرتی ، گالی دیتی اور برے برے القاب سے پکارتی ہے ۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے وہ واقعہ پھر سے دہرا لیجئے تاکہ موضوع کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
٭پہلی حدیث میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مطالبہ ہے، بخاری میں حدیث اس طرح سے مروی  ہے۔
عن عائشة ان فاطمة، والعباس عليهما السلام اتيا ابا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان ارضيهما من فدك، وسهمهما من خيبر.(صحیح البخاری:6725)
ترجمہ:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ اور عباس علیہما السلام، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔
٭سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس مطالبہ پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا جواب بخاری کی اگلی روایت کے حوالہ سے پڑھیں۔
فقال لهما ابو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا نورث ما تركنا صدقة، إنما ياكل آل محمد من هذا المال"، قال ابو بكر: والله لا ادع امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته(صحیح البخاری:6726)
ترجمہ:ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔
فدک کے مطالبہ کے بعد ابوبکررضی اللہ عنہ کے جواب سے ہمیں کیا پتہ چلا؟
ہمیں یہ پتہ ابوبکررضی اللہ عنہ محبت رسول میں سراپا ڈوب کر یعنی خالص محمد ﷺ کی محبت کے پیش نظر آپ نے سیدہ فاطمہ کا مطالبہ منظور نہیں کیا۔ اس کے پیچھے ہرگزہرگز کوئی ذاتی مفاد نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی حدیث پر عمل کیا اور سنت کو زندہ کیا مگر شیعہ حضرات ابوبکررضی اللہ عنہ کی  اس خلوص بھری محبت کو بغض سے موسوم کرتےاور غصب کانام دیتے ہیں ۔
ٹھیک یہی معاملہ بریلوی حضرات کا میلادالنبی ﷺ سے متعلق اہل حدیث جماعت کے تئیں ہے ۔
ہم اہل حدیث نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کی وجہ سے آپ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں ، ہمارے سامنے آپ ﷺ کے متعدد فرامین ہیں جو میلادالنبی منانے سے روکتے ہیں مگر بریلوی حضرات ہماری اس محبت کو عداوت اور گستاخی کا نام دیتے ہیں ۔
آئیے چند نصوص آپ کی خدمت میں پیش کرکے ہم رسول اللہ ﷺسے سچی محبت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔
اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو اپنی اور رسول کی اطاعت کا واجبی حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران:32)
ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ منہ پھیریں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔
اس آیت میں صرف یہی نہیں کہاگیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ جو اطاعت نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ گویا اطاعت الہی اور اطاعت رسول ، محبت الہی کا ذریعہ ہے ۔
دوسری جگہ اللہ قرآن میں رسول کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء:65)
ترجمہ:سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول کے حکم وارشاد میں ذرہ برابر بھی  دل میں تنگی محسوس نہیں کرنی ہے، بلاچوں وچرا آپ کے حکم کو پورے طورپرماننا ہے یعنی اتباع رسول کا کامل نمونہ پیش کرنا ہے۔ یہی اتباع رسول محبت الہی اور محبت رسول کا سبب ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)
ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی محبت کا معیار اتباع رسول کو قرار دیا ہے ، یہی معیار رسول کی محبت کا بھی ہے یعنی جو رسول کی اطاعت کرے گا وہ اللہ سے بھی محبت کرتا ہے اور رسول سے بھی محبت کرتا ہے ۔
ان چند نصوص سے معلوم ہوا کہ ااتباع رسول محبت رسول کا نام ہے ، اس کے برخلاف کوئی رسول کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے ، یا آپ نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان کاموں سے نہیں رکتا ہے تو وہ رسول سے محبت نہیں کرتا بلکہ وہ رسول سے عداوت کرتا ہے ۔
پہلے وہ نصوص دیکھیں جن میں آپ ﷺ نے ہمیں مرضی عمل  کرنے اور  دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرنےسے منع کیا ہے ،یعنی صرف اور صرف وہی کام کرنا ہے جو جس کا حکم آپ ﷺ نے دیا ہے اور جس کام کا حکم نہیں دیا ہے وہ نہیں کرنا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
من أحدث في أمرِنا هذا ما ليس فيه فهو ردٌ(صحيح البخاري:2697)
ترجمہ: جس کسی نے ہمارے دین میں نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے‘ تو وہ مردود ہے۔
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے : وَكلَّ محدثةٍ بدعةٌ وَكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ(صحيح النسائي: 1577)
ترجمہ: اور ہر نو ایجاد شدہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
اب وہ نصوص دیکھیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو رسول کی اطاعت نہیں کرتےاور آپ کا حکم نہیں مانتے وہ ظالم ہیں، ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور وہ حوض کوثر سے دھتکارے جائیں گے ۔
فرمان الہی ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَیرِ هُدًى مِنَ اللهِ إِنَّ اللهَ لَا یهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ (القصص:50)
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو اللہ تعالى کی (نازل کردہ شرعی) ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے ۔ یقینا اللہ تعالى ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:63)
ترجمہ:جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انھیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا فرَطُكم على الحوْضِ ، وليُرفَعنَّ رجالُ منكم ثمَّ ليختلِجن دوني ، فأقولُ : يا ربِّ أصحابي ؟ فيُقالُ : إنَّك لا تدري ما أحدثوا بعدك(صحيح البخاري:6576)
ترجمہ: میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹادیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
خلاصہ کلام یہ ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت  ویسے ہی کرتےہیں جیساآپ نےاطاعت کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے ، یہی اطاعت آپ سے محبت کی پہچان ہے اور آپ نے ہمیں دین میں نیا کام کرنے سے منع فرمایا ہے جس سے ہم رکتے ہیں ، یہ بھی اطاعت کا حصہ ہے اور یہ محبت رسول کی پہچان ہے ۔ جو رسول سے محبت کا دعوی کر ے مگر آپ کا حکم نہ مانے ، آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے ، وہ رسول سے محبت نہیں کرتا ہے اور دین میں نیا نیا کام ایجاد کرے وہ بھی رسول سے محبت نہیں کرتا کیونکہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کررہا ہے ۔ اب ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر ہم عیدمیلادالنبی نہیں مناتے کیونکہ آپﷺ نے ہمیں نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس پر عمل کرکے دکھایا ، یہ دین میں نئی ایجاد ہے تو ہم سچے محب رسول ہیں کہ نہیں ؟ اسی لئے  کہتے ہیں کہ ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں لیکن ہماری سچی محبت کو عداوت وگستاخی کا نام دیا جاتا ہے ، یہ ٹھیک شیعوں کے  معاملہ  جیساہے جس طرح وہ باغ فدک کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔یا لیت قومی یعلمون
اسی تناظر میں  آخر میں یہ  بات عرض کرتا چلوں کہ چند دن پہلے بریلویوں کے امیر الیاس قادری عطاری کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ بتارہے تھے کہ اگر کوئی کہے کہ مجھے باپ سے محبت ہے مگر وہ اس کی بات نہ مانے تو وہ نافرمان ہے۔
یہی بات عربی شعر میں کچھ اس انداز میں کہی گئی ہے ۔
لوکان حبک صادقا لاطعتہ - ان المحب لمن یحب مطیع
شعر کا ترجمہ: اگر تمہاری محبت سچی ہوتی توتم اسکی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کامطیع و فرمانبردار ہوتا ہے۔

مکمل تحریر >>

Thursday, September 29, 2022

بریلوی کتاب "جاء الحق" کی روشنی میں عیدمیلاد النبیﷺ منانا بدعت ہے


 بریلوی کتاب "جاء الحق" کی روشنی میں عیدمیلاد النبیﷺ منانا بدعت ہے

مقبول احمد سلفی /جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ
عید میلاد النبی ﷺیا اس کا جشن قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے اس لئے عیدمیلادمنانا بدعت ہے۔بدعت گمراہی کا نام ہے اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔عیدمیلاد کے بدعت ہونے پر بے شمار دلائل ہیں مگر میں یہاں ایک مشہور کتاب "جاء الحق" کی روشنی میں اسے بدعت ثابت کرتا ہوں تاکہ میری اس تحریر سے بریلوی بھی عبرت حاصل کریں۔
کتاب "جاء الحق" کے بارے میں آپ جانتے ہی ہیں، یہ بریلوی مکتب فکر کی معتبر کتاب ہے، اس کے مصنف مفتی احمد یارخاں نعیمی ہیں۔
چلئے پہلے بدعت کی تعریف دیکھ لیتے ہیں پھر میلاد کی حیثیت معلوم کریں گے چنانچہ بدعت کی تعریف کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب اپنی مشہور کتاب"جاء الحق "کے صفحہ 214 پر لکھتے ہیں:
"بدعت کے شرعی معنی ہیں وہ اعتقاد یا وہ اعمال جو کہ حضور علیہ الصلاة والسلام کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے۔ "
بریلوی مفتی صاحب سے آپ نے یہاں بدعت کا شرعی معنی سمجھ لیا ، وہ یہ ہے کہ وہ اعتقاد یا عمل جو نبی ﷺ کے زمانہ میں نہ ہوا ہو وہ بدعت ہے۔
اب میلاد سے متعلق مفتی صاحب کا نظریہ جانتے ہیں چنانچہ مفتی احمد یار خاں نعیمی بریلوی صاحب سخاوی کا قول نقل کرتے ہوئے"جاء الحق"کے صفحہ 236 پر لکھتے ہیں:
"لم يفعله أحد من القرون الثلاثة , إنما حدث بعد"
ترجمہ:میلاد شریف تینوں زمانوں میں کسی نے نہ کیا ، بعد میں ایجاد ہوا ۔
عربی عبارت کا اردوترجمہ بھی اسی کتاب سے لیا ہوں ، اس عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ عید میلاد النبی نہ تو نبی ﷺ کے زمانے میں تھی ، نہ ہی صحابہ کرام کے زمانے میں تھی اور نہ ہی تابعین و تبع تابعین کے زمانوں میں تھی۔ تو جو چیز نبی ﷺ ، صحابہ اور تابعین کے دور میں موجود ہی نہیں تھی اس کا صاف مطلب ہے وہ لوگ ان زمانوں میں عیدمیلاد نہیں مناتے تھے۔
ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ وہ اعتقاد یا عمل جو نبی ﷺ کے زمانے میں نہ ہو وہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے جیساکہ احمدیارخان نعیمی نے ذکر کیا ہے ، اس لحاظ سے عیدمیلادالنبی منانابدعت ہے کیونکہ یہ عمل عہد رسول میں موجود نہیں تھا۔ آپ سب نے اندازہ کرلیاکہ ایک بریلوی مفتی و عالم بھی اپنے قلم سے عیدمیلادالنبی کو بدعت ہونے کا اقرار کرتا ہے۔


نوٹ: حوالہ چیک کرنے کے لئے دیکھیں: جاء الحق وزھق الباطل(المعروف فیصلہ مسائل) جلداول
ناشر:مفتی اقتدار احمد خان مالک نعیمی کتب خانہ گجرات


مکمل تحریر >>

Sunday, September 25, 2022

قبروالوں کو کیوں سلام کیا جاتا ہے؟

 قبروالوں کو کیوں سلام کیا جاتا ہے؟

مقبول احمد سلفی
دعوہ سنٹر جدہ- حی السلامہ((21.09.2022
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جب ہم کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کریں یا اس کے پاس سے گزریں تو اسے سلام کریں ۔ سلام کرنا مسنون عمل ہے اور کسی پر سلام کیا جائے تو اس کا جواب دینا واجب ہے ۔ جو کوئی مسلمان سلام سن کر جواب نہ دے وہ واجب چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا۔ سلام سے محبت بڑھتی ہے اور آپس کی نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے اس لئے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سلام عام کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ اس تحریر میں قبرستان میں سلام کرنے سے متعلق وضاحت مقصود ہے کہ قبرستان میں کیوں سلام کرکے داخل ہوا جاتا ہے؟ کیا مردے ہمارا سلام سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں؟
تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مردے سلام سنتے ہیں یا سلام کا جواب دیتے ہیں یہ غیب کا معاملہ ہے اس کے لئے قرآن وحدیث سے واضح دلیل چاہئے۔ جب قرآن وحدیث میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں تو قرآن کی ایک آیت یا ایک بھی صحیح حدیث میں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ مردے سلام سنتے ہیں یا سلام کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بہت ساری آیات اور صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مردے نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ جواب دے سکتے ہیں ۔ ان عمومی دلائل کی روشنی میں ہم یہ کہیں گے کہ مردے نہ تو سلام سنتے ہیں اور نہ ہی سلام کا جواب دیتے ہیں ۔
ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مردے نہ سلام سنتے ہیں اور نہ ہی جواب دیتے ہیں تومردوں کو سلام کیوں کیا جاتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اہل قبور کو سلام کرنا ، ان کے حق میں سلامتی کی دعا کرنا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مردوں سے سلام کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا ہے بلکہ قبرستان میں داخل ہونے یا اہل قبور کے حق میں دعاکرنے کی تعلیم دی ہے ۔ چنانچہ پہلے وہ دعا دیکھیں پھر مزید وضاحت کرتا ہوں۔ صحیح مسلم میں کتاب الجنائز کے تحت ایک باب ہے :باب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لأَهْلِهَا(باب: قبر میں داخل کرتے وقت کیا کہنا چاہئیے اور قبر والوں کے لئے دعا کا بیان)
اس باب کے تحت تین احادیث مروی ہیں جن میں قبرستان میں داخل ہونے کی دعا وارد ہے ۔
 (1)پہلی حدیث:السلام عليكم دار قوم مؤمنين، واتاكم ما توعدون، غدا مؤجلون، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، اللهم اغفر لاهل بقيع الغرقد(صحیح مسلم:2255)
 ترجمہ:سلام ہے تمہارے اوپر اے گھر والے مؤمنو! آ چکا تمہارے پاس جس کا تم سے وعدہ تھا کہ کل پاؤ گے ایک مدت کے بعد اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ملنے والے ہیں۔ یا اللہ! بخش بقیع غرقد والوں کو۔
(2)دوسری حدیث:السلام على اهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستاخرين، وإنا إن شاء الله بكم للاحقون(صحیح مسلم:2256)
ترجمہ:سلام ہے ایماندار گھر والوں پر اور مسلمانوں پر اللہ رحمت کرے ہم سے آگے جانے والوں پر اور پیچھے جانے والوں پر اور ہم، اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔
(3)تیسری روایت:السلام عليكم اهل الديار من المؤمنين والمسلمين، وإنا إن شاء الله للاحقون اسال الله لنا ولكم العافية (صحیح مسلم:2257)
ترجمہ: سلام ہو تم پر اے صاحب گھروں کے مؤمنوں اور مسلمانوں سے اور تحقیق ہم اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں، ہم اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔
ان تینوں دعا کے الفاظ اور صحیح مسلم میں جس باب کے تحت یہ دعا درج ہے وہ باب اس باب کی طرف اشارہ کناں ہیں کہ یہاں سلام سے مقصود مردوں کو سلامتی کی دعا دینا ہے اس لئے صرف سلام کے الفاظ وارد نہیں ہوئے بلکہ سلام کے الفاظ کے بعد مزید دو تین جملے ہیں جن کو آپ کلام کہہ سکتے ہیں ۔
اگر مردوں کو سلام کرنا مقصود ہوتا تو ان کا جواب دینا بھی واجب ہوجاتا ہے جبکہ ہم میں کسی کو مردوں کا جواب نہیں سنائی دیتا ۔ اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ مردے سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں پھر ان کی بات کی روشنی میں مردے گنہگار ٹھہریں گے کیونکہ ان کی طرف سے جواب نہیں آتا۔ اور پھر سلام کرنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے سلام کیا جائے پھر دوسرا کلام کیا جائے جبکہ قبرستان میں داخل ہونے والی دعا میں سلام کے ساتھ مزید دوتین جملے ایک ساتھ وارد ہوئے ہیں جو واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ جملے میت کے حق میں سلامتی اور عافیت کے لئے ہیں۔
صحیح مسلم کی علاوہ بھی جس کتاب حدیث میں قبرستان کی دعا وارد ہے وہاں بھی دعا یا مغفرت کے باب میں وارد ہے ، میت سے سلام کرنا مقصود ہوتا ہے تو باب باندھا جاتا کہ میت سے سلام کرنے کا باب یا میت سے سلام کرنے کا طریقہ جیساکہ سلام کرنے والی احادیث کے تحت کتب حدیث میں ابواب ملتے ہیں ۔ امام نسائی کا قبرستان میں داخل ہونے والی دعا پر باب یہ ہے: بَابُ: الأَمْرِ بِالاِسْتِغْفَارِ لِلْمُؤْمِنِينَ(باب: مسلمانوں کے لیے مغفرت طلب کرنے کے حکم کا بیان)
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ میت کو سلام کرنا گویا اس کو سلامتی کی دعا دینا ہے ، یہ سلام ٹھیک اسی طرح ہے جیسے ہم رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دوسرے تمام مسلمانوں پر نماز کے تشہد میں سلامتی کی دعا دیتے ہوئے کہتے ہیں ۔ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ(صحیح البخاری:831)یعنی ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ یہاں پر ہم کسی کو سلام نہیں کررہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے لئے اور دوسرے نیک بندوں کے لئے اللہ سے سلامتی کی دعا کرتے ہیں ۔
بات بالکل واضح ہوگئی کہ قبرستان میں میت کو سلام کرنا گویا اس کو سلامتی کی دعا دینا ہےاور میت ہمارا سلام نہ سنتا ہے اور نہ جواب دیتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ بعض احادیث میں اس طرح کا ذکر ملتا ہے کہ مردے سلام سنتے اور جواب دیتے ہیں جیساکہ الجامع الصغیر (8043) میں ایک روایت آئی ہے ۔
ما منْ عبدٍ يمرُّ بقبرِ رجلٍ كان يعرفُهُ في الدُّنيا فسلَّمَ عليهِ إلا عرفهُ وردَّ عليهِ السلامَ(السلسلة الضعيفة:4493)
ترجمہ:قبر والا دنیا میں جس شخص کا واقف تھا،وہ اگر اس کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے سلام کہتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے ۔
اس حدیث کو علامہ سیوطی سمیت بہت سے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ، شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع اور سلسلہ ضعیفہ میں درج کیا ہے۔ اس طرح کی مزید اور روایات مروی ہیں مگر کوئی بھی سندا صحیح نہیں ہے ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, September 20, 2022

عقائد سے متعلق چند سوالوں کے جواب

 عقائد سے متعلق چند سوالوں کے جواب

جواب از مقبول احمد سلفی (جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سوال(1): کیامردے سنتے ہیں اور انکے لیے جو ختم دلاتے وہ ان تک پہنچتاہے، اسی طرح جمعرات کو جو روٹی حلوہ انکے نام بھیجا جاتا وہ کھاتے ہیں یا اسکا اجر انہیں ملتاہے؟
جواب: نہ مردے سنتے ہیں، نہ فاتحہ خوانی و ختم ان تک پہنچتی ہے، نہ جمعرات کا پکا حلوہ کھاتے ہیں ، نہ ان چیزوں کا انہیں اجر ملتا ہےکیونکہ دین اسلام میں ان باتوں کوئی دلیل نہیں ہے یعنی مردے سنتے ہیں اس کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ دلیل ملتی ہے کہ مردے نہیں سنتے ،دیکھیں سورہ روم آیت نمبرباون۔اسی طرح جمعرات کو میت کے نام سے روٹی حلوہ پکانے کی دلیل نہیں ملتی ہے، کوئی ایسا عمل کرے تو یہ بدعت ہے اور وہ پکاہوا کھانا نہ مردے کھاتے ہیں ، نہ ان کھانوں کا انہیں اجر ملتا ہے۔
اگر کوئی قرآن وحدیث کی بات نہ مانے ، اپنی جھوٹی باتوں کو صحیح کہے توایسے آدمی کو قبرستان لے جائیں ساتھ میں پکا ہوا کھانا لے جائیں اور یہ سب سوالات وہاں قبرستان میں اس سے پوچھیں کہ بتاؤ مردہ کیسے سنتا ہے، تم یہاں پکار کر مجھے مردے کی آواز سناؤ، تم یہاں حلوہ کھاتے مردے کو دکھاؤ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
سوال(2):کیا روحیں ہر جمعرات گھروں کو لوٹتی ہیں؟
جواب: ہرجمعرات کو روح دنیا میں آنے کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ مرنے کے بعد کبھی بھی انسان کی روح دنیا میں لوٹ کر نہیں آتی۔قرآن میں مذکور ہے کہ انسان کے دنیا سے مرنے کے بعد اس کی روح عالم برزخ میں ہوتی ہے جہاں سے لوٹ کر دنیا میں ہرگز نہیں آسکتی ہے یہاں تک کہ قیامت نہ قائم ہوجائے ۔ سورہ المومنون آیت نمبر سو دیکھیں ۔
 یہ ہندؤں اور کافروں کا عقیدہ ہے کہ مردہ  انسان کی روح دنیا میں لوٹ کر آتی ہے ، ایک مسلمان کو کافروں کے عقائد سے بچنا چاہئے اور اسلامی عقیدہ اپنانا چاہئے۔
سوال(3): کیاقبروالے اولیاء اللہ زندہ انسانوں کی بات سنتے یا جواب دیتے ہیں؟
جواب:قبر میں مدفون اولیاء دنیا والوں کی نہ آواز سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں، متعدد آیات ہیں جن میں کہاگیا ہے کہ مردے نہیں سنتے ، تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ہیں ۔ پھر بھی کوئی مسلمان نہ مانے تو ایسے مسلمان کو پکڑ کر قبر پر لے جائیں اور وہاں اس سے پوچھیں کہ  اب یہاں اپنے مردوں کو پکارو ، اور مجھے ان مردوں کی بولیں سناؤ۔ یہ بدعتی اس طریقے سے ہی مان سکتے ہیں ۔
سوال(4): کیاالله کے علاوہ کسی اور کا (انبیاءورسل،صحابہ کرام،اولیاء اللّٰہ)وسیلہ یا صدقہ دے کر رب سے مانگنا جائز ہے؟
جواب:سورہ غافر(60) میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم مجھے پکارو ، میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ براہ اور بغیر کسی وسیلے کے اللہ کو پکارے یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ اللہ سے مانگتے وقت کسی نبی، ولی یا صحابی کا وسیلہ لگانا جائز نہیں ہے ۔پکار، دعا اور مانگنا عبادت ہے اور عبادت میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جائے گا۔
سوال(5):کیا مزاروں پہ چادریں چڑھائی جا سکتی ہیں یا وہاں کوئی حلال جانور ذبح کرنا جائز ہے؟
جواب: مزار اس قبر کو کہتے ہیں جس کو پختہ کردی گئی یا اس پر عمارت بنادی گئی ہو جبکہ اسلام نے قبروں کو پختہ کرنے ، اس پر عمارت بنانے اور میلہ لگانے سے منع کیا ہے ۔ اس لئے اگر کہیں کوئی قبر پکی یا عمارت والی تو وہاں جانا ہی نہیں چاہئے بلکہ اس قبر کو ڈھاکے زمین کے برابر کردینا چاہئے جیساکہ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت علی کو حکم دیا تھا کہ کہیں اونچی قبر دیکھو تو زمین کے برابر کردو۔ اس لئے نہ مزارات پہ جانا چاہئے ۔نہ ان پر چادر چڑھانا چاہئے۔ اسی طرح قبروں پر جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے ، اللہ تعالی نے سورہ مائدہ آیت تین میں حرام جانوروں کے نام بتائے ہیں ان میں ایک جانور وہ ہے جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو۔ اس لئے قبروں پر یا اس کے پاس ذبح کیا گیا جانور بھی حرام جانورہے۔
ان باتوں کو خلاصہ کے طور پر اس طرح سمجھ لیں کہ قبروں پر چادر چڑھانا یا وہاں پر جانور ذبح کرنا غیراللہ کی تعظیم و عبادت ہے ، اس عمل کو اسلام میں شرک کہاگیاہے ، وہ بھی شرک اکبر ۔ ایسا شرک جس کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس شرک پر خاتمہ ہوجائے تو ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب

مکمل تحریر >>

Monday, January 18, 2021

نبی ﷺ کے سایہ پہ مقبول احمد سلفی اور محمد عبدالقیوم حیدرقریشی بریلوی کا مکالمہ

نبی ﷺ کے سایہ پہ مقبول احمد سلفی اور محمد عبدالقیوم حیدرقریشی بریلوی کا مکالمہ

میں نے اپنے فیس بوگ گروپ "اسلامیات " میں ایک مختصر پوسٹ گنبدخضراء کے سایہ سے متعلق شیئر کیا تھا اس پوسٹ پہ ایک بریلوی نے مجھ سے نبی ﷺ کے سایہ کے متعلق بحث کی ، میں نے دلائل کی روشنی میں نبی ﷺ کا سایہ ثابت کردیا، بالآخر بریلوی ہار مان کربھاگ گیا۔ وہ مکالمہ استفادہ کے لئے آپ کی خدمت میں  پیش کررہاہوں ۔
محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:گویا کہ بریلویت سے قبل نبی کے سائے والے نظریے کا کوئی وجود نھیں ھے؟
مقبول احمد سلفی :آپ کی بات واضح نہیں ہے ، اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سائے کا انکار بریلویوں سے پہلے بھی کسی نے نہیں کیا اور ان کے بعد بھی کوئی ان کے علاوہ انکار نہیں کرتا۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:نبی کے سایے کے نہ ھونے کے قائلین متقدمین میں سے کافی علماء ھیں. اور یہ مسئلہ عقیدے کا نھیں محض عقیدت کا ھے۔
مقبول احمد سلفی :متقدمین کے دلائل سے ذرا نبی ﷺ کا سایہ نہ ہونا ثابت کرکے دکھائیں ۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:
حکیم ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻧﻮﺍﺩﺭ ﺍﻻﺻﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺫﮐﻮﺍﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻋﻦ ﺫﮐﻮﺍﻥ ﺍﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻢ ﯾﮑﻦ ﯾﺮﯼ ﻟﮧ ﻇﻞ ﻓﯽ ﺷﻤﺲ ﻭﻻ ﻗﻤﺮ ﺳﺮﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻧﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﻣﯿﮟ۔ ( ﺍﻟﻤﻮﺍﮨﺐ ﺍﻟﻠﺪﻧﯿﮧ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺸﻤﺎﺋﻞ ﺍﻟﻤﺤﻤﺪﯾﮧ ﺻﻔﺤﮧ 30 ﻣﻄﺒﻊ ﻣﺼﺮ .. ﺍﻣﺎﻡ ﻧﺴﻔﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻣﺪﺍﺭﮎ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻘﻞ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻗﺎﻝ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻨﮧ ﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺎ ﺍﻭﻗﻄﻊ ﻇﻠﮏ ﻋﻠﯽ ﺍﻻﺭﺽ ﻟﺌﻼ ﯾﻀﻊ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻗﺪﻣﮧ ﻋﻠﯽ ﺫﺍﻟﮏ ﺍﻟﻈﻞ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﮍﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﺪﻡ ﻧﮧ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﮯ۔ ( ﻣﺪﺍﺭﮎ ﺷﺮﯾﻒ 2 ﺻﻔﺤﮧ 103 .....
ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﻗﺎﺿﯽ ﻋﯿﺎﺽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : “ ﻭﻣﺎ ﺫﮐﺮ ﻣﻦ ﺍﻧﮧ ﻻﻇﻞ ﻟﺸﺨﺼﮧ ﻓﯽ ﺷﻤﺲ ﻭﻻ ﻓﯽ ﻗﻤﺮ ﻻﻧﮧ ﮐﺎﻥ ﻧﻮﺭﺍ ﻭﺍﻥ ﺍﻟﺬﺑﺎﺏ ﮐﺎﻥ ﯾﻘﻊ ﻋﻠﯽ ﺟﺴﺪﮦ ﻭﻻ ﺛﯿﺎﺑﮧ۔“ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺍﺻﺤﺎﺑﮧ ﻭﺑﺎﺭﮎ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﻮﺭ ﺗﮭﮯ۔ ( ﺷﻔﺎ ﺷﺮﯾﻒ ﻟﻘﺎﺿﯽ ﻋﯿﺎﺽ 1 ، ﺻﻔﺤﮧ 342 ۔ 343
ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﺣﻤﺪ ﻗﺴﻄﻼﻧﯽ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : “ﻗﺎﻝ ﻟﻢ ﯾﮑﻦ ﻟﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻇﻞ ﻓﯽ ﺷﻤﺲ ﻭﻻ ﻗﻤﺮ ﺭﻭﺍﮦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﺫﮐﻮﺍﻥ ﻭﻗﺎﻝ ﺍﺑﻦ ﺳﺒﻊ ﮐﺎﻥ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﻮﺭﺍ ﻓﮑﺎﻥ ﺍﺫﺍ ﻣﺸﯽ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﻤﺲ ﺍﻭ ﺍﻟﻘﻤﺮ ﻟﮧ ﻇﻞ۔“ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﻣﯿﮟ، ﺍﺑﻦ ﺳﺒﻊ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﻮﺭ ﺗﮭﮯ، ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺟﺴﻢ ﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ( ﻣﻮﺍﻟﺐ ﺍﻟﻠﺪﻧﯿﮧ 1 ﺻﻔﺤﮧ180 ﺯﺭﻗﺎﻧﯽ 4 ﺻﻔﺤﮧ 220
ﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻣﮑﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : “ﻭﻣﻤﺎ ﯾﻮﯾﺪ ﺍﻧﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺻﺎﺭ ﻧﻮﺭﺍ ﺍﻧﮧ ﺍﺫﺍ ﻣﺸﯽ ﻓﯽ ﺍﻟﺸﻤﺲ ﺍﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﯾﻈﮭﺮ ﻟﮧ ﻇﻞ ﻻﻧﮧ ﯾﻈﮭﺮ ﺍﻻ ﻟﮑﺸﯿﻒ ﻭﮬﻮ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺪ ﺧﻠﺼﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻣﻦ ﺳﺎﺋﺮ ﺍﻟﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﺍﻟﺠﺴﻤﺎﻧﯿﮧ ﻭﺻﯿﺮﮦ ﻧﻮﺭﺍ ﺻﺮﻓﺎ ﯾﻈﮭﺮ ﻟﮧ ﻇﻞ ﺍﺻﻼ۔“ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﻧﻮﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻧﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﻣﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺜﯿﻒ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍﺋﮯ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﺜﺎﻓﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟﻧﻮﺭ ﻣﺤﺾﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ (ﺍﻓﻀﻞ ﺍﻟﻘﺮٰ ﺻﻔﺤﮧ72
ﺤﻘﻖ ﻋﻠﯽ ﺍﻻﻃﻼﻕ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻣﺤﺪﺙ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : ﻧﺒﻮﺩ ﻣﺮﺁﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺍ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﺩﺭ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻧﮧ ﺩﺭ ﻗﻤﺮ۔ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﻣﯿﮟ۔ ( ﻣﺪﺭﺍﺝ ﺍﻟﻨﺒﻮۃ 1 ، ﺻﻔﺤﮧ21
ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﺷﯿﺦ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : “ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﺒﻮﺩ ﺩﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﺎﯾﮧ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﺍﺯ ﺷﺨﺺ ﻟﻄﯿﻒ ﺗﺮﺍﺳﺖ ﭼﻮﮞ ﻟﻄﯿﻒ ﺗﺮﺍﺯﺩﮮ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺩﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﺒﺎﺷﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺎﯾﮧ ﭼﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﺍﺭﺩ۔“ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻟﻄﯿﻒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻄﯿﻒ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﭘﮍﺗﺎ۔ ( ﻣﮑﺘﻮﺑﺎﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ 3 ﺻﻔﺤﮧ 147 ﻣﻄﺒﻮﻋﮧ ﻧﻮ ﻟﮑﺸﻮﺭ ﻟﮑﮭﻨﺌﻮ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺍﻏﺐ ﺍﺻﻔﮩﺎﻧﯽ ( 450 ) ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : “ ﺭﻭﯼ ﺍﻥ ﺍﻟﻨﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎﻥ ﺍﺫﺍ ﻣﺸﯽ ﻟﻢ ﯾﮑﻦ ﻟﮧ ﻇﻞ۔“ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭼﻠﺘﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ (ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺍﻟﺮﺍﻏﺐ
ﻣﺎﻡ ﺍﻟﻤﺤﺪﺛﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺑﻦ ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ : “ ﺍﺯ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺗﮯ ﮐﮧ ﺁﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺍﺩﺭ ﺑﺪﻥ ﻣﺒﺎﺭﮐﺶ ﺩﺍﺩﮦ ﺑﻮﺩﻥ ﮐﮧ ﺳﺎﯾﺌﮧ ﺍﯾﺸﺎﮞ ﺑﺮﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﻣﯽ ﺍﻓﺘﺎﺩ۔“ ﺟﻮ ﺧﺼﻮﺻﯿﺘﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
میں نے اقوال اس لیے نقل کیے ھیں کہ ان شخصیات کو عقل کا اندھا کہنے سے گریز کیا جائے. . باقی عرض کیا کہ یہ مسئلہ عقیدت کا ھے اگر دونوں ظرف اقوال موجود ھیں بھی تو میں عدم وجود سایہ کی طرف ھوں گا. اب آپ دلائل نقل فرما لیں۔
مقبول احمد سلفی : میں نے عقل کا اندھا گنبد خضراٰء کے پس منظر میں کہا ہے جس پرہماری پوسٹ ہے ۔ ضمنا نبی ﷺ کے سایہ کی بھی بات کی ہے جو کہ نصوص صحیحہ سے ثابت ہے ۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﺒﯽﮐﮯ ﺳﺎﯾﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ ... یہ جملہ آپ کے سامنے ھے......
مقبول احمد سلفی :میں حق قبول کرتا ہوں ، چاہے کسی کی جانب سے ہو۔ میں نے اپنی غلطی کی اصلاح کردی ۔ کیا آپ کے اندر غلطیوں کی اصلاح کا جذبہ ہے ؟
آپ نے جتنی بھی باتیں کی سوائے ایک کے سب اقوال رجال ہیں ، اور صحیح دلائل کے برخلاف اقوال رجال کی کوئی حیثیت نہیں ۔
ایک دلیل ذکر کی ہے : عن ذكوان أن رسول الله صصص لم يكن يرى له ظل في شمس ولا قمر۔
یہ روایت مرسل ہے ، اس سے دلیل نہیں پکڑی جاسکتی ۔ دیکھیں الخصائص الكبرى (1/122)
باقی آپ کی پیش کردہ اقوال رجال سے استدلال نہیں کیاجاسکتا اگر اور بھی کوئی دلیل ہو تو پیش کریں ۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﻗﺪﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺏ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻭﻣﻨﺎﻗﺐ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﮐﻔﺮﻭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺪﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ،.. اس سلسلہ میں حدیث مرسل ھو یا اقوال علماء. سر آنکھوں پر۔
مقبول احمد سلفی :نبی ﷺ کا سایہ نہ ہونے کا نظریہ رکھنے کی دلیل کتاب وسنت سے چاہئے ، اقوال علماء سے یہ بات ثابت نہیں ہوسکتی ۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین ۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:نہ ھو حکم شرعی تو ھے نھیں. کہ اسلام سے خارج ھو جانے کا خطرہ ھو. میرے لیے کافی ھے کہ کہ میں آپ کی بنسبت علمائے حق پر اعتماد کروں. باقی آپ نے جو حکم داغنا ھے داغ دیں.
مقبول احمد سلفی :آپ لوگ کبھی اپنی کسی غلطی کا اعتراف نہیں کرسکتے، چہ جائیکہ کتاب و سنت کے دلائل ٹھکرانے پڑے ، اس کے وجوہات میں نے پوسٹ میں واضح کردیا ہے ۔
نبی ﷺ کا سایہ مبارک
============
آپ ﷺ کا سایہ تھا ، یہ بات عقلا اور نقلا دونوں سے ثابت ہے ۔ شرعی دلائل ملاحظہ ہوں ۔
(1) ﴿أَوَلَم يَرَ‌وا إِلىٰ ما خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلالُهُ عَنِ اليَمينِ وَالشَّمائِلِ سُجَّدًا لِلَّـهِ وَهُم داخِر‌ونَ ﴾ (النحل : 48)
کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا ؟کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہیں اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔
(2) ﴿وَلِلَّـهِ يَسجُدُ مَن فِي السَّماواتِ وَالأَر‌ضِ طَوعًا وَكَر‌هًا وَظِلالُهُم بِالغُدُوِّ وَالآصالِ ﴾ (الرعد: 15)
اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی سب مخلوق خوشی اور نا خوشی سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح و شام ۔
ان دونوں آیات مقدسہ سے ثابت ہوا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ نے جتنی اور جتنی اقسام کی مخلوق پیدا فرمائی ہے ان کا سایہ بھی ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی تو بہر حال اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔ لہذا دوسری تمام مخلوق کی طرح لا محالہ آپ کا بھی سایہ تھا ۔
(3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور عین نماز کے دوران آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اچانک آگے بڑھایا ، پھر جلد ہی پیچھے ہٹا لیا ۔ ہم نے آپ ﷺسے آپ کے اس خلاف معمول نماز میں جدید عمل کے اضافہ کی وجہ دریافت کی تو ہمارے اس سوال کے جواب میں آپ ﷺنے فرمایا کہ میرے سامنے ابھی ابھی جنت لائی گئی ۔ میں نے اس میں بڑے اچھے پھل دیکھے تو میں نے چاہا کہ اس میں سے کوئی گچھا توڑلوں ۔ مگر معاحکم ملا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔ میں پیچھے پلٹ گیا ۔ پھر اسی طرح جہنم بھی دکھائی گئی ۔ حتى رأيت ظلى وظلكم میں نے اس کی روشنی میں اپنا اور آپ لوگوں سایہ دیکھا ۔ دیکھتے ہی میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔(مستدرك الحاكم ج4ص 456) حديث صحيح
(4) حضرت صفیہ بنت حیی فرماتی ہیں کہ ہم حج کی سعادت حاصل کر کے واپس آ رہے تھے کہ میری سواری بہک گئی جب کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک اونٹ زائد تھا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :افقرى اختك صفية جملك -آپ اپنا اونٹ سواری کے لئے عاریتا صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دو ۔تو حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں اپنا اونٹ یہود یہ عورت کو کیوں دوں؟اس تلخ بات پر رسول اللہ ﷺسیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ناراض ہو گئے اور تین ماہ تک ان کے گھر بھی تشریف نہ لائے حضرت زینب فرماتی ہیں :
فلما كان شهر ربيع الأول دخل عليها فرأت ظله فقالت: إن هذا لظل رجل وما يدخل علي النبي - صلى الله عليه وسلم - فمن هذا؟ دخل النبي صلى الله عليه وسلم. (مجمع الزوائد ج4 ص 324)
سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ جب ناراضگی میں محرم اور صفر گزر گئے اور ربیع الاول کا مہینہ آ پہنچا تو رسول اللہ ﷺمیرے ہاں تشریف لائے ہوا یوں کہ میں نے آپ سے پہلے آپ کا سایہ دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ تو انسانی سایہ ہے جو میرے گھر میں گھس رہا ہے۔
(5) حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد بزرگوار حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ احد میں شہادت پا گئے تو ان کے اہل و عیال ان کے پاس اکٹھے ہو کر رونے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مازالت الملائكة تظله باجنحتها حتى دفعتموها»(بخارى كتاب الجنائز)
جب تک تم لوگ اس کو یہاں سے اٹھا نہیں لیتے اس وقت تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کرتے رہیں گے۔"
اس حدیث سے نوری کا بھی سایہ ثابت ہورہا ہے تو بشر کا سایہ درجہ اولی ۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:کیا ظل سے مراد ھمیشہ سایہ ھی ھوتا ھے؟ تاریک جسمانی سایہ؟ویسے جھگڑا لفظ ظل کے ثبوت کا ھے یا تاریک جسمانی سائے کے ثبوت کا؟
مقبول احمد سلفی :جو حق تسلیم نہیں کرتا وہ ایسے ہی باطل تاویلات سے خود کو جهوٹی تسلی دیتا ہے.

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:برادر.قرآن و حدیث میں اپنی زاتی تاویلات کو آپ حق کا نام دیں گے تو قبول و رد دونوں کی گنجائش موجود ھے۔
مقبول احمد سلفی :میرے پیش کردہ نصوص میں تاویلات کا ذکر ہی نہیں ، اس لئے براہ راست میں نے دلائل پیش کیا ہے. اسے نص صریح کہتے ہیں جس میں تاویل کی ضرورت نہیں ہوتی...تاویلات تو آپ کے پاس ہیں . صریح نص کی فاسد تاویل ...

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:لفظ ظل ھی کو ثابت کر رھے ھیں جسمانی سائے کا ثبوت تو پھر بھی نھیں ھے۔
مقبول احمد سلفی :یہ سب تاویل چهوڑ کے کوئی صریح دلیل ہو تو پیش کریں وگرنہ میرے دلائل پر ایمان لائیں اور سایہ تسلیم کریں.

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:قرآن و حدیث سر آنکھوں پر. مگر ظل کے لفظ میں سایے کے معنی کا حصر ھے تو پیش فرما دیں. آپ کے دلائل پر ایمان لانے کو آپ کی اپنی پوری ٹیم ھے نا. اپنی تاویلوں سے انھیں کو ھی مطمئن رکھیں.. جزاک اللہ استاذ. جزاک اللہ شیخ
مقبول احمد سلفی :قرآن و حدیث سر آنکهوں پہ ہوتا تو آپ کی ٹولی دین کا تیا پانچہ نہیں کرتی. رہی ہماری جماعت کی بات ....
تو اس جماعت کا ادنی فرد بهی بغیر دلیل کے کوئی بات تسلیم نہیں کرتا.
ظل سایہ کو کہتے ہیں . اس میں کون سا اجمال ہے ؟
ظل کا لفظ جہاں دیگر مخلوق کے لئے قرآن میں استعمال ہوا وہیں خصوصیت کے ساته نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بهی آیا ہے.
اب اس کے بعد بهی کوئی انکار کرے تو اس کی ہدایت کے لئے دعا کرسکتے ہیں. اور بس۔

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:جب لغت میں ظل بھت سے معنی کے لیے مستعمل ھے تو آپ کے پاس ظل بمعنی سایہ کا حصر کیسے؟ ظل تو اللہ کی زات سمیت سب کے لیے استعمال ھوا. جھگڑا جسمانی سائے کا ھے. لفظ ظل کا نھیں ھے برادراور ھاں جگتیں لگانے اور اپنی جماعت کی تعریفوں کی ضرورت نھیں ھے. اپنے پاس رکھیے
مقبول احمد سلفی :میں نے اپنی جماعت کی خصوصیت بتلائی ہے، اسے تعریف سمجهیں یا حقیقت..
سچ کہا ہے کسی نے :


"جهوٹ کو پیر نہیں ہوتا"اس لئے چل نہیں سکتا.
اوپر آپ نے اسی لفظ ظل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی سائے کا انکار کیا ہے. اور کتنے سارے اقوال پیش کئے ہیں.
جب ان دلائل سے بات نہیں بنی تو اب اپنے ہی پیش کردہ اس لفظ کی باطل تاویل کرنے لگ گئے...لاحول ولا قوة الا باللہ

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:بھت دور کی کوڑی لائےمولوی صاحب. سایے کا انکار کیا ھے لفظ ظل کا نھیں. ھمارے پاس سائے کے معنی کے انکار کے لیے تائید علماء موجود ھے. مگر آپ کے پاس ظل بمعنی سایہ جسمانی کے حصر کی دلیل نھیں ملے گی
لفظ ظل تو اللہ کے لیے بھی ھے فرشتوں کے لیے بھی. سورج کے لیے بھی. تو اب ظل بمعنی جسمانی سایہ منطبق فرما دیں
مقبول احمد سلفی :آپ نے ذکوان والی روایت پیش کرکے لفظ ظل سے جسمانی سائے کا انکار کیا ہے وہی لفظ ظل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حدیث میں آیا ہے تو یہ سایہ غیرجسمانی ہوگیا ؟؟

محمد عبدالقیوم حیدر قریشی:ظل ھونا نھیں ظل نہ ھونا نبی کے لیے آیا ھے. لھذا جب ظل نھیں تو تعین معنی کی کیا حاجت؟. تم آپ ظل ثابت کر رھے ھیں تو دلیل حصر دے دیں.لم یکن یری لہ ظل
مقبول احمد سلفی : انسان کے لئے جب ظل کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے اس کا جسمانی سایہ ہی مراد ہوتا ہے ، یہی عرف عام ہے ، اگر کوئی اس معنی سے ہٹ کر دوسرا معنی مراد لے تو اس کے لئے کوئی قرینہ صارفہ چاہئے ۔ بطور مثال اگر میں کہوں : " ظل محمد عبدالقیوم حیدر قریشی" تو اس کا معنی صرف اور صرف یہی ہوگا " محمد عبدالقیوم حیدرقریشی کا جسمانی سایہ " اگر اس معنی کو چھوڑکر دوسرا معنی مراد لیا جائے تو صحیح نہیں ۔ اور بغیر قرینہ کے دوسرا معنی مرادبھی نہیں لے سکتے ۔
آپ کو چونکہ ماننا نہیں ہے تو بال کی کھال نکال رہے ہیں ۔ آپ کا کہنا یہ ہے کہ ظل سے مراد جسمانی سایہ حصر کے ساتھ اس کی دلیل کیا ہے ؟۔آپ کی معلومات کے لئے ،،،،،، دلیل اس کی نہیں چاہئے بلکہ عرف عام سے دوسرا معنی مراد لینے میں دلیل چاہئے ۔
چلیں آپ کو حصر کے ساتھ بھی بتاتے ہیں کہ جب ظل انسان کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا جسمانی سایہ مراد ہوتا ہے ۔ اس کی دلیل دیکھیں:
مسلم شریف میں ہے۔
وَقْتُ الظُّہْرِ اذا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجلِ کَطُوْله
’’ظہر کا وقت سورج ڈھلے سے شروع ہو کر آدمی کے قدر کے برابر سایہ ہو جانے تک ہے۔‘‘
یہاں اس حدیث میں ظل سے صرف اور صرف انسانی سایہ مراد ہے اگر کوئی دوسرا معنی مراد لے تو عبث ہے ۔
ایک دوسری روایت :
صلی بی العصر حین صار ظل کل شئی مثلہ(ترمذی۔ ابو داؤد)
’’نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے عصر اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو چکا تھا۔‘‘
یہ حدیث مزید واضح کردیتی ہے کہ اس ظل سے مراد صرف اور صرف ہرچیزکا جسمانی سایہ ہے ۔ اگر کوئی اس سے ہٹ کوئی دوسرا معنی مراد لیتا ہے تو پھر نماز کے اوقات اور اس کا سارا کا سار ا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔

یہ میری آخری دلیل تھی جس سے لاجواب ہوکر بریلوی گروپ چھوڑگیا۔ اس آخری کلام کو دس لوگوں نے لائک کیاجن میں صفی الرحمن اسماعیل،حسین ربانی،ناصرسلفی،شازیہ احمد، سراج احمد،قمرالزماں،چاچاسہیل، سلیمان اعجاز،غلام فاروق بلوچ اور ایس کے سواتی ہیں ۔
آخرمیں لوگوں نے اس مکالمے پہ بہت سے تعریفی تبصرے کئےچند ایک یہاں ذکر کرتاہوں ۔
عبدالقدیر محمدی :اللہ آپکو جذا ہخیر عطا فرماہیے شیخ آپ دین کے معاملے میں لوگوں کہں رہنماہی کر تے ہیں۔
عبدالوحید ذکاء اللہ سنابلی : الله آپ کو جزائے خیر دے آپ نے کتنے بہتر انداز میں مخالف کا منہ بند کر دیا۔
صفی الرحمن سلفی :الله تعالى شیخ مقبول احمد سلفی کو جزائے خیر دے اور ان کی حفاظت فرمائے آمین
آج مجھے گنبد خضرا کا سایہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہء مبارک کے تعلق سے چند دلیل کی ضرورت پڑی تو شیخ مقبول احمد سلفی صاحب کے پوسٹس کی طرف رجوع کیا؛ میں جیسے جیسے شیخ کے دلائل پڑهے جارہا تھا ، مجھے لگ رہا تھا کہ مخالف حق قبول کرنے پر ضرور آمادہ ہوجائے گا،لیکن وہ میدان چهوڑ گیا!الله تعالى ہماری اور سبھی لوگوں کی صحیح رہنمائی فرمائے!
اطہر عمری : محمد عبدالقیوم حیدر قریشی کہاں چھپ گیا ۔ جواب ملا یا نہیں ۔
مقبول احمد سلفی : لاجواب ہونے کے بعد وہ خود ہی گروپ چھوڑگیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ہارہوگئی یا اس نے اپنی شکشت تسلیم کرلی۔ الحمد للہ

اللہ تعالی منکرین سایہ نبی ﷺ کو ہدایت دے ۔ آمین

نوٹ : یہ مکالمہ بغیر کسی تبدیلی کے ہوبہو نقل کیاگیاہے اس میں رتی برابربھی حذف واضافہ نہیں کیاگیا۔ نیچے دئے لنک پہ آپ خود ہی اس کی حقیقت سے آشنا ہوسکتے ہیں ۔

مکمل تحریر >>