Sunday, September 6, 2026

اسلام ، شہادت اور ماتم

اسلام ، شہادت اور ماتم

 

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ(سعودی عرب)

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک المناک باب ہےمگر کیا آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ شیعہ حضرات کیوں ماتم کرتے ہیں اور کیوں صحابہ کرام پر سب وشتم کرتے ہیں؟  اس کے پیچھے کی اصل وجہ جان کر حیران ہوجائیں گے۔

خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورخلافت کے آخری لمحات میں عالم اسلام کے مختلف حصوں میں فتنے سر اٹھاچکے تھے، ان سب کے پیچھے یہودی فتنہ پرور عبداللہ بن سبا کا ہاتھ تھا۔ ابن سبا یمن کا باشندہ ہے، یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ آتا ہے اور بظاہراسلام قبول کرتا ہے مگر بباطن کافر ہی رہتا ہے۔ اور پھر مدینہ سے لے کر کوفہ، بصرہ اور مصر تک اسلام کے خلاف سازشیں کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ  اپنی حمایت کے لئے ایک انبوہ تیار کرلیتا ہے۔ بالآخر وہ مصر سے ایک ٹرینڈ لشکر کے ساتھ مدینہ پہنچ کرسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھرکا محاصرہ کرلیتا ہے، اس میں کوفہ وبصرہ کے سبائی  بھی شریک ہوتے ہیں۔ کئی دنوں کے محاصرہ کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں شہید کردیا جاتا ہے۔ اناللہ واناالیہ راجعون

یہیں سے فتنہ کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ عبداللہ بن سبا وہ اہم کردار ہے جس نے پورے عالم اسلام میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فتنہ کھڑا کیا اور ان کے قتل کی سازش رچی ، بالآخر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگیا۔ کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ اسے کوفہ وبصرہ اور مصر وغیرہ میں اپنا حمایتی بنالیا ۔ اسی ابن سبا نے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو کیا، آپ کو معبود ہونے کا عقیدہ بیان کیا، آپ کے بارے میں کہا کہ ہرنبی کے وصی ہوتے ہیں اور حضرت علی، محمد ﷺ کے وصی ہیں۔ یہی خلافت کے حقدار ہیں۔ اسی سبب حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی برائیاں بیان کرتا اور اسی سبب حضرت عثمان کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ چونکہ اہل بیت کی فضیلت میں کئی احادیث موجود ہیں۔ اس وجہ سے ابن سبا حضرت علی کے بارے میں غلوکرکے بہت سارے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہوگیا۔

یہیں سے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ شیعہ مذہب کا بانی بھی یہودی ابن سبا ہی ہے کیونکہ اسی نے حضرت علی کی جھوٹی محبت ، جھوٹی شان اور جھوٹی فضیلت بیان کرکے اس طرف لوگوں کو مائل کیاجو ایک فرقہ کی شکل اختیار کرلیا۔اسی ابن سبا کی ناپاک  کوشش سے خوارج بھی ظہورپذیرہوا۔

بہرکیف! حضرت عثمان کی شہادت کے بعد عالم اسلام میں فتنے کا ایک ایسا طوفان کھڑا ہوگیا کہ حضرت علی کو قاتلین عثمان سے قصاص لینے میں رخنہ پڑگیا۔ ایک وقت آیاحضرت  علی بھی شہید کردئے گئے، پھر آپ کے بعد حضرت حسن کو بھی زہردے کر شہید کردیاگیا۔ تاریخ نے یہ دن بھی دیکھا کہ یزید بن معاویہ کے دور میں نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی کربلا میں شہید کیا گیا۔ نواسہ رسول کی شہادت کسی اور نے نہیں ،کوفہ کے ان  لوگوں نے کی جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی۔ شیعہ آج تک بلکہ قیامت تک ماتم کرتے رہیں گے تاکہ وہ اپنا جرم چھپاسکیں۔ بعض علماء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ماتم اللہ کی طرف سے ان مجرموں اور ظالموں کے سر پر سزا ہے جو قیامت تک کے لئے مسلط کردی گئی ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قاتل مجوسی غلام کو شیعہ اپنا ہیرو مانتے ہیں اور ایران کے شہر کاشان میں اس کے نام سے ایک مزار بھی بنارکھا ہے جس کی زیارت کرتے ہیں۔اس مزار سے جہاں ایران کی اہل سنت سے دشمن ظاہرہوتی ہے وہیں شیعہ کی صحابہ سے دشمنی بھی جگ ظاہر ہے۔ جس حضرت عمرکو اہل سنت سینے سے لگاتے ہیں، ان کے قاتل کا مزار بناکر اس کی عبادت کرتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ واقعہ کربلا کے پیچھے سبائی گروہ ہے جسے عبداللہ بن سبا نے تیار کیا تھامگر آج اصل قاتل پر پردہ ڈال کریزید بن معاویہ کو موردالزام ٹھہراتے ہیں اور اس راستے سے پھر متعدد صحابہ کرام کو مطعون کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیں، شیعہ اتنا ہی شاطر ومکار ہے جتنا عبداللہ بن سبا تھا۔ شیعہ کے یہاں تقیہ ایک اصول کی حیثیت سے مانا جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت شیعہ جب چاہے اور جس طرح چاہے جھوٹ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا میں اصل قاتل کو چھپاکرتقیہ کرتے ہوئے یزیدبن معاویہ پر الزام لگاتا ہے اور اس بہانے صحابہ کرام کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب بھولے بھالے مسلمان ان یقیہ باز جھوٹے مکاروں کے مکروفریب کا شکارہوکریزید پر لعنت بھیجتے ہیں حتی کہ کتنے مسلمان متعدد صحابہ پر طعن وتشنیع کرتے ہیں۔

اب آپ کے سامنے صحیح بخاری سے تین احادیث پیش کرتا ہوں جن سے آپ بآسانی واقعہ کربلا کی حقیقت ، قاتل حسین اور یزید بن معاویہ کا کردار جان سکتے ہیں ۔ آپ یہاں یہ جانتے چلیں کہ صحیح بخاری   کی احادیث پر پوری امت کا اجماع ہےیعنی تمام  طبقہ کے مسلمان اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ صحیح بخاری میں موجود تمام احادیث صحیح ہیں۔

(1)پہلی حدیث  یزید بن معاویہ کی بیعت سے متعلق اہل مدینہ کا اتفاق:

نافع نے بیان کیا:لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَر حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ، وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتِ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ(صحيح البخاري:7111)

ترجمہ: جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔

اس حدیث میں ابن عمررضی اللہ عنہما کے یہ کلمات ہیں: "وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" یعنی  اور ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے۔یہاں صراحت  کے ساتھ بیان ہے کہ اہل مدینہ جن میں صحابہ کرام بشمول ابن عمر اور آپ کے گھرانہ والے یزید کے نام پر بیعت کرچکے تھےجبکہ یہ معاملہ اور حدیث، شہادت حسین کے بعد کی ہے۔ پھر آج یزید پر الزام لگانا، ان کو قاتل کہنااور لعنت بھیجنا اپنی آخرت خراب کرنا ہے۔ اگر یزیدمورد الزام ہوتے تو پہلے ابن عمربولتے مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا بلکہ یزید کی بیعت توڑنے پر حدیث رسول سنا کر اہل مدینہ کو سخت تنبیہ کی اور فرمایا کہ بیعت توڑنے والوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

(2)دوسری حدیث قاتل حسین سے متعلق:

ابن ابی نعم سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا"(صحيح البخاري:3753)

ترجمہ: انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

یزید بن معاویہ شام میں رہتے تھے جبکہ حسین رضی اللہ عنہ کا قتل عراق میں کربلا کے مقام پر ہوا۔ اور اوپر والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ قتل حسین میں شام کے کسی آدمی کا یا یزید بن معاویہ کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ عراقی کا ہاتھ ہے ۔  اور عراق کے جس خطے میں شہید کئے گئے اس کے آس پاس ابن سبا کے زیر اثر وجود میں آنے والا گروہ سبائی یعنی شیعہ لوگوں کی کثرت تھی ۔ واضح لفظوں میں کہیں تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل کوفی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو بلایا تھا۔

(3)تیسری حدیث یزید بن معاویہ کی فضیلت سے متعلق:

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ(صحيح البخاري:2924)

ترجمہ: سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔

اس حدیث میں لفظ  "مغفورلھم" کے تحت یزیدبن معاویہ بھی شامل ہیں کیونکہ وہ قسطنطنیہ پر پہلے حملہ میں مسلمانوں کے سپہ سالار رہے ہیں جیساکہ صحیح بخاری میں ہی موجود محمد بن ربیع الانصاری سے مروی حدیث میں ان کا یہ قول  موجودہے۔

قَالَ مَحْمُودُ: فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ(صحيح البخاري:1186)

محمود بن ربیع نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ایک ایسی جگہ میں بیان کی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ یہ روم کے اس جہاد کا ذکر ہے جس میں آپ کی موت واقع ہوئی تھی۔ فوج کے سردار یزید بن معاویہ تھے۔

ان تین احادیث سے موٹے طور پر ایک عام آدمی کے لئے یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ واقعہ کربلا  کے نام پر شیعہ حضرات اور ان کے بہکاوے میں آنے والے نادان مسلمان یزید بن معاویہ کو جس قدر جی بھر کر گالیاں دیتے ہیں، لعن وطعن کرتے ہیں اور ظالم وقاتل سمجھتے ہیں، معاملہ ایسا نہیں ہے۔یزید تو وہ ہے جس کے لئے اہل مدینہ بشمول صحابہ  نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی تھی۔ وہ مغفرت والی حدیث کا مصداق بھی ہے اور اس کا قتل حسین رضی اللہ عنہ سے تعلق نہیں ہے۔ قاتل تو اہل عراق ہیں۔ شام کا رہنے والا قاتل نہیں ہے۔

شہادت حسین رضی اللہ عنہ واقعی ہمارے لئے بہت ہی المناک واقعہ ہے مگر یہاں ٹھہر کر سوچتے ہیں کہ کیا شہادت حسین کا مطلب ماتم کرنا، سوگ منانا، نوحہ کرنا، خود کو لہولہان کرنا اورغم منانا ہے؟ آئیے اس سوال کا جواب چند احادیث کی روشنی میں جانتے ہیں۔

(1)نبی ﷺ فرماتے ہیں:رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ(سنن ترمذي:2616)

ترجمہ: دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون (عمود) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔

(2)نبی ﷺ فرماتے ہیں: وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ(صحيح البخاري:2818)

ترجمہ: یقین جانو جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔

(3) نبی ﷺ فرماتے ہیں: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ(صحيح البخاري:123)

ترجمہ: جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔

(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ(صحیح مسلم:1910)

ترجمہ: جو شخص مر گیا اور جہاد کیا نہ دل میں جہاد کا ارادہ ہی کیا، وہ نفاق کی ایک قسم میں مرا۔

(5) نبی ﷺ فرماتے ہیں:مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ (صحيح مسلم:1909)

ترجمہ: جو شخص سچے دل سے اللہ کی شہادت مانگے، اللہ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو۔

اس حدیث کی روشنی میں اللہ تعالی سے اس طرح دعا مانگنی چاہئے۔(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ)

(6) نبی بذات خود کس قدر شوق شہادت رکھتے تھے، ملاحظہ فرمائیں:

وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ(صحيح البخاري:36)

ترجمہ: اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔

(7)حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہادت کے لئے اس طرح دعا مانگتے تھے:

أنَّ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عنه قال: اللهُمَّ ارزُقْني شَهادةً في سَبيلِكَ، واجعَلْ مَوتي في بَلَدِ رَسولِك صلَّى اللهُ عليه وسلَّم(صحيح البخاري:1890)

ترجمہ:اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں مقدر کر دے۔

(8)شہید کا مقام و مرتبہ بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ(سنن ترمذي:1663)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں، (1) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، (2) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے، (3) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، (4) «فزع الأكبر» (عظیم گھبراہٹ والے دن) سے مامون رہے گا، (5) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، (6) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

(9)شہید کے مقام سے متعلق یہ بھی ملاحظہ کریں کہ جنت میں شہید کی کیا تمنا ہوگی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّهْ؟، فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى، إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ(مسند احمد:12273)

ترجمہ: قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکا نہ کیسا پایا؟ وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکا نہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں بیسوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔

اس معنی کی حدیث صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:

مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ: عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ (صحيح البخاري:2817)
ترجمہ: کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے ‘ خواہ اسے ساری دنیا مل جائے سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو (اللہ کے راستے میں) کیونکہ وہ شہادت کی عزت وہاں دیکھتا ہے۔

شہادت سے متعلق ان تمام احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کے اندر شہادت کی تمنا اور اس کا شوق ہوتا ہے، وہ اللہ سے شہادت کی دعا مانگتا ہے اور اللہ کی راہ میں دسیوں دفعہ شہید ہونے پر فحر محسوس کرتا ہے کیونکہ شہادت کا مقام بہت بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے پیارے اصحاب نے دین اسلام کے لئے تن من دھن کی قربانی پیش کی تب جاکر کہیں اسلام دنیا میں پھیلا۔ تاریخ اسلام شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کا فقط کربلا کی شہادت کو پورا اسلام سمجھنا غلط ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ شہادت حسین کی اہمیت نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ بھی عظیم شہادت ہے ۔ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مقام بھی بہت بلند ہے۔اس سلسلے میں بہت سارے دلائل ہیں تاہم بطور مثال دو چند احادیث پیش کرتا ہوں۔

(1)نبی ﷺ فرماتے ہیں:هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا (سنن ترمذي:3769)

ترجمہ: یہ دونوں(حسن وحسین) میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے۔

(2)نبی ﷺ فرماتے ہیں:هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا(صحیح البخاری:3753)

ترجمہ: یہ دونوں (نواسے حسن و حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

(3)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ (سنن ترمذي:3775)

ترجمہ:حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں۔
(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ(سنن ترمذي:3768)

ترجمہ:حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

فضائل حسین رضی اللہ عنہ اپنی جگہ مسلم ہے مگر ان کی شہادت پہ سوال ہے کہ کیا شہادت پہ ماتم کیا جائے گا، غم منایا جائے گا، تعزیہ بناکر اسےبازاروں اور گلے گوچوں میں گھمایا جائے گا، تلوار بازی، ڈنڈے بازی، مداری اور سرکس کے کرتب دکھائے جائیں، کالے لباس لگاکررونا دھونا، گریبان چاک کرنا، نوحہ وگریہ وزاری کرنا درست ہے؟

دراصل یہ سارے کام، اوپر پیش کردہ  شہادت  سے متعلق وارداحادیث کے منافی  تو ہیں ہی، اسلام کی بہت ساری سنہری تعلیمات کے خلاف بھی ہیں۔ اس میں بعض کام شرکیہ ہیں اور بعض کام کفر و معصیت اور بدعت وگمراہی سے متعلق ہیں۔  نبی ﷺ کی زندگی میں کتنے صحابہ ، صحابیات شہید ہوئے اور کتنے وفات پائے، آپ نے کبھی غم منانے کا حکم نہیں دیا ہے اور نہ ہی آپ نے بذات خود غم منایا ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کی زوجہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ زینت بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا وفات پائیں ، آپ نے غم نہیں منایا۔ آپ کی زندگی میں تین بیٹیاں (رقیہ، ام کلثوم اور زینت رضی اللہ عنہن) اور تین بیٹے(قاسم، عبداللہ اور ابراہیم) وفات پائے مگر آپ نے کبھی غم نہیں منایا۔

آپ نے اوپر شہادت کی حقیقت سمجھ لی، اب اسلامی تعلیمات کی روشنی میں  تعزیت، سوگ اور ماتم کو بھی سمجھ لیں تاکہ  واقعہ کربلا کے نام پر آج لوگ جو کچھ کررہے ہیں اس کی اصل حقیقت اچھے سے سمجھ سکیں۔

تعزیت اور رسم تعزیہ: اسلام میں تعزیت موجود ہے۔ تعزیت کہتے ہیں کہ جس کسی مسلمان کے گھر وفات ہوجائے اس کو الفاظ کے ذریعہ صبر وتسلی دلانا۔ گویا تعزیت زبانی طور پر کسی کو صبر وتسلی دلانے کو کہتے ہیں۔یہ تعزیت صرف وفات کے وقت ہوتی ہے۔ اسی تعزیت سے تعزیہ نکلا ہوا ہے یعنی لوگ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے نام پر رسم تعزیہ مناتے ہیں۔ ابھی آپ کو بتایا ہوں کہ اسلام میں تعزیت ہے اور اس تعزیت کا تعلق محض زبان سے ہے ، وہ بھی فقط وفات کے وقت مگر یہاں لوگ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بانس وکمچی اور کاغذ سے بنے مندر نماز تعزیہ بناکر رسم تعزیہ ہرسال بطور غم مناتے ہیں۔ اس کا اسلام سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ یہ شیعوں کی ایجاد ہے، انہی شیعوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور یہی ان کے غم میں رسم تعزیہ مناتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی، بہت سارے بدعتی مسلمان بھی رسم تعزیہ منانے لگے ۔ یہ رسم بدعت و ضلالت کا نام ہے۔دین کا سچا موحد جو نبی ﷺ اور آپ کے اہل بیت سے سچی محبت کرتا ہو، وہ کبھی اس قسم کی بدعت وضلالت کا کام نہیں کرے گا۔

سوگ  اور ماتم : اسلام میں سوگ کی اجازت ہے مگر صرف عورتوں کے لئے ۔ مردوں کے لئے سوگ بالکل بھی نہیں ہے۔ جب عورت کا کوئی قریبی رشتہ دار وفات پاجائے تو تین دن سوگ کرسکتی ہےاور شوہر وفات پاجائے تو چار ماہ دس دن سوگ کرنا ہے۔ سوگ ، رونے دھونے اور چیخنے چلانے کا نام نہیں ہے بلکہ سوگ ترک زینت کا نام ہے۔ اس سے متعلق حدیث پر نظر ڈالیں تو بات سمجھ میں آجائے گی۔

ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلَ وَلَا نَتَطَيَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ(صحيح البخاری: 313)

ترجمہ: ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب (یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں۔

یہ حدیث اپنے معنی میں بالکل واضح ہے کہ سوگ صرف عورت کے لئے ہے ، سوگ کرنے کا مردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ایک دوسری حدیث میں خصوصیت کے ساتھ عورت کا ذکر بھی آیا ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا، إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ(صحيح مسلم:938)

ترجمہ: کوئی عورت کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے مگر خاوند پر، (اس پر) چار مہینے دس دن (سوگ منائے) نہ وہ عَصب کے خانہ دار کپڑے کے سوا کوئی رنگا ہوا کپڑا پہنے، نہ سرمہ لگائے، مگر (اس دوران میں) جب (حیض سے) پاک ہو تو معمولی سی قُسط یا اظفار (جیسی کوئی چیز) استعمال کر لے۔

 اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی عورت کا شوہر مرتا ہے تو وہ سوگ میں ہوتی ہے مگر کسی مرد کی بیوی مرتی ہے تو وہ مرد سوگ نہیں کرتا۔پھر شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر سالہاسال سے ہونے والا یہ ماجرا کیا ہے، وہ بھی عورت ومرد، بچے جوان بوڑھے سبھی مل کر؟  بلاشبہ یہ دین میں اضافہ ہے ، اسی کو بدعت کہتے ہیں۔

سوگ کو آپ نے سمجھ لیا کہ یہ عورتوں کے لئے ہے ، وہ بھی موت کے وقت ۔ اس کا مردوں سے تعلق نہیں ہے۔ جہاں تک ماتم کا معاملہ ہے تو یہ کبھی بھی اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ مرد کے لئے ماتم کرنا جائز ہے اور نہ عورت کے لئے ماتم کرنا جائز ہے۔ اسلام میں سرے سے ماتم کرنا حرام ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رواہت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ(صحيح البخاري:1297)

ترجمہ: جو شخص (کسی میت پر) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ لوگوں کو سیدھے راستے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین



 

 

 

 

 

مکمل تحریر >>

Tuesday, August 18, 2026

ہم میلادنہیں مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں

 

ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں

تحریر: مقبول احمدسلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

آپ نے باغ فدک کا واقعہ پڑھاہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محض اللہ کے رسول کی محبت میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک سے حصہ نہیں دیا تھا۔ اس میں خلیفہ اول کا ذاتی کوئی مفاد نہیں تھا، صرف اور صرف رسول اللہ کی سچی محبت کارفرما تھی مگر اس واقعہ کو بنیاد بناکر پوری شیعہ قوم ابوبکررضی اللہ عنہ کو بدنام کرتی ، گالی دیتی اور برے برے القاب سے پکارتی ہے ۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے وہ واقعہ پھر سے دہرا لیجئے تاکہ موضوع کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

٭پہلی حدیث میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مطالبہ ہے، بخاری میں حدیث اس طرح سے مروی  ہے۔

عن عائشة ان فاطمة، والعباس عليهما السلام اتيا ابا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان ارضيهما من فدك، وسهمهما من خيبر.(صحیح البخاری:6725)

ترجمہ:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ اور عباس علیہما السلام، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔

٭سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس مطالبہ پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا جواب بخاری کی اگلی روایت کے حوالہ سے پڑھیں۔

فقال لهما ابو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا نورث ما تركنا صدقة، إنما ياكل آل محمد من هذا المال"، قال ابو بكر: والله لا ادع امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته(صحیح البخاری:6726)

ترجمہ:ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔

فدک کے مطالبہ کے بعد ابوبکررضی اللہ عنہ کے جواب سے ہمیں کیا پتہ چلا؟

ہمیں یہ پتہ ابوبکررضی اللہ عنہ محبت رسول میں سراپا ڈوب کر یعنی خالص محمد ﷺ کی محبت کے پیش نظر آپ نے سیدہ فاطمہ کا مطالبہ منظور نہیں کیا۔ اس کے پیچھے ہرگزہرگز کوئی ذاتی مفاد نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی حدیث پر عمل کیا اور سنت کو زندہ کیا مگر شیعہ حضرات ابوبکررضی اللہ عنہ کی  اس خلوص بھری محبت کو بغض سے موسوم کرتےاور غصب کانام دیتے ہیں ۔

ٹھیک یہی معاملہ بریلوی حضرات کا میلادالنبی ﷺ سے متعلق اہل حدیث جماعت کے تئیں ہے ۔

ہم اہل حدیث نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کی وجہ سے آپ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں ، ہمارے سامنے آپ ﷺ کے متعدد فرامین ہیں جو میلادالنبی منانے سے روکتے ہیں مگر بریلوی حضرات ہماری اس محبت کو عداوت اور گستاخی کا نام دیتے ہیں ۔

آئیے چند نصوص آپ کی خدمت میں پیش کرکے ہم رسول اللہ ﷺسے سچی محبت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو اپنی اور رسول کی اطاعت کا واجبی حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران:32)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ منہ پھیریں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

اس آیت میں صرف یہی نہیں کہاگیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ جو اطاعت نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ گویا اطاعت الہی اور اطاعت رسول ، محبت الہی کا ذریعہ ہے ۔

دوسری جگہ اللہ قرآن میں رسول کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء:65)

ترجمہ:سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول کے حکم وارشاد میں ذرہ برابر بھی  دل میں تنگی محسوس نہیں کرنی ہے، بلاچوں وچرا آپ کے حکم کو پورے طورپرماننا ہے یعنی اتباع رسول کا کامل نمونہ پیش کرنا ہے۔ یہی اتباع رسول محبت الہی اور محبت رسول کا سبب ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی محبت کا معیار اتباع رسول کو قرار دیا ہے ، یہی معیار رسول کی محبت کا بھی ہے یعنی جو رسول کی اطاعت کرے گا وہ اللہ سے بھی محبت کرتا ہے اور رسول سے بھی محبت کرتا ہے ۔

ان چند نصوص سے معلوم ہوا کہ ااتباع رسول محبت رسول کا نام ہے ، اس کے برخلاف کوئی رسول کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے ، یا آپ نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان کاموں سے نہیں رکتا ہے تو وہ رسول سے محبت نہیں کرتا بلکہ وہ رسول سے عداوت کرتا ہے ۔

پہلے وہ نصوص دیکھیں جن میں آپ ﷺ نے ہمیں مرضی عمل  کرنے اور  دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرنےسے منع کیا ہے ،یعنی صرف اور صرف وہی کام کرنا ہے جو جس کا حکم آپ ﷺ نے دیا ہے اور جس کام کا حکم نہیں دیا ہے وہ نہیں کرنا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

من أحدث في أمرِنا هذا ما ليس فيه فهو ردٌ(صحيح البخاري:2697)

ترجمہ: جس کسی نے ہمارے دین میں نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے‘ تو وہ مردود ہے۔

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے : وَكلَّ محدثةٍ بدعةٌ وَكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ(صحيح النسائي: 1577)

ترجمہ: اور ہر نو ایجاد شدہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔

اب وہ نصوص دیکھیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو رسول کی اطاعت نہیں کرتےاور آپ کا حکم نہیں مانتے وہ ظالم ہیں، ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور وہ حوض کوثر سے دھتکارے جائیں گے ۔

فرمان الہی ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَیرِ هُدًى مِنَ اللهِ إِنَّ اللهَ لَا یهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ (القصص:50)

ترجمہ: اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو اللہ تعالى کی (نازل کردہ شرعی) ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے ۔ یقینا اللہ تعالى ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:63)

ترجمہ:جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انھیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أنا فرَطُكم على الحوْضِ ، وليُرفَعنَّ رجالُ منكم ثمَّ ليختلِجن دوني ، فأقولُ : يا ربِّ أصحابي ؟ فيُقالُ : إنَّك لا تدري ما أحدثوا بعدك(صحيح البخاري:6576)

ترجمہ: میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹادیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

خلاصہ کلام یہ ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت  ویسے ہی کرتےہیں جیساآپ نےاطاعت کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے ، یہی اطاعت آپ سے محبت کی پہچان ہے اور آپ نے ہمیں دین میں نیا کام کرنے سے منع فرمایا ہے جس سے ہم رکتے ہیں ، یہ بھی اطاعت کا حصہ ہے اور یہ محبت رسول کی پہچان ہے ۔ جو رسول سے محبت کا دعوی کر ے مگر آپ کا حکم نہ مانے ، آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے ، وہ رسول سے محبت نہیں کرتا ہے اور دین میں نیا نیا کام ایجاد کرے وہ بھی رسول سے محبت نہیں کرتا کیونکہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کررہا ہے ۔ اب ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر ہم عیدمیلادالنبی نہیں مناتے کیونکہ آپﷺ نے ہمیں نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس پر عمل کرکے دکھایا ، یہ دین میں نئی ایجاد ہے تو ہم سچے محب رسول ہیں کہ نہیں ؟ اسی لئے  کہتے ہیں کہ ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں لیکن ہماری سچی محبت کو عداوت وگستاخی کا نام دیا جاتا ہے ، یہ ٹھیک شیعوں کے  معاملہ  جیساہے جس طرح وہ باغ فدک کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔یا لیت قومی یعلمون

اسی تناظر میں  آخر میں یہ  بات عرض کرتا چلوں کہ چند دن پہلے بریلویوں کے امیر الیاس قادری عطاری کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ بتارہے تھے کہ اگر کوئی کہے کہ مجھے باپ سے محبت ہے مگر وہ اس کی بات نہ مانے تو وہ نافرمان ہے۔

یہی بات عربی شعر میں کچھ اس انداز میں کہی گئی ہے ۔

لوکان حبک صادقا لاطعتہ - ان المحب لمن یحب مطیع

شعر کا ترجمہ: اگر تمہاری محبت سچی ہوتی توتم اسکی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کامطیع و فرمانبردار ہوتا ہے۔

مکمل تحریر >>

Friday, July 12, 2024

رسم تعزیہ داری ، اسلام اور شرعی تعزیت کی کسوٹی پر

 رسم تعزیہ داری ، اسلام اور شرعی تعزیت کی کسوٹی پر
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ – سعودی عرب
 
آج کل محرم میں جس قسم کی  تعزیہ داری کی رسم ادا کی جاتی ہے اسلام میں اس کی حیثیت کیا ہے اس کو جاننے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تعزیت کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
تعزیت کو عربی میں تعزیۃ لکھتے ہیں جیسے رحمت کو عربی میں رحمۃ لکھتے ہیں اور تعزیت کا لغوی معنی تسلی دینا اور شرعی اصطلاح میں تعزیت کہتے ہیں میت کے رشتہ دار کو صبر کی تلقین کرنا اور انہیں تسلی دینا تاکہ اس کا غم ہلکا ہو اور اسے دلاسہ ملے ۔
جب سے شیعوں نے ماتم اور تعزیہ داری کو رواجا اور مسلمانوں کے قبرپرست طبقہ نے اسے اپنایا ہے  اس کے بعد اردو لغت والوں نے تعزیت کا ایک معنی اور بڑھادیا ۔ پہلے سے تعزیت کا ایک معنی ہے ہی تسلی دینا اور ایک دوسرا معنی جیسے فرہنگ آصفیہ میں ہے۔"حضرت امام حسن و حسینؑ کی تُربتونکی نقل جو کاغذ اور بانس کے قُبہ کے اندر مُحرم کے دنوں میں دس روز تک اُنکا ماتم یا فاتحہ دلانے کے واسطے بطور یاد گار مناتے ہیں"۔
یہاں پر ایک شیعی ویکی پیڈیا کے حوالے سے بھی تعزیت کا مطلب جانتے چلیں تو موضوع کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ شیعہ ویکی پیڈیا کیا کہتا ہے"تعزیہ شیعوں کا ایک رسم ہے جو امام حسینؑ کے جنازے یا ان کے روضے کی شبیہ بناکر عاشورا کے دن عزاداری کے جلوس میں نکالے جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں تعزیوں کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ تعزیہ سونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل اور کاغذ سے تیار کیا جاتا ہے۔ عراق میں تعزیہ کو شبیہ اور ایران میں نخل گردانی کہا جاتا ہے"۔
اسلام میں تعزیت کسی کی موت پر اس کے رشتہ داروں سے کی جاتی ہے تاکہ میت کے گھروالوں کو تسلی ہو کیونکہ جس کے گھر وفات ہوتی ہے وہ لوگ غمگین اور اداس ہوتے ہیں ۔ اسلام نے ایسے موقع سے تعلیم دی ہے کہ میت کے گھروالوں کو تسلی دی جائے اسے تعزیت کہتے ہیں ۔ تعزیت سے متعلق متعدداحادیث ملتی ہیں ، آئیے چند ایک احادیث دیکھتے ہیں اور اسلام میں تعزیت کی حیثیت جانتے ہیں ۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللہ عنہ ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور بایں الفاظ تعزیت فرمائی:
إنَّ لِلَّهِ ما أَخَذَ، وله ما أَعْطَى، وكُلٌّ عِنْدَهُ بأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ، ولْتَحْتَسِبْ(صحيح البخاري:1284)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے‘ جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔
اس حدیث میں آگے مذکور ہے کہ نبی ﷺ بچے کی جانکنی کا حال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس لئے ممکن ہے کہ میت کے شدت غم میں انسان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائے مگر میت کے زور زور سے رونا، چیخناچلانا، گریبان چاک کرنااور سینہ کوبی کرنا منع ہے ۔
ایک دوسری حدیث میں تعزیت کی فضیلت بیان کی گئی ہے چنانچہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
ما من مؤمنٍ يعزِّي أخاهُ بِمُصيبةٍ إلَّا كساهُ اللَّهُ سبحانَهُ من حُلَلِ الكرامةِ يومَ القيامَةِ(صحيح ابن ماجه:1311)
ترجمہ:جو مومن اپنے بھائی کو کسی مصیبت پر تسلی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت افزائی کا خلعت عطا فرمائے گا۔
سنن نسائی(2090) میں ایک واقعہ موجود ہے۔ قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے (گود میں) بٹھا لیتے (چنانچہ کچھ دنوں بعد) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو (جب) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا:
 مالي لا أرى فلانًا ؟ قالوا : يا رسولَ اللَّهِ ، بُنَيُّهُ الَّذي رأيتَهُ هلَكَ ، فلقيَهُ النَّبيُّ فسألَهُ عن بُنَيِّهِ ، فأخبرَهُ أنَّهُ هلَكَ ، فعزَّاهُ علَيهِ ، ثمَّ قالَ : يا فلانُ ، أيُّما كانَ أحبُّ إليكَ أن تُمتَّعَ بِهِ عمُرَكَ ، أو لا تأتي غدًا إلى بابٍ من أبوابِ الجنَّةِ إلَّا وجدتَهُ قَد سبقَكَ إليهِ يفتَحُهُ لَكَ ، قالَ : يا نبيَّ اللَّهِ ، بل يَسبقُني إلى بابِ الجنَّةِ فيَفتحُها لي لَهوَ أحبُّ إليَّ ، قالَ : فذاكَ لَكَ(صحيح النسائي:2087)
ترجمہ:کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، (اور) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی (موت کی خبر) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ (جب) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے ایسا (ہی) ہو گا۔
اس میں کلمہ استشہاد ہے "فعزاہ علیہ یعنی نبی نے اس آدمی کی تعزیت فرمائی جس کا بچہ مرگیا تھا ۔ اسی کلمہ کی مناسبت سے امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے" بَابُ: فِي التَّعْزِيَةِ" یعنی باب: تعزیت کا بیان۔
اس مقام پر موضوع سے متعلق ایک اہم حدیث بھی دیکھتے چلیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک تابعی نے اہل بیت سے کیسے تعزیت کی ؟
شہر بن حوشب کہتے ہیں: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ،(میں اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعزیت کے لیے آیا) تو وہ کہنے لگیں: ایک دفعہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چادر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز لائیں، میں نے اس کو رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”حسن، حسین اور اپنے چچازاد کو بھی بلاؤ“، جب سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: یہ میری خاص اولاد ہے، اور میرے اہلِ بیت ہیں۔ اے اللہ! ان سے گندگی اور نجاست کو دور کر دے، اور ان کو اچھی طرح پاک کر۔(معجم صغير للطبراني: 846)
مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وفات کے وقت میت کے گھر والوں کو صبر دلایا جائے ، وہ آپ کسی طرح کے الفاظ کے ساتھ صبروتسلی دلا سکتے ہیں ، معین الفاظ میں تعزیت کرنا کوئی ضروری نہیں ہے ۔ نیز تعزیت کے باب میں جہاں تک سوگ کا معاملہ ہے وہ صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے یعنی مردوں کے لئے کبھی بھی سوگ جائز نہیں ہے ، صرف عورتوں کے لئے سوگ جائز ہے کیونکہ سوگ ترک زینت کو کہتے ہیں ۔ آئیے حدیث دیکھتے ہیں :
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ»(صحیح البخاری:313)
ترجمہ:ام عطیہ سے رویت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب ( یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی ) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں ( عدت کے دنوں میں ) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا جب انتقال ہوا تو انہوں نے صرف تین دن ہی سوگ منائیں جبکہ بیٹے سے جدائی کا غم ایک ماں کو کس قدر ہوگا اندازہ لگاسکتے ہیں ، محمد بن سیرین سے روایت ہے :
تُوفِّيَ ابنٌ لأمِّ عطيةَ رَضِيَ اللهُ عنها ، فلمَّا كان اليومُ الثالثُ ، دعت بصُفْرَةٍ فتمسحتْ بهِ ، وقالت : نُهِينا أن نُحِدَّ أكثرَ من ثلاثٍ إلَّا بزوجٍ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے صفرہ خلوق ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے سوگ صرف عورت کے لئے جائز ہے ، مرد کے لئے نہیں ، دوسری بات یہ ہے کہ عورت اپنے رشتہ دار کی موت پر تین دن سوگ مناسکتی ہے، یہ جائز ہے مگر واجب نہیں ہے تاہم شوہر کی وفات پر واجبی طور پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ہے اور یہ سوگ وفات کے وقت زندگی میں ایک بار ہے ، باربار اور ہرسال سوگ جائز نہیں ہے ۔
شریعت محمدی میں میت کے گھروالوں کی  تعزیت سے متعلق اختصار کے ساتھ یہ بات جان لیں کہ جب کسی کے گھر فوتگی ہو تو اس وقت گھر والے غمکین ہوتے ہیں ایسے میں میت کی مغفرت کے لئے دعا دی جائے اور گھر والوں کو تسلی اور صبرکی تلقین کی جائے اور پڑوسی کا حق بنتا ہے کہ اس دن میت کے گھروالوں کے لئے کھانا بنایا جائے اور گھروالوں کو مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کی جائے ۔ تعزیت کے لئے کوئی خاص دن نہیں، کوئی خاص طریقہ نہیں، اور کوئی خاص الفاظ ضروری نہیں ۔
اسلامی تاریخ میں متعدد واقعات رونماہوگئے اور متعدد شہادتیں ہوئیں، ان شہادتوں میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہے مگر شہادت  حسین کے بہانے شیعوں نے تعزیہ کی رسم ایجاد کی اور آج مسلمانوں کی اکثریت بھی شیعوں کی طرح تعزیہ داری کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔  یہ ہرگز نہیں بھولیں کہ رسم تعزیہ شیعوں کی ایجاد ہے اوریہ رسم تعزیہ سیدنا حسین کی یاد میں بطور تعزیت ہے ۔ تعزیہ میں شہید کی قبر کی شبیہ  ہوتی ہے جوسونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل  اور کاغذ  سے تیار کی جاتی ہے۔
جب آپ اسلامی تعزیت اور رسم تعزیہ کا موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسم تعزیہ بالکل اسلام کے خلاف ہے، اس کا اسلام سے  دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے ، اسلامی شریعت سے تعزیت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے سارے اعمال خود سے وضع کئے گئے ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسم تعزیہ کیسے اسلامی تعزیت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(1) نبی ﷺ کی وفات 9/ربیع الاول گیارہ ہجری کو ہوئی جبکہ کربلا کا واقعہ 10/محرم اکسٹھ ہجری کو پیش آیا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ دین اسلام نبی ﷺ کے عہدمبارک میں ہی مکمل ہوچکا تھالہذا دین وہی ہے جو قرآن وحدیث میں موجود ہے اور قرآن وحدیث سے باہر کوئی عمل دین نہیں ہے ۔  رسم تعزیہ سیدنا حسین سے جڑی ہوئی ہے جو یقینا اسلام مکمل ہونے کے بعد کی پیداوار ہے ۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی کی وفات یا شہادت پر رسم تعزیہ منانے کا حکم نہیں دیا ہے ۔ آپ نے وفات کے وقت میت کے گھر والوں سے محض تعزیت کا حکم دیا ہے جس کا ذکر سطور بالا میں ہے مگر بانس وکاغذ اور لکڑیوں کے توسط سے  لمبا سا جہاز ماڈل قبر کی شبیہ بنانے کے کا کہیں حکم نہیں دیا ہے ، نہ کسی صحابی کے لئے اور نہ ہی اہل بیت کے شہید کے لئے اور نہ خصوصیت کے ساتھ حسین کے لئے ۔ یہ نئی ایجاد بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
(2)تعزیہ تعزیت سے ماخوذ ہے اور اسلام میں تعزیت زبانی طور پر میت کے گھروالوں کو دلاسہ اور تسلی دینے کو کہتے ہیں مگر رسم تعزیہ داری میں میت کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور ہرسال دس محرم کو تعزیہ منایا جاتا ہے ۔  کسی میت یا شہید کی شہادت کے دن بھی  ایک مرتبہ بھی شہید کی قبر کی شبیہ نہیں بناسکتے ہیں تو ہرسال اس عمل کا دہرانا بھی کسی طرح جائز نہیں ہے اور کتنے گئے گزرے مسلمان ہیں جو قبروں کی شبیہ بناتے ہیں ، گلی کوچے گھماتے ہیں پھر تالات میں بھسم کرتے ہیں کیا یہ ہندؤں کی مورتی پوجا جیسی عبادت نہیں ہے ؟  ہندو بھی  اپنے تہواروں پراپنے بزرگ لوگوں کی مورتی بناتے ہیں ، اس کی تعظیم وعبادت کرتے ہیں اور پھر اسے پانی میں بہادیتے ہیں یعنی جو سب اعتقادات و اعمال ہندو اپنے مورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ٹھیک ویسے ہی اعتقاد وعمل کے ساتھ تعزیہ داری کی جاتی  ہے ۔اس لحاظ سے یہ شرکیہ وکفریہ  عمل بھی ہے اور اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا کہ وہ ہرگناہ کو معاف کردے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گالہذا مسلمانوں کو اس شیعی ایجاد شرکیہ وکفریہ عمل سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
(3) تعزیہ میں موجود قبر کو زندہ حسین سمجھا جاتا ہے ، ان کی تعظیم کی جاتی ہے، ان کے لئے نیاز کی جاتی ہے، نذر مانی جاتی ہے  اور ان سے مدد مانگی جاتی ہے حتی کہ ان  کا سجدہ بھی کیا جاتا ہےاور تعزیہ کے نیچے سے بچوں کو گزارا جاتا ہے اس اعتقاد کے ساتھ صاحب قبر کی پناہ میں آجائے گا۔ گویا ایک انسان کو معبود کی حیثیت سے پوجا جاتا ہے ، اگر یہ شرک نہیں ہے تو پھر کس کا نام شرک ہے  اور اگر کوئی کلمہ پڑھ کر یہ سارے مشرکانہ اعمال انجام دے گا تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو مورتی پوجنے والوں کا حشر ہوگاکیونکہ ان دونوں میں اعتقاد وعمل کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے ۔
(4)کہیں پر تعزیہ میں ذوالجناحین (دوپروں والے گھوڑے) اور دلدل نامی سواری تیار کرکے اس کا جلوس نکالا جاتا ہے ، یہ دیکھنے میں عجیب مورتی کی شکل میں ہوتی ہے ، اسے نفع ونقصان کا مالک سمجھ کراس کی تعظیم کی جاتی ہے ، اس سے مرادیں مانگی جاتی ہیں ، اس کی زیارت اور اس کے جلوس میں شامل ہونا باعث اجروثواب سمجھا جاتا ہے ۔ عموما اس طرح کی رسم شیعہ انجام دیتے ہیں مگر اس میں تعزیہ منانے والے بھولے بھالے مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں جو بیحد شرمناک ہے ۔ اللہ تعالی نے ہمیں بتوں کی عبادت سے نجات دے کر اسلام میں داخل فرمایا پھر بھی بعض مسلمان عمدا یا سہوا بتوں ، گھوڑوں، پتھروں ، قبروں اور مورتیوں کی عبادت کسی نہ کسی شکل میں کرتے ہیں ۔ہم  ایسے بے راہوں کے لئے اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے ہیں ۔
(5)تعزیت تو میت کے غم پہ صبر دلانے کو کہتے ہیں مگر تعزیہ داری میں باقاعدہ ڈھول بجایا جاتا ہے، اس میں ناچا اور تھرکا جاتاہے ، جوان لڑکے اورجوان لڑکیاں  اس میں رقص کرتے ہیں اور خوب خوب ہنستے گاتے ، کھیل تماشہ کرتے اورمیل ٹھیلہ لگاتے ہیں ۔اولا ڈھول باجوں کی  تعزیہ سے کوئی نسبت نہیں بنتی ، ثانیا ڈھول ورقص ہمیشہ منع ہے پھر تعزیہ کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ نبی ﷺ نے ان جیسے آلات کو شیطان کا ساز قرار دیا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ اس امت میں خسف،مسخ اور قذف واقع ہوگا ، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ایساکب ہوگا؟ آپ نے فرمایا:جب ناچنے والیاں اورباجے عام ہوجائیں گے اورشراب خوب پی جائے گی۔(صحیح الترمذی:2212)
مسلم بھائیو!اللہ کبھی تمہارے ان عملوں سے راضی نہیں ہوگابلکہ تم ایسے اعمال کرکے قہرالہی کو دعوت دے رہے ہو، ذرا غور کروکہ شہدائے کربلا کے واسطے یوم شہادت پر شہنائی بجاناکیا حب اہل بیت ہے یا یہ اہل بیت سے بغض کی علامت ہے اور جواسلام عورتوں کواپنے  گھر میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے مگرتم انہیں گھروں سےسڑکوں، گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر نکالتے ہو، خود بھی ناچتے ہو، ان سے بھی نچواتے ہواور یوں مسلم خواتین کی عزت اپنوں اور غیروں کے سامنے  نیلام کرتے ہو ۔
(6) تعزیہ کی مناسبت سے مرثیہ خوانی، نوحہ، ماتم ، گریبان چاک ، چیخنا چلانا ، رونادھونا کیا جاتا ہے ۔ ہم نے سطور بالا میں بتایا ہے کہ صرف وفات کےوقت  میت کے گھروالوں میں خاتون کو تین دن سوگ منانے کی اجازت ہے اور شوہر کی وفات ہو تو چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم ہے مگر مردوں کو سرے سے کبھی بھی سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے ، سوگ صرف عورت کے لئے وہ بھی وفات کے وقت ۔ اور ماتم ونوحہ تو کبھی بھی اسلام میں جائز نہیں ہے ، نہ موت کے وقت اور نہ زندگی میں کبھی ۔ نبی ﷺ کافرمان ہے :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ليس مِنَّا من ضربَ الخدودَ ، وشَقَّ الجيوبَ ، ودعا بدَعْوَى الجاهليَّةِ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دور جاہیلت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
بلکہ میت پر رونے دھونے اور نوحہ کرنے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے ، نبى كريم ﷺ نے فرمايا:ميت كو قبر ميں اس پر كيے گئے نوحہ كى وجہ سے عذاب ہوتا ہے(صحيح البخارى:1292)
نیز آپ ﷺ كا فرمان ہے:يقينا ميت كو اس كے گھر والوں كے رونے سے عذاب ديا جاتا ہے۔(صحيح البخارى:1288)
ذرا سوچو کہ تم ماتم ونوحہ کرکےحب اہل بیت کاثبوت دے ہواور ثواب دارین حاصل کررہے ہو یا شہدائے کربلا کو تکلیف پہنچارہے ہو؟
(7)اسی طرح تعزیہ کے پس منظر میں صحابہ کرام کو سب وشتم کیا جاتا ہے بالخصوص امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیا جاتا ہے ، صحابہ کو گالی دینا شیعہ کی خاص پہچان ہے مگر آج شیعہ کے جھانسے میں بہت سارے مسلمان آگئے اور مسلمان بھی بعض صحابہ کو برا بھلا کہنے لگے ۔ اس بارے میں مختصرا یہ جان لیں کہ ایک دل میں ایمان اور صحابی کا بغض دونوں جمع نہیں ہوسکتا ہے ۔ اگر دل میں ایمان ہے تو صحابی کی محبت ہوگی اور اگر کوئی آدمی صحابی سے بغض رکھتا ہے تو اس کے دل میں ایمان نہیں ہوگا۔
(8) تعزیہ میں ایک عمل خود کو تکلیف دینا ہے جیسے تلوار وچاقوسے خودکو زخمی کرنا، دھاردار اسلحے سے جسم لہولہان کرنا، آگ زنی   ، سینہ کوبی ا   ور زنجیر زنی کرکے خود کو نقصان پہنچانا ۔یہ سارے شیعی اعمال ہیں اور یہ ان کے برے کرتوت کے نتیجے ہیں جن کے سبب بطور ذلت ورسوائی یہ قیامت تک خود کو اذیت وتکلیف میں مبتلا رکھیں گے ۔واضح رہے ان المناک حرکتوں کااسلام سے اور شرعی تعزیت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام تو خود کو ادنی سی تکلیف پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ شیعوں کی دیکھادیکھی  کہیں کہیں بریلوی لوگ بھی اسی طرح کی حرکتیں انجام دیتے ہیں ۔برصغیر میں اکثر بریلوی تعزیہ میں تلوار، زنجیراور لاٹھیوں سے عجیب وغریب  کھیل ، تماشے ،کرتب اور سرکس والا عمل کرتے ہیں ، یہ عمل چوک چوراہوں ، گلی کوچوں اور بازاروں میں انجام دیا جاتا ہے ،ان حرکتوں کو دیکھ ایسے  بدنصیب مسلمانوں پر افسوس ہوتا ہے ۔ کیا نبی کی امت ایسی ہوسکتی ہے اور ایسے لوگ خود کو اصلی سنی کہتے ہیں ۔ میں نے سنا ہے کہ ان بریلویوں کو بعض جگہوں پر شیعوں سے تعزیہ منانے کے پیسے بھی ملتے ہیں اور ان پیسوں سے یہ بریلوی دھوم دھام سے تعزیہ مناتے ہیں ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ صحابہ کو گالی دینے والے شیعوں کی محفل عزاداری میں بریلوی شوق سے جاتے ہیں ، ان کی طرح ماتم اور تعزیہ مناتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ دیوبندی یا اہل حدیث سے سلام کرنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ان  کو بدمدہب اور بدعقیدہ کہاجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گمراہ مسلمانوں کو گمراہ فرقوں سے ہی محبت ہوسکتی ہے ۔
(9) تعزیہ میں غیراللہ کے نام کی نذرونیاز کی جاتی ہے ، مختلف قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں اور انہیں مزارات پر پیش کئے جاتے ہیں اور لوگوں میں بھی تقسیم کئے جاتے ہیں اور جھوٹی روایات کا سہارا لے کر ان نذرونیاز کےجھوٹے  فضائل بیان کئے جاتے ہیں  ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ نذر عبادت ہے اور غیراللہ کے لئے نذر ماننا اور غیراللہ کے لئے نیاز کرنا شرک ہے اور اللہ شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔
(10)مسلمانوں میں الحمدللہ اہل حدیث جماعت بدعتوں سے بالکلیہ دور ہے ، رسم تعزیہ داری سے بھی دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے  بلکہ اس کفریہ اور شرکیہ رسم کی سخت لہجہ میں کوئی جماعت تردید کرتی ہے تووہ  اہل حدیث جماعت ہی ہے ۔ دیوبند کے علماء بھی تعزیہ کو نہیں مانتے اور اپنی عوام کو اس سے روکتے ہیں پھر بھی کہیں کہیں دیوبندی عوام اس کام میں ملوث ہیں ۔ جہاں تک بریلویوں کا مسئلہ تو یہ لوگ ڈنکے کی چوٹ پہ علی الاعلان تعزیہ بناتے ، مناتے اور یہ باورکراتے ہیں کہ اصلی مسلمان اور اہل بیت سے سچی محبت کرنے والے یہی بریلوی ہیں جبکہ میں بتاچکاہوں کہ تعزیہ بدعت ہے، کفربھی ہے اور اس میں شرکیہ عمل بھی پایا جاتا ہے ۔ کم ازکم بریلوی اپنے اعلی حضرت احمد رضا کے فتوی جو رسالہ تعزیہ داری میں موجود ہے اسی  کومان لے اوراسی پر عمل کرلےیہی بہت ہے ۔ اس رسالہ میں احمد رضا کا کہنا ہے "اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت وناجائز وحرام ہے۔
ویسے تعزیہ سے متعلق بہت سارے اور بھی امور پائے جاتے ہیں جن کا اسلام سے تعلق نہیں ہے تاہم میں نے اہم ترین دس امور کا ذکر کیا ہے اور خلاصہ کے طور پر ایک جملہ میں یہ سمجھ لیں کہ تعزیہ داری سرے سے ناجائز اور حرام ہے اورتعزیہ کےساتھ جتنے اعمال انجام دئے جاتے ہیں وہ بھی تعزیہ کی طرح ہیں ناجائز ہیں کیونکہ جس عمل کی بنیاد ہی حرام ہے اس سے جڑے تمام اعمال بھی حرام ٹھہریں گے ۔ اور قرآن وحدیث کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیہ داری کرنےو الے مذکورہ بالا اعمال سے توبہ کئے بغیر مرگئے تو اللہ کے یہاں ان کی بخشش محال ہےاور جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں یعنی حسن وحسین رضی اللہ عنہما وہ خود بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے نام پر بے پناہ بدعت ومعصیت اور کفروشرک کرنے والے لوگ جنت میں داخل ہوں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے  کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے تاکہ صراط مستقیم پرآجائیں اور مذکورہ بالا کفرومعصیت سے تائب ہوکر سچے ایمان والے اور پکے توحیدوالے بن جائیں ۔
 

مکمل تحریر >>