Saturday, December 31, 2022

مجرب وظیفہ کی شرعی حیثیت


 مجرب وظیفہ کی شرعی حیثیت
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب
 
بیماری سے نجات پانے ، مشکل کو دور کرنے  اور اپنے کسی مقصد کو پانے کے لئے اکثر آپ نے وظیفہ کا لفظ سنا ہوگاجیسے  شادی کا وظیفہ ، اولاد کا وظیفہ، نوکری کا وظیفہ ، میاں یا بیوی کو قابو میں کرنے کا وظیفہ ، نفرت یا محبت پیدا کرنے کا وظیفہ ،ویزہ لگانے کا وظیفہ ،  پیٹ کم کرنے کا وظیفہ ، وزن بڑھانے یا گھٹانے کا وظیفہ ، خوبصورت اولاد پانے کا وظیفہ ، بیٹاحاصل کرنے کا وظیفہ، کینسر کاوظیفہ،کورونا کا وظیفہ وغیرہ  غرض ہرکام کا الگ الگ بلکہ ایک ایک کام کے سوسووظائف لوگوں میں مشہورہیں ۔
کچھ نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ بات پوری طرح واضح ہو۔ میں یہاں چھوٹے لوگوں کی بات نہیں کررہاہوں بلکہ بڑے اور عالم  طبقہ کی بات کررہا ہوں ۔پاکستان کے ایک  بڑے حنفی ادارے جامعہ نبوریہ عالمیہ کی ویب سائٹ پر مجرب وظائف کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اس میں سے چند نمونے یہاں پیش کرتا ہوں۔
٭پسند کی شادی کے لئے مجرب وظیفہ :سورہ طہ کی آیت نمبر 131، 132کسی کاغذ پر لکھ کربازو پر باندھ لیں۔
٭چوری شدہ بیک حاصل کرنے کا وظیفہ:سورہ بقرہ آیت نمبر148 کسی گول کٹے ہوئے کپڑے پر لکھ کراس پر بائک کا نام لکھ کرچوری شدہ جگہ پر کسی میخ سے لٹکادےبائک مل جائے گی ۔
٭نوکری کا وظیفہ : عشاء کی نماز کے بعد روزانہ یاوھاب 414 مرتبہ پڑھیں اور "یاوھاب ھل لی من نعمۃ الدنیا والآخرۃ انک انت الوھاب"112 مرتبہ پڑھے ۔
٭نرینہ اولاد کا مجرب وظیفہ:حمل ٹھہرنے کے بعد عورت کے پیٹ پر انگلی سے ستربارگول دارہ کھینچے اور ہردائرہ کے ساتھ "یامتین " پڑھے۔حمل کے شروع میں عورت کے داہنی پسلی پرسورہ الاعلی لکھے۔جب بچہ پیٹ میں ہو تو اس کا نام محمد تجویز کرے۔
٭جیل سے قیدی کی جلد رہائی کا وظیفہ:عصریا مغرب کے بعد سوالاکھ مرتبہ یہ آیت پڑھے "ربنااکشف عنا العذاب انامومنون"۔
٭کینسرکاوظیفہ:"اللھم صل علی محمد بعددکل داء ودواء وبارک وسلم"بعد نماز فجرومغرب دومرتبہ اس طرح پڑھےکہ سوبار پڑھنے کے بعد سات مرتبہ سورہ فاتحہ بغیر آمین اور تین مرتبہ سورہ اخلاص اور پھر سو مرتبہ مذکور درود شریف پڑھے اور اس کا ایصال ثواب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، حضرت مولانا محمدہاشمی سندھی ، اورحضرت مولانا یوسف لدھیانوی کو کرے اور مریض پر دم کرے اور پانی پر دم کرکے پلائے ۔
یہ دوچند نمونے ذکر کیا ہوں ، وگرنہ ان کے یہاں بڑی بڑی کتابیں وظائف پر موجود ہیں ۔ان سب کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے ،بس اتنا سمجھ لیں کہ  مسلمانوں کے بعض طبقات (اہل بدعت و اہل تصوف )میں ایک قسم کا دھندا ہے ، اس طبقہ کے اکثرعلماءاس کام میں ملوث ہیں ۔ کورونا کے وقت پاکستان کے ایک بڑے عالم نے ٹی وی پر آکر کورونا بھگانے کاوظیفہ بتایاتھاکہ تین مرتبہ سورہ فاتحہ ، تین مرتبہ سورہ اخلاص اور تین سو تیسرہ مرتبہ حسبنااللہ ونعم الوکیل پڑھوکورونابھاگ جائے گا۔انہوں نے رمضان المبارک 2022 کے موقع سے تیسرے رمضان کا خاص وظیفہ اس طرح بتایا کہ درورد ابراہیم گیارہ  بار، سورہ الم نشرح اکیس بار، سورہ قدر اکیس بار اور پھر درود ابراہیم گیارہ بارپڑھو ہرچھوٹابڑامرض دور ہوجائے گا ، اس قسم کے بہت سارے وظائف ان کی طرف سے منقول ہیں۔ یہ حضرت اپنے طبقہ میں شیخ الاسلام سےمشہورہیں ، جب شیخ الاسلام کا یہ حال ہے تو ان سے نیچے کا کیا حال ہوگا؟
آخر کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کہ لوگوں کے یہ بناؤٹی وظیفے شریعت کی روشنی میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ؟ شاید کم ہی لوگوں نے اس بارے میں سوچا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی یا مولوی نما لوگوں نے ہی اس کام کو بڑھاوا دیا ہےجس سے عوام کو لگتا ہے کہ یہ صحیح عمل ہے ۔ پھر مولویوں میں جب بڑے بڑے مولوی ہرہرکام کا الگ الگ وظیفہ گھڑگھڑ کر لوگوں میں پھیلائے تو چھوٹے چھوٹے مولوی اور مولوی نمامولوی پھر کیوں اس میدان میں پیچھے رہیں گے ۔ گویا بناؤٹی اور خودساختہ وظائف مولوی کی ہی دین ہے مگر یہ بدعتی مولوی ہیں ، سلف کا یہ شیوہ نہیں رہا ہےاور آج نوبت یہ آگئی ہے کہ ایک عام آدمی بھی شہرت اور مال کے لالچ میں وظائف کی دوکان اورکاروبار چلا رہا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کاروبار دین کے نام پر چل رہا ہے اور اس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ کتاب وسنت کا علم رکھنے والے بھی کچھ لوگ اس قسم کے وظائف بتانے لگے ۔ بعض علماء کی تقریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دین بس وظائف کا نام ہے، دین کا عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بیحد افسوس کی بات ہے کہ جو دین عمل کرنے کے لئے آیاتھاآج اسے محض وظیفہ کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے اوراس کے نام سے کمائی کی جارہی ہے۔ ایسے میں غیورعلماء کوآگے آکراس قسم کے وظائف اور کاروبار پر روک لگانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے یا کم ازکم عوام کو اس کی حقیقت سے روشناس کرانا چاہئے تاکہ بدعات و خرافات سے بچ سکے۔  
آئیے میں آپ کو آج اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ مجرب وظیفہ کی کیا حیثیت ہے ؟ پہلے یہ جان لیں کہ مجرب وظیفہ کسے کہتے ہیں ۔ مجرب وظیفہ سے مرادکسی کا ایجاد اور تجربہ کیا ہوا وظیفہ یعنی کسی نے اپنی طرف سے کوئی وظیفہ ایجاد کیا ہواس کو مجرب وظیفہ کہتے ہیں ۔اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بناؤٹی وظیفہ کو مجرب وظیفہ کہاجاتا ہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین میں کسی کو وظیفہ ایجاد کرنے کی اجازت ہےاور جو متعددقسم کے مجرب وظائف بنائے گئے ہیں اور روزنئے نئے وظیفے بنائے جارہے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
اس سوال کا جواب کئی جہت سے جاننے کی کوشش کریں چنانچہ یہاں سب سے پہلی بات یہ جان لیں کہ دین اسلام، محمد ﷺ کے زمانہ میں ہی مکمل ہوگیا ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا(المائدہ:3)
ترجمہ:آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا نام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ چونکہ ہمارا دین مکمل ہوچکا ہے اس لئے کسی کو دین میں کوئی بات داخل کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے ، جو کوئی بات دین میں اضافہ کی جائے گی وہ بدعت اور مردود ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: من أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ(صحيح البخاري:2697،صحيح مسلم:1718،سنن أبي داود4606, سنن ابن ماجه:14,مشكوة المصابيح:140 )
ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام ایجادکیا جو دین میں نہیں تو وہ مردود ہے۔
اسی حدیث سے جہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دین میں جو بات داخل کردی جائے وہ مردودوباطل  ہے، اس کو بدعت کہتے ہیں ، اسی طرح ایک تیسری بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ تجربہ دین میں نہیں کیا جائے گا بلکہ دنیاوی معاملات میں تجربہ کیا جائے گا۔ دین پر ویسے ہی عمل کیا جائے گا جیساکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے چل کردکھایاہے۔
ان بنیادی تین باتوں کو جان لینے کے بعد اب یہ سمجھیں کہ وظیفہ ذکر ہے اور ذکرعبادت کی ایک قسم ہے لہذا عبادت کے باب میں جو ذکر جیسے وارد ہے اسی طرح کیا جائے گا۔ شریعت میں اذکار دوقسم کے ہیں ۔
پہلی قسم، خاص ذکر:بعض اذکار خاص ہوتے ہیں خواہ وہ  وقت کے ساتھ خاص ہویا مرض کے ساتھ خاص ہو یا ضرورت کے ساتھ خاص ہویا تعداد کے ساتھ خاص ہو جیسے  صبح وشام کے اذکار،  کسی بیماری کی خاص دعا، کسی خاص ضرورت  مثلاقرض کی دعا اور اسی طرح بعض ذکر میں تعداد متعین ہوتی ہے مثلا«لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» دن میں سومرتبہ پڑھنا جس کی بڑی فضیلت وارد ہے ۔
دوسری قسم، عام ذکر:وہ تمام اذکار جو عام ہیں کسی خاص موقع سے نہیں ہیں وہ عام اذکار ہیں ان کو آپ کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں حتی کہ خاص اذکار بھی عام حالات میں کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ذکر کا مقصد اللہ کی بڑائی بیان کرنا ہے ۔
اب گزشتہ سوال کا جواب یہ ہوا کہ کہ دین میں وظیفہ بنانے اور ایجاد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے ، یہ دین کا معاملہ ہے اور دین مکمل ہوچکا ہے ۔ گویا مجرب وظیفہ اسلام کی نظر میں بدعت ہےکیونکہ یہ وحی الہی نہیں ہے بلکہ انسانوں کی طرف سے ایجادکردہ ہے۔ آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ مصائب ومشکلات جیسے آج ہیں کل بھی موجود تھے ، عہد صحابہ میں بھی موجود تھے ، کیا صحابہ کرام اپنی طرف سے الگ الگ کام کا الگ الگ وظیفہ ایجادکیا کرتے تھے ۔ فلاں کام کےلئے فلاں آیت یا فلاں ذکر313 مرتبہ فلاں وقت میں پڑھو؟ کیا آپ نے کسی صحابی کا ایسا کوئی عمل سنا یا پڑھا ہے ؟ آپ نے ایسا نہیں سنا یا پڑھا ہوگا کیونکہ صحابہ کرام ایسا کرتے ہی نہیں تھے ۔ وہ اسی طرح سے ذکر کرتے تھے جیسے نبی ﷺ نے تعلیم دی ہے ۔ آخر سب سے پہلے صحابہ نے ہی نبی ﷺ سے دین سیکھا پھر دوسروں کو سکھا یا، تو صحابہ نے دین کو عین اسی طرح پہنچایاجیساکہ نبی سے سیکھا ، اپنی طرف سے کوئی نہ ذکرایجادکیا او ر نہ ہی کسی ذکر کی کوئی تعداد متعین کی ۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سونے کے وقت ایک ذکر جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی ہے اس ذکر میں ایک صحابی نےلفظ"نبی" کی جگہ رسول پڑھ دیا تو نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ نبی کہو۔ وہ حدیث دیکھیں اور عبرت حاصل کریں ۔
نبی ﷺ نے سونے کے وقت ایک دعا سکھائی ہے وہ یہ ہے:«اللهم أسلمت وجهي إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وفوضت أمري إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏وألجأت ظهري إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رغبة ورهبة إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت،‏‏‏‏ ‏‏‏وبنبيك الذي أرسلت‏»(بخاری:247، مسلم:2710)
اس دعا کے جملہ"وبنبيك الذي أرسلت" میں نبی کی جگہ صحابی نے رسول یعنی «ورسولك‏» کا لفظ کہہ دیا تو نبی ﷺنے فرمایا اس طرح کہو:"وبنبيك الذي أرسلت"۔
جب ایک ذکر میں کوئی صحابی نبی کی جگہ رسول کا لفظ استعمال نہیں کرسکتا ہے اور یہ ممانعت رسول اللہ ﷺ سے وارد ہے پھر کسی عالم یا عام آدمی کواپنی طرف سے  وظیفہ گھڑنے یا وظیفہ کی تعداد متعین کرنے یا کوئی وقت خاص کرنے یا کوئی خاص فضیلت بیان کرنے یا کسی خاص ضرورت وحاجت سے جوڑنے کی کیسے اجازت ہوسکتی ہے ؟
اس لئے جان لیں کہ کوئی عالم ہو یا غیرعالم ان  کو اجازت نہیں ہے کہ وہ
٭ کسی آیت یا ذکریادعا کو اپنی طرف سے کسی حاجت کے لئے خاص کرے جس کو شریعت نے خاص نہیں کیا ہو۔
٭کسی آیت یا ذکریادعاکی تعداد اپنی طرف سے متعین ومقررکرے جو تعداد شریعت نے نہ بتلائی ہو۔
٭کسی آیت یاذکریادعاکا وقت اپنی طرف سے متعین کرے جووقت  شریعت نے متعین نہ کیا ہو۔
٭مذکورہ تین باتوں کے علاوہ بعض ایسے بھی کلمات ذکر کے طور پر کہے جاتے ہیں جو اصلا ذکر ہیں  ہی نہیں جیسے یااللہ ، الااللہ ، یاودود، یاوھاب، یالطیف، یامتین وغیرہ ۔ اس قسم کے اذکار رسول اللہ ﷺ سے وارد نہیں ہیں ۔ ذکراس قسم کا ہوتا ہے ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر، لاالہ الااللہ ، لاحول ولاقوۃ الاباللہ  وغیرہ۔۔یعنی ذکر ایک ایسا کلمہ ہے جس سے کوئی ایک اہم بات سمجھی جاتی ہے جیسے ہم اللہ اکبر کہتے ہیں تو اس سے اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں جبکہ اللہ اللہ یا الااللہ میں بات مکمل نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کا ذکرشریعت میں وارد ہے ۔
٭کبھی کبھی لوگ کسی ذکر کو ایک لاکھ مرتبہ مل مل کر آپس میں تقسیم کرتے پڑھتے ہیں مثلا ایک لاکھ مرتبہ درود دس افراد مل کردس دس ہزار کرکے پڑھے ، اس طرح اجتماعی صورت میں ذکر کرنا بھی بدعت ہے کیونکہ شریعت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
٭کسی ذکر اور وظیفہ کو لکھ کر جسم میں کہیں لٹکانا شرک ہےکیونکہ نبی ﷺ نے ہرقسم کے تعویذکو شرک قرار دیا ہے ۔
٭ کسی عورت یا مرد کے جسم پرقرآن لکھنا قرآن کی بے حرمتی ہے ، العیاذ باللہ ۔عالمی ادارہ کیسےحاملہ  عورت کی پسلی پر سورہ الاعلی لکھنے کی تعلیم دیتا ہے اور کیسے پیٹ پر سترمرتبہ گول دائرہ بنانے اور اس پر یامتین پڑھنے کو کہتا ہے ۔دراصل ایسی ہی تعلیمات کی وجہ سے سماج میں ایمان فروش عاملین وافرمقدار میں پیداہوگئے جنہوں رقیہ کے نام پر عورتوں کی عفت وعصمت سے کھلواڑ کیا حتی کہ عورتوں کی   شرمگاہ پر بھی اشیاء رکھی جاتی ہیں ، الحفظ والاماں۔
٭ کسی مجرب وظیفہ کو انجام دینے سے اگر کچھ فائدہ نظر آئے تو اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ اسی خاص وظیفہ سے فائدہ ہوا ہے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ فائدہ پہنچانے والا اللہ ہے ، وہ بنامانگے بھی دیتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہواکہ ہر قسم کا مصنوعی اور مجرب وظیفہ  بدعتی ہے اور بدعتی وظیفہ شریعت کی نظر میں مردود وباطل  ہے لہذا آپ لوگ اس قسم کے وظائف سے دور رہیں ۔ بدعت پر عمل کرنے میں کوئی  بھلائی نہیں ہے ، بھلائی اس طریقہ میں ہے جس کو شریعت نے مقررکیا ہے ۔
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ  جیسےہم  اپنی زبان میں اللہ سے دعا مانگ سکتے ہیں اسی طرح اپنی زبان میں بھی اللہ کی بڑائی بیان کرسکتے ہیں ،ا س میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے لیکن کسی مقصد اور ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مخصوص وظیفہ ایجاد کرنا، یا وظیفہ میں اپنی طرف سے تعداد اور وقت متعین کرنا بے دینی ، جہالت اور بدعت ہے ۔
آئیے آپ کو پریشانی کا شرعی علاج وحل بتاتاہوں ۔آپ کسی بھی معاملہ میں پریشان ہیں یا بڑی سے بڑی مصیبت میں آپ مبتلا ہیں تو پہلے ایمان درست کریں، گزشتہ برے اعمال سے توبہ کریں اور اللہ سے تعلق جوڑیں اوراس کی بندگی کریں جس کے لئےاس نے  ہمیں پیداکیا ہے ،ساتھ ہی اذکار بھی کرتے رہیں، دعابھی کریں خصوصا افضل اوقات میں اور دنیاوی اسباب بھی اپنائیں ۔اس طرح سے ہم شریعت کے دائرےمیں مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج ہمارے اعمال بدسے بدترہیں، پانچ کی نماز تک صحیح سے ادا نہیں کرتے اور دن ورات نہ جانے کتنے کفریہ عمل اور معصیت کے کام کرتے ہیں نتیجتا ہم مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو مشکل سے نکلنے کے لئے ان اسباب کودور کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے مصیبت آئی ہے تبھی مصیبت کا صحیح علاج ہوگاورنہ ایک وظیفہ پڑھنے سے ممکن ہے کچھ جھوٹی تسلی  مل جائے مگر نجات توبالکل نہیں ملے گی خصوصا اخروی نجات۔
دین پرعمل کرنے والوں کو پریشانی لاحق ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے جنت کو پریشانیوں سے گھیررکھا ہے اس جنت میں داخل ہونے کے لئے دنیا میں ہی پریشانی برداشت کرنی ہے اس لئے اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھی جائے ۔ دین قرآن اور حدیث کا نام ہے ، اس پورے دین  پر چلنا ہمارا کام ہے ۔اسی  پرچل کرہمیں دنیا میں  بھی اللہ کی  طرف سے نجات و نصرت ، رحمت وشفقت  اور فوزوترقی ملتی ہے اورآخرت  میں بھی ملے گی ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, November 29, 2022

فرض نماز کے بعد کے اذکار اور ان کی فضیلت


فرض نماز کے بعد کے اذکار اور ان کی فضیلت

تحریر:مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ ، سعودی عرب

اللہ تعالی نے انسانوں کو محض اپنی بندگی کے لئے پیدا فرمایا ہے لہذا ایک مومن صبح وشام اپنے خالق ومالک کو یاد کرتا اور اس کی بندگی کرتا ہے ۔ نماز اللہ کی عبادت بھی ہے اور اس کا ذکربھی ہے ،سورہ جمعہ کی نو نمبرآیت میں نماز کو ذکرقراردیاگیا ہے ۔ اور ذکر بھی ایک قسم کی قلبی اور لسانی عبادت ہے جس کا مقصد اللہ رب العالمین کی تعریف وتوصیف اور تقدیس و بڑائی بیان کرنا ہے ۔اس کے بدلے میں اللہ اپنے بندوں کو بے حیائی سے، انسانوں اور جنات کے شر سے حفاظت فرماتااور مختلف قسم کے اجر وثواب سے نوازتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : ولذكرالله أكبر(العنکبوت:45) ترجمہ: بے شک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے  یعنی اللہ کا ذکرکرنا بہت ہی عظیم چیز ہے ۔
ذکر کی عظمت وفضیلت کے پیش نظر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرض نماز کے بعد متعددقسم کے اذکار وادعیہ کی تعلیم دی ہے جن کو ذیل کے سطور میں ذکر کررہاہوں ۔
اذکار کو ذکر کرنے سے پہلے میں اپنے طور پر عوام کو خصوصا خواتین کو بتانا چاہتا ہوں کہ ذکر کے آٹھ ایسے بہترین مقامات ہیں جن میں ذکر کا اہتمام کرنے سے آپ کو قلبی سکون کے ساتھ غم سے نجات، انسانوں کے شر اور آسیب وجادو سے حفاظت ہوگی اور آپ کو عاملوں کے پاس جانے کی نوبت نہیں آئے گی ۔ وہ آٹھ قسم کے مواقع اس طرح ہیں۔ پانچ اوقات فرض نماز ادا کرکے نماز کے بعد کے اذکار پڑھاکریں، دو اوقات صبح وشام کے اذکار پڑھاکریں اور ایک موقع سونے کے وقت ، سونے کی دعائیں پابندی سے پڑھاکریں، ان شاء اللہ ہر قسم کے شر سے حفاظت ہوگی ۔ ان کے علاوہ جو دیگر مواقع کے اذکار، کھانے پینے، مسجد میں داخل ہونے نکلنے ، حمام میں جانے آنے اور گھر و بازار کی دعائیں وغیرہ اپنی جگہ ہیں ہی۔
عربی میں کہاوت ہے الوقایۃ خیر من العلاج یعنی احتیاط کرنا علاج کرنے سے بہتر ہے، اسی بات کو انگریزی میں اس طرح
Prevention is better than cure)) کہاجاتا ہے ۔
اس کہاوت کو ذکرکرنے کا مقصد ہے کہ اگر آپ اذکار کی پابندی کرتے ہیں تو سعادت دارین کے ساتھ جسمانی بیماری سے بھی حفاظت ہوگی اور ہوشیار آدمی وہی ہےجو احتیاطی تدبیر اپناتا ہے ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المَلائِكَةُ تُصَلِّي علَى أحَدِكُمْ ما دامَ في مُصَلّاهُ، ما لَمْ يُحْدِثْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ له، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، لا يَزالُ أحَدُكُمْ في صَلاةٍ ما دامَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ، لا يَمْنَعُهُ أنْ يَنْقَلِبَ إلى أهْلِهِ إلَّا الصَّلاةُ(صحيح البخاري:659)
ترجمہ:ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں۔ جب تک (نماز پڑھنے کے بعد) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے«اللهم اغفر له،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم ارحمه‏» کہ اے اللہ! اس کی مغفرت کر۔ اے اللہ! اس پر رحم کر۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ گھر جانے سے سوا نماز کے اور کوئی چیز اس کے لیے مانع نہیں، تو اس کا (یہ سارا وقت) نماز ہی میں شمار ہو گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی فرض نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے یا پھر نماز کے بعد اذکار کے لئے بیٹھا رہے یہ سب نماز میں داخل ہے بلکہ ایسے شخص کے لئے فرشتے دعائیں کرتےہیں کہ اے اللہ !اس کو معاف فرما، اس پر رحم فرما۔
صحیح مسلم (1506) میں مذکور ہے کہ ایسے شخص کے لئے فرشتے یہ دعائیں کرتے ہیں:"اللهم ارحمه، اللهم اغفر له، اللهم تب عليه" ترجمہ:یا اللہ! تو اس پر رحم کر، یا اللہ اس کو بخش دے، یا اللہ! تو اس کی توبہ قبول کر۔
اس حدیث پر غور فرمائیں کہ نماز کے بعد ذکر کے لئے بیٹھنا کس قدر خیروبھلائی کا سبب ہے؟ خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو فرشتوں کی دعائیں نصیب ہو، یقینا ایسا  شخص کبھی  غمگین ، مایوس اورپریشان نہیں ہوگا۔
اب آپ کے سامنے فرض نماز کے بعد کے اذکار بیان کرتاہوں ۔
(1) «الله اكبر»(نماز ختم ہوتے ہیں فورا ایک مرتبہ تکبیرکہیں)۔
دلیل :ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
كُنْتُ أعْرِفُ انْقِضاءَ صَلاةِ النبيِّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بالتَّكْبِيرِ(صحيح البخاري:842)
ترجمہ:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر«الله اكبر»کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا۔
(2)«أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ،اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَامِ»۔
دلیل : سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا:
كانَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ، إذَا انْصَرَفَ مِن صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الجَلَالِ وَالإِكْرَامِ(صحيح مسلم:1334)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار کرتے اور کہتے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ»(اے اللہ !توہی سلامتی والاہے،اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے ، توبابرکت ہے اے بزرگی اور عزت والے)۔
(3) «اللَّهمَّ أعنِّي على ذِكْرِكَ، وشُكْرِكَ، وحُسنِ عبادتِكَ»۔
دلیل:معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
يا مُعاذُ، واللَّهِ إنِّي لأحبُّكَ، واللَّهِ إنِّي لأحبُّك، فقالَ: أوصيكَ يا معاذُ لا تدَعنَّ في دُبُرَ كلِّ صلاةٍ تقولُ: اللَّهمَّ أعنِّي على ذِكْرِكَ، وشُكْرِكَ، وحُسنِ عبادتِكَ(صحيح أبي داود:1522)
ترجمہ:اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» ”اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
٭ایک روایت میں اس طرح کے الفاظ وارد ہیں:
ربِّ أعنِّي على ذِكْرِكَ وشُكْرِكَ وحُسنِ عِبادتِكَ(صحيح النسائي:1302)
٭ یہی دعا عام حالات میں بھی معمولی تبدیلی کے ساتھ اس طرح مروی ہے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَتُحِبُّونَ أنْ تَجْتَهِدُوا في الدعاءِ قولوا اللهمَّ أَعِنَّا على شُكْرِكَ ، و ذكرِكَ، و حُسْنِ عِبادَتِكَ(السلسلة الصحيحة:844)
ترجمہ:کیا تم چاہتے ہو کہ دعا کرنے میں پوری کوشش کرو؟ (‏‏‏‏ اگر چاہتے ہو تو) کہا کرو: اے اللہ! اپنا شکر کرنے، اپنا ذکر کرنے اور اچھے انداز میں عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما۔ یعنی ایک یہ عظیم دعا ہے جسے فرض نماز کے بعد اور عام حالات میں بھی بکثرت پڑھنا چاہئے ۔
(4) «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»۔
دلیل: مغیرہ بن شعبہ کے کاتب وراد سے مروی ہے :
كَتَبَ الْمُغِيرَةُ: إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ:" إِذَا سَلَّمَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ( صحيح البخاري:6330)
ترجمہ: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یہ کہا کرتے تھے «لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير،‏‏‏‏اللهم لا مانع لما أعطيت،‏‏‏‏ ولا معطي لما منعت،‏‏‏‏ ولا ينفع ذا الجد منك الجد‏‏‏» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کے لیے ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو نے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مالدار اور نصیبہ ور (کو تیری بارگاہ میں) اس کا مال نفع نہیں پہنچا سکتا۔
» (5)لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ«
دلیل:ابوالزبیر نے کہا: كانَ ابنُ الزُّبَيْرِ يقولُ: في دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ له، له المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ وَهو علَى كُلِّ شيءٍ قَدِيرٌ، لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا باللَّهِ، لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إلَّا إيَّاهُ، له النِّعْمَةُ وَلَهُ الفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الحَسَنُ، لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ له الدِّينَ ولو كَرِهَ الكَافِرُونَ وَقالَ: كانَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ يُهَلِّلُ بهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ. (صحيح مسلم:1343)
ترجمہ:سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ ہمیشہ ہر نماز کے بعد سلام پھیرتے وقت پڑھتے «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» ”کوئی معبود لائق عبادت کے نہیں، نہ اس کا کوئی شریک ہے، اسی کی ہے سلطنت اور اسی کے لئے ہے سب تعریف اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور نہ گناہ سے بچنے کی طاقت، نہ عبادت کرنے کی قوت ہے مگر ساتھ اللہ کے، نہیں کوئی معبود لائق عبادت کے سوائے اللہ کے اور نہیں پوجتے ہم مگر اسی کو، اس کا ہے سب احسان اور اسی کو سب بزرگی اور اسی کے لئے سب تعریف اچھی، نہیں ہے کوئی معبود عبادت کے لائق مگر اللہ، ہم صرف اسی کی عبادت کرنے والے ہیں اگرچہ کافر برا مانیں۔اور کہا: راوی سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہی پڑھا کرتے۔
٭اس ذکر میں پہلا کلمہ یعنی"لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ" ترمذی(3585) میں اس کو عرفہ والے دن کی سب سے بہترین دعا قرار دی گئی ہے جسے سارے انبیاء نے کی ہے، یہ حدیث سندا ضعیف ہے مگر شیخ البانی نے متابعت کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے، دیکھیں، (صحيح الترمذي:3585)۔
(6)سبحان الله (۳۳ بار)،الحمد لله(۳۳ بار)،الله أكبر(۳۳ بار)پھر ایک مرتبہ یہ پڑھیں: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ»۔
دلیل:‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ (صحیح مسلم:1352)
ترجمہ:جو ہر نماز کے بعد سبحان اللہ تینتیس ۳۳ بار اور الحمدللہ تینتیس ۳۳ بار اور اللہ اکبر تینتیس ۳۳ بار کہے تو یہ ننانوے کلمے ہوں گے اور پورا سینکڑا یوں کرے کہ ایک بار «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» پڑھے یعنی ”کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں مگر اللہ، اکیلا ہے وہ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی ہے سلطنت اور اسی کیلئے سب تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ تو اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر (یعنی بے حد) ہوں۔
٭ اس تسبیح کا دوسرا طریقہ :لا اله الا الله ۔۔ الخ کے بغیر یہ تسبیح اس طرح بڑی فضیلت کے ساتھ وارد ہے۔ سبحان الله (۳۳ بار)،الحمد لله(۳۳ بار)،الله أكبر(۳۳ بار)۔
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا :
جاء الفقراء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: ذهب أهل الدثور بالدرجات العُلى والنعيم المقيم، يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم، ولهم فَضْلٌ من أموال يحجون بها ويعتمرون ويجاهدون ويتصدقون، قال: ألا أحدثكم بأمر إن أخذتم به أدركتم من سبقكم ولم يدرككم أحد بعدكم، وكنتم خير من أنتم بين ظهرانيه إلا من عمل مثله: تسبحون وتحمدون وتكبرون خلف كل صلاة ثلاثاً وثلاثين(صحیح البخاری: 843)
ترجمہ : کچھ مسکین لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اوربولے کہ مال والے تو بلند مقام اورجنت لے گئے ۔ وہ ہماری ہی طرح نمازپڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اوران کے لئے مال کی وجہ سے فضیلت ہے ، مال سے حج کرتے ہیں، اورعمرہ کرتے ہیں، اورجہاد کرتے ہیں، اورصدقہ دیتے ہیں ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جس کی وجہ سے تم پہلے والوں کے درجہ پاسکو اورکوئی تمہیں تمہارے بعد نہ پاسکے اورتم اپنے بیچ سب سے اچھے بن جاؤ سوائے ان کے جو ایسا عمل کرے ۔ وہ یہ ہے کہ ہرنمازکے بعد تم تینتیس بار(33) سبحان اللہ تینتیس بار(33) الحمدللہ اورتینتیس بار(33) اللہ اکبرکہو۔
٭تسبیح کا تیسرا طریقہ : سبحان الله (33بار)،الحمد لله(33 بار)،الله أكبر(34 بار)۔
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مُعَقِّبَاتٌ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ، أَوْ فَاعِلُهُنَّ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً (صحیح مسلم:1349)
ترجمہ:نماز کے پیچھے کچھ ایسی دعائیں پڑھنے کی ہیں کہ ان کا پڑھنے والا یا ان کا بجا لانے والا ہر نماز فرض کے بعد کبھی (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا، (وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔
٭تسبیح کا ایک چوتھا طریقہ : سبحان الله (10بار)،الحمد لله(10بار)،الله أكبر(10 بار)۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خصلتان، أو خلتان لا يحافظُ عليهما عبدٌ مسلمٌ إلا دخل الجنةَ، هما يسيرٌ، ومن يعملُ بهما قليلٌ، يسبِّحً في دُبُرِ كلِّ صلاةٍ عشْرًا، ويحمَدَ عشْرًا ، ويكبِّرُ عشْرًا، فذلك خمسون ومائةٌ باللسانِ، وألفٌ وخمسمائةٍ في الميزانِ، ويكبِّرُ أربعًا وثلاثين إذا أخذ مضجعَه ، ويحمَدُ ثلاثًا وثلاثين ، ويسبِّحُ ثلاثًا وثلاثين ، فذلك مائةٌ باللسانِ ، وألفٌ في الميزانِ . فلقد رأيتُ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يعقِدُها بيدِه ، قالوا: يا رسولَ اللهِ ، كيف هما يسيرٌ ومن يعملُ بهما قليلٌ؟ قال: يأتي أحدَكم  يعني الشيطانَ  في منامِه فيُنَوِّمُه قبل أن يقولَه ، ويأتيه في صلاتِه فيُذَكِّرَه حاجةً قبلَ أن يقولَها(صحيح أبي داود:5065)
ترجمہ:دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں (برابر) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں ۔ایک تو ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» اور دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے) اور دوسرےسونے کے وقت چونتیس بار «الله اكبر»، تینتیس بار «الحمد الله»، تینتیس بار «سبحان الله» کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ (کی انگلیوں) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: (اس طرح کہ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند میں آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی (ضروری) کام یاد دلا دے گا، (اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا)۔
٭تسبیح کے ان چاروں طریقہ سے متعلق وارد احادیث پرغورکریں کہ اس تسبیح کی کس قدر فضیلت ہے اورخاص طورپرآخری حدیث پر غور کریں کہ شیطان کس طرح انسان کو ذکر سے غافل کرتا ہے تاکہ وہ اسے بڑی فضیلت سے محروم کرسکے۔اور ایک بات یادرکھیں  کہ آپ ان میں سے کسی طریقہ پر تسبیح پڑھ سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ تسبیحات کی ترتیب اس طرح ہے پہلے سبحان اللہ پھر الحمدللہ اور اس کے بعد اللہ اکبر۔ اگر یہ ترتیب کبھی بدل جائے تو کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ آپ یہاں آخری حدیث میں ترتیب بدلی ہوئی دیکھتے ہیں ۔
(7)ہر نماز کے بعد ایک بار سورة الإخلاص ایک بار سورة الفلق اور ایک بار سورة الناس پڑھنا ہے۔
الإخلاص (Al-Ikhlaas)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے-
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4)
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے، اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے،نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔
الفلق (Al-Falaq)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے-
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1) مِن شَرِّ مَا خَلَقَ (2) وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3) وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5)
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے، اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے، اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)، اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے۔
الناس (An-Naas)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے-
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَٰهِ النَّاسِ (3) مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (5) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (6)
ترجمہ:آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں، لوگوں کے مالک کی ، لوگوں کے معبود کی (پناہ میں)، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، (خواہ) وہ جن میں سے ہو یا انسان میں سے۔
دلیل:عن عُقبةَ بنِ عامرٍ، قالَ: أمرَني رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ أن أقرأَ بالمعوِّذاتِ دُبُرَ كلِّ صلاةٍ(صحيح أبي داود:1523)
ترجمہ:عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں۔
یہاں معوذات جمع کا صیغہ ہے اور اس سے مراد سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس ہیں کیونکہ یہ عام سی بات ہے کہ جمع کا اطلاق دو سے زائد پر ہوتا ہے۔ اس کی تائید سوتے وقت دم سے متعلق صحیح بخاری(6319) کی روایت سے ہوتی ہے جس میں معوذات کا لفظ مذکور ہے اور صحیح بخاری کی دوسری روایت(5017) میں صراحت کے ساتھ ان تینوں سورتوں کا نام آیا ہے یعنی سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس۔
٭ایک دوسری صحیح حدیث میں ہرنماز کے بعد معوذتین کا ذکر ہے یعنی دوسورتوں (سورہ فلق اور سورہ ناس) کے پڑھنے کا ذکر ہے چنانچہ ترمذی میں ہے ۔
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ(صحيح الترمذي:2903)
ترجمہ: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ہرنمازکے بعد معوذتین پڑھاکروں۔
اسی روایت کی بنیاد پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہرنماز کے بعد دو ہی سورتیں پڑھنا ہے یعنی سورہ فلق اور سورہ ناس اور سورہ اخلاص نہیں پڑھنا ہے جبکہ ہمیں اوپر کی حدیث سے معلوم ہوا کہ معوذات پڑھنا ہے جس سے تین سورتیں مراد ہیں ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جو زیادتی صحیح حدیث سے ثابت ہوتی ہے وہ قابل قبول ہوتی ہے اس لئے نماز کے بعد سورہ اخلاص بھی پڑھنا چاہئے ۔میں نے فرض نماز کے بعد سورہ اخلاص پڑھنے کے ثبوت پر الگ سے مستقل مضمون لکھا ہے جو میرے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ہر نماز کے بعد ایک مرتبہ سورہ اخلاص ، ایک مرتبہ سورہ فلق اور ایک مرتبہ سورہ ناس پڑھنا ہے ۔
٭بعض کلینڈروں میں فجر اور مغرب نماز کے بعد تینوں سورتوں کو تین تین بار اور بقیہ نمازوں (ظہر،عصر،عشاء) کے بعد ایک ایک دفعہ پڑھنے کا ذکر ملتا ہے جبکہ اس بابت صحیح بات یہ ہے کہ ان تینوں سورتوں کو ہر نماز کے بعد ایک ایک بار پڑھنا ہے اور صبح و شام کے ذکر کے طور پر ان تینوں کو تین تین بار پڑھنا ہے۔
٭صحت وتندرستی اور آسیب وسحر سے حفاظت کے لئے یہ تینوں عظیم سورتیں ہیں لہذا پانچ وقتوں کی نماز کے بعد بھی پڑھیں، صبح وشام کے وقت بھی پڑھیں اور سونے کے وقت بھی پڑھیں ۔
(8)آیۃ الکرسی پڑھیں: « اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ » (البقرة:255)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر وہ جتنا چاہے،اس کی کرسی کی وسعت نے زمین اور آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتا ہے، وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
دلیل:سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة لم يحل بينه وبين دخول الجنة إلا الموت(سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی: 972 و صحيح الترغيب والترهيب برقم :1595)
ترجمہ:جس نے ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی کی تلاوت کی تو اس کے اور جنت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی، سوائے موت کے۔
٭ نبی ﷺ نے اس آیت کو قرآن کی سب سے عظیم آیت قرار دیا ہے اور شیطان سے حفاظت میں اس آیت کا بڑا دخل ہے اس لئے اس کوفرض  نماز کے بعد تو پڑھیں ہی ، دیگر اوقات میں بھی پڑھنے کا اہتمام کریں خصوصا صبح و شام اور سونے کے وقت ۔
» (9)اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِنَ الجُبْنِ، وأَعُوذُ بكَ مِنَ البُخْلِ، وأَعُوذُ بكَ مِن أنْ أُرَدَّ إلى أرْذَلِ العُمُرِ، وأَعُوذُ بكَ مِن فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وعَذَابِ القَبْرِ».
دلیل: عمرو بن میمون اودی نے بیان کی :
كان سعد يعلم بنيه هؤلاء الكلمات كما يعلم المعلم الغلمان الكتابة، ويقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم:" كان يتعوذ منهن دبر الصلاة اللهم إني اعوذ بك من الجبن، واعوذ بك ان ارد إلى ارذل العمر، واعوذ بك من فتنة الدنيا، واعوذ بك من عذاب القبر"، فحدثت به مصعبا فصدقه.(صحیح البخاری:2822)
ترجمہ: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو یہ کلمات دعائیہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے معلم بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ذریعہ نماز کے بعد پناہ مانگا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الجبن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الدنيا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏وأعوذ بك من عذاب القبر» (اے اللہ! بزدلی سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ عمر کے سب سے ذلیل حصے (بڑھاپے) میں پہنچا دیا جاؤں اور تیری پناہ مانگتا ہوں میں دنیا کے فتنوں سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے)۔ پھر میں نے یہ حدیث جب مصعب بن سعد سے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔
(10)فجر کی نماز اور مغرب کی نماز کے بعد دس دس مرتبہ یہ کلمات کہیں: » لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ»۔
فجرنماز کے بعد پڑھنے کی دلیل:ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَ يَوْمَهُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي حِرْزٍ مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ، وَحُرِسَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَمْ يَنْبَغِ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَّا الشِّرْكَ بِاللَّهِ (صحیح الترمذی:3474)
ترجمہ:جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ پیر موڑے (دو زانوں) بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کر سکے گا۔
مغرب نماز کے بعد پڑھنے کی دلیل:عمارہ بن شبیب سبائی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ عَلَى إِثْرِ الْمَغْرِبِ، بَعَثَ اللَّهُ مَسْلَحَةً يَحْفَظُونَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ مُوجِبَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ مُوبِقَاتٍ، وَكَانَتْ لَهُ بِعَدْلِ عَشْرِ رِقَابٍ مُؤْمِنَاتٍ (صحیح الترمذی:3534)
ترجمہ:جس نے مغرب کے بعد دس بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» اللہ اس کی صبح تک حفاظت کے لیے مسلح فرشتے بھیجے گا جو اس کی شیطان سے حفاظت کریں گے اور اس کے لیے ان کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی جو اسے اجر و ثواب کا مستحق بنائیں گی اور اس کی مہلک برائیاں اور گناہ مٹا دیں گی اور اسے دس مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔
٭" يُحْيِي وَيُمِيتُ" کے بغیر دن میں سو دفعہ پڑھنے کا بھی ذکر ملتا ہے،سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کہے «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير» ایک دن میں سو بار تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جیسے دس بردے (غلام) آزاد کیے اور سو نیکیاں اس کی لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس کی مٹا دی جائیں گی اور شیطان سے اس کو بچاؤ رہے گا دن بھر شام تک اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر عمل نہ لائے گا مگر جو اس سے زیادہ عمل کرے (یعنی یہی تسبیح سو سے زیادہ پڑھے یا اور اعمال خیر زیادہ کرے) اور جو شخص «سبحان الله وبحمده» دن میں سو بار کہے اس کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔(صحیح مسلم:6842)
٭یہ ایک عظیم ذکر ہے اس کے پڑھنے سے اجر و ثواب ملنےکے ساتھ شیطان سے بھی خاص حفاظت ہوتی ہےاس لئے بہرصورت اس کے پڑھنے کا اہتمام ہونا چاہئے۔
(11)فجر کی نماز کے بعد یہ پڑھیں: »اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ عِلمًا نافعًا ورزقًا طيِّبًا وعملًا متقبَّلًا»۔
دلیل:ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
كانَ يقولُ إذا صلَّى الصُّبحَ حينَ يسلِّمُ اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ عِلمًا نافعًا ورزقًا طيِّبًا وعملًا متقبَّلًا(صحيح ابن ماجه:762)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔
(12) نماز کے بعد کثرت سے یہ پڑھیں بالخصوص فجر کے بعد: «سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ»۔
دلیل:‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
أنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ خَرَجَ مِن عِندِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهي في مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهي جَالِسَةٌ، فَقالَ: ما زِلْتِ علَى الحَالِ الَّتي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟ قالَتْ: نَعَمْ، قالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ: لقَدْ قُلتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لو وُزِنَتْ بما قُلْتِ مُنْذُ اليَومِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ(صحيح مسلم:6913)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے ان کے پاس سے نکلے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی وہ اپنی نماز کی جگہ میں تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت لوٹے، دیکھا تو وہ وہیں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی حال میں رہیں جب سے میں نے تم کو چھوڑا۔“ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار کلمے کہے تین بار اگر وہ تولے جائیں ان کلموں کے ساتھ جو تو نے اب تک کہے ہیں البتہ وہی بھاری پڑیں گے وہ کلمے یہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» یعنی میں اللہ کی پاکی بولتا ہوں خوبیوں کے ساتھ اس کی مخلوقات کے شمار کے برابر اور اس کی رضا مندی اور خوشی کے برابر اور اس کے عرش کے تول کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر (یعنی بے انتہا اس لیے کہ اللہ کے کلموں کی کوئی حد نہیں، سارا سمندر اگر سیاہی ہو وہ ختم ہو جائے اور اللہ کے کلمے تمام نہ ہوں)۔
٭نمازوں کے علاوہ عام حالات میں بھی اس عظیم ذکر کا اہتمام کرنا چاہئے، یوں زبان ،ذکرالہی میں رطب اللسان رہے گی۔
(13)حج و عمره کا اجر لینا چاہتے ہیں تو جماعت سے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سورج نکلتے تک مصلے پر بیٹھےذكر کریں پھر دو رکعت نماز ادا کریں ۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :من صلى الغداة في جماعة، ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس، ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة تامة تامة تامة۔ (صحيح الترمذي: 586)
ترجمہ : جس نے جماعت سے فجرکی نمازپڑھی پھراللہ کے ذکرمیں مشغول رہایہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیاپھردورکعت نماز پڑھی ، تو اس کے لئےمکمل حج اور عمرے کے برابرثواب ہے ۔
چنداہم انتباہ :
٭ بعض احادیث کی صحت وضعف میں اہل علم کے درمیان اذکار میں کمی بیشی ہے اس لئے اذکار کچھ کم پڑھیں یا کچھ زیادہ پڑھیں اس میں حرج نہیں ہے ، اصل یہ ہے کہ آپ پانچ اوقات کی نمازوں کی پابندی کریں اور نماز کے بعد وہ اذکار پڑھیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہوں ۔
٭کبھی عجلت کی وجہ سے چند اذکار پر بھی اکتفاکرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور کبھی ضرورت کی وجہ سے مسجد سے نکلنا پڑے تو چلتے ہوئے بھی ان اذکار کو پڑھ سکتے ہیں ۔
٭آپ کو ان میں سے جتنے اذکار یاد ہیں ان کو ابھی سے ہی فرض نماز کے بعد پڑھنا شروع کردیں اور جو یاد نہیں ہیں وہ دیکھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں تاہم کوشش کریں کہ بقیہ اذکار بھی جلد ازجلد زبانی یاد ہوجائے۔
٭ ہم میں سے اکثر جن وشیاطین سے ڈرتے ہیں ، عورتیں تو کچھ زیادہ ہی ڈرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر عاملین مال کمانے کے لئے عوام کو بالخصوص عورتوں کو" آپ پر آسیب کا سایہ ہے" کہہ کر حد سے زیادہ ڈراتے ہیں، آپ ان آٹھ مواقع پر اذکار کا اہتمام کریں ، ان شاء اللہ ایسے عاملوں کے پاس جانے کی نوبت نہیں آئے گی ۔
٭ بہت افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ فرض نماز پڑھ کر فورا یا تو دعا مانگنے لگ جاتے ہیں یا سنت پڑھنے لگ جاتے ہیں اور مسجد سے نکل جاتے ہیں وہ بہت ساری برکات وتحفظات سے محروم ہوجاتے ہیں ۔
٭ حد درجہ افسوس مسلمانوں کے اس طبقہ پر ہے جو مصنوعی اذکار پڑھنے اور وظائف گھڑنے میں ماہر ہیں مگر اللہ کے رسول ﷺ سے کس قدر عداوت ہے کہ فرض نماز کے بعد اذکار سے یکسر نظریں چراتے ہیں ، آخر ان کا امام کسی مدرسہ سے فارغ ہوگا، یا کم ازکم انہیں  نمازکا علم تو ضرورہوگا پھر یہ لوگ فرض نماز پڑھ کر فورا اجتماعی دعا میں کیسے لگ جاتے ہیں جبکہ اجتماعی دعا بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ ایک طرف اپنی طرف سے قسم قسم کے وظائف ایجاد کرتے ہیں دوسری طرف محمد ﷺ سے ثابت شدہ اذکار سے ایسی کنارہ کشی کرتے جیسے ان کے علماء وعوام کو ان اذکار کی خبرہی نہیں ، ان پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے ۔  

مکمل تحریر >>