Monday, November 17, 2025

قضائے عمری کی حقیقت

قضائے عمری کی حقیقت

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

 

سماج میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ جس کی کئی برسوں کی نماز چھوٹی ہوئی ہووہ تمام عمر کی نمازیں قضا کرےگا، اس کو قضائے عمری کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قضائے عمری کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ شریعت محمدی میں اس نام کی کوئی نماز نہیں ہے اور نہ ہی اس قضائے عمری کے لئے ایک ادنی سی دلیل موجود ہے۔ لوگوں نے اپنی طرف سے قضائے عمری کا طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے۔ جو لوگ قضائے عمری پڑھتے ہیں وہ بلادلیل اور بلاثبوت عمل کرتے ہیں جبکہ دین اسلام ،کتاب وسنت کے دلائل پر قائم ہے۔ کسی بھی بات پر عمل کرنے کے لئے قرآن اور حدیث سے لازما دلیل چاہئے، جس کام  کی دلیل نہیں ، وہ کام اللہ کی نظر میں باطل ومردود ہے، اس کے کرنے سے کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ بدعت کا ارتکاب کرنے سے الٹا گناہ ملے گا۔

آئیے مزیددلائل کے ساتھ جانتے ہیں کہ قضائے عمری کیوں نہیں پڑھنا چاہئے۔

(1)دین میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جائےگی، اللہ نے قرآن کریم میں اور رسول اللہ نے حدیث میں کہیں پر بھی قضائے عمری پڑھنے کا حکم نہیں دیا ہے یعنی قضائے عمری کے لئے کتاب وسنت میں ادنی سی دلیل نہیں ہے۔ اور جس کام  کے لئے کوئی دلیل نہ ہواس پر عمل کرنا بدعت وگمراہی ہے اور وہ عمل باطل ومردود ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں اپنی طرف سے کوئی  عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔

(2) اللہ اور اس کے رسول کے بعد آپﷺ کے پیارے اصحاب میں سے بھی کسی سے قضائے عمری کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ہے، یہاں تک کہ تابعین اور تبع تابعین سے بھی قضائے عمری کا ثبوت نہیں ملتا ہے حتی کہ چار ائمہ میں سے کسی نے بھی اس قضائے عمری کی تعلیم نہیں دی ہے۔ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق تین زمانے کے لوگ بہترین زمانے والے ہیں ۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ(صحیح البخاری:6429)

ترجمہ:سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ہوں گے پھر جو ان کے بعد ہوں گے اور اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔

(3)شریعت میں نماز بھول جانے، سوجانے یا مشغول ہوجانے کے سبب اس نماز کی قضا کا حکم ہے یعنی جو نماز کسی شرعی عذر کے تحت چھوٹ جائے گی ، دوسرے وقت میں اس نماز کی قضا کی جائے گی ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا(صحیح مسلم:684)

ترجمہ:جو شخص کوئی نماز بھول گیا یا اسے ادا کرتے وقت سوتا رہ گیا تو اس (نماز) کا کفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آئے وہ اس نماز کو پڑھ لے۔

یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ سے جب کبھی کسی عذر کے باعث کوئی نماز چھوٹ گئی تو آپ نے دوسرے وقت میں اس کو ادا فرمایا ہے  چنانچہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے ، رات کا وقت تھا۔ کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ اب پڑاؤ ڈال دیتے تو بہتر ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ(مجھے ڈر ہے کہ کہیں نماز کے وقت بھی تم سوتے نہ رہ جاؤ) ۔ اس پر بلال رضی اللہ عنہ بولے کہ میں آپ سب لوگوں کو جگا دوں گا۔ چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے۔ اور بلال رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی پیٹھ کجاوہ سے لگا لی۔ اور ان کی بھی آنکھ لگ گئی اور جب نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا:

يَا بِلَالُ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ بِالصَّلَاةِ فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَاضَّتْ قَامَ فَصَلَّى۔(صحیح البخاری:595)

ترجمہ: اے بلال! اٹھ اور اذان دے۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نمازجوکسی عذر (مثلانیند، بھول اورمشغولیت وغیرہ) کے سبب چھوٹ جائے اس کی قضا کی جائے گی لیکن جو نماز جان بوجھ کر چھوڑی جائے اس کی قضا نہیں ہے، خصوصا جب یہ نمازیں ایک دو نہیں کئی برسوں کی ہوں۔ جان بوجھ کر چھوڑی گئی کئی برسوں کی  نماز  کی قضا کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔جو دلیل ملتی ہے، وہ کسی عذر کے تحت ایک دو  نماز چھوٹ جانے پر اس کی قضا سے متعلق ہےجیسے مذکورہ بالا حدیث ہے۔

(4)  شریعت میں جان بوجھ کر ایک وقت کی نماز چھوڑنا کفر ہے اور مسلسل  کئی مہینے اور کئی برس تک جان بوجھ کر نمازیں چھوڑنا ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا عمل ہے۔ بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ (سنن ترمذي:2621)

ترجمہ:ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز قائم کرنے والا مسلمان ہے اور جو نمازوں کا تارک ہووہ اسلام سے نکل جاتا ہے ، اس پر کافر کے احکام مرتب ہوں گے ۔ آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ جب کوئی جماعت سے مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آئے تو رسول اللہ ﷺ ان کو ان کے گھروں سمیت جلانے کی بات کرتے ہیں۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ يُحْتَطَبُ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ(صحیح البخاری:7224)
ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔

کتاب وسنت میں بے شمار نصوص ہیں جن میں  ترک نماز پر سخت سے سخت وعید کا تذکرہ ہے ۔ اس امر کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا بڑے کفر کا ارتکاب کرتا ہے، اس طرح عمدا چھوڑی گئی نماز کی کوئی قضا نہیں ہے ۔

فوت شدہ نمازوں سے متعلق صحیح عمل  

اب سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کئی برسوں سے جان بوجھ کر نماز چھوڑرہا تھااور وہ کلمہ پڑھنے والا مسلمان بھی ہے بلکہ ہفتہ میں جمعہ کی نماز قائم کرنے والا تھا، ایسے بندہ کو نماز چھوڑنے پر افسوس بھی ہے اسے کیا کرنا چاہئے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلام میں نماز کی بڑی اہمیت ہے ، کلمہ کے اقرار کے فورا بعد اس پر نماز قائم کرنا ضروری ہوجاتا ہےمگر جو مسلمان ہوکر مسلسل نماز نہ پڑھے اس کا اسلام خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ ایساآدمی اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی فورا اللہ رب العالمین سے سچے دل سے ، توبہ کرے ۔ اللہ تعالی سچی توبہ کرنے والے کو معاف کردیتا ہے ۔ یہی توبہ کرنا اس کے اسلام کو بھی درست کردے گا اور سابقہ چھوڑی ہوئی نمازوں کا بھی کفارہ ہوجائے گا۔ سچی توبہ کی تین شرطیں ہیں۔ سب سے پہلے آپ اپنے گناہ پر شرمندہ ہوں اور دل سے احساس کریں کہ واقعتا آپ نے کوئی خطا کی ہے اور اس پر پشیماں ہیں۔دوسری شرط یہ ہے کہ اس گناہ کو ترک کردیں، کبھی اس کے قریب نہ جائیں اور تیسری شرط یہ ہے کہ دل سے یہ پختہ ارادہ بھی کریں کہ آئندہ اس گناہ کو انجام نہیں دوں گا۔اللہ تعالی نے نمازیں ضائع کرنےوالوں اور خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو توبہ کی ترغیب دی ہے، فرمان باری تعالی ہے:

فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ، إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (مریم:59-60)

ترجمہ: پھر ان کے بعد ایسے اطاعت نہ کرنے والے پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا بجز ان کے جو توبہ کرلیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔

اگرنماز میں کوتاہی کرنے والا اور خواہشات پر چلنے والا توبہ نہ کرے تو پھر اس کا انجام بہت برا ہے، اللہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے کہ وہ توبہ کے لئے موت تک مہلت دیتا ہے یعنی مرنے سے پہلے پہلے آدمی توبہ کرلے، اللہ بخش دے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ (سنن ترمذي:3537)

ترجمہ:اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ (موت کے وقت) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے۔

توبہ کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ اوپر ذکر کردہ تین شرطیں پائی جائیں، نیز توبہ کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ توبہ عالم نزع (حالت غرغرہ) یعنی موت سے پہلے پہلے ہو۔

اب پورے بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ اگر کسی نے کئی برسوں کی نماز چھوڑی ہے تو وہ مذکورہ بالا تین شرطوں کےساتھ  سچی توبہ کرلے ، اللہ تعالی اپنے بندوں کو بہت معاف کرنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ سچی توبہ ہی گزشتہ برسوں کی چھوٹی نمازوں کا کفارہ ہے اور ان چھوٹی نمازوں کے لئے یہی صحیح طریقہ اور صحیح عمل ہے۔

ساتھ ہی ہمارے لئے یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں قضائے عمری کی  جو تعلیم دی جاتی ہے وہ لوگوں کی ایجاد کردہ ہے، اس نوایجاد طریقہ پر عمل کرنے میں کوئی خیروبھلائی نہیں ہے۔ لوگوں کو قضائے عمری کے متعدد طریقے بتائے جاتے ہیں ۔ان طریقہ پر بھی غورکریں تو معلوم ہوگا کہ اس طرح عبادت نہیں کی جاتی ۔ذرا آپ  سنجیدگی کے ساتھ قضائے عمری کے عمل سے متعلق اندازہ لگائیں۔

٭ سب سے پہلے عمربھرکی نمازوں کا حساب لگانے اور ڈائری بنانے کو کہاجاتا ہے، بھلابتائیں کہ جتنی بھی کوشش کرلے،  کسی کو عمر بھر کی چھوٹی نمازوں کا یقینی علم ہوپائے گا، نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ پھر قضا کرتے وقت اندھیرے میں اور وہم وگمان کے ساتھ نماز ادا کی جائے گی  جبکہ نمازاللہ کی عبادت ہے ، اس کی بنیاد وہم وگمان پر نہیں ، یقین واعتماد پر ہے۔

٭ چونکہ عمربھر کی چھوٹی نمازوں کا یقینی علم نہیں ہوتا تو اندازہ لگاکر نماز قضا کی جاتی ہے، اس وجہ سے نماز کی نیت میں بھی بہت جھول ہوتا ہے۔ بعض علماء ہر نماز کی قضا کی نیت کے لئے فلاں تاریخ ، فلاں دن اور فلاں وقت زبان سے کہنے کی تعلیم دیتے ہیں جبکہ بعض علماء کہتے ہیں اس طرح زبان سے نیت کرو، میری چھوٹی نمازوں میں اول نماز۔کیا یہ وہمی نیت  عبادت کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے ۔ کتاب وسنت میں اس طرح نیت کرنے کی کوئی بھی دلیل سرے موجود نہیں ہے۔ نماز کی مروجہ نیت ہی بتاتی ہے کہ یہ نماز پڑھنا بھی بدعت ہے۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے جو یقین مستحکم پر مبنی ہے  ، اس میں زبان سے اظہار نہیں ہے اور نہ ہی ماہ وسال کی وہمی اورخیالی نیت ہے۔

٭نیت کے بعد قضائے عمری کے  طریقے دیکھیں تو جتنے منہ اتنے طریقے، شریعت سے طریقہ تو لینا نہیں ہے، نہ وہاں قضائے عمری کا طریقہ ملے گا۔ اس وجہ سے جس کے جی میں جو آیااپنی طرف  سے طریقہ بتادیتاہے۔ اس امر کی تفصیل یہاں ذکر کی جائے تو بات طویل ہوجائے گی ۔

کوئی شخص ہرنماز کے بعد ایک نماز، کوئی شخص ایک وقت میں ایک دن کی نماز، کوئی شخص مختلف اوقات میں ، کوئی شخص پہلے ساری عمر کی نمازفجرپھرظہر پھرعصر۔۔۔اس ترتیب سے ، اس میں بھی کوئی شروع زندگی سے تو کوئی آخری زندگی سے الٹاشروع کرے۔ غرضیکہ جس کو جو من میں آتا ہے اپنے معتقدین کو وہ طریقہ بتاتا ہے۔ شریعت کا معاملہ واضح ومتعین ہے، اس میں اپنی مرضی اور اختلاف نہیں ہے۔پھر فوت شدہ ،عمر بھر کی نمازوں کابوجھ لے کر ایک آدمی جب کسی وقت کی نماز پڑھے گا، اسے دوسرے وقت کی فوت شدہ  نماز بھی قضا کرنا ہے۔ بھلا بتائیں کہ وہ کیسے اللہ کی عبادت ، خشوع وخضوع اور اطمینان وسکون سے کرے گا۔ اس کی تو اس وقت کی نماز بھی بے لذت ہوجائے گی۔

قضائے عمری پڑھنے والوں کو نمازقضا کا حکم نہیں دیا جاتا بلکہ اپنے سر سے یا اپنے نام سے عمربھرچھوٹی نمازوں کو رسما فہرست سے کٹانے کا مختلف طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  قضا نماز سے پہلے سنت غائب کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ نماز تخفیف کرنے کے لئے سورہ فاتحہ کی جگہ تین بارسبحان اللہ پڑھ لو، سجدہ میں ایک بار تسبیح پڑھ لو، درود ابراہیمی کی جگہ دونوں تشہد میں صرف "اللھم صل علی محمد وآلہ" پڑھ لو۔ یہ لوچندلمحہ میں  تمہاری مخفف(جھٹ پٹ) نماز ہوگئی۔ بتائیں  کہ یہ  نماز کی قضا ہے یا عبادت کا مذاق ہے۔ نماز رب سے ملاقات اور اس سے گفتگو کا ذریعہ ہے ، اس لئے محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ تم نماز اس طرح پڑھو گویا اللہ کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اللہ کو نہیں دیکھ سکتے تو خیال کرو کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

بہرکیف! قضائے عمری کے تصور نے عوام کی نظر میں نہ صرف نماز کی اہمیت کو ہلکا کردیا ہے بلکہ قضائے عمری اتارنے والے پرانی نمازوں کی فکر میں موجودہ نماز کی  لذت وچاشنی سے محروم ہوتے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو ان کی نمازوں کی ادائیگی میں جلدبازی  اور کوے کی چونچ مارنے کی طرح رکوع وسجدہ دیکھئے ۔ اس طرح کی نماز کے بارے میں وعید آئی ہوئی ہے۔عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

أنَّ رَسولَ اللَّهِ نَهَى عن ثَلاثٍ : عن نَقرةِ الغُرابِ ، وافتراشِ السَّبُعِ ، وأن يوطِّنَ الرَّجلُ المقامَ للصَّلاةِ كما يوطِّنُ البعيرُ(صحيح النسائي:1111)

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے تین باتوں سے منع کیا ہے: ایک کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسری درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے اور تیسری یہ کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ خاص کر لے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو خاص کر لیتا ہے۔

جو کوے کی چونچ مارنے کی طرح نماز پڑھتا ہے اس کی چالیس سال اور ساٹھ سال کی نماز بھی رائیگاں وبے کار ہے۔ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے:

إن الرجل ليصلي ستين سنة وما تقبل له صلاة ولعله يتم الركوع ولا يتم السجود ويتم السجود ولا يتم الركوع(سلسلہ صحیحہ:2535)

ترجمہ: ایک آدمی ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے اوراس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ رکوع صحیح سے کرتا ہے تو سجدہ ٹھیک سے نہیں کرتا اور سجدہ ٹھیک سے کرتا ہے تو رکوع ٹھیک سے نہیں کرتا۔

اللہ اکبر، ساٹھ سال کی نماز نماز نہیں ہے اگر نماز میں جلدی جلدی رکوع اور جلدی جلدی سجدہ کیا جائے تو ۔ اس طرح کی ایک اور حدیث ملتی ہے جس میں چالیس سال کا تذکرہ ہے ۔حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

أنَّهُ رأى رجلاً يصلِّي فطفَّفَ ، فقالَ لَهُ حذيفةُ : منذُ كم تصلِّي هذِهِ الصَّلاةَ ؟ قالَ : منذُ أربعينَ عامًا ، قالَ : ما صلَّيتَ منذُ أربعينَ سنةً ، ولو متَّ وأنتَ تصلِّي هذِهِ الصَّلاةَ لمتَّ على غيرِ فطرةِ محمَّدٍ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ ثمَّ قالَ : إنَّ الرَّجلَ ليخففُّ ، ويتمُّ ويحسن(صحيح النسائي:1311)

ترجمہ:انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، اور اچھی طرح نہیں پڑھ رہا ہے، اس میں وہ کمی کر رہا ہے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: اس طرح سے نماز تم کب سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا: چالیس سال سے، تو انہوں نے کہا: تم نے چالیس سال سے کامل نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر جاتے تو تمہارا خاتمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر ہوتا، پھر انہوں نے کہا: آدمی ہلکی نماز پڑھے لیکن پوری اور اچھی پڑھے۔

٭ اوپر میں نے بتایا ہے کہ قضائے عمری کی ادائیگی کے مختلف طریقے ایجاد کئے گئے ہیں اور لوگ مختلف طریقوں سے فوت شدہ نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔ ان طریقوں سےہٹ کر قضائے عمری کا شارٹ کٹ راستہ بھی بتایا جاتا ہے جسے لوگ اپناتے ہیں۔ یہ شارٹ کٹ راستے بھی مختلف ہیں۔ کوئی رمضان میں آخری جمعہ کے بعد چار نفل مخصوص انداز میں ایک سلام سے پڑھتا ہےجس سے یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ تمام عمر کی قضا نمازیں ادا ہوگئیں ۔کوئی رمضان کے آخری جمعہ کو پانچ نمازیں مع وتر ادا کرنے کو عمربھر کی قضا نمازوں کا کفارہ سمجھتا ہے اس وجہ سے بدعتیوں میں الوداعی جمعہ کے نام سےاس دن  بڑی دھوم دھام نظر آتی ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ ایک صاحب ہرسال لوگوں کو قضائے عمری کے نام سے چار رکعت پڑھاتا ہے۔کچھ لوگ رمضان کے آخری جمعہ کو ظہروعصر کے درمیان دو دو رکعت کرکے قضائے عمری کے نام سے بارہ رکعات ادا کرتے ہیں۔

قضائے عمری سے متعلق مذکورہ بالاشارٹ کٹ راستوں کے بارے میں  پہلی بات یہ ہے کہ  دین میں کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ عبادت کا مخصوص طریقہ ایجاد کرکے اپنی طرف سے ثواب و فضیلت بیان کرنا کسی انسان کا کام نہیں ہے۔ اس وجہ سے کوئی شخص ، دین اور عبادت کے نام پر بدعتی طریقہ ایجاد کرتا ہے یا اس بدعتی طریقہ کی فضیلت بیان کرتا ہے یا اس پرعمل کرتا ہے ، وہ گمراہ آدمی ہے۔ جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے وہ اللہ کی بندگی ویسے کرے گا جیسے محمد ﷺ نے اپنی امت کو سکھایا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

صَلُّوا كما رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي(صحيح البخاري:6008، 7246، 631)

 ترجمہ: تم اس طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شریعت میں جو نمازیں ثابت شدہ ہیں ان کو محمد ﷺ کے طریقہ پر ادا کرنا ہے، اس سے ذرہ برابر بھی ہٹ کر ادا نہیں کرنا ہے۔ ذراغور کریں کہ جوثابت شدہ نمازیں ہیں ان کو، طریقہ محمدی سے ہٹ کر ذرہ برابر اپنی مرضی سے ادانہیں کرسکتے ہیں پھر کسی کو نماز کا نیا طریقہ ایجاد کرنے یا کسی نماز کو مخصوص طرز پر پڑھنے اور اپنی طرف سے فضیلت بیان کرنے کی کیسے اجازت ہوگی ؟

اب آتے ہیں موضوع کے اختتام  اور خلاصہ کی طرف ، وہ یہ ہے کہ دین میں قضائے عمری نام سے کوئی چیز نہیں ہے اور نہ سلف سے اس بارے میں کچھ منقول ہے ۔ جو لوگ قضائے عمری کی تعلیم دیتے ہیں وہ اپنی طرف سے اس کی تعلیم دیتے ہیں اور قضائے عمری کی نماز وہم وگمان اور خیال وتصور پر مبنی ہے۔عبادت وہ ہوتی ہے جو دلیل وبرہان پر قائم ہوئی ہے اور یقین واعتماد کے ساتھ محمد ﷺ کے طریقہ کے مطابق انجام دی جاتی ہے۔

قضائے عمری کے سلسلے میں اب آخری سوال یہ ہے کہ کوئی بھی بندہ عمر بھر کی چھوٹی نماز کا صحیح اندازہ نہیں لگاسکتا ہے، پھر جب کوئی اپنے گمان سے قضائے عمری ادا کرنے لگتا ہے تو وہ کبھی بھی عمربھر کی ساری متروکہ نماز نہیں پڑھ سکتا ہے۔ موت کب آجائے کسی کو خبر نہیں ، اس کے باوجود کسی سے بیس تیس چالیس سال سے نمازیں چھوٹی ہوں تو وہ ان نمازوں کو عمر بھر نہیں ادا کرسکتا ہے۔ جب معاملہ یہ ہے کہ برسوں کی چھوٹی ساری نمازوں کی قضا نہیں کی جاسکتی ہے، آخر نمازیں چھوڑ کر ہی مرنا ہوتا ہے پھر قضاعمری کا طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟  غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس عمل سے اس کا نقصان ہی ہوتا ہے ، وہ اصل نمازوں کو بھی ضائع کررہا ہوتا ہے کیونکہ جس طرح اعتدال وسکون اور تعدیل ارکان کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم ہے، اس طرح وہ نمازنہیں پڑھ پاتا ۔ گھوم پھرکرآخری راستہ وہی بچتا ہے جس کے بارے میں شروع میں ہی بتادیا گیا ہے  کہ عمربھر کی چھوٹی نمازوں کا صحیح طریقہ – سچے دل سے توبہ کرکے آئندہ کے لئے مخلص ہوکر پنچ وقتہ نمازوں کی پابندی کرنا ہے۔

یہ اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ اس کے حق میں جو کوئی غلطی کرے اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے پھر وہ اللہ کی طرف سچی  توبہ کے ساتھ رجوع کرلے تو اللہ اسے معاف کرنے والا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ(طه: 82)

ترجمہ:اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقینا بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں۔

اسی طرح اللہ کے پیارے حبیب محمد ﷺ نے بھی ہمیں بتلادیا ہے کہ اللہ تو دن ورات بندوں کے توبہ کے انتظار میں رہتا ہے تاکہ کوئی توبہ کرے اور اللہ اسے معاف کردےچنانچہ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا(صحیح مسلم:2759)

ترجمہ: اللہ عزوجل رات کو اپنا دست (رحمت بندوں کی طرف) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست (رحمت) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے (اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔

اس لئے میرے مسلمان بھائیو! جس کسی سے کئی  برسوں کی نمازیں چھوٹ گئی ہیں وہ اپنی سابقہ نمازوں کے لئے اللہ سے سچی توبہ کرے، زندگی کا کوئی   بھروسہ نہیں ہے کہ کب موت آجائے پھر گناہوں میں توبہ پر بالکل تاخیر نہ ہو اور اگلی زندگی کے لئے  پابندی کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کا عزم مصمم کرلیں اور نمازوں کی پابندی کے ساتھ، زندگی گزاریں۔ رب نے ہمیں عبادت کے واسطے ہی اس دنیا میں بھیجا ہے۔

مکمل تحریر >>

Sunday, July 21, 2024

طلاق سے متعلق فتوی


الجواب بعون اللہ الوھاب
مذکورہ بالا تحریر میں طلاق سے متعلق سوال کیا گیا ، مسئلہ  یہ ہے کہ  سلمان(ساکن مروکیہ ، مدھوبنی، بہار) نامی ایک بھائی نے موبائل کے توسط سے جب وہ اپنے والداور سسرالی رشتہ داروں سے بات کررہے تھے اس وقت فیروز نامی شخص کو گواہ بناکر  اپنی بیوی کے بارے میں اس طرح کہا"آپ گواہ رہئے ، یہ میری بیوی جتنا لین دین کیا ہے ، جب تک پائے پائے نہ ختم کردے ، اور یہ گل پراگ جب تک چھوڑ نہ دے ، وہ دلوکھر جائے ، جب تک یہ ماجرا ختم کرکے نہیں آئے گی تب تک میں اس کو ایک دو تین ، تین طلاقیں دے رہاہوں ۔ بس"
سائل اس بارے میں پوچھنا چاہتا ہے کہ یہ طلاق واقع ہوگئی یا نہیں اور اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاق واقع ہوئی ہے  اور طلاق ہونے کی صورت میں بچنے کی کوئی صورت ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اسلام نے ہمیں نکاح کا طریقہ سکھایا ہے اسی طرح طلاق دینے کا طریقہ بھی سکھایا ہے ، اگر کوئی آدمی شرعی نکاح سے ہٹ کر غلط طریقے سے نکاح کرتا ہے تو وہ نکاح نہیں مانا جائے گاباطل نکاح ہوگا، اسی طرح طلاق کا بھی معاملہ ہے یعنی کوئی اگر طلاق کےشرعی طریقہ سے ہٹ کر طلاق دے تو یہ طلاق نہیں مانی جائے گی ، یہ لغوطلاق ہوگی ۔مذکورہ بالا مسئلہ میں بھی طلاق دینے کا طریقہ غلط ہے ، اس میں کہا گیا ہے کہ جب تک بیوی لین دین ختم نہیں کرلیتی اور گل وپراگ نہیں چھوڑ دیتی تب تک طلاق دے رہا ہوں  ، گویا یہاں محض ایک انجان وقت تک کے لئے طلاق دی گئی ہے ۔ اگر اسے طلاق مانیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ 27/ جنوری 2024 سے بیوی کو طلاق ہوگئی اور آج 9/جولائی 2024 تک بیوی لین دین ختم کرلی ہواور گل وپراگ چھوڑ دی ہو تو خود بخود بیوی شوہر کو لوٹ جائے گی ۔ شریعت نے اس طرح صرف ایک مدت کے لئے طلاق دینے کا طریقہ نہیں سکھایا ہے اس لئے یہ لغوطلاق مانی جائے گی ۔ بالفاظ دیگر سلمان کے مذکورہ بالا جملہ کہنے سے بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور جب طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تو  جیسے پہلے سلمان کے لئے بیوی حلال تھی اب بھی بدستوراس کے لئے بیوی حلال ہے اور ان دونوں میں کوئی جدائی نہیں ہوئی ہے ۔
طلاق کی اصل یہ ہے کہ بیوی سے ہمیشہ کے لئے جدائی حاصل کی جائے یعنی  طلاق محض کچھ دنوں یا کچھ مہینوں کے لئے نہیں ہوتی ہے اس لئے جب طلاق(رجعی ) ہوتی ہے تو عدت کے بعد بیوی ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاتی ہے بلکہ طلاق مغلظہ سے تو فورا بیوی سے ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجاتی ہے گویا مذکورہ بالا صورت طلاق مشروط یا طلاق معلق بھی نہیں ہے ۔ طلاق معلق اس صورت میں ہوتی جب کسی کام کے کرنے سے طلاق معلق ومشروط کی جاتی مثلا کہا جاتا کہ اگر وہ پراگ کھائے گی تو اس کو طلاق ، ایسی صورت میں یہ طلاق معلق ہوتی اور شرط پائے جانے پر طلاق واقع ہوجاتی اور عدت میں شوہر کو رجوع کا حق ہوتا اور عدت گزرنے پر ہمیشہ کے لئے بیوی جدا ہوجاتی  مگر یہاں یہ طلاق نہیں ہے ۔
ایلاء میں ایک متعین مدت کے لئے بیوی سے الگ رہنے کی قسم کھائی جاتی ہے مگر مذکورہ بالاصورت ایلاء سےبھی  مطابقت نہیں رکھتی ہے اور یہ طلاق دینے  کی بھی صحیح صورت نہیں ہے اس وجہ سےیہ لغو طلاق  مانی جائے گی اوریہ  طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
 اگر کوئی آدمی اس کو طلاق مانے تو یہ  اسی طرح ہے جیسے کوئی زبردستی کسی سے طلاق دلوائے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
((لا عَتاقَ ولا طَلاقَ في إغْلاقٍ)) یعنی زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا۔ اسے ابوداؤد(ح:2193) نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
سائل نے بیوی کی غلط حرکت کی وجہ سے طلاق کا لفظ استعمال کیا تھا اس لئے بیوی کو چاہئے کہ اپنی غلط حرکت سے باز آجائےاور اللہ سے سچی توبہ کرلے اورجو لین دین کا معاملہ ہے میاں بیوی دونوں مل کر جلد سے جلد ختم کرلیں ، مزید برآں بیوی کوچاہئےکہ آئندہ  اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس طرح کا لین دین نہ کرےبلکہ جو بھی کام کرنا ہو شوہر سے پوچھ کر کرے  ۔
موقع کی مناسبت سے یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ طلاق کے سلسلے میں اپنے سماج میں بہت سارے غلط طریقے رائج ہیں اور  شریعت کے خلاف ہیں ان باتوں کی اصلاح کرنا ضروری ہے ۔
پہلا مسئلہ : لوگ معمولی معمولی  بات پر بھی  بیوی کوطلاق دے دیتے ہیں جبکہ طلاق تو اس وقت ہے جب طلاق دینے کا کوئی شرعی عذر پایا جائے اور اس معاملہ میں لوگوں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے اور  بغیر حق کے طلاق دینے پر آخرت میں پوچھ ہوگی ۔
دوسرامسئلہ : طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ایسے طہر میں جب شوہر نے اس سے جماع نہ کیا ہو ایک طلاق دے ، یہی طلاق عدت گزرنے پر طلاق بائن ہوجائے گی اور بیوی جدا ہوجائے گی اور عدت میں شوہر رجوع کرنا چاہے تو رجوع ہوجائے گابشرطیکہ وہ پہلی یا دوسری طلاق ہو کیونکہ تیسری  مرتبہ طلاق دیتے ہی فورا بیوی جدا ہوجاتی ہےاسے طلاق بائنہ مغلظہ اور طلاق بتہ کہتے ہیں  ۔
اپنے یہاں لوگ ایک ساتھ تین طلاق دینا ضروری سمجھتے ہیں جبکہ تین طلاق ایک ساتھ نہیں دینا ہے ، ایک وقت میں ایک ہی طلاق دینا ہے ۔ اگر کسی نے غلطی سے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے بھی دیا تو یہ صرف ایک طلاق مانی جائے گی کیونکہ اللہ نے طلاق کے بارے میں فرمایا : الطلاق مرتان یعنی طلاق دومرتبہ ہے ۔ اس آیت میں اللہ دو رجعی طلاق کا ذکر کررہا ہے کہ دو طلاق دو مرتبہ یعنی دو الگ الگ وقتوں میں ہے کیونکہ اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ  ممکن ہے طلاق کے بعد رجوع کی صورت پیدا ہوجائے ۔اللہ نے ہمیں ایک ساتھ تینوں طلاق دینے کا اختیار ہی نہیں دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دو طلاق تک رجوع کا انسان کو حق ہے اور جب تیسری  مرتبہ طلاق دی جاتی ہے تب بیوی فورا جدا ہوجاتی ہے اس لئے اللہ نے الگ سے تیسری طلاق کا ذکر کیا ہے ۔ معلوم یہ ہوا کہ جس طرح کسی کو تین طلاق سے زیادہ مثلا چار پانچ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا ہے اسی طرح کسی کو ایک ساتھ تین طلاق دینے کا بھی اختیار نہیں دیا گیا ہے ۔ غلطی سے کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دیدی تو ایک ہی شمار ہوگی کیونکہ آدمی نے اپنے اختیار سے زائد استعمال کرلیاجبکہ اس کے اختیار میں ایک مرتبہ میں ایک طلاق دینا ہے ۔نیزمسند احمد کی حدیث رکانہ سے معلوم ہوتا ہےکہ  ایک صحابی رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دیدی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک طلاق ہے اور اگر تم رجوع کرنا چاہتے ہو تو رجوع کرسکتے ہواور صحابی نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا تھا۔
تیسرا مسئلہ : اولا اپنے سماج میں تین طلاق کو تین مانا جاتا ہے جو کہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے ، ثانیا: تین طلاقوں کو ایک ساتھ تین طلاق مان کر بیوی کو شوہر پر حرام قرار دیا جاتا ہے اور اس عورت کا منصوبہ بند طریقہ سے ایک رات کے لئے کسی مرد سے چوری چھپے فرضی نکاح کردیا جاتا ہے اور صبح اس سے طلاق دلاکرشوہر اول کے لئے حلال کیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے ۔ میں نے اوپر بتایا ہے کہ اسلام میں نکاح کا طریقہ متعین ہے، جس میں ولی ، دو عادل گواہان ، مہر اور نکاح کا اعلان کرنا پڑتا ہے مگرمروجہ حلالہ میں شرعی طور پر نکاح نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک رات کے لئے عورت کو کسی مرد کے حوالے کیا جاتاہے ۔ یہ حلالہ گاؤں گاؤں اس قدر عام ہوگیا ہے کہ آج اکثر غیرمسلم ، ہمیں حلالہ کی پیداوار کہہ کر طعنہ دیتے ہیں  کیونکہ وہ لوگ اپنے سماج میں  مسلم عورتوں کی عزتوں کے ساتھ اس طرح کھلواڑ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں
مروجہ حلالہ سراسر غلط اور خلاف شرع ہے ۔ سنن ترمذی ہے کہ نبی ﷺ نےفرمایا: حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے اس پراللہ کی لعنت ہے ، ابن ماجہ  میں روایت موجود ہے ، نبی ﷺ نے حلالہ کرنے والے کو کرائے کا سانڈ قرار دیا ہے ۔ مصنف عبدالرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا ، اگر یہ دونوں میرے علم میں آگئے تو میں دونوں کو رجم کر دوں گا۔
میں اس فتوی کے ذریعہ  چاہتا ہوں کہ اپنے سماج کو معلوم ہو کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہےبلکہ ممبر ومحراب سے عوام الناس کو بتایا جائے کہ ہرممکن طور پر طلاق دے بچا جائے اور اگر کسی کو طلاق دینا ناگزیرہو تو ایک وقت میں حالت طہر(بلاجماع)میں صرف ایک طلاق دے  اور اگر کسی نےایک ساتھ تین طلاق غلطی سے دیدی ہے تو اسے تین نہیں مانا جائے ، یہ ایک طلاق ہے اور اپنے سماج سے  مروجہ حلالہ کی لعنت ختم کی جائے ، حلالہ  ہرگز کوئی نکاح نہیں ہے ، یہ فحاشی اور بے حیائی ہےاس عمل سے پورے ہندوستان میں مسلمان بدنام اور رسوا ہورہے ہیں بلکہ دنیا بھرمیں یہ عمل بدنامی کا باعث ہے ۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی -جدہ (سعودی عرب)
9/جولائی 2024 م مطابق 3/محرم الحرام 1445ھ
 

مکمل تحریر >>

Monday, March 18, 2019

حدیث :میری سنت اور خلفاء کی سنت کولازم پکڑو –مفہوم وتقاضے


حدیث :میری سنت اور خلفاء کی سنت  کولازم پکڑو –مفہوم وتقاضے

مقبول احمد سلفی
دفترتعاونی برائے دعو ت وارشاد -طائف

دین اسلام اسی وقت مکمل ہوچکا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے، اسلام کی تکمیل کے بعد اس میں ایک بات بھی اپنی جانب سے داخل کرنا نئے امور میں سے ہے جن کے متعلق نبی نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے اور ہر قسم کی بدعت موجب جہنم ہے ۔جب  آپ کے بعد دین میں کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنا، نئی بات پیدا کرنااور کسی قسم کی نئی فکر گھڑنا سراسر گمراہی ہے تو پھر ہدایت یافتہ خلفائے راشدین  اور تمام صحابہ کرام اس معاملے میں کس قدر محتاط ہوں گے ؟ ۔ ان کے متعلق جو کچھ اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں وہ نصوص کی فہم میں اختلاف اور اجتہاد کا نتیجہ ہے۔ آئیے  ایک مشہور حدیث کا صحیح معنی ومفہوم جانتے ہیں  جس کو سمجھنے میں بہت سے لوگوں نے یا تو خطا کی ہے یا جان بوجھ کر عوام میں غلط فہمی پیدا کی جارہی ہے ۔
حدیث اور اس کا ترجمہ :
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا ، قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي ، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " .
ترجمہ: عرباض بن ساریہ سے روایت ہے، انھوں نے یہ بیان کیا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ایک نہایت موثر خطبہ دیا جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور دل کانپ اٹھے۔ مجمع میں سے کچھ اصحاب نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول :یہ تو ایک وداعی خطبہ معلوم ہوتا ہے تو ہمیں کچھ وصیت کیجیے۔ آپ نے فرمایا: میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے صاحب امر کی بات ماننے اور اس کی اطاعت کرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تمھارا صاحب امر کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے، وہ اب اور تب میں بڑا فرق محسوس کریں گے تو تم میری سنت کی اور ہدایت یافتہ خلفاے راشدین کی سنت کی پیروی کرنا، اس کو مضبوطی سے تھامنا اور دانت سے پکڑنا اور دین میں جو نئی باتیں گھسائی جائیں، ان سے خبردار رہنا، کیونکہ ہر ایسی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
تخریج : سنن الترمذي: 2676، سنن أبي داود:4607، صحيح ابن حبان:5، ابن ماجہ :43،44،مسند احمد :16692، 16694، مشکوٰۃ المصابیح 165 ، مستدرک علی الصحیحین:334، سنن دارمی وغیرہ
حکم : جب حدیث بخاری ومسلم کے علاوہ کی کتاب سے ہو تو اس کا حکم جاننا ضروری ہوتاہے کیونکہ صحیحین کے علاوہ تمام کتب حدیث میں صحیح کے ساتھ ضعیف احادیث بھی ہیں ۔ عرباض بن ساریہ کی مذکورہ حدیث کی سند میں کوئی علت نہیں ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔ اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح ترمذی ، صحیح ابوداؤد،صحیح ابن ماجہ ، سلسلہ صحیحہ وغیرہ میں، شیخ الاسلام نے مجموع الفتاوی میں ، ابن الملقن نے البدرالمنیرمیں،ابن حبان نے اپنی صحیح میں،حافظ ابن حجرنے موافقۃ الخبرالخبرمیں،ابن عبدالبرنے جامع بیان العلم میں، شعیب ارناووط نےابوداود ، مسند احمد،صحیح ابن حبان اور ریاض الصالحین وغیرہ کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے۔ بعض محدثین نے اسے حسن بھی کہا ہے بہرحال یہ حدیث قابل حجت ہے ۔
حدیث کی شرح :اس میں تین الفاظ وضاحت طلب ہیں، پہلے ان کی وضاحت کردیتا ہوں  تاکہ حدیث کا صحیح مفہوم سامنے آسکے ۔
(1)سنت: سنت کا لغوی معنی’راستہ‘یا ’طریقہ‘ہے ۔
محدثین کے نزدیک سنت اور حدیث قریباً مترادف ہیں ۔سنت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال،افعال،تقریرات اورپیدائشی و اکتسابی اوصاف کا نام ہے ۔جبکہ ان چاروں چیزوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت حدیث کہلاتی ہے ۔گویا سنت صرف محمد ﷺکےطریقہ حیات کانام ہے۔
(2)بدعت : لغوی طور پر بدعت کا معنیٰ ہےکسی چیز کا ایسے طریقے سے ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہوجبکہ اصطلاحاً بدعت کہتے ہیں شریعت میں کوئی نئی چیز گھڑ لینا جس کی قرآن و سنت میں کوئی دلیل نہ ہو۔
سنت کا حکم اسی حدیث میں ہے ۔۔۔۔علیکم بسنتی  یعنی نبی کی سنت کو ہر حال میں لازم پکڑنا ہےخواہ اختلاف کا زمانہ ہو یا امن وسکون کا۔
بدعت کا بھی حکم اسی حدیث سے مل جاتا ہے :وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ یعنی دین میں نئی بات ایجاد کرنا بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانےوالی ہے ۔
(3)خلافت : اس حدیث میں خلفائے راشدین سے مراد حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں جن کا زمانہ خلافت تیس سالوں کو محیط ہے جیساکہ صحیح حدیث میں مذکور ہےنبی ﷺکافرمان ہے: خلافةُ النبوةِ ثلاثونَ سنةً، ثم يؤتي اللهُ الملكَ، أو ملكَه، من يشاءُ(صحيح أبي داود:4646) حسن صحيح
ترجمہ: نبوت والی خلافت تیس سال رہے گی پھر جسے اللہ چاہے گا(اپنی ) حکومت دے گا۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح ابوداؤد میں حسن صحیح قرار دیا ہے ۔ راوی حدیث سفینہ ابوعبدالرحمن مولی رسول اللہ ﷺتیس سال کی خلافت اس طرح بیان کرتےہیں۔ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کےدوسال،عمرفاروق رضی اللہ عنہ کےدس سال،عثمان رضی اللہ عنہ کےبارہ سال اورعلی رضی اللہ عنہ کےچھ سال ہیں۔
حدیث کا مفہوم : اللہ کا تقوی اختیار کرنے کے ساتھ اس حدیث میں اختلاف وانتشار اور گمراہی سے بچنے کا علاج بتلایاگیا ہے وہ یہ ہے ہرحال میں حاکم کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے ،اسی طرح اللہ کی زمین پر اس کے دین کو قائم کرنے والے  خلفاء راشدین یعنی خلفاء اربعہ حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت علی اور حضرت عثمان کی سنت کو تھاماجائے کیونکہ یہ لوگ سنت رسول اللہ ﷺ پر ہی چلنے والے تھے اور دین میں نئی باتوں کو ایجاد سے بچیں کیونکہ ہرنئی چیز بدعت یعنی گمراہی ہے اورہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
سنت رسول اللہ اور سنت خلفاء : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی الگ سنت ہے اور خلفاء اربعہ کی الگ سنت ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں ایک ہی سنت کا نام ہے جو سنت نبی ﷺ کی ہے وہی سنت خلفاء کی بھی ہے انہوں سے دین میں اپنے تئیں کوئی سنت ایجاد نہیں کی جو بعض امور خلفاءکی طرف سے نئے قسم کے ملتے ہیں وہ ان کے اجتہادات ہیں ۔ خلفاء اربعہ کا بہت اونچامقام ہے ، اللہ تعالی نے ان چاروں کو عشرہ مبشرہ میں سے بنایاہے مگر پھربھی انسان ہیں ، بحیثیت انسان خلیفہ سے یا کسی بھی صحابی سے غلطی کا امکان ہے ۔ ان بعض غلطیوں کی وجہ سے ان کے مقام ورتبہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جیساکہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ما ضرَّ عثمانَ ما عَمِلَ بعدَ اليومِ مرَّتينِ(صحيح الترمذي:3701-حسن)
ترجمہ: آج کے بعد جو بھی عثمان کرے ان کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوگا۔ دومرتبہ فرمایا۔
اسے شیخ البانی نے صحیح ترمذی میں حسن کہاہے ۔
خلفاء کی سنت لازم پکڑنے سے متعلق محدثین اور اہل علم کے نظریات:
(1) علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے کہا: خلفاء کی اسی سنت کی اتباع کی جائے گی جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ۔ (السلسلة الضعيفة 1/51-53)
(2)علامہ صنعانی رحمہ اللہ نے کہا کہ خلفاء راشدین کی سنت سے مراد وہی طریقہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے طریقہ سے موافقت رکھتا ہودشمنوں سے جہاد کرنے اورشعائراسلام کو تقویت پہنچانے کے لئے ۔یہ حدیث ہرخلیفہ راشد کے لئے عام ہے اسے شیخین کے ساتھ خاص نہیں کیاجائے گااور قواعد شرعیہ سے یہ بات معلوم ہے کہ کوئی بھی ایسا خلیفہ راشد نہیں ہے جو نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹ کر شریعت جاری کرے ۔ (سبل السلام 1/493)
(3) ابن حزم رحمہ اللہ نے الاحکام فی اصول الاحکام میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں تین باتوں کا احتمال ہے ۔
٭ خلفاء جن باتوں میں اختلاف کریں ساری باتیں سنت سمجھ کرلے لی جائیں اور یہ امر محال ہےکیونکہ کچھ موافق باتیں ہیں تو کچھ ان کے برعکس ۔
٭یا یہ کہ ان مخالف باتوں میں جسے چاہیں اختیار کریں تو یہ ان کی سنت کی اتباع کے منافی ہے ۔
٭ اب ایک ہی راستہ بچا وہ یہ کہ جن میں صحابہ کا اجماع ہے انہیں لے لیا جائے اور خلفاء کا اجماع صحابہ کے اجماع سے الگ چیز نہیں ہے ۔
(4) امام شوکانی رحمہ اللہ نے الفتح الربانی میں کہا ہے کہ سنت ہی طریقہ ہے کہاگیا کہ میرا طریقہ اور خلفاء راشدین کا طریقہ لازم پکڑو۔ان خلفاء کا طریقہ وہی تھاجو نبی ﷺ کا ہے وہ لوگ طریقہ نبوی کے بیحد حریص تھے اور ہرچیز میں سنت پر عمل کرتے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سنت کی مخالفت سے ہرحال میں بچتے تو بڑے معاملات کا کیا حال ہوگا؟ اور جب ان کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے دلیل نہیں ملتی توبحث وتحقیق، مشورہ اور تدبر کے بعد جو رائے ظاہر ہوتی اس پر عمل کرتے توسنت کی عدم موجودگی میں یہ رائے بھی حجت ہے جیساکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے ۔ {معاذ بن جبل والی یہ حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے ۔}
ان چند اقوال علماء سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خلفاء کا طریقہ وہی ہے جو نبی ﷺ کا طریقہ ہے البتہ خلفاء راشدین کی وہ باتیں جن کی سنت سے دلیل نہیں یا جو قرآن وحدیث کے دیگر نصوص سے ٹکراتی ہوں اسے چھوڑدیا جائے گا لیکن جن پر صحابہ کرام کا اجماع ہے وہ ہمارے لئے دلیل وحجت ہے ، اسی طرح صحابہ کے وہ اقوال بھی ہمارے لئے حجت ہیں جو نصوص شرعیہ سے متصادم نہ ہوں ۔
خلفاء کی سنت نبی ﷺہی کی سنت ہے ؟
صحابہ کرام یا خلفاء راشدین کا طریقہ وہی ہے جو نبی ﷺ کا ہے ، صحابہ زندگی کے تمام معاملات کا حل کتاب وسنت میں تلاش کرتے ۔ کسی خلیفہ راشدنے الگ سے کوئی طریقہ ایجاد نہیں کیاہے بلکہ وہ تو ہم سےکئی گنا زیادہ کتاب وسنت پر عمل کرنے کے حریص تھے ۔ اس  حدیث میں موجودسنتی اور سنۃ الخلفاء  کے الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ دھوکہ ہوگیا یا بعض لوگ جان بوجھ کر دھوکہ کھارہے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنتیں ہیں  بلکہ سنۃ الخلفاء سے تقلید کی دلیل لی جاتی ہے جبکہ یہ مطلب بالکل غلط ہے ۔
اس حدیث کو قرآن کی ایک آیت سے سمجھیں ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :
أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرة:133)
ترجمہ: کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا ۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ۔ تو انہوں نے کہا ہم آپکے الہ , اور آپکے آباء ابراہیم , اسماعیل اور اسحاق کے الہ کی عبادت کریں گے , جو کہ ایک ہی ا لہ ہے اور ہم اسکے لیے فرمانبردار ہونے والے ہیں ۔
یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے باپ کو جواب دیا کہ ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباء ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے ، تو کیا یعقوب علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ اور اسحاق علیہ السلام کے معبود الگ الگ تھے ؟ نہیں ہرگز نہیں ان سب کا معبود ایک تھا۔ ٹھیک اسی طرح سے خلفاء کی وہی سنت ہے جو نبی ﷺ نے پیش کی ہے ۔
ہوبہو یہی بات سورہ فاتحہ میں کہی گئی ہے" اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" پہلے صراط مستقیم کہا گیاپھر اسی صراط کو انعمت علیھم سے جوڑا گیا یعنی وہ لوگ  جن پر اللہ کی نعمت نازل ہوئی ۔
ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (النساء : 115)
ترجمہ: اور جو رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ ہدایت اس پر واضح ہوچکی اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلے تو ہم اسے وہیں پھیر دیتے ہیں جہاں وہ خود پھرتا ہے اور پھر اسے جہنم میں پہنچائیں گے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
اس آیت میں رسول کے طریقہ کو مومنوں کا طریقہ کہا گیا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خلفائے راشدین کا طریقہ رسول کا ہی طریقہ ہے کیونکہ تمام مومنوں کو وحی الہی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔
اس بات کو حدیث عرباض بن ساریہ سے بھی بآسانی سمجھ سکتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ دین میں نئی بات پیدا کرنا بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ بھلا خلفائے راشدین اپنی طرف سے دین میں نئی بات کیسے گھڑیں گے جبکہ انہیں معلوم ہے کہ مومنوں کو وحی الہی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیروی کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول چھوڑا تھا۔ فرمان الہی ہے:
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (الاعراف:3)
ترجمہ:تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو ۔
فرمان نبوی ہے :
ترَكْتُ فيكم أَمرينِ ، لَن تضلُّوا ما تمسَّكتُمْ بِهِما : كتابَ اللَّهِ وسنَّةَ رسولِهِ{أخرجه مالك في الموطأ:2/899)
ترجمہ: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں ، تم ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے جب تک ان دونوں کو تھامے رہوگے ، وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے مشکوۃ کی تخریج میں حسن قرار دیا ہے ۔ {تخريج مشكاة المصابيح:۱۸۴}
خلفائے راشدین ہدایت یافتہ تھے، وہ دین کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے اور اپنے من سے ذرہ برابر بھی نہیں بولتے تھے ۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ابتدائے خلافت میں بعض لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا:
واللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَن فَرَّقَ بيْنَ الصَّلَاةِ والزَّكَاةِ، فإنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ المَالِ، واللَّهِ لو مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إلى رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ علَى مَنْعِهِ{صحيح البخاري:۷۲۸۴}
ترجمہ:واللہ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، واللہ! اگر وہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکار پر بھی جنگ کروں گا۔
ارتداد کے وقت اگر اپنی سنت جاری کرتے تو حضرت عمر کی طرح نرم گوشہ اختیار کرتے مگر انہوں نے رسول اللہ کی سنت جاری کی ۔
اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ قول سونے سے لکھے جانے کے قابل ہے جس میں حجر اسود کو بوسہ دیتےوقت فرمایا گیا ہے:
«أَمَ وَاللهِ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ»(صحيح مسلم:1270)
ترجمہ:ہاں ،اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے،اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں(کبھی) بوسہ نہ دیتا۔
خلفاء راشدین اور سنت  رسول کے درمیان اختلاف کا حکم
بلاشبہ خلفائے راشدین کے بعض اجتہادات سنت رسول کے مخالف نظر آتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انہیں مجتہد مانتے ہیں ، ہمارے  لئے شارع صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ گویا معصوم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اورخلفاء  مجتہدہیں جو معصوم نہیں ہیں ۔ ان سے خطا کا امکان ہوتا ہے اسی امکان کے سبب بعض معاملات میں اختلاف نظر آتا ہے۔ دین کے معاملے میں جہاں اختلاف نظر آئے وہاں اختلاف کو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی طرف لوٹانا چاہئے ۔ اللہ نے ہمیں ایساہی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (النساء:59)
ترجمہ:اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالٰی کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالٰی کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اگر تمہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے ۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبارِ انجام کے بہت اچھا ہے ۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے صاف صاف فرمادیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو ، کتاب وسنت کو نافذ کرنے والے حکام کی بھی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اختلاف کے وقت حاکم وخلیفہ کی بات چھوڑ دی جائے گی ،اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی جائے گی ۔
اجتہادی اقوال کی شرعی حیثیت :
اوپر ذکر کیا گیا کہ حدیث کہتے ہیں ہر وہ قول ، فعل ،تقریر یا صفت جو نبی ﷺکی طرف منسوب ہو ۔ اگر نسبت صحیح ہوئی تو حدیث صحیح ہوتی ہے ورنہ ضعیف ہوتی ہے۔
اس تعریف میں تقریر کا لفظ آیا ہے اس سے مراد صحابہ کا قول یا فعل جس کا علم نبی ﷺ کو ہوا ہو اور آپ ﷺ نےاس قول یا فعل پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ خاموشی اختیار کی ۔ گویا ایسا کوئی عمل صحابی یا قول صحابی جس پر رسول اللہ ﷺ نے خاموشی اختیار کی ہو وہ حدیث ہی کہلاتی ہے اگر اس تقریری حدیث کی سند صحیح ہو تو دین میں حجت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے صرف اپنی اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ ان دونوں کے ماسوا دین میں کسی کی بات قابل حجت نہیں ہے تاہم محض وہ اجتہادی مسائل جن میں شریعت خاموش ہواور صحابی کا قول یا فعل صحیح سند سے ثابت  ہورہا ہو تو اسے اختیار کیا جائے گا  بشرطیکہ شریعت کے کسی نص سے نہ ٹکراتا ہو، ان کا اجتہاد بعد والوں کے اجتہاد سے بہتر ہے بلکہ صحابہ کے وہ اقوال جن میں اجتہاد کا دخل نہ ہو تو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے ۔
اجتہاد کا دائرہ تو وسیع ہے ، اس کا دروازہ قیامت تک کھلا ہوا ہے ،جدید قسم کے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور علمائے امت ان میں اجتہاد کرتے رہیں گے جن کا اجتہاد دلائل سے قوی ہوگا اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں ہے ۔ ائمہ اربعہ کے اجتہاد کا بھی یہی حکم ہے ۔ ان کے جو اجتہاد کتاب وسنت کے خلاف ہیں انہیں رد کردیں دراصل ان مسائل میں ائمہ کا بھی یہی موقف ہے اور جو مسائل کتاب وسنت سے نہیں ٹکراتے ان میں جس امام کا فتوی دلائل سے قوی معلوم ہو اختیار کرلیا جائے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف ایک امام کے ہی اجتہاد لیں گے ، نہیں ۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ تقلید جائز نہیں ہے۔ سارے ائمہ ہمارے اپنے ہیں، ان سب کو اللہ نے دین میں بصیرت وفقاہت عطا فرمائی، استفادہ علم میں کسی ایک کی تخصیص اوردوسرے ائمہ سے صرف نظر کرنا سراسر زیادتی اور دوسرے ائمہ کی فقاہت وبصیرت اور حکمت ودانائی سے چشم پوشی کرناہے ۔ تمام ائمہ کا احترام ، ان کے اجتہادات سے استفادہ بلکہ ان کے علاوہ قیامت تک جو فقیہ ومجتہد پیدا ہوتے رہیں  گےتمام سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ اللہ تعالی جسے چاہتا ہے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔
مکمل تحریر >>