Wednesday, November 22, 2023

لڑکیوں کی عمرکے لحاظ سے روزوں کی قضا سے متعلق غلط امیج


 لڑکیوں  کی  عمرکے لحاظ سے روزوں کی قضا سے متعلق غلط امیج
 
سوشل میڈیا پر ایک امیج(پیغام ) گردش میں دیکھا جو رمضان کے روزں کی قضا سے متعلق ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ حیض کی وجہ سےزندگی میں  جو روزے چھوٹ گئے ہیں ان کا اندازہ کیسے لگائیں اور کیسے قضا کریں ۔ اس امیج کی حقیقت نیچے بیان کی جاتی ہے۔
یہ نقشہ  مکمل طور پر غلط ہے ۔ اس میں سب سے پہلی خرابی تو یہ ہے کہ اس سے یہ میسیج جارہا ہے کہ عورت  رمضان کے چھوٹے روزے عمر میں کبھی بھی رکھ سکتی ہے  جبکہ معلوم ہونا چاہئے کہ رزوں کی قضا رمضان سے رمضان تک ہی ہونا چاہئے مگر شرعی عذر ہو تو اور مسئلہ ہے  بلکہ بعض اہل علم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ روزوں کی قضا میں تاخیر ہوتو قضا کے ساتھ فدیہ بھی ہے ۔میرے نزدیک فدیہ کی دلیل نہیں ہےبس قضا کرنا ہے۔  
دوسری بات یہ ہے کہ ہر عورت کا حیض مختلف ہوتاہے کسی کو ایک دن، کسی کو تین دن، کسی کو سات دن یعنی مختلف عورتوں کے مختلف ایام ہوتے ہیں ان سب کے لئے کوئی ایک  ٹیبل نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ ایک ماہ میں حیض کی وجہ سے 23 روزے کبھی بھی قضا نہیں ہوسکتے ہیں ، اگرکسی کو زیادہ دن خون آئے تو بھی پندرہ دن سے زیادہ حیض نہیں مانا جائے گا، پندرہ دن کے بعد والا خون استحاضہ کا مانا جائے گااور استحاضہ میں عورت کو نماز و روزہ کی پابندی کرنی ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اس میں جو ہرسال کے قضا روزے کے الگ الگ ایام بتائے گئے ہیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، جس عورت کو جتنا روزہ شرعی عذر کی وجہ سے چھوٹا ہوگا اتنا ہی قضا کرے گی اور قضا کے معاملہ میں ہرعورت کا معاملہ الگ ہوگا حیض کے فرق کی وجہ سے۔
 آخری بات یہ ہے کہ بارہ سال بلوغت کی عمر متعین نہیں ہے ، بلوغت کی نشانی ظاہر ہونے سے لڑکی بالغ ہوجائے گی، چاہے حیض شروع ہوجائے یا بغل وزیر ناف کے بال آجائے یا احتلام ہونے لگے ، اس اعتبار سے آٹھ  سال کی بچی بھی بالغ ہوسکتی ہے تو بلوغت کا اعتبار عمر سے نہیں، نشانی سے ہوگا۔
 
واللہ اعلم
مقبول احمد سلفی 

مکمل تحریر >>

Wednesday, February 1, 2023

صدقہ میں بکرا دینے کا حکم


 صدقہ میں بکرا دینے کا حکم

مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب
 
اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی مُسَلّم بکرا غریب و محتاج پر صدقہ کرے یا پھر بکرا/بکری اور کسی قسم کا حلال جانور ذبح کرکے اسے فقراء ومساکین میں تقسیم کرے ۔ اس کے متعدد دلائل ہیں ، چند ایک آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ۔
پہلے عمومی دلائل پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہوگا کہ کھانے پینے کی کوئی چیز صدقہ کرسکتے ہیں ، جیسے آپ ﷺ کا یہ فرمان دیکھیں :
إنْ أردتَ أنْ يَلينَ قلبُكَ ، فأطعِمْ المسكينَ ، وامسحْ رأسَ اليتيمِ(صحيح الجامع:1410)
ترجمہ: اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مساکین کو کھلانا پلانا اجر کا کام ہے اور یہ دلوں کو نرم کرتاہے ، کھلانے پلانے میں آپ جو چاہیں کھلائیں، اس میں گوشت بھی شامل ہے۔ اسی طرح عمومی دلیل کے تحت یہ حدیث بھی دیکھیں ۔عبد اللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ(صحيح مسلم:2347)
ترجمہ: تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطا عت رکھے چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے(صدقہ) کے ذریعہ کیوں نہ ہو وہ ضرور ایسا کرے ۔
کھجور کا تعلق کھانے سے ہے اور یہاں  کہاگیا ہے کہ کھجور کا ایک ٹکڑا کسی کو صدقہ کرکے  جہنم سے بچ سکتے ہو تو اس سے بچو۔
عمومی دلائل کے بعد اب خصوصی دلائل ذکر کرتا ہوں جن میں بطور صدقہ جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کھلانے کا ذکر ملتاہے ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے:
أنَّهم ذبحوا شاةً فقالَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ ما بقيَ منْها ؟ قلت ما بقيَ منْها إلَّا كتفُها . قالَ : بقيَ كلُّها غيرَ كتفِها(صحيح الترمذي:2470)
ترجمہ:صحابہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس میں سے کچھ باقی ہے؟عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بکری ذبح کرکے اس کا جتنا حصہ فقراء ومساکین میں صدقہ کردیا گیا وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے اور بکری کا جو دستی حصہ صدقہ نہیں کیا جاسکا وہ باقی رہنے والا نہیں ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کا اشارہ اللہ کے اس کلام کی طرف ہے :مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ(سورہ النحل:96) ترجمہ: تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث اس طرح مروی ہے ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَهُمْ.(صحیح البخاری:2576)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے کھاتے۔
صدقہ کے گوشت سے متعلق ایک تیسری حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ(صحیح البخاری:2577)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے (جب ان کے یہاں سے پہنچا تو) ہدیہ ہے۔
صدقہ کے بکرا سے متعلق ایک چوتھی حدیث بھی دیکھیں ۔
عن ام عطية، قالت:دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عائشة رضي الله عنها، فقال: عندكم شيء؟ قالت: لا، إلا شيء بعثت به ام عطية من الشاة التي بعثت إليها من الصدقة، قال: إنها قد بلغت محلها(صحیح البخاری:2579)
ترجمہ:ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا، کیا کوئی چیز (کھانے کی) تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی۔
دلائل سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ صدقہ کے طور پر کھانے پینے کی کوئی چیز خواہ کھجور ہو، گوشت ہو یا بکرا وبکری اور کوئی حلال جانور ہو فقراء ومساکین کو دے سکتے ہیں ، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ۔
جانور صدقہ کرنےسے متعلق چند مسائل واحکام
اب یہاں آپ کے سامنے جانور صدقہ کرنے سے متعلق چند مسائل واحکام بھی بیان کردیتا ہوں تاکہ اس باب میں صدقہ کی اصل حقیقت کو سمجھیں اور غیرشرعی امور سے پرہیز کریں ۔
پہلامسئلہ : یونہی بغیر کسی حاجت وضرورت کےبھی  فقراء ومساکین کی امداد کے طور پر جانور ذبح کرکے صدقہ کرسکتے ہیں یا بغیر ذبح کئے مکمل جانور کسی مسکین، یتیم خانہ یا  خیراتی اداروں کو محتاجوں کے واسطے دے سکتے ہیں ۔
دوسرامسئلہ : بسا اوقات گھر میں کوئی بیمارہو تو اس کی شفا یابی کی نیت سے بھی جانور صدقہ کرسکتے ہیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقةِ(صحيح الجامع:3358)ترجمہ:صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو۔
تیسرا مسئلہ : جانور ذبح کرتے وقت نیت اللہ کا تقرب ہو، بیمار کی طرف سے جانورذبح کرتے وقت بھی تقرب الہی مقصد ہو یعنی یہ نیت نہ ہوا کہ جانور ذبح کرنے سے ہی فائدہ ہوجائے گا۔ نہیں ۔ نیت یہ ہو کہ یہ جانور اللہ کی رضا کے لئے ذبح کررہا ہو، اللہ کی توفیق سے فائدہ ہوگا۔
چوتھا مسئلہ : صدقہ کا اصل مستحق تو فقیر ومحتاج ہے تاہم صدقہ مالدار کو بھی دے سکتے ہیں اس لئے صدقہ کا گوشت کسی مالدار کو بھی دے دیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
پانچواں مسئلہ : جب گھر میں صدقہ کی نیت سے ایک جانور ذبح کیا جائے تو کیا اس میں سے گھر والے کھاسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ نیت کرکے جانور ذبح کیا جائے کہ اس میں سے گھر والے بھی کھائیں تو بالکل گھر والے بھی اس گوشت سے کھاسکتے ہیں لیکن اگر گھروالوں کی نیت نہ کی گئی ہو تو پورا بکرا صدقہ کردیا جائے ۔
چھٹامسئلہ : فقراء ومساکین کی پیسوں سے مدد کرنا افضل ہے یا بکرا دینا افضل ہے ؟ اس سلسلے میں ظاہر سی بات ہے کہ پیسوں سے مدد کرنا افضل ہے کیونکہ پیسوں سے مختلف قسم کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہے تاہم صدقہ میں گوشت دینے یا جانور دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، جائز ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کتنے سارے کفارات ہیں جن میں مسکینوں کو کھلانے کا حکم ہے، وہاں نقدی کفایت نہیں کرے گی ، کھلانا ہی ہے تو کھلانے میں بھی اپنی جگہ مصلحت ہے ۔
جانور ذبح کرنے سے متعلق کچھ باطل  اعتقادات
(1)کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ بیماری جنات یا گھر پر کسی موذی سایہ کی وجہ سے ہے لہذا جانور ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون بہاتے ہیں اس اعتقاد کے ساتھ اس کی وجہ سے جنات یا موذی چیز کاشر دور ہوجائے گا اور تکلیف رفع ہوجائے گی ۔ یہ اعتقاد باطل ہے ۔
(2)اسی طرح کچھ لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر جنات اور موذی چیز کے شر سے بچنے کے لئے گھر میں جانورپالتے ہیں یا جانور اس غرض سے ذبح کرتے ہیں ،یہ اعتقاد بھی باطل ومردود ہے ۔
(3) ایسے بھی کچھ لوگ پائے جاتے ہیں جو نئے گھر میں داخل ہوتے وقت گھر اور گھر والوں کی سلامتی کے طورپر جانور ذبح کرتے ہیں یا جنات کے شر سے نئے گھر کی حفاظت کے لئے جانور ذبح کرتے ہیں ،یہ سب بے دینی اور شرک کے قبیل سے ہیں ، ہاں اگر کوئی گھر کی نعمت ملنے پر خوشی سے لوگوں کو دعوت دیتا ہے یا جانورذبح کرتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

 

مکمل تحریر >>

Thursday, April 21, 2022

بیت المال کا نقدی اموال سے ضرورت کی اشیاء خریدکردینا


بیت المال کا نقدی اموال سے ضرورت کی اشیاء خریدکردینا
جواب: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر-مسرہ-طائف
رمضان المبارک کے موقع سے مالدارلوگ عموما اپنے مال کی زکوۃ نکالتے ہیں ،ان میں سے بعض تو خود سے غرباء ومساکین  اور مستحقین میں زکوۃ  تقسیم کرتے ہیں  جبکہ کچھ لوگ دینی مراکز اور بیت المال نامی اداروں کو بطور زکوۃ نقدی رقوم دیتے ہیں ۔یہ ادارے زکوۃ کی رقم سے ضرورت مندوں کو ضرورت کی اشیاء خرید کر دیتے ہیں ۔ایک مدت سے یہ کام برصغیر میں ہوتا چلا آرہا ہے ،سعودی عرب کے خیراتی ادارے بھی فقراء ومساکین میں راشن پیکیج ،ساتھ میں کچھ نقدی رقم دیا کرتے ہیں لیکن آج کل اس کے عدم جواز پر بعض علماء کے فتاوی سوشل میڈیا پر  گشت کررہے ہیں جن کی وجہ سے عام لوگوں  میں کافی بے چینی ہے اور وہ اس معاملے میں مختلف علماء سے رجوع کررہے ہیں ۔   
مالیگاوں سے فرید احمد صاحب مجھے لکھتے ہیں "آج کل زکوٰۃ کے مال سے راشن کٹ تقسیم کو لیکر مسئلہ بتایا جارہا ہے کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی ۔یہاں سوال یہ ہیکہ اہل خیر حضرات جماعت کے بیت المال میں اپنی زکوٰۃ رقم کی شکل میں ادا کرتے ہیں اور بیت المال کے ذمے داران حسب ضرورت وموقع کے مستحق افراد کو راشن کٹ، سردی کے موسم میں کمبل، بے روزگار افراد کو ٹھیلہ گاڑی یا دیگر ذرائع سے ذریعہ معاش کا نظم کرتے ہیں، بعض حضرات عیدین کے موقع پر نئے کپڑے تقسیم کرتے ہیں وغیرہ ۔ایسی صورت میں جماعت کے بیت المال کے ذمے داران کو کیا رقم کے ذریعے سے ہی امداد کرنا ہوگی یا مروجہ طریقہ سے بھی امداد کی جاسکتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔براہ کرم اس سلسلے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں ۔نوازش ہوگی"۔
اس سوال کا جواب لکھنے سے پہلے  اس سے متعلق مختلف علماء کے فتاوی و آرا کاگہرائی سے مطالعہ کیاہوں اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ صاحب نصاب اپنے نقدی رقم کی زکوۃ ہرحال میں نقد ی صورت میں ہی نکالے گا خواہ وہ بذات خود مستحق کو دے یا نیابت کے لئے دینی مراکز اور بیت المال کو دے تاہم دینی مراکز اور بیت المال نقدی زکوۃ میں تصرف کرسکتے ہیں یا لوگوں کی مصلحت وضرورت کا خیال کرکے ان کے مناسب حال اشیاء  مالی زکوۃ سے خرید کر دے سکتے ہیں ؟ اس معاملے میں علماء کے درمیان  اختلاف نظر آتا ہے ۔
اس مختلف فیہ مسئلے کا جواب جاننے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ جہاں مسلمان رہتے ہیں وہاں مسلمانوں کا اسلامی خزانہ یا بیت المال کا وجود ہونا چاہئے جس سے مسلمانوں میں موجود ضرورت مندوں کی حاجات پوری کی جاسکے جیساکہ ہم عہد رسالت وخلافت میں دیکھتے ہیں  مگر اس جانب مسلمانوں میں عدم اتحاد کی وجہ سے بڑی کوتاہی نظر آتی ہے  تاہم کچھ لوگ جماعتی سطح پر بیت المال یا دینی مراکز کے ذریعہ سماجی خدمات انجام دیتے ہیں جوکہ قابل قدر ہے ، مزید اس میں بہتری کی ضرورت درکار ہے اور جوانفرادی یا اجتماعی طور پر صدقات وعطیات جمع کرکے خیانت کرتے ہیں ان کی اصلاح بھی ہونی چاہئے ۔
علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ اسلامی حکومت کے شروع دور میں بیت المال کا قیام اس طرح نہیں تھا جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے متعارف کروایا ۔ میں ان کے دور سے یعنی عہد فاروقی سے بیت المال کی دومستند  مثالیں بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان مثالوں سے اپنی بات واضح کرسکوں ۔
(1)پہلا واقعہ صحیح بخاری کا ہے ، زید بن اسلم روایت کرتے ہیں ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔(صحيح البخاري:4160)
(2)دوسرا واقعہ مختلف کتب تاریخ وسیر میں درج ہے جیسے تاریخ طبری، تاریخ دمشق اور فضائل الصحابہ وغیرہ اور اس کی سند حسن درجے کی ہے ۔ یہ واقعہ بھی حضرت عمرکے غلام اسلم بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر کے ساتھ حرہ واقم کی طرف نکلے ، ضرار کے مقام پر آگ جل رہی تھی ، حضرت عمر نے کہا ہوسکتا ہو یہاں سوار ڈیرہ ڈالا ہو اور سردی کی وجہ سے آگ جلا رکھی ہو ۔ قریب ہوئے تو دیکھا کہ دیکھا کہ ایک عورت کے پاس چھوٹے چھوٹے بچے رو رہے ہیں اور آگ پر ہنڈیا چڑہائی ہوئی ہے ۔علیک سلیک کے بعد کچھ اس طرح گفتگو ہوئی ۔
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا ہم قریب آجائیں ؟
وہ عورت بولی :اچھے طریقے سے قریب آجائیں یا ہمیں چھوڑ دیں ۔
پھر جب ہم قریب ہوئے تو عمر نے پوچھا : تمھیں کیا ہوا ہے ؟
اس عورت نے کہا:رات ہوچکی ہے اور سردی بھی ہے ۔
انھوں نے پوچھا :یہ بچے کیوں رو رہے ہیں ؟
اس عورت نے جواب دیا :بھوک کی وجہ ۔
انھوں نے پوچھا :ہانڈی میں کیا چیز (پک رہی ) ہے ؟
اس عورت نے جواب دیا :اس میں وہ ہے جس کے ساتھ میں ان بچوں کو چکرا رہی ہوں تاکہ وہ سو جائیں ۔ہمارے اور عمر کے درمیان اللہ ہے ۔
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ تجھ پر رحم کرے ،عمر کو تمھارے بارے میں کیا پتا ہے ؟
اس عورت نے کہا: عمر ہمارا حاکم ہے اور پھر ہم سے غافل رہتا ہے ؟
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف رخ کرکے فرمایا: چلو ہمارے ساتھ ،پھر ہم بھاگتے ہوئے اس جگہ گئے جہاں آٹا رکھنے کا سٹور تھا ۔انھوں نے آٹے کی ایک بوری اور چربی کا ایک ڈبہ نکالا اور کہا:یہ مجھ پر لاد دو ۔میں نے کہا:آپ کے بجائے میں اسے اٹھا لیتا ہوں ۔
انھوں نے کہا:تیری ماں نہ رہے ،کیا تو قیامت کے دن میرا وزن اٹھائے گا؟
لہٰذا میں نے یہ وزن آپ پر لاد دیا اور آپ کے ساتھ چلا ،آپ بھاگے بھاگے جارہے تھے ، پھر آپ نے یہ سامان اس عورت کے سامنے ڈال دیا اور تھوڑا سا آٹا نکال کر کہا:
میں اسے ہوا میں اچھال کر صاف کرتا ہوں ،تم اس میں میرے ساتھ تعاون کرو۔
وہ ہانڈی کے نیچے پھونکیں (بھی ) مار رہے تھے پھر ہانڈی کو اتار دیا اور کہا: کوئی چیز لے آؤ۔ وہ ایک برتن لے آئی تو انھوں نے اسے اس برتن میں انڈیل دیا اور پھر ان سے فرمانے لگے : تم انھیں کھلاؤ اور میں اسے بچھاتا ہوں ۔
انھوں نے سیر ہو کر کھا لیا اور کچھ کھانا باقی بھی رہ گیا ۔
عمر (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوگئے اور میں بھی کھڑا ہوگیا پھر وہ عورت کہہ رہی تھی :
اللہ تجھے جزائے خیر دے :امیر المومنین (عمر رضی اللہ عنہ)کے بجائے تجھے صاحبِ اقتدار (خلیفہ ) ہونا چاہئے تھا۔
انھوں نے فرمایا:جب تم امیر المومنین کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہنا اور وہاں مجھ سے بات کرنا ۔ان شاء اللہ
پھر آپ پیچھے ہٹ گئے ا ور زانووں کے بل بیٹھ گئے ۔ہم نے کہا:ہماری تو دوسری شان ہے ۔
آپ مجھ سے کوئی کلام نہیں کررہے تھے پھر میں نے بچوں کو اچھلتے کودتے اور کھیلتے ہوئے دیکھا اور بعد میں وہ سوگئے تو عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:اے اسلم !بھوک نے ان کی نیند ختم کررکھی تھی اور انھیں رُلا دیا تھا ،لہٰذا میں نے یہ دیکھنا پسند کیا جو میں نے دیکھ لیا ہے ۔[فضائل الصحابہ ج۱ ص ۲۹۰۔۲۹۱ح ۳۸۲ وسندہ حسن ۔ منقول از مقالات،جلد 6،ص250-253 بتصرف قلیل]
بیت المال کے ذریعہ ضرورت مند مسلمانوں کی ضروریات پوری کرنے کے بارے میں ان دو واقعات سے بہت سارے اسباق ملتے ہیں ۔ان اسباق میں منجملہ ایک سبق یہ ملتا ہے کہ مسلم ملک ومعاشرہ میں ضرورت مندوں کو ان کی ضرورت کی چیزیں فراہم کرنے کے لئے بیت المال کا انتظام ہونا چاہئے تاکہ اس کے ذریعہ حاجت مندوں کی حاجت پوری کی جاسکے ۔ مسکین سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ کو کیا چاہےبلکہ  ذمہ دارخود ہی ان کی مکمل معلومات حاصل کرے اورحاجت وضرورت کے مطابق ان کی امداد کرے ، فقراء ومساکین عموما شرم وحیا کی وجہ سے اپنی ضرورت بیان نہیں کرسکتے ہیں ، یہ ذمہ داروں کا ہی کام ہے ۔ اوپر آپ نے پہلے واقعہ میں پڑھاکہ ایک بیوہ عورت کے پاس چندچھوٹی چھوٹی بچیاں تھیں ، ا ن کے پاس کھانے پینے اور گزر بسر کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا تو وقت کے حاکم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ضرورت کی چیزیں، کپڑے اور روپئے دئے ۔ اسی طرح دوسرے واقعہ میں آپ نے پڑھا کہ ضرورت مند عورت کو حضرت عمر نے پکانے کی چیزیں آٹا اور چربی عطا کیا ۔ کیا آج مسلمانوں میں ایسے لوگ نہیں ہیں جنہیں ضرورت کی چیزیں چاہئے ؟ دیکھا جائے تو ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا نہیں ہے ، دوچند ہیں جو ایسے ضرورت مندوں کو تلاش کرتے ہیں اور ان کے لئےضرورت کی چیزیں مہیا کرتے ہیں ۔
اب آتے ہیں سائل کے جواب کی طرف اور مذکورہ بالا واقعات سے اندازہ لگاتے ہیں کہ کیا دینی مراکز یا بیت المال ایسے کام نہیں کرسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب ہے کہ بالکل کرسکتے ہیں ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان اداروں کے پاس لوگوں کی ضروریات پورا کرنے کے لئے زکوۃ کی نقدی رقوم ہوتی ہیں ۔ کیا زکوۃ کی نقدی رقوم سے ضرورت مندوں کے مطابق اشیاء خوردونوش یا کپڑے خرید کر دئے جاسکتے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں متعدد علماء کے فتاوی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مالی زکوۃ سے کوئی چیز خرید کرہم نہیں دے سکتے ہیں ،نقدی مال ہی مستحق کو دینا پڑے گا ، خوف طوالت کی وجہ سے عدم جواز کا فتوی نقل نہیں کرہاہوں ،جبکہ بعض علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ مصلحت وضرورت کے تحت ضرورت مندوں کے درمیان اشیاء بھی تقسیم کی جاسکتی ہیں ۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیاکہ ہم لوگ راشن اور ضرورت کی چیزیں مثلا کمبل اور کپڑے وغیرہ زکوۃ کے پیسوں سے خرید کر بعض غربت زدہ اسلامی ممالک جیسے سوڈان ، افریقہ ، افغانی مجاہدین کے لئے بھیجتے ہیں خصوصا جب ان جگہوں پر اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں یا اشیاء نہیں پائی جاتیں ۔ کیا یہ صحیح ہیں ؟ تو شیخ نے جواب دیا :
لا مانع من ذلك بعد التأكد من صرفها في المسلمين(مجموع فتاوى ومقالات ابن باز 14/246) یعنی اس میں کوئی حرج نہیں اگر اس بات پریقین کرلیا جائے کہ یہ مسلمانوں میں ہی تقسیم کیا جائے گا۔  اس بارے میں ، میں بھی یہی موقف رکھتا ہوں کہ ضرورت اور مصلحت کے تحت محتاجوں کے درمیان زکوۃ کے پیسوں سے ضرورت کی چیزیں خرید کردینے میں حرج نہیں ہے اس بات کی تاکید کے ساتھ کہ جہاں پیسوں کی ضرورت ہو وہاں پیسے دئے جائیں ۔
پہلی وجہ :اس موقف کی تائید اس لئے کرتا ہوں کہ ہمارے زکوۃ کی تقسیم میں اسلامی معاشرہ افراط وتفریط کا شکار ہے  ۔اولا :مسلم سماج میں انصاف کے ساتھ زکوۃ نہیں نکالی جاتی ۔ ثانیا :زکوۃ کےجو اوائل مستحقین ہیں وہ اکثر زکوۃ سے محروم رہتے ہیں کیونکہ زکوۃ کا اکثرحصہ  مساجد، مدراس اورمراکز میں جاتا ہے جبکہ یہ نام مصارف زکوۃ میں مذکور ہی نہیں ۔پھر زکوۃ کے ان پیسوں کا استعمال تعمیرمیں، بجلی پانی میں ، کھانے پینے میں اور ضرورت کی تمام چیزوں میں ہوتا ہے۔
اس لئے اسلامی معاشرے کو زکوۃ کی تقسیم میں اعتدال برتنا ہوگا تاکہ جو اصل مستحق ہیں ان تک زکوۃ کی رقم پہنچے اور ان کے علاوہ جہاں بھی جواز کی صورت نکلتی ہے وہاں بھی تقسیم کی جائے ۔
دوسری وجہ :ایک دوسری اہم بات یہ ہے کہ زکوۃ کی رقم کم اور ضرورت مند زیادہ ہیں پھر  ان ضرورت مندوں میں عموما کم  ہی سرپرست مرد ہواکرتے ہیں ، مردہوتے بھی ہیں تو معذور، لاغروبیمار، مجنون وغیرہ ،اکثر چھوٹے بچے اوربچیاں ہوتی ہیں، عورتیں ہوتی ہیں ، ان کے لئےصحیح سامان  خریدنا بھی دشوار اور پھر کم پیسوں میں ضرورت کی چیز نہیں خریدسکتے جبکہ ایک ذمہ دار قسم کا آدمی بڑی تعداد میں سامان خرید ے تو کم قیمت پر ملے گا اور کثیر تعداد کو فائدہ ہوگا گویا انفرادی خرید پر مال کا زیادہ ضیاع معلوم ہوتا ہے جبکہ اجتماعی طور پر خریدنے میں محتاجوں کا فائدہ ہے۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں  کہ گائے، بکری اور فصل وغیرہ کی زکوۃ بغیر کسی ضرورت اور مصلحت کے نقدی کی صورت میں دینا ممنوع ہےپھر اس کی وجہ بتاتے ہیں کیوں ممنوع ہے، مزید آگے بتاتے ہیں کہ کسی ضرورت یا مثبت مصلحت کی بنا پر قیمت کی صورت میں زکاۃ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے(مجموع الفتاوى 25/82)
اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر زکاۃ کے مستحق لوگوں کی مصلحت کو سامنے رکھا جائے تو نقدی رقم کی بجائے سامان، کپڑے اور راشن وغیرہ خرید کر دیا جا سکتا ہے اور اس کیلئے اشیائے ضرورت کی قیمت کو مد نظر رکھا جائے گا، مثال کے طور پر زکاۃ کا مستحق شخص : پاگل ہو یا کم عقل ہو یا ذہنی توازن درست نہ ہو اور یہ ڈرہو کہ اگر رقم دی جائے گی تو صحیح جگہ صرف نہیں کر سکے گاتو ایسی صورت میں مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ اسے راشن خرید کر دیا جائے یا زکاۃ کی قیمت کے برابر کپڑے لیکر دئے جائیں، یہ موقف اہل علم کے صحیح ترین اقوال کے مطابق ہے(فتاوی ابن باز: 14/ 253)
اور شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ پہلے کہتے ہیں کہ زکاۃ ادا کرنے والا شخص اپنی رقم کے بدلے میں چیزیں نہیں دے سکتا پھر کچھ آگے کہتے ہیں اگر آپ کو خدشہ ہو کہ غریب گھرانے کو رقم کی شکل میں زکاۃ دینے پر وہ غیر ضروری اشیاء میں صرف کر دینگے تو آپ گھر کے سربراہ یعنی باپ، ماں، بھائی، یا چچا سے بات کریں اور انہیں کہیں کہ میرے پاس زکاۃ کی کچھ رقم ہے تو آپ ہمیں اپنی ضرورت کی اشیاء بتلادیں میں خریدکر آپ کو دے دیتا ہوں،اس طریقے پر عمل کریں تو یہ جائز ہوگا، اور زکاۃ اپنی صحیح جگہ صرف ہوگی (مجموع فتاوى ابن عثیمین:18/ سوال نمبر:643)
تیسری وجہ : رمضان کے آخر میں صدقۃ الفطر نکالنا واجب ہے اور صدقۃ الفطر زکوۃ میں سے ہے نیز غلہ سے یہ زکوۃ دینی ہے تاہم اس زکوۃ کے بارے میں بھی اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ فقراء ومساکین کی ضرورت ومصلحت بنا پر نقدی رقم بھی دے سکتے ہیں بلکہ بعض تو کہتے ہیں نقدی فطرانہ ہی دینا چاہئے ۔ جب ہم غلے والی زکوۃ میں فقراء کی مصحلت دیکھ کر روپیہ دے سکتے ہیں تو مالی زکوۃ میں کیوں نہیں مصلحت دیکھی جاسکتی ہے؟
ان باتوں کے علاوہ مزید باتیں اس معاملے میں قابل اعتنا ہیں ۔
*ضرورت ومصلحت کے نام پر لوگوں میں غیرضروری اشیاء نہ تقسیم کی جائیں یعنی وہی اشیاء تقسیم کی جائیں ،محتاجوں کو جن کی اصلا ضرورت ہو۔
*بسا اوقات سستے داموں پر ڈیٹ اسپائراور خراب سامان خرید لئے جاتے ہیں ، یہ بہرحال غلط ہے ۔
*کچھ محتاج ایسے بھی ہوسکتے ہیں جنہیں سامان کی نہیں پیسوں کی سخت ضرورت ہوایسے لوگوں کی جانکاری حاصل کرکے پیسوں سے ہی مدد کی جائے ۔
*راشن کے ساتھ کچھ پیسے بھی دئے جائیں تاکہ اگر مزید کچھ ضرورت ہو تو پوری کی جاسکے جیساکہ آپ نے اوپر پہلے واقعہ میں پڑھا ہے کہ حضرت عمر نے سامان کے ساتھ کچھ پیسے بھی دئے ۔
اس موضوع کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ایک مالدار آدمی خود سے کسی مستحق کو نقدی رقم کی زکوۃ دے گا تو نقد کی صورت میں ہی دے گا ، اسی طرح کسی بیت المال کو نقدی مال کی زکوۃ دے گا توبھی نقدمیں ہی دے گااور اس مالدار کی طرف سے زکوۃ ادا ہوجائے گی ۔ آگے بیت المال کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے مال کو مستحقوں میں جہاں مال کی ضرورت ہو وہاں مال اور جہاں مصلحت وضرورت سامان کا متقاضی ہو وہاں سامان تقسیم کرے ۔

مکمل تحریر >>

Thursday, May 28, 2020

میڈیکل ڈسکاؤنٹ کو زکوۃ میں شمار کرنا



میڈیکل ڈسکاؤنٹ کو زکوۃ میں شمار کرنا

مقبول احمد سلفی
دعوۃ سنٹر،طائف

سوال:ایک مسلم ڈاکٹر کا ذاتی کلینک ہے ،انہوں نے اپنے کلینک سے مریضوں کا علاج کرتے ہوئےان لوگوں کو سال بھر میں تقریبا بائیس لاکھ کا ڈسکاؤنٹ دیاہے اور اس وقت ڈاکٹر صاحب کے مال کی زکوۃ تقریبا تیس لاکھ بنتی ہے تو کیا بائیس لاکھ کا ڈسکاؤنٹ زکوۃ شمار ہوگی جبکہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے زکوۃ کی نیت سے ہی ڈسکاؤنٹ کیا ہے ؟
جواب : پہلے نقدی میں زکوۃ کیا ہے اور کب دینی ہوتی ہے یہ سمجھ لیں تو سوال کا جواب سمجھنا آسان ہوجائے گا۔زکوۃ کی دوشرطیں ہیں ، ایک مال کا نصاب تک پہنچنا اور دوسری اس مال پر سال کا گزرنا۔ جب یہ دو شرطیں پوری ہوجائیں تو نقد مال پر زکوۃ فرض ہوجاتی ہے اور زکوۃ فرض ہونے کے بعد اسی وقت پورے مال کا ڈھائی فیصدحصہ  زکوۃ کے مصارف میں خرچ کرنا پڑتا ہے ۔
مذکورہ سال میں کلینک کا ڈسکاؤنٹ زکوۃ شمار نہیں ہوگی ،اس کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں ۔
٭ جب مال  نصاب تک نہیں پہنچے اور اس پر سال  نہ گزرے تو اس وقت زکوۃ بنتی ہی نہیں  یعنی زکوۃ کے لئے بیک وقت ان دونوں شرطو ں کا پایا جانا ضروری ہے ۔
٭ جب مال پر ابھی سال مکمل ہورہا ہے اور آج سال بعد جتنی مالیت  کی زکوۃ تیس لاکھ بنتی ہے تو یہ تیس لاکھ آج اور ابھی بطورزکوۃ  نکالنی ہے ۔
٭وقفہ وقفہ سے سال بھر مال خرچ کرنے کو زکوۃ میں شمار نہیں کرسکتے ہیں اور یہاں تو مال خرچ کرنابھی نہیں ہے بلکہ محض ڈسکاؤنٹ اور رعایت کا معاملہ ہےجو اصلا مال نہیں ہے۔
٭  جو مال آتا رہے اور صرف ہوتا رہے ان پر زکوۃ نہیں بنتی ہے بلکہ جو مال نصاب کو پہنچ جائے اور سال بھر ٹھہرا رہے اس پر زکوۃ ہے ۔
٭  زکوۃ کے مصرف میں مالدار لوگ شامل نہیں ہوتےجبکہ کلینک میں نہ جانے کتنے مالدار لوگ بھی آئے ہوں گے ۔
٭ پہلے بتادیا کہ ڈسکاؤنٹ دراصل مال نہیں سہولت ورعایت ہے اور پھر یہ سہولت سال بھر کی کتنی ہے ہم اس کی مالیت کا یقین کے ساتھ صحیح اندازہ نہیں لگاسکتے لہذا ڈاکٹر صاحب کا بائیس لاکھ روپیہ خیال کرنا محض گمان ہے اور زکوۃ یقینی موجود شئ کی ڈھائی فیصد یقینی طور پر نکالی جاتی ہے، اس میں گمان نہیں چلے گا۔
٭ زکوۃ کے لئے اہم چیز مال زکوۃ کو اصل مال سے الگ کرکے اسے ہاتھوں سے تقسیم کرنا ہوتا ہے جبکہ یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے ، اسی قسم کا غلط معاملہ لوگ مکان کرایہ میں کرتے ہیں کہ اگر کوئی مکان مالک کو کسی ماہ کا کرایہ نہ دےسکے تو زکوۃ میں معاف کردیتے ہیں، قرض کے معاملے میں بھی بعض لوگ یہی کرتےہیں کہ قرض نہ دے پانے پر زکوۃ سے کٹوتی کردیتے ہیں ۔ یہ معاملہ صحیح نہیں ہے ۔ زکوۃ کے لئے ہاتھوں سے مال نکال کر تقسیم کرنی ہوتی ہے۔
اس لئے ڈاکٹر صاحب کے اوپر واجب ہے کہ وہ اپنے  مال کی  تیس لاکھ کی زکوۃ مستحقین کو بلاتاخیر ادا کریں اور وہ سال بھر کے میڈیکل ڈسکاؤنٹ کو زکوۃ میں شمار نہ کریں کیونکہ زکوۃ کا مقصد مال پاک کرنا ہے جس کا وقت ابھی ہوا ہے۔ لوگوں کے لئےڈاکٹر صاحب کی رعایت احسان وسلوک اور خدمت خلق کے زمرے ہے بلکہ فقراء ومساکین کے حق میں صدقہ ہے اس لئے انہیں ڈسکاؤنٹ کئے گئے معاملہ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے عنداللہ وہ ماجور ہوں گے اور تیس لاکھ کی زکوۃ دینے سے بھی انہیں کے حق میں ذخیرہ آخرت ہوگا۔  
مکمل تحریر >>

Monday, April 22, 2019

پھلوں اور اناج میں زکوۃ کے مسائل


پھلوں اور اناج میں زکوۃ کے مسائل

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرشمالی طائف -مسرہ

اللہ رب العزت نے انسانوں کی تخلیق کرکے ان کی ضروریات کی تکمیل کے سارے اسباب مہیا فرمادئے ۔ کھانے پینے کے واسطے مختلف قسم کی غذائیں ، انواع واقسام کے اناج ، طرح طرح کے میوے ، ہری ہری سبزیاں اورحلال جانوروں کے لذیذ گوشت میسر کردئے ۔ انسان اللہ کی ان مختلف غذاوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتا ہے اور اپنے خالق کی اس عظیم نعمت وصنعت پر شکر بجالاتا ہے ۔ جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے یا ان کے بدلے شکرگزاری سے انحراف کرتا ہے وہ اپنے خالق ومالک کا ناشکرہ ہے۔
سورہ الرحمن میں اللہ نے متعدد نعمتوں کا ذکر کیا ہے ، ان میں زمین سے پیداہونے والے غلوں اور پھلوں کا بھی ذکر ہے ۔ ان نعمتوں کا تذکرہ کرکے کہا کہ تم کون کون سی نعمتوں کا انکار کروگے ۔ فرمان باری تعالی ہے :
فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ، فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (الرحمن :11-13)
ترجمہ: جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں اور بھس والا اناج ہے اور خوشبودار پھول ہیں پس(اے انسانواورجنو!)تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاوگے ۔
کسان اپنے کھیتوں میں بیج بوتا ہے اور کافی محنت کرتا ہے مگر نتیجہ یعنی پھل اللہ ہی اگاتا ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی اناج اور پھلوں کو پیدا کرنے والا نہیں ہے چنانچہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیڑپودے کے خالق نے کہا:
أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ،أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (الواقعه:63-64)
ترجمہ:اچھا یہ بتاؤکہ جو کچھ تم زمین میں بوتے ہو، کیا اسے تم ہی اگاتے ہو ، یا اگانے والے ہم ہیں۔
جیساکہ اوپر کہا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں پہ اس کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ پھلوں اور غلوں میں اللہ نے زکوۃ فرض کیا ہے اس کی ادائیگی مال کی پاکی کے ساتھ اللہ کا شکر بجا لانا بھی ہے ۔ اللہ زمینی پیداوار کا حق ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ(الأنعام:141)
ترجمہ : ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤجب وہ نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وہ اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو۔
اس بات کا ذکر دوسرے مقام پہ اللہ نے اس انداز میں بھی کیا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ(البقرة:267)
ترجمہ:اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو۔
کن کن چیزوں میں زکوۃ دی جائے گی ؟
تمام قسم کی زمینی پیداوار میں زکوۃ نہیں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےبیان کیا ہے کہ چارقسم کے اناج اور پھلوں میں زکوۃ دینا ہے۔
موسی بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں:
كان عِنْدنا كتابُ معاذِ بنِ جبلٍ – رضِي اللهُ عنه - ، عن النبيِّ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم - : أنَّه إِنَّما أمَرَه أن يَأْخُذَ الصَّدقةَ : من الحِنْطةِ ، والشَّعيرِ ، والزَّبيبِ ، والتَّمْرِ۔
ترجمہ: ہمارے پاس معاذ بن جبل ؓ کی وہ تحریر ہے جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں عطا کی تھی جس میں انہوں نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ گندم ، جو ، منقی اور کھجور میں سے زکوۃ لی جائے ۔
بعض روایات میں پانچ چیزوں کا ذکر ہے مگر شیخ البانی نے پانچویں چیز مکئی کے ذکر والی روایت کو منکر کہا ہے اور مکئی کے بغیر چار چیزوں والی حدیث صحیح کہا ہے ۔(ضعيف ابن ماجه:۳۵۸)
مذکورہ حدیث کی چارچیزوں میں سے دو گندم وجو کا تعلق اناج اور دومنقی وکھجور کا تعلق پھل سے ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ غلہ اور پھل دونوں پر زکوۃ ہے مگر ہر قسم کے اناج اور پھل پہ زکوۃ نہیں ہے ۔ یہاں چار چیزیں معلوم ہوگئیں اور چار کا ہی تذکرہ ہونے کا سبب اس زمانے کے مطابق ہے چار میں محصور کرنا مقصود نہیں ہے، ان کے علاوہ ہر قسم کا اناج اور پھل جو وزن کیا جاسکے اور ذخیرہ کیا جاسکے ان سب پر زکوۃ ہے ۔ گویا اناج اور پھلوں میں زکوۃ کے لئے دو صفات ہونی چاہئے ایک وزن کے قابل ہونا دوسری ذخیرہ اندوزی کے قابل ہونا۔ان دو صفات کی روشنی میں اناج میں گندم وجو کے علاوہ چاول، دال، مکئی ، موم پھلی وغیرہ اور پھلوں میں کھجور ومنقی(کشمش) وغیرہ پرزکوۃ ہے۔
پھلوں میں کسی قسم کے میوے مثلاآم، امردود، سیب ، ترانگور، انار، موسمی وغیرہ پہ زکوۃ نہیں ہے اور کسی قسم کی سبزیوں پر بھی زکوۃ نہیں ہے یعنی پیاز، لہسن ، گاجر ،مولی، ساگ وغیرہ میں زکوۃ ادا نہیں کرنی ہے ۔ ترکھجور اور انگور میں زکوۃ نہیں ہے ، سوکھ جانے پر زکوۃ ہے۔گننا ، انجیر، زیتون اور شہد میں زکوۃ نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم رہے کہ زکوۃ کے وہیں آٹھ مصارف ہیں جن کا ذکر سورہ توبہ کی آیت نمبر بائیس میں ہے۔
زکوۃ کی مقدار کیا ہے ؟
اوپر جن پیداوار میں زکوۃ کا ذکر کیا گیا ہے ان کا پانچ وسق ہونا ضروری ہے تب ہی زکوۃ فرض ہوگی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
ليسَ في حَبٍّ ولا تَمْرٍ صَدَقَةٌ، حتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أوْسُقٍ، ولا فِيما دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، ولا فِيما دُونَ خَمْسِ أواقٍ صَدَقَةٌ.(صحيح مسلم:979)
ترجمہ:نہ غلے میں صدقہ ہے نہ کھجور میں حتیٰ کہ وہ پانچ وسق تک پہنچ جائیں اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ سے کم(چاندی) میں صدقہ ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں دینی ہوگی ۔ اب جاننا یہ ہے کہ پانچ وسق آج کے زمانے میں کتنا کیلوگرام ہوتا ہے؟۔ ابن ماجہ(ح:361)اور ابوداود(ح:1559) میں ایک وسق کی مقدار ساٹھ صاع بتلائی گئی ہے مگر یہ روایت سندا ضعیف ہے ، ارواء الغلیل میں اس روایت پہ بحث کرتے ہوئے شیخ البانی نے ذکر کیا ہے کہ اس کے دوسرے طریق بھی ہیں اور اس کا شاہد بھی ہے ۔(إرواء الغليل:3/280)
امام نووی نے المجموع میں ابوداود کی روایت ذکر کے ضعف کا حکم لگایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے معنی پہ اجماع ہوا ہے ۔ ابن المنذروغیرہ نے اس بات پہ اجماع نقل کیا ہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔
جب ایک وسق ساٹھ (60)صاع کا ہوگا تو پانچ وسق برابر تین سو (300)صاع ہوگا۔ زکوۃ الفطر میں ایک صاع کا وزن عام طور سےتقریبا ڈھائی کلو(2.5)مانا جاتا ہے ، شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے یہاں ایک صاع تین کلو اور شیخ ابن عثیمین کے یہاں دوکلوصفرچار(2.04)کے برابر ہے ۔ اگر ڈھائی کلو کے حساب سے تین سو صاع کا حساب لگاتے ہیں تو اناج اور پھلوں میں زکوۃ کی مقدارتقریبا سات سو پچاس(750) کلو گرام ہوگی۔ اس سے کم ہو تو پھر زکوۃ فرض نہیں ہے ، ہاں تھوڑا بہت کم ہو تو زکوۃ دینی ہوگی کیونکہ یہ وزن بھی دوسرے اہل علم کی پیمائش کے حساب سے زیادہ ہے۔ یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ صاع میں اختلاف کی وجہ سے پانچ وسق کا انگریزی وزن دوسرے علماء کے یہاں فرق فرق ہوسکتا ہے۔ شیخ ابن باز کے یہاں نو سو(900) کلو بنتا ہے اور شیخ ابن عثیمین کے یہاں چھ سوبارہ(612)کلو بنتا ہے۔
پھلوں اور اناج میں زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ
زکوۃ کی دوسری اصناف میں نصاب کے ساتھ ایک سال پورا ہونے کی شرط ہے جبکہ اناج وپھل کی زکوۃ اسی وقت ادا کرنی ہے جس وقت کاٹا جائے جیساکہ اوپر سورہ انعام کی آیت گزری ہے یعنی ایک سال گزرنا شرط نہیں ہے۔ اس لئے جب کوئی گندم، جو،چاول، دال، کشمش، کھجور وغیرہ کی فصل کاٹے اور ان کی مقدار سات سو پچاس کلوگرام کے برابر ہوجائے تو اس کی زکوۃ ادا کرے ۔ ان اشیاء میں دوطرح سے زکوۃ ادا کی جائے گی ۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے:
عن رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلم : أنه سنَّ فيما سقتِ السماءُ والعيونُ أو كان عثرِيًّا العشرُ وفيما سُقيَ بالنضحِ : نصفُ العشرِ .(صحيح الترمذي:640)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے یہ طریقہ جاری فرمایاکہ جسے بارش یاچشمے کے پانی نے سیراب کیا ہو، یا عثر ی یعنی رطوبت والی زمین ہوجسے پانی دینے کی ضرورت نہ پڑتی ہوتو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اورجسے ڈول سے سیراب کیا جاتا ہواس میں دسویں کاآدھایعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔
پہلا طریقہ : جو زمیں آسمانی بارش یا نہروتالاب کے پانی سے سیراب کی جائے یا اس میں پانی کی ضرورت ہی نہ پڑے تو اس زمین سے حاصل شدہ پیداوار پہ دسواں حصہ زکوۃ دینی ہوگی یعنی دس حصے میں سے ایک حصہ یا کہہ لیں کل پیداوارکا دس فیصد ۔
دوسرا طریقہ : جو زمین بورنگ،کنواں اور نل وغیرہ سے آبپاشی کی گئی ہو اس کی پیدوار میں بیسواں حصہ یعنی پانچ فیصد زکوۃ دینی ہوگی۔
زکوۃ ادا کرتے وقت پیداوار پہ سیرابی کے علاوہ دیگر مصروفات کا اعتبار نہیں ہوگا بالفاظ دیگر زمین کی جتائی ، کھاد، دیکھ ریکھ ، کٹائی اور مزدوری وغیرہ پہ صرف کئے پیسے کی وجہ سے عشر یا نصف عشر پر فرق نہیں آئے گا اور نہ ہی زکوۃ دیتے وقت یہ اخراجات نکال کر زکوۃ دی جائے گی ۔
بٹائی، ٹھیکہ، بھرنا اور کھیتی کا مشروط طریقہ
سماج میں کھیتی باڑی کے متعدد طریقے رائج ہیں ،ہمیں ان کی شرعی حیثیت جاننے کی ضرورت ہے تاکہ غیرشرعی طریقےسے بچا جاسکے ۔
ایک مسئلہ بٹائی کا ہے یعنی ایک شخص زمین دے اور دوسرا کھیتی کرے اور پیداوار آپس میں برابر برابر بانٹ لے۔ یہ معاملہ زمین بٹائی پر دینے کاہے،اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، نبیﷺ نے خیبر کی زمین بٹائی پہ لگائی تھی ، اس کی پیداوار کا آدھا حصہ مسلمانوں کو ملتا تھا۔ بٹائی میں لگانی اور پیداوار کا معاملہ طے ہونا چاہئے یعنی کاشت کاری پہ ہونے والے اخراجات کا معاملہ طے اور واضح ہو،نفع میں دونوں طے شدہ مقدار میں شریک ہوں گے اور نقصان کی صورت میں بھی دونوں شریک ہوں گے۔ جب پیداوار تقسیم ہوجائے اور کاشت کار وزمین مالک کی پیداوار نصاب تک پہنچ جائے تو دونوں اس کی زکوۃ ادا کریں گے۔ نصاب تک نہیں پہنچے تو زکوۃ نہیں ہے ۔
دوسرا مسئلہ بھرنا کا ہے اس کی شکل یہ ہے کہ قرض حاصل کرنے کے لئے زمین گروی رکھی جاتی ہے اورجب تک قرض نہیں لوٹایا جاتا تب تک مرتہن زمین میں کاشت کرتا ہے یا اس سے دوسرا فائدہ اٹھاتا ہے ۔ یہ معاملہ شرعا جائز نہیں ہے ۔جب کوئی قرض حاصل کرے اور قرض کے بدلے کوئی چیز بطور ضمانت گروی رکھ دے ، اس حد تک معاملہ جائز ہے مگر جو چیز بطور ضمانت رہن رکھی گئی ہے اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے جبکہ یہاں بھرنا میں زمین سے فائدہ اٹھا یا جارہاہے،اگرچہ قرض دار کی طرف سےزمین سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہو پھر بھی جائز نہیں ہے کیونکہ قرض کی مہلت کے بدلے یہاں فائدہ اٹھایا جارہا ہے جو کہ سود کی شکل ہے۔ اس گروی رکھی زمین سے فائدہ اٹھانے کی جائز شکل موجود ہے کیوں نہ ہم جائز طریقے سے فائدہ اٹھائیں ۔ قرض لینے والا مرتہن سےمزارعت (بٹائی) کا معاملہ طے کرلے اور اس کی پیداوار سے اپنا حصہ لیا کرے یا اپنا حصہ چھوڑ کر اتنا قرض میں کم کروالے۔ اسی طرح زمین کرائے پر بھی دے سکتے ہیں جس طرح مکان یا تجارتی زمین کرائے پر لگائی جاتی ہے۔ ان دو صورتوںمیں قرض دار اور قرض خواہ دونوں جائز طریقے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ زمین کرایہ پر دینے کی صورت میں اس کا عشر یا نصف عشر کاشت کار پر ہوگا۔شیخ ابن بازؒ لکھتے ہیں : زمین سے اگنے والے دانوں اور پھلوں کی زکوۃ کاشت کار پر واجب ہے اگرچہ زمین اجرت پر لی گئی ہو اور جس شخص نے زمین اجرت پر دی اور اس کی بطور اجرت لی ہوئی رقم اگر نصاب کو پہنچ گئی اور ٹھیکہ کی تاریخ کے اعتبار سے اس پر سال گزر گیا تو اس پر اس رقم کے اعتبار سے زکوۃ دینا واجب ہے۔ (دائمی کمیٹی فتوی : 9388)
تیسرا معاملہ بعض علاقوں میں "من کھپ" کاہے یعنی زمین والا دوسرے شخص کو اس شرط پہ کھیتی کے لئے زمین دے کہ فی کٹھہ (720 یا 1361 اسکوائرفٹ)ایک مَن اناج دے گا۔
یہ معاملہ مشروط طریقے سے زمین بٹائی پر دینے کا ہے ، اس میں شرعی طور پرقباحت ہے ۔ جب زمین والا فی کٹھہ ایک من اناج طے کرلیتا ہے تو نقصان کی صورت میں صرف عامل کو خسارہ ہوگا ۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ آسمانی آفات کی وجہ سے مکمل فصل برباد ہوجائے ایسی صورت میں عامل کا اپنا جو نقصان ہوا ، ہوا ہی، زمیندار کو فی کٹھہ اناج اپنے گھر سے دینا پڑے گا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی خود نقصان اٹھاؤ۔
زکوۃ اداکئے گئے اناج اور پھل کی قیمت پر زکوۃ
بہت سے کاشت کاراپنی پیداوار بیج دیا کرتےہیں ، ایسی صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اس نے عشر یا نصف عشر جو ادا کیا تھا وہی کافی ہے یا بیچنے کے بعد اس کی قیمت پر پھر سے زکوۃ دینی ہوگی؟
اس کا جواب جاننے سے پہلے ایک بات یہ جان لی جائے کی کہ زکوۃ نفس مال میں سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس قیمت اور یا اس کے مشابہ کوئی دوسری چیز بھی دے سکتے ہیں ، یہ زکوۃ کی تمام اقسام میں جائز ہےمثلا سونے کی زکوۃ دیتے وقت سونا ہی بطور زکوۃ دینا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی قیمت دینا کافی اور جائز ہے۔
اب سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی نے غلہ /پھل سے اس کی کٹائی کے بعد زکوۃ ادا کردیا پھر جو غلہ /پھل بچا اسے بازار میں بیچ دیا ۔ بیچنے کے بعد جو قیمت ہاتھ آئی وہ سونا اور چاندی کے قبیل سے ہے۔اس پر بھی زکوۃ ہے مگر دو شرطوں کے ساتھ یہ قیمت سونا یا چاندی کے نصاب تک پہنچتی ہو اور اس پر ایک سال کا وقفہ گزرجائے جبکہ غلہ اور پھل کی صورت میں محض ایک بار شروع میں زکوۃ دینی ہوتی ہے بعد میں وہ سالوں پڑا رہے اس کی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
میوے اور سبزیوں کی تجارت پر زکوۃ
اوپر ہم جان چکے ہیں کہ کسی قسم کے میوے اور کسی قسم کی سبزی پر زکوۃ نہیں ہے ، ہاں اگر کوئی سبزیوں اورمیوے کی تجارت کرتا ہے مثلا ساگ، آلو،پیاز، ٹماٹر، سیب، انار،جانوروں کا چارہ وغیرہ تجارت کی غرض سے کاشت کرتا ہے تو ان کی اشیاء میں زکوۃ نہیں ہے مگر ان کی تجارت سے جو مال حاصل ہوگا اس پر زکوۃ ہوگی بشرطیکہ مال نصاب تک پہنچتا ہو اور ایک سال گزرجائے۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, September 6, 2017

صدقہ کے پیسے سے مسجد تعمیر کرنا

صدقہ کے پیسے سے مسجد تعمیر کرنا

اکثر علماء کا اس بات پہ اتفاق ہے کہ زکوۃ کے مال سے مسجد کی تعمیر نہیں کی جاسکتی ہےان میں ائمہ اربعہ بھی شامل ہیں مگر نفلی صدقات(زکوۃ کے علاوہ ) کا پیسہ مسجد کی تعمیر یا اس کے دوسرے مصارف میں لگاسکتے ہیں ۔ چونکہ زکوۃ کے آٹھ مصارف متعین ہیں ، مال زکوۃ ان کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں نہیں لگایا جاسکتا ہے جبکہ صدقہ کا مصرف خاص نہیں ہے اس لئے یہ مال فقراء ومساکین سے لیکر اللہ کے تمام راستے میں خرچ کرسکتے ہیں۔ جب آدمی اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہے تو یہ صدقہ کے ہی زمرے میں آتا ہےبلکہ ہر قسم کی بھلائی کو صدقہ کہا گیا ہے ۔متفق علیہ روایت میں نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كلُّ مَعروفٍ صَدَقةٌ(صحيح البخاري:6021,صحيح مسلم:1005)
ترجمہ: ہربھلائی کاکام صدقہ ہے۔
 کچھ صدقات کا ثواب صدقہ کرتے وقت ہی مل جاتا ہے اور کچھ صدقات کا ثواب مرنےکے بعد بھی ملتا رہتا ہے جیساکہ مسلم شریف میں نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إذا مات الإنسانُ انقطع عنه عملُه إلا من ثلاثةٍ : إلا من صدقةٍ جاريةٍ . أو علمٍ ينتفعُ به . أو ولدٍ صالحٍ يدعو له(صحيح مسلم:1631)
ترجمہ: جب انسان مرجاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے ، سوائے تین چیزوں کے :صدقہ جاریہ یا وہ علم جس کے ذریعے فائدہ حاصل ہو یا اس کے لئے دعا کر نے والا نیک لڑکا۔
اس حدیث کی رو سے مسجد میں نفلی صدعات لگانا صدقہ جاریہ ہوگا یعنی ایسا صدقہ جس کا ثواب مرنے کے بعد تک ملتا رہے گا۔ جس طرح ایک زندہ آدمی اپنی طرف سے صدقات کرسکتا ہے اسی طرح میت کی طرف سے بھی مالی صدقہ کرسکتا ہے خواہ تعمیر مساجدومدارس ہو یا فقراء ومساکین پر صرف کرنا ہو۔ اس کا ثواب میت کو پہنچے گا۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمدسلفی

مکمل تحریر >>