Sunday, July 21, 2024

میت کو غسل دینے کا اجر

 
میت کو غسل دینے کا اجر

تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر- سعودی

ایک حدیث میں میت کو غسل دینے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
من غسَّل ميتًا فكتم عليه غفر اللهُ له أربعين مرةً ، ومن كفَّن ميتًا كساه اللهُ من سُندسٍ واستبرقٍ في الجنَّةِ ، ومن حفر لميت قبرًا فأجنَّه فيه أجرى اللهُ له من الأجرِ كأجرِ مَسكنٍ أسكنَه إلى يومِ القيامةِ (المستدرك على الصحيحين:1358)
ترجمہ:جو آدمی کسی میت کو غسل دے پھر اس پر پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی چالیس مرتبہ اس کی مغفرت کرتا ہے۔اور جو شخص میت کو کفن پہنائے اسے اللہ تعالی جنت میں باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنائے گا۔اور جو آدمی میت کیلئے قبر کھودے پھر اسے اس میں چھپا دے تو اللہ تعالی اس کیلئے اُس آدمی کے اجر کی طرح اجر جاری کردیتا ہے جو ایک گھر بنائے اور قیامت تک کیلئے اسے کسی کو رہائش کیلئے دے دے۔
٭شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔( صحيح الترغيب:3492)
اس حدیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی میت کے لئے مذکورہ اعمال میں سے کوئی عمل انجام دے سکتا ہو اسے انجام دینا چاہئے اس میں اس کے لئے اجر و ثواب  اور خصوصیت ہے مثلا میت کو غسل دے یا میت کو کفن پہنائے یا میت کے لئے قبر کھودے ۔ ان تینوں اعمال کی الگ الگ خصوصیت بیان کی گئی ہے۔
میت کو غسل دینے کی فضیلت سے متعلق مندرجہ ذیل روایات ثابت نہیں ہیں یعنی یہ ضعیف ہیں۔
(1)علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ(ابن ماجہ:1462)
ترجمہ:جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا۔
٭اس حدیث کو شیخ البانی نے بہت ہی ضعیف کہا ہے۔(ضعيف ابن ماجه:280)
(2)مَنْ غسَّلَ ميِّتًا فكتَمَ عليه ، غَفرَ اللهُ لهُ أربعينَ كبِيرةً ، ومَنْ حفَرَ لأخِيهِ قبْرًا حتى يَجُنَّهُ ، فكأنَّما أسكَنَهُ مسْكَنًا حتى يُبعَثَ(ضعيف الترغيب:2049)
ترجمہ:جو آدمی کسی میت کو غسل دے پھر اس پر پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اس کے چالیس کبیرہ گناہ معاف کرتا ہے اور جو آدمی میت کیلئے قبر کھودے پھر اسے اس میں چھپا دے گویا کہ اس نے قیامت تک کے لئے رہائش دیدی۔
(3)من غسَّل ميتًا فكتم عليه ، طهَّره اللهُ من ذنوبِه ، فإن كفَّنه ، كساه اللهُ من السُّندُسِ(ضعيف الترغيب:2051)
ترجمہ:جو آدمی کسی میت کو غسل دے پھر اس پر پردہ پوشی کرے تو اللہ اس کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے ، اور اگر میت کو کفن دینا ہے تو اللہ تعالی اس کو سندس کا لباس پہنائے گا۔

مکمل تحریر >>

Sunday, October 9, 2022

جنازہ سے متعلق سوالات کے جوابات

 جنازہ سے متعلق سوالات کے جوابات

سوال(1):مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ فام عورت کی وفات کے بارے میں سنا تو کہا مجھے اس کی قبر بتاؤ اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کی تو کیا مغفرت کے لیے قبر پر جانا ضروری ہے؟
جواب: سوال میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے پہلے اس واقعہ کو حدیث سے دیکھ لیتے ہیں تاکہ جواب کو سمجھا جاسکے ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أنَّ أسْوَدَ رَجُلًا - أوِ امْرَأَةً - كانَ يَكونُ في المَسْجِدِ يَقُمُّ المَسْجِدَ، فَمَاتَ ولَمْ يَعْلَمُ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ بمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَومٍ فَقَالَ: ما فَعَلَ ذلكَ الإنْسَانُ؟ قالوا: مَاتَ يا رَسولَ اللَّهِ، قَالَ : أفلا آذَنْتُمُونِي؟ فَقالوا: إنَّه كانَ كَذَا وكَذَا - قِصَّتُهُ - قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ، قَالَ: فَدُلُّونِي علَى قَبْرِهِ فأتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عليه(صحيح البخاري:1337)
ترجمہ: کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں‘ ان کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ان کا تو انتقال ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتا دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔
بخاری کی اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ جنازہ کی نماز کے پڑھنے کے لئے قبرستان گئے ، نہ کہ صرف مغفرت طلب کرنے کے لئے۔ معلوم ہوا کہ اگر کسی نے میت کی نماز جنازہ نہ پڑھی ہو اور میت دفن کردیا گیا ہو تووہ میت کی قبر پر جاکر نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے۔ رہا مسئلہ میت کے استغفار کا تو وہ کہیں سے بھی اس کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرسکتے ہیں اور قبرستان کی زیارت کرنا مسنون ہے اس لئے کوئی قبرستان کی زیارت کرے تو وہاں بھی میت کی مغفرت طلب کرے، ویسے قبرستان میں داخل ہونے کی دعا میں بھی میت کے لئے دعا ہے تاہم مزید دعائیں بھی کرسکتے ہیں ۔
سوال(2):بعض لوگ کہتے ہیں کہ دفن کرنے کے بعد اولاد کو کچھ دیر ٹھہر کر قبر پر دعا کرنی چاہیے اگر یہ مسنون عمل ہے تو اس کی کوئی دلیل ہو تو بتا دیں؟
جواب: یہ بات بالکل صحیح ہے کہ میت کی تدفین کے بعد کچھ دیر وہاں رک کر لوگوں کو میت کی مغفرت کے لئے دعا کرنا چاہئے،کیونکہ وہ فرشتوں کے آنے اور میت سے سوال کئے جانے کا وقت ہوتا ہے۔اوردعا صرف میت کی اولاد ہی نہیں بلکہ دفن میں شریک سب  مسلمانوں کو کرنا چاہئے ۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كانَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ ، إذا فرغَ مِن دفنِ الميِّتِ وقفَ علَيهِ ، فقالَ : استغفِروا لأخيكُم ، وسَلوا لَهُ التَّثبيتَ ، فإنَّهُ الآنَ يُسأَلُ(صحيح أبي داود:3221)
ترجمہ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے:اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو، اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا۔
یاد رہے یہاں پر دعا انفرادی کی جائے گی ، اجتماعی شکل میں دعا کا ثبوت نہیں ملتا ہےاور دعا کے لئے ہاتھ بھی اٹھا سکتے ہیں ۔دعا کے وقت قبلہ رخ ہوجائیں تو اور بھی بہتر ہے مگر ضروری نہیں ہے۔
سوال(3):جسمانی اعضاء کسی کی جان بچانے کے لئے زندگی میں دئے جاسکتے ہیں یا وقف کیے جا سکتے ہیں؟
جواب:زندگی میں اعضائے بدن مثلا خون، آنکھ ، گردہ وغیرہ کا عطیہ کیا جاسکتا ہے ، اس کے چند احکام مندرجہ ذیل ہیں ۔
٭ایسے عضو کا عطیہ کیا جائے گاجس سے فائدہ زیادہ اور نقصان کم اور قابل تلافی ہو۔
٭ ایسے اعضاء کی منتقلی حرام ہے، جن پر زندگی کا دارو مدار ہے، مثلاً: زندہ انسان کے دل کو کسی دوسرے انسان کے جسم میں منتقل کرنا۔
٭ایسا عضو بھی منتقل کرنا حرام ہے جس سے جسم کا ایک جزء یا ساری زندگی ہی معطل ہوجائے ۔
٭ میت کی اجازت سے وفات کے بعد اس کے جسم سے عضو لیا جاسکتا ہے ۔
٭ بیماری کے سبب کسی عضو کو ہٹا دینے پر اسے دوسرے کو فائدہ اٹھانے کے لئے دیا جاسکتا ہے ۔
جسم کا کوئی عضو بیچنا جائز نہیں ہے لیکن اس کا عطیہ کرنا بیچنے کے مترادف نہیں اور نہ ہی تکریم انسانی کے خلاف ہے بلکہ یہ تو دوسرے ضرورت مند مسلمان بھائی کی تکریم و تعاون ہے ۔(ماخوذ از مقبول احمد سلفی مضامین)
سوال(4):اب ہم تین چادر والا کفن متعارف کروا رہے ہیں لوگ پانچ کپڑوں والے کفن کی حیثیت پوچھتے ہیں اس کو کیا قرار دیا جائے مسنون یا غیر مسنون؟
جواب:عورت کو بھی مردوں کی طرح تین چادروں میں دفن کیا جائے گا ، عورت ومرد کے کفن میں فرق کرنے کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ ابوداؤد میں پانچ کپڑوں سے متعلق ایک روایت ہے جسے لیلیٰ بنت قائف ثقفیہ بیان کرتی ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کی بیٹی ام کلثوم کو غسل دیا تھا۔ اس روایت کو شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ ضعیف قرار دیتے ہیں اور شیخ البانی نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ دیکھیں : (ضعيف أبي داود:3157)
اس لئے شیخ البانی نے احکام الجنائز میں عورت ومردکے لئے یکسان کفن بتلایا ہے اور کہا کہ فرق کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ شرح ممتع میں ذکر کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کی طرح کفن دیا جائے گا یعنی تین کپڑوں میں ، ایک کو دوسرے پر لپیٹ دیا جائے گا۔(ماخوذ :جنازہ کے مسائل از مقبول احمد سلف)
سوال(5):کیا یہ درست ہے کہ میت کے بال یا ناخن نہیں اتارے جائیں گے اور نیل پالش وضو سے پہلے اتاری جائے گی؟
جواب:اہل علم کی رائے ملتی ہیں کہ مونچھ(دوسرے بال نہیں) یا ناخن زیادہ بڑے ہوں تو کاٹ سکتے ہیں ، اگر نہ کاٹا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم نہیں ہے اور اصلا یہ آدمی کی  زندگی سے متعلق معاملہ ہے جبکہ اب وہ فوت ہوچکا ہے ۔
عورت کے ناخن پر نیل پالش لگی ہو تو وضو اور غسل سے قبل اسے اتاردی جائے تاکہ پانی جلد تک پہنچ سکے اور مکمل وضو وغسل ہوسکے۔
سوال(6)کیا وینٹی لیٹر پر سالہا سال رکھا جا سکتا ہے؟
جواب: یہ سوال غالبا زندہ بیمار کی طرف سے ہے کہ اسے کب تک وینٹی لیٹر پر رکھا جاسکتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیمار کے تعلق سے ڈاکٹر جو مشورہ دے اس پر عمل کیا جائے گا۔ جو بیمار ڈاکٹر کے نزدیک وینٹی لیٹر کا مستحق ہو اسے وینٹی لیٹر پر رکھنے میں شرعا کوئی مسئلہ نہیں ہے، چاہے جتنے سال ہوجائے، اصل یہ ہے کہ بیمار کے حق میں ماہرڈاکٹر کے مشورہ پر عمل کیا جائے گا۔
سوال(7):پوسٹ مارٹم کرانا کہاں تک درست ہے؟
جواب: لاش کی بے حرمتی کرنےاور اسے چیرپھاڑ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے مگر کبھی ضرورت کے تحت بعض میت کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے جس میں اس کےجسم کوچیرا جاتا ہے ۔طبی ضرورت مثلا قتل کی وجہ پتہ لگانےیا وبائی مرض کی تحقیق کرنے کی غرض سے جسم کو چیرا جاسکتا ہے ۔ عورت کی لاش کو لیڈی ڈاکٹر چیرپھاڑ کرے ، عورت کی عدم موجودگی میں مرد بھی کرسکتا ہے ۔ تجربہ کی غرض سے مسلم لاش کا پوسٹ مارٹم جائز نہیں ہے لیکن غیر معصوم مرد (ماسوا عورت)مثلا کافر،مرتد ،حربی کی لاش پہ تجربہ کر سکتے ہیں۔(جنازہ کے احکام ومسائل از مقبول احمد سلفی)
سوال(8):سونے کا دانت اگر آسانی سے نکل آئے تو نکالا جا سکتا ہے؟
جواب:میت نے زندگی میں سونے کا دانت لگوایا تھا تو وفات کے بعد اسے نکال لیا جائے گا کیونکہ یہ مال ہے اورچھوڑدینے میں مال کا ضیاع ہےالبتہ سونے کا مصنوعی دانت نکالنے میں اگر زیادہ مقشت ہو تو چھوڑ دیا جائے گا۔
سوال(9):حدیث کے مطابق عورت کا عورت سے ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے نہلانے والی اگر صرف عورتیں ہوں تو صرف ستر والا حصہ ڈھانپ کر غسل دیا جا سکتا ہے؟
جواب:ایک عورت کے لئے دوسری عورت کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے لہذا میتہ کو غسل دیتے ہوئے اس کا واجبی ستر ڈھک کر غسل دیا جائے گا۔ پہلے پیٹ دبا کر فضلات نکلے تو صاف کردئے جائیں پھر میت کووضو کراکر تین بار یا حسب ضرورت غسل دیا جائے جس سے پورا بدن پاک و صاف ہوجائے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر- حی السلامہ ، سعودی عرب

جنازہ کے متعلق گزشتہ جوابات پر چند مزید استفسار

سوال(1):قبرستان میں نمازقبر کے پاس ہی پڑھی جاتی ہے؟
جواب: جس نے میت کی نماز جنازہ نہ پڑھی ہو وہ قبر کے پاس ہی قبلہ رخ ہوکر نماز جنازہ ادا کرسکتا ہے۔
سوال(2):اکثر گھرانوں میں میت سامنے رکھی ہوتی ہے یا نماز جنازہ کے لیے جب لے جاتے ہیں تو گھر میں خواتین اجتماعی دعا کرتی ہیں یا کسی دینی خاتون سے دعا کروانے کو کہا جاتا ہے تو یہ بات آپ نے پہلے بھی بتائی تھی کہ سنت سے ثابت نہیں لیکن اگر دعا کروانے سے لواحقین کو سکون ملتا ہو تو کیا ان کے پاس بیٹھ کردعا نہیں کہلوا یا کرواسکتے۔
اسی طرح میت والے گھر میں درس و تدریس کا اہتمام کرنے کے حوالے سے پوچھنا تھا کہ تعزیت کے لئے آنے والوں کا اس وقت دل نرم ہوتا ہے اور فکر آخرت کے موضوع سے متعلق مختصر بات کرنے کے لیے بھی یہ موقع اچھا ہوتا ہے۔اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے ورنہ لوگوں کی اکثریت دین کے علم سے بابلد ہےتو اس کا شرعا کیا حکم ہے ؟اور کیا اس کے لیے یہ دلیل صحیح ہے جو برا ءبن عازب سے مروی حدیث کہ آپ ﷺ نے ایک قبر کی کھدائی کے موقع پر وعظ و نصیحت کی ۔برائے مہربانی وضاحت کردیں۔
جواب: جنازہ کے احکام ومسائل پر مستقل میری کتاب ہے، اس میں ذکر کیا ہوں کہ آج کل بعض مقامات پر دفن کے بعدقبرستان میں خطیب کی طرح لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے اور اسے جنازے کا حصہ سمجھا جاتا ہے جوکہ واضح بدعت کی شکل ہے، ایسا کرنا رسول اللہ کی سنت سے ثابت نہیں ہے۔کبھی کبھار قبرکے پاس بیٹھے نبی ﷺ سے صحابہ کے ساتھ تذکیر کا ثبوت ملتا ہے۔ چند حضرات قبرستان میں اتفاقیہ بیٹھے ہوں اور آپس میں تذکیر کرے تو کوئی حرج نہیں مگر لوگوں میں ایک واعظ ہو جو بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر سب کو وعظ کرے سنت کی مخالفت ہے ۔ دفن کے وقت جلدی سے تدفین کا کام مکمل کرنا چاہئے اور انفرادی طور پر میت کے لئے استغفار اور ثبات قدمی کی دعاکرنی چاہئے ۔
اپنی آنکھوں سے جنازہ دیکھنا بذات خود عبرت ہے، میت کو غسل دینا، جنازہ لے کر چلنا، نماز جنازہ پڑھنا، قبرستان جانا، میت کو دفن کرنا ، یہ سارے اعمال عبرت و نصیحت والے ہیں ، عبرت کے لئے یہی  اعمال کافی ہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے عبرت حاصل کرنے کے لئے قبرستان کی زیارت کا حکم دیا ہے لہذا دین پر اسی شکل میں عمل کیا جائے جس کا ثبوت عہد رسول میں وفات کے تعلق سے ملتاہے، وہ لوگ نصیحت و خیرخواہی کے کاموں میں ہم سے آگے اور سبقت لے جانے والے تھے ۔
لوگ میت کے گھر تعزیت کے لئے آسکتے ہیں، وہ آئیں ، میت کو انفرادی دعا دیں ، اجتماعی شکل نہ ہو اور تعزیت کرکے کچھ دیر میں چلے جائیں، جمع نہ رہیں۔ یاد رہےوہاں اجتماع کرنا یا کھانے کا پروگرام بنانا اور اجتماع میں وعظ و نصیحت کا پروگرام رکھنا دین میں نئی ایجاد ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے دھیرے دھیرے اس عمل کو تعزیت کا حصہ بنا لیا ہے اسی سے دین کا نقصان ہوتا ہے اور اس راستے مختلف قسم کی بدعات دین میں داخل ہوتی ہیں۔
سوال(3):میت کی ثابت قدمی کے لئےکوئی مسنون دعا ہے یا"اللھم ثبتہ علی سوال منکر ونکیر"پڑھنا صحیح ہے؟
جواب: دعا اللہ سے مانگ اور طلب کا نام ہے ، ہم تدفین کے بعد کچھ دیر قبر کے پاس کھڑے ہوکر اس کی ثبات قدمی ، مغفرت اور بلندی درجات کی اپنی زبان میں دعا کریں  یا رحمت و مغفرت سے متعلق عام ماثورہ دعائیں ہیں وہ پڑھیں اور چاہیں تو یہ دعا بھی اضافہ کرلیں جیساکہ صحیح بخاری(4699)سے اشارہ ملتا ہے :اللَّهُمَّ ثَبِّتْه بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ(اےاللہ!دنیا و آخرت میں میت کو پکی بات پر ثابت قدم رکھ)۔
سوال میں جو عربی عبارت ہے اس معنی کی دعا اپنی زبان میں کرلیں مثلا اے اللہ !فرشتوں کے سوال کے وقت میت کو ثابت قدمی عطا فرما، سوال کے وقت امن وراحت اور کامیابی دے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال(4):سوال نمبر تین کے جواب میں آپ نے بتایا کہ جسمانی اعضا کو بیچا نہیں جا سکتالیکن کچھ لوگ زندگی میں اپنے جسم کا کوئی عضو مثلا گردہ وغیرہ بیچتے ہیں کیونکہ وہ بہت مجبور ہوتے ان کے گھر بہت تنگ دستی ہوتی ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟
جواب:انسان کے ساتھ خواہ کتنی بھی مجبوری درپیش ہوجائے وہ اپنے جسم کا کوئی حصہ بیچ نہیں سکتا ہے کیونکہ یہ جسم اللہ کی ملکیت ہے اور انسان صرف اپنی ملکیت کی چیز ہی بیچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ عمل انسانی احترام و تکریم کے خلاف ہے کہ اس کے بدن کا کوئی حصہ بیچا جائے۔
ضرورت مندوں کے لئے اسلام نے متعدد راستے بتاتے ہیں، وقتی ضرورت مندہوں تو قرض حسنہ لے لیں یا دائمی ضرورت مندہوں، کام کاج کرنے کی طاقت نہ ہوتو زکوۃ وصدقات استعمال کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں فقر وفاقہ سے بچائے۔
سوال(5):نو نمبرمیں آپ نے غسل میتہ کے موقع پر بتایا کہ عورت کا واجبی ستر ڈھانپا جائےتو کیا اس کے سینے وغیرہ کو نہیں ڈھانپا جائیگا ؟ہم تو سینہ سے پیر تک میت کو ڈھانپ کر غسل دیتے ہیں تاکہ نظر نہ پڑے۔
جواب: اس سوال کا جواب جاننے کے لئے پہلے ایک صحیح حدیث دیکھیں۔
عن عائشةَ ، قالَت : لمَّا أرادوا غسلَ النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ قالوا : واللَّهِ ما ندري أنُجرِّدُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ من ثيابِهِ كما نجرِّدُ مَوتانا ، أم نَغسلُهُ وعلَيهِ ثيابُهُ ؟ فلمَّا اختَلفوا ألقى اللَّهُ عليهمُ النَّومَ حتَّى ما منهم رجلٌ إلَّا وذقنُهُ في صَدرِهِ ، ثمَّ كلَّمَهُم مُكَلِّمٌ من ناحيةِ البيتِ لا يَدرونَ من هوَ : أن اغسِلوا النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ وعلَيهِ ثيابُهُ ، فقاموا إلى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ فغسَلوهُ وعلَيهِ قميصُهُ ، يصبُّونَ الماءَ فوقَ القميصِ ويدلِّكونَهُ بالقَميصِ دونَ أيديهم ، وَكانت عائشةُ تقولُ : لو استَقبلتُ من أمري ما استدبرتُ ، ما غسَلَهُ إلَّا نساؤُهُ( صحيح أبي داود:3141)
ترجمہ: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے:قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، (یہ سن کر) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
اس حدیث کو بیان کرنے والی راویہ (عورت) سیدہ عائشہ فرماتی ہیں "نجرِّدُ مَوتانا"ہم غسل کے لئے اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے تھے۔ عورت کا اس طرح بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ میت عورت ہو یا مرد غسل کے وقت اس کے کپڑے اتار سکتے ہیں تاکہ اچھے سے میت کو غسل دے سکیں البتہ جو ستر ناف سے گھنٹے تک کا حصہ ہے وہ چھپا ہوگا۔
آپ لوگ اگر عورت کو نہلاتے وقت سینہ بھی ڈھک کر رکھتے ہیں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، رسول اللہ ﷺکو کپڑوں سمیت غسل دیا گیا ہے تاہم کوئی میتہ کا کپڑا اتارکر ستر ڈھک کر غسل کرائے تو اس میں بھی کئی حرج نہیں ہے کیونکہ ایک عورت کے لئے دوسری عورت کا ستر ناف سے گھنٹے کے درمیان ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ
10۔10۔2022

مکمل تحریر >>

Wednesday, September 21, 2022

جنازہ سے متعلق ایک بہن کے تین سوالات

جنازہ سے متعلق ایک بہن کے تین سوالات
جواب از مقبول احمد سلفی
 دعوہ سنٹر جدہ
 
پہلا سوال : میت کو غسل سے پہلے اس کا سر یا پیر قبلہ کی طرف کیا جائے گا؟
جواب: جب کسی آدمی پر عالم نزاع طاری ہوجائے یعنی موت کے وقت یا کسی کی وفات ہوجائے تو میت کو قبلہ کی جانب دائیں پہلو پر لٹایا جائے یا چت ہی لٹادیں اس طور پر کہ دونوں پیر کعبہ کی طرف ہوں۔
حنفی مسلک میں بھی یہی بتایا گیا ہے ، اس مسئلہ سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ لوگوں کے لئے قبلہ رخ پیر کرکے سونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ عالم نزاع یا وفات کے بعد میت کا چہرہ قبلہ رخ کرنا کوئی واجبی حکم نہیں ہے، نہ ہی اس بارے میں کوئی مرفوع روایت ملتی ہے ،البتہ آثار ملتے ہیں اوریہ استحبابی حکم ہے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اور غسل میت کے وقت جس جانب غسل کرانا آسان ہو اسی جانب میت کو غسل دیاجائے ۔
دوسرا سوال: میت کو لے جاتے وقت اس کا سر قبلہ کی طرف ہوگا یا پیر؟
جواب: میت کو جنازہ اور دفن کے لئے لے جاتے وقت قبلہ رخ نہیں دیکھا جائے کیونکہ راستے سیدھے نہیں ہوتے ، اتنا ہی کافی ہے کہ میت کا سر آگے کی طرف ہو کیونکہ یہی انسان کا اگلا حصہ ہے اور پیر پیچھے کی طرف۔ جب جنازہ پڑھنے کے لئے رکھا جائے تو جس کیفیت میں دفن کرنا ہے اس کیفیت میں رکھا جائے یعنی چہرہ قبلہ رخ اس طور کہ سر شمال اور پیر جنوب کی طرف ہو اور امام نماز جنازہ کے لئے مرد میت کے سرہانے کھڑا ہو اور عورت میت ہو تو امام میت کے وسط میں کھڑا ہو۔
تیسرا سوال: میت کو اٹھانے بٹھانے میں دشواری ہوتی ہے تو اسے زمین پر ہی لٹا رہنا چاہئے یا چارپائی وغیرہ پر رکھ دینا چاہئے؟
جواب: عموما لوگ میت کا چہرہ دیکھنے آتے ہیں اس بنا پر میت کو چارپائی یعنی اونچی چیز پر رکھنے میں فائدہ ہے تاکہ آسانی سے لوگ دیکھ سکیں ، تاہم میت کو زمین پر ہی رہنے دیں یا چارپائی پر رکھیں ، ان دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب(21.09.2022)
مکمل تحریر >>

Sunday, June 14, 2020

موت: ایک بہترین واعظ وناصح



موت: ایک بہترین واعظ وناصح

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف -مسرہ

قرب قیامت کی ایک نشانی زمانے کی برق رفتاری اور اس کا ایک کٹورے میں اس طرح سمٹ جانا ہے کہ آن کی آن میں ایک کونے کی خبر دوسرے کونے میں پھیل جائے ۔ آج صورت حال ایسی ہی ہے کہ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والا کوئی حادثہ لمحہ بھر میں کرہ ارض پر منشر ہوجاتا ہے اور ہر چھوٹا بڑا اس سے پل بھر میں آگاہ ہوجاتا ہے ۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگانا کہ دنیا اپنی انتہا اور ہم قیامت سے بیحد قریب ہیں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے ۔
موت کا سلسلہ زندگی کی ابتداء اور کائنات کی تخلیق کے وقت سے جاری ہے ، ہر دور میں زندہ لوگوں نے اپنے وقت میں مرنے والوں کو دفن کیا ہے۔ یہ سلسلہ ابتدائے آفرینش سے  آج تک بدستور قائم ہے تاہم آج کی روایت میں ایک نئے باب کا بایں طور اضافہ ہوا کہ پہلے والے اپنے قرب وجوار کی موت سے ہی آگاہ ہوپاتے جبکہ آج کے دور والے دنیا بھر میں مرنے والوں سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور برق رفتار سواریوں سے دور دواز کی تدفین میں شامل بھی ہوجاتے ہیں ۔
کل اور آج کی موت میں ایک بڑا فرق یہ بھی نظر آتا ہے کہ گزشتہ زمانے والے ایک موت سے بھی کانپ جایا کرتے تھے جبکہ آج ہم سیکڑوں موت دیکھ کر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے ۔سوشل میڈیا پرلمحہ بہ لمحہ موت کی خبریں سنتے اور پڑھتےہیں،جابجا قتل وخون کے خوفناک مناظر دیکھتے ہیں ، زندگی کواکثرلہولہان اور موت کی ارزانی وفراوانی دیکھتے ہیں جس کی وجہ سےہمارے  دل سخت اور نصیحت قبول کرنے سے گریزاں ہیں ۔
موت ایک بہترین ناصح ہے اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس سے ہمارے اندر آخرت کی فکر پیدا ہو، دنیا کی رنگینی اور عیش وعشرت والی زندگی سے بے رغبتی پیدا ہواور دل میں نیک کاموں کا جذبہ اور برے کاموں سے بچنے کا داعیہ موجزن ہو۔ بغیر جنازہ کےبھی قبرستان کی زیارت اس لئے مشروع ہے تاکہ ہم نصیحت حاصل کریں اور موت سے پہلے آخرت میں نجات کا سامان مہیا کرلیں ۔ذرا ٹھہرکراور تدبر کے ساتھ قبرستان کی زیارت کی دعا پر غور کریں تو بند آنکھوں سے محسوس ہوگا کہ ان مردہ لوگوں میں ایک لاش ہم بھی ہیں ، ہم بھی ان لوگوں کی طرح ایک قبر میں اکیلے لیٹے ہیں ، منکرنکیر ہم سے بھی سوال کررہے ہیں، اس قبرکی تنہائی اور اس کے فتنے کا شکار ہم بھی ہوسکتے ہیں ۔
صحیح مسلم میں الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ تین طرح کی دعائیں وارد ہیں ۔
1-السَّلَامُ علَيْكُم أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ المُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وإنَّا، إنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ، أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ العَافِيَةَ{صحيح مسلم:975}
ترجمہ:سلام ہو تم پر اے صاحب گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں سے اور تحقیق ہم اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ ہم اپنے اور تمہارے لئےعافیت کی دعا مانگتے ہیں۔
2-السَّلَامُ علَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ المُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ المُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وإنَّا إنْ شَاءَ اللَّهُ بكُمْ لَلَاحِقُونَ{صحيح مسلم:974}
ترجمہ:سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلےدونوں پر رحم فرمائے،اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ہی والے ہیں۔
3-السَّلَامُ علَيْكُم دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ ما تُوعَدُونَ غَدًا، مُؤَجَّلُونَ، وإنَّا، إنْ شَاءَ اللَّهُ، بكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الغَرْقَدِ{صحيح مسلم:974}
ترجمہ:اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے!تم پر اللہ کی سلامتی ہو،کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا،وہ تم تک پہنچ گیا۔تم کو(قیامت) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی،اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں۔اے اللہ!بقیع غرقد(میں رہنے ) والوں کو بخش دے۔
ان دعاوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایک تعلیم یہ دی ہے کہ میت کے حق میں دعائے عافیت وسلامتی کی جائے اور دوسری بات یہ بتائی کہ ہم بھی تمہارے پاس جلد ہی اللہ کے حکم سے آنے والے ہیں ۔ کیا قبرستان کی زیارت کرتے اور یہ دعا پڑھتے ہوئے دنیا کی بے ثباتی، آخرت کی حقیقت اور موت کا یقینی آنا معلوم نہیں ہوتا ؟ کیا ہمیں نہیں لگتا ہے کہ بظاہر اس وقت ہم قبرستان میں کھڑے ہیں مگر ہماری حقیقت بھی ان مردوں کی سی ہے ؟
اس لئے کہتا ہوں کہ موت ایک بہترین واعظ اور عمدہ ناصح ہے ، یہ نہ لمبی چوڑی تقریر کرتی ہے اور نہ بڑی بڑی تحریروں سے نصیحت کرتی ہے بلکہ موت کے ایک منظر سے عبرت ونصیحت کی ہزار دستانیں بیان کرتی ہے ۔ موت کی خبرمیں، کفن اورجنازہ کے لبادہ میں ، دفن اور قبرکےمنظر میں سوسوپندونصائح ہیں ۔ ایک لفظ میں یوں سمجھیں کہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے ایک موت میں ہزار ہانصیحتیں پوشیدہ ہیں جبکہ ناقبت اندیش اور انجام سے بے پرواہ لوگوں کے لئے ہزار اموات بھی کوئی نصیحت آموز نہیں ۔
موت کے دامن میں اورمیت کے جنازہ میں سراپا نصیحت ہی نصیحت ہے ۔ ایک خوبصورت بدن، فولادی جسم وجان، شعاعوں اور کرنوں کو مٹھی میں قید کرنے والا انسان ، اپنی خوبیوں یا خامیوں سے دنیا میں اجالا یا اندھیرا بکھیرنے والا آدمی آج کس قدر بے حس وحرکت پڑا ہے ؟ اس کی حالت اس قدر نازک وسنگین کہ نہانے ، اٹھانے اور کفن ودفن کے لئے دوسروں کا سہارا چاہئے ۔ظلم کرنے والا کی خواہش تمام مگر اذیتناک سزائیں اس کی گھات میں ہیں جبکہ عدل واحسان کا پیکر انسانی اٹھ تو گیا مگر آخرت کی نعمتیں اس کے انتظار میں ہیں ۔ کتنے ایسے لوگ تھے جو اٹھتے بیٹھتے محفلوں میں ہوتے، مال وزر سے نہاتے اور لوگ جھک جھک کر آداب بجالاتے مگر جاتے ہوئے اکیلا ایسا فقیر بن گیا جس کے پاس نہ خود کا گھر، نہ لباس ، نہ دولت ، نہ حلقہ روابط و معاون ہیں جبکہ بہت سے بوسیدہ حالوں کے حق میں اس قدر دعائے رحمت ومغفرت کہ تنگ وتاریک قبر میں اخروی عیش وآرام سے مالامال ہے۔
اس لئے میرے مسلمان بھائیو!موت صرف کسی کے گزرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں ہمارے لئے صدہا وعظ ودرس پنہاں ہیں  اس سے ہم سبق حاصل کریں اور اپنے اندر فکر آخرت پیداکرتے ہوئے اخروی نجات کا سامان مہیا کریں ۔ نصیحت حاصل کرنے کے لئے نہ صرف دلوں کو نرم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ عبادت الہی کا خوگراور تقوی کا پیکر بننا پڑے گا۔ عبادت وفرائض میں کوتاہی برتنے والا اور منکرات پہ اللہ کا خوف نہ کھانے والا کبھی موت سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کا دل اس قابل ہوسکتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو بہاسکے ۔ اللہ تعالی ہمارے دلوں کو نرم کردےاورہمیں تقوی شعاری کی راہ پر چلنے والا بنادے ۔ آمین

مکمل تحریر >>

Sunday, November 24, 2019

مسجد کے لاؤداسپیکر سے میت کا اعلان کرنا


مسجد کے لاؤداسپیکر سے میت کا اعلان کرنا

تحریر:مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرشمالی طائف مسرہ

مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے میت کی خبردینے سے متعلق عوام میں تردد پایا جاتا ہے ، اس تردد کو دور کرنے کی غرض سے میں نے ایک حقیر سی کوشش کی ہے ،اللہ مجھے اس معاملے میں درست بات کی طرف رہنمائی فرمائے ۔ اللھم آمین
احادیث سے ایک طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت کی نعی(خبردینا ) ممنوع ہے تو دوسری طرف رسول اللہ ﷺ سے میت کی نعی(خبردینا) ثابت ہے ، چنانچہ اس قسم کی دونوں احادیث پر نظر ڈالتے ہیں ۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا :
إذا مِتُّ فلا تؤذِنوا بي أحدًا إنِّي أخافُ أن يَكونَ نعيًا إنِّي سمعتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ ينْهى عنِ النَّعيِ(صحيح الترمذي:986)
ترجمہ: جب میں مرجاؤں تو میرے مرنے کا اعلان مت کرنا ، مجھے ڈر ہے کہ یہ بات "نعی" ہوگی کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو" نعی "سے منع فرماتے سنا ہے۔
یہ ایک طرف کی حدیث ہے اور دوسری طرف کی حدیث ،عربی متن کے ساتھ بنظرغائرملاحظہ فرمائیں،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
نَعَى لنا رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ النَّجاشِيَّ صاحِبَ الحَبَشَةِ، يَومَ الذي ماتَ فِيهِ(صحيح البخاري:1327)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی ‘ اسی دن جس دن ان کا انتقال ہوا تھا۔
اسی طرح انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، نَعَى زَيْدًا، وجَعْفَرًا، وابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ، قَبْلَ أنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ(صحيح البخاري:3757)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔
بلکہ صحیح البخاري(458) اور صحیح مسلم (956) میں مذکور ہے کہ مسجد نبوی میں جھاڑودینے والی  عورت کی وفات پرآپ ﷺکو اس کی وفات کی خبر نہ دی گئی ،بعد میں آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: "أفلا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي به" یعنی تم لوگوں نے مجھے کیوں نہ (اس کی وفات کی)خبر دی ؟
آپ نے دونوں قسموں کی احادیث دیکھ لیں ، اب ان کی حقیقت پرغورفرمائیں۔یہاں ان دونوں میں ایک لفظ نعی وارد ہے جس کامعنی موت کی خبردینا ہوتا ہے ۔ ایک جگہ یہ منع کے قبیل سے ہے اور دوسری جگہ جواز کے قبیل سے ۔ یہیں سے یہ نقطہ سمجھ میں آرہا ہے کہ نعی کی متعدداقسام ہیں ،ان میں سے بعض نعی منع ہے اور بعض نعی جائز ہے ۔
ممنوع نعی وہ ہے جو جاہلیت کا طریقہ تھاکہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتاتو ایک آدمی کسی جانور پر سوار ہوکرگلی کوچوں میں گھوم گھوم کر اور چیخ چیخ کر اس کی موت کا اعلان اور تشہیر کرتا، نوحہ خوانی کرتا،میت کی خوبیاں اور اس کے فضائل ومناقب ذکرکرتا۔ جائز نعی فوتگی کا اعلان کرنا ہے تاکہ لوگ جنازہ میں شریک ہوسکیں ۔
لہذا جس اعلان میں میت کی تشہیرکرنا، میت کی بلند آواز سے چیخ چیخ کر گلی کوچوں میں گھوم کر خبر دینا، نوحہ خوانی کرنا،میت کی خوبیاں اور مفاخر ومناقب بیان کرناشامل ہو دراصل وہ اعلان ممنوع ہے البتہ جس اعلان سے مقصد محض میت کے جنازہ کی خبردینا ہو خواہ لاؤڈ اسپیکر سے ہی کیوں نہ ہو اس اعلان میں حرج نہیں ہے ۔
رہا مسئلہ مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے اعلان کرنے کا تو اس میں بھی کوئی مانع چیز نظر نہیں آتی ہے جب مقصد میت کے جنازہ اور اس کی تجہیزوتکفین کی خبر دینا ہو۔مسجد میں ممنوع چیزوں کے تعلق سے اسلام نے ہمیں رہنمائی کردی ہے کہ وہاں تجارتی اور دنیاوی باتیں کرنا، شوروغل مچانا، خریدوفروخت کرنا، گم شدہ چیزوں کا اعلان کرنا ،بلند آواز سے فضول باتیں کرنا ، بلامقصد شعرگوئی کرنا، مسجد میں دوڑ کرآنا، مصلی کو تکلیف دینا، لہسن پیاز کھاکر آنا،جنبی اور حائضہ کا ٹھہرنااورمسجد کو گزرگاہ وغیرہ بنانا منع ہے، گویا مسجد میں میت کے اعلان کی ممانعت وارد نہیں ہے اس وجہ سے مسجدمیں میت کا اعلان کرنا یا مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے میت اعلان کرنا جائز ہے۔ یہاں مزید ایک بات کی وضاحت ہوجائے کہ مسجدمیں بلاضرورت آواز بلندکرنا بھی منع ہے اور میت کی خبر کے لئے لاؤڈاسپیکر کا استعمال ضرورت کے تحت ہے اس وجہ سے اس کام میں حرج نہیں ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اچھے آدمی کی موت کی خبر مسجدمیں دینا جائز کہا ہے اور عام آدمی کے اعلان سے روکا ہے اور شیخ صالح فوزان نے بھی مسجد میں میت کا اعلان کرنے کو جائز کہا ہے۔
اسلام نے میت کےلئے یا موت کی خبرسننے پر دعاکرنے، میت کے وارثین کی تعزیت کرنے، میت کو جلدی دفن کرنے،جنازہ کےپیچھے چلنےاور دفن بعد ثبات قدمی کی دعاکرنے کا حکم  اور اس کی ترغیب دی ہے ، یہ ساری باتیں اس پر منحصر ہیں کہ جب کسی کی وفات ہوجائے تو اس کی خبر لوگوں کو دی جائے ورنہ بستی والوں کو خبرکیسے ہوگی اور کیسے اس کے حق میں استغفار اور تدفین کا عمل انجام پائے گا؟ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنازہ میں موحدین کی کثرت میت کے حق میں مفید ہے یہ کثرت اسی وقت ہوگی جب لوگوں کو وفات کی خبر دی جائے گی ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کل ہرجگہ آبادی گھنی ہوتی ہے ، ہرکوئی  اپنے اپنے کام میں مصروف ہے ، ایک دوسرے تک بات پہنچانے کا ذریعہ  جدید آلات ہی ہیں تو پھرایسے حالات میں موت کی خبر دینے کے لئے مائیکروفون ، موبائل اور لاؤڈاسپیکر کا استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔
ایک اشکال کا جواب :بعض اہل علم نے لاؤڈاسپیکر سے میت کااعلان کرنے سے منع کیا ہے اس کی وجہ یہ بتلائی جاتی ہے کہ جاہلیت کی نعی میں ایک صفت بلند آواز سے موت کی خبردینا تھا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جاہلیت کی نعی میں صرف ایک یہی صفت نہیں پائی جاتی تھی، نعی کی شرح کرنے والوں نے متعدد صفات کی طرف اشارہ کیا ہے جس کو میں نے اوپر بیان کیا ہے ،اگر میت کی خبر دینے میں صرف ایک صفت یعنی  بلندآواز کا استعمال محض اس وجہ سےکیا جائے تاکہ سارے بستی والوں کو موت کی خبر ہوجائے ، میت کو دعادیں اور لوگ جناز ہ میں شریک ہوں تو اس میں بالکل کوئی قباحت نہیں ہے ۔مزید برآں جاہلیت کی بلند آواز اور یہاں لاؤڈاسپیکر کی بلند آوازمیں حد درجہ فرق ہے ، ایک بلند آواز کا مقصد میت کی تشہیر ومناقب بیان کرنا جبکہ دوسری بلند آواز کا مقصد تمام بستی والوں تک محض موت کی خبر دینا ہےتاکہ وہ جنازہ میں شریک ہوسکیں۔اوپر ایک حدیث گزری ہے جس میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے زید، جعفر اور ابن رواحہ کی موت کی خبر لوگوں کو لاش آنے سے پہلے ہی دیدی تھی تاکہ لوگ کو ان کی موت کی خبر ہوجائے اور ان کے حق میں دعائے خیر کریں ، وہاں  جنازہ کی خبردینا مقصد نہیں تھا بلکہ خالص موت کی خبر دینا تھا ، جب مسلمانوں کو خالص موت کی خبر دینا جائز ہے تو جنازہ اور تدفین کی خبردینا بدرجہ اولی جائز ہے ۔
میت کے اعلان کا ایک دوسرا آبشن :آج کل عموما لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں ، اس لئے اس عوامی میڈیا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر مسجد کے کمیٹی والے موبائل پراس کام کے واسطےایک مخصوص واٹس ایپ گروپ بنالیں جس میں وفات اور اس سے متعلق خبریں نشر کرسکیں تو آواز بلند کرنے سے نعی کا جو شبہ پیدا ہوتا وہ ختم ہوجائے گااور ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ  اس گروپ میں قرب وجوار کے ذمہ داران کو شامل کرکے ان لوگوں کو بھی نہایت خاموشی سے باخبر کیا جاسکتا ہے، سعودی عرب میں مساجد کے ٹرسٹیان ایسے ہی کرتے ہیں ۔

مکمل تحریر >>

Friday, October 19, 2018

آغاخانی شیعہ میت کو غسل دینے کا حکم


آغاخانی شیعہ میت کو غسل دینے کا حکم

سوال: ایک خاتون جو خود اہل توحید ہیں اور وہ آغا خانی مذہب سے revert ہوئی ہے جبکہ انکی والدہ اسی عقیدہ پر فوت ہوگئی ہیں جن کے متعلق کہتی ہیں کہ وہ non muslim declare نہیں ہیں۔ اور وہ اپنی والدہ کو اسلامی شریعت کے مطابق غسل دینا چاہتی ہیں۔ میری ساتھی کی یہ بھابھی ہیں توانکی نند یعنی میری ساتھی نے یہ سوال کیا ہےکہ کیا وہ لوگ انکے ساتھ مل کر غسل میں مدد کرسکتی ہیں ؟ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ میت کو آغا خانیوں کے قبرستان میں ہی شاید دفنایا جائیگا۔
سائلہ : بنت اسلام ، کراچی(پاکستان)
جواب : آغاخانی اہل تشیع ہیں ، اس کی وفات پر کسی مسلمان کے لئے جنازہ میں شرکت، کفن ودفن میں شرکت اور استغفار کرنا جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالی نے کافروں کی نمازجنازہ نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ (التوبة: 84)
ترجمہ: ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہوں۔
اور دفن سے پہلے ہدایت کی دعا کرسکتے ہیں مگر دفن کے بعد مشرکوں کی مغفرت سے بھی اللہ نے روک دیا ہے ، فرمان الہی ہے:
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (التوبۃ:113)
ترجمہ: پیغمبر کو اور دوسرے مسلمان کو جائز نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
قرآن کی مذکورہ دونوں آیات سے یہ بات صاف ہوگئی کہ کافر ومشرک کے لئے نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی اس کے حق میں دعائے استغفار کی جائے گی۔
کافر میت کے غسل ، تکفین اور دفن کے متعلق شریعت کے نصوص اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان عمومی طور پر کافر کے غسل ، اس کی تکفین اور دفن کے کام میں شریک نہیں ہوگا البتہ کسی مسلمان کا کافررشتہ دار فوت ہوجائے اس حال میں کہ اس کو دفن کرنے والا کوئی دوسرا نہ ہوتو اس کو غسل دےسکتا ہے(اگراس کے یہاں غسل کا رواج ہو) ، غسل دے کر کسی کپڑے میں لپیٹ کر گڈھے میں چھپا دیا جائےگا ۔
متعدد کتب حدیث میں صحیح سند کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے والد ابوطالب کی وفات پر دفن کرنے کا حکم دیاتھا۔
عَن عليٍّ علَيهِ السَّلام ، قالَ : قُلتُ للنَّبيِّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ : إنَّ عمَّكَ الشَّيخَ الضَّالَّ قد ماتَ ، قالَ : اذهَب فوارِ أباكَ ، ثمَّ لا تُحْدِثَنَّ شيئًا ، حتَّى تأتيَني فذَهَبتُ فوارَيتُهُ وَجِئْتُهُ فأمرَني فاغتَسلتُ ودَعا لي(صحيح أبي داود:3214)
ترجمہ: سیدنا علی ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ آپ ﷺ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :جاؤ اور اپنے والد کو زمین میں دبا آؤ ، پھر کوئی کام نہ کرنا حتیٰ کہ میرے پاس آ جانا ۔ چنانچہ میں گیا اور اسے زمین میں دبا آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے غسل کیا اور آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی ۔
اس حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت علی نے اپنے والد ابوطالب کو غسل بھی دیا تھا تاہم اس حدیث کے الفاظ " فأمرَني فاغتَسلتُ" ( مجھے آپ ﷺ نے حکم دیا تو میں نے غسل کیا)سے معلوم ہوتا ہےکہ غسل میت کی تکفین پہ مشروع نہیں ہے بلکہ میت کو غسل دینے پہ غسل دینے والے کے حق میں مشروع ہے ۔ چنانچہ یہی روایت جو بیہقی میں ہے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس پہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے طرق میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ حضرت علی نے اسے غسل بھی دیا تاہم " فأمرَني فاغتَسلتُ" کے ٹکڑے سے یہ مفہوم نکلتا ہے کیونکہ غسل میت کے غسل سے ہی مشروع ہے اور اس کے دفن کرنے سے مشروع نہیں ہے ۔ بیہقی وغیرہ نے بھی غسل پر استدلال میت کے غسل سے ہی کیا ہے اور ابویعلی میں دوسرے طریق سے آخر میں مذکور ہے " وكان علي إذا غسل ميتا اغتسل" کہ علی میت کو غسل دیتے تو غسل کرتے تھے۔ (تلخيص الحبير:2/114).
بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں علامہ عینی حنفی نے ذکر کیا ہے کہ ابن ابی شیبہ میں صحیح سند سے مروی ہے : أن عليا رضي الله تعالى عنه لما غسل أباه أمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يغتسل۔(عمدۃ القاری)ترجمہ: جب علی نے اپنے والد کو غسل دیا تو نبی ﷺ نے انہیں غسل دینے کا حکم دیا۔
بیہقی میں یہ الفاظ زیادہ ہیں " اذهب فاغسله وكفنه وجننه(السنن الكبرى للبيهقي:1/305)
ترجمہ: جاؤ (میت) کو غسل دو ، اسے کفن دو اور اسے چھپادو۔
یہ ٹکڑے کی سندا تائید نہیں ملتی مگر دیگر دوسری روایات اور آثار صحابہ سے معنوی طور پر تقویت ملتی ہے۔ بیہقی میں ایک اثر بھی ہے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو جن کا باپ نصرانی ہوکر مرا تھا اسے غسل دینے ، کفن دینے اور دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حدیث پہ امام بیہقی نے باب قائم ہے"باب‏:‏ الْمُسْلِمِ يُغَسِّلُ ذَا قَرَابَتِهِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَيَتْبَعُ جَنَازَتَهُ وَيَدْفِنُهُ وَلاَ يُصَلِّى عَلَيْهِ" مسلمان کا اپنے رشتہ دارمشرک کو غسل دینے، اس کے جنازہ میں جانے اور دفن میں شریک ہونے کا باب لیکن اس پر جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کافر میت کو دفن کرنے والا کوئی نہ ہو تو اسے کسی جگہ گڈھا کھود کر اس میں دفن کردیا جائے گا ، اسے غسل دینے کی ضرورت نہیں ، اور ویسے بھی کافر نجس ہوتا ہے مگرجن کافروں کے یہاں میت کونہلانے کا رواج ہے اور اسے کوئی دفن کرنے والا بھی نہیں ہے تو مسلمان اسے نہلاکر کسی کپڑے میں لپیٹ کر ایک گڈھے میں چھپا دے گا۔ یہاں معلوم رہے کہ غسل ، تکفین اور دفن کا مطلب اسلامی طریقے سےکافوروبیری کے ساتھ غسل دینا، یا تین کپڑوںمیں کفن دینا اورقبرستان میں باقاعدہ قبرکھودکر دفن کرنا نہیں ہے بلکہ نہانے سے مراد بدن پر پانی بہانا، کفن سے مراد کسی کپڑے میں لپیٹ دینا اور دفن سے مراد کسی کھائی میں یا گڈھا کھود کر گاڑ دیناہے ۔ اسی طرح کسی مسلمان کا رشتہ دار کافر ہو تواس کی وفات پہ اسے غسل دے کردفن کرسکتا ہے لیکن اگر دوسرے کافر رشہ دار میت کے غسل اوراسکی تدفین کے لئے موجود ہوتو بہتر ہے مسلمان اس کام سے الگ رہے ۔ سوال میں مذکور ہے کہ ایک توحیدی بہن اپنی شیعہ ماں کا غسل اسلامی شریعت کی روشنی میں کرنا چاہتی ہے تو معلوم رہے کہ وہ اپنی ماں کے غسل میں شریک ہوسکتی ہے مگر اس کے لئے مسلمان میت کی طرح غسل دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اسلامی غسل صرف مسلمان میت کے ساتھ خاص ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)- سعودی عرب

مکمل تحریر >>

Thursday, October 11, 2018

جنازہ سے متعلق چند سوالوں کے جواب (دوسری قسط)


جنازہ سے متعلق چند سوالوں کے جواب (دوسری قسط)

جوابات از شیخ مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

11/اکتوبر 2018 کو جنازہ سے متعلق چند سوالوں کے جواب میں نے دئے تھے ، اس کے بعدمزید چند سوالات آگئے جن کا مختصر جواب نیچے دیا جارہاہے ۔

(1) کیا میت کو زمین والی قبر میں ہی دفن کرنا ضروری ہے یا زمین کے اوپر بھی دفن کیاجاسکتا ہے؟
جواب : اسلام میں سدا سے مردوں کو زمین میں دفن کرنے کا عمل رہا ہے ، اس طریقہ پر ہمیشہ مسلمان عمل پیرا  رہے۔ اللہ تعالی نے بھی اس حقیقت کا ذکر کیا ہے کہ انسانوں کی تخلیق مٹی (زمین)سے ہے، وہ مرکر اسی  زمین میں جاتا ہے اور اسی زمین سے قیامت میں اٹھایا جائے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى (طه:55 ).
ترجمہ:اس زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے ۔
عہدرسالت میں جن کی بھی وفات ہوئی نبیﷺ نے زمین میں قبر کھود کر دفنانے کا حکم دیا ۔آج بھی صحابہ کرام کی قبریں حتی کہ خود آپ ﷺ کی قبر مبارک اس بات کا ثبوت ہیں۔
جب نبی ﷺ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو (زمین والی )قبرمیں دفنایا جارہاتھا تو آپ ﷺ نےپوچھا تھا کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔(صحیح بخاری:1285)
سیدنا ہشام بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ احد کے روز انصاری لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : ہم زخمی ہیں اور تھکے ہوئے بھی تو آپ ﷺ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:احفُروا وأوسِعوا ، واجعَلوا الرَّجُلَيْنِ والثَّلاثةَ في القبرِ (صحيح أبي داود:3215,3216)
ترجمہ: قبریں کھودو اور کھلی کھلی بناؤ اور دو دو اور تین تین کو ایک ایک قبر میں دفنا دو ۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اللَّحدُ لَنا والشَّقُّ لغيرِنا(صحيح الترمذي:1045)
ترجمہ: بغلی قبرہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے۔
بغلی والی قبر کہتے ہیں کہ زمین میں میت کے قد برابر مستطیل گڑھا کھودا جائے پھر قبلہ کی جانب نیچے والی دیوار میں میت کے جسم کے مطابق گڑھا کھودا جائے اورشق(شگاف) ہیں کہ زمین میں میت کے برابر لمبا گڑھا کھودا جائے ۔
ان سارے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لئے قبر زمین میں ہی کھودی جائے اور اسی میں دفن کیا جائے ۔
بعض علاقوں میں تھوڑی سی زمین کھودنے پر نیچے سے پانی آجاتا ہے ، وہاں قبر کھودکر مردوں کو دفن کرنا مشکل ہے ، ایسی صورت میں زمین کے اوپر دفن کرنے کی جو مناسب صورت بنے دفن کیا جاسکتا ہے مگر پہلے کوشش یہی ہو کہ زمین میں دفن کی صورت اختیار کی جائے اور آج کازمانہ ترقی یافتہ ہے، قبرستان کی مشکلات کو دور کرسکتے ہیں۔ کہیں پر قبرستان بناکر اس میں مٹی ڈال کر اس قدراونچا کرلیا جائے کہ قبر کے برابر زمین کھودنے پرپانی نہ نکلے اس طرح ہم اپنے مردوں کوزمین میں دفن کرسکیں گے ۔
(2) کیا میت کو دفنانے کے بعد اذان دینا صحیح ہے کیونکہ میں نے دو جگہ ایسا کرتے ہوئے دیکھاہے؟۔
جواب : قبر پر یا قبرستان میں اذان دینا بدعت ہے اور بدعت گمراہی کا نام ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں قبرستان میں اذان دینے کا کوئی ذکر نہیں ہےبلکہ چار فقہی مذاہب میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ قبرستان میں اذان دینے کا عمل بریلوی طبقہ میں رائج ہے کیونکہ اس کے گرو اعلی حضرت نے قبرپہ اذان دینے کی کتاب لکھا ہے ۔ ہمارے لئے رب کا قرآن اور نبی کافرمان کافی ہے ان دونوں کتابوں میں قبر پر اذان کاکوئی ثبوت نہیں ہے جو قرآن وحدیث کے خلاف عمل کرتا ہے اس کا وہ عمل مردودوباطل ہے۔
(3) دفنانے کے بعد میت کے سر کی طرف اور پاؤں کی جانب کھڑے ہوکر سورۃ بقرہ کا آخری حصہ پڑھا جاتا ہے اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟ ۔
جواب : امام طبرانی نے المعجم الکبیر(13613) میں اور بیہقی نے شعب الایمان(8854) میں ایک روایت ذکر کی ہے۔
إذا ماتَ أحدُكم فلا تحبِسوهُ ، وأسرِعوا بهِ إلى قبرِهِ ، وليُقرَأْ عندَ رأسِه بفاتحةِ الكتابِ ، وعندَ رجلَيهِ بخاتمةِ البقرةِ في قبرِه۔
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے روک نہ رکھو بلکہ اسے قبر کی طرف جلدی لے جاؤ اور اس کی قبر پر اس کے سر کی جانب سورہ فاتحہ اور اس کے پاؤں کی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھی جائیں۔
ہیثمی نے مجمع الزوائد(3/47) میں اس روایت کو ضعیف کہا ہے اور شیخ البانی نے السلسلة الضعيفة(4140) میں بہت ہی ضعیف کہا ہے ۔ اس لئے میت کو دفنانے کے بعد اس کے سرہانے یا پیر کی جانب سورہ فاتحہ یا سورہ بقرہ کی آیات پڑھنا غیرمسنون عمل ہے اس سے بچنا چاہئے بلکہ قبرستان میں قرآن پڑھنے کی سرے سے کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔
(4) میت کو لحد کے اندر لے جاتے وقت کچھ مٹی گر جاتی ہیں تو کچھ لوگ فوراً چیخ اٹھتے ہیں کہ مٹی کو اندر نہ گرنے دیں بلکہ جو مٹی گر جاتی ہے اسکو بھی نکال لی جاتی ہے یہ بات مجھے حیرت میں ڈال رہی ہے۔
جواب : میرے خیال سے قبر کے پاس لوگوں کو احتیاط برتنے کو کہاجاتا ہوگا تاکہ میت پر مٹی نہ گرے ،بد احتیاطی میں قبر کا سرا  بھی ٹوٹ سکتا ہے ، آدمی بھی اس میں گرسکتا ہے۔ شاید یہی نیت ہوگی ۔ تھوڑی بہت مٹی قبر میں گرجائے تو اسے نکالنے کی ضرورت نہیں ہے خواہ میت کو دفن کرتے وقت گرے یا اس سے قبل ۔ جو گورکن ہوتے ہیں وہ بڑی محنت سے قبر کھودتے ہیں اس کے سامنے کسی سے ذرہ برابر بھی مٹی قبر میں گرے برداشت نہیں ہوتا اس لئے لوگوں پر چلا اٹھتے ہیں ، اگر آپ اپنے گھر کو صاف ستھراکریں اور کوئی دوسرا وہاں گندا کرے تو شاید آپ کو بھی برداشت نہیں ہوگا۔
(5) میت کو لحد میں لٹانے کے بعد لکڑی کے پھٹوں یا کنکریٹ کی بنی سلوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے تو کچھ جگہوں پر چھوٹے سوراخ رہ جانے کی بنا پر انکو پتھر، اینٹوں یا کاغذ کے ٹکڑوں سے بند کیا جاتا ہے کیا یہ ضروری عمل ہے؟۔
جواب : یہ اس لئے ایسا کیا جاتا ہے تاکہ جب مٹی ڈالی جائے تو قبرکے اندر نہ گرے اور اسی طرح مردہ خور جانور کمزور مقامات سے قبر میں داخل ہوکر میت کو چیرپھاڑسکتا ہے جبکہ ہمیں میت کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ قبر کو پہلے مضبوطی سے بند کیا جائے پھر اس پر مٹی ڈالی جائے ۔
(6) کیا جنازہ اٹھاتے وقت اور قبرستان تک لے جاتے ہوئے پورے راستے میں کلمہ شہادت پڑھنا ضروری ہے؟
جواب : جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے خاموشی اختیار کی جائے ، بعض لوگ کلمہ شہادت اور بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں جوکہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔ صحابہ کرام جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يكرهونَ رفعَ الصَّوتِ عند الجنائزِ .(أحكام الجنائزللالبانی : 92)ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔
٭ شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا تُتبَعُ الجَنازةُ بصَوتٍ ولا نارٍ(سنن أبي داود:3171)ترجمہ: جنازے کے پیچھے آواز اور آگ کے ساتھ نہ آ۔
شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند میں غیر معروف ہے مگر مرفوع شواہد اور بعض موقوف آثارسے اسے تقویت ملتی ہے ۔ (احکام الجنائز:91)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنازہ کے پیچھے جس طرح آواز لگانا منع ہے اسی طرح آگ لے کر جانا منع ہے کیونکہ اس میں اہل کتاب کی مشابہت ہے ۔
(7) مسجد میں مائیک سے یا رکشتہ وغیرہ میں لاؤڈسپیکر لیکر جنازہ کی خبر دینا جائز ہے ، یہ ہمارے علاقہ میں رواج کی شکل اختیار کرلیا ہے؟
جواب: اصل وفات کی تشہیر کرنا منع ہےجوکہ نعی میں داخل ہے لیکن تجہیزوتکفین میں شامل ہونے اور دعائے مغفرت کے لئے اعزاء واقارب اور مسلمانوں کو خبر دینے کی غرض سے موبائل سے فون کرنے یا مسجد کے اسپیکر سے اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رکشہ اور گاڑی وغیرہ میں اسپیکر لگاکر گاؤں گاؤں میت کا اعلان کرنا درست نہیں ہے۔
(8) جس وقت میت کے لئے نماز جنازہ ہوتی ہے اس وقت میت کا چہرہ کس طرف ہونا چاہئے ؟
جواب : اس وقت میت کا چہرہ قبلہ رخ ہویا غیرقبلہ کوئی حرج نہیں ہے البتہ اہم با ت یہ ہے کہ امام کس جگہ کھڑا ہو ؟ میت مرد ہو تو امام سر کے پاس اور عورت ہو تو درمیان میں کھڑا ہو۔ اگر میت میں کئی مردوعورت اور بچے ہوں تو عورتوں کو قبلہ کی طرف پھر بچوں کو،اس کے بعد مردوں کو امام کی جانب رکھا جائے ۔
(9) کیا عورتیں الگ سے جماعت بناکر گھر میں جنازہ کی نماز ادا کرسکتیں ہیں ؟
جواب : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عورت نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتی اور اس خیال سے متعلق ثبوت کے طور پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے :لَيْسَ للنِّسَاءِ في الجنازَةِ نصيبٌ(مجمع الزوائد:16/3)
ترجمہ: عورتوں کے لئے جنازہ میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔
اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ضعیف ہے ۔ شیخ البانی نے اسے بہت ہی ضعیف کہا ہے ۔(ضعيف الترغيب:2069)
حقیقت یہ ہے کہ عورتیں بھی میت کا جنازہ پڑھ سکتی ہیں ۔ حضرت ابوسلمی بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ جب سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ادخُلوا به المسجدِ حتى أصليَ عليه(صحيح مسلم:973)
ترجمہ: سعد کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔
عورتوں کی افضل نماز تو گھر میں ہی ہے ، اس لحاظ سے عورتیں میت کے غسل اور کفن کے بعد جمع ہوکر جماعت سے میت کی نماز جنازہ گھر ہی میں پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں اور وہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اوپر والی حدیث عائشہ گزری جس سے مسجد میں عورت کا نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورتوں کے لئے جائز ہے کہ گھر کی ساری عورتیں جمع ہوکر گھر ہی میں میت کی نماز جنازہ پڑھ لے؟
توشیخ رحمہ اللہ نے جواب کہ کوئی حرج نہیں عورتیں نماز جنازہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرے یا جنازہ والے گھر میں ادا کرلے کیونکہ عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ("مجموع فتاوى" ابن عثيمين:17/157)
(10) ایک بھائی کا اعتراض ہے کہ ایصال ثواب کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے کیونکہ یہ قرآن وحدیث میں کہیں نہیں آیا ہے ، بدعتیوں میں اس کا مخصوص طریقہ اور مخصوص ماحول ہے اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے ؟
جواب : لفظ "ایصال ثواب" کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ مروجہ طریقہ تو بہت ساری چیزوں میں ہے اس کی وجہ سے ہم صحیح الفاظ استعمال نہیں کر سکتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ میت کو زندہ شخص اپنے بعض اعمال سے فائدہ پہنچاتا ہے یہ ایصال ثواب ہی ہے۔ بدعتیوں کے نزدیک وسیلہ کا مروجہ طریقہ شرکیہ ہے تو کیا ہم وسیلہ کا استعمال ترک کر دیں گے؟ ۔ نہیں۔
جیسے وسیلہ میں مشروع و غیر مشروع وسیلہ ہے اسی طرح ایصال ثواب میں بھی مشروع وغیرمشروع ایصال ثواب ہے اس وجہ سے ایصال ثواب کے استعمال میں حرج نہیں ہے ۔ اس لفظ کو بہت سے سلفی علماء نے بھی استعمال کیا ہے اور عربی میں تو اس کا استعمال عام ہے ۔

مکمل تحریر >>