Tuesday, November 21, 2023

ڈرامہ ارتغرل غازی اور ڈرامہ باز طیب اردگان

ڈرامہ ارتغرل غازی اور ڈرامہ باز طیب اردگان

تحریر: مقبول احمد سلفی -جدہ

 

لوگوں کا ماننا ہے کہ طیب اردگان کی نگرانی میں ارتغرل ڈرامہ بنایا گیا، اس ڈرامہ کو ترکی کا سافٹ ایٹم بم بھی کہا گیا یعنی ایسا سافٹ ہتھیار جس سے ترکی دشمنوں کے پرخچے اڑادے ۔جو ڈرامہ محض ڈرامہ تھا، جھوٹ وفحش امورپرمبنی تھا مگراسے جذباتی مسلمانوں نے ایٹم بم سمجھ لیا، اس کے فوائد وفضائل بیان کرنے لگے، ثواب کی نیت سے دیکھے جانے لگے، صدقہ سمجھ کراسے سوشل میڈیا پر پھیلانے لگے، فرضی لڑائی کوصحیح  اسلامی تاریخ اورحقیقی   جہاد سمجھنےلگے ، اس کو دیکھ کر مجاہدبننے کے خواب دکھائے گئے اور اس ڈرامہ کی نگرانی کرنے والے ڈرامہ باز طیب اردگان کو مسلمانوں کا ہیرو سمجھنے لگے ۔

گزشتہ مہینوں ترکی انتخابات کے موقع پر دنیابھر کے مسلمانوں نےاس عظیم ہیرو کی کامیابی کے لئے مساجد میں دعائیں کی گئیں ، مسلمانوں کی دعائیں قبول ہوئیں، مولانا سلمان ندوی کی بھی دعا قبول ہوئی اور انہوں نے طیب اردگان کی جیت کو فتح مبین سے تعبیر کیا۔ پاکستان کے مفتی طارق مسعود  شروع دن سے ڈرامہ  دیکھنے کی ترغیب دیتے رہے ، اردگان کو مسلمانوں کا مسیحا قرار دیتے رہے ، کسی بندے نے ڈرامہ سے متاثر ہوکر مفتی صاحب کو تلوار بھی عنایت کی ۔

لگ یہ رہا تھا کہ اب دنیا کے مسلمان ڈراموں کے ذریعہ مجاہد بن جائیں گے اور امیرالمجاہدین طیب اردگان کی قیادت میں پھر سے دنیا پر اسلام کی شان وشوکت کا پھریرا لہرائیں گے ۔ جذباتی اور بھولے بھالے مسلمانوں کی طیب اردگان سے کچھ ایسی ہی امیدیں وابستہ تھیں مگر سانحہ فلسطین نے طیب اردگان کے چہرے سے حقیقت کا پردہ اٹھادیاورنہ نہ جانے کب تک لوگ اسےمسلمانوں کا ہیرو سمجھنے کی غلطی کرنے میں پڑے رہتے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سبھی جذبانی مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اردگان کی اصل حقیقت کو سمجھ لیا گیامگرسوشل میڈیا پہ اردگان کے تئیں اردگانی بھگت کے خیالات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے نادانوں کی عقل شریف میں حقیقت نے جگہ لے لی ہے ۔

ابھی میرے سامنے دیوبندی مولانا کی ایک چھوٹی ویڈیوآئی جن کانام نہیں معلوم ہے مگر پیچھے بینرلگاہے جس پر مدرسہ احسن العلوم میرٹھ (یوپی) مرقوم  ہے ۔

مولانا نے بیان کہا کہ "اس نے امت کو پاگل بنایا، پوری دنیا کے مسلمانوں کا ہیروکہلایا،  لوگوں نے نئے نئے مصلے خریدکر الیکشن کے لئے دعائیں کی کہ اے اللہ ! اس طویل القامت ، احمق الناس کو دوبارہ منتخب کردےجسے طیب اردگان کہاجاتا ہے ۔ مرگئی غیرت، ڈوب گئی غیرت ۔ آج اتنی بڑی طاقت ہے کہ 57 ممالک میں سب سے بڑی طاقت ہے، بااثر طاقت ہے لیکن آج تک تیل اور گیس  سپلائی اسی کا چل رہا ہے ۔اور  وہاں جہاں پانی کے قطرات نہیں پہنچ پارہے ہیں وہاں اس کا تیل پہنچ رہا ہے ۔اور  تیل ٹینکوں میں ڈلے گا اور ٹینکوں میں فوجی بیٹھیں گے اور فوجی گولے مار کے شوٹ کریں گے امت  محمدیہ کے جیالوں کو، اور طیب اردگان وہ تیل دے رہا ہے اور وہ گیس دے رہا ہے "۔مولانا کی حقیقت بیانی ختم ہوئی ۔

میں جذباتی بھائیوں سے کہناچاہتاہوں کہ تم نے سعودی عرب کو کبھی اپنا خیر خواہ نہیں سمجھا تو تم ان سے کیوں خیر کی امید لگاتے ہو، ان کو کیوں گالی دیتے اور کوستے ہو، تمہیں تو صرف انہیں مورد الزام ٹھہرانا چاہئے جن کو اپنا مسیحا سمجھتے رہے اورجن کےلئے دعائیں کرتے رہیں ۔

میرے بھائی ڈرامہ ڈرامہ ہی ہوتا ہے اس کو حقیقت سمجھنے کی بھول نہ کریں اورڈرامہ کی طرح  ڈرامہ باز کومسلمانوں کا ہیرو سمجھنا جذباتی مسلمانوں کی بڑی بھول ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ فلسطینی مسلمان ہمارے دینی بھائی ہیں، آپ کو  فلسطینی بھائیوں  کی  جتنی فکر ہے، ہمیں بھی فکرہے ، کیااپنی  اس بے چینی کے لئے قسم کھاکر بتاؤں اور دل چیر کردکھاؤں۔ چوبیس گھنٹے یہودیوں کی بربریت اور  ظلم وستم کے مناظر نظروں میں گھومتے ہیں۔ بچوں کی پکار، ماؤں کی صدائیں اورمظلوموں کی آہ وبکا نے دل چھلنی اور سینہ چاق کردیا ہے ۔ وہ زمین بوس عمارتیں ، وہ ملبے میں دبے بیکس ومجبور، وہ شہداء کے انبار، وہ جنازوں کے جنازے ، وہ مجروحوں سے پٹے اسپتال نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے ۔ اس کے باوجود ہم انفرادی طور پر اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے بہت کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ  ٹینکوں اور میزائلوں سے مقابلہ ہے ۔

ہم اپنے مظلوم بھائیوں کے حق میں پرخلوص دعائیں کرسکتے ہیں ، اللہ ان کی شہادتوں کو قبول فرمائے، مریضوں کو شفا نصیب فرمائے، بچوں اور بڑوں کو صبرجمیل اور ثبات قدمی  عطا فرمائے اور اس جانکاہ صورت حال کو جلدازجلد راحت وسکون میں تبدیل فرمادے۔ اللہ تعالی مسلم لیڈروں کو غیرت دے جو امت مسلمہ کی حفاظت کرسکیں اور دشمنوں سے مقابلہ کرسکیں ۔

تاریخ شاہد ہے جب جب اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی ناروا کوشش کی جاتی رہی ہے اللہ کی طرف سے غیبی مدد آتی ہے اور اس میں مسلمانوں کے حق میں کوئی نہ کوئی خیر کو پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔ آج فسلطین کے شہیدوں اور صابروں نے دنیا کے لئے صبر وثبات اور عزم واستقلال کے وہ دور رس اثرات چھوڑے ہیں کہ بڑی تیزی سے غیرمسلم  اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کررہے ہیں اور ان شاء اللہ ایک مدت تک اسلام پر رسرچ کیا جاتا رہےگا اور لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوتے رہیں گے  اور ہم اچھے اثرات ونتائج دیکھ بھی رہے ہیں ۔

 

 

مکمل تحریر >>

Wednesday, October 18, 2023

قضیہ فلسطین سے متعلق بعض دینی امور کی وضاحت


 
قضیہ فلسطین سے متعلق بعض دینی امور کی وضاحت
تحریر:مقبول احمد سلفی -جدہ ، سعودی عرب

ان دنوں حماس اوراسرئیل کے درمیان شدید جنگی کاروائیوں کے اثرات نہ صرف فلسطینوں پر مرتب ہوئے بلکہ پوری دنیااس سے متاثر ہورہی ہے۔ خصوصا دنیا بھر کےمسلمان اسرائیلی ظلم وتشدد کےشکار مظلوم فلسطینیوں کی آہ وبکا سے بیحد پریشان ہیں ۔ فلسطین کے مسلمان آج سےنہیں 75 سالوں سے یہودیوں کے ظلم وستم سہتے آرہے ہیں ۔ ایسی صورت حال میں دنیا بھرکے مسلمانوں کا بے چین ہونا فطری امر ہے ۔
فلسطین سے ہمارا تعلق خالص دینی اور اسلامی ہے۔ ایک طرف فلسطین کے مسلمان ہمارے دینی بھائی ہیں تو دوسری طرف اس سرزمین پر مسجد اقصی موجود ہےجو ہمارا قبلہ رہا ہے، جہاں اللہ نے محمد ﷺ کی سیر کرائی اور آپ نے انبیاء کی وہاں پر امامت فرمائی اور آپ وہاں سے اللہ کے پاس گئے یعنی آپ کا سفر معراج ہوا۔ اس جگہ کو اللہ نے بابرکت قرار دیا ہے ، اور رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد کی زیارت کا حکم دیا ہے ۔ اس نسبت و تعلق کی وجہ سے ارض فلسطین اور اہل فسلطین ہمارے لئے دل و جان سے عزیز ہیں اور اس مبارک سرزمین پر اسرائیلی وجوداور وہاں کے باشندوں پر اسرائیلی تشدد امت مسلمہ کی آنکھوں میں کاٹوں کی طرح چبھ رہا ہے ۔بظاہر مسلمان اسرائیلی قوت کے سامنے کمتر ہیں مگر اللہ کی طرف سے یہودی کو ذلت وپسپائی مقدر ہے۔
حالات حاضرہ کے تناظر میں کچھ مسائل عوامی سطح پر قابل توضیح ہیں اور اہل علم سے پوچھے جارہے ہیں ، میں نے مناسب سمجھا کہ ان امور کی وضاحت کردوں تاکہ لوگوں کو صحیح رہنمائی مل سکے ۔
شام سے کون سا ملک مراد ہے:اس جگہ سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ احادیث میں جو ملک شام کا ذکر ہوا ہے وہ موجودہ زمانہ میں کئی ممالک کو محیط ہے ۔ پہلی عالمی جنگ عظیم سے قبل شام ایک ہی ملک تھا مگر اب سیریا، لبنان ، فلسطین اور اردن میں بٹ گیا ہے گویا حدیث میں مذکور شام اس وقت کے چار ممالک کو شامل ہے۔
(1) دو الگ گنبد والی تصویر میں مسجد اقصی کون سی ہے؟
آپ نے انٹرنیٹ پہ دوقسم کے گنبدوں والی مسجد دیکھی ہوگی ۔ ایک گنبد جو پہاڑ پربناہوا ہے، گولڈن کلر کا ہے، اسے قبۃ الصحراء کہتے ہیں اور دوسرا گنبد جو کالے رنک کا نظر آتا ہے وہ دراصل مسجد اقصی ہے ۔ یہودی مسجد اقصی کو منہدم کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے وہ مختلف جہات سے کوشش کررہے ہیں، فلسطین سے مسلمانوں کو مٹارہے ہیں، زمین ہڑپ رہے ہیں اور مسجد اقصی کی صورت وپہچان عام مسلمانوں کے ذہن سے مٹا رہے ہیں تاکہ اسے مسمارکرنا آسان ہو اس لئے قبۃ الصخراء کی تصاویر زیادہ سے زیادہ وائرل کرتے ہیں ۔
(2) مسجد اقصی کی کیا فضیلت ہے؟
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مسجد حرا م کے ساتھ مسجد اقصی ذکر کرکے اسے بابرکت بتایا ہے ، یہیں سے محمد ﷺ کا سفر معراج ہوا تھا۔اس مسجد کی فضیلت سے متعلق چند دلائل ذکر کرتا ہوں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴿الاسرا:1﴾
ترجمہ:پاک ہے وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونےدکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واہے۔
مسجد حرام کے بعد دوئے زمین کی دوسری مسجد ہے جس کی تعمیر عمل میں آئی اور اسے سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:قُلتُ: يا رَسولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلَ؟ قالَ: المَسْجِدُ الحَرَامُ. قُلتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قالَ: ثُمَّ المَسْجِدُ الأقْصَى. قُلتُ: كَمْ كانَ بيْنَهُمَا؟ قالَ: أَرْبَعُونَ، ثُمَّ قالَ: حَيْثُما أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ، والأرْضُ لكَ مَسْجِدٌ(صحیح البخاری:3425)
ترجمہ: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد الحرام! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہو جائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنَّ سليمانَ بنَ داودَ لمَّا بنى بيتَ المقدسِ سألَ اللَّهَ عزَّ وجلَّ خلالًا ثلاثةً سألَ اللَّهَ عزَّ وجلَّ حُكمًا يصادِفُ حُكمَهُ فأوتيَهُ وسألَ اللَّهَ عزَّ وجلَّ مُلكًا لا ينبغي لأحدٍ من بعدِهِ فأوتيَهُ وسألَ اللَّهَ عزَّ وجلَّ حينَ فرغَ من بناءِ المسجدِ أن لا يأتيَهُ أحدٌ لا ينهزُهُ إلَّا الصَّلاةُ فيهِ أن يخرجَهُ من خطيئتِهِ كيومِ ولدتهُ أمُّهُ(صحیح النسائی:692)
ترجمہ:سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلَّا إلى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: المَسْجِدِ الحَرَامِ، ومَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، ومَسْجِدِ الأقْصَى(صحيح البخاري:1189)
ترجمہ: تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ (یعنی سفر نہ کیا جائے) ایک مسجد الحرام، دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (مسجد نبوی) اور تیسری مسجد الاقصیٰ یعنی بیت المقدس۔
مسجد اقصی میں ایک نماز کا ثواب پانچ سو نماز کے برابر ہے، یہ لوگوں میں مشہور ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے ، (دیکھیں :تمام المنۃ:292) اور ابن ماجہ میں پچاس ہزا ر کا اجر مذکور ہے ، یہ حدیث بھی ضعیف ہے (دیکھیں ، ضعیف ابن ماجہ :265)۔صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے اس میں ایک نماز کا اجر ڈھائی سو کے برابر ہے ۔
ابوذر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ عیلہ وسلم کے پاس آپس میں یہ بحث کررہے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد افضل ہے یا کہ مسجد اقصی تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے:
صَلاةٌ في مَسجدي هذا أفضَلُ مِن أربَعِ صَلواتٍ فيه، ولَنِعْمَ المُصلَّى، ولَيُوشِكَنَّ ألَّا يكونَ للرَّجلِ مِثلُ بَسْطِ فَرشِه مِنَ الأرضِ حيثَ يَرى منه بيْتَ المقدِسِ خيْرٌ له مِنَ الدُّنيا جميعًا۔
ترجمہ: میری مسجد میں ایک نماز اس میں چارنمازیں ادا کرنے سے بہتر ہے ، اورنماز ادا کرنے کے لیے وہ اچھی جگہ ہے ، اورعنقریب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی کے گھوڑے کی رسی جتنی زمین کا ٹکڑا جہاں سے بیت المقدس دیکھا جائے ساری دنیا سے بہترہوگی۔
شیخ البانی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے، (دیکھیں :صحیح الترغیب:1179)
یہاں یہ بھی معلوم رہے کہ مسجد اقصی سے عمرہ کا احرام باندھنے کی فضیلت آئی ہے، وہ حدیث ضعیف ہے ، (دیکھیں ضعیف ابن ماجہ :590، 591)
(3)کیا مسجد اقصی ہمارا قبلہ اول ہے ؟
عمومی طور پر مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد حرام ہی ہے کیونکہ روئے زمین پر یہی سب سے پہلی مسجد ہے لیکن جب امت محمد ﷺ کی بات کریں گے تو اس اعتبار سے ہمارا قبلہ اول بیت المقدس قرار پاتا ہے کیونکہ نبی ﷺ مکہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے(مشرکوں کا قبلہ اس وقت بھی کعبہ ہی تھا) یہاں تک کہ آپ کی ہجرت ہوئی تو مدینہ میں بھی سولہ ماہ تک یہی مسلمانوں کا قبلہ رہا پھر اللہ نے مسجد حرام کو ہمارا قبلہ بنادیا ۔
اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ(البقرۃ؛143)
ترجمہ:اور ہم نے آپ کے لیے پہلا قبلہ (بیت المقدس) صرف اس لیے بنایا تھا کہ ہمیں معلوم ہو کہ کون ہے جو رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں:
كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يُصلِّي وهو بمكةَ نَحْوَ بيتِ المقدسِ والكعبةُ بينَ يدَيهِ وبعدما هَاجَرَ إلى المدينةِ سِتَّةَ عَشَرَ شهرًا ثم صُرِفَ إلى الكعبةِ۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ مکہ میں بیت القدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے اس حال میں کہ کعبہ بھی سامنے ہوتا اور جب آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی سولہ ماہ تک یہی(بیت المقدس) قبلہ رہا پھر کعبہ کی طرف پھیردیا گیا۔
اسے احمد ، طبرانی اور بزار وغیرہ نے روایت کیا ہے ، اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے رجال کو رجال الصحیح کہا ہے اور شعیب ارناؤط نے اس کی سند کو شیخیں کی شرط پر قرار دیاہے ۔
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبلہ اول (بیت المقدس) سے کعبہ کی طرف متوجہ ہونے پر پہلی نمازوں کے بارے میں صحابہ بے چین ہوئے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا:لمَّا وُجِّهَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ إلى الكَعبةِ قالوا : يا رسولَ اللَّهِ كيفَ بإخوانِنا الَّذينَ ما توا وَهُم يُصلُّونَ إلى بيتِ المقدسِ ؟ فأنزلَ اللَّهُ تعالى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ الآيةَ(صحيح الترمذي: 2664)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور وہ گزر گئے تو (اسی موقع پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان یعنی نماز ضائع نہ کرے گا“ (البقرہ: 143)۔
(4)مسجد اقصی کا دائرہ کیا ہے یعنی لوگ پوچھتے ہیں کہ مسجد اقصی کتنے حصے پر بولا جاتا ہے اور کیا اس پورے خطے میں نماز پڑھنا جائز ہے؟
آپ نے بیت المقدس کا نقشہ دیکھا ہوگا ، چاروں طرف سے ایک دیوار قائم کی گئی ہے اس احاطہ میں موجود ساری زمین مسجد اقصی کا حصہ ہے جس میں قبۃ الصخراء بھی داخل ہے تاہم موجودہ زمانہ میں کالے گنبد والی مسجد کومسجد اقصی کے نام سے جانتے ہیں ۔ شیخ محمد بن صالح المنجد نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کا یہ قول ذکر کرنے کے بعد کہا ہے((مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سیلمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا ، اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ))۔
یہی وجہ ہے کہ ائمہ کرام جب بھی مسجد اقصی بیت المقدس میں داخل ہوکرنماز پڑھتے تو اسی جگہ پرپڑھتے تھے جسے عمررضي اللہ تعالی عنہ نے تعمیرکیا تھا ، اوراس اونچی جگہ ( گنبدوالی ) کے پاس نہ توعمراور نہ ہی کسی اورصحابی رضی اللہ تعالی عنہم میں سے کسی نے نماز پڑھی تھی اورنہ ہی خلفاء راشدہ کے دور میں اس پرقبہ ( گبند ) ہی بنا ہوا تھا بلکہ یہ جگہ عمراورعثمان ، علی ، اورمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور یزید اورمروان کے دور حکومت میں یہ جگہ بالکل کھلی تھی ۔
(5)کیا مسجد اقصی ہی بیت المقدس ہے؟
ہاں بیت المقدس کو ہی مسجد اقصی کہتے ہیں جیسے مسجد حرام کو بیت العتیق بھی کہتے ہیں ۔ صحیح بخاری میں ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں :
لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ(صحيح البخاري:3886)
ترجمہ:جب قریش نے (معراج کے واقعہ کے سلسلے میں) مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو روشن کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کر دیئے۔
اس حدیث میں بیت المقدس کا لفظ ہے جس سے مسجد اقصی مراد ہے ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو:أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ رَكْعَتَيْنِ(صحيح أبي داود:3305)ترجمہ:میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا۔
یہاں بھی بیت المقدس سے مسجد اقصی مراد ہے۔
(6)کیا مسجد اقصی حرم شمار کیا جائے گااور وہ تیسرا حرم ہے؟
مسجد حرام اور مسجد نبوی کا حرم ہونا دلائل سے ثابت ہے لیکن مسجد اقصی سے متعلق ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ بھی حرم شمار کیا جائے گا۔ تین مقدس مساجد میں سے ایک ہے جس کی طرف زیارت کرنا مشروع ہے اور اس جگہ نماز پڑھنے کی فضیلت آئی ہے جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے ۔
(7)کیا قرآن کی آیت کی روشنی میں فلسطین کی زمین پر بنی اسرائیل کا حق نہیں ہونا چاہئے؟
جب بنی اسرائیل ایمان کی حالت میں تھے تو اللہ نے بطور انعام فلسطین کی حصہ داری عطا فرمائی  مگر جب انہوں نے کفر کیا تو اس انعام سے بھی محروم کئے گئے اور ذلت و خواری کے بھی مستحق ہوئے ۔ جو اللہ کا انکار کرے اور نبیوں کا انکار کرے اللہ اسے زمین کا وارث نہیں بناتا بلکہ جو اللہ کے نیک بندے ہیں انہیں اپنی زمین کا وارث بناتا ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ(الأنبياء:105)
ترجمہ:ہم زبور میں پندو نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہونگے۔
اس لئے فلسطین پر صرف مسلمانوں کا حق ہے ۔
(8) طائفہ منصورہ شام میں ہونے سے متعلق حدیث کیا صحیح ہےجو مسند احمد میں ہے؟
میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن سے برسرے پیکار رہے گا ، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بکاڑ سکیں گے سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگ دستی کا سامنا کرنا پڑے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی کا حکم آجائے گا اور وہ اسی حالت پر ہوں گے ۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ کہاں ہوں گے ؟آپ نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے اردگرد اطراف میں ہوں گے۔ مسنداحمد 12494
شیخ البانی نے اسےمنکر کہا ہے ، (دیکھیں،السلسلة الضعيفة:5849)
تاہم اس معنی کی دوسری روایات بھی ہیں اس لئے ایک دوسری روایت سے متعلق شیخ البانی ضعف کا اظہار کرتے ہوئے اس کے شاہد ہونے کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں (السلسلة الصحيحة:4/599 )
لیکن کیا طائفہ منصورہ شام میں ہی ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جماعت کبھی شام میں ہوگی تو کبھی دنیا کے دوسرے خطوں میں ہوگی ۔
(9)کیا انفرادی طور پر گھروں میں مرد یا عورت قنوت نازلہ پڑھ سکتے ہیں؟
اہل فلسطین کی نصرت وحمایت اور یہودیوں کی تباہی کے لئے مسلم ممالک میں قنوت نازلہ کا اہتمام کیا جارہاہے ، ایسے میں بعض مرد وخواتین کی طرف سے یہ پوچھا جارہاہے کہ عورت اپنے گھر میں یا اکیلا مرد قنوت نازلہ پڑھ سکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قنوت نازلہ ہماشما کے کہنے سے نہیں ادا کی جائے گی ، یہ ولی الامر یا جیدعلماء کے فتوی کی بنیاد پر قنوت نازلہ پڑھنا چاہئے ۔
نبی ﷺ نے قنوت نازلہ پنج وقتہ نمازوں میں پڑھا ہے لہذا ہمیں بھی صرف فرائض میں ہی اس کا اہتمام کرنا چاہئے ، نہ کہ سنت ، نفل یا جمعہ کی نماز میں ۔دوسری بات یہ ہے کہ منفرد کے لئے قنوت نازلہ کی دلیل نہیں ملتی ہے تاہم بعض اہل علم نے کہا ہے کہ منفرد بھی فرض نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کرسکتا ہے ، ان کے بقول عورت بھی اپنے گھر میں قنوت نازلہ کرسکتی ہے ۔
(10) اہل فلسطین کی نصرت کے لئے بدعی وظائف کا حکم
پہلے سوشل میڈیا پر یہ پیغام دستیاب ہوا کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے قرآن کی فلاں فلاں آیت پڑھنے کا حکم دیا ہے تاکہ اسرائیل تباہ ہوجائے ، پھر کچھ دنوں کے بعد دیوبندی عالم مولاناخلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب کا وظیفہ گردش کرنے لگا ، وہ کہتے ہیں مسلمان فجر کی نماز کے بعد سورہ مزمل کی تین بار تلاوت کریں ، اسی مولانا کا خود کے ذاتی لیٹرپیڈ پہ دوسرا وظیفہ بھی لکھا ہوا نظر آیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہرنماز کے بعد اس کا معمول بنالینا چاہئے۔
حسبنا اللہ ونعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر(7بار)
اللھم انا نجعلک فی نحورھم و نعوذبک من شرورھم (7بار)
ان تمام وظائف کے جواب میں ہم آپ کی صحیح رہنمائی کرنا چاہتے ہیں کہ ہم بلاشبہ فلسطین کے مسلمانوں کو دعا دیں مگر کسی کے کہنے سے من مانی طریقے سے کوئی وظیفہ یا مخصوص عمل نہ کریں جس کی دلیل دین نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: من أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ(صحيح البخاري:2697،صحيح مسلم:1718)
ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام ایجادکیا جو دین میں نہیں تو وہ مردود ہے۔
آپ مشروع طریقہ پر دعا کریں ، فرض نماز کے بعد اپنی دعاؤں میں اہل فلسطین کو یاد رکھیں ، دعا کے افضل اوقات میں مظلوم کے لئے دعا کریں۔
مسنون اذکار میں جو مظلوم کے حق میں دعائیں وارد وہ پڑھیں ۔ یاد رکھیں دین میں اپنی طرف سے کوئی وظیفہ خاص کرنا، وظیفہ کی تعداد مقرر کرنا  یا اس کے لئے کوئی وقت متعین کرنا بدعت ہے ، ہمیں بدعت سے دور رہنا ہے ۔
(11)یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا کیسا ہے؟
سوشل میڈیا پر اسرائیلی اور یہودی مصنوعات بائیکاٹ کا ٹرینڈ چل رہا ہے ایسے میں کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ہمیں ایسا کرنا چاہئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی مصلحت کے تئیں دشمنان اسلام کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے ۔ میکڈونل کا ایک ٹویٹ دیکھا گیاہے جس میں یہ لکھا تھا کہ ہم اسرائیلی فوجی کو فری فوڈ مہیاکریں گے ۔ اب ایسے میں میکڈونل اور اس جیسے تمام ادارے ومصنوعات کا جن سے اسرائیل کو تقویت پہنچتی ہے بائیکاٹ ہونا چاہئے تاکہ معاشی اعتبار سے اسرائیل کو نقصان پہنچے ۔ دنیا میں ہرایک سامان کا متعدد متبادل موجود ہے ہم غیریہودی متبادل مصنوعات کا استعمال کریں ۔
(12) امام مہدی اور دجال کے ظہورکا وقت ہوگیا ہے؟
اسرائیلی اقدام کے پس منظر میں کچھ صوفیت پسند لوگ امام مہدی کے ظہور کی تاریخ بھی بتلارہے ہیں ۔کسی نامعلوم بندہ نے حنفی صوفی مفتی ابولبابہ شاہ منصور کے حوالہ سے لکھا ہے کہ 2024 میں امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ ایک اور حنفی صوفی پیرذوالفقار نقشبندی نے حرم میں قسم کھاکرکہا کہ 2025 میں امام مہدی کا ظہورہوگا۔ اسی طرح حنفی صوفی مولانا سجاد نعمانی نے سورہ کہف سے مطلب نکالا ہے کہ سورۂ کہف پندرھویں پارے کے نصف سے شروع ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دجال کا خروج پندرھویں صدی کے نصف پر ہوگا۔
یہ سب فضول قیاس آرائیاں ہیں، علمائے امت کو چاہئے کہ مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کریں اور دین میں عقل لگانے سے پرہیز کریں ۔ جو تاریخ ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے نہیں بتائی ہے اس میں اٹکل نہ لگائیں ۔
(13)فلسطینی مسلمانوں کو زکوۃ سے امداد کرنا کیسا ہے ؟
آج کل مختلف ممالک میں امدادی تنظیم فلسطینی مسلمانوں کی امداد کے لئے خوراک کا انتظام کرکے فلسطین بھیج رہی ہے ، ایسےمیں  بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا اس مد میں زکوۃ کا مال لگاسکتے ہیں تو اس کا جواب ہے کہ ہاں فلسطینیوں کی امداد میں زکوۃ کا مال لگاسکتے ہیں ۔ زکوۃ کے علاوہ بھی صدقات وخیرات اور عطیات سے خوب خوب مدد کی جائے کیونکہ اس وقت وہ بہت زیادہ محتاج ومستحق ہیں ۔
آخری کلام
فلسطین کے مسلمان ہمارے بھائی ہیں، ان کی تکلیف ہماری تکلیف ہے اور ان کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں تاہم یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قرآن نے ایک معصوم کا قتل ساری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے ایسے میں ہم حماس کے اقدام کو غلط سمجھتے ہیں ۔ آج فلسطین میں جتنے مسلمان شہید ہورہے ہیں ان سب کا ذمہ دار حماس ہے اس لئے ہمیں جذبات سے اوپر اٹھ کر اسلام کے آئینہ میں دیکھنا چاہئے کہ اسلام میں جنگ کے کیا اصول ہیں ؟ اسلام امن پسند مذہب ہے ، یہ حالت جنگ میں بھی عورت، بوڑھے، بچے ، مریض اور امن پسندوں کا قتل جائز نہیں ٹھہراتا۔
بہرکیف! اس وقت اہل فلسطین کو ہماری ضرورت ہے، ہم ان کو اپنی خاص دعاؤں میں یاد رکھیں، جہاں تک ہوسکے امداد فراہم کریں اور مسلم حکمرانوں کی اصل ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا کردار نبھائے اور امن مذاکرات کے ذریعہ قضیہ فلسطین کا مستقل حل نکالے ۔  

مکمل تحریر >>

Sunday, January 26, 2020

تم جسے ناپسند کرتے ہو ممکن ہے کہ اس میں خیر کا پہلو ہو



تم جسے ناپسند کرتے ہو ممکن ہے کہ اس میں خیر کا پہلو ہو

مقبول احمد سلفی
اسلامک سنٹر طائف

برسرِاقتدار بے جے پی حکومت میں تعلیم، صحت، روزگار اور معیشت و تجارت دن بدن تنزلی کا شکار ہیں ، ایسے میں میڈیا بطور خاص عوام کی زبان بند کرنا مشکل ہی نہیں محال تھا، گوکہ میڈیا کے اکثر حصوں پر اجارہ داری بھی اسی حکومت کی ہے مگر آج سوشل میڈیا کا دور ہے کچھ اچھے ٹیلی-ویژن اینکروں کے ساتھ یوٹیوبر کی کثرت ہے جو بھاجپائی پہنچ سے باہر ہیں.
حکومت نے عوام اور میڈیا کی توجہ ملک کے بحران سے ہٹا کر ایسے قانون و ایکٹ کی طرف کرانی چاہی جس میں کئی سال تک عوام اور میڈیا مشغول رہیں گے اور معاشی، تجارتی ، تعلیمی اور صحت و روزگار کی تنزلی کی طرف دھیان نہیں جائے گا مگر وار الٹا پڑ گیا.
گوکہ ان بحرانوں کے ناحیے سے ابھی بھی میڈیا میں چرچا نہیں ہے مگر عوام اور میڈیا کو موجودہ مہلک حکومت کے خلاف زبان کھولنے کا سب کو بہترین موقع مل گیا. ذرا تصور کریں کہ طلاق پر پابندی لگنے کے بعد مسلمانوں کی طرف سے کسی قسم کا مظاہرہ نہیں ہوا، بابری مسجد کی بازیابی کے لئے سیکڑوں سال پیش کی گئی قربانی کا کوئی ثمرہ برآمد نہیں ہوا، کم از مجرمانہ کام کرنے والوں کو عدالت سزا بھی مقرر کردیتی تو مسلمانوں کا کلیجہ کچھ ٹھنڈا ہو جاتا مگر وہ بھی نہ ہوسکا اور مسلمان ایک حرف بھی نہ بول سکے، اس سے ہند میں مسلمانوں کی بے بسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے.
ابھی حکومت جو کالے قوانین لوگوں پرجبرا تھوپنے کی کوشش کر رہی تھی وہ پھندا بن کر اسی کے گلے میں اٹک گئے ہیں، واپس لینے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی ناک کٹنے کا سوال ہے اس لئے وہ خود سے رجوع نہیں کر سکتے اس لئے امت شاہ بار بار کہتا ہے کہ سی اے اے کسی صورت میں واپس نہیں ہوگا، اس بات سے حکومت کی سراسیمگی اور شرمندگی صاف ظاہر ہے، ہمیں واپسی کی امید اگر ہے تو عدالت سے ہی ہے.
گویا ابھی جہاں مسلمانوں کو کالے قانون اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے میں ہمت ملی وہیں دیگر تمام اقوام و ملل کو حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے اور اس حکومت کے سیاہ ترین چہرے اور گزشتہ تمام کالے کارنامے ایکسپوز کرنے کا سنہری موقع دستیاب ہوا ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (البقرہ:216)
ترجمہ :تم پر جہاد فرض کیا گیا گو وہ تمہیں دشوار معلوم ہو ، ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو ، حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو حقیقی علم اللہ ہی کو ہے ، تم محض بے خبر ہو ۔
اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا بھی کریں کہ وہ ہمارے ساتھ ظلم کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دے اور مسلمانوں کو ہندوستان میں امن وراحت کے ساتھ رہنے کا ماحول سازگار بنائے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, January 21, 2020

ہندوستانی مسلمانوں کی مصیبت کاسرحدپار سے مذاق اڑانا


ہندوستانی مسلمانوں کی مصیبت کاسرحدپار سے مذاق اڑانا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر طائف ، سعودی عرب

میں ایک سنجیدہ مزاج آدمی ہوں جو ہزار مخالف تبصروں پر بھی خموش رہنے میں ہی آج کے سوشل میڈیائی دور میں عافیت سمجھتا ہوں کیونکہ یہاں اکثرتنقیدبے جاوجارحانہ ہوتی ہے اور فائدہ کی بجائے نقصان پہنچتا ہے۔آپ بھی خموشی سے مثبت کام کرتے جائیں اورلایعنی تبصرہ نگاری میں وقت ضائع کرنے سے پرہیز کریں ۔
جب سے ہندوستان میں برسرے اقتدار جماعت نے سی اے اے نامی ایکٹ پاس کیا ہے تب سے اکثر ہندوستانی باشندوں( بشمول ہندوسکھ وغیرہ)میں بے چینی کی لہر پیدا ہوگئی ہے اور بے چین ہونا معقول بھی ہے ، پورے بھارت میں اس نظام کو نافذ کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ سب کو اپنی اپنی شہریت ثابت کرنی ہوگی ، جو اپنی شہریت ثابت نہ کرسکے وہ مشکوک قرار پائے گا خواہ وہ مسلم ہویا ہندو، سزا جو مقرر ہوگی وہ الگ ایک بڑی مشکل ہے ۔ شہریت ثابت کرنے کے لئے پرانے دستاویزوکاعذات کی ضرورت ہے، بڑی مشکل یہ ہے کہ بہت سارے اصلی باشندوں کے پاس کاعذات نہیں مل سکیں گے اور پچاس فیصد سے زیادہ لوگوں کے آباؤ واجداد کے ناموں میں لفظی غلطیاں ملیں گی جس کی وجہ سے یہ لوگ بھی مشکوک قرار پائیں گے اس طرح ہندوستان کی آدھی سے زیادہ آبادی اپنی شہریت ثابت نہیں کر پائے گی ۔ قطاروں میں کھڑا ہونا، کاعذات مہیا کرنے میں بھاگ دوڑ کرنا اور رشوت کے نام پر لاکھوں روپئے خرچ کرنا وغیرہ پریشانیاں اپنی جگہ ہیں ۔ آسام میں شہریت کی چھان بین کی مثال سامنے موجود ہے ، ایک معمولی نوٹ بندی سے جانوں کا نقصان اور معاشی بحران جیسی کیفیت بھی سب کو معلوم ہے۔
انہی سب باتوں کی وجہ سے جب سے سی اے اے جیسا دستور مخالف نظام ایوان حکومت سے پاس ہوا ہے تب سے سارے مذاہب کے لوگ بے چیں ہیں،مسلمانوں کی بے چینی دیگرمذاہب سے کہیں زیادہ ہے اس وجہ سے گھروں میں سکون اختیار کرنے والی مسلم خواتین آج سڑکوں پر ٹھنڈی میں ٹھٹھر کر رات گزاررہی ہیں ۔کتنی آنکھوں میں آنسو چھلکتے دیکھا ہوں اور کتنی ماؤں کو روتے بلکتے دیکھا ہوں ، آخر کیوں نہ روئیں ؟ اپنے وجود کا مسئلہ ہے۔
ایک طرف ہندوستانی مسلمانوں کی یہ حالت زار کہ جان کے لالے پڑے ہیں تو دوسری طر ف شروع دن سے سرحدپار سےکچھ ناعاقبت اندیش ہندی مسلمانوں کی بے بسی پہ مستقل طور پر ہرزہ سرائی کرتے نظر آرہے ہیں ۔نہ جانے کیسے کیسے طعنے مولانا آزادرحمہ اللہ کو اور پورے ہندوستانی مسلمانوں کو دئے جارہے ہیں اور ان کا مذاق اڑایا جارہاہے ۔میں ان ناعاقبت اندیشوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا ادنی سے ادنی مسلمان پاکستانی مسلمانوں پر آنے والی مصیبت پر کبھی مذاق نہیں اڑائے گا بلکہ ان کے حق میں دعائے خیرکیا ہے اور کرتا رہے گا۔ ابھی حال ہی میں اہل حدیث کی مسجد شہید کی گئی ہم نے افسوس کا اظہار کیا ، مذاق نہیں اڑایا کہ جناح کے اسلامی ملک میں اللہ کے مقدس گھر کو گرایا جارہاہے ۔ منفی پہلو تو ہرجگہ ملے گی مگر بات ہندوستان اور اسلامی ملک پاکستان کے موازنہ کی کی جائے تو یقینا پاکستان اسلام کے نام پر مات کھاجائے گا ۔ ہندوستان تو غیرمسلم ملک ہے مگر پاکستا ن جیسے اسلامی ملک میں شیعہ ڈنکے کی چوٹ پر کہے کہ اہل حدیث مدرسہ سے فارغ ہونے والا دہشت گرد ہے تو سوچنے کا مقام ہے ، نصاب تعلیم بدلنے کی بات کرے تو فکر کرنے کی بات ہے ۔ مزیدار بات تو یہ ہے کہ وہ شیعہ خود کواوربریلوی کو دہشت گردی سے بری کررہا ہے ۔ وہاں پر قادیانیوں ، عیسائیوں اور شیعوں کی غلاظتوں کے انبار لگے ہیں،احاطہ شمار میں لانا مشکل ہے ، ایک لفظ میں یہ کہاجائے گاکہ بس نام اسلامی ہے کام سب غیر اسلامی ۔
میں عرض کررہا تھا کہ اگر کسی پاکستانی بھائی پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہم اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں مگر یہ کیا کہ جب ہم پر مصیبت آئی تو مذاق اڑانے لگے ، گالیاں دینے لگے ، طرح طرح کے الزام دھرنے لگے اور آنسوپوچھنے کی بجائے خوشی کے شادیاں بجانے لگے ۔ لاحول ولاقوۃ
ہندوستان تقسیم ہونا تھا سوہوگیااب آزاد اور جناح کی قبریں کھودنا بند کرو، یہ مردہ لاشیں ہیں انہیں اکھاڑنے سے کچھ نہیں ملے گا۔کچھ کرسکتے ہو تو مظلوم مسلمانوں کی مدد کرو، ان کے حق میں دعائے خیر کرو، ایک مسلمان کے ہونے کے ناطے مولانا آزاد کو برا بھلا مت کہواور شیعہ کے لئے مغفرت کی دعاکرنا بند کرو۔ ہندوستانی بھائیوں کا درد بانٹ نہیں سکتے تو زخم پہ نمک چھڑکنے کا کام بھی نہ کرو، بہت غیور ہو تو اپنے ملک کی ہی اصلاح کرلو۔ جس نظریہ تقسیم پہ نازاں وفرحاں ہواس نظریہ کو ہی پورا کرکے دکھادو، ملک میں اسلام نافذ کرسکو تو کرکے دکھادو، کم ازکم کسی مولوی کو ہی ملک کا حاکم بناکردکھادو ، اپنے ملک کو بت پرستوں اور ان کے بتکدوں سے پاک کرکے دکھادو۔ اللہ ، رسول ، بنات رسول ، ازواج رسول کے بارے میں نازیباباتیں کرنے والوں کی زبان کاٹ کر دکھادو ،کم ازکم زبان بند ہی کرکے دکھادو، کفریہ نشریات پہ پابندی لگاکردکھادو، قادیانیوں اور شیعوں کی گستاخ کتابوں اور تقریروں کو مٹا کر دکھادو، اسلامی ریاست بناکراسے غیرمسلموں سے پاک کرکے دکھادو،زنا کے اڈے اور مجروں کا بازار بند کرکے دکھادو۔کیا کیا بتاؤں ، بس نظریہ تقسیم پورا کرکے دکھادو ۔ یہ نہیں کرسکتے تو جناح کی تقسیم پر اتراتے کیوں ہو؟ جناح کے نظریہ پہ فخر کرتے کیوں ہو؟ کیا ہے جناح کا نظریہ ہے ؟ ہندوستان سے الگ ہوکر پاکستان نامی جگہ میں بس تعداد اکٹھی کرنا جہاں ربوہ جیسے بڑے شہر میں قادیانی کو بساؤ، حکومت کی بڑی بڑی کرسی پرشیعہ کو بٹھاؤ تاکہ بڑی بڑی گستاخیاں کرے ، ہندؤں کو بھی پالو ۔ جب تعداد ہی اکٹھی کرنی تھی تو ہندوستان میں اکٹھا رہنے میں کیا برائی تھی ؟
آخر میں ان تمام احباب سے معذرت کے ساتھ جن کی توقعات کے خلاف میری یہ تحریر ہے ،دراصل کئی دنوں سے کچھ سرحدی احباب کو خوشی مناتے دیکھتا آرہا ہوں،اسی سبب مجھے یہ لکھنا پڑا ۔ میرا اصل مخاطب ہندوستانی مسلمانوں کے غم پہ سرحدپارسے خوشی منانے والاہے مزید اس بات کی تاکید کے ساتھ کہ پاکستان کا مطلب لاالاالا اللہ یعنی کلمہ کو نافذ کرناہے، اس مطلب کو پورا کرسکے تو ہندوستانیوں کے غم پہ تمہاراخوشی منانا اس وقت میرے لئے افسوسناک نہیں ہوگا۔
مکمل تحریر >>

Monday, January 6, 2020

چند شبہات ونظریات ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں


چند شبہات ونظریات ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرشمالی طائف(مسرہ)
چند دنوں سے ہندوستانی عوام  جس طرح بے چینی کا شکار ہے اس کی نظیر شاید انگریزی دور میں ہی مل پائے گی ، اُس سے پہلے مسلم حکمرانوں نے شاید اسلام کے لئے کچھ کیا ہویا نہ کیا ہومگر یہاں کے تمام طبقات کے لئے عدل وانصاف سے لیکر حقوق ومراعات کی مکمل پاسداری ضرورکی ہے،یہی وجہ ہے کہ تقریبا آٹھ سوسال مسلمانوں کی حکومت رہتے ہوئے بھی ہماری تعداد چودہ  پندرہ پرسینٹ ہےجبکہ بی جے پی اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی آر ایس ایس کے ساتھ مل کراپنی تعداد کی بڑھوتری اور مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کے منصوبے پر عمل کررہی ہے ۔ہم مسلمانوں کے لئے یہ ایشو فکرمندی کا اتنا باعث نہیں ہے جنتاکہ ہمیں متحد ہونا اور شرک وبدعت سے تائب ہوکر خالص دین حنیف پر جمع ہوناہے۔
اس مضمون کے ذریعہ  مسلمانوں کے  چند نظریات اور شبہات کی حقیقت ٹٹولنا چاہتا ہوں اس وجہ سےہندوستان کے مختلف صورت حال یا موجودہ صورت حال پر ہندؤں کے نظریات سے صرف نظر کرتا ہوں ۔
سب سے پہلے اسلامی نقطہ نظر سے جمہوری ملک میں احتجاج کی شرعی حیثیت پہ مسلمانوں کے درمیاں جوازوعدم جواز پہ اپنی بات رکھنا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ مظاہرے حرام ہیں ،اس بات کی وضاحت کے ساتھ کہ جو علماء قرآن وحدیث سے اس کے جواز کی دلیل پیش کرتے ہیں ان کا استدلال غلط ہے۔اب میں خالص سیاسی پس منظر میں بات کررہا ہوں اور سیاست میں مفیدمصلحت ملحوظ رکھ سکتے ہیں ۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے سے ظالمانہ قانون بھی پاس کیا جاسکتا ہے اس کی روک تھام کے لئے جمہوری دستور میں ہی پرامن مظاہرے کو قانونی جواز حاصل ہے ۔ ملک میں جب سی اے بی لانے کی بات ہوئی تو شروع میں اکثرلوگوں کی رائے تھی کہ یہ ایوان حکومت سے پاس نہیں ہوپائے گی  کیونکہ یہ تمام ہندوستانیوں کے لئے نقصان دہ ہے مگر پھر بھی دونوں ایوانوں سے پاس ہوکرایکٹ کی شکل اختیار کرلی ۔ ہند میں ظلم کےخلاف آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ کورٹ میں مقدمہ درج کرنا بھی ہے مگر موجودہ کورٹ ، وکیل ،پولیس، رپورٹر سب بھاجپا کی مٹھی میں ہیں ۔ ہم نے بابری مسجد کا فیصلہ بھی دیکھا جو سپریم کورٹ سے آیا، اس کے لئے ہم نے مظاہرے نہیں کئے تھے کورٹ پر انحصار کئے تھے ، فیصلہ پر نظرثانی کے لئے دوبارہ کورٹ میں عرضی  پیش کی گئی جسے یک لخت خارج کردی گئی ۔ ایسی صورت حال میں ظالمانہ قانون کیب کی روک تھام کے لئے پرامن مظاہروں کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مظاہرے موجودہ صورت حال میں جائز ہی نہیں ہم سب کی اولین ضرورت ہیں ، بروقت انہیں اپنے تمام کام کاج پر ترجیح دینا چاہئے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے میں علماء سرفہرت رہے ہیں اور انہوں نے ملک بھر میں مظاہرے کئے ، ان میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیاسوائے انگریزی غلام ومنافق کے۔اس میں مزید ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں کہ جو لوگ اس بل کی حمایت میں ہیں ان کےساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہئے ، اس بابت میرا یہ کہنا ہے کہ ہمیں ان سے تعرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، ملک کی اکثریت مخالفت میں کھڑی ہے ہم اکثریت کے ساتھ مل کر عدلیہ اور حکومت پر دباؤ بناسکتے ہیں ۔ رہی بات عورتوں کا مظاہروں میں حصہ لینا جبکہ انہیں اپنے گھروں میں استقرار کا حکم دیا گیا ہے تو میں سمجھتا ہوں یہاں عورت ومرد سب کی جان ومال کو خطرہ ہے ،اگر عورت  کا اس میں حصہ لینا مفید ہے تو وہ بھی حصہ لے سکتی ہے جیساکہ اسے بھی اپنے جان ومال کے لئے دفاع کا حق ہے تاہم شرعی حدود ملحوظ رکھنا چاہئے مثلا پردہ  اوراختلاط کے متعلق ۔
اب میں بات کرنا چاہتاہوں این آرسی کی ، کئی علماء نے بیان دیا ہے کہ آین آرسی قرآن سے ثابت ہے ، میں ان علماء سے بصداحترام گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے اس موقف پر نظرثانی کی زحمت فرمائیں ۔ ایک طرف آپ ہی کہتے ہیں بلکہ پورا ملک کہہ رہا ہے کہ این آر سی مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ پورے ہندوستانیوں کے خلاف ہے پھر تضاد بیانی کیوں ؟  کہیں آپ کی یہ بات کٹرہندو پشپیندرکو نہ معلوم ہوجائے تو جس طرح پہلے کہتا رہا ہے کہ مودی کو اللہ نے بھیجا ہے اب یہ بھی کہے گا کہ تم جب قبول کرتے ہو این آرسی قرآن سے ثابت ہے پھر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہو،چپ چاپ  ملک سے نکل جاؤ۔ دقت نظری سےمسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن میں کیا کہاگیا ہے، کس پس منظر میں کہا گیا ہے  اور کون مخاطب ہیں؟
سورہ ابراہیم  میں اللہ نے ذکر کیا ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں ملک بدر کردیں گےیا پھر ہمارا دین قبول کرلو اور دوسرے مقامات پر بعض اقوام کا بھی ذکر ہے جنہوں نے اپنی قوم کے نبی اور ان پر ایمان لانے والوں کو ملک بدرکرنے کی دھمکی دی مثلا قوم شعیب، قوم لوط اور مشرکین مکہ ۔ میرا سوال ہے کہ کیا این آر سی کا یہی پس منظر اور مطلب ہے جو مطلب مذکورہ آیت میں ہے ؟ کیا ہندوستان کے کافروں نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ تم مسلمان ہندوستان سے نکل جاؤ یا ہندو مذہب قبول کرلو؟ بالکل ایسی بات نہیں ہے ۔
پہلے یہ تو دیکھیں کہ ہندوستان میں کس قسم کے مسلمانوں کی اکثریت ہے، دہلی میں صوفی کانفرنس کرنے والے مودی کے ساتھ مل کر کانفرنس کرتے ہیں کیا یہ لوگ آیت کے مصداق ہوسکتے ہیں ؟ دوسری بات یہ ہے کہ لفظ این آرسی ملک کے تمام باشندوں کو شامل ہے ، اس سے صرف مسلمان مراد نہیں ہے ، اس وجہ سے این آرسی کی دلیل قرآن سے نکالنا نہ صرف اجتہادی خطا ہے بلکہ دشمن کے لئے پروپیگنڈا کا راستہ  بھی ہموار کرنا ہے ۔  
اس سے متعلق آخری بات کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت سےمسلمانوں کو نکال دیا جائے یا ان سب کو قتل کردیا جائے ،اس بات سے حقیقی مسلمان کبھی نہیں خوف کھائےگاکیونکہ ان دونوں صورتوں میں اللہ کی طرف سے ہمارے لئے انعام ہے۔حقیقی مومن کو اس کی زمین سے نکالا جائے تو اللہ انہیں ان کی سرزمین میں واپس بلاتا ہےجیساکہ نبی ﷺ اور اصحاب رسول کے ساتھ ہوا اور اگر قتل کردیا جائے تو وہ اسلام کے لئے قتل ہونے پرشہید کہلائے گالیکن یاد رہے شرک کرنے والا مقتول شہید نہیں ہوگا، اس لئے شروع میں کہا ہوں کہ ہندوتوا کا مسلم مخالف ایجنڈا اتنافکرمندی کا باعث نہیں ہے جتنا کہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ توحید پر ایک جگہ جمع ہوناہے۔
ایک مسئلہ میراساتھ یہ پیش آیا کہ ایک صاحب نے میرے گروپ اسلامیات میں لکھا کہ یہ خالص اسلامی گروپ ہے پھربھی ہندوستانی مسائل پہ کوئی بات چیت نہیں ہے ،علماء خاموش ہیں،کیا مسلمان مرجائیں گے تو آرایس ایس کے غنڈوں کو مسائل بتائے جائیں گے ؟
گرچہ جملوں کا انتخاب صحیح نہیں ہے تاہم وہ موجودہ صورت حال پہ علماء کی خاموشی سےشدید نالاں نظر آتے ہیں ، میں نے انہیں جواب دیا کہ یہاں مسئلے مسائل کی ضرورت نہیں بلکہ ظالمانہ قانون (سی اے بی، این آرسی، این پی آر) کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بات بھی صحیح ہے کہ ملک کے مسلم طبقات کے دینی رہنما، علماء اور طلباء پر جمود طاری ہے ، کچھ ہے تو بس لفاظی ، لچھے دار تقریر یا سیمینار جبکہ ابھی وطن کو ہمارے جسم وجاں کی ضرورت ہےجیسے انگیریزوں سے آزادی کے لئےہمارے آباء واجداد نے قربان دی۔
ہندوستانی صورت حال کےتناظرمیں سوشل میڈیا پہ سرحد پارسے کچھ ہوائیں غلط سمت چلتی نظر آرہی ہیں ، یہ ہوائی اڑانے والے کچھ خود کوموحد کہنے والے بھی ہیں ۔ بہت سارےسرحدی غنچے اس بات پہ کھل رہے ہیں کہ قائداعظم رحمہ اللہ کا دوقومی نظریہ سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ میں دوسروں پہ کم، موحدکہنے والوں پہ زیادہ حیران وششدر ہوں کہ کس طرح ایک غالی شیعہ کو اس کے نام سے نہیں بلکہ قائداعظم سے پکارا جاتا ہے  اور رحمہ اللہ کے ذریعہ دعا دی جاتی ہے ۔ دوسری طرف ہند کے عالم دین ، مفسرقرآن مولاناابوالکلام آزاد ؒ کا نظریہ عدم تقسیم کا ہے ۔ایک موحد کس کو ترجیح دے گا؟
سرحدی بھائی ہمیں قسم قسم کے طعنے دے رہے ہیں ان کا ذکر فضول ہے ،اصل مسئلے کی وضاحت کافی ہے،ایک مسئلہ ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت  پر سوال اٹھانا اور دوسرامسئلہ ہندؤں کا ملک کہہ کر ہمیں یہاں سے ہجرت کرجانے کا مشورہ دہنا ہے ۔ ملک سے محبت پر سوال اٹھانا جہالت اور ناواقفیت کی دلیل ہے، وطن سے محبت اور اس کے اظہار میں قطعی کوئی حرج نہیں ہے اور ہجرت کرنے کا مشورہ دینے والوں کو پہلے اپنے احوال درست کرنا چاہئے ، ہمارے لئے ابھی ہجرت کا وقت نہیں آیا ہے جب اسلامی احکام پر عمل کرنے سےہمیں  روک دیا جائے گا پھر یہ مسئلہ آئے گاقطع نظر اس سے کہ سرحدپار کے وزیراعظم نے مسلمان مہاجر کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ یا للعجب
سب کو معلوم ہے کہ ہند کے حالات پاک سے مختلف ہیں پھر بھی پاک میں بت پرست آرام سے ہیں ، ان سے کوئی بیر سے نہیں ، قادیانیوں کو ایک بڑے شہر ربوہ میں پناہ دی گئی ہے جہاں ان کو اپنی دعوت کی نشرواشاعت کے لئے اخبارات و چینلر سے لیکر ہرقسم کا پلیٹ فارم مہیا ہے ، سالانہ اجلاس اس قدر اہم ہوتا ہے کہ پوری دنیا سے قادیانی اس میں شریک ہوتے ہیں اور پھر عیسائی وشیعہ حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں جو نہ صرف پاک کے لئےخطرناک ہیں بلکہ دین اسلام کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں ، یوٹیوب پر سیکڑوں ویڈیوز مل جائیں گی جن میں شیعہ اللہ، رسول، امہات المومنین، صحابہ اور اسلام کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں ، آخر ان کو مسلم  ملک میں اس قدرچھوٹ کیسے ؟
سرحدپار سے  ایک اور صاحب ملے جو میرے مضمون میں وارد ایک مصرعہ پہ اعتراض کرنے لگے ، مشہور شعر کا ایک مصرعہ ہے۔
ہندی ہیں وطن ہیں ہندوستان ہمارا ،،،، اس پہ انہوں نےمجھے وسعت نظری پیدا کرنے کی نصیحت کی اور کچھ اعتراضات کئے مگر لاجواب ٹھہرے ، اس مصرعہ پہ انہوں نے کہا "مسلم ہیں وطن ہے سارا جہاں ہمارا"۔ میں ان سے بصداحترام عرض کیا کہ اگر آپ سے کوئی پوچھے کس ملک کے باشندہ ہیں تو کیا جواب ہوگا ؟ صاحب کی طرف سےابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔  
خیر،میں نے اختصار سے لکھنے کو سوچا تھا مگرمضمون کچھ طویل ہوگیا، اس مضمون سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر سلیقہ اختلاف ملحوظ خاطر رہنا چاہئے۔ 

مکمل تحریر >>

Thursday, December 19, 2019

مسلمان ڈرنے والی قوم نہیں ہے



مسلمان  ڈرنے والی قوم نہیں ہے

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرطائف-سعودی عرب

جب سے ہندوتوا کو بنیاد بنانے والی اور اسے فروغ دینے والی حکومت برسرے اقتدار آئی ہے تب سے ملک میں بدامنی ، دہشت گردی اور فساد کو بڑھاوا ملا ہے ، اس حکومت سے پہلے بھی ملک میں فساد پائے جاتے تھے مگر اس قدر زیادہ نہیں ۔ اس کی مرکزی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت کے اکثراہل سیاست ہی فسادی ہیں ، ان کے اکثر وبیشترمنسٹروں پرقتل، زنا، دہشت گردی اور غنڈہ گردی کے الزامات ہیں ، ان فسادی منسٹروں کی وجہ سے ملک کے دوسرے فسادیوں کا سرفخروغرور سے بلند ہے ۔ موجودہ اہل سیاست ہی لوگوں کو فساد پر ابھارتےہیں  اور پھرفسادیوں کی حفاظت ودفاع  بھی کرتے ہیں  تاکہ فسادی کی ہمت بلند رہے اور بے خوف ہوکر مزید فساد پھیلاتا رہے ۔
یہ لوگ اس لئے فساد مچاتے ہیں تاکہ ملک کا اقلیتی طبقہ ان سے ڈرا سہما رہےاوریہ ان پر  راج کرتے رہیں ، ان کا دین دھرم بدلتے رہیں ، ان کا خون  پانی کی طرح بہاتے رہیں ، ان کو غدار وطن اوردہشت گرد کہتے رہیں ، انہیں مجرم وفسادی کہہ کر جیل کی سلاخوں میں سڑاتے رہیں ، ان سے اپنی مرضی کا کام لیتے رہیں اور جے شری رام، وندے ماترم کا نعرہ لگواکر ان کو  مجبوراہندوانہ دین پر عمل کرواتے رہیں  ۔یاد رہے ہمارا خون بہ سکتا ہے ، ہم جیل کی سلاخوں میں جاسکتے ہیں ، ظلم وستم کے پہاڑ سہہ سکتے ہیں مگر نہ  باطل طاقت سے ڈرسکتے ہیں اور نہ ہی  اپنے دین وایمان کا سودا کرسکتے ہیں ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کرکے بھگواحکومت اور بھگواتنظیموں نے سوچا اب ہم انہیں ڈرا لئے گئے مگر سبحان اللہ سی اے بی کے خلاف احمدآباد کی سڑکوں پر خواتین کا احتجاج دیکھ کر انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جب یہ گجرات کی مسلم عورتوں میں قتل عام کرنے کی باوجود خوف پیدا نہیں کرسکےتو ہندوستان کے مسلم مردوں میں کہاں سے خوف پیدا کرسکے گا؟مسلمان نڈر اوربہادر قوم ہے ، ہمارے پاس ہتھیار نہ سہی ، اپنے حوصلوں سے لڑتے ہیں اورایمانی طاقت وقوت سے جنگ جتتے ہیں ۔
سی اے بی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی جلوسوں پر کنٹرول کرنے کے لئے حکومت نے متشددانہ رویہ اختیار کی ، پولیس سےگولی چلوائی، آنسو گیس چھوڑوائی ، انٹرنیٹ بند کروائی ،دھارا ۱۴۴ نافذ کی مگر احتجاج جوں کا توں ہے اور کہیں کسی طبقہ پر خوف طاری نہ ہوا۔ اب ہمارے حوصلوں سے حکومت خود ڈر گئی ہے ، نرمی سے بات کررہی ہے ، لوگوں کو پیار سے سمجھانے کی کوشش میں لگی ہے ۔ ایک بڑا گیم یہ بھی کھیل رہی ہے کہ مسلم رہنماوں کو خریدکران کے ذریعہ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے دراصل یہ خود ڈر گئی ہے اور کسی طرح احتجاج رکوانا چاہتی ہے۔ دہلی کے شاہی امام  سید احمد بخاری نے حکومت کے ہاتھوں بکتے ہوئے یہ بیان دیا ہے کہ این آر سی ابھی کوئی قانون نہیں ہے اس کا محض اعلان ہوا ہے ، صرف سی اے بی  قانون ہے اور اس سےہندوستانی  مسلمانوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔یہ تو پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے ہوئے مسلمانوں سے متعلق ہے اس کے تحت انہیں شہریت نہیں مل سکے گی۔ یہ شاہی امام کی زبان نہیں مودی اور امت شاہ کی زبان ہے ، اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت پوری طرح  ڈر گئی ہے اورخود سے کچھ نہیں کرپارہی ہے تو مسلمانوں میں میرجعفرومیرصادق کا کردار نبھانے والوں کو تلاش کررہی اور اپنی بات ان کی زبان سے اگلوانا چاہ رہی ہے ۔ ایک ایسے میرجعفربہار سے بھی سامنے آگئے ہیں ان کا نام ڈاکٹرخالدانور(ایم ایل سی) ہے ، ان کی پارٹی پہلے سنسد میں سی اے بی کی حمایت کرچکی ہے اور وہ اب یہ کہتے ہیں کہ بہار میں این آر سی لاگو نہیں ہونے دیں گے ۔واضح رہے کہ سی اے بی ایک قابون بن چکا ہے اور صرف آسام کے لئے نہیں ہے بلکہ  آسام وبہار سمیت  ہندوستان کے تمام صوبوں کے لئے لایا گیا ہے ، ایک موٹی عقل والا بھی سوچ سکتا ہے کہ کسی بھی صوبہ میں سی اے بی نافذ کرنے کے لئے پہلے این آرسی کی ضرورت پڑے گی اور اس کا اظہار امت شاہ نے سنسد میں بھی کیا ہے کہ این آر سی پورے ملک میں کی جائے گی، گویا سی اے بی اور این آرسی لازم وملزوم کی طرح ہیں ۔ ایسے میں ڈاکٹرخالد انور اور سیداحمد بخاری جیسے دوچہرےوالوں کی باتوں سے ہمیں دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
مجھے خدشہ ہے کہ ملک بھر میں لوگوں کا احتجاج نہ رکا تو ممکن ہے کہ اس طرح ہرصوبہ سے بلکہ  ملک کے کونے کونے سے میرجعفر ومیرصادق نکلے اور ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرے کہ سی اے بی سے  ہندوستانی مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اس لئے چوکنا رہنے اور پرامن احتجاج جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ بابری مسجد کے فیصلے پر بھی ہم نے ایسے دوچہرے والے بہت سے رہنماوں کودیکھا تھاجنہوں نے عدالت کے فیصلے کو مسلمانوں کے حق میں صحیح قرار دیا ، دراصل ان لوگوں کو حکومت نے فیصلہ آنے سے پہلے ہی خرید لیا تھا تاکہ فیصلہ آنے کے بعد لوگوں کی ذہن سازی کرکے خاموش  کرسکے ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, December 17, 2019

ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا


ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا


تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرطائف، سعودی عرب


ظلم کو قیامت کی تاریکی کا نام دیا گیا ہے ، اس تاریکی کو دنیا میں ہرگز برداشت نہیں کرنا چاہئے مگر ہم کمزور ہیں ظلم کا خاتمہ کیسے کریں اور ظالموں کو کیفرکردار تک کیسے پہنچائیں؟آج ہندوستان میں مسلمانوں پر جس قدر ظلم ڈھایا جارہا ہے اس کی مثال انگریزی سامراج میں بھی نہیں ملتی ہے ۔ ہم ظلم اس لئے سہتے آرہے ہیں کہ ہم کمزور ہیں ، ہم  تعداد اور طاقت وقوت  ہراعتبار سے کمزور ہیں ۔ہم  بلامزاحمت قتل ہوتے رہے ، ہندوستان میں مختلف حصوں میں ہمارا خون پانی کی طرح بہایا گیا، دوسرے مسلمان بھائی اس خونی منظر کو دیکھتے رہے اور خاموش رہے ۔ گجرات میں تین ہزار مسلمانوں کو دن کے اجالے میں قسم قسم کی اذیت ناک موت سے دوچار کیا گیا ، مجرم سرے عام گھوم رہے ہیں مگرہم سراپا خاموش رہے ، کہاں جائیں اورکیا کریں ؟ حکومت ظالم ہے ، کورٹ کچہری سب پر ظالم حکومت کا قبضہ ہے ، ایسے میں ہم قتل ہوتے رہیں گے اور حکومت تماشہ دیکھتی رہے گی بلکہ مجرموں کی نہ صرف پشت پناہی کرتی رہے گی انہیں اس مجرمانہ کام پر اکسانے والی بھی یہی ہوگی ۔ دن کے اجالے میں بابری مسجد منہدم کردی گئی ، مجرم موجود ہیں ، ان کے خلاف  سارےثبوت موجود ہیں مگر ان مجرموں کو کوئی سزا نہیں مل سکتی کیونکہ حکومت ظالم ہے اور عدالتوں سے مجرم کو راحت تو مل سکتی ہے سزا نہیں مل سکتی ہے ۔ جب  حکومت نے ہمارے پرسنل لاء  میں دخل اندازی کی ،طلاق پر پابندی عائد کی  اورعدالت نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کا فیصلہ سنا یا  اس وقت یہ اندازہ ہوگیا کہ اب ہندوستان  کے کورٹ کچہریوں سے مسلمانوں کے حق میں بچا کچا انصاف بھی ملیامیٹ ہوگیا۔
جب  بی جے پی کی حکومت ہی لاشوں اور ظلموں کے ڈھیر پر بنی ہواس حکومت کا پارلمنٹ  سے  سی اے بی کا پاس کرانا کوئی امر محال نہیں ہے ۔ ہم کمزور ہوتے ہوئے ابتک سارے ظلم سہتے رہے مگر سوچ وفکر کا مقام یہ ہے کہ کیا یہ ظلم بھی پہلے کی طرح سہہ لیں گے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سہنے والا ظلم نہیں ہے ۔
اس قرار سے ہم سب مسلمانوں کی  جان ومال داو پر لگی ہے ، جہاں سارے مسلمان کی جان داو پر ہو وہاں کیسے خاموش رہ سکتے ؟ جہاں دستور ہند ہمیں عزت وآبرو، جان ومال اور دین وملت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے وہیں شرعی اعتبار سے بھی حق رکھتے ہیں کہ اپنی جان، عزت اور دین کی حفاظت کریں ، بایں طور قتل بھی کردئے گئے تو شہید کہلائیں گے ۔
پہلے ہمیں اپنی ایک غلطی کی اصلاح کرنی ہوگی ، مسلمان این آر سی کے ڈر سے جگہ جگہ کیمپ لگارہے ہیں اور اپنے اپنے کاغذات درست کررہے ہیں ، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیا ہمیں اپنے ہندوستانی ہونے پر شک ہے ؟ بالکل شک نہیں ہے پھر حکومت کے ظالمانہ قانون سے ڈر کر ہندوستانی ہونے کا کیوں ثبوت پیش کریں ؟میں داد دیتا ہوں ان تمام صوبہ جات کے وزراء کو جنہوں نے این آر سی کی سخت مذمت کی ہے اور اپنے اپنے صوبوں میں اسے لاگو نہ ہونے دینے  کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت کو قطعی اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ سارے ہندوستانیوں سے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگیں ۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنی ہوگی اور اپنے ساتھ غیرمسلموں کو بھی اس بھروسے میں لینا ہوگا۔ اگر کسی گاوں میں چوری ہوتو حکومت کا کام ہے چور پکڑے، وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ سارے گاوں والے ثبوت پیش کریں کہ ہم چور نہیں ہیں ۔ لہذا این آر سی کا سرے سے بائیکاٹ کریں جس طرح سی اے بی کا بائیکاٹ کررہے ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی بھی تعداد کم نہیں ہے مگر آپس میں مسلکی ٹولیوں میں بٹنے کی وجہ سے ہم کمزور لگ رہے ہیں جبکہ حقیقت میں ہم اتنے کمزور بھی نہیں ہیں جتنا رونا روتے ہیں ۔ہم سب ایک  دین کے ماننے والے ہیں ،ہمیں اس  دین پر ایک ہونا ہوگا۔ ہم کو ایک کرنے کا طریقہ  بھی وہی ہوگا جس طریقہ سے ہم جدا جدا نظر آتے ہیں ۔ عوام کو گروہوں میں ان کے علماء نے تقسیم کیا ہے وہی علماء عوام کو ایک جگہ جمع ہونے کا درس دے کر جمع کرسکتے ہیں ۔ یہاں امیرالمومنین چننے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک جگہ جمع ہوکر مشترکہ کوششوں سے ظالمانہ قرار داد کی مخالفت کرنی ہے اور دستوری طور پراپنا حق بحال رکھنا ہے ۔
افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے علماء ابتک یہ بیان جاری کرچکے ہیں کہ اس وقت ہمیں متحد ہونا چاہئے، ہمیں کیب کی مخالفت کرنی چاہئےاور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جمہوری ملک میں حقوق طلبی  اور ظالمانہ قرارداد مسترد کرنے کے لئے عموما مظاہرے ہی کرنا پڑتا ہے ، باشعور ہندوستانیوں نے اس بات کو محسوس کیا اور ہند کے اکثر علاقوں میں پرامن مظاہرے کررہے ہیں حتی کہ عصر ی طالب علموں نے اس میدان میں نمایاں اقدام کیا جس کی وجہ سے ان پر مظالم ڈھائے گئے، وہ سب طالب علم شکریہ کے حقدار ہیں  ۔ افسوس کا مقام ہے کہ مظاہرین کی صفوں میں علمائے امت ، رہنمائے ملت اورقائدین اسلام  نظر نہیں آرہے ہیں ۔جنگ آزادی میں علماء کی قیادت و شجاعت اور جان ومال کی قربانیاں ہمارے سامنے ہیں ۔ اس لئے صرف بیان بازی سے کام نہیں چلے گا ، اپنی اپنی جماعت وجمعیت لیکرقائدین وعلماء کوگھروں سے نکلناپڑےگا اور عوام کے شانہ بشانہ ہوکر پرامن مظاہرے میں حصہ لینا ہوگا۔
سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ کیب کی مخالفت میں پورا ملک بشمول  ہندو، سکھ، عیسائی ہمارے ساتھ ہے ، اپنوں میں او ر غیرمسلم بھائیوں میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ این آر سی ہم سب کے لئے خطرناک ہے ، ہم سب لوگوں کو پہلے یہ ثابت کرناہوگا کہ ہندوستانی ہیں اور ظاہر سی بات ہے یہ کام سب کے لئےبڑا دشوار ہے ، خاص طور سے غریب ومزدور لوگوں کے لئے جن کے پاس کاعذات محفوظ نہیں ہوتے، سیلاب زدہ علاقوں کے لئے  جن کا کوئی سامان محفوظ نہیں ہوتااورہندومسلم عورتوں کے لئے جن کے نام سے سرکاری کاعذات کم ہی ہوتے ہیں ۔ جب یہ شعور تمام لوگوں میں پیداہوجائے گا تو ان سب کے لئے کیب کی مخالفت کرنا آسان ہوگا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ کیب کے خلاف پورے ہندوستان میں مظاہرے ہورہے ہیں ، ان میں مسلم علماء اور قائدین کی بھی  شمولیت ضروری ہے، ساتھ ساتھ لوگوں کو خصوصا غیرمسلموں کو این آر سی کی مشکلات کا احساس دلانا ہے اور ہمیں کوئی کاغذ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ ہندوستان ہمارا ہے ، ہم یہاں پیدا ہوئے ، ہمارے باپ دادا نے انگریزوں کی غلامی سے ملک آزاد کرایا اور ان سب نے مل کر سیکولربھارت  بنایا جس کا آئیں سیکولر ہے ، اس آئین کے تحت سب کو ملک میں رہنے اور اپنے اپنے مذہب کے حساب سے جینے کا حق حاصل ہے ۔ کوئی اس سیکولربھارت اور سیکولرآئین کو توڑنے کی کوشش کرے توہمیں اسے اس ملک سے باہر کرنا چاہئے یا ایسے ظالم کے ہاتھوں حکومت نہیں سونپنی چاہئے یاکم ازکم  سیکولرزم کو ٹوٹنے سے روکنا چاہئے ، آخری کام تو ہمیں ہرحال میں کرنا ہوگا۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہيں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

مکمل تحریر >>