Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (101)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (101)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ- سعودی عرب

 
سوال: میں نے سنا ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان تین بار یہ دعا(اللهم  إني أسالك العفو والعافية) پڑھنے سے چار انعامات ملتے ہیں۔ اللہ وہ بیماری نہیں دے گا جس میں موت آجائے، اللہ اسے تنہائی کے گناہ سے بچائے گا، دنیا کے ظالم لوگوں سے واسطہ نہیں پڑے گا۔اللہ کے بغیر محنت کے آسان روزی عطا کرے گا۔ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟

جواب: اذان اور اقامت کے درمیان دنیا اور آخرت میں عافیت کی دعا کرنے سے متعلق ترمذی میں ایک حدیث ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی یعنی قبول ہوجاتی ہے۔لوگوں نے پوچھا اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) دنیا اور آخرت دونوں میں عافیت مانگو۔(ترمذی:3594)

اس حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے یعنی اذان اور اقامت کے درمیان دعا قبول ہوتی ہےیعنی یہ بات صحیح ہے لیکن اس کے بعد والا جملہ(سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) ثابت نہیں ہے، محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے لہذا اذان اور اقامت کے درمیان مذکورہ دعا کرنا ثابت نہیں ہے۔
اذان اقامت کے درمیان عمومی دعا کرنے میں حرج نہیں ہےکیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ اذان واقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی حتی کہ بلا تخصیص مذکورہ دعا بھی کرسکتے ہیں مگر خاص کر کے اور خاص فضیلت کے لیے یہ دعا پڑھنا درست نہیں ہے۔

سوال: میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ایک گاؤں میں کام کرتی ہوں۔ یہاں پر غیرمسلم کی اکثریت ہے اور یہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی شراب نوشی کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور صحت کے دیگر مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ شراب پینے والوں کا علاج نہیں کرنا چاہیے اس سلسلے میں رہنمائی کریں؟

جواب: ایک ڈاکٹر بیمار کی بیماری کا علاج کر سکتا ہے خواہ وہ کیسی بھی بیماری کیوں نہ ہو۔ ڈاکٹر کا کام بیمار کا علاج کرنا ہے لہذا وہ شراب پینے والے کا بھی علاج کر سکتا ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر کو چاہیے کہ ایسے آدمیوں کو اس طور پر نصیحت بھی کرے کہ وہ شراب پینا چھوڑ دے۔ ڈاکٹر کی نصیحت مریض کو بہت کام آتی ہے۔

سوال: میں نے کسی کو قرض دیا تھا اور اب وہ واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے اور مجھے زکوۃ بھی دینی ہے مگر زکوۃ دینے کے لیے میرے پاس اضافی رقم نہیں ہے تو کیا اس قرض کو زکوۃ میں معاف کر سکتے ہیں؟

جواب: جو آدمی قرض واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، اگر اس کا قرض معاف کر دیتے ہیں تو یہ اس آدمی کے ساتھ بہت بڑی بھلائی ہے، اس بھلائی کا اللہ کے یہاں بہترین صلہ ملے گا۔ جہاں تک زکوۃ کا مسئلہ ہے تو قرض میں دیا ہوا پیسہ زکوۃ نہیں مان سکتے یا اسے زکوۃ مان کر معاف نہیں کرسکتے ہیں۔ زکوۃ وہ چیز ہے جسے الگ سے زکوۃ کی حیثیت سے نکالنی ہوگی۔ اور اللہ نے اس چیز میں زکوۃ رکھا ہے جو انسان کی ملکیت میں ہو، زکوۃ دینے والی چیز ہو اور وہ نصاب تک پہنچی ہوئی ہو پھر اس پر ایک سال گزر جائے۔ اگر آپ کو مال میں سے زکوۃ دینی ہے تو گویا آپ کے پاس مال موجود ہے، اسی مال سے آپ کو زکوۃ دینا ہے۔آپ کے ذمہ اس چیز کی زکوۃ نہیں ہے جو آپ کی ملکیت میں نہیں ہے۔

سوال: ایک شخص نے دوسری شادی کی ہے، اس بیوی کے پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہیں، کیا وہ شخص اپنی زکوۃ ان بیٹیوں پر خرچ کرسکتا ہے؟

جواب : جب ایک شخص ایک شادی شدہ عورت سے شادی کرتا ہے اس حال میں کہ اس عورت کو پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہوں تو یہ بیٹیاں اس مرد کے حق میں ربیبہ کہلاتی ہیں۔ اس مرد پر اس ربیبہ کا نفقہ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی اپنی اولاد نہیں ہے لہذا وہ مرد اس ربیبہ کو زکوۃ دے سکتا ہے اگر وہ فقیر اور مسکین کے زمرے میں آتی ہو بطور خاص جب وہ ربیبہ اس مرد سے الگ اور دور رہتی ہو۔

سوال: میاں بیوی کے خاص تعلق کے بعد فوری غسل کرنا ضروری ہے یا طہارت حاصل کرنا کافی ہوگا۔ اگر بغیر طہارت حاصل کئے سو جائے اور فجر کے وقت غسل کرے تو گناہ ملے گا؟

جواب: ہمبستری کے بعد غسل کرنا چاہیے یا کم از کم وضو کرلینا چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔(صحیح البخاری:288)
اس لیے جماع کے بعد افضل یہ ہے کہ آدمی غسل کرے یا کم از کم وضو کر کے سونا مسنون ہے۔ بغیر وضو کے جنابت کی حالت میں سونے کو اہل علم نے مکروہ کہا ہے۔

مختصر یہ کہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کے جنابت کی حالت میں سوگیا اور فجر سے پہلے غسل کرکے وقت پر فجر کی نماز ادا کیا ،ایسا شخص گنہگار نہیں کہلائے گا۔

سوال: ایک عورت کے پاس نو(9) تولہ سونا ہے، وہ اس کی زکوۃ دینا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سونا کا ریٹ روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کیا ایک ہی دن کے ریٹ کے مطابق زکوۃ کا حساب کر کے مکمل اسی دن ادا کرنا ضروری ہے یا پھر اگر زکوۃ قسطوں میں ادا کی جائے تو ہر دن کے موجودہ ریٹ کے مطابق الگ الگ حساب کیا جائے گا؟

جواب: سونا کی زکوۃ سال مکمل ہونے پر دینا ہے اور جس دن سال مکمل ہو رہا ہو اس دن سونے کی جو قیمت ہو اس کا اعتبار کرکے اسی دن مکمل زکوۃ الگ کر دینا ہے اور اس زکوۃ کو بالفور اور بلاتاخیر تقسیم کرنا ہے یعنی زکوۃ کو رکھ کر قسطوں میں نہیں تقسیم کرنا ہے بلکہ زکوۃ نکال کر فوری طور پر اسے مستحق میں تقسیم کر دینا ہے۔زکوۃ کی تقسیم میں دو چند دن تاخیر ہوجائے اس میں حرج نہیں ہے لیکن زکوۃ نکال کر اسی دن الگ کرلینا ہے جس دن سال مکمل ہورہا ہے۔

سوال: کیا خواتین رمضان المبارک میں ہر جمعہ، مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں یا یہ عمل بدعت شمار ہوگا؟

جواب: خواتین کے اوپر پنج وقتہ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے اور اسی طرح خواتین پر جمعہ کی نماز بھی فرض نہیں ہے، وہ جمعہ کے بدلے اپنے گھر میں ظہر کی نماز ادا کریں گی تاہم اگر عورت، جمعہ کے دن مسجد میں حاضر ہوکر مردوں کے ساتھ جمعہ ادا کرتی ہے تو اس میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔ عام دنوں میں بھی عورت جمعہ کی نماز مسجد میں آکر پڑھ سکتی ہے اور رمضان میں بھی ہرجمعہ مسجد میں آکر نماز پڑھنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس عمل کو بدعت نہیں کہیں گے کیونکہ عہد رسول میں بھی خواتین مسجد میں پنج وقتہ نمازوں میں بھی حاضر ہوتی تھیں اور جمعہ کی نماز میں بھی حاضر ہوتی تھیں۔

سوال: دو یا تین سال کے رمضان کے قضا روزے میرے ذمہ ہیں۔ میرے ساتھ جسمانی تکلیف ہے، جب بھی روزہ رکھتی ہوں تو تکلیف بہت بڑھ جاتی ہے اور جلدی کم بھی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر کو دکھایا، سب نارمل ہے اور دوا کھانے تک افاقہ رہتا ہے مگر جیسے دوا چھوڑتی ہوں، فورا تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کروں تو کیا مجھے فدیہ بھی دینا پڑے گا اور فدیہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: سوال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنے کی استطاعت نہیں ہے تو ایسی صورت میں آپ کے اوپر اس وقت قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور ویسے بھی رمضان قریب ہے، آپ ابھی آنے والے رمضان کا روزہ رکھ لیں اور پھر رمضان کے بعد جب قضا کی استطاعت وسہولت  ہو جائے تو قضا روزہ بھی بلاتاخیر ادا کر لیں اور آپ کو صرف روزوں کی قضا کرنی ہے، الگ سے فدیہ نہیں دینا ہے۔

سوال: کیا بکرے اور گائے کی اوجھڑی کھا سکتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے مکروہ کہتے ہیں؟

جواب: حلال جانور کی اوجھڑی حلال ہے، آپ بلا شبہ اسے کھا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اوجھڑی کی حرمت پہ کوئی دلیل نہیں ہے۔

سوال: کیا عید کے دن نئے کپڑے پہننے سے متعلق کوئی صحیح حدیث وارد ہے؟

جواب: صحیح بخاری (948)  میں ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ" عمر رضی اللہ عنہ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو بازار میں بک رہا تھا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی پذیرائی کے لیے اسے پہن کر زینت فرمایا کیجیے"۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کے دن زینت اختیار کرنا اور عمدہ لباس لگانا مسلمانوں کی عادت تھی، اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ نے نیا لباس عید کی مناسبت سے خریدنے کے لیے کہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق بیہقی میں موجود ہے کہ وہ عیدین میں عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔

سوال: اگر عورت کے کپڑے یعنی شلوار میں میانی نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی ہے؟

جواب: عورت کی شلوار میں میانی نہ ہو تو اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلاشبہ اس میں پڑھی گئی نماز درست ہے۔ اور ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ بغیر میانی والے لباس میں نماز نہیں ہوتی بلکہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسول میں کتنی ساری خواتین کو صرف ایک ہی لباس ہوتا تھا اور اسی ایک لباس  میں وہ نماز پڑھ لیتی تھیں۔

سوال: اگر کوئی مرد یا عورت اکیلے رہتے ہوں اور کسی سے ملنا جلنا نہ ہو تو کیا اس پر شیطانی اثرات ہوجاتے ہیں؟

جواب: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اس جگہ رہنا چاہئے جہاں انسانوں کی بستی ہے، اکیلے میں نہیں رہنا چاہئے تاکہ وہ معاشرتی طور پر زندگی گزارے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بستی میں رہ کر بھی آدمی کو لوگوں سے مل کر رہنا چاہئے کیونکہ ایک کو دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح معاشرہ چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ آدمی کو اکیلے رات گزارنے سے منع کیا گیا ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَحْدَةِ أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ، أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ".(مسند احمد:5650)

ترجمہ:سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا رات گزارنے یا تنہا سفر کرنے سے منع کیا ہے۔

اکیلے رات گزارنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو سکھ دکھ میں دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے مل کر رہنا چاہئے۔

جو آدمی اپنے گھر میں اکیلے ہو، وہ اکیلے اپنے گھر میں سوسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اسے لوگوں سے مل جل کر رہنا چاہئے تاکہ جب اسے کسی کام میں دوسرے کی ضرورت پڑے اس سے مدد لے سکے۔

جہاں تک یہ مسئلہ ہے کہ اکیلے سونے سے شیطان کا اثر ہوجاتا ہے، یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس تعلق سے امام طبرانی نے ایک روایت ذکر ہے، اس طرح سے۔

يعتدى المرء عند أربعة خصال إذا نام وحده وإذا نام مستلقيا وإذا نام في ملحفة معصفرة وإذا اغتسل بفضاء من الأرض فمن استطاع أن لا يغتسل بفضاء من الأرض فإن كان لا بد فاعلا فليخطط خطا(المعجم الأوسط للطبرانی:1888)

ترجمہ:انسان پر چار حالتوں میں (شیطان کا) اثر ہوتا ہے:جب وہ اکیلا سوتا ہے،جب وہ چت لیٹ کر سوتا ہے،جب وہ زعفرانی (پیلا/رنگا ہوا) کپڑا اوڑھ کر سوتا ہے اور جب وہ کھلی زمین میں غسل کرتا ہے۔ پس جو شخص کھلی جگہ میں غسل نہ کرے تو بہتر ہے، اور اگر اسے کرنا ہی پڑے تو (اپنے گرد) ایک لکیر کھینچ لے۔

یہ روایت ضعیف ہے، امام طبرانی نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے، علامہ ہیثمی نے بھی اسے نقل کرکے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اس لئے یہ روایت قابل حجت نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مجبوری میں اکیلے سونے میں حرج نہیں ہے اور اس میں شیطان کا اثر ہونے والی بات درست نہیں ہے۔ ہاں جب آدمی اللہ کے ذکر اور اس کی عبادت سے غافل ہو تو اس پر شیطان حاوی ہوسکتا ہے خواہ وہ اکیلے میں رہتا ہو یا لوگوں کے درمیان رہتا ہو۔ اس لئے انسان جہاں بھی رہے اللہ کی عبادت کرتا رہے اور اس کے ذکر میں لگارہے۔

سوال: دورہ قرآن کے ایام میں مسجد میں دینی کتابوں کا اسٹال لگانے اور کتابیں بیچنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: مسجد میں کوئی چیز بیچنا جائز نہیں ہے خواہ دینی کتاب ہی کیوں نہ ہو لہذا کسی آدمی کا مسجد میں بک اسٹال لگانا اور کتابیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے اور جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔(ترمذی:322)

سوال: میرے یہاں شیعہ کی مسجد ہے، اس میں علم، پنجہ اور بہت سی چیزیں موجود ہیں۔ کیا اس میں ہم خواتین اپنی جماعت بنا کر سنت کے مطابق تراویح کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: عورتوں کے لیے مسجد میں نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے، وہ اپنی نماز کہیں بھی پڑھ سکتی ہیں بلکہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل و بہتر ہے۔ مسلم عورتوں کے لیے شیعہ کی مسجد میں تراویح کی جماعت بناکر نماز پڑھنا درست نہیں معلوم ہوتا ہے، ممکن ہے شیعہ ان مسلم عورتوں میں تشیع پھیلانے کی کوشش کرےیا ان کے ساتھ کوئی دوسرا معاملہ درپیش ہوجائے۔ شیعہ حضرات  ،مسلمانوں سے الگ اور کفریہ عقائد رکھنے والے ہوتے ہیں لہذا اس قسم کی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔ عورتیں اپنے گھر میں جمع ہوکر تراویح پڑھ سکتی ہیں یا مسلمانوں کی مسجد ہو اور وہاں پر تراویح پڑھنے کے لیے سہولت ہو تو اس میں شریک ہو سکتی ہیں۔ یا وہ اپنے اپنے گھر میں اکیلے بھی پڑھ سکتی ہیں، تراویح کے لیے جماعت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: لوگ اپنے گھروں میں مختلف قسم کے جانور جیسے مچھلی، بلی، خرگوش، گھوڑا، اونٹ، باز اور چیتا وغیرہ پالتے ہیں۔ انہیں کھلانے پلانے اور علاج و نگرانی کرنے میں اخراجات بھی آتے ہیں۔ کیا ان جانوروں کی خرید و فروخت جائز ہے؟

جواب: جو چیزیں ہمارے لئے حلال ہیں، ان کو خریدنے بیچنے اور اپنے گھرمیں رکھنے میں حرج نہیں ہے ۔ مچھلی ، خرگوش، گھوڑا اور اونٹ حلال جانور ہیں۔ ان کو اپنے گھر میں رکھ بھی سکتے ہیں اور ان کی خریدوفروخت بھی  کرسکتے ہیں۔ بلی تو حرام جانور ہے مگر گھروں میں کثرت سے آنے والی ہے، اس لئے اپنے گھر میں بلی پال سکتے ہیں مگر بلی کا کاروبار(خریدوفروخت) جائز نہیں ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو زبير رحمہ اللہ سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے كتے اور بلى كى خريد و فروخت كے متعلق دريافت كيا تو انہوں نے فرمايا:نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے ڈانٹا ہے۔(صحیح مسلم:1569)

بلی کے ماسوا اپنے گھر میں چیرپھاڑ کرنے والے جانور نہیں رکھنا چاہئے۔ سعودی کے مستقل فتوى كميٹى كا کہنا ہے:بليوں اور كتوں كى خريد و فروخت جائز نہيں اور اسى طرح دوسرے چيڑ پھاڑ كرنے والے درندے جن كى كچلى ہو كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا اور ايسا كرنے سے ڈانٹا ہے اور اس ليے بھى كہ اس ميں مال كا ضياع ہے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے۔ (فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء :13 / 37)

سوال: ایک عورت عشاء کی فرض نماز پڑھتی ہے مگر سنت اور وتر نہیں پڑھتی ہے،کیا یہ پڑھنا ضروری ہے؟

جواب: ایک مسلمان پر فرض نماز کا ادا کرنا ہرحال میں ضروری ہے، اس میں کوتاہی کسی صورت میں معاف نہیں ہے ۔ جہاں تک  سنت اور وتر کا معاملہ ہے تو سنت بھی وہ نماز ہے جسے نبی ﷺ برابر ادا کرتے رہے۔ سنت، کا ادا کرنا واجب نہیں ہے مگر اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ فرض نماز میں جو نقص و کمی پیدا ہوجاتی ہے اس کی تلافی سنت ونفل سے کی جائے گی لہذا نمازی کو سنت کی بھی پابندی کرنی چاہئے۔اگر کبھی کسی ضرورت وحاجت کی وجہ سے سنت رہ جائے تو اس میں مسئلہ نہیں ہے لیکن مستقل طور پر سنت کا تارک نہیں بننا چاہئے۔ وتر کی بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہے، نبی ﷺ سفر و حضر ہمیشہ  وترکی پابندی فرماتے رہے لہذا ہمیں رسول اللہ ﷺ کی طرح پانچوں نمازوں کے ساتھ سنن رواتب اور وتر کی بھی پابندی کرنی چاہئے۔

سوال: ایک خاتون کے شوہر کی طبیعت خراب رہنے کی وجہ سے وہ نوکری نہیں کرتے ہیں اس کو دو بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ معاشی حالت بہت خراب ہے، گھر کا خرچ اور بنیادی ضروریات کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ وراثت میں کچھ پیسے ملے تو اس نے اپنا قرض ادا کیا اور جو کچھ بچا اس کے بھائی نے یہ کہہ کر لے لیا کہ اس سے اس کا گھر بنا دیں گے۔ ایسے شخص کی زکوۃ کے ذریعہ مدد کر سکتے ہیں؟

جواب: جو صورت حال مذکور ہے اس میں اس فیملی کی  ضرورت بھر زکوۃ سے مدد کرسکتے ہیں ، بعد میں جب حالت درست ہوجائے پھر زکوۃ نہیں دینا چاہئے لیکن جب تک مالی حالت خراب ہے، مدد کی جاسکتی ہے۔

سوال: اگر ہم کلمہ گو مشرک اور بدعتی لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں جیسے رمضان میں دعا کریں تو کیا ہماری دعا قبول ہوگی اور ان کی مغفرت ہو جائے گی؟

جواب: جو کلمہ پڑھنے والے مسلمان ہیں، اللہ پر ، قرآن پر اور محمد ﷺ پر ایمان لاتے ہیں  خواہ وہ بدعت کرتے ہوں یا جانے انجانے میں شرک کرتے ہوں ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا جائز ہے۔ آپ کی دعا قبول ہوگی یا نہیں ہے، یہ اللہ کا معاملہ ہے، اللہ کے معاملہ میں ہمیں فکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے  ذمہ میں جو کام ہے، آپ  وہ کریں۔ آپ کے لئے دعا کرنا جائز ہے ، آپ  دعا کریں ، خصوصا ان(زندوں کے لئے) کی ہدایت کے لئے دعا کریں کہ اے اللہ ! ان کو سیدھے راستے کی توفیق دے اور شرک وبدعت سے بچا۔

سوال: لوگ ایک دوسرے کو بلیک میں گیس بیچتے ہیں تو کیا یہ عمل صحیح ہے؟

جواب: بلیک سے گیس بیچنا قانوناجرم ہے، حکومت کے ساتھ دھوکہ ہے جبکہ ایک مسلمان کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: مَنْ غَشَّنَا، فَلَيْسَ مِنَّا(صحیح مسلم:101) یعنی جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

سوال: ایک مدرسہ کرائے پر چلتا ہے، اس میں کچھ ضرورت مند اور کچھ عام بچے پڑھتے ہیں، ان سے مناسب فیس بھی لی جاتی ہے، اس مدرسہ میں کارپیٹ کی ضرورت ہے، کیا اس کو کارپیٹ کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب: مدرسہ میں زکوۃ دے سکتے ہیں یا نہیں ، اس مسئلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔اس بارے میں  قوی موقف یہی ہے کہ مدرسہ زکوۃ کا مصرف نہیں ہے لیکن مدرسہ میں پڑھنے والے وہ بچے جو فقیر ومسکین کے زمرے میں آتے ہوں ان پر زکوۃ خرچ کرسکتے ہیں، اس میں کوئی دورائے نہیں ہے۔اس مدرسہ میں ضرورت مند بچے بھی ہیں تو ان بچوں کے واسطے زکوۃ دی جاسکتی ہے مگر اس مدرسہ کے لئے اس مد میں زکوۃ دینا جس سے سبھی بچے فائدہ اٹھائیں مناسب نہیں ہے۔ مذکورہ کام کے لئے لوگوں سے عام صدقات اور تبرعات کی اپیل کی جائے۔ زکوۃ کو اس کے اصل مصارف میں ہی خرچ کیا جائے۔

سوال: میری بہن نے میری خالہ کا دودھ پیا ہے۔ اسی طرح میری امی نے بھی میری خالہ کے لڑکے کو دودھ پلایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میری بہن نے خالہ کا دودھ پیا تو کیا اس کے لیے خالہ کے تمام لڑکے محرم ہیں اور اسی طرح خالہ کے بیٹے نے میری امی کا دودھ پیا ہے تو کیا وہ میرے لیے بھی محرم ہے اور خالہ کے دوسرے بیٹے بھی میرے لیے محرم ہیں۔ نیز یہ بھی امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ میں نے بھی خالہ کا دودھ پیا ہو۔ تو اس میں بھی سوال ہے کہ کیا شک کی بنیاد پر رضاعت مانی جائے گی؟

جواب:اس مسئلہ میں سب سے پہلے یہ بات جان لینی چاہئے کہ رضاعت دو شرطوں سے ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ  کہ دو سال کی مدت میں ہی بچے کو دودھ پلایا گیا ہو ۔ دوسری بات یہ کہ بچے کو پیٹ بھر کر پانچ مرتبہ دودھ پلایا گیا ہو۔ اگر ان دونوں شرطوں میں ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو رضاعت ثابت نہیں ہے۔

رضاعت کے اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے جس لڑکی نے اپنی خالہ کا دودھ پیا، اس لڑکی کے لئے اپنی خالہ کے سارے بیٹے محرم یعنی رضاعی بھائی ہوگئے۔ اسی طرح جس لڑکے نے  اپنی خالہ کا دودھ پیا ، وہ  لڑکا اپنی خالہ کی ساری بیٹیوں کے لئے محرم یعنی رضاعی بھائی ہوگیا۔ یہ لڑکا آپ کے لئے بھی محرم ہےاور آپ کی ساری بہنوں کے لئے بھی  مگر آپ کے لئے آپ کی خالہ کے دوسرے بیٹے محرم نہیں ہیں کیونکہ آپ نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا ہے۔ نیز محض شک کی بنیاد پر رضاعت ثابت نہیں ہوگی ۔ رضاعت کے ثبوت کے لئے مذکور ہ بالا دونوں شرطیں یقینی علم کے ساتھ پائی جاتی ہوں تبھی رضاعت ثابت ہوگی۔ 

 

مکمل تحریر >>

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(100)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(100)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب

 

سوال: دو سجدوں کے درمیان جو دعا ہے، اگر اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجائیں تو گناہ ہوگا؟

جواب: اس میں گناہ کی کوئی بات نہیں ہے، اور جہاں تک دو سجدوں کے درمیان پڑھی جانے والی دعا کا معاملہ ہے، وہ مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ اس بارے میں کم از کم الفاظ والی سے مختصر دعا یہ ہے۔)رَبِّ اغْفِرْ لِي ، رَبِّ اغْفِرْ لِي(

اس دعا کو پڑھ لینا کافی ہے ، یہ ہلکی اور آسان بھی ہے۔

اسی طرح بعض دوسری دعائیں ہیں، جن سب کو جمع کرنے سے سات کلمات بنتے ہیں۔

بعض دعاؤں میں اکٹھے پانچ کلمات آئے ہیں جیسے ابو داؤد میں پانچ کلمات ایسے آئے ہوئے ہیں۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني» ”یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے“ کہتے تھے۔ (سنن ابي داود:850)

دعا اور اذکار وغیرہ میں ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اسی طرح سے پڑھنا چاہیے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ دونوں سجدوں کے درمیان والی دعا سے متعلق بھی افضل یہی ہے کہ جس طرح وارد ہے اسی طرح سے پڑھنا چاہیے اور یہ بھی صحیح ہے کہ بعض حدیثوں میں الفاظ آگے پیچھے آئے ہوئے ہیں، اس وجہ سے بعض علماء نے کہا ہے کہ ان الفاظ میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔ جس طرح بھی پڑھ لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شیخ صالح اللحیدان جو ہیئۃ کبار العلماء میں سے ہیں، ان کا یہی کہنا ہے۔

آسانی کے لیے چھوٹی دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے، جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے اور پانچ کلمات والے الفاظ بھی جو ابو داؤد میں آئے ہیں وہ بھی پڑھی جا سکتے ہیں اور سات الفاظ بھی جمع کرکے پڑھیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ترتیب بدل جائے تو حرج نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی کے اوپر قرض ہے اور بینک میں جمع پیسوں میں جو سود آتا ہے اس رقم سے کیا اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے، مقروض کی مالی حالت بہت بدتر ہے؟

جواب: جو آدمی مقروض ہو اور خود سے اپنا قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جسے بیچ کر وہ اپنا قرض ادا کرسکے تو ایسی صورت میں ایسے آدمی کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔

جہاں تک بینک میں موجود سود کا مسئلہ ہے تو اس سود کے بارے میں آپ یہ سمجھیں کہ یہ حرام مال ہے، یہ نہ بینک میں پیسہ رکھنے والے کے لیے حلال ہے، نہ ہی دوسرے کسی آدمی کے لیے حلال ہے، حرام مال سب کے لیے حرام ہی ہوتا ہے۔ اسے رفاہی اور مشترکہ کام میں لگا دینا چاہیے یا اضطراری صورت میں انسانی جان بچانے کے لئے دے دینا چاہیے۔

جس آدمی سے متعلق مسئلہ پوچھا گیا ہے، اس کو زکوۃ سے تعاون کرنا چاہیے بشرطیکہ زکوۃ کا مستحق ہو جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے۔ زکوۃ نہ ہو تو نفلی صدقات اور عطیات سے مدد کرنا چاہیے اور اگر دینے کے لیے دوسرا کوئی پیسہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بینک کا سود دے سکتے ہیں۔

سوال: ایک خاتون نے زیور بنک لون پر لیا ہے، اور وہ ایک سال سے اس کی قسط بھر رہی ہے، کیا اس زیور پر زکوۃ نکالنی ہے؟

جواب: یہاں پر اصل معاملہ یہ ہے کہ زیور خریدنے کے لئے بنک سے سودی لون لیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ زیور خریدنے کے لیے بنک سے لون لینا جائز نہیں ہے کیونکہ سودی قرض لینا سود پر تعاون ہے اور یہ گناہ کا باعث ہے۔

بہر حال! اس بہن نے جو کام کیا وہ سودی اور گناہ کا کام تھا اس کے لیے اسے اللہ رب العالمین سے سچی توبہ کرنا چاہیے اور آئندہ سودی کام سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جہاں تک زیور کا مسئلہ ہے تو اگر یہ سونے یا چاندی کا زیور ہے اور نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے اور اس پر ایک سال گزر گیا ہے تو اس کی زکوۃ ادا کرنی پڑے گی۔

سوال: کیا ذکر و اذکار کرتے وقت ہونٹوں کا ہلانا ضروری ہے جیسے سونے سے پہلے کے اذکار کرنے کے بعد نیند فورا نہیں آتی ہے تو اس وقت ذکر کرتے ہوئے ہونٹ ہلانا ضروری ہے یا حرکت دئے بغیر بھی ذکر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح گھر کے کام کاج کرتے ہوئے ذکر کرتے وقت ہونٹوں کو حرکت دینا ضروری ہے؟

جواب: اذکار کسے کہتے ہیں، اس پر غور کریں تو آپ کو اس کا جواب سمجھنا آسان ہوگا۔

اذکار، الفاظ و کلام پر مشتمل ہوتے ہیں، ان اذکار کو پڑھنے کا مطلب زبان کو حرکت دینا ہے۔ جو زبان کو حرکت نہ دے وہ اذکار نہیں کہلائیں گے۔ آپ صبح و شام کے اذکار پڑھیں یا سونے جاگنے کے اذکار یا نماز کے بعد کے اذکار حتی کہ نماز کے اندر تلاوت اور اذکار وغیرہ پڑھیں، ان سب کے لیے ضروری ہے کہ زبان کو حرکت دے کر ذکر کریں، بغیر زبان کو حرکت دئے دل میں پڑھنا ذکر نہیں شمار ہوگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں قرآن کی تلاوت صرف دل میں سوچنے سے کافی ہے یا زبان سے حرکت دینی ضروری ہے؟ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ "تلاوت کے لئے ضروری ہے کہ زبان سے کی جائے، اگر انسان نماز میں صرف دل سے پڑھے تو یہ کافی نہیں ہے، اور اسی طرح باقی اذکار بھی صرف دل سے کافی نہیں ہیں، بلکہ لازمی ہے کہ انسان زبان اور ہونٹوں سے یہ الفاظ ادا کرے؛ کیونکہ یہ باتیں (کلمات) ہیں اور یہ صرف زبان اور ہونٹوں کی حرکت سے ہی مکمل ہوتی ہیں۔)مجموع فتاویٰ ابن عثیمین:13/156(

سوال: جب میرے شوہر میرے ساتھ ہوتے ہیں (عموماً ہفتہ وار تعطیلات میں) تو میں خود کو زیادہ عبادت میں مشغول، دل سے خوش اور مطمئن محسوس کرتی ہوں لیکن جب میرے شوہر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر ہوتے ہیں تو اکثر میں اپنی عبادت میں وہ دلچسپی محسوس نہیں کر پاتی اور دل میں اداسی اور بے دلی سی رہتی ہے۔ کیا یہ کیفیت نفاق میں شمار ہوتی ہے اور کیا یہ کوئی برا عمل ہے؟

جواب: یہ نفاق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ میاں بیوی کے تعلقات کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ ہر اس بیوی کے ساتھ ہے جو اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے۔ جس عورت کو اپنے شوہر سے محبت نہ ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ شوہر گھر سے باہر رہے یا گھر پر رہے لیکن جس عورت کو اپنے شوہر سے محبت ہو، اس عورت کے لیے شوہر کا گھر پر رہنا باعث سکون اور گھر سے باہر جانا باعث اضطراب ہوتا ہے۔

آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ جس عورت کا شوہر پردیس کا سفر کرتا ہے، اس عورت کے لیے وہ لمحہ کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے اور اس کے بعد کئی دن کس طرح بے چینی میں گزرتے ہیں اور پھر جب اس کے شوہر کی اپنے وطن اور اپنے گھر واپسی ہوتی ہے، عورت کے لیے کس قدر خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔آپ کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے، اس کا نفاق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنا تعلق اللہ اور اس کے دین سے گہرا بنائیں۔عبادت کو اپنے وقت پر اور مکمل ادا کریں یعنی پنج وقتہ نمازیں اول وقت پر خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں، نماز کے بعد کے اذکار کو بھی ترک نہ کریں بلکہ سنتوں کی بھی پابندی کریں۔

اسی طرح گھریلو کام کرنے کے بعد جو وقت بچتا ہے، اس کو مطالعہ، تلاوت، ذکر اور بیانات کو سننے میں لگائیں۔ جس قدر آپ کا لگاؤ دین سے ہوگا اور اپنی فرصت کے لمحات کو اچھے کام میں لگائیں گے، اسی قدر آپ کے اندر عبادت میں لذت اور چاشنی پیدا ہوگی۔

سوال: ایک شخص کا قتل ہوگیا ہے اس کے وارث میں ماں، باپ، بیوی اور اولاد ہیں۔ اولاد بالغ اور سمجھدار ہیں۔ اب بیوی اور بچے دیت لینا چاہتے ہیں جبکہ ماں اور باپ جو سمجھدار ہیں، وہ قصاص لینا چاہتے ہیں ، اب کس کی بات کو مانا جائے گا؟

جواب: اس صورت میں صرف دیت لی جائے گی اور قصاص نہیں لیا جائے گا۔ قصاص لینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ورثاء قصاص لینے پر متفق ہوں۔ اگر ایک آدمی بھی اختلاف کر جائے اور ایک وارث بھی معافی اور دیت لینے کے لیے رضامند ہوجائے تو پھر قاتل کو قصاصا قتل نہیں کیا جائے گا، صرف دیت لی جائے گی۔

سوال: ایک خاتون ہمیشہ چار روز میں حیض سے پاک ہوجاتی تھی، اس بار سات دن ہو گئے مگر اب بھی حیض کی صفات والا خون جاری ہے۔ اب وہ کیا کرے۔ اپنی عادت کا اعتبار کرتے ہوئے غسل کرکے نماز شروع کردے یا نماز سے رکی رہے اور كب تک؟

جواب : حیض میں اصل اعتبار حیض کے خون کا ہوتا ہے لہذا جس خاتون کو پہلے چار دن حیض آتا تھا لیکن اب اگر سات دن حیض کے صفات والا خون آتا ہے تو ان سات دنوں میں نماز سے رکنا پڑے گا یعنی جب جتنے دن حیض کے صفات والا خون آئے اتنے دن تک نماز سے رکنا ہے۔

سوال: ایک عورت باہری ملک سے کپڑے بھیجتی ہے، کبھی اس میں سے پیسے نکل آتے ہیں ، کیا اس کو بتانا ضروری ہے یا اس کو استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب: ظاہر سی بات ہے کسی نے کپڑے بھیج کر احسان کیا ہے ، اگر اس کے بھیجے ہوئے کپڑوں میں پیسے نکلتے ہیں تو بھیجنے والے کو بتانا ضروری ہے۔ ممکن ہے کبھی پیسے کے علاوہ کوئی دوسری قیمتی چیز نکل آئے۔ ایسے میں کپڑے سے جو بھی چیز نکلے اس کے بارے میں بھیجنے والے کو اطلاع دینا ضروری ہے۔ اگر وہ کہہ دے کہ ٹھیک ہے، وہ تم رکھ لو تو استعمال کرسکتے ہیں اور اگر کہے کہ وہ پیسے یا چیز مجھے بھیج دو تو یہ اس کی امانت ہے، اسے لوٹا دینا چاہیے۔

سوال: اگر نماز میں رکعت میں شک ہو جائے اور سجدہ سہو کرنا بھی بھول جائے ، سنت کے بعد سجدہ سہو یاد آئے اور اسی وقت کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر نماز میں شک پیدا ہو جائے مثلا رباعی نماز میں شک ہو کہ تین رکعت پڑھے ہیں یا چار رکعت، ایسی صورت میں کم پر یقین کریں اور زیادہ کو چھوڑ دیں یعنی تین رکعت مانیں اور جو باقی رکعت بچ گئی ہے، اس کو مکمل کریں پھر سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لیں۔

اگر سلام سے پہلے یا سلام کے بعد وقت پر سجدہ سہو یاد نہ رہ سکے تو جب بھی اور جیسے ہی یاد آئے فورا سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔ ہاں اگر وقت طویل ہو جائے اس کے بعد سجدہ سہو کا خیال آئے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے اور نماز اپنی جگہ درست ہے، بشرطیکہ نماز کی رکعت میں شک ہونے پر کم پر بنا کیا گیا ہو۔

سوال: میرے شوہر مرغی ذبح کرے اور ہندو سے بوٹی بنوائے تو جائز ہے ، کوئی مسلمان مل نہیں رہا ہے۔ اسی طرح بعض ہندو خود سے مرغی ذبح کرکے ہمیں اس کی بوٹی بنانے دیتے ہیں ، کیا اس طرح کر سکتے ہیں؟

جواب: جانور ذبح کرنے کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے، آپ کے شوہر خود سے ذبح کریں تو اس مرغی کی بوٹیاں کسی ہندو عامل سے کرواسکتے ہیں۔ اس کے لئے بھی مسلمان ہی رکھیں، یہی بہتر ہے لیکن جب تک مجبوری میں ہندو سے کام کرواتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے تاہم اسے اپنی نگرانی میں یعنی نظروں کے سامنے کام کروائے اور اسے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کہے۔ ہندو کھڑے کھڑے پیشاب کرتا ہے اور صفائی کا بھی خیال نہیں کرتا ہے، اس کی طرف توجہ دلائے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ کوئی ہندو خود سے مرغی ذبح کرکے آپ کی دکان پر بوٹیاں بنانے لاتا ہے، یہ کام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اپنا کاروبار مسلمان کی طرح کریں۔ جانور وہی حلال ہوتا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا جائے گا۔ ہندو خود سے ذبح کرکے لاتا ہے تو وہ حرام مردار کے حکم ہے کیونکہ اس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہوگا، اس کی بوٹیاں بناکر کمائی کھانا درست نہیں ہے۔

سوال: کسی کو پیر و جمعرات کا روزہ رکھنے کا معمول ہو اور اگر اس بار تیسواں چاند ہو تو جمعہ کو پہلا روزہ ہوگا تو کیا وہ جمعرات کا روزہ رکھ سکتا ہے؟

جواب: جس کے لیے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کا معمول رہا ہو وہ شعبان کی تیسویں تاریخ کو اگر جمعرات آئے تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عادت والوں کے لیے پورے شعبان میں کبھی بھی روزہ رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے ماسوا جمعہ کا روزہ کیونکہ خصوصیت کے ساتھ جمعہ کا اکیلا روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔

سوال: کیا تہجد اور چاشت کی نماز سے پہلے پہلے دو نفل وضو کے پڑھ سکتے ہیں یا تہجد اور چاشت کے نوافل میں ہی وضو کے نفل کی نیت کرلیں؟

جواب: وضو کی سنت کوئی مستقل نماز نہیں ہے، اس وجہ سے یہ نماز اس وقت پڑھنا ہے جب کوئی نماز نہ پڑھنا ہو لیکن جب آپ کوئی ایک نماز پڑھنے جارہے ہیں تو براہ راست اسی نماز کو ادا کریں گے جیسے استخارہ کی نماز پڑھنے کا ارادہ ہو تو وضو کر کے براہ راست استخارہ کی نماز پڑھیں گے یا چاشت کی نماز پڑھنا ہو تو وضو کرکے چاشت کی نماز پڑھیں گے، یہی نماز وضو کی سنت کے لیے کافی ہو جائے گی یعنی اسی میں وضو کی نیت کرسکتے ہیں۔

سوال: ایک کنواری لڑکی سے تین سال پہلے زنا ہوگیا اور اسنے پھر حمل بھی ضائع کروایا ، بقول اس کے وہ دیندار اور نمازی اور توبہ کر کے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو وہ کیا کرے؟

جواب:  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لڑکی نے بہت بڑا جرم کیا جس سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایک طرف اس نے فحش کام کیا تو ودسری طرف حمل ضائع کیا جو کہ ایک نفس کے حکم میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جرم پر اسلام نے حد متعین کی ہے مگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی اس عورت پر حد قائم نہیں کرسکتا ہے لہذا اس صورت میں توبہ کی صورت نظر آتی ہے۔

اس لڑکی پر یہ ضروری ہے کہ دل سے سچی توبہ کرے، ایسی توبہ اور اس ندامت و شرمندگی کے ساتھ اس کا رب راضی ہوجائے۔ آئندہ اس قسم کے گناہ کا تصور بھی نہ کرے اور اگلی زندگی پاکدامنی کے ساتھ گزارے ، اور اپنے آپ کو اللہ کے دین کے حوالے کردے۔ نماز کی پابندی  کے ساتھ ، ذکر و اذکار ، دعاو استغفار اور تلاوت میں کثرت سے وقت گزارے۔

جہاں تک بچے کے اسقاط کا معاملہ ہے تو یہ بھی انتہائی عظیم گناہ ہےکیونکہ حمل ٹھہرنے کے بعد اس کا ضائع کرنا ایک قسم کا قتل مانا جاتا ہے، یہ الگ معاملہ ہے کہ  بچے میں روح پھونکنےسے قبل یا اس کے بعد اسقاط حمل کے مختلف احکام ہیں تاہم حمل کسی بھی مرحلہ میں ہو، اسے  ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ عہد رسول میں غامدیہ نامی عورت نے زنا کرلیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے حمل ساقط کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ بچے پیداکرنے کا حکم دیا۔ حمل زنا سے ہو یا نکاح کے سبب ہو، حمل کا اسقاط جائز نہیں ہے سوائے اضطراری صورت کے، جب عورت کی جان کو خطرہ ہو۔ اسقاط حمل پہ دیت اور کفارہ کی تفصیل میرے مضمون میں دیکھ سکتے ہیں جو میرے بلاگ پر "اسقاط حمل پہ دیت وکفارہ کا حکم " کے نام سے موجود ہے۔

سوال: آجکل پاکستان میں بڑے جوش و خروش سے بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے، میں نے سنا ہے کہ کسی ہندو کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس کا حکم بتائیں تاکہ جانے انجانے کسی گناہ میں نہ واقع ہوجائیں؟

جواب: بعض لوگ بسنت کو ایک موسمی میلہ قرار دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بسنت نامی میلہ ہندؤں کا ایک خاص تہوار ہے ، اس میں وہ لوگ مختلف قسم کے رسومات انجام دیتے ہیں بلکہ دیوی دیوتاؤں کی عبادت بھی کرتے ہیں ۔ساتھ ہی اس میں پتنگ  بازی  بھی کی جاتی ہے۔ بعض بھولے بھالے مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ ایسے ہی موسمی کلچر ہے، بسنت منانے اور اس موقع سے پتنگ بازی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے  جبکہ  حقیقت میں یہ ہندؤں کا تہوار اور مذہبی کلچر ہے۔ اس سے مسلمانوں کو ہرحال میں دور رہنا چاہئے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ(سنن ابي داود:4031)

ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں  ہندؤں اور غیراقوام کے تمام مذہبی طورطوریقوں سے پرہیز اختیار کرنا چاہئے۔

سوال: چار رکعت والی نماز میں آخری دو رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھنا ہے یا سورت بھی پڑھنا ہے؟

جواب: رباعی نماز کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا کافی ہے لیکن اگر کوئی آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسا اوقات سورت ملانا بھی ثابت ہے تاہم اگر کوئی صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے تو اتنا ہی اس کے لیے کافی ہے۔

سوال : کیا صدقہ جاریہ کے طور پر mortuary box دے سکتے ہیں؟

جواب: پہلے ایک مسئلہ کی وضاحت ہوجائے تو اس بات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ نبی ﷺ نے میت کی تدفین میں جلدی کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ (صحيح مسلم:944)

ترجمہ: جنازے میں جلدی کرو، اگر (میت) نیک ہے تو تم نے اسے بھلائی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی تدفین میں جلدی کی جائے مگر آج کل لوگ میت کی تدفین میں تاخیر کرتے ہیں اور رشتہ داروں کی آمد کا انتظار کرتے ہیں جبکہ ہمیں اس معاملہ میں عجلت  سے کام لینا چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مردہ خانہ جسے سردخانہ بھی کہتے ہیں یعنی ایسا میت باکس جس میں میت کو اسٹور کرکے دیر تک رکھا جاتا ہے، اس قسم کا سردخانہ استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اسے صدقہ جاریہ کے طور پر بھی دیا جاسکتا ہے تاہم جس کمیٹی کے حوالے یہ باکس کیا جائے اس انتظامیہ کمیٹی کو یہ تاکید ہو کہ اس سامان کا غلط استعمال نہ کیا جائے یعنی بغیر ضرورت میت کو دیر تک نہ رکھا جائے۔ ہاں کوئی حاجت و ضرورت ہو تو اس میں مضائقہ نہیں ہے۔

سوال:اگر کسی سے  ایک  سال کے روزے  چھوٹ گئے اور اس سال میں وہ ان کی قضا نہ کر سکے اور اگلے سال قضا کرے تو کیا صرف قضا کرنی ہے یا ساتھ میں فدیہ بھی دینا ہوگا؟

جواب: جب کسی کے رمضان کا روزہ کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے تو اگلا رمضان آنے سے پہلے پہلے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کر لینا چاہیے۔ اگر کوئی رمضان سے قبل قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کر لے اور اسے کوئی فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے تاہم یہ بات ضرور ہے کہ اگر قضا کرنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا ہو تو اللہ تعالی سے اس کے لیے توبہ کرے۔اور کسی عذر کے باعث تاخیر ہوئی ہو تو توبہ کی ضرورت نہیں ہے، بس  چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنا ہے۔

سوال: شیطان کو سخی فاسق سے زیادہ بخیل مومن پسند ہے کیونکہ سخی فاسق کبھی بھی خرچ کرکے اللہ کی طرف آسکتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: ابن ابی الدنیا نے یہ بات  اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔اسے عبد اللہ بن حبیق بیان کرتے ہیں کہ یحی بن زکریا علیہ السلام نے شیطان سے ملاقات کی۔عبداللہ بن حبیق جو تیسری صدی ہجری کے ہیں وہ یحیی بن زکریا علیہ السلام سے کیسے روایت کر سکتے ہیں۔ دونوں میں کافی دنوں کا فاصلہ ہے لہذا یہ واقعہ سندا صحیح نہیں ہے۔روایت اس طرح سے ہے۔

قال ابن أبي الدنيا: حدثنا محمد بن يحيى المروزي حدثنا عبد الله بن خبيق قال :

لقي يحيى بن زكريا عليهما الصلاة والسلام إبليس في صورته فقال له: يا إبليس أخبرني ما أحب الناس إليك وأبغض الناس إليك؟ قال: أحب الناس إلي المؤمن البخيل وأبغضهم إلي الفاسق السخي قال يحيى: وكيف ذلك؟ قال: لأن البخيل قد كفاني بخله والفاسق السخي أتخوف أن يطلع الله عليه في سخاه فيقبله ثم ولى وهو يقول: لولا أنك يحيى لم أخبرك.(كتاب مكائد الشيطان لابن أبي الدنيا)

سوال: ابن قدامہ ؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا قول نقل کیا ہے کہ مردار مرغی کے پیٹ میں جو انڈا ہوگا وہ نجس ہے اس کا کھانا حلال نہیں چاہے اس کا چھلکا سخت ہو گیا ہو یا سخت  نہ ہوا ہو۔کیا یہ صحیح ہے ؟

جواب: اگر مردار مرغی کے پیٹ سے انڈا نکلے اور وہ انڈا سخت ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں اس کا باطنی حصہ پاک ہے کیونکہ چھلکا سخت ہونے کی وجہ سے نجاست کو روکنے والا ہے البتہ اس کے ظاہری حصے کو دھو لیا جائے گا۔اور اگر نکلنے والا انڈا سخت نہ ہو بلکہ نرم اور رطب ہو تو ایسی صورت میں اسے نجس مانا جائے گا۔اس مسئلہ میں راج بات یہی ہے۔

ابن قدامہ نے رحمہ اللہ نے المغنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے علاوہ تفاصیل بھی ذکر کیا ہے۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا مسئلہ ہے تو یہ محض کراہت پر محمول ہے۔

سوال: میرے محلے میں ایک مسجد ہے جو حنفی مسلک کے زیرِ انتظام ہے اور وہاں کے معمولات مثلاً عصر کے بعد فضائلِ اعمال کا درس وغیرہ دیوبندی مکتبہ فکر کے مطابق ہیں۔ میري ایک دوست نے مجھے اس مسجد کے لیے نئی چٹائیاں خریدنے میں مالی تعاون کی ترغیب دی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میرے لیے ایسی مسجد میں چٹائی یا دیگر ضروریات کے لیے رقم دینا شرعاً درست ہے اور کیا یہ عمل صدقہ جاریہ کے زمرے میں آئے گا؟

جواب: مسجد  اللہ کا گھر ہے جو اللہ کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، اس میں ضرورت کے وقت تعاون دینا اور صدقہ جاریہ کی نیت سے ضرورت کی چیزیں مثلا چٹائی، میک ، پنکھا وغیرہ دینا بالکل درست ہے، اس میں قطعا دل میں کوئی حرج محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ دیوبندی اور تبلیغی جماعت والے بدعت کے کاموں میں ملوث ہیں اور ان کی مساجد میں عام طور سے فضائل اعمال کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت واقعات بھی درج ہیں۔ اس کے لیے ہماری یہ ذمہ داری ہو کہ ایسے آدمی سے جب بھی ہمارا سابقہ پڑے تو انہیں ان کی غلطی پر متنبہ کریں یعنی اگر بدعت کرتے دیکھیں تو اس بدعت سے منع کریں اور فضائل اعمال پڑھتے دیکھیں تو اس میں جو غلطیاں ہیں، ان غلطیوں پہ انہیں تنبیہ کرکے اصلاح کی کوشش کریں۔

سوال: روزہ کی حالت میں وائٹننگ کریم یا لوشن لگا سکتے ہیں ؟

جواب: روزہ کی حالت میں کریم یا لوشن لگا سکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے یعنی اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

روزہ کی حالت میں ہونٹوں پر کوئی چیز لگانے سے بچیں کیونکہ بعض اوقات آدمی زبان سے ہونٹوں کو چھوتا رہتا ہے اور اس سے اس کا ذائقہ اندر جاسکتا ہے۔ویسے ہونٹوں پر بھی ضرورت کے وقت لوشن لگاسکتے ہیں ، احتیاط یہ ہو کہ اس کو زبان سے لگاکر حلق کے نیچے نہیں نگلنا ہے۔

سوال: ایک ضعیف شخص جس کو پیروں میں درد کی وجہ سے چلنے کی دقت ہے، وہ گھر کے قریب والی مسجد میں جو دوسرے مسلک کی ہے، پانچ وقت کی نماز پڑھ لیتا ہے۔اہل حدیث مسجد دور ہے جبکہ جمعہ کی نماز اہل حدیث مسجد میں پڑھتا ہے۔ دوسرے مسلک کی مسجد میں ضعیف لوگوں کے لیے تجوید کی تعلیم ہے، وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب: مسجد کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ امام کا ہے کہ جس کے پیچھے نماز پڑھی جا رہی ہے اگر وہ امام صحیح العقیدہ ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلاشبہ اس مسجد میں اس امام کے پیچھے وہ کمزور آدمی نماز پڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس آدمی کو یہ چاہیے کہ اپنی نماز سنت کے مطابق ہی ادا کرے۔اور تجوید کا علم حاصل کرنے میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

سوال: ایک غیر شادی شدہ شخص کا انتقال ہوا ہے۔ اس کے ورثاء میں والد ، والدہ اور ایک بہن ہیں۔اس نے وصیت کی تھی کہ میرے تمام مال کا ایک تہائی صدقہ کر دیا جائے ۔ جائیداد میں نقدی بھی ہے اور اس کے نام سے ایک پلاٹ بھی ہے، ساتھ ہی میت کے ذمہ قرض بھی ہے۔ پلاٹ کی قیمت ، قیمت خرید سے کم ہے اس لئے ورثاء کی رضامندی ہے کہ ابھی اسے نہ بیچا جائے، زیادہ قیمت پر بیچا جائے اور میت کی طرف سے صدقہ کردیا جائے گا اور قرض بھی ادا کردیا جائے گا۔ کیا وراثت کے کل مال کو جمع کر کے قرض، وصیت اور ورثا ءکے حصے نکالے جائیں گے یا نقد رقم سے الگ اور زمین کی قیمت فروخت سے الگ بھی نکالے جا سکتے ہیں؟

جواب:اصل میں وراثت تقسیم کرنے والی چیز ہے، یہ رکھنے والی چیز نہیں ہے۔وراثت تقسیم کرنے سے وارث کو وقت پر اپنا حق مل جاتا ہے۔ اگر وراثت تقسیم نہ کی جائے، اس میں تاخیر کی جائے اور کسی وارث کا انتقال ہو جائے پھر وہ اپنے حصے سے فائدہ نہیں اٹھا سکا، ایسی صورت میں اس کا کون جوابدہ اور ذمہ دار ہوگا؟

دوسری بات یہ ہے کہ وراثت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں تاخیر کرنے سے بسا اوقات ورثاء یا ان کی اولاد وغیرہ کی وجہ سے اس میں بہت سنگین اختلاف ہو جاتا ہے، قتل تک نوبت آجاتی ہے۔نیز وراثت کا معاملہ حقوق العباد سے جڑا ہوا ہے جو کافی اہم معاملہ ہے۔

میت کی جتنی بھی جائیداد ہے سب کو اکٹھا کر لیا جائے اور وصیت و قرض نکال کر باقی بچے حصے کو وارثوں میں تقسیم کیا جائے۔ اگر الگ الگ بھی تقسیم کیے جائیں مثلا پیسے کو الگ، زمین کو الگ، سامان کو الگ تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔میت نے نقد پیسہ بھی چھوڑا ہے تو اس میں سے قرض ادا کیا جا سکتا ہے اور اگر وہ پیسہ اب بھی پوری جائیداد (بشمول پلاٹ)کے تہائی مال کے برابر بچتا ہو تو اس کو میت کی طرف سے صدقہ بھی کیا جا سکتا ہے جیساکہ اس کی وصیت ہے۔جہاں تک زمین کا معاملہ ہے تو اسے بیچ کر تقسیم کیا جائے یا زمین ہی آپس میں تقسیم ہوسکتی ہو تو اسی کو تقسیم کر دی جائے۔

بہر کیف! حقوق العباد کا معاملہ ہے اس کو لٹکا کر رکھنا اپنے سر پر جوابدہی رکھنا ہے، بعد میں اس کی تقسیم میں خرابی پیدا ہوئی تو کوتاہی کرنے والے کا عند اللہ مواخذہ ہوگا۔

سوال: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ ، آیت الکرسی اور آل عمران کی یہ آیات (18اور 26-27) عرش سے لٹکی ہوئی ہیں، ان کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد یہ آیات پڑھے، اللہ تعالی اس سے پانچ چیزوں کا وعدہ فرماتا ہے۔

(1)جنت میں ٹھکانہ : اللہ تعالی اس کا ٹھکانہ جنت میں بنائے گا۔

(2)مقدس پناہ گاہ : اسے "قدس / Sacred Enclosure) "مقدس جگہ (میں جگہ دی جائے گی۔

(3)روزانہ ستر رحمتیں : اللہ تعالی روزانہ ستر (70) بار اپنی رحمت سے نوازے گا۔

(4)ستر حاجتوں کی پوری : اس کی ستر (70) ضرور تیں (حاجتیں) پوری کی جائیں۔

(5)دشمن سے حفاظت : ہر حاسد ( جلنے والے) اور دشمن سے حفاظت فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا کرے گا۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب: ابن السني نے"عمل اليوم والليلة" (125) اسے بیان کیا ہے:

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: (شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ )، و ( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ) إِلَى قَوْلِهِ: ( وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ) مُعَلَّقَاتٌ، مَا بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ، لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُنْزِلَهُنَّ تَعَلَّقْنَ بِالْعَرْشِ قُلْنَ: رَبَّنَا، تُهْبِطُنَا إِلَى أَرْضِكَ، وَإِلَى مَنْ يَعْصِيكَ.

فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: بِي حَلَفْتُ، لَا يَقْرَأُكُنَّ أَحَدٌ مِنْ عِبَادِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ إِلَّا جَعَلْتُ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، وَإِلَّا أَسْكَنْتُهُ حَظِيرَةَ الْقُدُسِ، وَإِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ بِعَيْنِي الْمَكْنُونَةِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ نَظْرَةً، وَإِلَّا قَضَيْتُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ حَاجَةً، أَدْنَاهَا الْمَغْفِرَةُ، وَإِلَّا أَعَذْتُهُ مِنْ كُلِّ عَدُوٍّ وَنَصَرْتُهُ مِنْهُ، وَلَا يَمْنَعُهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ۔

سند کے اعتبار سے یہ روایت باطل و موضوع ہے۔ابن الجوزی نے اسے موضوع اور جورقانی نے باطل کہا ہے۔ دیکھیں:(الموضوعات لابن الجوزي: 1/399، الأباطيل والمناكير للجورقاني : 2/338)

 

مکمل تحریر >>

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (99)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (99)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر-سعودی عرب


سوال: میری بھانجی نے بچہ روکنے کے لیے چھلہ لگا رکھی تھی۔ پھر اس کے بعد اس کو چھ مہینے بعد حیض آیا ہے۔ اس کو چھ دن تک نارمل پیریڈ تھے، پھر اس کے بعد تین دن اس کو کوئی پیریڈز نہیں تھے پھر اس کو دس دن پھر آگئے تو اس صورت میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے اور روزہ بھی رکھ سکتی ہے؟

جواب: حیض کے خون کے مخصوص اوصاف ہوتے ہیں، لہٰذا حیض کو اس کے اوصاف سے پہچانا جائے گا جبکہ عورت سے بیماری کا خون بھی ظاہر ہوتا ہے جسے استحاضہ کہتے ہیں۔

پہلی مرتبہ جو چھ دن خون آیا اگر اس میں حیض کے صفات تھے تو اسے حیض مانا جائے گا اور نماز پڑھنے سے رکنا ہے، اسی طرح تین دن رک کر پھر دس دن جو خون آئے اگر یہ خون بھی حیض کے صفات پر مشتمل تھا تو ان دنوں میں بھی نماز سے رکنا ہے لیکن اگر پہلی بار یا دوسری بار یعنی کسی ایک میں حیض کے صفات نہ ہوں تو اس کو حیض نہیں مانیں گے بلکہ بیماری اور استحاضہ کا خون مانیں گے۔ استحاضہ کی صورت میں عورت کو ہر نماز کے وقت خون کی صفائی کرکے اور وضو بنا کرکے نماز پڑھتے رہنا ہے۔

سوال: کیا ہم اپنی زکوۃ کی رقم بھانجی کی شادی کے اخراجات کے لئے دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے والد باحیات نہیں ہیں اور کیا زکوۃ کی رقم کسی اور کی شادی کی رسومات میں استعمال کی جا سکتی ہے اور اگر دو لاکھ درہم کا قرضہ اسلامک بینک آف دبئی سے لے کر اپنے استعمال کے لئے گاڑی لی ہو تو کیا پھر بھی ہمیں اپنے مال اور زیورات کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی؟

جواب: زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں، ان میں شروع کے دو مصارف فقراء اور مساکین سے متعلق ہیں۔ سماج میں جو کوئی فقیر اور مسکین کے زمرے میں آتا ہو اس کو آپ زکوۃ دے سکتے ہیں۔

جس لڑکی کی شادی کی بات کر رہے ہیں اور جس کے والد زندہ نہیں ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا یا ہوگا بھی تو وہ باپ کی طرح نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسی لڑکی کی شادی میں بلاشبہ زکوۃ دے سکتے ہیں اور اس قسم کی جو بھی لڑکی ہو یا جو بھی ضرورت مند انسان ہو اس کی شادی میں زکوۃ دی جا سکتی ہے۔

آپ نے بینک سے قرض لے کر گاڑی لی، یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور زکوۃ ایک الگ مسئلہ ہے۔ زکوۃ موجود چیز پر ادا کی جاتی ہے۔

اگر آپ کے پاس نصاب بھر نقدی رقم موجود ہے تو سال مکمل ہونے پر اس موجود پیسے کی زکوۃ ادا کرنی ضروری ہے۔ اسی طرح نصاب بھر سونے یا چاندی کے زیورات ہیں تو سات مکمل ہونے پر اس کی بھی زکوۃ ادا کرنی لازمی اور ضروری ہے اس کا قرض سے تعلق نہیں ہے۔

سوال: میرے بھائی نے کچھ سال پہلے ایک پلاٹ خریدا تھا گھر بنانے کی نیت سے لیکن بعد میں اس کا ارادہ کہیں اور ہوگیا گھر بنانے کا. بھائی کو بیرون ملک پیسوں کی ضرورت تھی تو انہوں نے وہ پلاٹ اب بیچ کر پیسے باہر منگوائے ہیں ضرورت کے لیے۔ پلاٹ چونکہ منافع پر فروخت ہوا ہے تو کیا اس رقم پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟

جواب: چونکہ یہ پلاٹ بیچنے کے لیے نہیں تھا اس لیے اس پلاٹ پر کوئی زکوۃ نہیں بنتی ہے اور اس پلاٹ کو بیچنے کی ضرورت پڑگئی تو اس پیسے میں بھی بروقت کوئی زکوۃ نہیں ہے، اور اس سے کوئی غرض نہیں کہ منافع کے ساتھ پلاٹ بکا ہے یا نقصان کے ساتھ۔

ہاں اگر یہ پیسہ ایک سال تک باقی رہے تو سال مکمل ہونے پر اس کی زکوۃ ادا کرنی پڑے گی لیکن اگر سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے یہ پیسہ ختم ہوجائے یا نصاب سے کم ہوجائے تو پھر اس میں بھی زکوۃ نہیں ہے۔

سوال: اگر کوئی عورت صرف ٹوپی پہن کر نماز پڑھے (عورتوں والی ٹوپی) بغیر دوپٹہ لئے ہوئے تو کیا بغیر دوپٹہ کے عورتوں کی نماز درست ہے؟

جواب: عورت کے لیے نماز پڑھنے سے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ پورے بدن کو چھپا کر نماز پڑھے۔ اب یہ کیفیت جس لباس میں بھی حاصل ہوجائے وہ نماز پڑھ سکتی ہے۔

عورت جب ٹوپی لگا کر نماز پڑھے گی اور دوپٹہ نہ استعمال کرے تو ایسی صورت میں بال ظاہر ہو سکتا ہے، گردن کا پیچھے والا اور آگے والا حصہ بھی ظاہر ہوسکتا ہے بلکہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے گریبان بھی کچھ نمایاں ہوسکتا ہے لہذا صرف ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے بلکہ نماز میں عورت لازما دوپٹے کا استعمال کرے جو کندھے سے نیچے تک ہو اور اس کے بالوں، گردن، سینہ اور گریبان وغیرہ کو ڈھک سکے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالی کسی بالغ لڑکی کی نماز دوپٹہ کے بغیر قبول نہیں فرماتا۔ (ابو داود:546، صححہ البانی)۔

سوال: ایک آدمی کا یہ روز کا معمول ہے کہ وہ سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے پورے گھر والوں پر دم کرتا ہے، اگر کبھی گھر والوں میں سے کوئی دم کے وقت موجود نہ ہو تو کیا اس پر بعد میں پھونک سکتا ہے جبکہ سورہ بقرہ اس نے پہلے پڑھی ہو، دوبارہ اسے پڑھنا زیادہ مشکل ہو کیونکہ یہ بڑی سورت ہے؟

جواب: یہاں پر آپ کو سب سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ روزانہ سورہ بقرہ پڑھ کر گھر والوں پر دم کرنے کا عمل کیسا ہے؟

سورہ بقرہ تقریباً ڈھائی پاروں پر مشتمل ہے، کون ایسا بندہ ہے جو روزانہ ڈھائی پارہ تلاوت کرکے اپنے پورے گھر والوں پر دم کرتا ہے پھر یہ کہ اس کو کس نے یہ عمل بتایا کہ سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر دم کرو؟

آپ کے سوال سے متعلق سب سے پہلی بات یہی ہے کہ یہ عمل ہی درست نہیں ہے یعنی کسی آدمی کا روزانہ سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے پورے گھر والوں پر دم کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے، ہم مسلمانوں کو وہی کام کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے۔

آپ اپنے گھر والوں کو سنت کی تعلیم دیں یعنی سوتے وقت سونے کے اذکار پڑھ کر سوئے، سونے کے اذکار میں تین سورتیں پڑھ کر روزانہ دم کرنا بھی شامل ہے، پھر صبح اٹھے تو صبح کے اذکار پڑھے پھر شام کے اذکار پڑھے نیز پانچ وقت نمازوں کا اہتمام کرے، نمازوں کے بعد کے اذکار بھی پڑھے۔ اس طرح کرنے سے کسی کو سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر پھونکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو عمل بتایا ہے، اس کے اندر خود بخود ہمارے لیے حفاظت ہے اور ہر کسی کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ قرآن اور مسنون اذکار پڑھ کر مریض پر یا اپنے بچے پر یا گھر والوں پر دم کرنے میں حرج نہیں ہے لیکن یہاں پر جو معمول بتایا گیا ہے، وہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اس کی جگہ وہ عمل کیا جائے جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی ہے۔

سوال: اگر گھر میں نماز پڑھتے ہوئے کبھی ایمرجنسی میں نماز توڑنی پڑے تو کیا دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد نماز سے نکل سکتی ہوں؟

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی فرض نماز ادا کر رہا ہو تو سوائے اضطراری صورت کے، محض معمولی بات کے لیے نماز نہیں توڑنا چاہیے یعنی اپنی نماز جاری رکھنا چاہیے لیکن اگر بہت ضروری اور اضطراری صورت در پیش ہو جائے تو نماز توڑی جا سکتی ہے، اس کے لیے سلام نہیں پھیرنا ہے، یونہی نماز سے اٹھ جانا ہے جیسے گھر میں سانپ دکھے یا آگ لگنے کا شور اٹھے فورا اپنی نماز چھوڑ دینا ہے۔

سوال:کسی نے ایک مصحف شروع کیا ہو، ستائیسواں پارہ تک پڑھ لیا ہو لیکن پھر دوبارہ پہلے پارہ سے شروع کر لیا جائے تو کیا ایسا کرنا گناہ کا باعث ہے یا ایک مرتبہ مکمل کرکے ہی شروع کرنا چاہیے؟

جواب: جو کوئی قرآن کی تلاوت کر رہا تھا اور ستائیسویں پارے تک پہنچا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ اس نے ترتیب سے تلاوت کی ہے تبھی جاکر ستائیس پارہ تک پہنچا ہے، اسے چاہیے کہ مکمل قرآن ختم کر لے پھر نئے سرے سے قرآن شروع کرے۔ قرآن کی تلاوت کا یہی طریقہ ہے کہ شروع سے پڑھیں، یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائیں۔ جب ایک ختم ہو جائے پھر ابتدا سے شروع کریں۔

اگر کسی نے ستائیس پارہ کے بعد پہلے پارے سے پھر تلاوت شروع کر دیا تو اس میں گناہ والی کوئی بات نہیں ہے، قرآن کی تلاوت کا اجر اپنی جگہ موجود ہے تاہم ترتیب سے تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

سوال: پانی کے بوتل پر دم کرتے وقت بوتل سے ڈھکن اتار دیں گے یا اگر پانی ڈھکا ہوا ہو تو بوتل پر ہی دم کرسکتے ہیں؟

جواب: قرآن اور مسنون اذکار پڑھ کر براہ راست پانی پر پھونکا جائے گا یعنی ڈھکن کھول کر پانی پر دم کرنا ہے۔ ڈھکن لگا کر بوتل اور شیشی پر دم کرنے سے دم نہیں ہوگا اور اس کو رقیہ نہیں کہا جائے گا۔

سوال : ایک عورت کی ولادت کے ایک سال بعد اسے حیض آیا لیکن تین ماہ سے یہ ترتیب ہو رہی کہ ہر ماہ کے پہلے پندرہ دن صرف داغ لگتا ہے اور آگلے پانچ یا چھ دن لگاتار حیض جاری رہتا ہے۔ سوال پہلے پندرہ دن سے متعلق ہے کہ ان دنوں نماز کا کیا حکم رہے گا؟

جواب: جن دنوں میں صرف داغ لگتے ہیں، حیض کی کیفیت اس میں نہیں ہے یعنی نہ حیض والارنگ ، نہ حیض والی بو اور نہ گاڑھا پن، نہ کمر میں درد تو اسے حیض شمار نہ کرے۔ جب اس کے بعد پانچ چھ دن حیض کے صفات والا خون آئے، بس اسی کو حیض شمار کرے اور ان دنوں نماز سے رک جائے۔ عام طور پر اکثر عورتوں کو حیض چھ سات دن ہی آیا کرتا ہے۔

سوال: ہم نو لاکھ میں بارہ سوگز زمین لئے۔ جس کمپنی کے ذریعہ ہم زمین لئے وہ لوگ دس سال تک کنٹریکٹ کر رہے ہیں کہ ہم اس زمین میں لال صندل کی لکڑی کے جھاڑ لگاںٔیں گے۔ اس کی دیکھ بھال یعنی ہرچیز وہی دیکھا کریں گے۔ اس کا منافع مثال کے طور پر اگر سو روپے ہیں تو وہ ہمیں ساٹھ روپے دیں گے اور چالیس روپے وہ کمپنی رکھ لے گی اس لیے کہ وہ ہماری زمین پر یہ درخت اگائے گی۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے، کہیں یہ سود میں شمار تو نہیں ہوگا؟

جواب : آپ نے کسی سے زمین خریدی یہ ایک معاملہ ہے اور زمین پر صندل کی لکڑی لگانا یہ دوسرا معاملہ ہے۔

جو آپ نے زمین خرید لی تو یہ آپ کی ملکیت ہے، اس زمین پر بیچنے والا اگر کوئی شرط لگا کر بیچتا ہے تو یہ ایک دوسرا معاملہ بیع میں داخل کر رہا ہے اس طرح کی بیع سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا۔(ترمذی:1231)

آپ کے اس معاملہ میں ایک بیع میں دوسری بیع داخل ہے اس وجہ سے یہ معاملہ کرنا درست نہیں ہے۔ بغیر شرط کے یعنی دوسرا معاملہ کئے بغیر ،صرف ایک معاملہ کرنا یعنی زمین خریدنا جائز و درست ہوگا۔

سوال: شب برات کا حلوہ کھا سکتے ہیں، اگر ننیہال سے آئے؟

جواب: شعبان کی پندرہویں تاریخ کو شب برات کہنا غلط ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں کہیں پر بھی پندرہویں تاریخ کو شب برات نہیں کہا گیا ہے۔ اور اس دن کو کوئی خصوصیت بھی حاصل نہیں ہے، اس دن روزہ رکھنا یا رات میں قیام کرنا یا اسی طرح شب برات کے نام سے جشن منانا، اس دن یا رات کو عمدہ عمدہ پکوان پکانا، یہ سارے کام بدعت میں داخل ہیں۔

اگر کوئی ہمیں اس طرح کے کاموں میں شریک ہونے کے لیے بلائے یا اس تعلق سے کھانا بھیجے تو ہمیں اسے قبول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بدعت کے کاموں میں شریک ہونا یا بدعت کے کام سے متعلق کھانا قبول کرنا بدعت کے کام پر تعاون ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں گناہ کے کاموں پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے۔ اگر کوئی گناہ کے کام پر تعاون کرے تو اس کو گناہ کرنے جیسا گناہ ملے گا۔

سوال: جیساکہ حدیث میں قبلہ کی طرف تھوکنا منع ہے۔ گھر میں واش بیسن جس میں برش وغیرہ کرتے ہیں، قبلہ کی طرف ہو تو کیا ایسا جائز ہے؟

جواب: چاروں طرف سے گھری ہوئی جگہ پر قبلہ رخ پیشاب و پاخانہ بھی کرنے میں حرج نہیں ہے۔ منہ دھونے اور تھوکنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ اس لیے آپ اپنے واش بیسن پر، منہ دھلتے وقت قبلہ کی طرف تھوک سکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ واش بیسن تو گھر میں بنا ہوا ہے جو چاروں طرف سے ڈھکا ہوا ہوگا۔

سوال: ہم لوگ صدقہ جاریہ کے نام سے ایک گروپ چلاتے ہیں، لوگ اس میں اپنی زکوۃ کے پیسے جمع کرتے ہیں۔ اس پیسے سے نئے مسلموں کی ماہانہ امداد کرتے ہیں۔ رمضان میں بھی لوگوں کی طرف سے زکوۃ آئے گی۔ یہاں پر سوال یہ ہے کہ اس پیسے سے نئے مسلمانوں کو کپڑے خرید کر دے سکتے ہیں کیونکہ وہ لوگ عید کے موقع پر کپڑے نہیں خرید سکتے؟

جواب: زکوۃ کے تعلق سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ نقد مال کی زکوۃ ہو تو نقد مال کی شکل ہی میں مستحق کو دینا ضروری ہے۔ زکوۃ کے پیسے سے ضرورت کی چیزیں مثلا کپڑے اور راشن وغیرہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مستحق کے مال میں تصرف کہلائے گا۔

نقد مال کی زکوۃ، نقد مال سے دینے میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ضرورت مند، پیسے سے اپنی حاجت کی جو چیز چاہے، خرید سکتا ہے جبکہ سامان دینے میں یہ ممکن نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے وہ سامان اس وقت اس کی ضرورت کے لیے نہ ہو، کوئی دوسری ضرورت اس کے پاس ہو۔ پیسہ رہنے پر اپنے حساب سے اپنی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

جب کوئی خاص مصلحت ہو جیسے مستحق آدمی دیوانہ ہو یا اس قسم کا آدمی ہو کہ پیسہ دینے سے اس کو ضائع کر سکتا ہے یا اس کا صحیح سے استعمال نہیں کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی ضرورت پوچھ کر اس کی ضرورت کے حساب سے سامان خرید کر دے سکتے ہیں۔

زکوۃ کے علاوہ نفلی صدقہ و خیرات سے کچھ بھی خرید کر دے سکتے ہیں، صدقہ و خیرات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: میرے ہاتھ میں ذرا سا استحاضہ کا خون لگا رہ گیا تھا جس کے بارے میں علم نہیں تھا جبکہ ہاتھ دھویا بھی تھا۔ بعد میں دیکھا تو ہاتھ میں کچھ لگا ہوا نظر ایا۔ وہ ہاتھ کپڑے اور جسم پر بھی پھیرا تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب: نجاست کہیں پر لگی ہوئی نظر آئے تو اس کو دھونے کا حکم ہے، ہاتھ پر حیض کے معمولی دھبے اور آثار لگے ہوئے ہوں گے، اس کو آپ نے دھو لیا یہی کافی ہے۔ ہاتھ سے کپڑے اور جسم پر کہیں ٹچ ہوا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں اگر آنکھوں سے جسم کے کسی حصے پر یا کپڑے کے کسی حصے پر خون لگا ہوا نظر آئے تو بس اس جگہ کو دھو لیں اور اگر کہیں پر اس طرح کا اثر دیکھنے کو نہ ملے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال:حاشر نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب: حاشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی نام ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں کسی نے یہ نام نہیں رکھا، نہ اپنی اولاد میں سے کسی کا نام رکھا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ ابو الحاشر کنیت رکھنا کیسا ہے یا لوگ بیٹے کا نام حاشر رکھتے ہیں ، یہ کیسا ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اور جس نے اپنے بچے کا یہ نام رکھا ہے وہ یہ نام بدل دے۔

سوال: جب کسی کو نصف شعبان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس میں جو مخصوص کام کرتے ہیں، یہ بدعت ہے تو آگے سے اس کا سوال ہوتا ہے کہ تروایح بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایجاد کی۔ ایسے لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے؟

جواب: دین میں کسی کام کے کرنے کے لیے دلیل چاہیے، اگر دلیل نہیں ہے تو وہ کام نہیں کرنا ہے۔

پندرہ شعبان کے تعلق سے لوگ جو عبادات اور رسم و رواج انجام دیتے ہیں ان باتوں کے لیے شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے لہذا پندرہ شعبان کو کوئی خصوصی عبادت انجام نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اس دن یا اس رات کوئی رسم انجام دینا ہے بلکہ پندرہ شعبان کو کوئی خصوصیت یا فضیلت حاصل نہیں ہے۔

جہاں تک تراویح کا مسئلہ ہے تو یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وجہ سے نہیں ہے۔ تراویح دراصل تہجد اور قیام اللیل ہے جو پورے سال مشروع ہے یعنی سال بھر رات میں انجام دی جانے والی عبادت ہے جسے تہجد اور قیام اللیل کہتے ہیں، وہی عبادت رمضان میں تراویح کہلاتی ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

کیا لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے تہجد کی نماز پڑھتے ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر کی وجہ سے قیام اللیل کرتے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں، یہ عبادت، اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہے۔ حضرت عمر کے زمانے میں لوگ اکیلے اکیلے رمضان میں رات کی عبادت کرتے تھے تو انہوں نے لوگوں کو جماعت پر اکٹھا کیا حالانکہ اگر آپ دیکھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زندگی میں صحابہ کو تین دن جماعت کے ساتھ تراویح کی نماز یعنی قیام اللیل کروایا لہذا یہ کہنا کہ حضرت عمر کی وجہ سے ہم تراویح پڑھتے ہیں، یہ بات بالکل غلط ہے۔

سوال: کیا ایک بیوی اپنے شوہر کے پیر دبانے کے دوران پیار سے اس کے پیروں کو چوم سکتی ہے۔ ایسا کرنا کہیں شرکیہ عمل تو نہیں ہوگا؟

جواب: جھکنا عبادت کی کیفیت میں داخل ہے اس وجہ سے کسی کے لئے بھی جھکنا یا جھکنے کی کوئی کیفیت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ (سنن الترمذی:2728، حسنہ البانی)

ترجمہ:اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (بس اتنا ہی کافی ہے) ۔

اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی کسی سے ملاقات کے وقت یا سلام و دعا کے وقت اس سے جھک کر نہیں مل سکتا، جب جھک کر ملنا منع ہے تو جھک کر کسی کا پیر چھونا یا قدموں کا بوسہ دینا بھی جائز نہیں ہے۔

اس معاملہ میں قوی موقف یہی ہے کہ احترام کے طور پر ہاتھ یا سر اور پیشانی کا بوسہ لیا جاسکتا ہے مگر پیر کا بوسہ لینا جائز نہیں ہے۔ بعض لوگ پیر(قدم) کا بوسہ لینا جائز قرار دیتے ہیں، وہ جواز سے متعلق بعض دلائل پیش کرتے ہیں مگر اس بارے میں کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے، سب میں ضعف ہے۔

٭ ترمذی(2733) کی حدیث جس میں دو یہودیوں نے نبی ﷺ کے قدم کا بوسہ لیا، اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔

٭ابوداؤد(5225) میں ہے، "زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے"۔ اس روایت کے اس حصہ "ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے" کو شیخ البانی ؒنے ضعیف قرار دیا ہے۔

اور بھی روایات پیش کی جاتی ہیں مگر کوئی بھی قابل حجت نہیں ہے۔

جہاں تک مذکورہ بالا سوال ہے کہ کوئی بیوی پیر دباتے ہوئے احتراما شوہر کے پیر کا بوسہ دے سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں حرج نہیں ہے یعنی بیوی پیر دباتے وقت اپنے شوہر کے قدم کا بوسہ لے لے تو اس میں حرج نہیں ہے اور اس کو شرکیہ عمل نہیں کہا جائے گا۔

شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ والدہ کے قدم کا بوسہ لینے کے لئے کھڑے ہونے شخص کا جھکنا کیسا ہے۔ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ جھکنا جائز نہیں ہے، یہ تو اللہ تعالی کے لئے خاص ہے تاہم قدم کے علاوہ ، والدہ، والد، عالم اور حاکم کا ہاتھ چومنے میں حرج نہیں ہے مگر بغیر جھکے ہوئے۔ اگر تھوڑا بہت جھک جائے تو حرج نہیں ہے۔ کھڑے ہوئے شخص کا جھکنا اور والدہ کے قدم کا بوسہ دینا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر آدمی والدہ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور انخفاض و انحناء(جھکنا) کے بغیر بیٹھے بیٹھے بطور احترام واکرام والدہ کے قدم کا بوسہ لے لیتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

سوال: ایک عمر رسیدہ خاتون، دیگر خواتین کے گروپ کے ساتھ عمرہ کرنے جا سکتی ہے بغیر محرم کے؟

جواب: عورت کے لئے عمر کے کسی مرحلہ میں بھی بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ہے اس وجہ سے عمرہ رسیدہ خاتون کا بغیر محرم کے عمرہ کے لئے آنا خواہ عورتوں کے گروپ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ، جائز نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کے لئے سفر میں محرم کی شرط لگائی ہے لہذا عورت محرم کے ساتھ ہی حج و عمرہ یا دیگر کسی قسم کا سفر کرے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ میں ریاض میں مقیم ہوں ، میری والدہ جو ستر سال کی ہیں وہ حج پر عورتوں کے گروپ کے ساتھ آنا چاہتی ہیں، اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ آپ خود ان کے پاس جائیں اور انہیں اس ملک سے لے کر آئیں جہاں وہ رہتی ہیں، اور آپ ان کے محرم ہیں۔ یا ان کا کوئی اور محرم ہو جیسے: ان کا بھائی یا چچا، یا کوئی اور بھائی، یا ان کا بھتیجا، یا نواسہ۔ بہرحال محرم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔"

سوال: ایک عورت کو نفلی روزہ رکھنا تھا مگر سحری کے لئے جب آنکھ کھلی تو فجر کی اذان ہو رہی تھی۔ اس نے اذان کے دوران جلدی جلدی سے کچھ کھاکر پانی پیا اور روزہ رکھ لیا۔ اب وہ پوچھ رہی ہے کہ میرا روزہ ہوا یا نہیں؟

جواب: روزہ رکھنے والے کے علم میں یقینی طور پر یہ بات ہونی چاہیے کہ روزہ کی ابتداء صبح صادق سے ہو جاتی ہے اور غروب آفتاب تک روزہ ہوتا ہے۔ اس درمیانی فترے میں اگر کوئی روزہ توڑنے والا عمل انجام دیتا ہے تو اس کا روزہ نہیں مانا جائے گا۔ سوال میں جس خاتون کا عمل مذکور ہے کہ اس نے فجر کی اذان ہوتے وقت کچھ کھایا پیا ہے، اس سے اس کا روزہ نہیں ہوگا کیونکہ اذان ہوتی ہی اس وقت جب سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے بلکہ اپنے علاقوں میں عام طور سے فجر کی اذان کچھ تاخیر سے ہی ہوتی ہے۔ رمضان میں فجر کی اذان تو صحیح وقت پر ہوتی ہے لیکن غیر رمضان میں عموما فجر کی اذان کچھ تاخیر سے ہی ہوتی ہے۔

بہر کیف! یہ روزہ نہیں مانا جائے گا۔

سوال: ایک بیوی کا سوال ہے کہ جس وقت اس کے شوہر اس سے ازدواجی تعلق بنانا چاہتے ہیں، وہ اس وقت جذباتی طور پر صحیح سے تیار نہیں ہوپاتی تو اس کے شوہر اس کی شرمگاہ کو انگلی سے مسلتے ہیں جس سے وہ ازدواجی تعلق کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ازدواجی تعلق سے پہلے بوس وکنار بھی کرتے ہیں لیکن جذباتی طور پر وہ تیار شوہر کے اس طرح چھونے سے ہی ہوتی ہے۔ کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب: اللہ تعالی نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے کھیتی کی طرح بنایا ہے یعنی ایک دوسرے سے جس طرح چاہیں کھیل سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایک صحابی نے شادی شدہ عورت سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ کنواری عورت سے کیوں نہیں نکاح کیا۔ تو اس کے ساتھ کھیلتا، وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔

خلاصہ یہ ہے کہ میاں بیوی شرعی آداب اور حدود کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے جس طرح چاہیں، فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی غیر فطری طریقہ سے انزال نہ کرے خواہ ہاتھ کے ذریعہ ہو یا منہ کے ذریعہ ہو یہ جائز نہیں ہے۔ تاہم شوہر کا بیوی کی شرمگاہ پر ہاتھ لگانا یا مس کرنا یا بیوی کا شوہر کی شرمگاہ پر ہاتھ لگانا یا مس کرنا اور جماع کے لیے ایک دوسرے کو تیار کرنا اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال: ایک عورت گھر میں اپنے بیٹے کے پیچھے نماز تراویح پڑھ رہی ہے۔ جب تلاوت میں غلطی ہو تو کیا وہ لقمہ دے سکتی ہے؟

جواب: اگر گھر میں لڑکا، گھر کی عورتوں اور لوگوں کو تراویح کی نماز پڑھا رہا ہو اور قرآن پڑھتے ہوئے بھول جائے تو مردوں میں سے کوئی اس کو تلاوت یاد دلا دے۔

اگر ان میں کوئی مرد نہ ہو یا کسی مرد کو یاد نہ ہو تو عورتوں میں سے کوئی عورت، امام کو قرآنی آیت بھولنے پر لقمہ دے سکتی ہے۔ اس میں حرج نہیں ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر امام اپنی قراءت میں غلطی کر دے اور مردوں میں سے کوئی بھی اس کو درست نہ کرے، تو کیا عورتوں میں سے کوئی اسے درست کر سکتی ہے؟ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ ہاں، وہ امام کو متنبہ کرے اور آیت یاد دلا دے۔ اگر مردوں نے یاد دلا دیا تو ٹھیک، ورنہ عورت یاد دلا سکتی ہے۔ عورت کی آواز بذاتِ خود پردہ نہیں ہے، بلکہ ممنوع چیز، آواز میں لچک، نرمی اور دلکشی پیدا کرنا ہے۔

مکمل تحریر >>