Wednesday, November 27, 2024

پنج سورہ یا سبع سورہ کی حقیقت


 

پنج سورہ یا سبع سورہ کی حقیقت

تحریر: مقبول احمد سلفی/جدہ

جدہ دعوہ سنٹر۔ سعودی عرب


بدعتی لوگوں کے گھروں میں عام طور سے پانچ سورتوں یا سات سورتوں پر مشتمل ایک کتاب پائی جاتی ہے۔ پانچ سورتوں (سورہ یٰسین، سورہ رحمان، سورہ واقعہ، سورہ ملک، سورہ مزمل) پر مشتمل کتاب کو پنج سورہ نام دیا جاتا ہے اور سات سورتوں(سورہ کہف، سورہ سجدہ، سورہ یاسین، سورہ رحمن، سورہ واقعہ ، سورہ ملک، سورہ مزمل) پر مشتمل کتاب کو سبع سورہ کہا جاتا ہے۔

اس کتاب میں عموما قرآن کی مذکورہ بالا سورتیں درج ہوتی ہیں اور ان سورتوں کے فضائل بیان کئے گئے ہوتے ہیں۔ ان فضائل میں بعض صحیح فضائل ہوتے ہیں جبکہ اکثر و بیشتر فضائل ضعیف اور موضوع ہوتے ہیں۔ سورہ یاسین کی فضیلت میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں ہے ، اس بارے میں جتنی احادیث آتی ہیں سب ضعیف ہیں مگربدعتی تمام ضعیف و موضوع روایات بیان کرتے ہیں۔اس کتاب میں صحیح اور ضعیف فضائل کے ساتھ حاجات و ضروریات پورا کرنے کے مصنوعی اور بدعتی طریقے بھی بیان کیے گئے ہوتے ہیں۔

اس کتاب کے تیار کرنے اور لوگوں میں پھیلانے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں اس کتاب کو رکھیں اور جب بھی کسی کو جس قسم کی حاجت وضرورت پیش آئے پنج سورہ یا سبع سورہ پڑھ لے اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی یا کوئی بلا آئی ہو تو وہ ٹل جائے گی۔ اس لئے اس کتاب کا اصل نام بلاؤں کو ٹالنے والی کتاب ہونا چاہئے۔ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ بھی ہوتا ہے کہ مصائب و مشکلات سے بچنے کے لئے اس کتاب کو روزانہ پڑھنا ضروری ہے۔ پھر ان میں موجود الگ الگ سورت کے الگ الگ مصنوعی وظائف بیان کئے گئے ہوتے ہیں کہ فلاں فلاں مصیبت میں اتنے اتنے دفعہ فلاں سورت کو پڑھو تمہاری مشکل آسان ہوجائے گی ۔

اس پنج یا سبع سورہ سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ قرآن سے الگ کرکے چند سورتوں کا اس طرح مجموعہ تیار کرنا غلط ہے۔ اللہ کی جانب سے جس طرح تیس پارے نازل ہوئے ہیں ، ہمیں اپنے گھروں میں تیس پاروں والا قرآن رکھنا چاہئے اور یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ مکمل قرآن شفا ہے۔ اور نزول قرآن کا مقصد اسے سمجھ کر پڑھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔یاد رکھیں کہ جو قرآن پر عمل نہیں کرتا ، اسے قرآن سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ قرآنی سورتوں کو اپنی جانب سے بیماریوں کے لئے خاص کرنا اور پڑھنے کا خاص وقت مقررکرنا اور اس کی مخصوص تعداد متعین کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ اس لئے کسی مسلمان کو اس قسم کا تیار کردہ پنج سورہ یا سبع سورہ اپنے گھر میں رکھنا، مشکلات دور کرنے کےلئے اسے پڑھنا ، صدقہ جاریہ کے لئے اسے خرید کر یا پرنٹ کراکر تقسیم کرنا یہ سارےکام غلط ہیں۔ آپ اپنے گھر میں دعا کی کتاب کے طور پر حصن المسلم رکھیں، سادہ قرآن رکھیں اور تفسیر احسن البیان رکھیں۔اگرکوئی آپ سے کہے کہ یہ تو قرآن کی سورتیں ہیں، توآپ اس سے کہیں کہ بالکل اس کتاب میں قرآن کی سورتیں ہیں مگر اس میں سورتوںکے علاوہ جو باتیں لکھی گئی ہیں اور اس کتاب کے ساتھ جو عقیدہ پایا جاتا ہے وہ غلط ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی ہمارے قرآن میں اپنی جانب سے ایک آیت اضافہ کردے تو آپ وہ قرآن تسلیم کریں گے ، نہیں ہرگز نہیں ۔ بلکہ کوئی ایک نقطہ بھی قرآن میں زیادہ کردے ہم اسے برداشت نہیں کریں گے پھر پنج سورہ یا سبع سورہ میں سورتوں کے علاوہ جو جھوٹی اور بناوٹی باتیں لکھی ہوئی ہیں ایسے مجموعہ کو کیسے قبول کریں گے ؟  

مکمل تحریر >>

Friday, July 12, 2024

رسم تعزیہ داری ، اسلام اور شرعی تعزیت کی کسوٹی پر

 رسم تعزیہ داری ، اسلام اور شرعی تعزیت کی کسوٹی پر
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ – سعودی عرب
 
آج کل محرم میں جس قسم کی  تعزیہ داری کی رسم ادا کی جاتی ہے اسلام میں اس کی حیثیت کیا ہے اس کو جاننے کے لئے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تعزیت کسے کہتے ہیں اور اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
تعزیت کو عربی میں تعزیۃ لکھتے ہیں جیسے رحمت کو عربی میں رحمۃ لکھتے ہیں اور تعزیت کا لغوی معنی تسلی دینا اور شرعی اصطلاح میں تعزیت کہتے ہیں میت کے رشتہ دار کو صبر کی تلقین کرنا اور انہیں تسلی دینا تاکہ اس کا غم ہلکا ہو اور اسے دلاسہ ملے ۔
جب سے شیعوں نے ماتم اور تعزیہ داری کو رواجا اور مسلمانوں کے قبرپرست طبقہ نے اسے اپنایا ہے  اس کے بعد اردو لغت والوں نے تعزیت کا ایک معنی اور بڑھادیا ۔ پہلے سے تعزیت کا ایک معنی ہے ہی تسلی دینا اور ایک دوسرا معنی جیسے فرہنگ آصفیہ میں ہے۔"حضرت امام حسن و حسینؑ کی تُربتونکی نقل جو کاغذ اور بانس کے قُبہ کے اندر مُحرم کے دنوں میں دس روز تک اُنکا ماتم یا فاتحہ دلانے کے واسطے بطور یاد گار مناتے ہیں"۔
یہاں پر ایک شیعی ویکی پیڈیا کے حوالے سے بھی تعزیت کا مطلب جانتے چلیں تو موضوع کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ شیعہ ویکی پیڈیا کیا کہتا ہے"تعزیہ شیعوں کا ایک رسم ہے جو امام حسینؑ کے جنازے یا ان کے روضے کی شبیہ بناکر عاشورا کے دن عزاداری کے جلوس میں نکالے جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں تعزیوں کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ تعزیہ سونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل اور کاغذ سے تیار کیا جاتا ہے۔ عراق میں تعزیہ کو شبیہ اور ایران میں نخل گردانی کہا جاتا ہے"۔
اسلام میں تعزیت کسی کی موت پر اس کے رشتہ داروں سے کی جاتی ہے تاکہ میت کے گھروالوں کو تسلی ہو کیونکہ جس کے گھر وفات ہوتی ہے وہ لوگ غمگین اور اداس ہوتے ہیں ۔ اسلام نے ایسے موقع سے تعلیم دی ہے کہ میت کے گھروالوں کو تسلی دی جائے اسے تعزیت کہتے ہیں ۔ تعزیت سے متعلق متعدداحادیث ملتی ہیں ، آئیے چند ایک احادیث دیکھتے ہیں اور اسلام میں تعزیت کی حیثیت جانتے ہیں ۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللہ عنہ ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور بایں الفاظ تعزیت فرمائی:
إنَّ لِلَّهِ ما أَخَذَ، وله ما أَعْطَى، وكُلٌّ عِنْدَهُ بأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ، ولْتَحْتَسِبْ(صحيح البخاري:1284)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے‘ جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔
اس حدیث میں آگے مذکور ہے کہ نبی ﷺ بچے کی جانکنی کا حال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس لئے ممکن ہے کہ میت کے شدت غم میں انسان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائے مگر میت کے زور زور سے رونا، چیخناچلانا، گریبان چاک کرنااور سینہ کوبی کرنا منع ہے ۔
ایک دوسری حدیث میں تعزیت کی فضیلت بیان کی گئی ہے چنانچہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
ما من مؤمنٍ يعزِّي أخاهُ بِمُصيبةٍ إلَّا كساهُ اللَّهُ سبحانَهُ من حُلَلِ الكرامةِ يومَ القيامَةِ(صحيح ابن ماجه:1311)
ترجمہ:جو مومن اپنے بھائی کو کسی مصیبت پر تسلی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت افزائی کا خلعت عطا فرمائے گا۔
سنن نسائی(2090) میں ایک واقعہ موجود ہے۔ قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے (گود میں) بٹھا لیتے (چنانچہ کچھ دنوں بعد) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو (جب) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا:
 مالي لا أرى فلانًا ؟ قالوا : يا رسولَ اللَّهِ ، بُنَيُّهُ الَّذي رأيتَهُ هلَكَ ، فلقيَهُ النَّبيُّ فسألَهُ عن بُنَيِّهِ ، فأخبرَهُ أنَّهُ هلَكَ ، فعزَّاهُ علَيهِ ، ثمَّ قالَ : يا فلانُ ، أيُّما كانَ أحبُّ إليكَ أن تُمتَّعَ بِهِ عمُرَكَ ، أو لا تأتي غدًا إلى بابٍ من أبوابِ الجنَّةِ إلَّا وجدتَهُ قَد سبقَكَ إليهِ يفتَحُهُ لَكَ ، قالَ : يا نبيَّ اللَّهِ ، بل يَسبقُني إلى بابِ الجنَّةِ فيَفتحُها لي لَهوَ أحبُّ إليَّ ، قالَ : فذاكَ لَكَ(صحيح النسائي:2087)
ترجمہ:کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، (اور) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی (موت کی خبر) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ (جب) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: تمہارے لیے ایسا (ہی) ہو گا۔
اس میں کلمہ استشہاد ہے "فعزاہ علیہ یعنی نبی نے اس آدمی کی تعزیت فرمائی جس کا بچہ مرگیا تھا ۔ اسی کلمہ کی مناسبت سے امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے" بَابُ: فِي التَّعْزِيَةِ" یعنی باب: تعزیت کا بیان۔
اس مقام پر موضوع سے متعلق ایک اہم حدیث بھی دیکھتے چلیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک تابعی نے اہل بیت سے کیسے تعزیت کی ؟
شہر بن حوشب کہتے ہیں: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ،(میں اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعزیت کے لیے آیا) تو وہ کہنے لگیں: ایک دفعہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چادر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز لائیں، میں نے اس کو رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”حسن، حسین اور اپنے چچازاد کو بھی بلاؤ“، جب سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: یہ میری خاص اولاد ہے، اور میرے اہلِ بیت ہیں۔ اے اللہ! ان سے گندگی اور نجاست کو دور کر دے، اور ان کو اچھی طرح پاک کر۔(معجم صغير للطبراني: 846)
مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وفات کے وقت میت کے گھر والوں کو صبر دلایا جائے ، وہ آپ کسی طرح کے الفاظ کے ساتھ صبروتسلی دلا سکتے ہیں ، معین الفاظ میں تعزیت کرنا کوئی ضروری نہیں ہے ۔ نیز تعزیت کے باب میں جہاں تک سوگ کا معاملہ ہے وہ صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے یعنی مردوں کے لئے کبھی بھی سوگ جائز نہیں ہے ، صرف عورتوں کے لئے سوگ جائز ہے کیونکہ سوگ ترک زینت کو کہتے ہیں ۔ آئیے حدیث دیکھتے ہیں :
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلاَ نَكْتَحِلَ وَلاَ نَتَطَيَّبَ وَلاَ نَلْبَسَ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَقَدْ رُخِّصَ لَنَا عِنْدَ الطُّهْرِ إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ كُسْتِ أَظْفَارٍ، وَكُنَّا نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ»(صحیح البخاری:313)
ترجمہ:ام عطیہ سے رویت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب ( یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی ) کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں اور ہمیں ( عدت کے دنوں میں ) حیض کے غسل کے بعد کست اظفار استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا جب انتقال ہوا تو انہوں نے صرف تین دن ہی سوگ منائیں جبکہ بیٹے سے جدائی کا غم ایک ماں کو کس قدر ہوگا اندازہ لگاسکتے ہیں ، محمد بن سیرین سے روایت ہے :
تُوفِّيَ ابنٌ لأمِّ عطيةَ رَضِيَ اللهُ عنها ، فلمَّا كان اليومُ الثالثُ ، دعت بصُفْرَةٍ فتمسحتْ بهِ ، وقالت : نُهِينا أن نُحِدَّ أكثرَ من ثلاثٍ إلَّا بزوجٍ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے صفرہ خلوق ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے سوگ صرف عورت کے لئے جائز ہے ، مرد کے لئے نہیں ، دوسری بات یہ ہے کہ عورت اپنے رشتہ دار کی موت پر تین دن سوگ مناسکتی ہے، یہ جائز ہے مگر واجب نہیں ہے تاہم شوہر کی وفات پر واجبی طور پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ہے اور یہ سوگ وفات کے وقت زندگی میں ایک بار ہے ، باربار اور ہرسال سوگ جائز نہیں ہے ۔
شریعت محمدی میں میت کے گھروالوں کی  تعزیت سے متعلق اختصار کے ساتھ یہ بات جان لیں کہ جب کسی کے گھر فوتگی ہو تو اس وقت گھر والے غمکین ہوتے ہیں ایسے میں میت کی مغفرت کے لئے دعا دی جائے اور گھر والوں کو تسلی اور صبرکی تلقین کی جائے اور پڑوسی کا حق بنتا ہے کہ اس دن میت کے گھروالوں کے لئے کھانا بنایا جائے اور گھروالوں کو مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کی جائے ۔ تعزیت کے لئے کوئی خاص دن نہیں، کوئی خاص طریقہ نہیں، اور کوئی خاص الفاظ ضروری نہیں ۔
اسلامی تاریخ میں متعدد واقعات رونماہوگئے اور متعدد شہادتیں ہوئیں، ان شہادتوں میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہے مگر شہادت  حسین کے بہانے شیعوں نے تعزیہ کی رسم ایجاد کی اور آج مسلمانوں کی اکثریت بھی شیعوں کی طرح تعزیہ داری کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔  یہ ہرگز نہیں بھولیں کہ رسم تعزیہ شیعوں کی ایجاد ہے اوریہ رسم تعزیہ سیدنا حسین کی یاد میں بطور تعزیت ہے ۔ تعزیہ میں شہید کی قبر کی شبیہ  ہوتی ہے جوسونے، چاندی، لکڑی، بانس، کپڑے، اسٹیل  اور کاغذ  سے تیار کی جاتی ہے۔
جب آپ اسلامی تعزیت اور رسم تعزیہ کا موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسم تعزیہ بالکل اسلام کے خلاف ہے، اس کا اسلام سے  دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے ، اسلامی شریعت سے تعزیت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے سارے اعمال خود سے وضع کئے گئے ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسم تعزیہ کیسے اسلامی تعزیت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(1) نبی ﷺ کی وفات 9/ربیع الاول گیارہ ہجری کو ہوئی جبکہ کربلا کا واقعہ 10/محرم اکسٹھ ہجری کو پیش آیا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ دین اسلام نبی ﷺ کے عہدمبارک میں ہی مکمل ہوچکا تھالہذا دین وہی ہے جو قرآن وحدیث میں موجود ہے اور قرآن وحدیث سے باہر کوئی عمل دین نہیں ہے ۔  رسم تعزیہ سیدنا حسین سے جڑی ہوئی ہے جو یقینا اسلام مکمل ہونے کے بعد کی پیداوار ہے ۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی کی وفات یا شہادت پر رسم تعزیہ منانے کا حکم نہیں دیا ہے ۔ آپ نے وفات کے وقت میت کے گھر والوں سے محض تعزیت کا حکم دیا ہے جس کا ذکر سطور بالا میں ہے مگر بانس وکاغذ اور لکڑیوں کے توسط سے  لمبا سا جہاز ماڈل قبر کی شبیہ بنانے کے کا کہیں حکم نہیں دیا ہے ، نہ کسی صحابی کے لئے اور نہ ہی اہل بیت کے شہید کے لئے اور نہ خصوصیت کے ساتھ حسین کے لئے ۔ یہ نئی ایجاد بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
(2)تعزیہ تعزیت سے ماخوذ ہے اور اسلام میں تعزیت زبانی طور پر میت کے گھروالوں کو دلاسہ اور تسلی دینے کو کہتے ہیں مگر رسم تعزیہ داری میں میت کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور ہرسال دس محرم کو تعزیہ منایا جاتا ہے ۔  کسی میت یا شہید کی شہادت کے دن بھی  ایک مرتبہ بھی شہید کی قبر کی شبیہ نہیں بناسکتے ہیں تو ہرسال اس عمل کا دہرانا بھی کسی طرح جائز نہیں ہے اور کتنے گئے گزرے مسلمان ہیں جو قبروں کی شبیہ بناتے ہیں ، گلی کوچے گھماتے ہیں پھر تالات میں بھسم کرتے ہیں کیا یہ ہندؤں کی مورتی پوجا جیسی عبادت نہیں ہے ؟  ہندو بھی  اپنے تہواروں پراپنے بزرگ لوگوں کی مورتی بناتے ہیں ، اس کی تعظیم وعبادت کرتے ہیں اور پھر اسے پانی میں بہادیتے ہیں یعنی جو سب اعتقادات و اعمال ہندو اپنے مورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں ٹھیک ویسے ہی اعتقاد وعمل کے ساتھ تعزیہ داری کی جاتی  ہے ۔اس لحاظ سے یہ شرکیہ وکفریہ  عمل بھی ہے اور اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا کہ وہ ہرگناہ کو معاف کردے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گالہذا مسلمانوں کو اس شیعی ایجاد شرکیہ وکفریہ عمل سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
(3) تعزیہ میں موجود قبر کو زندہ حسین سمجھا جاتا ہے ، ان کی تعظیم کی جاتی ہے، ان کے لئے نیاز کی جاتی ہے، نذر مانی جاتی ہے  اور ان سے مدد مانگی جاتی ہے حتی کہ ان  کا سجدہ بھی کیا جاتا ہےاور تعزیہ کے نیچے سے بچوں کو گزارا جاتا ہے اس اعتقاد کے ساتھ صاحب قبر کی پناہ میں آجائے گا۔ گویا ایک انسان کو معبود کی حیثیت سے پوجا جاتا ہے ، اگر یہ شرک نہیں ہے تو پھر کس کا نام شرک ہے  اور اگر کوئی کلمہ پڑھ کر یہ سارے مشرکانہ اعمال انجام دے گا تو اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو مورتی پوجنے والوں کا حشر ہوگاکیونکہ ان دونوں میں اعتقاد وعمل کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے ۔
(4)کہیں پر تعزیہ میں ذوالجناحین (دوپروں والے گھوڑے) اور دلدل نامی سواری تیار کرکے اس کا جلوس نکالا جاتا ہے ، یہ دیکھنے میں عجیب مورتی کی شکل میں ہوتی ہے ، اسے نفع ونقصان کا مالک سمجھ کراس کی تعظیم کی جاتی ہے ، اس سے مرادیں مانگی جاتی ہیں ، اس کی زیارت اور اس کے جلوس میں شامل ہونا باعث اجروثواب سمجھا جاتا ہے ۔ عموما اس طرح کی رسم شیعہ انجام دیتے ہیں مگر اس میں تعزیہ منانے والے بھولے بھالے مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں جو بیحد شرمناک ہے ۔ اللہ تعالی نے ہمیں بتوں کی عبادت سے نجات دے کر اسلام میں داخل فرمایا پھر بھی بعض مسلمان عمدا یا سہوا بتوں ، گھوڑوں، پتھروں ، قبروں اور مورتیوں کی عبادت کسی نہ کسی شکل میں کرتے ہیں ۔ہم  ایسے بے راہوں کے لئے اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے ہیں ۔
(5)تعزیت تو میت کے غم پہ صبر دلانے کو کہتے ہیں مگر تعزیہ داری میں باقاعدہ ڈھول بجایا جاتا ہے، اس میں ناچا اور تھرکا جاتاہے ، جوان لڑکے اورجوان لڑکیاں  اس میں رقص کرتے ہیں اور خوب خوب ہنستے گاتے ، کھیل تماشہ کرتے اورمیل ٹھیلہ لگاتے ہیں ۔اولا ڈھول باجوں کی  تعزیہ سے کوئی نسبت نہیں بنتی ، ثانیا ڈھول ورقص ہمیشہ منع ہے پھر تعزیہ کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ نبی ﷺ نے ان جیسے آلات کو شیطان کا ساز قرار دیا ہے اور آپ فرماتے ہیں کہ اس امت میں خسف،مسخ اور قذف واقع ہوگا ، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول! ایساکب ہوگا؟ آپ نے فرمایا:جب ناچنے والیاں اورباجے عام ہوجائیں گے اورشراب خوب پی جائے گی۔(صحیح الترمذی:2212)
مسلم بھائیو!اللہ کبھی تمہارے ان عملوں سے راضی نہیں ہوگابلکہ تم ایسے اعمال کرکے قہرالہی کو دعوت دے رہے ہو، ذرا غور کروکہ شہدائے کربلا کے واسطے یوم شہادت پر شہنائی بجاناکیا حب اہل بیت ہے یا یہ اہل بیت سے بغض کی علامت ہے اور جواسلام عورتوں کواپنے  گھر میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے مگرتم انہیں گھروں سےسڑکوں، گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر نکالتے ہو، خود بھی ناچتے ہو، ان سے بھی نچواتے ہواور یوں مسلم خواتین کی عزت اپنوں اور غیروں کے سامنے  نیلام کرتے ہو ۔
(6) تعزیہ کی مناسبت سے مرثیہ خوانی، نوحہ، ماتم ، گریبان چاک ، چیخنا چلانا ، رونادھونا کیا جاتا ہے ۔ ہم نے سطور بالا میں بتایا ہے کہ صرف وفات کےوقت  میت کے گھروالوں میں خاتون کو تین دن سوگ منانے کی اجازت ہے اور شوہر کی وفات ہو تو چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم ہے مگر مردوں کو سرے سے کبھی بھی سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے ، سوگ صرف عورت کے لئے وہ بھی وفات کے وقت ۔ اور ماتم ونوحہ تو کبھی بھی اسلام میں جائز نہیں ہے ، نہ موت کے وقت اور نہ زندگی میں کبھی ۔ نبی ﷺ کافرمان ہے :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ليس مِنَّا من ضربَ الخدودَ ، وشَقَّ الجيوبَ ، ودعا بدَعْوَى الجاهليَّةِ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دور جاہیلت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
بلکہ میت پر رونے دھونے اور نوحہ کرنے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے ، نبى كريم ﷺ نے فرمايا:ميت كو قبر ميں اس پر كيے گئے نوحہ كى وجہ سے عذاب ہوتا ہے(صحيح البخارى:1292)
نیز آپ ﷺ كا فرمان ہے:يقينا ميت كو اس كے گھر والوں كے رونے سے عذاب ديا جاتا ہے۔(صحيح البخارى:1288)
ذرا سوچو کہ تم ماتم ونوحہ کرکےحب اہل بیت کاثبوت دے ہواور ثواب دارین حاصل کررہے ہو یا شہدائے کربلا کو تکلیف پہنچارہے ہو؟
(7)اسی طرح تعزیہ کے پس منظر میں صحابہ کرام کو سب وشتم کیا جاتا ہے بالخصوص امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیا جاتا ہے ، صحابہ کو گالی دینا شیعہ کی خاص پہچان ہے مگر آج شیعہ کے جھانسے میں بہت سارے مسلمان آگئے اور مسلمان بھی بعض صحابہ کو برا بھلا کہنے لگے ۔ اس بارے میں مختصرا یہ جان لیں کہ ایک دل میں ایمان اور صحابی کا بغض دونوں جمع نہیں ہوسکتا ہے ۔ اگر دل میں ایمان ہے تو صحابی کی محبت ہوگی اور اگر کوئی آدمی صحابی سے بغض رکھتا ہے تو اس کے دل میں ایمان نہیں ہوگا۔
(8) تعزیہ میں ایک عمل خود کو تکلیف دینا ہے جیسے تلوار وچاقوسے خودکو زخمی کرنا، دھاردار اسلحے سے جسم لہولہان کرنا، آگ زنی   ، سینہ کوبی ا   ور زنجیر زنی کرکے خود کو نقصان پہنچانا ۔یہ سارے شیعی اعمال ہیں اور یہ ان کے برے کرتوت کے نتیجے ہیں جن کے سبب بطور ذلت ورسوائی یہ قیامت تک خود کو اذیت وتکلیف میں مبتلا رکھیں گے ۔واضح رہے ان المناک حرکتوں کااسلام سے اور شرعی تعزیت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اسلام تو خود کو ادنی سی تکلیف پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ شیعوں کی دیکھادیکھی  کہیں کہیں بریلوی لوگ بھی اسی طرح کی حرکتیں انجام دیتے ہیں ۔برصغیر میں اکثر بریلوی تعزیہ میں تلوار، زنجیراور لاٹھیوں سے عجیب وغریب  کھیل ، تماشے ،کرتب اور سرکس والا عمل کرتے ہیں ، یہ عمل چوک چوراہوں ، گلی کوچوں اور بازاروں میں انجام دیا جاتا ہے ،ان حرکتوں کو دیکھ ایسے  بدنصیب مسلمانوں پر افسوس ہوتا ہے ۔ کیا نبی کی امت ایسی ہوسکتی ہے اور ایسے لوگ خود کو اصلی سنی کہتے ہیں ۔ میں نے سنا ہے کہ ان بریلویوں کو بعض جگہوں پر شیعوں سے تعزیہ منانے کے پیسے بھی ملتے ہیں اور ان پیسوں سے یہ بریلوی دھوم دھام سے تعزیہ مناتے ہیں ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ صحابہ کو گالی دینے والے شیعوں کی محفل عزاداری میں بریلوی شوق سے جاتے ہیں ، ان کی طرح ماتم اور تعزیہ مناتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ دیوبندی یا اہل حدیث سے سلام کرنے پر نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ان  کو بدمدہب اور بدعقیدہ کہاجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ گمراہ مسلمانوں کو گمراہ فرقوں سے ہی محبت ہوسکتی ہے ۔
(9) تعزیہ میں غیراللہ کے نام کی نذرونیاز کی جاتی ہے ، مختلف قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں اور انہیں مزارات پر پیش کئے جاتے ہیں اور لوگوں میں بھی تقسیم کئے جاتے ہیں اور جھوٹی روایات کا سہارا لے کر ان نذرونیاز کےجھوٹے  فضائل بیان کئے جاتے ہیں  ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ نذر عبادت ہے اور غیراللہ کے لئے نذر ماننا اور غیراللہ کے لئے نیاز کرنا شرک ہے اور اللہ شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔
(10)مسلمانوں میں الحمدللہ اہل حدیث جماعت بدعتوں سے بالکلیہ دور ہے ، رسم تعزیہ داری سے بھی دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے  بلکہ اس کفریہ اور شرکیہ رسم کی سخت لہجہ میں کوئی جماعت تردید کرتی ہے تووہ  اہل حدیث جماعت ہی ہے ۔ دیوبند کے علماء بھی تعزیہ کو نہیں مانتے اور اپنی عوام کو اس سے روکتے ہیں پھر بھی کہیں کہیں دیوبندی عوام اس کام میں ملوث ہیں ۔ جہاں تک بریلویوں کا مسئلہ تو یہ لوگ ڈنکے کی چوٹ پہ علی الاعلان تعزیہ بناتے ، مناتے اور یہ باورکراتے ہیں کہ اصلی مسلمان اور اہل بیت سے سچی محبت کرنے والے یہی بریلوی ہیں جبکہ میں بتاچکاہوں کہ تعزیہ بدعت ہے، کفربھی ہے اور اس میں شرکیہ عمل بھی پایا جاتا ہے ۔ کم ازکم بریلوی اپنے اعلی حضرت احمد رضا کے فتوی جو رسالہ تعزیہ داری میں موجود ہے اسی  کومان لے اوراسی پر عمل کرلےیہی بہت ہے ۔ اس رسالہ میں احمد رضا کا کہنا ہے "اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت وناجائز وحرام ہے۔
ویسے تعزیہ سے متعلق بہت سارے اور بھی امور پائے جاتے ہیں جن کا اسلام سے تعلق نہیں ہے تاہم میں نے اہم ترین دس امور کا ذکر کیا ہے اور خلاصہ کے طور پر ایک جملہ میں یہ سمجھ لیں کہ تعزیہ داری سرے سے ناجائز اور حرام ہے اورتعزیہ کےساتھ جتنے اعمال انجام دئے جاتے ہیں وہ بھی تعزیہ کی طرح ہیں ناجائز ہیں کیونکہ جس عمل کی بنیاد ہی حرام ہے اس سے جڑے تمام اعمال بھی حرام ٹھہریں گے ۔ اور قرآن وحدیث کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیہ داری کرنےو الے مذکورہ بالا اعمال سے توبہ کئے بغیر مرگئے تو اللہ کے یہاں ان کی بخشش محال ہےاور جو جنت میں نوجوانوں کے سردار ہیں یعنی حسن وحسین رضی اللہ عنہما وہ خود بھی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے نام پر بے پناہ بدعت ومعصیت اور کفروشرک کرنے والے لوگ جنت میں داخل ہوں ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے  کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے تاکہ صراط مستقیم پرآجائیں اور مذکورہ بالا کفرومعصیت سے تائب ہوکر سچے ایمان والے اور پکے توحیدوالے بن جائیں ۔
 

مکمل تحریر >>

Wednesday, January 25, 2023

کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے ؟


 کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے ؟

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب

 

رجب کی آمد پر مرد و عورت میں رجب کے اعمال کے تعلق سے مختلف قسم کی باتیں شروع ہوجاتی  ہیں، ان سب باتوں کا ذکر یہاں مقصودنہیں ہے ، صرف ایک بات کی اصل حقیقت بتاؤں گا ، وہ یہ ہے کہ کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے ؟

دراصل بدعتی اپنی بات اسی سے شروع کرتا ہے کہ دیکھو سال کے بارے مہینے ہیں، سارے مہینے اللہ نے بنائے مگر کسی کو اپنا مہینہ نہیں کہا ، ہم دیکھتے ہیں ذوالحجہ میں حج جیسا عمل پایاجاتا ہے، قربانی جیسی عبادت ہوتی ہے، محرم میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے مگر کسی ماہ کو اللہ کا مہینہ نہیں کہا گیا ، صرف رجب کو ہی کیوں اللہ کا مہینہ کہا گیا؟ ضرور اس مہینے میں راز چھپاہے، اس ماہ کی بڑی فضیلت ہے ۔ یعنی اس قسم کی باتیں کہہ کر بدعتی لوگوں کو اس ماہ کے تعلق سے مختلف قسم کے مخصوص اعمال بتاتے ہیں جبکہ سچ تو یہ ہے کہ رجب حرمت کے چار مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے جس کا تقاضہ ہے کہ ہم اس ماہ میں فتنہ و فساد، قتل و ظلم اور کفر و معصیت سے بچیں ۔ مگر بدعتیوں نے ضعیف اور موضوع روایات کو بنیاد بناکر امت میں طرح طرح کے بدعی اعمال رواج دیا ہے۔ آپ مختصر طور پربس اتنا جان لیں کہ رجب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مخصوص عمل یا سنت ثابت نہیں ہے، نہ کوئی مخصوص نماز، نہ کوئی مخصوص روزہ، نہ کوئی مخصوص ذکر،نہ کوئی مخصوص عمرہ اور نہ کوئی مخصوص دعا وغیرہ ۔

اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ کیا رجب اللہ کا مہینہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک حدیث اس طرح سے آتی ہے ۔

((رجَبٌ شَهرُ اللَّهِ وشعبانُ شَهري ورمضانَ شَهرُ أمَّتي))

ترجمہ: رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔

یہ حدیث کی اہم کتابوں میں موجود نہیں ہے ، نیچے طبقے کی بعض کتب حدیث میں یہ روایت موجود ہے جیسے مسند الفردوس اور الجامع الضعیر وغیرہ میں ۔
یہ ضعیف حدیث ہے بلکہ اس حدیث پر متعدد محدثین نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے یعنی یہ حدیث من گھرنت ہے، کسی نے اپنی طرف سے  اس کو گھڑ کو رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب کردیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اتنا گناہ اس کو بھی ملے گا جو اس جھوٹی حدیث کو لوگوں میں بول کر یا لکھ کرپھیلائے گا۔

جن محدثین نے اس حدیث کو موضوع کہا ہے ان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں ۔

(1)امام صغانی نے "الموضوعات:72" میں موضوع کہا ہے۔

(2)علامہ ابن القیم نے "المنارالمنیف:76" میں موضوع کہا ہے۔

(3)علامہ شوکانی نے "الفوائد المجموعۃ:100" میں موضوع کہا ہے۔

(4)امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام :28/351" میں موضوع کہا ہے۔

(5)علامہ ابن الجوزی نے "الموضوعات: 2/576 " میں اسے موضوع کہا ہے۔

(6)حافظ ابن حجر عسقلانی نے" تبیین العجب:35" میں موضوع کہا ہے۔

(7)علامہ البانی نے اس معنی کی ایک اور روایت کہ رجب اللہ کا مینہ ہے، جو رجب کی تعظیم کرے وہ اللہ کی تعظیم کرتا ہے، کو "السلسلۃ الضعیفہ :6188 " میں موضوع کہا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جس حدیث میں یہ کہاگیا ہے کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے وہ حدیث گھڑی ہوئی اور موضوع ہے اس لئے اس حدیث کو بیان کرنے سے بچیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کی نسبت ثابت نہیں ہے اور آپ ﷺ کا فرمان ہے:

مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933)

ترجمہ: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔

مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کو ڈرنا چاہئے اور کوئی بھی  جھوٹی بات رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے اللہ کا خوف کھانا چاہئے ۔
ویسے سارے مہینے اللہ نے بنائے ہیں تو یہ سارے مہینے بھی اللہ کے ہی ہوئے اس لئے صرف رجب کو خاص کرکے یہ کہنا یہ اللہ کا مہینہ ہے ، غلط ہےکیونکہ اس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔ ہاں  صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے کہ محرم اللہ کا مہینہ ہے ، صحیح مسلم کی حدیث ہے، ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ.(صحیح مسلم:1163)

ترجمہ:افضل سب روزوں میں رمضان کے بعد محرم کے روزے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے اور بعد نماز فرض کے تہجد کی نماز ہے۔

گویا بدعتی اس مہینہ میں مخصوص بدعی اعمال انجام دینے کے لئے جو بنیاد بناتے ہیں وہ بنیاد ہی غلط ہے، بلاشبہ رجب  حرمت والا مہینہ ہے مگر اس مہینہ میں کوئی مخصوص عمل یا عبادت کرنے کا ثبوت نہیں ہے، اس ماہ سے متعلق جو بھی مخصوص اعمال اور ان کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی حدیث ثابت نہیں ہے۔جس طرح آپ رجب سے پہلے دیگر مہینوں میں عبادات انجام دیتے تھے اسی طرح اس ماہ میں بھی عبادات کریں ، ساتھ ہی  یہ حرمت والا مہینہ ہے تو گناہ و معصیت اور ظلم و فساد سے پرپیز کریں، اس ماہ کی حرمت کا تقاضہ تو یہ کہ بدعتی اعمال انجام نہ دئے جائیں مگر بدعتی مسلمان الٹا طرح طرح کی بدعات انجام دیتے ہیں اور اس ماہ کی حرمت پامال کرتے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو بدعات و خرافات سے بچائے ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, February 15, 2022

بدعت کو پہچانئے

بدعت کو پہچانئے
________________________
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر طائف،سعودی عرب
 
الحمد للہ اسلام ایک واضح اور صاف ستھرا دین ہے جس کی تعلیمات اور احکام ومسائل روشن دن کی طرح عیاں وبیاں ہیں مگر اسلام کے نام لیواؤں میں سے صوفیوں اوربدعتیوں نے اس صاف ستھرے دین کو جہاں غیرمسلموں کی نظر میں بدنام کیا ہے ،وہیں عام مسلمانوں پر بھی اسے مشکل بنادیا ہے۔ جو اصل دین ہے اس کو چھوڑکر،ان بدعتیوں نے دین میں نئی نئی بدعات وخرافات گھڑ لئے اوران پر سختی سے عمل کیااور عوام کو باور کرایا کہ یہی اصل دین ہے، جو اس پر عمل کرتا ہے وہ اصل سنی ہے اور جو عمل نہیں کرتا ہے وہ بدعقیدہ ، مرتد اور نبی کا گستاخ ہے۔ العیاذ باللہ
کس قدر حیرانی وتعجب کی بات ہے کہ اصل دین کو پس پشت ڈال دیا گیا بلکہ اصل دین پر عمل کرنے والوں کو باغی، مرتد،گستاخ اور بدعقیدہ کہاجاتا ہے اور دین کے نام پر نئی نئی بدعات کو اصل دین سمجھاجاتا اور بدعتی خود کو اصل سنی کہتا ہے۔
؎خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد-جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔
اسلام کے لئے خطرات، خدشات اور نقصانات کی بات جائے تو جو یہودونصاری نہیں کرسکے وہ ان بدعتیوں نے اسلام کے لئے خطرات پیداکئےاور دین میں نت نئے بدعات رواج کر دین اسلام کے اصل چہرے کومسخ کیا۔کفار ومشرکین مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بدعتی اصل اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں اس لحاظ سے بدعتی اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کا احساس کرکے آج سادہ مسلمانوں کو سلیس انداز میں بدعت سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں تاکہ ان پر بدعت کی حقیقت منکشف رہے اور شاید کسی بدعتی کو بھی سمجھ آجائے اور اسلام کو نقصان پہنچانے سے باز آجائے یا کم از کم خود کو نقصان سے بچائے۔
بدعات کی ایک لمبی فہرست ہے،ان سب کا نام گنانا مشکل ہے ، چند بدعات بہت مشہور ومعروف ہیں جن سے بدعتیوں کی اصل پہچان ہوتی ہےان کو بتاکر ان کی حقیقت بتانے کی کوشش کروں گا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمان نبی کا نام آنے پر انگوٹھاچومتے ہیں، اذان سے قبل خودساختہ درود پڑھتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتےہیں، میلاد مناتے ہیں، مزارات پرعرس ومیلے لگاتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، جھنڈیاں لگاتے ہیں ، قبروں پر پھول و چادر چڑھاتے ہیں، وہاں اذان دیتے ہیں،ان کا طواف کرتے ، سجدہ کرتے اور وہاں نماز وقرآن پڑھتے ہیں۔اسی طرح تعزیہ منانا، مردوں کو پکارنا، غیراللہ کا وسیلہ لگانا،غیراللہ کی نذرماننا،قل،تیجہ ،ساتا، دسواں، اکیسواں، چہلم ، گیارہویں منانا، لکھی روزے، ہزاری روزے، ام داود کی نماز، صلاۃ الرغائب، نمازغوثیہ، ختم قادریہ، جعفرصادق کے کونڈے، شب معراج کا جشن ، پیروں کی بیعت،امام ضامن وتعویذات عطاریہ،نوحہ خوانی وسوگ، بدشگونی و نحوست اور خودساختہ اورادووظائف (درود غوثیہ، درود تاج، درود تنجینا، درود لکھی وغیرہ)ان بدعتیوں کے امتیازی اعمال وافعال ہیں۔ یہ سب اعمال اور ان جیسے سیکڑوں اعمال دین کے نام پر بدعتیوں کی طرف سے ایجاد کرلئے گئے ہیں ، انہی کو دین سمجھا جاتا ہے، اسی کے گردان کی زندگی گھومتی ہے اور یہی سب کچھ کرتےکرتے بدعتیوں کی موت آجاتی ہے۔
مذکورہ چند بدعات کے بعد اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ، وہ یہ ہے کہ ہم کو کیسے پتہ چلے گا کہ مذکورہ سارے اعمال بدعتی ہیں اور ایک بدعتی کو کیسے سمجھائیں گے کہ ان اعمال سے دور رہو، یہ جہنم میں لے جانے والے ہیں؟ چنانچہ پہلے ہم بدعت کی صحیح تعریف دیکھیں گے اور تعریف بھی شارع شریعت یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلوم کریں گے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ(صحيح البخاري:2697،صحيح مسلم:1718،سنن أبي داود4606, سنن ابن ماجه:14,مشكوة المصابيح:140 )
ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام ایجادکیا جو دین میں نہیں تو وہ رد ہے۔
یہی حدیث صحیح مسلم میں اس طرح مروی ہے،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔
اس حدیث کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہےاور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جامع الکلم میں سے ہےاور یہ بدعات و نئی ایجادات کی تردید میں صریح حدیث ہے ۔شرح مسلم للنووي(2/15 ح 1718)
بدعتیوں کی بدعات حدیث رسول کی کسوٹی پر:
حدیث رسول کے مکمل الفاظ پر نظر رکھتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ کے کلام کے اعتبار سے غور کرتے ہیں کہ یہ حدیث کس طرح بدعات کی صریح تردید کرتی ہے؟
مَن أَحْدَثَ: جو اپنی خواہش اور مرضی سے کوئی کام ایجاد کرے۔
في أَمْرِنَا هذا: یہاں امرسے مراد دین ہے یعنی دین میں کوئی نیا کام اپنی طرف سے ایجاد کرے۔
ما ليسَ فِيهِ:جو دین میں سے نہیں ہو۔ بریلوی عالم مفتی احمد یارخاں نعیمی " ما ليسَ فِيهِ" کی شرح میں لکھتے ہیں جو قرآن وحدیث کے مخالف ہو۔(دعوت اسلامی کی ویب سائٹ:بدعت کی اقسام)
فَهو رَدّ: تو وہ عمل بدعتی کے لئے مردود وباطل ہے۔
حدیث کی شرح کے ساتھ اب ان بدعات میں سے ایک نمونہ لیکر دین کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں مثلا نبی کا نام آنے پر انگوٹھوں کو آنکھوں سے لگاکر چوما جاتا ہے اور یہ اعتقاد رکھا جاتا ہے کہ یہ دینی عمل ہے ایسا کرنا چاہئے ، اس سے ثواب ملتا ہے ۔ جب دین کی کتاب قرآن وحدیث میں اس عمل کو تلاش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں مذکور ہے ، اس کا مطلب ہے کہ کسی آدمی نے اپنی طرف سے اس عمل کودین سمجھ کر ایجاد کرلیا ہے ۔اسی کا نام بدعت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں مردود ہے۔
اب آئیے بدعتیوں کے کچھ شبہات کا بھی جائزہ لیتے ہیں تاکہ مزید بہتر طریقے سے بدعت کی حقیقت کو سمجھ سکیں ۔ میں بدعتیوں کے تین بڑے شبہات اور ایک اہم مغالطے کا ذکر کروں گا ۔
پہلا شبہ : جب ہم بدعتیوں کو بتاتے ہیں کہ انگوٹھا چومنا بدعت ہے، میلاد منانا بدعت ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں ان باتوں کا کہیں پر حکم نہیں دیا گیا ہے تو آگے سے بدعتی جواب دیتا ہے کہ رسول کے زمانے میں گاڑی نہیں تھی، بس نہیں تھی، ٹرین نہیں تھی ، جہاز نہیں تھاتم ان پر کیوں سواری کرتے ہو؟کیا یہ بدعت نہیں ہے ؟ تم خودبھی رسول کے زمانے میں نہیں تھے لہذا تم بھی بدعت ہو۔
جواب: اس شبہ کو جاننے کے لئےمندرجہ بالا حدیث رسول پر پھر سے نظر ڈالیں۔ اس حدیث کی شرح میں چار باتوں کا میں نے خلاصہ کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہروہ کام جو اپنی طرف سے ایجاد کرلئے جائیں جیساکہ الفاظ "من عمل عملا" سے بالکل واضح ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ نئے کام دین میں ایجاد کئے جائیں یعنی دنیاوی معاملے میں نہیں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہ نئی ایجاد قرآن یا حدیث میں سے نہیں ہو۔ تو وہ نیا عمل بدعت ہے جو کہ مردود ہے اور یہ چوتھی بات ہے۔ بدعتی جب یہ کہے کہ رسول کے زمانے میں ٹرین نہیں تھی تم اس پر سواری کیوں کرتے ہو کیا یہ بدعت نہیں ہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ ہم نے کب کہا کہ جو چیز رسول کے زمانے میں نہیں تھی اس کا استعمال بدعت ہے، یہ تو ہم نے کبھی کہا ہی نہیں ، یہ تو تم کہتے ہو ۔ ہم تو بدعت کی وہی تعریف کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے وہ یہ ہے کہ جو کوئی اپنی طرف سے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرلے جو قرآن وحدیث میں سے نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے۔ اب ذرا تم ہی بتاؤ کہ کیا ٹرین کوئی عمل یا کام ہے ؟ یہ تو ایک سامان ہے ۔ بدعت کا تعلق سامان سے تو نہیں ہے بلکہ عمل سے ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا ٹرین کی ایجاد دین کے معاملے میں ہے یا دنیاوی معاملہ ہے ؟ ظاہر سی بات ہے ایک کم عقل بھی کہے گا یہ دنیاوی معاملہ ہے جبکہ رسول نے بدعت کی تعریف میں فرمایا ہے جو دین کے معاملے میں کوئی نیا کام ایجاد کرے وہ عمل بدعت ہے ۔
دوسرا شبہ: لوگوں میں ایک شبہ یہ بھی عام ہے کہ آپ کہتے ہیں فلاں کام بدعت ہے جبکہ فلاں مولوی کہتا ہے یہ کام دین ہے اس کے کرنے سے ثواب ملے گا۔ تو ہم کس کی بات صحیح مانیں ۔ آپ بھی مولوی ، وہ بھی مولوی ۔ہم کس مولوی کو درست مانیں ۔
جواب: اس شبہ کو دینی اعمال کی روشنی میں مثال دے کر سمجھا تا ہوں ۔ آپ ذرا غور کریں ، جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو سب سے پہلے نماز کی نیت کرتےہیں، پھر تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھتے ہیں،قیام کرتے ہیں، پھر رکوع کرتے ہیں، پھر سجدہ کرتے ہیں، اس طرح ایک رکعت ہوتی ہے پھر اسی طرح دوسری رکعت پڑھتے ہیں۔ دورکعت والی نماز میں قعدہ کرکے سلام پھیرتے ہیں ، مغرب کی نماز میں دو رکعت پہ قعدہ کرکے پھر تیسری رکعت کے لئے اٹھتے ہیں، پھر تیسری رکعت مکمل کرکے دوسرا قعدہ کرکے سلام پھیرتے ہیں۔ ظہر ، عصر اور عشاء میں چار چار رکعت پڑھتے ہیں۔ نماز کو اس شکل میں کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا اس لئے نہیں پڑھتے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز کی تعلیم دی ہے۔ اوربخاری میں آپ کا یہ فرمان ہے : تم لوگ اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
اسی طرح جب آپ بیت اللہ کا حج کرتے ہیں تو یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے حج کا کام شروع کرتے ہیں، اس دن منی جاتے ہیں، یوم عرفہ کو عرفات جاتے ہیں، اسی دن سورج ڈوبنے کے بعد مزدلفہ آتے ہیں، یہاں رات بسر کرتے ہیں۔یوم النحر کو فجر کے بعد جمرات پر جاتے ہیں اور وہاں تین جمرات ہیں مگر آج کے دن صرف ایک جمرہ کو جو مکہ سے متصل ہے سات کنکری مارتے ہیں۔ پھر قربانی کرتے ہیں ، حلق کرواتے ہیں اور حرم شریف پہنچ کر طواف افاضہ اور سعی کرتے ہیں ۔ اس کے بعد واپس منی آجاتے ہیں ،یہاں ایام تشریق گزارتے ہیں اور تینوں دن تینوں جمرات کو سات سات کنکری مارتے ہیں. آخر میں طواف دواع کرکے وطن واپس لوٹ آتے ہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ آپ کیوں ایسا کرتے ہیں ، کیا کسی پیر نے کہا ایسا کرو، کسی ولی کے کہنے سے ایسا کرتے ہیں ؟ یا آپ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے ؟ بلاشبہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہےاور ہم حج اس طرح اس لئے کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اس طرح حج کیا ہے اور کرنے کا حکم دیا ہے جیساکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أَيُّها الناسُ خُذُوا عَنِّي مناسكَكم (صحيح الجامع:7882)
ترجمہ: اے لوگو! تم مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو۔
میں نے صرف دو چیز نمازاور حج کی مثال دی ہے جبکہ پورے دین کا یہی حکم ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دین کے تمام معاملات میں ہم وہی کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب:21)
ترجمہ: یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے۔
ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے:
أطيعوا الله وأطيعوا الرسول (النساء:59)
ترجمہ: الله کی اطاعت کرو اور رسول الله ﷺ کی اطاعت کرو۔
اس لئے اگر کوئی مولوی آپ کو بدعت کی تعلیم دے یا وہ بات بتائے جس کی دلیل نہیں ہے تو اس مولوی کی بات نہیں ماننی ہے کیونکہ رسول اللہ نے بدعت سے منع کیا ہے اور صرف اسی عالم کی بات ماننی ہے جو قرآن اور حدیث کے مطابق بتائے کیونکہ دین قرآن اور حدیث کا نام ہے ۔
تیسرا شبہ: عوام کی طرف سے ایک تیسرا شبہ پیدا کیا جاتا ہے کہ اجر ثواب کی نیت سے اگر کوئی کام کرتا ہے تو اس میں حرج کیا ہے ، نیت تو اچھی ہے ۔
جواب: اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ صرف اچھی نیت ہونا کافی نہیں ہے بلکہ عمل بھی سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے ورنہ وہی عمل بدعت کہلائے گا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مردودوباطل ہے ۔ اس شبہ کو ایک حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ بدعت کا ارتکاب کرنے میں کیا حرج ہے؟
صحیح بخاری (5063) میں انس بن مالک سے روایت ہے،انہوں نے بیان کیا کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
اس حدیث پہ اچھی طرح غور کریں، ایک طرف تین جلیل القدر صحابہ، دوسری طرف ان سب کی نیت بھی اچھی پھر کیوں رسول اللہ نے انہیں اچھی نیت سے منع کیا؟ ان سب کے عمل میں حرج کیا ہے؟ حرج یہی ہے کہ ان سب کاعمل سنت کے خلاف تھا ، اس لئے ان سے آپ نے فرمایا جو سنت کے خلاف عمل کرے وہ ہم میں سے ہی نہیں ہے ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ اچھی نیت کے باوجود سنت کی خلاف ورزی کی وجہ سے عمل مردود ہورہا ہے یہی حال ہر قسم کی بدعت کا ہے یعنی ہر بدعت مردود ہے۔
بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم کا مغالطہ:
بدعتی لوگ عوام میں ایک مغالطہ پھیلاتے ہیں وہ مغالطہ یہ ہے کہ ہر قسم کی بدعت سے اسلام نے منع نہیں کیا بلکہ کچھ بدعت اچھی ہوتی ہیں ان پر عمل کرسکتے ہیں اور کچھ بدعت بری ہوتی ہیں جن سے بچنا ہے گو یا ان بدعتیوں نے اپنی بدعات کی حمایت میں بدعت کی دوقسمیں کی ہیں ایک بدعت حسنہ اور دوسری بدعت سیئہ ۔اس تقسیم سے بدعتیوں کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے دین میں جوبھی بدعات وخرافات ایجاد رکھے ہیں ان کو جواز فراہم کرنا تاکہ عوام کو یہ بتلایا جاسکے کہ ہم جو بدعت کرتے ہیں وہ بدعت حسنہ ہے اس کے کرنے سے گناہ نہیں، اجر ملتا ہےاور جس بدعت پر گناہ ملتا ہے وہ دوسری بدعت ہے، بدعت سیئہ ۔
حقیقت میں بدعت کی یہ تقسیم اسی طرح سے فرضی اور بناوٹی ہے جیسے ان کی تمام بدعات فرضی وبناوٹی ہیں۔ اگر کہیں بدعت حسنہ کا ذکر ملتا ہے تو وہاں لغوی معنی کا اعتبار کیا گیا ہے جبکہ شرعی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقسم کی بدعت کو ضلالت وگمراہی قرار دیا ہے ۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرماتے:
إن اصدق الحديث كتاب الله , واحسن الهدي هدي محمد , وشر الامور محدثاتها , وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار(صحيح سنن النسائي:1579)
ترجمہ: سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
اس حدیث سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں نیا کام کوئی بھی ہو وہ بدعت میں شمار ہوگااس لئے یہ کہنا کہ بدعت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی غلط ہے اور حدیث رسول کے خلاف ہے ۔
آخر میں بدعتیوں کا حکم بھی جانتے چلیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ہی سب سے زیادہ رسول سے محبت کرتے ہیں، ہم ہی زیادہ آپ پر درود پڑھتے ہیں لہذا ہم لوگ ہی آخرت میں رسول کے ساتھ ہوں گے ، ہم لوگوں کو آپ کی شفاعت نصیب ہوگی اور جنت میں داخل ہوں گے ۔ کچھ اسی قسم کی باتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک بریلوی شاعر جمیل الرحمن رضوی قادری اپنے نعتیہ کلام کے مقطع میں کہتا ہے ۔
؎میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد -میرا لاشہ بھی کہے گا الصلاۃ والسلام
ان بدعتیوں کے دعوی کی حقیقت مذکورہ بالا آخری حدیث سے لگائیں کہ ایک طرف رسول اللہ کی تعلیم یہ ہے کہ سب سے سچی کتاب قرآن ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاہے مگر یہ لوگ نام تو نبی کا لیتے ہیں مگر کام سب بدعت والا کرتے ہیں ۔ جو لوگ قرآن اور طریقہ محمد سے ہٹ کر دین میں بدعات ایجاد کرتے اور ان پر عمل کرتے ہیں کیا وہ لوگ محب رسول ہوسکتے ہیں ؟ ہرگزہرگز بدعتی محب رسول نہیں ہوسکتا بلکہ بدعتی جو خود کو سچا محب رسول کہتا ہے اس کا دعوی کھوکھلا اور جھوٹا ہے ۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ نے ان بدعتیوں کے بارے میں آگاہ کردیا کہ ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔ بھلا جو عمل جہنم میں لے جانے والا ہو اس عمل کی بنیاد پر رسول اللہ کی شفاعت کیسے ملے گی ؟ اتنا ہی نہیں اللہ تعالی آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان بدعتیوں کی بدعات کے بارے میں آگاہ بھی کرے گا اور جب بدعتی لوگ حوض کوثر کے پاس آئیں گے تو بھگادئے جائیں گے ۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ ناسٌ مِن أصْحابِي الحَوْضَ، حتَّى عَرَفْتُهُمُ، اخْتُلِجُوا دُونِي، فأقُولُ: أصْحابِي! فيَقولُ: لا تَدْرِي ما أحْدَثُوا بَعْدَكَ(صحيح البخاري:6582)
ترجمہ:میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے سامنے لائے جائیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹا دئیے جائیں گے۔ میں اس پر کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
کتنا عجیب حال ہے بدعتیوں کا ؟ زندگی بھر یارسول اللہ کا نعرہ لگاتے رہے، میلاد مناتے رہے، جلوس نکالتے رہے، جھنڈیاں لگاتے رہے،تعظیم رسول میں قیام کرتے رہے، کھڑے ہوہوکر اجتماعی درود پڑھتے رہے اور انگوٹھا چومتے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت میں رسول اور حوض کوثر سے دور کردئے گئے ۔
؎ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔
جو لوگ جانے انجانے کسی طرح سے بھٹک گئے ہیں ان سبھی سے درخواست ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ، سابقہ گناہوں سے توبہ کرلیں اور سچے محب رسول بننے اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے حوض کوثر پینے کے لئے اللہ کی کتاب قرآن کریم اور رسول اللہ کی پیاری سنت احادیث طیبہ کے مطابق عمل کریں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس مضمون کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے راہ راست پر آنے کا ذریعہ بنائے ۔
نوٹ:جو لوگ اس مضمون کا ویڈیوبیان سننا چاہتے ہیں وہ محرر کے یوٹیوب چینل پہ پانچ فروری ۲۰۲۲ کو اپ لوڈ کیا گیا بیان بعنوان "بدعت کو پہچانئے" سن سکتے ہیں۔
 

مکمل تحریر >>

Sunday, March 10, 2019

ماہ رجب اور دورحاضر کے مسلمان


ماہ رجب اور دورحاضر کے مسلمان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

اللہ نے سال کے بارہ مہینے کائنات کی تخلیق سے ہی متعین فرمادئے ، ان میں چار مہینوں کو اسی دن سے حرمت بخشی ہے جنہیں اشھرم حرم (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب) کہا جاتا ہے ۔ حرمت والے چار مہینوں میں رجب بھی ایک مہینہ ہے ۔ فرمان الہی ہے :
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُۚفَلَاتَظْلِمُوافِيهِنَّ أَنفُسَكُمْۚوَقَاتِلُواالْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚوَاعْلَمُواأَنَّاللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (التوبة:36)
ترجمہ : مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے ، ان میں سے چار حرمت وادب کے ہیں ۔ یہی درست دین ہے ۔ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرواور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے ۔
اور حدیث میں حرمت والے مہینوں کی وضاحت اس طرح آئی ہے ۔ نبی کا فرمان ہے :
السنةُ اثنا عشرَ شهرًا منها أربعةُ حُرُمٌ : ثلاثةٌ مُتوالياتٌ : ذو القَعدةِ وذو الحَجَّةِ والمُحرَّمُ ، ورجبُ مُضرَ ، الذي بين جُمادَى وشعبانَ .(صحيح البخاري:4406)
ترجمہ: سال بارہ ماہ کا ہے۔ اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں، تین تو مسلسل ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور ایک رجب ہے جو جمادی الآخره اور شعبان کے درمیان ہے۔
یہاں جمادی سے مراد جمادی الآخره ہے کیونکہ اس کے اور شعبان کے درمیان ہی رجب آتاہے۔
قرآنی آیت اور صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوا کہ رجب اشھر حرم یعنی چار حرمت وادب کے ماہ میں سے ہے ۔ اس ماہ کا تقاضہ ہے کہ اس میں فتنہ وفساد، قتل وغارت گری اور ظلم وتعدی سے باز رہا جائے ، ایسا نہیں ہے کہ معصیت ،فساد ، ظلم اور قتل صرف انہیں مہینوں میں ممنوع ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ان مہینوں میں سختی کے ساتھ ممنوع ہے ۔
آج کے بہت سارےمسلمان اس حرمت والے مہینے کا احترام تو کجا اوہام وخرافات اور شرک وبدعات میں بری طرح ملوث ہیں۔صرف اختصار کے ساتھ مختصر فہرست پیش کرتا ہوں ، اس پہ کافی کچھ لکھا گیا ہےاس وجہ سے طوالت سے بچ رہا ہوں اور دلائل کی طرف محض اشارہ کررہاہوں۔
(1) اس ماہ کا نام رجب تعظیم کی وجہ سے پڑا ہے ،قبیلہ مضر اس کی تعظیم زیادہ کرتے تھے اس وجہ سے رجب مضر بھی کہا جاتا ہے۔ بدعتیوں کے یہاں بھی کثرت تعظیم کے باعث یہ مہینہ رجب المرجب سے مشہور ہےاور ان کی تعظیم اپنے مخصوص انداز میں شرکیہ اور بدعیہ اعمال انجام دینا ہے۔
(2) لوگوں میں یہ میسیج گردش کررہا ہے کہ نبی نے فرمایاجس نے اس ماہ کی مبارکباد دی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے ، یہ جھوٹی بات ہے اور نبی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا جہنم میں جائے گا۔
(3) رجب کی آمد سے پہلے ہی عموما اور چاند نکلنے پر خصوصا یہ دعا"اللهم بارِكْ لنا في رجبٍ وشعبانَ ، وبلِّغنا رمضانَ"(اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے) چاروں طرف پڑھی اور پھیلائی جاتی ہے جبکہ یہ دعا ضعیف ہے اور ضعیف حدیث کودلیل نہیں بناسکتے ہیں ۔ (ضعیف حدیث کے لئے دیکھئے ضعیف الجامع : 4395)
(4)رجب کے مہینے میں مخصوص قسم کی مختلف نمازیں ادا کی جاتی ہیں مثلا پہلے رجب کو ہزاری نماز،پہلی شب جمعہ کو صلاۃ الرغائب(اللہ کی یاد میں مست رہنے والوں کی نمازجو مغرب وعشاء کے درمیان پڑھی جاتی ہے)یعنی بارہویں نماز،پندرہویں رجب کو ام داؤد کی نمازاور ستائیسویں رات کو شب معراج کی نماز ۔ یہ ساری نمازیں بدعتی ہیں کیونکہ ان سب کی کوئی دلیل شریعت میں وارد نہیں ہے، نبی کا فرمان ہے جس نے دین میں کوئی ایسا کام کیا جو دین میں سے نہیں ہے وہ مردود ہے ۔
(5) ماہ رجب میں مخصوص قسم کے روزے رکھ کر مخصوص اجر کی امید کی جاتی ہے جیساکہ لوگوں میں مشہور ہے کہ رجب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کفارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دوسالوں کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کفارہ ہے ،پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے ۔اسی طرح ستائیس کولکھی اور ہزاری روزے رکھ کر ہزاروں لاکھوں ثواب کی امید کی جاتی ہے جبکہ یہ روزے رسول اللہ سے ثابت نہیں ہیں اور جو عمل رسول اللہ سے ثابت نہیں وہ باطل ومردود ہے۔
(6) رجب کے مہینے میں کثرت سے عمرہ کرنازیادہ ثواب کا باعث خیال کیاجاتا ہے جبکہ صحیح روایات سے معلوم ہے کہ نبی نے رجب میں کبھی عمرہ ہی نہیں کیا اور جتنے عمرہ کئے سب ذوالقعدہ میں ادا کئے۔
(7) رجب کی مشہور ترین بدعات میں بائیس رجب کو جعفرصادق کے نام سے کونڈے بھرنا ہے ۔ کونڈے بھرکر جعفر صادق کے توسل سے مانگی گئی ہرمراد پوری ہونے کا عقیدہ رکھا جاتا ہے ۔ یاد رہے یہ غیراللہ کی نذر ہے جو کہ حرام اور شرک ہے، نذر عبادت ہے اور یہ محض اللہ کے لئے مانی جائے گی۔
(8) رجب کی ستائیس تاریخ بھی بدعتیوں کے نزدیک کافی اہم ہے ۔ اس تاریخ کو شب معراج کا جشن مناتے ہیں ،قمقموں سے گھروں کو روشن کرتے ہیں،شب بیداری کرتے ہیں ،شب معراج کے نام سے محفل قائم کرتے ہیں اور شب معراج کی عبادت کرتے ہیں ۔عورت کے مشابہ دوباز والے براق کے نام سے تصویر بناتے ہیں ۔اسلام میں نہ جشن معراج ہے، نہ اس رات شب بیداری ہے ، نہ چراغاں اور نہ ہی کوئی مخصوص عبادت ہے پھر کوئی مسلمان اپنے من سے یہ سارے کام کیسے انجام دے سکتا ہے؟۔
(9) ان سب کاموں کے علاوہ بھی بہت سارے خرافات انجام دئے جاتے ہیں مثلا ارواح کی طرف سے خیرات کرنا، اجمیر کا سفر کرکے معین الدین چشتی کے مزار پہ میلہ ٹھیلہ لگانا، قبروں کا سجدہ وطواف اور ان پہ چادر وپھول چڑھانا،مخصوص پکوان پکانا، تبرک کی نیت سے رجب کی انگوٹھی پہننااور مخصوص قسم کے اوراد وظائف کا اہتمام کرنا وغیرہ ۔
(10) اس ماہ میں انجام دئے جانے والے مذکورہ سارے اعمال مردوں وباطل ہیں کیونکہ یہ نہ اللہ کےمقدس فرامین میں ہیں اور نہ ہی رسول اللہ کی پاگیزہ تعلیمات میں ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم رجب میں نفلی نماز نہیں پڑھ سکتے ،یا نفلی روزے نہیں رکھ سکتے اور عمرہ یا عبادات وصدقات کرنا منع ہے ۔ جس طرح اعمال صالحہ دوسرے ماہ میں انجام دیتے ہیں اس ماہ میں بھی انجام دے سکتے ہیں یعنی نفلی نمازیں، سومورا، جمعرات ، ایام بیض کے روزے ، قضا روزے، ذکر، تلاوت، عمرہ،صدقات وغیرہ ۔تاہم کوئی عبادت مخصوص طرز پر اور تاریخ و وقت متعین کرکے نہیں ادا کرسکتے ہیں جیساکہ بدعتی لوگ کرتے ہیں ۔
(11) بہت سارے لوگ آپ کو رجب کے فضائل میں مختلف قسم کی احادیث دکھائیں گے ، آپ ان سے دھوکہ نہ کھائیں اور مختصر ا ذہن میں یہ بات رکھیں کہ رجب ایک حرمت والا مہینہ ہے اور اس حرمت کے ماسوا اس ماہ میں مخصوص نماز، مخصوص روزے، مخصوص دعا، مبارکبادی والی تمام احادیث یا تو ضعیف ہیں یا من گھرنت ہیں ۔
(12) ایک آخری اہم بات یہ بتانے لگا ہوں کہ رجب حرمت والا مہینہ ہونے کے باعث اس ماہ میں شرک وبدعات اور ہرقسم کی معصیت سے بچنا ہمارے لئے نہایت ہی ضرور ی ہے ، کس قدر المیہ ہے کہ ابتدائے آفرینش سے نیک وبد سب نے اشھر حرم کا احترام کیا اور آج کامسلمان کس قدر گیا گزرا ہے کہ وہ حرمت کی ساری حدیں پار کرگیا ہے ۔اللہ نے حکم دیا کہ حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرواور ظلم میں شرک وبدعت کے ساتھ ہر قسم کی معصیت شامل ہے ۔
اللہ امت مسلمہ کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اور شرک وبدعت سے بچاکر ایک پلیٹ فارم پر جمع کردے ۔آمین

مکمل تحریر >>

Wednesday, November 2, 2016

اہل میت کے گھرچالیس روز تک کھانا دینا

اہل میت کے گھرچالیس روز تک کھانا دینا
================
سوال : آج کل ایسا ہوتا ہے کہ لوگ میت کے گھر چالیس دن تک کھانا بھجواتے ہیں اس عمل کی کیا حیثیت ہے ؟ اسی طرح اہل میت دوسروں کے لئے اپنے گھر کھانا پکاتے ہیں وفات کے دن بھی اورتیرہویں ، چالیسویں پہ بھی  شریعت میں اس عمل کا کیا حکم ہے ؟

جواب :
کسی کے گھر میت ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہئے کہ اہل میت کے لئے کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھیجے ، یہ عمل مسنون ہے ۔ جب جنگ موتہ کے دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا ، فإنَّهُ قد أتاهُم أمرٌ شغلَهُم(صحيح أبي داود:3132)
ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تيار کرو کیونکہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔
اسی طرح صحیحین میں یہ روایت موجود ہے ۔
عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ المَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ المَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ۔(صحيح البخاري:5417)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کیوجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ۔ صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں ۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ۔ پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔
تلبینہ :یہ ایک غذا ہے جو سوپ کی طرح ہوتا ہے، جو آٹے اور چھان سے بنایا جاتا ہے، بسا اوقات اس میں شہد ملایا جاتا ہے، اسے تلبینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسکا رنگ دودھ جیسا سفید اور دودھ ہی کی طرح پتلا ہوتا ہے۔بعض لوگ اسے جو کی کھیر بھی کہہ سکتے ہیں۔
ان دونوں احادیث سے اہل میت کے لئے کھانا پکانا ثابت ہوتا ہے مگر اہل میت کو کھانا کھلانے کے لئے چالیس دن متعین کرنا رسم ورواج میں سے ہےاور اگرچالیس دن کو ثواب سمجھ لیا جائے تو پھر بدعت ٹھہرے گی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من عملَ عملا ليسَ عليهِ أمرُنا فهو ردٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جس نے ہمارے دین میں کسی چیز کو ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ چیز مردود ہے۔
اسی طرح اہل میت کے یہاں جمع ہونا اور پھر ان لوگوں کے لئے اہل میت کا کھانا پکانا نہ صرف زمانہ جاہلیت کے عمل میں سے ہے بلکہ یہ نوحہ میں شمار ہے ۔
كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)
ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میّت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل میت کا کھانا بنانا، دوسروں کا ان کے یہاں جمع ہونا اس سلسلے میں کوئی چیز منقول نہیں ہے اس لئے یہ کام بدعت اور غیرمستحب ہے ۔ (روضة الطالبين:2/145).
اس لئے اہل میت کاوفات کے دن، تیرہواں ، چالیسواں یا کوئی اوراس طرح کا دن منانا بدعت ہے البتہ گھر آئے مہمان کی ضیافت کرنا اس سے مستثنی ہے ۔
اہل میت کو چاہئے کہ میت کی طرف سے فقراء ومساکین میں بغیر دن کی تعیین کے صدقہ کرے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی


مکمل تحریر >>