Thursday, May 11, 2023

سفر سے لوٹنے کےآداب و احکام

 

سفر سے لوٹنے کےآداب و احکام
تحریر:مقبول احمد سلفی /جدہ
 
جب ہم کسی بھی لمبے سفر سے واپس آتے ہیں تواہل و عیال سے ملنے کی خوشی تو یاد رہتی ہے مگر اس سلسلے میں کئی سنت نبوی بھلائے رہتے ہیں ۔ ہاں جب حج یا عمرہ سے لوٹتے ہیں توچند ایک سنت یاد رہتی ہے مگر اس میں بھی افراط و تفریط کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ آئیے صحیح احادیث کی روشنی میں اختصار کے ساتھ آپ کی خدمت میں سفر سے واپسی کے آداب بیان کرتا ہوں تاکہ ان سنتوں کو زندہ کریں اور افراط وتفریط سے پرہیز کریں ۔
بنیادی طور پر یہ ذہن میں رہے کہ سفر میں صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس لئے راستہ پرامن ہو تبھی آپ سفر کریں اور سفر کے وقت شر سے اللہ کی پناہ اور آسانی کے لئے رب العالمین سے دعا کریں ۔ سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ،(صحیح مسلم:1343)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اللہ تعالٰی سے پناہ مانگتے سفر کی مشقتوں سے اور غمگین ہو کر لوٹنے سے اور بھلائی کے بعد برائی کی طرف لوٹنے سے اور اہل و عیال میں برائی کے دیکھنے سے۔
سفر کی وجہ سے ایک طرف مسافر کو پریشانی لاحق ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کے اہل وعیال اور اس کے مال کے لئے دقت کا سامنا ہوسکتا ہے اس لئے ابتدائے سفر میں ہی رسول اللہ ﷺ اللہ سے ان سب چیزوں میں عافیت کے لئے دعا کرتےتھے۔
٭اس بنیادی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سفر سے لوٹنے میں سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ جس مقصد کے لئے سفر تھا اس مقصد کی تکمیل کے فورا بعد اہل وعیال کے پاس لوٹ آیا جائے ، اس میں تاخیر نہ کی جائے ۔ ہمارے پیارے رسول محمد ﷺ کی یہی سنت رہی ہےچنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السفر قطعة من العذاب يمنع احدكم نومه، وطعامه، وشرابه، فإذا قضى احدكم نهمته، فليعجل إلى اهله.(صحیح البخاری:3001)
ترجمہ:سفر کیا ہے گویا عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کی نیند، کھانے پینے سب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے جب مسافر اپنا کام پورا کر لے تو اسے جلدی گھر واپس آ جانا چاہئے۔
٭سفر سے لوٹنے کا دوسرا ادب یہ ہے کہ لوٹتے وقت اسی طرح دعا پڑھیں جیسے آپ نے سفر کی ابنداء میں دعا کی تھی، کچھ کلمات کے اضافہ کے ساتھ ، چنانچہ آپ سفر سے لوٹنے کی دعا اس طرح پڑھیں ۔
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ،
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَليفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ،
آيِبُونَ، تائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔(صحیح مسلم:1342)
ترجمہ: ‏‏اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔
پاک ہے پروردگار جس نے ہمارا دبیل کر دیا اس جانور کو اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں، یااللہ! ہم مانگتے ہیں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری اور ایسے کام جسے تو پسند کرے، یااللہ! آسان کر دے ہم پر اس سفر کو اور اس لمبان کو ہم پر تھوڑا کر دے، یا اللہ! تو رفیق ہے سفر میں اور تو خلیفہ ہے گھر میں، یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور برے حال میں لوٹ کر آنے سے مال میں اور گھر والوں میں۔
ہم لوٹنے والے ہیں اور توبہ کرنے والے، خاص اپنے رب کو پوجنے والے او اسی کی تعریف کرنے والے۔
٭ سفر سے لوٹنے کا تیسرا ادب یہ ہے کہ رات کو بغیر اطلاع دئے اہل و عیال کے پاس نہ جائیں ۔ ‏‏‏‏سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ.(صحیح مسلم:715)
ترجمہ:جب تم میں سے کوئی رات کو آئے تو اپنے گھر میں گھسا نہ چلا آئے (بلکہ ٹھہرے) یہاں تک کہ پاکی کرے وہ عورت جس کا خاوند سفر میں تھا اور کنگھی کرے وہ عورت جس کے بال پریشان ہوں۔
آج سوشل میڈیا کے زمانہ میں ایک ایک لمحہ کی خبر مسافر اور گھروالوں کے درمیان ہوتی ہے اس اعتبار سے کسی وقت گھر پہنچنے میں حرج نہیں ہے ۔
٭ سفر سے لوٹنے پہ نبی ﷺ کی ایک سنت یہ بھی رہی ہے کہ آپ جب بستی میں واپس لوٹتے تو پہلے اہل وعیال کے پاس نہیں جاتے بلکہ مسجد جاتے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرتے چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ(ابوداؤد:2773، صححہ البانی)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے ۔
٭ سفر سے لوٹنے پر گھر اور پڑوس کے بچوں کو پہلے سے شدت کا انتظار ہوتا ہے اس لئے مسافر گھر کو لوٹے تو استقبال کرنے والے بچوں سے پیار و محبت جتلائے ، ان بچوں میں اپنے اور پڑوس کے بھی ہوسکتے ہیں ، سب سے یکساں محبت کرےتاکہ کسی کو احساس کمتری نہ ہو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا :
لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْآخَرَ خَلْفَهُ(صحیح البخاری:5965)
ترجمہ: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے (فتح کے موقع پر) تو عبدالمطلب کی اولاد نے (جو مکہ میں تھی) آپ کا استقبال کیا۔ (یہ سب بچے ہی تھے) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
٭ نبی ﷺ کے پیارے ساتھیوں کا طریقہ تھا کہ جب وہ ایک دوسرے سے ملاقات فرماتے تو سلام و مصافحہ کرتے اور جب سفر سے لوٹ کر ملتے تو معانقہ کرتے ۔ گویا لمبے سفر سے لوٹنے کی ایک سنت یہ ہے کہ ملنے والوں سے معانقہ کیا جائے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان أَصْحابُ النبيِّ إذا تَلاقَوْا تَصافَحُوا ، وإذا قَدِمُوا من سفرٍ تَعَانَقُوا.(صحيح الترغيب:2719)
ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے ۔
٭ آپ ﷺ جب غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سےواپس ہوئے تو آپ نے ایک جانور ذبح کرکے صحابہ کرام کو کھلایا تھا ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة نحر جزورا او بقرة(صحيح البخاري:3089)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے (غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے) تو اونٹ یا گائے ذبح کی۔
اس حدیث کی روشنی میں اہل علم کہتے ہیں کہ سفر سے لوٹنے کی ایک سنت یہ ہے کہ لوگوں کی دعوت کی جائے چنانچہ اس حدیث پہ امام بخاریؒ نے اس طرح باب باندھا ہے"بَابُ الطَّعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ"یعنی مسافر جب سفر سے لوٹ کر آئے تو لوگوں کو کھانا کھلائے(دعوت کرے)۔
اور اسی حدیث پہ امام ابوداؤدؒ (3747) نے اس طرح باب باندھا ہے "باب الإِطْعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ"یعنی سفر سے آنے پر کھانا کھلانے کا بیان۔
اس لئے جو مسافر دعوت کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ غلو اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں کو دعوت کرکے کھلا سکتا ہے لیکن جس کو دعوت کھلانے کی طاقت نہ ہو وہ دعوت نہ کرے تاہم ایک دوسرے سے الفت و محبت قائم رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کے سبب اپنے قریبی رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کو معمولی تحائف پیش کرسکے تو اچھی بات ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : تَهادُوا تَحابُّوا(صحيح الأدب المفرد:462)
ترجمہ: ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو کیونکہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہدیہ میں کوئی بھاری بھرکم چیز دینا ضروری نہیں ہے ، گھر کے بچوں کے لئے چند ٹافیاں سہی، کھجور کا ایک دانہ سہی اور حج و عمرہ سے لوٹ رہے ہیں تو زمزم کا ایک گھونٹ پانی ہی پیش کردیں ۔ ملاقات کرنے والا حج یا عمرہ سے لوٹنے والے کو عبادت کی قبولیت کی دعا دے ۔
اخیر میں حج و عمرہ سے لوٹنے والے خوش نصیبوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اللہ نے عظیم عبادت کی سعادت بخشی ہے ، اپنی آنکھوں سے اللہ کے گھرکا دیدار اور اس کا طواف کرکے آئے ہیں ، اس وقت آپ کو اس بات کی ضرورت ہے کہ  شکرالہی کے ساتھ اللہ سے بکثرت یہ دعا کریں کہ اے اللہ ! میرے حج و عمرہ کو قبول فرما۔نیز حج مبرورسے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسے کوئی ماں کے پیٹ سے پیدا ہواہو۔اس لئے کوشش کریں کہ اسی حالت پہ موت آئے یعنی گناہوں سے دھلے دھلائے ۔ اس کے لئے آپ کو کیا کرنا ہے؟
اولا :سفر حج وعمرہ سے واپسی پہ مروجہ خرافات اور فضول کاموں سے بچیں جیسے گھروں کی تزئین و زیبائش ، بھاری بھرکم اسراف وریا والی دعوت وغیرہ ۔
ثانیا:ہر اس کام سے بچیں جس میں شہرت اور ناموری ہو تاکہ آپ کی عبادت کی حفاظت ہو ورنہ شہرت حج جیسی عبادت کو کھالے گی حتی کہ یہ دخول جہنم کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ثالثا: جیسے حج یا عمرہ آپ نے خالص اللہ کے لئے انجام دیا، مطاف ، مسعی ، منی ، عرفات ، مزدلفہ ہرجگہ اسی سے دعا مانگی ، اسی کو مکہ و مدینہ میں پکارا، ساری زندگی اسی طرح خالص اب رب کی بندگی بجالائیں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اسی سے مانگتے رہیں ، ان شاء اللہ توحید پر خاتمہ نصیب ہوگا اور آپ کا حج قیامت میں کام آئے گا۔ یاد رہے شرک سارے اعمال کو ضائع کردیتا ہے ۔
رابعا: آخری بات یہ ہے کہ اب اپنے کو ایک بہتر انسان کی صورت میں بدل کر زندگی گزاریں جیسے معلوم ہو کہ واقعی حج وعمرہ نے آپ کو بدل دیا ہے یا حج وعمرہ کے بعد اب ایک اچھے انسان بن گئے ہیں۔ اللہ بھی یہی چاہتا ہے ۔ آپ نیکی کی طرف لگ گئے ہیں تو اس جانب بڑھتے رہیں اور اسی پر قائم رہیں اور اللہ سے ہمیشہ ثابت قدمی کی یہ دعا" يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّت قَلبي على دينِكَ" کرتے رہیں ۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں:
كانَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ يُكْثِرُ أن يقولَ : يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّت قَلبي على دينِكَ(صحيح الترمذي:2140)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ"۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, July 26, 2022

شہاب چٹور ،مکہ کا پیدل سفر اور اعمال حج کی انجام دہی


 شہاب چٹور، مکہ کا پیدل سفر اور اعمال حج کی انجام دہی 

 

(تکملہ سابق مضمون)
مقبول احمد سلفی – طائف
 
ان دنوں شہاب چٹور نامی ایک لڑکا کافی چرچا میں ہے جو کیرلا سے مکہ کے لئے پاپیادہ عازم سفر ہے ۔ اس مسئلہ پر مجھ سے کافی لوگوں نے سوال کیا تو مختصر طورپر ہی سہی مختلف پہلوؤں سے میں نے مسئلہ کی وضاحت کردی تھی۔ پھر بھی بعض لوگ چندایک جزئیات کی وضاحت چاہتے ہیں جن کو میں نے مضمون میں بھی ذکر کیا ہے لیکن چونکہ سوشل میڈیا پرعام لوگ بھی موجود ہیں انہیں ہربات اشاروں میں یا اختصار میں سمجھ نہیں آتی ،ان لوگوں کے لئے سابقہ مضمون کی روشنی میں ہی چند ایک جزئیات کی مزید وضاحت کردیتا ہوں تاکہ ہرکس وناکس کے لئے بات واضح رہے ۔
پہلامسئلہ : کیا پیدل سفر کرنا عبادت ہے یا طاعت وبھلائی کا کام ہے جس پر اجر دیا جائے گا؟ 
اس کا جواب یہ ہےکہ پیدل سفر کرنا نہ کوئی عبادت ہے ، اور نہ کوئی طاعت و خیر کا کام ہےجس پر مسلمان کو اجر ملے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب ایک عورت نے پیدل کعبہ تک سفر کرنے کی نذرمانی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان اللہ لغنی عن مشیھا(صحیح الترمذی:1536) یعنی اللہ تعالی اس عورت کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے۔ حدیث کا یہ ٹکڑا بتاتا ہے کہ پیدل چلنا کوئی طاعت کا کام نہیں تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کوپیدل سفرکرکے بیت اللہ پہنچنے سے منع فرمایا ،اگر ایسی بات نہ ہوتی تو آپ کیوں منع فرماتےجبکہ نذر عبادت ہے اور اس کا پورا کرنا واجب ہے۔ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع سے پیدل حجاج کو منع نہیں کیا تو یہاں کیوں منع فرمایا؟ 
اس طرح ایک بات صاف ہوگئی کہ پیدل سفر کرنا کوئی بھلائی نہیں ہے اس لئے کوئی مسلمان اس امید میں کہیں کا پیدل سفر کرے کہ اسے پیدل سفر کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا شریعت کی نظر میں غلط ہے۔ 
دوسرا مسئلہ : کیا عبادت میں جسمانی تکلیف مطلوب ہے ؟ 
ہرگز نہیں، عبادت کا مطلب اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی بجاآوری ہے۔اس بارے میں میرا ایک تفصیلی مضمون ہے"کیا روزے کا مقصد جسم کو تکلیف پہنچانا ہے؟ " اس کا مطالعہ مفید ہوگا۔ اسلام نے تو ہر اس عمل سے روکا ہے جس میں جان کا خطرہ ہے یا جسم اور اس کے کسی عضو کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: اپنے ہاتھ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔(القرآن) یعنی ایسا کام نہ کرو جس میں ہلاکت ونقصان کا اندیشہ ہو۔ 
ذرا اندازہ کیجئے کہ کیرلا سے پاکستان، ایران، عراق اورکویت ہوتے ہوئے مکہ کا 8640 کلو میٹر کا سفر کس قدر طویل ہے۔ اس سفر میں سردی، کھانسی، بخار، تھکاوٹ، ضروریات ، غسل وحاجت، پاکی وناپاکی ، نماز کی پابندی، نیند وآرام ، کھاناپینا،موسم کے اثرات، راستے کی ناہمواری اوردیگرسفری صعوبات وغیرہ جیسے کتنے سارے مسائل شہاب کے لئے ہوسکتے ہیں ۔ کیا اسلام ہمیں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ اتنے سارے مسائل میں الجھ کر اور جان جوکھم میں ڈال کر کوئی عبادت انجام دیں ؟ اسلام ہرگز ایسی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ 
شہاب کے ان مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے ایک سال کے سفر کو رسول اللہ ﷺکی اس حدیث کی روشنی میں پرکھیں اور صحیح وغلط کا فیصلہ کریں ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے، پینے، اور سونے(ہرایک چیز) سے روک دیتا ہےاس لئے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کرچکے تو فورا گھر واپس آجائے۔ (صحیح بخاری:1804)
اس حدیث میں ان تمام بھائیوں کے لئے عبرت ہے جو شہاب اور ان جیسے نوجوانوں کوجوش دلاکر پیدل لمباسفر کرنے پر تعریف کے پل باندھنے میں لگے ہیں ، اس طرح جوش میں پھر کوئی شہاب نکلے گا ۔ہمیں سفر کم سے کم ، مختصر اورحسب سہولت کرنا ہے اور فورا گھر(اہل وعیال میں)لوٹ جانا ہے نہ کہ اپنے سفر کو طول دینا ہے۔
تیسرا مسئلہ: کون سی تکلیف پر اجر ہے؟ 
متعد د احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جسمانی تکلیف پر بھی مومن کو اجر ملتا ہےتو اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی تکلیف ہے جس پر اجر ملتا ہے؟ 
شہاب کے مسئلہ کو صحیح سے سمجھنے کے لئے اس باریکی کو سمجھنا ضروری ہے۔ تکلیف دو قسم کی ہیں ۔ ایک تکلیف تو وہ ہے جو آدمی خود سے مول لے جیسا کہ ایک شخص نے نذر مان لی کہ وہ نہ بیٹھے گا ،نہ سایہ لےگا بلکہ دھوپ میں کھڑارہے گا، جب نبی ﷺ کو معلوم ہوا توآپ نےاس سے منع فرمادیا۔ یہ وہ تکلیف ہے جو خود سے آدمی مول لے رہا ہے، شریعت میں ایسی تکلیف نہ مطلوب ہے ،نہ ماجور۔ دوسری قسم کی تکلیف وہ ہے جو عبادات کی انجام دہی سے لاحق ہوتی ہےجیسے کوئی عمرہ کرے، اس عمرہ میں طواف سے اور سعی سے جو جسمانی الم لاحق ہو اس پر اجر دیا جائے گا،یہ وہ تکلیف ہے جس کو انسان نے خود اپنے اوپرنہیں ڈالا ہے بلکہ نفس عبادت کی تکلیف ہے جو مطلوب وماجور ہے۔
یہاں ہمیں اصل مسئلہ کا حل معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ ہے کہ سہولت چھوڑکر انڈیا سے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا خود سے تکلیف مول لینا ہے جس پر اجر تو نہیں ملے گا لیکن نیت میں فسادہو تو گناہ ضرور ملے گا۔ گویا فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے انڈیا سے مکہ کاپیدل سفر کرناالگ معاملہ ہے اور دوران حج ، پیدل اعمال حج انجام دینا الگ معاملہ ہے۔ انڈیا سے مکہ پیدل سفر کرنا کوئی اجر کا کام نہیں ہے لیکن اعمال حج پیدل انجام دینا اجر کا معاملہ ہے کیونکہ ایک جگہ سہولت چھوڑکر خود سے مصیبت مول لی جارہی ہےجبکہ دوسری جگہ عبادت کی انجام دہی سے جسم کو تکلیف ہو رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺنے کسی صحابی یا صحابیہ کو مناسک حج کی ادائیگی پیدل کرنے سے منع نہیں فرمایا ہے بلکہ دوردرازمقامات سے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے ہم یہ کہیں گے کہ انڈیا سے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا آج کے زمانے میں غلط ہے لیکن اعمال حج کی ادائیگی پیدل انجام دینا صحیح ہے اور اگر کوئی رسول کی اقتداء میں حج کے اعمال سواری کے ذریعہ انجام دے تو بھی جائز ہے۔ 
چوتھامسئلہ: مشکل و آسان کے درمیان دومعاملات میں کس کو اختیار کیا جائے گا؟ 
آج سےکچھ سالوں پہلے عموما لوگ ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر پیدل کیا کرتے تھے، وہ اس لئے پیدل سفر نہیں کرتے تھے کہ اس پہ اجر ملے گا بلکہ سواری کی سہولت میسرنہیں تھی، جس کو سواری میسر تھی وہ سفر کے لئے سواری استعمال کرتے تھے۔ پھر طویل مسافتی سفر کے لئےسواری کسی کسی کو میسر ہوتی تھی اس لئے حج کے بارے میں ہم سنتے ہیں کہ فلاں فلاں نے بیت اللہ کا پیدل سفر کیا جبکہ کوئی کوئی سواری پر آیا کرتا جسے سواری نصیب ہوتی ۔ اللہ تعالی نے بیت اللہ کی طرف آنے والے اسی کیفیت کا ذکر کیا ہے"یاتوک رجالاوعلی کل ضامر"لوگ پاپیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی ۔ یہاں اللہ تعالی بندوں کو پیدل سفر کرنے کا حکم نہیں دے رہا ہے بلکہ اس زمانے کی کیفیت بیان کررہا ہے۔ 
جب آج سفر کے لئے سہولت موجود ہے اور ہم دنیاوی ہرکام کاج کے لئے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ،ہمارا حال یہ ہے کہ معمولی سی معمولی دوری گاڑی کے ذریعہ طے کرتے ہیں پھر حج کے لئے تکلف اور تکلیف کیوں؟ یہ کافی اہم سوال ہے؟ شاید آپ سمجھتے ہیں کہ بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا اجر کا باعث ہے جبکہ میں نے اوپربتلایا دیا ہے کہ یہ عمل اجر کا باعث نہیں ہے ۔ ہاں آپ پیدل حج کے مناسک انجام دیتے ہیں تو یہ باعث اجر ہے اور سواری لیتے ہیں تو یہ بھی جائز ہے۔ 
اس بات کو رسول اللہ کی ایک حدیث سے بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دوچیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیاگیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیز کو اختیار فرمایا۔(صحیح بخاری:6126)
اس حدیث کی روشنی میں شہاب چٹور(مع اہل وعیال) کی ایک سال کی مسلسل تکلیف کو دیکھیں تو کیا شریعت کی روشنی میں ان کا عمل غلط نہیں ہے، کیا انہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آسان طریقہ یعنی سواری کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا؟ وہ لوگ زیادتی کررہےہیں جو مسائل کے استنباط میں قدیم زمانے کے لحاظ سے وارد ہونے والی ایک بات کو لے لیتے ہیں اور شریعت کے بہت سارے نصوص کو بھول جاتے ہیں ۔ایک صحابی جسے سفر میں احتلام ہوگیا ،اس حال میں کہ ان کا سرزخمی تھا تو صحابہ نے غسل کا حکم دے دیا ، اس وجہ سےوہ وفات پاگئے ، رسول اللہ نے کہا لوگوں نے اسے ہلاک کردیا ، سر کو چھوڑکر باقی جسم دھولینا کافی تھا۔ (ابن ماجہ:572) ہم لوگ اس طرح کسی کی ہلاکت کا سبب نہ بنیں۔ 
ایک اشکال کی وضاحت: پہلے لوگ بیت اللہ کا پیدل سفر کرتےتھے تو کیا وہ غلط تھے؟
نہیں وہ غلط نہیں تھے، وہ صحیح پر تھےکیونکہ ان کے زمانے میں قدموں سے چلنا ہی اصل ذریعہ تھا۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے ایک ہزار مرتبہ پیدل سفر کرکے حج کیا تو آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آدم علیہ السلام دوسری جگہوں کا بھی پیدل ہی سفر کرتے تھے،ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے بیت اللہ کا پیدل سفر کیا تو وہ اور مقامات کے اسفار بھی پیدل ہی کیا کرتے تھے ، جہاں کہیں سواری میسر ہوئی تو سوار ہوگئے ورنہ عموما لوگ پیدل ہی چلتے تھے ۔ اپنے گھر کے بوڑھے پرانے سے پوچھیں وہ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کیسے جاتے تھے ؟ جیسے جیسے سہولت پیدا ہوئی ، لوگ سہولت اختیار کرنے لگے اور اب کوئی ایک شہر سے دوسرے شہر کا پیدل سفر نہیں کرتا ۔ پھر بات وہیں پہنچتی ہے کہ جب ہم ہرکام کاج کے لئے سواری استعمال کرتے ہیں تو مکہ کے سفر کے لئے سواری کیوں مانع ہےجبکہ پیدل چلنا کوئی عبادت کا معاملہ بھی نہیں ہے ۔ساتھ ہی ان دنوں پیدل مکہ کا سفر کرنے سے عبادت میں ریا کا امکان پیدا ہونے کا ڈر ہےجیساکہ اس معاملہ میں ہم دیکھ بھی رہے ہیں۔ بس اتنا فرق ذہن میں رکھیں کہ سفر دنیاوی معاملہ ہے اور کل و آج کے سفر میں فرق ہے، کل لوگ عدم سہولت کی وجہ سےعموما پیدل سفر کرتے تھے جبکہ آج سہولت ہونے کی وجہ سے سواری پہ سفر کرتے ہیں۔ 
پیدل حج کی فضیلت میں سنن کبری للبیہقی کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو مکہ سے پیدل حج کرے یہاں تک کہ مکہ واپس لوٹ جائے تو اللہ اس کے لئے ہرقدم پر سات سو نیکیاں لکھتا ہے اور ہر نیکی حرم کی نیکی کے برابر ہے۔ (بیہقی) اولا یہ حدیث انڈیا سے بیت اللہ تک سفر کرنے سے متعلق نہیں ہےبلکہ جہاں اعمال حج انجام دینا ہے وہاں کے لئے ہے ، ثانیا اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الترغیب میں موضوع قرار دیا ہے۔(ضعیف الترغیب:691)اس لئے اس حدیث سے کسی قسم کا استدلال باطل ہے۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں ہم وہاں آسانی پر عمل کریں جہاں رخصت دی گئی ہو اور نفس کو ایسی مشقت سے بچائیں جو اللہ کی نظر میں لغو و بے معنی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبادت کے معاملہ میں رسول اللہ سے ایک عورت کی نماز کے بارے میں کثرت اشتیاق وپابندی کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا:علیکم بماتطیقون(بخاری:43) تمہارے اوپراتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے ۔ غور کریں جب عبادت کے معاملہ میں تکلیف مالایطاق سے منع کیا جارہا ہے تو دنیاوی معاملات میں نفس پر خود سے ناقابل برداشت بوجھ ڈالنا کیوں کر ممنوع نہ ہوگا؟۔ غورفرمائیں۔

مکمل تحریر >>

حج کی نیت سے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا

 حج کرنے کی نیت سے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا

مقبول احمد سلفی-طائف

ان دنوں بہت سے لوگ اس سوال کا جواب جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حج کی نیت سے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا صحیح ہےجبکہ آج سفرکی بہت ساری سہولیات میسر ہیں ؟
اس سوال کا جواب احادیث رسول میں تلاش کرتے ہیں تو اس سلسلے میں متعدد احادیث ملتی ہیں جن میں مذکور ہے کہ عہد رسالت میں بعض صحابی اور صحابیہ نے بیت اللہ شریف تک پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن جب خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انہیں پیدل سفر کرنے سے منع کیا اور سواری استعمال کرنے کا حکم دیا ۔ ان احادیث میں سے دوتین یہاں ذکر کرتا ہوں ۔
پہلی حدیث : انس رضی الله عنہ کہتے ہیں:
 نذرَتِ امرأةٌ أن تمشيَ إلى بيتِ اللَّهِ فسُئِلَ نبيُّ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ عن ذلِكَ فقالَ إنَّ اللَّهَ لغَنيٌّ عن مَشيِها ، مُروها فلتَركَبْ(صحيح الترمذي:1536)
ترجمہ:ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک (پیدل) چل کر جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس کے (پیدل) چلنے سے بے نیاز ہے، اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے۔
دوسری حدیث:انس رضی الله عنہ کہتے ہیں:
 مرَّ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلم بشيخٍ كبيرٍ يتَهادى بينَ ابنيْهِ فقالَ: ما بالُ هذا. قالوا: يا رسولَ اللَّهِ نذرَ أن يمشي. قالَ: إنَّ اللَّهَ لغنيٌّ عن تعذيبِ هذا نفسَهُ. قالَ فأمرَهُ أن يرْكب(صحيح الترمذي:1537)
ترجمہ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے (حج کے لیے) چل رہا تھا، آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے ان کا؟ لوگوں نے کہا:للہ کے رسول! انہوں نے (پیدل) چلنے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے، پھر آپ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔
تیسری حدیث: عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
أنَّهُ قالَ للنَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إنَّ أختي نذرت أن تمشيَ إلى البيتِ , فقالَ إنَّ اللَّهَ لا يصنعُ بِمَشيِ أختِكَ إلى البيتِ شيئًا(صحيح أبي داود:3304)
ترجمہ: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا۔
مذکورہ بالا مسئلہ کو سمجھنے کے لئے یہ تین احادیث ہی کافی ہیں ، ان احادیث کی روشنی میں ہمیں سب سے پہلی اور اہم ترین بات یہ معلوم ہوتی ہےکہ سواری اور سہولت ہوتے ہوئےکسی کودوردرازمقامات سے بیت اللہ کا پیدل سفر نہیں کرنا چاہئے، اگر کوئی ایساکرتا ہے تو وہ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ جولوگ یہ سمجھتے ہیں بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا عبادت ہے اور اس پر زیادہ اجر ملتا ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ خیال غلط ہے اور اللہ تعالی اس عمل سے بے نیاز ہے۔
 تیسری بات یہ ہے کہ سواری ہوتے ہوئے بیت اللہ کا پیدل سفر کرنا جسم کو تکلیف ومشقت میں ڈالنا ہے جس سے اسلام نے ہمیں منع کیا ہے اور اللہ ایسے تکلیف والے عمل سے بے نیازہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ بیت اللہ کا مشقت بھرا پیدل سفر خصوصا اس زمانے میں انسان اس لئے کرتا ہے کہ اسے حج کا زیادہ ثواب ملے(بعض شہرت کے لئے بھی کرتے ہیں) جبکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردیدی کہ ایسا کرنے میں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔مقصد شہرت ہوتوپھر حج وبال جان ہے۔
جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اپنے حج کو حج مبرور بنانا چاہتا ہے وہ آپ ﷺکی طرح حج کا فریضہ انجام دے گا بلکہ آپ نے ہمیں حکم بھی دیا ہے کہ تم مجھ سے حج کا طریقہ سیکھوچنانچہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:
رأيتُ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يرمي على راحلتِه يومَ النَّحرِ، ويقول :لِتأْخذوا مناسكَكم . فإني لا أدري لعلِّي لا أحُجُّ بعدَ حَجَّتي هذه.(صحيح مسلم:1297)
ترجمہ: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر (سوار ہو کر) کنکریاں مار رہے تھے اور فر رہے تھے : تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ،میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں (دوبارہ ) حج نہ کر سکوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ سفر بھی سواری پر کیا تھا بلکہ آپ نے حج کی ادائیگی بھی سواری پر ہی کی تھی جیساکہ مذکورہ بالا حدیث میں بھی ذکر ہے۔
 یہاں یہ بات بھی سمجھ لیں کہ عبادت کا مقصودہرگز انسانی بدن کو تکلیف پہنچانا نہیں ہے چاہے نمازہو، روزہ ہو یا حج ۔ہاں اگر عبادات کی انجام دہی میں مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے جیسے طواف کرتے ہوئے، سعی کرتے ہوئے تو انسان کو اس تکلیف پر اجر ملے گا لیکن اگر کوئی خود سے تکلیف مول لے تو اس پر اجر نہیں ہے ۔میری اس بات کو سمجھنے کے لئے یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں جس میں ہے کہ ایک شخص دھوپ میں کھڑا ہونے کی نذرمانتاہے۔
عنِ ابنِ عبَّاسٍ قالَ : بينما النَّبِيُّ صلَّى اللَّه عليه وسلم يخطبُ إذا هوَ برجلٍ قائمٍ في الشَّمسِ فسألَ عنْهُ قالوا هذا أبو إسرائيلَ نذرَ أن يقومَ ولاَ يقعدَ ولاَ يستظلَّ ولاَ يتَكلَّمَ ويصومَ. قالَ مروهُ فليتَكلَّم وليستظلَّ وليقعد وليتمَّ صومَهُ(صحيح أبي داود:3300)
ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سواری چھوڑکرکسی مسلمان کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک سے پاپیادہ مکہ مکرمہ کا سفر کرے اور حج کا فریضہ انجام دے ، اس عمل سے ہم سب کے پیارے حبیب محمد ﷺ نے منع فرمایا ہے اس لئے ہم آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آسانی کا راستہ اختیار کریں جیساکہ آپ امت کے لئے ہمیشہ دومعاملوں میں آسانی کا راستہ اختیار فرماتے اور امت کو مشقت سے بچاتے ۔
 ابن ماجہ کی ایک حدیث سے غلط فہمی نہ پیدا ہوکہ رسول اور اصحاب رسول نے مدینہ سے مکہ کا پیدل سفر کیا ، دراصل یہ حدیث ضعیف ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
 حجَّ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ وأصحابُهُ مشاةً منَ المدينةِ إلى مَكَّةَ وقالَ اربُطوا أوساطَكم بأزُرِكم ومشى خلطَ الهرولةِ(ضعيف ابن ماجه:610)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی سواری قصواء پرسفر کیا،ہاں بعض صحابہ سواری نہ ہونے کی وجہ سے پیدل بھی حج میں شریک تھے،یہی مفہوم سورہ حج کی ستائیسویں آیت کا ہے کہ جس کے پاس سواری ہوگی وہ سوار ہوکر آئیں گے اور جس کے پاس سواری نہیں ہوگی وہ پاپیادہ آئیں گے جبکہ آج سواری کا مسئلہ نہیں ہےاس لئے جان جوکھم میں ڈالنے کی بجائے سہولت کا راستہ اختیار کیا جائے۔


مکمل تحریر >>

Monday, August 15, 2016

فضائل مدینہ اورمسجد نبوی کی زیارت کے آداب واحکام

فضائل مدینہ اورمسجد نبوی کی زیارت کے آداب واحکام
مقبول احمد سلفی /داعی اسلامی سنٹر ،طائف

مدینہ روئے زمین کی مقدس سرزمین ہے ، اس کے مختلف اسماء ہیں مثلا طابہ، طیبہ، دار ، ایمان،دارہجرہ وغیرہ۔عام طور سے اس شہر کو مدینہ منورہ کے نام سے جانا جاتا ہے مگر اس کا استعمال سلف کے یہاں نہیں ملتا۔ جب ہم مدینہ منورہ کہتے ہیں تو اس سے تمام اسلامی ملک مراد لیا جائے گا کیونکہ اسلام نے ساری جگہوں کو روشن کردیا ، اس لئے ایک خاص وصف نبویہ سے مدینہ کومتصف کرنا بہترہے ۔اس کا پرانا نام یثرب ہے ، اب یہ نام لینا بھی منع ہے ۔
احادیث رسول کی روشنی میں مدینہ نبویہ کے بے شمار فضائل ہیں چند فضائل پیش خدمت ہیں ۔
٭مدینہ خیروبرکت کی جگہ ہے :والمدينةُ خيرٌ لهم لو كانوا يعلمون .(صحيح البخاري:1875)
ترجمہ: اور مدینہ ان کے لئے باعث خیروبرکت ہے اگر علم رکھتے ۔
٭یہ حرم پاک ہے : إنها حرَمٌ آمِنٌ(صحيح مسلم:1375)
ترجمہ: بے شک مدینہ امن والا حرم ہے ۔
٭فرشتوں کے ذریعہ طاعون اور دجال سے مدینے کی حفاظت: على أنقابِ المدينةِ ملائكةٌ ، لا يدخُلُها الطاعونُ ، ولا الدجالُ(صحيح البخاري:7133)
ترجمہ:مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں نہ تو طاعون اور نہ ہی دجال داخل ہو سکتا ہے۔
٭مدینے میں ایمان سمٹ جائے گا: إن الإيمانَ ليأْرِزُ إلى المدينةِ ، كما تأْرِزُ الحيةُ إلى جُحرِها.(صحيح البخاري:1876)
ترجمہ: مدینہ میں ایمان اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ جاتا ہے۔
٭مدینہ سے محبت کرناہے:اللهمَّ حَبِبْ إلينَا المدينةَ كحُبِّنَا مكةَ أو أَشَدَّ(صحيح البخاري:1889)
ترجمہ: اے اللہ ! مدینے کو ہمیں مکہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔
٭مدینہ میں مرنے والے کے لئے شفاعت نبوی : منِ استطاع أن يموتَ بالمدينةِ فلْيفعلْ فإني أشفعُ لمن ماتَ بها(السلسلة الصحيحة:6/1034)
ترجمہ: جو شخص مدینہ شریف میں رہے اور مدینے ہی میں اس کو موت آئے میں اس کی شفارش کروں گا۔
قابل صدرشک ہیں وہ لوگ جو مدینے میں ہیں یا اس کی زیارت پہ اللہ کی طرف سے بلائے گئے ۔ اس مبارک سرزمین پہ مسجد نبوی ﷺ ہے جسے آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے تعمیرکیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس مسجد کی زیارت کا حکم فرمایاہے : لا تُشَدُّ الرحالُ إلا إلى ثلاثةِ مساجدَ : مسجدِ الحرامِ، ومسجدِ الأقصَى، ومسجدي هذا(صحيح البخاري:1995)
ترجمہ: مسجد حرام، مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ( حصول ثواب کی نیت سے) کسی دوسری جگہ کا سفر مت کرو۔
گویا ثواب کی نیت سے دنیا کی صرف تین مساجد کی زیارت کرنا جائز ہے باقی مساجد اور مقبروں کی زیارت کرنا جائز نہیں۔
البتہ جولوگ مدینے میں مقیم ہوں یا کہیں سے بحیثیت زائر آئے ہوں تو ان کے لئے مسجد نبوی کی زیارت کے علاوہ مسجدقبا،بقیع الغرقد اور شہداء احد کی زیارت مشروع ہے ۔
مسجد نبوی : مسجد نبوی کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے حرم مکی کے علاوہ مسجد نبوی میں ایک وقت کی نماز دنیا کی دیگر مقامات میں چھے مہینے بیس دن سے برترہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :صلاةٌ في مسجدي هذا خيرٌ من ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ، إلا المسجدَ الحرامَ(صحيح البخاري:1190)
ترجمہ: میری اس مسجد میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے سوائے مسجد حرام کے ۔
اسے حرم مدنی بھی کہتے ہیں ۔ اس میں ایک جگہ ایسی ہے جو جنت کے باغوں میں سے ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : ما بين منبري وبيتي روضةٌ من رياضِ الجنةِ(صحيح مسلم:1390)
ترجمہ: میرے منبراور میرے گھر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔
مسجد نبوی کی زیارت کے آداب :
(1) مسجدنبوی میں داخل ہوتے وقت دایاں پیرآگے کریں اوریہ دعاپڑھیں : أَعوذُ باللهِ العَظيـم وَبِوَجْهِـهِ الكَرِيـم وَسُلْطـانِه القَديـم مِنَ الشّيْـطانِ الرَّجـيم، بِسْمِ اللَّهِ، وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ الله، اللّهُـمَّ افْتَـحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتـِك.
(2)دورکعت نمازتحیۃ المسجدکی نیت سے پڑھیں ، اگریہ نمازریاض الجنۃ میں اداکریں تو زیادہ بہترہے اور خوب دعاکریں۔
(3) اس کے بعد رسول اکرم ﷺ پرنہایت ادب واحترام سے درودوسلام عرض کریں ، سلام کے لئے یہ الفاظ کہنا مسنون ہیں : (السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته , صلى الله عليك وجزاك عن أمتك خيرالجزاء) پھرحضرت ابوبکررضی اللہ عنہ پر "السلام علیک یاابابکر! ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،رضی اللہ عنک وجزاک عن امۃ محمد خیراً" اورحضرت عمررضی اللہ عنہ پر" السلام علیک یاعمربن الخطاب! ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،رضی اللہ عنک وجزاک عن امۃ محمد خیراً" کے ذریعہ سلام کہیں ۔
(4)عورتوں کے لئے بکثرت قبروں کی زیارت جائزنہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے لیکن کبھی کبھار زیارت کرسکتی ہیں ۔
(5) زائر ین کے لئے زیادہ سے زیادہ مسجد نبوی میں ٹھہرنا ، کثرت سے دعاواستغفار، ذکرواذکار، تلاوت قرآن اور دیگر نفلی عبادات واعمال صالحہ کرنا چاہئے۔
(6) مسجد سے نکلنے وقت یہ دعا پڑھیں: بسْـمِ اللَّـهِ وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم.
مسجدنبوی کی زیارت کرنے والوں کے لئے تنبیہات
1/حجرہ نبوی کی کھڑکیوں اورمسجدکے دیواروں کوبرکت کی نیت سے چھونایابوسہ لینایاطواف کرناجائزنہیں ہے بلکہ یہ سب بدعت والے اعمال ہیں ۔
2/ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مشکل کا سوال کرنایابیماری کی شفاکا سوال کرنایا اسی طرح کی دیگرچیزوں کا سوال کرنا جائزنہیں ہے ، یہ سب چیزین صرف اللہ تعالی سے مانگی جائیں گی ، گذرے ہوئے لوگوں سے مانگنااللہ کے ساتھ شرک اور غیراللہ کی عبادت کرناہے ۔
3/ بعض لوگ نبی کی قبرکی طرف کھڑ ے ہوکراورہاتھ اٹھاکر مستقل دعاکرتے ہیں یہ بھی خلاف سنت ہے ، مسنون یہ ہے کہ وہ قبلہ رخ ہوکر اللہ تعالی سے مانگے ۔
4/ اسی طرح آپ کی قبرکے پاس آوازبلندکرنا،دیرتک ٹھہرے رہنا، مخصوص دعا پڑھنا یا ہزارولاکھ مرتبہ درود پڑھ کر ہدیہ کرنا خلاف سنت ہے ۔
5/ بعض لوگ آپ پردرودوسلام بھیجتے وقت سینے پر یانیچے نمازکی طرح ہاتھ باندھ لیتے ہیں جوکہ خشوع وخضوع اورعبادت کی ہیئت ہے اوریہ صرف اللہ کے لئے بجاہے ۔
6/ موجودہ منبر نبی ﷺ کے دور کا نہیں ہے ،گرہوتا بھی تو اس سے برکت لینایا ریاض الجنۃ کے ستونوں سے برکت لینا اور بطور خاص ان کے پاس نماز کا قصد کرنا جائز نہیں ہے ۔
7/ نبی ﷺ کے متعلق دنیا کی طرح سلام کی آواز سننے یا سلام کے وقت روح لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے ۔
بقیع الغرقد: جنت البقیع نام صحیح نہیں ہے ، حدیث میں اس کا نام بقیع الغرقد آیاہے ۔ یہ اہل مدینہ کا قبرستان ہے اس میں تقریبا دس ہزار انصار ومہاجرین اور ازواج مطہرات مدفون ہیں مگر مرورزمانہ اور خاص کر بغل سے بہنے والامہزورنامی نالہ کی وجہ سے معدودے چند کے کسی کی قبر کی پہچانی نہیں جاتی ۔بعض کتابوں میں بہت سی قبروں کی شناخت کی گئی ہے ، یہ سب اندازے پہ منحصر ہیں۔ قبریں تو مٹنی ہی ہیں کیونکہ اسلام نے قبروں کو اونچاکرنے ،اس پہ چراغان کرنے ، عمارت بنانے اور پختہ کرنے سے منع کیا ہے تاکہ اسے سجدہ گاہ نہ بنالیاجائے ۔
بقیع الغرقد کی زیارت کے وقت شرعی آداب ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے ۔ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میرے یہاں رات بسر کرتے تو رات کے آخری پہر بقیع جاتے اور یہ دعا پڑھتے :
السلام عليكم دارَ قومٍ مؤمنين . وأتاكم ما تُوعدون غدًا . مُؤجَّلون . وإنا ، إن شاء الله ، بكم لاحقون . اللهمَّ ! اغفِرْ لأهلِ بقيعِ الغَرْقدِ (صحيح مسلم:974)
ہم بھی یہ دعا پڑھیں ، اس کے علاوہ بھی میت کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرسکتے ہیں۔ مگر دھیان رہے کہ اہل قبر کے وسیلے سے دعاکرنا،قبروں کے پاس تعظیماہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، اسے سجدہ یا طواف کرنا،وہاں نوحہ کرنا،قبر والے کے لئے یاقبرکی طرف توجہ کرکے نمازپڑھنا،بطورتبرک قبرکی مٹی اٹھانا یا قبروں اور دیوارقبرستان کو چومناچاٹنا اور اہل قبور کے ایصال ثواب کے واسطے درود،سورہ فاتحہ، چاروں قل، سورہ یسین اور سورہ بقرہ کی آخری آیات پڑھنا ،یہ سارے امور ناجائز ہیں،اس لئے ہمیں ان کاموں سے ہرحال میں بچنا ہے ۔
مسجد قبا: نبی ﷺ مکہ سے مدینہ ہجرت کے وقت اس مسجد کو بنایاتھا ۔اس کی بھی بڑی فضیلت وارد ہے ۔ چند احادیث دیکھیں ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، رَاكِباً وَمَاشِياً، فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ(صحيح مسلم:1399)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پیدل یا سوار ہو کر قباء تشریف لاتے اور دو رکعت (نماز نفل) ادا کرتے۔
وَعَنْ سَهْل بن حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ صَلاَةً كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ(صحيح ابن ماجه:1168)
ترجمہ: حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اپنے گھر میں وضو کیا اور پھرمسجد قباء میں آکر نماز ادا کی تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔
ان احادیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ ہمیں ہفتہ کے دن ہو یا جس فرصت ملے گھر سے وضو کرکے آئیں اور مسجد قبا میں نماز ادا کریں تاکہ عمرہ کے برابر ثواب پاسکیں ۔ نماز کے علاوہ اس مسجد میں دیگر کسی مخصوص عبادت کا ذکر نہیں ملتا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ اہل مدینہ یا زائرین مدینہ کے علاوہ کسی دوسرے مقام سے صرف مسجد قبا کی زیارت پہ آنا مشروع نہیں ہے ۔
شہداء احد : مدینہ میں احد نام کاایک پہاڑ ہے اس کے دامن میں ہجرت کے تیسرے سال مسلمانوں اور قریش کے درمیان لڑائی ہوئی جو غزوہ احد کے نام سے مشہور ہے ۔ اس غزوہ میں ستر صحابہ کرام (64 انصاری ،6 مہاجر) شہید ہوئے ۔انہیں اسی پہاڑی دامن میں دفن کیاگیا ۔ شہدائے احد میں سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب، مصعب بن عمیر، عبد اللہ بن حجش، جابربن عبداللہ بن عمروبن حرام،عمروبن جموح،سعد بن ربیع،خارجہ بن زید،نعمان بن مالک اور عبدہ بن حسحاس رضی اللہ عنہم قابل ذکرہیں۔
امام طبری ؒ لکھتے ہیں کہ میدان احد میں قبلے کی طرف شہدائے احد کی قبریں ہیں ، ان میں سے کوئی قبر معلوم نہیں سوائے حمزہ رضی اللہ عنہ کے ۔
شہدائےاحد کی زیارت اسی طرح کریں جیسے بقیع الغرقد کے تحت لکھا ہے ۔ جن باتوں سے منع کیا گیا ہے یہاں بھی ان باتوں سے گریزکریں  اور یہ بات ذہن میں بٹھائیں کہ جبل احد پہ چڑھنا کوئی عبادت نہیں
 ہے نہ ہی وہاں کے درختوں ،پتھروں اور غاروں میں کپڑے اور دھاگے باندھیں خواہ کسی نیت سے ہو۔
زائرین کے لئے تین اہم نصیحتیں
(1)مذکورہ بالا مقامات مقدسہ یعنی مسجد نبوی ،نبی ﷺکی قبرمبارک،حضرت عمروابوبکررضی اللہ عنہماکی قبروں،ریاض الجنۃ،مسجدقبا،بقیع قبرستان اور قبرستان شہداءاحد کے علاوہ مدینہ کے دیگر مقامات کی  ثواب کی نیت سے زیارت کرنا شرعا جائز نہیں ہے خواہ مساجدہوں مثلا مساجدسبعہ،مسجدجبل احد،مسجدقبلتین،مسجدجمعہ یا مساجدعیدگاہ وغیرہ خواہ کوئی تاریخی مقام مثلا میدان بدریابئرروحاء جسے بدعتیوں نے بئرشفا نام دے رکھاہے ۔اس لئے اپنا وقت اور روپیہ پیسہ فضول خرچ کرنے سے بہتر ہے کسی مسکین کو صدقہ کردیں۔
(2) آپ کو اللہ تعالی نے شہر نبی ﷺکی زیارت کا موقع عطا کیا۔ اس پہ  اللہ کا شکربجالائیں ساتھ ہی نبی ﷺ سے ساری کائنات سے زیادہ حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرنے کا عزم مصمم کریں ۔ آپ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ محبت کی علامات میں سے ہے کہ آپ ﷺ کی سنت کا علم حاصل کیاجائے ، اس پہ عمل کیاجائے اور دوسروں تک اس کو پہنچایا جائے ۔ اس مضمون کے ذریعہ زیارت کے جو آداب معلوم ہوئے اس پہ عمل کرنا اور اسے پھیلانا بھی حب نبی ﷺ میں داخل ہے ۔
(3) اللہ کے یہاں کسی بھی عمل کی قبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں ، ہمیشہ انہیں ذہن میں رکھیں۔
پہلی شرط نیت کا خالص ہونا:نبی ﷺکا فرمان ہے :بے شک اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ (بخاری)
دوسری شرط عقیدہ توحید کا ہونا:یعنی عمل کرنے والے کا اگر عقیدہ درست نہیں تو نیک عمل بھی قبول نہیں ہوتا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (سورة الانعام ٨٨ )
ترجمہ:اور اگر بالفرض {انبیاء عليهم السلام } بهی شرک کرتے تو ان کے بهی کیے ہوئے تمام اعمال ضائع کر دیئے جاتے۔
تیسری شرط عمل کا سنت کے مطابق ہونا: کیونکہ جو عمل نبی ﷺ کے سنت کے مطابق نہ ہو وہ بھی برباد کردیا جاتاہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہورد(بخاری)
ترجمہ: وہ عمل جس پر میرا حکم نہیں ، مردود ہے۔


دفترتعاونی برائے دعوت وارشاد شمال الطائف(مسرہ)
مکمل تحریر >>