رمضان کا مقصداور اس کی تیاری
مقبول احمد سلفی / جدہ دعوہ سنٹر(سعودی
عرب)
تمام تعریفیں، بڑائیاں اور ہرقسم کی حمد
وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی پوری کائنات
کا بادشاہ ہے، ہمارا نگہبان ہے، تمام مخلوقات کا پالنے والا ہے، ان کی ضروریات
پوری کرنے والا ہے۔ درود و سلام ہو اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کرام پر، خصوصاً
حضرت محمد ﷺ پر۔
الحمدللہ! ہم لوگ ماہِ رمضان کے قریب پہنچ
چکے ہیں۔ ایک بابرکت مہینہ آنے والا ہے،
جو عنقریب ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ وہ مہینہ جس میں اللہ ربّ العزت
نے ہر قسم کی بھلائی، خیر و برکت رکھی ہے۔ ہمیں اس مہینے کو پانا ہے، اور جب پائیں
تو اس میں بھرپور محنت کرنی ہے، کوشش و جدوجہد کرنی ہے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ سے
اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کر سکیں۔ہمیں اس کا اچھے ڈھنگ سے استقبال کرنا ہے۔ سب
کے ذہن میں ایک سوال ہوتا ہے کہ رمضان کی تیاری کیسے کرنی ہے اور اس کا استقبال کس انداز میں کرنا ہےیعنی رمضان کی آمدسے پہلے اپنے آپ کو کس طرح تیار کرنا
ہے؟سب سے پہلے سمجھ لیجیے کہ اللہ ربّ العالَمین نے اس مبارک مہینے کو ہمیں کیوں
عطا فرمایا ہے؟ اس کی حکمت اور مصلحت کیا ہے؟قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ
الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ
تَتَّقُونَ(البقرہ: 183)
ترجمہ:اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض
کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
یہ روزہ کوئی نفل عبادت نہیں بلکہ ایک
فریضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امتِ محمدیہ پر فرض کیا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے
اس فریضے کی حکمت بیان فرمائی — "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" — تاکہ تم
متقی بنو۔یعنی رمضان کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ جب تک انسان کے اندر تقویٰ
نہیں ہوگا، وہ دین پر پختگی سے عمل نہیں کر سکتا، نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے، نہ رب
سے صحیح معنوں میں ڈر سکتا ہے۔مسجد کی طرف جانے میں، عبادت کی انجام دہی میں، غفلت
اور منکرات سے بچنے میں — یہی تقویٰ کام
آتا ہے۔نماز کے وقت، جب آپ نماز کے لیے جائیں
گے اور اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑے ہوگے، تو یہی تقویٰ ہمارا ساتھ دے
گااور ہماری مددگار بنے گا۔ اگر تقویٰ نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے—انسان اندر سے
کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ ہمارے اندر تقویٰ پیدا کرنا چاہتا
ہے۔تقویٰ کیا ہے؟
لفظی اعتبار سے تقویٰ کا مطلب ہے ڈرنا اور
شرعی اعتبار سے اللہ سے خوف رکھتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کرنا اور منہیات سے
بچتے رہنا۔ تقویٰ یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ یہ سمجھے کہ ایک ہستی ہے جو اسے دیکھ رہی
ہے، جو اس کے ہر عمل سے باخبر ہے۔ جب یہ احساس دل میں آ جائے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا
ہے، تو انسان ہمیشہ اللہ سے جُڑا رہتا ہے، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور جس چیز
سے اللہ نے روکا ہے، اُس سے بچتا ہے۔علماء نے تقویٰ کی بہت سی تعریفیں بیان کی
ہیں، لیکن اس کی جامع تعریف یہی ہے:"اللہ نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا
ہے اُن پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے روکا ہے اُن سے رک جانا—یہی تقویٰ ہے۔"دوسرے
لفظوں میں، مأمورات پر عمل کرنا (یعنی اللہ کے احکام کو بجا لانا) اور منہیات سے
رک جانا (یعنی جن چیزوں سے روکا گیا ہے اُن سے پرہیز کرنا)—یہی تقویٰ ہے۔یہ وہ چیز
ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، سوائے اللہ کے۔ یہ کسی ظاہری چیز کا نام نہیں—یہ
ایک چھپی ہوئی کیفیت ہے۔ انسان کتنا متقی اور پرہیزگار ہے، یہ صرف اللہ جانتا
ہے۔تقویٰ کا تعلق چہرے کے نشانات سے نہیں، نہ کپڑے کی لمبائی یا داڑھی کی طوالت
سے۔ بہت سے لوگ ظاہری لحاظ سے پارسا نظر آتے ہیں مگر تقویٰ دل میں ہوتا ہے، جو صرف
اللہ کو معلوم ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
"اَلتَّقْوٰی ھَاھُنَا" —تقویٰ یہاں ہے — اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف
تین مرتبہ اشارہ فرمایا۔(صحیح مسلم:2564)
اس بارے میں صحیح بخاری کی حدیث بھی ہے کہ
نبی ﷺ نے فرمایا:ألَا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً: إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ
الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألَا وهي
القَلْبُ(صحيح البخاري:52)
ترجمہ: سن لو جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے
جب وہ درست ہو گا سارا جسم درست ہوگا اور جہاں بگڑا سارا جسم بگڑ گیا۔ سن لو وہ
ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔
یہ جو دل ہے، یہی وہ مرکز ہے جہاں تقویٰ کی
اصل جگہ ہے۔ پورے جسم کی درستگی، انسان کے اعمال کی صحت حتیٰ کہ روح کی سلامتی کے
لیے اس مقام کا درست ہونا، یعنی دل کا درست ہونا، بہت ضروری ہے۔ اسی لیے میں نے
بتایا کہ کس آدمی کے اندر تقوی ہے اور کون کتنا متقی ہے، صرف اللہ ربّ العالمین ہی جانتا ہے۔انسان اللہ
سے کتنا ڈرتا ہے، اپنی عبادتوں میں کتنا خلوص رکھتا ہے، اپنے اعمال میں کتنا تقویٰ
اختیار کرتا ہے — یہ سب اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے
تقویٰ کو اپنی نظر میں فضیلت اور برتری کا معیار بنایا ہے۔
اللہ کے نزدیک وہی برتر اور عالی مقام
انسان ہے جس کے دل میں زیادہ تقویٰ ہے، زیادہ پرہیزگاری ہے، اور زیادہ اخلاص ہے۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ
رَبكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَباكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبيٍّ عَلَى
أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ،
وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بالتَّقْوَى(مسند احمد:23489وصححه ألباني)
ترجمہ: لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا
باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی
سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت
حاصل نہیں ہے۔
اللہ
تعالیٰ نے اپنے بندوں کی قدر و منزلت کا پیمانہ تقویٰ کو بنایا ہے۔ جس کے دل میں
تقویٰ ہے، وہ اللہ کے نزدیک بڑا انسان ہے۔ اور جس کے اندر تقویٰ نہیں، اس کی کوئی
حقیقی برتری نہیں، چاہے دنیاوی حیثیت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو۔لہٰذا کسی انسان کو
اس کے قد، حسن، یا ظاہری عبادت سے نہ پرکھو۔ انسان کا مقام اس کے دل کے خلوص اور
اس کے تقویٰ سے متعین ہوتا ہے، اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔اللہ تعالی کا
فرمان ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ
اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(الحجرات:13)
ترجمہ: اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ
ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔
رمضان اسی لیے آیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ
ہمارے دلوں میں تقویٰ پیوست کر دے۔ ہمیں اس تقویٰ کو سمجھنا ہےاور اس کو اپنانا ہے
۔جو بھی عمل ہم اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انجام دیتے ہیں — وہ سب اعمالِ
تقویٰ ہیں۔ یعنی ہر وہ نیکی، ہر وہ عبادت جس کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا ہے، وہ
تقویٰ ہے۔ یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے کہ دین میں غلو (حد سے بڑھ جانا)
تقویٰ نہیں۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے جسم کو اذیت دے کر، سخت مجاہدہ کر کے یا خود کو مشقتوں میں ڈال کر تقویٰ حاصل
ہو جاتا ہے۔ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں ہے، بلکہ یہ دوسرے مذاہب مثلاً ہندوؤں کی
رہبانیت جیسا ہے۔وہ لوگ اپنے جسم کو تکلیف دیتے ہیں — کوئی آدمی کانٹوں پر لیٹتا
ہے، کوئی دھوپ میں کھڑا رہتا ہے، کوئی کھانے یا گوشت سے پرہیز کرتا ہے، کوئی پانی
میں رہتا ہے — کہ شاید اس طرح وہ روحانی بلندی حاصل کر لے۔اسی طرح صوفیاء بھی یہ
سمجھتے ہیں کہ خود کو مشقت میں ڈالنا، مثلاً الٹا لٹک کر ذکر کرنا یا دنیا چھوڑ کر
جنگلوں میں رہنا، تقویٰ کی علامت ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دین میں اس طرح کا غلو یا
خود کو اذیت دینا تقویٰ نہیں ہے۔تقویٰ صرف اور صرف سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے سے حاصل
ہوتا ہے۔جو انسان پوری دیانت اور اخلاص سے سنت پر عمل کرتا ہے، وہی متقی ہے۔اس کی
دلیل وہ واقعہ ہے جب تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے گھر آئے تاکہ وہ آپ ﷺ
کی عبادت کے بارے میں جان سکیں کہ آپ ﷺ کس
طرح اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین
حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ
عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت
کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو
جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا
مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے
کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ
روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے
جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ
تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں
سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔
نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن
رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
(صحیح البخاری:5063)
اب یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ جو شخص سنت کو ترک کرے، وہ متقی نہیں ہو
سکتا۔تقویٰ صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے دین پر، اپنی عبادتوں میں، اپنے روزے،
نماز، نکاح، اور تمام اعمال میں سنت کے مطابق عمل کرتا ہے۔انسان ولی (اللہ کا
دوست) اسی وقت بنتا ہے جب وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور ایمان پر قائم رہتا ہے۔ جو شخص
اللہ سے ڈرتا ہے، وہی درحقیقت ولی ہے۔پس، رمضان اسی لیے آ رہا ہے — تاکہ انسان کو
متقی اور ولی بنایا جائے۔رمضان ایک ایسا روحانی کورس ہے جس میں بندہ بھوک، پیاس،
اور خواہشات پر قابو پا کر تقویٰ سیکھتا ہے۔یہ کورس صرف ایک مہینے کا ہے، مگر اس
کا انعام بہت بڑا ہے یعنی اللہ کی قربت
اور ولایت۔رمضان کا مقصد یہ نہیں کہ دین و عبادت میں غلو کیا جائے۔نبی کریم ﷺ نے
دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا۔اصل عبادت وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو۔
جو شخص سنت کے مطابق عبادت کرتا ہے، وہ
بظاہر سیدھا سادہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں وہی متقی اور اللہ کے نزدیک محبوب ہوتا
ہے۔جبکہ جو دکھاوے کے لیے عبادتیں کرتا ہے، تام جھام دکھاتا ہے، یا غیر سنتی طریقے
اختیار کرتا ہے — وہ لوگوں کو زاہد و عابد نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ دین میں
غلو کر رہا ہوتا ہے۔پس جو شخص سنت کے مطابق عبادت کرے گا، وہی اہلِ تقویٰ ہے۔رمضان
اسی لیے آتا ہے — تاکہ لوگوں کو متقی
بنایا جائے، ولی اللہ بنایا جائے۔اگر کوئی شخص سنت کی روشنی میں, اخلاص اور تقویٰ
کے ساتھ روزہ رکھ لے, تو یہ اس کے لیے ولایت حاصل کرنے کا بہترین نظام ہے۔یہ ایک
ایسا کورس ہے جو
نہ مہنگا ہے، نہ مشکل — بس ضرورت ہے کہ انسان سچے دل سے رمضان کا استقبال کرے اور
اخلاص وللہیت کے ساتھ اس ماہ میں اجتہاد کرے ۔ ہمارے سامنے رسول کریم ﷺ اور صحابہ
کرام کا عملی نمونہ موجود ہے۔
رمضان کا ایک مقصد تو واضح کردیا ، رمضان کا دوسرا مقصد
یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو معاف کرنا چاہتا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ بندے اس مہینے
میں عبادت کریں تاکہ وہ ان کی مغفرت فرمائے۔اور انسان کے لیے سب سے بڑی کامیابی
یہی ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے۔جس طرح ہم دنیا میں ایک مہینہ محنت کرتے ہیں اور
آخر میں ہمیں تنخواہ ملتی ہے، اسی طرح رمضان میں بھی بندہ عبادت کا کام کرتا ہے —
اور اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں مغفرت عطا فرماتا ہے۔اس بارے میں امام بخاری رحمہ
اللہ نے اپنی کتاب الأدب المفرد میں ایک حدیث بیان کی ہے،نبی ﷺ کا فرمان ہے :شقِيَ عبدٌ أدركَ رمضانَ
فانسلخَ منهُ ولَم يُغْفَرْ لهُ(صحيح الأدب المفرد:500)
ترجمہ: بدبخت ہے وہ جس
نے رمضان پایا اوریہ مہینہ اس سے نکل گیا اور وہ اس میں( نیک اعمال کرکے) اپنی
بخشش نہ کرواسکا۔
رمضان آتا ہے تاکہ بندہ مغفرت کے دروازے
کھٹکھٹائے — نماز، روزہ، ذکر، صدقہ، اور توبہ کے ذریعہ۔اللہ تعالیٰ تو رمضان اپنے
بندوں کو بخشنے کے لیے بھیجتا ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس مہینے کو ضائع نہ کریں
بلکہ اسے اللہ کی مغفرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں۔رمضان کا مقصد یہ ہے کہ بندوں
میں تقویٰ پیدا ہو، اور بندے ، اعمال
صالحہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت حاصل کرے۔
رمضان حقیقت میں بخشش کا مہینہ ہے لہٰذا اس مہینے کو پا کر ایسے اعمال انجام دینا
چاہئے جن سے اللہ اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں
ارشاد فرماتا ہے:
وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن
رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ(آل
عمران:133)
ترجمہ:اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس
جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے
تیار کی گئی ہے۔
"سَارِعُوا"
یعنی جلدی کرو، دوڑو، سستی نہ کرو۔جیسے ایک انسان راستے میں جا رہا ہو اور اچانک
اسے زمین پر دس ہزار ریال کی گَڈی نظرآ جائے — اگرچہ وہ لنگڑا ہو، بیمار ہو، اس
میں اچانک نئی تیزی آجائے گی۔کیوں؟ کیونکہ اس کے سامنے ایک قیمتی چیز نظر آ رہی ہے جو اس کے جوش
و ولولے کو بڑھا رہی ہے۔بالکل اسی طرح، رمضان بھی ہمیں روحانی جوش دینے کے لیے آ
رہا ہے — یہ مغفرت کا مہینہ ہے، جنت پانے کا مہینہ ہے۔اگر کوئی اس مہینے کو سستی
اور غفلت کے ساتھ گزارے، تو سمجھ لو اس کا ایمان کمزور ہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے
فرمایا:بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان پایا اور اس کی مغفرت نہ
ہو سکی، اور اللہ نے کہادوڑو مغفرت کی طرف، اور جنت کی طرف یعنی وہ اعمال کرو جن
سے اللہ معاف فرما دیتا ہے، اور وہ اعمال کرو جن کے نتیجے میں وہ جنت عطا کرتا
ہے۔اللہ تعالیٰ جنت کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جنت کی چوڑائی آسمانوں اور
زمین کے برابر ہے — تو سوچو اس کی لمبائی کتنی ہوگی؟یعنی یہ بہت وسیع، بے حد و
حساب جنت کشادہ ہے جس کے حصول کے لیے اللہ
ہمیں دوڑنے کا حکم دے رہا ہے۔
رمضان ہمیں جگانے کے لیے آ رہا ہے
—ہماری
روح کو بیدار کرنے کے لیے،ہمارے ایمان کو تازگی دینے کے لیے،ہماری غفلت زدہ ضمیر
کو جھنجھوڑنے کے لیے،اور ہمارے اندر دینی جذبہ اور ایمانی حرارت پیدا کرنے کے
لیے۔اگر ہم رمضان کو پا کر بھی ویسے ہی رہ گئے جیسے رجب یا شعبان اور دیگرماہ میں تھے —ایمان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،
تقویٰ میں کوئی ترقی نہیں آئی،اعمال میں کوئی بہتری نہیں آئی —تو پھر حقیقت میں رمضان پانے کا
کوئی فائدہ نہیں ہوا۔پس رمضان کا مقصد ہے:دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا۔گناہوں کی
مغفرت حاصل کرنا۔اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے رمضان فرض کیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ
رمضان کی تیاری کیسے کی جائے؟
اس کے لیے پانچ بنیادی نکات سامنے رکھیں۔اگر ہم
ان پانچ باتوں پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ رمضان کا استقبال بہترین انداز میں کر
سکیں گے،اس سے تقوی بھی حاصل ہوگا اور اس کے ذریعہ اللہ کی مغفرت بھی پائیں گے۔
پہلا نکتہ:اللہ ربّ
العالَمین سے دعا اور توفیق طلب کریں۔دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس مبارک مہینے تک
صحیح سلامت پہنچا دے۔ ہماری زندگی اور عمر
میں برکت دے اور رمضان تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائےتاکہ ہم اس خیر و برکت والے
مہینے سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ہمیں صرف یہ دعا نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں
رمضان تک پہنچا دے، بلکہ یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ ہم رمضان سے پورا فائدہ اٹھا
سکیں۔رمضان تو بہت لوگ پاتے ہیں، لیکن اس سے حقیقی فائدہ بہت کم لوگ اٹھاتے
ہیں۔لہٰذا ہمیں اللہ سے یہ دعا کرنی ہے:یا اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچنے کی
توفیق دے۔ہمیں رمضان میں نیک اعمال کی توفیق عطا فرما۔ہمیں صحت اور تندرستی نصیب
فرما تاکہ ہم عبادت کر سکیں، اور کثرت سے نیک کام انجام دے سکیں۔یہ تمام کام —
روزہ رکھنا، عبادت کرنا، قرآن پڑھنا، شب بیداری کرنا — سب اللہ کی توفیق سے ممکن
ہیں۔اگر اللہ نہ چاہے تو ہم رمضان میں داخل ہی نہیں ہو سکتے،اگر اللہ نہ چاہے تو
ہم عبادت کی توفیق نہیں حاصل کر سکتے،اگر اللہ نہ چاہے تو صحت نہیں رہے گی، یا سستی
اور غفلت ہمیں گھیر لے گی،اور پھر ہم رمضان سے فائدہ نہ اٹھا پائیں گے۔یہی وجہ ہے
کہ توفیق ایک عظیم نعمت ہے۔نہ جنت صرف اعمال سے ملے گی، نہ ہدایت صرف کوشش سے حاصل
ہوگی —بلکہ ہر نیکی کی بنیاد اللہ کی توفیق پرمنحصر ہے۔توفیق
انہی کو ملتی ہے جن کے دل میں نیک نیتی ہوتی ہے اور جو اللہ سے خیر چاہتے ہیں۔بہت
سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس میں خامیاں تلاش کرتے
ہیں، یہ لوگ "اسلامو فوبیا" پھیلاتے ہیں، اسلام کے خلاف باتیں کرتے
ہیں۔قرآن ان کے ہاتھ میں ہے، مگر ہدایت ان کے دل میں نہیں،کیونکہ ہدایت توفیق اللہ
کی طرف سے نصیب ہوتی ہے۔اس لیے ہمیں مسلسل
دعا کرنی چاہیے:اے اللہ! جب میں قرآن پڑھوں تو میری سمجھ میں آ جائے،اے
اللہ! میں تیرے دین پر تیری ہدایت کے مطابق عمل کر سکوں،اے اللہ! مجھے رمضان میں
عبادت کی، روزہ رکھنے کی، اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما،جیسا تو چاہتا ہے
اور جیسا تیرے نبی ﷺ نے عمل کیا ہے۔
دوسرا نکتہ: رمضان کی تیاری
کے لیے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم اللہ ربّ العالمین کے حقوق کے معاملات کو صاف
(تصفیہ) کریں،اپنی پچھلی زندگی میں جو کوتاہیاں ہوئیں، انہیں درست کریں، ان کی
تلافی کریں۔اللہ کے حقوق میں دو طرح کے معاملات ہیں:
وہ حقوق جو صرف توبہ سے معاف نہیں
ہوتے،بلکہ اُن کے ساتھ حق ادا کرنا بھی لازم ہوتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ
نے کئی سالوں کی زکات ادا نہیں کی،تو صرف توبہ کافی نہیں۔آپ کو وہ زکات ادا کرنی
ہی ہوگی،کیونکہ یہ دراصل بندوں کے حق سے بھی جڑی ہوئی چیز ہے یعنی مال غریبوں کا
حق ہے۔اس لیے بغیر ادائیگی کے معافی نہیں۔اسی طرح اگر آپ کے ذمہ رمضان کے روزے
باقی ہیں جو بیماری، سفر یا کسی عذر کی وجہ سے رہ گئے،یا عورتوں کے یہاں حیض،
نفاس، حمل، یا رضاعت کی وجہ سے چھوٹے،تو صرف توبہ کافی نہیں، بلکہ قضا روزے رکھنا
لازم ہے۔ بالخصوص عورتیں بلوغت سے لے کر چالیس پچاس سال (انقطاع حیض)تک ہر سال
رمضان کے کچھ روزے چھوڑتی ہیں مثلا حیض ،
یا نفاس یا حمل ورضاعت کے سبب۔اگر کسی خاتون کے ذمہ ایسے روزے باقی ہوں،تو وہ اب رمضان سے
پہلے جتنے ہو سکے قضا کرے اور جوباقی رہ جائے رمضان کے بعد قضا کرےلیکن پکا ارادہ
کرے کہ یہ چھوٹے روزے پورے کرنے ہیں۔بعض علماء کہتے ہیں کہ حمل و رضاعت کے سبب چھوٹے روزوں کا فدیہ کافی
ہے،لیکن راجح بات یہی ہے کہ قضا لازم ہے، فدیہ نہیں دینا ہےکیونکہ حاملہ اور دودھ
پلانے والی عورت بیمار کے حکم میں ہےاور بیمار جب صحت یاب ہو جاتا ہے تو اس پر چھوٹے
ہوئے روزے رکھنا واجب ہوتا ہے،لہٰذا یہاں بھی قضا کرنی ہوگی۔اسی طرح اگر کسی شخص پر حج فرض ہوچکا ہے مگر وہ سال در
سال سے ٹالتا رہا تو توبہ کافی نہیں، اسے لازماً حج ادا کرنا ہوگا۔ وہ شخص فوراً
نیت کرے اور موقع ملتے ہی فریضہ حج ادا
کرے۔لہٰذاجن بھائیوں کے ذمہ روزے باقی
ہیں، وہ انہیں پورا کریں، قضا کرنے میں غفلت ہوئی ہو تو اس کے لئے اللہ سے توبہ
بھی کریں نیزجن بہنوں کے ذمہ روزے باقی ہیں (حیض، نفاس، حمل، رضاعت وغیرہ سے)، وہ
بھی قضا کریں۔قضا روزے پندرہ شعبان کے بعد بھی رکھے جا سکتے ہیں ۔یہ سب کچھ
اسی لیے ہے کہ رمضان میں جب ہم نئے سرے سے تقویٰ اور مغفرت کی طرف قدم بڑھائیں تو اس
سے پہلے پہلے حقوق اللہ کا معاملہ ختم ہوگیا ہو۔
اللہ کے حقوق کی ایک دوسری قسم وہ ہے جو
توبہ کے ذریعہ معاف ہو سکتی ہے جس کا تعلق گناہ کبیرہ سے ہے جیسے نماز، کفر، شرک
اور بدعت وغیرہ۔اگر کسی نے اپنی زندگی کے کئی سال نماز نہیں پڑھی، اب وہ سچے دل سے
توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے گناہ — یعنی کبیرہ
گناہوں کے علاوہ — وہ تو نیک اعمال سے ہی مٹ جاتے ہیں:وضو، تلاوت، ذکر، نماز، دعا، صدقہ —
ان سب سے اللہ ربّ العالَمین بندوں کے چھوٹے گناہ مٹا دیتا ہے۔لہٰذا، رمضان کے
استقبال سے پہلے حقوقُ اللہ کے معاملات درست کریں،تاکہ دل پاک ہو، ضمیر ہلکا ہو،
اور رمضان میں عبادت کا ذوق و شوق بڑھ جائے۔کیونکہ جب انسان اپنے پرانے گناہوں،
قرضوں، اور واجبات کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے،تو نہ اس کے اندر سکون رہتا ہے نہ
عبادت کی لذت۔اس لیے پہلے دل اور عمل کو پاک کریں،پھر رمضان کا خالص استقبال کریں۔
تیسرا نکتہ: اب تیسرا اہم
مرحلہ ہے — بندوں کے حقوق ادا کرنا۔اللہ کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم بندوں
کے حقوق صحیح طور پر ادا کریں۔حقوقُ العباد ان معاملات کو کہتے ہیں جو انسانوں کے
درمیان ہوتے ہیں — خاص طور پر مالی معاملات۔اگر ہم نے کسی کی زمین، جائیداد، یا
مال ناحق لے رکھا ہے، تو واپس کر دیں۔اگر ہم نے کسی سے قرض لیا اور واپس نہیں کیا،
تو توبہ کافی نہیں، اسے ادا کرنا ہی ہوگا۔بہت سے لوگ قرض لے کر تاخیر کرتے ہیں،
بہانے بناتے ہیں ۔یہ تاخیر دراصل خیانت اور ناشکری ہے۔قرض دینا احسان ہے، اور قرض
واپس کرنا آپ کا فرض ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا مال دھوکے، فریب، چوری، یا تجارت میں
بددیانتی سے لیا گیا ہو،تو فوراً توبہ کریں اور حقدار کو وہ مال واپس کریں۔یہی
حقوق العباد کی صفائی ہے۔یاد رکھیں کہ بندوں کا حق ادا کیے بغیراس کا گناہ اللہ معاف نہیں کرے گا۔
مالی حقوق میں تو حق واپس کرنا ہوتا ہے
لیکن حقوق العباد مالی حق کے علاوہ زبانی اور جسمانی تکلیف سے ہو جیسے اگر ہم نے
کسی کی غیبت کی ہے، کسی کے خلاف سازش کی ہو، یا کسی شخص کو بدنام کرنے کے لیے اس
کی برائی کی ہو، کسی کی چغلی کی ہو اورلوگوں کے درمیان فساد پھیلایا ہو، تو یہ بھی بہت سنگین گناہ ہے ۔ان تمام صورتوں میں ظلم
کرنے والاآدمی مظلوم سے جاکر اپنی غلطی کی دل سے معافی مانگے، نیز جہاں کہیں غیبت
وچغلی کی اور بدنام کیا ہے وہاں اس کی براءت بیان کرے۔ جس پر ظلم کیا ہے، اگر وہ
معاف کردیتا ہے تبھی اللہ کے یہاں ظالم کو معافی ملے گی ، ورنہ اللہ کے یہاں معافی
نہیں ملے گی۔
چوتھا نکتہ: رمضان کی تیاری
کا چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ ہم رمضان سے متعلق علم حاصل کریں۔جب ہم رمضان میں داخل
ہونے جا رہے ہیں، تو پہلے یہ سیکھنا ضروری ہےکہ روزے کے آداب واحکام کیا ہیں؟روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا طریقہ کیا
ہے؟روزے کی فضیلتیں اور نواقض (توڑنے والی چیزیں) کیا ہیں؟روزہ کے مستحب اعمال جیسے تراویح، دعا، اذکار، اور دیگر
عبادات کا مسنون طریقہ اور احکام کیا ہے؟جس طرح حج یا عمرہ سے پہلے اس
کے مناسک سیکھنا ضروری ہوتا ہے،اسی طرح رمضان سے پہلے روزہ اور عبادت کے بنیادی مسائل سیکھنا لازمی
ہے۔کیونکہ عمل سے پہلے علم کا ہونا ضروری ہے، تاکہ سنت کے مطابق عمل کیا جاسکے۔اگر
ہم نماز پڑھنے والے ہیں، تو ہمیں نماز کا طریقہ اور اس کے اذکار سیکھنا چاہیے۔اگر
ہم روزہ رکھتے ہیں، تو ہمیں روزہ کے شرعی
آداب واحکام معلوم ہونا چاہیے۔عام لوگ تو
عام لوگ ہیں ، افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت
سے پڑھے لکھے لوگ (ڈاکٹر، انجینئر، افسر وغیرہ)دنیاوی علوم میں تو مہارت رکھتے
ہیں، مگر ان کے پاس دین کی بنیادی معلومات نہیں ہوتی جبکہ ہر مسلمان کے پاس اسلام کی بنیادی معلومات
ہونی چاہئے۔ کلمہ ، نماز، روزہ ، زکوۃ اور حج کے ساتھ عقیدہ کی معرفت حاصل ہونی
چاہئے۔ رمضان میں روزہ کے ساتھ عبادات پر زیادہ توجہ مرکوز رکھنی چاہئے بلکہ نماز تو عمر بھر کا معاملہ ہے۔ اس نماز کو
جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ دلائل کی روشنی میں جاننے کی ضرورت ہے تاکہ ہمہ وقت
سنت کے مطابق عبادت کی جائے اور اسی طرح رمضان روزہ رکھنے کے لئے آیا، اس کے کیا
آداب واحکام ہیں ، علماء کی طرف رجوع کرکے اس کا علم حاصل کرنا چاہئے۔ آج کا زمانہ
کافی ترقی یافتہ ہے، گھر بیٹھے دین سیکھ سکتے ہیں اور علماء سے بآسانی رابطہ
کرسکتے ہیں۔ رمضان سے قبل عموما بہت ساری
جگہوں پر یا آن لائن صورت میں رمضان کا کورس کرایا جاتا ہے، ایسے کورس میں شرکت
کرکے علم حاصل کریں بلکہ آپ کے پاس اس سے
متعلق کتاب بھی ہونی چاہئے نیز بیانات سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ہمیں صرف روزہ
کے مسائل ہی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روزہ کے ساتھ، نماز پڑھنے کا طریقہ،
زکوۃ دینے کا طریقہ، ذکر وتلاوت اور دعاکے
آداب،اور کھانے پینے سے لے کر توحید وشرک ، عقیدہ کی معلومات ، حلال وحرام کا علم یعنی دین کی بنیادی معلوم حاصل کریں۔
جب آپ دین کا علم حاصل کرکے یقین کے ساتھ
عمل کریں گے تو وہ عمل سنت کے مطابق ہوگا،
اس میں غلطی کرنے سے بچیں گے ، غلو اور سنت کی خلاف ورزی سے بچتے رہیں گے۔ سنت کے
مطابق عمل کرنے کا نام ہی تقوی ہے جس کے لئے اللہ تعالی نے رمضان کا روزہ فرض کیا
ہے۔
پانچواں نکتہ: رمضان کی تیاری
کا پانچواں اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ توبہ کے بعد ہم پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف
رجوع کریں۔قرآن میں ارشاد ہے:"فَفِرُّوا إِلَى اللّٰهِ "اللہ کی
طرف دوڑویعنی اپنا رخ دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف کرو۔ہم اکثر دنیا کی طرف دوڑتے
ہیں — رزق، شہرت، مال، عیش و آرام کے پیچھے۔لیکن اللہ ہمیں بلا رہا ہے کہ اپنی
جان، وقت، اور دل کو میری طرف موڑو۔توبہ کرنے کے بعد صرف پچھتاوا کافی نہیں بلکہ
رجوع الی اللہ ضروری ہے —یعنی اللہ کی بندگی، ذکر، محبت، اور
قرب کی طرف لوٹنا۔یہی رجوع انسان کے ایمان کو زندہ کرتا ہے،دل کے زنگ کو صاف کرتا
ہے،اور بندے کو رمضان کے استقبال کے لائق بناتا ہے۔رمضان کی تیاری کے یہ پانچ نکات
مکمل ہوئے:دعا اور توفیق طلب کرنا۔اللہ کے حقوق ادا کرنا۔بندوں کے
حقوق ادا کرنا۔علمِ دین، خاص طور پر روزے اور نماز کے احکام سیکھنا۔توبہ کے بعد
اللہ کی طرف رجوع کرنا۔یعنی حقیقی رجوع الی اللہ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اللہ کی
طرف کیسے آئیں؟
ایسا ظاہر ہو کہ بندہ واقعی رمضان کے
استقبال کی تیاری کر رہا ہے۔جس طرح ہم بازار جانے سے پہلے مکمل تیاری کرتے ہیں
—کپڑے
درست کرتے ہیں، جیب میں پیسے دیکھتے ہیں، بیگ لیتے ہیں،اہلِ خانہ سے مشورہ کرتے
ہیں، سوچتے ہیں کہ کون سا سامان لینا ہے —اسی طرح رمضان کی طرف بھی ہمیں سوچ
سمجھ کر، منصوبے کے ساتھ بڑھنا چاہیے۔رمضان کی تیاری کا مطلب صرف نیت نہیں بلکہ
عملی تیاری ہے۔ تیاری کیا ہے، اللہ
سے توفیق مانگنا۔حقوقُ اللہ ادا کرنا۔حقوقُ العباد ادا کرنا۔رمضان کے احکام و
مسائل سیکھنا، اوراب ان سب پر عمل کرنا شروع کر دینا۔یعنی ابھی سے اپنے اندر
تبدیلی لانا۔اگر ہم نے واقعی رمضان پانے کا ارادہ کیا ہے،تو ابھی سے نماز کی طرف
متوجہ ہوں،قرآن کی تلاوت میں دل لگائیں،دینی کتابوں کا مطالعہ شروع کریں،دینی اجتماعات
میں شریک ہوں،قرآن اور حدیث و سیرت کی کتابیں پڑھیں،اور دینی ماحول سے جڑ
جائیں۔ایسا محسوس ہو کہ انسان حقیقتاً اللہ کی طرف آ رہا ہے،اپنے دل، عمل، اور نیت
کے ساتھ۔جب بندہ توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور اسے
بخش دیتا ہے،جیسا کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا
إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ
سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ
يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ
يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ
لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(التحریم:8)
ترجمہ:اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی
خالص توبہ کرو، قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں
میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان
داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں
دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں
بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔
سچی توبہ (توبۃ النصوح) کی تین شرائط ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر
سچے دل سے شرمندہ ہو۔دل سے یہ احساس ہو کہ واقعی ہم نے غلطی کی ہے۔دوسری شرط یہ ہے
کہ بندہ اس گناہ کو فوراً چھوڑ دے۔مثلاً جو پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا،اب توبہ کے
بعد نماز کی پابندی کا آغاز کرے۔اور تیسری شرط یہ ہے کہ بندہ پختہ ارادہ کرے کہ
آئندہ یہ گناہ نہیں کرے گا۔یہ صرف زبانی وعدہ نہیں بلکہ دل کا مضبوط عزم ہونا
چاہیے۔جب بندہ ان تین شرائط پر توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہ بخش
دیتا ہےبلکہ اس کے گناہ نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔یہی وہ رجوع الی اللہ ہے جو رمضان
سے پہلے مطلوب ہے —وہ رجوع جو ایمان کو تازگی، دل کو نرمی، اور روح کو
قربت الہی بخشتا ہے۔جب بندہ سچی توبہ کرتا ہے اور اس میں یہ تین شرائط پائی جاتی
ہیں —ندامت (پشیمانی)،ترکِ گناہ (گناہ چھوڑ دینا)،پختہ عزم
(آئندہ نہ کرنے کا یقین)تو یہ توبہ توبۃ النصوح کہلاتی ہے۔اگر بندہ ان شرائط کے
ساتھ اللہ ربّ العالَمین سے توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے سے بڑے گناہ
بھی معاف فرما دیتا ہے،سوائے حقوقُ العباد کے —کیونکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ
بندوں کے ذریعہ ہی حل ہوگا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان کی تیاری کے
پانچ نکات یہ ہوئے:اللہ سے دعا اور توفیق طلب
کرنا۔یعنی رمضان تک پہنچنے اور اس میں عبادت کرنے کی استطاعت مانگنا۔حقوقُ اللہ کا
معاملہ درست کرنا۔جیسے زکات، روزے، اور حج جیسی ذمہ داریاں ادا کرنا۔حقوقُ العباد
کا معاملہ صاف کرنااور بندوں کا حق واپس دینایعنی قرض، امانت، دھوکے یا غیبت کا
معاملہ درست کرنا۔رمضان کے احکام اور آداب سیکھنا۔روزے، نماز، تراویح، دعا، اور
اذکار کے مسائل جاننا تاکہ سنت کے مطابق عمل ہو۔اللہ کی طرف رجوع اور زندگی میں
تبدیلی لانا۔توبہ کے بعد عملی تبدیلی،تاکہ لوگوں کو دیکھ کر لگے کہ یہ شخص بدل گیا
ہے —جو بے نمازی تھا اب نمازی بن گیا،جو جھوٹ بولتا تھا اب
سچ بولنے لگا،جو قرآن سے دور تھا اب قرآن پڑھنے لگا،جو دین سے غافل تھا اب علما ءکی
مجلسوں سے جڑ گیا ہے۔یہی رمضان سے پہلے کی اصل روحانی تیاری ہے۔اگر ہم میں یہ
تبدیلی نظر آنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ ہم رمضان کا خوش آمدید صحیح معنوں میں کر رہے
ہیں۔
آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری زندگیوں میں برکت عطا فرمائے،ہمیں رمضان
تک پہنچا دے، جب ہم رمضان پائیں تو ہمیں سنت کے مطابق عبادت کرنے کی توفیق دے۔اس
بابرکت مہینے میں ہماری مغفرت فرمائے،ہماری مشکلات آسان فرمائے، ہماری دنیا اور
آخرت کے معاملات درست فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین

