Monday, June 8, 2026

وتر کی نماز کا حکم

 

وتر کی نماز کا حکم

 مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نماز وتر کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے۔ آپ ﷺ نے اس نماز کو حضر کی طرح سفر میں بھی متواتر ادا فرمایا ہے حتی کہ آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کو بھی اس پر مواظبت کی تعلیم دی ہے چنانچہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں:

أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ.(صحيح البخاري: 1981)

ترجمہ:میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔

نبی ﷺ نے نماز وتر پڑھنے کے تعلق سے اپنی امت کونماز وتر پڑھنے کی بڑی  تعلیم وترغیب دی ہے بلکہ اس نماز کی ادائیگی کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نیند سے بیدار کرتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ".(صحيح البخاري: 512)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) بچھونے پڑ آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔

ان باتوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے، ایک مومن کو اس نماز کے تئیں  ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے خواہ سفر ہو یا حضر۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وتر کی نماز واجب ہے یا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے؟

اس مسئلہ میں امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور ایک روایت کے مطابق امام ابوحنیفہؒ  کا قول یہ ہے کہ نماز وتر مسنون ہے، واجب نہیں ہے، یہی قول امام محمدؒ اور امام ابویوسفؒ کا بھی ہے۔ اور دلائل کی روشنی میں وتر کا سنت ہونا ہی قوی ہے جس کی تاکید آئی ہے یعنی نماز وتر سنت موکدہ ہے۔ جن لوگوں نے وتر کی نمازکو واجب کہا ہے ان کی بات درست نہیں ہے۔

نماز وتر مسنون ہے، اس کے چند دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔

(1) وتر کی نماز فرض نہیں، سنت ہے، اس بارے میں سب سے اہم دلیل طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی  یہ حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ.(صحيح البخاري: 2678)

ترجمہ:ایک صاحب (ضمام بن ثعلبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ نماز اور ضروری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں یہ دوسری بات ہے کہ تم نفل پڑھو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور رمضان کے روزے ہیں۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ (روزے) واجب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ”سوا اس کے جو تم اپنے طور پر نفل رکھو۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا، کیا (جو فرض زکوٰۃ آپ نے بتائی ہے) اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی خیرات واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، سوا اس کے جو تم خود اپنی طرف سے نفل دو۔“ اس کے بعد وہ صاحب یہ کہتے ہوئے جانے لگے کہ اللہ گواہ ہے نہ میں ان میں کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہوا۔

یہاں پر فرض نمازوں کے بارے میں نبی ﷺ نے صرف پانچ نمازوں کا ذکر کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کہ پانچ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں جن میں وتر بھی ہے، فرض نہیں ہیں۔ شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ  یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ دن اور رات میں ان کے علاوہ کوئی دوسری نماز فرض نہیں ہے اور اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے جو وتر یا فجر کی سنت کو واجب قرار دیتے ہیں۔نیز یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے چنانچہ صحیح مسلم کے شارح امام نووی ؒ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر واجب نہیں ہے۔ نیز صحابہ نے بھی اس حدیث سے یہی سمجھاہے کہ وتر واجب نہیں ہے، اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔

(2)عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ.(صحيح البخاري: 1000)

ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے انہوں نےکہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ فرض نماز سواری پر نہیں ادا فرماتے، صرف نفل نماز سواری پر ادا فرماتے، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سواری پر وتر کی نماز ادا فرمایا کرتے، گویا وتر کی نماز فرض نماز میں سے نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ سواری پر ادا فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام بھی آپ ﷺ کی طرح وتر کی نماز سواری پر ادا فرمالیا کرتے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ.(صحيح البخاري:999)

ترجمہ: سعید بن یسار نے بتلایا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا۔ سعید نے کہا کہ جب راستے میں مجھے طلوع فجر کا خطرہ ہوا تو سواری سے اتر کر میں نے وتر پڑھ لیا اور پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔ آپ نے پوچھا کہ کہاں رک گئے تھے؟ میں نے کہا کہ اب صبح کا وقت ہونے ہی والا تھا اس لیے میں سواری سے اتر کر وتر پڑھنے لگا۔ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اچھا نمونہ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک ہے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔

(3)صحابہ کرام بھی  نمازوتر کو  پنج وقتہ نمازوں کی طرح واجب نہیں سمجھتے تھے  بلکہ اسے سنت ہی سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول دیکھیں۔

قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.(سنن ابن ماجه: 1169) صححہ البانی
ترجمہ:علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہےبلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے۔

ترمذی میں صراحت کے ساتھ سنت کا لفظ وارد ہے۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں:
الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:  إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ(سنن ترمذی:453)

ترجمہ:علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا اور فرمایا: اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن! تم وتر پڑھا کرو۔

ترمذی کی اگلی روایت ہے۔علی رضی الله عنہ کہتے ہیں:

الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(سنن ترمذی:454)
ترجمہ: وتر لازم نہیں ہے جیسا کہ فرض صلاۃ کا معاملہ ہے بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

کس قدر صراحت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وتر کا معاملہ پنج وقتہ فرض نمازوں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کا حکم سنت ہے۔

(4)اسی طرح ایک دوسرے صحابی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے وتر کو واجب کہنے والے کے بارے میں کہااس نے غلط کہا، وتر تو سنت نماز ہے۔ اس بارے میں حدیث دیکھیں۔

عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ.(سنن ابي داود: 1420)صححہ البانی

ترجمہ: ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔

پنج وقتہ فرض نمازوں والی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے صحابی رسول نے بالکل صراحت سے کہا کہ وتر کی نماز فرض نہیں ہے یعنی یہ نماز سنت ہے۔ فرض تو صرف پانچ اوقات کی نمازیں ہیں۔

(5) ایک احتمال یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز نہیں پڑھی۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے حج کا مفصل طریقہ بیان کیا ہے۔ اس میں مزدلفہ کی رات سے متعلق جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔

حتَّى أتى المُزدَلِفةَ، فصَلَّى بها المَغرِبَ والعِشاءَ بأذانٍ واحِدٍ وإقامَتَينِ، ولم يُسَبِّحْ بينَهما شيئًا، ثُمَّ اضطَجَعَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم حتَّى طَلَعَ الفَجرُ و صَلَّى الفَجرَ(صحيح مسلم:1218)

ترجمہ: آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پڑھیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی۔
اس  حدیث کی روشنی میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز ادا فرمائی یا نہیں ؟

ایک قول یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مزدلفہ کی رات بھی وتر کی نماز ادا فرمائی ۔ اس بات کے لئے عمومی دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سفر وحضر کبھی بھی وتر کی نماز نہیں چھوڑی۔ شیخ ابن عثیمین ؒ کا یہی رجحان ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز نہیں ادا فرمائی۔ یہ موقف  شیخ البانی ؒ  کا بھی ہے اور انہوں نے اس مسئلہ کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے، میں طوالت کے خوف سے متن ذکر نہیں کررہا ہوں تاہم اختصار کے ساتھ اس کا مفہوم بیان کرتا ہوں۔ شیخ البانی ؒ بیان کرتے ہیں۔

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے مزدلفہ کی رات فرض نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کے علاوہ کوئی اور نماز ادا کی ہو۔ صحابۂ کرام جنہوں نے آپ ﷺ کے بارے میں یہ نقل کیا کہ آپ سوئے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اس میں ایک مضبوط اشارہ پایا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس رات صرف دو فرض نمازیں ادا کیں: نمازِ مغرب اور نمازِ عشاء۔

اس روایت سے ہم دو احکام اخذ کرسکتے ہیں:

پہلا حکم:

اللہ تعالیٰ نے عام سفر کی حالت میں اور خاص طور پر مزدلفہ میں جمع کی حالت میں مسلمانوں سے فرض نماز میں تخفیف فرمائی ہے۔ چنانچہ عشاء کی چار رکعتوں کو دو رکعت کردیا البتہ مغرب کی رکعتیں اپنی اصل حالت پر برقرار رہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسافروں کے لیے فرض نماز میں یہ تخفیف فرمائی ہے تو بدرجۂ اولیٰ نفل عبادات میں بھی تخفیف کا معاملہ ہوگا۔

ہر وہ شخص جو سنت کا فقیہ ہے، جانتا ہے کہ حاجی کی حالت عام مسافر سے زیادہ مشقت اور دقت والی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی تعجب نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات وتر کی نماز بھی ادا نہ کی ہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر مزید آسانی اور تخفیف تھی۔

دوسرا حکم:

نمازِ وتر فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وتر بھی پانچ فرض نمازوں کی طرح واجب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:نہیں، بلکہ یہ ایک سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمایا ہے۔

لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس رات وتر کو ترک کرنا اس بات پر بہت قوی دلیل ہے کہ وتر کا حکم فرض نماز کے حکم سے مختلف ہے۔ فرض نماز کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی لیکن وتر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات ترک فرمایا۔ اس سے ایک طرف پہلے حکم کی وضاحت ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وتر فرض نہیں بلکہ سنت ہے"۔(شیخ کے نام سے منسوب صوتیات والی ویب سائٹ سے ماخوذ)

میں نےمزدلفہ کی رات سے متعلق آپ کے سامنے دونوں موقف بیان کردیا، اگر پہلا موقف دیکھیں تب بھی وتر کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی اور اگر دوسراموقف یعنی شیخ البانیؒ کا موقف دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر سنت ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی معلوم رہے کہ حاجیوں کے لئے مزدلفہ کی رات وتر پڑھنا مشروع ہے کیونکہ نبی ﷺ نے سفر وحضر ہمیشہ وتر ادا فرمایا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے یہاں وتر واجب ہے جبکہ جمہور علماء(ایک قول کے مطابق امام ابوحنیفہؒ بھی) وتر کو سنت قرار دیتے ہیں اور اس مسئلہ میں دلائل کی رو سے وتر کا سنت موکدہ ہونا ہی قوی اور راحج معلوم ہوتا ہے۔

وجوب سے متعلق اشکال کا جواب

نماز وتر کے واجب ہونے سے متعلق بعض دلائل پیش کئے جاتے ہیں اختصار کے ساتھ ان کا جائزہ بھی پیش کردیتا ہوں تاکہ قارئین پر نفس مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے۔

(1) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ".(سنن ابي داود: 1422)

ترجمہ: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔

یہ حدیث سندا صحیح ہے مگر اس حدیث سےلفظ "حق" کے ذریعہ  وتر کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ وتر کی تاکید معلوم ہوتی ہے اور میں نے پہلے ہی بتادیا ہے کہ نماز وتر کی  بڑی تاکید و ترغیب آئی ہے۔

(2) بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا(سنن ابي داود:1419)

ترجمہ:وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔

اولا یہ حدیث ضعیف ہے، شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے کیونکہ اس میں عبیداللہ عتکی نامی راوی ضعیف ہے۔ بعض نے شواہد کی بنیاد پر حسن لغیرہ بھی کہا ہے۔ ایسی صورت میں اس حدیث کا معنی ہوگا کہ وتر حق ہے یعنی وتر پڑھنا ثابت ہے یا وتر ثابت شدہ امر ہے اور "جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں" کا مطلب ہے وہ ہمارے طریقہ اور ہماری سنت پر نہیں ہے۔ گویا اس سے وتر کی تاکید اور اہمیت معلوم ہوتی ہے، وجوب ثابت نہیں ہوتا۔

(3) سنن دارقطنی میں وتر سے متعلق   ایک روایت اس طرح مذکور ہے۔ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں:

الوِتْرُ حَقٌّ واجِبٌ، فمَن شاءَ أن يُوتِرَ بثَلاثٍ فلْيُوتِرْ، ومَن شاءَ أن يُوتِرَ بواحِدةٍ فليُوتِرْ بواحِدةٍ۔
ترجمہ: وتر واجبی حق ہے، جو تین پڑھنا چاہے وہ تین پڑھے، اور جو ایک رکعت پڑھنا چاہے وہ ایک رکعت وتر پڑھے۔

اولا یہ مرفوع نہیں ، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت ہے ،دوسری بات یہ ہے کہ امام بیہقی نے کہا کہ لفظ "واجب" صحیح نہیں ہے۔(الخلافيات:1412)

بلکہ ابن المنذر نے تو اس طرح بیان کیا ہے: "الوتر حق وليس بواجب" یعنی وتر پڑھنا تو ثابت ہے مگر واجب نہیں ہے۔ گویا یہاں پر بھی وجوب کی کوئی بات نہیں ہے۔

احناف اس حدیث کے پہلے ٹکڑا سے وتر کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں مگر اس میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا ثبوت ہے وہ نہیں مانتے، کتنی حیرت کی بات ہے۔

(4) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من نامَ عن وترِهِ أو نسيَهُ فليصلِّهِ إذا ذكرَهُ(سنن أبي داود:1431)
ترجمہ: جو وتر کی نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے۔

یہ حدیث سندا صحیح ہے اور اس حدیث سے نماز وتر فوت ہونے پر قضا کرنے کا علم ہوتا ہے، اس وجہ سے احناف اس سے استدلال کرتے ہیں کہ جو چیز واجب ہوتی ہے اسی کی قضا کا حکم دیا جاتا ہے۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ  سنت چھوٹنے پر اس کی بھی قضا کی جاسکتی ہے جیساکہ رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ ظہر کے بعد والی سنت ایک وفد کی آمد سے چھوٹ گئی تھی تو آپ نے عصر کے بعد اس کی قضا کیا۔ (بخاری:4370)

اس وجہ سے یہ کہنا کہ وتر کی قضا سے اس کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہ درست نہیں ہے۔

آخری بات:

پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ ہے۔سنت موکدہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس نماز سے غفلت برتیں بلکہ وہ یہ نماز ہے جس کی بڑی تاکید آئی ہوئی ہے اس لئے اس پر مواظبت کرنی چاہئے جیساکہ آپ ﷺ کا سفر وحضر میں معمول رہا ہے اور آپ کے پیارے اصحاب نے اس پر مواظبت فرمائی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ الفتاوی الکبری میں لکھتے ہیں :"الوتر سنة مؤكدة باتفاق المسلمين، ومن أصر على تركه فإنه ترد شهادته"یعنی  وتر تمام مسلمانوں کے نزدیک متفقہ طور پر سنت مؤکدہ ہے اور جو متواتر اسے چھوڑتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔

کبھی کبھار وتر چھوٹ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر مسلسل اس نماز کو چھوڑنابہت  بڑی غفلت اور محرومی ہے۔

 

 

مکمل تحریر >>

پردیسی کی اپنے ملک میں قربانی

 پردیسی کی اپنے ملک میں قربانی


بہت سارے لوگ روزگار کی تلاش میں گھروالوں اور اپنے وطن سے دور دوسرے ممالک میں اکیلے زندگی گزارتے ہیں ۔ عید الاضحی کے موقع پر وہ گھر والوں کا خیال کرکے اپنی قربانی اپنے وطن میں کرتے ہیں تاکہ اس کی طرف سے قربانی بھی ہوجائے اور گھر والے بشمول رشتہ دار حضرات قربانی سے فائدہ بھی اٹھالیں ۔ جب صورت حال ایسی ہو کہ ایک اکیلا شخص کسی دوسرے ملک میں ہو اور اس کی پوری فیملی دوسرے ملک میں ہو اور وہ اپنی قربانی اپنے اہل وعیال کے یہاں دینا چاہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

جب پردیس میں رہنے والا اپنےرہائشی ملک میں قربانی نہ دے کر ، اپنے اہل وعیال کے یہاں اپنی جانب سے قربانی دے گا تو اس کی قربانی کا جانور اس جگہ کے اعتبار سے ذبح کیا جائے گاجہاں قربانی دی جارہی ہے یعنی اپنے اہل وعیال کے اعتبار سے۔ جیسے پردیسی کے گھر والے عید کی نماز پڑھ لیں، اس کے بعد وہ قربانی دی جاسکتی ہے۔ قربانی ذبح کرنے  میں اس شخص کی جگہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گاجس کی جانب سے قربانی دی جارہی ہے بلکہ اس کے وکیل کی جگہ کا اعتبار ہوگا جہاں اس کی قربانی ہونی ہے۔ یہاں وکیل ، موکل کے قائم مقام ہے۔

لجنہ دائمہ سے ایک شخص نے سوال کیا ہے کہ اس کا ایک رشتہ دار علاج کی غرض سے امریکہ میں مقیم ہے اور اس نے اپنی قربانی خریدنے اور ذبح کرنے کے لیے اسے سعودی عرب میں وکیل بنایا ہے۔ اب وہ پوچھتا ہے کہ کیا وہ اپنی نمازِ عید ادا کرنے کے بعد اور امریکہ میں اپنے رشتہ دار کے یہاں نمازِ عید کا وقت داخل ہونے سے پہلے، اس کی قربانی ذبح کرسکتا ہے؟

اس پر لجنہ نے جواب دیا کہ وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ موکل کی قربانی اپنی نمازِ عید کے بعد ذبح کردے، اگرچہ موکل کے اعتبار سے ابھی عید کا وقت نہ ہوا ہو کیونکہ وکیل اپنے موکل کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قربانی اُس ملک میں وقتِ ذبح، داخل ہونے سے پہلے کی گئی ہو جہاں موکل مقیم ہے۔

اس میں ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ موکل اپنا بال وناخن کب کاٹے گا؟ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین ؒ نے کہا کہ جب اُس ملک میں، جہاں قربانی کروانے والا شخص موجود ہے، قربانی کا وقت شروع ہو جائے تو اس کے لیے بال، ناخن اور جسم کے بال وغیرہ کاٹنا جائز ہو جاتا ہے، اگرچہ ابھی اس کی قربانی حقیقتاً ذبح نہ ہوئی ہو۔ (100 سؤال وجواب في العمل الخيري/ سوال نمبر3: شیخ کی ویب سائٹ سے منقول)

اس میں ایک  دوسراقول یہ ہے کہ جب وکیل موکل کی طرف سے قربانی ذبح کردے تب اس موکل کے لیے بال اور ناخن کاٹنا جائز ہوگا۔ گویا وکیل کے یہاں محض قربانی کا وقت داخل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ قربانی ذبح ہونا ضروری ہے تبھی موکل اپنا بال وناخن کاٹ سکتا ہے۔ یہی دوسرا قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ بال و ناخن کاٹنے کا تعلق قربانی ہونے سے ہے، نہ کہ وقت داخل ہونے سے۔


کتبہ / مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

مکمل تحریر >>

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (109)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (109)

شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر ، سعودی عرب

 

سوال:آج کل بعض فیمنسٹ خواتین یہ موقف پیش کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق دئے ہیں، اس لیے وہ گھر سے باہر نکل کر ملازمت کر سکتی ہے اور کاروبار بھی کرسکتی ہے بغیر کسی شرعی عذر کے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح وضاحت فرمائیں کہ عورت کے لیے تعلیم، ملازمت اور کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس کی حدود و شرائط کیا ہیں؟

جواب:عورت و مرد کے الگ الگ حقوق اور الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔ اللہ نے عورت کو مردوں سے مختلف فطرت پر تخلیق فرمایا ہے۔ اس وجہ سے دونوں کی ذمہ داریوں میں بڑا واضح فرق ہے۔

اس کے باوجود عورت تعلیم حاصل کرسکتی ہے، نوکری کرسکتی ہے اور تجارت بھی کرسکتی ہے، اس میں شرعی طور پر حرج نہیں ہے بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنا تو مرد و عورت سب کے لئے یکساں فریضہ ہے۔

شرعی تعلیم کا حصول تو عورت کا بنیادی حق اور اس کی اہم ذمہ داری ہے، دنیاوی تعلیم کا حصول ضروری نہیں ہے تاہم شرعی حدود میں رہتے ہوئے باپردہ ہوکر اور اختلاط سے بچ کر (یعنی نسواں تعلیم گاہ میں) عصری تعلیم کا حصول بھی جائز ہے۔

جہاں تک معیشت کا مسئلہ ہے تو اسلام نے عورت کے کندھے پر معاشی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے، وہ اس معاملہ میں اپنے شوہر کے ماتحت ہے اس کے باوجود کسی عورت کے لئے فتنے کی جگہوں اور اختلاط سے بچتے ہوئے حجاب میں رہ کر حلال نوکری یا حلال تجارت کرنا ممکن ہو تو فقط عورتوں کے درمیان نوکری کرنے یا عورتوں کے درمیان تجارت کرنے میں حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر فتنہ ہو، عفت و عصمت کو خطرہ ہو، پردہ کے لئے رکاوٹ ہو، اختلاط والی جگہ ہو تو ایسی صورت میں عورت اس کی قسم کی نوکری یا تجارت سے پرہیز کرے۔

سوال: کیا قسم کے کفارہ میں لگاتار روزہ رکھنا ہے اور اسی طرح کھانا ایک ہی مسکین کو دے سکتے ہیں اور کتنا دینا ہوتا ہے؟

جواب:کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دینا ہے ، صرف ایک مسکین کو پورا کفارہ دینے سے نہیں ہوگا۔ گویا یہ بات واضح ہوگئی کہ قسم کے کفارہ میں تعداد کے اعتبار سے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اور یہ کھانا محض ایک وقت کا کھلانا ہے یا نصف صاع یعنی ڈیڑھ کلو اناج تقریبا فی کس دیا جاسکتا ہے۔

جہاں تک روزہ کا مسئلہ ہے تو قسم کے کفارہ میں تین روزہ لگاتار بھی رکھ سکتے ہیں اور الگ الگ طور پر بھی رکھ سکتے ہیں یعنی لگاتار رکھنا ضروری نہیں ہے۔

سوال: بچے کا عقیقہ ساتویں دن نہیں کرسکے کیونکہ اس وقت گنجائش نہیں تھی لیکن بعد میں اللہ نے عطا کیا ہو اور بچے کا عقیقہ کرنا چاہیں تو وہ عقیقہ ہی ہوگا یا صدقہ ہوگا کیونکہ مجھ سے کسی نے کہا ہے کہ عقیقہ صرف ساتویں دن ہی ہوتا ہے، اس کے بعد صدقہ ہوتا ہے اور کیا شوہر اپنی بیوی کا عقیقہ کرسکتا ہے جبکہ بیوی کا باپ باحیات ہو اور صاحب استطاعت بھی ہو؟

جواب:بچپن میں جس کا عقیقہ نہیں ہوا ہو بڑی عمر میں اس کی طرف سے عقیقہ دے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ عقیقہ ہی مانا جائے گا۔ نبی ﷺ نے اپنا عقیقہ نبوت ملنے کے بعد کیا تھا۔ جب نبی ﷺ نے بڑی عمر میں اپنا عقیقہ دیا ہے تو دوسرے لوگ بھی دے سکتے ہیں اور یہ عقیقہ ہی مانا جائے گا تاہم افضل یہی ہے کہ استطاعت ہو تو عقیقہ پیدائش کے ساتویں دن دیا جائے۔

شوہر بیوی کی طرف سے عقیقہ دے سکتا ہے یا بیوی خود بھی اپنے پیسے سے عقیقہ کرسکتی ہے یا اس کے والدین یا گھر والوں میں سے کوئی اس کی طرف سے عقیقہ دے سکتا ہے، گویا اس معاملہ میں وسعت ہے۔

سوال:مدرسہ میں باورچی خانے کے لیے استعمال کے سامان کی ضرورت ہے، کیا اس میں زکوۃ کا پیسہ لگا سکتے ہیں؟

جواب:مدارس میں عموما زیادہ تر غریب بچے ہوتے ہیں اور کچھ امیر بچے بھی ہوتے ہیں، اس وجہ سے مدارس میں مطلق طور پر زکوۃ صرف کرنے سے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے تاہم غریب بچوں سے متعلق ان کی فیس، غذا، کتابیں، دوا وغیرہ پر استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اختلاف اس میں ہے مشترکہ طور پر جو چیز استعمال ہو جیسے کچن کے سامان امیر وغریب سب بچوں کے لئے استعمال ہوں گے۔ اکثریت کا اعتبار کرکے زکوۃ دی جاسکتی ہے تاہم اس میں زکوۃ نہ دے کر صدقہ کی رقم لگاتے ہیں تو زیادہ بہتر ہے۔

سوال: پیشاب ایک دفعہ نہ آئے بلکہ بار بار آئے۔ جب تک مثانہ خالی نہ ہو، سکون نہیں آتا، اس میں کافی دیر لگ جاتی ہے، بسا اوقات ایک گھنٹہ بھی۔ بچے چھوٹے ہیں، کیا میں دو نمازیں اکھٹی پڑھ سکتی ہوں؟

جواب:جس کو پیشاب کا مرض(سلسل بول) ہو اس کے لئے دین میں سہولت ہے، وہ ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے اور وضو کے بعد اگر قطرہ آئے تو اس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک وضو سے ایک وقت کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔

اگر قطرہ آنے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پیشاب کے وقت ہی پیشاب کرنے میں تاخیر ہوتی ہے اور کچھ بچوں کا مسئلہ ہے تو جمع صوری کرکے نماز پڑھ لیں یعنی ایک نماز کو آخری وقت پر اور دوسری نماز کو اول وقت پر جیسے ظہر کو آخری وقت پر اور عصر کو پہلے وقت پر ادا کرلیں۔ اس طرح قریب قریب دو نمازیں پڑھ سکیں گے۔

سوال: کیا خواتین ناک میں چھوٹی سی گول نتھلی یا نوز پن پہن سکتی ہیں؟

جواب:ناک میں گول نتھنی یا نوز پن لگانے میں عورت کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عورت اپنے پورے جسم پر کہیں بھی زینت کی کوئی بھی حلال چیز استعمال کر سکتی ہے۔

اس سلسلے میں جو اصل سوال پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا عورت زینت کی چیز پہننے کے لئے اپنی ناک میں سوراخ کروا سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں عورت اپنی ناک میں سوراخ کروا سکتی اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس سلسلے میں، میں نے قدرے اختصار سے مضمون بھی لکھا ہے اس کا مطالعہ مفید ہوگا، اسے میرے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔

سوال: قبرستان کے احاطے میں گھر بنے ہوتے ہیں، عموما یہ گھر داہنے ہاتھ پر ہوتے ہیں اور قبرستان بائیں ہاتھ پر۔ اور وہاں لوگ اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہتے ہیں۔ کیا اس طرح لوگوں کا قبرستان کے اندر رہنا درست ہے؟

جواب: بنیادی بات یہ ہے کہ قبرستان کے احاطہ میں گھر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے باہر ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے احاطے سے قریب ہو یا اس سے گھر سٹا ہوا ہو مگر باؤنڈری کے اندر کسی کا گھر عموماً نہیں ہوتا ہے۔

اس میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ قبرستان کے احاطہ اور اس کی باؤنڈری میں مسجد یا گھر بنانا جائز نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کو قبرستان بنانے سے منع کیا ہے یعنی قبرستان وہ جگہ ہے جس میں گھر نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے اگر کسی کا گھر قبرستان کی باؤنڈری کے اندر ہے تو اس کو اپنا گھر توڑ کر باؤنڈری سے باہر بنانا ہے لیکن اگر گھر قبرستان سے قریب ہو یا اس سے سٹا ہوا ہو لیکن باؤنڈری سے باہر ہو تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ دائیں کا اور نہ بائیں کا۔

سوال: جب ہم سفر کے دوران قصر نماز پڑھتے ہیں تو کیا ظہر اور عصر ۔ اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھیں گے یا پھر ہر نماز کو اس کے وقت میں پڑھنا ہے۔ اور اگر کسی کے گھر پر رکے ہیں ایک دو دن کے لیے تو قصر کی حالت میں ظہر وعصر ملا کر پڑھنا ہے یا ہر نماز کو اس کے وقت میں پڑھنا ہے؟

جواب:اسی کلو میٹر یا اس سے زیادہ کی مسافت طے کرنے پر آدمی مسافر کہلاتا ہے۔ ایسے آدمی کے لئے سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے یعنی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھ سکتا ہے۔

کسی کے گھر پر ایک دو دن کے لئے رکتے ہیں اور یہ گھر اسی کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی دوری پر ہو تو گھر پر رکتے ہوئے افضل ہے کہ ہر نماز اپنے وقت پر قصر سے پڑھے لیکن دو نمازوں کو جمع کرنا بھی جائز ہے۔

سوال: میری ماہواری کا عام معمول ختم ہونے کے بعد ماہواری کے آٹھویں دن میرا ایک چھوٹا سا آپریشن ہوا ہے۔ اس آپریشن کے بعد مجھے دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا ہے۔ کیا یہ خون ماہواری کا شمار ہوگا یا آپریشن کی وجہ سے آنے والا خون استحاضہ مانا جائے گا، اس حالت میں مجھے نمازیں ادا کرنی چاہئے یا نمازوں سے رک جانا چاہیے؟

جواب:ماہواری والی جو عام عادت تھی اس کے ختم ہونے کے بعد جو آپریشن ہوا اور اس کے بعد جو دوبارہ خون آنا شروع ہوا ہے، اس کو حیض شمار نہیں کیا جائے گا۔

یہ خون فاسد ہے، مستحاضہ کی طرح ہر نماز کے وقت وضو کرکے اس میں نماز کی پابندی کرنی ہے اور روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔

سوال:اگر ہم نیند کی وجہ سے، بھول جانے کی بنا پر، یا لاعلمی میں نماز وقت پر ادا نہ کر سکیں اور نماز قضا ہو جائے، تو کیا اس پر گناہ ہوگا؟ خصوصاً فجر کی نماز میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گہری نیند کی وجہ سے وقت کا احساس نہیں رہتا اور نماز رہ جاتی ہے۔ اگر جان بوجھ کر نماز ترک نہ کی ہو تو کیا پھر بھی گناہ ہوگا؟

جواب:اگر کبھی کوئی سویا رہ جائے، نماز کے لئے آنکھ نہ کھل سکے تو جیسے بیدار ہو فورا چھوٹی ہوئی نماز ادا کرلے۔ اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔

اگر اکثر و بیشتر آدمی فجر کی نماز سے سویا رہ جائے اور آنکھ نہ کھلے تو یہ انسان کی غفلت و غلطی ہے، اس پر بلاشبہ گناہ ملے گا۔ ایک مومن کو ہرحال میں فجر کے وقت اٹھنا ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا ہے۔

آج زمانہ کافی ترقی کرگیا ہے، ایک گھر میں دسیوں موبائل ہوتے ہیں، الارم کی سہولت ہے۔ آج تو کسی بھی وقت جاگنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

بہرکیف! کبھی کبھار ایسا ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہمیشہ یا اکثر فجر کے لئے نہ اٹھنا گناہ کا باعث ہے۔

سوال: قربانی کا جانور خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے صرف حصہ کے پیسے دینے کی طاقت رکھتے ہیں تو کیا کریں۔ یہاں بھینس کے علاوہ کسی اور بڑے جانور میں قربانی نہیں کی جاتی؟

جواب:اللہ تعالی نے قربانی اس کے لئے رکھا ہے جو قربانی کی استطاعت رکھتا ہو۔ جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا اس کے لئے قربانی نہیں ہے اس لئے اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

بھینس کی قربانی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ اللہ نے آٹھ قسم کے جانور کی قربانی کی اجازت دی ہے اور ان آٹھ قسم کے جانور میں سے کئی قسم کے جانور دنیا کے کونے کونے میں پائے جاتے ہیں۔ ان جانوروں میں سے کسی کی قربانی کی استطاعت ہوجائے تو آدمی قربانی کرے، ورنہ قربانی نہ کرے۔

کسی کا دل بھینس کی قربانی پر مطمئن ہے تو وہ قربانی کرلے مگر اس کی قربانی میں احتیاط کرنا بہتر ہے۔

سوال: میرا ایک کرنٹ اکاؤنٹ ہے جو صرف اور صرف فلاحی کاموں کے لئے ہے۔ اس میں لوگ اپنے عطیات، خیرات اور زکوٰۃ کی رقم بھیجتے ہیں جو آگے ضرورتمند لوگوں کو پہنچائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میرا اس اکاؤنٹ سے کوئی ذاتی کام یا فائدہ نہیں ہے۔ اس اکاؤنٹ کا ایک ATM کارڈ بنا ہوا ہے جس کی سالانہ فیس دینی ہے۔ کیا یہ فیس مجھے اپنی جیب سے ادا کرنی چاہئے یا جو عطیات کی رقوم آتی ہیں اس میں سے ادا ہونی چاہئے؟

جواب:اس میں ایک اہم مسئلہ یہ جان لیں کہ ایک ہی اکاؤنٹ میں صدقات اور زکوۃ کو جمع کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس سے زکوۃ اور صدقات خلط ملط ہو جائیں گے۔ صدقات کو کہیں بھی خرچ کر سکتے ہیں جبکہ زکوۃ متعین مصارف میں ہی خرچ کرنا ضروری ہے اس لیے زکوۃ کی رقم الگ اکاؤنٹ میں ہونی چاہیے۔ ہاں اگر زکوۃ کی رقم کو یقینی طور پر معلوم کرکے اس کا حساب الگ سے لکھیں اور اس کو اس کے مصارف میں خرچ کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ آپ کا ذاتی اکاؤنٹ ہے اس لیے اے ٹی ایم کارڈ کی فیس اپنی جانب سے ادا کریں، بھلے آپ اس اے ٹی ایم کا استعمال اپنے لیے نہ کرتے ہوں۔

اس معاملے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ سماجی کام کرنے کے لیے رجسٹرڈ ادارہ ہو اور اس ادارے کے نام سے اکاؤنٹ ہو اور سماجی کام اس ادارہ کے سایہ تلے، اور اس ادارے کے اکاؤنٹ سے کام کیا جائے۔ پھر اس اکاؤنٹ کے اے ٹی ایم پر جو صرفہ آئے گا، وہ لوگوں کے عطیات سے استعمال کرسکتے ہیں۔

سوال: اگر فیملی میں کوئی قادیانی ہو تو کیا اس سے میل جول رکھنا چاہیے یا کوئی وفات پا جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جا سکتے ہیں رہنمائی فرمائیں؟

جواب:قادیانی مسلمان نہیں ہے، یہ کافر ہے اور اس کے کفر پر تمام امت کا اجماع ہے۔

کافروں کے ساتھ معاملات کی حد تک جس طرح تعلق رکھنے کا حکم ہے اسی طرح قادیانی کے ساتھ بھی تعلق رکھ سکتے ہیں مگر دوستی نہیں۔اور جب کوئی قادیانی وفات پا جائے تو اس کے جنازے میں شرکت نہیں کرنی ہے کیونکہ اگر آپ اسے مسلمان سمجھتے ہیں اور اس میں شرکت کرتے ہیں تو پھر اس کو مسلمان سمجھنے والا کافر ہو جائے گا اور اگر کافر سمجھتے ہوئے کوئی شریک ہوگیا تب بھی یہ کفریہ عمل ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہندو کے جنازہ میں کوئی شرکت کرے۔

سوال:زکوۃ نہیں دی گئی تو قربانی کرسکتے ہیں؟

جواب:زکوۃ کا مسئلہ الگ ہے اور قربانی کا مسئلہ الگ ہے۔ جس کے اوپر زکوۃ فرض ہوتا ہے وہ اپنی زکوۃ ادا کرے گا اور جسے قربانی کی استطاعت ہے وہ قربانی کرے۔ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق یا ٹکراؤ نہیں ہے۔

آپ کے پاس زکوۃ والی کوئی چیز نہیں ہے تو آپ زکوۃ نہیں دیں گے لیکن اگر قربانی دینے کی استطاعت ہے تو آپ قربانی دیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

مکمل تحریر >>