Sunday, February 15, 2026

رمضان کا مقصداور اس کی تیاری

 رمضان کا مقصداور اس کی تیاری

مقبول احمد سلفی / جدہ دعوہ سنٹر(سعودی عرب)

تمام تعریفیں، بڑائیاں اور ہرقسم کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی پوری کائنات کا بادشاہ ہے، ہمارا نگہبان ہے، تمام مخلوقات کا پالنے والا ہے، ان کی ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ درود و سلام ہو اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کرام پر، خصوصاً حضرت محمد ﷺ پر۔

الحمدللہ! ہم لوگ ماہِ رمضان کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایک  بابرکت مہینہ آنے والا ہے، جو عنقریب ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ وہ مہینہ جس میں اللہ ربّ العزت نے ہر قسم کی بھلائی، خیر و برکت رکھی ہے۔ ہمیں اس مہینے کو پانا ہے، اور جب پائیں تو اس میں بھرپور محنت کرنی ہے، کوشش و جدوجہد کرنی ہے، تاکہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کر سکیں۔ہمیں اس کا اچھے ڈھنگ سے استقبال کرنا ہے۔ سب کے ذہن میں ایک سوال ہوتا ہے کہ رمضان کی تیاری کیسے کرنی ہے اور اس  کا استقبال کس انداز میں کرنا ہےیعنی  رمضان  کی آمدسے پہلے اپنے آپ کو کس طرح تیار کرنا ہے؟سب سے پہلے سمجھ لیجیے کہ اللہ ربّ العالَمین نے اس مبارک مہینے کو ہمیں کیوں عطا فرمایا ہے؟ اس کی حکمت اور مصلحت کیا ہے؟قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرہ: 183)

ترجمہ:اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

یہ روزہ کوئی نفل عبادت نہیں بلکہ ایک فریضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امتِ محمدیہ پر فرض کیا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس فریضے کی حکمت بیان فرمائی — "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" — تاکہ تم متقی بنو۔یعنی رمضان کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ جب تک انسان کے اندر تقویٰ نہیں ہوگا، وہ دین پر پختگی سے عمل نہیں کر سکتا، نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے، نہ رب سے صحیح معنوں میں ڈر سکتا ہے۔مسجد کی طرف جانے میں، عبادت کی انجام دہی میں، غفلت  اور منکرات سے بچنے میں — یہی تقویٰ کام آتا ہے۔نماز کے وقت، جب آپ  نماز کے لیے جائیں گے اور اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑے ہوگے، تو یہی تقویٰ ہمارا ساتھ دے گااور ہماری مددگار بنے گا۔ اگر تقویٰ نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے—انسان اندر سے کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ ہمارے اندر تقویٰ پیدا کرنا چاہتا ہے۔تقویٰ کیا ہے؟

لفظی اعتبار سے تقویٰ کا مطلب ہے ڈرنا اور شرعی اعتبار سے اللہ سے خوف رکھتے ہوئے اس کے احکام پر عمل کرنا اور منہیات سے بچتے رہنا۔ تقویٰ یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ یہ سمجھے کہ ایک ہستی ہے جو اسے دیکھ رہی ہے، جو اس کے ہر عمل سے باخبر ہے۔ جب یہ احساس دل میں آ جائے کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، تو انسان ہمیشہ اللہ سے جُڑا رہتا ہے، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور جس چیز سے اللہ نے روکا ہے، اُس سے بچتا ہے۔علماء نے تقویٰ کی بہت سی تعریفیں بیان کی ہیں، لیکن  اس کی جامع تعریف یہی  ہے:"اللہ نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے اُن پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے روکا ہے اُن سے رک جانا—یہی تقویٰ ہے۔"دوسرے لفظوں میں، مأمورات پر عمل کرنا (یعنی اللہ کے احکام کو بجا لانا) اور منہیات سے رک جانا (یعنی جن چیزوں سے روکا گیا ہے اُن سے پرہیز کرنا)—یہی تقویٰ ہے۔یہ وہ چیز ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، سوائے اللہ کے۔ یہ کسی ظاہری چیز کا نام نہیں—یہ ایک چھپی ہوئی کیفیت ہے۔ انسان کتنا متقی اور پرہیزگار ہے، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔تقویٰ کا تعلق چہرے کے نشانات سے نہیں، نہ کپڑے کی لمبائی یا داڑھی کی طوالت سے۔ بہت سے لوگ ظاہری لحاظ سے پارسا نظر آتے ہیں مگر تقویٰ دل میں ہوتا ہے، جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اَلتَّقْوٰی ھَاھُنَا" —تقویٰ یہاں ہے — اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ  اشارہ فرمایا۔(صحیح مسلم:2564)

اس بارے میں صحیح بخاری کی حدیث بھی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ألَا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً: إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألَا وهي القَلْبُ(صحيح البخاري:52)

ترجمہ: سن لو جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا جسم درست ہوگا اور جہاں بگڑا سارا جسم بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔

یہ جو دل ہے، یہی وہ مرکز ہے جہاں تقویٰ کی اصل جگہ ہے۔ پورے جسم کی درستگی، انسان کے اعمال کی صحت حتیٰ کہ روح کی سلامتی کے لیے اس مقام کا درست ہونا، یعنی دل کا درست ہونا، بہت ضروری ہے۔ اسی لیے میں نے بتایا کہ کس آدمی کے اندر تقوی ہے اور کون کتنا متقی ہے،  صرف اللہ ربّ العالمین ہی جانتا ہے۔انسان اللہ سے کتنا ڈرتا ہے، اپنی عبادتوں میں کتنا خلوص رکھتا ہے، اپنے اعمال میں کتنا تقویٰ اختیار کرتا ہے — یہ سب اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو اپنی نظر میں فضیلت اور برتری کا معیار بنایا ہے۔

اللہ کے نزدیک وہی برتر اور عالی مقام انسان ہے جس کے دل میں زیادہ تقویٰ ہے، زیادہ پرہیزگاری ہے، اور زیادہ اخلاص ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَباكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، إِلَّا بالتَّقْوَى(مسند احمد:23489وصححه ألباني)

ترجمہ: لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی قدر و منزلت کا پیمانہ تقویٰ کو بنایا ہے۔ جس کے دل میں تقویٰ ہے، وہ اللہ کے نزدیک بڑا انسان ہے۔ اور جس کے اندر تقویٰ نہیں، اس کی کوئی حقیقی برتری نہیں، چاہے دنیاوی حیثیت کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو۔لہٰذا کسی انسان کو اس کے قد، حسن، یا ظاہری عبادت سے نہ پرکھو۔ انسان کا مقام اس کے دل کے خلوص اور اس کے تقویٰ سے متعین ہوتا ہے، اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(الحجرات:13)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔

رمضان اسی لیے آیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں تقویٰ پیوست کر دے۔ ہمیں اس تقویٰ کو سمجھنا ہےاور اس کو اپنانا ہے ۔جو بھی عمل ہم اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انجام دیتے ہیں — وہ سب اعمالِ تقویٰ ہیں۔ یعنی ہر وہ نیکی، ہر وہ عبادت جس کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا ہے، وہ تقویٰ ہے۔ یہاں ایک اور بات سمجھنا ضروری ہے کہ دین میں غلو (حد سے بڑھ جانا) تقویٰ نہیں۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنے جسم کو اذیت دے کر، سخت مجاہدہ  کر کے یا خود کو مشقتوں میں ڈال کر تقویٰ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ عقیدہ اسلام کا نہیں ہے، بلکہ یہ دوسرے مذاہب مثلاً ہندوؤں کی رہبانیت جیسا ہے۔وہ لوگ اپنے جسم کو تکلیف دیتے ہیں — کوئی آدمی کانٹوں پر لیٹتا ہے، کوئی دھوپ میں کھڑا رہتا ہے، کوئی کھانے یا گوشت سے پرہیز کرتا ہے، کوئی پانی میں رہتا ہے — کہ شاید اس طرح وہ روحانی بلندی حاصل کر لے۔اسی طرح صوفیاء بھی یہ سمجھتے ہیں کہ خود کو مشقت میں ڈالنا، مثلاً الٹا لٹک کر ذکر کرنا یا دنیا چھوڑ کر جنگلوں میں رہنا، تقویٰ کی علامت ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ دین میں اس طرح کا غلو یا خود کو اذیت دینا تقویٰ نہیں ہے۔تقویٰ صرف اور صرف سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے سے حاصل ہوتا ہے۔جو انسان پوری دیانت اور اخلاص سے سنت پر عمل کرتا ہے، وہی متقی ہے۔اس کی دلیل وہ واقعہ ہے جب تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺ کے گھر آئے تاکہ وہ آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں جان سکیں  کہ آپ ﷺ کس طرح اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین حضرات (علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ (صحیح البخاری:5063)

اب یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ  جو شخص سنت کو ترک کرے، وہ متقی نہیں ہو سکتا۔تقویٰ صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے دین پر، اپنی عبادتوں میں، اپنے روزے، نماز، نکاح، اور تمام اعمال میں سنت کے مطابق عمل کرتا ہے۔انسان ولی (اللہ کا دوست) اسی وقت بنتا ہے جب وہ اللہ سے ڈرتا ہے اور ایمان پر قائم رہتا ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، وہی درحقیقت ولی ہے۔پس، رمضان اسی لیے آ رہا ہے — تاکہ انسان کو متقی اور ولی بنایا جائے۔رمضان ایک ایسا روحانی کورس ہے جس میں بندہ بھوک، پیاس، اور خواہشات پر قابو پا کر تقویٰ سیکھتا ہے۔یہ کورس صرف ایک مہینے کا ہے، مگر اس کا انعام بہت بڑا ہے یعنی  اللہ کی قربت اور ولایت۔رمضان کا مقصد یہ نہیں کہ دین و عبادت میں غلو کیا جائے۔نبی کریم ﷺ نے دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا۔اصل عبادت وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو۔

جو شخص سنت کے مطابق عبادت کرتا ہے، وہ بظاہر سیدھا سادہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں وہی متقی اور اللہ کے نزدیک محبوب ہوتا ہے۔جبکہ جو دکھاوے کے لیے عبادتیں کرتا ہے، تام جھام دکھاتا ہے، یا غیر سنتی طریقے اختیار کرتا ہے — وہ لوگوں کو زاہد و عابد نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ دین میں غلو کر رہا ہوتا ہے۔پس جو شخص سنت کے مطابق عبادت کرے گا، وہی اہلِ تقویٰ ہے۔رمضان اسی لیے آتا ہے — تاکہ لوگوں  کو متقی بنایا جائے، ولی اللہ بنایا جائے۔اگر کوئی شخص سنت کی روشنی میں, اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ روزہ رکھ لے, تو یہ اس کے لیے ولایت حاصل کرنے کا بہترین نظام ہے۔یہ ایک ایسا کورس ہے جو نہ مہنگا ہے، نہ مشکل — بس ضرورت ہے کہ انسان سچے دل سے رمضان کا استقبال کرے اور اخلاص وللہیت کے ساتھ اس ماہ میں اجتہاد کرے ۔ ہمارے سامنے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا عملی نمونہ موجود ہے۔

رمضان کا  ایک مقصد تو واضح کردیا ، رمضان کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو معاف کرنا چاہتا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ بندے اس مہینے میں عبادت کریں تاکہ وہ ان کی مغفرت فرمائے۔اور انسان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے۔جس طرح ہم دنیا میں ایک مہینہ محنت کرتے ہیں اور آخر میں ہمیں تنخواہ ملتی ہے، اسی طرح رمضان میں بھی بندہ عبادت کا کام کرتا ہے — اور اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں مغفرت عطا فرماتا ہے۔اس بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الأدب المفرد میں ایک حدیث بیان  کی ہے،نبی ﷺ کا فرمان ہے :شقِيَ عبدٌ أدركَ رمضانَ فانسلخَ منهُ ولَم يُغْفَرْ لهُ(صحيح الأدب المفرد:500)

ترجمہ: بدبخت ہے وہ جس نے رمضان پایا اوریہ مہینہ اس سے نکل گیا اور وہ اس میں( نیک اعمال کرکے) اپنی بخشش نہ کرواسکا۔

رمضان آتا ہے تاکہ بندہ مغفرت کے دروازے کھٹکھٹائے — نماز، روزہ، ذکر، صدقہ، اور توبہ کے ذریعہ۔اللہ تعالیٰ تو رمضان اپنے بندوں کو بخشنے کے لیے بھیجتا ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس مہینے کو ضائع نہ کریں بلکہ اسے اللہ کی مغفرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں۔رمضان کا مقصد یہ ہے کہ بندوں میں  تقویٰ پیدا ہو، اور بندے ، اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت حاصل کرے۔

رمضان حقیقت  میں بخشش کا مہینہ ہے  لہٰذا اس مہینے کو پا کر ایسے اعمال انجام دینا چاہئے جن سے اللہ اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ(آل عمران:133)

ترجمہ:اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

 "سَارِعُوا" یعنی جلدی کرو، دوڑو، سستی نہ کرو۔جیسے ایک انسان راستے میں جا رہا ہو اور اچانک اسے زمین پر دس ہزار ریال کی گَڈی نظرآ جائے — اگرچہ وہ لنگڑا ہو، بیمار ہو، اس میں اچانک نئی تیزی آجائے گی۔کیوں؟ کیونکہ اس کے  سامنے ایک قیمتی چیز نظر آ رہی ہے جو اس کے جوش و ولولے کو بڑھا رہی ہے۔بالکل اسی طرح، رمضان بھی ہمیں روحانی جوش دینے کے لیے آ رہا ہے — یہ مغفرت کا مہینہ ہے، جنت پانے کا مہینہ ہے۔اگر کوئی اس مہینے کو سستی اور غفلت کے ساتھ گزارے، تو سمجھ لو اس کا ایمان کمزور ہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان پایا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی، اور اللہ نے کہادوڑو مغفرت کی طرف، اور جنت کی طرف یعنی وہ اعمال کرو جن سے اللہ معاف فرما دیتا ہے، اور وہ اعمال کرو جن کے نتیجے میں وہ جنت عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ جنت کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے — تو سوچو اس کی لمبائی کتنی ہوگی؟یعنی یہ بہت وسیع، بے حد و حساب جنت  کشادہ ہے جس کے حصول کے لیے اللہ ہمیں دوڑنے کا حکم دے رہا ہے۔

رمضان ہمیں جگانے کے لیے آ رہا ہےہماری روح کو بیدار کرنے کے لیے،ہمارے ایمان کو تازگی دینے کے لیے،ہماری غفلت زدہ ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے،اور ہمارے اندر دینی جذبہ اور ایمانی حرارت پیدا کرنے کے لیے۔اگر ہم رمضان کو پا کر بھی ویسے ہی رہ گئے جیسے رجب یا شعبان  اور دیگرماہ میں تھےایمان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، تقویٰ میں کوئی ترقی نہیں آئی،اعمال میں کوئی بہتری نہیں آئیتو پھر حقیقت میں رمضان پانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔پس رمضان کا مقصد ہے:دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا۔گناہوں کی مغفرت حاصل کرنا۔اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے رمضان فرض کیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ رمضان کی تیاری کیسے کی جائے؟

اس کے لیے پانچ بنیادی نکات سامنے رکھیں۔اگر ہم ان پانچ باتوں پر عمل کریں، تو ان شاء اللہ رمضان کا استقبال بہترین انداز میں کر سکیں گے،اس سے تقوی بھی حاصل ہوگا اور اس کے ذریعہ اللہ کی مغفرت بھی پائیں گے۔

پہلا نکتہ:اللہ ربّ العالَمین سے دعا اور توفیق طلب کریں۔دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس مبارک مہینے تک صحیح سلامت پہنچا دے۔ ہماری زندگی اور عمر میں برکت دے اور رمضان تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائےتاکہ ہم اس خیر و برکت والے مہینے سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ہمیں صرف یہ دعا نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ ہمیں رمضان تک پہنچا دے، بلکہ یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ ہم رمضان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔رمضان تو بہت لوگ پاتے ہیں، لیکن اس سے حقیقی فائدہ بہت کم لوگ اٹھاتے ہیں۔لہٰذا ہمیں اللہ سے یہ دعا کرنی ہے:یا اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچنے کی توفیق دے۔ہمیں رمضان میں نیک اعمال کی توفیق عطا فرما۔ہمیں صحت اور تندرستی نصیب فرما تاکہ ہم عبادت کر سکیں، اور کثرت سے نیک کام انجام دے سکیں۔یہ تمام کام — روزہ رکھنا، عبادت کرنا، قرآن پڑھنا، شب بیداری کرنا — سب اللہ کی توفیق سے ممکن ہیں۔اگر اللہ نہ چاہے تو ہم رمضان میں داخل ہی نہیں ہو سکتے،اگر اللہ نہ چاہے تو ہم عبادت کی توفیق نہیں حاصل کر سکتے،اگر اللہ نہ چاہے تو صحت نہیں رہے گی، یا سستی اور غفلت ہمیں گھیر لے گی،اور پھر ہم رمضان سے فائدہ نہ اٹھا پائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ توفیق ایک عظیم نعمت ہے۔نہ جنت صرف اعمال سے ملے گی، نہ ہدایت صرف کوشش سے حاصل ہوگیبلکہ ہر نیکی کی بنیاد اللہ کی توفیق پرمنحصر ہے۔توفیق انہی کو ملتی ہے جن کے دل میں نیک نیتی ہوتی ہے اور جو اللہ سے خیر چاہتے ہیں۔بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس میں خامیاں تلاش کرتے ہیں، یہ لوگ "اسلامو فوبیا" پھیلاتے ہیں، اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔قرآن ان کے ہاتھ میں ہے، مگر ہدایت ان کے دل میں نہیں،کیونکہ ہدایت توفیق اللہ کی طرف سے نصیب ہوتی  ہے۔اس لیے ہمیں مسلسل دعا کرنی چاہیے:اے اللہ! جب میں قرآن پڑھوں تو میری سمجھ میں آ جائے،اے اللہ! میں تیرے دین پر تیری ہدایت کے مطابق عمل کر سکوں،اے اللہ! مجھے رمضان میں عبادت کی، روزہ رکھنے کی، اور سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما،جیسا تو چاہتا ہے اور جیسا تیرے نبی ﷺ نے عمل  کیا ہے۔

دوسرا نکتہ: رمضان کی تیاری کے لیے دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم اللہ ربّ العالمین کے حقوق کے معاملات کو صاف (تصفیہ) کریں،اپنی پچھلی زندگی میں جو کوتاہیاں ہوئیں، انہیں درست کریں، ان کی تلافی کریں۔اللہ کے حقوق میں دو طرح کے معاملات ہیں:

وہ حقوق جو صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے،بلکہ اُن کے ساتھ حق ادا کرنا بھی لازم ہوتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر آپ نے کئی سالوں کی زکات ادا نہیں کی،تو صرف توبہ کافی نہیں۔آپ کو وہ زکات ادا کرنی ہی ہوگی،کیونکہ یہ دراصل بندوں کے حق سے بھی جڑی ہوئی چیز ہے یعنی مال غریبوں کا حق ہے۔اس لیے بغیر ادائیگی کے معافی نہیں۔اسی طرح اگر آپ کے ذمہ رمضان کے روزے باقی ہیں جو بیماری، سفر یا کسی عذر کی وجہ سے رہ گئے،یا عورتوں کے یہاں حیض، نفاس، حمل، یا رضاعت کی وجہ سے چھوٹے،تو صرف توبہ کافی نہیں، بلکہ قضا روزے رکھنا لازم ہے۔ بالخصوص عورتیں بلوغت سے لے کر چالیس پچاس سال (انقطاع حیض)تک ہر سال رمضان کے  کچھ روزے چھوڑتی ہیں مثلا حیض ، یا نفاس یا حمل ورضاعت کے سبب۔اگر کسی خاتون  کے ذمہ ایسے روزے باقی ہوں،تو وہ اب رمضان سے پہلے جتنے ہو سکے قضا کرے اور جوباقی رہ جائے رمضان کے بعد قضا کرےلیکن پکا ارادہ کرے کہ یہ چھوٹے روزے پورے کرنے ہیں۔بعض علماء کہتے ہیں کہ  حمل و رضاعت کے سبب چھوٹے روزوں کا فدیہ کافی ہے،لیکن راجح بات یہی ہے کہ قضا لازم ہے، فدیہ نہیں دینا ہےکیونکہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت بیمار کے حکم میں ہےاور بیمار جب صحت یاب ہو جاتا ہے تو اس پر چھوٹے ہوئے روزے رکھنا واجب ہوتا ہے،لہٰذا یہاں بھی قضا کرنی ہوگی۔اسی طرح  اگر کسی شخص پر حج فرض ہوچکا ہے مگر وہ سال در سال سے ٹالتا رہا تو توبہ کافی نہیں، اسے لازماً حج ادا کرنا ہوگا۔ وہ شخص فوراً نیت کرے اور موقع ملتے ہی فریضہ حج  ادا کرے۔لہٰذاجن  بھائیوں کے ذمہ روزے باقی ہیں، وہ انہیں پورا کریں، قضا کرنے میں غفلت ہوئی ہو تو اس کے لئے اللہ سے توبہ بھی کریں نیزجن بہنوں کے ذمہ روزے باقی ہیں (حیض، نفاس، حمل، رضاعت وغیرہ سے)، وہ بھی قضا کریں۔قضا روزے پندرہ  شعبان کے بعد بھی رکھے جا سکتے ہیں ۔یہ سب کچھ اسی لیے ہے کہ رمضان میں جب ہم نئے سرے سے تقویٰ اور مغفرت کی طرف قدم بڑھائیں تو اس سے پہلے پہلے حقوق اللہ کا معاملہ ختم ہوگیا ہو۔

اللہ کے حقوق کی ایک دوسری قسم وہ ہے جو توبہ کے ذریعہ معاف ہو سکتی ہے جس کا تعلق گناہ کبیرہ سے ہے جیسے نماز، کفر، شرک اور بدعت وغیرہ۔اگر کسی نے اپنی زندگی کے کئی سال نماز نہیں پڑھی، اب وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے گناہ — یعنی کبیرہ گناہوں کے علاوہ — وہ تو نیک اعمال سے ہی مٹ جاتے ہیں:وضو، تلاوت، ذکر، نماز، دعا، صدقہ — ان سب سے اللہ ربّ العالَمین بندوں کے چھوٹے گناہ مٹا دیتا ہے۔لہٰذا، رمضان کے استقبال سے پہلے حقوقُ اللہ کے معاملات درست کریں،تاکہ دل پاک ہو، ضمیر ہلکا ہو، اور رمضان میں عبادت کا ذوق و شوق بڑھ جائے۔کیونکہ جب انسان اپنے پرانے گناہوں، قرضوں، اور واجبات کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے،تو نہ اس کے اندر سکون رہتا ہے نہ عبادت کی لذت۔اس لیے پہلے دل اور عمل کو پاک کریں،پھر رمضان کا خالص استقبال کریں۔

تیسرا نکتہ: اب تیسرا اہم مرحلہ ہے — بندوں کے حقوق ادا کرنا۔اللہ کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم بندوں کے حقوق صحیح طور پر ادا کریں۔حقوقُ العباد ان معاملات کو کہتے ہیں جو انسانوں کے درمیان ہوتے ہیں — خاص طور پر مالی معاملات۔اگر ہم نے کسی کی زمین، جائیداد، یا مال ناحق لے رکھا ہے، تو واپس کر دیں۔اگر ہم نے کسی سے قرض لیا اور واپس نہیں کیا، تو توبہ کافی نہیں، اسے ادا کرنا ہی ہوگا۔بہت سے لوگ قرض لے کر تاخیر کرتے ہیں، بہانے بناتے ہیں ۔یہ تاخیر دراصل خیانت اور ناشکری ہے۔قرض دینا احسان ہے، اور قرض واپس کرنا آپ کا فرض ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا مال دھوکے، فریب، چوری، یا تجارت میں بددیانتی سے لیا گیا ہو،تو فوراً توبہ کریں اور حقدار کو وہ مال واپس کریں۔یہی حقوق العباد کی صفائی ہے۔یاد رکھیں کہ بندوں کا حق ادا کیے بغیراس کا گناہ  اللہ معاف نہیں کرے گا۔

مالی حقوق میں تو حق واپس کرنا ہوتا ہے لیکن حقوق العباد مالی حق کے علاوہ زبانی اور جسمانی تکلیف سے ہو جیسے اگر ہم نے کسی کی غیبت کی ہے، کسی کے خلاف سازش کی ہو، یا کسی شخص کو بدنام کرنے کے لیے اس کی برائی کی ہو، کسی کی   چغلی کی  ہو اورلوگوں کے درمیان  فساد پھیلایا ہو، تو یہ  بھی بہت سنگین گناہ ہے ۔ان تمام صورتوں میں ظلم کرنے والاآدمی مظلوم سے جاکر اپنی غلطی کی دل سے معافی مانگے، نیز جہاں کہیں غیبت وچغلی کی اور بدنام کیا ہے وہاں اس کی براءت بیان کرے۔ جس پر ظلم کیا ہے، اگر وہ معاف کردیتا ہے تبھی اللہ کے یہاں ظالم کو معافی ملے گی ، ورنہ اللہ کے یہاں معافی نہیں ملے گی۔

چوتھا نکتہ: رمضان کی تیاری کا چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ ہم رمضان سے متعلق علم حاصل کریں۔جب ہم رمضان میں داخل ہونے جا رہے ہیں، تو پہلے یہ سیکھنا ضروری ہےکہ روزے کے آداب واحکام  کیا ہیں؟روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا طریقہ کیا ہے؟روزے کی فضیلتیں اور نواقض (توڑنے والی چیزیں) کیا ہیں؟روزہ کے مستحب  اعمال جیسے تراویح، دعا، اذکار، اور دیگر عبادات کا مسنون  طریقہ  اور احکام کیا ہے؟جس طرح حج یا عمرہ سے پہلے اس کے مناسک سیکھنا ضروری ہوتا ہے،اسی طرح رمضان سے پہلے روزہ  اور عبادت کے بنیادی مسائل سیکھنا لازمی ہے۔کیونکہ عمل سے پہلے علم کا ہونا ضروری ہے، تاکہ سنت کے مطابق عمل کیا جاسکے۔اگر ہم نماز پڑھنے والے ہیں، تو ہمیں نماز کا طریقہ اور اس کے اذکار سیکھنا چاہیے۔اگر ہم روزہ رکھتے ہیں، تو ہمیں روزہ  کے شرعی آداب واحکام  معلوم ہونا چاہیے۔عام لوگ تو عام لوگ ہیں ، افسوس کی بات یہ ہے کہ  بہت سے پڑھے لکھے لوگ (ڈاکٹر، انجینئر، افسر وغیرہ)دنیاوی علوم میں تو مہارت رکھتے ہیں، مگر ان کے پاس دین کی بنیادی معلومات نہیں ہوتی  جبکہ ہر مسلمان کے پاس اسلام کی بنیادی معلومات ہونی چاہئے۔ کلمہ ، نماز، روزہ ، زکوۃ اور حج کے ساتھ عقیدہ کی معرفت حاصل ہونی چاہئے۔ رمضان میں روزہ کے ساتھ عبادات پر زیادہ توجہ مرکوز رکھنی چاہئے  بلکہ نماز تو عمر بھر کا معاملہ ہے۔ اس نماز کو جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ دلائل کی روشنی میں جاننے کی ضرورت ہے تاکہ ہمہ وقت سنت کے مطابق عبادت کی جائے اور اسی طرح رمضان روزہ رکھنے کے لئے آیا، اس کے کیا آداب واحکام ہیں ، علماء کی طرف رجوع کرکے اس کا علم حاصل کرنا چاہئے۔ آج کا زمانہ کافی ترقی یافتہ ہے، گھر بیٹھے دین سیکھ سکتے ہیں اور علماء سے بآسانی رابطہ کرسکتے ہیں۔ رمضان سے قبل عموما  بہت ساری جگہوں پر یا آن لائن صورت میں رمضان کا کورس کرایا جاتا ہے، ایسے کورس میں شرکت کرکے علم حاصل کریں بلکہ آپ کے پاس  اس سے متعلق کتاب بھی ہونی چاہئے نیز بیانات سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ہمیں صرف روزہ کے مسائل ہی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روزہ کے ساتھ، نماز پڑھنے کا طریقہ، زکوۃ دینے کا طریقہ، ذکر وتلاوت  اور دعاکے آداب،اور کھانے پینے سے لے کر توحید وشرک ،  عقیدہ کی معلومات ، حلال وحرام کا علم  یعنی دین کی بنیادی معلوم حاصل کریں۔

جب آپ دین کا علم حاصل کرکے یقین کے ساتھ عمل کریں گے تو وہ عمل سنت کے مطابق  ہوگا، اس میں غلطی کرنے سے بچیں گے ، غلو اور سنت کی خلاف ورزی سے بچتے رہیں گے۔ سنت کے مطابق عمل کرنے کا نام ہی تقوی ہے جس کے لئے اللہ تعالی نے رمضان کا روزہ فرض کیا ہے۔

پانچواں نکتہ: رمضان کی تیاری کا پانچواں اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ توبہ کے بعد ہم پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔قرآن میں ارشاد ہے:"فَفِرُّوا إِلَى اللّٰهِ "اللہ کی طرف دوڑویعنی اپنا رخ دنیا سے ہٹا کر اللہ کی طرف کرو۔ہم اکثر دنیا کی طرف دوڑتے ہیں — رزق، شہرت، مال، عیش و آرام کے پیچھے۔لیکن اللہ ہمیں بلا رہا ہے کہ اپنی جان، وقت، اور دل کو میری طرف موڑو۔توبہ کرنے کے بعد صرف پچھتاوا کافی نہیں بلکہ رجوع الی اللہ ضروری ہےیعنی اللہ کی بندگی، ذکر، محبت، اور قرب کی طرف لوٹنا۔یہی رجوع انسان کے ایمان کو زندہ کرتا ہے،دل کے زنگ کو صاف کرتا ہے،اور بندے کو رمضان کے استقبال کے لائق بناتا ہے۔رمضان کی تیاری کے یہ پانچ نکات مکمل ہوئے:دعا اور توفیق طلب کرنا۔اللہ کے حقوق ادا کرنا۔بندوں کے حقوق ادا کرنا۔علمِ دین، خاص طور پر روزے اور نماز کے احکام سیکھنا۔توبہ کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرنا۔یعنی حقیقی رجوع الی اللہ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اللہ کی طرف کیسے آئیں؟

ایسا ظاہر ہو کہ بندہ واقعی رمضان کے استقبال کی تیاری کر رہا ہے۔جس طرح ہم بازار جانے سے پہلے مکمل تیاری کرتے ہیںکپڑے درست کرتے ہیں، جیب میں پیسے دیکھتے ہیں، بیگ لیتے ہیں،اہلِ خانہ سے مشورہ کرتے ہیں، سوچتے ہیں کہ کون سا سامان لینا ہےاسی طرح رمضان کی طرف بھی ہمیں سوچ سمجھ کر، منصوبے کے ساتھ بڑھنا چاہیے۔رمضان کی تیاری کا مطلب صرف نیت نہیں بلکہ عملی تیاری ہے۔ تیاری کیا ہے، اللہ سے توفیق مانگنا۔حقوقُ اللہ ادا کرنا۔حقوقُ العباد ادا کرنا۔رمضان کے احکام و مسائل سیکھنا، اوراب ان سب پر عمل کرنا شروع کر دینا۔یعنی ابھی سے اپنے اندر تبدیلی لانا۔اگر ہم نے واقعی رمضان پانے کا ارادہ کیا ہے،تو ابھی سے نماز کی طرف متوجہ ہوں،قرآن کی تلاوت میں دل لگائیں،دینی کتابوں کا مطالعہ شروع کریں،دینی اجتماعات میں شریک ہوں،قرآن اور حدیث و سیرت کی کتابیں پڑھیں،اور دینی ماحول سے جڑ جائیں۔ایسا محسوس ہو کہ انسان حقیقتاً اللہ کی طرف آ رہا ہے،اپنے دل، عمل، اور نیت کے ساتھ۔جب بندہ توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے،جیسا کہ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(التحریم:8)

ترجمہ:اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو، قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔ یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔

سچی توبہ (توبۃ النصوح) کی تین شرائط  ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر سچے دل سے شرمندہ ہو۔دل سے یہ احساس ہو کہ واقعی ہم نے غلطی کی ہے۔دوسری شرط یہ ہے کہ بندہ اس گناہ کو فوراً چھوڑ دے۔مثلاً جو پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا،اب توبہ کے بعد نماز کی پابندی کا آغاز کرے۔اور تیسری شرط یہ ہے کہ بندہ پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کرے گا۔یہ صرف زبانی وعدہ نہیں بلکہ دل کا مضبوط عزم ہونا چاہیے۔جب بندہ ان تین شرائط پر توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہ بخش دیتا ہےبلکہ اس کے گناہ نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔یہی وہ رجوع الی اللہ ہے جو رمضان سے پہلے مطلوب ہےوہ رجوع جو ایمان کو تازگی، دل کو نرمی، اور روح کو قربت الہی بخشتا ہے۔جب بندہ سچی توبہ کرتا ہے اور اس میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہیںندامت (پشیمانی)،ترکِ گناہ (گناہ چھوڑ دینا)،پختہ عزم (آئندہ نہ کرنے کا یقین)تو یہ توبہ توبۃ النصوح کہلاتی ہے۔اگر بندہ ان شرائط کے ساتھ اللہ ربّ العالَمین سے توبہ کرتا ہے،تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے سے بڑے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے،سوائے حقوقُ العباد کےکیونکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ بندوں کے ذریعہ ہی حل ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان کی تیاری کے پانچ نکات یہ ہوئے:اللہ سے دعا اور توفیق طلب کرنا۔یعنی رمضان تک پہنچنے اور اس میں عبادت کرنے کی استطاعت مانگنا۔حقوقُ اللہ کا معاملہ درست کرنا۔جیسے زکات، روزے، اور حج جیسی ذمہ داریاں ادا کرنا۔حقوقُ العباد کا معاملہ صاف کرنااور بندوں کا حق واپس دینایعنی قرض، امانت، دھوکے یا غیبت کا معاملہ درست کرنا۔رمضان کے احکام اور آداب سیکھنا۔روزے، نماز، تراویح، دعا، اور اذکار کے مسائل جاننا تاکہ سنت کے مطابق عمل ہو۔اللہ کی طرف رجوع اور زندگی میں تبدیلی لانا۔توبہ کے بعد عملی تبدیلی،تاکہ لوگوں کو دیکھ کر لگے کہ یہ شخص بدل گیا ہےجو بے نمازی تھا اب نمازی بن گیا،جو جھوٹ بولتا تھا اب سچ بولنے لگا،جو قرآن سے دور تھا اب قرآن پڑھنے لگا،جو دین سے غافل تھا اب علما ءکی مجلسوں سے جڑ گیا ہے۔یہی رمضان سے پہلے کی اصل روحانی تیاری ہے۔اگر ہم میں یہ تبدیلی نظر آنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ ہم رمضان کا خوش آمدید صحیح معنوں میں کر رہے ہیں۔

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ  ہماری زندگیوں میں برکت عطا فرمائے،ہمیں رمضان تک پہنچا دے، جب ہم رمضان پائیں تو ہمیں سنت کے مطابق عبادت کرنے کی توفیق دے۔اس بابرکت مہینے میں ہماری مغفرت فرمائے،ہماری مشکلات آسان فرمائے، ہماری دنیا اور آخرت کے معاملات درست فرمائے اور ہمیں جنت الفردوس میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین

مکمل تحریر >>

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (101)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (101)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ- سعودی عرب

 
سوال: میں نے سنا ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان تین بار یہ دعا(اللهم  إني أسالك العفو والعافية) پڑھنے سے چار انعامات ملتے ہیں۔ اللہ وہ بیماری نہیں دے گا جس میں موت آجائے، اللہ اسے تنہائی کے گناہ سے بچائے گا، دنیا کے ظالم لوگوں سے واسطہ نہیں پڑے گا۔اللہ کے بغیر محنت کے آسان روزی عطا کرے گا۔ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟

جواب: اذان اور اقامت کے درمیان دنیا اور آخرت میں عافیت کی دعا کرنے سے متعلق ترمذی میں ایک حدیث ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی یعنی قبول ہوجاتی ہے۔لوگوں نے پوچھا اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) دنیا اور آخرت دونوں میں عافیت مانگو۔(ترمذی:3594)

اس حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے یعنی اذان اور اقامت کے درمیان دعا قبول ہوتی ہےیعنی یہ بات صحیح ہے لیکن اس کے بعد والا جملہ(سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) ثابت نہیں ہے، محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے لہذا اذان اور اقامت کے درمیان مذکورہ دعا کرنا ثابت نہیں ہے۔
اذان اقامت کے درمیان عمومی دعا کرنے میں حرج نہیں ہےکیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ اذان واقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی حتی کہ بلا تخصیص مذکورہ دعا بھی کرسکتے ہیں مگر خاص کر کے اور خاص فضیلت کے لیے یہ دعا پڑھنا درست نہیں ہے۔

سوال: میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ایک گاؤں میں کام کرتی ہوں۔ یہاں پر غیرمسلم کی اکثریت ہے اور یہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی شراب نوشی کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور صحت کے دیگر مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ شراب پینے والوں کا علاج نہیں کرنا چاہیے اس سلسلے میں رہنمائی کریں؟

جواب: ایک ڈاکٹر بیمار کی بیماری کا علاج کر سکتا ہے خواہ وہ کیسی بھی بیماری کیوں نہ ہو۔ ڈاکٹر کا کام بیمار کا علاج کرنا ہے لہذا وہ شراب پینے والے کا بھی علاج کر سکتا ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر کو چاہیے کہ ایسے آدمیوں کو اس طور پر نصیحت بھی کرے کہ وہ شراب پینا چھوڑ دے۔ ڈاکٹر کی نصیحت مریض کو بہت کام آتی ہے۔

سوال: میں نے کسی کو قرض دیا تھا اور اب وہ واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے اور مجھے زکوۃ بھی دینی ہے مگر زکوۃ دینے کے لیے میرے پاس اضافی رقم نہیں ہے تو کیا اس قرض کو زکوۃ میں معاف کر سکتے ہیں؟

جواب: جو آدمی قرض واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے، اگر اس کا قرض معاف کر دیتے ہیں تو یہ اس آدمی کے ساتھ بہت بڑی بھلائی ہے، اس بھلائی کا اللہ کے یہاں بہترین صلہ ملے گا۔ جہاں تک زکوۃ کا مسئلہ ہے تو قرض میں دیا ہوا پیسہ زکوۃ نہیں مان سکتے یا اسے زکوۃ مان کر معاف نہیں کرسکتے ہیں۔ زکوۃ وہ چیز ہے جسے الگ سے زکوۃ کی حیثیت سے نکالنی ہوگی۔ اور اللہ نے اس چیز میں زکوۃ رکھا ہے جو انسان کی ملکیت میں ہو، زکوۃ دینے والی چیز ہو اور وہ نصاب تک پہنچی ہوئی ہو پھر اس پر ایک سال گزر جائے۔ اگر آپ کو مال میں سے زکوۃ دینی ہے تو گویا آپ کے پاس مال موجود ہے، اسی مال سے آپ کو زکوۃ دینا ہے۔آپ کے ذمہ اس چیز کی زکوۃ نہیں ہے جو آپ کی ملکیت میں نہیں ہے۔

سوال: ایک شخص نے دوسری شادی کی ہے، اس بیوی کے پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہیں، کیا وہ شخص اپنی زکوۃ ان بیٹیوں پر خرچ کرسکتا ہے؟

جواب : جب ایک شخص ایک شادی شدہ عورت سے شادی کرتا ہے اس حال میں کہ اس عورت کو پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہوں تو یہ بیٹیاں اس مرد کے حق میں ربیبہ کہلاتی ہیں۔ اس مرد پر اس ربیبہ کا نفقہ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی اپنی اولاد نہیں ہے لہذا وہ مرد اس ربیبہ کو زکوۃ دے سکتا ہے اگر وہ فقیر اور مسکین کے زمرے میں آتی ہو بطور خاص جب وہ ربیبہ اس مرد سے الگ اور دور رہتی ہو۔

سوال: میاں بیوی کے خاص تعلق کے بعد فوری غسل کرنا ضروری ہے یا طہارت حاصل کرنا کافی ہوگا۔ اگر بغیر طہارت حاصل کئے سو جائے اور فجر کے وقت غسل کرے تو گناہ ملے گا؟

جواب: ہمبستری کے بعد غسل کرنا چاہیے یا کم از کم وضو کرلینا چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔(صحیح البخاری:288)
اس لیے جماع کے بعد افضل یہ ہے کہ آدمی غسل کرے یا کم از کم وضو کر کے سونا مسنون ہے۔ بغیر وضو کے جنابت کی حالت میں سونے کو اہل علم نے مکروہ کہا ہے۔

مختصر یہ کہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کے جنابت کی حالت میں سوگیا اور فجر سے پہلے غسل کرکے وقت پر فجر کی نماز ادا کیا ،ایسا شخص گنہگار نہیں کہلائے گا۔

سوال: ایک عورت کے پاس نو(9) تولہ سونا ہے، وہ اس کی زکوۃ دینا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سونا کا ریٹ روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کیا ایک ہی دن کے ریٹ کے مطابق زکوۃ کا حساب کر کے مکمل اسی دن ادا کرنا ضروری ہے یا پھر اگر زکوۃ قسطوں میں ادا کی جائے تو ہر دن کے موجودہ ریٹ کے مطابق الگ الگ حساب کیا جائے گا؟

جواب: سونا کی زکوۃ سال مکمل ہونے پر دینا ہے اور جس دن سال مکمل ہو رہا ہو اس دن سونے کی جو قیمت ہو اس کا اعتبار کرکے اسی دن مکمل زکوۃ الگ کر دینا ہے اور اس زکوۃ کو بالفور اور بلاتاخیر تقسیم کرنا ہے یعنی زکوۃ کو رکھ کر قسطوں میں نہیں تقسیم کرنا ہے بلکہ زکوۃ نکال کر فوری طور پر اسے مستحق میں تقسیم کر دینا ہے۔زکوۃ کی تقسیم میں دو چند دن تاخیر ہوجائے اس میں حرج نہیں ہے لیکن زکوۃ نکال کر اسی دن الگ کرلینا ہے جس دن سال مکمل ہورہا ہے۔

سوال: کیا خواتین رمضان المبارک میں ہر جمعہ، مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں یا یہ عمل بدعت شمار ہوگا؟

جواب: خواتین کے اوپر پنج وقتہ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے اور اسی طرح خواتین پر جمعہ کی نماز بھی فرض نہیں ہے، وہ جمعہ کے بدلے اپنے گھر میں ظہر کی نماز ادا کریں گی تاہم اگر عورت، جمعہ کے دن مسجد میں حاضر ہوکر مردوں کے ساتھ جمعہ ادا کرتی ہے تو اس میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔ عام دنوں میں بھی عورت جمعہ کی نماز مسجد میں آکر پڑھ سکتی ہے اور رمضان میں بھی ہرجمعہ مسجد میں آکر نماز پڑھنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس عمل کو بدعت نہیں کہیں گے کیونکہ عہد رسول میں بھی خواتین مسجد میں پنج وقتہ نمازوں میں بھی حاضر ہوتی تھیں اور جمعہ کی نماز میں بھی حاضر ہوتی تھیں۔

سوال: دو یا تین سال کے رمضان کے قضا روزے میرے ذمہ ہیں۔ میرے ساتھ جسمانی تکلیف ہے، جب بھی روزہ رکھتی ہوں تو تکلیف بہت بڑھ جاتی ہے اور جلدی کم بھی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر کو دکھایا، سب نارمل ہے اور دوا کھانے تک افاقہ رہتا ہے مگر جیسے دوا چھوڑتی ہوں، فورا تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کروں تو کیا مجھے فدیہ بھی دینا پڑے گا اور فدیہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: سوال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنے کی استطاعت نہیں ہے تو ایسی صورت میں آپ کے اوپر اس وقت قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور ویسے بھی رمضان قریب ہے، آپ ابھی آنے والے رمضان کا روزہ رکھ لیں اور پھر رمضان کے بعد جب قضا کی استطاعت وسہولت  ہو جائے تو قضا روزہ بھی بلاتاخیر ادا کر لیں اور آپ کو صرف روزوں کی قضا کرنی ہے، الگ سے فدیہ نہیں دینا ہے۔

سوال: کیا بکرے اور گائے کی اوجھڑی کھا سکتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے مکروہ کہتے ہیں؟

جواب: حلال جانور کی اوجھڑی حلال ہے، آپ بلا شبہ اسے کھا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اوجھڑی کی حرمت پہ کوئی دلیل نہیں ہے۔

سوال: کیا عید کے دن نئے کپڑے پہننے سے متعلق کوئی صحیح حدیث وارد ہے؟

جواب: صحیح بخاری (948)  میں ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ" عمر رضی اللہ عنہ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو بازار میں بک رہا تھا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی پذیرائی کے لیے اسے پہن کر زینت فرمایا کیجیے"۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کے دن زینت اختیار کرنا اور عمدہ لباس لگانا مسلمانوں کی عادت تھی، اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ نے نیا لباس عید کی مناسبت سے خریدنے کے لیے کہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق بیہقی میں موجود ہے کہ وہ عیدین میں عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔

سوال: اگر عورت کے کپڑے یعنی شلوار میں میانی نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی ہے؟

جواب: عورت کی شلوار میں میانی نہ ہو تو اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلاشبہ اس میں پڑھی گئی نماز درست ہے۔ اور ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ بغیر میانی والے لباس میں نماز نہیں ہوتی بلکہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسول میں کتنی ساری خواتین کو صرف ایک ہی لباس ہوتا تھا اور اسی ایک لباس  میں وہ نماز پڑھ لیتی تھیں۔

سوال: اگر کوئی مرد یا عورت اکیلے رہتے ہوں اور کسی سے ملنا جلنا نہ ہو تو کیا اس پر شیطانی اثرات ہوجاتے ہیں؟

جواب: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اس جگہ رہنا چاہئے جہاں انسانوں کی بستی ہے، اکیلے میں نہیں رہنا چاہئے تاکہ وہ معاشرتی طور پر زندگی گزارے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بستی میں رہ کر بھی آدمی کو لوگوں سے مل کر رہنا چاہئے کیونکہ ایک کو دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح معاشرہ چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ آدمی کو اکیلے رات گزارنے سے منع کیا گیا ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَحْدَةِ أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ، أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ".(مسند احمد:5650)

ترجمہ:سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا رات گزارنے یا تنہا سفر کرنے سے منع کیا ہے۔

اکیلے رات گزارنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو سکھ دکھ میں دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے مل کر رہنا چاہئے۔

جو آدمی اپنے گھر میں اکیلے ہو، وہ اکیلے اپنے گھر میں سوسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اسے لوگوں سے مل جل کر رہنا چاہئے تاکہ جب اسے کسی کام میں دوسرے کی ضرورت پڑے اس سے مدد لے سکے۔

جہاں تک یہ مسئلہ ہے کہ اکیلے سونے سے شیطان کا اثر ہوجاتا ہے، یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس تعلق سے امام طبرانی نے ایک روایت ذکر ہے، اس طرح سے۔

يعتدى المرء عند أربعة خصال إذا نام وحده وإذا نام مستلقيا وإذا نام في ملحفة معصفرة وإذا اغتسل بفضاء من الأرض فمن استطاع أن لا يغتسل بفضاء من الأرض فإن كان لا بد فاعلا فليخطط خطا(المعجم الأوسط للطبرانی:1888)

ترجمہ:انسان پر چار حالتوں میں (شیطان کا) اثر ہوتا ہے:جب وہ اکیلا سوتا ہے،جب وہ چت لیٹ کر سوتا ہے،جب وہ زعفرانی (پیلا/رنگا ہوا) کپڑا اوڑھ کر سوتا ہے اور جب وہ کھلی زمین میں غسل کرتا ہے۔ پس جو شخص کھلی جگہ میں غسل نہ کرے تو بہتر ہے، اور اگر اسے کرنا ہی پڑے تو (اپنے گرد) ایک لکیر کھینچ لے۔

یہ روایت ضعیف ہے، امام طبرانی نے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے، علامہ ہیثمی نے بھی اسے نقل کرکے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اس لئے یہ روایت قابل حجت نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مجبوری میں اکیلے سونے میں حرج نہیں ہے اور اس میں شیطان کا اثر ہونے والی بات درست نہیں ہے۔ ہاں جب آدمی اللہ کے ذکر اور اس کی عبادت سے غافل ہو تو اس پر شیطان حاوی ہوسکتا ہے خواہ وہ اکیلے میں رہتا ہو یا لوگوں کے درمیان رہتا ہو۔ اس لئے انسان جہاں بھی رہے اللہ کی عبادت کرتا رہے اور اس کے ذکر میں لگارہے۔

سوال: دورہ قرآن کے ایام میں مسجد میں دینی کتابوں کا اسٹال لگانے اور کتابیں بیچنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: مسجد میں کوئی چیز بیچنا جائز نہیں ہے خواہ دینی کتاب ہی کیوں نہ ہو لہذا کسی آدمی کا مسجد میں بک اسٹال لگانا اور کتابیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے اور جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔(ترمذی:322)

سوال: میرے یہاں شیعہ کی مسجد ہے، اس میں علم، پنجہ اور بہت سی چیزیں موجود ہیں۔ کیا اس میں ہم خواتین اپنی جماعت بنا کر سنت کے مطابق تراویح کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟

جواب: عورتوں کے لیے مسجد میں نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے، وہ اپنی نماز کہیں بھی پڑھ سکتی ہیں بلکہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل و بہتر ہے۔ مسلم عورتوں کے لیے شیعہ کی مسجد میں تراویح کی جماعت بناکر نماز پڑھنا درست نہیں معلوم ہوتا ہے، ممکن ہے شیعہ ان مسلم عورتوں میں تشیع پھیلانے کی کوشش کرےیا ان کے ساتھ کوئی دوسرا معاملہ درپیش ہوجائے۔ شیعہ حضرات  ،مسلمانوں سے الگ اور کفریہ عقائد رکھنے والے ہوتے ہیں لہذا اس قسم کی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔ عورتیں اپنے گھر میں جمع ہوکر تراویح پڑھ سکتی ہیں یا مسلمانوں کی مسجد ہو اور وہاں پر تراویح پڑھنے کے لیے سہولت ہو تو اس میں شریک ہو سکتی ہیں۔ یا وہ اپنے اپنے گھر میں اکیلے بھی پڑھ سکتی ہیں، تراویح کے لیے جماعت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: لوگ اپنے گھروں میں مختلف قسم کے جانور جیسے مچھلی، بلی، خرگوش، گھوڑا، اونٹ، باز اور چیتا وغیرہ پالتے ہیں۔ انہیں کھلانے پلانے اور علاج و نگرانی کرنے میں اخراجات بھی آتے ہیں۔ کیا ان جانوروں کی خرید و فروخت جائز ہے؟

جواب: جو چیزیں ہمارے لئے حلال ہیں، ان کو خریدنے بیچنے اور اپنے گھرمیں رکھنے میں حرج نہیں ہے ۔ مچھلی ، خرگوش، گھوڑا اور اونٹ حلال جانور ہیں۔ ان کو اپنے گھر میں رکھ بھی سکتے ہیں اور ان کی خریدوفروخت بھی  کرسکتے ہیں۔ بلی تو حرام جانور ہے مگر گھروں میں کثرت سے آنے والی ہے، اس لئے اپنے گھر میں بلی پال سکتے ہیں مگر بلی کا کاروبار(خریدوفروخت) جائز نہیں ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو زبير رحمہ اللہ سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے كتے اور بلى كى خريد و فروخت كے متعلق دريافت كيا تو انہوں نے فرمايا:نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے ڈانٹا ہے۔(صحیح مسلم:1569)

بلی کے ماسوا اپنے گھر میں چیرپھاڑ کرنے والے جانور نہیں رکھنا چاہئے۔ سعودی کے مستقل فتوى كميٹى كا کہنا ہے:بليوں اور كتوں كى خريد و فروخت جائز نہيں اور اسى طرح دوسرے چيڑ پھاڑ كرنے والے درندے جن كى كچلى ہو كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا اور ايسا كرنے سے ڈانٹا ہے اور اس ليے بھى كہ اس ميں مال كا ضياع ہے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے۔ (فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء :13 / 37)

سوال: ایک عورت عشاء کی فرض نماز پڑھتی ہے مگر سنت اور وتر نہیں پڑھتی ہے،کیا یہ پڑھنا ضروری ہے؟

جواب: ایک مسلمان پر فرض نماز کا ادا کرنا ہرحال میں ضروری ہے، اس میں کوتاہی کسی صورت میں معاف نہیں ہے ۔ جہاں تک  سنت اور وتر کا معاملہ ہے تو سنت بھی وہ نماز ہے جسے نبی ﷺ برابر ادا کرتے رہے۔ سنت، کا ادا کرنا واجب نہیں ہے مگر اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ فرض نماز میں جو نقص و کمی پیدا ہوجاتی ہے اس کی تلافی سنت ونفل سے کی جائے گی لہذا نمازی کو سنت کی بھی پابندی کرنی چاہئے۔اگر کبھی کسی ضرورت وحاجت کی وجہ سے سنت رہ جائے تو اس میں مسئلہ نہیں ہے لیکن مستقل طور پر سنت کا تارک نہیں بننا چاہئے۔ وتر کی بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہے، نبی ﷺ سفر و حضر ہمیشہ  وترکی پابندی فرماتے رہے لہذا ہمیں رسول اللہ ﷺ کی طرح پانچوں نمازوں کے ساتھ سنن رواتب اور وتر کی بھی پابندی کرنی چاہئے۔

سوال: ایک خاتون کے شوہر کی طبیعت خراب رہنے کی وجہ سے وہ نوکری نہیں کرتے ہیں اس کو دو بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ معاشی حالت بہت خراب ہے، گھر کا خرچ اور بنیادی ضروریات کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ وراثت میں کچھ پیسے ملے تو اس نے اپنا قرض ادا کیا اور جو کچھ بچا اس کے بھائی نے یہ کہہ کر لے لیا کہ اس سے اس کا گھر بنا دیں گے۔ ایسے شخص کی زکوۃ کے ذریعہ مدد کر سکتے ہیں؟

جواب: جو صورت حال مذکور ہے اس میں اس فیملی کی  ضرورت بھر زکوۃ سے مدد کرسکتے ہیں ، بعد میں جب حالت درست ہوجائے پھر زکوۃ نہیں دینا چاہئے لیکن جب تک مالی حالت خراب ہے، مدد کی جاسکتی ہے۔

سوال: اگر ہم کلمہ گو مشرک اور بدعتی لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں جیسے رمضان میں دعا کریں تو کیا ہماری دعا قبول ہوگی اور ان کی مغفرت ہو جائے گی؟

جواب: جو کلمہ پڑھنے والے مسلمان ہیں، اللہ پر ، قرآن پر اور محمد ﷺ پر ایمان لاتے ہیں  خواہ وہ بدعت کرتے ہوں یا جانے انجانے میں شرک کرتے ہوں ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا جائز ہے۔ آپ کی دعا قبول ہوگی یا نہیں ہے، یہ اللہ کا معاملہ ہے، اللہ کے معاملہ میں ہمیں فکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے  ذمہ میں جو کام ہے، آپ  وہ کریں۔ آپ کے لئے دعا کرنا جائز ہے ، آپ  دعا کریں ، خصوصا ان(زندوں کے لئے) کی ہدایت کے لئے دعا کریں کہ اے اللہ ! ان کو سیدھے راستے کی توفیق دے اور شرک وبدعت سے بچا۔

سوال: لوگ ایک دوسرے کو بلیک میں گیس بیچتے ہیں تو کیا یہ عمل صحیح ہے؟

جواب: بلیک سے گیس بیچنا قانوناجرم ہے، حکومت کے ساتھ دھوکہ ہے جبکہ ایک مسلمان کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: مَنْ غَشَّنَا، فَلَيْسَ مِنَّا(صحیح مسلم:101) یعنی جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

سوال: ایک مدرسہ کرائے پر چلتا ہے، اس میں کچھ ضرورت مند اور کچھ عام بچے پڑھتے ہیں، ان سے مناسب فیس بھی لی جاتی ہے، اس مدرسہ میں کارپیٹ کی ضرورت ہے، کیا اس کو کارپیٹ کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب: مدرسہ میں زکوۃ دے سکتے ہیں یا نہیں ، اس مسئلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔اس بارے میں  قوی موقف یہی ہے کہ مدرسہ زکوۃ کا مصرف نہیں ہے لیکن مدرسہ میں پڑھنے والے وہ بچے جو فقیر ومسکین کے زمرے میں آتے ہوں ان پر زکوۃ خرچ کرسکتے ہیں، اس میں کوئی دورائے نہیں ہے۔اس مدرسہ میں ضرورت مند بچے بھی ہیں تو ان بچوں کے واسطے زکوۃ دی جاسکتی ہے مگر اس مدرسہ کے لئے اس مد میں زکوۃ دینا جس سے سبھی بچے فائدہ اٹھائیں مناسب نہیں ہے۔ مذکورہ کام کے لئے لوگوں سے عام صدقات اور تبرعات کی اپیل کی جائے۔ زکوۃ کو اس کے اصل مصارف میں ہی خرچ کیا جائے۔

سوال: میری بہن نے میری خالہ کا دودھ پیا ہے۔ اسی طرح میری امی نے بھی میری خالہ کے لڑکے کو دودھ پلایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میری بہن نے خالہ کا دودھ پیا تو کیا اس کے لیے خالہ کے تمام لڑکے محرم ہیں اور اسی طرح خالہ کے بیٹے نے میری امی کا دودھ پیا ہے تو کیا وہ میرے لیے بھی محرم ہے اور خالہ کے دوسرے بیٹے بھی میرے لیے محرم ہیں۔ نیز یہ بھی امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ میں نے بھی خالہ کا دودھ پیا ہو۔ تو اس میں بھی سوال ہے کہ کیا شک کی بنیاد پر رضاعت مانی جائے گی؟

جواب:اس مسئلہ میں سب سے پہلے یہ بات جان لینی چاہئے کہ رضاعت دو شرطوں سے ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ  کہ دو سال کی مدت میں ہی بچے کو دودھ پلایا گیا ہو ۔ دوسری بات یہ کہ بچے کو پیٹ بھر کر پانچ مرتبہ دودھ پلایا گیا ہو۔ اگر ان دونوں شرطوں میں ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو رضاعت ثابت نہیں ہے۔

رضاعت کے اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے جس لڑکی نے اپنی خالہ کا دودھ پیا، اس لڑکی کے لئے اپنی خالہ کے سارے بیٹے محرم یعنی رضاعی بھائی ہوگئے۔ اسی طرح جس لڑکے نے  اپنی خالہ کا دودھ پیا ، وہ  لڑکا اپنی خالہ کی ساری بیٹیوں کے لئے محرم یعنی رضاعی بھائی ہوگیا۔ یہ لڑکا آپ کے لئے بھی محرم ہےاور آپ کی ساری بہنوں کے لئے بھی  مگر آپ کے لئے آپ کی خالہ کے دوسرے بیٹے محرم نہیں ہیں کیونکہ آپ نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا ہے۔ نیز محض شک کی بنیاد پر رضاعت ثابت نہیں ہوگی ۔ رضاعت کے ثبوت کے لئے مذکور ہ بالا دونوں شرطیں یقینی علم کے ساتھ پائی جاتی ہوں تبھی رضاعت ثابت ہوگی۔ 

 

مکمل تحریر >>

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(100)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(100)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب

 

سوال: دو سجدوں کے درمیان جو دعا ہے، اگر اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجائیں تو گناہ ہوگا؟

جواب: اس میں گناہ کی کوئی بات نہیں ہے، اور جہاں تک دو سجدوں کے درمیان پڑھی جانے والی دعا کا معاملہ ہے، وہ مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ اس بارے میں کم از کم الفاظ والی سے مختصر دعا یہ ہے۔)رَبِّ اغْفِرْ لِي ، رَبِّ اغْفِرْ لِي(

اس دعا کو پڑھ لینا کافی ہے ، یہ ہلکی اور آسان بھی ہے۔

اسی طرح بعض دوسری دعائیں ہیں، جن سب کو جمع کرنے سے سات کلمات بنتے ہیں۔

بعض دعاؤں میں اکٹھے پانچ کلمات آئے ہیں جیسے ابو داؤد میں پانچ کلمات ایسے آئے ہوئے ہیں۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني» ”یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے“ کہتے تھے۔ (سنن ابي داود:850)

دعا اور اذکار وغیرہ میں ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اسی طرح سے پڑھنا چاہیے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ دونوں سجدوں کے درمیان والی دعا سے متعلق بھی افضل یہی ہے کہ جس طرح وارد ہے اسی طرح سے پڑھنا چاہیے اور یہ بھی صحیح ہے کہ بعض حدیثوں میں الفاظ آگے پیچھے آئے ہوئے ہیں، اس وجہ سے بعض علماء نے کہا ہے کہ ان الفاظ میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔ جس طرح بھی پڑھ لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شیخ صالح اللحیدان جو ہیئۃ کبار العلماء میں سے ہیں، ان کا یہی کہنا ہے۔

آسانی کے لیے چھوٹی دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے، جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے اور پانچ کلمات والے الفاظ بھی جو ابو داؤد میں آئے ہیں وہ بھی پڑھی جا سکتے ہیں اور سات الفاظ بھی جمع کرکے پڑھیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ترتیب بدل جائے تو حرج نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی کے اوپر قرض ہے اور بینک میں جمع پیسوں میں جو سود آتا ہے اس رقم سے کیا اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے، مقروض کی مالی حالت بہت بدتر ہے؟

جواب: جو آدمی مقروض ہو اور خود سے اپنا قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جسے بیچ کر وہ اپنا قرض ادا کرسکے تو ایسی صورت میں ایسے آدمی کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔

جہاں تک بینک میں موجود سود کا مسئلہ ہے تو اس سود کے بارے میں آپ یہ سمجھیں کہ یہ حرام مال ہے، یہ نہ بینک میں پیسہ رکھنے والے کے لیے حلال ہے، نہ ہی دوسرے کسی آدمی کے لیے حلال ہے، حرام مال سب کے لیے حرام ہی ہوتا ہے۔ اسے رفاہی اور مشترکہ کام میں لگا دینا چاہیے یا اضطراری صورت میں انسانی جان بچانے کے لئے دے دینا چاہیے۔

جس آدمی سے متعلق مسئلہ پوچھا گیا ہے، اس کو زکوۃ سے تعاون کرنا چاہیے بشرطیکہ زکوۃ کا مستحق ہو جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے۔ زکوۃ نہ ہو تو نفلی صدقات اور عطیات سے مدد کرنا چاہیے اور اگر دینے کے لیے دوسرا کوئی پیسہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بینک کا سود دے سکتے ہیں۔

سوال: ایک خاتون نے زیور بنک لون پر لیا ہے، اور وہ ایک سال سے اس کی قسط بھر رہی ہے، کیا اس زیور پر زکوۃ نکالنی ہے؟

جواب: یہاں پر اصل معاملہ یہ ہے کہ زیور خریدنے کے لئے بنک سے سودی لون لیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ زیور خریدنے کے لیے بنک سے لون لینا جائز نہیں ہے کیونکہ سودی قرض لینا سود پر تعاون ہے اور یہ گناہ کا باعث ہے۔

بہر حال! اس بہن نے جو کام کیا وہ سودی اور گناہ کا کام تھا اس کے لیے اسے اللہ رب العالمین سے سچی توبہ کرنا چاہیے اور آئندہ سودی کام سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جہاں تک زیور کا مسئلہ ہے تو اگر یہ سونے یا چاندی کا زیور ہے اور نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے اور اس پر ایک سال گزر گیا ہے تو اس کی زکوۃ ادا کرنی پڑے گی۔

سوال: کیا ذکر و اذکار کرتے وقت ہونٹوں کا ہلانا ضروری ہے جیسے سونے سے پہلے کے اذکار کرنے کے بعد نیند فورا نہیں آتی ہے تو اس وقت ذکر کرتے ہوئے ہونٹ ہلانا ضروری ہے یا حرکت دئے بغیر بھی ذکر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح گھر کے کام کاج کرتے ہوئے ذکر کرتے وقت ہونٹوں کو حرکت دینا ضروری ہے؟

جواب: اذکار کسے کہتے ہیں، اس پر غور کریں تو آپ کو اس کا جواب سمجھنا آسان ہوگا۔

اذکار، الفاظ و کلام پر مشتمل ہوتے ہیں، ان اذکار کو پڑھنے کا مطلب زبان کو حرکت دینا ہے۔ جو زبان کو حرکت نہ دے وہ اذکار نہیں کہلائیں گے۔ آپ صبح و شام کے اذکار پڑھیں یا سونے جاگنے کے اذکار یا نماز کے بعد کے اذکار حتی کہ نماز کے اندر تلاوت اور اذکار وغیرہ پڑھیں، ان سب کے لیے ضروری ہے کہ زبان کو حرکت دے کر ذکر کریں، بغیر زبان کو حرکت دئے دل میں پڑھنا ذکر نہیں شمار ہوگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں قرآن کی تلاوت صرف دل میں سوچنے سے کافی ہے یا زبان سے حرکت دینی ضروری ہے؟ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ "تلاوت کے لئے ضروری ہے کہ زبان سے کی جائے، اگر انسان نماز میں صرف دل سے پڑھے تو یہ کافی نہیں ہے، اور اسی طرح باقی اذکار بھی صرف دل سے کافی نہیں ہیں، بلکہ لازمی ہے کہ انسان زبان اور ہونٹوں سے یہ الفاظ ادا کرے؛ کیونکہ یہ باتیں (کلمات) ہیں اور یہ صرف زبان اور ہونٹوں کی حرکت سے ہی مکمل ہوتی ہیں۔)مجموع فتاویٰ ابن عثیمین:13/156(

سوال: جب میرے شوہر میرے ساتھ ہوتے ہیں (عموماً ہفتہ وار تعطیلات میں) تو میں خود کو زیادہ عبادت میں مشغول، دل سے خوش اور مطمئن محسوس کرتی ہوں لیکن جب میرے شوہر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر ہوتے ہیں تو اکثر میں اپنی عبادت میں وہ دلچسپی محسوس نہیں کر پاتی اور دل میں اداسی اور بے دلی سی رہتی ہے۔ کیا یہ کیفیت نفاق میں شمار ہوتی ہے اور کیا یہ کوئی برا عمل ہے؟

جواب: یہ نفاق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ میاں بیوی کے تعلقات کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ ہر اس بیوی کے ساتھ ہے جو اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے۔ جس عورت کو اپنے شوہر سے محبت نہ ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ شوہر گھر سے باہر رہے یا گھر پر رہے لیکن جس عورت کو اپنے شوہر سے محبت ہو، اس عورت کے لیے شوہر کا گھر پر رہنا باعث سکون اور گھر سے باہر جانا باعث اضطراب ہوتا ہے۔

آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ جس عورت کا شوہر پردیس کا سفر کرتا ہے، اس عورت کے لیے وہ لمحہ کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے اور اس کے بعد کئی دن کس طرح بے چینی میں گزرتے ہیں اور پھر جب اس کے شوہر کی اپنے وطن اور اپنے گھر واپسی ہوتی ہے، عورت کے لیے کس قدر خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔آپ کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے، اس کا نفاق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنا تعلق اللہ اور اس کے دین سے گہرا بنائیں۔عبادت کو اپنے وقت پر اور مکمل ادا کریں یعنی پنج وقتہ نمازیں اول وقت پر خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں، نماز کے بعد کے اذکار کو بھی ترک نہ کریں بلکہ سنتوں کی بھی پابندی کریں۔

اسی طرح گھریلو کام کرنے کے بعد جو وقت بچتا ہے، اس کو مطالعہ، تلاوت، ذکر اور بیانات کو سننے میں لگائیں۔ جس قدر آپ کا لگاؤ دین سے ہوگا اور اپنی فرصت کے لمحات کو اچھے کام میں لگائیں گے، اسی قدر آپ کے اندر عبادت میں لذت اور چاشنی پیدا ہوگی۔

سوال: ایک شخص کا قتل ہوگیا ہے اس کے وارث میں ماں، باپ، بیوی اور اولاد ہیں۔ اولاد بالغ اور سمجھدار ہیں۔ اب بیوی اور بچے دیت لینا چاہتے ہیں جبکہ ماں اور باپ جو سمجھدار ہیں، وہ قصاص لینا چاہتے ہیں ، اب کس کی بات کو مانا جائے گا؟

جواب: اس صورت میں صرف دیت لی جائے گی اور قصاص نہیں لیا جائے گا۔ قصاص لینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ورثاء قصاص لینے پر متفق ہوں۔ اگر ایک آدمی بھی اختلاف کر جائے اور ایک وارث بھی معافی اور دیت لینے کے لیے رضامند ہوجائے تو پھر قاتل کو قصاصا قتل نہیں کیا جائے گا، صرف دیت لی جائے گی۔

سوال: ایک خاتون ہمیشہ چار روز میں حیض سے پاک ہوجاتی تھی، اس بار سات دن ہو گئے مگر اب بھی حیض کی صفات والا خون جاری ہے۔ اب وہ کیا کرے۔ اپنی عادت کا اعتبار کرتے ہوئے غسل کرکے نماز شروع کردے یا نماز سے رکی رہے اور كب تک؟

جواب : حیض میں اصل اعتبار حیض کے خون کا ہوتا ہے لہذا جس خاتون کو پہلے چار دن حیض آتا تھا لیکن اب اگر سات دن حیض کے صفات والا خون آتا ہے تو ان سات دنوں میں نماز سے رکنا پڑے گا یعنی جب جتنے دن حیض کے صفات والا خون آئے اتنے دن تک نماز سے رکنا ہے۔

سوال: ایک عورت باہری ملک سے کپڑے بھیجتی ہے، کبھی اس میں سے پیسے نکل آتے ہیں ، کیا اس کو بتانا ضروری ہے یا اس کو استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب: ظاہر سی بات ہے کسی نے کپڑے بھیج کر احسان کیا ہے ، اگر اس کے بھیجے ہوئے کپڑوں میں پیسے نکلتے ہیں تو بھیجنے والے کو بتانا ضروری ہے۔ ممکن ہے کبھی پیسے کے علاوہ کوئی دوسری قیمتی چیز نکل آئے۔ ایسے میں کپڑے سے جو بھی چیز نکلے اس کے بارے میں بھیجنے والے کو اطلاع دینا ضروری ہے۔ اگر وہ کہہ دے کہ ٹھیک ہے، وہ تم رکھ لو تو استعمال کرسکتے ہیں اور اگر کہے کہ وہ پیسے یا چیز مجھے بھیج دو تو یہ اس کی امانت ہے، اسے لوٹا دینا چاہیے۔

سوال: اگر نماز میں رکعت میں شک ہو جائے اور سجدہ سہو کرنا بھی بھول جائے ، سنت کے بعد سجدہ سہو یاد آئے اور اسی وقت کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر نماز میں شک پیدا ہو جائے مثلا رباعی نماز میں شک ہو کہ تین رکعت پڑھے ہیں یا چار رکعت، ایسی صورت میں کم پر یقین کریں اور زیادہ کو چھوڑ دیں یعنی تین رکعت مانیں اور جو باقی رکعت بچ گئی ہے، اس کو مکمل کریں پھر سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لیں۔

اگر سلام سے پہلے یا سلام کے بعد وقت پر سجدہ سہو یاد نہ رہ سکے تو جب بھی اور جیسے ہی یاد آئے فورا سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔ ہاں اگر وقت طویل ہو جائے اس کے بعد سجدہ سہو کا خیال آئے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے اور نماز اپنی جگہ درست ہے، بشرطیکہ نماز کی رکعت میں شک ہونے پر کم پر بنا کیا گیا ہو۔

سوال: میرے شوہر مرغی ذبح کرے اور ہندو سے بوٹی بنوائے تو جائز ہے ، کوئی مسلمان مل نہیں رہا ہے۔ اسی طرح بعض ہندو خود سے مرغی ذبح کرکے ہمیں اس کی بوٹی بنانے دیتے ہیں ، کیا اس طرح کر سکتے ہیں؟

جواب: جانور ذبح کرنے کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے، آپ کے شوہر خود سے ذبح کریں تو اس مرغی کی بوٹیاں کسی ہندو عامل سے کرواسکتے ہیں۔ اس کے لئے بھی مسلمان ہی رکھیں، یہی بہتر ہے لیکن جب تک مجبوری میں ہندو سے کام کرواتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے تاہم اسے اپنی نگرانی میں یعنی نظروں کے سامنے کام کروائے اور اسے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کہے۔ ہندو کھڑے کھڑے پیشاب کرتا ہے اور صفائی کا بھی خیال نہیں کرتا ہے، اس کی طرف توجہ دلائے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ کوئی ہندو خود سے مرغی ذبح کرکے آپ کی دکان پر بوٹیاں بنانے لاتا ہے، یہ کام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اپنا کاروبار مسلمان کی طرح کریں۔ جانور وہی حلال ہوتا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا جائے گا۔ ہندو خود سے ذبح کرکے لاتا ہے تو وہ حرام مردار کے حکم ہے کیونکہ اس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہوگا، اس کی بوٹیاں بناکر کمائی کھانا درست نہیں ہے۔

سوال: کسی کو پیر و جمعرات کا روزہ رکھنے کا معمول ہو اور اگر اس بار تیسواں چاند ہو تو جمعہ کو پہلا روزہ ہوگا تو کیا وہ جمعرات کا روزہ رکھ سکتا ہے؟

جواب: جس کے لیے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کا معمول رہا ہو وہ شعبان کی تیسویں تاریخ کو اگر جمعرات آئے تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عادت والوں کے لیے پورے شعبان میں کبھی بھی روزہ رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے ماسوا جمعہ کا روزہ کیونکہ خصوصیت کے ساتھ جمعہ کا اکیلا روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔

سوال: کیا تہجد اور چاشت کی نماز سے پہلے پہلے دو نفل وضو کے پڑھ سکتے ہیں یا تہجد اور چاشت کے نوافل میں ہی وضو کے نفل کی نیت کرلیں؟

جواب: وضو کی سنت کوئی مستقل نماز نہیں ہے، اس وجہ سے یہ نماز اس وقت پڑھنا ہے جب کوئی نماز نہ پڑھنا ہو لیکن جب آپ کوئی ایک نماز پڑھنے جارہے ہیں تو براہ راست اسی نماز کو ادا کریں گے جیسے استخارہ کی نماز پڑھنے کا ارادہ ہو تو وضو کر کے براہ راست استخارہ کی نماز پڑھیں گے یا چاشت کی نماز پڑھنا ہو تو وضو کرکے چاشت کی نماز پڑھیں گے، یہی نماز وضو کی سنت کے لیے کافی ہو جائے گی یعنی اسی میں وضو کی نیت کرسکتے ہیں۔

سوال: ایک کنواری لڑکی سے تین سال پہلے زنا ہوگیا اور اسنے پھر حمل بھی ضائع کروایا ، بقول اس کے وہ دیندار اور نمازی اور توبہ کر کے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو وہ کیا کرے؟

جواب:  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لڑکی نے بہت بڑا جرم کیا جس سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایک طرف اس نے فحش کام کیا تو ودسری طرف حمل ضائع کیا جو کہ ایک نفس کے حکم میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جرم پر اسلام نے حد متعین کی ہے مگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی اس عورت پر حد قائم نہیں کرسکتا ہے لہذا اس صورت میں توبہ کی صورت نظر آتی ہے۔

اس لڑکی پر یہ ضروری ہے کہ دل سے سچی توبہ کرے، ایسی توبہ اور اس ندامت و شرمندگی کے ساتھ اس کا رب راضی ہوجائے۔ آئندہ اس قسم کے گناہ کا تصور بھی نہ کرے اور اگلی زندگی پاکدامنی کے ساتھ گزارے ، اور اپنے آپ کو اللہ کے دین کے حوالے کردے۔ نماز کی پابندی  کے ساتھ ، ذکر و اذکار ، دعاو استغفار اور تلاوت میں کثرت سے وقت گزارے۔

جہاں تک بچے کے اسقاط کا معاملہ ہے تو یہ بھی انتہائی عظیم گناہ ہےکیونکہ حمل ٹھہرنے کے بعد اس کا ضائع کرنا ایک قسم کا قتل مانا جاتا ہے، یہ الگ معاملہ ہے کہ  بچے میں روح پھونکنےسے قبل یا اس کے بعد اسقاط حمل کے مختلف احکام ہیں تاہم حمل کسی بھی مرحلہ میں ہو، اسے  ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ عہد رسول میں غامدیہ نامی عورت نے زنا کرلیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے حمل ساقط کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ بچے پیداکرنے کا حکم دیا۔ حمل زنا سے ہو یا نکاح کے سبب ہو، حمل کا اسقاط جائز نہیں ہے سوائے اضطراری صورت کے، جب عورت کی جان کو خطرہ ہو۔ اسقاط حمل پہ دیت اور کفارہ کی تفصیل میرے مضمون میں دیکھ سکتے ہیں جو میرے بلاگ پر "اسقاط حمل پہ دیت وکفارہ کا حکم " کے نام سے موجود ہے۔

سوال: آجکل پاکستان میں بڑے جوش و خروش سے بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے، میں نے سنا ہے کہ کسی ہندو کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس کا حکم بتائیں تاکہ جانے انجانے کسی گناہ میں نہ واقع ہوجائیں؟

جواب: بعض لوگ بسنت کو ایک موسمی میلہ قرار دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بسنت نامی میلہ ہندؤں کا ایک خاص تہوار ہے ، اس میں وہ لوگ مختلف قسم کے رسومات انجام دیتے ہیں بلکہ دیوی دیوتاؤں کی عبادت بھی کرتے ہیں ۔ساتھ ہی اس میں پتنگ  بازی  بھی کی جاتی ہے۔ بعض بھولے بھالے مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ ایسے ہی موسمی کلچر ہے، بسنت منانے اور اس موقع سے پتنگ بازی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے  جبکہ  حقیقت میں یہ ہندؤں کا تہوار اور مذہبی کلچر ہے۔ اس سے مسلمانوں کو ہرحال میں دور رہنا چاہئے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ(سنن ابي داود:4031)

ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں  ہندؤں اور غیراقوام کے تمام مذہبی طورطوریقوں سے پرہیز اختیار کرنا چاہئے۔

سوال: چار رکعت والی نماز میں آخری دو رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھنا ہے یا سورت بھی پڑھنا ہے؟

جواب: رباعی نماز کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا کافی ہے لیکن اگر کوئی آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسا اوقات سورت ملانا بھی ثابت ہے تاہم اگر کوئی صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے تو اتنا ہی اس کے لیے کافی ہے۔

سوال : کیا صدقہ جاریہ کے طور پر mortuary box دے سکتے ہیں؟

جواب: پہلے ایک مسئلہ کی وضاحت ہوجائے تو اس بات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ نبی ﷺ نے میت کی تدفین میں جلدی کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ (صحيح مسلم:944)

ترجمہ: جنازے میں جلدی کرو، اگر (میت) نیک ہے تو تم نے اسے بھلائی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی تدفین میں جلدی کی جائے مگر آج کل لوگ میت کی تدفین میں تاخیر کرتے ہیں اور رشتہ داروں کی آمد کا انتظار کرتے ہیں جبکہ ہمیں اس معاملہ میں عجلت  سے کام لینا چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مردہ خانہ جسے سردخانہ بھی کہتے ہیں یعنی ایسا میت باکس جس میں میت کو اسٹور کرکے دیر تک رکھا جاتا ہے، اس قسم کا سردخانہ استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اسے صدقہ جاریہ کے طور پر بھی دیا جاسکتا ہے تاہم جس کمیٹی کے حوالے یہ باکس کیا جائے اس انتظامیہ کمیٹی کو یہ تاکید ہو کہ اس سامان کا غلط استعمال نہ کیا جائے یعنی بغیر ضرورت میت کو دیر تک نہ رکھا جائے۔ ہاں کوئی حاجت و ضرورت ہو تو اس میں مضائقہ نہیں ہے۔

سوال:اگر کسی سے  ایک  سال کے روزے  چھوٹ گئے اور اس سال میں وہ ان کی قضا نہ کر سکے اور اگلے سال قضا کرے تو کیا صرف قضا کرنی ہے یا ساتھ میں فدیہ بھی دینا ہوگا؟

جواب: جب کسی کے رمضان کا روزہ کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے تو اگلا رمضان آنے سے پہلے پہلے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کر لینا چاہیے۔ اگر کوئی رمضان سے قبل قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کر لے اور اسے کوئی فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے تاہم یہ بات ضرور ہے کہ اگر قضا کرنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا ہو تو اللہ تعالی سے اس کے لیے توبہ کرے۔اور کسی عذر کے باعث تاخیر ہوئی ہو تو توبہ کی ضرورت نہیں ہے، بس  چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنا ہے۔

سوال: شیطان کو سخی فاسق سے زیادہ بخیل مومن پسند ہے کیونکہ سخی فاسق کبھی بھی خرچ کرکے اللہ کی طرف آسکتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: ابن ابی الدنیا نے یہ بات  اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔اسے عبد اللہ بن حبیق بیان کرتے ہیں کہ یحی بن زکریا علیہ السلام نے شیطان سے ملاقات کی۔عبداللہ بن حبیق جو تیسری صدی ہجری کے ہیں وہ یحیی بن زکریا علیہ السلام سے کیسے روایت کر سکتے ہیں۔ دونوں میں کافی دنوں کا فاصلہ ہے لہذا یہ واقعہ سندا صحیح نہیں ہے۔روایت اس طرح سے ہے۔

قال ابن أبي الدنيا: حدثنا محمد بن يحيى المروزي حدثنا عبد الله بن خبيق قال :

لقي يحيى بن زكريا عليهما الصلاة والسلام إبليس في صورته فقال له: يا إبليس أخبرني ما أحب الناس إليك وأبغض الناس إليك؟ قال: أحب الناس إلي المؤمن البخيل وأبغضهم إلي الفاسق السخي قال يحيى: وكيف ذلك؟ قال: لأن البخيل قد كفاني بخله والفاسق السخي أتخوف أن يطلع الله عليه في سخاه فيقبله ثم ولى وهو يقول: لولا أنك يحيى لم أخبرك.(كتاب مكائد الشيطان لابن أبي الدنيا)

سوال: ابن قدامہ ؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا قول نقل کیا ہے کہ مردار مرغی کے پیٹ میں جو انڈا ہوگا وہ نجس ہے اس کا کھانا حلال نہیں چاہے اس کا چھلکا سخت ہو گیا ہو یا سخت  نہ ہوا ہو۔کیا یہ صحیح ہے ؟

جواب: اگر مردار مرغی کے پیٹ سے انڈا نکلے اور وہ انڈا سخت ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں اس کا باطنی حصہ پاک ہے کیونکہ چھلکا سخت ہونے کی وجہ سے نجاست کو روکنے والا ہے البتہ اس کے ظاہری حصے کو دھو لیا جائے گا۔اور اگر نکلنے والا انڈا سخت نہ ہو بلکہ نرم اور رطب ہو تو ایسی صورت میں اسے نجس مانا جائے گا۔اس مسئلہ میں راج بات یہی ہے۔

ابن قدامہ نے رحمہ اللہ نے المغنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے علاوہ تفاصیل بھی ذکر کیا ہے۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا مسئلہ ہے تو یہ محض کراہت پر محمول ہے۔

سوال: میرے محلے میں ایک مسجد ہے جو حنفی مسلک کے زیرِ انتظام ہے اور وہاں کے معمولات مثلاً عصر کے بعد فضائلِ اعمال کا درس وغیرہ دیوبندی مکتبہ فکر کے مطابق ہیں۔ میري ایک دوست نے مجھے اس مسجد کے لیے نئی چٹائیاں خریدنے میں مالی تعاون کی ترغیب دی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میرے لیے ایسی مسجد میں چٹائی یا دیگر ضروریات کے لیے رقم دینا شرعاً درست ہے اور کیا یہ عمل صدقہ جاریہ کے زمرے میں آئے گا؟

جواب: مسجد  اللہ کا گھر ہے جو اللہ کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، اس میں ضرورت کے وقت تعاون دینا اور صدقہ جاریہ کی نیت سے ضرورت کی چیزیں مثلا چٹائی، میک ، پنکھا وغیرہ دینا بالکل درست ہے، اس میں قطعا دل میں کوئی حرج محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ دیوبندی اور تبلیغی جماعت والے بدعت کے کاموں میں ملوث ہیں اور ان کی مساجد میں عام طور سے فضائل اعمال کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت واقعات بھی درج ہیں۔ اس کے لیے ہماری یہ ذمہ داری ہو کہ ایسے آدمی سے جب بھی ہمارا سابقہ پڑے تو انہیں ان کی غلطی پر متنبہ کریں یعنی اگر بدعت کرتے دیکھیں تو اس بدعت سے منع کریں اور فضائل اعمال پڑھتے دیکھیں تو اس میں جو غلطیاں ہیں، ان غلطیوں پہ انہیں تنبیہ کرکے اصلاح کی کوشش کریں۔

سوال: روزہ کی حالت میں وائٹننگ کریم یا لوشن لگا سکتے ہیں ؟

جواب: روزہ کی حالت میں کریم یا لوشن لگا سکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے یعنی اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

روزہ کی حالت میں ہونٹوں پر کوئی چیز لگانے سے بچیں کیونکہ بعض اوقات آدمی زبان سے ہونٹوں کو چھوتا رہتا ہے اور اس سے اس کا ذائقہ اندر جاسکتا ہے۔ویسے ہونٹوں پر بھی ضرورت کے وقت لوشن لگاسکتے ہیں ، احتیاط یہ ہو کہ اس کو زبان سے لگاکر حلق کے نیچے نہیں نگلنا ہے۔

سوال: ایک ضعیف شخص جس کو پیروں میں درد کی وجہ سے چلنے کی دقت ہے، وہ گھر کے قریب والی مسجد میں جو دوسرے مسلک کی ہے، پانچ وقت کی نماز پڑھ لیتا ہے۔اہل حدیث مسجد دور ہے جبکہ جمعہ کی نماز اہل حدیث مسجد میں پڑھتا ہے۔ دوسرے مسلک کی مسجد میں ضعیف لوگوں کے لیے تجوید کی تعلیم ہے، وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب: مسجد کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ امام کا ہے کہ جس کے پیچھے نماز پڑھی جا رہی ہے اگر وہ امام صحیح العقیدہ ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلاشبہ اس مسجد میں اس امام کے پیچھے وہ کمزور آدمی نماز پڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس آدمی کو یہ چاہیے کہ اپنی نماز سنت کے مطابق ہی ادا کرے۔اور تجوید کا علم حاصل کرنے میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

سوال: ایک غیر شادی شدہ شخص کا انتقال ہوا ہے۔ اس کے ورثاء میں والد ، والدہ اور ایک بہن ہیں۔اس نے وصیت کی تھی کہ میرے تمام مال کا ایک تہائی صدقہ کر دیا جائے ۔ جائیداد میں نقدی بھی ہے اور اس کے نام سے ایک پلاٹ بھی ہے، ساتھ ہی میت کے ذمہ قرض بھی ہے۔ پلاٹ کی قیمت ، قیمت خرید سے کم ہے اس لئے ورثاء کی رضامندی ہے کہ ابھی اسے نہ بیچا جائے، زیادہ قیمت پر بیچا جائے اور میت کی طرف سے صدقہ کردیا جائے گا اور قرض بھی ادا کردیا جائے گا۔ کیا وراثت کے کل مال کو جمع کر کے قرض، وصیت اور ورثا ءکے حصے نکالے جائیں گے یا نقد رقم سے الگ اور زمین کی قیمت فروخت سے الگ بھی نکالے جا سکتے ہیں؟

جواب:اصل میں وراثت تقسیم کرنے والی چیز ہے، یہ رکھنے والی چیز نہیں ہے۔وراثت تقسیم کرنے سے وارث کو وقت پر اپنا حق مل جاتا ہے۔ اگر وراثت تقسیم نہ کی جائے، اس میں تاخیر کی جائے اور کسی وارث کا انتقال ہو جائے پھر وہ اپنے حصے سے فائدہ نہیں اٹھا سکا، ایسی صورت میں اس کا کون جوابدہ اور ذمہ دار ہوگا؟

دوسری بات یہ ہے کہ وراثت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں تاخیر کرنے سے بسا اوقات ورثاء یا ان کی اولاد وغیرہ کی وجہ سے اس میں بہت سنگین اختلاف ہو جاتا ہے، قتل تک نوبت آجاتی ہے۔نیز وراثت کا معاملہ حقوق العباد سے جڑا ہوا ہے جو کافی اہم معاملہ ہے۔

میت کی جتنی بھی جائیداد ہے سب کو اکٹھا کر لیا جائے اور وصیت و قرض نکال کر باقی بچے حصے کو وارثوں میں تقسیم کیا جائے۔ اگر الگ الگ بھی تقسیم کیے جائیں مثلا پیسے کو الگ، زمین کو الگ، سامان کو الگ تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔میت نے نقد پیسہ بھی چھوڑا ہے تو اس میں سے قرض ادا کیا جا سکتا ہے اور اگر وہ پیسہ اب بھی پوری جائیداد (بشمول پلاٹ)کے تہائی مال کے برابر بچتا ہو تو اس کو میت کی طرف سے صدقہ بھی کیا جا سکتا ہے جیساکہ اس کی وصیت ہے۔جہاں تک زمین کا معاملہ ہے تو اسے بیچ کر تقسیم کیا جائے یا زمین ہی آپس میں تقسیم ہوسکتی ہو تو اسی کو تقسیم کر دی جائے۔

بہر کیف! حقوق العباد کا معاملہ ہے اس کو لٹکا کر رکھنا اپنے سر پر جوابدہی رکھنا ہے، بعد میں اس کی تقسیم میں خرابی پیدا ہوئی تو کوتاہی کرنے والے کا عند اللہ مواخذہ ہوگا۔

سوال: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ ، آیت الکرسی اور آل عمران کی یہ آیات (18اور 26-27) عرش سے لٹکی ہوئی ہیں، ان کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد یہ آیات پڑھے، اللہ تعالی اس سے پانچ چیزوں کا وعدہ فرماتا ہے۔

(1)جنت میں ٹھکانہ : اللہ تعالی اس کا ٹھکانہ جنت میں بنائے گا۔

(2)مقدس پناہ گاہ : اسے "قدس / Sacred Enclosure) "مقدس جگہ (میں جگہ دی جائے گی۔

(3)روزانہ ستر رحمتیں : اللہ تعالی روزانہ ستر (70) بار اپنی رحمت سے نوازے گا۔

(4)ستر حاجتوں کی پوری : اس کی ستر (70) ضرور تیں (حاجتیں) پوری کی جائیں۔

(5)دشمن سے حفاظت : ہر حاسد ( جلنے والے) اور دشمن سے حفاظت فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا کرے گا۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب: ابن السني نے"عمل اليوم والليلة" (125) اسے بیان کیا ہے:

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: (شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ )، و ( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ) إِلَى قَوْلِهِ: ( وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ) مُعَلَّقَاتٌ، مَا بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ، لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُنْزِلَهُنَّ تَعَلَّقْنَ بِالْعَرْشِ قُلْنَ: رَبَّنَا، تُهْبِطُنَا إِلَى أَرْضِكَ، وَإِلَى مَنْ يَعْصِيكَ.

فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: بِي حَلَفْتُ، لَا يَقْرَأُكُنَّ أَحَدٌ مِنْ عِبَادِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ إِلَّا جَعَلْتُ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، وَإِلَّا أَسْكَنْتُهُ حَظِيرَةَ الْقُدُسِ، وَإِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ بِعَيْنِي الْمَكْنُونَةِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ نَظْرَةً، وَإِلَّا قَضَيْتُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ حَاجَةً، أَدْنَاهَا الْمَغْفِرَةُ، وَإِلَّا أَعَذْتُهُ مِنْ كُلِّ عَدُوٍّ وَنَصَرْتُهُ مِنْهُ، وَلَا يَمْنَعُهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ۔

سند کے اعتبار سے یہ روایت باطل و موضوع ہے۔ابن الجوزی نے اسے موضوع اور جورقانی نے باطل کہا ہے۔ دیکھیں:(الموضوعات لابن الجوزي: 1/399، الأباطيل والمناكير للجورقاني : 2/338)

 

مکمل تحریر >>