Wednesday, November 4, 2026

بلی سے متعلق احکام ومسائل


بلی سے متعلق احکام ومسائل

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ – سعودی عرب

 

بلی ایسا حیوان ہے جو عموما انسانوں کے درمیان رہا کرتی  ہے بلکہ اکثر گھروں میں چکرلگاتی رہتی ہے ۔ نہ اس کو ہمارے گھر آنے جانے میں  تکلف ہوتا ہے اور نہ انسان بلیوں کی آمد ورفت سے خوف وخطرہ محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے۔(سنن ابی داؤد:75)

ایک دوسری حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

السنور من أهل البيت وإنه من الطوافين أو الطوافات عليكم(صحيح الجامع:3694)

ترجمہ:بلی اہلِ خانہ میں سے ہے، اور وہ تمہارے ارد گرد پھرنے والے (پاک) جانوروں میں سے ہے۔

چونکہ بلی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے اس وجہ سے ہمیں اس سے متعلق رسول اللہ ﷺ نے بعض ضروری احکام کی طرف رہنمائی فرمائی ہے ان مسائل واحکام کو آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں اور ساتھ ہی شرعی نصوص کی روشنی میں اس سے متعلق درپیش مزید اور بھی مسائل بیان کئے جائیں گے۔

بلی پالنے یا اسے قتل کرنے کا حکم :

بلی ہمارے گھروں میں اکثر آتی جاتی ہے مگر اس کی پرورش کی ذمہ داری ہمارے سر نہیں ہےاس لئے کسی کو اس کے کھلانے پلانے اور آرام  دینےکی فکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہاں کبھی اسے بھوکا پیاسا اور پریشان دیکھیں تو اس کے ساتھ احسان وسلوک کرنے میں حرج نہیں ہے۔ یہ بات اس لئے بیان کی جارہی ہے کہ کچھ لوگ اصل ذمہ داری سے بڑھ کر جانوروں کی پرورش و نگہداشت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور جو انہیں کرنا چاہئے اس میں کوتاہی برتتے ہیں جیسے گھروں میں کتا یا بلی پال کر اس کے کھلانے پلانے اور آرام کی زیادہ فکر کرتے ہیں جبکہ وہیں بیوی ،بچے اور والدین کی ذمہ دارای ادا کرنے یا نمازو روزہ اوردیگر عبادات کی انجام دہی میں کوتاہی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسا غیرضروری کام اپنے سر نہ لیں جس کی وجہ سے اصل ذمہ داری متاثر ہوتی ہو۔

یہ بات ہم سمجھ گئے کہ بلی پالنا ہماری ذمہ داری نہیں ہےاس کے باجود اگر کوئی بلی پالنا چاہے تو بلی پالنا جائز  ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک چھوٹی بلی تھی، آپ اس سے بہت محبت کرتے اور اس کے ساتھ کھیلتے تھے،اسی سبب آپ کی کنیت ابوہریرہ پڑ گئی۔ عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا:
لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي؟ قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَهَابُكَ، قَالَ: " كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي وَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ , فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ، فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي , فَلَعِبْتُ بِهَا , فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ ". (سنن ترمذي:3840)

ترجمہ:آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔

 جب کوئی بلی پالے تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ بلی کی صحیح رہائش، صحیح غذا، آرام اور نگہداشت کا پورا خیال کیا جائے۔ اس کو نہ اذیت دی جائے اور نہ اسے بھوکاپیاسا رکھا جائے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ(صحیح البخاری:3482)

ترجمہ:(بنی اسرائیل کی) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مر گئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز نہ دی، نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔

اس حدیث سے ایک طرف بلی پالنے کا جواز ملتا ہےتو دوسری طرف یہ ذمہ داری بھی ہے کہ اس کی دیکھ ریکھ کرے اور اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرےبطور خاص جب پنجڑے میں قید رکھاجائے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نےبلوغ المرام میں  اس حدیث پر باب باندھا ہے: "باب الحضانة" یعنی پرورش و تربیت کا بیان۔

بعض لوگ بلی سے اس قدر مانوس ہوجاتے ہیں کہ گھر سے اس کے چلے جانے پر بہت پریشان ہوتے ہیں اور بعض لوگ گھر میں  بلیوں کی کثرت سے پریشان ہوجاتے ہیں ۔ دونوں قسم کے لوگوں سے گزارش ہے کہ بلی کے جانے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، چلی گئی تو چلی گئی۔ اس کی ذمہ داری آپ کے سر نہیں ہے۔ اور گھر میں کثرت سے وافر مقدار میں بلیاں آئے تو انہیں کہیں دور جاکر چھوڑ سکتے ہیں، انہیں قتل نہیں کرنا چاہئے سوائے اضطراری صورت کے۔کبھی کبھی بلی اذیت بھی دینے لگتی ہے جیسے مرغی کے چوزے کھالیا کرتی ہے ،اس صورت میں بھی پہلے بلی کو ڈرانے، بھگانے اور دور رکھ دینے کی کوشش کریں گے۔ جب  بلی کی اذیت سے چھٹکارا پانے کی صورت اسے مارنا ہی ہو تب اس کو مار سکتے ہیں۔

 شیخ ابن باز ؒ سے بلی کے قتل سے متعلق سوال کیا گیا تو شیخ نے جواب دیا: "اگر بلی کو بھگانا، دور کرنا یا ڈرا کر وہاں سے ہٹانا ممکن ہو تو اسے قتل نہ کیا جائے۔ البتہ اگر بلی کی اذیت سے بچنے کے لیے اسے قتل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو اور کسی دوسرے طریقے سے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہ ہو، تو اسے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن آگ کے ذریعہ اسے قتل نہ کیا جائے"۔(ابن باز ڈاٹ آرگ ڈاٹ ایس اے)

بلی کی خرید وفروخت کا حکم :

گھروں میں بلی رہنے میں حرج نہیں ہے حتی کہ اس کا پالنا بھی جائز ہے کیونکہ اسے نبی ﷺ نے گھروں میں آنے جانے والی قرار دیا ہے، البتہ بلی کی خریدو فروخت کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض عالم کہتے ہیں کہ اس کی تجارت کرنا اور اس کی قیمت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے مگر ان کے پاس قیاس کے سوا کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اس بارے میں راحج مسلک یہ ہے کہ بلی کی خریدو فروخت اور اس کی تجارت کرنا، اس کی قیمت سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ابوزبیر سے روایت ہے، انہوں نے کہا:

سَأَلْتُ جَابِرًا :عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ؟ قَالَ: زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ(مسلم:1569)

ترجمہ: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے جھڑک کر روکا ہے۔

اسی طرح حضرت جابر بن عبد اللہ رضى اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا:

أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ نهى عن ثمنِ الكلبِ، والسنورِ، إلا كلبَ صيدٍ(صحیح النسائی : 4682)

ترجمہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كتے اور بلى كى قيمت سے منع فرمايا ہے سوائے شکاری کتے کے۔

مذکورہ دونوں احادیث میں بلی کی قیمت سے منع کیا گیا ہے، بلی کی قیمت کی ممانعت کا یہ مطلب ہوا کہ ہم بلی کو نہ بیچ سکتے ہیں اور نہ ہی خرید سکتے ہیں، اس کی قیمت حرام ہے البتہ بلی کسی کو کوئی ہدیہ و تحفہ کی شکل میں دینا چاہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

سعودی کے مستقل فتوى كميٹى كا کہنا ہے:"بليوں اور كتوں كى خريد و فروخت جائز نہيں، اور اسى طرح دوسرے چيڑ پھاڑ كرنے والے درندے جن كى كچلى ہو، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا اور ايسا كرنے سے ڈانٹا ہے، اور اس ليے بھى كہ اس ميں مال كا ضياع ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے"۔(فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء :13/37)

بلی کا جوٹھا اور بلی کے فضلات:

کھانے کے اعتبار سے بلی حرام جانور ہے لیکن اس کا جسم پاک ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ(سنن ابی داؤد:75)

ترجمہ:یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے۔

چونکہ جسمانی طور پر بلی پاک ہے اس وجہ سے اس کا جوٹھا بھی پاک قرار دیا گیا ہے۔ بلی کا جوٹھاکھانا کھا بھی سکتے ہیں ،جوٹھاپانی  پی بھی سکتے ہیں اور بلی کے جوٹھے پانی سے وضو اور غسل بھی کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حدیث ملاحظہ فرمائیں۔

داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں:

أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَتْهَا تُصَلِّي، فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيهَا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ"، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا(سنن ابی داؤد:69)

ترجمہ: ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ (ایک قسم کا کھانا) دے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا (میں نے کھانا رکھ دیا)، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے“، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں:

أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ، فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ"(سنن ابي داود:75)

ترجمہ: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے"۔

بلی کے منہ میں نجاست لگی تھی پھر وہ گھر کے کسی برتن میں منہ ڈال دے جیسے دودھ یا پانی  میں تو اس کو بہادینا چاہئے کیونکہ کھانے پینے کی چیز میں نجاست لگنے سے وہ چیز نجس ہوجائے گی ۔ اسی طرح اگر بلی نے چوہا کھایا ہو مگر ایک طویل وقفہ گزرگیا ہو، پھر وہ برتن میں منہ ڈالے تو ا س سے  برتن نجس نہیں ہوگا کیونکہ طویل وقت گزرنے سے اس لعاب منہ پاک کردے گا۔

بلی کا لعاب تو پاک ہے مگر اس کے فضلات یعنی پیشاب اور پاخانہ نجس ہے کیونکہ اصولی قاعدہ یہ ہے کہ غیرماکول اللحم جانور کا پیشاب و پاخانہ نجس ہوتا ہے۔ اس قاعدہ کے تحت بلی کا پیشاب و پاخانہ ناپاک ہوگا۔

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «المغني» (2/64) میں فرمایا ہے:’’انسان کے جسم سے یا ایسے جانور کے جسم سے جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا، پیشاب یا کوئی دوسری چیز خارج ہو تو وہ ناپاک ہے۔‘‘

اسی طرح شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا بلی کا پیشاب پاک ہے تو شیخ نے جواب دیا: ہاں، بلیاں پاک ہیں، کیونکہ وہ کثرت سے آنے جانے والے جانوروں میں سے ہیں۔ لیکن جس جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا، اس کا پیشاب ناپاک ہے، خواہ وہ بلی ہو یا کوئی دوسرا جانور۔ البتہ بلی کا لعاب پاک ہے، اور اس کے جھوٹے کا بھی یہی حکم ہے، یعنی جس کھانے میں سے اس نے کھایا ہو یا جس پانی میں سے اس نے پیا ہو، وہ پاک ہے۔ لیکن اس کا پیشاب ناپاک ہے اور عام پیشاب کے حکم میں داخل ہے۔(یوٹیوب چینل)

بلی کاجسم ،  لعاب، بال اورفضلات  کا حکم اور نماز:

٭بلی کا جسم پاک ہےجیساکہ اوپر ہم نے اس بارے میں حدیث سے علم حاصل کرلیا ہےلہذا بلی جسم ہمارے جسم سے یا ہمارے کپڑے سے چھو جائے ، یا جائے نماز پر بیٹھ جائے تو کوئی چیز ناپاک نہیں ہوگی، ہم اپنی نماز پڑھ سکتے ہیں ۔

٭بلی کا جوٹھا پاک ہےجیساکہ آپ نے اس بارے میں حدیث سے علم حاصل کرلیا ہےاس وجہ سے اس کا لعاب بھی پاک ہے۔بلی ہمارے جسم یا ہمارے کپڑے یا جائے نماز کو چاٹ لے، ان میں اپنا لعاب لگادے تو کوئی چیز ناپاک نہیں ہوگی۔ ہم اپنی نماز پڑھ سکتے ہیں۔

٭بلی کے جسم پر وافرمقدار میں بال ہوتے ہیں اور گھرمیں جہاں جہاں آتی جاتی اور اٹھتی بیٹھتی ہے وہاں بال گرے پڑے ملتے ہیں بلکہ یہ کہہ لیں کہ اگر ہمارے جسم یا کپڑے یا جائے نماز پر بلی کے بال لگے ہوں تو نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں نماز پڑھ سکتے ہیں  کیونکہ بلی کا بال پاک ہے، کسی جگہ اس کا بال گرنے سے وہ جگہ ناپاک نہیں ہوتی ہے۔

٭بلی کے فضلات(پیشاب وپاخانہ) ناپاک ہیں جیساکہ آپ نے اوپر یہ حکم جان لیا ہے۔اگر ہمارے جسم یا ہمارے کپڑے یا جائے نماز پر بلی کے فضلات لگ جائیں تو پہلے اسے پانی سے دھل کر پاک کریں پھر نماز ادا کریں ۔

جب آدمی نماز پڑھ رہا ہواور سامنے سےبلی  گزر جائے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی  کیونکہ نمازی(امام ومنفرد)کے آگے سے  صرف تین چیز کے گزرنے سے نماز قطع ہوتی ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ(صحيح مسلم:511)

ترجمہ:عورت، گدھا اور کتا نماز قطع کر دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اسے بچاتی ہے۔

جب  کنواں یاٹنکی میں بلی گرکرمرجائے:

اگر کنواں یا ٹنکی میں بلی گر کر مرجائے تو اس بلی کو اس میں سے نکالنا ضروری ہے پھر دیکھا جائے گا کہ پانی کا رنگ یا بو یا مزہ بدلا ہے یا نہیں؟ اگر ان تینوں صفات میں سے کوئی بدل کیا گیا ہے تو پانی ناپاک ہے لیکن اگر ان تینوں صفات میں سے کوئی صفت تبدیل نہیں ہوئی ہے، پانی اپنی اصل صفات پر باقی ہے تو پانی پاک ہے تاہم اس کنویں یا ٹنکی سے بلی نکالنا ضروری ہے۔ شیخ ابن عثیمین ؒ سے سوال کیا گیا کہ ایک ٹینک میں بچے نے پیشاب کردیا اور اس میں ایک چوہا بھی پایا گیا اس بارے میں کیا حکم ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ "جب پانی میں پیشاب، پاخانہ، چوہا یا کوئی دوسری ناپاک چیز گر جائے، اور اس نجاست کی وجہ سے پانی کے ذائقے، رنگ یا بو میں کوئی تبدیلی نہ آئے، تو وہ پانی پاک کرنے والا ہے۔ البتہ ایسی نجاست جس کا کوئی جسم موجود ہو، اسے پانی سے نکالنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر پاخانہ ہو تو اسے پانی سے نکالنا ضروری ہے، یا چوہا ہو تو اسے بھی نکال دیا جائے"۔(لقاء الباب المفتوح:102/5)

بلی کی نس بندی کا حکم:

جو لوگ اپنے گھروں میں بلیاں پالتے ہیں ان کو ایک پریشانی یہ لاحق ہوتی ہے کہ بلی برابر کئی کئی بچے دیتی رہتی ہے جس کی وجہ سے ان بچوں کی پرورش مشکل ہوجاتی ہے ایسے میں لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا بلی کی نس بندی کراسکتے ہیں تاکہ بچے پیدا نہ ہوں ؟

اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے اوپر والی تمہید یاد کریں جہاں میں نے بتایا کہ بلی پالنا جائز ہے مگر کسی  کے لئے بلی پالنا ضروری نہیں ہے ۔بعض لوگ تو بلی میں حد درجہ مشغول رہتے ہیں، اس کے ساتھ سونے جاگنے  ،اٹھنے بیٹھنے   اور کھیلنے کودنے میں بلکہ بلیوں پر کافی پیسہ صرف  کیا جاتا ہے۔ مغربی معاشرہ میں کتے اور بلیوں کے نام وراثت بھی کی جاتی ہے۔ یہ سب غیرضروری اعمال ہیں لہذا ایک مسلمان اپنی اصل ذمہ داری کو سمجھے ، اس کو صحیح ڈھنگ سے ادا کرے اور اپنے اوپر ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کا اسلام نے اسے مکلف نہیں بنایا ہے۔

جہاں تک اس سوال کا جواب ہے کہ کسی کے گھربلی  ہو، اس سے پیدا ہونے والے بچوں کی  کثرت سے پریشانی ہو، ان بچوں کی دیکھ ریکھ کرنا دشوار ہوتو میں پہلا مشورہ یہ دوں گا کہ وہ اپنے گھر بلی ہی نہ رکھےخصوصا جب اس کے سبب اصل ذمہ داری متاثر ہوتی ہوخواہ  مالی اعتبار سے یا تربیتی اعتبار سے۔ ظاہر سی بات ہے کہ  جب گھر میں بلی ہے تو اس سے بچے پیدا ہوتے رہیں گے اور اس کے سبب آدمی اس میں نہ صرف مشغول ہوگا بلکہ نگہداشت و تربیت پر کافی صرفہ بھی آئے گا۔ ایک آدمی کی اپنی اور اپنے گھروالوں کی ضروریات پورا کرنا مشکل ہوتا ہے، ایسے میں بلیوں پر خرچ کرنا گھروالوں کے ساتھ حق تلفی ہے۔ کسی کو اللہ نے نوازا ہے تو غریب رشتہ داروں اور اپنے پاس پڑوس کے فقراء ومساکین کی خبرگیری کرے اس میں زیادہ بھلائی ہےاور شریعت نے اس کی ترغیب بھی دی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ نبی ﷺ نے چوپایوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے،سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِخْصَاءِ الْخَيْلِ وَالْبَهَائِمِ(مسند احمد:4769)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں اور دیگر چوپایوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے۔

٭شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔(صحیح الجامع:5956)

اسی طرح ایک اور روایت آتی ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

نهى عن صَبْرِ الرُّوحِ ، و خِصاءِ البهائمِ(صحیح الجامع:5960)

ترجمہ:(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے)کسی جاندار کو باندھ کر تڑپانے اور جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا۔

نرجانور کا خصیہ نکالنے کو خصی کہاجاتا ہے تاکہ وہ بچہ نہ پیدا کرسکے ۔نبی ﷺ نے جانور خصی کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر کوئی مصلحت ہو تو خصی کرنا جائز ہے چنانچہ آپ نے خصی کئے ہوئے جانور کی قربانی کی ہے۔ بلی کی نس بندی کے لئے بھی اگر کوئی مصلت ہو تو یہ عمل جائز ہے جیسے بلیوں کی کثرت تکلیف اور پریشانی کا سبب ہو۔ اگر دیکھا جائے تو ضرورت و اذیت کے وقت نر بلی  کومادہ بلی  سے الگ کرکے رکھا جائے تاکہ آپس میں دونوں  نہ ملیں، یہ  زیادہ بہتر ہے۔ اس سے بھی بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ اس کے باجود اگر کوئی مصلحت اور ضرورت کے وقت بلی کی نس بندی کرتا ہے تو اس عمل کو اہل علم نے جائز قرار دیا ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ مغربی ممالک میں بلیوں کو تکلیف پہنچانے سے بچانے کے دعوے کے تحت ان کی جنسی خواہش ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا جاتا ہے۔ اس کا کیا حکم ہے؟ اس پرآپ نے جواب دیا:’’اگر بلیاں بہت زیادہ ہوں اور تکلیف کا باعث بنتی ہوں، اور ان کا آپریشن انہیں تکلیف نہ پہنچاتا ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ انہیں پیدا کرنے کے بعد قتل کرنے کے مقابلے میں یہ طریقہ بہتر ہے۔ لیکن اگر بلیاں معمول کے مطابق ہوں اور تکلیف نہ پہنچاتی ہوں، تو انہیں باقی رہنے دیا جائے تاکہ ان کی نسل بڑھے، شاید اس میں خیر ہو۔‘‘(فتاوى إسلامية:4/595)

یہ بھی اپنی جگہ  ایک حقیقت ہے کہ بلی پالنے والے اس سے پیدا ہونے والے بچوں کو اکثر مار دیتے ہیں یا اس طرح پھینک دیتے ہیں جس سے وہ مرجاتے ہوں گے۔اس لئے  بلی کے بچوں کے قتل سے بہتر ہے کہ بلی کی نس بندی کردی جائے یا نرومادہ کو الگ الگ رکھا جائے۔

بلی کے گلےمیں گھنٹی باندھنے کا حکم:

آپ نے اکثر ایک محاورہ سنا ہوگا کہ "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے"۔ اس محاورہ کا مطلب یہ ہے کہ مشکل کام کی ذمہ داری لینے سے ہر کوئی کتراتا ہے۔ یہ تو ایک محاورہ ہے لیکن حقیقت میں بعض لوگ بلی کے گلے میں گھٹنی باندھتے ہیں، ایسے میں  سوال ہے کہ کیا  بلی کی نقل و حرکت کو جاننے کے لئے اس کے گلے میں گھنٹی باندھ سکتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ گھٹنی باندھنے اور لٹکانے سے ہمیں منع کیا گیا ہے اس لئے اپنے گھروں میں یا گھریلو جانوروں مثلا گائے، بیل، بھینس، بکری اور بلی وغیرہ کے گلے میں گھنٹی لٹکانا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ(صحيح مسلم:2113)

ترجمہ:(رحمت کے) فرشتے (سفر کے) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہو اور نہ (ان کے ساتھ جن کے پاس) گھنٹی ہو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ(صحيح مسلم:2114)

ترجمہ:گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔

بلی سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ:

٭بعض لوگوں میں یہ خیال ہے کہ جس گھر میں بلیاں رہتی ہیں اس گھر کی عورتوں کو حمل نہیں ٹھہرتا ہے۔ یہ جھوٹی بات ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اوپر آپ نے حدیث پڑھی ہے کہ بلی گھروں میں آنے جانے والی ہے، اس حدیث سے لوگوں کے خیال کی تردید ہوتی ہے۔

٭بعض لوگ بلی پالنے کو سنت سمجھتے ہیں جبکہ یہ عمل سنت نہیں ہے ، بلی پالنے کو جائز کہہ سکتے ہیں مگر یہ سنت نہیں ہے یا اس کے پالنے میں کوئی اجر وثواب نہیں ہے۔ ہاں جانوروں کے ساتھ بھی احسان وسلوک کرنے کی ترغیب  دی گئی ہے اور اس میں ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی نے ایک پیاسے کتے کو ہانپتے  دیکھا تو اس نے پانی پلادیا، اس عمل کی وجہ سے اللہ نے اس کی مغفرت کردی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا فَقَالَ: نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ (صحيح البخاري:6009)

ترجمہ: یا رسول اللہ! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں ہر تازہ کلیجے والے پر نیکی کرنے میں ثواب ملتا ہے۔

٭ لوگوں کا خیال ہے کہ بلی پالنے سے اور اس کو کھلانے سے گھر میں رزق آتا ہے ، برکت نازل ہوتی اور بلی دعائیں دیتی ہے۔ یہ لوگوں کا محض خیال ہے، قرآن و حدیث میں  اس قسم کی بات مذکور نہیں ہے ۔ جانور کے ساتھ احسان وسلوک کا معاملہ ایک الگ بات ہے جو صرف بلی نہیں بلکہ تمام حیوانات کے لئے عام ہے۔

٭لوگوں میں یہ بھی گمان پایا جاتا ہے کہ بلیاں پالنے سے دل کا دورہ اور فالج کا خطرہ ایک تہائی کم ہو جاتا ہے مگر یہ محض وہم وگمان ہی ہے، اس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔

٭ بلی راستہ کاٹ دے تو کچھ برا ہونے والا ہے، یہ بھی ایک گمان ہے مگر یہ بھی درست بات نہیں ہے۔ ایک مسلمان کو ہرگز ایسی بات پر یقین نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اللہ پر توکل و اعتماد کے خلاف ہے۔

٭ بعض لوگ  مخصوص وظیفہ پڑھ کر بلی کو کھانا کھلاتے ہیں تاکہ اس سے رزق اور بلی کی دعا ملے او ریہ بھی کہا جاتاہے کہ  بلی کو کھانا نہ دینے سے وہ  بددعا دیتی ہے۔ یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔

٭ رات میں بلی کے رونے سے نحوست لی جاتی ہے جبکہ اسلام میں نحوست کا کوئی تصور نہیں ہے۔

بلی پالنے سے نہ پالنا بہتر ہے:

آخری بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بے شک بلی پالنا جائز ہے لیکن بلی نہ پالنا بہتر ہے۔ اس کے متعدد وجوہات ہیں ۔ بلی پالنے میں وقت اور مال دونوں کا ضیاع ہے۔یہی وقت اور یہی مال اچھے مقاصد میں لگاتے ہیں تو زیادہ بہتر ہے۔ایک  بلی سے بکثرت بلیوں کاامکان ہے جو اذیت ، تشویش اور زیادہ تضییع اوقات واموال کا سبب ہے۔ کتنے لوگ  پریشان ہوکربلیوں اور ان کے بچوں کا قتل کرتے ہیں پھربلی پالتے ہی کیوں ہیں؟ بلی سے کاٹنے کا خطرہ بھی ہے، گھراور پڑوسی کے چوزے  بھی کھالیتی ہے، اس کی آواز سے گھر اور پڑوس کے لوگ پریشان ہوتے ہیں۔کندگی بھی پھیلاتی ہے، اس سے بدبو بھی نکلتی ہےجس کی  صفائی ستھراتی پر وقت لگتا ہے۔ہر ایک چیز کو چھوتی رہتی ہے بلکہ کچن کے اکثر سامانوں کو سونگھتی رہتی ہےاور اس میں اپنا لعاب چھوڑتی رہتی ہے۔ اس کے بال بکثرت جھڑتے ہیں جس سے گھر میں، بیٹھنے اور سونے  کی جگہ بدبو محسوس ہوتی ہے۔ بسا اوقات اس سے مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ اس لئے گھر میں نہ پالا جائے تو بہتر ہے۔ اگر کوئی بلی پالنے کا زیادہ شوق رکھتا ہے اور اس کے پاس، گھر سے باہر بلی رکھنے کی مناسب جگہ  ہے تو گھر سے باہر بلی کو رکھے۔مسائل تو یہاں بھی ہیں مگر گھر میں بلی رکھنے سے جو مسائل درپیش ہوتے ہیں ان سے بچ سکے گا ۔ میری نظر میں سب سے بہتر سرے سے بلی نہ پالنا ہے کیونکہ اسے نہ رسول اللہ ﷺنے پالا ، نہ صحابہ نے پالا اور نہ ہی آپ ﷺ نے اس کے پالنے کی ترغیب دی ہے۔ جہاں تک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات ہے تو انہوں نے اپنے گھر کوئی بلی نہیں پالی تھی۔ ایک چھوٹی بلی (بلی کا بچہ)تھی جسے آپ کسی درخت پر رات میں رکھ دیتے اور دن میں بکریاں چراتے وقت ساتھ لے لیتے  اور اس کے ساتھ کھیلتے ۔ جب وہی بچہ بڑا ہوگیا ہوگا تو کہیں چلا گیا ہوگا۔ جب کوئی بلی پریشان حال نظرآئے یا کوئی بلی بے سہارا ، اندھی، لنگڑی وغیرہ ملے جسے وقتی طور پر مدد کی  ضرورت ہو تو آپ ضرور اس کے ساتھ احسان وسلوک کریں۔ اس میں آپ کو اجر ملے گا۔ 

مکمل تحریر >>

سعودی عرب سے اتنا بغض و حسد کیوں؟

 

سعودی عرب سے اتنا بغض و حسد کیوں؟

تحریر: مقبول احمد سلفی- سعودی عرب

 سعودی عرب سے کفار اور اعدائے اسلام دشمنی کریں، یہ تو سمجھ میں آتا ہے مگر خود کو مسلمان کہنے والے بھی اس ملک سے بغض رکھیں ، یہ قابل حیرت و قابل افسوس دونوں ہیں۔یہ لوگ ایک طرف اخوانیوں اور خارجیوں کے دہشت گردانہ حملوں اور قتل وغارت گری  کو جائز سمجھتے ہیں ۔ اس طرزعمل کو شیعہ و روافض اپنائیں، وہ بھی ان کی نظرمیں قابل مدح  ٹھہرتے ہیں۔سنی مسلمانوں کاگاجر ومولی کی طرح  قتل عام کرکے  ان کے ممالک پر قبضہ کریں پھر بھی روافض ان کےپکے  دوست ویار ٹھہریں۔ مکہ و مدینہ پر روافض قبضہ کی سعی نامسعود کریں، اس  نیت سے ان مقامات مقدسہ پر حملہ کریں تب بھی روافض حق بجانب اور صراط مستقیم پر قائم ودائم شمار کئے جائیں ۔ دوسری طرف سعودی عرب اپنے ملک میں امن  وامان قائم کرے، توحید وسنت کا علم بلند کرے، شرک  وبدعات  پر بندش لگائے، مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے، کتاب اللہ اور سنت رسول کی بالادستی قائم کرے۔ پھران باتوں سے  دوسرے ملک کے مسلمانوں کو کیوں تکلیف پہنچ رہی ہے؟ دنیا بھرمیں سعودی عرب کی دینی اور مالی خدمات الگ ہیں، سال بھردنیا کے کونے کونے سے   آنے والے حرمین شریفین کے زائرین کے لئے  عمدہ  خدمات  بطور خاص موسم حج میں ضیوف الرحمن پر قابل دیدوداد ،احسان واکرام اپنی مثال آپ ہے۔

کیا ہی عجیب بات ہے کہ سعودی عرب سے  حسد میں اعدائے اسلام کی اسلام دشمنی بھی قبول مگر عرب کی خدمت  دین اسلام اور غلبہ توحید وایمان  قبول نہیں ۔ سعودی دشمنی میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ اس ملک کے خلاف یہودی بھی قبول، نصرانی بھی قبول، قادیانی بھی قبول، مجوسی بھی قبول، شیعہ روافض بھی قبول ، خارجی دہشت گرد بھی قبول یہاں تک کہ ہندو بھی قبول مگر سعودی عرب نہیں قبول۔ اس مقام پر میں وہی کہتا ہوں جو بنی اسرائیل کے ایک نبی نے کہا تھا جب ان کو ان ہی کی قوم نے مارا اور خون آلود کردیا۔ وہ نبی خون صاف کرتے جارہے تھے اور اپنی قوم کے لئے اللہ سے یہ دعا کرتے جارہے تھے: "اللَّهمَّ اغفِرْ لقومي فإنَّهم لا يعلَمونَ" کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔(بخاری:3477)

جب جزیرۃ العرب توحید وسنت کی بنیاد پر سعودی عرب بنا ، اس وقت کتاب وسنت کی بالادستی اور عقیدہ توحید کی حفاظت واستحکام کے لئے دو اہم بنیادی  کام انجام دئے گئے۔ پہلا کام حرم مکی سے چار مصلوں(حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کا خاتمہ اوردوسرا کام  شرک وبدعت کی تمامترعلامات(مزارات، قبے،شرکیہ درودیوار) کا قلع قمع۔  

پہلا کام اس غرض سے کیا گیاتاکہ  مسلمانوں کے اندر سے آباپرستی ، شخصیت پرستی ، اندھی تقلید اور افتراق وانتشار کا خاتمہ کرکےان سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور سارے مسلمان کتاب وسنت کے مطابق دین پر عمل کریں۔ سعودی عرب کے اس مبارک اقدام سے حقیقی مسلمان کو تکلیف نہیں ہونا چاہیے تھا مگر کتاب وسنت سے ہٹ کرتقلید کی روش اختیار کرنے والے کب اس بات کو گوارا کرسکتے ہیں بنابریں روز اول سے مقلدین اس غم میں مرے جارہے ہیں اور موقع بموقع سعودی عرب کے خلاف زبان درازی اسی پرانے درد کا اظہار ہے۔ لے دے کربیس رکعت تراویح سے کچھ غم غلط ہوا کرتا تھا ، اب وہ سہارا بھی نہ رہا۔

دوسراکام اس غرض سے کیا گیا تاکہ جس مقصد سے اللہ نے انسانوں کی تخلیق فرمائی اور اس مقصد حیات سے آگاہی کے لئےاس نے  ہرقوم وہردور میں اپنے پیغامبربھیجے ، اس غایت تخلیق اور مشن انبیائی میں سرفرازی حاصل کی جائے ۔ مسلمانوں کو خالق حقیقی اور معبودبرحق سے متعارف کراکر صرف اسی کے سامنے سربسجود ہونے کی تعلیم دی جائے۔ لوگوں کو غیراللہ کے درسے ہٹاکر دربارالہی سے وابستگی ، خالص ایک رب کی بندگی اور اسی سے استعانت و استغاثہ پر لگایا جائے۔  بھلا یہ اقدام قبرپرستوں، اہل مزارات ، اہل تصوف ، اہل بدعت اور اہل رفض وتشیع  کوکیسے پسند آئے گا۔ یہ لوگ تو اس دن کو یوم انہدام یا کالادن کے طور پر مناتے ہیں۔ ان لوگوں کا زخم حامیان چارمصلی سےکہیں زیادہ  گہرا ہے۔اسی سبب بلیک ڈے منانے کے ساتھ حرمین شریفین پر ناجائز قبضہ کرنے کاناپاک عزم رکھتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر قبرپرست ، اہل تصوف اور روافض سب ایک ملت ہیں بلکہ اخوانی، خارجی، تحریکی اور اسراری وغیرہ سب ان کے مویدین ہیں۔

رب کعبہ کی قسم ، سعودی عرب کوئی دینی کام نہ کرے، نہ اپنے ملک میں اور نہ دوسرے ممالک میں ، صرف پھر سے چار مصلے قائم کردے ، پہلا طبقہ پوری طرح خوش ہوجائے گا جس کو ان مصلوں کے خاتمہ سے تکلیف پہنچی ہےاور سعودی عرب کی تعریف کرنے لگ جائے گا۔ اسی طرح پھرسے  مزارات و شرکیہ قبے بنادئے جائیں اور اہل شرک وبدعت کو اپنے ملکوں کی طرح یہاں بھی شرکیہ اعمال کرنے کی چھوٹ مل جائے ، پھر آپ دیکھیں گے کہ دوسرے طبقہ سے متعلق سارے حامیان شرک وتصوف خوش ہوجائیں گے اور سعودی عرب کی واہ واہی کرنے لگ جائیں گے۔

اس پس منظر سے معلوم یہ ہوا کہ سعودی عرب سے دشمنی کی اصل وجہ یہاں پر توحید وسنت کی بالادستی ہے۔ اللہ رحم فرمائے مسلمانوں پر۔ جس بات پر سعودی عرب کی تعریف کرنی چاہئے، اس کا تعاون  کرنا چاہئے اور قدم سے قدم ملاکر اس کے ساتھ چلنا چاہئے ، اسی بات پرنام نہاد مسلمان اس ملک سے خفا ہیں ۔کم ازکم اتنی غیرت ہرمسلمان میں ہونی ہی چاہئے کہ یہ محمد ﷺ کا وطن رہا ہے، آپ یہاں پیدا ہوئے، یہیں پر وحی کا نزول  ہوااورآپ ﷺ پر قرآن اترا۔یہیں  پرآپ ﷺ کی قبرمبارک ہے۔یہ قیامت تک کے لئے مرکز اسلام رہے گا۔ دنیا کے کونے کونے سے سال بھر یہاں مسلمان آتے ہیں، یہیں عمرہ اور مناسک حج ادا کیا جاتا ہے۔یہاں دنیا کی سب سے پہلی مسجد(مسجدحرام) اور مسجد الرسولﷺ ہے،اسی ملک میں کعبہ ہے جس کی طرف منہ کرکے ساری دنیا کے مسلمان مردوعورت نماز ادا کرتے ہیں۔ حرمین شریفین اسی جگہ ہے۔ یہ سب ہمارے ایمان و اسلام کی باتیں ہیں، ان سب باتوں کے باوجود اگر اس ملک سے دشمنی ہے، یہاں سے نفرت ہے، اس ملک کو مٹتا ہوا دیکھنا پسند ہے، اس پر روافض کا قبضہ پسند ہےتو پھر کس بات کے مسلمان ہیں؟  کیا سعودی دشمنی میں ایمانی غیرت بھی مرچکی ہے؟ العیاذباللہ۔

مسجدحرام میں زنا کے ارتکاب پرکچھ دنوں پہلے ایک لڑکا اور ایک لڑکی کا سرقلم کیا گیا ہے۔ یہ  تعزیرانسانی تاریخ کا پہلا اور بےمثال نمونہ ہے۔جس مسجد میں ایک نماز، ایک لاکھ نماز کے برابر ہےاور جس کا تقدس امت مسلمہ کا متفقہ مسئلہ ہے۔ وہاں گھناؤنی حرکت کے سبب مجرم کو سزا دینے پر بھی نام نہاد مسلمان سعودی عرب کو بدنام کررہے ہیں۔ اس جگہ عرب کا بھی کوئی باشندہ ہوتا اس  کو بھی یہی سزا دی جاتی ۔ قصاص وحدود اور تعزیرات کے نفاذ میں رنگ ونسل کا امتیاز نہیں برتا جاتا بلکہ کتاب وسنت کی روشنی میں سب کے لئے یکساں فیصلہ کیا جاتاہے ۔ جن کے اپنے ملک میں کیسے کیسے فیصلے ہوتے ہیں، کیسے کیسے قوانین ہیں، کیسے کیسے امتیاز برتا جاتا ہے اور کس کس طرح  زانیوں اور قاتلوں کو بچایا جاتا ہے وہ  لوگ سعودی عرب میں نافذ شرعی قصاص پر باتیں کریں،  یہ جہالت تو ہےہی، ایمانی غیرت کا فقدان بھی  کہلائے گا۔ حد تو اس بات پر ہے کہ جس کو بول وبراز کا طریقہ   تک نہیں معلوم ،وہ آج سوشل میڈیا پر سعودی عرب کو قانون سکھارہا ہے۔

ساری باتوں کا ایک جملہ میں خلاصہ یہ ہے کہ سعودی سے دشمنی کی اصل وجہ  اس ملک کا توحید وسنت کی بنیاد پر قائم ہونا ہے جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ ایسے لوگوں کے حق میں  پھر سے وہی ستائے ہوئے ایک نبی کی دعا کرنا چاہتا ہوں۔ اللَّهمَّ اغفِرْ لقومي فإنَّهم لا يعلَمونَ

مکمل تحریر >>

قرآن بھولنے کا حکم

 

قرآن بھولنے کا حکم

تحریر: مقبول احمد سلفی – جدہ

 

قرآن کریم یاد کرنا بڑے شرف و منزلت کا مقام ہے اور جسے قرآن یاد ہو، اسے باربار دہرانا چاہئے ورنہ بہت جلد قرآن سینے سے نکل جاتا ہے اور بھلا دیا جاتا ہے۔

نبی ﷺ فرماتے ہیں:تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا.(صحیح البخاری:5033)

ترجمہ:قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتا ہے۔

یہاں اس بات کو سمجھنا ہے کہ آدمی قرآن بھولنا کیوں ہے، بسا اوقات یاد داشت کمزور ہوسکتی ہے اور عموما قرآن پڑھنے میں غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے جو اوپر والی حدیث سے واضح ہے اور مزید اس کی احادیث مروی ہیں مثلا،نبی ﷺ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ.(صحیح البخاری:5031)

ترجمہ:حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا۔

اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے:

وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ، وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ(صحیح مسلم:789)

ترجمہ:جب صاحب قرآن قیام کرے گا اور رات دن اس کی قراءت کرے گا تو وہ اسے یاد رکھے گا اور جب اس (کی قراءت) کے ساتھ قیام نہیں کرے گا تو وہ اسے بھول جائے گا۔

کوشش کے باوجود یا یادداشت کمزور ہونے کے سبب قرآن سے  کچھ حصہ بھول جائے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ آدمی کی طرف سے غفلت نہیں ہے لیکن جب حقیقت میں قرآن کے تئیں غفلت برت کر اسے بھلا دیا جائے تو اس میں گناہ ہوگا۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جو آدمی قرآن کو چھوڑ رکھے گا، قیامت میں رسول اللہ ﷺ اس کے خلاف مقدمہ کریں گے۔

 اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا(الفرقان: 30)

ترجمہ:اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

قرآن پڑھنے سے غفلت برتنا جس کے سبب آدمی قرآن بھولتا ہے، یہ مذکورہ ہجر میں داخل ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

مَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ:نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ(صحیح البخاری:5039)

ترجمہ:کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا بلکہ اسے (یوں کہنا چاہئے) کہ میں فلاں فلاں آیتوں کو بھلا دیا گیا۔

اس حدیث کی شرح میں ایک قول یہ ذکر کیا جاتا ہے جب آدمی قرآن یاد رکھنے میں کوتاہی اور غفلت برتتا ہے تو اس کو سزا یہ ملتی ہے کہ وہ قرآن بھلا دیا جاتا ہے۔ اس لئے کہا گیا کہ یہ مت کہو قرآن بھول گیا بلکہ کہو قرآن بھلادیا گیا۔

بعض علماء نے قرآن بھولنے کو گناہ کبیرہ ، بعض نے گناہ ، بعض نے مصیبت اور بعض نے سزا قرار دیا ہے جبکہ اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ صراحت نہیں ہے تاہم نصوص سے قرآن بھولنے کی شدت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں بعض خصوصی نص بھی وارد ہے مگر وہ ضعیف ہے مثلا

(1)نبی ﷺ فرماتے ہیں: مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ(سنن ابي داود: 1474، ضعفہ البانی)

ترجمہ:جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ہو کر ملے گا۔

(2)اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے:عُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا[سنن ابي داود:461، ضعفہ البانی]

ترجمہ: مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے۔

حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں ابوالعالیہ ریاحی سے موقوفا ایک اثر ذکر کیا ہے اور اس کی سند کو جید کہا ہے۔

كنا نعد من أعظمِ الذنوبِ أن يتعلمَ الرجلُ القرآنَ ثم ينامُ عنهُ حتى ينساهُ(الطبقات الكبرى لابن سعد)

ترجمہ:ہم اس بات کو بڑے گناہوں میں شمار کرتے تھے کہ کوئی شخص قرآنِ کریم سیکھے، پھر اسے چھوڑ کر سو جائے، یہاں تک کہ اسے بھول جائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ کوتاہی اور غفلت برتنے سے قرآن بھولنا گناہ کا باعث ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے بھی قرآن بھولنے کو گناہ کہا ہے لہذا قرآن کا حفظ باقی رکھنے کے لئے برابر اسے پڑھتا رہے اور کوشش بھر اپنے تئیں اس میں کوتاہی نہ برتے۔

مکمل تحریر >>