Tuesday, August 18, 2026

ہم میلادنہیں مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں

 

ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں

تحریر: مقبول احمدسلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

آپ نے باغ فدک کا واقعہ پڑھاہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محض اللہ کے رسول کی محبت میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک سے حصہ نہیں دیا تھا۔ اس میں خلیفہ اول کا ذاتی کوئی مفاد نہیں تھا، صرف اور صرف رسول اللہ کی سچی محبت کارفرما تھی مگر اس واقعہ کو بنیاد بناکر پوری شیعہ قوم ابوبکررضی اللہ عنہ کو بدنام کرتی ، گالی دیتی اور برے برے القاب سے پکارتی ہے ۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے وہ واقعہ پھر سے دہرا لیجئے تاکہ موضوع کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

٭پہلی حدیث میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مطالبہ ہے، بخاری میں حدیث اس طرح سے مروی  ہے۔

عن عائشة ان فاطمة، والعباس عليهما السلام اتيا ابا بكر يلتمسان ميراثهما من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهما حينئذ يطلبان ارضيهما من فدك، وسهمهما من خيبر.(صحیح البخاری:6725)

ترجمہ:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ فاطمہ اور عباس علیہما السلام، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبر میں بھی اپنے حصہ کا۔

٭سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس مطالبہ پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا جواب بخاری کی اگلی روایت کے حوالہ سے پڑھیں۔

فقال لهما ابو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" لا نورث ما تركنا صدقة، إنما ياكل آل محمد من هذا المال"، قال ابو بكر: والله لا ادع امرا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيه إلا صنعته(صحیح البخاری:6726)

ترجمہ:ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا، بلکہ جسے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا۔

فدک کے مطالبہ کے بعد ابوبکررضی اللہ عنہ کے جواب سے ہمیں کیا پتہ چلا؟

ہمیں یہ پتہ ابوبکررضی اللہ عنہ محبت رسول میں سراپا ڈوب کر یعنی خالص محمد ﷺ کی محبت کے پیش نظر آپ نے سیدہ فاطمہ کا مطالبہ منظور نہیں کیا۔ اس کے پیچھے ہرگزہرگز کوئی ذاتی مفاد نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی حدیث پر عمل کیا اور سنت کو زندہ کیا مگر شیعہ حضرات ابوبکررضی اللہ عنہ کی  اس خلوص بھری محبت کو بغض سے موسوم کرتےاور غصب کانام دیتے ہیں ۔

ٹھیک یہی معاملہ بریلوی حضرات کا میلادالنبی ﷺ سے متعلق اہل حدیث جماعت کے تئیں ہے ۔

ہم اہل حدیث نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کی وجہ سے آپ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں ، ہمارے سامنے آپ ﷺ کے متعدد فرامین ہیں جو میلادالنبی منانے سے روکتے ہیں مگر بریلوی حضرات ہماری اس محبت کو عداوت اور گستاخی کا نام دیتے ہیں ۔

آئیے چند نصوص آپ کی خدمت میں پیش کرکے ہم رسول اللہ ﷺسے سچی محبت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو اپنی اور رسول کی اطاعت کا واجبی حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران:32)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ منہ پھیریں تو بے شک اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

اس آیت میں صرف یہی نہیں کہاگیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ جو اطاعت نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ گویا اطاعت الہی اور اطاعت رسول ، محبت الہی کا ذریعہ ہے ۔

دوسری جگہ اللہ قرآن میں رسول کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء:65)

ترجمہ:سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کردیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول کے حکم وارشاد میں ذرہ برابر بھی  دل میں تنگی محسوس نہیں کرنی ہے، بلاچوں وچرا آپ کے حکم کو پورے طورپرماننا ہے یعنی اتباع رسول کا کامل نمونہ پیش کرنا ہے۔ یہی اتباع رسول محبت الہی اور محبت رسول کا سبب ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)

ترجمہ: (اے نبی!) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی محبت کا معیار اتباع رسول کو قرار دیا ہے ، یہی معیار رسول کی محبت کا بھی ہے یعنی جو رسول کی اطاعت کرے گا وہ اللہ سے بھی محبت کرتا ہے اور رسول سے بھی محبت کرتا ہے ۔

ان چند نصوص سے معلوم ہوا کہ ااتباع رسول محبت رسول کا نام ہے ، اس کے برخلاف کوئی رسول کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے ، یا آپ نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان کاموں سے نہیں رکتا ہے تو وہ رسول سے محبت نہیں کرتا بلکہ وہ رسول سے عداوت کرتا ہے ۔

پہلے وہ نصوص دیکھیں جن میں آپ ﷺ نے ہمیں مرضی عمل  کرنے اور  دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرنےسے منع کیا ہے ،یعنی صرف اور صرف وہی کام کرنا ہے جو جس کا حکم آپ ﷺ نے دیا ہے اور جس کام کا حکم نہیں دیا ہے وہ نہیں کرنا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

من أحدث في أمرِنا هذا ما ليس فيه فهو ردٌ(صحيح البخاري:2697)

ترجمہ: جس کسی نے ہمارے دین میں نئی چیز کی ایجاد کی جو دین سے نہیں ہے‘ تو وہ مردود ہے۔

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے : وَكلَّ محدثةٍ بدعةٌ وَكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ(صحيح النسائي: 1577)

ترجمہ: اور ہر نو ایجاد شدہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔

اب وہ نصوص دیکھیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو رسول کی اطاعت نہیں کرتےاور آپ کا حکم نہیں مانتے وہ ظالم ہیں، ان کے لئے درد ناک عذاب ہے اور وہ حوض کوثر سے دھتکارے جائیں گے ۔

فرمان الہی ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَیرِ هُدًى مِنَ اللهِ إِنَّ اللهَ لَا یهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ (القصص:50)

ترجمہ: اور اس شخص سے بڑا گمراہ کون ہوگا جو اللہ تعالى کی (نازل کردہ شرعی) ہدایت کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے ۔ یقینا اللہ تعالى ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:63)

ترجمہ:جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انھیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أنا فرَطُكم على الحوْضِ ، وليُرفَعنَّ رجالُ منكم ثمَّ ليختلِجن دوني ، فأقولُ : يا ربِّ أصحابي ؟ فيُقالُ : إنَّك لا تدري ما أحدثوا بعدك(صحيح البخاري:6576)

ترجمہ: میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹادیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

خلاصہ کلام یہ ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اطاعت  ویسے ہی کرتےہیں جیساآپ نےاطاعت کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے ، یہی اطاعت آپ سے محبت کی پہچان ہے اور آپ نے ہمیں دین میں نیا کام کرنے سے منع فرمایا ہے جس سے ہم رکتے ہیں ، یہ بھی اطاعت کا حصہ ہے اور یہ محبت رسول کی پہچان ہے ۔ جو رسول سے محبت کا دعوی کر ے مگر آپ کا حکم نہ مانے ، آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے ، وہ رسول سے محبت نہیں کرتا ہے اور دین میں نیا نیا کام ایجاد کرے وہ بھی رسول سے محبت نہیں کرتا کیونکہ وہ آپ ﷺ کے حکم کی مخالفت کررہا ہے ۔ اب ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر ہم عیدمیلادالنبی نہیں مناتے کیونکہ آپﷺ نے ہمیں نہ اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس پر عمل کرکے دکھایا ، یہ دین میں نئی ایجاد ہے تو ہم سچے محب رسول ہیں کہ نہیں ؟ اسی لئے  کہتے ہیں کہ ہم میلادنہیں  مناتے کیونکہ رسول سے سچی محبت کرتے ہیں لیکن ہماری سچی محبت کو عداوت وگستاخی کا نام دیا جاتا ہے ، یہ ٹھیک شیعوں کے  معاملہ  جیساہے جس طرح وہ باغ فدک کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔یا لیت قومی یعلمون

اسی تناظر میں  آخر میں یہ  بات عرض کرتا چلوں کہ چند دن پہلے بریلویوں کے امیر الیاس قادری عطاری کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ بتارہے تھے کہ اگر کوئی کہے کہ مجھے باپ سے محبت ہے مگر وہ اس کی بات نہ مانے تو وہ نافرمان ہے۔

یہی بات عربی شعر میں کچھ اس انداز میں کہی گئی ہے ۔

لوکان حبک صادقا لاطعتہ - ان المحب لمن یحب مطیع

شعر کا ترجمہ: اگر تمہاری محبت سچی ہوتی توتم اسکی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کامطیع و فرمانبردار ہوتا ہے۔

مکمل تحریر >>

Monday, June 8, 2026

وتر کی نماز کا حکم

 

وتر کی نماز کا حکم

 مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نماز وتر کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے۔ آپ ﷺ نے اس نماز کو حضر کی طرح سفر میں بھی متواتر ادا فرمایا ہے حتی کہ آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کو بھی اس پر مواظبت کی تعلیم دی ہے چنانچہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں:

أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ.(صحيح البخاري: 1981)

ترجمہ:میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔

نبی ﷺ نے نماز وتر پڑھنے کے تعلق سے اپنی امت کونماز وتر پڑھنے کی بڑی  تعلیم وترغیب دی ہے بلکہ اس نماز کی ادائیگی کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نیند سے بیدار کرتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ".(صحيح البخاري: 512)

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) بچھونے پڑ آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔

ان باتوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے، ایک مومن کو اس نماز کے تئیں  ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے خواہ سفر ہو یا حضر۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وتر کی نماز واجب ہے یا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے؟

اس مسئلہ میں امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور ایک روایت کے مطابق امام ابوحنیفہؒ  کا قول یہ ہے کہ نماز وتر مسنون ہے، واجب نہیں ہے، یہی قول امام محمدؒ اور امام ابویوسفؒ کا بھی ہے۔ اور دلائل کی روشنی میں وتر کا سنت ہونا ہی قوی ہے جس کی تاکید آئی ہے یعنی نماز وتر سنت موکدہ ہے۔ جن لوگوں نے وتر کی نمازکو واجب کہا ہے ان کی بات درست نہیں ہے۔

نماز وتر مسنون ہے، اس کے چند دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔

(1) وتر کی نماز فرض نہیں، سنت ہے، اس بارے میں سب سے اہم دلیل طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی  یہ حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ.(صحيح البخاري: 2678)

ترجمہ:ایک صاحب (ضمام بن ثعلبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ نماز اور ضروری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں یہ دوسری بات ہے کہ تم نفل پڑھو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور رمضان کے روزے ہیں۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ (روزے) واجب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ”سوا اس کے جو تم اپنے طور پر نفل رکھو۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا، کیا (جو فرض زکوٰۃ آپ نے بتائی ہے) اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی خیرات واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، سوا اس کے جو تم خود اپنی طرف سے نفل دو۔“ اس کے بعد وہ صاحب یہ کہتے ہوئے جانے لگے کہ اللہ گواہ ہے نہ میں ان میں کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہوا۔

یہاں پر فرض نمازوں کے بارے میں نبی ﷺ نے صرف پانچ نمازوں کا ذکر کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کہ پانچ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں جن میں وتر بھی ہے، فرض نہیں ہیں۔ شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ  یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ دن اور رات میں ان کے علاوہ کوئی دوسری نماز فرض نہیں ہے اور اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے جو وتر یا فجر کی سنت کو واجب قرار دیتے ہیں۔نیز یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے چنانچہ صحیح مسلم کے شارح امام نووی ؒ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر واجب نہیں ہے۔ نیز صحابہ نے بھی اس حدیث سے یہی سمجھاہے کہ وتر واجب نہیں ہے، اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔

(2)عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ.(صحيح البخاري: 1000)

ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے انہوں نےکہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ فرض نماز سواری پر نہیں ادا فرماتے، صرف نفل نماز سواری پر ادا فرماتے، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سواری پر وتر کی نماز ادا فرمایا کرتے، گویا وتر کی نماز فرض نماز میں سے نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ سواری پر ادا فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام بھی آپ ﷺ کی طرح وتر کی نماز سواری پر ادا فرمالیا کرتے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ.(صحيح البخاري:999)

ترجمہ: سعید بن یسار نے بتلایا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا۔ سعید نے کہا کہ جب راستے میں مجھے طلوع فجر کا خطرہ ہوا تو سواری سے اتر کر میں نے وتر پڑھ لیا اور پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔ آپ نے پوچھا کہ کہاں رک گئے تھے؟ میں نے کہا کہ اب صبح کا وقت ہونے ہی والا تھا اس لیے میں سواری سے اتر کر وتر پڑھنے لگا۔ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اچھا نمونہ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک ہے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔

(3)صحابہ کرام بھی  نمازوتر کو  پنج وقتہ نمازوں کی طرح واجب نہیں سمجھتے تھے  بلکہ اسے سنت ہی سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول دیکھیں۔

قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.(سنن ابن ماجه: 1169) صححہ البانی
ترجمہ:علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہےبلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے۔

ترمذی میں صراحت کے ساتھ سنت کا لفظ وارد ہے۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں:
الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:  إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ(سنن ترمذی:453)

ترجمہ:علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا اور فرمایا: اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن! تم وتر پڑھا کرو۔

ترمذی کی اگلی روایت ہے۔علی رضی الله عنہ کہتے ہیں:

الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(سنن ترمذی:454)
ترجمہ: وتر لازم نہیں ہے جیسا کہ فرض صلاۃ کا معاملہ ہے بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

کس قدر صراحت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وتر کا معاملہ پنج وقتہ فرض نمازوں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کا حکم سنت ہے۔

(4)اسی طرح ایک دوسرے صحابی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے وتر کو واجب کہنے والے کے بارے میں کہااس نے غلط کہا، وتر تو سنت نماز ہے۔ اس بارے میں حدیث دیکھیں۔

عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ.(سنن ابي داود: 1420)صححہ البانی

ترجمہ: ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔

پنج وقتہ فرض نمازوں والی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے صحابی رسول نے بالکل صراحت سے کہا کہ وتر کی نماز فرض نہیں ہے یعنی یہ نماز سنت ہے۔ فرض تو صرف پانچ اوقات کی نمازیں ہیں۔

(5) ایک احتمال یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز نہیں پڑھی۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے حج کا مفصل طریقہ بیان کیا ہے۔ اس میں مزدلفہ کی رات سے متعلق جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔

حتَّى أتى المُزدَلِفةَ، فصَلَّى بها المَغرِبَ والعِشاءَ بأذانٍ واحِدٍ وإقامَتَينِ، ولم يُسَبِّحْ بينَهما شيئًا، ثُمَّ اضطَجَعَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم حتَّى طَلَعَ الفَجرُ و صَلَّى الفَجرَ(صحيح مسلم:1218)

ترجمہ: آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پڑھیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی۔
اس  حدیث کی روشنی میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز ادا فرمائی یا نہیں ؟

ایک قول یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مزدلفہ کی رات بھی وتر کی نماز ادا فرمائی ۔ اس بات کے لئے عمومی دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سفر وحضر کبھی بھی وتر کی نماز نہیں چھوڑی۔ شیخ ابن عثیمین ؒ کا یہی رجحان ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز نہیں ادا فرمائی۔ یہ موقف  شیخ البانی ؒ  کا بھی ہے اور انہوں نے اس مسئلہ کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے، میں طوالت کے خوف سے متن ذکر نہیں کررہا ہوں تاہم اختصار کے ساتھ اس کا مفہوم بیان کرتا ہوں۔ شیخ البانی ؒ بیان کرتے ہیں۔

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے مزدلفہ کی رات فرض نمازوں کے جمع کرنے اور قصر کرنے کے علاوہ کوئی اور نماز ادا کی ہو۔ صحابۂ کرام جنہوں نے آپ ﷺ کے بارے میں یہ نقل کیا کہ آپ سوئے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اس میں ایک مضبوط اشارہ پایا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس رات صرف دو فرض نمازیں ادا کیں: نمازِ مغرب اور نمازِ عشاء۔

اس روایت سے ہم دو احکام اخذ کرسکتے ہیں:

پہلا حکم:

اللہ تعالیٰ نے عام سفر کی حالت میں اور خاص طور پر مزدلفہ میں جمع کی حالت میں مسلمانوں سے فرض نماز میں تخفیف فرمائی ہے۔ چنانچہ عشاء کی چار رکعتوں کو دو رکعت کردیا البتہ مغرب کی رکعتیں اپنی اصل حالت پر برقرار رہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسافروں کے لیے فرض نماز میں یہ تخفیف فرمائی ہے تو بدرجۂ اولیٰ نفل عبادات میں بھی تخفیف کا معاملہ ہوگا۔

ہر وہ شخص جو سنت کا فقیہ ہے، جانتا ہے کہ حاجی کی حالت عام مسافر سے زیادہ مشقت اور دقت والی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی تعجب نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات وتر کی نماز بھی ادا نہ کی ہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر مزید آسانی اور تخفیف تھی۔

دوسرا حکم:

نمازِ وتر فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وتر بھی پانچ فرض نمازوں کی طرح واجب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:نہیں، بلکہ یہ ایک سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمایا ہے۔

لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس رات وتر کو ترک کرنا اس بات پر بہت قوی دلیل ہے کہ وتر کا حکم فرض نماز کے حکم سے مختلف ہے۔ فرض نماز کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی لیکن وتر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات ترک فرمایا۔ اس سے ایک طرف پہلے حکم کی وضاحت ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وتر فرض نہیں بلکہ سنت ہے"۔(شیخ کے نام سے منسوب صوتیات والی ویب سائٹ سے ماخوذ)

میں نےمزدلفہ کی رات سے متعلق آپ کے سامنے دونوں موقف بیان کردیا، اگر پہلا موقف دیکھیں تب بھی وتر کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی اور اگر دوسراموقف یعنی شیخ البانیؒ کا موقف دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر سنت ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی معلوم رہے کہ حاجیوں کے لئے مزدلفہ کی رات وتر پڑھنا مشروع ہے کیونکہ نبی ﷺ نے سفر وحضر ہمیشہ وتر ادا فرمایا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے یہاں وتر واجب ہے جبکہ جمہور علماء(ایک قول کے مطابق امام ابوحنیفہؒ بھی) وتر کو سنت قرار دیتے ہیں اور اس مسئلہ میں دلائل کی رو سے وتر کا سنت موکدہ ہونا ہی قوی اور راحج معلوم ہوتا ہے۔

وجوب سے متعلق اشکال کا جواب

نماز وتر کے واجب ہونے سے متعلق بعض دلائل پیش کئے جاتے ہیں اختصار کے ساتھ ان کا جائزہ بھی پیش کردیتا ہوں تاکہ قارئین پر نفس مسئلہ پوری طرح واضح ہوجائے۔

(1) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ".(سنن ابي داود: 1422)

ترجمہ: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔

یہ حدیث سندا صحیح ہے مگر اس حدیث سےلفظ "حق" کے ذریعہ  وتر کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ وتر کی تاکید معلوم ہوتی ہے اور میں نے پہلے ہی بتادیا ہے کہ نماز وتر کی  بڑی تاکید و ترغیب آئی ہے۔

(2) بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا(سنن ابي داود:1419)

ترجمہ:وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔

اولا یہ حدیث ضعیف ہے، شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے کیونکہ اس میں عبیداللہ عتکی نامی راوی ضعیف ہے۔ بعض نے شواہد کی بنیاد پر حسن لغیرہ بھی کہا ہے۔ ایسی صورت میں اس حدیث کا معنی ہوگا کہ وتر حق ہے یعنی وتر پڑھنا ثابت ہے یا وتر ثابت شدہ امر ہے اور "جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں" کا مطلب ہے وہ ہمارے طریقہ اور ہماری سنت پر نہیں ہے۔ گویا اس سے وتر کی تاکید اور اہمیت معلوم ہوتی ہے، وجوب ثابت نہیں ہوتا۔

(3) سنن دارقطنی میں وتر سے متعلق   ایک روایت اس طرح مذکور ہے۔ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں:

الوِتْرُ حَقٌّ واجِبٌ، فمَن شاءَ أن يُوتِرَ بثَلاثٍ فلْيُوتِرْ، ومَن شاءَ أن يُوتِرَ بواحِدةٍ فليُوتِرْ بواحِدةٍ۔
ترجمہ: وتر واجبی حق ہے، جو تین پڑھنا چاہے وہ تین پڑھے، اور جو ایک رکعت پڑھنا چاہے وہ ایک رکعت وتر پڑھے۔

اولا یہ مرفوع نہیں ، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت ہے ،دوسری بات یہ ہے کہ امام بیہقی نے کہا کہ لفظ "واجب" صحیح نہیں ہے۔(الخلافيات:1412)

بلکہ ابن المنذر نے تو اس طرح بیان کیا ہے: "الوتر حق وليس بواجب" یعنی وتر پڑھنا تو ثابت ہے مگر واجب نہیں ہے۔ گویا یہاں پر بھی وجوب کی کوئی بات نہیں ہے۔

احناف اس حدیث کے پہلے ٹکڑا سے وتر کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں مگر اس میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا ثبوت ہے وہ نہیں مانتے، کتنی حیرت کی بات ہے۔

(4) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من نامَ عن وترِهِ أو نسيَهُ فليصلِّهِ إذا ذكرَهُ(سنن أبي داود:1431)
ترجمہ: جو وتر کی نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے۔

یہ حدیث سندا صحیح ہے اور اس حدیث سے نماز وتر فوت ہونے پر قضا کرنے کا علم ہوتا ہے، اس وجہ سے احناف اس سے استدلال کرتے ہیں کہ جو چیز واجب ہوتی ہے اسی کی قضا کا حکم دیا جاتا ہے۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ  سنت چھوٹنے پر اس کی بھی قضا کی جاسکتی ہے جیساکہ رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ ظہر کے بعد والی سنت ایک وفد کی آمد سے چھوٹ گئی تھی تو آپ نے عصر کے بعد اس کی قضا کیا۔ (بخاری:4370)

اس وجہ سے یہ کہنا کہ وتر کی قضا سے اس کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہ درست نہیں ہے۔

آخری بات:

پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ ہے۔سنت موکدہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس نماز سے غفلت برتیں بلکہ وہ یہ نماز ہے جس کی بڑی تاکید آئی ہوئی ہے اس لئے اس پر مواظبت کرنی چاہئے جیساکہ آپ ﷺ کا سفر وحضر میں معمول رہا ہے اور آپ کے پیارے اصحاب نے اس پر مواظبت فرمائی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ الفتاوی الکبری میں لکھتے ہیں :"الوتر سنة مؤكدة باتفاق المسلمين، ومن أصر على تركه فإنه ترد شهادته"یعنی  وتر تمام مسلمانوں کے نزدیک متفقہ طور پر سنت مؤکدہ ہے اور جو متواتر اسے چھوڑتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔

کبھی کبھار وتر چھوٹ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر مسلسل اس نماز کو چھوڑنابہت  بڑی غفلت اور محرومی ہے۔

 

 

مکمل تحریر >>

پردیسی کی اپنے ملک میں قربانی

 پردیسی کی اپنے ملک میں قربانی


بہت سارے لوگ روزگار کی تلاش میں گھروالوں اور اپنے وطن سے دور دوسرے ممالک میں اکیلے زندگی گزارتے ہیں ۔ عید الاضحی کے موقع پر وہ گھر والوں کا خیال کرکے اپنی قربانی اپنے وطن میں کرتے ہیں تاکہ اس کی طرف سے قربانی بھی ہوجائے اور گھر والے بشمول رشتہ دار حضرات قربانی سے فائدہ بھی اٹھالیں ۔ جب صورت حال ایسی ہو کہ ایک اکیلا شخص کسی دوسرے ملک میں ہو اور اس کی پوری فیملی دوسرے ملک میں ہو اور وہ اپنی قربانی اپنے اہل وعیال کے یہاں دینا چاہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

جب پردیس میں رہنے والا اپنےرہائشی ملک میں قربانی نہ دے کر ، اپنے اہل وعیال کے یہاں اپنی جانب سے قربانی دے گا تو اس کی قربانی کا جانور اس جگہ کے اعتبار سے ذبح کیا جائے گاجہاں قربانی دی جارہی ہے یعنی اپنے اہل وعیال کے اعتبار سے۔ جیسے پردیسی کے گھر والے عید کی نماز پڑھ لیں، اس کے بعد وہ قربانی دی جاسکتی ہے۔ قربانی ذبح کرنے  میں اس شخص کی جگہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گاجس کی جانب سے قربانی دی جارہی ہے بلکہ اس کے وکیل کی جگہ کا اعتبار ہوگا جہاں اس کی قربانی ہونی ہے۔ یہاں وکیل ، موکل کے قائم مقام ہے۔

لجنہ دائمہ سے ایک شخص نے سوال کیا ہے کہ اس کا ایک رشتہ دار علاج کی غرض سے امریکہ میں مقیم ہے اور اس نے اپنی قربانی خریدنے اور ذبح کرنے کے لیے اسے سعودی عرب میں وکیل بنایا ہے۔ اب وہ پوچھتا ہے کہ کیا وہ اپنی نمازِ عید ادا کرنے کے بعد اور امریکہ میں اپنے رشتہ دار کے یہاں نمازِ عید کا وقت داخل ہونے سے پہلے، اس کی قربانی ذبح کرسکتا ہے؟

اس پر لجنہ نے جواب دیا کہ وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ موکل کی قربانی اپنی نمازِ عید کے بعد ذبح کردے، اگرچہ موکل کے اعتبار سے ابھی عید کا وقت نہ ہوا ہو کیونکہ وکیل اپنے موکل کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قربانی اُس ملک میں وقتِ ذبح، داخل ہونے سے پہلے کی گئی ہو جہاں موکل مقیم ہے۔

اس میں ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ موکل اپنا بال وناخن کب کاٹے گا؟ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین ؒ نے کہا کہ جب اُس ملک میں، جہاں قربانی کروانے والا شخص موجود ہے، قربانی کا وقت شروع ہو جائے تو اس کے لیے بال، ناخن اور جسم کے بال وغیرہ کاٹنا جائز ہو جاتا ہے، اگرچہ ابھی اس کی قربانی حقیقتاً ذبح نہ ہوئی ہو۔ (100 سؤال وجواب في العمل الخيري/ سوال نمبر3: شیخ کی ویب سائٹ سے منقول)

اس میں ایک  دوسراقول یہ ہے کہ جب وکیل موکل کی طرف سے قربانی ذبح کردے تب اس موکل کے لیے بال اور ناخن کاٹنا جائز ہوگا۔ گویا وکیل کے یہاں محض قربانی کا وقت داخل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ قربانی ذبح ہونا ضروری ہے تبھی موکل اپنا بال وناخن کاٹ سکتا ہے۔ یہی دوسرا قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ بال و ناخن کاٹنے کا تعلق قربانی ہونے سے ہے، نہ کہ وقت داخل ہونے سے۔


کتبہ / مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

مکمل تحریر >>