Tuesday, July 4, 2017

اسلام میں غیبت کی اجازت کہاں تک ہے ؟

اسلام میں غیبت کی اجازت کہاں تک ہے ؟

تحریر: مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر- طائف

ایک بہن کا دکھ بھرا سوال ہے کہ اسلام میں غیبت کی اجازت کہاں تک ہے؟ وہ یہ بات گھریلو پریشانی اور سسرالی کلفت کے تناظر میں کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات انسان انتہائی مجبور ہوجاتا ہے وہ اپنے حالات سے تنگ ہوکرکسی کو اپنے حالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہے ۔ایسے حالات کبھی اپنے ہی گھر والوں کی طرف سے پریشان کن ہوتے ہیں تو کبھی ایک عورت کو اپنے سسرال والوں کی طرف سے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ خواتین اپنے سسرال کی شکوہ بھری باتیں اپنی کسی سہیلی سےکیا کرتی ہیں اب مسلہ یہ ہے کہ یہ ہے تو غیبت مگر پھر انسان اسطرح تو گھٹ گھٹ کر جئےگا پھر ایسی صورت میں سسرال میں تکلیف وپریشانی جھیل رہی خواتین یا اپنے گھروالوں کے ظلم وجورسہنے والوں کو کیا کرنا چاہیے؟
سماج میں غیبت عام ہے ، چھوٹی سی چھوٹی تکلیف پر ہم ایک انسان کی گھنٹوں برائی کرتے ہیں اور جابجا مختلف لوگوں سے اس کی غیبت کرکے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ یہ تو تکلیف کا معاملہ ہے ، بغیر تکلیف کے بھی غیبت کرنا ہمارا شیوہ بناہواہے ۔ کچھ لوگوں کی زندگی کا مقصد ہی دوسروں کی غیبت کرنا ہے۔ اس معاملہ میں عورتیں مردوں سے کہیں آگے ہیں ۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ غیبت کا انجام بہت ہی برا اور بھیانک ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ بہت سے لوگ دن بھر غیبت کرتے ہیں اور غیبت کیا ہے اس کا انجام کیا ہے جانتے ہی نہیں ۔
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: أتدرون ما الغيبة؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ذكرك أخاك بما يكره. قيل أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال: إن كان فيه ما تقول، فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهته(صحیح مسلم: 2589)
ترجمہ: حضرت أبو ہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا تذکرہ کرنا ایسی بات سے جو اسے ناپسند ہے، ایک صحابی نے عرض کیا: اگر میرے بھائی میں وہ بات ہو جو میں کہوں تب بھی یہ غیبت ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر اس میں وہ بات ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یقینا تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یقینا تم نے اس پر بہتان لگایا۔
اس حدیث کی روشنی میں کسی آدمی کا اس کی پیٹھ پیچھے ناپسندیدہ تذکرہ کرنا ،وہ تذکرہ خواہ اس کی برائی ، مال ودولت ، خاندان ، اوصاف ، غربت وناداری ، تمسخر یا دین ودنیا سے متعلق کسی سبب سے ہو ساری باتیں غیبت کے زمرے میں آتی ہیں ۔
غیبت کے اسباب میں ایک سبب بدظنی ہے ، آدمی دوسروں کے بارے میں براگمان کرکے اس کی غیبت شروع کردیتا ہے جبکہ اللہ تعالی ہمیں کسی کے متعلق براگمان کرنے سے منع کرتاہے ۔ اکثر غیبت کے پیچھے بغض وحسد کام کرتا ہے ، دوسروں کی نعمت اور اس کی دنیاوی یا دینی شان وشوکت سے جل بھن کر لوگوں کے سامنے ان کی غیبت کیاکرتا ہے ۔ اسلام نے ہمیں حسد کرنے اور کسی سے بغض رکھنے سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح دوسروں کا خواہ مخواہ مذاق اڑانا اورکسی دوسرے کو غیروں کے سامنے بے وجہ ذلیل ورسواکرنا بھی غیبت کا سبب ہے اور یہ سبب بڑے گناہ کا باعث ہے ۔ اسلام ہمیں اپنی زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔ کبھی انسان اپنا عیب چھپانے کے لئے دوسرے کو معطون کرنا شروع کردیتا ہے جبکہ اسلام نے ہمیں دوسروں کا عیب چھپانے کا حکم دیا ہے ، اگر وہ عیب اس میں موجود نہیں اور الزام لگائیں تو یہ انسانیت سے گری ہوئی بات ہے اور اللہ کے نزدیک شدید عتاب کا باعث ہے ۔ کبھی کبھی غصہ بھی غیبت کا سبب بن جاتا ہے ، ہمیں اپنے غصے کو قابو میں رکھنا چاہئے اور انسان مالی یا جسمانی اعتبار سے کمزور ہویا طاقتوراس کا احترام کرنا چاہئے ، اسلام نے ہمیں دوسروں کےخون، مال اور اس کی عزت وآبرو کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ کچھ لوگ دوسروں کو غیبت کرتا دیکھ کر وہ بھی غیبت شروع کردیتا ہے ، ایسے میں ہمیں غیبت والے ماحول سے دور رہنا چاہئے اور مقدوربھرچغلخوروں کی اصلاح بھی کرنی چاہئے ۔
معاشرتی طور پرایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جہاں آدمی کو حق بیانی کی ضرورت پڑتی ہےاس وقت غیبت کرنا جائز ہے ۔ جائز غیبت کا تین ہی مقصد ہے ایک تو یہ کہ ظلم سے نجات حاصل کرنا ہو ،دوسرا اصلاح مقصدہو اور تیسرا ضرورت کے تحت ہو۔
ظلم سے نجات کے لئے غیبت اس طرح کی ہوسکتی ہے مثلا کوئی عورت سسرال میں ظلم وستم برداشت کرتی آرہی ہے ، شوہر سے ظلم روکنا مشکل ہے یا ظلم میں شوہر بھی شریک ہے تو اس وقت گھروالوں سے سسرال کی پریشانی ذکر کرنا گناہ کا باعث نہیں ہے بلکہ یہاں مقصد ظلم سے نجات حاصل کرنا ہے مگر یاد رہے کہ عورتیں معمولی معمولی باتوں پہ شوہر کی یا سسرال والوں کی شکوے شکایات کرنا شروع کردیتی ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔ عورتوں کو معمولی مشکلات پہ صبر سے کام لینا چاہئے اور اگر ایسی مشکل درپیش ہوجائے جس پہ صبر کرنا محال ہوتو پھر اس کے ازالے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
اصلاح کے مقصد سے غیبت کی صورت یہ ہوگی کہ کوئی شراب پینے والے ہو، مال میں خیانت کرنے والاہو، ذمہ داری میں کوتاہی برتنے والاہویا جرم وگناہ کا ارتکاب کرنے والا ہوتو اولا ہمیں صاحب معاملہ سے ہی اس کا ذکر کرکے اصلاح کی صورت نکالنی چاہئے ، اگر صاحب معاملہ سے ملنا مشکل نہ ہویا اس کو نصیحت کرکےفائدہ نہ پہنچاہوتو پھر یہ بات ذمہ دار تک پہنچانی چاہئے اور مناسب کاروائی کرنی چاہئے تاکہ اس قسم کےجرائم اور برائیوں کا سدباب ہوسکے ۔
ضرورت کے وقت غیبت کی صورت یہ ہوگی کہ کوئی ہم سے کسی شخص کے اخلاق وکردار سے متعلق پوچھے اور اس شخص کا پوچھنا کسی ضرورت کے تحت ہومثلا نکاح کا معاملہ ہو یا کسی پر الزام تراشی کا معاملہ ہوتو ہمارے لئے اس وقت مطلوبہ آدمی کے اوصاف وعادات بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ضرورت کی اور بھی کئی صورت ہوسکتی ہے عدالت میں گواہی یا فتوی کے وقت استفساروغیرہ
اللہ تعالی ہمیں غیبت سے بچائے ۔ آمین

مکمل تحریر >>

Tuesday, November 29, 2016

رشتہ داروں سے قطع تعلق –ایک سماجی قہر

رشتہ داروں سے قطع تعلق –ایک سماجی قہر
===================
مقبول احمد سلفی
داعی /اسلامک دعوۃ سنٹر-طائف

یہ ایک اہم مسئلہ ہے ، لوگ آئے دن پوچھتے ہیں کہ میرے فلاں رشتے دار نے مجھ پہ زیادتی  کی ہے یا فلاں رشتہ دار کی طرف سے مجھے تکلیف پہنچ رہی وہ مجھ سے علیک سلیک بند کرچکے ہیں  بلکہ رشتہ بھی توڑچکے ہیں ۔صورت حال ایسی ہوکہ  رشتہ نبھانا مشکل ہو یعنی ایک طرف سے بیحد زیادتی ہے اس سے اپنی رشتہ داری کیسے نبھائی جاسکتی ہے یا یہاں ہمیں کیا کرنا چاہئے  ؟
یہ ایسے مسائل ہیں جن سے اکثر لوگ جوجھ رہے ہیں ، دراصل یہی مسائل گھروں کی تباہی ، گھریلوتنازعات، رشتے کے خون ، صلہ رحمی کےخاتمہ  اور فردوجماعت کی بربادی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔
میں اپنی ناقص نظر سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ ایسے مسائل میں اکثر یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ زیادتی ہوتی ہے جو عام طور سے مشاہدے میں ہے اور منطق بھی یہی کہتی ہے کہ اگر ایک طرف سے ظلم وزیادتی ہو تو معاملہ شدت نہیں پکڑے گااور تنازع کی صورت نہیں اختیار کرے گا۔ اس کی مثال میں یہ واقعہ پیش کرنا سبق آموزہوگا۔
ساس وبہو کی نوک جھونک  کسے معلوم نہیں ۔ایک ساس ہمیشہ اپنی بہوکو کڑوی کسیلی کہا کرتی ، بہوروز ساس کی گالی اور طعنے سنا کرتی ۔ بہوایک دن مولوی صاحب کے پاس گئی اور کہی کہ ایسا کوئی تعویذ لکھ دیں جس سے ساس مجھے گالی نہ دے ۔ مولوی صاحب نے ایک تعویذ لکھ دیا اور کہا کہ جب ساس گالی دینے لگ جائے اس وقت یہ تعویذ منہ ڈال لینا اور کس کے منہ بند کرلینا ،خیال رہے منہ کھلنے نہ پائے ۔ بہو تعویذ لیکر گھر آگئی ۔ اب ہمیشہ کا معمول یہ تھا کہ ساس جب بھی گالی دینے لگ جاتی بہو منہ میں تعویذ لیکر منہ کو کس کے بند کرلیتی ۔ ایک دن ہوا، دو دن ہوا، روز بروز ساس کی گالیاں کم ہوتی گئیں ۔ یہاں تک کچھ دنوں کے بعد گالی نہ کے برابر تھی اور دھیرے دھیرے وہ گالی بھی ختم ہوگئی اور ساس وبہو میں الفت ومحبت پیدا ہوگئی ۔
کہیں میرے اس واقعہ سے یہ نہ سمجھ لیں کہ تعویذ نے اپنا کوئی اثر دکھایا /یا تعویذ استعمال کرنا  جائزہے ۔ نہیں یہاں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کوکوئی گالی دے اور آپ اپنا منہ بند رکھیں یعنی گالی کا جواب نہ دیں  تو معاملہ آگے نہیں بڑھے گا ، وہیں ختم ہوجائے گا۔
گالی گلوج دینا ، ظلم کرنا، کینہ کپٹ رکھنا، بغض وحسد کرنا، غرور وتمکنت کرنا، کسی کو حقارت سے دیکھنا، امیری پر اترانا، عہدہ ومنصب کا بڑکپن ظاہرکرنا، رشتہ داروں کو غریبی ، بیماری،یتیمی ، کم مائگی اور بے سروسامانی کی وجہ سے حقیر سمجھنا - یہ سب سماجی وبائیں ہیں  جو قہربن کر ہمارے سماج وسوسائٹی کے صالح عناصر کا خاتمہ کردیتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اسلام ان تمام باتوں سے روکتا ہے جن سے سماجی بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور مثالی معاشرہ کے لئے رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہمیں اگر پاکیزہ اسلامی معاشرہ چاہئے تو وہاں سے مذکورہ وباؤں کو ختم کرنا ہوگا اور ان کی جگہ الفت ومحبت ، اخوت ومروت ، حسن ظن وحسن تعامل ، بلندکردارو پاکیزہ خیالات، صلہ رحمی و کنبہ پروری  ، اکرام واحترام ،نرمی وبردباری،احسان وسلوک ،انفاق وارمغان کو اپنانا،اوامرکی بجاآوری  کرنااور منہیات کا سد باب کرنا ہوگا۔
سماج میں صرف دوطرفہ ہی زیادتی نہیں ہے بلکہ بہت سی  یک طرفہ زیادتیاں بھی ہیں۔ ساس وبہو کے مسائل ، بھائی وبہن کے مسائل ،والدین کے مسائل ،زوجین کے مسائل ،  اولاد کے مسائل ، سسرالی مسائل ، گھریلومسائل ، رشتہ داروں کے مسائل ۔ ان مسائل میں بعض دفعہ ایک کی طرف سے دوسرے کے اوپر بہت زیادہ ظلم ہوتا ہے ، بلاکسی سبب کے زیادتی کی جاتی ہے ، دوسری طرف سے مکمل سکوت ہے ، کوئی جوابی کاروائی نہیں پھر بھی ایک طرف سے ستم بالائےستم ہوتے جارہاہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کوئی کتنا صبر کرے، صبر کی کیا انتہا ہے ؟ یا کیا ایسی صورت میں کسی رشتہ دار سے قطع تعلق کیا جاسکتا ہے ؟
میرا جواب یہ ہے کہ صورت حال کچھ بھی ہو اسلام نے اپنے رشتہ داروں سے کبھی بھی قطع تعلق کا حکم نہیں دیا ہے ۔ ہمارے رشتے دار ایک جسم کے مختلف اعضاء کی حیثیت سے ہیں ۔ اگر یہ الگ الگ ہوگئے تو جسم باقی نہیں بچے گا ٹکرا ٹکرا ہوجائے گا۔

آئیے ایک نظر رشتے داری سے متعلق اسلامی احکام دیکھتے ہیں ۔
اولا: اسلام نے ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیایعنی رشتہ داروں سے رشتہ قائم کئے رکھیں ۔
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ومن كان يؤمن بًالله واليوم الآخر فليصل رحمه (صحيح البخاري:6138)
ترجمہ: جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہئے ۔

ثانیا: صلہ رحمی کی ترغیب کے ساتھ اجر کا وعدہ کیاگیا کیونکہ کبھی کبھار آدمی نفس کی پیروی میں آکر اپنے رشتہ داروں سے مقاطعہ کرلیتا ہے، ایسے لوگوں کو صبر اور ایذاء برداشت کرنے کا اجر نیکی کی طرف راغب کرے گا۔ اس سے متعلق بہت ساری احادیث ہیں چند ایک آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔
(1) نبی ﷺ نے فرمایا:
أَحَبُّ الأعمالِ إلى اللهِ إيمانٌ بالله ، ثم صِلَةُ الرَّحِمِ ، ثم الأمرُ بالمعروفِ و النَّهيُ عن المنكرِ . (صحيح الجامع:166)
ترجمہ: اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اس پر ایمان لانا، پھرصلہ رحمی کرنا، پھر بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من سَرَّهُ أن يُبسطَ له في رزقِه ، أو يُنسأَ له في أَثَرِهِ ، فليَصِلْ رحِمَه( صحيح البخاري:2067)
ترجمہ: جو شخص اپنے رزق میں وسعت اور عمر میں اضافہ پسند کرے وہ صلہ رحمی کرے ۔
(3)ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
أن رجلًا قال للنبيِّ صلى الله عليه وسلم : أَخْبِرْني بعملٍ يُدْخِلُني الجنةَ . قال : ما له ؟ ما له ؟ وقال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : أَرَبٌ ما له ! تَعْبُدُ اللهَ ولا تُشْرِكْ به شيئًا ، وتُقِيمُ الصلاةَ ، وتُؤْتِي الزكاةَ ، وتَصِلُ الرَّحَمَ .(صحيح البخاري:1396)
ترجمہ:ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا ، آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے۔ ( سنو ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰة دو اور صلہ رحمی کرو۔

ثالثا: دوسری طرف جو لوگ صلہ رحمی نہیں کرتے ، رشتہ داریاں توڑتے ہیں انہیں ڈرایاگیا، سزائیں سنائی گئیں تاکہ دل میں خوف پیدا ہواور قطع تعلق سے رک جائے ۔
(1)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وأبغضُ الأعمالِ إلى اللهِ الإشراكُ باللهِ ثم قطيعةُ الرَّحِمِ( صحيح الجامع:166)
ترجمہ: اوراللہ کے نزدیک سب سے بُرا عمل رب کائنات کے ساتھ شرک کرنا، پھر رشتہ داری توڑنا ہے۔
(2)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ما من ذنبٌ أجدرُ أن يُعجِّلَ اللهُ لصاحبِه العقوبةَ في الدنيا مع ما يدَّخِرُ له في الآخرةِ من البغيِ وقطيعةِ الرحمِ(صحيح ابن ماجه:3413)
ترجمہ: کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اس کا کرنے والا دنیا میں ہی اس کا زیادہ سزا وار ہو اور آخرت میں بھی یہ سزا اسے ملے گی سوائے ظلم اور رشتہ توڑنے کے۔
(3)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إنَّ أعمالَ بَني آدمَ تُعْرَضُ كلَّ خميسٍ ليلةَ الجمعةِ ، فلا يُقْبَلُ عملُ قاطعِ رحمٍ(صحيح الترغيب:2538)
ترجمہ: اولاد آدم کے اعمال جمعرات کی شام اور جمعہ کو اللہ تعالیٰ کو پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رشتہ توڑنے والے شخص کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا۔
(4)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا يدخلُ الجنةَ قاطعُ رحمٍ(صحيح مسلم:2556)
ترجمہ: جنت میں رشتہ توڑنے اور کاٹنے والا نہ جائے گا۔

رابعا: بشر ہونے کے ناطے انسان جذبات میں آسکتا ہے ، غصہ کے عالم میں کسی  سے رشتہ توڑ سکتا ہے ۔ اگر ایسا کبھی ہوجائے تو ایک مومن کو دوسرے مومن سے خواہ رشتہ دار ہوں یا عام مسلمان تین دن سے زیادہ قطع کلام کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ قطع کلام اور قطع تعلق میں بہت فرق ہے ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی سے تین دن تک قطع کلام کرسکتے ہیں مگر قطع تعلق کبھی نہیں کرسکتے ۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحلُّ لمسلمٍ أن يَهْجرَ أخاهُ فوقَ ثلاثِ ليالٍ ، يلتقيانِ فيُعرِضُ هذا ويُعرِضُ هذا ، وخيرُهُما الَّذي يبدأُ بالسَّلامِ(صحيح مسلم:2560)
ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زیادہ چھوڑے رکھے وہ دونوں ملیں تو یہ اس طرف منہ پھیر لے اور وہ (اس طرف) منہ پھیر لے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔

خامسا: رشتہ توڑنا موجب جہنم ہے ،لہذا کوئی کسی سے رشتہ نہ توڑے ،یہی وجہ ہے کہ دولوگوں میں قطع تعلق ہو تود وسرے مسلمان ان دونوں بھائیوں کو آپس میں ملانے کی غرض سے جھوٹ بول سکتے ہیں ۔
سیدہ ام کلثو بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں : میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی کہیں اجازت دی ہو مگر تین مواقع پر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
لا أعدُّه كاذبًا الرجلُ يصلحُ بين الناسِ يقولُ القولَ ولا يريدُ به إلا الإصلاحَ ، والرجلُ يقولُ في الحربِ ، والرجلُ يحدثُ امرأتَه ، والمرأةُ تحدثُ زوجَها.(صحيح أبي داود:4921)
ترجمہ: میں ایسے آدمی کو جھوٹا شمار نہیں کرتا جو لوگوں میں صلح کرانے کی غرض سے کوئی بات بناتا ہو اور اس کا مقصد سوائے صلح اور اصلاح کے کچھ نہ ہو ، اور جو شخص لڑائی میں کوئی بات بنائے اور شوہر جو اپنی بیوی سے یا بیوی اپنے شوہر کے سامنے کوئی بات بنائے ۔

سادسا: آخری مرحلے میں یہ آتا ہے کہ آدمی دوسری طرف سے تکلیف جھیلتا ہے اور اس تکلیف پر صبر کرتا اور خاموشی اختیار کرتا ہے دراصل ایک مومن سے یہی مطلوب ہے جو صبر کا دامن چھوڑدیتے ہیں اور قطع تعلق کا راستہ اپناتےہیں وہ غلط کرتے ہیں انہیں نبی کریم ﷺ کی اس حدیث پر عمل کرنا چاہئے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:
أنَّ رجلًا قال : يا رسولَ اللهِ ! إنَّ لي قرابةً . أصِلُهم ويقطَعوني . وأُحسِنُ إليهم ويُسيئون إليَّ . وأحلمُ عنهم ويجهلون عليَّ . فقال " لئن كنتَ كما قلتَ، فكأنما تُسِفُّهمُ المَلَّ . ولا يزال معك من اللهِ ظهيرٌ عليهم ، ما دمتَ على ذلك " .(صحيح مسلم:2558)
ترجمہ: میرے رشتہ دار ہیں لیکن ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں وہ لوگ قطع رحمی سے کام لیتے ہیں، میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں، میں بردباری کا معاملہ کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ زیادتی کا معاملہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:اگر تم ایسے ہی ہو جیسا کہا، تو گویا ان پر قوموں کا افسوس ہے، جب تک تم اپنی اسی حالت پر رہوگے اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی۔
آخر میں خلاصہ کے طور پر یہ کہنا چاہتاہوں کہ جہاں ایک ساتھ کئی افراد رہتے ہیں وہاں آوازپیدا ہونا فطری امر ہے ۔ کسی بات پر اختلاف ہوجائے گا، کسی بات  سے رنجش ہوسکتی ہے ، کبھی یونہی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ، کبھی کسی کے بہکاوے کے شکار ہوسکتے ہیں ۔ ہمارے لئے یہ مناسب ہے کہ جہاں زیادتی ہوجائے وہاں کسی ثالث کے ذریعہ معاملہ حل کرلیں ، جہاں غلط فہمی اور بہکاوے کا امکان ہو وہاں بغیر ثبوت کے کوئی بات تسلیم نہ کریں اور اپنے رشتہ دار کے متعلق حسن ظن ہی رکھیں ، اگر جھگڑالرائی کی نوبت آجائے تو آپس میں صلح وصفائی کرلیں ، حقوق کا معاملہ ہوتو پنچایت کرکے حقوق طلب کریں مگر ہمیں کسی بھی صورت میں کسی بھائی سے قطع تعلق نہیں کرنا ہے خواہ ستم پر ستم کرے ۔ جو صبر کا دامن تھامے گا اور کسی رشتہ دار کی طرف سے ایذاء برداشت کرے گا اللہ اس کے ساتھ ہے اور اس وقت تک اس کے  نامہ اعمال میں اجر لکھتا رہے گاجب تک زیادتی پر صبر کرتا رہے گا۔

نوٹ : رشتہ داروں سے قطع تعلق –ایک سماجی قہر ہے ، اس لئے جو لوگ رسائل وجرائد اور اخبارات والے ہیں ان سے گذارش ہے کہ اس مضمون کو اپنے شمارے میں جگہ دیں ، آپ کو اگر ورڈ فائل چاہئے تو مجھے ایمیل فراہم کریں بھیج دیتاہوں ۔ دیگر احباب سے اسے شیئر کرنے کی التماس ہے ۔
مکمل تحریر >>

Saturday, October 29, 2016

کیا غیراللہ کا ڈر شرک ہے ؟

کیا غیراللہ کا ڈر شرک ہے ؟

سوال :اللہ کے علاوہ دل میں کسی اور کا ڈر پیدا ہونے سے کیا شرک ہوجاتا ہے ؟
جواب :اللہ کا ڈراور اس کا خوف عبادت ہے ، بندہ جس قدر اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوگا اللہ کا اتنا مقرب اور محبوب ہوگا ۔ اللہ تعالی نے انسان کو محض اس سے ڈرنے کا حکم دیا ہے ۔ فرمان الہی ہے :
وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [البقرة: 40].
ترجمہ: اور مجھ ہی سے ڈرو۔
اللہ کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب:70)
ترجمہ:اےایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات صاف سیدھی کیا کرو۔
ایک دوسری جگہ ارشادربانی ہے :
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا[المائدة: 44]
ترجمہ: اب تمہیں چاہیے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے سے مول نہ بیچو۔
یہ ڈر اور خوف اللہ سے اپنی بساط بھر ہونا چاہئے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ [آل عمران: 102]
ترجمہ:اےایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا[آل عمران: 102]
گویا ڈرنے کا مستحق محض اللہ تعالی ہے اس کے مقابلے میں کسی سے ڈرنا عبادت میں شرک کہلائے گا اس کی دو صورت بن سکتی ہیں ۔
پہلی صورت : بندوں سے ڈرکر دین پر عمل کرنا چھوڑدے ۔
دوسری صورت: غیراللہ سے اس طرح ڈرنا یا ڈرنے کا عقیدہ رکھناکہ وہ اللہ کے بغیر خود سے نقصان پہنچاسکتا ہے مثلا بت، ولی ، جن ، میت اور خیالی بھٹکتی ارواح وغیرہ
اس با ت ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں انداز میں کیا ہے :
إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ[آل عمران: 175]
ترجمہ: یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو۔
اس لئے کسی صورت میں اللہ کے علاوہ دل میں دوسروں کا ڈر نہیں پیدا کیا جائے گا ، نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے ،اللہ کے حکم کے بغیر کوئی ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا، فرمان الہی ہے :
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ‌ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌(سورة الأنعام:17)
ترجمہ: اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے  اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
خوف بے چینی کا نام ہے جو بندہ کے دل میں فرائض و واجبات میں کوتاہی اور معصیات کے ارتکاب پر پیدا ہوتی ہے ، اسی طرح بندہ طاعت کرکے عدم قبولیت کے خدشے سے بھی ڈرتارہتاہے ۔
ہاں طبعی خوف اس خوف سے مستثنی ہے ، وہ فطری چیز ہے ، سانپ کو دیکھ کر، درندوں کو دیکھ کر انسان ڈرجاتا ہے ۔ یہ ڈر اللہ کے مقابلے میں نہیں ہوتا ہے یہ محض فطرتا ایسا ہوتا ہے جیساکہ موسی علیہ السلام سانپ سے ڈرگئے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ (النمل :10)
ترجمہ: تو اپنی لاٹھی ڈال دے ،موسی نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے تو منہ موڑے ہوئے پیٹھ پھیرکر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ،اے موسی! خوف نہ کھا،میرے حضور میں پیغمبرڈرا نہیں کرتے ۔
اللہ سے ڈرنے کا بدلہ جنت ہے ،اللہ کا فرمان ہے :
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى،فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى [النازعات: 40، 41]
ترجمہ: ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔ تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔
اللہ تعالی ہمیں خوف و خشیت کی صفت سے متصف کردے ۔ آمین
واللہ اعلم
کتبہ

مقبول احمد سلفی 
مکمل تحریر >>

اہل کبائر کے لئے نبی ﷺ کی شفاعت

اہل کبائر کے لئے نبی ﷺ کی شفاعت
==================
مقبول احمد سلفی

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي(صحيح الترمذي:2436، صحيح أبي داود:4739،صحيح الجامع:3714، صحيح الترغيب:3649)
ترجمہ:میری امت میں جولوگ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لیے ہو گی۔
یہ صحیح حدیث ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ شرک اکبر، نقاق اکبراور کفراکبر سے پاک ہوں گے، گناہ کبیرہ کے شکار ہوں گے ان کے لئے نبی ﷺ کی شفاعت ہوگی ۔ اور وہ شفاعت رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے جہنم سے نکالے جائیں گے ۔ اللہ تعالی بندوں کو حد سے زیادہ معاف کرنے والا ہے ، اس کی رحمت کی انتہا نہیں ۔
 یہاں ایک بات ہمیں ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اللہ جہاں اپنے بندوں کو بے پناہ معاف کرنے والا ہے وہیں بے پناہ سزا دینے والا بھی ہے ۔ مذکورہ حدیث پر شفاعت کا بھروسہ کرکے گناہ کبیرہ کرنے والا سخت بھول کا شکار ہے ۔ احادیث میں معمولی گناہ پر بھی جہنم میں جانے کا ذکر ملتا ہے۔ گناہ کبیرہ کرتے کرتے کہیں کفر پر نہ موت ہوجائے اور جہنم ہمیشہ اس کا ٹھکانہ قرار پائے ۔ اس لئے اللہ کے عذاب سے بے خبر ہوجانے والا نقصان اٹھانے والا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
فلا يأمن مكر الله إلا القوم الخاسرون[الأعراف: 99].
ترجمہ: کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگئے ،سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔
اس لئے مسلم بندہ جہاں اللہ تعالی سے نیکی کرکےاس کی قبولیت اور اجر و ثواب کی  اللہ سے امید رکھے وہیں گناہ وجرم پر اس کی پکڑ سے بھی سدا خوف کھاتا رہے ۔
مکمل تحریر >>

Monday, August 1, 2016

چاپلوسی : ایک سماجی ناسور

چاپلوسی : ایک سماجی ناسور

تحریر: مقبول احمد سلفی
داعی /دفترتعاونی برائے دعوت وارشاد،طائف، سعودی عرب

تملق و چاپلوسی صالح معاشرہ کے لئے کینسر ہے ۔ چاپلوسی میں  ایک چاپلوس کی انفرادی منفعت ہوتی ہے جبکہ پورے سماج کے لئے نقصان ہی  نقصان ہوتاہے۔ یہ اتنی مذموم حرکت ہے کہ اسے سماج میں گندے اور گھناؤنے القاب سے جانا جاتا ہے مثلا تلوے چاٹنا، خصیہ برداری کرنا  اورچمچہ گری کرنا وغیرہ
چاپلوسی کے اسباب ومقاصد سے اس کا منفی پہلو واضح ہونے کے ساتھ اس کا علاج بھی مل جاتا ہے ۔

پہلا : آرام پسندی :-
 کبھی کبھار آرام پسندی آدمی کو چاپلوس بنادیتی ہے وہ بغیر محنت کے چاپلوسی کی کمائی کھانا چاہتا ہے جبکہ ہمیں اسلام نے کسب معاش کے لئے جدوجہد پہ ابھارا ہے ۔ حدیث رسول ﷺ ہے :
ما أَكَلَ أَحَدٌ طعامًا قطُّ ، خيرًا من أن يأكلَ من عملِ يدِه ، وإنَّ نبيَّ اللهِ داودَ عليهِ السلامُ كان يأكلُ من عملِ يدِه( صحيح البخاري:2072)
ترجمہ: کسی آدمی کے لیے اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے کہ اپنے ہاتھ سے محنت کرکے کھائے اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔
یہ حدیث ہمیں معاش کے لئے محنت کرنے پہ ابھارتی ہے جو بغیر محنت کے چاپلوسی کی کمائی کھانا پسند کرتے ہیں وہ حرام کاری میں مبتلا ہیں اسے توبہ کے ساتھ ساتھ رزق حلال کمانے کی ضرورت ہے  ۔

دوسرا: شہرت طلبی : -
چاپلوسی کی ایک دوسری وجہ جھوٹی شہرت حاصل کرنا تاکہ لوگوں میں اس کی قدرومنزلت بڑھے اور جس کی چاپلوسی کرتا ہے اس کی نظر میں معتبرگردانا جائے ۔ واضح رہے اس کے بڑے خطرات ہیں ان میں جھوٹی تعریف یا  کسی کے سامنے تعریف کرنا بھی ہے جو اسلام کی نظر میں معیوب ہی نہیں شدید قسم کا منکر ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :
إذا رأيتُم المدَّاحينَ ، فاحْثُوا في وجوهِهم التُّرابَ.(صحيح مسلم:3002)
ترجمہ: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔
یہ حال ان لوگوں کا ہے جو سامنے صحیح تعریف کرتے ہیں تو جو جھوٹی تعریف کرے ان کا کیا حال ہوگا؟
ایک بار نبی ﷺ نے بنی عامر کے وفد کو اپنے لئے سید استعمال کرنے پہ ٹوک دیا اور فرمایا: ولا يَسْتَجْريَنَّكم الشيطانُ(صحيح أبي داود:4806) یعنی شیطان تمہیں میرے سلسلے میں جری نہ کر دے کہ تم ایسے کلمات کہہ بیٹھو جو میرے لئے زیبا نہ ہو۔
اس کے علاوہ اس میں منافقت اور دنیا طلبی بھی ہے جو ایمان کے لئے بہت خطرناک ہے ۔

تیسرا : ماحول کا اثر:-
کچھ لوگ ماحول سے ماثر ہوکر اس بیماری میں مبتلاہوجاتے ہیں ۔ اس لئے اچھے ماحول میں رہنا، اچھا ساتھی بنانا اور ہمیشہ اللہ کی بندگی کرتے رہنا انسان کو ہمیشہ ذلت ورسوائی سے بچائے گا ۔

چوتھا : دوسروں کی ایذاررسانی :-
بسااوقات دوسروں سے بدلہ لینے یا نقصان پہنچانے یا دوسروں کی چغلخوری  انسان کو چاپلوسی کے راستے پہ لگادیتی ہے ۔ مومن بندہ کبھی بھی کسی مومن کو تکلیف نہیں دیتا ۔ اور وہ مسلمان ہی نہیں جو دوسرے بھائی کو تکلیف دیتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
المسلمُ من سلِم المسلمون من لسانِه ويدِه(صحيح البخاري:6484)
ترجمہ : مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے یعنی جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ رہیں وہ مسلمان ہی نہیں ۔
جو غیبت و چغلی کرتا ہے وہ بھی دوسرے بھائی کو تکلیف دیتا ہے اس کا بھی اسلام سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے لہذا مسلمان کو اپنی زبان اور ہاتھ کو غلط استعمال سے بچائے ۔ اس غلط استعمال سے دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوسکتی ہے ۔

پانچواں : عیب پوشی :-
اپنی عیب پوشی کی خاطر بھی چاپلوسی کی جاتی ہے ۔ اس قسم کا علاج یہ ہے کہ اگر رب کا گنہگار ہے تو رب سے معافی مانگ لے اور سچی توبہ کرلے ۔ اورانسان اگر انسان کا گنہگار ہے تو پھراس سے معافی طلب کرلے ۔ یہ بڑا سخت مرحلہ ہوتا ہے ۔ رب سے معافی مانگی آسان ہے مگر بندوں سے معافی ذلت تصور کیا جاتا ہے ۔ بندہ یہ بھول جاتا ہے کہ کل قیامت میں آج سے کہیں زیادہ ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا جہاں رشتے ناطے اور دوست واحباب سے لیکر پوری دنیا والے ہوں گے ۔ دانا وبینا وہی ہےجوبڑی ذلت سے بچنے کے لئے  چھوٹی ذلت برداشت کرلے ۔ حقیقت میں اپنی غلطی کی معافی مانگنا ذلت نہیں بڑکپن ہے ،اس بڑکپن سے اللہ تعالی بھی خوش ہوجاتا ہے ۔

چھٹا:عہدہ ومنصب کی حرص:-
منصب بھی کیاچیز ہے جس کے دل میں اس کی حرص پیدا ہوجائے وہ اس کے حصول کے لئے  چاپلوسی تو کیا قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا ۔ زمانہ قدیم سے زمانہ حال تک اس کے بے شمار واقعات تاریخ میں مرقوم ہیں ، ہم اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں۔ چاپلوسی انسان کو سکون نہیں دیتی ۔ اس کے ذریعہ عہدومنصب پاتوسکتا ہے مگر سکون نہیں پاسکتاکیونکہ اس کا منصب معیاری بنیاد پہ نہیں  چاپلوسی پہ قائم  ہے ۔ ہمیں اگر سکون سے زندگی گذارنا ہے تو اولا :منصب کی چاہت اپنے دل سے نکالنی ہوگی ۔ گر خود سے مل جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ ثانیا :منافقت کی تنگ وتاریک راہوں سے نکلنا پڑے گا ۔ چاپلوسی ایسی وبا ہے جو منافقت کی ساری قسمیں اپنے اندر سمو لیتی ہے یعنی ایک بیماری سے ہزار بیماریاں جنم لے لیتی ہیں اس لئے ہمیں کسی بھی مفاد کی خاطر کسی قسم کی چاپلوسی نہیں کرنی ہے ۔

ایک شبہ کا ازالہ :
بعض لوگ چاپلوسی کو وقت کی نزاکت اور مجبوری کا نام دیتے ہیں ، یہ کہتے ہوئے کہ نوکری / عہدہ بچانے کے لئے کبھی ایسا کرنا مجبوری بن جاتی ہے اس لئے ایسے حالات میں چاپلوسی کرنا کوئی حرج کی بات نہیں ۔ دلیل میں  مضطرکے لئے خنزیر کی حلت  پیش کرتے ہیں ۔

اگر چاپلوسی کو مجبوری کا نام دے کر جائز ٹھہرالیا جائے تو پھربغیرحلت وحرمت کے  کسب معاش کے لئے کوئی بھی پیشہ اختیار کیاجاسکتا ہے جبکہ اسلام میں ایسی کوئی دلیل نہیں ۔ جہاں تک مضطر کے لئے خنزیرکی حلت کا مسئلہ ہے تو یہ صرف جان بچانے کے لئے اور چاپلوس کو جان کی کوئی پرواہ نہیں کرسی ومعاش بچانے کی فکر ہے اور کرسی و عہدہ بچانے والا مضطر نہیں ہے ۔ ہزاروں ذرائع ہیں کسی بھی جائز ذریعہ سے معیشت حاصل کی جاسکتی ہے ۔ 
مکمل تحریر >>

Monday, March 14, 2016

مصیبت یافتنے سے گھبراکر موت کی تمنا کرنا

مصیبت یافتنے سے گھبراکر موت کی تمنا کرنا
==================
مقبول احمد سلفی

یہ فتنے کا زمانہ ہے ، مصائب ومشکلات بھی عام ہیں۔ ویسے کوئی زمانہ فتنہ، مصیبت، تکلیف، آفت اور مشکل سے خالی نہیں رہا مگر زمانے کے حالات ہمیشہ بدلتے رہے ہیں۔ یہ دور واقعی پرفتن اور ایمان آزماہے۔ اس وقت ایمان والوں کو جہاں فتنوں سے نبردآزمائی مشکل ہے وہیں برائیوں بچنا بہت دشوار ہورہاہے ۔کہیں کہیں مسلمانوں کو دین اسلام کی بعض تعلیمات پہ چلنا آگ کے انگاروں پہ چلنے جیساہے۔
ایسے عالم میں بعض غیورقسم کے مسلمان مردوخاتون سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ہم مصائب ومشکلات اور زمانے کے شروفتن کا سامنا نہ کرسکیں تو کیا موت کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں یا کم از کم موت کی تمنا کرسکتے ہیں؟
اسلام نے زندگی کا جو قانون دیا ہے اس کے دامن میں امن وسکون اور راحت واطمینان ہے۔ اس سے تجاوز کرنا شریعت الیہ سے بغاوت وروگردانی کے ساتھ فتنہ وفساد کا راستہ ہے ۔
اسلام نے ہمارے لئے شروفتن، مصائب ومشکلات اور رنج والم کا معقول حل پیش کیا ہے اس لئے اللہ کے بندے کو کبھی بھی زمانے کے کسی قسم کے حالات سے خوف نہیں کھانا چاہئے ۔

ان حالات سے متعلق اسلام کے چند اصول :
(1) سب سے پہلے ایک مسلمان کسی بھی مصیبت کو تقدیر کا حصہ سمجھے اور کاتب تقدیر کے اس فیصلے پہ راضی ہوکراپنے اعمال کا محاسبہ کرے کیونکہ کبھی مصیبت آزمائش کے لئے ہوتی ہے تو کبھی مصیبت بداعمالی کی وجہ سے ۔اگر اس نے خطا کی ہے تو رب العالمین سے معافی مانگے مصیبت دور ہوجائے گی ۔
(2) فتنہ کسی برائی سے شدیدتر ہوتا ہے، اس کی تاب لانا سب کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اس مرحلے میں ایمان کااصل امتحان شروع ہوتاہے ۔ اس لئے مومن کو فتنے کے زمانے میں صبر سے کام لیناہےاور راہ ایمان پہ جمے رہناہے کیونکہ فتنے کے زمانے میں دین پہ عمل کرنے کا ثواب پچاس صحابی عمل کے برابر ہے ۔ فرمان نبوی ﷺ ہے :
( َإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ ؟! قَالَ بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ )(سنن الترمذي :3058)
ترجمہ : تمہارے بعد ایام صبر ہونگے اس دور میں صبر کرنا ایسے ہی ہوگا جیسے انگارہ پکڑنا۔ ان (لوگوں کی موجودگی) میں عامل کے لئے پچاس آدمیوں کے عمل کے مطابق اجر ہوگا جو اس کے عمل کی طرح کرتے ہونگے انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ان میں سے (اُس دور کے) پچاس آدمیوں کا اجر۔ آپؐ نے فرمایا : تم میں سے پچاس آدمیوں کا اجر (یعنی پچاس صحابہ کرام کے عمل کے برابر اجر ہوگا)۔
حکم : اس حدیث پہ کلام ہے مگر کثرت طرق کی وجہ سے قابل احتجاج ہے ۔ (دیکھیں : السلسلہ الصحیحۃ : 494)
(3)موت کا ایک وقت متعین وہ کسی کے مانگنے سے نہیں آتی پھربھی اسلام نے لوگوں پہ واضح کردیا کہ موت کی کوئی تمنا نہ کرے ۔اس کہ وجہ بھی بتلادی گئی کہ نیک ہوگا تو مزید نیکی کا موقع ملےگا اور بد ہوگا تو توبہ کا موقع میسر ہوگا۔
لا يتمنَّى أحدُكمُ الموتَ، إما محسِنًا فلعلَّه يَزدادُ، وإما مُسيئًا فلعلَّه يَستَعتِبُ(صحيح البخاري:7235)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے ۔ اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر براہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے ۔
(4) اسلام نے حفظان صحت پہ خاصا دھیان دیا ہے اور اپنے ماننے والےکو صحت کا خیال کرنے اور خود کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے ۔ فرمان ربانی ہے : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ( البقرة:195)
ترجمہ: اور اپنے ہاتھ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
موت کی تمنا کرنا، خودکشی کرنا یا موت کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا اسلام کے حفظان صحت کے خلاف ہے ۔
(5) ہاں ایک صورت ہے کہ اگر فتنہ شدید ترین ہو، اس کی تاب لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہویعنی جان کے لالے پڑ گئے ہوں تو اس وقت موت کی دعا کرسکتے ہیں جیساکہ حدیث میں فتنے کے وقت کی دعا آئی ہے :
وإذا أردتَ فتنةً في قومٍ فتوفَّني غيرَ مفتونٍ(صحيح الترمذي:3235)
ترجمہ : اے اللہ اگر تو قوم کو فتنہ میں مبتلا کرے تو مجھے بغیر آزمائے ہوئے وفات دیدے۔
صحیحین کی ایک روایت میں ہے:
لا تقومُ الساعةُ حتى يمرَّ الرجلُ بقبرِ الرجلِ فيقول : يا ليْتَنِي مكانَه(بخاری :7115 ومسلم:157)
ترجمہ : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ آدمی ، قبر کے پاس سے نہ گذرے اور کہے : اے کاش میں اس کی جگہ ہوتا۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ خروج دجال کے وقت ایک شخص کسی قبر پر گذرے گااور فتن و زلزلے دیکھ کر کہے گا"یالیتنی مکانہ"(اے کاش میں اس کی جگہ ہوتا)۔

فتنے کے وقت موت کی دعا کرنے کے لئے اسلامی رو سے چند ہدایات ہیں۔
(الف) فتنے سے گھبراکر موت کا راستہ اختیارکرنا خودکشی ہے اور اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
مَن قتل نفسه بشيء في الدنيا عذب به يوم القيامة (رواه البخاري :5700 ومسلم: 110 ) .
ترجمہ :جس نے دنيا ميں اپنے آپ كو كسى چيز سے قتل كيا اسے قيامت كے روز اسى كا عذاب ديا جائيگا۔
(ب) موت کی تمنا اور آرزو بھی نہ کرے کیونکہ موت کا وقت متعین ہے وہ وقت پہ ہی آئے گی ۔ اللہ کا فرمان ہے :
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (اعراف:34)
ترجمہ : ہرگروہ کے لئے ایک متعین مدت کی زندگی ہے جب اسکا متعینہ وقت آجاتاہے تو ایک لمحہ وہ وقت پیچھے ھو تا ہے نہ آگے۔
(ج)اس طرح کی شدت فتن کی تاب نہ لاکر صرف موت کی دعا کرسکتے ہیں جومتعدد آیات و صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

فتنے کے وقت موت کے لئے مختلف دعائیں:
(1)ساحرین فرعون کی دعا:رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (اعراف:126)
(2)یوسف علیہ السلام کی دعا:فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ (یوسف:101)
(3)اللَّهمَّ أحيني ما كانتِ الحياةُ خيرًا لي ، وتوفَّني إذا كانتِ الوفاةُ خيرًا لي(صحيح البخاري:6351 )
(4)وإذا أردتَ فتنةً في قومٍ فتوفَّني غيرَ مفتونٍ(صحيح الترمذي:3235)
(5)حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دعا:اللهمَّ ارزقْنِي شهادَةً في سبيلِكَ ، واجعلْ موتِي في بلَدِ رسولِكَ صلى اللهُ عليهِ وسلَّمَ .
(6) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا:اللهم خذني إليك، فقد سئمتهم وسئموني(رواه عبد الرزاق في المصنف:18670وابن أبي شيبة في المصنف :38255 ) واسنادہ صحیح
(7) امام بخاری ؒ کی دعا جب امیر خراسان سے جھگڑا پیش آیا: اللهم توفني إليك(تفسیرابن کثیر)


مکمل تحریر >>