Wednesday, April 27, 2016

حوروں سے جماع

حوروں سے جماع
=================

مقبول احمد سلفی

متعدد نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ جنت کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ مردوں کو اللہ تعالی حوروں سے شادی کرادے گا اور اہل جنت ان سے جماع کریں گے ۔
(1) اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ( الطور:20)
ترجمہ: اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کردئے ہیں۔

(2)ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :
إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ (يسين:55)
ترجمہ: جنتی لوگ آج کے دل اپنے (دلچسپ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہوں گے ۔


یہاں جنتی کے مشغلوں سے مراد کنواریوں کے پاس جانا ہے ۔

(3) ادخُلُوا الجَنَّةَ أَنتُم وَأَزوٰجُكُم تُحبَر‌ونَ ﴿الزخرف:70)
ترجمہ :تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ۔

اسی طرح نبی ﷺ کے متعدد فرامین سے بھی یہ بات واضح ہے کہ اہل جنت حوروں سے جماع کریں گے ۔
(1) مسلم شریف کی حدیث ہے : وما في الجنةِ أعزبُ(صحیح مسلم :2834)
یعنی جنت میں کوئی بغیر جوڑے کے نہ ہوگا۔

(2) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے پاس یہودی آئے اور پوچھا:اے ابا القاسم آپ کا یہ گمان ہے کہ جنت میں لوگ کھائیں اور پیئیں گے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
نعَم ؛ والَّذي نَفسُ مُحمَّدٍ بيدِه ، إنَّ أحدَهم ليُعْطَى قوَّةَ مئةِ رجُلٍ ؛ في الأكلِ والشُّربِ والجِماعِ (صحيح الترغيب:3739)
ترجمہ :ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جنتی مردوں میں سے ہر ایک کو کھانے پینے اور ہم بستری کرنے میں ایک سو آدمیوں کے برابر قوت دی جائے گی۔

(3)نبی ﷺ کا فرمان ہے : إنَّ أهْلَ الجنةِ إذا جَامَعُوا نِساءَهُمْ عادُوا أبْكارًا(صحيح الجامع:3351)
ترجمہ: جنتی جب اپنی بیویوں سے صحبت کرلیں گے تووہ پھرسے وہ کنواری (جیسی) ہوجائیگی۔

(4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : " أَنَطَأُ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، دَحْمًا دَحْمًا، فَإِذَا قَامَ عَنْهَا رَجَعَتْ مُطَهَّرَةً بكرا(السلسلة الصحيحة:3351)
ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا ہم جنت میں جماع بھی کریں گے ؟ توآپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: ہاں !قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے خوب جوش سے صحبت کریں گے ، جب کھڑے ہوں گے تو وہ(حورآپ خود) پاک اور باکرہ ہوجائے گی۔


اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں جنت نصیب کرے ۔ آمین 
مکمل تحریر >>

Sunday, February 7, 2016

دس قسم کے جانور جنت میں ؟

دس قسم کے جانور جنت میں ؟
=================
مقبول احمد سلفی

لوگوں میں یہ بات بعض غیرمعتبرکتابوں میں مذکور ہونے کی وجہ سے مشہور ہوگئی ہے کہ دس قسم کے جانور جنت میں جائیں گے ۔ ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں ۔
1-حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی
2-حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی
3-حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بچھڑا
4-حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مینڈھا
5-حضرت موسی علیہ السلام کی گائے
6-حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی
7-حضرت عزیز علیہ السلام کا گدھا
8-حضرت سلمان علیہ السلام کی چیونٹی
9-سلیمان علیہ السلام کا ہد ہد
10-اصحاب کہف کا کتا

کسی بھی صحیح دلیل سے ثابت نہیں ہے کہ دنیاکے یہ مذکورہ حیوانات جنت میں ہوں گے ۔ اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ فلاں فلاں جانور جنت میں جائے گا۔

جنت کے چند حیوانات :
البتہ بعض روایات کی روشنی میں چند قسم کے حیوانات جنت میں ہوں گےاس کا ثبوت ملتاہے ۔ ان میں پرندہ،بیل ،بکری ،اونٹنی اور گھوڑا وغیرہ ہیں۔
(1) پرندہ كے جنت میں ہونے کی دلیل :
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ(الواقعة: 21)
ترجمہ:اور چڑیا کا گوشت جس کو وہ پسند کریں گے۔
صحیح مسلم میں ہےکہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں۔
أرواحُهم في جوفِ طيرٍ خُضرٍ . لها قناديلُ مُعلَّقةٌ بالعرشِ . تسرحُ من الجنةِ حيث شاءت ثم تأوي إلى تلك القناديلِ(صحیح مسلم:1887)
ترجمہ: ان (شہیدوں) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں، ان کے لئے قندیلیں ہیں جو عرش سے لٹک رہی ہیں ۔وہ روحیں بہشت میں سے جہاں سے ان کا جی چاہتا ہے میوے کھاتی ہیں پھر ان قندیلوں میں جا کر بسیرا کرتی ہیں۔
(2) جنتیوں کی غذا میں بیل کا گوشت:
مسلم شریف کی لمبی حدیث کا ایک ٹکرا ہے :
يُنْحَرُ لهم ثُوْرُ الجَنَّةِ الذي كانَ يَأْكُلُ مَنْ أَطرافِها (صحيح مسلم: 315)
ترجمہ :نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جنتیوں کے لیے جنت میں چرنے والا بیل ذبح کیا جائے گا (جس کاگوشت انھیں کھلایا جائے گا)۔
(3) جنت میں بکری :
عن أبي هريرة رضي الله عنها قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صلوا في مراح الغنم وامسحوا رغامها فإنها من دواب الجنة ۔(صحيح الجامع:3789)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم لوگ بکری کے ٹھکانے میں نماز پڑھو اور اسکی (ناک سے بہنے والی) مٹی صاف کردوکیونکہ یہ جنت کے حیوانات میں سے ہیں۔
(4)جنت کی اونٹنی:جنت میں اونٹنی بھی ہوگی۔
عن أبي مسعود الأنصاري قال : جاء رجل بناقة مخطومة فقال : هذه في سبيل الله ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لك بها يوم القيامة سبع مائة ناقة كلها مخطومة . (رواه مسلم :1892 ) .
ترجمہ : حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی مہار والی اونٹنی لیکر آیا اور کہا یہ اللہ کی راہ میں ہے ۔ تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اس کے سبب تمہارے لئے قیامت کے دن اسی طرح مہار والی سات سو اونٹنی ہونگی۔
(5) جنتیوں کی سواری سرخ ہیروں والے گھوڑے :
عن سليمان بن بريدة عن أبيه أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله هل في الجنة من خيل ؟ قال : إنِ اللهُ أدخلك الجنة فلا تشاء أن تحمل فيها على فرس من ياقوتة حمراء يطير بك في الجنة حيث شئت ، قال : وسأله رجل فقال يا رسول الله هل في الجنة من إبل ؟ قال : فلم يقل له مثل ما قال لصاحبه ، قال : إن يدخلك الله الجنة يكن لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك .(رواه الترمذي : 2543 )
ترجمہ :حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا:اگر تمھیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا تو اگر تم چاہوگے کہ سرخ ہیروں والے گھوڑے پر تمھیں سوار کیا جائے اور وہ جنت میں تمھیں لے کر جہاں تم چاہو اڑے تو ایسا ضرور ہوگا۔ پھر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا جنت میں اونٹ بھی ہوں گے؟ تو آپ نے اسے اس طرح جواب نہ دیا جیسے پہلے شخص کو دیا تھا۔ تاہم آپ نے فرمایا: اگر تمھیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا تو اس میں تمھیں وہ سب کچھ ملےگا جس کی خواہش تمہارا نفس کرےگا اور جس سے تمہاری آنکھوں کو لذت ملےگی۔
٭ اسے شیخ البانی ؒ نے حسن لغیرہ قرار دیا ہے ۔ (صحيح الترغيب: 3756)

قابل ذکر ایک اہم بات :
یہاں ایک اہم بات یہ جان لینا ضروری ہے کہ اوپر جن جانورکا بیان ہواہے کہ یہ جنت میں ہوں گے ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ  ان حیوانات کے صرف نام دنیاوی ہیں مگردنیا جیسے نہیں ہوں گے۔ اس کی کیفیت کیا ہوگی صرف اللہ کو معلوم ہے ۔ دنیا کے جو جانور ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں کسی صحیح حدیث میں جنت میں جانے کا ذکر نہیں ملتابلکہ صحیح حدیث میں بیان ہواہے کہ چوپائے اور پرندے کل قیامت میں سب مٹى ہوجائیں گے ۔
عن أبي هريرةَ قال إنَّ اللهَ يحشرُ الخلقَ كلَّهم كلَّ دابةٍ وطائرٍ وإنسانٍ يقول للبهائم والطيرِ كونوا ترابًا فعند ذلك يقول الكافرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا۔(السلسلة الصحيحة: 4/607)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی (قیامت کے دن) تمام مخلوق ، پورے جانور، پرندے اور انسان کو جمع کرے گا۔ چوپائے اور پرندے سے کہے گا کہ مٹی ہوجاؤ۔ تو اس وقت کافر کہے گا اے کاش! میں بھی مٹی ہوجاتا۔


مکمل تحریر >>

Saturday, January 9, 2016

ابلیس اور اس کی ذریت اور اس کی پیروی کرنے والے کو جہنم رسید کیا جائے گا۔
====================
جب ابلیس کو آدم علیہ السلام کا سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اللہ تعالی نے اس کا تذکرہ اس طرح کیا ہے ۔
وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ ڭ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ البقرۃ ( 34 )
{ اور جب ہم نے فرشتوں سے آدم ( علیہ السلام ) کو سجدہ کرنے کا کہا تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا اس نے انکار اور تکبر کر کے کافروں میں سے ہوگیا }
اس لئے ابلیس کو اللہ تعالی نے جہنم رسید کیا، ابلیس کی طرح اس کی ذریت اور ابلیس کی پیروی کرنے والا جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اللہ کا فرمان ہے ۔
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ (12) قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ (13) قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16) ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (17) قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ (18)۔۔۔۔۔ الاعراف
ترجمہ :
حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجده نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے، جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔
حق تعالیٰ نے فرمایا آسمان سے اتر تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں ره کر تکبر کرے سو نکل بے شک تو ذلیلوں میں سے ہے۔
اس نے کہا کہ مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کے دن تک۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی۔
اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراه کیا ہے میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے آپ کی سیدھی راه پر بیٹھوں گا۔
پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکل جا جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا۔

مکمل تحریر >>

Sunday, August 23, 2015

ریاض الجنہ (جنت کی کیاری)

ریاض الجنہ (جنت کی کیاری)


مقبول احمد سلفی

ریاض الجنہ یہ وہ مبارک جگہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر یعنی حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے منبر شریف  کے درمیان میں ہے, اس کا نام ریاض الجنۃ ہے (جنت کا باغیچہ)۔
یہ نام اس لئے پڑا کہ حدیث شریف میں رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:
مَا بَیْنَ بَیْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّة''(رواه البخاري :1196ومسلم :1391)
''میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے''۔
مسند بزار اور بعض دیکر کتب حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:
''مَا بَیْنَ قَبْرِي وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّة''
"میری قبر اور میرے ممبر کے درمیان جنت کی ایک کیاری ہے ۔
محدثین کی رائے یہ ہے کہ" قبری" کا لفظ بعض رواۃ کی طرف سے خطا ہے جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا:
" والثابت عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال : (ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة ) " هذا هو الثابت في الصحيح ، ولكن بعضهم رواه بالمعنى فقال : قبري .
وهو صلى الله عليه وسلم حين قال هذا القول لم يكن قد قبر بعد صلوات اللّه وسلامه عليه ، ولهذا لم يحتج بهذا أحد من الصحابة لما تنازعوا فى موضع دفنه ، ولو كان هذا عندهم لكان نصاً فى محل النزاع " انتهى.(مجموع الفتاوى 1/236)
ترجمہ: نبی ﷺ سے جو ثابت ہے وہ یہ ہے :"ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة" (میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان جنت کی ایک کیاری ہے ) ،حقیقت میں یہی ثابت ہے ۔ لیکن بعض راویوں نے روایت بالمعنی کیا ہے اور انہوں نے کہا: "قبری" ۔ جب نبی ﷺ نے یہ بات کہی اس وقت آپ کی قبر تھی ہی نہیں، اسی لئے صحابہ کرام میں سے کسی نے اس سے دلیل نہیں پکڑی جب دفن کی جگہ کے سلسلے میں تنازع کررہے تھے ، اور اگر یہ ان کے پاس ہوتا تو ان کے لئے نزاع کی جگہ میں دلیل بن جاتی۔ 

اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریاض الجنۃ سے مراد واقعی جنت کی کیاری ہے ؟
اس سلسلے میں اہل علم کے کئی اقوال ملتے ہیں۔
(1) اس جگہ پہ بیٹھنے کی سعادت و اطمنان جنت کی کیاریوں کے مشابہ ہے ۔
(2)اس جگہ پہ عبادت کرنا جنت میں دخول کا سبب ہے ۔
(3) یہ جگہ آخرت میں واقعی جنت کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
بعض علماء نے پہلے قول کو ، بعض نے دوسرے قول کو اور بعض نے تیسرے قول کو ترجیح دی ہے ۔

میں ان اقوال میں سے کسی ایک کو بلا ترجیح دئے بس یہ کہوں گا کہ اصل تو اللہ سبحانہ و تعالی ہی ہے جو زمان و مکان کو فضیلت و خصوصیت بخشتا ہے ،ساتھ ساتھ  یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقام کی بڑی فضیلت ہے ، اگر مسجد نبوی ﷺ آنے کا موقع ملے تو یہاں عبادت ، ذکر، اللہ سے دعا، اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا چاہئے ۔ اس جگہ پہ نبی ﷺ سے بھی خاص طور سے عبادت کرنا ثابت ہے ۔

یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی کے ساتھ آتا اوروہ مصحف والے ستون کے پاس یعنی روضہ شریف میں آ کرنماز ادا کرتے ، تومیں نے انہيں کہا اے ابومسلم میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس ضرورنماز ادا کرتے ہیں ! تووہ فرمانے لگے :
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ بھی یہاں خاص کرنماز ادا کیا کرتے تھے ۔ (بخاری :502 ومسلم:509 ) ۔
اور اس مقام پہ بیٹھنا یا عبادت کرنا آپ سے تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے اندر تقوی پیدا کریں ، اگر آپ کو ریاض الجنہ آنے کی سعادت ملی مگر اعمال میں سنت کی پیروی نہیں بلکہ بدعت اور نیت میں اخلاص نہیں بلکہ ریا کاری ہے تو پھر آپ کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔
ایک اہم بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ جو لوگ اس جگہ پہ گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور دوسروں کو یہاں آنے کا موقع فراہم نہیں کرتے وہ بھی غلط کرتے ہیں اور ان کی بھی غلطی ہے جو بھیڑ دیکھ کر بھی ضعیفوں اور کمزوروں کو تکلیف پہنچاکر اندر داخل ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی ہمارے حال کی اصلاح فرمائے اور ہم سب کو اس مقدس جگہ ریاض الجنہ میں عبادت کرنے اور کچھ دیر سعات حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔آمین




مکمل تحریر >>