Friday, September 22, 2017

نئے ہجری سال کا استقبال کیسے کریں ؟

نئے ہجری سال کا استقبال کیسے کریں ؟

مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ) سعودی عرب

دین اسلام ایک فطری نطام زندگی  کا نام ہے ، اس کی تعلیمات انسانی فطرت کے عین مطابق  ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں زمانے کی لچک اور اس کےمختلف حالات ومراحل کی رعایت بھی ہے ۔ اس لئے آج سے ساڑھے چودہ صدی پہلے نازل شدہ قرآن کی کوئی ایک آیت یا کوئی ایک فرمان رسول زمانے کے مخالف یا انسانی فطرت سے متصادم نہیں ہے بلکہ اسلام اپنی اس بے مثال خوبی سے غیرمسلموں کو اپنے آغوش میں آنے کی دعوت دیتا رہااور ضلالت وگمراہی سےبے قرارومضطرب دل کلمہ شہادت پڑھ کر دامن اسلام میں محبت وخلوص، امن وراحت ، اخوت وحلاوت ، عدل ومروت ، اخلاق ووفا  اور نوروہدایت سے لذت اندوز ہوتا رہا۔
آج جب کہ نیا اسلامی اور ہجری سال شروع ہوچکا ہے ،ایک بار پھر سے نزول قرآن ، بعثت نبوی، آمد خاتم الانبیاء والمرسلین اور دین اسلام پہ جان ودل قربان کرنے والے عظیم المرتبت صحابہ کرام جن سے اللہ راضی ہوئے اور وہ اللہ سے ، کی عظیم تاریخ اورتاریخ کے سنہرے  اوراق نظروں کے سامنے آگئے ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسلامی سال ایک ایسے مہینہ سے شروع ہوتا ہے جسے تخلیق کائنات سے اللہ تعالی نے حر مت وتقدس سے نوازا ہے ،اس مہینہ کو نبی ﷺ نے شہراللہ یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے ۔اس کی قدر ومنزلت کفارومشرکین بھی کیا کرتے تھے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (التوبة: 36)
ترجمہ: اللہ نے جب سے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں اس وقت سے لے کر اسکے ہاں کتاب اللہ میں مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ' یہ دین قیم ہے ' لہذا تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تمام تر مشرکین سے قتال کرو جسطرح وہ تم سب سے قتال کرتے ہیں اور جان لو کہ یقینا اللہ تعالی پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔
نئے ہجری سال کے آغاز سے ہمارے ذہن میں ہجرت نبوی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ، یہ ہجرت کفر سے اسلام کی طرف تھی ، یہ ہجرت اسلام کی سربلندی  اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے تھی ۔ قربان جائیے ان پاک باز نفوس پرجنہوں نے اسلام کی حفاظت اور کلمہ کی سرفرازی کے لئے تن ، من دھن کی بازی لگادی ۔ نہ مال دیکھا، نے گھربار کی پرواہ کی ، نہ آباء واجداد کی محبت اسلام پہ غالب آسکی ، بس اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے سرشار ہوکر اسلام کی سربلندی کے لئے سب کچھ چھوڑ کر ایک آوازمحمدی  پہ لبیک کہتے ہوئے مکہ مکرمہ سے یعنی البلد الامین ترک کرکے مدینہ طیبہ کی طرف سفر ہجرت اختیار کیا۔ جب انصاریوں کا یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو انصار ومہاجرین کی اخوت ومحبت قابل دید تھی ، دنیا کی تاریخ میں کسی قوم میں انصاومہاجرین جیسی اخوت وبھائی چارگی کی ایسی مثال نہیں ملتی ۔ انصاریوں میں اپنے مال وجائداد اور گھربار بلکہ زندگی کی ہرایک چیز میں مہاجرین کو شریک وشامل کیا ۔ نئے اسلامی سال  کی آمد پہ کفر سے اسلام کی ہجرت کی یاد تازہ ہونے کے ساتھ انصاریوں کا اپنے مہاجرین  بھائیوں کی دل کھول کر مدد کرنا اور خود پہ انہیں ترجیح دینا بھی خوب  یاد آتا ہے ۔ آج اگر مسلمان اسلام کی سربلندی کے لئے اسی طرح قربانی دینے پر آمادہ ہوجائے اور اپنے مظلوم ومجبور بھائیوں کی امداد کرے تو دنیا کے کسی خطہ میں مسلمان کمزور نہیں رہیں گے اور ان پرکبھی بھی کفارومشرکین  ظلم نہیں کرسکتے ۔ دشمنوں کے دل میں جیسے پہلے ہمارا رعب ودبدبہ قائم تھا پھر سے قائم ہوجائے گامگر افسوس مسلمان ہی مسلمانوں کو مٹانے،کمزور کرنے اور ٹکڑوں میں تقسیم کرنے پہ تلا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج ہم ہرجگہ پسپا اور کفار سےسہمے ہوئے ہیں اور کفار ہم پہ غلبہ پالیا ہے۔ اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور آپس  میں اخوت ومحبت پھر سے بحال کردے ۔
نیا اسلامی سال دستک دے چکا ہے ، ہم نے نئے سال میں قدم رکھ کے حیات مستعار سے ایک سال کا قیمتی عرصہ کم کرلیا ہے ۔ مسلمانوں میں موجود مختلف فرقوں کے حالات ، زمانے کا پس منظر، دنیا میں انسانوں کے ہاتھوں انسانیت کی خوفناک تباہی  ، ظلم وعدوان، شراب وکباب، عیاشی وزناکاری اور نیکی کی پستی اور برائیوں کا عروج ہماری نظروں کے سامنے ہے ۔ ایسے حالات میں نئے سال میں قدم رکھتے ہوئے ہمیں کن باتوں کو دھیان میں رکھنا چاہئے یا نئے ہجری سال کا ہمیں کس انداز میں استقبال کرنا چاہئے ؟ ایک اہم سوال ہمارے ذہن میں کھٹکتا ہے اسی کا مختصر جواب سطور ذیل میں دینے کی خاکسار نے کوشش کی ہے ۔
(1) احساس کم مائگی :  عام طور سے لوگوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ نیا سال آنے سے وہ ایک سال بڑا ہوگیا،یہ بڑکپن لوگوں کے لئے دھوکہ کا سبب بناہواہے ۔ ایک بڑا دھوکہ تو یہ ہے کہ ہرنئے سال کی آمد پہ اپنی پیدائش مناکر خود کو بڑا منانے اور بنانے کی  جھوٹی کوشش کرتا ہے جبکہ حقیقتا وہ ہرنئے سال کی آمد پہ ایک سال چھوٹا ہوا کرتا ہے ۔ یہ احساس ہوجائے تو لوگ اپنی پیدائش مناناچھوڑ دے ۔ کون اپنی موت کی خوشی منائے گا ،آدمی زندگی کے جتنے سال گزارتا ہے وہ موت سے اتنا ہی قریب ہوجاتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں پیدائش منانا جائز نہیں ہے ۔ جب حقیقت یہ ہے کہ نیا سال ہماری زندگی سے ایک سال کم کرتا ہے تو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں بے بضاعتی کا احساس ہونا چاہئے ۔ اس با ت کا احساس ہونا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں انجام دئے گئے عمل پہ آخرت کی کامیابی وناکامی کا انحصار ہے جبکہ ہم  سال کے بارہ مہینوں میں غفلت کی ردا اوڑھےرہے ، کل کی ہمیشگی والی زندگی کے لئے کچھ نہیں کیا،ہمارا ماضی وحال بالکل تاریک ہے آخرت میں کیسے نجات پاؤں گا؟ دنیاوی زندگی کو ہم نے لہوولعب کا ذریعہ سمجھ لیا تھا حالانکہ یہی زندگی آخرت کوسنوارسکتی ہے ،کل مجرم لوگ رب کے سامنے کہیں گے :
رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (السجدۃ:12)
ترجمہ:اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا پس ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آ گیا ہے۔
رب کعبہ کی قسم اگر یہ احساس شدت سے پیدا ہوگیا ،اپنے اعمال کی قلت کا اندازہ لگالیااور آخرت کے تئیں  فکر پیدا رلیا تو نیا سال کا استقبال نیکیوں کی راہ پہ چلنے کا عزم مصمم سے کریں گے ۔
(2) نفس کا محاسبہ :  مومن کے جو اوقات گزرتے ہیں ان کا  ہمیشہ محاسبہ کرتا رہتا ہے ، یہی محاسبہ ہمارے ایمان کو تازہ رکھے، گا ،خوف الہی پیدا کرتا رہےگا، فکرآخرت کی رمق ماند نہیں ہونے دے گا اور مسلسل عمل صالح پر گامزن رکھے گا۔ زندگی سے ایک سال کی کمی اور عمل صالح کی قلت کا احساس کرکے کل کی تیاری کے لئے پہلی زندگی سے آنے والی زندگی کو بہتر بنانے کی ہم بھرپورکوشش کریں گے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر:18)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
مومن کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالی ہماری زندگی کا حساب لے گا اس لئے اللہ کے سامنے حساب  پیش ہونے سے پہلے خود ہم اپنااحتساب کرلیں ،جہاں ہم سے  غفلت ہوئی،خطا سرزد ہوئی، گناہ کا ارتکاب ہوگیا ، اللہ تعالی بہت معاف کرنے والا ہے اس سے معافی طلب کرلیں وہ یقینا معاف کردے گا۔ اگر گناہ کی پوٹری لیکر اس دنیا سے چلے گئے تو پھر وہاں توبہ کا موقع نہیں ملے گا۔ اس لئے ہوشیار وہ ہے جو اپنا محاسبہ دنیا میں ہی کرلے تاکہ کل قیامت میں حساب کے دن ،رب اورسب کے سامنےشرمندہ نہ ہونا پڑے ۔
(3) وقت کی قدرومنزلت : نئے سال کے استقبال پہ ہمیں وقت کی قدر کرنا بھی سیکھنا ہوگا،ویسے مومن وقت کا پابند ہوتا ہے مگر کبھی کبھی زمانے کی چکاچوند اور اس کی دل فریبی کا شکار ہوکر عیش وعشرت اور رنگ رلیوں ہی کو زندگی سمجھ لیتا ہے ۔ ایسے موقع سے ہمیں اپنے اندر یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ رب کی مرضی کے مطابق گزرنا چاہئے ، دنیا فانی اور اس کی دل فریبی دھوکہ دینے والی ہے ،یہاں ہم مسافر کی طرح زندگی گزاریں ، ہر لمحہ آخرت کی طرف کوچ کرنے کے لئے تیار رہیں،یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہمارا وقت اللہ کی رضا کے کام میں گزرتا رہاہوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : كُن في الدُّنيا كأنَّكَ غَريبٌ أو عابرُ سبيلٍ وعدَّ نفسَكَ في أَهْلِ القبورِ(صحيح الترمذي:2333)
ترجمہ: تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم مسافر ہو یا راہ گیر ہو، اور تم اپنا شمار ان لوگوں میں کرو جو دنیا سے گزر گئے ہیں۔
یہ حدیث ہماری آنکھ کھولنے کے لئے  کافی ہے ، اس کے الفاظ "وعدنفسک فی اھل القبور " یعنی خود کو مردوں میں شمار کروسے نصیحت حاصل کرتے ہوئے وقت کی قدر کریں اور اس کا استعمال جائز طریقے سے کریں ۔ کھیل کود،موج مستی، لایعنی گھوم گھام اور فضول کاموں میں وقت کے ضیاع سے پرہیز کریں۔
(4) محرم الحرام میں ہونے والی بدعات کا خاتمہ : چونکہ اسلامی سال کا آغاز حرمت والے مہینہ سے ہورہاہے اس لئے اس کا احترام کرنا ہمارے اوپر واجب ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ نے عظمت وتقدس والے مہینوں کو پامال کیا اور اس میں شیعہ کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے طرح طرح کی بدعات وخرافات کو انجام دیا۔ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے نام پہ ماتم، تعزیہ ، عزاداری، نوحہ وزاری،قوالی ومرثیہ ،دیگیں اور سبیلیں ، نحوست وعزا کا اظہار، شہداء کی نذرونیاز، جسم لہولہان کرنا، عورتوں ومردوں کا اختلاط اور ناچ گانے ، ڈھول تماشے وغیرہ امت میں رواج دئے ،یہ سارے کام نوایجاد اوربدعات کے قبیل سے ہیں ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ احترام والے مہینے کا احترام کرے جس طرح اہل زمانہ نے کیاہے ۔ اللہ کے حدود کی پامالی عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ اللہ تعالی امت مسلمہ کو دین کی صحیح سمجھ دے کہیں ایسا نہ ہوکہ ان بدعات کے ارتکاب سے اللہ امت پر عذاب عام کردے ۔
(5) نئے سال کا آغاز اورمحرم کے:  روزہ شہوتوں کو توڑنے والا اور دل میں ایمان وعمل صالح  بیدار کرنے والا بہترین وسیلہ ہے ۔ محرم الحرام یعنی سال کا پہلا مہینہ جہاں اس کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے وہیں فرمان رسول سے اس کی عظمت مزید دوبالا ہوجاتی ہے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:
أفضلُ الصيامِ ، بعدَ رمضانَ ، شهرُ اللهِ المحرمِ . وأفضلُ الصلاةِ ، بعدَ الفريضَةِ ، صلاةُ الليلِ(صحيح مسلم:1163)
ترجمہ: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
اوپر والی قرآنی آیت ہمیں بتلاتی ہے کہ محرم کا احترام کرنا چاہئے اوریہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ ہمیں اس ماہ مبارک میں کثرت سے روزہ رکھنا چاہئے ، یہ روزے رمضان کے بعد افضل روزے ہیں ۔ جو روزہ کے بجائے اس ماہ میں دیگیں چڑھاتے ہیں ، سبیلیں تقسیم کرتے ہیں ، قومہ اور بریانی سے پیٹ بھرتے ہیں ان کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
اگر ہم اس ماہ مقدس میں کثرت سے روزہ نہیں رکھ سکتے تو کم ازکم عاشوراء محرم کا روزہ رکھیں جو سابقہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔نواسہ رسول امام حسین رضی اللہ عنہ سے اگر سچی عقیدت ہے تو ان کے نانا کی سنت کی پیروی کریں اور ڈھول تماشہ ،گانے باجے ، رقص وسرود ، مرغ مسلم اور موج ومستی کی بجائے عاشوراء( نو اور دس محرم) کا روزہ رکھیں ۔ اصل سنی کون ہے ؟، اہل السنہ والجماعۃ کہلانے کا حقدار کون ہے؟ عاشوراء کے روزہ سے پتہ چل جائے گا۔ ہم یہ بات بھی دعوی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی اپنے نانا کی سنت پہ چلتے ہوئے عاشوراء کا روزہ رکھتےرہے  ہوں گے ۔ لہذا سچے سنی بنیں اور جھوٹا دعوی چھوڑ دیں ۔
(6) نئے سال کی شروعات عزم واستقلال سے : اسلام میں نوحہ اور عزاداری کی گنجائش نہیں ہے اور سال نوکا استقبال ماتم ونوحہ کی بجائے نئے ولولہ خیزعزم واستقلال سے کریں ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت سے پہاڑ جیسے عزم واستقلال کا پتہ چلتا ہے ، ان کی شہادت جہاں مسلمانوں کے لئے  ماتم کی بجائے سربلندی کی علامت ہے وہاں کربلا کا سفر عزم مصمم کی ذریں تاریخ بھی ہے ۔ اس تاریخ سے سبق لیتے ہوئے ہمیں آنے والا سال اسی طرح اسلام کی سربلندی کے لئے عزم وحوصلہ بیدار کرکے شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔
(7) نیا سال کا آخری پیغام : مسلم قوم کی اپنی الگ پہچان اور الگ شناخت ہے ۔ اس کے پاس اللہ کا قانون، نبی کی پاکیزہ  تعلیمات اور صحابہ کی انمول سیرت ہے ، ہمیں کسی قوم کی کسی چیز میں نقالی کی ضرورت نہیں ہے ۔ آج ہم  نےہجرت اور اس کے اسباق بھلادئے ، ہجری کلنڈر کا استعمال ترک کردیاجو اپنی مثال آپ ہےاور کلینڈرمیں ،طورطریقے میں غیروں کی نقالی شروع کردی ۔ جب عیسوی سال آتا ہے تو" ہپی نیو ایر "مناتے ہیں ، پکنک پہ جاتےہیں اور طرح طرح کے رسم ورواج انجام دیتے ہیں ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا نیا سال عیسوی نہیں ہجری ہے اور اس کی مبارک باد دینا  اسلام میں جائز نہیں ہے ہاں نئے سال کی دعا آئی ہے اسے پڑھنا چاہئے ۔
اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام، وجوارمن الشيطان ورضوان من الرحمن۔
ترجمہ:اے اللہ ! اس مہینے یا سال کو ہمارے اوپرامن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور شیطان کی پناہ اور رحمن کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما۔
حوالہ مع حکم : معجم الصحابہ للبغوی  رقم :1539، طبرانی میں موجود  روایت ضعیف ہے مگر معجم الصحابہ کی یہ روایت موقوفا صحیح ہے جیساکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الاصابہ میں ذکرکیا ہے۔
ساتھ ساتھ جس طرح دسویں  محرم، رمضان المبارک اور ایام حج میں ہجری کلینڈر کا خیال کرتے ہیں اسی طرح پورے کام کاج میں بلکہ سالوں اسے ازبر رہنا چاہئے ۔ اس سے ہماری عبادت اور عبادتوں کے اوقات جڑے ہوئے ہیں ۔  ایک اور بات دھیان میں رہے کہ نیا سال خواہ ہجری ہو یا عیسوی اس کو منانے کا کوئی خاص طریقہ اسلام میں جائز نہیں ہے ، نہ کوئی پکنک ، نہ سیروسیاحت اور نہ ہی کوئی دعوت وفنکشن ۔ اس لئے نئے سال کی آمد پہ کوئی خاص عمل انجام نہیں دینا چاہئے ۔ 
مکمل تحریر >>

Wednesday, May 24, 2017

کیا اعتکاف کی نیت کے مخصوص الفاظ ہیں؟

کیا اعتکاف کی نیت کے مخصوص الفاظ ہیں؟

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر - طائف

تمام عملوں کا دارومدار نیت پرہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إنما الأعمالُ بالنياتِ، وإنما لكلِّ امرئٍ ما نوى، فمن كانت هجرتُه إلى دنيا يصيُبها، أو إلى امرأةٍ ينكحها، فهجرتُه إلى ما هاجر إليه(صحيح البخاري:1)
ترجمہ:تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں اعتکاف کے لئے بھی نیت کرنی چاہئے اور نیت بھی خالص ہونی چاہئے جو ریاونمود سے پاک ہو۔ کچھ لوگ اعتکاف کی نیت کے لئے زبان سے مخصوص الفاظ بولتے ہیں ، وہ اس طرح کے ہوتے ہیں ۔
1- نویت سنۃ الاعتکاف(میں نے مسنون اعتکاف کی نیت کی)۔
2- ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺩﺧﻠﺖ ﻋﻠﻴﻪ ﺗﻮﻛﻠﺖ ﻧﻮﻳﺖ ﺳﻨﺔ ﺍﻻﻋﺘﻜﺎﻑ( اللہ کے نام سے داخل ہوا اور اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں )۔
اس قسم کے الفاظ قرآن و حدیث میں کہیں وارد نہیں ہے ، انہیں لوگوں نے اپنے من سے گھڑکر عوام میں پھیلا دیا ہے ۔ جیساکہ میں نے اوپر حدیث بیان کی کہ تمام عملوں کا دارومدار نیت پر ہے اس  حدیث کے لحاظ سے  ہرعمل کے لئے نیت کرنی چاہئے اور نیت خالص ہونی چاہئے تاکہ اللہ کی طرف سے درجہ قبولیت عطا ہو۔ یہاں جاننا یہ ہے کہ جب ہرعمل کے لئے نیت کرنےکا حکم ہے تو نیت کس چیز کا نام ہے ؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاوی میں نیت کے متعلق ذکر کرتے ہیں :
النية هي القصد والإرادة والقصد والإرادة محلهما القلب دون اللسان باتفاق العقلاء۔
ترجمہ: نیت دل کے ارادے اور قصد کو کہتے ہیں،قصد و ارادہ کا مقام دل ہے زبان نہیں ،اس پر تمام عقلاء کا اتفاق ہے۔
آگے لکھتے ہیں :
فلو نوى بقلبه صحت نيته عند الأئمة الأربعة وسائر أئمة المسلمين من الأولين والآخرين۔
ترجمہ: اگر کسی نے دل سے نیت کرلی تو اس کی نیت چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمدبن حنبل) اور مسلمانوں کے اگلے پچھلے تمام اماموں کے نزدیک صحیح ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے ، نیت کے کوئی مخصوص الفاظ نہیں ہیں ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سمیت بقیہ تینوں ائمہ کا بھی یہی مسلک ہے، اس لئے جو لوگ نماز کے لئے  روزہ  اوراعتکاف کے لئے مخصوص الفاظ میں زبان سے بول کر نیت کرتے ہیں وہ بدعت کا ارتکاب کرتے ہیں ،اس بدعت سے بچنا چاہئے کیونکہ بدعت دین میں نئی ایجاد کا نام ہے جس کے متعلق نبی ﷺ کے فرامین ہیں :
(1)من عملَ عملا ليسَ عليهِ أمرُنا فهو ردٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ: جس نے ایسا عمل کیا جو میرا حکم نہیں ہے وہ مردود ہے ۔
(2)إنَّ أصدقَ الحديثِ كتابُ اللَّهِ ، وأحسنَ الْهديِ هديُ محمَّدٍ وشرَّ الأمورِ محدثاتُها وَكلَّ محدثةٍ بدعةٌ وَكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ (صحيح النسائي:1577)
ترجمہ: یقینا سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے،کاموں میں سے بد ترین کام وہ ہیں جنہیں ایجاد کرلیا گایا ہو اور ہرنو ایجاد شدہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
نبی ﷺ کے فرامین کی روشنی میں ذرا اندازہ لگائیں کہ دین میں نیا کام ایجاد کرنا کتنا بھیانک ہےاور اس کی سزا کس قدر خطرناک ہے؟ ۔
سمجھنے کا ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ ہرعمل کے لئے نیت ہونی چاہئے اور شریعت میں لاکھوں ،کروڑوں اعمال ہیں ، کس کی مجال ہے کہ ہر عمل کے لئے مخصوص الفاظ گھڑے ؟ اور کس کی مجال ہے کہ ہرعمل کے لئے نیت کے مخصوص الفاظ یاد کرے اور عمل کرنے سے پہلے اسے پڑھے ؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے اور دین کے نام سے بدعت گھڑنے یا بدعت پر عمل کرنے سے بچائے ۔ آمین
مکمل تحریر >>

Wednesday, May 17, 2017

خواتین اسلام رمضان المبارک کیسے گزاریں ؟

خواتین اسلام رمضان المبارک کیسے گزاریں ؟

مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر – طائف
عنقریب رمضان  کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ، چاروں طرف مسلمانوں میں خوشی ہی خوشی ہے ۔ اللہ کے نیک بندوں کو اس مہینے کا شدت سے انتظار ہوتا ہے  اور کیوں نہ ہو کہ  یہ نیکی،برکت، بخشش،عنایت، توفیق،عبادت، زہد،تقوی، مروت، خاکساری، مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولی،جنت کی بشارت،جہنم سے گلوخلاصی  کا مہینہ ہے ۔رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں اس ماہ مبارک میں ان ساری نعمتوں سے مالامال کردے ۔
رمضان المبارک کا روزہ ، تراویح ، صدقہ ، دعا، ذکر ، تلاوت  ،مناجات ، عمرہ اور دیگر اعمال  صالحہ جہاں مردوں کے لئے ہیں وہیں عورتوں کے لئے بھی ہیں ۔ ان اعمال کا اجر وثواب جس طرح مردوں کو نصیب کرتا ہے ویسے ہی اللہ تعالی عورتوں کو بھی عنایت کرتا ہے ۔  خواتین میں عام تصور یہ ہوتا ہے کہ رمضان تو صرف مردوں کا ہے ، ہمارا کام صرف سحری پکانا اور افطار تیار کرنا ہے ۔ عورتیں روزہ رکھتی ہیں مگر دیگر اعمال خیر میں  پیچھے رہتی  ہیں ،اس کی بنیادی وجہ  رمضان المبارک کے احکام ومسائل سے عدم  واقفیت ہے ۔ جس طرح مرد وں پر روزہ رکھنا فرض ہے ویسے عورتوں پر بھی فرض ہے اور جس طرح مردوں کو رمضان المبارک میں کثرت سے اعمال خیر انجام دینا چاہئے ویسے ہی عورتوں کو بھی انجام دینا چاہئے ۔
یہاں رمضان سے متعلق ان امور کا ذکر کیا جاتاہے  جو مسلمان عورت کے لئے  انجام دینا مستحب وپسندیدہ  ہے  ۔
٭ تمام قسم کی طاعت وبھلائی پر محنت کرنا: مثلا تلاوت قرآن کریم ، اور اس میں تدبروتفکر،بکثرت صدقہ وخیرات،ذکرالہی اور فرائض وواجبات کے علاوہ  نفلی عبادات پر محنت کرنا۔
٭ افطار میں جلدی کرنا: نبی ﷺ کا فرمان ہے : لایزال الناس بخیرماعجلوا الفطر( بخاری) اس وقت تک لوگ بھلائی کی راہ پر گامزن رہیں گے جب تک کہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ۔
اور اس سے یہودونصاری کی مخالفت مقصود ہے ۔ "لان الیھود والنصاری یوخرون"کیونکہ یہودونصاری افطاری میں تاخیر کرتے ہیں ۔
٭ تازہ کھجور سے افطار کرنا: عن انس کان النبی ﷺ یفطر علی رطبات قبل ان یصلی فان لم یکن فعلی تمرات فان لم تکن تمرات حسا حسوات من ماء (احمد وابوداؤد وحسنہ البانی)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ،اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کرلیا کرتے تھے ، اگر خشک کھجوریں میں میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹوں پر ہی روزہ افطار کرلیا کرتے تھے ۔
٭ افطار کے وقت دعا کرنا: ویسے دعا ہروقت مشروع ہے اور دعا عبادت ہے مگر بعض اوقات دعا کے لئے بہت اہم ہیں ، ان میں ایک افطار کا وقت بھی شمار کیاجاتاہے ، اس کی متعدد دلیلیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے ۔
ثلاثٌ لا تُرَدُّ دعوتُهُم ، الإمامُ العادلُ ، والصَّائمُ حينَ يُفطرُ ، ودعوةُ المظلومِ(صحيح الترمذي:2526)
ترجمہ : تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے ۔ ایک منصف امام کی ،دوسرے روزہ دار کی جب وہ افطارکرے، تیسرے مظلوم کی ۔
٭ سحری میں تاخیرکرنا: بغیر سحری کے بھی روزہ درست ہے مگر نبی ﷺ نے خود بھی سحری کھائی ہے اور دوسروں کو بھی سحری کی ترغیب دی ہے اور فرمایاہے سحری کھاؤ کیونکہ اس میں برکت ہے ۔مسلم شریف کی روایت میں ہے ۔
 فصلُ ما بين صيامِنا وصيامِ أهلِ الكتابِ ، أكْلةُ السَّحَرِ(صحيح مسلم:1096)
ترجمہ: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کا فرق ہے ۔
٭ روزے کی حالت میں گندے اخلاق اور بری باتوں سے بچنا ۔ اگر کوئی گالی دے تو کہہ دیں میں روزے سے ہوں ۔
إذا أصبَحَ أحدُكُم يومًا صائمًا ، فلا يرفُثْ ولا يجهَلْ . فإنِ امرؤٌ شاتمَهُ أو قاتلَهُ ، فليقُلْ : إنِّي صائمٌ . إنِّي صائمٌ(صحيح مسلم:1151)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں ہو تو گندی باتوں اور نادانیوں سے پرہیز کرے ، اگر کوئی تماہرے ساتھ گالی گلوج اور قتال کرے تو کہہ دو میں روزے سے ہوں ، میں روزے سے ہوں۔
من لمْ يَدَعْ قولَ الزورِ والعملَ بِهِ ، فليسَ للهِ حاجَةٌ في أنِ يَدَعَ طعَامَهُ وشرَابَهُ .(صحيح البخاري:1903)
ترجمہ : اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
عورتوں میں گالی گلوج اور لعن طعن  بہت زیادہ ہے ، روزے کی حالت میں اس کا خاص خیال رکھنا ہے کہ زبان سے کہیں گندی باتیں نہ نکلے ۔ روزہ صرف بھوک وپیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ہے ، آداب صیام میں ہے کہ ہم ہاتھ ، پیر ، دل ، دماغ اور زبان تمام اعضائے بدن کو منکرات سے دور رکھیں ۔
٭لوگوں کو افطار کرانا: نبی پاک ﷺ نے فرمایا:مَن فطَّرَ صائمًا كانَ لَهُ مثلُ أجرِهِ ، غيرَ أنَّهُ لا ينقُصُ من أجرِ الصَّائمِ شيئًا(صحيح الترمذي:807)
ترجمہ: جس شخص نے کسی روزہ دارکو افطارکروایاتواس شخص کوبھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا،اورروزہ دارکے اپنے ثواب میں‌ سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔
عورت چاہے تو اپنے ذاتی پیسے سے دیگر خواتین کو افطار کراسکتی ہیں ،شوہر کی طرف سے افطار کی دعوت پر بیوی کو بھی اجر ملے گا اگر اس کے کاموں میں مدد کرتی ہے ۔
٭ عمرہ کرنا:رمضان میں مرد کی طرح عورت بھی عمرہ کرسکتی ہے ،اس ماہ مبارک میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے ، ایک دوسری روایت میں نبی ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کہا گیا ہے ۔
نبی ﷺ نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا تھا:
فإذا جاء رمضانُ فاعتمِري . فإنَّ عُمرةً فيه تعدِلُ حجَّةً (صحيح مسلم:1256)
ترجمہ: جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا کیونکہ اس (رمضان ) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۔
یہاں ایک بات یہ  واضح رہے کہ عورت کے لئے عمرہ کے سفر میں محرم کا ہونا ضروری ہے ، بغیر محرم سفر کرنے اور عمرہ کرنے سے گنہگار ہوگی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد دوسرے ملک سے سفر کرکے سعودی عرب آنا اور عمرہ کرنا مشقت کا باعث ہے اور رمضان جیسے مبارک مہینے میں ایک اجر کے حصول کے لئے کئی اجر والے کام چھوٹنے کا امکان ہے ، اس لئے جو سعودی عرب میں موجود ہیں ان کے لئے تو آسانی ہے باہری لوگوں کے لئے کلفت کے سبب اپنے اپنے ملکوں میں ہی رمضان گزارنا زیادہ بہتر ہے ۔ ہاںسعودیہ میں پورا  رمضان گزارنے کا ارادہ ہو تو اس کی بات الگ ہے ۔
٭مسواک کرنا: آپ ﷺ کا دستور ہمیشہ مسواک کیا کرتے تھے اور رمضان شریف میں بکثرت کیا کرتے تھے ۔ عمار بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يستاك وهو صائم مالا أحص أو أعد(رواه البخاري معلقا)
ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کو روزے کی حالت میں شمار کرنےسے زیادہ مسواک کرتے دیکھا۔
اسے امام بخاری نے تعلیقا روایت کیا ہے ۔
٭ بچوں سے تربیت کے طور پر روزہ رکھوانا : اگر بچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتاہوتو اسے عادتا روزہ رکھوانا چاہئے ۔ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اپنے بچوں سے روزہ رکھواتے تھے اور ان کے لئے کھلونے رکھتے ، جب بچے کھانے کے لئے روتے تو ہم انہیں وہ کھلونے پیش کردیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا۔ (بخاری)
مذکورہ حدیث میں ایک عورت کا بہترین کردار بیان کیا گیاہے کہ اسے اپنے بچوں سے بھی روزہ رکھوانا چاہئے ۔
٭ اعتکاف : جس طرح مرد کے لئے اعتکاف مسنون ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی اعتکاف مشروع ہے ۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہے ۔ جیساکہ اوپرقرآن کی آیت سے واضح ہے اور نبی ﷺ نے اس پہ عمل کرکے دکھایا ہے ۔اگر عورت اعتکاف کرے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا ہوگا خواہ جامع مسجد ہو یا غیر جامع ۔ صرف جامع مسجد میں اعتکاف والی روایت (لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ فِى مَسْجِدٍ جَامِعٍ) پر کلام ہے ۔ اگر جامع مسجد میں اعتکاف کرے تو زیادہ بہترہے تاکہ نماز جمعہ کے لئے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے ۔
اعتکاف رمضان میں کئے جانے والے ان اعمال میں سے ہے جس کی تاکید آئی ہے ۔ اور یہ ان سنتوں میں سے سنت مؤکدہ ہے جس پہ نبی ﷺ نے ہمیشگی برتی ہے اور آخری عشرے میں اس کی تاکید کی ہے ۔ اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی ﷺ ہرسال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے ، انتقال کے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔(بخاری)
٭ نمازتراویح : سعودی عرب میں تو عورتیں مسجد میں آکر جماعت سے تراویح کی نماز ادا کرتی ہیں ، تراویح جسے قیام اللیل اور تہجد بھی کہتے ہیں رمضان المبارک میں اس کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من قام رمضانَ إيمانًا واحتسابًا ، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبِه(صحيح مسلم:759)
ترجمہ: جس نے رمضان کی راتوں میں نماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔
لہذا عورتوں کو بھی تراویح کی نماز کا اہتما م کرنا چاہئے ، اگر مسجد میں عورتوں کے لئے علاحدہ انتظام نہ ہو تو گھر پر ہی جماعت سے یا اکیلے تراویح کی آٹھ  رکعات  نماز پڑھےپھر تین رکعات وتر پڑھے  ۔
٭ شب قدر میں اجتہاد : لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔اس رات  قیام کا اجر پچھلے سارے گناہوں کا کفارہ ہے ۔
مَن قام ليلةَ القدرِ إيمانًا واحتسابًا، غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه(صحيح البخاري:1901)
ترجمہ: جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
جہاں تک اس رات کی تعیین کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ملتے ہیں مگر راحج قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21،23،25،27،29) میں سے کوئی ایک ہے ۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے: تَحَرَّوْا ليلة القدرِ في الوِتْرِ، من العشرِ الأواخرِ من رمضانَ .(صحيح البخاري:2017)
ترجمہ: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
لہذا عورتوں کو بھی  طاق راتوں میں شب بیداری کرنی اور خوب خوب طاعت وبھلائی کا کام کرنا چاہئے ۔ جب جاگنا ہی مقصود نہیں بلکہ جاگ کر بھلائی کا کام کرنا مقصود ہے ۔
رمضان المبارک سے متعلق عورتوں کے مزید چند مسائل:
(1) بیمار عورت کا حکم: بیمارعورت کی دوقسمیں ہیں ایک وہ بیمارعورت  جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضررمحسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتی ہے ۔ ضرر و نقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑے گی اتنے کا بعد میں قضا کرے گی ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)
ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
دوسرى وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ان دونوں کے لئے  روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرة:184)
ترجمہ :اور اس کی طاقت رکھنے والےفدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔
یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلا زکام ، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے ۔
(2) مسافر عورت کا حکم: رمضان میں مسافر کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)
ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافر ہ حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتی ہے ۔ اس کے بہت سارے دلائل ہیں ۔ مثلا۔
ایک صحابی نبی ﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
إن شئتَ صمتَ وإن شئتَ أفطرتَ( صحيح النسائي:2293)
ترجمہ : اگر تم چاہو تو روزہ اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔
مسافرہ  چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کرے گى۔
(3) حیضاء ونفساء کا حکم : حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کے لئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے اور جیسے ہی خون بند ہوجائے روزہ رکھنا شروع کردے۔ کبھی کبھی نفساء چالیس دن سے پہلےہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔عورت کےلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے ۔حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا ہے بلکہ روزہ جاری رکھناہے ۔
(4) مرضعہ وحاملہ کا حکم : دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کےلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے ۔ بلاضرر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے ۔
إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وضعَ للمسافرِ الصَّومَ وشطرَ الصَّلاةِ ، وعنِ الحُبلَى والمُرضِعِ( صحيح النسائي:2314)
ترجمہ: اللہ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔
جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکرملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے ۔
(5) چھوٹی بچی کے  روزہ  کا حکم :  اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ تربیت کے طور پر بچو ں سے روزہ رکھوانا چاہئے اگر طاقت رکھتے ہوں  خواہ لڑکا ہو یا لڑکی لیکن جب بالغ ہوجائے تو پھر ا س پر روزہ فرض ہوجاتا ہے ۔  نبی ﷺ کا فرمان ہے :
رُفِعَ القلمُ عن ثلاثةٍ: عنِ المجنونِ المغلوبِ على عقلِهِ حتَّى يُفيقَ، وعنِ النَّائمِ حتَّى يستيقظَ، وعنِ الصَّبيِّ حتَّى يحتلمَ(صحيح أبي داود:4401)
ترجمہ:ميرى امت ميں سے تين قسم ( كے لوگوں ) سے قلم اٹھا ليا گيا ہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تك كہ وہ ہوش ميں آجائے، اور سوئے ہوئے سے جب تك كہ وہ بيدار ہو جائے، اور بچے سے جب تك كہ وہ بالغ ہو جائے۔
 بعض علماء نےروزہ کے لئے بچوں کی مناسب عمردس سال بتلائی ہے کیونکہ حدیث میں دس سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے ۔ بہر کیف دسواں سال ہو یا اس سے پہلے کا اگر بچے روزہ رکھ سکتے ہوں تو سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ ان سے روزہ رکھوائیں ۔
(6) قصدا روزہ توڑنے والی عورت کا حکم : رمضان میں بغیر عذر کے قصدا روزہ چھوڑنے والی عورت  گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔ اسے اولا اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنى چاہئے اور جو روزہ چھوڑى ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے ۔ اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتى ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہے ۔کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل دو مہینے کا روزہ رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ۔یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے ۔
(7) بے نمازی عورت کے روزے کا حکم : جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے ۔ نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ نبی ﷺ فرمان ہے :
العَهدُ الَّذي بيننا وبينهم الصَّلاةُ ، فمَن تركَها فَقد كَفرَ(صحيح الترمذي:2621)
ترجمہ :ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے،جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا۔
اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہیں ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائے گاجب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ۔
اللہ تعالی ہم  رمضان کے برکات وحسنات سے ہم سب کا دامن بھر دے اور اس ماہ مبارک کو ہماری نجات کا ذریعہ بنادے ۔آمین


مکمل تحریر >>

Thursday, November 3, 2016

ماہ صفر اور اس کی بدعات

ماہ صفر اور اس کی بدعات
================
مقبول احمد سلفی

صفرکا مہینہ سال کا دوسرا مہینہ ہے ۔ اس مہینہ کو عوام میں بہت زیادہ منحوس تصور کیا جاتا ہے ۔صفر کا معنی خالی ہونے کے ہیں چونکہ اہل مکہ پے درپے ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم کی حرمت کی وجہ سے جنگ وجدال اور فتنہ وفساد سے باز رہتے تھے تو صفرکا مہینہ آتے ہی ایک ساتھ اپنے گھروں کو خالی کرکے نکل جاتے اسی سبب اس ماہ کا نام صفرپڑگیا۔
اہل عرب کا اس طرح سے گھروں کا خالی کردینا اور جنگوں میں بے پناہ قتل ہونا بدعقیدگی کا شکار بنادیا ، اس سے نحوست لینے لگے بالآخر نحوست کی وبا ان کے غلط تصور سے دنیا میں رواج پاگیاکہ ماہ صفر منحوس ہے ، اس مہینہ میں بلائیں نازل ہوتی ہیں ، اس وجہ سے اس مہینہ میں لوگ سفر نہیں کرتے ، شادی بیاہ سے رک جاتے ہیں، بیوی کے قریب نہیں جاتے ۔ نحوست میں مزید اضافے کا باعث گھڑی ہوئی احادیث بن گئیں۔
(1) مَنْ بَشَّرَنِيْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہ بِالْجَنَّةِ (موضوع)
ترجمہ:جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دے گا ،میں اُسے جنت کی خوش خبری دوں گا۔
اس روایت کو ملاعلی قاری، علامہ عجلونی اور علامہ شوکانی وغیرہم نے موضوع کہا ہے ۔
(2)آخِرُ أربِعاءٍ من الشهرِ يومُ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ(السلسلة الضعيفة:1581)
ترجمہ:ماہ صفر کا آخری بدھ منحوس دن ہے ۔
شیخ البانی نے اسے موضوع کہا ہے دیکھیں مذکورہ حوالہ ۔
(3) يكونُ موتٌ في صفرَ ، ثم تتنازعُ القبائلُ في الربيعِ ، ثم العجبُ كلُّ العجبِ ، بين جمادى ورجبٍ(السلسلة الضعيفة:6178)
ترجمہ: صفر میں موت ہوگی ،پھر ماہ ربیع الاول میں قبائل جھگڑیں گے پھر جمادی الاول والثانی اور رجب کے درمیان عجیب وغریب چیزیں رونما ہوں گی۔
اس حدیث شیخ البانی نے موضوع کہا ہے ۔
ان بے بنیاد ،جھوٹی احادیث نے لوگوں کی غلط فہمیاں مزید بڑھادیں۔ لوگوں نے غلط عقائدوتصورات اور موہوم مصائب وبلاسے چھٹکارا پانے کے لئے متعدد قسم کے حربے اپنائے ۔
٭ کسی نے چنے ابال کرخود کھایا اور پورے محلے میں تقسیم کیا تاکہ اس ماہ کی پریشانی سے بچ جائے ۔
٭ کسی نے آٹے کی 365 گولیاں بناکر تالاب میں ڈالا تاکہ مصیبت اس کے سر سے ٹل جائے ۔
٭ کسی نے تیس مرتبہ سورہ اخلاص کا ورد کیا اس عقیدہ سے کہ یہ ہمیں اس ماہ میں نازل ہونے والی بلا سے نجات دلائے گا۔
ماہ صفرکا آخری بدھ :
اس ماہ کے آخری بدھ سے متعلق تو بے شمار بدعات وخرافات اور غلط افکار پائے جاتے ہیں ۔
٭ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس ماہ کی آخری بدھ کو نبی ﷺ کو بیماری سے شفاملی ، آپ نے غسل فرمایا ، اس خوشی میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ہیں جبکہ ہمیں تاریخ سے پتہ چلتا ہے ماہ صفر کی آخری بدھ سے آپ ﷺ کا مرض الموت شروع ہوا اور 12 ربیع الاول کو وفات پاگئے۔ یہ ایک یہودی شازش ہےجس کے شکار مسلمان ہوگئے ، بیماری پیغمبر پر جشن منانا۔ اللہ تعالی آپ کے غم پہ خوشی منانے والوں کو عبرت آموز سبق دے۔
٭ صفر کی آخری بدھ کو دن میں روزہ رکھنا اور شام کو حلوہ کچوری پکانا رائج ہے ۔ اس روزہ کو کچوری روزہ نام دیا جاتا ہے ۔ یہ کام دین میں نئی ایجاد ہے اور سراسر بدعت ہے ۔
٭پاکستان کے بعض علاقوں میں آخری بدھ کو خیرات کرنے کا ایک خاص طریقہ رائج ہے اسے پشتومیں چُری کی رسم کہتے ہیں۔دلیل میں کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی صحتیابی پہ ایسا کیا تھا۔ اس بات کی دین میں کوئی حقیقت نہیں ۔ جب نبی ﷺ صفر کی آخری بدھ میں بیمار تھے تو صحتیابی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہذا یہ بات جھوٹ ہے اور چُری کاعمل بدعت قبیحہ ہے ۔
٭بعض مقامات پہ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صفر کی آخری بدھ کو آسمان سے تین لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں ۔ ان بلاؤں سے بچنے کے لئے مخصوص قسم کی چار رکعت نماز نفل ادا کی جاتی ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ نماز ایک سلام سے پڑھی جاتی ہے ، ہررکعت میں ایک دفعہ سورہ فاتحہ ، سترہ مرتبہ سورہ کوثر،پندرہ مرتبہ سورہ اخلاص اور ایک ایک مرتبہ معوذتین پڑھی جاتی ہے ۔ پھر سلام پھیرکر مخصوص دعا کی جاتی ہے ۔ اس میں تین سو ساٹھ مرتبہ "اللہ غا لب علی امرہ ولکن اکثر الناس لایعلمون" پڑھا جاتا ہے اور"سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین"کے ذریعہ دعا ختم کی جاتی ہے ۔اس کے بعد فقراء ومساکین میں روٹی تقسیم کی جاتی ہے ۔
تین لاکھ بیس ہزاربلاؤں کا عقیدہ اور یہ مخصوص نماز دین میں اپنی طرف سے ایجاد کرلئے گئے ہیں جو بدعت وگمراہی ہیں اور ہرگمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
ہم مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام میں کوئی دن اور کوئی تاریخ ومہینہ منحوس نہیں ہے اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ سے اس ماہ صفر میں مخصوص عبادات انجام دینے اور مصائب سے بچنے کا کوئی مخصوص ذکر ملتا ہے ۔ آپ ﷺ نے ہمیں بتلایا کہ ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا عدوى ولا طَيَرةَ ، ولا هامَةَ ولا صَفَرَ(صحيح البخاري:5707)
ترجمہ: مرض کا متعدی ہونا نہیں (یعنی اللہ کے حکم کے بغیرکوئی مرض کسی دوسرے کو نہیں لگتا )اور نہ بدفالی لینا درست ہے ، اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے۔
طیرہ کا مطلب بدشگونی لینا ۔
ھامہ کا مطلب مقتول کے سر سے ہامہ نام کا جانور(الو) نکلنا جو انسان کو اس وقت تک تکلیف دے جب تک قتل نہ کردیا جائے ۔
صفر سے مراد لوگوں کے گمان سےماہ صفرکی نحوست ۔
ایک طرف آپ ﷺ نے اس ماہ صفر سے نحوست کی نفی کی تو دوسری طرف اس ماہ میں بڑے بڑے مبارک کام بھی ہوئے ۔
٭ اس ماہ میں ہجرت کے پہلے سال مقام ابواء پر غزوہ ہوا جس میں نبی ﷺ بنفس نفیس شریک ہوئے تھے ۔
٭ تین ہجری ماہ صفر میں قبیلہ عَضل اور وقارہ کے لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوئے ۔
٭ اسی ماہ کو چوتھی ہجری میں آپ ﷺ نےستر ماہر قراء کو اہل نجد کی تعلیم کے لئے روانہ کیا تھا۔
٭ اسی ماہ میں خیبر فتخ ہوا۔
٭ اسی ماہ کی نو ہجری میں قبیلہ خثعم کی جانب نبی ﷺ نے سریہ بھیجا ، اس سریہ میں غیبی طور پر اللہ کی طرف سے سیلاب کے ذریعہ مسلمانوں کو مدد ملی اور مال غنیمت حاصل کئے ۔
٭اس ماہ میں نوہجری کو نبی عذرہ کے بارہ لوگ دربار رسالت میں حاضر ہوکر بسروچشم اسلام قبول کئے ۔
مذکورہ سطور کی روشنی میں یہ بات اظہرمن الشمس ہوجاتی ہے کہ ماہ صفر منحوس نہیں ہے اور اس ماہ کو منحوس جان کر جو اعمال وافعال انجام دئے جاتے ہیں وہ سراسر لغواور بدعات وخرافات ہیں ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد.(صحیح مسلم :1718)
ترجمہ: جس نے کوئ ایسا کام کیا جو ہمارے دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔
نیز فرمان نبوی ہے :
کل محدثۃ بدعۃوکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار(صحیح النسائی :1577)
ترجمہ: ہرنئی ایجاد چیز بدعت ہےاورہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
مصیبت کسی بھی وقت ، کسی بھی دن اور کسی بھی مہینے میں آسکتی ہے ، وہ مصیبت کسی ماہ ودن کی نحوست کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنی بداعمالی کی وجہ سے ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
ومااصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم(الشوری:30)
ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے وہ اپنی ہی کرتوت کا نتیجہ ہے ۔
اس لئے مصیبت سے اگر بچنا ہے تو اپنے اعمال کی اصلاح کرنی ہے ، گناہوں سے توبہ کرنا ہے اور اللہ کی خالص عبادت بجالانی ہے ۔
مکمل تحریر >>