Sunday, October 5, 2025

نئے مسلم کے لئے غسل کا حکم

 نئے مسلم کے لئے غسل کا حکم

 

مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

اسلام نے طہارت ونظافت پر بہت دھیان دیا ہے اور اسے آدھا ایمان قرار دیا ہے تاکہ مسلمان  ہمیشہ طہارت وپاکیزگی کا خیال رکھے ۔ اسلام میں طہارت پر توجہ دینے کی ضرورت بایں سبب بھی ہے کہ نماز جیسی عظیم عبادت جو دن ورات میں پانچ بار آتی ہےاس کی انجام دہی کے لئے طہارت شرط ہے، اس کے بغیر عبادت قبول نہیں ہوگی۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں: لا تُقْبَلُ صَلاةٌ بغيرِ طُهُورٍ (مسلم:224) یعنی بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوگی۔ نماز کی قبولیت کے لئے زمین اور کپڑے کی پاکی کے ساتھ بدن بھی پاک ہونا ضروری ہے۔

ذرا غور فرمائیں کہ جمعہ کے دن آدمی ناپاک نہ بھی ہو، تب بھی اسے غسل جنابت کی طرح غسل کرکے مسجد جانے کی ترغیب دی گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنِ اغْتَسَلَ يَومَ الجُمُعَةِ غُسْلَ الجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأنَّما قَرَّبَ بَدَنَةً، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ بَقَرَةً، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ كَبْشًا أقْرَنَ، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ دَجَاجَةً، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الخَامِسَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإمَامُ حَضَرَتِ المَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ(صحيح البخاري:881)

ترجمہ: جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کرے، پھر نماز کے لیے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو شخص دوسری گھڑی میں جائے تو گویا اس نے گائے کی قربانی کی۔ اور جو شخص تیسری گھڑی میں جائے تو گویا اس نے سینگ دار مینڈھا بطور قربانی پیش کیا۔ جو چوتھی گھڑی میں جائے تو گویا اس نے ایک مرغی کا صدقہ کیا۔ اور جو پانچویں گھڑی میں جائے تو اس نے گویا ایک انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا۔ پھر جب امام خطبے کے لیے آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے مسجد میں حاضر ہو جاتے ہیں۔

جب ایک نیا مسلمان اسلام میں داخل ہوتا ہے، وہ بھی اب اسلامی احکام وآداب کا پابند ہوجاتا ہے  جبکہ پہلے اس کے لئے کوئی پابندی نہیں تھی خصوصا پاکی کے معاملہ میں اسے کوئی شعور نہیں تھا۔ کبھی اس نے بدن اور کپڑے کی طہارت کے بارے میں اسلامی نظریہ طہارت کی طرح نہ سوچا ہوگا اور نہ عمل کیا ہوگا۔ ایسے میں اسلام لانے والوں کے لئے غسل کرنا اس کے لئے شعوری طور پربھی زیادہ خوشی کا باعث ہوگا کہ وہ غیرضروری بالوں کی صفائی کرلے، میلے یا ناپاک کپڑے بدل لے اور غسل کرکے پورا جسم صاف کرلے تاکہ اس کے اندر ابتداء سے ہی طہارت وپاکیزگی کا شعور واحساس پیدا ہو۔

اب رہا مسئلہ یہ ہے کہ نئے مسلموں کے لئے یا اسلام میں داخل ہوتے وقت کلمہ پڑھنے کے لئے کیا غسل کرنا واجب ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مجرد کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہونے کے لئے غسل کرنا واجب وضروری نہیں ہے، ناپاکی کی حالت میں بھی کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوسکتا ہےمگر کلمہ پڑھنے سے قبل یا کلمہ پڑھنے کے بعد اس کے لئے غسل کرنے کا حکم مختلف فیہ ہے۔ جمہور علماء کہتے ہیں کہ نئے مسلم کے لئے غسل کرنا مستحب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نئے مسلم کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔ میرا رجحان یہ ہے کہ نئے مسلمانوں کے لئے غسل کرنا واجب ہے، بہتر ہے کہ کلمہ پڑھتے وقت غسل کرلے اور اگر اس وقت سہولت نہ ہوتو اسلام میں داخل ہونے کے بعد اقرب وقت میں غسل کرکے خود کو روحانی اور جسمانی دونوں طور پر پاک کرلے۔اس سلسلے میں دلائل سے اپنی بات کو مزین کروں گا، پہلے ان لوگوں کی  باتوں کا اختصار سے جائزہ پیش کردیتا ہوں جو نئے مسلموں کے لئے غسل کو واجب قرار نہیں دیتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ غسل صرف مستحب ہے۔ اپنے موقف کی تائید میں یہ لوگ کئی دلائل پیش کرتے ہیں جن کا جائز ہ نیچے پیش کیا جاتا ہے۔

اس معاملہ میں سب سے عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ  رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے مگر سبھی نئے مسلموں کو آپ ﷺنے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا۔

دلیل کا تجزیہ: شرعی دلیل کے ثبوت کے لئے بہت سارے دلائل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک یا چند دلیل بھی کسی مسئلہ کے وجوب کے لئے موجود ہو تو وہ امر وجوبی ہوجاتا ہے اور آگے ایسے کئی دلائل ذکر کئے جائیں گے جن سے معلوم ہوگا کہ نئے مسلموں کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔دراصل بہت سارے صحابہ کے بارے میں قبول اسلام کے وقت غسل کا ذکر نہیں ملتا ، اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فقط اسلام میں دخول کے لئے غسل کرنا واجب نہیں ہے، کلمہ پڑھ کر بغیر غسل کے آدمی اسلام میں داخل ہوسکتا ہے جیساکہ اوپر اس امر کی وضاحت کردی گئی ہے البتہ اسلام لانے کے سبب اس کے ذمہ غسل کرنا واجب ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ عدم ذکر سے عدم شی لازم نہیں آتا یعنی اگر بہت سارے نئے مسلموں سے غسل کرنا منقول نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے غسل نہیں کیا ہوگاجبکہ کئی سارے دلائل غسل کرنے سے متعلق موجود ہیں۔ بلکہ یہ سمجھ لیں کہ نئے مسلموں کا غسل کرنا اس قدر لوگوں میں معروف تھا کہ اسلام لانے والوں کوکہنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ تم غسل کرو، وہ خود ہی غسل کرلیا کرتے تھے ۔

دوسری دلیل:  صحیح مسلم(121) میں ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:"الإِسْلام يَهْدِم مَا كَانَ قَبْله" یعنی اسلام پہلے کی چیزوں کو منہدم کردیتا ہے۔ اس لئے اس کے ذمہ غسل ضروری نہیں ہے۔

تجزیہ:  یہاں پر منہدم کرنے کا مطلب اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کردیتا ہے جس کاتعلق اندرون جسم سے ہےجبکہ  جسم کی ظاہری نجاست تو پانی سے ہی زائل ہوسکتی ہے، اس میں توبہ یا اسلام لانے کا دخل نہیں ہے۔اسی طرح  اگر دیکھا جائے تو نئے مسلم کے ذمہ قرض اور  حقوق العباد ہوں تو اسلام لانے سے معاف نہیں ہوگا، اسی طرح نجاست کا معاملہ ہے۔ کوئی نجس آدمی اسلام میں داخل ہوتے وقت وہ نجس کیسے باقی رہ جاسکتا ہے ۔ جیسے وہ کلمہ پڑھ کر اپنے روح کو پاک کرتا ہےاسی طرح غسل کرکے وہ اپنے بدن کو بھی پاک کرے گا اس وجہ سے نئے مسلموں کے بارے میں قوی موقف یہی ہے کہ اسے غسل کا حکم دیا جائے گا۔

عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ،" فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".

قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 355]

اس حدیث میں ذکر ہے کہ جب صحابی قیس بن عاصم اسلام لانے کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو اسلام قبول کرنے سے قبل غسل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور حکم دینا واجب کے درجہ میں ہے لہذا کسی غیر مسلم کو غسل کرنے کا واجبی حکم دیا جائے گا جیساکہ اللہ کے رسول ﷺ نے قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ حکم قیس کے ساتھ خاص ہے، اس میں تمام نئے مسلموں کےلئے وجوبی حکم ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک یہی وجوب کا حکم ہے کیونکہ یہاں پر امر (حکم)وجوب کا تقاضاکرتا ہے۔

اسی طرح حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کے وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں غسل دینے کا حکم دیا تھا چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ، فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ(مسند احمد:8037)

ترجمہ:انہیں فلاں آدمی کے باغ میں لے جاؤ اور انہیں غسل کرنے کا حکم دو۔

متعدد اہل علم نے اس کی سند کو قوی کہا ہے کیونکہ اس کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ متعدد احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لانے والے خود ہی غسل کرلیتے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاتے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَى الْبَابِ، فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ، فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ، فَقَالَتْ: مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، قَالَ: فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا، فَفَتَحَتِ الْبَابَ، ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ قَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَكَ وَهَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: خَيْرًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِمُ الْمُؤْمِنِينَ، فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي ".(صحیح مسلم:2491)

ترجمہ: میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا اور وہ مشرک تھی۔ ایک دن میں نے اس کو مسلمان ہونے کو کہا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار گزری۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ نہ مانتی تھی، آج اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں مجھے وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کر دے۔“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے خوش ہو کر نکلا۔ جب گھر پر آیا اور دروازہ پر پہنچا تو وہ بند تھا۔ میری ماں نے میرے پاؤں کی آواز سنی۔ اور بولی کہ ذرا ٹھہر جا۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی، غرض میری ماں نے غسل کیا اور اپنا کرتہ پہن کر جلدی سے اوڑھنی اوڑھی، پھر دروازہ کھولا اور بولی کہ اے ابوہریرہ! ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشی سے روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! خوش ہو جائیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول کی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفت کی اور بہتر بات کہی۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ عزوجل سے دعا کیجیے کہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے۔ اور ان کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اپنے بندوں کی یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مومنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے۔“ پھر کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرے بارے میں سنا یا مجھے دیکھا ہو اور میرے ساتھ محبت نہ کی ہو۔

اس حدیث سے جہاں ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے کسی دوسرے کے ذریعہ  کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، خود سے شہادتین کا اقرار کرکے آدمی اسلام میں داخل ہوسکتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو کیسے معلوم ہوا کہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ کیا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ یہ معاملہ لوگوں میں عام تھا، اس وجہ سے ہرکسی کو اسلام لانے کے وقت غسل کا حکم دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ بعض لوگ اسلام لاتے وقت خود سے ہی غسل کرلیتے تھے ۔

حالت کفر اور حالت اسلام کے درمیان   صفائی ستھرائی میں بڑا واضح فرق ہے، اسلام میں جس طرح صفائی مطلوب ہے اس طرح کفار کے یہاں  استنجاءاور غسل کا تصور نہیں ہے، وہ تو باطن کے ساتھ ظاہری طور پربھی  ناپاک ہی ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض نئے مسلموں کو رسول اللہ ﷺنے بال صاف کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ چنانچہ کلیب کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: میں اسلام لے آیا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ یعنی تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کراؤ۔(: صحيح أبي داود:356)

اسلامی عبادات کے ناحیہ سے بھی نئے مسلم کے لئے غسل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے جسم کی بدبو اور ظاہری نجاست زائل کرلے اور بالکل پاک وصاف اورنشیط ہوکر عبادات کی پاسداری کرے۔

جن علماء نےغسل کو  مستحب کہا ہے انہوں نے یہ بھی لکھا ہےکہ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نئے مسلم کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی جب حالت کفر میں ہو اور بالغ ہوجائے تو اس کا جنبی ہونا یقینی ہے پھر شادی شدہ ہو تب بھی آدمی جنبی ہوتا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ کافر نہائے گا بھی تو اسلامی تعلیمات کی طرح غسل نہیں کرے گا، غسل کرکے بھی وہ ایسے رہے گا کہ اس نے غسل نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن القیم ؒ نے لکھا ہے کہ نئے مسلم کا غسل کرنا واجب ہے خواہ وہ حالت کفر میں جنابت کی حالت میں رہا ہو یا جنابت کی حالت میں نہ رہا ہو۔

اسی طرح غسل کو مستحب کہنے والے اکثر علماء یہی کہتے ہیں کہ اختلاف سے بچتے ہوئے غسل کرلینا احوط وافضل ہے۔شیخ ابن عثیمین ؒ زاد المستقنع میں کتاب الطہارہ کے تحت نئے مسلم کے غسل کو غیر واجب قرار دیتے ہیں لیکن آخر میں کہتے ہیں "والاحتیاط الوجوب" یعنی محتاط قول یہی ہے کہ نئے مسلم کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھ لیں کہ اگر کوئی کافر اسلام قبول کرتا ہے اور وہ بغیر غسل کئے نماز ادا کرتا ہے تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے یا نماز جیسی عظیم عبادت کے تئیں نئے مسلم کو کیا کرنا چاہئے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ اگر نیا مسلم غسل کرکے نماز ادا کرتا ہے تو اس کی نماز کے بارے میں ادنی بھی شبہ نہیں رہے گا لیکن بغیر غسل کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کے بارے میں تردد تو ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب نیا مسلم اسلام قبول کرنے لگے تو اس سے قبل غسل کرلے ، اگر ممکن ہے تو ورنہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اقرب فرصت میں اسلام لانے کے سبب غسل کرے اور اپنے جسم کو پاک کرے ۔ واضح رہے کہ غسل کے بغیر بھی شہادتین کا اقرار کیا جاسکتا ہے، اس میں مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ نیا مسلم غسل کرے خواہ اسلام لاتے وقت یا اسلام لانے کے بعد ۔

 

مکمل تحریر >>

Sunday, March 2, 2025

پب جی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں


 پب جی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر،حی السلامہ – سعودی عرب

 

مختلف قسم کے ویڈیو گمیز میں ایک نام پب جی(PUBG) کا  بھی آتا ہےجسے بچے ، جوان بوڑھے سبھی بڑے شوق سے کھیلتے ہیں ۔ پب جیPlayer Unknown’s Battlegrounds)) کا مخفف ہے یعنی یہ ایک فرضی جنگ والی ویڈیوگیم ہے۔اس گیم کے بارے میں اس کے کھیلنے والے سے سنیں یا اس کھیل کے کھلاڑی کا حال جانیں تو معلوم ہوگا کہ اس گیم میں مثبت پہلو رتی برابر بھی نہیں ہے مگر منفی اثرات بڑے گہرے اور وسیع ہیں ۔

چونکہ یہ  ایک فرضی جنگی گیم ہے جیساکہ نام سے بھی ظاہر ہے اس وجہ سے اس میں مارنا، قتل کرنا، ہتھیار چلانا ، ایک دوسرے کو مٹانا اور برباد کرنا یہی سارے کام انجام دئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کھیل سے  سماج پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں حتی کہ کھیلنے والے آدمی کو ذہنی مریض تک بنادیتا ہے اسی کا اثر ہے کہ پپ جی کھیلنے والوں میں سے کتنے لوگوں نے خود کو ہی ماردیا تو کسی نے اپنے ہی گھر کے لوگوں کا قتل کردیا یا اپنے دوستوں کو نقصان پہنچایا۔ عام طور سے ماہرین نفسیات اس کھیل کے منفی اثرات ہی بیان کرتے ہیں ۔ حد تک یہ ہے کہ  گھریلو اور معاشرتی نقصان کی وجہ سے ملکی سطح پر اس کھیل پر پابندی لگانے کا مطالبہ تک کیا جاتا ہے۔پب جی کھیلنے والوں نے کہاں کہاں کس کس کا قتل کیا اس کو ذکر کرنا یہاں مفید نہیں ہے، یہ انٹرنیٹ پہ بڑی تعداد میں موجود ہے تاہم یہاں یہ جانتے چلیں کہ اس کھیل کے کھیلنے کی وجہ سے کھلاڑی پر کیا کیانفسیاتی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل سطور میں آدمی پر مرتب ہونے والے چند اہم نفسیاتی اثرات ملاحظہ کریں۔

٭یوں تو تمام انٹرنیٹ گیموں کا حال یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے مگر پب جی کا معاملہ کچھ زیادہ ہی سنگین ہے۔ اس کھیل کا نشہ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ ہرکسی سے کنارہ کش ہوجاتا ہےاور ایک کمرہ تک یا دوسروں سے تنہائی اختیار کرلیتا ہے ۔ پب جی جنگ کا مشن تمام فائٹر کو ختم کرکے اکیلا زندہ رہنا ہے ، یہی اکیلاپن زندگی میں آجاتا ہے اور لوگوں میں رہنا، کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں آتا۔وہ اپنا وقت صرف پب جی کو دینا چاہتا ہے، یہی اس کا ساتھی، دوست اور دنیا ہے۔

٭اس کھیل میں نشہ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ آدمی  زندگی جینے کا سلیقہ کھودیتا ہے۔ کب سوناہے، کب جاگناہے، کب کھانا ہے ، کب  گھر اور باہر کی ذمہ داری ادا کرنا ہے ، اس سے بے پرواہ ہونے لگتا ہے  حتی کہ سامنے لذیذ کھانا پڑا ہو مگر دھیان پب جی کی طرف ہوتاہے۔ اس وجہ سے صحت کا نقصان ہوتا ہے  کیونکہ اس کے کھانے پینے اور سونے جاگنے اور آرام وراحت کے ترتیب یکسر بدل جاتے ہیں۔

٭اس کھیل کا منفی اثر براہ راست آدمی کی عقل پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی اور ذہنی مریض بن جاتا ہے اور آج نفسیاتی مریضوں کی بڑی تعداد اس گیم کی بدولت ہے، جب انسان کی عقل  ہی سلامت نہ رہےپھر اس کے جسم کا کوئی عضو سلامت نہیں ہے۔

٭ہندی فلموں نے لوگوں میں آج تک جتنا تشدد نہیں پھیلایا اس سے زیادہ تشدد بہت کم وقتوں میں پپ جی اور اس جیسے دیگرگیموں نے پھیلایا ہے یہی وجہ ہے کہ  پب جی نے  لوگوں میں  چڑچڑاپن، بدمزاجی ، غصہ، لاتعلقی ، دشمنی، بدتمیزی  اور تشدد کے دیگرعناصر پیدا کئے  نتیجتا ایسے لوگ بسا اوقات خود کو بھی مارلیتے ہیں اور کبھی اپنے قریب سے قریب آدمی کو قتل کردیتے ہیں حتی کہ  مارنے میں ماں باپ یا بہن بھائی  تک کی تمیز کھوبیٹھتے ہیں۔

٭اس گیم کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ یہ آدمی کو اپنا اسیر بناکراسے اپنے فرض منصبی سے دور کردیتا ہے ۔ بایں سبب جو طالب علم ہوگااس کی تعلیم کا نقصان ہوگا، جو نوکری پیشہ ہوگا وہ اس میں کوتاہی کرے گا، جو استاد ہوگا وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہ بن جائے گا اور جوسماج یا گھر کا ذمہ دار ہوگا وہ اپنی ذمہ داری صحیح سے نہیں اداکرپائے گا۔

پب جی کھیلنے کے یہ چند بڑے اہم منفی اثرات ہیں جو اس کے کھیلنے سے آدمی پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ تو دنیاوی لحاظ سے پب جی کا نقصان آپ کے سامنے بیان کیا گیا ۔ اب اس گیم کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھتے ہیں تاکہ اس کی شرعی حیثیت جان سکیں اور اس سے دوری اختیار کریں۔

اسلام نے ہمیں پانچ چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا ہےجنہیں ضرورات خمسہ کہا جاتا ہے۔وہ پانچ چیزیں، دین، جان، عقل، نسب اور مال ہیں۔اس گیم کے ذریعہ ان پانچ چیزوں میں سے چار چیزوں کا نقصان نظر آتا ہے۔

پب جی اور دین کا نقصان:  یہ ایک لایعنی کھیل ہے، اس سے کافی وقت ضائع ہوتا ہے اور نفسیاتی طور پر آدمی اس کے سبب فرض منصبی میں کوتاہی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز جیسی عظیم عبادت سے غافل ہوسکتا ہے ۔ یہ عمومی نقصان ہے جبکہ اس میں دین کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ سنا گیا ہے اس کھیل میں ایک ایسا بھی مرحلہ آتا ہے جہاں پاور حاصل کرنے کے لئے بت کے سامنے جھکنا پڑتا ہے ۔ اگر واقعی اس کھیل میں یہ مرحلہ بھی  آتاہے تو یہ کھیل آدمی کو کفر میں داخل کررہا ہے جس سے اس کے دین کا بڑا نقصان ہورہا ہے۔

پب جی اور جان کا نقصان: چونکہ یہ جنگی گیم ہے اس سے لڑنے اور قتل کرنے کی عادت ڈالی جاتی ہے اس کے سبب حقیقت میں لوگوں کا قتل بھی ہورہا ہے ۔کھیلنے والا خود کا بھی نقصان کرتا ہے اور دوسروں کا بھی نقصان کرتا ہے، گویا اس سے انسانی جان کوخطرہ ہے اور یہ جانی نقصان کا سبب ہے اور اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جو جانی نقصان کا سبب بنے بلکہ ادنی نقصان پہنچنے والی چیزوں سے بھی  منع کرتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ(البقرۃ:195)

ترجمہ:اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا ضررَ ولا ضِرارَ( صحيح ابن ماجه:1910)

ترجمہ: نہ (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا۔

اس حدیث میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے کہ نہ خود کو نقصان پہنچانا ہے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاناہےبلکہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ اوراس کی  زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المُسْلِمُ مَن سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسانِهِ ويَدِهِ، والمُهاجِرُ مَن هَجَرَ ما نَهَى اللَّهُ عنْه( صحيح البخاري:6484)

ترجمہ:مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔

پب جی اور عقل کا نقصان:ماہرین طب و نفسیات کے تجربہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پب جی کا انسانی عقل پر برا اثرپڑتا ہے جس سے آدمی ذہنی مریض بن جاتا ہے بلکہ یہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے ۔ ہم آئے دن اپنی آنکھوں سے اس گیم سے لوگوں کی عقل خراب ہوتے اسی طرح دیکھ رہے ہیں  جیسے شراب سے عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ اسلام عقل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اس وجہ ہے جس کام سے بھی عقل کو نقصان پہنچے اس سے بچا جائے گا لہذا جیسے شراب یا نشہ آور چیزوں سے عقل کا نقصان ہوتا ہے اس سے بچنا ہے ویسے ہی پب جی سے بچنا ہے کیونکہ اس  کے کھیلنےمیں عقل کا نقصان ہے۔

پب جی اور مال کا نقصان: پپ جی ایسا کھیل ہے جس میں پیسہ لگاکر اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے ، پھر پیسہ لگاکریاکویزخرید کر ہار جیت والا جوا کھیلا جاتا ہے ۔ اس میں ایک طرف بلاوجہ پیسہ ضائع کیا جاتا ہے تو دوسری طرف اس میں جوا بھی پایا جاتا ہے اور اسلام میں جوا کھیلنا حرام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ:90)

ترجمہ:اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔

اور نبی ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ(صحيح البخاري:1477)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا۔ بلاوجہ کی گپ شپ، مال کی بربادی اور لوگوں سے بہت مانگنا۔

آپ نے اندازہ لگایا کہ  اسلام نے جن پانچ اہم چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے ان میں سے چار چیزوں کا نقصان پب جی سے ہورہا ہے  اور حقیقت بھی یہی ہےکہ  پب جی  ایک ایسا کھیل ہے جس میں  بے شمار نقصانات ہیں مگر اس میں ادنی سا بھی فائدہ نہیں ہے ، نہ عقل و ذہانت کا اور نہ ہی صحت وجسم کا بلکہ الٹاؤ نقصان ہی ہوتا ہے۔یہ  لایعنی ، فضول ، وقت ضائع کرنے والے اور فرائض وواجبات سے غافل کردینے والا   اور لہوو لعب میں مشغول کردینے والاکام ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ایسے فضول ولایعنی کاموں سے منع فرماتا ہے، اس سلسلے میں نصیحت حاصل کرنے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیں۔اللہ تعالی مومنوں کی صفات بتاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ، وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المومنون:1-3)

ترجمہ:یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ فرماتا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ(لقمان:6)

ترجمہ: اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من حسنِ إسلامِ المَرءِ تركُه ما لا يعنيه(صحيح الترمذي:2317)

ترجمہ:کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔

وقت کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے  نبی ﷺ نے ہمیں پانچ باتوں کی  بڑی قیمتی نصیحت فرمائی ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں:

اغْتَنِمْ خَمْسًا قبلَ خَمْسٍ : شَبابَكَ قبلَ هِرَمِكَ ، وصِحَّتَكَ قبلَ سَقَمِكَ ، وغِناكَ قبلَ فَقْرِكَ ، وفَرَاغَكَ قبلَ شُغْلِكَ ، وحَياتَكَ قبلَ مَوْتِكَ(صحيح الترغيب:3355)
ترجمہ:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔

جو اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے اور خود کو رب العالمین کی عبادت کے لئے متفرغ نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے، حدیث قدسی میں ہے۔

يقولُ اللَّهُ سبحانَه يا ابنَ آدمَ تفرَّغْ لعبادتي أملأْ صدرَك غِنًى وأسدَّ فقرَك وإن لَم تفعَلْ ملأتُ صدرَك شُغلًا ولم أسدَّ فَقرَكَ(صحيح ابن ماجه:3331)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔

شرعی ناحیہ سے پب جی کی ایک غلطی یہ  بھی ہے کہ یہ جاندار لوگوں کا کارٹون والا گیم ہےیہاں تک کہ اس میں عورتوں کے عریاں کارٹون بھی ہوتے ہیں ۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ اسلام میں جاندار کی تصویر استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری سے دو حدیث ملاحظہ فرمائیں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یقیناً یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس کو زندہ بھی کرو۔(بخاری:5951)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب والے لوگ وہ ہوں گے جو اللہ تعالی کے تخلیق میں مقابلہ بازی کرتے تھے۔(بخاری:5954)

اب پب جی سے متعلق تمام اہم باتیں  آپ کے سامنے آگئیں ہیں۔ آپ نے  اس گیم سے ہونے والے  نفسیاتی نقصانات  اور مقاصد شریعت کے تحت آنے والے ضرورات خمسہ کے نقصانات کو پڑھ لیا ۔ان نقصانات کے سبب یہ گیم اسلامی اصول"لاضررولاضرار" ( نہ تکلیف دینا ہے اور نہ تکلیف مول لیناہے) کے خلاف ہے  ۔نیز یہ فضول لہوولعب ہے جووقت ومال ضائع کرنے والا ، عبادات سے غافل کرنے والا اور حرام تصویر کے زمرے میں آنے والا گیم ہے ۔بنابریں یہ کہنے میں قعطا کوئی ترددنہیں کہ پب جی کھیلنا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں ہے۔ مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو اس کھیل سے باز آجانا چاہئے  خصوصا گھر کے ذمہ دار کو چاہئے کہ اپنے ماتحتوں کی اچھی نگرانی کرے اور اپنے گھر والوں کو پب جی کھیلنے سے روکے۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, January 13, 2021

پرپال یعنی ایڈی سینس سے پیسہ کمانے کا حکم

پرپال یعنی ایڈی سینس سے پیسہ کمانے کا حکم
مقبول احمد سلفی/ اسلامک دعوۃ سنٹر ، طائف
 
پرپال(Prpal) جس کا موجودہ نام ایڈی سینس (Adisence)ہے ، اس کے صارفین کا کہنا ہے کہ اس کا قیام ۲۰۰۴ میں عمل میں آیا جبکہ پاکستان میں اس کی آمد ۲۰۱۵ بتائی جاتی ہے ۔ ایڈی سینس ایک ڈیجیٹل اشتہاری(Advertising) کمپنی ہے جس کی ممبرشب حاصل کرکے لوگ گھر بیٹھے آن لائن کمائی کرتے ہیں ۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا اس آن لائن اشتہاری کمپنی سے جڑ کر پیسہ کمانا جائز ہے ؟ اس سوال کا جواب دینے اور سمجھنے کے لئے پرپال/ ایڈی سینس سےآن لائن پیسے کمانے کے طریقہ کار کو بیان کرنا ضروری ہے ۔
ایڈی سینس سے پیسے کمانے کے دو طریقے ہیں ۔
(ٍ1) نٹورک مارکیٹنگ : اس کا طریق کار یہ ہے کہ کمپنی کو پروموٹ کرکے ٹیم ورک کرنا ہوگا یعنی اپنے ساتھ دوسروں کو جوائن کرناہے جس سے ممبروں کا ایک جال بنتا چلا جائےگا اسی سبب اس کو نٹورک مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔
(2) انوسٹمنٹ پیکیج: کمپنی میں انوسٹ کرنے کے مختلف پیکیجز ہیں جن کا منافع حسب پیکیج متعین شکل میں دیا جاتا ہے مثلا پانچ ہزار والے پیکیج کی روزانہ کی آمدنی پچیس روپئے ، دس ہزار کی باون روپئے ، بیس ہزار کی سو، چالیس ہزار کی دوسو،پچاس ہزار کی ڈھائی سواور ایک لاکھ کی پانچ سو وغیرہ(یہ پیکیجزپاکستان کے حساب سے ہیں)۔
جو کوئی اس ڈیجیٹل اشتہاری کمپنی سے جڑ کر پیسہ کمانا چاہتا ہے وہ یاتو نٹورکنگ سسٹم اختیار کرے گا یا کمپنی میں انوسٹ کاطریق کار اپنائے گا ۔ اگر آپ نٹورک سسٹم چنتے ہیں تو آپ کو کمائی کرنے کے لئے پہلے پیسے لگاکر ایڈپاور خریدنا پڑے گا پھر کمپنی کی طرف سے صارف کے اکاؤنٹ میں روزانہ اشتہار مہیا کرایا جائے گا جس کو چوبیس گھنٹے میں دیکھنا ہے ، جس دن اشتہار نہیں دیکھاجائےگا اس دن کا منافع کٹ جائے گا۔ رینک حاصل کرنے کے لئے اپنے ساتھ لازما چار افراد جوڑکر ان سے انوسٹ کروانا یا ان کے ذریعہ نچلے طبقے سے انوسٹ کرواناہےپھر اس کے بعد آفیسر، سینئرآفیسر، مینیجراور سینئر مینیجر کے گریٹ ملتے ہیں اور تنخواہ کا معیار بڑھتاہے ساتھ ہی انعامات و تمغےبھی ملتے ہیں، یہ ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنیوں کی ہے جیساکہ ویسٹیج ہے۔
اور اگرآپ انوسٹ والے پیکیج حاصل کرکے کمانا چاہتے ہیں تو جس قدر بڑا پیکیج ہوگا اسی قدر منافع بڑا اور روزانہ کے حساب سے متعین صورت میں ملے گا ،اس پیکیج والوں کوبھی اپنے اکاؤنٹ میں روزانہ اشتہار مہیا کرایا جاتا ہے جس کو دیکھنے کا منافع ملتا ہےاور اگر کسی دن اشتہار نہ دیکھے تو اس دن کا منافع کٹ جائے گا۔ یہ معاہدہ پندرہ مہینے پر مشتمل ہوتا ہے کوئی اس معاہدہ کو فسخ کرنا چاہے تو لگائے ہوئےپیسے واپس نہیں لے سکتا ہے۔
ایڈی سینس سے پیسے کمانے کے دونوں طریقوں کو مختصرا بیان کردیا گیا ہے اور ان طریقوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیسہ کمانے کے یہ دونوں طریقے حرام ہیں ۔
ایڈی سینس میں نٹورک مارکیٹنگ کے ذریعہ پیسے کمانے میں مندرجہ ذیل وجوہات کی بناپر حرام ہے ۔
٭ ایڈپاور خرید کر اشتہار دیکھنے کے ذریعہ پیسہ کمانا جائز نہیں ہے کیونکہ ایک طرف متعین رقم لگائی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف منافع مجہول ہےاور اسلام میں اس طرح کی تجارت جائز نہیں ہے، یہ جوئے کی شکل ہے۔
٭ ایک ممبر اپنے ساتھ چار کو جوڑتا ہے پھر وہ اپنے ساتھ دوسروں کو جوڑتا ہے ، نیچے والے پھر اپنے نیچے ممبر بناتا ہے اس طرح پیرامیڈ شکل بن جاتی ہے اور کمیشن تمام لیول والوں کو ملتا ہے ۔ اپنے لیول میں چار لوگوں کو جوڑنے والا غیروں کے لیول کا بھی کمیشن لیتا ہے یہ جائز نہیں ہے ۔ اس کی تفصیلی جانکاری میرے مضمون" نٹورک مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت" سے حاصل کرسکتے ہیں۔
٭بارباراشتہار دیکھنے والا اشتہار دینے والی کمپنیوں کی ریٹنگ بڑھاتاہے جوکہ بائع ومشتری دونوں کے حق میں صاف دھوکہ ہے۔بائع سمجھتا ہے کہ اتنے خریدار نے ایڈدیکھاہے حالانکہ اشتہار دیکھنے والا خریدار نہیں ہے اورمشتری جھوٹی ریٹنگ سےکمپنی اور اس کی مصنوعات پر بھروسہ کرکے بیع کرلیتا ہے حالانکہ اسلام نے سامان کا وہی وصف بیان کرنے کا حکم دیا ہے جو اس کی حقیقت ہےبلکہ اصل وصف کو چھپانا بھی منع ہے اور جھوٹ ومبالغہ آرائی سے بھی بچنا ہے۔
٭ اشتہار سے متعلق ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ ایڈی سینس کے ذریعہ جن کمپنیوں کےاشتہارات دکھائے جاتے ہیں کیا ان ساری کمپنیوں کا حقیقی وجود ہوتاہے یا ان میں کچھ آن لائن ٹریڈنگ کے نام پہ فراڈ کررہی ہوتی ہیں؟ اسی طرح کیا وہ کمپنیاں حلال تجارت کررہی ہیں یا ان میں حرام چیزوں کی بھی تجارت ہورہی ہےمثلا سودی کاروبار، حرام اور نقصان دہ اشیاء وغیرہ ۔پرچار میں مبالغہ آرائی اور جھوٹ کی آمیزش تو نہیں، پرچار میں جانداراور عورت کی تصویر تو نہیں بالخصوص برہنہ تصویر اور موسیقی وغیرہ ۔ اگر ان میں سے کوئی خامی ہے تو اشتہار دیکھنے کا منافع حلال نہیں ہے۔
انوسٹ پلان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ پیکیج خرید کر روزانہ اور ماہانہ طورپر فکس منافع حاصل کیا جاتا ہے یہ جائز نہیں ہےاور اسی طرح نٹورک سسٹم کی طرح اشتہار دیکھ کربائع و مشتری کو دھوکہ دینا اورنفس اشتہار کا تعلق حرام اشیاء، حرام تجارت یا جھوٹ وفراڈ سے ہونا بھی انوسٹ پلان میں شامل ہونے سے روکتا ہے۔
آخری اور ایک اہم بات کی طرف اشادہ کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ملٹی لیول نٹورکنگ والے لوگوں کو بڑے بڑے خواب دکھا کر اور دھوکے سے اپنی کمپنی کا ممبر بناتے ہیں ہوبہو اسی طرح پرپال اور ایڈی سینس والے لبھاکر، خواب دکھاکر اور لفاظی کرکے دھوکے سے لوگوں کو ممبر بناتے ہیں کیونکہ دونوں کے منشاایک ہیں ۔یقین نہ آئے تو یوٹیوب پر ان لوگوں کے ویڈیوز دیکھ لیں ۔ یہاں یہ بات بھی جان لیں کہ ممبر بنانے والے لوگوں کودھوکہ دیتے ہوئےیہاں تک کہتے ہیں کہ ایڈی سینس کی کمائی حلال ہے ، اس کے اشتہارات حلال ہیں ، اس کے منافع اور اسکیمیں حلال ہیں حتی ہمارے پاس اس کی کمائی حلال ہونے کا فتوی بھی ہے ۔ بعض ممبردلیل کے طورپربریلوی عالم مفتی اکمل کا ویڈیوفتوی دکھارہے ہیں کہ انہوں نے پرپال کی کمائی کو حلال کہا ہے ۔ ان سے جب سوال کیا کہ آن لائن کلکنگ کی جاب کا کیا حکم ہے یعنی ایڈ پہ کلک کرنے سے پیسے ملتا ہے اس کاکیا حکم ہے تو اس پر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ نبی نے ہمیں تصور دیا ہے کہ کسی کو اپنی صلاحیت یا وقت سے نفع پہنچاتے ہیں ، اس کے لئے کوئی عمل کرتے ہیں اور وہ نفع کی قیمت دیتا ہے تو یہ صحیح ہے اس کو شرعی اصطلاع میں اجارہ کہتے ہیں ۔ دوسری طرف جامعہ بنوریہ کے دارالافتاء سے پرپال کی کمائی حرام ہونے پر متعدد فتاوے شائع ہوئے ہیں ان میں کہاگیا ہے کہ ایڈ پر کلک ایسی چیز نہیں ہےجو منفعت مقصودہ ہواس لئے یہ اجارہ صحیح نہیں ہے اور ایک دوسرے فتوی میں لکھا گیا ہے کہ ایڈ دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں ہے جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے اور ایڈ دیکھنے والے ممبرکو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرا یا جاسکے ۔
مفتی اکمل صاحب کے فتوی پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کو نہ اس کمپنی کی حقیقت معلوم ہے اورنہ ہی وہ تجارت کے اسلامی اصول وضوابط سے واقف ہیں ۔اجارہ میں ایک صحیح عمل کے ذریعہ اجرت حاصل کی جاتی ہے جبکہ یہاں ممبرایڈپر محض باربار کلک کرکے اشتہار دینے والی کمپنی کی جھوٹی ریٹنگ بڑھاتا ہے اوربائع و مشتری کو دھوکے میں مبتلا کرتا ہے پھر عمل صحیح کہاں ہوا ، جب عمل صحیح نہیں تو اجرت بھی صحیح نہیں ، اس میں اور جو دوسری خامیاں ہیں وہ اوپربیان کردی گئی ہیں ۔
آپ کو اس تجارت سے متعلق زیادہ جانکاری چاہئے تو میرے بلاگ پر نٹورک مارکیٹنگ کے علاوہ ،یوٹیوب کی کمائی، ویسٹیج مارکیٹگ، آ ن لائن تجارت اور افلیٹ مارکیٹنگ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, January 14, 2020

ایمیزون پر افلیٹ مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت


ایمیزون پر افلیٹ مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹرمسرہ، طائف

پہلے ایمیزون(Amazon) اورافلیٹ مارکیٹنگ(Affiliate Marketing) دو الفاظ کو سمجھ لیں پھر ان کی شرعی حیثیت بتاؤں گا۔ ایمیزون انٹرنیٹ پر مبنی برقی تجارت ہے جو عالمی سطح پر امریکہ کی سب سے بڑی برقی تجارت ہے ۔ ایمیزون ڈاٹ کام کے ذریعہ آن لائن ہم اپنی خاص مصنوعات بیچ سکتے ہیں یا اس ویب سائٹ پر جن مصنوعات کے اشتہارات ہیں انہیں آن لائن آڈرکر سکتے ہیں یا مختلف ڈیلیوری پہ کیش بیک حاصل کرسکتے ہیں ،کوئی چاہے توبغیرسرمایہ کاری کئے ایمیزون سے مربوط ہوکر مختلف طریقے سے پیسے کماسکتا ہے ۔
افلیٹ مارکیٹنگ میں آج کل نوجوان بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور اس کے ذریعہ گھر بیٹھے پیسہ کمارہے ہیں ۔ افلیٹ مارکیٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ ایمیزون یا اس جیسی برقی تجارتی کمپنی میں آن لائن رجسٹرڈ ہوکر اس کمپنی کی مصنوعات کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا۔ مثال کے طورپر ایمیزون ڈاٹ کام پر جاکر پیسہ کمانے کی فہرست میں ایک آبشن آفلیٹ مارکیٹنگ ہے اسے جوائن کریں ، پھر جن پروڈکٹ کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں کمپنی اس کا ویب لنک فراہم کرتی ہے اس لنک کو کاپی کرکے اپنےکسی سوشل نٹورک مثلا واٹس ایپ،یوٹیوب، فیس بک ، بلاگ یا ویب سائٹ پر نشر کریں ، اس لنک سے جو بھی کسٹمر ایمیزون کی مذکورہ پروڈکٹ خریدے گا اس کے منافع کا کچھ حصہ لنک شیئر کرنے والے کو بھی ملے گا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایمیزون سے مربوط ہوکر افلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعہ پیسہ کمانا حلال ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم ایمیزون پہ افلیٹ مارکیٹنگ کرسکتے ہیں تاہم مندرجہ ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
٭ صرف ان ہی مصنوعات کی تشہیر کی جائے جو اسلامی نقطہ نظر سے حلال ہو ں، جوچیزیں اسلام میں حرام ہیں ان کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا جائز نہیں ہے۔
٭ کمپنی کی طرف سےمصنوعات کی حقیقی مواصفات ، قیمت اور حوالگی واضح طور پر درج ہو۔
٭کمپنی نےمصنوعات کے جن مواصفات کا ذکر کیا ہے سامان کی ڈیلیوری ہونے پر مذکورہ مواصفات ناپید ہونے کی صورت میں مصنوعات واپس کرنے کا اختیار دیا گیا ہو۔
٭ آڈر کرنے کے بعد مقررہ تاریخ تک مصنوعات نہ ملنے پر یا زیادہ تاخیر ہونے کی صورت میں آڈر کینسل کرنے کا بھی اختیار ہو۔
٭ سامان نہ ملنے یا غبن ہوجانے کی صورت میں مصنوعات کی خرید کے لئےجمع کی گئی رقم واپس ہونے کی ضمانت دی گئی ہو۔
٭ آن لائن تجارت کرنے والےایسے بھی افراد ہیں جن کے یہاں مصنوعات نہیں ہوتیں محض اشتہار بازی ہوتی ہے اور جب کوئی آن لائن سامان آڈر کرتا ہے تو کسی دوسری کمپنی سے سستا سامان خرید کر آگے آڈر کرنے والے شخص کو بیچ دیتا ہے ، اس طریقہ میں کئی شرعی قباحتیں ہیں مثلا ایسی چیز کو فروخت کرنا جو اس کی ملکیت نہیں ہے اور اسی طرح سامان پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی دوسرے کو بیچ دینا،اسلئے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ مصنوعات کا حقیقی وجود ہے۔
٭ایمیزون پر آڈر کرنے کے وقت ہی شاید پیمنٹ کرنا پڑتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم آن لائن خریدوفروخت میں کیش آن ڈیلیوری زیادہ مامون طریقہ ہے تاکہ سامان غبن ہوجائے تو بلاوجہ خسارہ نہیں اٹھانا پڑے گا یامطلوبہ صفات پر مبنی سامان ڈیلیوری نہ ہوتو آسانی سےواپس کرسکےگا ۔
افلیٹ مارکیٹنگ کرنے والوں کو میں ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس مارکیٹنگ میں نفع کم اور وقت کا ضیاع بہت زیادہ ہے ، آپ کی اپنی آن لائن تجارت ہے تو اس کی الگ بات ہے لیکن دوسروں کی تجارت کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا دراصل بہت سارے قیمتی اوقات کا خسارہ ہے ۔ میں جہاں تک سمجھتا ہوں کہ یہی اوقات ہارڈورکنگ پر صرف کرکے پیسہ کمایا جائے تو انٹرنیٹ سے کہیں زیادہ منافع حاصل ہوگا۔انٹرنیٹ کے کثرت استعمال نے نوجوان نسل کی ایسی تربیت کی کہ اس کو وقت کے ضیاع کا قطعی احساس نہیں ہے، اسے بس اس بات کی خوشی ہے کہ گھر سے نکلے  بغیر بیٹھے بیٹھے پیسہ آرہا ہے جبکہ یہ پیسہ محنت اور وقت کے بدلے کچھ بھی نہیں ہے ۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, October 22, 2019

کالے یرقان کا جنگلی کبوتر سے علاج کی شرعی حیثیت



کالے یرقان کا جنگلی کبوتر سے علاج کی شرعی حیثیت

تحقیق: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف (مسرہ)

یرقان جسے انگریزی میں (Hepatitis) کہتے ہیں ، یہ ایک قسم کا مرض ہے جو جگر سے متعلق ہے جو دراصل وائرس ہے اور دوسروں میں منتقل بھی ہوتا ہے۔اس کی پانچ اقسام ہیں ۔ ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ہیپاٹائٹس ڈی اور ہیپاٹائٹس ای۔ ہیپاٹائٹس اے کو پیلا یرقان اور بی و سی کو کالا یرقان کہا جاتا ہے ۔
آج کل یہ مرض دنیا میں عام ہے، ہرملک میں وافر مقدار میں اس کے مریض پائے جاتے ہیں ،اس وجہ سے علاج کے مختلف طریقے لوگوں میں پائے جاتے ہیں بلکہ آئے دن اس مرض کے خاتمہ کے لئے نئے نئے علاج تلاش کئے جارہے ہیں ۔ علم طب وسائنس کے یہاں ہیپاٹائٹس کی جملہ اقسام کا علاج موجود ہے بلکہ اکثر ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں ان کا مفت علاج ہوتا ہے ۔ گھریلو طور پر عوام نے بھی مختلف قسم کے علاج ومعالجے ایجاد کر رکھی ہے۔ کالے یرقان سے متعلق عوامی علاج کا ایک نیا طریقہ آج کل کافی مشہور ہوتا جارہاہےاور لوگ اس کی شرعی حیثیت جاننا چاہتے ہیں تاکہ اگر علاج درست ہو تو اسے عمل میں لایا جائے ورنہ اس طریقہ علاج سے پرہیز کیا جائے ۔
کالے یرقان یعنی ہیپاٹائٹس سی  کا  علاج آج کل جنگلی کبوتر سے کیا جاتا ہے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو اس مرض کا شکار ہو اس کی ناف پہ جنگلی کبوتر(نر) کے پیخانہ کی جگہ سٹاکر رکھی جائے ،اس سے مریض کا وائرس ناف کے راستے کبوتر میں منتقل ہوکر کبوتر خود بخود مرجائے گا ، کبوتر والا یہ عمل اس وقت تک جاری رکھنا ہے جب تک کبوتر ناف سے لگ کر مرتا رہے اور اگر مرنا بند ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب مریض کو افاقہ ہوگیا ہے ، اس مریض کا ٹیسٹ کرایا جائے تومعلوم ہوجائے گا کہ کالے یرقان کی بیماری ختم ہوچکی ہے۔یہ عوامی خیال ہے۔
جواب اس بنیاد پر دیا جارہا ہے کہ اگر یہ عوامی خیال درست ہوتو اس علاج کی شرعی  حیثیت کیا ہوگی؟ اس کے لئے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ اسلام نے ہمیں جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور کیا علاج کی غرض سے جاندار کا قتل جائز ہوسکتا ہے ؟
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ تمام کائنات کا خالق اکیلا اللہ ہے ، وہی انسانوں کا بھی اور حیوانوں کا بھی خالق ہے ۔ وہ اپنی تمام مخلوقات پر شفیق ومہربان ہے ، فرمان الہی ہے : إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (النحل:7)
ترجمہ: یقینا تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے۔
جس طرح اللہ اپنی مخلوق پر مہربان ہے اسی طرح اپنے نبی محمد ﷺ کے ذریعہ بندوں کو بھی زمین پر رہنے والی تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کرنے کا حکم دیا ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : الراحمون يرحمهم الرحمن، ارحموا اهل الارض يرحمكم من في السماء(صحیح ابی داؤد:4941)
ترجمہ: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
یہ حدیث ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ  زمین پر رہنے والی تمام مخلوق کے ساتھ پیارومحبت اور حسن سلو ک سے پیش آنا چاہئے اورکسی مخلوق کوبغیر کسی وجہ کے  تکلیف دینے سے پرہیز کرنا چاہئے حتی کہ چیونٹی کا بھی قتل ممنوع ہے ۔
کہاجاتا ہے کہ جنگلی کبوتر سے کالے یرقان کا علاج کرنے میں کبوترخود بخود مرجاتا ہے،اس کا گلا نہیں دبایا جاتاہے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایک آدمی کے علاج میں اسی اسی اور چالیس چالیس کبوتر مرتے ہیں ۔
اگر یہ بات صحیح مان لی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کبوتر کی موت تکلیف دہ صورت میں تڑپ تڑپ کر ہوتی ہوگی کیونکہ جب اسے تیزآلہ سے ذبح نہیں کیا گیا تو کبوتر کی جان نکلنے کی صورت یہی تکلیف دہ بنتی ہے ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا اس حدیث پہ غور کریں جس میں حلال جانور کو ذبح کرنے میں تکلیف سے بچتے ہوئے آرام پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:
إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فاحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فاحسنوا الذبح وليحد احدكم شفرته، فليرح ذبيحته(صحيح مسلم:1955)
ترجمہ:اللہ تعالی نے ہر چیز کے بارے میں احسان کا حکم دیا ہے ، لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، نیز تم میں سے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے ۔
اس حدیث میں سب سے پہلے احسان کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم جانور کو ذبح کرو تو وہاں بھی احسان کو مدنظر رکھو یعنی چھری تیز کرکے اس طرح جانور ذبح کرو کہ اسے تکلیف نہ ہو۔  ذرا اندازہ لگائیں کہ اسی اسی کبوتر کو ایک آدمی کے علاج کے لئے تڑپاتڑپاکر مارنا کسی بھی صورت جائز ہوسکتا ہے جبکہ اس بیماری کےلئے متعدد قسم کے علاج موجود ہیں؟۔
اسے ضرورت کے تحت قتل نہیں کہیں گے بلکہ یہ سراسر جانور کا ناحق قتل ہے۔ یہ قتل حدیث میں موجود اس جانورکے قتل کے مشابہ ہے جسے باندھ کر قتل کرنا کہاگیا ہے، یا نشانہ لگانے کے لئے قتل کہاگیا ہے، یا ٹارگٹ کرکے قتل کرنا کہا گیا ہے ۔ آئیے ان احادیث کو ایک نظر دیکھتے ہیں ۔
عن سعيد بن جبير ، قال: مر ابن عمر بنفر قد نصبوا دجاجة يترامونها، فلما راوا ابن عمر تفرقوا عنها، فقال ابن عمر : من فعل هذا؟ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن من فعل هذا.(صحيح مسلم:1958)
‏‏‏‏ترجمہ: سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرے چند لوگوں پر جنہوں نے ایک مرغی کو نشانہ بنایا تھا اس پر تیر چلا رہے تھے، جب ان لوگوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہاں سے الگ ہو گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ کام کس نے کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو لعنت کی ہے اس پر جو ایسا کام کرے۔
اسی طرح سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقتل شيء من الدواب صبرا(صحيح مسلم:1959)
‏‏‏‏ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع کیا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عذبت امراة في هرة، سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار، لا هي اطعمتها وسقتها إذ حبستها، ولا هي تركتها تاكل من خشاش الارض(صحیح مسلم:2242)
ترجمہ:ایک عورت کو بلی کے مارنے کی وجہ سے عذاب ہوا، اس نے بلی کو پکڑ کر رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی پھر اسی بلی کی وجہ سے وہ جہنم میں گئی، اس نے بلی کو نہ کھانا دیا نہ پانی جب اس کو قید میں رکھا نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے جانور کھاتی۔
یہ فرمان مزید واضح ہے کہ جس میں بھی جان ہے اسے ٹارگٹ اور ہدف بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
لا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا(صحیح مسلم:1957)
ترجمہ: جس چيز ميں بھى روح ہو اسے ٹارگٹ مت بناؤ۔
ان ساری احادیث سے معلوم ہوا کہ کالے یرقان کے علاج کے لئے کبوتر کی جان لینا صریح قتل ہے بلکہ اس عمل کے بارے میں قیامت کے دن پوچھ ہوسکتی ہے اور اس عورت کا حال بھی جان لئے جو بلی کے قتل کے سبب جہنم رسید ہوئی ۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ما من إنسانٍ يَقْتُلُ عُصْفُورًا فما فَوْقَها بغيرِ حَقِّها ، إلَّا سَأَلهُ اللهُ عَنْها يومَ القيامةِ قيل : يا رسولَ اللهِ ! وما حَقُّها ؟ قال : حَقُّها أنْ يذبحَها فَيأكلَها ، ولا يَقْطَعَ رَأْسَها فَيَرْمِيَ بِه(صحيح الترغيب:2266)
ترجمہ:جو شخص چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے جانور کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:اسے ذبح کر کے کھائے۔ اس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:لتؤدن الحقوق إلى اهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء(صحیح مسلم:2582)
ترجمہ: روز قيامت تم حقداروں كے حقوق ضرور ادا كرو گے حتى كہ بغير سينگ والى بكرى سينگ والى بكرى سے قصاص لے گى۔
ان ساری احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں کہ جب ایک بیماری کے لئے متعدد علاج موجود ہیں بلکہ سستی اور فری علاج بھی دستیاب ہیں توایسی صورت میں ایک آدمی کے لئےکیا درجنوں کبوتر کی تکلیف دہ صورت میں جان لینا درست ہے ؟ ویسے بھی یہ سائنسی طریقہ علاج نہیں ہے ، اسے عوام نے ایجاد ومشہورکررکھا ہے ۔ ایک ہوشمند آدمی کو علاج کے لئے خصوصا خطرناک بیماری کے واسطے مستند ڈاکٹر اور مستند اسپتال سے رجوع کرنا چاہئے نہ کہ ایرے غیرے کا نسخہ اپنانا چاہئے۔ ساتھ ہی جن لوگوں نے بھی بے قصور پرندوں کا علاج کرنے کے واسطے جان لیا ہے اسے توبہ کرنا چاہئے اور آئندہ اس عمل سے بچنا چاہئے ۔ اس سلسلے میں ایک آخری بات یہ ہے کہ اگر علم طب وسائنس کا ماہر اس طریقہ کو مفید قرار دے اور کوئی کالے یرقان کا ایسا مریض ہو جس کی جان کا خطرہ ہو اور اس مرض کا کبوتری علاج کے ماسوا کوئی دوسرا علاج نہ ہو تب جان بچانے کی غرض سے اس طریقہ کو اپنانے میں حرج نہیں ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے  ہیپاٹائٹس سی کا بےضررعلاج موجود ہےتوپھر کبوتر کا علاج کے واسطے جان لینا گناہ کا باعث ہے۔
مکمل تحریر >>