Sunday, October 19, 2025

شادی میں ہلدی کی رسم اور غیرشرعی کام

 

شادی میں ہلدی کی رسم اور غیرشرعی کام

 

مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

 

یوں تو پہلے سے ہمارے یہاں شادی میں مختلف قسم کے رسم ورواج پائے جاتے ہیں، ان میں ایک رواج آج کل زور پکڑتا ہوا جارہا ہے وہ  ہےہلدی کی رسم ۔  ہلدی کی اس رسم میں لڑکی کے گھر والے، اس کے رشتے دار اور اس میں شریک ہونے والی گاؤں کی نوجوان لڑکیاں سب ایک ہی رنگ کے پیلے کپڑے پہنتے ہیں حتی کہ لڑکے بھی  پیلے کپڑے پہنے نظر آتے ہیں۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ" رسم ہلدی"  مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ غیروں کی مشابہت اور ان کی نقالی ہے ۔ اس سلسلے میں نبی ﷺ کی ہدایت ملاحظہ فرمائیں۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.(ابوداؤد:4031،قال الشيخ الألباني: حسن صحيح)
ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس رسم میں بدترین اورغیرشرعی کام انجام دئے جاتے ہیں جیسے اس رسم میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ گھر اور گاؤں سماج کے نوجوان لڑکے بھی شامل ہوتے ہیں اور محرم وغیرمحرم کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کو ہلدی لگائی جاتی ہے۔ گویا اس میں ایک طرف مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے تو دوسری طرف ایک دوسرے کو ہلدی لگائی جاتی ہے جو شرعی طور پر حرام و ناجائز ہے۔ اسی طرح یہ رسم ایک تقریب کی صورت میں انجام دی جاتی ہے جس میں گانے بجانے کے ساتھ لڑکے لڑکیاں ناچتے گاتے، موج مستی کرتے اور بےہودہ ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ جن لڑکیوں کو اجنبی لڑکوں سے پردہ کرنا تھا وہ محفل میں بے پردہ ہوکر فل میک اپ کے ساتھ ناچتی گاتی اور ٹھٹھا مخول کرتی ہیں۔چونکہ آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، ہرکسی کے ہاتھ میں موبائل ہوتا ہے، یہ مناظر پھر ایک دوسرے کے کیمرے میں قید ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی جگ ہنسائی کا سامان بنتے ہیں۔

جب آپ اس رسم اور اس میں ہونے والے برے کام  کو شریعت کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کو کسی بھی صورت میں اپنے گھر ہلدی کی رسم منعقد نہیں کرنا چاہئے  کیونکہ یہ بدترین رسم ہے اور اس میں برے کام کئے جاتے ہیں۔اگر اس کا خاتمہ نہیں کیاگیا رو روزبروز اس میں نئی نئی برائیاں پیدا ہوں گی۔اس وجہ سے  میں یہاں ہر اس مسلمان مرد و عورت کو مخاطب کروں گا جس کے گھر شادی ہوتی ہے وہ اپنے یہاں ہلدی کی رسم نہ ہونے دے۔ گھر والوں کی چاہت سے ہی یہ رسم منائی جاتی ہے اور جس جس کی چاہت سے یہ برا کام ہوگااور اس محفل میں جتنے لوگ برا کام کریں گے، ان سب کی برائی اس محفل کے منعقد کرنے والوں کے حصے میں بھی آئے گی ۔

بہرکیف! آپ اپنے گھر اس رسم کو ہرگز نہ ہونے دیں اور اگر کوئی آپ کو ایسی رسم میں شریک ہونے  کی دعوت دے تو قطعا اس میں شریک نہ ہوں  بلکہ اس رسم کو مٹانے کی کوشش کریں ۔

 

مکمل تحریر >>

Saturday, January 11, 2025

بغیررضامندی کے میاں بیوی کے درمیان جماع کا حکم


 

بغیررضامندی کے میاں بیوی کے درمیان جماع کا حکم

جواب: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب


سوال: جماع کے بارےمیں اسلام کا کیا اصول ہے، مطلب کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شوہر کو جماع کی خواہش ہوتی ہے مگر اس وقت بیوی کو خواہش نہیں ہوتی ایسے میں اس وقت جماع کرنا زبردستی والی بات ہوگئی ، اسی طرح کبھی بیوی کی خواہش ہوتی ہے مگر شوہر کا دل نہیں ہوتا ایسے میں یہ بھی زبردستی والی بات ہوگئی ہے پھر اس حال میں اسلام کا اصول کیا ہے؟

جواب:اس سوال کے تعلق سے پہلی بات یہ سمجھ لیں کہ مغربی معاشرے میں جبرا بیوی سے ہمبستری کرنا زنا شمار کیا جاتا ہے جبکہ رضامندی سے زنا کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ اگر شرعی طور پر عقد نکاح کیا گیا ہوتو میاں بیوی کے جنسی تعلقات کسی صورت میں زنا کے زمرے میں نہیں آتے لیکن اگر نکاح نہ کیا گیا ہوتو لڑکا اور لڑکی کا جنسی تعلق قائم کرنا خواہ رضامندی سے ہو یا بغیر رضامندی کے ، زنا میں شمار کیا جائے گا۔

کس قدر حیرت کی بات ہے کہ میاں بیوی کے درمیان قائم ہونے والے جنسی تعلقات کو ریپ کا نام دیا جاتا ہے اور ہندو پاک میں میریٹل ریپ کو جرم کے طور پر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے لیکن بیوی کی شکایات پر بعض عدالتوں نے سزا سنائی ہے۔

2023میں ہندوستان کی ریاست چھتیس گڑھ کی ایک عدالت نے بیوی کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات کی وجہ سے شوہر کو نو سال کی قید اور دس ہزار روپئے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ اور2024 میں پاکستان میں جاوید نامی ایک شخص کو میریٹل ریپ کے جرم میں عدالت نے تین سال کی قید اور تیس ہزار روپئے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

بہرحال! شریعت کی روشنی میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والے جنسی تعلق کو قطعا زنا کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے خواہ جبرا ہی کیوں نہ ہو۔ اس بات کو جان لینے کے بعد اس بارے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان متعدد قسم کے حقوق ہیں۔ بعض حقوق شوہر سے متعلق ، بعض حقوق بیوی سے متعلق اور بعض حقوق زوجین کے درمیان مشترکہ ہیں جنہیں دونوں کو ایک دوسرے کے لئےمشترکہ طور پر ادا کرنے ہیں۔ ہمبستری کا معاملہ بھی مشترکہ حقوق میں داخل ہے۔ یہ حق ، شوہربیوی کے لئے اور بیوی شوہر کے لئے باہمی رضامندی سے ادا کیا کریں گے۔ اگر اس حق کی ادائیگی میں ایک دوسرے کا تعاون نہ ہو تو اس حق کی ادائیگی صحیح ڈھنک سے نہیں ہوپائے گی ۔اس وجہ سے ہمبستری کے عمل کو میاں بیوی ایک دوسرے کی رضامندی سے انجام دیں گے۔ جب شوہرکو اس کی خواہش ہو، بیوی اس میں شوہر کا ساتھ دے اور جب بیوی کو خواہش ہو اس وقت شوہر بیوی کا ساتھ دے اور جب دونوں کی خواہش ایک ساتھ ہوپھر اس میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

مرد کے اندر جنسی خواہش عورت کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اللہ نے ایک مرد کو ایک سے زائد شادی کرنے کی اجازت دی ہے اور شادی کو مرد کے لئے سکونت وراحت کا سامان قرار دیا ہے ۔گوکہ شادی میں میاں بیوی دونوں کو راحت ہے مگر شوہر کو راحت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس لئے اللہ نے شادی کی راحت کا انتساب مرد کی طرف کیا ہے، اللہ فرماتاہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الروم:21)

ترجمہ:اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم آرام پاؤ۔اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی، یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔

شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات سے متعلق نصوص پر غور کرتے ہیں تو وہاں بھی آپ کو شوہرکی جنسی خواہش کے لئے خصوصی اہمیت نظر آئے گی ۔جیسے نبی ﷺ کا یہ فرمان دیکھیں جس میں آپ نے شوہر کی موجودگی میں عورت کو نفلی روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:لايَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أنْ تَصُومَ وزَوْجُها شاهِدٌ إلَّا بإذْنِهِ( صحيح البخاري:5195)

ترجمہ: عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے۔

یہاں پر عورت کو نفلی روزہ رکھنےکی ممانعت اسی سبب ہے کہ کہیں شوہر کو ہمبستری کی ضرورت ہوتو بیوی اس کے لئے شوہر کا ساتھ دے اور روزہ چھوڑ دے۔عموما آدمی رات میں سوتا ہے اور اس وقت جماع کرتا ہے مگر شوہر کی جنسی خواہش کی تکمیل کے لئے عورت کو دن میں بھی اہتمام کا حکم دیا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ایک دوسرا فرمان ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں:

إذا دَعا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إلى فِراشِهِ، فأبَتْ أنْ تَجِيءَ، لَعَنَتْها المَلائِكَةُ حتَّى تُصْبِحَ(صحيح البخاري:5193)

ترجمہ: جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔

مذکورہ تمام نصوص بطور خاص آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر دن یا رات میں جب بھی ہمبستری کا ارادہ کرے ،بیوی اپنے آپ کو شوہر کے حوالے کردے یعنی اسے اپنی خواہش پوری کرنے دے اور ہمبستری سے انکار نہ کرے خواہ اسے ہمبستری کی چاہت ہو یا نہ ہو۔ اللہ نے بیوی کو شوہر کی کھیتی کہا ہے ، وہ جب چاہے اپنی بیوی سے مباح طریقہ پراپنی خواہش پوری کرسکتا ہےخواہ بیوی راضی ہو یا نہیں ہو۔اللہ تعالی فرماتا ہے:نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ (البقرۃ:223)

ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو آؤ۔

آج کی مسلم خواتین بھی مغربی معاشرے سے متاثر ہوتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے شوہر وں کو بیوی کی مرضی کے حساب سے ہمبستری کرنا پڑتا ہے ۔یہ نظریہ اور ایسا عمل سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اس لئے مسلم عورتوں کو اس بارے میں اپنی اصلاح کرنی چاہئے ۔ بسا اوقات یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو زوجین کے درمیان نفرت کی دیوار قائم ہوجاتی ہے اور طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

اس معاملہ میں دوسرا رخ یہ ہے کہ جب بیوی کو جماع کی خواہش ہوتو شوہربھی بیوی کا ساتھ دے اور اس کی خواہش پوری کرے ۔ایسا نہیں ہے کہ بیوی کے لئے شوہر کی خواہش پوری کرنا ضروری ہے لیکن بیوی کی خواہش ہوتو اس کی اہمیت نہیں ہے۔شوہر کو بیوی کے پاس رات بسرکرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ اس کا جنسی حق ادا کرسکے، اس تعلق سے نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: وإنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا(صحيح البخاري:5199) کہ تمہارے اوپر تمہاری بیوی کا بھی حق ہے۔

جماع زوجین کا مشترکہ حق ہےاس کی ادائیگی دونوں کو باہمی رضامندی سے ادا کرنا ہے۔ جابر بن عبداللہ نے اللہ کے رسول سے اپنی شادی کے بارے میں بتایا تو آپ ﷺنے ان سے فرمایا:هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ(صحیح البخاری:5080)

ترجمہ:تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔

مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی اس لئے کی جاتی ہے کہ شوہر بیوی سے کھیلے اور بیوی شوہر کے ساتھ کھیلے یعنی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہنستی خوشی پیار ومحبت سے زندگی گزاریں ۔ جب آپسی محبت میں کمی آتی ہے اور کسی وجہ سے شوہر یا بیوی یا دونوں ایک دوسرے کو ناپسند کرنے لگتے ہیں تو اس کا اثر جنسی تعلقات پر بھی پڑتا ہے ۔اس لئے یاد رکھیں کہ میاں بیوی میں جس قدر ہمدردی ، پیار ومحبت اور ایک دوسرے کےساتھ تعاون کا جذبہ کارفرماہوگا اسی قدر جنسی معاملہ بھی بہتر ہوگا ۔

ان تمام باتوں کو خلاصہ کے طور پر بیان کروں تو کچھ اس طرح چند نکات میں ان باتوں کو بیان کرسکتا ہوں ۔

٭ نکاح مودت ومحبت پر قائم ہے، آپس میں تلخی پیداہونے سے یہ رشتہ ٹوٹ سکتا ہے لہذا شوہر اور بیوی دونوں کو اپنے رشتے میں الفت ومحبت قائم رکھنا ہے اور زندگی کے تمام معاملات میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہنا ہے ۔ محبت وتعاون کی بنیاد پررشتہ بھی مضبوط رہے گا اور جماع کا مسئلہ بھی آسان رہے گالیکن بغیر محبت اور بغیر تعاون کے نہ صرف جنسی معاملہ خراب ہوسکتا ہے بلکہ رشتہ ازدواج بھی بگڑسکتا ہے۔
٭کبھی کبھی مرد یا بیوی جماع سے انکار عذر کی وجہ سے کرتے ہیں مثلا شوہرکی خواہش ہو مگر بیوی بیمار اور تکلیف میں ہو۔ اسی طرح بیوی کی خواہش ہومگر شوہرکوکوئی عذر لاحق ہویاوہ کسی غم کا شکار ہوایسے میں جماع کے لئے دونوں کو ایک دوسرے کے مناسب وقت کاخیال کرنا ضروری ہے۔جماع کے وقت کوئی مانع نہ ہو اور شوہریا بیوی میں سے کسی کوجماع کی خواہش ہوتو اس کا ساتھی اس کی خواہش پوری کرے۔
٭بسااوقات شوہر بیوی کوغیرفطری جماع پر مجبوری کرتا ہے یا عذر کے وقت خواہش کرتا ہے تو بیوی انکار کرتی ہے ، ایسے میں بیوی کا انکار درست ہے کیونکہ بیوی شوہر کی اطاعت جائز کام میں کرے گی، ناجائز اور غلط کام میں بیوی شوہر کی اطاعت نہیں کرے گی ۔ مردکوبھی غیرفطری جماع نہیں کرنا جاہئے ، اور بیوی بھی شوہر کے کہنے پر منہ سے یاہاتھ سے یا دبر میں انزال کے لئے ہرگزراضی نہ ہواو ر حیض ونفاس میں بھی شوہر سےدور رہے۔

٭میاں بیوی میں جماع کے خوشگوار ماحول کے لئے ایک اہم بات یہ ہے کہ جماع کی کثرت نہ ہوبلکہ استطاعت کے مطابق کچھ دنوں کے وقفہ سے ہوتاکہ دونوں رضاورغبت سے جماع کریں ۔ کثرت جماع میں جہاں جسمانی نقصان ہے وہیں اس سے رغبت کی کمی بھی پیداہوجاتی ہے۔
٭جب شوہرکے اندر جماع کی رغبت زیادہ ہواور بیوی کمزوری یا دیگر عذر کی وجہ سے اس کے مطابق ساتھ نہ دے سکتی ہوتووہ دوسری شادی کرسکتا ہے ۔ دوسری شادی کے لئے ضروری ہے کہ مرددونوں بیوی کا جنسی طور پر حق اداکرنے اور ان کے نفقہ اور ضروریات کی تکمیل کرنےاور ان میں عدل کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, December 13, 2022

زانیہ سے نکاح اور ولدالزنا کی نسبت

سوال:اگر کسی خاتون سے زنا ہوجائے اور زنا سے حمل ہوجائے تو اس زانیہ سے نکاح جائز ہے ، اس کے حمل سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ حلال ہوگااور اس بچے کی نسبت
 کس کی طرف ہوگی ، قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی کریں ؟
جواب:ایک مومن دیندار اور پاکدامن عورت سے شادی کرتا ہے لہذا کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ زانیہ عورت سے نکاح کرے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)
ترجمہ:بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زانیہ سے زانی شادی کرتا ہے، مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ زانیہ سے نکاح کرے ۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ حالت حمل میں کسی عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے یعنی حمل میں شادی کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ طلاق ، خلع اور وفات میں حمل کی عدت بیان کی گئی ہے تاکہ استبرائے رحم ہوجائے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ(الطلاق:4)
ترجمہ:اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔
مذکورہ باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایک مومن زانیہ سے نکاح نہیں کرسکتا ہے اور زانیہ اگر حمل سے ہو توعدت میں ہونے کی وجہ سے ویسے بھی اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے ۔
ہاں اگر زانیہ اپنے گناہوں پر شرمندہ و نادم ہوکر سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالی توبہ کے سبب بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کردیتا ہے ۔ سچی توبہ کے بعد جب وضع حمل ہوجائے یعنی بچہ پیدا ہوجائے تب اس عورت سے نکاح کرنا جائز ہوگا ۔
رہازنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا حلال ہونے اور اس کی نسبت کا مسئلہ ہے تو گوکہ بچے کو شرعی اصطلاح میں ولدالزنا کہاجاتا ہے مگر اس بچے کاکوئی قصور نہیں ہے ، زانی اور زانیہ کے جرم کا کچھ بھی حصہ اس بچے پر نہیں ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى(الأنعام:164)
ترجمہ:اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اس لئے وہ بچہ حیثیت کے اعتبار سے مسلمانوں کے عام بچوں جیسا ہی ہے، وہ بھی تقوی کی بنیاد پر اللہ کے یہاں مقرب ہوسکتا ہے اور جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔
اورجہاں تک نسبت کا معاملہ ہے تو چونکہ ولدالزنا کا زانی سے نسب ثابت نہیں ہے اس لئے بچے کی نسبت زانی کی طرف نہیں ہوسکتی ہے ، ماں کی طرف نسبت ہوگی اور اس بچے کو فلانہ کا بیٹا کہا جائے گا یعنی فلاں عورت کا بیٹا۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

مکمل تحریر >>

Wednesday, October 5, 2022

شادی ہال میں نکاح کے فورا بعد بارات وولیمہ کی دعوت کا حکم

 شادی ہال میں نکاح کے فورا بعد بارات وولیمہ کی دعوت کا حکم

سوال:آج کل شادی کے سلسلے میں نیا ٹرینڈ چلا ہوا ہے، وہ یہ کہ بارات اور ولیمہ کی دعوت ایک ساتھ ہورہی ہے۔ایک ہی ہال میں لڑکا اور لڑکی دونوں کے خاندان والے اپنے سب مہمانوں کو جمع کرتے ہیں اور دونوں مل کر نکاح کے بعد اسی ہال میں ایک ساتھ بارات وولیمہ کے نام پر دعوت کھلاتے ہیں تاکہ کم خرچ ہو ، کیا ایسا کرنے کی شرعا اجازت ہے؟
 سائلہ : فاکھہ عماد
جواب: سوال میں بارات اور ولیمہ دوقسم کی اکٹھی دعوت کاذکر ہے، تو معلوم ہونا چاہئے کہ لڑکا والوں کی طرف سے مروجہ بارات کی شکل معاشرے کا اپنا رواج ہے، اسلام نے نکاح کی جوتعلیم دی ہے اس میں بارات کا کہیں ذکر نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ بہترین زمانوں کی شادیوں میں بارات کا کوئی رواج وتصور نہیں پایا جاتا ہے اس لئے ہمیں اپنی شادیوں سے بارات کی مروجہ شکل کو ختم کرنا چاہئے ۔ مدینہ میں مسلمانوں کی کتنی آبادی تھی؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ شادی کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو شادی کی خبر نہیں لگتی، جب شادی کے بعد عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے جسم پر زردی کے نشان دیکھتے ہیں اور اس نشان کے بارے میں پوچھتے ہیں تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی ہے۔آپ حکم دیتے ہیں کہ ولیمہ کرواگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو(مسلم:1428)اس حدیث سے ایک طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نکاح میں بارات کا کوئی تصور نہیں ہے، اگر بارات کا تصور ہوتا تو وہیں پر رسول اللہ ﷺموجود تھے آپ ضرور بارات میں شریک ہوتےمگر ایسا نہیں ملتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شادی ہوجانے کے بعد دعوت لڑکا کی طرف سے ہونی چاہئے جسے ولیمہ کہتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ولیمہ کب کیا جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی ﷺنے جب جنگ خیبر سے واپسی پر راستے میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی  تو رات بسر کرکے اگلے دن صحابہ کے تعاون سے ولیمہ کیا تھا۔آپ نے حکم دیا"من كان عنده شيء فليجئ به"(جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو وہ یہاں لائے)۔آپ نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھایا۔ بعض صحابہ کھجور لائے، بعض گھی، بعض ستو لائے۔ پھر لوگوں نے ان کا حلوہ بنا لیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔(صحیح البخاری:371)
اسی طرح زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو آپ نے رات میں بنا کی اور پھر اگلے دن گوشت اور روٹی کے ذریعہ ولیمہ کی دعوت کی(بخاری :4792)۔صحیح بخاری 5166 نمبر کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما سے نکاح کے بعد انہیں اپنے گھر لا ئے تھے ، آپ ان کے دولہا بنے تھے ۔ پھر آپ نے لوگوں کو (دعوت ولیمہ پر )بلایا ،لوگوں نے کھانا کھایا اور چلے گئے ۔
ان احادیث کی بنیاد پر علماء نے کہا ہے کہ افضل تو یہی ہے کہ ولیمہ نکاح اور رخصتی کے بعد ہو تاہم نکاح کے بعد کسی بھی وقت ولیمہ کرنا جائز ہے چاہے فورا اسی جگہ نکاح ہال میں یا کچھ دیر بعد حتی کہ چند دن بعد بھی ولیمہ کیا جاسکتا ہے اس میں معاملے میں وسعت ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کتاب النکاح کے تحت ایک باب ذکر کرتے ہیں"بَابُ حَقِّ إِجَابَةِ الْوَلِيمَةِ وَالدَّعْوَةِ"(باب:ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرنا حق ہے)۔ اس بات کے تحت ذکر کرتے ہیں کہ ‏‏‏‏جس نے سات دن تک دعوت ولیمہ کو جاری رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف ایک یا دو دن تک کچھ معین نہیں فرمایا یعنی امام بخاری ؒکی رائے یہ ہے کہ ولیمہ کرنے کا دن متعین نہیں ہے لہذا کوئی سات دن تک بھی کرسکتا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے دن متعین نہیں فرمایا ہے ۔
پوری گفتگو کا ماحصل اور سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ نکاح کے نام پر بارات کی رسم غلط ہے، اسے ختم ہونا چاہئے اور ولیمہ نکاح ورخصتی کے بعد ہو تو بہتر ہے لیکن اگر کوئی سہولت کے اعتبار سے شادی ہال میں ہی کرلیتا ہے تو اس کی گنجائش ہے ، ولیمہ کے لئے بھاری بھرکم دعوت کی بھی ضرورت نہیں ہے ، معمولی چیز پیش کرکے بھی ولیمہ کیا جاسکتا ہے بلکہ جس کو ولیمہ کرنے کی طاقت نہ ہو اس کوتعاون دےکربھی ولیمہ کیا جاسکتا ہے جیسے نبی ﷺنے صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے وقت صحابہ کے تعاون سے ولیمہ کیا تھا۔ تعاون کے لئے لڑکا والا لڑکی والے کو مجبور نہیں کرسکتا ہے بلکہ سماج کا کوئی بھی باحیثیت فردتعاون کرسکتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر – حی السلامہ
مکمل تحریر >>

Wednesday, September 28, 2022

کوشش کے باوجود جس بہن کی شادی نہ ہوسکے

 
کوشش کے باوجود جس بہن کی شادی نہ ہوسکے

سوال: ایک بہن کا سوال ہے کہ ایک لڑکی کا نکاح اس کے چاہنے اور کوشش کرنے کے باوجود بھی نہ ہوپائے تو کیا وہ گنہگار ہوگی یا ایسی لڑکی کو سزا یا اجر کیا ملے گا؟
جواب :شادی کا حکم مختلف حالات میں مختلف ہوتے ہیں، عمومی طور پر شادی کرنا انبیاء کی سنت ہے ، اس کی بڑی تاکید آئی ہے اور شادی کی طاقت رکھنے والے نوجوانوں کو رسول اللہ ﷺ نے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔جب کسی کےلئےاپنی نظر ، شرمگاہ ، ہاتھ وپیر حتی کہ دل ودماغ کو شہوت سے محفوظ نہ رکھ سکنے کا امکان ہو تو پھر شادی کرنااس پر واجب وفرض ہوجاتاہے۔ آج فتنے کا دور دورہ ہے اس لحاظ سے عفت وعصمت کی حفاظت کے لئےشادی بہترین ذریعہ ہے لہذا ان دنوں شادی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
ایک لڑکی کےلئے رشتہ تلاش کرنے میں دیر ہوسکتی ہے، مسائل پیدا ہوسکتے ہیں مگردنیا میں رشتوں کی کمی نہیں ہے اس لئے ہارجانا، ایک مدت بعد رشتہ تلاش کرنا بند کردینا درست نہیں ہے ۔ ایک مسلمان شادی کا اسلامی اصول جو سادگی والا ہے اسے مدنظر رکھے تو مختلف طریقے سے شادی کرسکتا ہے مگر پریشانی یہ ہے کہ ہم اپنے معیار کے مطابق رشتہ تلاش کرتے ہیں ۔ ہزاروں غریب لڑکے سماج میں ہیں، کوئی ان سے شادی کرنے کو تیار نہیں، لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار نوجوان ہیں کوئی ان سے رشتہ نہیں چاہتا، متعدد شادی شدہ مرد دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں مگر لڑکیاں ان سے شادی کو تیار نہیں۔بے شمار لڑکے دوسری ذات وبرادری میں موجودہیں مگر ہم اپنی برادری کے علاوہ دوسری برادری میں شادی کو عیب سمجھتے ہیں حتی کہ آج بہت سی لڑکیاں داڑھی والوں سے شادی کرنے کو راضی نہیں ۔ اگر لڑکا دین و اخلاق والا ہے تو وہ کالا ہو، غریب ہو، دہاڑی مزدور ہو، چھوٹے پیشے والا ہو، دوسری شادی کرنے والا ہو، دوسری برادری کا ہو ان سب سے شادی کی جاسکتی ہے اور ایسے افراد کی ہرملک وخطہ میں بڑی تعداد ہے۔ شادی میں غربت بھی نہ دیکھیں، شادی کے بعد حالات بالکل بدل جاتے ہیں اور پھر اللہ تعالی ہرکسی کے مقدر میں روزی پہلے سے لکھ رکھا ہے جو لڑکا کو ، لڑکی کواور آنے والی اولاد کوہرحال میں ملے گی۔
لڑکی کی شادی کا اصل ذمہ دارولی ہوتا ہےلہذا وہ اپنی جانب سے لڑکی کی شادی کرانے میں رنگ ونسل ، عزت وشہرت اور ذات وبرادری سے اوپر اٹھ کربھرپور کرشش کرے اور شادی میں اسلامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے رشتہ تلاشنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتے  تاہم ممکن ہےکوشش کے باوجود بھی کسی لڑکی کی شادی نہ ہوسکے تو اللہ نیت اور مجبوری کو جانتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا بلکہ اس راستے میں آنے والی پریشانیوں پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالی صبر کا بدلہ اور مصیبت برداشت کرنے کا اجر عطا فرمائے گا۔ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ما يُصِيبُ المُسْلِمَ، مِن نَصَبٍ ولَا وصَبٍ، ولَا هَمٍّ ولَا حُزْنٍ ولَا أذًى ولَا غَمٍّ، حتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بهَا مِن خَطَايَاهُ.(صحيح البخاري:5641)
ترجمہ:مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
تاہم یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جس لڑکے یا لڑکی کی کسی مجبوری کی بناپر شادی نہ ہوسکے تو اللہ کا خوف کھاتے ہوئے بے حیائی اور فحش کاری سے بچتے ہوئے زندگی گزارے بلکہ  نمازوں کی پابندی کے ساتھ اکثر روزہ رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ روزہ شہوتوں کو توڑنے والا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ : مقبول احمد سلفی(جدہ دعوہ سنٹر)
28.09.2022

مکمل تحریر >>

Sunday, October 4, 2020

اپنے شوہرکو دوسری شادی سے روکنے والی بہنوں کے نام

 

اپنے شوہرکو دوسری شادی سے روکنے والی بہنوں کے نام

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، مسرہ- طائف

جب کوئی عورت یہ سنتی ہے کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرنے والا ہے اس وقت سے اس عورت کی زندگی میں زلزلہ سا برپاہوجاتا ہے پھر دونوں میاں بیوی میں جھگڑے لڑائی، مارپیٹ ، گالی گلوج حتی کہ دوخاندانوں میں تنازع کھڑا ہوجاتا ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسری شادی گناہ ہے ،پہلی بیوی پر ظلم ہے یا ایک کے ساتھ عدل اور دوسرے کے ساتھ نا انصافی ہے ؟ ان سوالوں کو شریعت کی میزان پر تولتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دوسری شادی یا بیک وقت ایک سے زائد شادی مردوں کے حق میں مباح ہے ، یہ کوئی نہ گناہ ہے ، نہ کسی پر ظلم ہےاور نہ ہی کسی کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
اللہ تعالی اگر مردوں کو ایک سے زائد شادی کی اجازت نہیں دیتا تو کوئی مرد دوسری شادی نہیں کرتا ، دوسری شادی پر عمل دراصل اسلامی حکم کی وجہ سے ہے ایسے میں کسی مسلم خاتون کا اپنے شوہر کو دوسری شادی سے روکنا شرعا غلط ہے۔ عہد صحابہ میں ایسی کوئی خاتون نہیں ملتی جس نے اپنے شوہر کو دوسری شادی سے منع کیا ہو یا دوسری شادی کے نام پر ہنگامہ کھڑا کیا ہو،حقیقت میں دوسری شادی پہ موجودہ دورکا ہنگامہ ہندوانہ سماجی اثرکانتیجہ ہے جہان ہندو میریج ایکٹ کے تحت انہیں ایک ہی شادی کی اجازت ہےورنہ اسلامی ممالک میں آج کےپرفتن دور میں بھی ایسا ہنگامہ دیکھنے کو نہیں ملتا جو برصغیر میں پایاجاتا ہے ۔
ہرمرد متعددشادی کا متحمل نہیں ہوسکتا تاہم بہت سارے تعدد ازدواج کی صلاحیت رکھتے ہیں ،میں سمجھتاہوں ان تمام باصلاحیت مردوں کو اپنی صلاحیت بروئے کار لانی چاہئے ۔اس سے ایک دو نہیں سیکڑوں مثبت اثرات فردومعاشرہ پر مرتب ہوں گے ۔ آپ ذرا تعدد ازدواج کی دنیا میں داخل ہوکر سوچیں کیا پھر کوئی نکاح مہنگا ہوگا؟ کوئی باپ بیٹیوں کی شادی کے بوجھ تلے دبا ہوگا؟کسی غریب کی کوئی بیٹی گھر میں بیٹھی ہوگی یا شادی کے لئے دم توڑے گی؟ سماج کی معذور و بدصورت لڑکی شادی کے لئے ترسے گی ؟ ایک سے زیادہ خواہش والا مرد خواہش کی چکی میں پستا رہے گا ؟ کیا زنا کے بڑھتے واقعات کم نہیں ہوں گے ؟
آج کے ماحول میں شادی اس قدر دشوار اور خرچیلی ہے کہ ایک باپ بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کی شادی کے لئے پائی پائی جمع کرنے لگ جاتا ہے خصوصا غریب باپ ۔میرا ماننا ہے کہ مسلمان شادی اسلام کے مطابق کرلے اور مالدار طبقہ امانتداری سے زکوۃ نکالاکرے تو پھر مسلم سماج میں نہ غریبی ہوگی اورنہ بدامنی ۔ایسا سماج اس قدر ترقی یافتہ ہوگاکہ اس کا ہرفرد پرامن زندگی گزاررہا ہوگا۔
اتنی لمبی تمہید ان بہنوں کو سمجھانے کی لئے باندھی ہے جو دوسری شادی کو اپنے حق میں عذاب سے بدتر سمجھتی ہے ۔دراصل یہ اسلامی بہنوں کی غلط فہمی ہے جوبرے سماج کے کا نتیجہ ہے ۔ ہم نے اسلامی سماج بنایا ہی کب ؟ جہاں اسلامی پردہ ہو، اسلامی اخوت ہو، اسلامی طورپر تجارت ومعاملات ہوں، نیکی کی دعوت اور برائی پر نکیر ہو۔ جب سماج میں برائی ہوگی تو اس کے برے اثرات زندگی کے تمام مراحل پر پڑیں گے ۔ آپ سوچتی ہیں کہ دوسری شادی سے ہمارا حق ماراجائے گا ،ہمارے بچوں کی حق تلفی ہوگی ، ہم سے شوہر کی محبت کم ہوجائے گی ، ہماری آزادی چھن جائے گی ، ہماری ضرورتیں اور شوق پورے نہیں ہوں گے وغیرہ ۔
پہلے تو آپ یہ ذہن بنائیں کہ دوسری شادی آپ کے اوپر کوئی ظلم یا آپ کے حق میں کوئی عذاب نہیں ہے ، اگر ایسا ہوتا توپھر اکیلی بیوی ہمیشہ نعمت میں رہتی ، اسے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، کبھی اس کو طلاق نہیں ہوتی اور اپنے شوہر کے ساتھ کبھی جھگڑا نہیں ہوتاجبکہ سماجی حالات اس کے برعکس ہیں ۔ عموما اپنے سماج میں ایک ہی شادی ہوتی ہے مگر میاں بیوی کےدرمیان بہت تنازعات دیکھنےکو ملتے ہیں جن کے باعث اکثر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ اس لئے آپ یہ نہ سوچیں کہ اکیلی ہونے سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ؟ پھر اپنے شوہر کی دوسری شادی پہ آپ کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟
اس تناظر میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو اسلام کی بنیادی معلومات ہونی چاہئے تاکہ آپ اسلام کے سائے میں زندگی گزارسکیں،آپ کے شب وروز عبادت اور فرائض کی ادائیگی میں گزریں ۔
زندگی کا دوسرا نام پریشانی ہے ، اس لئے اسے جھیلنے کا ہنرسیکھیں ، ذرا غور کریں کہ پہلے والدین کے یہاں تھیں تو کتنا خوش تھیں ، شادی کےبعد کس قدر مسائل آگئے ، اگر کچھ مسائل شوہر کی دوسری شادی سے پیدا ہوتے ہیں تو آپ کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ اپنے حقوق اور فرائض کو پہچانیں اور انہیں بخوبی انجام دیتے رہیں کبھی آپ غمگیں نہیں ہوں گے بھلے مسائل میں گھرے رہیں ۔
شوہر میں دوسری شادی کا خیال پائیں تو دیکھیں کہ کیا وہ دوبیویوں میں انصاف کرسکیں گےاور ان کی رہائش واخراجات برداشت کرسکیں گے ؟ اگر ہاں تو انہیں خوشی خوشی شادی کرنے کہیں پھر آپ کو کس بات کا دکھ ہے ؟
ایک بات اوپر یہ معلوم ہوہی گئی کہ مردوں کو ایک سے زائد شادی کرنا جائز ہے اس لئے آپ کا دوسری شادی سے روکنا یا طلاق کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے ، ایک مزید بات توکل وعقیدہ سے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ دوسری شادی پہ پہلی بیوی سوچتی ہے کہ ہمارے حصے کی روزی دوسری عورت اور اس کی اولادچھینے گی جبکہ اللہ نے ماں کے پیٹ میں سب کا نصیب اوررزق لکھ دیا ہے ، کوئی کسی دوسرے کا نصیب اور رزق نہیں چھین سکتا ۔
آپ اس پہلو سے بھی غور کرکے دیکھیں کہ شوہر کی ذات پر آپ کا کتنا اختیار ہے ،کیا وہ آپ کی ایسی ملکیت ہے جس پر کسی دوسرے کا ادنی سا بھی حق نہیں ہے ؟ نہیں ایسی بات نہیں ہے ،شوہر کی ساری جائیداد بھی بیوی کی نہیں ہے،اس کا چوتھائی یا آٹھواں حصہ ہے۔ شوہر کے ایک لفظ طلاق سے آپ کا سارا رشتہ ختم ہوجاتا ہے اب وہ مرد کسی سے شادی کرے آپ اس سے بے پرواہ ہیں ۔پھر دوسری شادی سے روکنا کیسا ہے سوچ کر دیکھیں۔
بسااوقات مجبوری میں عورت خود ہی اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا حکم دیتی ہے مثلا بچہ نہ ہوتا ہو یا جنسی طورپرشوہرکو خوش نہ کرسکتی ہو یا ہمیشہ بیمار رہتی ہو ،یہ اچھی بات ہے۔ اسی طرح اسلامی بہنوں کو ان عورتوں کا درد بھی محسوس کرنا چاہئے جکی شادی نہیں ہوپارہی ہیں اور وہ لاکھوں میں ہیں ۔
صحیح بخاری میں ہے کہ قرب قیامت میں عورتوں کی کثرت ہوگی اور آج ہم دنیا میں عورتوں کی کثرت دیکھتے ہیں باوجودیکہ لڑکیوں کا اسقاط ہورہا ہے ۔ایسے میں تمام عورتوں کے ساتھ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب مرد حضرات ایک سے زائد شادی کریں ۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا ۔ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ وإمَّا قالَ: مِن أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ، وَيَظْهَرَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حتَّى يَكونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً القَيِّمُ الوَاحِدُ(صحيح البخاري:6808)
ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوںمیں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی ، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا ۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی ۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک ہی خبر لینے والا مرد رہ جائے گا ۔
جب کوئی عورت اس نیت سے اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا حکم دیتی ہے کہ کسی مجبور ولاچار عورت کا بھلا ہوجائے تو اس پر اللہ کی طرف سے اجر کا مستحق ہوگی ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایک شخص کی زندگی میں ایک سے زیادہ بیوی ہو تو اس کے یہاں زیادہ مسائل ہوں گے مگر بیویوں کو ان سارے مسائل سے کیا واسطہ ؟ انہیں بغیرخرچ کے محض امور خانہ داری انجام دیناہے جبکہ کفالت سے لیکر تمام عائلی مسائل کا ذمہ دار مرد ہوتاہے مثلا بیوی بچوں کا خرچ، رہائش، تعلیم وتربیت اور علاج ومعالجہ وغیرہ۔
دوسری شادی کے بعد پریشانی اس بات سے بڑھتی ہے کہ پہلی بیوی اپنی سوکن کو اپنا دشمن سمجھ لیتی ہے ۔سوکن آپ کی دشمن نہیں ہے ، اسے اپنی بہن سمجھیں اور جس طرح شوہر سے پیار کرتی ہیں اپنی اس بہن سے پیار کریں اس طرح دونوں کی زندگی ہنسی خوشی گزرے گی بلکہ دونوں بہنیں گھریلو کام میں ایک دوسرے کو دوست سمجھ لیں تو وہ گھر سنور جائے گی اور دونوں علاحدہ علاحدہ رہتے ہوں تب زیادہ مسائل نہیں ہوتے۔
اس جگہ آپ کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اس کو حفظ کرلیں اوراس کی روشنی میں زندگی گزاریں ان شاء اللہ جس حال میں رہیں گی خوش رہیں گی ۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ‏ارشاد فرمایا :
إِذَا ‏صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ‏شِئْتِ{مسند احمد،الطبرانی الأوسط}‏
ترجمہ :جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھ لے ، اپنے ماہ {رمضان } کا روزہ رکھ لے ، اپنی شرمگاہ کی ‏حفاظت کرلے ، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرلے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں اسکے جس دروازے سے داخل ‏ہونا چاہے داخل ہوجا ۔
ایک آخری بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں شوہر کے دل میں دوسری شادی کا خیال پیدا ہوجانے سے یہ خیال اور بھی پختہ ہوتا جائے گا جب جب آپ منع کریں گی اور جھگڑا لڑائی کریں گی ۔ دوسری شادی سے روکنے کا آپ کو اسلام نے اختیار نہیں دیا جبکہ مرد کو کرنے کا اختیار ہے پھر آپ غور کریں کہ دوسری شادی کے معاملے میں کس کا رویہ اسلام کے مطابق ہے ؟ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ شوہر کو اس وقت دوسری شادی سے رکنے کا مشورہ دے سکتی ہیں جب اس میں دوسری شادی کی شرطیں نہ پاتی ہوں ۔ دوسری شادی کے لئے دو بیویوں کے درمیان عدل، دونوں کی معاشی کفالت اور دونوں کی جنسی خواہش پورا کرنے کی طاقت ہونا شرط ہے۔

مکمل تحریر >>

Sunday, April 7, 2019

جماع کا طریقہ اور اس کے چندآداب و مسائل



جماع کا طریقہ اور اس کے چندآداب و مسائل

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

دین اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے بحسن وخوبی پورا کرتا ہے بلکہ زندگی کے تمام امور کےلئےپاکیزہ اصول اور فطری نظام پیش کرتا ہے ۔ اللہ تعالی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا، اس نے ہمیں اپنے پیغمبر کے ذریعہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی ۔ نکاح اور بیوی سےجماع شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ افزائش نسل کا سبب ہے پھر اللہ اتنی بڑی بات کیسے نہیں بتلاتا، یہ بھی ہمیں بتلادیا۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں برائی فیشن اوربے حیائی  عام سی بات ہوگئی ہے ۔اللہ نے ہمیں کفر وضلالت سے نجات دے کر ایمان وہدایت کی توفیق بخشی ہے، ہمیں ہمیشہ اپنا قدم بڑھانے سے پہلے سوچنا ہےکہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہورہی ہے ، ہرہرقدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہے۔
پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتا ہے تو اسے فطری سکون حاصل کرنے کے لئے شریک حیات کی ضرورت پیش آتی ہے، اسلام نے شریک حیات بنانے کےلئے نکاح کا پاکیزہ نظام پیش کیا ہے ۔ نکاح سے انفرادی اور سماجی دونوں سطح پہ فساد وبگاڑ کا عنصر ختم ہوجاتا ہے اور گھر سے لیکر سماج تک ایک صالح معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے ۔
نکاح کرکے دو اجنبی آپسی پیار ومحبت میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں جہاں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشتہ نظر آتا ہے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتےہیں ، پاکیزہ تعلق یعنی عقد نکاح کے بعد آپس کی ساری اجنبیت اور سارا پردہ اٹھ جاتا ہے گویا دونوں ایک جاں دو قالب ہوجاتے ہیں ۔ یہ اللہ کا بندوں پر بڑا احسان ہے ۔ میاں بیوی کے جنسی ملاپ کو عربی میں جماع اور اردو میں ہمبستری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ جس طرح اسلام نے نکاح کاپاکیزہ نظام دیا ہے اسی طرح جماع کےبھی صاف ستھرےرہنما اصول دئے ہیں ، ان اصولوں کی جانکاری ہر مسلم مردوخاتون پر ضروری ہے ۔سطور ذیل میں جماع کا طریقہ اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کررہاہوں۔  
 یہودیوں کا خیال تھا کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا ہوگا ، اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ (البقرة:223)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جس طرح سے چاہیں جماع کرسکتے ہیں ، شوہر کے لئے بیوی کی اگلی شرمگاہ ہی حلال ہے اور پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے چنانچہ اس بات کو اللہ نے اس آیت سے پہلے بیان کیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:222)
ترجمہ:آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ ، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
یہاں پر اللہ حکم دے رہا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع نہ کرو اور جب حیض سے پاک ہوکر غسل کرلے تواس کے ساتھ  اس جگہ سے جماع کرو جس جگہ جماع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ حیض اگلی شرمگاہ سے آتا ہے، حیض کا خون آنے تک جماع ممنوع ہےا ور جب حیض بند ہوجائے تو اسی جگہ جماع کرنا ہےجہاں سے خون آرہا تھا۔
" نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ" کی تفسیر صحیح احادیث سے بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔راوی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی :(نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ)أي مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستَلقِياتٍ يعني بذلِكَ مَوضعَ الولَدِ(صحيح أبي داود:2164)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو  یعنی خواہ آگے سے خواہ پیچھے سے خواہ لٹا کر یعنی اولاد والی جگہ سے ۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس ہی سے مروی ہے ۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أقبِلْ وأدبِرْ، واتَّقِ الدُّبرَ والحَيضةَ(صحيح الترمذي:2980)
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو خواہ بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرومگر پچھلی شرمگاہ سے بچو اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج کے پرفتن دور میں میاں بیوی کو اسلام کی یہ بات جاننی چاہئے اور اسے ہی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہئے ، جولوگ فحش ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے ہیں اس کی زندگی سے حیا نکل جاتی ہے ،لمحہ بہ لمحہ بے حیائی کی راہ چلنے لگتا ہے۔یاد رکھیں ، بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
وفي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، أَيَأتي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكونُ له فِيهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتُمْ لو وَضَعَهَا في حَرَامٍ أَكانَ عليه فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا في الحَلَالِ كانَ له أَجْرٌ.(صحيح مسلم:1006)
ترجمہ: اور(بیوی سے جماع کرتے ہوئے) تمہارے عضو میں صدقہ ہے۔صحابہ کرام ﷺ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:بتاؤاگر وہ یہ(خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔
اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل  ذکر کئے جاتے ہیں ۔
(1) بیوی سے جماع عفت وعصمت کی حفاظت ، افزائش نسل اور حرام کام سے بچنے کی نیت سے ہو، ایسی صورت میں اللہ نہ صرف جماع پہ اجر دےگا بلکہ نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔  
(2) جماع شہوت رانی نہیں ہے بلکہ زوجین کے لئے سکون قلب اور راحت جاں ہے ،اس لئے قبل از جماع شوہر بیوی سے خوش طبعی کی بات کرے اور جماع کے لئے ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے ۔
(3) جماع سے قبل یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : بسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وجَنِّبِ الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صحيح البخاري:3271)
ترجمہ:اے اللہ!ہمیں شیطان سے علیحدہ رکھ اور تو جو اولاد ہمیں عنایت فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ "پھر اگر انھیں بچہ دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
(4) جماع کی جگہ آواز سننے والا اور دیکھنے والا  کوئی نہ ہو یعنی ڈھکی چھپی جگہ ہواور جماع کی حد تک شرمگاہ کھولنا کافی ہے تاہم ایک دوسرے کو دیکھنا اور مکمل برہنہ ہونا آپس میں جائز ہے ، جس حدیث میں مذکور ہے کہ جماع کے وقت بیوی کی شرمگاہ دیکھنے سے اندھے پن کی بیماری لاحق ہوتی ہے اسے شیخ البانی نےموضوع حدیث  قراردیاہے۔ اوراسی طرح  وہ ساری احادیث بھی ضعیف ہیں جن میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک دوسرے کی شرمگاہ نہیں دیکھیں۔
(5) بحالت احرام اور بحالت روزہ جماع ممنوع ہے ،باقی دن ورات کے کسی حصے میں جماع کرسکتے ہیں ۔حالت حیض  اور حالت نفاس میں صرف جماع کرنا منع ہےمگر جماع کے علاوہ بیوی سے لذت اندوز ہونا جائز ہے۔ اگر کسی نے حیض کی حالت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نصف دینا صدقہ کرنا ہوگا ساتھ ہی اللہ سے سچی توبہ کرے تاکہ آئندہ اللہ کا حکم توڑ کر معصیت کا ارتکاب نہ کرے ۔یہی حکم نفاس کی حالت میں جماع کا ہے البتہ صحیح قول کی روشنی میں مستحاضہ سے جماع کرنا جائز ہے۔
(6)دوران حمل  بیوی سے جماع کرنا جائز ہے تاہم شوہر کو  اس کنڈیشن میں ہمیشہ بیوی کی نفسیات ، صحت اور آرام کا خیال رکھنا چاہئے ۔ حمل کی مشقت بہت سخت ہے ، قرآن نے اسے دکھ پر دکھ کہا ہے ۔اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر اس دوران جماع کرنے سے شوہر کومنع کرتے ہیں لہذا اس سلسلے میں طبی مشورے پر عمل کیا جائےخصوصا حمل کے آخری ایام کافی دشوار گزار ہوتے ہیں ان دنوں جماع کرنا پرخطر ثابت ہوسکتا ہے ۔
(7)مطلقہ رجعیہ کی عدت میں جماع کرنا رجعت ہے کہ نہیں اس پہ اہل علم میں مختلف اقوال ہیں ، ان میں قول مختار یہ ہے کہ اگر شوہر نے رجوع کی نیت سے جماع کیا ہے تو رجوع ثابت ہوگا اور اگر بغیر رجوع کی نیت سے جماع کرلیا تو اس سے رجوع نہیں ہوگا مثلا شہوت ابھر جانے سے عدت میں جماع کرلینا۔
(8)لوگ جماع کے دوران شہوت کی باتیں  کرنے سے  متعلق سوال کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، نہ ہی عیب کی بات ہے ، ہاں فحش اور بے ہودہ باتیں جس طرح عام حالات میں ممنوع ہیں اسی طرح دوران جماع بھی ممنوع ہوں گی ۔
(9)جماع سے قبل شہوت بھڑکانے کے لئے جنسی قوت والی ادویات کا استعمال جسم کے لئے نقصان دہ ہے لہذا اس چیز سے اجتناب کریں ،ہاں کسی آدمی میں جنسی کمزوری ہو تو ماہر طبیب سے اس کا علاج کرائیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ 
(10) بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جماع کرنا حیض ونفاس سے پاکی کی حالت میں جائز ہے اورجماع کرنے کے لئے بیوی سے بوس وکنار ہونا، خوش طبعی کرنا، جماع کے لئے تیار کرنے کے واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگاہ چھونا یا دیکھنا جائز وحلال ہے ۔ پھر اگلی شرمگاہ میں جماع کے لئے جو کیفیت وہیئت اختیار کی جائے تمام کیفیات جائز ہیں ۔ یاد رہے جماع کی خواہش بیدار ہونے اور اس کا مطالبہ کرنے پر نہ شوہربیوی سے انکار کرے اور نہ ہی بیوی شوہر سے انکار کرے ۔
(11) شوہر کے لئے بیوی کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسے چومنا بے حیائی ہے۔ اسی طرح بیوی کے لئے مرد کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے چومنا اور منہ میں داخل کرنا بے حیائی ہے ۔ ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاصہ یہ ہے کہ عورت کی شرمگاہ چومنا اور منہ سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے حیائی  ہے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(12) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیرفطری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات کے ساتھ بے حیا لوگوں کا راستہ اختیار کرنا ہے ، مومن ہر کام میں حیا کا پہلو مدنظر رکھتا ہے ۔ عموما شوہر اپنی بیوی کو غیرفطری طریقہ مباشرت اپنانے اور بے حیائی کا اسلوب اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے ایسی عورت کے سامنے عہد رسول کی اس انصاری عورت کا واقعہ ہونا چاہئے جس کے قریشی یعنی مہاجرشوہر نے اس سے اپنے یہاں کے طریقہ سے مباشرت کرنا چاہاجوانصاری کے یہاں معروف نہ تھا تو اسکی بیوی نے اس بات سے انکار کیا اور کہا ہم صرف ایک ہی انداز سے جماع کے قائل ہیں لہذا وہی طریقہ اپناؤ یا مجھ سے دور رہو ۔یہاں تک کہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی اور اس وقت قرآن کی آیت (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ) نازل ہوئی جس کی تفسیر اوپر گزرچکی ہے۔ واقعہ کی تفصیل دیکھیں: (صحيح أبي داود:2164)
(13) نبی ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں آتاہے،وہ ملعون ہے(صحیح ابی داؤد:2162)۔لہذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوقہر الہی کا سزاوار نہ بنائے ۔ کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد ہوگیا ہو تو وہ فورا رب کی طرف التفات کرے اور اللہ سے توبہ کرکے گناہ معاف کرالے۔جہاں تک لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے سے نکاح باطل ہوجاتا ہے سو ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
(14) ایک ہی رات میں دوبارہ جماع کرنے سے پہلے اگر میسر ہو تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے ۔ بغیر وضو کے بھی دوبارہ جماع کرسکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت فرماتے تھے ۔
(15) مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے منی کا انزال ہو یا نہ ہو۔ حالت جنابت میں سویا جاسکتا ہے تاہم فجر سے پہلےیا جو وقت ہواس نماز کے واسطے غسل کر لےتاکہ بلاتاخیر وقت پہ نماز پڑھ سکے ۔ حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج ، بات چیت،کھاناپینا سب جائز ہیں حتی کہ سحری بھی کھاسکتے ہیں۔
(16)جب جماع کی حالت میں اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد فراغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رہے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رہنا حتی کہ اقامت ہونے لگے تب جماع کرنا ہماری کوتاہی اور نماز سے غفلت ہے۔جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں بلکہ فرض کفایہ اوربڑے اجر وثواب کا حامل ہے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا ہے ،جب اس عمل سے فارغ ہوجائیں تو بقیہ کلمات کا جواب دے سکتے ہیں ۔
(17) اولاد کے درمیان ضرورت کے تحت وقفہ کرنے کی نیت سے جماع کرتے ہوئے منی شرمگاہ کے باہر خارج کرنا جائز ہے ، شوقیہ ایسا کرنے سے بہرصورت بچنا چاہئے کیونکہ نکاح کا اہم مقصد افزائش نسل ہے۔
(18) میاں بیوی کی خلوت اور جماع کی باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے حیا ئی کی علامت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس عمل سے امت کو منع فرمایا ہے ۔ اس بات سے ان بے حیاؤں کو نصیحت لینا چاہئے جو جماع کی تصویر یا ویڈیو بناتے ہیں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے ہیں ۔ نعوذباللہ کتنے ملعون ہیں فحش ویڈیوز بنانے ، پھیلانےاوردیکھنے والے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كلُّ أمَّتي مُعافًى إلَّا المُجاهِرينَ ، وإنَّ منَ المُجاهرةِ أن يعمَلَ الرَّجلُ باللَّيلِ عملًا ، ثُمَّ يصبِحَ وقد سترَه اللَّهُ ، فيقولَ : يا فلانُ ، عمِلتُ البارحةَ كذا وَكذا ، وقد باتَ يسترُه ربُّهُ ، ويصبِحُ يَكشِفُ سترَ اللَّهِ عنهُ( صحيح البخاري:6069)
ترجمہ:میری تمام امت و معاف کردیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔
اللہ تعالی ہمارے اندر اسلامی غیرت وحمیت پیدا کردے، حیا کی دولت سے مالامال کردے، بے حیائی سے کوسوں میل دور کردے اور مرتے دم تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات پہ اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہنے کی توفیق بخشے ۔آمین

مکمل تحریر >>

Thursday, February 7, 2019

بکری کی استطاعت رکھنے والوں کا مرغیوں سے ولیمہ کرنا


بکری کی استطاعت رکھنے والوں کا مرغیوں سے ولیمہ کرنا

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ بخیر ہوں گے!!
ایک آدمی نے ایک سوال پوچھا ہے وہ یہ کہ عقیقہ  اور قربانی کا جانور کیا اور کیسا ہو بتا دیا گیا ہے۔ اسی طرح ولیمہ کے سلسلے میں آیا ہے: "اولم ولو بشاۃ" (ولیمہ کرو گرچہ ایک بکری  سےکیوں نہ ہو)جس سے لگتا ہے کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ہو۔ آج لوگ مرغیاں ذبح کر کے ولیمہ کرتے ہیں ۔ تو کیا ایسا کرناجائز ہے؟ عدم استطاعت بکری کی صورت میں کسی بھی کھانے کی چیز سے جائز بعض علماء نے کہا ہےمگر استطاعت کے باوجود کیا پولٹری مرغی سے ولیمہ کرنا صحیح ہوگا؟؟ تحقیقی جواب دے کر مشکور فرمائیں گے!!

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ !
عقیقہ اور قربانی کا مقصد خون بہانا ہے جیساکہ نص سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے اور ولیمہ کا مقصد محض دعوت کرنا ہے خواہ کسی چیز سے ہو، اس میں استطاعت یا عدم استطاعت کی کوئی قید نہیں ہے ۔ عقیقہ وقربانی  سے متعلق نصوص پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔
عقیقہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:معَ الغُلامِ عقيقةٌ فأَهريقوا عنهُ دَمًا وأميطوا عنهُ الأذَى(صحيح الترمذي:1515)
ترجمہ: لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ ہے، لہذا جانور ذبح کرکےاس کی طرف سے خون بہاؤ اوراس سے گندگی دورکرو۔
قربانی سے متعلق فرمان الہی اور فرمان نبوی پہ غور فرمائیں :
اللہ تعالی کا فرمان ہے : لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ(الحج :37) '
ترجمہ: اللہ تک تمہاری قربانیوں کا گوشت یا خون ہر گز نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :إذا رأيتم هلالَ ذي الحجةِ ، وأراد أحدكم أن يُضحِّي ، فليُمسك عن شعرِهِ وأظفارِهِ(صحيح مسلم:1977)
ترجمہ: جب ذوالحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
پہلے نص میں خون بہانے کا ذکر ہے ، دوسرے نص میں گوشت اور خون کا ذکر ہے اور تیسرے نص میں قربانی کا ذکر ہے ، ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ عقیقہ اور قربانی میں جانور ذبح کرنا ہے تبھی خون بہانے کا مقصد پورا ہوگا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ عقیقہ اور قربانی کے جانور کی بھی تخصیص کردی گئی ہے ۔
جہاں تک مسئلہ ولیمہ کی دعوت کا ہے تو اس سے مقصد یہ ہے کہ شادی کے بعد خوشی اور شکر باری تعالی کے طور پر لوگوں کو دعوت کھلائی جائے، یہ محض مسنون ہے ، اس کے ترک سے شادی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ اب دعوت کی نوعیت  اپنی چاہت پہ منحصر ہے نہ کہ استطاعت پر۔ کسی کو گوشت کھلانا ہو اور کسی کو سبزی ترکاری پہ اکتفا کرنا ہو اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ رأى عبدَ الرحمنِ بنِ عوفٍ أثرَ صُفرةٍ، قال :ما هذا؟ . قال : إني تزوجت امرأةً على وزنِ نواةٍ من ذهبٍ، قال :بارك لك اللهُ، أولمْ ولو بشاةٍ .(صحيح البخاري:5155)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو ۔
نبی ﷺ کے اس فرمان "ولیمہ کرو گرچہ ایک بکری سے ہو" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ولیمہ کی کم ازکم حد بکری ذبح کرنا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اپنی مرضی سے جو کھلانا چاہتے ہو کھلاؤ مگر ولیمہ کروخواہ بکری ہو یا اور کچھ ۔ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے ولیمہ کے پس منظر میں دیکھیں گے تو بات واضح ہوجائے گی۔
رسول اللہ ﷺنےخیبر سے واپسی پر صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور سفر میں ہی ولیمہ کی دعوت کی ، صحیح بخاری میں اس نکاح کے ولیمہ سے متعلق الفاظ ہیں :
فدعوت المسلمين إلى وليمته ، فما كان فيها من خبز ولا لحم ، امر بالانطاع فالقي فيها من التمر والاقط والسمن ، فكانت وليمته(صحیح البخاری:5159)
ترجمہ:راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ولیمہ کا ذکر ہے کہ اس میں گوشت اور روٹی نہیں تھی یعنی کوئی جانور ذبح نہیں کیا گیا تھا بلکہ بغیر گوشت کے کھجور، پنیر اور گھی پہ اکتفا کیاگیا ، یہی رسول اللہ کا ولیمہ تھا حتی کہ یہ ولیمہ بھی نبی کریم ﷺنے صحابہ کے تعاون سے کیا تھاچنانچہ دلہا بننے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن كان عندَه شيءٌ فلْيَجِئْ به ، وبسَطَ نِطْعًا ، فجَعَلَ الرجلُ يِجيءُ بالتمرِ ، وجعَلَ الرجلُ يِجيءُ بالسَّمْنِ ، قال : وأَحْسَبُه قد ذَكَرَ السَّويقَ ، قال : فحاسوا حَيْسًا ، فكانت وليمةَ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم .(صحيح البخاري:371)
ترجمہ: جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو تو یہاں لائے، آپ نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھایا، بعض صحابہ کھجور لائے، بعض گھی، عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیاپھر لوگوں نے ان کا حلوہ بنا لیا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
آپ ﷺولیمہ کھلانے کی استطاعت رکھتے تھے ، اکیلے بھی کھلاسکتے تھے اور ولیمہ میں گوشت کا بھی انتطام کرسکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اور ایسا بھی نہیں کہ ولیمہ کا یہ عمل نبی ﷺ کے ساتھ خاص ہے ، خصوصیت کی دلیل چاہئے ۔ اس وجہ سے ولیمہ کی دعوت کھلانے میں نہ تقریب کا اتعقاد ہے، نہ ہی اس کے لئے استطاعت شرط ہے اور نہ ہی کم ازکم بکری ذبح کرنا مقصد ہے بلکہ جو میسر ہو لوگوں کو کھلادینا کافی ہے حتی کہ گھر میں چند لوگوں کو بلاکر خاطر ومدارات کردی جائے تب بھی ولیمہ کا مقصد پورا ہوجائے گا۔نبی ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح پر گوشت کا بھی ولیمہ کیا تھا اس لئے کوئی بڑے کا گوشت کھلائے ، بکری کھلائے، مرغی کھلائے ، چاول سبزی کھلائے ان سب صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)  سعودی عرب  
مکمل تحریر >>