Monday, August 19, 2024

جماعت میں سلام کرنے اور جواب دینے کا طریقہ

جماعت میں سلام کرنے اور جواب دینے کا طریقہ

فیس بوک پر یا واٹس اپ پہ دیکها جاتا ہے کہ ایک آدمی سلام کرتا مگر گروپ کے سارے لوگ جواب نہیں دیتے ہیں ، اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے . تو کیا گروپ کے سارے ممبرس پہ سلام کا جواب دینا ضروری ہے ؟
اگر جماعت(گروپ) کی طرف سے ایک آدمی سلام کہے تو ساری جماعت کے لیے کافی ہو جاتا ہے،دوسری طرف سے بھی اگر ایک آدمی جواب دے تو ساری جماعت کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے ۔
*دلیل :
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الملك بن إبراهيم الجدي، حدثنا سعيد بن خالد الخزاعي، قال حدثني عبد الله بن المفضل، حدثنا عبيد الله بن أبي رافع، عن علي بن أبي طالب، رضى الله عنه - قال أبو داود رفعه الحسن بن علي - قال "يجزئ عن الجماعة، إذا مروا أن يسلم، أحدهم ويجزئ عن الجلوس أن يرد أحدهم ".
ترجمہ : امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے شیخ حسن بن علی نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا، فرمایا کہ ایک جماعت گزر رہی ہو تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کہہ دینا کافی ہے۔ اور بیٹھے ہوئے (لوگوں) میں سے کوئی ایک جواب دیدے تو کافی ہے۔
(سنن ابوداود،أبواب السلام، باب ما جاء في رد الواحد عن الجماعةح: 5210)
*علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے..
تعداد میں کم لوگوں کو اپنے سے زیادہ لوگوں کو سلام کا جو حکم دیا گیا ہے تو اس کی وجہ "اکرام جماعت "ہے ۔
اسے محدثین نے "سنت کفایہ "قرار دیا ہے،یہ صورت بھی "فرض کفایہ " کی طرح ہے۔جیسے نماز جنازہ میں گھر کا ایک فرد شریک ہو تو سب کی طرف سے نماز جنازہ ادا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جماعت میں سے ایک آدمی کے سلام کہنے اور ایک آدمی کے جواب دینے سے پوری ھو جائے گی ۔مگر یاد رہے کہ اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ باقی جماعت بالکل خاموش رہے ،اگر سارے سلام کہیں اور سب جواب دیں تو یہ اولیٰ اور افضل ہے۔
آپ کا دینی بهائی
مقبول احمد سلفی
 

مکمل تحریر >>

Thursday, May 11, 2023

سفر سے لوٹنے کےآداب و احکام

 

سفر سے لوٹنے کےآداب و احکام
تحریر:مقبول احمد سلفی /جدہ
 
جب ہم کسی بھی لمبے سفر سے واپس آتے ہیں تواہل و عیال سے ملنے کی خوشی تو یاد رہتی ہے مگر اس سلسلے میں کئی سنت نبوی بھلائے رہتے ہیں ۔ ہاں جب حج یا عمرہ سے لوٹتے ہیں توچند ایک سنت یاد رہتی ہے مگر اس میں بھی افراط و تفریط کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ آئیے صحیح احادیث کی روشنی میں اختصار کے ساتھ آپ کی خدمت میں سفر سے واپسی کے آداب بیان کرتا ہوں تاکہ ان سنتوں کو زندہ کریں اور افراط وتفریط سے پرہیز کریں ۔
بنیادی طور پر یہ ذہن میں رہے کہ سفر میں صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اس لئے راستہ پرامن ہو تبھی آپ سفر کریں اور سفر کے وقت شر سے اللہ کی پناہ اور آسانی کے لئے رب العالمین سے دعا کریں ۔ سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ،(صحیح مسلم:1343)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اللہ تعالٰی سے پناہ مانگتے سفر کی مشقتوں سے اور غمگین ہو کر لوٹنے سے اور بھلائی کے بعد برائی کی طرف لوٹنے سے اور اہل و عیال میں برائی کے دیکھنے سے۔
سفر کی وجہ سے ایک طرف مسافر کو پریشانی لاحق ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کے اہل وعیال اور اس کے مال کے لئے دقت کا سامنا ہوسکتا ہے اس لئے ابتدائے سفر میں ہی رسول اللہ ﷺ اللہ سے ان سب چیزوں میں عافیت کے لئے دعا کرتےتھے۔
٭اس بنیادی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سفر سے لوٹنے میں سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ جس مقصد کے لئے سفر تھا اس مقصد کی تکمیل کے فورا بعد اہل وعیال کے پاس لوٹ آیا جائے ، اس میں تاخیر نہ کی جائے ۔ ہمارے پیارے رسول محمد ﷺ کی یہی سنت رہی ہےچنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السفر قطعة من العذاب يمنع احدكم نومه، وطعامه، وشرابه، فإذا قضى احدكم نهمته، فليعجل إلى اهله.(صحیح البخاری:3001)
ترجمہ:سفر کیا ہے گویا عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کی نیند، کھانے پینے سب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے جب مسافر اپنا کام پورا کر لے تو اسے جلدی گھر واپس آ جانا چاہئے۔
٭سفر سے لوٹنے کا دوسرا ادب یہ ہے کہ لوٹتے وقت اسی طرح دعا پڑھیں جیسے آپ نے سفر کی ابنداء میں دعا کی تھی، کچھ کلمات کے اضافہ کے ساتھ ، چنانچہ آپ سفر سے لوٹنے کی دعا اس طرح پڑھیں ۔
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ،
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ،
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَليفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ،
آيِبُونَ، تائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔(صحیح مسلم:1342)
ترجمہ: ‏‏اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے۔
پاک ہے پروردگار جس نے ہمارا دبیل کر دیا اس جانور کو اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں، یااللہ! ہم مانگتے ہیں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری اور ایسے کام جسے تو پسند کرے، یااللہ! آسان کر دے ہم پر اس سفر کو اور اس لمبان کو ہم پر تھوڑا کر دے، یا اللہ! تو رفیق ہے سفر میں اور تو خلیفہ ہے گھر میں، یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور برے حال میں لوٹ کر آنے سے مال میں اور گھر والوں میں۔
ہم لوٹنے والے ہیں اور توبہ کرنے والے، خاص اپنے رب کو پوجنے والے او اسی کی تعریف کرنے والے۔
٭ سفر سے لوٹنے کا تیسرا ادب یہ ہے کہ رات کو بغیر اطلاع دئے اہل و عیال کے پاس نہ جائیں ۔ ‏‏‏‏سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ.(صحیح مسلم:715)
ترجمہ:جب تم میں سے کوئی رات کو آئے تو اپنے گھر میں گھسا نہ چلا آئے (بلکہ ٹھہرے) یہاں تک کہ پاکی کرے وہ عورت جس کا خاوند سفر میں تھا اور کنگھی کرے وہ عورت جس کے بال پریشان ہوں۔
آج سوشل میڈیا کے زمانہ میں ایک ایک لمحہ کی خبر مسافر اور گھروالوں کے درمیان ہوتی ہے اس اعتبار سے کسی وقت گھر پہنچنے میں حرج نہیں ہے ۔
٭ سفر سے لوٹنے پہ نبی ﷺ کی ایک سنت یہ بھی رہی ہے کہ آپ جب بستی میں واپس لوٹتے تو پہلے اہل وعیال کے پاس نہیں جاتے بلکہ مسجد جاتے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرتے چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ(ابوداؤد:2773، صححہ البانی)
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے ۔
٭ سفر سے لوٹنے پر گھر اور پڑوس کے بچوں کو پہلے سے شدت کا انتظار ہوتا ہے اس لئے مسافر گھر کو لوٹے تو استقبال کرنے والے بچوں سے پیار و محبت جتلائے ، ان بچوں میں اپنے اور پڑوس کے بھی ہوسکتے ہیں ، سب سے یکساں محبت کرےتاکہ کسی کو احساس کمتری نہ ہو ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا :
لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْآخَرَ خَلْفَهُ(صحیح البخاری:5965)
ترجمہ: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے (فتح کے موقع پر) تو عبدالمطلب کی اولاد نے (جو مکہ میں تھی) آپ کا استقبال کیا۔ (یہ سب بچے ہی تھے) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
٭ نبی ﷺ کے پیارے ساتھیوں کا طریقہ تھا کہ جب وہ ایک دوسرے سے ملاقات فرماتے تو سلام و مصافحہ کرتے اور جب سفر سے لوٹ کر ملتے تو معانقہ کرتے ۔ گویا لمبے سفر سے لوٹنے کی ایک سنت یہ ہے کہ ملنے والوں سے معانقہ کیا جائے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان أَصْحابُ النبيِّ إذا تَلاقَوْا تَصافَحُوا ، وإذا قَدِمُوا من سفرٍ تَعَانَقُوا.(صحيح الترغيب:2719)
ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے ۔
٭ آپ ﷺ جب غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سےواپس ہوئے تو آپ نے ایک جانور ذبح کرکے صحابہ کرام کو کھلایا تھا ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة نحر جزورا او بقرة(صحيح البخاري:3089)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے (غزوہ تبوک یا ذات الرقاع سے) تو اونٹ یا گائے ذبح کی۔
اس حدیث کی روشنی میں اہل علم کہتے ہیں کہ سفر سے لوٹنے کی ایک سنت یہ ہے کہ لوگوں کی دعوت کی جائے چنانچہ اس حدیث پہ امام بخاریؒ نے اس طرح باب باندھا ہے"بَابُ الطَّعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ"یعنی مسافر جب سفر سے لوٹ کر آئے تو لوگوں کو کھانا کھلائے(دعوت کرے)۔
اور اسی حدیث پہ امام ابوداؤدؒ (3747) نے اس طرح باب باندھا ہے "باب الإِطْعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ"یعنی سفر سے آنے پر کھانا کھلانے کا بیان۔
اس لئے جو مسافر دعوت کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ غلو اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں کو دعوت کرکے کھلا سکتا ہے لیکن جس کو دعوت کھلانے کی طاقت نہ ہو وہ دعوت نہ کرے تاہم ایک دوسرے سے الفت و محبت قائم رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کے سبب اپنے قریبی رشتہ داروں اور ملاقاتیوں کو معمولی تحائف پیش کرسکے تو اچھی بات ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : تَهادُوا تَحابُّوا(صحيح الأدب المفرد:462)
ترجمہ: ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو کیونکہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہدیہ میں کوئی بھاری بھرکم چیز دینا ضروری نہیں ہے ، گھر کے بچوں کے لئے چند ٹافیاں سہی، کھجور کا ایک دانہ سہی اور حج و عمرہ سے لوٹ رہے ہیں تو زمزم کا ایک گھونٹ پانی ہی پیش کردیں ۔ ملاقات کرنے والا حج یا عمرہ سے لوٹنے والے کو عبادت کی قبولیت کی دعا دے ۔
اخیر میں حج و عمرہ سے لوٹنے والے خوش نصیبوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اللہ نے عظیم عبادت کی سعادت بخشی ہے ، اپنی آنکھوں سے اللہ کے گھرکا دیدار اور اس کا طواف کرکے آئے ہیں ، اس وقت آپ کو اس بات کی ضرورت ہے کہ  شکرالہی کے ساتھ اللہ سے بکثرت یہ دعا کریں کہ اے اللہ ! میرے حج و عمرہ کو قبول فرما۔نیز حج مبرورسے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسے کوئی ماں کے پیٹ سے پیدا ہواہو۔اس لئے کوشش کریں کہ اسی حالت پہ موت آئے یعنی گناہوں سے دھلے دھلائے ۔ اس کے لئے آپ کو کیا کرنا ہے؟
اولا :سفر حج وعمرہ سے واپسی پہ مروجہ خرافات اور فضول کاموں سے بچیں جیسے گھروں کی تزئین و زیبائش ، بھاری بھرکم اسراف وریا والی دعوت وغیرہ ۔
ثانیا:ہر اس کام سے بچیں جس میں شہرت اور ناموری ہو تاکہ آپ کی عبادت کی حفاظت ہو ورنہ شہرت حج جیسی عبادت کو کھالے گی حتی کہ یہ دخول جہنم کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ثالثا: جیسے حج یا عمرہ آپ نے خالص اللہ کے لئے انجام دیا، مطاف ، مسعی ، منی ، عرفات ، مزدلفہ ہرجگہ اسی سے دعا مانگی ، اسی کو مکہ و مدینہ میں پکارا، ساری زندگی اسی طرح خالص اب رب کی بندگی بجالائیں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اسی سے مانگتے رہیں ، ان شاء اللہ توحید پر خاتمہ نصیب ہوگا اور آپ کا حج قیامت میں کام آئے گا۔ یاد رہے شرک سارے اعمال کو ضائع کردیتا ہے ۔
رابعا: آخری بات یہ ہے کہ اب اپنے کو ایک بہتر انسان کی صورت میں بدل کر زندگی گزاریں جیسے معلوم ہو کہ واقعی حج وعمرہ نے آپ کو بدل دیا ہے یا حج وعمرہ کے بعد اب ایک اچھے انسان بن گئے ہیں۔ اللہ بھی یہی چاہتا ہے ۔ آپ نیکی کی طرف لگ گئے ہیں تو اس جانب بڑھتے رہیں اور اسی پر قائم رہیں اور اللہ سے ہمیشہ ثابت قدمی کی یہ دعا" يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّت قَلبي على دينِكَ" کرتے رہیں ۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں:
كانَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ يُكْثِرُ أن يقولَ : يا مُقلِّبَ القلوبِ ثبِّت قَلبي على دينِكَ(صحيح الترمذي:2140)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ"۔

مکمل تحریر >>

Sunday, April 7, 2019

جماع کا طریقہ اور اس کے چندآداب و مسائل



جماع کا طریقہ اور اس کے چندآداب و مسائل

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ)

دین اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے بحسن وخوبی پورا کرتا ہے بلکہ زندگی کے تمام امور کےلئےپاکیزہ اصول اور فطری نظام پیش کرتا ہے ۔ اللہ تعالی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا، اس نے ہمیں اپنے پیغمبر کے ذریعہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی ۔ نکاح اور بیوی سےجماع شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ افزائش نسل کا سبب ہے پھر اللہ اتنی بڑی بات کیسے نہیں بتلاتا، یہ بھی ہمیں بتلادیا۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں برائی فیشن اوربے حیائی  عام سی بات ہوگئی ہے ۔اللہ نے ہمیں کفر وضلالت سے نجات دے کر ایمان وہدایت کی توفیق بخشی ہے، ہمیں ہمیشہ اپنا قدم بڑھانے سے پہلے سوچنا ہےکہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہورہی ہے ، ہرہرقدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہے۔
پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتا ہے تو اسے فطری سکون حاصل کرنے کے لئے شریک حیات کی ضرورت پیش آتی ہے، اسلام نے شریک حیات بنانے کےلئے نکاح کا پاکیزہ نظام پیش کیا ہے ۔ نکاح سے انفرادی اور سماجی دونوں سطح پہ فساد وبگاڑ کا عنصر ختم ہوجاتا ہے اور گھر سے لیکر سماج تک ایک صالح معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے ۔
نکاح کرکے دو اجنبی آپسی پیار ومحبت میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں جہاں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشتہ نظر آتا ہے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتےہیں ، پاکیزہ تعلق یعنی عقد نکاح کے بعد آپس کی ساری اجنبیت اور سارا پردہ اٹھ جاتا ہے گویا دونوں ایک جاں دو قالب ہوجاتے ہیں ۔ یہ اللہ کا بندوں پر بڑا احسان ہے ۔ میاں بیوی کے جنسی ملاپ کو عربی میں جماع اور اردو میں ہمبستری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ جس طرح اسلام نے نکاح کاپاکیزہ نظام دیا ہے اسی طرح جماع کےبھی صاف ستھرےرہنما اصول دئے ہیں ، ان اصولوں کی جانکاری ہر مسلم مردوخاتون پر ضروری ہے ۔سطور ذیل میں جماع کا طریقہ اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کررہاہوں۔  
 یہودیوں کا خیال تھا کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا ہوگا ، اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ (البقرة:223)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جس طرح سے چاہیں جماع کرسکتے ہیں ، شوہر کے لئے بیوی کی اگلی شرمگاہ ہی حلال ہے اور پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے چنانچہ اس بات کو اللہ نے اس آیت سے پہلے بیان کیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:222)
ترجمہ:آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ ، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
یہاں پر اللہ حکم دے رہا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع نہ کرو اور جب حیض سے پاک ہوکر غسل کرلے تواس کے ساتھ  اس جگہ سے جماع کرو جس جگہ جماع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ حیض اگلی شرمگاہ سے آتا ہے، حیض کا خون آنے تک جماع ممنوع ہےا ور جب حیض بند ہوجائے تو اسی جگہ جماع کرنا ہےجہاں سے خون آرہا تھا۔
" نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ" کی تفسیر صحیح احادیث سے بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔راوی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی :(نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ)أي مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستَلقِياتٍ يعني بذلِكَ مَوضعَ الولَدِ(صحيح أبي داود:2164)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو  یعنی خواہ آگے سے خواہ پیچھے سے خواہ لٹا کر یعنی اولاد والی جگہ سے ۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس ہی سے مروی ہے ۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أقبِلْ وأدبِرْ، واتَّقِ الدُّبرَ والحَيضةَ(صحيح الترمذي:2980)
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو خواہ بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرومگر پچھلی شرمگاہ سے بچو اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج کے پرفتن دور میں میاں بیوی کو اسلام کی یہ بات جاننی چاہئے اور اسے ہی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہئے ، جولوگ فحش ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے ہیں اس کی زندگی سے حیا نکل جاتی ہے ،لمحہ بہ لمحہ بے حیائی کی راہ چلنے لگتا ہے۔یاد رکھیں ، بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
وفي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، أَيَأتي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكونُ له فِيهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتُمْ لو وَضَعَهَا في حَرَامٍ أَكانَ عليه فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا في الحَلَالِ كانَ له أَجْرٌ.(صحيح مسلم:1006)
ترجمہ: اور(بیوی سے جماع کرتے ہوئے) تمہارے عضو میں صدقہ ہے۔صحابہ کرام ﷺ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:بتاؤاگر وہ یہ(خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔
اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل  ذکر کئے جاتے ہیں ۔
(1) بیوی سے جماع عفت وعصمت کی حفاظت ، افزائش نسل اور حرام کام سے بچنے کی نیت سے ہو، ایسی صورت میں اللہ نہ صرف جماع پہ اجر دےگا بلکہ نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔  
(2) جماع شہوت رانی نہیں ہے بلکہ زوجین کے لئے سکون قلب اور راحت جاں ہے ،اس لئے قبل از جماع شوہر بیوی سے خوش طبعی کی بات کرے اور جماع کے لئے ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے ۔
(3) جماع سے قبل یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : بسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وجَنِّبِ الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صحيح البخاري:3271)
ترجمہ:اے اللہ!ہمیں شیطان سے علیحدہ رکھ اور تو جو اولاد ہمیں عنایت فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ "پھر اگر انھیں بچہ دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
(4) جماع کی جگہ آواز سننے والا اور دیکھنے والا  کوئی نہ ہو یعنی ڈھکی چھپی جگہ ہواور جماع کی حد تک شرمگاہ کھولنا کافی ہے تاہم ایک دوسرے کو دیکھنا اور مکمل برہنہ ہونا آپس میں جائز ہے ، جس حدیث میں مذکور ہے کہ جماع کے وقت بیوی کی شرمگاہ دیکھنے سے اندھے پن کی بیماری لاحق ہوتی ہے اسے شیخ البانی نےموضوع حدیث  قراردیاہے۔ اوراسی طرح  وہ ساری احادیث بھی ضعیف ہیں جن میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک دوسرے کی شرمگاہ نہیں دیکھیں۔
(5) بحالت احرام اور بحالت روزہ جماع ممنوع ہے ،باقی دن ورات کے کسی حصے میں جماع کرسکتے ہیں ۔حالت حیض  اور حالت نفاس میں صرف جماع کرنا منع ہےمگر جماع کے علاوہ بیوی سے لذت اندوز ہونا جائز ہے۔ اگر کسی نے حیض کی حالت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نصف دینا صدقہ کرنا ہوگا ساتھ ہی اللہ سے سچی توبہ کرے تاکہ آئندہ اللہ کا حکم توڑ کر معصیت کا ارتکاب نہ کرے ۔یہی حکم نفاس کی حالت میں جماع کا ہے البتہ صحیح قول کی روشنی میں مستحاضہ سے جماع کرنا جائز ہے۔
(6)دوران حمل  بیوی سے جماع کرنا جائز ہے تاہم شوہر کو  اس کنڈیشن میں ہمیشہ بیوی کی نفسیات ، صحت اور آرام کا خیال رکھنا چاہئے ۔ حمل کی مشقت بہت سخت ہے ، قرآن نے اسے دکھ پر دکھ کہا ہے ۔اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر اس دوران جماع کرنے سے شوہر کومنع کرتے ہیں لہذا اس سلسلے میں طبی مشورے پر عمل کیا جائےخصوصا حمل کے آخری ایام کافی دشوار گزار ہوتے ہیں ان دنوں جماع کرنا پرخطر ثابت ہوسکتا ہے ۔
(7)مطلقہ رجعیہ کی عدت میں جماع کرنا رجعت ہے کہ نہیں اس پہ اہل علم میں مختلف اقوال ہیں ، ان میں قول مختار یہ ہے کہ اگر شوہر نے رجوع کی نیت سے جماع کیا ہے تو رجوع ثابت ہوگا اور اگر بغیر رجوع کی نیت سے جماع کرلیا تو اس سے رجوع نہیں ہوگا مثلا شہوت ابھر جانے سے عدت میں جماع کرلینا۔
(8)لوگ جماع کے دوران شہوت کی باتیں  کرنے سے  متعلق سوال کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، نہ ہی عیب کی بات ہے ، ہاں فحش اور بے ہودہ باتیں جس طرح عام حالات میں ممنوع ہیں اسی طرح دوران جماع بھی ممنوع ہوں گی ۔
(9)جماع سے قبل شہوت بھڑکانے کے لئے جنسی قوت والی ادویات کا استعمال جسم کے لئے نقصان دہ ہے لہذا اس چیز سے اجتناب کریں ،ہاں کسی آدمی میں جنسی کمزوری ہو تو ماہر طبیب سے اس کا علاج کرائیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ 
(10) بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جماع کرنا حیض ونفاس سے پاکی کی حالت میں جائز ہے اورجماع کرنے کے لئے بیوی سے بوس وکنار ہونا، خوش طبعی کرنا، جماع کے لئے تیار کرنے کے واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگاہ چھونا یا دیکھنا جائز وحلال ہے ۔ پھر اگلی شرمگاہ میں جماع کے لئے جو کیفیت وہیئت اختیار کی جائے تمام کیفیات جائز ہیں ۔ یاد رہے جماع کی خواہش بیدار ہونے اور اس کا مطالبہ کرنے پر نہ شوہربیوی سے انکار کرے اور نہ ہی بیوی شوہر سے انکار کرے ۔
(11) شوہر کے لئے بیوی کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسے چومنا بے حیائی ہے۔ اسی طرح بیوی کے لئے مرد کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے چومنا اور منہ میں داخل کرنا بے حیائی ہے ۔ ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاصہ یہ ہے کہ عورت کی شرمگاہ چومنا اور منہ سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے حیائی  ہے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(12) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیرفطری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات کے ساتھ بے حیا لوگوں کا راستہ اختیار کرنا ہے ، مومن ہر کام میں حیا کا پہلو مدنظر رکھتا ہے ۔ عموما شوہر اپنی بیوی کو غیرفطری طریقہ مباشرت اپنانے اور بے حیائی کا اسلوب اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے ایسی عورت کے سامنے عہد رسول کی اس انصاری عورت کا واقعہ ہونا چاہئے جس کے قریشی یعنی مہاجرشوہر نے اس سے اپنے یہاں کے طریقہ سے مباشرت کرنا چاہاجوانصاری کے یہاں معروف نہ تھا تو اسکی بیوی نے اس بات سے انکار کیا اور کہا ہم صرف ایک ہی انداز سے جماع کے قائل ہیں لہذا وہی طریقہ اپناؤ یا مجھ سے دور رہو ۔یہاں تک کہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی اور اس وقت قرآن کی آیت (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ) نازل ہوئی جس کی تفسیر اوپر گزرچکی ہے۔ واقعہ کی تفصیل دیکھیں: (صحيح أبي داود:2164)
(13) نبی ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں آتاہے،وہ ملعون ہے(صحیح ابی داؤد:2162)۔لہذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوقہر الہی کا سزاوار نہ بنائے ۔ کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد ہوگیا ہو تو وہ فورا رب کی طرف التفات کرے اور اللہ سے توبہ کرکے گناہ معاف کرالے۔جہاں تک لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے سے نکاح باطل ہوجاتا ہے سو ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
(14) ایک ہی رات میں دوبارہ جماع کرنے سے پہلے اگر میسر ہو تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے ۔ بغیر وضو کے بھی دوبارہ جماع کرسکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت فرماتے تھے ۔
(15) مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے منی کا انزال ہو یا نہ ہو۔ حالت جنابت میں سویا جاسکتا ہے تاہم فجر سے پہلےیا جو وقت ہواس نماز کے واسطے غسل کر لےتاکہ بلاتاخیر وقت پہ نماز پڑھ سکے ۔ حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج ، بات چیت،کھاناپینا سب جائز ہیں حتی کہ سحری بھی کھاسکتے ہیں۔
(16)جب جماع کی حالت میں اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد فراغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رہے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رہنا حتی کہ اقامت ہونے لگے تب جماع کرنا ہماری کوتاہی اور نماز سے غفلت ہے۔جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں بلکہ فرض کفایہ اوربڑے اجر وثواب کا حامل ہے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا ہے ،جب اس عمل سے فارغ ہوجائیں تو بقیہ کلمات کا جواب دے سکتے ہیں ۔
(17) اولاد کے درمیان ضرورت کے تحت وقفہ کرنے کی نیت سے جماع کرتے ہوئے منی شرمگاہ کے باہر خارج کرنا جائز ہے ، شوقیہ ایسا کرنے سے بہرصورت بچنا چاہئے کیونکہ نکاح کا اہم مقصد افزائش نسل ہے۔
(18) میاں بیوی کی خلوت اور جماع کی باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے حیا ئی کی علامت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس عمل سے امت کو منع فرمایا ہے ۔ اس بات سے ان بے حیاؤں کو نصیحت لینا چاہئے جو جماع کی تصویر یا ویڈیو بناتے ہیں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے ہیں ۔ نعوذباللہ کتنے ملعون ہیں فحش ویڈیوز بنانے ، پھیلانےاوردیکھنے والے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كلُّ أمَّتي مُعافًى إلَّا المُجاهِرينَ ، وإنَّ منَ المُجاهرةِ أن يعمَلَ الرَّجلُ باللَّيلِ عملًا ، ثُمَّ يصبِحَ وقد سترَه اللَّهُ ، فيقولَ : يا فلانُ ، عمِلتُ البارحةَ كذا وَكذا ، وقد باتَ يسترُه ربُّهُ ، ويصبِحُ يَكشِفُ سترَ اللَّهِ عنهُ( صحيح البخاري:6069)
ترجمہ:میری تمام امت و معاف کردیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔
اللہ تعالی ہمارے اندر اسلامی غیرت وحمیت پیدا کردے، حیا کی دولت سے مالامال کردے، بے حیائی سے کوسوں میل دور کردے اور مرتے دم تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات پہ اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہنے کی توفیق بخشے ۔آمین

مکمل تحریر >>

Friday, January 11, 2019

ضیافت کی اہمیت اور اس کے آداب


ضیافت کی اہمیت اور اس کے آداب

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف (مسرہ)

مہمان نوازی کی اسلام میں بڑی قدرومنزلت ہے مگر آج کے مادی دور میں مسلمان اس صفت سے عاری ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تھوڑے بہت ہوں گے جنہیں اللہ کی توفیق سے مہمان نوازی کا شرف حاصل ہوجاتا ہے جبکہ اکثر کے حصے میں محرومی آتی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ آج کھانے پینے کی کمی ہے یا دعوتیں اور تقریبا ت منعقد نہیں ہوتیں ۔ اس معاملے میں تو ہم سب بہت آگے ہیں مگر وہ دعوت کہاں نظر آتی ہے جس میں کوئی بھوکا شامل ہو، کوئی فقیر ومسکین شریک ہواہویا اس میں کسی یتیم کو بلایا گیا ہو۔ آج کل کی اکثر دعوتیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے مصداق ہیں۔
عن أبي هريرةَ أنه كان يقول : بئسَ الطعامُ طعامُ الوليمةِ يُدعى إليه الأغنياءُ ويُترك المساكين،فمن لم يأتِ الدَّعوةِ ، فقد عصى اللهَ ورسولَه .(صحيح مسلم:1432)
ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں امیر بلائے جائیں اور مساکین نہ بلائے جائیں تو جو دعوت میں نہ حاضر ہو اس نے نافرمانی کی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
قرآن میں ایک انصاری صحابی کی ضیافت کا ذکر ہے ،آئیےاسے پڑھ کے اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں  ، فرمان الہی ہے :
وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر:9)
ترجمہ: اور وہ اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت تنگی میں ہو اور جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا لیا گیا وہی اصل کامیاب ہے ۔
اس آیت کی شان نزول میں صحیح بخاری میں نہایت ہی ایمان افروز واقعہ مذکور ہے چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجاکہ وہ آپ کی دعوت کریں لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی (ابوطلحہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں (انصاری صحابی) اور ان کی بیوی (کے عمل) کو پسند فرمایا۔ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة‏» یعنی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔(صحيح البخاري:4889)
سبحان اللہ کتنے عظیم ہیں وہ میزبان جن کی تعریف اللہ کرے اور ان کا ذکر قرآن میں کرے ؟
کھانا کھلانے اور میزبانی کرنے کے بڑے فضائل ہیں اور یہ بڑےثواب کا کام ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں :
خيرُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطعامَ ، وردَّ السلامَ(صحيح الجامع:3318)
ترجمہ: تم میں سے سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو کھانا کھلاتا ہے اور سلام کا جواب دیتا ہے۔
اور جو ضیافت نہیں کرتا وہ خیر سے محروم ہے ، نبیﷺ فرماتے ہیں :
لا خيرَ فِيمَنْ لا يُضِيفُ(صحيح الجامع:7492)
ترجمہ: اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو میزبانی نہ کرے۔
یہاں تک رسول اللہ ارشاد فرمادیاکہ اگر کوئی ضیافت سے انکار کرے تو جبرا اپنی ضیافت وصول کرو، فرمان نبوی ہے :
إن نزلتم بقومٍ ، فأُمِرَ لكم بما ينبغي للضيفِ فاقْبَلُوا ، فإن لم يَفعلوا ، فخذوا منهم حقَّ الضيفِ(صحيح البخاري:2461)
ترجمہ:اگر تمہارا قیام کسی قبیلے میں ہو اور تم سے ایسا برتاؤ کیا جائے جو کسی مہمان کے لیے مناسب ہے تو تم اسے قبول کرلو، لیکن اگر وہ نہ کریں تو تم خود مہمانی کا حق ان سے وصول کرلو۔
اسی لئے متعددعلماء نے میزبان پر ضیافت کو واجب کہا ہے ، یہ استدلال مذکورہ حدیث کے علاوہ اور احادیث سے کیا جاتا ہے ، ان میں سے ایک یہ ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں:
مَن كان يُؤمِنُ باللهِ واليومِ الآخِرِ فلْيُكرِمْ جارَهُ، ومَن كان يُؤمِنُ باللهِ واليومِ الآخِرِ فلْيُكرِمْ ضَيْفَهُ جائِزَتَه. قال : وما جائِزَتُه يا رسولَ اللهِ ؟ قال : يومٌ وليلةٌ، والضِّيافَةُ ثلاثةُ أيامٍ، فما كان وَراءَ ذلك فهو صدَقَةٌ عليه(صحيح البخاري:6019)
ترجمہ: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
اس حدیث میں مہمان کے میزبان پر تین مراتب کا ذکر ہے۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ ایک دن اور ایک رات مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے ،دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ دوسرے اور تیسرے دن کی ضیافت مستحب ہے ، اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کامل ضیافت تین دن ہے اور تیسرا مرتبہ تین دن کے بعد کی میزبانی صدقہ ہے۔
یہاں پر ایک اہم بات یہ بھی جان لی جائے کہ حدیث میں موجود ضیف(مہمان) سے مراد سفر سے آنے والا کوئی مسافر ہے خواہ رشتہ دارہو یاغیررشتہ دار  اجنبی ہی کیوں نہ ہو۔ جو قریب سے زیارت کرنے آئے یا یونہی ملنے جلنےوالے لوگوں کے لئے میزبان پر ضیافت کرنا واجب نہیں ہے ۔ رشتہ داروں کی ضیافت صلہ رحمی اور دیگر لوگوں کی دعوت احسان وسلوک کے درجے میں ہے ۔
میزبان ضیافت کے چند آداب :
(1)گھر آنے والامہمان پہلے اجازت طلب کرے اور میزبان خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کرے، علیک سلیک کے بعد حالات دریافت کرے ۔
(2) مہمان کے رہنے کے لئے مناسب انتظام کرے جہاں آرام حاصل کرنے میں نہ مہمان کو دقت ہو اور نہ ہی گھر والوں کو۔
(3) ضیافت میں عجلت سے کام لے کیونکہ سفر کا تھکا مارا کھاپی کر آرام کی خواہش کرے گا،انتظام میں تاخیر ہونے پر عذر پیش کردے ۔
(4)پہلے دن کی ضیافت حیثیت کے مطابق پرتکلف یعنی دستور کے مطابق ہوپھر دوسرے اور تیسرے دن کی ضیافت روز مرہ کی طرح ہونا کافی ہے۔
(5) مہمان کو میزبان خود سے کھانا کھلائے یعنی ساتھ کھانا کھائے ،اس میں نہ صرف برکت ہےبلکہ یہ سراپا خلوص وپیار ہے جسے مہمان کبھی بھول نہ پائے گا۔ کھانے میں آخر تک ساتھ دینا چاہئے۔
(6)ہرممکن کوشش ہوکہ مہمان کو زبان یا ہاتھ وپیر سے کسی قسم کی کوئی ایذارسانی نہ ہو۔
(7) جب مہمان رخصت ہونے لگے تو گھر سے باہر نکل کر کچھ دور رخصت کرنے جایا جائے ۔
مہمان کے لئے چند آداب:
(1)کسی کے گھر مناسب وقت میں جانے کی کوشش کرے تاکہ میزان پر گراں نہ گزرے ۔
(2) رہائش یا کھانے میں فرمائش نہ کرے جونصیب سے مل جائے اس پہ خوش ہوجائے ۔
(3) کھانا کھاتے وقت یابعد میں عیب نہ نکالے اور پوچھا جائے تو ماشاء اللہ کہہ دے ۔
(4)کھانے کے بعد اللہ کا شکر بجالائے جس نے اسے ضیافت کی توفیق دی اور پھر گھروالوں کا شکریہ ادا کرے جنہوں نے خاطر ومدارات کیں ۔
(5)تین دن سے زیادہ کسی کے یہاں نہ رکے ،نبی ﷺ نے فرمایاہے کہ :
الضيافة ثلاثة ايام وجائزته يوم وليلة، ‏‏‏‏‏‏ولا يحل لرجل مسلم ان يقيم عند اخيه حتى يؤثمه، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏ يا رسول الله وكيف يؤثمه؟، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ يقيم عنده ولا شيء له يقريه به(صحيح مسلم:4514)
ترجمہ:ضیافت تین دن تک ہے اور اس کا تکلف ایک دن رات تک چاہیے اور کسی مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے بھائی کے پاس ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اس کو گناہ میں ڈالے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس طرح اس کو گناہ میں ڈالے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کے پاس ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو کھلانے کے لیے۔
تین دن سے زیادہ ٹھہرنے میں گھروالوں کے لئے دقت ہے اور اس سے خودکی شخصیت بھی مجروح ہوتی ہے اس لئے کسی کو مشقت میں ڈال کر گنہگار نہیں بننا چاہئے ۔
(6) مہمان کو چاہئے کہ میزبان اور پورے اہل خانہ کی زندگی اور مال میں برکت  کے لئےکثرت سے دعائیں کرے ،یہ دعائیں بھی دے سکتے ہیں ۔
اللهمَّ ! بارِكْ لهم في ما رزقتَهم . واغفرْ لهم وارحمْهم(صحيح مسلم:2042)
ترجمہ:اللہ برکت دے ان کی روزی میں اور بخش دے ان کو اور رحم کر ان پر۔
اللهمَّ ! أطعِمْ مَن أطعَمني . وأسْقِ من أسقاني(صحيح مسلم:2055)
ترجمہ: اسے اللہ ! جس نے مجھے کھلایا تو اس کوبھی پلا اور جس نے مجھے پلایا اس کو بھی پلا۔
(7) جانے لگیں تو گھر والوں سے اجازت طلب کریں پھر جائیں ، بغیر گھر والوں کی اطلاع کے نہ جائیں ۔
آخری بات یہ ہے کہ صرف مسافر کو کھلانا ہی اجر کا باعث نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو دعوت دینا اور کھانا مسنون عمل ہے ، اس سے محبت میں زیادتی پیدا ہوتی ہے ۔ جو کوئی ہمارے گھرزیارت کو آئے بغیر تکلف کے جو بن سکے پیش کرنا چاہئے خواہ ایک گلاس پانی ہی سہی ۔  غریب ومسکین ، نادار ویتیم ،قلاش ومفلس اور فقیر وحاجتمند کو کھلانا اجر وثواب کا کام ہے ۔ اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ دےاور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے ۔
مکمل تحریر >>

Thursday, November 15, 2018

مسلکی اختلاف کی وجہ سے ایک عالمہ کا بطورنرس کام کرنا


مسلکی اختلاف کی وجہ سے ایک عالمہ کا بطورنرس کام کرنا

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)

سوال : ایک بہن کا سوال ہے کہ میں نے عربی لائن سے عالمہ کورس کیا پھر کئی بار پڑھانے کی کوشش کی مگر اختلاف کی شدت کی وجہ سے سمجھ نہیں آتا کہ کون سا مسلک صحیح اور کون سا  غلط ہے؟ اسی طرح ضعیف، صحیح اور قوی وغیرہ ۔ان ساری باتوں کی وجہ سے پڑھانے کا دل نہیں کیا اور سب کچھ چھوڑکر نرسنگ کورس کیا اور بہت اچھے ڈھنگ سے جاب بھی کیا مگر اس جاب میں اسکارف منع ہے ایسی صورت میں ہم کیا کریں ؟
جواب: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو دین کی تعلیم حاصل کرنے کی توفیق دی ورنہ فتنے کے اس دور میں دینی تعلیم سے لوگ کوسوں دور ہیں اور خواتین میں دینی تعلیم کا گراف توبہت ہی کم ہے ۔ احادیث رسول کی روشنی میں جہاں مردوخاتون کے لئے  دینی تعلیم حصول  کرنا فرض ہے وہیں امت مسلمہ کے ہرفردبشر پہ دین کی تبلیغ حسب استطاعت اور بقدرعلم واجب بھی ہے ۔ قیامت میں ہرکسی سے پوچھ ہوگی کہ اس نے کتنا علم حاصل کیا اور اس پر کتنا عمل کیا۔ جو علم حاصل کرتا ہے اس کے ذمہ عمل کے ساتھ اس علم کی تبلیغ بھی ہوتی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : میری ایک بات بھی کسی کو معلوم ہو وہ اسے دوسروں تک پہنچائے ۔
شرعی آداب کا لحاظ کرتے ہوئے نرس کا پیشہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جس پیشے میں حجاب کی اجازت نہ ہو وہ پیشہ اختیار کرنا اسلامی اعتبار سے جائز نہیں ہے۔ آپ ایک عالمہ ہیں ، خواتین میں دینی تعلیم ، دینی شعور اور علم وعمل کی کمی ہے ایسے میں آپ جیسے خوش نصیب عالمہ کا فریضہ دعوت دین کے تئیں کافی بڑھ جاتا ہے ۔ مجھے آپ کے گھریلو اخراجات ووسائل کا علم نہیں ہے مگر یہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک عورت کی کفالت شادی سے پہلے والد کی اور شادی کے بعد شوہر کی ہے ۔ اس ناحیہ سے آپ مزید خوش نصیب ہیں کہ معاشی تگ ودو سے آزاد ہیں ،  فقط گھریلو امور کی انجام دہی آپ کے سر ہے اس کے بعد دین کے لئے متفرغ ہیں ۔گھریلو کام میں بھی کافی مصروفیت ہوتی ہے مگر جنہیں کچھ کرنے کا جذبہ ہو وہ اپنے اوقات کی تنظیم سازی کرتا ہے اور شب وروز کو اس تنظیم کے حساب سے گزارتا ہے ۔
میں نرس کا پیشہ  اختیار کرنے سے منع نہیں کرتا ہوں مگراپنے ناقص علم کی روشنی میں ایک فکر دینا چاہتا ہوں کہ نرسنگ کا جاب کرتے ہوئےکیا آپ دینی  علم کا حق ادا کر پارہی ہیں جسے کافی محنت سے سیکھا ہے؟ اوریقین کریں  جب دینی مشغلہ اپنائیں گی خواہ تدریس ہو یا دعوت وتبلیغ تو اس میں جو خوشی  ہوگی یا دلی راحت وسکون ملے گا اور اللہ کی مدد آئے گی ، اس طرح  دوسرے وظیفہ میں اجر وثواب اور راحت وخوشی کا احساس کبھی نہ ہوگا۔   
اگر معاشی پریشانی یا بغیر کسی پریشانی کے دنیاوی جاب کرنا چاہتے ہیں تو بھی میں اس سے نہیں روکتا تاہم تین اہم باتوں کا خیال رکھنا آپ کے لئے ضروری ہے ۔ پہلی بات آپ کے سر جو عائلی حقوق وفرائض ہیں ان کی انجام دہی میں کوتاہی نہ کریں ، دوسری بات دین کا جو علم حاصل کیا ہے اس پہ عمل کرنے ساتھ دوسروں کو دعوت دینے کے لئے کچھ وقت نکالیں اورتیسری بات یہ ہے کہ ایسا جاب تلاش کریں جہاں عورت ومرد کا اختلاط نہ ہو، شرعی حجاب کی پابندی ہو اور آپ کی عزت وناموس کی حفاظت ہو۔
آپ نے مسلکی اختلاف کا ذکر کیا کہ اس وجہ سے پڑھانے کی طرف دل مائل نہیں ہوا۔ آپ تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ بات کررہی ہیں کچھ اچھا نہیں لگ رہاہے ۔ فقہی مسائل اور نصوص کی فہم میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہےضرور ہے مگرجو اصل دین ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ،اللہ نے یہاں تک فرما دیا کہ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں تمہیں کافی اختلاف ملتا ۔ الحمد للہ ہمارے دین میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ جہاں تک اہل علم کی بصیرت وفہم میں اختلاف کا معاملہ ہے ۔ اس اختلاف کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر پیش کریں گے جو قرآن وحدیث کے موافق ہوا اختیار کریں گے اور جو مخالف ہوا چھوڑ دیں گے چاہئے کسی کا بھی قول ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں کسی امام معین یا شخصیت کی تقلید جائز نہیں ہے ۔
ابھی جس دور میں جی رہے ہیں وہ علم اور ٹکنالوجی کا ہے ، اس وقت حق کی معرفت ، حق کی تلاش اور حق تک پہنچ بہت آسان ہے ۔ گھر بیٹھے ایک اختلافی مسئلہ کو بڑی آسانی سے حل کرسکتے ہیں ۔ سارے علوم اکٹھے ہیں ، مراجع ومصادر کی طرف رجوع نہایت آسان ہے ،ایک ایک ایپ میں ہزاروں کتابیں، متعددفتاوی اور مختلف زبان کی سہولیات دستیاب ہیں، کونے کونےسے علماء سے رابطہ سہل ہوگیا ہے ۔ ان سہولیات کی بدولت آج حق تلاش کرنا نہایت آسان ہوگیاہے اورنہ صرف مسلمان مردوخواتین کو صحیح دین کی سمجھ آرہی ہے بلکہ غیربھی جوق درجوق اسلام میں داخل ہورہے ہیں ۔
جہاں آپ کو کسی مسئلہ میں شدیداختلاف لگے ، خود سے کسی نتیجہ تک رسائی حاصل کرنا دشوار لگے تو اس مسئلے میں کبارعلماء کی طرف رجوع کریں جیساکہ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر تمہیں کسی بات کو علم نہ ہو تو اسے اہل علم سے پوچھو۔ اس طرح جب چند علماء کے مختلف فتاوی اور دلائل آپ کے سامنے آئیں گے تو ان میں کہیں دلائل کی قوت اور حق کا پہلو غالب نظر آئے گا اسے اختیار کریں ۔ اور یہ محض فروعی مسائل میں آپ کو دشواری ہوگی جبکہ اصل دین میں ، دین پر عمل کرنے میں اور اس کی دعوت دینےمیں اس قدر دشواری کا سامنا نہ ہوگا۔ اللہ سے دین کی سمجھ پانے کی دعا بھی کریں ،وہ سینوں کو کھولنے والا، حق تک پہنچانے والا اور دلوں میں سچی بات بٹھانے والا ہے ۔
مکمل تحریر >>

Sunday, October 14, 2018

فون اٹھانے والا پہلے سلام کرے یا کلام ؟



فون اٹھانے والا پہلے سلام کرے یا کلام ؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی کو فون کیا جائے تو فون اٹھانے والا پہلے سلام کرے یا تخاطب کا کوئی کلمہ استعمال کرے؟. اس سلسلے میں راحج بات یہی ہے کہ فون اٹهانے والا تخاطب کا کوئی بهی کلمہ جو اس کے ماحول و معاشرہ میں رائج ہے بولے،اس سلسلے میں شیخ البانی کا موقف یہی ہے۔ پهر فون کرنے والا اپنے مخاطب کو سلام کرے۔
اس بات کو دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیں کہ جب ہم کسی کو فون کرتے ہیں تو بسااوقات مشکل سے رابطہ ہوتا ہے،کنکشن کا پرابلم ہوتا ہے، یا کبھی ایک جانب فون رسیو کرنے والا یا فون کرنے والاغیر مسلم ہوسکتا ہے جس سے اسلام میں سلام کرنا منع ہے ۔پھر یہاں ایک الجھن یہ بھی ہے کہ فون کرنے والا سلام کرے یا اٹھانے والا ؟ کون پہل کرے اور کس بنیاد پر ؟
اس لئے بہتر یہ ہے کہ جب ہم کسی کو فون کریں تو اپنافون دوسرے سے مربوط ہوجانے کا انتظار کریں ، اس کی صورت یہ ہے کہ جس نے فون رسیو کیا ہے اسے چاہئے کہ تخاطب کا کوئی جملہ مثلا ہیلو، اھلا وسھلا، مرحبا، فرمائیے ، ھلا، نعم وغیرہ بول کر پہلے آپس میں مربوط ہوجائے پھر فون کرنے والا سلام سے اپنی بات کا آغاز کرے ۔ اگر نمبرنیا ہوتوسلام سے پہلے تعارف بھی کرلے تاکہ پتہ چل جائے مسلمان بھائی ہے یا کوئی اور؟۔ یہ مسئلہ حرام وحلال  کا نہیں ہے بلکہ افضلیت اور احتیاط کا تقاضہ ہے ۔تاہم میری نظر میں اس مسئلہ میں بھی کوئی زیادہ قباحت نہیں ہے کہ فون اٹھانے والے کو اگر یقین ہو کہ فون کرنے والا ہمارا مسلمان بھائی ہے تو بجائے تخاطب کےبراہ راست سلام سے اپنی بات کا آغاز کرے ۔ تاہم  احتیاط اور افضلیت کے پیش نظر قوی مسلک یہی معلوم ہوتا ہے کہ فون اٹھانے والا پہلے تخاطب کے کلمہ کے ذریعہ فون کرنے والے سے رابطہ قائم کرلے پھر فون کرنے والا سلام کرے ، آگے حدیث آرہی ہے جس سے اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔
اب یہاں چند ایک شبہات کا ازالہ بھی کردیتا ہوں کہ جنہوں نے یہ کہا کہ کلام کے آغاز میں ہیلو نہیں کہنا چاہئے کیونکہ اس کا معنی جہنمی کا ہے تو یہ مسئلہ میں نے الگ مضمون میں واضح کیا ہے، ہیلو کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کا معنی جہنمی نہیں ہوتا ہے ۔اور جنہوں نے کہا کہ ہیلو کے معنی میں کچھ توہے جس کی وجہ سے انگریز وں نے اسے استعمال کرنا چهوڑ دیا تو یہ قطعی غلط ہے، یہ کس نے کہا کہ انگریز یا انگریزی بولنے والے ہیلو استعمال کرنا چهوڑ دئے، ہر جگہ انگریزی بولنے والوں میں یہ لفظ عام ہے حتی کہ انگریزوں میں  بھی جس طرح دوسرے الفاظ عام ہیں۔
جنہوں نے کہا کہ ہیلو بولنے سے سلام مٹ جائے گا کیونکہ انگریزوں کی کوشش ہی اسلامی تہذیب وثقافت کومٹانا ہے ، ان کے لئے جواب یہ ہے کہ ہیلو بولنا کس نے ضروری کہا ہے ؟ ہم اس لفظ کا استعمال ضروری نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے اس لفظ کا استعمال کرلیا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ البتہ جنہوں نے یہ کہا کہ سلام سے ہی اپنی بات کا آغاز کرنا ضروری ہےاور دلیل میں "السلام قبل الکلام" یعنی بات کرنے سے پہلے سلام کرنا ہے ، اس حدیث کو پیش کرتے ہیں ۔ اس حدیث کی حقیقت آگے بیان کی جائے گی پہلے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ پہلے سلام کے متعلق اسلامی حکم سمجھ لیں ۔ اسلام میں سلام کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مسنون ہے ، اگر کوئی سلام کرتا ہے توپھر جواب دینا واجب ہوجاتا ہے ۔
مزید برآں فون پر تخاطب والا کوئی جملہ کہنا سلام سے پہلے یہ اسی طرح ہے جیسے کہ کوئی کسی کے دروازے پہ جاکر دروازہ کھٹکھٹاکر اس سے اجازت طلب کرے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:"إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ"
ترجمہ: تین مرتبہ اجازت طلب کرو اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ ۔(صحیح مسلم ،کتاب الاستئذان والادب،رقم الحدیث۲۱۵۳)
دروازے پہ اولا سلام نہیں اجازت طلب کرنا ہے جب اجازت مل جائے تو گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام کرنا ہے ۔ ہاں اگر آدمی بالمشافہ ملاقات کرے تو اپنی بات کا آغاز سلام کرے ۔
پہلی روایت ،کلام سے پہلے سلام والی روایت :
حدثنا الفضل بن الصباح بغدادي حدثنا سعيد بن زكريا عن عنبسة بن عبد الرحمن عن محمد بن زاذان عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلمالسلام قبل الكلام وبهذا الإسناد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تدعوا أحدا إلى الطعام حتى يسلم قال أبو عيسى هذا حديث منكر لا نعرفه إلا من هذا الوجه وسمعت محمدا يقول عنبسة بن عبد الرحمن ضعيف في الحديث ذاهب و محمد بن زاذان منكر الحديث (سنن ترمذی:٢٦٩٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سلام کلام سے پہلے کیا جانا چاہیے۔اور اسی سند سے یہ بھی منقول ہے کہ کسی کو اس وقت تک کھانے کے لیے نہ بلاؤ جب تک وہ سلام نہ کرے۔
امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث منکر ہے۔ہم اسے اسی سند سے جانتے ہیں اور میں نے محمد (امام بخاری) سے سنا کہ عنبسہ بن عبد الرحمن ضعیف اور ذاہب الحدیث ہے اور محمد بن زاذان منکر الحدیث ہے۔
گویا امام ترمذی نے بھی اسے منکر قرار دیا ہے۔ شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے (انوار الصحیفہ، ضعیف سنن ترمذی ،٢٦٩٩)
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو (ضعیف الجامع:٣٣٧٣،٣٣٧٤)میں موضوع کہا ہے۔
دوسری روایت :" من بدأ بالكلام قبل السلام ؛ فلا تجيبوه "ترجمہ : جو بغیر سلام کے بات کرے اس کا جواب نہ دو۔
٭ابوحاتم نے اس روایت کو " العلل " ( 2 / 294 / 2390 ) باطل قرار دیا ہے ۔
٭ابوزرعہ نے " العلل " " ( 2 / 332 / 2517 )میں اس حدیث کی کوئی اصل تسلیم نہیں کی ہے ۔
٭ہیثمی نے "المجمع " ( 8 / 32 ) میں کہا کہ اس کی سند میں هارون بن محمد أبو الطيب نامی راوی کذاب ہے ۔
گویا یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور اس سے بھی استدلال نہیں کیا جائے گا۔ اگر صحیح بھی مان لیتے ہیں جیساکہ شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے ، پھر بھی فون اٹھاتے وقت ہیلو یا مرحبا وغیرہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ مثل دروازہ کھٹکھٹانے اور اجازت طلب کرنے کے ہے ۔ یہی موقف شیخ البانی رحمہ اللہ کا ہے جبکہ ان کے سامنے یہ حدیث تھی پھر بھی وہ معنی نہیں لیتے جو سلام سے ابتداء کرنے والے  لوگ لیتے ہیں ۔
فون رسیو کرنے والا کیا کہے اس سے متعلق شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ یہاں ذکر کرنا مفید ہوگا جسے شیخ صالح بن طہ ابوسلام نے اپنی کتاب المانع الجمیل(1/16-17) میں ذکر فرمایا ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ٹیلیفون سے مجھ سے رابطہ قائم کیا اور میں موجود نہیں تھا تو میری چھوٹی بیٹی نے ٹیلیفون کا ریسیوراٹھاتے ہی کہا " السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" ۔شیخ نے میرے متعلق استفسار کیا پھر اس بچی سے کہا کہ اپنے والد کو خبر دینا کہ محمد ناصرالدین البانی نے فون کیا تھا۔اورانہوں نے اپنے لئے شیخ کالفظ استعمال نہیں کیا یہ ان کا تواضع تھا ، اللہ تعالی جنت میں ان کے درجات کو بلند فرمائے ۔
جب میں گھر لوٹا تو میری بچی نے خبر دی کہ ایک آدمی نے فون کیا تھا ان کا نام محمد ناصرالدین البانی ہے، میں نے فورا شیخ کو فون لگایا تو شیخ جو چاہ رہے تھے مجھ سے پوچھنا اس کے متعلق مجھ سے کہا: اے ابو سلام! جب میں نے آپ سے اتصال کیا تو آپ کی چھوٹی بیٹی نے فون اٹھایا اور کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کیا یہ عمل علم ویقین کے ساتھ ہے یا بچی کی طرف سے ذاتی تصرف ہے ؟، اے ابوسلام ہم اس معاملہ میں استفادہ چاہتے ہیں ۔
یہ بات بھی شیخ رحمہ اللہ کے تواضع اور دعوت کی حکمت میں سے ہے ۔
میں شیخ سے کہا : یہ بچی کی طرف سے پہلی بار تصرف ہوا ہے اور جہاں تک اس مسئلہ میں مجھے معلوم ہے وہ یہ کہ ٹیلیفون کا ریسیور اٹھانے والا "نعم" کہے ۔ اور جس نے فون کیا ہے وہ اس سے سلام کرے تب وہ فون کرنے والےکو سلام کا جواب لوٹائے ، نہ یہ کہ (فون اٹھانے والا) سلام سے ابتداء کرے ۔
شیخ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ یہی صحیح ہے جو میں جانتا ہوں، اس لئے کہ فون کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو دروازہ کھٹکھٹاکر(اجازت) طلب کرتا ہے،دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
مکمل تحریر >>