Monday, October 31, 2022

اسلام میں سنت کا مقام

اسلام میں سنت کا مقام
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ ، سعودی عرب
دین اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ایک کامل دین ہے ، اس دین کی بنیاد دو چیزوں پر قائم ہے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری نبی ﷺ کی سنت ۔دین کی حیثیت سے ہمیں انہیں دونوں چیزوں کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ میں اپنے مضمون میں دین کی دوسری بنیاد یعنی سنت کا مقام ومرتبہ واضح کروں گا، اس میں کتاب اللہ کی بھی حیثیت واضح ہوگی کیونکہ قرآن وسنت میں باہمی گہراربط ہے بلکہ سنت قرآن کی ہی تشریح وتفصیل ہے ۔
سنت لغت میں طریقہ کو کہتے ہیں ، طریقہ خواہ اچھا ہو یا برا، دونوں پر سنت کا اطلاق ہوتا ہے ۔ (لسان العرب) اسی معنی میں صحیح مسلم کی حدیث(1017) من سن في الإسلام سنة حسنة(جس نے اسلام میں کوئی اچھا راستہ ایجاد کیا)ومن سن في الإسلام سنة سيئة(اور جس نے اسلام میں برا راستہ ایجاد کیا) وارد ہے۔
سنت شرعی معنی میں "ہر اس قول ، فعل ، تقریر اور وصف کو کہاجاتا ہے جو نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا جائے "۔
اس  شرعی معنی کے اعتبار سے سنت حدیث کے مترادف ہے یعنی ان دونوں الفاظ کا استعمال شرعی اصطلاح میں ایک ہی ہے۔یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ فقہی اصطلاح میں جہاں احکام کو پانچ اقسام (واجب، مندوب، حرام، مکروہ ، مباح) میں تقسیم کیا گیا ہے ، وہاں سنت مندوب(جس حکم کا بجالانا واجب نہ ہو) کے معنی میں مستعمل ہے ۔
اب سنت کی تعریف کی وضاحت کردیتا ہوں تاکہ سنت کا مقام ومرتبہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ چنانچہ سنت کی تعریف میں چار الفاظ وارد ہیں ۔
پہلا لفظ قول: "قول" بولی ، کلام اور گفتگو کو کہتے ہیں ،ا س سے مراد آپ ﷺ کی طرف منسوب ہرقسم کی بولی اور کلام ہے جیسے آپ ﷺ کا قول : انما الاعمال بالنیات(صحیح البخاری:1) یعنی عملوں کا دارومداد نیتوں پر ہے ۔ اسی طرح آپ ﷺ کا قول : صلواکمارایتمونی اصلی(صحیح البخاری:6008) تم اسی طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
چونکہ یہ احادیث قول یعنی کلام سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے ان کو قولی سنت کہی جائے گی۔
دوسرالفظ فعل: "فعل" کا مطلب کام ہے اور اس سے مراد جو بھی کام نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جیسے صحابہ کرام آپ ﷺ کے اعمال، افعال اور عبادات وغیرہ نقل کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ کے فعل میں سے ایک مثال صحیح مسلم(1216) کی وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ منبرپر چڑھ کر نماز پڑھتے ہیں، آپ کے پیچھے صحابہ کرام آپ کی اقتداء کرتے ہیں ۔ اس حدیث میں آپ کا فعل یعنی عمل و کام ذکر کیاگیا ہے تو اس کو فعلی سنت کہیں گے ۔
تیسرالفظ تقریر: اس سے مراد کسی صحابی کا قول یا فعل جو آپ ﷺ کی موجودگی میں ہواہو یا آپ کے سامنے کسی صحابی کا قول یا فعل ذکرکیا گیا ہواور آپ نے اس قول پر یا فعل پر خاموشی اختیار کی ہو یا منع نہیں کیا ہو یا اچھا کہا ہووہ تقریری سنت کہلاتی ہے۔
تقریری سنت کی ایک مثال صحیح ابن ماجہ(954) کی حدیث ہے ۔ نبی ﷺ ایک صحابی کو فجر کی نماز کے بعد دورکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ ان سےکہتے ہیں کہ فجر کی نماز تو دوہی رکعت ہے۔ اس پرانہوں نے جواب دیا کہ میں نے فجر سے پہلے کی دوسنت نہیں پڑھا تھا وہی پڑھا ہوں ۔ اس کے بعد اس حدیث کو بیان کرنے والے کہتے ہیں : "فسکت النبی ﷺ" یعنی نبی ﷺ خاموش ہوگئے ۔ اس طرح  کسی صحابی کے عمل پر نبی ﷺ کا خاموش ہوجانا تقریری سنت کہلاتی ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں ایک بات یہ  معلوم ہوئی کہ فجر کی چھوٹی ہوئی سنت فرض  نماز کے فورابعد پڑھ سکتے ہیں اور بخاری(584)کی  یہ حدیث "نهى عن الصلاةِ بعدَ الفجرِ حتى تَطلُعَ الشمسُ"(رسول اللہ نے  فجر کے بعدنماز پڑھنے سےمنع کیا یہاں تک کہ سورج نکل آئے(   فجر کی سنت کے علاوہ کے لئے ہے یعنی فجر کی چھوٹی ہوئی سنت فرض نماز کے بعد ادا کرسکتے ہیں، دوسری نماز نہیں ۔
ایک دوسری بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ جو لوگ فجر کی فرض نماز کے وقت فرض نماز چھوڑ کر سنت پڑھنے لگ جاتے ہیں وہ سنت کی مخالفت کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کو اس حدیث سے نصیحت لینا اور سنت کے مطابق عمل کرنا چاہئے ۔
اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ایک صحابی بھی اپنی مرضی سے دین پر عمل نہیں کرسکتے ہیں تو پھر عالم یا عام آدمی کیسے سنت کے خلاف عمل کرسکتا ہے ۔
سنت کا معنی ومفہوم جان اچھی طرح جان لینے کے بعد اب سنت کا مقام ومرتبہ جانتے ہیں چنانچہ پہلے قرآن سے چند دلائل پیش کرتا ہوں ۔ قرآن متعدد مقامات پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا ہے ، یہ واجبی حکم ہے یعنی ہمیں واجبی طور پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے ، اطاعت میں اللہ اور رسول کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (الأنفال:20(
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے سے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہمیں اللہ اور اس کے رسول کا حکم معلوم ہوجائے تو پھر اعراض کرنے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا ، بلاچوں چرا حکم الہی اور سنت رسول پر عمل کرنا واجب ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (آل عمران:132(
ترجمہ:اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے میں رحمت ہے ورنہ رحمت الہی سے محروم ہوجائیں گے، اور آج رحمت الہی سے محرومی کا اصل سبب ترک سنت ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران:31)
ترجمہ:کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
ہمارا ہر عمل رضائے الہی کے لئے ہوتا ہے اور یہاں اس آیت میں رضائے الہی کا معیار اتباع رسول بتایا گیا ہے یعنی ہم میں سے جو بھی اپنے عمل میں رضائے الہی کا طالب ہو اسے سنت رسول کی تابعداری کرنی ہوگی ورنہ رضائے الہی کے مستحق نہیں ہوں گے ۔ یہود ونصاری بھی رضائے الہی کی خوش فہمی میں مبتلا تھے بلکہ عیسائی تو عیسی علیہ السلام اور مریم علیہاالسلام کو اللہ سے بھی زیادہ مرتبہ دے کر یہ سوچتے تھے کہ اللہ اس بات سے زیادہ خوش ہوگا مگر عیسائیوں کو بھی حکم ہوا کہ تم رضائے الہی کا طالب ہوتو آخری پیغمبر محمد ﷺ کی اطاعت کرو تبھی اپنے دعوی میں سچے ہوگے ۔ افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلمانوں کو اتنی سیدھی  اور سچی بات سمجھ نہیں آتی ، وہ اتباع رسول کو چھوڑ کر ائمہ ، اولیا اور صالحین کو اپنا پیشوا بناتے ہیں اور بجائے شرمندہ ہونے کے اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے : فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:63(
ترجمہ: سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے ۔
اس آیت کی وضاحت سے پہلے یہ آیت بھی جان کہ رسول کی اطاعت گویا اللہ کی اطاعت ہے ۔ اللہ فرماتا ہے:
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا (النساء:80(
ترجمہ:اس رسول کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالی کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا ۔
ذرا سوچو مسلمانو! محمد ﷺ کی  ہستی وہ ہے جن کی اطاعت ، اللہ کی اطاعت ہے ،  بھلا وہ کیسے مسلمان ہیں جو رسول اللہ کی سنت سے اعراض کرتے ہیں اور دعوی محبت رسول کا کرتے ہیں ۔ میرا ماننا ہے کہ اگر محمد ﷺ حاضر وناظر ہوتے اور آپ کے پاس اختیار ہوتا جیساکہ صوفیوں کا عقیدہ ہے تو آپ ﷺ ان جھوٹے محبین رسول کو ضرور سبق سکھاتے مگر قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح عقیدہ یہ ہے کہ آپ ﷺ وفات پاگئے ہیں، نہ آپ دنیا والوں کی بات سنتے ہیں اور نہ انہیں دیکھتے ہیں اور نہ ہی ان پر  کسی قسم کا اختیار رکھتے ہیں ۔
امام احمد بن حنبل ؒ کہتے ہیں کہ میں نے قرآن میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ تینتیس مقامات پر رسول اللہ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے پھر جب یہ آیت تلاوت کرتے :فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور:63(  تو باربار اس کی تلاوت کرکے اور فرماتے جو نبی ﷺ کی حدیث رد کرے وہ ہلاکت کے دہانے پر ہے ۔
آئیے اور جانتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مخالفت کرنے سے کیسے ہلاکت ومصیبت آتی ہے اورقوم پر عذاب آتا ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ (البقرۃ:65)
ترجمہ:اور بلاشبہ یقینا تم ان لوگوں کو جان چکے ہو جو تم میں سے ہفتے (کے دن) میں حد سے گزر گئے تو ہم نے ان سے کہا ذلیل بندر بن جاؤ۔
اس آیت میں یہودیوں کی ہلاکت اور ان پر اللہ کے عذاب آنے کا بیان ہے جب ان لوگوں نے اللہ کا حکم نہ مانا ۔ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو ہفتہ کے دن مچھلی مارنے سے منع کیا تھا مگر یہ لوگ حیلہ اختیار کرکے مچھلی کھایا کرتے تھے ۔ ان کا حیلہ یہ تھا کہ ہفتہ کے دن مچھلی زیادہ باہر آتی تو وہ لوگ رسی ، جال پھینک کر اور گڑھا کھود کر ان میں مچھلی پھنسا لیتے اور اتوار کو پکڑ لاتے ۔ یہودیوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی  تو آسمان سے ایک آواز آئی بندر بن جاؤ ، یہ لوگ بندربن گئے ۔ سورہ اعراف میں بندر اور خنزیر کا ذکر ہے ، اس بارے میں اہل علم کہتے ہیں ان میں سے جو لوگ جوان تھے بندربنادئے گئے اور جو معمر تھے سور بنادئے گئے ۔ یہ سب پہنچانے بھی جاتے ہیں مگر شکلا بندر وسور تھے ۔ تین دن کے اندر عذاب میں مبتلا یہ سب لوگ ناک رگڑتے رگڑتے مرگئے، ان کی نسل بھی ختم ہوگئی ۔ ان ہلاک ہونے والوں میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ بھی تھے جو حیلہ سے مچھلی تو نہیں پکڑتے تھے لیکن کسی کو منع بھی نہیں کرتے تھے ۔ اللہ کے عذاب سے بچنے والے صرف وہی مومنین تھے جو اللہ کا حکم بھی مانتے تھے اور حیلہ اختیار کرنے والوں کو منع بھی کرتے تھے ۔ مزید تفاصیل کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھ سکتے ہیں ۔
اس واقعہ میں ایک اہم نصیحت تو یہ ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننا چاہئے ، حکم عدولی ہلاکت اور عذاب کا باعث ہے ۔یہاں ان بدعتیوں کو بھی نصیحت لینا چاہئے جو اپنی طرف سے دین میں نئی نئی بدعات ایجاد کرتے ہیں اور حکم رسول کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ ہم سب کو اس بات کو کوشش کرنی چاہئے کہ ہم سنت کے مطابق عمل کریں نیز سنت کے خلاف بدعات پر عمل کرنے والوں کو بھی روکیں ، یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے ورنہ ہم بھی عتاب کے شکار ہوسکتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے جو کوئی منکر(برائی) کو دیکھے تو ہاتھ سے اسے مٹائے ، اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے نصیحت کرے اور زبان سے نصیحت نہیں کرسکتے تو کم ازکم دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے ۔ (صحیح مسلم:49)
ہمیں ایمان کے طاقت وردرجہ پرقائم ہونا چاہئے اس لئےیا ہاتھ سے شرک وبدعت کو مٹائیں یا زبان سے منع کریں جیساکہ ہم دنیاوی معاملات میں کرتے ہیں ، جب ہمیں کوئی گالی دیدے اسے یاتومارتے ہیں یا ہم زبان سے کچھ کہتے ہیں ۔ جب اپنی ذات کے لئے ایسی غیرت ہے تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے اور سنت کی جگہ بدعت کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ خاموشی کیوں ؟ ہاتھ نہیں پکڑ سکتے تو کم ازکم زبان کا استعمال کرکے حق ان پر واضح کردیں۔  
قرآن میں ہم نے سنت کا مقام دیکھ لیا ، اب چند احادیث دیکھتے ہیں ۔ صحیح بخاری(5063) میں یہ واقعہ مذکور ہے ، جب تین صحابہ کرام علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمروبن العاص اور عثمان بن مظعون رضوان اللہ علیہم ازواج مطہرات کی خدمت میں حاضر ہوکر رسول اللہ کی عبادات کےبارے میں دریافت کررہے تھے تو انہوں نے اپنے عملوں کو کم جانااس لئے ان میں سے ایک نے کہا اب ہم رات بھر عبادت ہی کریں گے، دوسرے نے کہا مسلسل روزہ ہی رکھیں گے اور تیسرے نے کہا کہ شادی نہیں کریں گے ۔ جب رسول کو ان باتوں کی خبرہوئی تو آپ نے ان صحابہ کرام سے فرمایا: "فمن رغب عن سنتي فليس مني" جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں ہے ۔ گویا کہ دین پر عمل کرنے میں اصل اعتبار سنت کا ہوگا، جو سنت سے ہٹ کر ہو چاہے وہ نماز یا روزہ ہی کیوں نہ ہومردود وباطل ہے ۔
اسی طرح یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں جو موطا امام مالک اورمستدرک حاکم میں موجود ہے اور شیخ البانی ؒ نے اسے مشکوۃ کی تخریج میں حسن قرار دیا ہے ۔
تركتُ فيكم أمرينِ ؛ لن تَضلُّوا ما إن تمسَّكتُم بهما : كتابَ اللَّهِ وسُنَّتي۔
ترجمہ:میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہا ہوں ، اگر تم ان دونوں چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت ۔
ان کے علاوہ بے شمار دلائل ہیں مگر چند پر ہی اکتفا کرتاہوں جوحجت وثبوت کے لئے کافی ہیں ۔ ان سب دلائل سے واضح ہے کہ مسلمانوں کو رسول اللہ کی سنت پر عمل کرنا واجب وضروری ہے بلکہ قرآن نے تو صراحت کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ رسول اللہ یعنی محمد ﷺ ہی تمارے لئے بہترین نمونہ ہیں ۔اس لئے آپ ﷺ کو چھوڑ کر کسی کو اپنا امام وپیشوا نہیں بنایا جائے گا۔ 
سنت رسول کی مخالفت سے اعمال ضائع وبرباد ہوجاتے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ (محمد:33(
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عملوں کو برباد نہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔
ان دونوں دلیلوں سے معلوم ہواکہ سنت کا اس قدر مقام ہے کہ اس کے برخلاف عمل کرنے سے عمل ضائع ہوجاتا ہے ، وہ اللہ کے یہاں قبول نہیں کیا جاتا ۔امام شافعی ؒ کا قول ہے  کہ لوگوں کا اتفاق ہے کہ جب سنت رسول واضح ہوجائے تو کسی کے قول سے اسے چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔(الروح لابن القیم )
امام صاحب کی اس بات کو ذرا مثالوں سے سمجھتے ہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ہرقسم کی بدعت گمراہی ہے ۔یہ فرمان سنت رسول میں واضح ہے ، اب اگر کوئی یہ کہے کہ بعض قسم کی بدعت جائز ہے ، اچھی ہے، اس پر عمل کرسکتے ہیں تو یہ جھوٹ ہے ، خلاف سنت ہے اور جو خلاف سنت ہے وہ مردودوباطل ہے۔اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے : لو كنتُ آمرًا أحدًا أن يسجُدَ لأحدٍ ، لأمرتُ المرأةَ أن تسجُدَ لزوجِها(صحيح الترمذي:1159(
ترجمہ:اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
اس  حدیث سے ایک سنت واضح ہوگئی کہ اللہ کے علاوہ  سجدہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے لہذا کسی قبر کوسجدہ کرنا، کسی مورتی کو سجدہ کرنا اور کسی پیرومرشد کو سجدہ کرنا غلط ہے۔ اگر کوئی غیراللہ کے سجدہ کی طرف بلائے تو سنت رسول کو چھوڑ کر اس کی بات نہیں مانی جائے گی ۔
مذکورہ بالا سطور سے ہمیں سنت  کا اعلی مقام معلوم ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سنت کا دامن تھامنا ہی عمل کی قبولیت کا معیار ہے ، جو سنت کو چھوڑ دیتے ہیں ان کا عمل برباد بلکہ وہ عذاب وعتاب کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ اب آپ کو سنت کی پیروی کا سب سے بڑا انعام اور سنت ترک کردینے کا سب سے بڑا نقصان بتاتا ہوں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟، قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى(صحیح البخاری:7280(
ترجمہ:ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا:جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔
یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ سنت کی اس قدر اہمیت و فضیلت ہے کہ سنت پر عمل کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا ، اور جو سنت کو ترک کردے گا اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اس میں سنت پرعمل کرنے والوں کے لئے بڑا انعام بتایا گیا ہے اور سنت چھوڑنے والوں کو بڑی سزا سنائی گئی ہے ۔
اب جس کو رسول سے سچی محبت ہوگی وہ سنت پر عمل کرے گا، جس کو عمل میں رضائے الہی مطلوب ہوگی وہ سنت پر عمل کرے گا ، جو اپنے عمل کو ضائع ہونے سے بچانا چاہے گا وہ سنت پر عمل کرے گا اور جو جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ سنت پر عمل کرے گا۔ جس کو یہ سب فائدے نہیں چاہئے ، نہ رسول کی سچی محبت چاہئے، نہ رضائے الہی چاہئے، نہ عمل کی مقبولیت چاہئے اور نہ جنت چاہئے وہ سنت کو چھوڑ کر اپنی مرضی سے چلے گا، بدعت و گمراہی کا راستہ اختیار کرے گا۔
اللہ ہم کو سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے اور شرک و بدعت سے ہمیں بچائے ۔ آمین
 
مکمل تحریر >>

Monday, March 18, 2019

حدیث :میری سنت اور خلفاء کی سنت کولازم پکڑو –مفہوم وتقاضے


حدیث :میری سنت اور خلفاء کی سنت  کولازم پکڑو –مفہوم وتقاضے

مقبول احمد سلفی
دفترتعاونی برائے دعو ت وارشاد -طائف

دین اسلام اسی وقت مکمل ہوچکا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے، اسلام کی تکمیل کے بعد اس میں ایک بات بھی اپنی جانب سے داخل کرنا نئے امور میں سے ہے جن کے متعلق نبی نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے اور ہر قسم کی بدعت موجب جہنم ہے ۔جب  آپ کے بعد دین میں کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنا، نئی بات پیدا کرنااور کسی قسم کی نئی فکر گھڑنا سراسر گمراہی ہے تو پھر ہدایت یافتہ خلفائے راشدین  اور تمام صحابہ کرام اس معاملے میں کس قدر محتاط ہوں گے ؟ ۔ ان کے متعلق جو کچھ اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں وہ نصوص کی فہم میں اختلاف اور اجتہاد کا نتیجہ ہے۔ آئیے  ایک مشہور حدیث کا صحیح معنی ومفہوم جانتے ہیں  جس کو سمجھنے میں بہت سے لوگوں نے یا تو خطا کی ہے یا جان بوجھ کر عوام میں غلط فہمی پیدا کی جارہی ہے ۔
حدیث اور اس کا ترجمہ :
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا ، قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي ، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " .
ترجمہ: عرباض بن ساریہ سے روایت ہے، انھوں نے یہ بیان کیا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ایک نہایت موثر خطبہ دیا جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور دل کانپ اٹھے۔ مجمع میں سے کچھ اصحاب نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول :یہ تو ایک وداعی خطبہ معلوم ہوتا ہے تو ہمیں کچھ وصیت کیجیے۔ آپ نے فرمایا: میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے صاحب امر کی بات ماننے اور اس کی اطاعت کرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تمھارا صاحب امر کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے، وہ اب اور تب میں بڑا فرق محسوس کریں گے تو تم میری سنت کی اور ہدایت یافتہ خلفاے راشدین کی سنت کی پیروی کرنا، اس کو مضبوطی سے تھامنا اور دانت سے پکڑنا اور دین میں جو نئی باتیں گھسائی جائیں، ان سے خبردار رہنا، کیونکہ ہر ایسی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
تخریج : سنن الترمذي: 2676، سنن أبي داود:4607، صحيح ابن حبان:5، ابن ماجہ :43،44،مسند احمد :16692، 16694، مشکوٰۃ المصابیح 165 ، مستدرک علی الصحیحین:334، سنن دارمی وغیرہ
حکم : جب حدیث بخاری ومسلم کے علاوہ کی کتاب سے ہو تو اس کا حکم جاننا ضروری ہوتاہے کیونکہ صحیحین کے علاوہ تمام کتب حدیث میں صحیح کے ساتھ ضعیف احادیث بھی ہیں ۔ عرباض بن ساریہ کی مذکورہ حدیث کی سند میں کوئی علت نہیں ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔ اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح ترمذی ، صحیح ابوداؤد،صحیح ابن ماجہ ، سلسلہ صحیحہ وغیرہ میں، شیخ الاسلام نے مجموع الفتاوی میں ، ابن الملقن نے البدرالمنیرمیں،ابن حبان نے اپنی صحیح میں،حافظ ابن حجرنے موافقۃ الخبرالخبرمیں،ابن عبدالبرنے جامع بیان العلم میں، شعیب ارناووط نےابوداود ، مسند احمد،صحیح ابن حبان اور ریاض الصالحین وغیرہ کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے۔ بعض محدثین نے اسے حسن بھی کہا ہے بہرحال یہ حدیث قابل حجت ہے ۔
حدیث کی شرح :اس میں تین الفاظ وضاحت طلب ہیں، پہلے ان کی وضاحت کردیتا ہوں  تاکہ حدیث کا صحیح مفہوم سامنے آسکے ۔
(1)سنت: سنت کا لغوی معنی’راستہ‘یا ’طریقہ‘ہے ۔
محدثین کے نزدیک سنت اور حدیث قریباً مترادف ہیں ۔سنت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال،افعال،تقریرات اورپیدائشی و اکتسابی اوصاف کا نام ہے ۔جبکہ ان چاروں چیزوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت حدیث کہلاتی ہے ۔گویا سنت صرف محمد ﷺکےطریقہ حیات کانام ہے۔
(2)بدعت : لغوی طور پر بدعت کا معنیٰ ہےکسی چیز کا ایسے طریقے سے ایجاد کرنا جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہوجبکہ اصطلاحاً بدعت کہتے ہیں شریعت میں کوئی نئی چیز گھڑ لینا جس کی قرآن و سنت میں کوئی دلیل نہ ہو۔
سنت کا حکم اسی حدیث میں ہے ۔۔۔۔علیکم بسنتی  یعنی نبی کی سنت کو ہر حال میں لازم پکڑنا ہےخواہ اختلاف کا زمانہ ہو یا امن وسکون کا۔
بدعت کا بھی حکم اسی حدیث سے مل جاتا ہے :وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ یعنی دین میں نئی بات ایجاد کرنا بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانےوالی ہے ۔
(3)خلافت : اس حدیث میں خلفائے راشدین سے مراد حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں جن کا زمانہ خلافت تیس سالوں کو محیط ہے جیساکہ صحیح حدیث میں مذکور ہےنبی ﷺکافرمان ہے: خلافةُ النبوةِ ثلاثونَ سنةً، ثم يؤتي اللهُ الملكَ، أو ملكَه، من يشاءُ(صحيح أبي داود:4646) حسن صحيح
ترجمہ: نبوت والی خلافت تیس سال رہے گی پھر جسے اللہ چاہے گا(اپنی ) حکومت دے گا۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح ابوداؤد میں حسن صحیح قرار دیا ہے ۔ راوی حدیث سفینہ ابوعبدالرحمن مولی رسول اللہ ﷺتیس سال کی خلافت اس طرح بیان کرتےہیں۔ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کےدوسال،عمرفاروق رضی اللہ عنہ کےدس سال،عثمان رضی اللہ عنہ کےبارہ سال اورعلی رضی اللہ عنہ کےچھ سال ہیں۔
حدیث کا مفہوم : اللہ کا تقوی اختیار کرنے کے ساتھ اس حدیث میں اختلاف وانتشار اور گمراہی سے بچنے کا علاج بتلایاگیا ہے وہ یہ ہے ہرحال میں حاکم کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے ،اسی طرح اللہ کی زمین پر اس کے دین کو قائم کرنے والے  خلفاء راشدین یعنی خلفاء اربعہ حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت علی اور حضرت عثمان کی سنت کو تھاماجائے کیونکہ یہ لوگ سنت رسول اللہ ﷺ پر ہی چلنے والے تھے اور دین میں نئی باتوں کو ایجاد سے بچیں کیونکہ ہرنئی چیز بدعت یعنی گمراہی ہے اورہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔
سنت رسول اللہ اور سنت خلفاء : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی الگ سنت ہے اور خلفاء اربعہ کی الگ سنت ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں ایک ہی سنت کا نام ہے جو سنت نبی ﷺ کی ہے وہی سنت خلفاء کی بھی ہے انہوں سے دین میں اپنے تئیں کوئی سنت ایجاد نہیں کی جو بعض امور خلفاءکی طرف سے نئے قسم کے ملتے ہیں وہ ان کے اجتہادات ہیں ۔ خلفاء اربعہ کا بہت اونچامقام ہے ، اللہ تعالی نے ان چاروں کو عشرہ مبشرہ میں سے بنایاہے مگر پھربھی انسان ہیں ، بحیثیت انسان خلیفہ سے یا کسی بھی صحابی سے غلطی کا امکان ہے ۔ ان بعض غلطیوں کی وجہ سے ان کے مقام ورتبہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا جیساکہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ما ضرَّ عثمانَ ما عَمِلَ بعدَ اليومِ مرَّتينِ(صحيح الترمذي:3701-حسن)
ترجمہ: آج کے بعد جو بھی عثمان کرے ان کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوگا۔ دومرتبہ فرمایا۔
اسے شیخ البانی نے صحیح ترمذی میں حسن کہاہے ۔
خلفاء کی سنت لازم پکڑنے سے متعلق محدثین اور اہل علم کے نظریات:
(1) علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے کہا: خلفاء کی اسی سنت کی اتباع کی جائے گی جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ۔ (السلسلة الضعيفة 1/51-53)
(2)علامہ صنعانی رحمہ اللہ نے کہا کہ خلفاء راشدین کی سنت سے مراد وہی طریقہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے طریقہ سے موافقت رکھتا ہودشمنوں سے جہاد کرنے اورشعائراسلام کو تقویت پہنچانے کے لئے ۔یہ حدیث ہرخلیفہ راشد کے لئے عام ہے اسے شیخین کے ساتھ خاص نہیں کیاجائے گااور قواعد شرعیہ سے یہ بات معلوم ہے کہ کوئی بھی ایسا خلیفہ راشد نہیں ہے جو نبی ﷺ کے طریقہ سے ہٹ کر شریعت جاری کرے ۔ (سبل السلام 1/493)
(3) ابن حزم رحمہ اللہ نے الاحکام فی اصول الاحکام میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں تین باتوں کا احتمال ہے ۔
٭ خلفاء جن باتوں میں اختلاف کریں ساری باتیں سنت سمجھ کرلے لی جائیں اور یہ امر محال ہےکیونکہ کچھ موافق باتیں ہیں تو کچھ ان کے برعکس ۔
٭یا یہ کہ ان مخالف باتوں میں جسے چاہیں اختیار کریں تو یہ ان کی سنت کی اتباع کے منافی ہے ۔
٭ اب ایک ہی راستہ بچا وہ یہ کہ جن میں صحابہ کا اجماع ہے انہیں لے لیا جائے اور خلفاء کا اجماع صحابہ کے اجماع سے الگ چیز نہیں ہے ۔
(4) امام شوکانی رحمہ اللہ نے الفتح الربانی میں کہا ہے کہ سنت ہی طریقہ ہے کہاگیا کہ میرا طریقہ اور خلفاء راشدین کا طریقہ لازم پکڑو۔ان خلفاء کا طریقہ وہی تھاجو نبی ﷺ کا ہے وہ لوگ طریقہ نبوی کے بیحد حریص تھے اور ہرچیز میں سنت پر عمل کرتے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی سنت کی مخالفت سے ہرحال میں بچتے تو بڑے معاملات کا کیا حال ہوگا؟ اور جب ان کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے دلیل نہیں ملتی توبحث وتحقیق، مشورہ اور تدبر کے بعد جو رائے ظاہر ہوتی اس پر عمل کرتے توسنت کی عدم موجودگی میں یہ رائے بھی حجت ہے جیساکہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہے ۔ {معاذ بن جبل والی یہ حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے ۔}
ان چند اقوال علماء سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خلفاء کا طریقہ وہی ہے جو نبی ﷺ کا طریقہ ہے البتہ خلفاء راشدین کی وہ باتیں جن کی سنت سے دلیل نہیں یا جو قرآن وحدیث کے دیگر نصوص سے ٹکراتی ہوں اسے چھوڑدیا جائے گا لیکن جن پر صحابہ کرام کا اجماع ہے وہ ہمارے لئے دلیل وحجت ہے ، اسی طرح صحابہ کے وہ اقوال بھی ہمارے لئے حجت ہیں جو نصوص شرعیہ سے متصادم نہ ہوں ۔
خلفاء کی سنت نبی ﷺہی کی سنت ہے ؟
صحابہ کرام یا خلفاء راشدین کا طریقہ وہی ہے جو نبی ﷺ کا ہے ، صحابہ زندگی کے تمام معاملات کا حل کتاب وسنت میں تلاش کرتے ۔ کسی خلیفہ راشدنے الگ سے کوئی طریقہ ایجاد نہیں کیاہے بلکہ وہ تو ہم سےکئی گنا زیادہ کتاب وسنت پر عمل کرنے کے حریص تھے ۔ اس  حدیث میں موجودسنتی اور سنۃ الخلفاء  کے الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ دھوکہ ہوگیا یا بعض لوگ جان بوجھ کر دھوکہ کھارہے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنتیں ہیں  بلکہ سنۃ الخلفاء سے تقلید کی دلیل لی جاتی ہے جبکہ یہ مطلب بالکل غلط ہے ۔
اس حدیث کو قرآن کی ایک آیت سے سمجھیں ، اللہ تعالی کا فرمان ہے :
أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (البقرة:133)
ترجمہ: کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا ۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ۔ تو انہوں نے کہا ہم آپکے الہ , اور آپکے آباء ابراہیم , اسماعیل اور اسحاق کے الہ کی عبادت کریں گے , جو کہ ایک ہی ا لہ ہے اور ہم اسکے لیے فرمانبردار ہونے والے ہیں ۔
یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے باپ کو جواب دیا کہ ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباء ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے ، تو کیا یعقوب علیہ السلام ، ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ اور اسحاق علیہ السلام کے معبود الگ الگ تھے ؟ نہیں ہرگز نہیں ان سب کا معبود ایک تھا۔ ٹھیک اسی طرح سے خلفاء کی وہی سنت ہے جو نبی ﷺ نے پیش کی ہے ۔
ہوبہو یہی بات سورہ فاتحہ میں کہی گئی ہے" اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" پہلے صراط مستقیم کہا گیاپھر اسی صراط کو انعمت علیھم سے جوڑا گیا یعنی وہ لوگ  جن پر اللہ کی نعمت نازل ہوئی ۔
ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے :
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا (النساء : 115)
ترجمہ: اور جو رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ ہدایت اس پر واضح ہوچکی اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلے تو ہم اسے وہیں پھیر دیتے ہیں جہاں وہ خود پھرتا ہے اور پھر اسے جہنم میں پہنچائیں گے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
اس آیت میں رسول کے طریقہ کو مومنوں کا طریقہ کہا گیا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خلفائے راشدین کا طریقہ رسول کا ہی طریقہ ہے کیونکہ تمام مومنوں کو وحی الہی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔
اس بات کو حدیث عرباض بن ساریہ سے بھی بآسانی سمجھ سکتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ دین میں نئی بات پیدا کرنا بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ بھلا خلفائے راشدین اپنی طرف سے دین میں نئی بات کیسے گھڑیں گے جبکہ انہیں معلوم ہے کہ مومنوں کو وحی الہی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیروی کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول چھوڑا تھا۔ فرمان الہی ہے:
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ (الاعراف:3)
ترجمہ:تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو ۔
فرمان نبوی ہے :
ترَكْتُ فيكم أَمرينِ ، لَن تضلُّوا ما تمسَّكتُمْ بِهِما : كتابَ اللَّهِ وسنَّةَ رسولِهِ{أخرجه مالك في الموطأ:2/899)
ترجمہ: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں ، تم ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے جب تک ان دونوں کو تھامے رہوگے ، وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے مشکوۃ کی تخریج میں حسن قرار دیا ہے ۔ {تخريج مشكاة المصابيح:۱۸۴}
خلفائے راشدین ہدایت یافتہ تھے، وہ دین کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے اور اپنے من سے ذرہ برابر بھی نہیں بولتے تھے ۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ابتدائے خلافت میں بعض لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر نے فرمایا:
واللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَن فَرَّقَ بيْنَ الصَّلَاةِ والزَّكَاةِ، فإنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ المَالِ، واللَّهِ لو مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إلى رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ علَى مَنْعِهِ{صحيح البخاري:۷۲۸۴}
ترجمہ:واللہ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، واللہ! اگر وہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکار پر بھی جنگ کروں گا۔
ارتداد کے وقت اگر اپنی سنت جاری کرتے تو حضرت عمر کی طرح نرم گوشہ اختیار کرتے مگر انہوں نے رسول اللہ کی سنت جاری کی ۔
اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ قول سونے سے لکھے جانے کے قابل ہے جس میں حجر اسود کو بوسہ دیتےوقت فرمایا گیا ہے:
«أَمَ وَاللهِ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ»(صحيح مسلم:1270)
ترجمہ:ہاں ،اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے،اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں(کبھی) بوسہ نہ دیتا۔
خلفاء راشدین اور سنت  رسول کے درمیان اختلاف کا حکم
بلاشبہ خلفائے راشدین کے بعض اجتہادات سنت رسول کے مخالف نظر آتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انہیں مجتہد مانتے ہیں ، ہمارے  لئے شارع صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ گویا معصوم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اورخلفاء  مجتہدہیں جو معصوم نہیں ہیں ۔ ان سے خطا کا امکان ہوتا ہے اسی امکان کے سبب بعض معاملات میں اختلاف نظر آتا ہے۔ دین کے معاملے میں جہاں اختلاف نظر آئے وہاں اختلاف کو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی طرف لوٹانا چاہئے ۔ اللہ نے ہمیں ایساہی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (النساء:59)
ترجمہ:اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالٰی کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ اللہ تعالٰی کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اگر تمہیں اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے ۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبارِ انجام کے بہت اچھا ہے ۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے صاف صاف فرمادیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو ، کتاب وسنت کو نافذ کرنے والے حکام کی بھی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اختلاف کے وقت حاکم وخلیفہ کی بات چھوڑ دی جائے گی ،اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی جائے گی ۔
اجتہادی اقوال کی شرعی حیثیت :
اوپر ذکر کیا گیا کہ حدیث کہتے ہیں ہر وہ قول ، فعل ،تقریر یا صفت جو نبی ﷺکی طرف منسوب ہو ۔ اگر نسبت صحیح ہوئی تو حدیث صحیح ہوتی ہے ورنہ ضعیف ہوتی ہے۔
اس تعریف میں تقریر کا لفظ آیا ہے اس سے مراد صحابہ کا قول یا فعل جس کا علم نبی ﷺ کو ہوا ہو اور آپ ﷺ نےاس قول یا فعل پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ خاموشی اختیار کی ۔ گویا ایسا کوئی عمل صحابی یا قول صحابی جس پر رسول اللہ ﷺ نے خاموشی اختیار کی ہو وہ حدیث ہی کہلاتی ہے اگر اس تقریری حدیث کی سند صحیح ہو تو دین میں حجت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے صرف اپنی اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ ان دونوں کے ماسوا دین میں کسی کی بات قابل حجت نہیں ہے تاہم محض وہ اجتہادی مسائل جن میں شریعت خاموش ہواور صحابی کا قول یا فعل صحیح سند سے ثابت  ہورہا ہو تو اسے اختیار کیا جائے گا  بشرطیکہ شریعت کے کسی نص سے نہ ٹکراتا ہو، ان کا اجتہاد بعد والوں کے اجتہاد سے بہتر ہے بلکہ صحابہ کے وہ اقوال جن میں اجتہاد کا دخل نہ ہو تو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے ۔
اجتہاد کا دائرہ تو وسیع ہے ، اس کا دروازہ قیامت تک کھلا ہوا ہے ،جدید قسم کے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور علمائے امت ان میں اجتہاد کرتے رہیں گے جن کا اجتہاد دلائل سے قوی ہوگا اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں ہے ۔ ائمہ اربعہ کے اجتہاد کا بھی یہی حکم ہے ۔ ان کے جو اجتہاد کتاب وسنت کے خلاف ہیں انہیں رد کردیں دراصل ان مسائل میں ائمہ کا بھی یہی موقف ہے اور جو مسائل کتاب وسنت سے نہیں ٹکراتے ان میں جس امام کا فتوی دلائل سے قوی معلوم ہو اختیار کرلیا جائے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم صرف ایک امام کے ہی اجتہاد لیں گے ، نہیں ۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ تقلید جائز نہیں ہے۔ سارے ائمہ ہمارے اپنے ہیں، ان سب کو اللہ نے دین میں بصیرت وفقاہت عطا فرمائی، استفادہ علم میں کسی ایک کی تخصیص اوردوسرے ائمہ سے صرف نظر کرنا سراسر زیادتی اور دوسرے ائمہ کی فقاہت وبصیرت اور حکمت ودانائی سے چشم پوشی کرناہے ۔ تمام ائمہ کا احترام ، ان کے اجتہادات سے استفادہ بلکہ ان کے علاوہ قیامت تک جو فقیہ ومجتہد پیدا ہوتے رہیں  گےتمام سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ اللہ تعالی جسے چاہتا ہے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, July 4, 2017

کیا عبادالرحمن نام رکھنا درست ہے ؟

کیا عبادالرحمن نام رکھنا درست ہے ؟

مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر- طائف

عباد کا لفظ تین معانی پر مشتمل ہے ۔
(1)  پہلا لفظ عِبَاد عین کے کسرہ اور باء کے زبر کے ساتھ : یہ عبد کی جمع ہے ،اس کے معنی بندے کے ہیں ۔ اورعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ کا معنی ہوگا اللہ کے بندے۔ قرآن میں اس کا ذکر آیا ہے ۔
وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا (الفرقان:63)
ترجمہ: رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔
(2) دوسرا لفظ عَبَّادعین کے زبر اور باء کے تشدید کے ساتھ : یہ مبالغہ کا صیغہ ہے ، عَبَّادُالرَّحْمَٰن کا معنی ہوگا اللہ کی بہت زیادہ عبادت کرنے والا۔
(3) تیسرا لفظ عُبَّاد عین کے پیش اور باء کے تشدید کے ساتھ : یہ عابد کی جمع ہے۔عُبَّادُالرحمن کا معنی ہوگا اللہ کی عبادت کرنے والے ۔
معنی کے لحاظ سے تینوں نام عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ، عَبَّادُالرَّحْمَٰن اور عُبَّادُالرحمن اچھے ہیں مگر ایک نام عَبَّادُالرَّحْمَٰن زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ مفرد کا صیغہ ہے اور بقیہ  دوجمع کے صیغے ہیں جبکہ نام رکھنے والا اکیلا ہوتا ہے ۔ اگر عبدالرحمن رکھا جائے توا ور بھی اچھا ہے ،وہ اس وجہ سے کہ حدیث میں آیا ہے سب سے اچھا نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہے چنانچہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ(صحیح مسلم: 2132)
ترجمہ: تمہارے ناموں میں اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہے ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, November 19, 2014

سنت و مستحب اور نفل مع واجب

سنت و مستحب اور نفل مع واجب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنت ،مستحب اور نفل ایک ہی چیز کے تین نام ہیں۔یعنی ہر وہ عمل جس کا شارع نے حکم دیا ہو ،لیکن اس کی تاکید نہ فرمائی ہو۔

رہا معاملہ فرض وواجب کا ، تولغت میں واجب ’ثابت ‘ اور ’لازم‘ کو کہتے ہیں،

اور اصطلاح میں واجب اس حکم کو کہتے ہیں جس کے سرانجام دینے والے کو فرمانبرداری کی وجہ سے ثواب ملے اور چھوڑنے والا سزا کا مستحق ٹھہرے۔

فرض اور واجب میں جمہور اہل علم کے ہاں کوئی فرق نہیں ہے۔صرف احناف فرق کرتے ہیں۔احناف کے ہاں ہر وہ حکم جو قطعی ذریعہ سے حاصل ہو وہ فرض ہے اور جو ظنی ذریعہ سے حاصل ہو واجب ہے۔

واللہ اعلم بالصواب



مکمل تحریر >>

Wednesday, May 28, 2014

کتاب وسنت پر عمل کرنا واجب ہے

کتاب وسنت پر عمل  کرنا واجب ہے

س۱:- الله تعالیٰ نے قرآن مجید کو کیوں نازل فرمایا؟
ج۱:- تاکہ اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ۔ بدلیل:
فرمان الٰہی:- اتَّبِعُوْا مَا أُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُمْ ۔ (اعراف:۳)
لوگو! جو کچھ تمہارے رب کی طر ف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ ودلیل :
حدیث نبوی:- اقرأوٴا القراٰن واعملوا بہ ولا تأکلوا بہ۔ (صحیح ،احمد)
قرآن پڑھواور اس پر عمل کرو ،اور اسے ذریعہ معاش نہ بناوٴ۔


س۲:- لوگوں کے لیے قرآن نے سب سے اہم کون سی چیز کو بیان کیا ہے ؟
ج۲:- قرآن کی بیان کروہ سب سے اہم چیز خالقِ کائنات کی معرفت ہے ،(جو نعمتوں سے نوازتا ہے ،تن تنہا عبادت کا مستحق ہے) نیز ان مشرکین کی تردید ہے ،جو اپنے اولیاء کے بت بناکر انہیں پکارتے تھے۔
فرمان الٰہی:- قُلْ اِنَّمَا اَدْعُوا رَبِّی وَلَا اُشْرِکُ بِہ أَحَدًا ۔ (جن:۲۰)
اے نبی: کہو کہ ”میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا“۔

س۳:- تلاوت قرآن کی غرض وغایت کیا ہے؟
ج۳:- ہم قرآن کی تلاوت اس لیے کرتے ہیں تاکہ اسے سمجھیں ،اس میں غور وفکر کریں ،اور اس پر عمل کریں ۔ بدلیل:
فرمان الٰہی:- کِتَٰبٌ أَنْزَلْنَٰہُ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا ءَ ایَٰتِہ وَلِیَتَذَکَّرَ أُوْلُوا الأَلْبَٰبِ ۔ (سورةص:۲۹)
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے نبی )ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل وفکر رکھنے والے اس سے سبق لیں حضرت علی رضی الله عنہ سے مرفوعا وموقوفا ضعیف سند سے مروی ہے لیکن معنی صحیح ہے اور وہ درج ذیل فرمان نبوی ہے ۔
ألا انہا ستکون فتن قلت وما المخرج منھا؟ قال کتاب الله ، فیہ نبأما قبلکم وخبر بعدکم وحکم ما بینکم ھو الفصل لیس بالہزل ، وھوالذی من ترکہ من جبار قصمہ الله ومن ابتغی الھدی بغیرہ أضلہ الله ، فھو حبل الله المتین وھوالذکر الحکیم وھوالصراط الستقیم وھوالذی لاتزیغ بہ الأھواء ولا تلبس بہ الألسن ، ولا یشبع منہ العلماء ، ولا یخلق عن کثرة الرد ولا تنقضی عجائبہ وھوالذی لم ینتہ الجن اذ سمعتہ أن قالوا : اِنَّا سَمِعْنَا قُراٰنًا عَجَبًا۔(جن:۱)
(
آپ نے فرمایا ) خبردار! آگے چل کر بہت سے فتنے کھڑے ہونگے میں نے کہا ،ان سے ذریعہ نجات کیا ہوگا ،آپ نے فرمایا ،الله کی کتاب اس میں متقدمین ومتاخرین کی خبریں ہیں ،تمہارے معاملات کے فیصلے ہیں،وہ فیصلہ کن ہے ،خلاف حقیقت نہیں ،جس جابر وظالم نے اسے چھوڑا ،اسے الله نے برباد کردیا ،جس نے غیر قرآن سے ہدایت چاہی ،اسے الله تعالیٰ نے گمراہ کردیا،وہ الله کی مضبوط رسی ہے ،حکمتوں سے پرنصیحت ہے وہی صراط مستقیم ہے ،اسی کے ذریعہ خواہشات بہکتیں نہیں ،زبانیں بآسانی اسے پڑھ لیتی ہیں ،علماء اس سے بیزا ر نہیں ہوتے ،باربار دہرانے سے پرانی نہیں ہوتی ،اس کے عجائبات نہیں ختم ہونگے ‘وہی ہے جسے سن کرجنات یہ کہنے سے باز نہیں رہے اِنَّا سَمِعْنَا قُراٰنًا عَجَبًا۔(جن:۱)“ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے ،جس نے قرآن کی روشنی میں کوئی بات کہی ،سچ کہا ،جس نے اس کے ذریعہ فیصلہ کیا ،انصاف کیا جس نے اس پر عمل کیا مستحق اجر ہوا جس نے اس کی جانب دعوت دی ،صراط مستقیم کو پالیا۔

س۴:- قرآن مجید زندوں کے لیے ہے یا مُردوں کے لیے ؟
ج۴:- الله تعالیٰ نے قرآن مجید کو مُردوں کے بجائے زندوں کے لیے نازل فرمایا ہے تاکہ اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں ،اس لیے کہ مُردوں کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں وہ اسے پڑھ نہیں سکتے ،نہ عمل کرسکتے ہیں اور اگر ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی جائے ،تو اس کا ثواب بھی نہیں ملے گا ،ہاں اگر پڑھنے والا مُردے کا لڑکا ہو تو دوسری بات ہے ،اس لیے کہ لڑکا باپ کی کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔
قرآن مجید کے بارے میں فرمان الٰہی ہے:
لِّیَنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا وَ یَحِقَّ القَوْلُ عَلَی الکَٰفِرِیْنَ ۔ (یٰسٓ)
تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کردے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پرحجت قائم ہوجائے َ بدلیل:
فرمان الٰہی:- وَأَنَّ لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعَیٰ ۔ (نجم :۳۹)
اور یہ کہ انسان کیلئے کچھ نہیں ہے ،مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی ہے امام شافعی رحمہ الله نے اس آیات سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ مردوں کو قرآن خوانی کا ثواب نہیں ملے گا ، اس لیے کہ وہ نہ تو ان کا عمل ہے اور نہ ہی ان کی کمائی۔ دلیل:
حدیث نبوی:- اِذا مات الانسان انقطع عملہ الا من ثلاث صدقة جاریة أو علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعو لہ ۔
جب انسان مرجاتاہے تو تین چیزوں کو چھوڑ کر اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔صدقہ جاریہ یا نفع بخش علم یا نیک لڑکا جو باپ کیلئے دعاء کرے۔ (مسلم)
رہی میت کیلئے دعاء اور صدقہ کرنے کی بات، تو ان کا ثواب میّت کو پہونچے گا،جیسا کہ صاحب شریعت نے آیات واحادیث کے ذریعہ اس کی صراحت کردی ہے۔

س۵:- صحیح حدیث پر عمل کرنے کی کیا حیثیت ہے ؟
ج۵:- صحیح حدیث پر عمل کرنا واجب ہے ۔ بدلیل:
فرمان الٰہی:- وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوا ۔ (حشر:۷)
اور جو چیز رسول تمہیں دے دیں اُسے لے لو ، اور جس چیز سے روک دیں اُس سے رک جاوٴ۔
حدیث نبوی:- علیکم بسنّتی وسنّة الخلفاء الراشدین المہدین تمسکوا بھا ۔ (احمد)
میرے طریقے کو لازم پکڑلو ،اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریق کار کو مضبوطی سے تھام لو ،(بشرطیکہ سنت نبوی کے خلاف نہ ہو

س:- کیا قرآن کریم کو کافی سمجھتے ہوئے حدیث پاک کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے ؟
ج:- ہرگز نہیں، اس لیے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی شارح ہے۔
فرمان الٰہی:- وَأَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (سورة النحل)
اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا گیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح وتوضیح کرتے جاوٴ،جوان کے لیے اتاری گئی ہے اور تاکہ لوگ خود بھی غوروفکر کریں۔
حدیث نبوی:- ألا وانّی أوتیت القرآن ومثلہ معہ ۔ (صحیح ابوداوٴد)
خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے ،ا ور اس کے ساتھ اس جیسی اور چیز بھی (حدیث پاک)۔

س۷:- کیا الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے اقوال پر کسی قول کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
ج۷:- ہرگز نہیں!
فرمان الٰہی:- یَٰٓأَیُّہَاالَّذِیْنَ ءَ امَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیِ اللهِ وَرَسُولہِ ۔ (حجرات:۱)
ایمان والو! الله اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔
جب الله کی نافرمانی ہورہی ہو تو کسی دوسرے کی بات نہ مانی جائے عبدالله ا بن عباس رضی الله عنہ کا قول ہے:
أخشی أن تنزل علیکم حجارة من السماء أقول لکم قال رسول الله ﷺ وتقولون قال أبوبکر وعمر۔
مجھے خطرہ ہے کہ کہیں تم پر پتھروں کی بارش نہ ہوجائے ،کیونکہ میں تمہیں احادیث نبوی کا حوالہ دیتاہوں ،اور تم ابوبکر وعمر رضی الله عنہم کی باتیں پیش کرتے ہو۔ (دارمی)

س۸:- زندگی میں کتاب وسنت کو فیصل بنانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج۸:- کتاب وسنت کو فیصل بنانا واجب ہے ۔
فرمان الٰہی:- فَلَا وَرَبِّکَ لَایُوٴمِنُونَ حَتَّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوا فِیٓ أَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیْمًا ۔ (النساء)
(
اے محمد) تمہارے رب کی قسم ،یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے ،جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں،بلکہ سربسرتسلیم کرلیں۔
حدیث نبوی:- وما لم تحکم أئمتھم بکتاب الله ویتخیروا مما أنزل الله الا جعل الله بأسھم بینھم ۔(ابن ماجة،حسن)
حُکام کاکتاب الله کے مطابق فیصلہ نہ کرنا ، اور الله کے نازل کردہ قوانین میں اپنے اختیارات کو استعمال کرنا باہمی اختلاف ونزاع کا باعث ہے ۔

س۹:- باہمی اختلاف ونزاع کاکیاحل ہے ؟
ج۹:- ان حالات میں قرآن مجید اور سنت صحیحہ کی طرف رجوع کیا جائے ۔
فرمان الٰہی:- فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیٴٍ فَرُدُّوہُ اِلَی اللهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُوٴمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الآَخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلًا ۔ (نساء:۵۹)
اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے الله اور رسول کی طرف پھیر دو ،اگر تم واقعی الله اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔یہی ایک صحیح طریق کار ہے۔اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔
حدیث نبوی:- ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب الله وسنة رسولہ۔ (رواہ مالک وصححہ البانی فی الجامع الصحیح)۔
میں تم میں دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں جن پر عمل کرتے ہوئے تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ،وہ الله کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہیں

س۱۰:- جو اپنے لیے شرعی امر ونواہی کو لازم نہ سمجھے اس کا کیا حکم ہے ؟
ج۱۰:- ایسا سمجھنے والا کافر ومرتد اور خارج ازاسلام ہوگا۔ اس لیے کہ بندگی صرف الله کے لیے ہے ۔شہادتین کے اقرار کا یہ مفہوم فی الواقع پایا ہی نہیں جاسکتا ہے ،جب تک کہ الله کی ہمہ جہتی عبادت نہ کی جائے ،اس عباد ت میں بنیادی عقائد ،مراسم عبادت ،زندگی کے ہر معاملے میں شریعت الٰہیہ کو حَکَم ماننا اورمنہج الٰہی کی تطبیق وغیرہ سب کی سب داخل ہے ۔شریعت الٰہیہ کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کوحلت وحرمت کا معیار بنانا ،شرک ہے ،جو کسی صورت میں عبادت سے متعلق شرک سے مختلف نہیں۔ (دوسری کی کتاب ”الاجوبة المفیدہ “سے ماخوذ)

س۱۱:- الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کا معیار کیا ہونا چاہئے ؟
ج۱۱:- محبت کا معیار ان کی اطاعت اور ان کے احکامات کی پیروی ہے۔
فرمان الٰہی:- قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِی یُحْبِبْکُمُ اللهُ وَیَغفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ (آل عمران)
اے نبی! لوگوں سے کہہ دو کہ اگرتم حقیقت میں الله سے محبت رکھتے ہو تومیری پیروی اختیار کرو ،الله تم سے محبت کرے گااورتمہاری خطاوٴں سے درگذر فرمائے گا ،وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔
حدیث نبوی:- لا یوٴمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ (بخاری ومسلم)
اس وقت تک کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ۔جب تک میں اسے اس کے والدین اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاوٴں۔

س۱۲:- الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت کے کیا شرائط ہیں؟
ج۱۲:- ان کی محبت کے بہت سارے شرائط ہیں،جیسے:
۱۔ محبوب کی پسندیدہ چیزوں سے موافقت ۔
۲۔ اس کی ناپسندیدہ چیزوں کا انکار۔
۳۔ اس کے محبوبوں سے محبت ،اس کے دشمنوں سے بغض رکھنا۔
۴۔ اس کے دوستوں سے دوستی ، اس کے دشمنوں سے دشمنی۔
۵۔ اس کا تعاون کرنا ، اس کے طریق کار پر عمل پیرا ہونا۔
جو بھی ان امور کا پابند نہ ہوگا ،وہ اپنی محبت کے دعوے میں جھوٹا ہوگا اس پر شاعر کا یہ شعر صادق آئے گا #
لو حبک صادقًا لأطعتہ         ............ انّ المحب لمن یحب مطیع
اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم محبوب کی اطاعت کرتے اس لیے کہ محبت کرنے والا محبوب کا مطیع ہوتا ہے

س۱۳:- خشوع وخضوع پر مشتمل محبت کس کے لیے ہونی چاہئے؟
ج۱۳:- ایسی محبت صرف الله کے لیے ہونی چاہئے۔ بدلیل:
فرمان الٰہی:- وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللهِ اَنْدَادًا یُحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللهِ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ۔ (بقرہ:۱۶۵)
کچھ لوگ ایسے ہیں جو الله کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اورمدمقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں،جیسی الله کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہئے ۔حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر الله کومحبوب رکھتے ہیں۔

جمیل زینو کی کتاب سے ماخوذ
مکمل تحریر >>