Thursday, December 28, 2023

شیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ مالیگاؤں

 
چند بکھری باتیں

فضیلۃ الشیخ مقبول احمد صاحب سلفی کا ایک مضمون چاپلوسی ایک سماجی ناسور عزیزم حافظ اشفاق کے توسط سے مجھے ملا, میں نے اپنے ماہنامہ جریدہ میں زیب قرطاس بنایاتو کرنول آندھرا پردیش شہری جمیعت کے امیر مولانا یوسف جمیل جامعی نے مجھے فون کیا کہ عنوان مجھے بہت پسند آیا اور اسی پر میرا خطبہ جمعہ ہوگا.تحریر کے میدان میں اور رفتار حالات پر گہری نظر رکھنے والوں میں تین نمایاں چہرے میرے سامنے ہیں.مقبول احمد سلفی..کفایت اللہ سنابلی...اور شعبان بیدار. ان علماء کی بصیرت دینیہ اور غزارت علمیہ کے سامنے یہ فقیر خود کو کسی شمار و قطار میں نہیں سمجھتا.اللہ ان سے دین کا زیادہ سے زیادہ کام لے.
ہر آدمی کی ایک خصوصیت ہوتی ہے.خطابت کے میدان میں عربی اور انگلش زبان فہمی میں شیخ عبد الغفار سلفی اور نئے خطباء میں نئے خطیب شیخ فضل الرحمن سراجی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں.اللہ ان سے دین کا زیادہ سے زیادہ کام لے.
فن نحو میں نے اپنے استاذ عبد الصمد نحوی اور فن صرف میں اپنے حنفی استاد مولانا اصغر علی قاسمی کے مثل کسی کو نہیں دیکھا.یہ ہمیں فلسفے کی کتاب میبذی پڑھاتے ہوئے صرف کے ایک دو قاعدے ضرور بتاتے تھے.انہیں سے میں نے سیکھا کہ صرف کے قاعدے کامزاج اور قاعدے کے اجراء کا مزاج الگ الگ ہےاور میرے دوستوں میں شیخ لیس محمد مکی کی نحوی بصیرت سے جن سے نحو کے نکات پر اکثر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے, میں ان تمام حضرات کے لئے دل سے دعاگو ہوں.
بقلم:فضیلۃ الشیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ


فضیلۃ الشیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کا ناچیز سے نکاح کا مسنون طریقہ بیان کرنے کی اپیل
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ نے میرے تعلق سے جو کلمات کہے ہیں میں ان کا بیحد شکریہ گزار ہوں، ان کی تحریر سے کافی متاثر بھی ہوں اور الحمد للہ جو میرا اخبار ہے ماہنامہ ابصار، شیخ کی کوئی نہ کوئی تحریر اس اخبار کی زینت بنتی ہے اور حافظ(قاری ابومعاذ اشفاق محمدی )صاحب جو ہیں کوئی بھی آرٹیکل ہوتا ہے یا کوئی بھی مضمون ہوتا ہے تو مجھے ضرور خبردار کرتے ہیں اور میں اس تلاش میں رہتا ہوں کہ شیخ کا کوئی آرٹیکل آئے تو میں اسے اخبار میں دوں۔ مولانا یوسف جمیل جامعی حفظہ اللہ جو کرنول شہری جمعیت کے امیر ہیں وہ کہتے ہیں کہ مقبول احمد سلفی صاحب کا جو مضمون ابصار میں آتا ہے اس سے ہم کئی تقریریں بنا لیتے ہیں اور جمعہ کے اندر اور دروس کے اندر پیش کرتے ہیں ۔ الحمدللہ
ہم شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اس طریقہ سے برننگ ٹاپکس (سلگتے موضوعات)پہ جو لکھتے ہیں اللہ تبارک و تعالی آپ کو توفیق بخشےکہ آپ برابر اس طرح لکھتے رہیں اور امت کواس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔شیخ میں عرض یہ کرنا چاہ رہاتھاکہ نکاح لوگ بس پڑھادیتے ہیں کہ اٹھے اور خطبہ حاجہ پڑھ دیا انہوں نے پھر اس کے بعد کچھ ایجاب وقبول کا مسئلہ ہوتا ہے پھر مہر وغیرہ کا معاملہ اس میں آتا ہے ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کتاب وسنت کی روشنی میں دیگر مسائل میں نہ جاتے ہوئے صرف اتنا کہ اب نکاح پڑھانا ہے ،دلہا موجود ہے اور اس کے ساتھ آئے ہوئے لوگ موجود ہیں ۔ اب دلہن کے پاس کون لوگ جاتے ہیں ؟کیسے سائن کرائیں ؟ کب یہ ہو؟ اس طریقہ سے شروع کہاں سے ہو اور ختم کہاں پر ہو؟یہ ترتیب پوری کی پوری سنت میں جو ہے وہ ترتیب پوری وضاحت کے ساتھ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے جامع انداز میں بیان کردیں ۔میں اس کو ابصار کے اندر بھی دوں گا ان شاء اللہ ۔اور حافظ صاحب سے میں یہ گزارش کروں گا کہ اس کو چھپوابھی دیں تاکہ ہرایک نکاح خواں اس سے فائدہ حاصل کرے اور سنت کے مطابق نکاح پڑھائے ۔ کئی خطبہ مسنونہ میں ادھر ادھرالفاظ کچھ اور آجاتے ہیں کچھ حدیثیں کچھ لوگ پڑھ دیتے ہیں نہ جانے اس پر دل جم نہیں رہا ہے شیخ ۔ تو ایک ترتیب اگر آجاتی اس طریقے سے کہ اس سلسلے میں نبی نے کیا رہنمائی کی ہے ؟ تو بڑا اچھا ہوجاتا ۔ اور شیخ میں سمجھتا ہوں کہ آپ سے اچھا اس وقت لکھنے والا محققانہ انداز میں میری نگاہ میں کوئی نہیں ہے ۔ تو شیخ آپ ہی اس پر قلم اٹھائیں اور امت کو اس سے فائدہ پہچائیں اور میرا خیال ہےکہ وہ ایک صفحہ کے اوپر وہ چھاپ لیں اور جگہ جگہ بٹوادیں تومیرا خیال ہے کہ پورے ہندوستان میں وہ پیپر پہنچ جائے گا۔ تو شیخ جلد از جلد اسے پایہ تکمیل تک پہنچادیں بس اتنا کہ دولہا حاضر ہے اور اب نکاح پڑھانا ہے تو کہاں سے شروع کرنا ہے اور کیسے ختم کردینا ہے بس اس میں پوری سنت کیا ہونی چاہئے ؟ جیسے خطبہ حاجہ کے الفاظ کیا ہونی چاہئے اس کے بعد کون سی حدیث پڑھنے کی اجازت ہے ،کون سی حدیث نہیں پڑھنی چاہئے؟ کیا ہے اس میں ؟ ایجاب وقبول کب ہو اورکیسےکیا ہو؟ یہ علی الترتیب کچھ اس طریقے سے بات سامنے آجائے تو اس کو ہم لوگ چھپوابھی لیتے ہیں اور ماہنامہ ابصار تقریبا لاکھوں لوگ اس کو پڑھتے ہیں آن لائن اور الحمدللہ ساڑھے پانچ سو توپورے ہندوستان کے ہراسٹیٹ میں جاتا بھی ہےاور اہل علم حضرات اس کو پڑھتے ہیں ۔آپ کے جوابات اور لوگوں کے سوالات کافی لوگوں نے پسند کئے ہیں ،تقریبا ابصار کے اندر ایک پورے بڑے صفحے کے اوپرالحمدللہ آگیا ہے اور الحمدللہ کافی لوگوں نے پسند کیا ہے ،ہم آپ کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی آپ سے زیادہ سے زیادہ آپ کی تحریروں سے اور آپ کی تقریروں سے امت کو مستفید فرمائے ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
(شیخ کے چار منٹ بائیس سکنڈ کے آڈیو بیان کا تحریری قالب)
مکمل تحریر >>

محترم شیخ مقبول احمد بن عبد الخالق سلفی کا انٹرویو​

 

محترم شیخ مقبول احمد بن عبد الخالق سلفی کا انٹرویو


السلام علیکم معزز اراکین اردو مجلس !
امید ہے کہ اراکین اردو مجلس فورم خیریت سے ہوں گے ۔ اللہ عزوجل سب کو عافیت سے رکھے ۔ سوشل میڈیا پر دعوت دین قرآن وحدیث کا فریضہ مستقل مزاجی سے انجام دینے والوں میں شیخ مقبول احمد بن عبد الخالق سلفی حفظ اللہ کا معروف نام ہیں ۔ بطور داعی جالیات برائے دعوت و ارشاد شمال طائف مسرہ سعودیہ سے وابستہ ہیں، آپ کا تعلق بہار ،انڈیا سے ہے ۔ علم و فہم دین کے ساتھ ساتھ وسیع مطالعہ اور تحقیقی مزاج بھی رکھتے ہیں ۔لوگوں کی کثیر تعداد ان سے استفادہ کرتی ہے ۔
شیخ اردو مجلس فورم پر رکن مجلس علماء میں شامل ہیں ۔ ان کی شخصیت اور علمی کاوشوں کے حوالے سے جاننے کے لئے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے ۔اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ان کی دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین ( ابوعکاشہ : منتظم اردو مجلس فورم )
1.
آپ کا مکمل اِسمِ گرامی ؟
میرانام مقبول احمد ہے ، والد گرامی کا نام عبدالخالق فیضی (ہندوستان کے قدیم ومعروف ادارہ فیض عام مئو، یوپی سے فارغ) اور دادا جی کا نام عبدالباری رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ ہیں ۔
2.
آپ کی تاریخِ پیدائش ؟
بالضبط تاریخ پیدائش کا گھر میں کسی کو علم نہیں لیکن سرکاری اندراج کے مطابق 7/جولائی 1984 ہے ۔
3.
آپ ہندوستان کے کس شہرسے تعلق رکھتے ہیں ؟
صوبہ بہار کے ضلع مدھوبنی سے تعلق رکھتا ہوں ، قریبی شہر مدھوبنی ہے جو تقریبا 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور عظیم آباد (پٹنہ ) تقریبا 200 کلو میٹر کے آس پاس ہے ۔ گوگل میپ پہ میراگاؤں دیکھا جاسکتا ہے اندھراٹھارہی کے نام سے ۔
4.
آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ؟
ہندوستان کے مرکزی ادارہ جامعہ سلفیہ بنارس سے فضیلت کیا، پھر سنٹرل یونیورسٹی جامعہ ملیہ نیودہلی سے بی اے آنرس اردوپاس کیا۔اپنے صوبے کے وفاق المدارس سے فاضل تک کی مکمل ڈگری حاصل کی ہے جبکہ الہ آباد بورڈ یوپی سے فارسی میں منشی وکامل پاس کیا۔ تعلیمی قابلیت کا کل اثاثہ یہی ہے ۔
5.
آپ کا پیشہ کیا ہے ؟
فراغت سے ابتک منصب دعوت وتبلیغ پر ہی براجمان رہا ، آئندہ بھی اسی فریضے کو بحسن وخوبی انجام دینے کی اللہ سے توفیق طلب کرتاہوں ۔
6.
والدین بقید حیات ہیں ؟
الحمدللہ والدین کا سایہ عاطفت سر پہ موجود ہے ۔ رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا
7.
بہن بھائیوں میں آپ کا کونسا نمبر ہے ؟
پانچ بھائیوں اور چار بہنوں میں تیسری پوزیشن حاصل کیا ہوں ۔
8.
آپ اجتماعیت پسند ہیں یا انفرادیت پسند؟
معاشرتی طور پر اجماعیت کا حامی اور سرگرمیوں میں انفرادیت پسند ہوں ۔ سوچتاہوں کام تو سب کرتے ہیں مگر کچھ ایسا کروں جس سے انفرادیت جھلکے اور دورونزدیک ، خاص وعام سب کو فائدہ پہنچے ۔
9.
گرامی قدر کے مزاج میں نری سنجیدگی ہی سنجیدگی ہے یا مزاح بھی پایا جاتا ہے یا پھر دونوں وقت کی ضرورت کے لحاظ سے ؟
سنجیدگی ، ترشی اور مزاح کا مرکب مگر حلقہ یاراں میں خوش طبع معروف ہوں ۔
10.
کتنی زبانوں سے آپ کو آشنائی ہے اور کتنی پر عبور حاصل ہے ؟اور ان میں سے پسندیدہ کونسی ہے ؟
اردو، ہندی ، نیپالی ، عربی اور کچھ کچھ انگریزی اپنا لسانی دائرہ ہے ۔ اردو کے ساتھ نیپالی پر بھی عبور ہے تاہم اردو کی شیرینی ہی کانوں میں رس گھولتی ہے ۔
11.
اپنے پسندیدہ کھیلوں کے نام اور پسندیدگی کی وجہ ذکر کریں۔
تعلیمی زمانے تک کرکٹ پسندکرتا اورکرکٹ ہی کھیلتا رہاہوں کیونکہ عموما ہندوستان میں اسی کھیل کا جادوسر چڑھ کر بولتا ہے مگر فراغت کے بعد سے وقت کی اہمیت ، عمر کی قلت اور زندگی کی بے ثباتی کا احساس کرکے اسے چھوڑدیا ، اب نہ تو دیکھتاہوں ، نہ ہی کھیلتاہوں اور نہ ہی پسند کرتاہوں بلکہ دوسروں کو بھی زیادہ وقت ضائع ہونے والے کھیلوں سے بچنے کی تنبیہ کرتاہوں ۔ وہ کھیل جس سے جسمانی ورزش یا کوئی فائدہ ہو اور وہ سود ، ظلم ، نقصان سے پاک، فرائض وواجبات کی ادائیگی میں مخل نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
12.
اپنے من پسند کھانوں سے ہمیں بھی متعارف کروائیے ؟
دارالحکومت دہلی کی بریانی اورسعودی عرب کی لحم مندی بہت پسند کرتا ہوں ۔
13.
آپ کے روزمرہ کے مشاغل کیا ہیں ؟
ٍصبح کا وقت آفشیل ذمہ داریوں کے ساتھ سوشل میڈیا پہ لوگوں کی رہنمائی، دوپہر گھر کی نذراور عصر ومعرب وعشاء کے اوقات آفس روٹنگ کے مطابق میدانی دعوت کے لئے وقف ۔ اکثر اہم مضامین عشاء کے بعد لکھنے کی کوشش کرتاہوں کیونکہ اس وقت ذہن یکسوئی سے کام کرتا ہے ۔
14.
یہ تو طے ہے کہ دُنیا میں ہر اِنسان کو غصہ آتا ہے مگر کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ جب آنجناب کو غصہ آتا ہے تو کیا گل کھلاتے ہیں ؟
غصے سے ایک واقعہ یاد آگیا ۔ جب میں فارغ ہوکر مرکزی جمعیت اہل حدیث کاٹھمانڈونیپال میں بحیثیت داعی ومحرر فریضہ انجام دینے گیا ، وہاں پہلے سے کئی دعاۃ موجود تھے ، ان میں ایک بڑے ملنسار،زیادہ ہنس مکھ ، بہت دلدار وفیاض مگر بہت غصہ والے شیخ محمد قاسم مدنی تھے ۔ نیاپن سے ہرجگہ فائدہ اٹھایاجاتا ہے ، میرے نئے پن اور سادہ مزاجی سے بھی کچھ فائدہ اٹھایاگیا۔ بات بات پہ غصہ دکھایا گیا۔ ایک دن میں نے شیخ محمد قاسم مدنی حفظہ اللہ کو بٹھاکر کہا دیکھئے اللہ تعالی نے سب کی فطرت میں جہاں نرمی دیا ہے وہیں غصہ بھی ودیعت فرمایاہے ، میرے غصہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہرگزنہیں ہے کہ میں اس خوبی سے محروم ہوں ، بس اسے پینے کی کوشش کرتاہوں ۔ ایسے ہی آدمی کو پہلوان مانا جاتا ہے جو بوقت غصہ اپنے نفس پر قابو رکھے ۔ اس دن کے بعد سے لیکر مرکزی جمعیت میں پانچ سال رہنے تک میری سب سے زیادہ عزت، تکریم ، تعریف اور تعارف کرنے والے وہی رہے ۔ آج تک میں نے اپنے لئے ویسا محسن وگرم گستر اور توقیرکرنے والا نہیں دیکھا ۔
بہرکیف ! جب دوسروں پر غصہ آتا ہے تو اسے حتی الامکان پینے کی کوشش کرتا ہوں اور اسی میں خیروبھلائی بھی سمجھتا ہوں مگر جب اپنوں یا گھروالوں پر زیادہ غصہ آتا ہے تو سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر تھوڑی دیر کے لئے چت لیٹ جاتاہوں ۔
15.
دوسروں کی خوشی آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟ اور کیا آپ لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ؟
دوسروں کی خوشی میں ہی اصل اپنی خوشی ہے گر لوگ اسے سمجھ لیں ۔ میں بھی دوسروں کی خوشی کو اپنی خوشی پر ترجیح دینے کی کوشش کرتاہوں مگر بسااوقات حق گوہی وبیباکی کی اپنی ہی خو سے مار کھاجاتا ہوں اس لئے کبھی کبھی کچھ نظروں سے گرجاتاہوں ۔
16.
ایسا کون سا کام ہےجس کو سرانجام دیکر آپ کو قلبی مسرت ہوتی ہے؟
ذمہ داری کی حسن ادائیگی پر قلبی فرحت وسرور محسوس کرتاہوں خواہ وہ ذمہ داری حقوق العباد سے متعلق ہو یا حقوق اللہ سے ۔
17.
زندگی میں تمام رشتے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے مگر ان میں سے کون سی ہستی آپ کے دِل پر ناز کرتی ہے؟
والدین اور بیوی بچوں کے بعد بڑے بھائی منظور الرب اسلامی (اسلامی اس لئے کہ وہ اپنے ضلع مدھوبنی کے مدرسہ اسلامیہ سے فارغ ہیں ) کا میرے اوپر بہت بڑا احسان ہے جنہوں نے مجھے جامعہ سلفیہ بنارس جیسے ادارے میں داخلہ دلوایا اور وہاں تعلیم حاصل کرنے میں ہرطرح کا تعاون کیا بلکہ ایک مہینے میں کئی کئی اور لمبے لمبے خطوط بھیج کران کے ذریعہ علوہمتی، تعلیمی جہداور بلند معیار وکردار پر فائز ہونے کی تعلیم دی ۔ آج جو کچھ بھی ہوں سب ان کی مرہون منت ہے اور ہستی کو میرے دل پر ناز کرنے کا حق ہے ۔ ان کے بعد مادر علمی جامعہ سلفیہ بنارس کے تمام اساتذہ کرام شکریہ کے حقدار ہیں بطور خاص شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ ، ڈاکٹر رضاء اللہ عبدالکریم مبارک پوری رحمہ اللہ اور شیخ عزیزالرحمن سلفی حفظہ اللہ ۔
18.
ایسی کون سی باتیں ہیں جو آپ کو اچھی نہیں‌لگتیں؟
جھوٹ سے غایت درجہ نفرت ہے ، اگر معلوم ہوجائے کہ سامنے والا جھوٹ بول رہاہوں خواہ گھر کو ہو یا باہر کا تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالی اس مذموم صفت سے ہم سب کو بچائے جس کے بڑے بھیانک نتائج ہیں ۔
19.
آپ کو اپنی کون سی عادت انتہائی ناگوار لگتی ہے؟
مجھے ہراس عادت ، کام ، بات اور امرسے ناگواری ہے جن سب سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔
20.
حُسن، دولت ، شہرت اور عزت میں سےکسی ایک کا انتخاب کریں؟
ان چاروں میں عزت کا انتخاب کرتاہوں ، جیسے مجھے اپنی عزت پیاری ہے ویسے سب کو اپنی اپنی عزت پیاری ہےاور اسلام میں ایک مسلمان کی عزت کی پامالی دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔ فرمان نبوی ﷺ ہے :
كلُّ المسلمِ علَى المسلمِ حرامٌ ، دمُهُ ، ومالُهُ ، وَعِرْضُهُ(صحیح مسلم :2564)
ترجمہ: ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
21.
کیا آپ کو روزمرہ دوست بنانے اچھے لگتے ہیں یا جو پہلے سے ہیں ان کے ساتھ دوستی نبھانا؟
دونوں ہی اچھے لگتے ہیں لیکن پرانوں کو نبھانا ، انہیں خوش رکھنا اور دوستی بنائے رکھنا زیادہ اچھا لگتا ہے ۔
22.
آپ پریشان ہوں تو کیا کرتے ہیں ؟
شریک حیات سے اس کا اظہار کرکے یہ بوجھ ہلکا کرتا ہوں ، اس کے علاوہ صبر کا مقام ہوتو صبر کرتا ہوں ، اسباب اختیار کرنے کا مقام ہو تو اللہ کی طرف التفات کرکے جائز اسباب اپناتا ہوں ۔
23.
فارغ وقت میں آپ کیا کرنا پسند فرماتے ہیں؟
پہلے کی بات اور ہے مگر جب سے سوشل میڈیا سے جڑا ہوں وقت کی فراغت کم ہی نصیب ہوتی ہے ، اگر کچھ وقت ملے بھی تو اس میں کوئی شرعی مسئلہ حل کرنے اور کسی کی دینی رہنمائی کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
24.
اردو مجلس میں آپ کا پہلا دن کیسا گزرا یا پہلے دن آپ نے مجلس کو کیسا پایا ؟ کسی ایک واقعہ سے ہمیں مطلع کیجئے ۔
میں اس مجلس میں بہت پہلے شمولیت اختیار کیا تھا مگرانٹر نٹ کی دنیا سے صحیح سے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے اس پر آمد ورفت نہیں رہی ۔ جب سوشل میڈیا پہ کام بڑھنے لگا اور میرے مضامین ادھر ادھر پھیلنے لگے تو مجھے اپنے ایمیل پر اردومجلس فورم کی طرف سے میل آنے لگا ۔ بار بار آیا، اسے نظر انداز کرتا رہا پھر دل میں آیا اسے استعمال کرکے دیکھتے ہیں ، جب اس مجلس پہ دوبارہ میری آمد ہوئی اور پہلا مضمون اس فورم میں پوسٹ کیا اس دن یہاں کے ارکان اور ممبران کی طرف سے ڈھیرساراخلوص وپیار ملا اور شاید اسی دن یا اس کے چند دن بعدمجھے مجلس علماء کا رکن بنادیا گیا۔ یہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
25-
آپ کے پسندیدہ رکن جس سے آپ کو دینی فائدہ حاصل ہوا اور جن کی تحریریں آپ اثرکرتی ہیں
وقت کی قلت کی وجہ سے یہاں کی بہت زیادہ تحریریں نہیں پڑھ سکا جو بھی پڑھ سکا اس میں علمی طور طور پر جن سے فائدہ ہواوہ شیخ کفایت اللہ سنابلی ، شیخ رفیق طاہر اور ڈاکٹر عبدالمنان حفظہم اللہ ہیں ۔
26.
اردو مجلس پر آپ اب تک فعال رہنے کا راز کیا ہے جبکہ نیٹ کی دُنیا اتنی وسیع ہے، اِسے ترک کرکے کہیں اور کیوں نہیں گئے ؟
اردو مجلس فورم میرا پسندیدہ فورم ہے ، بھلاکوئی اپنی پسندیدہ چیز چھوڑ کے کہیں جاتا ہے ۔ اردو مجلس کے علاوہ محدث فورم اور رومن اردو میں اصلاح امت فورم بھی میرا پسندیدہ ہے ، ان پہ بڑی تعداد میں میرے مضامین ہیں ۔
27.
کسی کے ساتھ پہلی مُلاقات میں آپ سامنے والے میں کیا ملاحظہ کرتے ہیں ؟
ویسے تو انسان اپنے وضع قطع سے کچھ نہ کچھ اثر چھوڑتا ہی ہے مگر سچی اور صاف تصویر ہم کلام ہونے پر ظاہر ہوتی ہے ، اس لئے میں سچی تصویر سامنے آنے پر ہی کچھ فیصلہ کرتاہوں ۔
تامرد سخن نگفتہ باشد –عیب وہنرش نہفتہ باشد
28-.
وہ کون ہے جسے آپ اپنی ہربات کے متعلق باخبر رکھتے ہیں ؟
شریک حیات اور دوست سے انسان ہربات کہہ دیتا ہے مگر کچھ باتیں بیگم سے بھی چھپانے کے قابل ہوتی ہیں کیونکہ بطن عورت میں ہربات ہضم ہونے کا آلہ نہیں ہے اور کچھ باتیں دوستوں سے بھی چھپانے کے قابل ہوتی ہیں کیونکہ دوست کب بے وفائی کرجائے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أحبِبْ حبيبَكَ هونًا ما ، عَسى أن يَكونَ بَغيضَكَ يومًا ما ، وأبغِض بغيضَكَ هونًا ما عسَى أن يَكونَ حبيبَكَ يومًا ما(صحيح الترمذي:1997)
ترجمہ: اپنے دوست سے اعتدال اورتوسط کے ساتھ دوستی رکھوشایدوہ کسی دن تمہارا دشمن ہوجائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔
29.
اِس پُرفتن دور میں دُنیا کے مجموعی حالات کو دیکھ کر آپ کیا سوچتے ہیں؟
میری سوچ تو یہ ہے کہ ہرمیدان میں نوجوانوں کی الگ الگ ٹیم ہو جو جس کے متخصصین ہیں وہ ٹیم اس محاذ پر فتنے کا سدباب کرنے کی کوشش کرے ، یہی ٹیم منکرات کو مٹائے اور حسنات کو فروغ دے تاکہ فتنے ختم یا کم ہوسکیں ، نیکی کی راہ چلنا آسان ہو اور برائی کو پنپنے کا موقع نہ ملے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران:104)
ترجمہ: اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔
یہ جماعتی سطح کا کام ہے اور انفرادی طور پر ہمیں اللہ سے تعلق جوڑنا چاہئے ، ایمان پر قائم رہنے ، برے کاموں، شہوت ابھارنے والے امور اور منکرات کی طرف لے جانے والے اسباب سے بچتے رہنا چاہئے ۔
اور قرآن کریم کو اپنا ساتھی بنالیں اسے روزانہ کچھ نہ کچھ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں ، ہرزور نئی نئی ہدایت کی کرنیں پھوٹتی رہیں گی اسی طرح احادیث کی کتابیں بھی ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کرتے رہیں تاکہ مسائل اور دینی بصیرت سے مزید واقفیت ہوتی رہے ۔ ایک اہم بات تمام عام لوگوں کے لئے کہ قرآن کو اور کم ازکم بخاری شریف کو ایک بار ترجمے وتفہیم کے ساتھ ضرور ختم کریں ۔ اس سے جہاں نیکی کرنے پر مدد ملے گی وہیں برائی اور فتنے میں واقع ہونے سے بھی بچ سکیں گے ۔ یہ بھی معلوم رہے کہ اس وقت فتنہ اس قدر شدید ہے کہ بچوں کی تربیت کے تئیں آپ کی غفلت وتساہلی ان کا مستقبل تباہ کردے گی، بنابریں اسلامی ماحول میں بچوں کی خصوصی رعایت ونگرانی ہونی چاہئے ۔
30
مسقبل میں کیا کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ؟
جو مشن میں نے شروع کیاہے ، جس قدر دلچسپی کے ساتھ سوشل میڈیا پر دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دے رہاہوں اور جس طرح نت نئے مسائل کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں مستقبل میں بھی اسے باقی رکھنے کا عزم ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ میں نے شدت کے ساتھ احساس کیا سوشل میڈیا پر غلط فہمیاں، غلط پروپیگنڈے، غلط افکار ونظریا ت ، قرآن واحادیث کے نام پر جھوٹی باتیں وافر مقدار میں پھیلی ہوئی ہیں اور چوبیس گھنٹے پھیلائی جارہی ہیں جن سے سوشل میڈیا سے مربوط کم علم حضرات بآسانی گمراہ ہورہے ہیں اس لئے اسٹیج کے ساتھ اس میڈیا سے وابستہ لوگوں کو بھی دعوت دینا اور یہاں پر پھیلی دین کے نام پر گمراہی کا سد باب کرنا علماء کی ذمہ داری میں شامل ہونا چاہئے۔ میں نے یہاں پر جہد مسلسل کے ساتھ کام کیاجس کے بہت اچھے نتائج وثمرات سامنے آئے ۔
31.
ایک پیغام جو آپ اردو مجلس/ ارکینِ اُردو مجلس کے نام کرنا چاہیں؟
ایک پیغام اردو مجلس فورم کے سبھی اراکین کو دینا چاہتاہوں کہ میں بلاتفریق آپ سب سے بیحد محبت کرتاہوں، اگر اردو مجلس کے کسی زمرے میں یا کسی مضمون پر تبصرہ نگاری میں اختلاف ہوجائے تو اسے رنجش یا نفرت کے معنی میں نہ لیں کیونکہ اختلاف کا تعلق علم سے ہے اور محبت کا تعلق دل سے ۔یہی معیار میرے علاوہ دوسروں کے لئے بھی ہو۔
دوسرا پیغام اس فورم کے منتظمین کے لئے ہے کہ اس فورم کا ماحول سازگاربنا رہے اور خالص منہج سلف کی روشنی میں یہاں سے علم پھیلتا رہے اس کو کوشش کرتے رہیں نیز مزیدفعال اہل علم حضرات کو اس سے جوڑیں ۔
تیسرا پیغام عمومی اور تمام قارئین کے لئے ہے کہ یہ پلیٹ فارم خالص کتاب وسنت پر مبنی تعلیم کو فروغ دیتا ہے اس لئے اس اردو مجلس فورم سے جڑیں ، دوسروں کو بھی جڑنے کا مشورہ دیں اور اس سے جڑکر نہ صرف فائدہ اٹھائیں بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں ، یہ آپ کے حق میں صدقہ جاریہ ہوگا۔ایک طرف اس پلیٹ فارم سے دین سیکھیں تو دوسری طرف گھرمیں ،آنگن میں ، آفس میں ، محفل میں اور گلی گلی میں جس طریقے سے بھی ممکن ہو علم پھیلائیں اور بطور خاص سوشل میڈیا پر علم نافع کی نشر واشاعت کریں ۔


معروف داعی ومبلغ فضیلۃ الشیخ مقبول احمد سلفی سے اردو مجلس فورم انتظامیہ کا انٹرویو
(دوسری قسط)

(1)
مذہبى تعليم كى طرف كيسے آئے ؟ ذاتى انتخاب تھا ؟
جواب : پورا گھرانہ مذہبی ہے ، والد محترم مولانا عبدالخالق فیضی حفظہ اللہ قدیم ومشہور سلفی ادارہ جامعہ فیض عام مئو،یوپی سے فارغ ہیں اور اپنے علاقے میں معروف ومعتبر علمائے دین میں شمار ہوتا ہے،وہاں والد صاحب کی بڑ ی خدمات ہیں ۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے استاد مولانا محمد حنیف مدنی رحمہ اللہ کے ہم سبق ہیں ۔ والدمحترم نے گھر میں سختی سے دینی ماحول قائم کیا ہوا تھا، ہم لوگوں کو پنٹ شرٹ تک پہننے کی اجازت نہیں تھی ۔ اپنے پاس بٹھاکر دینی کتب پڑھاتے ، یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ سے ہی مکتب کی تعلیم لی ، پھر1996 میں بڑے بھائی منظورالرب اسلامی جامعہ سلفیہ بنارس لے کر گئے ، داخلہ کی امید تو نہیں تھی بس اللہ کی ذات پر بھروسہ تھا ۔ پہلی جماعت میں داخلہ کے لئے رجسٹریشن کروایا۔ شیخ علی حسین سلفی نے میرا انٹرویو لیا، پہلے کتابوں کا نام پوچھا پھر شیخ نے کہا کہ بیٹا تمہارا داخلہ تیسری جماعت میں ہونا چاہئے اس لئے تیسری میں داخلہ لے لو۔ میں تو ٹھہرا بچہ ،میں نے کہا نہیں مجھے پہلی میں داخلہ لینا ہے ۔ پھر شیخ نے کہا جاؤ اپنے ذمہ دار کو بلاؤ ، بڑے بھائی کو بلایا ،شیخ بضد تھے کہ تیسری میں میرا داخلہ دلائیں ، بھائی نے کہا کہ اس کی بنیاد مضبوط کرنی ہے اس لحاظ سے پہلی جماعت ہی صحیح ہے ۔ بالآخر بات ہوتے ہوتے ، طے پایا کہ نہ پہلی ، نہ تیسری بلکہ دوسری جماعت میں داخلہ ہو۔ اس طرح دوسری جماعت میں داخلہ ہوا۔ یہ صرف اور صرف والد محترم کی مہربانی اور آپ کی تعلیم وتربیت کا ثمرہ تھا۔
(2)
دوران تعليم كبھی فيلڈ بدلنے كا خيال آيا ؟
جواب : گھر کا جو دینی ماحول تھا بھلااس ماحول میں جینے والا بھی کبھی دوسرا میدان اختیار کرسکتا ہے ؟۔ تجربے کی بات ہے کہ جس کے گھر میں تربیت کا بہترین نمونہ ہواس کا اثر بچوں پر بہت گہرا پڑتا ہے ۔
(3)
خاندان ، دوست احباب مذہبی ہيں يا نہيں اور آپ كے دينى مشاغل پر ان كا كيا ردعمل ہوتا ہے؟
جواب : پورا گھرانہ مذہبی ہے ، ہاں دوست واحباب میں دیوبندی خیال والے بھی تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹتے چلے گئے ، اس کی ایک وجہ جامعہ سلفیہ بنارس سے سلفی تعلیم حاصل کرنا اور دوسری وجہ مسلسل گھر سے باہر رہنا ہے ۔ دوران تعلیم چھٹیوں میں جب گھر آتا تو دیوبندیوں سے نوک جھوک ہوتی بلکہ اکثر مجھے مسائل پہ چھیڑا کرتے ۔ اس وقت میرے اندر بھی مذھبی سختی کافی تھی جس کی بناپر سخت قسم کا جواب بھی دیا کرتا ۔نتیجے میں پورے دیوبندی حلقے میں مجھے کٹر قسم کا وہابی سمجھا جانے لگااور اب تک یہی حال ہے ،کم ہی دیوبندی مجھ سے بات کرتے ہیں ،اکثر مجھ سے جلنےوالے، حسد وکینہ رکھنے والے ہیں ۔ وجہ صرف اور صرف اہل حدیث ہونا ہے ، جھگڑا لڑائی کوئی نہیں ۔ دوستوں کو بھی بدظن کرنے میں ان حاسدین کا ہاتھ ہے ۔ یہاں کسی کا گلہ شکوہ مقصود نہیں ہے بلکہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میرے گاؤں میں ہندؤں کی اچھی خاصی تعداد ہے ، ان کافروں سے ان دیوبندیوں کو کوئی نفرت نہیں مگر وہابی سے سخت نفرت ہے ۔ الحمد للہ جماعت اہل حدیث کی اپنی مسجد ہے جس میں بچپن سے خطبہ دیتا آرہاہوں ، دیوبندی کی تین مساجد ہیں ، کبھی کبھار ان مسجدوں میں نماز پڑھنے کا موقع ملا ،ایک مسجد سسرال کے پاس ہے ،سسرال میں ہوتے ہوئے اکثر اسی مسجد میں نماز پڑھتا تاکہ ان کے دماغ میں کوئی فتور نہ آئے مگر کبھی انہوں نے امامت کے لئے آگے نہیں بڑھایا۔ جاہل سے جاہل آدمی امامت کراتا ،ایک دوچلہ لگاکر خود کو فقیہ وامام سمجھنے لگتا اور دوسرے مسلک کے علماء کو حقارت بھری نظر وں سے دیکھتا ہے۔ ایک صاحب سامنے بہت اچھا بنتے ہیں مگر پکے تبلیغی ہیں انہوں نے اپنی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ کے لئے مجھ سے گزارش کی، میں نے حامی بھر لی ،جب یہ بات کانوں کان دیوبندیوں میں پھیلی تو پھر جمعہ کے دن خبر ملی خطبہ جمعہ کنسل جبکہ کیسے کیسے لوگ ان کے یہاں خطبہ دیتے ہیں اسے بیان کرکے اس جماعت کو بدنام کرنے کا ارادہ نہیں ہے ۔
(4)
مذہب پر عمل ميں قريبى لوگوں ميں سب سے زيادہ حمايت اور مدد كس سے ملى ؟
جواب : الحمد للہ مذہب پر عمل کرنے میں کبھی کوئی دشواری نہیں رہی ، سلفی ہونے کے سبب احناف کی نظروں میں اچھا نہیں ہوں بس ۔
(5)
دوران تعليم اور فراغت كے بعد قريبى رشتوں اور سماجى حلقوں كى جانب سے مذہبی مخالفت برداشت كرنى پڑی؟ كسى موقع پر دلبرداشتہ ہوئے؟
جواب : دوران تعلیم دیوبندیوں سےہلکی نوک جھوک رہی مگر مخالفت شدید نہیں رہی ،منجملہ یہ لوگ سلفیوں کے خلاف سخت رہے اور یہ سخت رویہ میرے پڑھنے کے بعد سے شروع ہوا۔ پہلے نہیں تھا ،والد محترم بلاتفریق سب کے یہاں اجلاس میں وعظ کرنے جاتے بلکہ ہرمجلس میں آپ کا وعظ ہوا کرتا۔ چونکہ ان کی تعداد بہت ہے اور ہم لوگ دس بارہ گھر کے قریب ہوں گے ۔پہلے پانچ گھر تھے تو پنچ گھریا کہہ کر طعنہ دیا جاتا ۔ دل برداشتہ اس دن زیادہ ہوئے جب خطبہ جمعہ کے لئے کہا اور پھر انکار کردیا۔
(6)
مطالعے كا كتنا شوق ہے؟
جواب : مطالعہ تو میری غذا ہے ۔کسی ادارے سے فارغ ہوجانا یا کہیں سے علمی اسناد لے لیناہی کافی نہیں ہے ، علم اسی کا ٹھوس ومعیاری ہوتا ہے جوہمیشہ علم سیکھنا جاری رکھتا ہے اور جس نے سمجھا میں نے جامعہ سے فراغت حاصل کرلی ،مجھےکتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں ایسے شخص کے علم کو گھن لگ جاتا ہے ۔
(7)
كس چيز كا مطالعہ زيادہ كرنا پسند ہے؟ اخبار ، رسالہ ، ڈائجسٹ ، فيشن ميگزين ، كھانے كى تركيبوں كى كتابيں ، مہندی کے ڈيزائن كى كتابيں، ناول، جاسوسى ناول ، رومانوى ناول، افسانے ، سستی کتاب يا موضوعاتى منتخب كتابيں ؟
جواب: اخبار ، دینی رسائل اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہو ں ،بروقت موضوعاتی کتابوں کا مطالعہ زیادہ ہے ۔
(8)
كتنى كتابيں پڑھ جاتے ہيں؟ روزانہ ايك ، ہفتے ميں ايك ، مہينے ميں ايك ، تين ماہ ميں ايك ، چھ ماہ ميں ايك ؟
جواب: دوران تعلیم مطالعہ پرزیادہ وقت صرف ہواکرتا ،کتابیں ہی اوڑھنا بچھونا ہواکرتیں۔عموما تکیہ کے نیچے کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی ۔ اب مشاغل اور ذمہ داریاں بڑھنے سے جس موضوع کی ضرورت پڑتی اس سے متعلق کتابیں پڑھتا ہوں جس کی کوئی حد متعین نہیں کرسکتا۔
(9)
كتابيں خريدنا پسند ہے ؟ ذاتى مكتبہ ميں اكثر كتب كس موضوع پر ہيں ؟
جواب:گاؤں میں اپناایک چھوٹا مکتبہ ہے ،شاید گاؤں میں اتنی کتابیں کسی کے گھر نہ ہو،ان میں اکثر انعامات کی ہیں جو جامعہ سلفیہ میں کلاس، تقریروتحریر اور دیگر عملی مسابقوں کے تحت ملیں۔ کچھ خریدی بھی ہیں ۔
(10)
كتابيں مستعار دينا پسند ہے يا نا پسند ؟ لوگ واپس كرتے ہيں يا بھول جاتے ہيں ؟
جواب : گھر پہ کم رہنے کا اتفاق ہوا اور گاؤں میں اپنی جماعت کے لوگ کم ہیں دیوبندی لوگ وہابی کی کتاب پڑھیں گے نہیں انہیں خداواسطے کا بیر ہے ۔ مجھے یاد ہے جب میں 2003 میں طلباء کے سالانہ میگزین المنار کا ایڈیٹرتھا ،ایڈیٹرہونے کی وجہ سے ہمیں المنار کے کافی نسخے ملے جنہیں اپنے متعارفین میں تقسیم کیا۔ دیوبندیوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ اتفاق سے دہلی کے ایک دیوبندی مدرسےمیں بچوں کو ناظرہ تعلیم دیتا تھا،ساتھ میں المنار کا ایک نسخہ بھی تھا مجھے بچوں کے ذریعہ پتہ چلا کہ مدرسہ کے ایک دیوبندی عالم نے سارے بچوں کو اس کتاب کو چھونے سے منع کررکھاہے ۔
(11)
كوئى تاريخى كتابياتى صدمہ ؟ جس ميں كسى نے كتاب لى اور ضائع كر دى ؟
جواب: ایسا کوئی صدقہ نہیں ہوا، کتابیں تو کچھ لوگوں کو دی ، کچھ نے لوٹائی اور کچھ نے نہیں ۔یہ تو سدا سے دستور ہے ،کتاب لینے والا ہرکوئی لوٹاتا ہی نہیں۔
(12)
مطالعے كے دوران كتاب پر حاشيہ لكھتے ہيں يا اہم معلومات كے الگ نوٹس ليتے ہيں ؟ نوٹس كى اردو يادداشت ہو گی ؟۔
جواب: اگر ذاتی کتابیں ہوں تومطالعہ کے دوران پنسل سے اہم نکات پر نشان زد کیا کرتا اور اگر دوسروں کی کتاب ہوتو قابل توجہ پوائنٹ لکھ لیا کرتا۔
(13)
پسنديدہ موضوع جس پر مطالعہ پسند ہے؟مذہب تو آپ كا ميدان ہے اس كے علاوہ؟
جواب: مذہب ہی موضوع اور میدان ہے ۔
(14)
كچھ كتابيں جو بار بار پڑھی ہوں؟
جواب: تفسیر وکتب احادیث باربار پڑھتا رہا اور آج بھی یہی زیادہ تر الٹ کر دیکھتا ہوں ۔تاریخ سے کچھ اور اردو ادب سے کچھ سے زیادہ ربط رہا جس کے سبب جامعہ ملیہ اسلامیہ نیودہلی سے بی اے اردو آنرس کیا۔
(15)
پسنديدہ كتب ؟ مذہب اور ادب ميں خاص طور پر۔
جواب: مذہب میں تفسیروکتب احادیث اور سیرت کی اہم کتابیں پسند کرتا ہوں۔ادب میں طالب علمی کے زمانے میں تاریخی ناول، تاریخی افسانے،تنقید اور انشائیہ پڑھا کرتا ،شروع میں شاعری بھی کیا کرتا تو شعراء اور دیوان سخن سے بھی دلچسپی رہی ۔ شعروادب کے حوالے سے جو نام معروف ومستند ہیں ان سب کو پڑھا ہوں۔
(16)
پسنديدہ مصنفين ؟
جواب: ہرفن سے متعلق اہم کتابیں اور ان کے مصنفین میرے پسندیدہ ہیں ۔
(17)
اپنے معاشرے كى علمى حالت كے متعلق آپ كا كيا خيال ہے ؟
جواب: اوپر میں نے اپنے سماج کی عکاسی کی ہے کہ میں نے تبلیغی سماج میں آنکھیں کھولی ۔چاروں طرف حضرت جی والا ماحول ہے ،خواتین کو مسجدوعیدگاہ میں آنے کی ممانعت ہے مگر تبلیغی دوروں کی مکمل اجازت ہے ۔ اس وقت گاؤں گاؤں میں خواتین کا تبلیغی گشت ہوتا ہے اور عورتوں کو ساڑی پہننا ناجائز کہہ کر قمیص وشلوار پہنایاجارہاہے ۔ چلاکش مولوی کہلاتاہے اور محفل وعظ وممبر اسی کے حوالے ہوتا ہے ۔ حقیقت میں دینی تعلیم معمولی ہے اور خواتین میں تو جہالت کی انتہا ہے ۔ وہاں کچھ کرنے کو سوچتا ہوں مگر مسلکی مخالفت کا شدید خطرہ ہے ۔
(18)
ہم (مسلم امہ )علم وتحقيق ميں واقعى پسماندہ ہيں يا يہ ہوائى كسى دشمن نے اڑائى ہو گی؟
جواب: میری معلومات کی حد تک مسلمان اپنی تعداد کے حساب سے نہ دینی علوم میں پیچھے ہیں اور نہ ہی عصری علوم میں ۔ ہمارے یہاں سائنس داں ، سیاست داں، اطباء ، فلسفی، محقق اور اکالروں کی کوئی کمی نہیں ۔ انہیں ہائی لائٹ نہیں کیا گیاجس کی وجہ سےشبہ ہوتا ہے کہ مسلمان علم وتحقیق کے میدان میں پیچھے ہیں۔
(19)
مستقبل كى منصوبہ سازى كرنا پسند ہے ؟ ہاں تو كيوں اور كتنى ؟ اگلا دن ، اگلا ہفتہ ، اگلا مہينہ اگلا سال ، يا اگلے پانچ سال وغيرہ؟ نہيں توكيوں؟
جواب: کسی بھی لائحہ عمل کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے ،اس کے بغیر کامیابی مشکل ہے ۔ منصوبہ بندی کے متعلق میرا یہ نظریہ ہے کہ وہ ٹھوس ہو اور قلیل المدت ہو یعنی طویل المدت نہ ہوکیونکہ زندگی اور حالات کا کوئی پتہ نہیں اور منصوبہ کو اولوالعزمی کے نافذ کیا جائے ۔
(20)
حالات حاضرہ اور سياسيات سے كتنى دل چسپی ہے؟
جواب: حالات حاضرہ سے واقفیت کی فکر رہتی ہے مگر اس کے لئے الگ سے وقت نہیں دے پاتاکیونکہ مذہبی کازمیں زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے عدیم الفرصت ہوگیا ہوں لیکن ایسا بھی نہیں کہ ماحول ومعاشرہ سے بے خبررہتاہوں ۔ سوشل میڈیا نے حالات سے آگاہی کو بہت ہی آسان بنادیا ہے ۔
(21)
مذہبی لوگ سياسيات، مزاح اور شعرو ادب سے بھاگتے ہيں كيا يہ تاثر درست ہے؟
جواب : ایسا تاثر صحیح نہیں ہے ۔ بہت سے مذہبی لوگ بڑے بڑے سیاستداں اور شعراء گزرے ہیں اور مزاح کی صفت تو سبھی میں عام ہے ،یہ کسی قوم وطبقہ سے وابستہ نہیں ۔
(22)
كيا آپ كو كبھی مسلم امہ كا فرد ہونے پر فخر ہوا ؟ كن مواقع پر؟
جواب: جب سے مسلمان ہونے کا احساس ہوا تب سے ہی مسلم امہ کا فرد ہونے پر مجھے فخر ہے ،کسی ایک موقع سے خاص نہیں کیاجاسکتا،ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
(23)
كبھی مسلم امہ كا حصہ ہونے پر افسوس ہوا ؟ كن مواقع پر ؟
جواب : مسلم امہ کا فرد ہونا افسوس کا باعث نہیں ،اس لئے کبھی اس پر افسوس نہیں ہوا۔ ہاں جو لوگ مسلم ہوکر ڈھٹائی سے شرک وبدعت کررہے اور صحیح اسلام کو اپنوں اور غیروں پر مشکل بنارکھے ہیں ایسے لوگوں پر بیحد افسوس ہے اور افسوس کے مارے زبان حال سے کہتا ہوں :اے کاش! یہ لوگ مسلم امہ کا حصہ نہ ہوتے یا ہوتے تو صحیح دین پر عمل پیرا ہوتے تاکہ جہاں عام مسلمانوں کو دین سمجھنا اوراس پر عمل کرنا آسان ہوتا وہیں کافروں کے لئے بھی دین اسلام میں داخل ہوناکوئی مشکل نہیں ہوتی۔
(24)
آپ مسلم امہ كے افراد سے كسى چيز ميں منفرد يا الگ نظر آنا چاہيں تو وہ كون سى چيزيں ہوں گی؟
جواب : کتاب اللہ اور سنت رسول کی سچی تصویر بننے میں مسلم قوم کی امتیازی شان ہے ، اپنی اسی صفت سے یہ قوم نہ صرف منفرد ہوگی بلکہ سارے مسلمان بلااختلاف ایک جگہ جمع بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک امت میں علماء پرستی، اندھی تقلید اور اقوال رجال کو سرآنکھوں پر بٹھایا جاتا رہے گا کبھی یہ قوم ایک نہیں ہوسکتی ۔ دور حاضر کی ہماری ذلت وخواری اسی کا خمیازہ ہے ۔
(25)
زندگی ميں كيا نہ ہو تو موت كو ترجيح ديں گے؟
جواب : موت تو اللہ کی طرف سے متعین ہے جو وقت مقرر پر آکر رہے گی ، اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ،اس وجہ سے جو لوگ کبھی کبھی دنیاوی غرض وغایت کے بدلے موت کو ترجیح دے دیتے اور ہلاکت کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ،سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔موت کو ترجیح دینا اورموت وہلاکت کا راستہ اختیار کرنا گناہ ہے ،اسلام نے ہلاکت میں ہاتھ ڈالنے سے منع کیا ہے ۔ صرف ایک موڑ ہے کہ زمانے میں فتنہ شدیدہوجائے ،اس کی تاب لانا مشکل ہو تو صرف اللہ سے یہ دعا کرسکتے ہیں : اے اللہ اگر تو قوم کو فتنہ میں مبتلا کرے تو مجھے بغیر آزمائے ہوئے وفات دیدے۔
(26)
انتہائى مايوسى ميں كيا بات حوصلہ ديتى ہے؟
جواب : انتہائی مایوسی میں اللہ کا کلام مجھے حوصلہ دیتا ہے ۔
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر:53)
ترجمہ:۔ ( میری جانب سے ) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالٰی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی ، بخشش بڑی رحمت والا ہے۔
اس لئے میں دوسروں کو بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کی نصیحت کرتاہوں ۔ کبھی کبھی انسان کو لگتا ہے کہ اس کے چاروں طرف مصیبت ہی مصیبت ہے ، نجات کا کوئی راستہ نہیں ملتا ۔ ایسا ممکن ہے لیکن یہ بھی سوچیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے ، ممکن ہے کہ پرورگار امتحان لے رہاہو تو اس پر صبر کرنا چاہئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے کسی گناہ کی وجہ سے اللہ نے ناراض ہوکر مصیبت نازل کردی ہو تو ایسے میں ہمیں اللہ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے ،اللہ تو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
(27)
زندگی ميں كن مواقع پر شديد افسردہ ہوئے يا پھوٹ پھوٹ كر روئے ؟ (بچپن کےعلاوہ )
جواب : جب جامعہ سلفیہ سے فارغ ہوئے اور دہلی کا سفرکیا کچھ کرنے کی نیت سے ، بہت ساری جگہیں تلاش کی مگر اس وقت لگتا تھا کہ کچھ نہیں جانتے ہیں کیونکہ کہیں کوئی کام نہیں مل رہاتھا۔ دینی تعلیم کی پڑھائی پر تھوڑی دیر کے لئے افسردہ ہوا مگر یہ شیطانی وسوسہ تھا۔ بہت سے طالب علم نوکری کی تلاش کے وقت افسرہ ہوجاتے ہیں ۔مجھے اللہ کی ذات پرمکمل بھروسہ تھا ۔ تلاش میں لگارہا ، اللہ سے دعائیں کرتا رہا اورخود کو اہمیت دے کر باہمت طریقے سے تگ ودوکیابالآخراللہ نے راستہ ہموار کردیا ، کئی کئی اور اہم جگہوں سے آپ خود طلب ہوئی اور الحمدللہ سیٹ ہوگیا۔ یہاں میں قارئین کو خصوصا طالبان علوم نبوت کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ آپ فراغت کے بعد بھی دینی تعلیم کو اہمیت دیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق دینی شعبے سے جڑنے کی کوشش کریں ،دیرسویر آپ کا پسندیدہ وظیفہ مل جائے گا۔ ان شاء اللہ ۔ مدارس کے فارغین تجارت بھی کرسکتے ہیں اس طرف بھی آنا چاہئے مگردیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ مدرسے سے یونیورسٹی گئے یا تجارت یا غیردینی اداروں سے منسلک ہوئے ان میں سے اکثر دین سے بیحد دور ہوگئے،یہ افسوسناک پہلو ہے ۔
(28)
موت سے ڈر لگتا ہے؟
جواب : موت کو یا د کرنے کا مومن کو حکم ہوا ہے ، اس کی یاد سے آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور مومن کو اس بات سے خوف کھانا چاہئے کہ کہیں اس کی موت کفر پر نہ ہواس لئے ہمیشہ اچھا کام کرتا رہے اور اللہ سے ڈرتا رہے ۔ جو لوگ موت کو نہیں یاد کرتے وہ آخرت سے بے خبر دنیا میں مست ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کی موت کس حال میں ہو کوئی پتہ نہیں چہ جائیکہ مسلمان ہو۔
(29)
آخرت كے بارے ميں كوئى منصوبہ سازى ہے؟ كوئى ايسا خاص عمل جو آپ مغفرت كى اميد پر ہميشہ جارى ركھنا چاہيں؟
جواب : اللہ کی عبادت کے بعد دعوت وتبلیغ کو اس نیت سے جاری رکھا ہوں کہ یہ میرا فریضہ ہے ،اس فریضے کی انجام دہی پر اللہ اپنے فضل سے ضرور بہتر بدلہ دے گا، اللہ سے دعا ہے کہ قول وعمل میں اخلاص دے ۔
(30)
كوئى صدقہ جاريہ چھوڑ كر جانے كا ارادہ ہے؟ كيا ؟ (اولاد كے علاوہ : )
جواب: تحریر وبیانات ، ان شاء اللہ صدقہ جاریہ ہوں گے ۔ رب ذوالجلال سے دعاکرتاہوں کہ وہ مجھے حق کی طرف رہنمائی کرتا رہے ۔
(31)
عام طور پر دھيمى آواز ميں بات كرنا پسند ہے يا بلند آواز ميں ؟
جواب : گفتگو کی شیرینی نرمی میں ہے ،یہ مؤثروزوداثرہے اس لئے نرمی سے ہی ہمکلام کرتا ہوں ۔
(32)
اپنے ارد گرد امن كى كمى محسوس كرتے ہيں ؟
جواب : کئی سالوں سے سعودی عرب میں ہوں ،یہاں تو امن ہی امن ہے مگر سوچتا ہوں کہ اے کاش مادر وطن ہندوستان میں بھی ایسا ہی امن ہوتا تو کیا اچھا ہوتا۔سعودی عرب کو دیکھ کرہرکسی کویہ احساس ہوتاہےکہ واقعی الہی قانون نافذ کرنے میں ہی امن وسکون ہے ۔
(33)
عام طور پر طاقتور اور خوشحال لوگوں كى مجلس اچھی لگتى ہے يا غريب اور كمزور لوگوں كى ؟
جواب : جو بھی قدر کرنے والے ہوں ان کی محفل اچھی لگتی ہے ، خواہ طاقتور ہوں، خوشحال ہوں یا غریب وکمزور لوگ۔
(34)
تحرير لكھ كر چھپوانے كا شغل كس عمر سے ہے؟
جواب : تحریر شائع کرانے کا شوق عموما لوگوں میں پایا جاتا ہے ، میرے اندر بھی طالب علمی کے زمانے سے تھا ۔جامعہ سلفیہ میں ثانویہ تک کے بچوں کے لئے حائطیہ کا انتظام ہے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ بچے چھوٹے چھوٹے مضامین دیتے ہیں اور قابل اشاعت چند مضامین ایک بڑے سائز پیپرپر کتابت کرکے دیوار پر آویزاں کیا جاتا ہے ۔ثانویہ کے آخری سال میں اس کا نائب مدیر تھا۔ عالمیت اور فضیلت والوں کے لئے پندرہ روزہ حائطیہ کے ساتھ ایک سالانہ میگزین بھی نکلتا ہے ، عالمیت کے دوسرے سال میں اس کی مجلس مشاورت میں رہا، آخری سال نائب مدیر اور فضیلت کے پہلے مرحلے میں 2003 میں مدیراعلی بنا۔فراغت کے بعد ایک سال دہلی رہا، اسی اثنا ایک دیوبندی مدرسہ میں پڑھا یا اس مدرسے کے مہتمم کے چھوٹے بھائی پندرہ روزہ اخبار آئینہ حق نکالاکرتے ، جب میرے متعلق خبر ہوئی تو انہوں نے یہ اخبار مجھے سونپ دیا۔ دہلی کے بعد پھرمرکزی جمعیت اہل حدیث کاٹھمانڈونیپال چلا آیا ، یہاں تن تنہا پندرہ روزہ اردو اخبار شائع کیا ، اس اخبار کا سب کچھ میں ہی تھا ،جب شروع کیا اس وقت وہاں سے کوئی اردو اخبار نہیں نکلتا تھا، سال بھر تک اخبار نکالاپھر اچانک جالیات القصیم سے ویزہ گیا تو اسے چھوڑ کر سعودی عرب آنا پڑا۔جیساکہ سبھی کو معلوم ہے اس وقت سوشل میڈیا کافی پاورفل ہے ، یہاں پہ جب میری تحریریں کثرت سے گردش میں آئیں تو اکثر لوگوں نے خود ہی میرے بلاگ سے مضامین لیکرچھانپا شروع کیا۔ پھر بہت سارے لوگوں نے اس سلسلے میں مجھ سے رابطہ کیا جنہیں میں اپنے مضامین بھیجتا ہوں ۔ الحمد للہ سوشل میڈیا کے علاوہ اخباراور رسائل وجرائد میں مضامین کی اشاعت سے تقریبا آدھی فیصد سے زیادہ لوگوں تک بات پہنچ جاتی ہے ۔ یہاں پر دوتین اخبارکا شکریہ ادا نہ کروں تو مجھ سے احسان فراموشی سرزد ہوجائے گی ۔ روزنامہ پیغام مادر وطن دہلی ، سہ روزہ میدان صحافت مالیگاؤں اور صدائے عام جنک پورنیپال۔ برادرعزیزمطیع الرحمن عزیزایڈیٹرپیغام مادر وطن کا تہ دل سے مشکور ہوں جو میرے مضامین کو اولیت دیتے ہیں اور بلاجھجھک ہمیشہ اپنے اخبار کی زینت بناتے ہیں ۔ اللہ تعالی سے ان کے لئے سلامتی اور اس اخبار کے ذریعہ قوم ومذہب کی مزید خدمت کی دعا کرتا ہوں ۔
(35)
تحرير لكھنے سے پہلے اس كے متعلق قواعد و ضوابط جاننا اور ان كا خيال ركھنا پسند كرتے ہيں يا جو جى ميں آئے؟
جواب : موضوع سے متعلق میرا یہ نقطہ نظر ہے کہ جو حالات کے مطابق ہو اوراس پر اردو میں کم یا نہیں لکھا گیا ہوایسے موضوع کو منتحب کرتا ہوں ، ساتھ ہی اسلامیات کے جدیدتر مسائل کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ جہاں تک مضمون کے قواعد وضوابط کی بات ہے تو میں پہلے موضوع سے متعلق ہرپہلو کو جاننے کی کوشش کرتا ہوں ، کوئی اشکال یا اعتراض وارد ہوسکتا ہے اسے بھی بنظر غائز دیکھتا ہوں پھر ذہن میں ایک خاکہ تیار ہوتا ہے اسے کے حساب سے مضمون مرتب کرتاہوں ۔
(36)
تصانيف جو اب تك شائع ہو چكيں ؟
جواب : نیپالی میں دو کتابیں شائع ہوئی تھیں ، معاشیات پر ایک مبسوط کتاب جو دراصل جامعہ کا مقالہ تھا ، اس طویل مقالےکے میرے مشرف ومربی شیخ محمدابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ رئیس الاحرار کہاکرتے ۔ یہ کتاب مکتبہ فہیم مئو سے چھپنے والی تھی، بک لیٹ میں بھی نام درج ہوگیا، کمپوزنگ بھی ہوگئی مگر نہ جانے کیا ہوگیا؟ ابھی ایک کتاب لاالہ الااللہ اور اس کے مقتضیات پر میرے سنٹر سےچھپنے کے لئے پریس میں گئی ہے ۔ ایک دوسری اردو کتاب رمضان المبارک کے فضائل ومسائل رمضان تک شائع ہوجائے گی ۔تبلیغی جماعت کا تعارف وتجزیہ اور قرآن وسنت کا باہمی ربط کے عنوان پر دوکتابیں اردو میں اور فضائل اسلام پر ایک کتاب نیپالی میں غیرمطبوع ہیں۔ باقی متعدد مقالات ومضامین ہیں جنہیں ان شاء اللہ کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ ہے ۔
(37)
مذہبی حلیے سے كئى لوگوں کو خاصى تكليف ہوتى ہے ، آپ كا ايسے مواقع پر كيا رد عمل ہوتا ہے؟ كوئى تجربہ جو ذكر كرنا چاہيں ؟
جواب : الحمد للہ ایسی کوئی نوبت نہیں پیش آئی البتہ اس کے برخلاف ایک مرتبہ گھر سے چھٹی گزارکر جامعہ جارہاتھا اس وقت کبھی کبھار کٹکھا کھالیا کرتا تھا،اسٹیشن پر ایک دوکاندار سے کٹکھا مانگااس نے کٹکھا دیتے ہوا کہا بیٹاتم طالب علم لگتے ہو اور کٹکھا کھاتے ہو؟ میں نے کہا آپ بھی تو بیچتے ہیں ، اس نے کہا میری تجارتی مجبوری ہے تمہاری کون سی مجبوری ہے ؟ میں لاجواب ہوگیا ، اسی کٹکھا پھینک دیا اور پھر دوبارہ اسے ہاتھ نہیں لگایا۔
(38)
ماشاء اللہ آپ پہلے ہی اردو مجلس کو بہت وقت دے رہے ہيں ليكن اردو مجلس ميں كوئى ايسى كمى جسے پورا كرنے ميں آپ مدد كر سكتے ہيں ؟
جواب: کمی سے تو کوئی مبرا نہیں ہے سوائے اللہ کے ، بس ہماری کوشش یہ ہوکہ ہم کتنی کمیوں کو دور کرسکتے ہیں ، اس کا اندازہ مجھ سے بہتر انتظامیہ کو ہوگا اور ناچیز کسی خدمت کے لائق ہو تو ضرور موقع عنایت فرمائیں ۔
(39)
اردو مجلس كى كوئى ايسى خامى جو آپ کو سخت ناپسندہو يا سب خوبيوں كا ستياناس كر ديتى ہے؟
جواب : میری نظر میں ایسی کوئی خامی نہیں ہے ۔

(40)
اردو مجلس كى كوئى ايسى خوبى جو كہيں اور نہيں ملتى ؟
جواب : یہاں خلوص وپیار ملا اور محبت بھرے ماحول میں کتاب وسنت کے دلائل سے مزین مضامین نشرکرنے اور دوسروں سے استفادہ کرنے کا بہترین موقع ملا۔
(41)
اردو مجلس كى انتظاميہ كى سب سے بڑی خامى جو آپ كو بہت محسوس ہوتی ہے؟
جواب : ایسی کوئی خامی مجھے اب تک محسوس نہیں ہوئی، اللہ کرے محسوس بھی نہ ہو۔
(42)
انتظاميہ اردو مجلس كى سب سے بڑی خوبى جسے آپ سراہنا چاہيں؟
جواب : اردو مجلس فورم کا ہونا ہی میری نظر میں بڑی خوبی ہے جہاں ہرفن سے متعلق ماہرین کا اجتماع ہے ۔ رنگارنگ مضامین پڑھنے اور ان پرآزادانہ تبصرہ وتنقیدکرنے کو ملتا ہے ۔
(43)
اراکین کے ليے کچھ ايسى دينى كتب كا مطالعاتى نصاب تجويز كريں جن كا مطالعہ كرنا آپ کى نظر سے گزرنے والى ہماری معلومات كى خاميوں كو دور كرے ؟
جواب : میں تو عام لوگوں کو مستند تفاسیر اور کتب احادیث کا مطالعہ کرنے کو کہتا ہوں جس سےصحیح دین کی سمجھ ملے گی اور سماج وسوسائٹی سے اختلاف وانتشار اور شرک وبدعت کا خاتمہ ہوگا ۔ جو خاص طبقہ ہے وہ اپنے فن اور دلچسپی کے حساب سے موضوع وکتاب متعین کرتا ہے ۔
(44)
ماشاء اللہ آپ دعوت و تبليغ ميں متحرك ہيں ۔ اپنے تجربات كى روشنى ميں ساتھی داعيان و داعيات كو كيا نصيحتيں كرنا چاہيں گے ؟
جواب : دعوت وتبلیغ کرنے والوں کی بہت کمی ہے اور اچھائی کے مقابلے میں شر کا پھیلاؤکئی گنازیادہ ہے اس وجہ سے جو دعوت سے جڑے ہیں انہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے دعوت کا احساس کریں کہ اس کی کیا اہمیت ہے اور اس پرفتن دور میں دعوت کی کس قدر ضرورت ہے ، اس احساس کے تناظر میں جہد مسلسل اور انضباط وقت کے ساتھ فریضہ تبلیغ انجام دیں ۔ پھر دیکھیں آپ کی محنت کا ثمرہ کس قدر ظاہر ہوتا ہے ؟۔

مکمل تحریر >>

شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ کا ایک انٹرویو

 

شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ کا ایک انٹرویو
انٹرویونگار: ابوابان عثمان بن خالد مرجالوی حفظہ اللہ


تعارف انٹرویونگار: میرا نام اَبو اَبان عثمان بن خالد مرجالوی ہے ،میرے والد گرامی فضیلۃ الأستاذ حافظ خالد بن بشیر مرجالوی صاحب حفظہ اللہ تعالٰی ( شیخ الحدیث : جامعہ محمدیہ اہلحدیث ، گوجرانوالہ، پاکستان ) ہیں، جو محدث العصر حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ ( صاحب إرشاد القاري إلى نقد فيض الباري ) کے خاص تلمیذ اور جانشین ہیں۔
میری فراغت جامعہ محمدیہ اہلحدیث سے ہی ہےاور آج کل " دار الحديث جامعہ کمالیہ راجووال ،اوکاڑہ، پاکستان" میں شعبہ درس نظامی میں مدرس ہوں۔اس کے علاوہ کچھ تصنیفات مطبوع ہیں اور اکثر پر کام جاری ہے الحمد للہ.فی الحال "نخبة الأحاديث، للإمام السيد محمد داود الغزنوي" پر عربی میں حاشیہ لگا رہا ہوں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🔘1) ذاتی معلومات
نام، کنیت، نسبت، سن پیدائش ومقام پیدائش کے متعلق آگاہ فرمائیں
میرا نام مقبول احمد، کنیت ابوسنبل ،نسبت انصاری، سن پیدائش 1984ء اور مقام پیدائش اندھراٹھاری، ضلع مدھوبنی ، بہار الہند ہے۔
خاندانی پس منظر
اپنا مکمل خاندان سدا سےاہل حدیث ہے جو دیوبندیوں کی کثیر تعداد کے درمیان ہے ۔ والد گرامی فیض عام مئو یوپی کے قدیم فارغین جو علمی اور اسنادی اعتبار سے پختہ مانے جاتے ہیں ان میں سے ہیں ۔ آپ نے ہم پانچ بھائیوں کی تعلیم وتربیت پر کڑی سے کڑی محنت کی اور سبھی کو عربی جامعات سے تعلیم دلوایا ۔
تعلیمی سفر
ابتدائی تعلیم والد محترم نے اپنے زیر سایہ گھر میں ہی دلوائی، کہنے کے لئے مختصر تعلیم گاؤں کے مدرسے میں لی جہاں والد گرامی نائب مدرس کے عہدہ پر تھے اور اعلی تعلیم کے لئے بڑے بھائی منظور الرب اسلامی نے جامعہ سلفیہ بنارس میں متوسطہ کے مرحلہ میں داخلہ دلوایا۔ اس جامعہ سے مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد عصری تعلیم کے لئےدہلی کا رخ کیا مگر معاشی کمزوری کی وجہ سے لوٹنا پڑا اور درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ سے جڑگیا تاہم اس دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی اےاردو آنرس کیا اور پھر اپنے صوبہ سے وفاق المدارس کا آخری مرحلہ فاضل تک کا کورس پورا کرلیا۔
کن اساتذہ کرام سے کب فیض کیا؟
اساتذہ کی لمبی فہرست ہے ، بچپن سے والد گرامی استاد رہے اورکچھ مزید اساتذہ گاؤں کے مدرسہ کے ہیں تاہم میرے اہم اساتذہ جامعہ سلفیہ بنارس کے ہیں جو 1996 سے لیکر 2003 کے درمیان رہے ، ان میں سے چند کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں ۔
(1)
ڈاکٹر رضاء اللہ محمد ادریس مبارک پوری(2) ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری(3) ڈاکٹر ابراہیم مدنی(4) شیخ محمد رئیس ندوی(5) شیخ عبدالسلام مدنی(6) شیخ عزیزالرحمن سلفی(7) شیخ مستقیم سلفی(8) شیخ اسعد اعظمی(9) شیخ ابوالقاسم فاروقی سلفی(10) شیخ عبدالمتین مدنی(11) شیخ عبیداللہ طیب مکی(12) شیخ محمد نعیم مدنی(13) شیخ محمد یونس مدنی(14) شیخ احسن جمیل مدنی(15) شیخ سعید میسوری مدنی (16) شیخ محمد حنیف مدنی(17) شیخ علی حسین سلفی(18) شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی(19) شیخ احمد مجتبی مدنی(20) شیخ احسان اللہ سلفی(21) شیخ محمد یحی فیضی(22) شیخ عبدالوہاب حجازی(23) شیخ امراللہ رحمانی
کونسی کھیلیں کھیلتے رہے؟
کبھی کبھار فٹبال کھیلا مگر کرکٹ زیادہ پسند تھا ، گھر پہ پھر جامعہ سلفیہ میں ثانویہ کے مرحلہ تک کھیلا کیا ۔ اس کے بعد خطابت وصحافت کی گہری دلچسپی اور مطالعہ کی کثرت کی وجہ سے اس وقت سے اب تک کسی کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
شادی کے حوالے سے کچھ تفصیلات،اور اس حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ، نصیحت اور سسرال کے متعلق معلومات اگر مناسب ہو تو؟
فراغت کے بعد دہلی پھر ایک سال بعد وہاں سے واپسی کے بعد نیپال میں دینی خدمات انجام دینے لگا ، برسرے روزگار ہونے کی وجہ سے جلد ہی گاؤں سے ایک رشتہ آگیا ۔ میرے علم کی حد تک اس سے پہلے کوئی رشتہ نہیں آیاتھا ، لڑکی شریف النفس اور گھرانہ دیوبندی مگرنہایت ہی شریف ہونے کی وجہ سے والد صاحب نے شادی کی بات پکی کرلی اور شادی ہوگئی ۔ اس نکاح کا ایک واقعہ یوں ہوا کہ گاؤں کے دیوبندی امام صاحب نے میرا نکاح پڑھایا ، پہلے اردو زبان میں ایجاب وقبول کروایا پھر عربی الفاظ نکحت، زوجت اور قبلت مجھے کہنے کو کہا ۔ میں نے کہا نکاح ہوگیا خواہ کسی زبان میں ایجاب وقبول ہو۔ اگر عربی کے الفاظ مجھ سے کہلوانا تھا تو نکاح عربی میں پڑھانا تھا ۔ بس وہ حیران وششدر ہوگئےاور کہنے لگے ٹھیک ہے نکاح ہوگیا کوئی بات نہیں ۔
اب تک کی مصروفیات
خطابت وصحافت اور دعوت وتبلیغ میرا میدان رہا ہے ۔ فراغت کے بعد سے اب تک رب العالمین نے اس فریضے کی ادائیگی کی توفیق دی ۔ مزید پروردگار عالم سے آخری سانس تک اسی کی توفیق طلب کرتا ہوں ۔ میرے بلاگ "مقبول احمد ڈاٹ بلاگ اسپاٹ ڈاٹ کام" اور محدث فورم کے علاوہ اردو مجلس فورم پر تفصیل سے میرا تعارف وانٹرویو موجود ہے وہاں دیکھا جاسکتا ہے ۔
دلچسپ کون سا موضوع ہے؟
میرا دلچسپ موضوع جدیدیت ہے یعنی میں ایسا موضوع پسند کرتا ہوں جس پہ اردو داں کے لئے اردو میں ناقص یا نہ کے برابر علمی مواد موجود ہو اور لوگوں کو اس سلسلے میں دینی رہنمائی کی ضرورت ہو۔اسی طرح سلگتے موضوعات اور قابل اعتناء تجزیاتی مسائل بھی میری توجہ کا مرکز ہیں ۔ یہ سارے امور خواہ احکام و فقہ سے متعلق ہوں یا معاشیات سے یا معاملات سے ۔
خاص تلامذہ کے نام؟
تدریس کا فریضہ مختصر عرصہ تک رہا جو نیپال جنک پور میں گزرا ، وہ ابتدائی مدرسہ تھا جو اب ختم ہوگیا مگر اس میں پڑھائے ہوئے کئی بچے جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ اصل میدان دعوت ، خطابت اور صحافت رہا ہے۔
اب تک کا تصنیفی کام؟
مضامین ومقالات تو پڑھنے کے زمانے سے اب تک شائع ہوتے رہے ہیں اورآئے روز لکھتا بھی رہتا ہوں جو ہندوپاک کے مختلف اخبار وجرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ کئی کتابیں تصنیف کی ان میں سے ایک ابھی جلدی شائع ہوئی رمضان المبارک کے فضائل ومسائل پہ ۔ اس کے علاوہ معاشیات پہ جامعہ سلفیہ کا ایک مبسوط مقالہ ہے جس کے مشرف مکرم شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ تھے اور اس مقالے کی طوالت کی وجہ سے مجھے رئیس الاحرار کہا کرتے ۔(ابتسامہ)یہ مکتبہ فہیم مئو سے شائع ہونا تھا ، کمپوزنگ کے مرحلہ سے گزر کر پھر شاید اس میں تقریظ نہ ہونے کے سبب رک گیا ،اسی دوران سعودی آگیا جس کی وجہ سے مکتبہ سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
تبلیغی جماعت : تعارف وتجزیہ پہ ایک کتاب ہے ، عمل بالکتاب والسنہ کے نام سے ایک کتاب ہے ۔ ایک کتاب لاالہ الااللہ کے معنی پہ ترجمہ کیا ہوں جو اپنے دعوتی سنٹر سے شائع ہونے کے لئے سرکاری تمام مراحل طے ہوئے کئی مہینےگزرگئے مگر اب تک شائع نہ ہوسکی ۔ نیپالی زبان میں تین کتابوں کا ترجمہ کیا ان میں سے دو الامان الثانی اور سر دوام النعم بریدہ القصیم اسلامی سنٹر سے چھپی اور تیسری کتاب فضل الاسلام چھاپنے کا ارادہ ہے ۔ کئی مضامین پمفلٹ کی شکل میں ہندوستان سے شائع ہوئے اور ابھی ایک مختصر فتاوی ترتیب دیا ہوں مستقبل میں اسے مزین کرکے شائع کرنے کا ارادہ ہے بلکہ جو مضامین ومقالات ہیں انہیں بھی ایک کڑی میں پروکر شائع کرنا ہے ۔ ان شاء اللہ
پسندیدہ کتب کے حوالے سے اہل علم اور عام قارئین کے نام کوئی خاص پیغام
اہل علم کو علوم حدیث اور علوم قرآن سے گہری دلچسپی رکھنے بلکہ ان کے لئے وقت نکالنے کی نصیحت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ جنہوں نے اعلام الموقعین ، المحلی اور المغنی کا مطالعہ نہیں کیا وہ ضرور ان کا مطالعہ کریں ۔ عام لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ قرآن کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ ایک بار ضرور پڑھیں اور تمام کتب احادیث کا مطالعہ نہیں کرسکتے تو کم ازکم بخاری شریف ترجمہ کے ساتھ مکمل مطالعہ کریں ۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ دین کی محبت کے ساتھ اسے خود سے جاننے کا موقع ملے گا اور پھر تقلید شخصی، گروہ بندی اور اختلاف وانتشار سے بچتے ہوئے مطمئن ہوکر صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں حاصا مدد ملے گی ۔
پسندیدہ کھانا؟
دہلی کی بریانی اور سعودی عرب کی لحم مندی بہت پسند ہے۔

پسندیدہ لباس؟
ستر کے لحاظ سے عربی جبہ زیادہ پسندیدہ ہے۔
روحانی طور پر کن شخصیات سے بہت متاثر ہیں؟
کتابوں میں پڑھے ہوئے بہت سارے ہیں مگر آنکھوں سے جن کا دیدار کیا ان میں والد گرامی کی بچپن کی تعلیم وتربیت سے ، سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر رضاء اللہ محمد ادریس مدنی رحمہ اللہ کی طلبہ جامعہ سلفیہ کی فکر کثیر سے، شیخ محمدابوالقاسم فاروقی حفطہ اللہ مدرس جامعہ سلفیہ کی بچوں کی بے لوث ہمت جہتی تربیت سے بہت مثاثر ہوں ۔ مولانا عبدالسمیع جعفری حفطہ اللہ پٹنہ بہار کی شخصیت وبزرگی سے بھی کافی مثاتر تھا۔یہاں ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ دیوبندی اداروں میں عموما ایک عالم دوسرے عالم کی بڑی قدر کرتے ہیں ، یہ میں سنتا تھا مگر دیکھنے کو بھی ملا ۔ 2004 میں چند مہینے دہلی میں ایک دیوبندی ادارے میں بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھایا اس دوران میں نے دیکھا ایک عالم ہمیشہ فجر کی نماز میں بیدار کرنے کے لئے میرا پیر دبایا کرتے ، انہوں نے کبھی بھی آواز دےکر نہیں جگایا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اہل حدیث مدارس میں علماء کے مابین محبت نہیں مگر ایک دوسرے عالم کے تئیں ہمارے اداروں ، مرکزوں اور ساری جگہوں میں بہت چپقلشیں ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
نہ بھولنے والے پیش آمدہ واقعات؟
ایک واقعہ ابھی حال ہی کا ہے جسے شائد جیتے جی نہ بھول پاؤں ۔ 28/نومبر 2017 بروز منگل صبح اچانک میرے سر میں درد شروع ہوااور بڑھتا چلا ۔ دوپہر میں بچوں کو اسکول سے لانا تھا مگر درد کی شدت کی وجہ سے نہیں لا سکا۔اس قدر پریشانی کہ بچوں کو اسکول سے نہیں لاسکا مگر صبح آفس میں ڈیوٹی کیا، پھر ظہر سے عصر تک چھٹی ہوتی ہے ۔ عصر کے بعد پھر آفس آگیا۔ آفس آتے ہی بخار، سردرد اور بدن کی بے چینی کچھ مزید بڑھنے لگی تو مغرب کے بعد چھٹی لیکر گھر چلا آیا۔ مغرب سے عشاء کے درمیان بخار اور بلڈ پریشر اپنے عروج کو پہنچ گیا تھا اور مجھے بخار کا احساس ہو رہا تھا مگر بلڈ پریشر بھی ہائی ہے اس طرف بالکل دھیان نہیں گیا۔ پھر آنکھوں کے سامنے اندھیر ا سا چھانے لگا، گھر میں بچے شور مچا رہے تھے مجھے کسی کا ایک لفظ اس وقت سننا گوارہ نہیں تھا اس لئے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ایک گھر میں سلانے کو کہااور میں مہمان خانہ میں ایک کمبل لے کر چلا گیا ، اہلیہ پاس بیٹھنے آتی تو اسے بھگادیتا ، کچھ بولتی تو بہت غصہ کرتا۔ اس وقت جیسے مجھے کوئی بولی ، کوئی انسان نہیں بھا رہا تھا حتی کہ زندگی بوجھ لگنے لگی ۔ جیسے لگ رہا تھا میرے بدن کے ہر عضو سے شدت کے ساتھ روح نکالی جا رہی ہو۔ تکلیف کا ایک پہاڑ ٹوٹ رہاتھا ، نہ جانے کیا کیا خیال دل میں آنے لگے ، میں سوچنے لگا کہ شاید یہ میرا آخری وقت ہو۔ تکلیف کی تاب نہ لاکر سوچ رہا تھا کوئی قتل کردے یا زہر کھلا دے ۔ اسی اثناء نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنے قریبی ساتھی شیخ عمران احمد سلفی (داعی اسلامی سنٹر طائف) کو فون کیا ، ان کے ساتھ ڈاکٹر فیاض الدین صاحب بھی دعوتی کام میں معاون ہیں ۔ میں نے انہیں آلات اور دوائیاں ساتھ میں لانے کو کہا ۔ انہیں آنے میں ایک گھنٹہ لگ گیاکیونکہ وہ دور رہتے ہیں ۔ بہر کیف ! رات دس بجے کے قریب وہ پہنچے تب تک میں اذکار واستغار میں مشغول تھا بلکہ کسی طرح سوئے سوئے بغیر حرکت کئے دو رکعت نماز بھی ادا کی اور باربار کلمہ دہراتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے بخار جانچا تو 110 تھا اور بلڈ پریشر دیکھا تو 130/170 تھا ۔ جلدی سے بخار وبی پی کی دوائیاں دیں۔ تکلیف کم نہیں ہو رہی تھی اس لئے مجھے ان دونوں پر غصہ بھی بہت آرہاتھا مگر ضبط کر رہا تھا۔ ایک گھنٹہ بعد بی پی نارمل ہوا تو مجھے کچھ راحت ہوئی ، سویا تھاتو اٹھ کر بیٹھ گیا مگر بخار کم نہیں ہوا۔ اب ایک دوسری کیفیت بکنے کی شروع ہوئی ۔ سوشل میڈیا پر کیسے کام کرتا ہوں وہ سب نہ جانے آپ خود زبان سے جملے کی شکل میں نکل رہے تھے ۔ شیخ عمران دم بھی کررہے تھے ، پانی سے کیلی پٹی سر پر باربار رکھ رہے تھے ، مجھے نہانے کو کہا گیا۔ نہانے کے کچھ دیر بعد بولنے کی کیفیت ختم ہوگئی ۔ بخار کچھ کم ہوا اور راحت محسوس ہونے لگی تو دونوں حضرات کو جانے کو کہا ۔صبح پھر شیخ عمران کے ساتھ ہاسپیٹل گئے اور وہاں انجکشن کے ذریعہ زود اثر علاج کیا گیا الحمد للہ ٹھیک ہوگیا ۔ اس دن کے اثر سے بلڈ پریشر اب مجھے اکثر کچھ زیادہ رہنے لگا تو احتیاط کر رہاہوں ۔ یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب آدمی کو آخری وقت محسوس ہونے لگ جاتا ہے تو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے صرف برائی ہی برائی نظر آتی ہے اور وہ اس سے پلٹنا چاہتا ہے مگر پلٹنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے اس لئے انسان کو ہمیشہ اعمال صالحہ انجام دینا چاہئے اور برائی سے حتی المقدور بچنا چاہئے ۔ اور دوسری بات یہ کہ ہائی بلڈ پریشر خاموش قاتل ہے اس سے دنیا میں بہت اموات ہورہی ہیں اس لئے اس خاموش قاتل سے محتاط ہوکر رہنے کی ضرورت ہے خواہ طور سے وہ حضرات جو پینتیس سال سے اوپر کے ہوں ۔
آج تک کتنے بچوں پر اس قدر محنت کی کہ انھیں مستقبل میں اپنا نائب سمجھتے ہیں؟
اس سے پہلے بھی یہ سوال گزرا کہ درس کے میدان میں کم رہا ہوں ، دعوت وتبلیغ کا دائرہ درس سے کافی وسیع ہے یہاں کون اور کتنا متاثر ہوتا اور کس شخصیت سے زیادہ افادہ کرتا ہے وہی شخص جانتا ہے ۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ جہاں بھی دعوت کا کام کیا خواہ سوشل میڈیا ہو یا زمینی میدان وہاں والوں پر ایک اثر چھوڑا ۔
آپ کے قریبی دوست کون ہیں؟
اس وقت میرا قریبی اور اصل دوست صرف علم ہے جسے مختلف ذرائع سے حاصل کرتا ہوں او ر میڈیا کے ذریعہ نشر کرتا ہوں ۔
کثرت سے مانگی گئی دعا اور قبولیت دعا کا کوئی خاص واقعہ؟
بہت سی دعائیں کی، رب نے بہت سی دعائیں قبول کی ،کثرت سے مانگی گئی دعا ؤں میں نیک بیوی ، صالح اولاد اور والدین کے لئے رحمت ومغفرت مانگا ۔ اللہ نے گمان سے زیادہ نیک بیوی عطا کیااور الحمد للہ تین لڑکیوں اور ایک بیٹے سے نواز ا ۔زمانہ پرفتن ہے ، گھر گھر برائی کا طوفان امنڈ رہاہے ایسے حالات میں اللہ سے بکثرت اب بھی یہی دعا ہے کہ میری اولاد کو صالح بنائے ۔ آپ کے کہنے سے آج ایک واقعہ یاد آگیا ۔ ایک بار میرے ہاتھ سے گھڑی گم ہوگئی ۔ ظہر سے پہلے گھڑی کا خیال آیا ،گھر میں اندر ، باہر بہت تلاش کیا مگر نہیں ملی ۔ اس وقت مجھے نبی ﷺ کا خیال آیا کہ نبی ﷺ کو کوئی اہم معاملہ لاحق ہوتا تو نماز پڑھتے ، ویسے والد گرامی کی وجہ سے بچپن سے نماز پڑھتا ہوں ، ظہر کے وقت مسجد گیا ، نماز میں گھڑی کے لئے اللہ سے دعا کی تو گویا اسی نماز میں اللہ نے وہ جگہ دکھادی جہاں گھڑی گری تھی ۔ نماز کے بعد گھر گیا اور ڈائرکٹ اسی جگہ گیا ۔ اس جگہ مرغی کا دربہ تھا ،اس میں ہاتھ بھر نیچے کی جانب سراخ ہوتا ہے تاکہ اس سوراخ سے مرغیاں نکالی جائیں ۔ میں نے اسی سوراخ سے صبح مرغی نکالی تھی ، اس سوراخ میں گھڑی لگنے سے وہیں گر گئی تھی ۔ سبحان اللہ
ایک واقعہ دوران طالب علمی کا ہے ۔ گرمی کی چھٹی میں اپنے ساتھی تنویر ذکی کے ساتھ ان کے یہاں بہار کے ضلع پورنیہ کا سفر کیا ۔ ظہر کے وقت گھر پہنچے اسی وقت ان کی بہن کے پیٹ میں شدید قسم کا درد اٹھا، میں نے ساتھی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میری بہن کو اکثر پیٹ میں اچانک شدید قسم کا درد اٹھتا ہے ۔ اسی وقت میں نے گلاس میں پانی لانے کو کہا ، اس میں دم کیا اور کہا کہ اسے پورا پلائیں ۔ پانی پیتے ہی درد کافور ہوگیا۔ اب یہ بات گاؤں کی عورتوں میں پھیل گئی مجھے کچھ معلوم نہیں ، شام ہونے کو تھی دیکھتا ہوں بہت ساری عورتیں برتن میں پانی لئے دم کروانے واسطے صف میں کھڑی ہیں ۔ میں نے کہا یااللہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ پتہ چلا کہ دوپہر میں دم کرنے سے فائدہ ہونے کی وجہ سے یہ سب پانی میں دم کروانے آئی ہیں ۔ میں نے سب کو سمجھا کہ آپ خود اپنا دم کرسکتی ہیں ، آپ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور میں نے جو پڑھ کے دم کیا ہے وہ اکثر کو یاد ہوگا۔ میں کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں ہوں ، اللہ کے کلام میں شفا ہے اور نبی ﷺنے جو دعائیں سکھائیں اس کے ذریعہ مرض دور ہوجاتا ہے ۔ اس طرح بہت سمجھا بجھا کر ان سب کو واپس کیا۔ یہ دیکھیں کہ عورتوں میں کس قدر ضعیف الاعقتادی ہے ؟
روزانہ کے معمولات کیا ہیں؟
فجر کے بعد تھوڑا آرام کرکے بچوں کو اسکول کی تیاری میں لگ جاتا ہوں ، جب بچوں کو اسکول پہنچا دیتا ہوں تو اسی وقت آفس چلا آتا ہوں ۔ گوکہ آفس کے وقت میں ابھی کافی وقت باقی ہوتا ہے مگر لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اسکول سے گھر جانے کی بجائے روزانہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے آفس آجاتا ہوں ۔ اس وقت سے لیکر ظہر تک لکھنے میں مصروف رہتا ہوں ۔ دراصل اسی وقت میں سوشل میڈیا پہ اپنے گروپ اور مختلف سوشل مقامات پہ مجھ کئے گئے سوالات کا جواب دیتا ہوں ۔ ظہر کے بعد بچوں کو اسکول سے لانا اور دوپہر کا کھانا کھلانا کے بعد ان کا ہوم ورک کرانا ہوتا ہے۔ عصر کے بعد آفس کی روٹنگ کے مطابق دعوتی منصوبوں کی تکمیل کرنا ہوتا ہے۔ اکثرمضامین، مقالات اور تحقیق عشاء کے بعد کرتا ہوں کیونکہ اس وقت ذہنی یکسوئی ملنے سے کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ ہفتہ اور اتوار دودن آفشیل چھٹی ہے مگرانہیں بھی لکھنے پڑھنے اور لوگوں کی رہنمائی میں اکثر صرف کرتا ہوں ، بسااوقات گھریلو کام کاج میں مصروف ہوجاتا ہوں ۔
زندگی کے کچھ ذاتی تجربات؟
یہاں ذاتی تجربات کے طور پر سبھی بھائیوں کو کہوں گا کہ جہد مسلسل اور وقت کی پابندی سے آپ ہر وہ منزل پا سکتے ہیں جس کو پانے کی آپ کو تمنا ہے ۔میں نے وکیل الجامعہ السلفیہ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی سیرت میں پڑھا کہ وہ متوسط طالب علم تھے مگر لگن اور انضباط وقت کی وجہ سے اپنے تمام ساتھیوں میں ممتاز اور یگانہ روزگار ہوگئے ۔ میں نے اس کا تجربہ کیا اور آپ کو بھی اس پہ عمل کرنے کی نصیحت کرتا ہوں ۔
ازواج واَولاد کے متعلق کچھ آگاہ فرمائیں؟
اللہ تعالی نے نیک سیرت بیوی سے تین لڑکیا ں اور ایک بیٹا نصیب کیا۔ بڑی بچی سنبل فردوسی دس سال کی ہے جو سعودی مدرسہ میں ابتدائی چہارم میں زیر تعلیم ہے ۔ اور بیٹا عبدالمہیمن ابھی نرسری میں ہے ۔ ایک بچی سندس فردوسی دو سال اور ایک بچی سدس فردوسی سات ماہ کی ہے ۔
بیوی دیوبندی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ، میں نے کبھی انہیں کسی عمل کے لئے مجبور نہیں کیا بلکہ انہیں کتاب کے ذریعہ دعوت دی ۔ میں پہلے فراغت کے بعد اکیلے باہر رہا کرتا (ابھی بچوں کے ساتھ سعودی عرب میں ہیں ) اور تین چار ماہ بعد گھر آیا کرتا ۔ ہمیشہ جاتے وقت اہلیہ کو ایک کتاب مطالعہ کرنے کو کہتا اور جب واپس ہوتا تو اس کتاب پر بات چیت ہوتی ۔ اس طرح آہستہ آہستہ وہ قرآن وحدیث اور منہج سلف کو سمجھنے لگی اور نماز وروزہ کی پابندی کے ساتھ سنت کے مطابق عمل کرنے لگی ۔
آپ کی کوئی دلی تمنا؟
میری بڑی خواہش ہے کہ اہل حدیث علماء کا ایک عالمی نٹورک ہو جس سے پوری دنیا کے علمائے اہل حدیث جڑے ہوں اور اس نٹورک کے ذریعہ اخوت ومحبت کے ماحول میں ہر خطے کی دینی ، دعوتی، اصلاحی اور رفاہی خدمات اجاگر کئے جائیں اور اصل ہدف منہج سلف کو عام کرنا ہو۔ ڈاکٹرذاکر نائک کو اللہ نے اس کام کی تھوڑی بہت توفیق دی مگر وہ حاسدوں کی نظر ہوگئے ۔ یہ زمانہ نٹورکنگ کا ہے اور دعوت کے لئےیہ میدان بھی وسیع وعریض ہے ۔ اس لئے ایک عالمی نٹورک چاہئے اور وہ بھی خالص سلفی تاکہ اس کے ذریعہ صرف منہج سلف کی آواز لوگوں تک پہنچے ۔ کوشش سے یہ کام ممکن ہے ۔ شیخ محترم حافظ عثمان بن خالد مرجالوی حفظہ اللہ کی نظر بھی وسیع ہے انہوں نے بھی اس قسم کا ایک قابل قدر منصوبہ بنایا ہے اللہ تعالی اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین
آپ سے درس، خطبہ لینے اور ملاقات کرنے کا طریقہ؟
میں سیدھا سادا آدمی ہوں کوئی بھی کبھی بھی وقت آکر مل سکتا ہے البتہ وقت کے ضیاع اور عدیم الفرصت ہونے کی وجہ سے موبائل یا میسنجروغیرہ ذریعہ سے بات چیت کم ہی کرتا ہوں۔ ہاں وقت مناسب ہوتو ضرورت بھر بات کرتا ہوں ۔ اب تو وہ زمانہ نہیں ہے کہ طلبا ء اساتذہ کو تلاش کریں بلکہ یہ کام اب علماء ودعاۃ کا ہے کہ وہ درس، وعظ اور تقریر کے لئے لوگوں کو تلاش کرئیں۔ اس زمانے کا المیہ ہے۔
🔘2) علماء کرام کی بابت معلومات
ایک عالم کی شخصیت کیسی ہونی چاہیے؟
عالم کی شخصیت عام آدمی سے بلند ہو یہ شخصیت کی بلندی شکل وصورت، لباس وزینت، جاہ ومنصب، اور دولت وشہرت سے نہ ہو بلکہ علم وعمل ، اخلاق حسنہ، تواضع وخاکساری اور الفت وخلوص سے ہو۔
منتظمین مساجد ومدارس سے علمائے کرام کا رویہ کیسا ہونا چاہیئے؟
نظماء مساجد ومدارس کا علماء کرام سے رویہ بہتر سے بہتر ہونا چاہئے کیونکہ علماء کا بڑا مقام ہے مگر یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ مساجد ومدارس کے نظماء حضرات کیسے ہونا چاہئے ؟ اگر یہ لوگ باشرع، اخلاق مند، حسن تعامل اورانتظامی امور سے باخبر ہوں تو پھر رویہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔ آج ہرجگہ رویہ پہ اس لئے سوال اٹھ رہے کہ مساجد ومدارس کے نظماء اکثربے دین وبداخلاق نظر آتے ہیں ۔ دینی جگہوں پہ ذمہ داروں کا انتخاب دین کی بنیاد پر ہو۔
خطبات ودروس کی تیاری کیسے کرنی چاہیے؟
آج کل دروس اور خطبات کی بہتیرے کتابیں دستیاب ہیں ، سہل پسند ، وقت کم پانے والے یا زیادہ سے زیادہ تقریر کرنے والے حضرات انہیں کتابوں سے استفادہ کرتے ہیں ۔ میں اس کے خلاف نہیں ہوں مگر مزید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی نے اپنی نظر سے کسی موضوع کے نکات پر بحث کی ہے اگر آپ اس موضوع کی تحقیق کریں تو مزید کچھ دوسرے نکات بھی سامنے آئیں گے اس لئے کبھی کبھار کسی تیار شدہ مادہ سے خطاب کرلئے تو کوئی حرج نہیں مگر ہمیشہ کے لئے یہ عمل صحیح نہیں ہے ۔ آپ خود سے تیاری کریں ، موضوع سے متعلق مختلف کتب ، مضامین اور نکات کی طرف التفات کریں اور پھر اس کے اہم پوائنٹ نوٹ کرکے ساتھ لے جائیں تاکہ جن باتوں کی آپ نے تیاری کی ہے وہ سبھی بیان کرسکیں ۔ جب اپنی تیاری ہو تو آپ کو بولنے میں بہت آسانی ہوگی مگر کسی دوسرے کا مضمون ہوتو وہاں آدمی لکیر کا فقیر ہوتا ہےیعنی اسی مضمون سے بندھا ہوتا ہے ۔
کتب کا خریدنا کافی مشکل ہوگیا ہے، کوئی حل؟
ٹکنالوجی کی ترقی نے اس مشکل کو کافی حد تک آسان بنادیا ہے ، اکثر کتابیں نٹ پہ دستیاب ہیں ان سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ جو کتابیں نٹ پر نہیں ہیں انہیں کسی سے مستعار لیکراس کی زیرکس کاپی تیار کر لی جائیں ۔
ایک عالم کے پاس دنیاوی تعلیم کتنی ہونی چاہیے؟
جدید ذہن اور پرفیشنل حضرات علماء کو دنیا کے معاملے میں زیرو سمجھتے ہیں اور بسااوقات انہیں مولوی کہہ کر طعنہ دیا جاتا ہے اس لئے علماء کو دین کے ساتھ دنیا کی بھی معلومات ہونی چاہئے ۔ الحمدللہ دینی جامعات جب سے عصری درس گاہوں سے ملحق ہوئے تب سے علماء میں بھی عصری علوم کے ماہرین پائے جارہے ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ علماء دین کے ساتھ دنیا کا بھی علم رکھتے ہیں اور دنیا میں بڑے بڑے کام کرکے دکھائے ہیں ۔ ایک بات کا اضافہ کرلیا جائے کہ زمانہ ٹکنالوجی ہے اور انگریزی زبان عالمی ہے اس لئے علماء کو بھی اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ معلومات ہونی چاہئے تاکہ ریل وفلائٹ کا سفر ہو یا تجارت ومعاملہ ہو وہ آسانی سے حل کرسکیں۔
اپنے تلامذہ کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہئے؟
محبت ونرمی کا معاملہ ہونا چاہئے ۔ اس خوبی سے طلبہ اساتذہ کی زیادہ قدر کرتے ہیں اور اس قسم کے اساتذہ سے بچے کسب فیض بھی زیادہ کرتے ہیں ۔
عوام الناس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہئے؟
حسن اخلاق مومن کا مؤثر ہتھیار ہے اس سے ہرجگہ اور ہرکام آسانی سے کر سکتے ہیں ۔ دعوت دینی ہو، معاملہ کرنا ہو، دنیاوی کوئی کام ہو سارے حل ہوجاتے ہیں ۔
مستفتی سے کیسا سلوک کرنا چاہیے؟
جب کوئی عام آدمی بڑے عالم سے سوال کرتا ہے تو ڈرا سہما رہتا ہے ، نہ جانے جملہ کیسا ہے ؟ سوال میں کوئی غلطی تو نہیں، اس وجہ سے مفتی کا کردار اور اسلوب ایسا نرم و سہل ہو کہ مستفتی کو سوال پوچھنے میں خوف رکاوٹ نہ بنے ۔
بسا اوقات عوام کوئی ایسا مسئلہ لے آتی ہے جو وقت کے دو کبار علمائے کرام میں مختلف فیہ مسئلہ ہوتا ہے، عوام کو کیسے قائل کیا جائے؟
یہ مرحلہ عوام کے لئے پیچیدہ ہے بلکہ میں نے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی ایسے مسئلے میں خلجان کا شکار ہوتے دیکھا ہے ۔ یہاں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی بھی اختلافی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں دلائل واستدلال کی بنیاد پر کسی ایک فتوی کو راحج و قوی نہ قرار دیا جائے ۔ شاید باید کوئی عالم ہو تو یہ کہے کہ جاؤ دونوں یا سارے مختلف فتاوے پر عمل کرو بلکہ یہ کہنے والے اکثر علماء ہیں کہ مختلف فیہ فتاوی میں دیکھیں دلائل کہاں مضبوط اور قوی ہیں اسے اختیار کیا جائے ۔ ایسے مسائل کی روشنی میں عوام کو یہ باور بھی کراسکتے ہیں کہ دیکھو ہم کسی عالم کی بات صرف ان کے نام کی وجہ سے نہیں مانتے بلکہ جہاں قوی دلیل ہے اسے اختیار کرتے ہیں ۔اس طرح تقلید کے نقصان سے عوام بھی باخبر ہوسکتی ہے۔
کیا علمائے کرام کو کاروبار کرنا چاہئے؟
عوام کی طرح علماء بھی ہر قسم کا جائز پیشہ اختیار کرسکتے ہیں اس میں شرم وعام محسوس کرنے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ کاروبار تو بہت مفید ہے اس میں بے پناہ برکت ہے، علماء اگر اس جانب آجائیں تو دین کی بے لوث خدمات انجام دے سکتے ہیں کیونکہ دعوت دین میں مال کی بھی ضرورت ہے ۔ آج علماء کی معاشی حالت کمزور ہے تو صلاحیت کے پہاڑ ہونے کی باوجود علمی لیاقت کا اظہار وسیع پیمانے پر نہیں ہوپاتا۔اس کے علاوہ جس قدر چاہیں دینی ،اصلاحی ، رفاہی اور سماجی خدمات انجام دیں بغیر کسی گھمنڈی مالدار کی خوشامد کے۔مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ نیپال کی دارالحکومت کاٹھمانڈو میں ایک نئے مسلم نے جو کاروبار کرتے تھے مجھ سے سوال کیا کہ علماء کاروبار کیوں نہیں کرتے ؟ اس وقت سے یہ محسوس کررہاہوں کہ علماء کو بھی کاروبار کرنا چاہئے ۔ ڈر یہی لگا رہتا ہے کہ آج کل اگر کوئی عالم کسی دوسرے میدان سے جڑتے ہیں تو اکثر دین سے غافل ہوجاتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔
کیا علمائے کرام کو متعدد شادیاں کرنی چاہیئں؟
ہر کسی کے لئے شادی کا یکساں حکم ہے ۔ ہاں جہاں مطلقہ، بیوہ ، یتیم ومسکین لڑکیوں کی کثرت ہو اور ان کی شادیوں میں دشواریاں ہوں تو ان کی شادی میں حسب طاقت جو تعاون کرسکتے ہیں کرنا چاہئے ۔ اگر دوسری شادی کرنے کی طاقت ہے تو بے سہاروں سے شادی کرکے ان کا سہارا بنیں یا نہیں تو کسی دوسری جگہ شادی میں تعاون کریں ۔ اور ظاہر سی بات ہے اس کام کے لئے علماء ہی اپنا کردار پیش کریں گے پھر ان سے عوام کو نصیحت ملے گی ۔
کم از کتنے گھنٹے سونا چاہیے؟
ویسے تو آٹھ گھنٹے سنا ہوں مگر چھ گھنٹے بھی میرے خیال سے کافی ہیں اوردن میں قیلولہ کرلیا جائے ۔ ۔ اتنا زیادہ نہ سویا جائے کہ آدمی سستی کا شکار ہوجائےاور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی سرزدہو ۔
علمائے کرام مدارس میں پڑھائیں یا کالجز میں، زیادہ فائدہ کہاں ہے؟
علماء کی جگہ مدارس ہی ہے اور مدارس اسلام کے قلعے مانے جاتے ہیں انہیں سے اسلام کو سب سے زیادہ تحفظ ملا اسی سبب دشمنان اسلام مدارس کی شبیہ بگاڑنے ، ان میں پڑھنے پڑھانے والوں کا کردار مشکوک کرنے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی ناپاک کوشش کی مگر اللہ جس کی حفاظت کرے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر علماء اس جگہ سے چلے جائیں تو پھر یہاں کون رہے گا؟ کون اس کی نگہبانی، حفاظت اور آبیاری کرے گا؟ ہاں ایک مشورہ یہ ضرور دوں گا کہ علماء کو اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ کے لئے گاہے بگاہےاسلامی لکچر کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اس کے بڑے فوائد ہیں جو محسوس کرتے ہیں وہ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اسلامک لیکچر کا قیام ممکن نہ ہوتو ان ادارے والوں کو دوسرے جگہ بھی جمع کیا جاسکتا ہے ۔آپ یقین کریں کہ انہیں کوئی بات جلدی سمجھ میں آئے گی اور یہ عوام سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ہدایت پالے تو وہ کئی لوگوں کی ہدایت کا سبب بن سکتے ہیں ۔ یہاں صرف مسلم یونیورسٹیوں کی بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ جنرل کالج ویونیورسٹی کی ۔
ائمہ مساجد، خطباء اور مدرسین کی بہترین تربیت میں مشنری جذبہ کی آبیاری کیسے ممکن ہے؟
ان حضرات کے اندر مشنری جذبہ بیدار کرنے کے لئے سب سے اہم کردار ہمارا تربیتی کورس ادا کرے گا۔ ان کے لئے اس سے متعلق تربیتی کورس کا اہتمام کریں اور اس کے ذریعہ انہیں تعلیم وتربیت دیں ساتھ ہی اس کے تجرباتی ومشاہداتی نمونہ پیش کرکے یقین دلائیں وہ ضرور اس سے متاثر ہوں گے اور اس جانب توجہ مبذول کریں گے ۔
علمائے کرام کے نام کوئی پیغام؟
علماء اپنی ذمہ داریاں جانتے ہیں انہیں احسن طریقے سے ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ علماء کے درمیان ایک دوسرے سے حسد کرنا ایسا مرض مہلک ہے کہ جس کی وجہ سے دین کی تبلیغ ، درس وتدریس، نشر واشاعت، اجلاس واجتماع ، تنظیمی وسماجی خدمات سب بے ثمر ہوتے ہیں ۔ ہمیں ایک دوسرے کی خدمت کا اعتراف ، ایک دوسرے کے عزوشرف کا خیال ، ایک دوسرے کے اسرار ورموز کا تحفظ اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔ اس کے بغیر ہم کوئی کام ٹھیک سے اور ایک قدم صحیح سے نہیں بڑھاسکتے ۔ ایک دوسری نصیحت یہ ہے کہ یہ میڈیا کا زمانہ ہے اس کی افادیت کو محسوس کریں اور جس پہلو سے مثبت انداز میں لوگوں کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں پہنچائیں ۔
🔘3) طلبہ کرام کی بابت معلومات
طالب علم کی صفات کیا ہونی چاہئیں؟
طالب علم محنتی، کثیر المطالعہ، خوش اخلاق، بلند ہمت ، مثبت طرزفکر، کشادہ خیال اور علم وعمل کی سیڑھی چڑھنے میں اوقات کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جہد مسلسل کا پیکر مجسم ہو۔
بیرون ملک یونیورسٹیز میں داخلہ کی بابت آپ کی کیا رائے ہے؟
بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے میں قباحت نہیں ہے مگر ضرورت کے تحت ۔ جو تعلیم اپنے ملک میں بہتر طور پر میسر ہو اسی تعلیم کے لئے بیرون ملک سفر کرنا نہ وطن کے لحاظ سے ٹھیک ہے اور نہ ہی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا ضرورت کے تحت ہو اور وہ تعلم گاہ اختلاط سے پاک ہو اور تہذیب وتمدن سے عاری نہ ہو نیز ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ کہیں اس ادارے کا نصاب ایسا تو نہ نہیں جس سے نہ صرف ہمارا کلچر بدل جائے گا بلکہ ہمارے اندر کفر والحاد بھی لے آئے گا۔ عام خواتین کے لئے بیرونی تعلیم مناسب نہیں سمجھتا ہوں کیونکہ اسلامی رو سے ان کے لئے بڑے مسائل ہیں البتہ جن کے لئے شرعا کوئی رکاوٹ نہیں مثلا سفر میں محرم کا انتظام ، پڑھنے لکھنے ، طعام وقیام اور ضرورت وکام کے لئے امن وسہولت میسر ہو تو وہ شرعی حدود میں رہ کرعورتوں کی مخصوص تعلیم گاہ میں علم حاصل کرسکتی ہیں۔
پر فتن دور میں طلبہ کو کوئی نصیحت؟
واقعی آج بڑا پرفتن دور ہے ، ایسے حالات میں طلبہ اسلام کو چاہئے کہ وہ علم پر پوری طرح حاوی رہے اور علم کے مطابق عمل کرے اور غیر علمی کام، غیر متعلق سرگرمی ، غیروں کی مشابہت ونقالی سے بچے ۔ وہ ابھی سے اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنہ وفساد، مکروفریب اور پروپیگنڈے کی بیخ کنی اور اسلام کےدفاع کے لئے علماء سے رہنمائی حاصل کرے اور ان سے خود کوابھی کیسے بچانا ہے اس کی فکر زیادہ سے زیادہ کرے ۔
نوخیز طلبہ کا غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا کہاں تک سود مند ہے؟
جیسے اوپر بات ہوئی کہ یہ پرفتن دور ہے ایسے میں طلباء کا غیرنصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا اپنی منزل مقصود سے ہٹا سکتا ہے ۔ کچھ ایسےہی کاموں سے بہت سے طلبہ تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں یا تعلیم کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ابھی ان کا ہدف صرف اور صرف نصابی سرگرمی ہو۔ ہاں چھٹی کے ایام میں یا فارغ اوقات میں تعلیم وتربیت سے جڑی غیر نصابی سرگرمی میں حصہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
کیا طلبہ متداول خطبات سے جمعہ کی تیاری کر سکتے ہیں؟
خطبات اگر قرآن وحدیث کے دلائل سے مزین ہوں تو متداول خطبات سے کم عمر کے طلبہ کے لئے جمعہ کا خطبہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن بڑی جماعت کے طلباء کے لئے بہتر ہے کہ وہ خطبہ کی تیاری کے لئے از خود مختلف رسائل وجرائد اور کتب ومقالات سے مواد اکٹھا کرے اور مستقل موضوع تیار کر ے یا موضوع سے متعلق اہم نکات ومعلومات قلم بند کرے اور اس کے سہارے خطبہ دے ۔ اس سے کئی فوائد حاصل ہوں گے ۔ اولا تحریری صلاحیت پیدا ہوگی اور تقریر ی معلومات میں بہت وزن ہوگا ۔ثانیا مستقبل میں خطبات، دروس اور تقاریر کی تیاری کا ملکہ پیدا ہوجائے گا۔ اورتقریر وتحریر کی تیاری ومہارت ابھی سے نہیں پیدا کریں گے تو کب سے ؟
ایک طالب علم کو کتنے گھنٹے آرام کرنا چاہئے؟
طالب علموں کو اٹھنے اور جاگنے کا خوب خیال کرنا چاہئے کیونکہ مکمل راحت کے بغیردرس کی تیاری کرنا، استاد کی بات سمجھنا اوراسباق حفظ کرکے اسے محفوظ رکھنا مشکل ہوگا۔ طلباء رات میں اگر چھ گھنٹے سوسکیں تو ظہر کے بعد مزید کچھ دیر کے لئے سو جائیں ۔
ورزش کے لیے کونسی کھیلیں مفید ہیں؟
پنچ وقتہ نمازیں ، سنن ونوافل ادا کیا کریں روحانی اور جسمانی دونوں فائدے نصیب ہوں گےاور روزانہ آدھا گھنٹہ پیدل چلنے کا روٹنگ بنالیں تو کسی کھیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ
طلبہ کے نام کوئی پیغام؟
طلبہ کو میں پیغام دوں گا کہ وہ مثالی بنیں یعنی اپنے اندر خوبیاں پیدا کریں جن کی وجہ سے آپ کی مثال بیان کی جائے ۔ اگر بہت ساری خوبیاں پیدا کرنا مشکل ہے تو چند خوبیاں یا کم ازکم کسی ایک فن میں ایسی صلاحیت واختصاص پیدا کریں جس کی بدولت آپ لوگوں کی اور اس فن کی بہتر خدمت انجام دے سکیں ۔ ایسا بننے کے دو ہی اصول ہیں پہلاجہد مسلسل اور دوسرا انضباط وقت ۔
🔘4) منتظمین رسائل وجراد احباب کی بابت معلومات
موجودہ رسائل وجرائد کس حد تک مفید ہیں؟
سوشل میڈیا کے دور میں طباعت وکتب پر اثر پڑا ہے مگر معیاری رسائل وجرائد کی اہمیت جیسے پہلے تھی اب بھی ہے۔ ان جرائد کی اہمیت کم ہے جو جہاں تہاں سے مضامین کاپی کرلیتے ہیں یا مضامین ہی اصلا معیاری نہیں ہوتے ۔
منتظمین رسائل وجرائد کے نام کوئی پیغام؟
رسائل کے منتظمین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے جریدوں کی مقبولیت کے لئے مستقل مضمون نگار رکھیں جو علم میں معتمد ہوں ، ادھر ادھر سے بھرپائی کے مضامین شامل جریدہ نہ کریں ۔ جریدہ میں خطوط کا کالم رکھیں جس سے قارئیں کے خیالات وشکایات اور مشوروں سے آگاہی ملتی رہے گی ان شکایات ومشورے اور حالات کے تناظر میں میگزین کی بہتری کی طرف قدم بڑھاتے رہیں ۔
🔘5) منتظمین مدارس ومساجد احباب کی بابت معلومات
جو احباب ادارہ بنانا چاہتے ہیں، ان کی کچھ رہنمائی؟
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ جو ادارہ بنانا چاہتے ہیں اس قسم کا ادارہ وہاں پہلے سے موجود ہے اور آپ اس سے بہتر کام نہیں کرسکتے یا آپ کا ادارہ پہلے سے موجود ادارے کو نقصان پہنچائے گا تو پھر وہاں ادارے کا قیام ضرورت نہیں فساد ہے۔ آپ وہاں ادارہ کھولیں جہاں کوئی ادارہ نہیں اور ادارے کی نوعیت ضرورت پر منحصر ہے کہ تعلیمی ہو یا اصلاحی ہو یا دعوتی ہو یا سماجی ۔ پھر ادارہ کھولنے والا نہ صرف انتظامی امور کا ماہر ہو بلکہ امین وصادق ہونے کے ساتھ قوم کی خدمت کا ملخصانہ جذبہ رکھتا ہو اور ادارہ قائم کرکے اسے چلاسکنے کا اہل ہو۔ لوگوں نے اداروں کے نام پہ قوم وملت کو بہت لوتا ، خدارا! اداروں کو کمائی کا ذریعہ نہیں خدمت کا وسیلہ بنائیں ۔
مدارس کی طرف لوگوں کا رجحان کیسے بڑھایا جاسکتا ہے؟
مدارس کی کمی نہیں ہے اس طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے ۔ بچوں کے سرپرستوں کا ذہن بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہیں مختلف قسم کے تربیتی پروگراموں کے ذریعہ دینی تعلیم کی طرف مائل کرسکتے ہیں ۔ جمعہ کےخطبات ، دروس ومحاضرات اور مخصوص تعلیمی بیداری کانفرس بھی اس سلسلے میں مفید ہوں گے ۔
مساجد کی آباد کاری کے لیے انتظامیہ کو کیا اقدامات کرنے چاہیئں؟
لوگو ں کو نماز کی اہمیت پر ابھارنا ہوگا اس کام کے لئے جمعہ کا خطبہ بیحد مؤثر ہوگا۔ نماز پہ مسلسل خطبے دئے جائیں اور تنوع وتاثیر کے لئے دوسری جگہ سے بھی خطیب بلائے جائیں ۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کمیٹی جگہ جگہ یا بااثرلوگوں کے گھر امام مسجد کے ذریعہ چھوٹی دینی نششت ہوا کرے ۔نوجوان کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے جن کا عوام وخواص سے ربط ہو اس کمیٹی کے ذریعہ لوگوں کو مسجد اور درس وپروگرام میں جمع کیا جائے ۔
ائمہ ومدرسین کے لیے کیا مستوی ہونا چاہئے؟
وہ سلفی منہج کا ہوں اور کسی سلفی ادارے سے فارغ ہوں ۔اگر غیر سلفی ادارے سے فارغ ہوں تو اس کا سلفی منہج ہونا ضروری ہے ۔ وضع قطع اور علم وعمل سے مزین ہوں نیز امامت وخطابت اور درس وتدریس کی قابلیت رکھتے ہوں ۔
منتظمین کے نام کوئی پیغام؟
منتظمین کا ائمہ مساجداور اساتذہ مدارس کے ساتھ بیحد افسوس ناک رویہ پایا جاتا ہے اور تقریبا برصغیر ہندوپاک میں ہرجگہ ایسی ہی صورت حال ہے ۔ اسی افسوسناک صورت حال کی وجہ سے باصلاحیت علماء مساجد ومدارس کی بجائے تنظیم اور دوسری جگہوں کو فوقیت دیتے ہیں ۔ اولا ہماری ذمہ دار ی ہے کہ دینی مقامات پر دین کی بنیاد پر نظماء کا تعین ہو ثانیانظماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ائمہ ومدرسین کا احترم بجالائے، ان کی خدمت کا اعتراف کرے، ان کے ساتھ حسن معاملہ کرے ، ہرممکن سہولیات فراہم کرے اور کسی میں عیب یا غلطی پانے پر اکیلے میں احسن طریقے سے اصلاح کی کوشش کرے ۔
🔘6) ناشرین احباب کی بابت معلومات
کس مستوی کے علماء کی کتب نشر کی جائیں؟
پرنٹ میڈیا کی وجہ سے طباعت عروج پر ہے مگر نشر واشاعت کے حوالے سے کوئی معیار نہیں پایا جاتا ہے ۔ جب ، جیسے اور جو چاہتا ہے چھاپ کر لوگوں میں تقسیم کردیتا ہے ۔ کم ازکم مسلم ممالک میں یا مسلم کمیونٹی میں طباعت کا ایک معیاری نظام ہونا چاہئے جیسے سعودی عرب میں پایا جاتا ہے ۔ ہمارے یہاں مختلف گروہوں کا وجود اس نظام کو لانے میں بڑی رکاوٹ ہے تاہم کفر والحاد کی پابندی پر سبھی متفق ہوسکتے ہیں ، اگر ایسا ہوجائے تو کم ازکم کفر والحاد ، توہین رسالت اور گستاخی صحابہ جیسے مواد نشر ہونے سے رک جائیں گے ۔ جہاں تک اپنی جماعت کے علماء کی کتابوں کا مسئلہ ہے تو اس کے لئے ملکی پیمانے پر علماء کی فتوی کمیٹی کی طرح نشریاتی کمیٹی ہو جوکتابوں کی اشاعت کی منظوری نظر ثانی کے بعد دے ۔ میری نظر میں صرف منہج سلف کی ترجمانی کرنے والی معیاری کتابیں شائع کی جائیں اور جس سے جماعت کا نقصان ہو اس کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے ۔
ناشرین احباب کے نام کوئی پیغام؟
ناشروں سے گزارش ہے کہ کتابوں کی اشاعت میں دین کی خدمت کو مدنظر رکھیں تاکہ دینی کتابوں کی اشاعت پر آپ کو اللہ کی طرف سے اجر ملے ۔ یقین کریں کتابوں کی اشاعت کا اجر اس وقت تک ملے گا جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب آپ کی نیت اجر کی ہو۔ جب دینی کتابوں کی اشاعت پر اس قدر اجر ملے گا تو کفر وشرک پر مبنی کتابوں کی اشاعت پر گناہ بھی اس وقت تک ملے گا جب تک لوگ اس کتاب سے گمراہ ہوتے رہیں گے ۔ اس لئے خالص کتاب وسنت پر مبنی کتابوں کو چھاپیں اور ایسے جید عالم جن کے پاس کتابوں کی چھپائی کے پیسے نہیں ہیں طباعت میں ان کی مدد کریں ۔
🔘7) عوام الناس کی بابت معلومات
عوام الناس کن علمائے کرام سے فتوی طلب کرسکتے ہیں؟
عوام کو مستند علمی اداروں میں افتا کے منصب پر مامور مفتی سے فتوی طلب کرنا چاہئے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل بتاتے ہوں۔ اسی طرح جید عالم دین جن کے علم کی گواہی ایک جماعت دے اور وہ افتا ء کے آداب سے واقف اور اس کی شرائط پہ اترتے ہوں تو مسائل واحکام میں ان سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہےاوردین کی عام معلومات عام علماء سے بھی لے سکتے ہیں جن کے علم کے متعلق معروف ہو کہ وہ قرآن وحدیث سے ہی بتلاتے ہیں ۔
عوام کو کن کتب سے استفادہ کرنا چاہئے؟
تفسیر میں احسن البیان ، کم ازکم صحیح بخاری کا اردو ترجمہ(مولانا داؤد راز کا)، سیرت میں الرحیق المختوم، باقی دینی علوم کے لئے محمدی سیٹ، کیلانی سیٹ، تاریخ اسلام اور تاریخ اہل حدیث کا مطالعہ ضرور کریں ۔ آڈیوویڈیو سے بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں اس کے لئے شیخ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ، شیخ مقصودالحسن فیضی حفظہ اللہ ، ڈاکٹرطالب الرحمن حفظہ اللہ وغیرہ
عام آدمی کس طرح تحقیق کرسکتا ہے؟
تحقیق کیا ہے ؟ کس قسم کی تحقیق کے لئے کون سی چیزیں درکار ہیں ؟ علماء کرام سے پہلے اس بات کا علم حاصل کرےجب اسے اس کی معلومات ہوجائے تو تحقیق کرسکتا ہے ۔ ہاں عام آدمی ہر قسم کی تحقیق نہیں کرسکتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ علماء کی رہنمائی میں دین کا صحیح علم ضرورحاصل کرسکتا ہے۔
عوام الناس نماز سے بہت دور ہیں، انھیں نماز کی طرف کیسے راغب کیا جاسکتا ہے؟
مساجد کی آبادی کاری میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے لہذا وہی جواب کافی ہے ۔


أخو کم في الله :
عثمان بن خالد المرجالوي
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

مکمل تحریر >>