Thursday, October 24, 2024

جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کا حکم


 

جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کا حکم

تحریر: مقبول احمد سلفی /جدہ


جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے ، اس دن کی بڑی اہمیت ہے بلکہ اسے عید کا دن قرار دیا گیا ہے اور اس دن روزہ رکھنے منع کیا گیا ہے ۔ نبی ﷺ نے نماز جمعہ کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے ، غسل کرنے، خوشبولگانے ، مسواک کرنے اور جلدی مسجد آنے کی تاکید ملتی ہےنیزاس دن کثرت سے درود پڑھنا چاہئے اور اس میں قبولیت کی گھڑی ہے اس موقع پر دعائیں کرنا چاہئے۔

قرآن کی تلاوت کبھی ممنوع نہیں ہے، جمعہ کے دن بھی ممنوع نہیں ہے ، ہم ہمیشہ تلاوت کرسکتے ہیں بلکہ افضل اوقات میں تلاوت کرنا بہتر ہے اور جمعہ کا دن افضل ایام میں سے ہے۔ جمعہ کے دن خصوصی طور پر سورہ کہف کی تلاوت کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔اس اختلاف کی وجہ سوہ کہف کی تلاوت کے سلسلے میں وارد احادیث و آثار میں ضعف کا پایا جانا ہے۔ شیخ البانی ؒ نے اس بارے میں صحیح الجامع میں ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی دو روایات بطور صحیح ذکر کیا ہے یعنی شیخ البانیؒ کے نزدیک جمعہ کے دن خصوصی طور پر سورہ کہف پڑھنے سے متعلق یہ دونوں روایات صحیح ہیں ۔

(1)من قرأ سورةَ الكهفِ في يومِ الجمعةِ ، أضاء له من النورِ ما بين الجمُعتَينِ(صحيح الجامع:6470)
ترجمہ : جو جمعہ کےدن سور ة الکہف پڑھے،اس کیلئے دونوں جمعو ں(یعنی اگلے جمعے تک)کے درمیان ایک نور روشن کردیا جائے گا۔

(2)من قرأ سورةَ الكهفِ يومَ الجمعةِ أضاء له النُّورُ ما بينَه و بين البيتِ العتيقِ(صحيح الجامع: 6471)
ترجمہ :جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نور کی روشنی ہو جاتی ہے۔
جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت سے متعلق جتنی احادیث وارد ہیں ان میں سب سے قوی ابوسعیدرضی اللہ عنہ سے مروی احادیث ہیں جیساکہ حافظ ابن حجر ؒ نے کہا ہے۔ جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت سے متعلق وارد احادیث کی تحقیق کے لئے دکتور عبداللہ بن فوزان بن صالح الفوزان کی کتاب " الاحادیث الواردۃ فی قراءۃ سورۃ الکھف یوم الجمعۃ"ملاحظہ کریں ، اس کتاب میں مذکورہ حدیث کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے کہ ابوسعید کی حدیث مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح مروی ہے ، اس کا موقوف ہونا صحیح ہے اور موقوفابھی لفظ جمعہ کے بغیر صحیح ہے یعنی ابوسعید سے سورہ کہف کی تلاوت کرنا موقوفا ثابت ہے مگر جمعہ کے دن کی تخصیص ثابت نہیں ہے۔

اس کے باوجود اکثر اہل علم نے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کو مشروع قرار دیا ہے ۔ امام شافعی ؒ جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کیا کرتے تھے ، امام نووی ؒ نے کہا کہ جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنا مستحب ہے ، علامہ ابن تیمیہ ؒ سے سوال کیا گیا کہ جمعہ کے دن عصر کے بعد سورہ کہف کی تلاوت کرنے سے متعلق کوئی حدیث ہے یا نہیں تو آپ نے جواب دیا کہ الحمد للہ جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کے بارے میں آثار وارد ہیں جنہیں اہل علم نے ذکر کیا ہے مگر یہ مطلق جمعہ سے متعلق ہیں ، میں نے عصر کے بعد سے متعلق نہیں سنی ہے۔
شیخ ابن عثمین نےکہا ہے کہ جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرنا مستحب عمل ہے اور شیخ ابن باز ؒ کہتےہیں کہ جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کے بارے میں احادیث وارد ہیں مگر ضعف سے خالی نہیں ہیں تاہم بعض اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ بعض بعض کو تقویت دیتی ہیں اورحجت پکڑنے کے قابل ہیں۔

مزیددوسری جگہ شیخ بیان کرتے ہیں کہ اس بارے میں احادیث بیان کی جاتی ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اوراس سے جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کی مشروعیت ظاہر ہوتی ہے ۔ اس بارے میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت ثابت ہے ، اس قسم کی حدیث پر عمل محض رائے کے سبب نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے پاس سنت موجود ہے۔

اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ سورہ کہف ایک عظیم سورہ ہے جس کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے اور تلاوت کرنے سے فتنہ دجال سے حفاظت ہوتی ہے، اس بارے میں صحیح مسلم میں احادیث ہیں اور اس سورہ کی تلاوت سے سکینت کا نزول ہوتا ہے۔براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الكَهْفِ، وإلَى جانِبِهِ حِصانٌ مَرْبُوطٌ بشَطَنَيْنِ،فَتَغَشَّتْهُ سَحابَةٌ، فَجَعَلَتْ تَدْنُو وتَدْنُو وجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ،فَلَمَّا أصْبَحَ أتَى النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فَذَكَرَ ذلكَ له فقالَ:تِلكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بالقُرْآنِ(صحيح البخاري:5011)
ترجمہ: ایک صحابی(اسید بن حضیر) سورۃ الکہف پڑھ رہے تھے۔ ان کے ایک طرف ایک گھوڑا دو رسوں سے بندھاہوا تھا۔ اس وقت ایک ابر اوپر سے آیا اور نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑااس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر صبح کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ (ابر کا ٹکڑا) «سكينة» تھا جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے اترا تھا۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کتاب فضائل القرآن کے تحت "بَابُ فَضْلُ الْكَهْفِ"(سورۃ الکہف کی فضیلت کا باب) میں ذکر کیا ہے جس سے سورہ کہف کی خصوصی فضیلت ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سورہ کہف کی تلاوت سکینت کے نزول کا باعث ہے ۔ سکینت سے مراد دلی سکون یاایک مخلوق(اس کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں) ہے جو رحمت و طمانیت کا باعث بنتی ہے۔

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کئی مقامات پر موجود ہے اور بخاری(5018) کی ایک روایت میں سورہ بقرہ پڑھنے کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعہ ہوگا یا ایک ہی وقت میں دونوں سورتیں پڑھی جارہی تھیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت سے متعلق اگرچہ کوئی حدیث صحیح نہیں ہے تاہم اس کی مشروعیت کا کوئی منکر نہیں ہے یعنی آدمی جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کرسکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

مکمل تحریر >>

Thursday, May 4, 2023

بچے کے حافظ قرآن ہونے پر خوشی منانے والوں کے نام

 بچے کے حافظ قرآن ہونے پر خوشی منانے والوں کے نام

تحریر: مقبول احمد سلفی /جدہ دعوہ سنٹر،سعودی عرب
 
کسی کے گھر میں بچہ حافظ قرآن ہو جائےتو یقینا یہ اس بچہ کے لئےبڑی سعادت کی بات ہے اور کیوں نہ ہو کہ مومن کی زندگی کا دستور یہی کتاب ہے ، اسی کی تبلیغ و اشاعت کے لئے محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا۔  بچہ کے ساتھ قرآن حفظ کروانے والے(استاد) اور قرآن کے حفظ کی طرف رہنمائی کرنے والے(والدین) سب کو اجر ملے گا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ قرآن کے نزول کا اصل مقصد قرآن کی تعلیم کو جاننا اور اس پر عمل کرنا ہے ۔حضرت فضیل ؒ فرماتے ہیں کہ قرآن اس لئے نازل کیا گیا کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے جبکہ لوگوں نے اس کی تلاوت ہی کو عمل بنالیا ہے۔ (اس قول میں ہمارے لئے بڑی عبرت ہے)۔
اب سوال یہ ہے کہ کسی کا بچہ حافظ قرآن بن گیا ہے تو والدین کو لامحالہ خوشی ہوگی پھر وہ بچے کے حافظ قرآن بننے کی خوشی میں کیا اہتمام کرے یا کس طرح اپنی خوشی کا اہتمام کرے ؟
اس سوال کے جواب میں پہلے یہ عرض کردوں کہ خوشی کے موقع پر خوش ہونا اور خوشی کا اظہار کرنا اسلام میں منع نہیں ہے مگر خوشی کے اظہار کا طریقہ کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو۔ اس کے ساتھ یہاں یہ بات بھی جان لیتے ہیں کہ قرآن تو عہد رسول سے چلا آرہا ہے ، نبی ﷺ سمیت کتنے صحابہ وصحابیات قرآن کے حافظ تھے ۔ کیا وہ لوگ قرآن حفظ ہونے پراظہار خوشی میں کسی قسم کا عمل انجام دیتے تھے ؟  آج ہمارے یہاں حافظ قرآن ہونے پر دعوتی تقریب منعقد کی جاتی ہے، بڑی محفل سجائی جاتی ہے، مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے ، لوگوں کی طرف سے تحائف پیش کئے جاتے ہیں اور بچے کو پھول پھولا پہنایا جاتا ہے۔ کیا اس قسم کا کوئی عمل ہم اپنے اسلاف کی زندگی میں پاتے ہیں ؟ نہیں ،پاتے ہیں ۔
پھر ہم دین میں اپنے اسلاف سے کیوں آگے بڑھنا چاہتے ہیں ، قرآن تو دین کی کتاب ہے ، پورے دین کی عمارت اسی پر قائم ہے اور دین پر عمل کرنے کے لئے ہمارے پاس نبی ﷺ کا بہترین نمونہ اور آپ کے پیارے اصحاب  کی مثالیں موجود ہیں۔
آپ کا بچہ حافظ قرآن ہوتا ہے تو بلاشبہ آپ کو خوشی ہوگی اور ہرمسلمان کو اس بات پر خوشی ہوگی ، اس موقع سے بچے کو آپ اپنی طرف سے کوئی ہدیہ یا قیمتی تحفہ دےکراس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یامدرسہ والے سرٹیفیکیت یا انعام دے کر تکریم کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر آج کل حافظ قرآن بننے پر بچے کے گھر والوں کی طرف سے جو منظر دیکھنے کو مل رہا ہےبڑا افسوسناک ہے ۔ دیکھادیکھی اب عام لوگ یہی سمجھنے لگے کہ حافظ قرآن ہونے پر لازما دعوت کا اہتمام کرنا ہے اور خوشی کی محفل قائم کرنی ہے پھر اس میں دور ونزدیک کے رشتہ دار اور گاؤں کے بہت سے افراد مدعو کئے جاتے ہیں جو بچے کو تحائف پیش کرتے ہیں ، مالا پہناتے ہیں اور دعوت کھاتے ہیں ۔
آپ جانتے ہیں شادی میں بارات کی رسم کسی ایک آدمی نے جاری کی ہوگی اور آج شادی کا جزء لاینفک بن گئی ہے، یہی حال حافظ بننے پہ دعوت کرنے کا ہوگیا ہے ۔ پیسے والوں کے لئے دعوت کا اہتمام کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن جب غریب کا بچہ حافظ قرآن بنے گا اور وہ دعوت نہیں کرسکے گا تو اس غریب کو دکھ ہوگا کہ ہم امیروں کی طرح خوشی نہیں مناسکتے ہیں ۔ خدا را! دین کےنام پر یا خوشی کے اظہار میں ایسا کام نہ کریں جو کتاب و سنت میں نہ ہو اور امت کے لئے دشواری کا باعث ہو۔
آپ کا بچہ حافظ قرآن بنا ہے تو آپ کیا کریں گے؟
اس موقع سے تقریب و محفل کا انعقاد کرنے کی ضرورت نہیں ہےبلکہ بچے کا حوصلہ بڑھانے اور اس کو دعا دینے کی ضرورت ہے ۔ حوصلہ افزائی اس لئے کہ بچے نے محنت کی ہے اور تیس پارے سینے میں محفوظ کیا ہے ۔ آپ حوصلہ افزائی میں اسے مٹھائی کھلائیں، پیسے دیں، گاڑی و سائیکل جو میسر ہواسےدیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ والدین اور بچے کے درمیان کا معاملہ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن حفظ کرلینا ہی کافی نہیں ہے اس کی تعلیم حاصل کرنا اہم ہے جس مقصد سے قرآن نازل ہوا ہے ، پھر اس پر عمل کرنا اور اس کی تبلیغ کرنا بھی ۔ نیز قرآن یاد کرنا آسان ہے مگر اس کو ہمیشہ یاد رکھ پانا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ قرآن بھولنا گناہ کا باعث ہے۔ ان صورتوں میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بچہ کے حافظ قرآن ہونے پر اللہ تعالی کا شکریہ بجالانے کے ساتھ اس سے بکثرت یہ دعا کریں کہ عمر بھر اس کا حافظہ باقی رہے، اس بچے کو جیسے پورا قرآن حفظ ہوگیا،اسی طرح پورے قرآن کے معانی واحکام جاننے کی توفیق دے ، قرآن کے مطابق عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی توفیق دے ۔ بچے کو اس وقت ان دعاؤں کی ضرورت ہے ۔
جب آپ کا بچہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ اس کے علوم واحکام کو بھی سیکھ لے گا اور اس پر عمل کرے گا تو آپ کے لئے بشارت نبوی ہے :
من قرأ القرآنَ وتعلَّمه وعمِل به ؛ أُلبِسَ والداه يومَ القيامةِ تاجًا من نورٍ (صحيح الترغيب: 1434)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا ،اسے سیکھااور اس پہ عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کا تاج پہنایاجائے گا۔
قرآن حفظ کرنے کا مرحلہ ابتدائی ہے ، ابھی قرآن سیکھنے اور عمل کرنے کا مرحلہ باقی ہے ، جب آپ کا بچہ ان مراحل کو پار کرلے تو آپ قابل مبارک باد ہیں اور آپ کے لئے بشارت نبوی ہے ، قیامت میں ماں باپ دونوں کو نور کا تاج پہنایا جائے گا۔ یاد رہے بغیرعلم اور بغیرعمل کے یہ فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, September 4, 2019

بندوں کو سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت


بندوں کو سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت
______________________

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ)

اللہ کی مکمل کتاب قرآن حکیم بندوں کے لئے سکون کا باعث ہے، ہدایت کا سامان ہے اور زندگی کے ہرموڑ پر انہیں امید دلاتی ہے ۔اس لئے اسے سینے سے چمٹائے رکھنے، حرزجان بنائے رکھنے، پڑھنے ، پڑھانے اور زندگی میں اتارے رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں جب بھی بے چینی محسوس ہو اللہ کا کلام پڑھیں، پریشانی کا سامنا ہو کلام الہی کی تلاوت کریں ، خوف وہراس کا منظر ہو ذکر خالق سے دل وزبان تروتازہ کریں یعنی ہمیں کبھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے خواہ حالات کچھ بھی ہوں ۔ آخر ہمارا کوئی خالق ہے وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے ، سب کی نگرانی کرنے والا ہے ، سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے ، روزی روٹی سے لیکر زندگی کا ہر سامان مہیا کرنے والا ہے ۔ ہم کیوں مایوس ہوتے ہیں  جبکہ اللہ نے ہمیں ہر قسم کی پریشانی سے نکلنے کا راستہ بتلایا ہے ، خیر وشر کی تمیز دی ہے ، ایمان وکفر کا فرق دیا ہے ، ایک روشن دین اور کھلی کتاب دی ہے جس کے ہر کلمہ میں روشنی ، امید اور ہدایت ہے ۔
ممکن ہے دیگر مذاہب میں مایوسی کی تعلیم دی گئی ہو مگر اسلام میں اس کو کوئی جگہ نہیں دی گئی ہے بلکہ مایوسی ایسا گناہ ہے جو کفر تک لے جاتا ہے اور بسا اوقات آدمی کافر بھی ہوجاتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف:87)
ترجمہ:اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقینا رب کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں ۔
دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے : قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلاَّ الضَّآلُّونَ(الحجر:56).
ترجمہ: کہا اپنے رب تعالی کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں ۔
اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : الكبائرُ : الشِّركُ باللهِ ، والإْياسُ من رَوْحِ اللهِ ، و القُنوطُ من رَحمةِ اللهِ(صحيح الجامع:4603)
ترجمہ:اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور اس کی رحمت سے ناامید ہونا کبیرہ گناہ ہے ۔
یعنی اللہ کی رحمت سے مایوسی صریح گمراہی ہے ، یہ راستہ گمراہ اور کافر ہی اختیار کرتا ہے ، اگر کوئی مسلم مایوسی کا شکار ہے تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اسے توبہ کرنا لازم ہے۔
قر آ ن حکیم کا ورق ورق اور سطر سطر بندوں کے لئے راحت کا سامان ہے ، ہے کوئی جو قرآن پڑھکر اور سمجھ کر دیکھے ؟ ہے کوئی جو اپنی بیماریوں کا علاج اس کتاب میں تلاش کرے ؟ تاریخ گواہ ہے جس نے بھی قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا اس کے حصے میں کامیابی ہی کامیابی آئی ۔ آپ بھی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو کتاب اللہ کو اپنا ساتھی بنائیں، اسے غوروفکر سے پڑھیں ، اس پر عمل کریں اور اس کی طرف قوم مسلم وغیرمسلم کو بلائیں ۔
علماء نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کی وہ کون سی آیت ہے جو بندوں کو سب سے زیادہ امید دلاتی ہے ، مایوسی سے بچاتی ہے اور گنہگار ہوکر بھی اپنے خالق ومالک سے عفو ودرگزر کی امید جگاتی ہے ۔ اس سلسلے میں کئی قرآنی آیا ت ذکر کی جاتی ہیں تاہم اکثر وبیشتر اہل علم نے سورہ زمر کی آیت نمبر ترپن کو سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت قرار دیا ہے ، اللہ کا فرمان ہے :
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر:53)
ترجمہ: (میری جانب سے کہہ دو) کہ اے میرے بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ جاو، بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے ، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔
یہ قول حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی طرف بھی منسوب ہے مگر سندا یہ اقوال ثابت نہیں ہیں۔ جب ہم مذکورہ آیت کی شان نزول تلاش کرتے ہیں تو صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی یہ روایت ملتی ہے کہ :
أنَّ نَاسًا، مِن أهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قدْ قَتَلُوا وأَكْثَرُوا، وزَنَوْا وأَكْثَرُوا، فأتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فَقالوا: إنَّ الذي تَقُولُ وتَدْعُو إلَيْهِ لَحَسَنٌ، لو تُخْبِرُنَا أنَّ لِما عَمِلْنَا كَفَّارَةً فَنَزَلَ: {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مع اللَّهِ إلَهًا آخَرَ، ولَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتي حَرَّمَ اللَّهُ إلَّا بالحَقِّ، ولَا يَزْنُونَ} ونَزَلَتْ {قُلْ يا عِبَادِيَ الَّذِينَ أسْرَفُوا علَى أنْفُسِهِمْ، لا تَقْنَطُوا مِن رَحْمَةِ اللَّهِ}(صحيح البخاري:4810)
ترجمہ: مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت خون ناحق بہائے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے تھے، وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں وہ یقینا اچھی چیز ہے لیکن اگر آپ ہمیں اس بات سے آگاہ کر دیں کہ اب تک ہم نے جو گناہ کیے ہیں کیا وہ معانی کے قابل ہیں، تو اللہ تعالٰی نے یہ آیات نازل فرمائیں: "وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو ناحق قتل بھی نہیں کرتے، جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔" اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: "کہہ دیجیے! اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ۔"
گوکہ شان نزول میں خطاب مشرکین مکہ کو ہے مگر اس آیت کا حکم عام ہے ، اس میں مشرکین وکفار اور ہرقسم کے گنہگار شامل ہیں جنہوں نے خوب خوب گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کئے ہوں ۔حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کے متعلق لکھا ہے کہ یہ آیت تمام نافرمانوں خواہ کافر ہوں یا دوسرے توبہ اور انابت کی طرف دعوت دینے والی ہے ،اور خبر دینے والی ہے کہ اللہ توبہ کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والوں کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے ۔ گناہ کتنے بھی ہوں اور سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوجائیں ۔اور اس آیت کو توبہ پرمحمول نہ کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ شرک توبہ کے بغیر معاف نہیں کیا جاتا ہے۔ {تفسیر ابن کثیر}
اس آیت کو توبہ پر محمول کرنا ضرور ی ہے جیساکہ حافظ رحمہ اللہ نے کہا ہے تاکہ قرآن کی اس آیت سے ٹکراو نہ ہوجس میں کہا گیا ہے کہ اللہ سارے گناہ معاف کرسکتا ہے سوائے شرک کے ۔ اللہ کا فرمان ہے : ﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ ما دُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَشاءُ﴾ (النساء: 48).
ترجمہ: یقینا اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔
آیت کی شان نزول اور اس کے معانی ومفاہیم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بندوں کے حق میں سب سے زیادہ امید والی آیت یہی ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں ، اللہ تعالی گنہگار بندوں کو کس طرح امید دلاتا ہے ؟
• سب سے پہلے اللہ اپنے پیغمبر کو خطاب کرتا ہے کہ وہ اپنی امتی کو خبر کرے پھر یا عبادی کے ذریعہ بندوں کو شفقت ومحبت بھرے نرالے انداز میں یاد کرتا ہے ۔ تمہیں ڈرنے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے ، تم نے گناہ کرلئے تو کیا ہوا؟ بندے تو میرے ہی ہو۔میں ہی تمہارا خالق ومالک ہوں ۔ اور تو کوئی نہیں جس سے تمہیں گھبرانے کی ضرورت ہے۔
• جب اللہ اپنے بندوں کو پیار بھرے لہجے میں پکار کر ان کا احترام واکرام کرتاہے پھر معصیت ونافرمانی کی کثرت یاد دلاتا ہے کہ تم نے حد سے زیادہ معصیت کرلی ، گناہوں کی حد پار کردی، نافرمانی پہ نافرمانی کرتے رہے۔
• معاصی کی کثرت یاد دلانے کے بعد اب گنہگاروں کی ڈھارس بندھاتا ہے ، ناامیدی سے روکتا ہے اور صاف لفظوں میں گنہگاروں سے کہتا ہے کہ گناہوں کی کثرت ہوجانے کی باوجود بھی تمہیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا ہے ۔ اوپر آپ نے قرآن کی چند آیات بھی پڑھیں جن میں مایوسی گمراہ وکافر کی صفت قرار دی گئی ہے۔ مومن کو کسی بھی طور اور کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے ۔ ایسے موقع پر اللہ پر توکل بہت کام آتا ہے اور ایمان ویقین میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔
• اب سبحانہ وتعالی تاکید ی جملے کے ساتھ وہ کلام کرتا ہے جس سے گنہگاروں کی امید بلاشبہ جاگ جاتی ہے اور رحمت الہی سے دامن بھر جاتا ہے ۔اللہ فرماتا ہے کہ تمہیں تمہارا گناہ یاد ہے ، مجھے میری رحمت ومغفرت یاد ہے ،جاو تمہارے سارے گناہ معاف کردئے۔ سن لو!ایک دو گناہ نہیں ، سارے گناہ بخش دئے ۔ رب تعالی نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آگے تاکید کے ساتھ یہ بھی خبردیدی کہ بے شک میں ہی تو سب سے زیادہ معاف کرنے والا اور سب سے زیادہ مہربانی کرنے والا ہوں ، تم میرے علاو ہ کس کو اس قدر معاف کرنے والا پاتے ہو؟ سبحان اللہ ، اللہ واقعی بڑا معاف کرنے والا ہے ۔
جب ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور بڑا مہربان ہے اور گنہگاروں کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے تو اس کے ساتھ مزید دوباتوں کو جاننے اور عمل میں لانے کی بھی ضرورت ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اللہ کی رحمت کی امید میں عمدا گناہ کرتے رہیں ، گناہوں پر اصرار کرتے رہیں ، اللہ کی حدود کی پامالی اور فرائض وواجبات میں کوتاہی برتیں ۔یاد رہے کہ اللہ بہت معاف کرتا ہے تو بہت سخت سزا بھی دیتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ چھوٹے گناہ نیکیوں سے خود بخود مٹ جاتے ہیں مگر بڑے گناہوں کے لئے توبہ ضروری ہے جیساکہ مذکورہ آیت بھی توبہ کو مستلزم ہے ۔ بغیر توبہ کے کبیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے اور توبہ کی قبولیت کی شرائط یہ ہیں کہ اولا گناہ پہ ندامت کا اظہار کیا جائے ، ثانیا: اللہ کی طاعت میں گناہ ترک کردیا جائےاور ثالثا آئندہ اس گناہ سے بچنے کا اللہ جل شانہ سے وعدہ کیا جائے ۔ گناہ حقوق العباد سے متعلق ہو تو حق کی واپسی بھی توبہ کی شرط ہے۔
آخری بات تحریر کرکے مضمون ختم کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے کہ یہی آیت صرف گنہگارو ں کو امید دلاتی ہے ، ایک مومن کا ایمان ہونا چاہئے کہ اللہ کے دین میں ہی سراسر سکون وراحت کا سامان ہے ، اللہ کا کلام سراپا امید ہے ۔ اپنی زندگی کو مایوسی اور کفر سے بچانے کےلئے ہمیں قرآن کوسمجھ کر پڑھنااور اس پر ٹھیک ٹھیک عمل کرنا چاہئے ۔ بعض اہل علم نے سورہ زمر کی مذکورہ آیت کے علاوہ دوسری آیت کو سب سے زیادہ امید والی آیت قرار دیا ہے ، ان آیات میں بھی بلاشبہ مومنوں اور خصوصا گنہگاروں کے واسطے رحمت ومغفرت کی امید ہے مگر سب سے زیادہ امید والی آیت سورہ زمر کی مذکورہ آیت ہی معلوم ہوتی ہے، اس آیت کے علاوہ سب سے زیادہ امید والی آیت کے متعلق اہل علم کا جو اختلاف ہے ، اس میں بعض کے نزدیک سورہ فاطر کی 32اور 33آیت، سورہ نور کی 22نمبر آیت سے،سورہ غافر33،حجر 49، انعام 82،اعراف 156، رعد 6، سورہ طہ 48، احزاب 47، سورہ ضحی 5، سورہ شوری 30، سورہ نساء 110، سورہ محمد 11اور 19، سورہ توبہ 102وغیرہ ہیں ۔
اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور اپنی رحمت سے نوازکر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ آمین

مکمل تحریر >>

Saturday, September 29, 2018

قرآن کا اصل قاری کون ؟ حافظ قرآن یا صاحب قرآن


قرآن کا اصل قاری کون ؟ حافظ قرآن یا صاحب قرآن

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (طائف)

سماج میں  لوگوں کے درمیان ایک غلط تصور رائج ہے جس کی اصلاح کے مقصد سے یہ مضمون لکھ رہا ہوں ، اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہ ہمارے سماج کی اور لوگوں کی اصلاح فرمادے ۔
یوں تو دین کی طرف رجحان لوگوں کا کم ہے اس وجہ سے عملا دینداری، احکام شریعت کی پابندی، دین کا حصول اور دینی اداروں کی طرف لوگوں کا میلان کم نظر آتا ہے ۔ طلباء کی دینی مراکز میں قلت اور عصر ی تعلیم گاہ میں کثرت لوگوں کے اندر اپنے تئیں اور اپنی اولاد کے تئیں دین سے دوری کا سبب ہے۔ زمانہ چاہے جس قدر ترقی کرلے، سائنس وٹکنالوجی کا جس قدر عروج ہوجائے علوم اسلامیہ کی اہمیت میں ذرہ برابر فرق نہیں آئے ۔یہ بات مبنی برحقیقت ہےکہ  دنیا کے تمام علوم کا یہیں سے سرچشمہ پھوٹتا ہے۔قرآنی تعلیم دنیا وآخرت  دونوں جہان میں کامیابی کا ذریعہ ہے جبکہ عصری علوم دنیا تک ہی محدود ہیں ۔اے کاش ہم مسلمانوں کو اس کی سمجھ آجائے۔
بعض لوگ دیندار ہیں، اپنے بچوں کی اخروی کامیابی کے لئے اسلامی علوم سے آراستہ کرتے ہیں گوکہ عموما ان کے سامنے معیشت اوجھل ہوتی ہے مگر آخرت کی زندگی بہتر نظر آتی ہے ۔ یہ جو بعض لوگ ہیں جن کے اندر اسلامی غیر ت وحمیت ہے ، جو جوش اسلام اور محبت دین میں اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے سرشار کرنا چاہتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو فکر میں کوتا ہ ہیں ، اپنے بچوں کے لئے دور تک نہیں بس نزدیک تک ہی سوچکتے ہیں ۔ وہ کون لوگ ہیں ؟ جو اپنے بچوں کو دو تین سالوں میں حافظ قرآن بنادئے اور بس اسی پہ بھروسہ کرلیتے ہیں ۔ بچہ اس وقت سے لیکر جوانی تک ، اور جوانی سے لیکر بڑھاپے تک حافظ قرآ ن ہی رہتا ہے ۔
حفظ قرآن عمدہ تعلیم ہے اور حافظ قرآن ہونا بڑے اعزاز کی بات ہے مگر یہاں ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے ۔ ان تمام سرپرستوں کے لئے غوروفکرکامقام ہے جو احادیث کا صحیح مفہوم نہ جاننے کی وجہ سے اپنے بچوں کا حافظ قرآن ہونا اپنے لئے باعث جنت سمجھ کر بس اتنی ہی تعلیم پر بچے کو روک دیتے ہیں۔ وہ بچہ ساری عمر قرآن کے سہارے جیتا ہے مگر الحمدللہ کا نہ ترجمہ جان پاتا ہے ، نہ اس کا مفہوم سمجھ پاتا ہے ، پورے قرآن میں غوروفکر اور قرآنی آیات سے نصیحت پکڑنا ، ہدایت حاصل کرنا بہت دور کی بات ہے ۔یہ بڑے افسوس کا مقام ہے ۔
پہلے اس بات کی حقیقت جان لیتے ہیں جس پر لوگ تکیہ کرلیتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ بچے کا حافظ قرآن ہونے سےگھر کے دس لوگوں کوجنت کا پروانہ مل جاتا ہے ۔
لوگوں میں جو یہ بات مشہور ہے کہ ایک حافظ قرآن اپنے ساتھ دس آدمیوں کو یا دس رشتہ داروں یا دس جہنمیوں کو جنت میں لے جائے گا یہ بات نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے ۔ آئیے اس سے متعلق حدیث دیکھتے ہیں ۔
پہلی حدیث : لِحامِلِ القرآنِ إذا عمِلَ بِهِ ، فأَحَلَّ حلالَهُ ، وحرَّمَ حرامَهُ ، يشفَعُ فِي عشرَةٍ مِنْ أهلِ بيتِهِ يومَ القيامَةِ ، كلُّهم قدْ وجبَتْ لَهُ النارُ۔(شعب الایمان)
ترجمہ : وہ حافظ قرآن جواس کی حلال کردہ اشیاء کوحلال اور حرام کردہ اشیاء کو حرام کرتا ہے وہ اپنے گھرانے کے دس افراد جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی سفارش کرے گا ۔
٭ اسے علامہ البانی ؒ نے ضعیف کہا ہے ۔(ضعیف الجامع :4662)
٭ امام بیھقی نے بھی اس کی سند کو ضعیف کہا ہے ۔(شعب الإيمان 2/1038)
دوسری حدیث : مَن قرأَ القرآنَ واستَظهرَهُ فأحلَّ حلالَهُ وحرَّمَ حَرامَهُ أدخلَهُ اللَّهُ بِهِ الجنَّةَ وشفَّعَهُ في عَشرةٍ من أهلِ بَيتِهِ كلُّهُم قَد وجبَت لَهُ النَّارُ(الترمذی:2905)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا، اسے حفظ کیا،اس کی حلال کردہ اشیاء کوحلال اور حرام کردہ اشیاء کو حرام کرتا ہے وہ اپنے گھرانے کے دس افراد جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی سفارش کرے گا ۔
٭خود امام ترمذی نے اس کی سند کو صحیح نہیں بتلایا ہے ۔
٭شیخ البانی ؒ نے اسے سخت ضعیف قراردیا ہے ۔(ضعیف الترمذی:2905)
٭شارح ترمذی شیخ مبارکپوری نے ذکر کیا ہے اس میں حفص بن سلیمان ہیں جنہیں حافظ نے متروک الحدیث کہا ہے ۔
مذکورہ بالادونوں حدیث سے پتہ چلا کہ حافظ قرآن کا دس ایسے آدمیوں کی سفارش کرنا جس کے لئے جہنم واجب ہوگئی تھی ثابت نہیں ہے ، اس لئے یہ بات بیان نہیں کرنی چاہئے اور نہ ہی کسی کو اپنے حافظ قرآن بچہ کی وجہ سے عمل ترک کرکے جنت کی امید لگانا چاہئے۔ انسان کو اپنے کئے کی سزاملے گی اور اپنے ہی نیک اعمال کی بنیاد پر اللہ کی توفیق سے جنت ملے گی ۔
ایک تصور تو ہمیں معلوم ہوگیا کہ حافظ قرآن کا دس لوگوں کی بخشش کرانا غلط ہے ، اب یہ جانتے ہیں کہ کسی کا صرف حافظ قرآن ہونا ہی کافی ہے ؟ یا قرآن کے کچھ حقوق وتقاضے ہیں ؟  بلاشبہ قرآن کا حفظ کرنا اور اس کا پڑھنااجر کا باعث ہے لیکن قرآن کے نزول کا مقصد بلاسمجھے قرآن پڑھنا نہیں ہے ۔ اللہ تعالی نے اس لئے قرآن نازل کیا کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے ۔ یہاں پر ایک اور فکر بھی درست کرتے ہیں۔ لوگوں کے یہاں یہ بھی مشہور ہے کہ حافظ قرآن آخرت میں تلاوت کرتا جائے گا اور جنت کی سیڑیاں چڑھتا جائے گا۔ حدیث ملاحظہ فرمائیں : نبی ﷺ کا فرمان ہے:
يقالُ لصاحِبِ القرآنِ: اقرأ، وارتَقِ، ورتِّل كَما كُنتَ ترتِّلُ في الدُّنيا، فإنَّ منزلتَكَ عندَ آخرِ آيةٍ تقرأُ بِها(صحيح الترمذي:2914، صحيح أبي داود:1464)
ترجمہ: (قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہاجائے گا:(قرآن) پڑھتاجا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہرکر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔پس تیری منزل وہ ہوگی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی ۔
آخرت میں تلاوت قرآن کی جو فضیلت ہے وہ فضلیت صاحب قرآن کو حاصل ہوگی اور ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ صاحب قرآن کون ہے ؟ چنانچہ قرآن کریم کے ہم پر پانچ حقوق ہیں ۔
پہلا حق: اس پر ایمان لانا ہے ، قرآن پر ایمان لانے میں اسے کلام الہی سمجھنا، عدل وانصاف پر مبنی سمجھنا، اس میں ذرہ برابر بھی شک نہ کرنا ، اس کے حلال وحرام کو حلال وحرام سمجھنااور اس کی تصدیق کرنا شامل ہے۔ قبرمیں جب مومن بندہ تین سوالات کا جواب دے دیگا تو منکر نکیر چوتھا سوال پوچھیں گے ۔وما يُدريكَ ؟ فيقولُ: قرأتُ كتابَ اللَّهِ فآمنتُ بِهِ وصدَّقتُ(صحيح أبي داود: 4753)
ترجمہ : تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی تو وہ کہے گا : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، اس پہ ایمان لایااور اس کی تصدیق کی ۔
دوسرا حق: اس کی تلاوت کرنا اور اسے پڑھناہے۔صاحب قرآن والی حدیث میں "اقرا" سے قرآن کا یہ دوسرا حق بھی مراد ہے جو دنیا میں آدمی ادا کیا کرتا تھا، اس کا فائدہ آخرت میں ہوگا۔
تیسرا حق: قرآن پڑھ کر اس کے مطابق عمل کرنا تیسرا حق ہے ۔ قرآن پڑھ کر اس پر نہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیساکہ اس نے قرآن پڑھا ہی نہیں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الأنعام :155)
ترجمہ: اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔
جو قرآن پڑھے ، اسے سیکھے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے والدین کو قیامت میں نور کا تاج پہنایا جائے گا۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :من قرأ القرآنَ وتعلَّمه وعمِل به ؛ أُلبِسَ والداه يومَ القيامةِ تاجًا من نورٍ (صحيح الترغيب: 1434)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا ،اسے سیکھااور اس پہ عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کا تاج پہنایاجائے گا۔
چوتھا حق: اس میں غوروفکر کرنا ہے یعنی قرآن  کا تقاضہ ہے کہ اسے  سمجھ کراور غوروفکر کے ساتھ  پڑھا جائے ۔ جو بلاسمجھے قرآن کو پڑھے وہ قرآن کےپانچ حقوق میں سے چار حقوق کو نہیں ادا کرسکتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی نے نزول قرآن کے مقصد میں غوروفکر کرنا بھی بتلایا ہے ۔ فرمان الہی ہے۔ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ (ص:29)
ترجمہ: (یہ) کتاب(قرآن) جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور اہل عقل نصیحت پکڑیں۔
پانچواں حق: قرآن کے حقوق میں پانچواں حق اس کی تبلیغ کرنا ہے ۔ یعنی ہم نے جو قرآن پڑھ کر سمجھا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ پہلے ہم اس کے مطابق عمل کریں پھر اس کی تبلیغ دوسروں کو بھی کریں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : بلغوا عني ولو آيةً (صحيح البخاري:3461)
ترجمہ: میری طرف سے لوگوں کو پہنچاؤ خواہ ایک آیت کیوں نہ ہو ۔
قرآن  کے یہ پانچ حقوق جو ادا کرےگا کامل طور پر صاحب قرآن ہے ، جہاں بھی حدیث میں صاحب قرآن کی فضیلت ہے وہ ایسے ہی شخص کو حاصل ہوگی جو قرآن کے  جملہ حقوق ادا کرتا ہو ۔
عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: اقْرَؤوا القرآنَ . فإنه يأتي يومَ القيامةِ شفيعًا لأصحابه (صحيح مسلم:804)
ترجمہ : حضر ت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :قرآن پڑھا کرو، اس لیے کہ قیامت کے دن یہ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔
یہ حدیث بھی حقوق ادا کرنے والوں کے لئے ہے ۔ جوان سارے حقوق کی ادائیگی ترک کردیتا ہے وہ تارک قرآن ہےیعنی جو قرآن پڑھنا، اس کی تلاوت سننا،اس پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا، اس کے اوامر کی بجاآوری اور منہیات سے اجتنات کرنا ، اس میں غوورخوض کرنا، دوسروں کو اس کی تبلیغ کرنا چھوڑ دے  وہ تارک قرآن ہے ایسے شخص کے بارے میں نبی ﷺ اللہ کے حضور مقدمہ درج کرائیں گے ۔ اگر حفظ قرآن ہی ہمارے لئے کافی ہوتا تو نبی ﷺ حافظ قرآن کو اس مقدمہ سے علاحدہ کردیتے۔ اللہ کا فرمان ہے : وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان:30)
ترجمہ: اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب بےشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔
مشرکین قرآن پڑھے جانے کے وقت خوب شور کرتے تاکہ قرآن نہ سنا جاسکے،یہ بھی ہجران ہے، اس پر ایمان نہ لانا بھی ہجران ہے۔ اس پر غور و فکر نہ کرنا اور اس کے اوامر پر عمل نہ کرنا اور نواہی سے اجتناب نہ کرنا بھی ہجران ہے اسی طرح اس کتاب کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کو ترجیح دینا بھی ہجران ہے یعنی قرآن کا ترک اور اس کا چھوڑ دینا ہے جس کے خلاف قیامت والے دن اللہ کے پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں استغاثہ دائر فرمائیں گے ۔(تفسیر احسن البیان)
ابوداؤد کی صاحب قرآن والی روایت کے تحت علامہ  شمس الحق عظیم آبادی ؒ بعض علماء کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جس نے قرآن کے مطابق عمل کیا گویا اس نے ہمیشہ قرآن پڑھا گرچہ وہ اسے نہیں پڑھتا ہو ، اور جس نے قرآن پر عمل نہ کیا گویا کہ اس نے قرآن پڑھا ہی نہیں گرچہ وہ ہمیشہ اسے پڑھتا ہو۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا: كتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته وليتذكر أولو الألباب(یہ کتاب یعنی قرآن مجید جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور اہل عقل نصیحت پکڑیں) پس صرف تلاوت کرنے یا صرف حفظ کرنے سے بلند درجات والی جنت میں اونچے مراتب نہیں ملیں گے ۔ (عون المعبود شرح الحدیث رقم: 1464)
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ بہت سارے حفاظ قرآن بھول گئے، بہت سارے حفاظ احکام قرآن سے کوسوں دور ہیں ، بہت سارے احکام قرآن کے مخالف عمل کرتے ہیں جبکہ وہ قرآن کے حافظ ہیں ۔ حفاظ کی اکثریت تو قرآن کے معانی ومفاہیم سے نابلد اور نری جاہل ہیں جبکہ انہیں جنت میں بلند درجات کی امید اور ان کے والدین وگھروالوں کو دس لوگوں کی بخشش کی امید ہے ۔
اوپر آپ نے جتنے نصوص کا مطالعہ کیا کہیں پر قرآن کی قرات بغیر عمل کے نہیں ہے کیونکہ قرآن نازل ہی ہوا ہے عمل کرنے کے لئے اور کہیں پر اس کی تلاوت کرنا بغیر سمجھے نہیں ہے کیونکہ قرآن سمجھ کر پڑھنے کے لئے نازل ہوا ہے تاکہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں اور مکمل قرآنی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے ۔اللہ کا فرمان ہے :الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۗ(سورةالبقرة:121)
ترجمہ : وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کتاب کی اس طرح تلاوت کرتے جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ، ایسے لوگ ہی اس پر صحیح معنوں میں ایمان لاتے ہیں۔
اس آیت میں تلاوت کی شرط "حق تلاوتہ " بتلائی گئی ہے اور ایسے ہی تلاوت کرنے والوں کو صحیح ایمان لانے والا قراردیاہے ۔ تلاوت کا حق یہ ہے کہ قرآن کو غوروخوض کے ساتھ سمجھ کر پڑھاجائے تاکہ اس پہ عمل کیاجائے ۔ لسان العرب میں تلاوت کا ایک معنی یہ بتلایاگیاہے "پڑھنا عمل کرنے کی نیت سے " ۔ عمل کرنے کی نیت سے قرآن پڑھنا اس وقت ممکن ہوگا جب اسے سمجھ کرغوروفکر کے ساتھ پڑھاجائے ۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حافظ قرآن اور صاحب قرآن میں فرق ہے ، اس کا اصل قاری صاحب قرآن ہے۔ ہم صرف قرآن کے حفظ پر اکتفا نہ کریں بلکہ صاحب قرآن کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے قرآن کے پانچوں حقوق ادا کریں ۔ اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانا چاہتے ہیں تو محض حفظ قرآن تک ان کی تعلیم محدود نہ کریں بلکہ اتنی تعلیم دلائیں کہ وہ قرآن کو سمجھ کر ، غوروفکر کے ساتھ پڑھ سکیں ، اس کے مطابق عمل کرسکیں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں۔ ایسا کرنا آپ کے حق میں بہترین صدقہ جاریہ ہوگا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بلاسمجھے قرآن پڑھنے سے اجر نہیں ملتا، جو حافظ قرآن اس کا معنی نہیں جانتے اس کی کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ بلاشبہ قرآن پڑھنا اوراس کا حفظ کرنا اجر کا باعث ہے مگر آخرت میں نجات اس بات پر موقوف ہے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور اس کے مطابق عمل کریں اور دوسروں کو اس کی دعوت بھی دیں۔ اپنے سماج سے اس تصور کو ختم کریں کہ حافظ قرآن اپنے ساتھ دس لوگوں کو جنت میں لے جائے گا اور اسی طرح اس رسم کو بھی تبدیل کریں جو اپنے بچوں کی زندگی محض حفظ قرآن اور قرآن خوانی تک محدود کردیتے ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں قرآن کو سیکھنے، اس کے مطابق عمل کرنے اور دوسروں کو اس کی دعوت دینے کی توفیق دے اور ہمارے بچوں کو حفظ قرآن کے ساتھ اس کے معانی ومفاہیم بھی جاننے کی توفیق دے تاکہ وہ بھی عمل کریں اور دوسروں کوبھی اس کی ترغیب دیں ۔ آمین
مکمل تحریر >>

Sunday, September 16, 2018

قیامت میں لوگوں کو ان کے (امام) نامہ اعمال کےساتھ پکارا جائے گا۔


قیامت میں لوگوں کو ان کے (امام) نامہ اعمال کےساتھ پکارا جائے گا۔

مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)

بلاشبہ ائمہ کے درجات بلند ہیں ،وہ احترام وتقدس کے زیادہ اہل ہیں ،ان کا احترام کرنا اسلامی اخلاق وآداب کا اہم حصہ ہے۔ تاہم بعض مسلمانوں نے احترام کے نام پر امت میں غلط بیانی کی ، اس غلط بیانی  میں قرآن وحدیث کے مفہوم تک کو بدل دیا۔کہیں پر ان کی ہربات ماننے کو واجب قرار دیا اور نہ ماننے کو ہتک عزت سمجھا گیا، تو کہیں پر بلاسنداقوال و واقعات ان کی طرف منسوب کرکےنبی سے اونچا درجہ دے دیا گیا ،جو ان اقوال و واقعات کو قرآن وحدیث کے برخلاف ہونے پرتسلیم نہ کرے انہیں گستاخ ائمہ سے موسوم کیا گیااور عوام میں خوب خوب بدنام کیا گیا تاکہ لوگوں کے دل پر اماموں کی عقیدت کا پردہ ڈال کر قرآن وحدیث کی اصل تعلیمات سےانہیں  دور رکھا جاسکے ۔
ہر انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے ، ائمہ سے بھی غلطیاں ہوئیں ، ہم انہیں معصوم عن الخطاء نہیں سمجھتے کیونکہ وہ بھی ہماری طرح بشر تھے ۔ جب ایک بشر سے غلطی ہوسکتی ہے توپھرکسی متعین امام کی ہربات کی تقلید کرنا دین نہیں ہے ، ائمہ کرام نے جو دین کا کام کیا وہ قابل مبارک باد ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان سے ہونے والی غلطی کو بھی دین سمجھ کر اس پرعمل کریں ۔اللہ نےدین و شریعت  اماموں پر نہیں نازل کیا بلکہ نبی پر نازل کیاہےاور شریعت کا بیان بھی نبی کے ذمہ لگایا۔ اماموں کی ذمہ داری یہ ہے کہ جو دین اللہ نے نبی پر نازل کیا اور جس طرح آپنے عملی نمونہ پیش کیا اور دین کی جس طرح تعبیر وتشریح کی اسی شکل میں دوسروں تک پہنچائیں ۔ اہل حدیث صرف چار نہیں سارے ائمہ کا احترام کرتے ہیں جو چار سے پہلے گزرے یا ان کے بعد قیامت تک آئیں گے اور ان کی فقیہانہ بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، جو لوگ ائمہ کے احترام اوران کی تقلید کی بات کرتے ہیں وہ ہم سے زیادہ بخیل اور احترام ائمہ میں تنگ دل ہیں کیونکہ کہتے ہیں چار ائمہ برحق ہیں مگر یہ صرف کہنے تک ہی محدود ہے مانتے صرف ایک امام کی ہیں ۔ مثلا اگر چاروں ائمہ برحق ہیں اور چار میں سے تین امام کہیں کہ نماز میں چار مقامات پر رفع یدین کرنا سنت ہے تو پھر تقلید کرنے والوں کو یہ بات ماننی چاہئے مگر دیکھئے علمائے احناف نے رفع یدین کے رد میں کس قدر کتابیں لکھی ہیں ،کس جرات سے اس سنت کا انکار کیا ہے اور کس دیدہ دلیرہ سے اس کا مذاق تک اڑا یا ہے ؟۔ کیا یہی ہے احترام ائمہ ؟ کیا اسی کو کہتےہیں چاروں امام برحق ہے ؟ یہ ایک نکتہ احترام ائمہ اور تقلید کی حقیقت واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔
اس تمہید کے بعد اب آتے ہیں موضوع کی طرف کہ قرآن کی ایک آیت سے استدلا ل کرتے ہوئے اماموں کی تقلید کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم فلاں امام کی تقلید کرتے ہیں اور قیامت میں ان کے ساتھ ہوں گے اور اہل حدیث کے پاس کوئی امام نہیں اس لئے ان کا کوئی امام نہیں ہوگا،وہ دنیا میں بغیر امام کے رہے اور قیامت میں بغیر امام کے اٹھائے جائیں گے۔
آئیے قرآن کی اس آیت کو دیکھتے ہیں اورپھر اہل تقلید کی مذکورہ بات کی حقیقت بھی جانتے ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے :
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا (الاسراء:71)
ترجمہ:جس دن ہم ہر جماعت کو اس کےنامہ اعمال  سمیت بلائیں گے ۔ پھر جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو شوق سے اپنا نامۂ اعمال پڑھنے لگیں گے اور دھاگے کے برابر (ذرہ برابر) بھی ظلم نہ کئے جائیں گے ۔
اس آیت میں کہاگیا ہے کہ لوگوں کی جماعت کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں امام سے کیا مراد ہے؟
جب اس آیت کی تفسیر اٹھاتے ہیں تو ہمیں امام کی تعیین میں تین اقوال ملتے ہیں ۔
(1) ایک قول یہ ہے کہ امام سے مراد رسول ہے یعنی ہر امت کو اس کے رسول کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اس طرح پکارا جائے گا اے امت نوح ، اے امت محمد وغیرہ، یہ قول مجاہد اور قتادہ وغیرہ کا ہے ان کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے۔
ولكل أمة رسول فإذا جاء رسولهم قضي بينهم بالقسط وهم لا يظلمون(يونس:47)
ترجمہ:اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے ، سو جب ان کا وہ رسول آچکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے  اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا ۔
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے انبیاء کی شریعت مراد ہے یعنی ہرجماعت کو شریعت کے ساتھ مثلا اے اہل تورات، اے اہل انجیل اور اے اہل قرآن کے ذریعہ مخاطب کیا جائے گا۔
(3) تیسرا قول یہ ہےکہ امام سے مراد نامہ اعمال ہے۔"بامامھم" ای بکتاب اعمالھم یعنی اپنے اعمال کی کتاب کے ساتھ بلائے جائیں گے ۔ اسی قول کی طرف بہت سے اہل علم گئے ہیں جن میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ بھی ہیں۔ دلائل کی روشنی میں یہی تیسرا راحج معلوم ہوتا ہےکہ ہر آدمی اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پکارا جائے گاجیساکہ مذکورہ آیت میں امام کے بعد کتاب کے ذکر سے واضح ہوتا ہے۔قرآن میں دوسری جگہ بھی امام کا ذکر نامہ اعمال کےلئے آیا ہے،اللہ کا فرمان ہے:إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ (يس:12)
ترجمہ:بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہرچیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے ۔
یہاں امام سے اعمال کی کتاب مراد ہے جیساکہ آیت سے بالکل واضح طور پر پتہ چل رہا ہےکیونکہ اعمال جس میں درج کئے جائیں وہ اعمال نامہ یا دفتراعمال ہی ہوگا۔ ایک دوسری آیت میں اللہ رب العزت نے تو واضح طور پر کتاب کا ذکر فرماکر بتلادیا کہ لوگ اپنے اعمال کی کتاب(نامہ اعمال) کے ساتھ پکارے جائیں گے ، یعنی پکارے جانے کا بھی خصوصیت سے ذکر ہے، آیت دیکھیں ، فرمان الہی ہے:
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (الجاثیۃ:28)
ترجمہ:اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا آج تمہیں اپنے کئے کا بدلہ دیا جائے گا ۔
یہ آیت جاثیہ ،آیت اسراء کی واضح تفسیر ہے،گویا خلاصہ یہ ہوا کہ لوگ قیامت میں اپنے نامہ اعمال کے ساتھ جو ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں ہوں گے بلائے جائیں گے ، یہی بات قوی اور راحج ہے ۔ کسی بھی مفسر نے یہ نہیں کہا ہے کہ لوگ امام ابوحنیفہ ؒ ، یا امام شافعیؒ ، یا امام مالک ؒ ، یا امام احمد بن حنبل کے ساتھ ہوں گے ۔ یہ ائمہ تو ہم نےدنیا میں  بنائے ہیں ،جن کو اللہ نے دنیا اورآخرت دونوں میں امام بنایا ہے وہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اہل حدیث کا امام دنیا میں بھی محمد ﷺ ہیں اور آخرت میں بھی ان کا کوئی امام ہوگا تو محمد ﷺ ہوں گے ۔اسی لئے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے پہلے قول کے ضمن میں ( یعنی امام سے مراد نبی ہیں ) بعض سلف کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکرکیاہے :" هذا أكبر شرف لأصحاب الحديث لأن إمامهم النبي صلى الله عليه وسلم" یعنی یہ اہل الحدیث کے لئے سب سے بڑے شرف کی بات ہے کہ ان کا امام نبی ﷺ ہیں ۔
یہ تو لوگوں کو نامہ اعمال کے ساتھ پکارے جانے کی بات ہے اور میدان محشر میں تمام انسان بشمول انبیاء ورسل جمع کئے جائیں گے تب بھی ہر امتی اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے ۔ وہاں پر دنیا کے اماموں کاکوئی جھنڈا نہیں ہوگا ، سارے صدیقین، شہداء، صالحین،اولیاء، ائمہ ، فقہاء ،علماء ، محدثین،دعاۃ ومبلغین اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے یعنی جس نبی کا کلمہ پڑھنے والے ہوں گے ان کے ساتھ جمع ہوں گے ۔ اس سلسلہ میں آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ پر نازل شدہ آخری آسمانی وحی سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیے ۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَجِيءُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى، هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيَقُولُ لِأُمَّتِهِ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ لاَ مَا جَاءَنَا مِنْ نَبِيٍّ، فَيَقُولُ لِنُوحٍ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ، فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَهُوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَالوَسَطُ العَدْلُ(صحيح البخاري:3339)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی امت آئے گی تو اللہ تعالیٰ دریافت فرمائےگا: کیا تم نے انھیں میرا پیغام پہنچادیا تھا؟حضرت نوح علیہ السلام عرض کریں گے : میں نے ان کو تیرا پیغام پہنچا دیاتھا اسے رب العزت! اب اللہ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا: کیا انھوں نے تمھیں میرا پیغام دیا تھا؟وہ جواب دیں گے: نہیں!ہمارے پاس تیرا کوئی نبی نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے دریافت فرمائے گا: تمہارا کوئی گواہ ہے؟وہ کہیں گے حضرت محمد ﷺ اورآپ کی اُمت کے لوگ میرے گواہ ہیں، چنانچہ وہ( میری امت) اس امر کی گواہی دے گی کہ نوح علیہ السلام نے لوگوں کو اللہ کاپیغام پہنچا دیا تھا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہی دو۔ وسط کے معنی عدل کے ہیں، یعنی تم عدل وانصاف کے علم بردار ہو۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نوح علیہ السلام کی امت اپنے نبی نوح کے ساتھ ہوگی اور اللہ تعالی تبلیغ رسالت کا سوال نوح علیہ السلام سے کریں گے ، تصدیق کے لئے اللہ تعالی ساری امت نوح سے سوال کریں گے ، نہ کہ اس امت میں سے کسی خاص عالم سے ۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لَا فَيُقَالُ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ قَالَ فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(البقرہ:143)(صحيح ابن ماجه:3476)
ترجمہ: حضرت ابو سعید رضی للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا۔اس کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے۔(جو اس پر ایمان لائے)اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ صرف تین آدمی ہوں گے۔(اسی طرح تمام نبیوں ؑ کے ساتھ)زیادہ اور کم افراد ہوں گے۔ نبی سے سوال کیا جائے گا کیا تم نے اپنی قوم کو(اللہ کے احکام) پہنچادیےتھے۔؟وہ نبی فرمائے گا! ہاں۔اس قوم کو بلا کرکہاجائےگا کیا اس نے تمھیں (اللہ کے احکام)پہنچادیے تھے؟ وہ کہیں گے نہیں (نبی سے) کہاجائے گا آپ کا گواہ کون ہے۔؟وہ فرمائے گا۔حضرت محمد ﷺ اور ان کی اُمت۔محمدﷺ نبی سے کہا جائے گا کہ کیا اس نبی نے (اپنی قوم کو اللہ کے) احکام پہنچائے تھے ؟مومن کہیں گے ہاں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمھیں کیا معلوم؟مومن کہیں گے ہمارے نبی ﷺ نے خبر دی تھی کہ انبیائے کرام ؑ نے(اپنی اپنی امت کو اللہ کے احکام) پہنچائے تھے۔ہم نے نبی ﷺ کو سچا تسلیم کیا۔اللہ کے اس فرمان کایہی مطلب ہے۔ ( وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا) ااور (جیسے ہم نے تمھیں ہدایت دی۔اسی طرح ہم نے تمھیں افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائواور رسول تم پر گواہ ہوں۔
یہ حدیث بھی بالکل واضح ہے کہ ہر امتی اپنے اپنے نبی کے ساتھ آئے گاکیونکہ وہ اپنی قوم کے امام وپیشوا ہوں گے اور رسالت وتبلیغ کی بابت اللہ تعالی انہیں سے سوال کرے گا۔
آخری بات اور آخری پیغام : دین نام ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا ۔ اللہ تعالی نے نبیوں اور رسولوں پر شریعت نازل کی ہے اسی لئے اللہ نے اپنے ساتھ صرف رسولوں کی اتباع کا حکم دیا ہے ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اتباع سے روگردانی کرتے ہیں وہ یقینا ناکام ہونے والے ہیں ۔نبی ﷺ کا واضح اعلان سنیں۔
وَعَن مَالك بن أنس مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ « رَوَاهُ مالك فِي الْمُوَطَّأ»
ترجمہ: مالک بن انس ؒ مرسل روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، (یعنی) اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے ۔ (تخريج مشكاة المصابيح للالبانی:184)
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد ہمیں اپنے عقائد واعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق عمل کرتے ہیں یا اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر نبی کے امتی کی باتوں پر چلتے ہیں ؟ کیا ہمارا امام و پیشوا محمد ﷺ ہیں یا آپ کے سوا کوئی اورہمارا امام وپیشوا ہے؟ جب ہم نےعملی زندگی میں محمد ﷺ کا اپنا امام نہیں مانا تو یوم حساب محمد ﷺ کے ساتھ جمع ہوتے وقت کتنی شرمندگی محسوس ہوگی ؟
اس سوال ساتھ  میرا یہ آخری پیغام ہے کہ آپ دنیا میں اپنا امام محمد ﷺ کو بنالیں ، آپ کے فرمان کے مطابق عمل کریں ،  آخرت میں بھی آپ کا امام محمد ﷺ ہوں گے اور آپ کو سنت رسول پر چلنے کی وجہ سے کامیابی ملے گا،ان شاء اللہ۔ یہ بات اپنے دامن میں گرہ لگاکر رکھ لیں کہ سنت رسول کے علاوہ اور کوئی راستہ کامیابی کا نہیں ہے۔

مکمل تحریر >>