Sunday, June 30, 2024

نظربد اتارنے کا شرعی طریقہ

نظربد اتارنے کا شرعی طریقہ
تحریر: مقبول احمد سلفی
 
اکثر لوگ جو کسی کام میں مہارت رکھتے ہیں یا خوب رو ہوتے ہیں یا کسی نعمت سے سرفرازہوتے ہیں انہیں  بسا اوقات کسی کی نظر لگ جاتی ہے اور مشاہدے میں آیا ہے کہ بڑوں کی نسبت بچوں کو نظر جلدی اور اکثر لگ جاتی ہے ۔ نظر کا انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ حسی اور شرعی دونوں طریقے سے ثابت ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزلِقُونَكَ بِأَبصَٰرِهِم(القلم:51)
ترجمہ : اور کافر (جب یہ نصیحت کی کتاب سنتے ہیں تو) یوں لگتا ہے کہ تم کو اپنی (بری) نگاہوں سے پھسلا دیں گے۔
٭حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ آپ کو نظر لگا دیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا(صحیح مُسلم :5831)ترجمہ :نظر بد لگنا حق ہے اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غُسل دو ۔
نظر بد لگنے کے بعد لوگوں میں اس کے علاج کے متعلق بڑی بدعقیدگی اور رسومات ہیں جنہیں عام مسلمان شرعی علاج سمجھتے ہیں جیسے کالی مرچ کی دھونی دی جاتی ہے، یا کالا دھاگہ باندھا جاتا ہے یا تعویذ لٹکایا جاتا ہے ۔ ان طریقوں سے نظر نہیں اتاریں گے اور نہ ہی نظراتارنے کے لئے بےدین اور پیشہ ور عاملوں کے پاس جائیں گے ۔ آپ خود سےشرعی طور پر نظراتاریں ۔
سب سے پہلے طبی اور نفسیاتی معائنہ کے ذریعہ یہ جان لینا از حد ضروری ہے کہ نظر لگی ہے  یا نہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیماری کچھ نہیں ہوتی محض وہم و گمان ہوتا ہے اس لئے طبی علاج کی ضرورت ہو تو مریض کو طبیب کے پاس لے جائیں اور واقعی نظربد معلوم ہوتی ہو تو نظر بد اس طرح اتاریں ۔
٭اگر عائن یعنی نظر لگانے والے ، یا جس کی نظر لگی ہو اُس کا پتہ ہو تو اُسے وضوء کرنے اور اپنی کمر سے نیچے والے حصوں کو دھونے کا حکم دِیا جائے اور جو پانی اُس کے جِسم کو چُھو کر گرے ، اُس پانی کو ایک برتن میں جمع کر کے ، معین یعنی جسے نظر لگی ہو ، اُس کے سر پر پچھلی طرف سے سارے جسم پر بہایا جائے ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے نظر بد کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔
٭ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس کو نظر بد لگی ہو اس پر شرعی طریقہ سے دم کیا جائے گاجیسے سوتے وقت معوذات(سورہ اخلاص ، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھ کر دم کرتے ہیں ۔ پورا قرآن شفا ہے، آپ کہیں سے قرآن پڑھ کردم کرسکتے ہیں اور اس میں مسنون دعائیں اور مسنون اذکار بھی ملاسکتے ہیں  کوئی حرج نہیں ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے نظر لگنے والے پر دَم کرنے کی تعلیم دی ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے :أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ(صحیح بخاری :5738)ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ نظر لگنے کی صُورت میں دَم کروایا جائے۔
نبى کرىم ﷺاپنے نواسوں یعنی  حسن وحسىن رضى اللہ عنہما کو دم کرتے اور فرماتےکہ تمہارے باپ ابراہىم علىہ السلام اپنے بىٹوں کو ىہى دم کىا کرتے تھے۔ وہ دم اس طرح  تھا:أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ(جامع ترمذی:2060، صححہ البانی)
ترجمہ:میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں۔
اسی طرح صحیح مسلم میں ہے ، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد!کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے:  بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ(صحیح مسلم:2186)
ترجمہ: میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتاہوں، ہر چیز سے (حفاظت کے لئے) جو آپ کو تکلیف دے، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آ پ کو دم کر تا ہوں۔
اپنی طرف سے مخصوص کرکے کوئی سورت یا آیت  پڑھنا یا ان کی تعداد متعین کرنا کہ فلاں آیت اتنی بار پڑھو غلط ہے ، آپ بلاتخصیص سورت اور آیات پڑھیں یا جن کو رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے انہیں پڑھیں ۔ جن وشیاطین اور نظربدسے حفاظت کے لئے آپ نماز اوراذکار وتلاوت کی پابندی کرتے رہیں ۔اسی طرح جب انسان کوئی اچھی چیز دیکھے تو برکت کی دعا کرے تاکہ اسے نظر نہ لگے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ“ جب کوئی انسان اپنے آپ میں یا مال میں یا اپنے بھائی میں کوئی اچھی چیز دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کر دے؛ کیونکہ نظر بد با اثر ہوتی ہے“۔ (صحیح الجامع:556، الکلم الطیب ص:243)

مکمل تحریر >>

Tuesday, October 18, 2022

آن لائن دم کرنے کی شرعی حیثیت

آن لائن دم کرنے کی شرعی حیثیت
تحریر: مقبول احمد سلفی /دعوہ سنٹر حی السلامہ

آج کل لوگ موبائل کے ذریعہ رقیہ اور دم کرتے اور کرواتے ہیں ، یہ طریقہ دین میں نوایجاد ہے، دراصل یہ رقیہ ہے ہی نہیں لیکن عوام میں یہ طریقہ بھی رقیہ شرعیہ کے نام پر رائج ہے ۔ چونکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد دیوبندی اور بریلوی ہے جن کے یہاں کوئی کام جائز ہوتا ہے تو وہ لوگوں میں بہت مشہور ہوجاتا ہے ۔ موبائل کےذ ریعہ رقیہ کی شہرت اسی جماعت سے ہوئی ہے۔
احناف کے جامعہ العلوم الاسلامیہ (کراچی، پاکستان) کے دار الافتاء سے سوال کیا کہ آج کل اکثر عامل موبائل فون پر کال کے ذریعہ دم کرتے ہیں اس کی کیا حیثیت ہے تو دار الافتاء نے جواب دیا کہ یہ چیزین تجربات سے تعلق رکھتی ہیں ، اگر خلاف شرع دم درود کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے اور اس طرح دم کرنے سے مریض پر اثر ہوتا ہوتو شرعا گنجائش معلوم ہوتی ہے۔(منقول از جامعہ کی ویب سائٹ فتوی نمبر:143101200399)
یہ دیکھیں شریعت کے نام پر کس طرح غیرشرعی فتاوی دئے جاتے ہیں دراصل ایسے فتاوی سے امت میں گمراہی پھیلی اور پھونکوں والی سرکار پیدا ہوئی۔
افسوس تب ہوتا ہے جب کوئی خود کو قرآن وحدیث پرچلنے والا کہے اور وہ بھی قرآن وحدیث سے ہٹ کر بدعتی طریقہ پر دم کرے ۔ مجھے یقینی علم ہے کہ بعض اہل حدیث حضرات بھی موبائل کے ذریعہ آن لائن دم کرتے ہیں۔ اللہ کی پناہ
شرعی دم کا طریقہ کیا ہے ؟ آئیے ہم حدیث رسول سے جانتے ہیں ۔
عن عائشة رضي الله عنها" ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفث على نفسه في المرض الذي مات فيه بالمعوذات، فلما ثقل كنت انفث عليه بهن، وامسح بيد نفسه لبركتها"، فسالت الزهري: كيف ينفث؟، قال: كان ينفث على يديه ثم يمسح بهما وجهه(صحيح البخاري:5735)
ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی خود پر دم کرے تو معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس ) پڑھ کر اپنے ہاتھوں میں پھونک مار کر اپنے چہرہ اور بدن پر پھیرلے اور جب کوئی دوسرے پر دم کرے تو یہی معوذات پڑھ کر مریض پر پھونک ماردے۔
صحیح بخاری کی دوسری روایت الفاظ اس طرح وارد ہیں ۔
عن عائشة رضي الله عنها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم:كان إذا اشتكى يقرا على نفسه بالمعوذات وينفث، فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح بيده رجاء بركتها(صحيح البخاري:5016)
ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ پر مرض کی شدت بڑھ گئی تب بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہی تینوں سورتیں پڑھ کر دم کیا کرتی تھیں لہذا رقیہ اور دم کےلئے ڈھیر ساری آیات اور دعائیں پڑھنی ضروری نہیں ہیں ، یہ تین سورتیں پڑھنا بھی کافی ہیں چاہے مرض جتنا شدید ہو اور زیادہ پڑھنے میں بھی حرج نہیں ہے، متعدد قرآنی آیات و سورت اور ماثورہ دعائیں پڑھ کر دم کریں۔
دم کا شرعی طریقہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جب کوئی راقی کسی پر دم کرے تو قرآن اور ماثورہ دعائیں پڑھ کر بلاواسطہ مریض پر دم کرے ، حتی کہ رکاڈنگ سننا بھی رقیہ نہیں ہے گوکہ قرآن سننے سے مریض کو فائدہ پہنچے۔ رقیہ کی اصل صورت و کیفیت یہ ہے کہ قرآن اور مسنون اذکار وادعیہ پڑھ کرمریض پربغیرحائل وبلاسطہ دم کرے ۔
شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا ہے کہ موبائل کےذ ریعہ رقیہ کرنے کا کیا حکم ہے توآپ نے جواب دیا کہ یہ مبالغات میں سے ہے ، یہ رقیہ نہیں ہے ، رقیہ کا طریقہ یہ ہے کہ قاری مریض پر دم کرے بغیر کسی واسطہ کے۔
لہذا ہمیں معلوم ہوگیا کہ موبائل فون کےذ ریعہ دم کرنا غیرشرعی اور بدعتی طریقہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)
ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔
آخر میں رقیہ کرنے سے گزارش ہے کہ رقیہ سنٹرکھول کرخود کو اسی کام کے لئے متفرغ نہ کریں کیونکہ فتنے کے اس دور میں اس کے بڑے مفاسد دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آپ بھی ان فتنوں اور مفاسد کے شکار ہوسکتے ہیں نیزاگر آپ بھی موبائل پر دم کررہے ہیں تو اس عمل سے بازآجائیں کیونکہ یہ رقیہ نہیں ہے۔
عوام سے گزارش ہے کہ جو آدمی موبائل پردم کرے اس سے ہرگز دم نہ کرائیں بلکہ آپ خود سے دم کریں یا آپ جن کے بارے میں جانتے ہیں یہ صالح و تقوی شعار ہیں ان سے دم کرائیں ، بھلے نیک آدمی سے پانی پر دم کراکر استعمال کریں مگراس میدان میں تجارتی لوگوں سے پرہیز کریں۔ 
مکمل تحریر >>

Thursday, July 6, 2017

جادو اور جنات سے متعلق چند سوالات

جادو اور جنات سے متعلق چند سوالات


آپ کی خدمت میں چند سوالات ہیں امید کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا جواب عنایت فرمائیں گے ۔
۱) اگر جن کسی انسان کو تنگ کرے تو کیا اسے اس انسان کے اندرحاضر کر کے اس سے بات کی جا سکتی ہے؟
۲) کیا کسی پر جادو کی علامات کودیکھا جا سکتا ہے وہ اس وجہ سے کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی پر آیت الکرسی پڑھ کر پینے سے ذائقہ کڑوا لگے تو یہ جادو ہے وغیرہ۔
۳) انسان کو اگر اس کا نفس ہر وقت برائی پر ابھارے تو اس کا کیا مطلب ہے،معلوم رہے وہ انسان تلاوت بھی کرتا ہو، نماز بھی پڑھتاُہوُ، ذکر اذکار بھی کرتا ہو، اپنی نظروں کی حفاظت بھی کرتا ہو
۴) کیا واقعی آیات سحر کو ایک خاص مقدار میں پڑھنا اور پھر مریض کو دم کرنا، یا کسی چیز پر دم کر کے کھلانا یا پلانا نبی صلی الله علیہ وسلم سے ثابت ہے؟
سائل : ابوریان جاسم منیر کویت
الجواب بعون اللہ الوھاب
الحمدللہ:
(1)  جنات انسان کو پریشان کرتے ہیں ، تکلیف پہنچاتے ہیں لیکن یہ جائز نہیں کہ جن کو اس انسان کے جسم میں حاضر کیا جائے جس کو تکلیف پہنچارہاہے کیونکہ جن کو وہی حاضر کرسکتے ہیں جنہوں نے جادو کا عمل کیا ہو جو کفر ہے ۔دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ جن کو قابو میں کرنا یا جنات سے مدد حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔ ہاں کسی کے بدن میں جن داخل ہوگیا ہوتو اس سے مخاطب ہوکر بات کی جاسکتی ہے جیساکہ مندرجہ ذیل حدیث میں ذکر ہے۔
عن عثمان بن ابي العاص ، قال:‏‏‏‏ لما استعملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على الطائف ، جعل يعرض لي شيء في صلاتي حتى ما ادري ما اصلي ، فلما رايت ذلك رحلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال:‏‏‏‏"ابن ابي العاص"، قلت:‏‏‏‏ نعم يا رسول الله ، قال:‏‏‏‏"ما جاء بك"، قلت:‏‏‏‏ يا رسول الله ، عرض لي شيء في صلواتي حتى ما ادري ما اصلي ، قال:‏‏‏‏"ذاك الشيطان ادنه"، فدنوت منه ، فجلست على صدور قدمي ، قال:‏‏‏‏ فضرب صدري بيده ، وتفل في فمي ، وقال:‏‏‏‏"اخرج عدو الله"، ففعل ذلك ثلاث مرات ثم قال:‏‏‏‏"الحق بعملك"، قال:‏‏‏‏ فقال عثمان:‏‏‏‏ فلعمري ما احسبه خالطني بعد.(صحيح ابن ماجة ح 2858)
ترجمہ : عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا ابن ابی العاص ہو“؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: ”تم یہاں کیوں آئے ہو“؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: «اخرج عدو الله» ”اللہ کے دشمن! نکل جا“ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ”اپنے کام پر جاؤ“ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
٭اس حدیث میں دلیل ہے کہ صحابی رسول کے بدن میں شیطان داخل ہوگیا تھا ، اسی وجہ سے نبی ﷺ نے اس شیطان کو اندر سے نکلنے کا حکم دیا ۔ اگر شیطان اندر نہیں ہوتا تو نکلنے کا حکم دینا لغو اور عبث ٹھہرتا اور ہمارے نبی ﷺ نے کبھی کوئی لغو بات نہیں کی ۔
٭علامہ البانی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ کبھی شیطان انسان کی شکل اختیار کرتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے ، گرچہ مومن اور صالح آدمی ہی کیوں نہ ہو۔ (دیکھیں : سلسلہ الاحادیث الصحیحہ 2918)
(2) بے شک جادو کی علامات ہیں جنہیں دیکھ کرکسی کے متعلق اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس پرجادو کیا گیا ہے اور یہ بات بعض لوگوں نے جادو کے علاج میں لکھی ہے کہ پانی پرآیت الکرسی پڑھ کرمریض کوپلایا جائے اگر اصل ذائقہ معلوم ہوتو عمل روک دیا جائے ورنہ کڑواہٹ محسوس ہونے پر پھر سے اسی طرح دم کرکے پلایا جائے ۔ یہ جنات کا علاج کرنے والوں کا اپنا تجربہ کہا جاسکتا ہے۔
(3) نفس تو انسان کو برائی پر ابھارے گا ہی ،اللہ کا فرمان ہے :
إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَۃٌ بِالسُّوء ِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیَ (یوسف: ۵۳)
ترجمہ: نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو۔
اس وجہ سے نفس کی برائی سے بچنے کے لئے کثرت سے اللہ کی پناہ طلب کرے ، محمد ﷺ بھی اللہ تعالی سے دعا کیا کرتے تھے ، اس سے متعلق بہت ساری دعائیں ہیں ، ایک یہ بھی ہے : أعوذُ بك من شرِّ نفسي ومن شرِّ الشيطانِ وشرَكِه وأنْ أقترفَ على نفسي سوءًا أو أجرَّهُ إلى مسلمٍ(صحيح الترمذي:3529)
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں۔
اسی طرح دلجعی سے عبادت کی جائے ، بہت سے لوگ عبادت کرتے ہیں مگر اس کی روح یا لذت سے محروم ہوتے ہیں۔ نفلی عبادتوں میں تہجد انسانی نفس کو قابو میں رکھنے کے لئے مفید ہے۔ ذکرواذکار اور توبہ واستغفار کو لازم پکڑیں ،بری صحبت بچیں اور اچھی صحبت اختیار کریں،ان باتوں سے نفس پر غلبہ حاصل ہوگا اور اللہ کی توفیق سے اس کے شر سے بچ سکیں گے ۔
(4) قرآن کی بعض آیات اور بعض سورتیں سحر کے توڑ کے طور پر احادیث سے ثابت ہیں ، ان میں سورہ فاتحہ،سورہ بقرہ ، آیت الکرسی ، سورہ فلق اور سورہ ناس وغیرہ ہیں۔ اور اسی طرح سحر سے متعلق آیات وادعیہ مریض پر دم کرسکتے ہیں اور کسی چیز میں دم کرکے اسے پلا بھی سکتے ہیں۔

واللہ اعلم
کبتہ
مقبول احمدسلفی



مکمل تحریر >>

Sunday, March 22, 2015

تصویر سے بھی نظر لگ سکتی ہے

نظر حق ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَإِنْ يَكَادُ الّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمّا سَمِعُوا الذّكْرَ) (القلم : 51))

اور بالکل قریب تھا کہ کافر آپ کو اُن کی نظروں کے ساتھ پِھسلا دیں ، جب انہوں نے (یہ)ذِکر(قران کریم)سُنا۔

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:

"الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا"(صحیح مُسلم حدیث 5831کتاب السلام)

اور نظر بد (لگنا)حق ہے ، اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غسل دو ۔

نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ نظر کسی کو بھی لگ سکتی ہے ، مذکورہ آیت میں نبی پر نظر کے اثر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔
نظر کا اثر محض دیکھنے پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مجرد وصف ، حکایت اور خیال سے بھی ممکن ہے ۔

ابن القیم ؒ نے کہا ہے : نظر کا اثر صرف دیکھنے پر موقوف نہیں بلکہ بسا اوقات کسی اندھے آدمی سے کسی شی کا وصف بیان کیا جائے تو آدمی متاثر ہوسکتا ہے گرچہ اس کو نہیں دیکھا ہو۔ اور اکثر نظر بغیر رویت کے وصف سے ہی لگ جاتی ہے ۔ (زاد المعاد 4/153)
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کا محض تصویر دیکھنے ، یا موصوف کا وصف سننے سے بھی نظر لگ سکتی ہے ۔
اسلام میں نظر بد کا علاج بھی بتلایا گیا ہے ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں نظر بد سے بچائے ۔ آمین
مکمل تحریر >>

جن وشیاطین اتارنے کے شرعی طریقے

جن وشیاطین اتارنے کے شرعی طریقے

 (1) مریض پر قرآن کی سب سے عظیم سورت فاتحہ بار بار پڑھی جائے تو جادو زائل ہوجائے گا اور مریض اللہ تعالی کے حکم سے شفایاب ہوگا۔اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک صحابی نے مسحور پر سورہ فاتحہ کے ذریعہ دم کیا تو ٹھیک ہوگیا۔(السلسلة الصحيحة – 2027)

(2) قرآنی آیات کے ذریعہ :
٭{وأوحينا إلى موسى أن ألق عصاك فإذا هي تلقف ما يأفكون فوقع الحق وبطل ما كانوا يعملون فغلبوا هنالك وانقلبوا صاغرين} الاعراف117۔119
٭{ وقال فرعون ائتوني بکل ساحر عليم فلما جاء السحرة قال لهم القوا ما انتم ملقون فلما القوا قال موسى ما جئتم به السحر ان الله سيبطله ان الله لا يصلح عمل المفسدين ويحق الحق بکلماته ولو کره المجرمون } یونس/ 79۔82
٭{ قالوا يا موسى اما ان تلقي واما ان نکون اول من القى قال بل القوا فاذا حبالهم وعصيهم بخيل اليه من سحرهم انها تسعى فاوجس في نفسه خيفة موسى قلنا لا تخف انک انت الاعلى والق ما في يمينک تلقف ما صنعوا انما صنعوا کيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث اتى } طہ65۔59
بےشک یہ آیات اور اسکے ساتھ سورہ فاتحہ اور سورہ (قل ہو اللہ احد) اور آیۃ الکرسی اور معوذتین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) اگر قاری پانی میں پڑھے اور اس پانی کو مريض کو پلایا جائے یا اس پر بھادیا جائے (یعنی غسل کرے) تو اسے اللہ کے حکم سے شفا یابی نصیب ہوگی۔

(3) سات بیری کے پتے کوٹ کر پانی میں ملائیں اور اس پر آیات اور سورتیں جو اوپر مذکورہیں اور مسنون دعائیں پڑھیں تو یہ پانی پیا بھی جائے اور اس سے غسل بھی کرے اوریہ عمل متعدد بار کیا جائے یہاں تک کہ اللہ کی حکم سے شفا مل جائے۔

(4)ایک جن نبی کریم ﷺ کے پاس آگ لے کر آیا جلانے کےلیے، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا پڑھی : " أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنْ السَّمَاءِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ " تو اسکی آگ بجھ گئی ۔ [ مسند احمد 3/419 (15035) , مسند ابی یعلى 12/238]

(5) مسحور کو مدینہ طیبہ کا عجوہ کھجور کھلایا جائے ، اس میں اللہ تعالی نے شفا رکھی ہے ۔
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص عجوہ کھجوریں سات عدد نہار منہ کھالے تو اس دن زہر اور جادو اس بندے پر اثر نہیں کرتا [ صحیح بخاری کتاب الأطعمۃ باب العجوۃ (5445) ]۔

(6)نبی کریم ﷺ پر لبیدبن الاعصم یہودی نے جادوکیا۔ آپﷺ پر جادو کا اثر ہوا۔ کہ آپ کے تخیلات پر اثر پڑگیا۔ آپ کو خیال ہوتا کہ میں نے کھانا کھا لیا ہے حالانکہ آپ نے نہیں کھایا ہوتا تھا۔ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے حالانکہ پڑھی نہیں ہوتی تھی۔ تخیلات میں اثر ہوگیا۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نسخہ بتایا سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا۔سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نبی کریمﷺ نے پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے جادو ختم کردیا ۔ خواب میں نظر آگیا کہ جادو کس چیز پر کیا گیا ہے وہ فلاں کنویں کے اندر کھجور کے تنے کےنیچے دبایا ہوا ہے۔ تو جادو کو نکال کر ضائع کردیا۔ جادو کا اثر ختم ہوگیا, یہ طریقہ کار ہے رسول اللہ ﷺ کا ۔[ صحیح البخاري کتاب الطب باب السحر (5763) صحیح مسلم کتاب السلام باب السحر (2189)]

(7) حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: اور میں نے اور میرے علاوہ کئ اور لوگوں نے بھی اسکا تجربہ کیا ہے کہ زم زم کے پانی سے عجیب بیماری سے شفایابی ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالی کے حکم سے مجھے بہت سے امراض سے زم زم سے شفا ملی ہے اور میں نے ان لوگوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے جو اسے بہت دنوں بطور غذا استعمال کرتے رہے تقریبا نصف مہینہ یا اس سے بھی زیادہ اور انہیں بھوک محسوس نہیں ہوئی۔ زاد المعاد (3/129)

سحر میں مفید بعض مسنون دعائیں :
٭ " اللهم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاؤك لا يغادر سقما "تین بار

٭" بسم الله ارقيك من كل شئ يؤذيك ومن شر كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك " تین بار

٭"اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّة مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّة وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّة"


٭"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" سوبار
مکمل تحریر >>