اعمال صالحہ میں تقصیر اور ان کی توفیق کے اسباب
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، سلامہ(سعودی عرب)
اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے ہم ایمان والے ہیں ، ہمیں
اپنے مسلمان ہونے پر فخروناز ہے، ہمیں جنت پانے
اور اپنے رب سے ملاقات کی بے حد خواہش ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہمیں
ایک طرف اپنے مسلمان ہونے پر ناز ہے
اوردوسری طرف جنت میں جانے کا شوق بھی ہے پھر ہمارے اعمال اچھے کیوں نہیں ہیں، ہم
رات و دن گناہوں میں کیوں ملوث ہیں، ہم سے اچھے کام کیوں نہیں ہوتے ؟
سوال کافی اہم ہے، اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں تو ہمارے
سامنے اس کے متعدد وجوہات نظر آتے ہیں مگر یہاں فقط اہم وجوہات کو ہی بیان کرنے پر
اکتفا کرنا چاہتا ہوں۔ مندرجہ ذیل سطور میں اعمال صالحہ میں تقصیر کے چند اہم
اسباب بیان کئے جاتے ہیں۔
(1)ترک واجب:یہ بات مشاہدہ میں بھی آتی ہے کہ جب آدمی واجبات کو ترک
کرتا ہے تو غیرضروری کاموں میں واقع ہوتا ہے بلکہ یہ کہہ لیں کہ بسا اوقات غلط اور
حرام کاموں کا بھی ارتکاب کرنے لگتا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ واجب کا ترک حرام کام کا سبب بنتاہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ أَخَذْنَا
مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ
الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ
وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (المائدہ:14)
ترجمہ :اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے
بھی عہد وپیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی
گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض وعداوت ڈال دی جو تاقیامت رہے گی اور جو
کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں سب بتا دے گا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نصاری ان واجبات کے ترک پر جن
کی وہ نصیحت کئے گئے تھے حرام کام یعنی عداوت و نفرت میں واقع ہوگئے۔ یہاں یہ بات
بھی پیش نظر رہے کہ علی الاطلاق یہ بات نہیں کہی جاسکتی ہے کہ ترک واجب حرام کام
میں واقع ہونے کا سبب ہے کیونکہ ترک واجب کے مختلف احوال ہوتے ہیں تاہم بغیرکسی
عذر کے عمدا ترک واجب کا عموما یہی حال ہوتا ہے۔
(2) ارتکاب معاصی:گناہ کرنے کے سبب بھی آدمی نیک عمل سے دور ہوجاتا ہے ۔اور
آج حال یہ ہے کہ لوگ گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دئےیہاں تک کہ چھوٹے گناہوں کا تصور
ختم ہوتا جارہا ہے۔ایک حدیث سے چھوٹے گناہوں کی ہلاکت کا اندازہ لگائیں۔ سیدنا
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّهُنَّ
يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ"، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ
نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ
يَنْطَلِقُ، فَيَجِيءُ بِالْعُودِ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ، حَتَّى
جَمَعُوا سَوَادًا، فَأَجَّجُوا نَارًا، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا(مسند
احمد:3818)
ترجمہ: چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ بعض
اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں، اور نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا،
کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے
آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہو گئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا
تھا وہ پکا لیا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إنَّكُم لَتَعمَلونَ أعمالًا هي أدَقُّ في أعيُنِكُم
مِنَ الشَّعَرِ، إن كُنَّا لَنَعُدُّها على عَهدِ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه
وسلَّم مِنَ الموبِقاتِ(صحيح البخاري:6492)
ترجمہ:ہ تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں
بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے) اور ہم لوگ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کر دینے والا سمجھتے
تھے۔
ہماری عبرت کے لئے یہ دو احادیث ہی کافی ہیں اور بہ
آسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ آج ہم کیوں عملوں سے غافل ہیں یا نیک اعمال نہیں
کرپارہے ہیں؟ وجہ صاف ہے کہ ہم گناہوں میں ملوث ہیں خصوصا ہم نے چھوٹے گناہوں کے
گناہ ہونےکا دل سے خیال بھی نکال دیا ہے
جبکہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی ہلاک کردیتے ہیں۔
(3)جائزامور میں بکثرت مشغولیت:آدمی جب دنیاوی کاموں بہت زیادہ خود کو مصروف کردیتا ہے تو
اس کے نتیجے میں وہ عبادات ، حسنات ، خیرات اور اعمال صالحہ سے دور ہوتا جاتا ہے
۔جائز امور میں بکثرت مشغولیت عمل میں سستی کا سبب ہے یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن
حنبل ؒ فرماتے ہیں:
"إني لأدع ما لا بأس فيه خشية الوقوع في ما فيه
بأس"کہ جس میں کوئی گناہ نہ ہو میں اس کو اس ڈر سے ترک کر دیتا ہوں کہ کہیں
میں ایسے عمل میں نہ پڑ جاؤں جس میں کوئی حرج (گناہ) ہو۔
زہد و ورع کی تعریف میں کہاجاتا ہے:"الورع هو: أن
تترك مالا بأس به خشية مما فيه بأس" یعنی آدمی اس چیز کو بھی چھوڑ دے جس میں
کوئی حرج نہیں، اس خوف سے کہ کہیں وہ ایسی چیز میں مبتلا نہ ہو جائے جس میں حرج
ہے۔ابن ماجہ اور ترمذی میں اس معنی کی حدیث بھی ہے مگر وہ سندا ضعیف ہے۔
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ جو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يبلُغُ عبدٌ درجةَ المتَّقينَ حتَّى يدعَ ما لا بأسَ
بهِ حذرًا مِمَّا بهِ بأسٌ(سنن ابن ماجه:4215)
ترجمہ: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ
وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں
برائی ہے۔
بہرکیف! اعمال صالحہ میں تقصیر سے بچنے کے لئے بکثرت
دنیاوی کاموں میں مشغول نہ رہے اور آدمی بعض مباح چیزوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ
کہیں وہ اسے غیر مباح امور میں نہ ڈال دیں، اور یہی ورع ہے۔
(4)برے لوگوں کی صحبت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ
أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ(سنن ابي داود:4833)
ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں
سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آدمی جس قسم کی صحبت میں ہوگا
، اس کا ویسا ہی اثر اس پر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ برے لوگوں کی صحبت سے آدمی نیک عمل
میں کوتاہ ہوتا ہے اور وہ برائی کا خوگر ہوتا ہے۔
(5)عمل میں ٹال مٹول:جو آدمی نیکیوں میں ٹال مٹول کرتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے
کہ آج کریں گے، کل کریں گےجبکہ اس طرح سے
وہ اکثر اور عام طور پر اعمال صالحہ کی انجام دہی میں چوک جاتا ہے یعنی اس سے نیک
عمل صادر ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس بات سے ہمیں عبرت لینی چاہئے اور جس عمل کا جو وقت ہو اور جیسے ہی کوئی نیکی کرنے
کا موقع ملے فورا اسے عمل میں لے آنا چاہئے۔
آپ کے سامنے عمل میں تقصیر کے چند اسباب بیان کئے گئے،
اوراب یہ جانتے ہیں کہ کن امور کو بجالاکر اعمال صالحہ کی توفیق مل سکتی ہے۔چنانچہ
آپ کے سامنے سطورذیل میں اعمال صالحہ میں توفیق کے چنداسباب بیان کرتا ہوں ۔اختصار کے ساتھ کہوں تو
یہ سمجھ لیں کہ اوپر تقصیر کے جو اسباب
بیان کئے گئے ہیں ان کا ترک کرنا موجب حسنات ہیں تاہم دلائل کی روشنی میں کچھ تفصیل کے ساتھ توفیق کے
اسباب بیان کرنا چاہتا ہوں ۔
(1)اللہ سے استعانت :انسان ہمہ وقت اللہ کا محتاج ہے، کھانے پینے، سونے جاگنے،
چلنے پھرنے، دیکھنےسننے، سونگھنےاور سوچنے سمجھنے غرض یہ ہے کہ ہمہ وقت اور پل پل
اللہ کی مہربانی اور اس کے فضل وکرم کا محتاج ہے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ پیدائش سے لے
کر وفات تک ایک انسان اپنے تمام معاملات میں اللہ کا محتاج ہوتا ہے، اللہ کی
مہربانی کے بغیر انسان کچھ دیر بھی زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ جب صورت حال ایسی ہے تو
پھر ہمیں اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اسی سے مدد مانگنی چاہئے مگراکثرمسلمانوں نے غیراللہ کو مددگار ، مشکل
کشا، حاجت روا، داتا اور غوث سمجھ رکھا ہے۔ عالمی پیمانے پر مسلمانوں کی بربادی
اور زبوں حالی کا یہی مرکزی سبب ہے۔ جب تک مسلمان خالص طورپر اللہ کی بندگی نہیں
کریں گے، اورصرف اسی سے مدد نہیں مانگیں گے تب تک ہمارے حالات درست نہیں ہوں گے ۔
ہم ہر نماز میں اقرار کرتے ہیں: إِيَّاكَ نَعْبُدُ
وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد طلب
کرتے ہیں۔ اس اقرار کے باوجود ہم عملی طور پر خلوص کے ساتھ اللہ کی بندگی نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ کو مدد کے لئے پکارتے
ہیں۔
یاد رکھیں !عمل کی توفیق بھی اللہ کی مدد سےہی ملتی ہےلہذا ہم اپنے رب سے اعمال صالحہ کی توفیق
طلب کرتے رہیں، وہی ہر معاملہ میں ہماری مدد کرنے والا ہے۔
(2)دل کی طہارت وپاکی:عمل کی توفیق کے لئے دل کو بعض وحسد، کفر ومعصیت، دنیاطلبی
اور فتنہ وفساد سے محفوظ رکھنا ضروری ہے کیونکہ جسم میں تمام اعضاء کا سیددل ہے۔ نبی
ﷺ فرماتے ہیں:
أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ
صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا
وَهِيَ الْقَلْبُ(صحيح البخاري:52)
ترجمہ: اور سنو! بے شک بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب
وہ درست ہوگا سارا بدن درست ہوگا اور جب وہ بگڑ گیا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ
ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ عمل کا دارومدارنیت پر مبنی ہے
اور نیت دل کے ارادے کا نام ہے لہذا ہم اپنے دل کو ہم قسم کی بری آلائشوں سے پاک کریں تاکہ نیک عمل کی توفیق
نصیب ہو۔
(3)اعمال کی فضیلت وثواب کا
احساس: تمام انبیاء بشیر
اور نذید بن کر آئے، اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو نیک کاموں پر اجر وثواب بیان
کرکے نیکی کی ترغیب دیں اور برے کاموں کے برے نتائج وانجام سے ڈرائیں۔ محمد ﷺ نے
بھی اپنی امت کو اعمال حسنہ کی انجام دہی پر متعدد بشارتیں سنائیں ہیں اور برے
اعمال پر برے انجام سے ڈرایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان
کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ
مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا،
وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ،
وَتَصُومُ رَمَضَانَ"(صحيح البخاري:1397)
ترجمہ: اللہ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ
ٹھہرا ، فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ۔
دیہاتی نے کہا :اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان
ہے، ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت
والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
اس حدیث میں بظاہر ایک صحابی کو جنت کی بشارت سنائی گئی
ہے مگر حقیقت میں یہ بشارت ہر اس مومن کے لئے ہے جو خالص رب کی بندگی کرے،شرک سے
بچے، نماز ادا کرے، زکوۃ دے اور رمضان کا روزہ رکھے ، یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے اس
دیہاتی کے بارے میں صحابہ کو یہ خبر دی کہ دیکھو جو دنیا میں جنتی آدمی دیکھنا
چاہتا ہے ، وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔ اس خبر سے آپ ﷺ صحابہ کو مذکورہ اعمال کی ترغیب
دے رہے ہیں بلکہ اس میں پوری امت کے لئے ترغیب ہے۔ اسی طرح بہت سارے نیک اعمال کا بڑا بڑا بدلہ قرآن وحدیث میں
بیان کیا گیا ہے۔ جیسے اشراق کا اجر، سنن رواتب پر مداومت کا اجر، مسجد کی تعمیر
کا اجر، اذان دینے کااجر، نماز کی طرف چلنےاور انتظار کرنے کا اجر، تلاوت وذکر کا
اجر اور اللہ سے ڈرنے اور پرہیزگاری اختیارکرنے کااجر۔۔غرض یہ ہے کہ جس طرح ہمارے
لئے یہ ضروری ہے کہ سنت کا علم حاصل کریں ، اسی طرح عمل کے پیچھے شریعت میں بیان
کردہ اجر وثواب کاعلم حاصل کرکے ان کا احساس کرتے ہیں تو عمل کرنے کی ترغیب ملتی ہے ۔
(4)گناہوں سے دوری:اوپر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ گناہوں کے ارتکاب سے عمل میں
کوتاہی اور غفلت پیدا ہوتی ہے اور آدمی اعمال صالحہ کی انجام دہی سے محروم ہوجاتا
ہے۔
ایک
شخص نے حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا:"اے ابو سعید! میں رات کو تندرست حالت
میں سوتا ہوں، مجھے تہجد پڑھنے کا شوق بھی ہے، میں وضو کا پانی بھی تیار کر لیتا
ہوں، پھر کیا وجہ ہے کہ میں تہجد کے لیے اٹھ نہیں پاتا؟"حسن
بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:"تمہارے گناہوں نے تمہیں جکڑ رکھا ہے
(یعنی تمہیں تہجد سے محروم کر دیا ہے)۔"
یہ حقیقت ہے کہ ہم گناہوں پر گناہ کرتے ہیں جس سے دل
پزمردہ ہوجاتا ہےاس لئےعمل کرنا بھی چاہتے ہیں تو نہیں کرپاتے ہیں۔ ہم گناہوں سے
بالکل بے خوف ہوگئے ہیں اور اس کے انجام سے بے خبرہیں۔ مومن گناہوں سے کس قدر خوف
کھاتا ہے، اندازہ لگائیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مومن اپنے
گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ
کہیں وہ اس کے اوپر نہ گر جائے اور بدکار اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا
ہے کہ وہ اس کے ناک کے پاس سے گزری اور اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اس طرف اشارہ
کیا۔(صحيح البخاري:6308)
یہاں نصیحت یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں گناہوں کا خوف پیدا
کریں، اس سے گریز کریں پھر اللہ سے توفیق طلب کرتے ہوئے عمل کریں، عمل کرنا آپ کے
آسان ہوگا۔
(5)عمل پرمداومت :مسلسل عمل کرنے سے ایمان کو غذا ملتی ہے، نفس کا تزکیہ ہوتا
ہے اور عمل میں زیادتی بھی ہوتی ہے لیکن ترک عمل سے ایمان کو غذا ملنا بندہوجاتا
ہے، تفس کا تزکیہ اور عمل کی زیادتی بھی بندہوجاتی ہے۔ ایسے میں رفتہ رفتہ آدمی کے
اندر عمل کے تئیں سستی ، غفلت اور دوری پیدا ہونے لگتی ہے۔ ہمیں تسلسل کے ساتھ نیک
کام کرنا چاہئے ۔فرائض کی ادائیگی تو ہمیشہ وقت پراور ہمہ وقت ہونی چاہئے، نوافل میں بھی جلدی ، کثرت اور
تسلسل ہونا چاہئے۔ نبی
ﷺ فرماتے ہیں:
وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ
أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ(صحيح البخاري:6308)
ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر
ہمیشگی کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
(6)ایمان کوغذافراہم کرنے والے
اعمال:ہمیں ایسے اعمال کی
کثرت کرنی چاہئے جن سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ بندہ جس قدر ایمانی اعمال اور
دینی مشاغل سے جڑا رہتا ہےاسی قدر اس کو عبادت کرنے، اعمال حسنہ کرنے اور عبادت
انجام دینے میں من لگارہتا ہے۔ جیسے علم وذکر کی مجلس میں حاضری، دینی کتابوں کا
مطالعہ ، کبار علماء کے دروس وبیانات سے استفادہ، اچھے اور نیک لوگوں کے دینی
کاموں میں شرکت وتعاون وغیرہ۔
(7)سدا اپنے رب کا حمد وشکر:اللہ رب العالمین کا ہمارے اوپر کس قدر احسان ہے کہ اس
نےہمیں جہاں گوناگوں نعمتوں سے نوازا وہیں ہمیں اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی۔ اللہ
کی نعمتوں پر اس کا شکر بجالانا ہمارے لئے نعمتوں کی بقا اور رحمت کے استمرار کے
لئے نہایت ضروری ہے ۔ اور ایمان جیسی نعمت پر رب کی حمدوثنا اور شکر یہ بجالانا
کھانے پینے اور سانس لینے سے بھی زیادہ اہم ترین ہے۔ اللہ تعالی نے نبی ﷺ کے اگلے
پچھلے گناہ معاف کردیا تو آپ ﷺ اس خوشی میں اس قدر بندگی کرتے کہ قدم پھٹ جاتے اور
فرماتے :
أفلا أُحِبُّ أن أكونَ عَبدًا شَكورًا( صحيح
البخاري:4837) کہ میں اللہ کا شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں۔
سبحان اللہ ! یہ ہمارے رسول محمد ﷺ کا طریقہ تھا، پھر
ہمیں نعمت الہی پر کس قدر شکرگزار ہونا چاہئے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ نعمت پہ حمدوشکر
سے اللہ کی طرف سے بھلائی نصیب ہوتی ہے اور جس جس نعمت پر رب کا شکربجالایا جائے،
اس میں مزید خیروبرکت ظاہر ہوتی ہے۔جو انسان رب کا شکرنہ کرے، بھلا اس کو کہاں سے
اعمال صالحہ کی توفیق میسر ہوگی۔
(8)اچھے لوگوں کی صحبت:اس میں کوئی شک نہیں کہ اچھے دوست کا اچھا اثر ہوتا ہے اور
برے دوست کا برا اثر ہوتا ہے اس وجہ سے ہمیں اچھا دوست بنانا چاہئے ۔ اچھے دوست کی
وجہ سے نیک کاموں پر تعاون ،اس کی ترغیب
اور آسانی میسر ہوتی ہے۔ نیک ساتھی کے ساتھ ہمارا رابطہ، ہمارا ماحول اور رہنے
سہنے، اٹھنے بیٹھنے کی مجلسیں اچھی ہوں۔ ماحول انسان کو بہت جلد اور زیادہ متاثر
کرتا ہے۔ اچھے ماحول کے ساتھ ، اچھا دوست اور اچھے لوگوں سے تعلقات ہونا چاہئے۔
(9)نفس کے خلاف مجاہدہ: انسان کا نفس فطری طورپر خواہشات کا دلدادہ ہوتا ہے یایوں
کہیں کہ خواہشات کا دوسرا نام نفس ہے۔ جس نے نفسانی خواہشات پر قابو پالیا، وہ
نجات پاگیا اور جس نے نفس کو بے لگام چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوگیا۔ اللہ
تعالی کا فرمان ہے:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ
عَنِ الْهَوَىٰ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (النازعات:40-41)
ترجمہ: جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے اور
نفس کو خواہشات سے روکتا ہے، دراصل اسی کے لئے جنت ٹھکانہ ہے۔
یہ بات یقینی ہے کہ نفس پر قابو پانے والا ہی اللہ کے
احکام پر عمل کرسکتا ہے لہذا اگر ہمیں نیک اعمال کی توفیق چاہئے تو نفسانی خواہشات
پر قابو پائیں یعنی ان امور کو بروئے کار لائیں جن سے نفس مغلوب ہوتا ہے تبھی ہم اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق چل
سکتے ہیں ۔
(10) شیطان سے تحفظ: عبادت
سے روکنے میں شیطان کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، یہ ہمیں ہر طرف سے اور ہر طرح سے نیک کام
کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ
خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ
وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (الاعراف:17)
ترجمہ : پھر ان پر حملہ کروں گا، ان کے آگے سے بھی اور
ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور
آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیے گا۔
اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ شیطان ہمارا کس قدر دشمن
ہے، اس کی یہ دشمنی ہمارے نیک عملوں سے ہے، ورنہ برے لوگوں کے لئے شیطان سے کوئی
خطرہ نہیں ہے، خطرہ ایمان والوں کے لئے، عمل صالح کی انجام دہی میں ہے۔ اب ہماری
ذمہ داری ہے کہ ہم شیطان کے حملے سے اللہ کی پناہ طلب کریں اور رسول اللہ ﷺ نے
شیطان سے تحفظ کے واسطے جو اذکار سکھائے ہیں ان کا اہتمام کریں۔ یہاں پر میں ایک
مفید عمل بتاتا ہوں جس سے شیطانی حملوں سے حفاظت ہوسکتی ہے۔ پنج وقتہ نمازوں کا
پابندی کے ساتھ اہتمام کریں اور پانچ اوقات کی نماز کے بعد اذکار کا ہمہ وقت پابند
بنیں، نیر صبح وشام اور سونے جاگنے کے اذکار کا اہتمام کرلیں، اللہ کی توفیق سے
شیطان سے حفاظت ہوگی اور اعمال صالحہ کی انجام دہی میں شیطانی حملوں اور مکروفریب
سے بچ سکیں گے۔ ان شاء اللہ۔
(11) سوشل میڈیا کا جائزاستعمال:آج چھوٹے بڑے ، بوڑھے جوان اور عورت ومرد ہر کسی کو سوشل
میڈیا نے تباہ کردیا ہے۔ موبائل ایک ضرورت ہے مگر اس وقت موبائل سے جس قدر لوگ بہک
رہے ہیں، بے حیائی کا شکار ہورہے ہیں اور ایمان وعمل سے دور ہورہے ہیں، اس قدر
مؤثر کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ اگر ہم موبائل کو ضرورت کا آلہ سمجھیں اور ضرورت بھر
استعمال کریں یا ضرورت کے ساتھ محض مفید استعمال کی حد تک محدود رہیں جیسے کوئی
بیان سننا ہو یا کوئی کتاب پڑھنی ہو یا کسی کو پیغام بھیجنا ہو۔ اس حد تک استعمال
کرکے موبائل بند کرلیا کریں یعنی جیسے ہی ہمارا کام ہوجائے موبائل بند ہوجائے تو
اس میں عافیت رہے لیکن جب موبائل مفید کے
ساتھ ساتھ غیر مفیدکام کے لئے بھی استعمال
ہونے لگے یا محض فضول اور غیرمفید کام میں ہمارا وقت گزرے تو یہ نفس انسانی اور
شیطانی حملوں سے بھی زیادہ گہرا اثر چھوڑے گا اور یہ اثر لوگوں پر نظر بھی آتا ہے۔