Sunday, October 19, 2025

توحید کی لفظی و اصطلاحی تعریف اور اس کے اقسام

توحید کی لفظی و اصطلاحی تعریف اور اس کے اقسام

تحریر: مقبول احمد سلفی / جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

توحید کی لفظی تعریف:

توحید لغت میں: وحَّد، يوحِّدسے توحيدًامصدر ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کو ایک ماننا اور اس کو منفرد و یکتا قرار دینا۔اس کے دیگر مشتقات میں واحد، احد اور وحید بھی آتے ہیں جو منفرد و یکتا کے معنی میں ہے۔

توحید کی شرعی تعریف:

توحید کی مختلف الفاظ میں اہل علم سے متعدد تعریفات منقول ہیں ان میں سب سے جامع و مانع یہ تعریف ہے۔اس تعریف کو حافظ ابن القیم ، شیخ ابن عثیمین اور دیگر اہل علم نے بھی نقل کیا ہے۔

"إفرادُ اللهِ سُبحانَه بما يختصُّ به من الرُّبوبيَّةِ والألوهيَّةِ والأسماءِ والصِّفاتِ"۔یعنی اللہ تعالى كو اس کی ربوبيت(متصرف الامورہونے)، اس کی الوہیت(عبادت وبندگی) اور اس کے اسماء و صفات ميں اسے يكتا و اكيلا ماننا ہے۔

توحید کے معنی پر دلیل: توحید کا جو معنی بیان کیا گیا ہےاس کے لئے ایک تو لغت کی کتاب دیکھی جاسکتی ہے نیز شرعی معنی ومفہوم کے لئے کتاب وسنت میں بے شمار دلائل ہیں چنانچہ قرآن وحدیث سے چند دلائل پیش کرتا ہوں ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ(ص:5)

ترجمہ:کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کردیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (المائدۃ:73)

ترجمہ:وہ لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا۔

ان دونوں آیات میں واحد کا لفظ ہے جو حقیقی معبود کے لئے بیان کیا گیا ہے، اسی واحد سے توحید بھی  ہے۔ ابن فارس لفظ وحد کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:

"الواو والحاء والدال: أصل واحد يدل على الانفراد"(معجم مقاييس اللغةص: 1084)

وادحاء دال ، یہ واحد کی اصل ہے جو منفرد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

توحید کا معنی اور اس کی حقیقت سمجھنا ہو تو سورہ اخلاص کا مطالعہ کریں، اس سورت کو توحید والی سورت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں خالص توحید کا بیان ہے اور کلمہ توحید کے اظہار کے لئے وہاں "احد" کا استعمال ہوا ہے یعنی اللہ یکتا اور اکیلا ہے۔

نبی ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب کی طرف جارہے ہو، ان کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دینا ۔ صحیح بخاری(7372) میں مروی آپ ﷺ کے الفاظ یوں ہیں:

فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى(سب سے پہلے انہیں توحید کی دعوت دینا یعنی ان سے سب سے پہلے اس بات کا اقرار کروانا کہ اللہ ایک ہے)۔
اس حدیث میں لفظ توحید نہیں بلکہ توحید کے اصل معنی کا بیان ہے جس سے توحید کے معنی کی بخوبی صراحت ہوجاتی ہے۔ ٹھیک اسی انداز میں ارکان اسلام سے متعلق صحیح مسلم(16) کی حدیث میں توحید اور اس کے معنی کی صراحت آئی ہوئی ہے۔ نبی ﷺ ارکان اسلام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
بُنِيَ الإسْلامُ علَى خَمْسَةٍ: علَى أنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ یعنی ارکان کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے، ان میں پہلا رکن یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے۔

ان چند دلائل سے توحید کا معنی واضح ہوجاتا ہے اور تفصیل کے لئے تو پورا قرآن ہے جس میں ایک تہائی توحید کا ہی بیان ہے۔

شرک کا معنی ومفہوم:

توحید کی تعریف کے ساتھ شرک کو جاننا ضروری ہے تاکہ پوری طرح توحید کو جانا جاسکے۔ شرک کی اصطلاحی تعریف ٹھیک توحید کے برخلاف ہے کیونکہ شرک توحید کی ضد ہے۔ اس بنا پر شرک  کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے لئے اس کی ربوبیت میں ، اس کی الوہیت میں اور اس کے اسماء وصفات میں کسی کو شریک کرنا۔ربوبیت میں شرک جیسےاللہ کے علاوہ غیراللہ کو داتا اور غوث ماننا ۔الوہیت وبندگی میں شرک کی مثال، اللہ کے علاوہ مخلوق کی عبادت کرنا  یا اللہ کی عبادت میں اس کو شریک کرنا جیسے قبرکو سجدہ، مردوں سے فریاد وغیرہ۔اسماء وصفات میں شرک کی مثال اسماء وصفات  کا انکار کرنایا ان میں اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دینا۔

تعریفات کے پس منظر میں توحید کا مفہوم :

توحید سے مراد کلمہ" لاالہ الااللہ" ہے۔اس میں دو اجزاء ہیں ، ایک میں اثبات  یعنی توحید اور دوسرے میں نفی یعنی شرک  ہے۔ جب ہم توحید کہتے ہیں  تو ایک طرف ایک اللہ کی الوہیت کا اقرار کرتے ہیں ، یہ توحیدکہلاتی ہے تو دوسری طرف تمام معبودان باطلہ (طاغوت)کی نفی کرتےہیں، یہ شرک کہلاتا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالی ارشاد فرماتا ہے:

فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا(البقرۃ:256)

ترجمہ:جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا۔

توحید صرف یہ نہیں ہے کہ بندہ اپنے رب کو کائنات کا خالق ومالک سمجھے ، یہ تو مشرکین بھی مانتے تھے ۔ توحید اصل یہ ہے کہ بندہ اللہ کو اس کے سارے افعال میں(مثلا پیداکرنا، روزی دینا، حکمرانی کرنا، تدبیرکرنا، زندگی دینا اور موت دینا وغیرہ) یکتاسمجھے ، اس کی تمام تر عبادات (مثلا نماز، روزہ، زکوۃ ، حج، قربانی ، نذر، دعا، توکل ، خوف، امیدوغیرہ) میں اسے یکتا سمجھےاور اس کے جمیع اسماء اور جمیع صفات( مثلا قادرہونے، مختارہونے، عالم الغیب ہونے ، الحی القیوم ہونے، ابدی ہونے ، بے مثال وباکمال ہونے اور تمام نقائص وعیوب سے پاک ہونے وغیرہ) میں اسے یکتا سمجھے  اور اس کی ذات میں ، اس کے افعال میں اور اسماء وصفات میں کسی کو شریک وساجھی نہ بنائے۔ جو اس اعتقاد کےساتھ  اپنے رب پر ایمان لاتا ہے اور اسی پر کاربند رہتا ہے ، دراصل وہی توحید والا کہلائے گا اور اگر ان میں ذرہ برابر بھی کہیں خلل آیا تو اہل توحید سے نکل جائے گا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان سے کلمہ پڑھ لیا ہم مسلمان ہوگئے، دل سے کوئی تصدیق نہیں، اس کے تقاضا سے کوئی سروکار نہیں ۔ دیکھا جائے تو اسی قسم کے مسلمان زیادہ ہیں  مگرایسے لوگ حقیقت میں توحیدوالے نہیں ہیں اور جب توحید والے نہیں ہوں گے تو آخرت میں نجات بھی نہیں ملے گی ، بھلے وہ دنیا میں  خود کو مسلمان سمجھتے رہے۔نبی ﷺ فرماتے ہیں :

فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ(صحیح البخاری:1186)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے ہر اس آدمی پر دوزخ حرام کر دی ہے جس نے «لا إله إلا الله‏» اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کہہ لیا۔

صرف کلمہ پڑھنے سے نجات نہیں ملے گی، اخلاص قلب کے ساتھ کلمہ پڑھنا پڑے گایعنی زبان ودل کے ساتھ توحید کا اقرار کریں اور اس کا تقاضا پورا کریں، پھر توحید مکمل ہوگی اوربایں سبب نجات ملے گی۔

صوفی طبقہ سے متعلق اضطراب :

مسلمانوں کا ایک  بڑاطبقہ شرک وبدعت میں ڈوبا ہوا ہے، یہ صوفی طبقہ ہےجوتوحید کے معاملہ میں اس کے تمام اقسام میں شرک کرتا ہے۔ حیرانی واضطراب کی بات یہ ہے کہ جس کلمہ توحید(لاالہ الااللہ ) کا اقرار کرکے آدمی اسلام میں داخل ہوتا ہے ، آخر اسی کلمہ کو پڑھنے والا شرک کیسے کررہا ہےاور شرک بھی وہ جس سے سارے اعمال اکارت ہوجاتے ہیں اور آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ اس سے زیادہ حیرانی اس بات پر ہے کہ یہ صوفی لوگ بڑی ڈھٹائی سے شرک کرتے ہیں ۔ ان کو منع کرنے سے بجائے بات سمجھنے اور اصلاح کرنے کے الٹا ناراض ہوتے ہیں بلکہ اکثر گالی گلوج دینے لگتے ہیں اور لڑائی جھگڑے کی نوبت آجاتی ہےکیونکہ ان کے ذہنوں میں ان کے علماء نے اہل توحید کے خلاف نفرت کا زہر گھول رکھا ہے۔ اہل توحید سے ملنے ، سلام کرنے، ان کی بات سننے ، ان سے تعلقات رکھنے ، ان کی کتابیں اور بیانات سننے سے سختی کے ساتھ منع کیا جاتا ہے ۔اگر کوئی ایسا کام کرلے تو صوفیوں کے یہاں اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ اس قدر غلو پایا جاتاہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے ،  کیا صوفیوں کے یہاں توحید کی تعریف الگ ہے، کیا وہ قرآن وحدیث کے نصوص نہیں سمجھتے ؟

اس بات کے اعتراف   کے ساتھ متعدد بریلوی علماء توحید و شرک کی تعریف میں ڈنڈی مارتے ہیں ، اس کے باوجود بعض صوفی حضرات کے یہاں بھی توحید کی وہی تعریف ملتی ہے جو عموما اسلاف کے یہاں موجود ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری ، بریلویوں کا غالی صوفی ہے۔ ان کی ایک کتاب "کتاب التوحید " ہے ۔ اس کتاب میں توحید کا شرعی واصطلاحی مفہوم کے تحت لکھتے ہیں:شریعت کی اصطلاح میں یہ عقیدہ رکھنا توحید ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے مثال ہے، اس کا کوئی ساجھی یا شریک نہیں، کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔‘‘

طاہرالقادری کی پیش کردہ توحید کی تعریف وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بریلوی شوق اور ڈھٹائی کے ساتھ شرک وبدعت انجام دیتا ہے؟  اس سوال کا مختصر اور معقول جواب یہ ہے کہ بریلوی اپنے امام کی اندھی تقلید کرتا ہے اس وجہ سے امام نے جو کچھ کہہ دیا اسی پر عمل کیا جاتا ہے۔ تقلید میں یہ چیز عام ہے۔  ہم احناف کو دیکھتے ہیں کہ اپنے امام کے قول کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کا قول ترک کردیتے ہیں یا اس میں من مانی تاویل کرتے ہیں ، یہی حال بریلویوں کا ہے۔ یہ لوگ بھی خود کو امام ابوحنیفہ ؒ کا مقلد کہتے ہیں ۔ ساتھ ہی گونگے ، بہرے اور اندھے مقلد بن کر احمد رضا بریلوی کی پیروی کرتے ہیں ۔ احمد رضا نے ہندوستان میں ایسا شرکیہ نظریہ پیش کیا کہ آج اس کے ماننے والے برصغیر میں رائی کے دانے کے برابربھی اس کے فتوی سے انحراف نہیں کرتے ،چاہے اس کے لئے اللہ کا حکم چھوڑنا پڑے یا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ترک کرنا پڑے ، اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بریلوی حضرات اپنے خلاف توحید سے متعلق قرآن اور حدیث کے نصوص کو اپنے امام کے نظریہ کے مطابق تاویل کرتے ہیں ۔ کھلے الفاظ میں تو یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس آیت کو نہیں مانتے یا اس حدیث کا انکار کرتے ہیں تاہم انکار کے ہی پہلو میں اپنے باطل افکار ونظریات کو صحیح ٹھہرانے کے لئے من مانی تشریح کرتے ہیں۔

کس قدر افسوس کی بات ہے کہ کلمہ گو ہونے کے باوجود ایسے شرکیہ اعمال کرتے ہیں جو جہنم میں لے جانے والے ہیں ۔ اللہ تعالی ان لوگوں کو صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

توحید کے اقسام :

کتاب وسنت کے نصوص کو سامنے رکھتے ہوئے علمائے اسلام نے توحید کے تین اقسام بیان کئے ہیں۔

پہلی قسم: توحید ربوبیت ، دوسری قسم : توحید الوہیت اور تیسری قسم : توحید اسماء وصفات ہے۔ توحید کے ان تینوں اقسام کا بیان، پورے قرآن میں جابجا ہے تاہم قرآن کی ایک آیت میں بھی اکٹھے ان تینوں کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا (مريم:65)

ترجمہ:آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟

اس آیت کے پہلے حصے "رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا" میں ربوبیت کا ذکر ہے کیونکہ اللہ اس میں ذکر کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا وہی رب یعنی ان کا خالق اور پالنہار ہے۔ وہی اکیلا پوری کائنات کی ضرورت پوری کرنے والا اور تدبیر و انتظام سنبھالنے والا ہے۔ آگے اللہ کہتا ہے "فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ" ، اس میں توحید الوہیت کا بیان ہے کیونکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو۔ پہلے والے حصے سے اس کو جوڑ کر سمجھیں کہ اللہ ہی ساری کائنات کا خالق و پالنہار ہے پھر وہی اکیلا عبادت کا بھی مستحق ہے لہذا اسی کی عبادت کی جائے گی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ آگے اللہ فرماتا ہے "هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا"، اس میں اللہ توحید اسماء و صفات کو بیان کرتا ہے کہ کائنات میں کوئی اس کا ہم نام اور ہم پلہ نہیں۔ کوئی اس کے مشابہ ومماثل اور برابری کرنے والا نہیں ہے۔

 ان تینوں کی تعریف اور وضاحت ذیل کے سطور میں آرہی ہے۔

توحید کی پہلی قسم :   توحیدربوبیت ہے ۔ توحید ربوبیت یہ ہے کہ اللہ تعالی کو اس کی ربوبیت یعنی  ذات اور اس کے افعال  جیسے پیدا کرنے، مارنے جلانے، روزی دینے، بادشاہت کرنے ، تدبیرکرنے اور کائنات میں تصرف کرنے وغیرہ میں یکتا، بے نظیر اور منفرد ماننا ہے۔

توحید ربوبیت کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم سے اس پہ چند دلائل پیش کرتا ہوں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِن شُرَكَائِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيْءٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ (الروم:40)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کرسکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:29)

ترجمہ:وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا  پھر آسمان کی طرف قصد کیا اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الملک:1)

ترجمہ:بہت بابرکت ہے وہ ذات (اللہ)جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (السجدۃ؛5)

ترجمہ:وہ آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر (وہ کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازہ تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔

اللہ کی ربوبیت کوسمجھنے کے لئے کہ وہی اکیلا خالق ، مالک، رازق، مدبر، مختار ، مارنے جلانے والا اور پالنہار ہے، یہ آیات کافی ہیں جبکہ قرآن میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اللہ کے مختلف افعال بیان کرتی ہیں اور ان میں اللہ یکتا و منفرد ہے۔ طوالت کی وجہ سے احادیث ذکر نہیں کررہا ہوں۔

مشرکین اورآج کے مسلمان:

مسلمانوں  کا ایک بڑا طبقہ جسے صوفی اور بریلوی کہا جاتا ہے وہ  کلمہ پڑھنے کے باوجودتوحید ربوبیت میں بھی شرک کا ارتکاب کررہا ہے حالانکہ عہدرسالت میں جنہیں مشرک کہا جاتا تھا ، مشرک ہونے کے باوجود توحید ربوبیت کو مانتا تھا۔ اللہ تعالی بیان فرماتا ہے:

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ (الزخرف:9)

ترجمہ: اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) ہی نے پیدا کیا ہے۔

یہاں اللہ نے مشرکین مکہ کا ذکر کیا ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا کون ہے تو وہ جواب دیتے کہ اللہ ہے۔ اب سورہ المومنون کی آیات 84 سے لے کر 89 تک دیکھیں، اسی توحید ربوبیت کا اقرار مشرکین کس طرح کرتے ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِيهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (84) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (85) قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (86) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (87) قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (88) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُونَ (89)(المومنون)

ترجمہ:پوچھیے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو۔فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے۔پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا اگر تم جانتے ہو تو بتلاؤ؟ یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے پھر تم کدھر جادو کردیئے جاتے ہو۔

مزید اس قسم کی آیات قرآن میں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین اللہ تعالی کی ذات پر ایمان لاتے تھے اور وہ یہ اقرار کرتے تھے کہ کائنات کا خالق ومالک ، سورج وچاند مسخر کرنے والا ، روزی دینے والا ، موت وحیات دینے والا اور مصیبت سے نکالنے والا اکیلا اللہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرکین جب دریا میں ہوتے اور موجیں اٹھتیں تو صرف اللہ کو ہی پکارتے کیونکہ وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ ہی مصیبت سے نکال سکتا ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (یونس:22)

ترجمہ:وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (برے) آگھرے۔ (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے بریلوی مسلمان مشرکین سے بھی گئے گزرے ہیں جو اللہ کے افعال میں بھی غیراللہ کو یعنی اپنے پیروں کو شریک مانتے ہیں۔ پیداکرنے میں ، روزی دینے میں، قسمت بنانے میں، اولاد دینے میں، تکلیف دور کرنے میں، کام بنانے میں، کائنات میں تصرف کرنے میں حتی کہ مارنے زندہ کرنے میں بھی غیراللہ کو پکارتے ہیں کیونکہ یہ لوگ غیراللہ میں یہ صفات مانتے ہیں۔ مذکورہ بالا آیات میں ان لوگوں کے لئے ہدایت ورہنمائی ہے۔ اللہ ان سب کو سمجھ عطا فرمائے۔

توحید کی دوسری قسم : توحید الوہیت ہے۔اس کو توحید عبادت بھی کہتے ہیں جو بندوں کے اعمال سے متعلق ہے۔ اس توحید کا مطلب یہ ہے کہ جملہ قسم کی عبادات مثلا نماز ، رکوع وسجود، روزہ ، زکوۃ ، حج، دعا، ذبیحہ، نذرونیاز،طواف ، اعتکاف، استعانت، استغاثہ، قربانی، توکل، امید، خوف وغیرہ  میں اللہ کو یکتا ومنفرد ماننا یعنی تمام قسم کی عبادات کا مستحق اکیلے اللہ کو ماننا اور اس کے ماسوا باقی سب کی عبادت کی نفی کرنا خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ بالفاظ دیگر ہم تمام قسم کی عبادت صرف اکیلے اللہ کے لئے بجالائیں گے، نماز اللہ کے لئے پڑھیں گے، رکوع وسجدہ اللہ کے لئے انجام دیں گے، قربانی ونذرونیاز اللہ کے لئے کریں گے ،حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ کو سمجھیں گے اور اسی سے دعامانگیں گے، ہرحال میں اسی پر توکل کریں گے ، اسی سے امید لگائیں گے اور اسی سے محبت اور اسی سے خوف کھائیں گے اور اس کے لئے عاجزی کا اظہار کریں گے۔ قرآن کریم سے اس بارے میں چند آیات ذکر کرتا ہوں تاکہ موضوع کی وضاحت ہو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (163) (الانعام)

ترجمہ:آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا(النساء:36)

ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ (الشعراء:213)

ترجمہ: پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہو جائے۔

توحید الوہیت سے مراد کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (الانبیاء:25)

ترجمہ:تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو۔

یہی وہ اہم دعوت ہے جس کو سارے انبیاء دے کر بھیجے گئے اور تمام نبیوں نے اپنی اپنی قوم کو لاالہ الا اللہ کی دعوت دی یعنی یہ کہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے، اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ جس نے نبی کی اس دعوت کو تسلیم کرلیا وہ اسلام کے سایہ تلے محفوظ ہوگیا اور جس نے اس دعوت کا انکار کیا اس کے ساتھ جنگ کی گئی ۔ کفارمکہ نے بھی اس کا انکار کیا تو محمد ﷺ نے ان سے جنگیں لڑیں بالآخر سارے عرب پر اسلام غالب آگیا۔  اللہ کے فضل سے اللہ پوری دنیا میں اسلام پھیل چکا ہے اور کلمہ "لاالہ الااللہ" پڑھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے مگر ہمیں اس بات پہ دکھ وافسوس ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جیسے ربوبیت میں شرک کرتا ہے، اسی طرح الوہیت میں بھی شرک کرتا ہے اور بہت سارے عبادت کے اعمال غیراللہ کے لئے انجام دیتا ہے جیسے غیراللہ کے لئے سجدہ کیا جاتا ہے، اس سے اولاد مانگی جاتی ہے، مشکل میں اس کو پکارا جاتا ہے، اس کے لئے ذبیحہ ، قربانی اور نذرونیاز انجام دئے جاتے ہیں ، قبروں کو سجدہ اور طواف کیا جاتا ہے بلکہ وہاں مکمل نماز پڑھی جاتی ہے۔ غرضیکہ عبادت کے بہت سارے امور غیراللہ کے لئے انجام دئے جاتے ہیں جو شرک فی العبادۃ ہے ۔ یہ وہ عمل ہے کہ انسان بغیر توبہ اسی حال میں مرجائے تو اس کی بخشش نہیں ہوگی، وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائے گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ (المائدۃ:72)

ترجمہ: یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گناہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

توحید کی تیسری قسم : توحید اسماء وصفات ہے۔اس توحید سے مراد یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول میں جو بھی اللہ کے اسماء اور اس کے صفات وارد ہیں ان تمام پر ایمان لاناہے اور انہیں خاص اللہ کے لئے ثابت  ماننا ہے بغیر تحریف وتعطیل اور بغیرتکییف و تمثیل کے  یعنی ان اسماء وصفات کے معنی میں کوئی تحریف نہ کی جائے ، نہ کسی کا انکار کیا جائے اور نہ ان میں کسی کی کیفیت بیان کی جائے اورنہ مخلوق سے تشبیہ دی جائے۔

توحیداسماء وصفات دوچیزوں پر مبنی ہے۔

 پہلی چیز"اثبات" ہے، وہ  یہ ہے کہ جو بھی اسماء اور صفات اللہ نے اپنے لئے ثابت کیا ہے یا اللہ کے رسول محمد ﷺ نے اللہ کے لئے ثابت کیا ہے ان اسماء وصفات کو ویسے ہی ثابت مانا جائے جو اللہ کے شایان شان ہیں۔جیسے اللہ سمیع و بصیر ہے یعنی وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے اس طرح جو اس کے شایان شان ہے۔

دوسری چیز "تنزیہ"ہے ، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کو ہرقسم کے عیوب ونقائص سے منزہ مانا جائے نیز اللہ نے خود اپنے لئے جن صفات کی نفی کی ہے ان کی نفی کی جائے ۔اللہ کا فرمان ہے:

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (الشوری:11)

ترجمہ: کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

یہاں پر اللہ تعالی نے اپنے لئے تشبیہ دینے کی نفی کردی اس وجہ سے اللہ کی کسی صفت کو مخلوق سے تشبیہ نہیں دی جائے گی ۔

توحید کی اس تیسری قسم میں بہت فرقے گمراہ ہوئے ، کسی نے معنی میں تحریف کیاتوکسی نے کچھ صفات کا انکار کیا اور کچھ تکییف و تمثیل کے باب میں بھٹک گئےجن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔

سطور بالا میں توحید کی تین قسموں کو اختصار سے بیان کیا گیا ہے ، یہ تقسیم سلف سے منقول ہے ۔بعض اہل علم ، توحید کی دو ہی قسم  بیان کرتے ہیں ۔

(1)توحیدقصدوطلب۔ اس سے مراد توحید الوہیت ہے ۔

(2) توحیدمعرفت واثبات۔ اس  میں توحیدربوبیت اور اسماء وصفات دونوں داخل مانتے ہیں۔

بظاہر اس تقسیم میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ تینوں قسموں کو شامل ہے تاہم  توحید کو تین اقسام میں بیان کرنا جیساکہ اکثر علماء ذکر کرتے ہیں ، افضل ہے۔ حقیقت میں توحید کی ان تین قسموں پر ایک طرح سے اجماع ہے، اس میں مزید کسی قسم کے اضافہ کی ضرورت نہیں ہے مگر کچھ لوگ بطور خاص جماعت اسلامی اور اخوانی لوگ  ایک چوتھی قسم کا اضافہ کرتے ہیں اور بڑی شد ومد کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ توحید حاکمیت ہے۔

توحید حاکمیت کیا ہے ؟

توحید حاکمیت میں دو باتیں شامل ہیں ۔ ایک بات تو یہ ہے کہ حاکم ، مالک ، شارع،قانون بنانے والا اور حکم دینے والا اللہ تعالی ہے، اسے تکوینی اقتدار کہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو دین محمد ﷺ کے ذریعہ اللہ نے دنیا والوں کو دیا ہے وہ زمین پر نافذہویعنی جس طرح آسمانوں کا حاکم اللہ ہی ہے، اسی طرح زمین پر بھی اللہ کے دین کے ذریعہ  ہی حکمرانی ہوگی  ، یہاں پر اورکوئی دوسرا حکم نہیں چلے گا۔اسے تشریعی اقتدار کہتے ہیں۔درحقیقت  توحیدکی تین قسموں میں توحیدحاکمیت بھی داخل ہے ۔حاکم ہونے کے اعتبار سے یعنی تکوینی کی حیثیت سے توحیدربوبیت میں داخل ہے اور اللہ کا حکم نافذکرنے یعنی  تشریعی حیثیت سے توحید الوہیت میں داخل ہے۔ جب یہ توحید ، تین قسموں میں داخل وشامل ہے تو اسے الگ، توحید کی ایک مستقل قسم کی حیثیت سے بیان کرنا غلط ہے۔ توحید حاکمیت کہنا، لکھنا یا بولنا غلط نہیں ہے، بلاشبہ اللہ ہی حاکم اعلی ہے ، اسی کا حکم چلتا ہے اور چلنا چاہئے مگر اسے الگ قسم کی حیثیت سے بیان نہیں کیا جائے گا۔

سب سے پہلے مولانا مودو دی نے توحیدحاکمیت  اور شرک فی الحاکمیت کو الگ سے بیان کیا۔ اس کی ضرورت اس وجہ سےپڑی کہ جماعت اسلامی کا قیام تحریکیت پر مبنی ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ اسلامی نظام کا قیام عمل میں لانا اس کا مقصد ہے۔اپنے مقصد کے پرچار اور اس میں کامیابی کے لئے توحیدحاکمیت کو ایک سیاسی اسلحہ کے طور پر استعمال کیا ۔  یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کے یہاں توحیدحاکمیت ہی اصل توحید بلکہ ساری توحید ہی یہی ہے حتی کہ ان لوگوں نے توحیدحاکمیت میں اس قدر غلو کیا کہ "لاالہ الااللہ" کاصحیح معنی ومفہوم بدل دیا۔ اس کامعنی بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی حاکم نہیں ہے جبکہ اس کا اصل معنی ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود حقیقی  سوائے اللہ کے یعنی خالص ایک اللہ کی عبادت کی جائے گی ، اس کے علاوہ کسی اور کی نہیں ، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے ۔یہی ہماری پیدائش کا مقصد ہے، یہی سارے انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ محمد ﷺ کی اس دعوت کو لے کر آئےاور تیرہ سال تو صرف اسی ایک بات کی دعوت دیتے رہے۔ آپ نے مکی دور میں یہ دعوت نہیں  دی کہ حاکم اللہ ہے، یہ تو کفار مکہ پہلے سے مانتے تھے کہ خالق ، مالک اور حاکم اللہ ہےیعنی توحید ربوبیت کے قائل تھے ، نبی ﷺ نے انہیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دیا  مگر جماعت اسلامی اپنے تحریکی مقصد کی تکمیل کے لئے غلط ڈھنک سے توحید حاکمیت کا پرچار اور استعمال کرتے ہیں۔ اسی مقصد سے مسلم حکام کی تکفیربھی کرتے ہیں۔

توحیدحاکمیت کے سلسلے میں اختصار کے ساتھ بعض اہل علم کے اقوال ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔

٭سعودی عرب کی فتوی کمیٹی، لجنہ دائمہ سے توحید حاکمیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو کمیٹی نے جواب دیا:"وجعل الحاكمية نوعا مستقلا من أنواع التوحيد عمل محدث، لم يقل به أحد من الأئمة فيما نعلم" یعنی حاکمیت کو توحید کی ایک مستقل قسم قرار دینا ایک قسم کی بدعت ہے ، ہمارے علم کے مطابق کسی بھی عالم نے ایسا نہیں کہا ہے۔(المسلمون ڈاٹ نٹ)

٭شیخ ابن عثیمین ؒ سے سوال کیا گیا کہ بعض لوگ توحید کی ایک چوتھی قسم بناتے ہیں اس کا نام توحیدحاکمیت ہے،اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو شیخ نے جواب دیا: "نقول إنَّه ضال ,وهو جاهل، لأن توحيد الحاكمية هو توحيد الله -عزَّ وجل- الحاكم هو الله -عزَّ وجل- فإذا قلت التوحيد ثلاثة أنواع كما قاله العلماء، توحيد الربوبية فإنَّ توحيد الحاكمية داخلٌ في الربوبية،لأن توحيد الربوبية هو توحيد الحكم، والخلق، والتَّدبير لله -عزَّ وجل-وهذا قولٌ مُحدث مُنكر"۔

ترجمہ: ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ گمراہ اور جاہل ہے کیونکہ توحید حاکمیت ہی تو اللہ عزوجل کی توحید ہے اور حاکم وہی اللہ عزوجل ہے۔ جب تم کہتے ہو کہ توحید کی تین قسمیں ہیں جیساکہ علماء نے بیان کیا ہے، اس میں توحید ربوبیت بھی ہے تو توحید حاکمیت، توحید ربوبیت میں داخل ہے کیونکہ توحید ربوبیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل ہی حکم دینے والا، پیدا کرنے والا اور تدبیر کرنے والا ہے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ توحیدحاکمیت چوتھی قسم ہے، یہ قول بدعت ومنکر ہے۔(المنہج الواضح ڈاٹ نٹ)

٭شیخ البانی ؒ توحید حاکمیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں: "الحاکمیة فرع من فروع توحید الألوھیة والذین یدندنون بھذہ الکلمة المحدثة في العصر الحاضر، یتخذون سلاحًا لیس لتعلیم المسلمین التوحید الذي جاء به الأنبیاء والرُّسل کلّھم و إنما سلاحًا سیاسیًّا"۔

ترجمہ:حاکمیت ، توحیدالوہیت کے فروع میں سے ایک فرع ہے اور جو لوگ عصر حاضر میں اس  نوایجادکلمہ کو لیے دندناتے پھرتے ہیں ، وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو اس توحید کی تعلیم نہیں دینا چاہتے جسے تمام انبیاء و رسل لے کر آئے بلکہ یہ لوگ اس کلمہ کو سیاسی اسلحہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔(المنہج الواضح ڈاٹ نٹ)

٭ سائل ایک عالم کے حوالے سے پوچھتا ہے کہ وہ شدت حاجت کی وجہ سے توحید حاکمیت کو چوتھی قسم ماننے میں حرج نہیں مانتے ہیں، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں تو اس پر شیخ صالح الفوزان جواب دیتے ہیں:

توحيد الحاكمية ما يفرد, ما أفرده السلف ولا أفرده العلماء, لأنه داخل في توحيد الألوهية وبعضهم يقول داخل في الربوبية. والصحيح انه داخل في الاثنين, في توحيد الربوبيةوتوحيد الألوهية. أما يجيب قسما مستقلا هذا ابتداع.

ترجمہ:توحید حاکمیت مستقل طور پر نہیں بیان کیا جائے گاکیونکہ سلف نے اس کو منفرد نہیں بیان کیا ہے اور نہ علماء نے اسے منفرد بیان کیا ہے۔یہ توحید الوہیت میں داخل ہے اور بعض اسے توحید ربوبیت میں داخل مانتے ہیں۔صحیح بات یہ ہے کہ یہ  توحید ربوبیت اور توحید الوہیت دونوں میں داخل ہےمگر اسے مستقل قسم بنانا بدعت ہے۔

توحید حاکمیت کے سلسلے میں علمائے عرب کے مختلف فتاوی پائیں گے، میں نےطوالت کے خوف سے چندایک کے ذکر پہ اکتفا کیا۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ توحیدحاکمیت پہلے سے ہی توحید کی تین قسموں میں شامل ہے، اسے الگ سے مستقل نوع کی حیثیت سے پیش کرنا بدعت وگمراہی ہے اور لوگوں کی توجہ اصل توحید سے ہٹاکرصرف  توحیدحاکمیت کی طرف لگانا ہے بلکہ اخوانیوں اور تحریکیوں کے یہاں یہ ایک سیاسی اسلحہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ انہی لوگوں نے اسے الگ قسم کی حیثیت سے مشہور کیا ہے، علماء سلف سے اس قسم کی تقسیم منقول نہیں ہے۔

مکمل تحریر >>

Sunday, October 5, 2025

نئے مسلم کے لئے غسل کا حکم

 نئے مسلم کے لئے غسل کا حکم

 

مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب

 

اسلام نے طہارت ونظافت پر بہت دھیان دیا ہے اور اسے آدھا ایمان قرار دیا ہے تاکہ مسلمان  ہمیشہ طہارت وپاکیزگی کا خیال رکھے ۔ اسلام میں طہارت پر توجہ دینے کی ضرورت بایں سبب بھی ہے کہ نماز جیسی عظیم عبادت جو دن ورات میں پانچ بار آتی ہےاس کی انجام دہی کے لئے طہارت شرط ہے، اس کے بغیر عبادت قبول نہیں ہوگی۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں: لا تُقْبَلُ صَلاةٌ بغيرِ طُهُورٍ (مسلم:224) یعنی بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوگی۔ نماز کی قبولیت کے لئے زمین اور کپڑے کی پاکی کے ساتھ بدن بھی پاک ہونا ضروری ہے۔

ذرا غور فرمائیں کہ جمعہ کے دن آدمی ناپاک نہ بھی ہو، تب بھی اسے غسل جنابت کی طرح غسل کرکے مسجد جانے کی ترغیب دی گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنِ اغْتَسَلَ يَومَ الجُمُعَةِ غُسْلَ الجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأنَّما قَرَّبَ بَدَنَةً، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ بَقَرَةً، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ كَبْشًا أقْرَنَ، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ دَجَاجَةً، ومَن رَاحَ في السَّاعَةِ الخَامِسَةِ، فَكَأنَّما قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإمَامُ حَضَرَتِ المَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ(صحيح البخاري:881)

ترجمہ: جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کرے، پھر نماز کے لیے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو شخص دوسری گھڑی میں جائے تو گویا اس نے گائے کی قربانی کی۔ اور جو شخص تیسری گھڑی میں جائے تو گویا اس نے سینگ دار مینڈھا بطور قربانی پیش کیا۔ جو چوتھی گھڑی میں جائے تو گویا اس نے ایک مرغی کا صدقہ کیا۔ اور جو پانچویں گھڑی میں جائے تو اس نے گویا ایک انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا۔ پھر جب امام خطبے کے لیے آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے مسجد میں حاضر ہو جاتے ہیں۔

جب ایک نیا مسلمان اسلام میں داخل ہوتا ہے، وہ بھی اب اسلامی احکام وآداب کا پابند ہوجاتا ہے  جبکہ پہلے اس کے لئے کوئی پابندی نہیں تھی خصوصا پاکی کے معاملہ میں اسے کوئی شعور نہیں تھا۔ کبھی اس نے بدن اور کپڑے کی طہارت کے بارے میں اسلامی نظریہ طہارت کی طرح نہ سوچا ہوگا اور نہ عمل کیا ہوگا۔ ایسے میں اسلام لانے والوں کے لئے غسل کرنا اس کے لئے شعوری طور پربھی زیادہ خوشی کا باعث ہوگا کہ وہ غیرضروری بالوں کی صفائی کرلے، میلے یا ناپاک کپڑے بدل لے اور غسل کرکے پورا جسم صاف کرلے تاکہ اس کے اندر ابتداء سے ہی طہارت وپاکیزگی کا شعور واحساس پیدا ہو۔

اب رہا مسئلہ یہ ہے کہ نئے مسلموں کے لئے یا اسلام میں داخل ہوتے وقت کلمہ پڑھنے کے لئے کیا غسل کرنا واجب ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مجرد کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہونے کے لئے غسل کرنا واجب وضروری نہیں ہے، ناپاکی کی حالت میں بھی کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوسکتا ہےمگر کلمہ پڑھنے سے قبل یا کلمہ پڑھنے کے بعد اس کے لئے غسل کرنے کا حکم مختلف فیہ ہے۔ جمہور علماء کہتے ہیں کہ نئے مسلم کے لئے غسل کرنا مستحب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نئے مسلم کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔ میرا رجحان یہ ہے کہ نئے مسلمانوں کے لئے غسل کرنا واجب ہے، بہتر ہے کہ کلمہ پڑھتے وقت غسل کرلے اور اگر اس وقت سہولت نہ ہوتو اسلام میں داخل ہونے کے بعد اقرب وقت میں غسل کرکے خود کو روحانی اور جسمانی دونوں طور پر پاک کرلے۔اس سلسلے میں دلائل سے اپنی بات کو مزین کروں گا، پہلے ان لوگوں کی  باتوں کا اختصار سے جائزہ پیش کردیتا ہوں جو نئے مسلموں کے لئے غسل کو واجب قرار نہیں دیتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ غسل صرف مستحب ہے۔ اپنے موقف کی تائید میں یہ لوگ کئی دلائل پیش کرتے ہیں جن کا جائز ہ نیچے پیش کیا جاتا ہے۔

اس معاملہ میں سب سے عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ  رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے مگر سبھی نئے مسلموں کو آپ ﷺنے غسل کرنے کا حکم نہیں دیا۔

دلیل کا تجزیہ: شرعی دلیل کے ثبوت کے لئے بہت سارے دلائل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، ایک یا چند دلیل بھی کسی مسئلہ کے وجوب کے لئے موجود ہو تو وہ امر وجوبی ہوجاتا ہے اور آگے ایسے کئی دلائل ذکر کئے جائیں گے جن سے معلوم ہوگا کہ نئے مسلموں کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔دراصل بہت سارے صحابہ کے بارے میں قبول اسلام کے وقت غسل کا ذکر نہیں ملتا ، اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فقط اسلام میں دخول کے لئے غسل کرنا واجب نہیں ہے، کلمہ پڑھ کر بغیر غسل کے آدمی اسلام میں داخل ہوسکتا ہے جیساکہ اوپر اس امر کی وضاحت کردی گئی ہے البتہ اسلام لانے کے سبب اس کے ذمہ غسل کرنا واجب ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ عدم ذکر سے عدم شی لازم نہیں آتا یعنی اگر بہت سارے نئے مسلموں سے غسل کرنا منقول نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے غسل نہیں کیا ہوگاجبکہ کئی سارے دلائل غسل کرنے سے متعلق موجود ہیں۔ بلکہ یہ سمجھ لیں کہ نئے مسلموں کا غسل کرنا اس قدر لوگوں میں معروف تھا کہ اسلام لانے والوں کوکہنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی کہ تم غسل کرو، وہ خود ہی غسل کرلیا کرتے تھے ۔

دوسری دلیل:  صحیح مسلم(121) میں ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں:"الإِسْلام يَهْدِم مَا كَانَ قَبْله" یعنی اسلام پہلے کی چیزوں کو منہدم کردیتا ہے۔ اس لئے اس کے ذمہ غسل ضروری نہیں ہے۔

تجزیہ:  یہاں پر منہدم کرنے کا مطلب اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کردیتا ہے جس کاتعلق اندرون جسم سے ہےجبکہ  جسم کی ظاہری نجاست تو پانی سے ہی زائل ہوسکتی ہے، اس میں توبہ یا اسلام لانے کا دخل نہیں ہے۔اسی طرح  اگر دیکھا جائے تو نئے مسلم کے ذمہ قرض اور  حقوق العباد ہوں تو اسلام لانے سے معاف نہیں ہوگا، اسی طرح نجاست کا معاملہ ہے۔ کوئی نجس آدمی اسلام میں داخل ہوتے وقت وہ نجس کیسے باقی رہ جاسکتا ہے ۔ جیسے وہ کلمہ پڑھ کر اپنے روح کو پاک کرتا ہےاسی طرح غسل کرکے وہ اپنے بدن کو بھی پاک کرے گا اس وجہ سے نئے مسلموں کے بارے میں قوی موقف یہی ہے کہ اسے غسل کا حکم دیا جائے گا۔

عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ،" فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".

قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 355]

اس حدیث میں ذکر ہے کہ جب صحابی قیس بن عاصم اسلام لانے کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو اسلام قبول کرنے سے قبل غسل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور حکم دینا واجب کے درجہ میں ہے لہذا کسی غیر مسلم کو غسل کرنے کا واجبی حکم دیا جائے گا جیساکہ اللہ کے رسول ﷺ نے قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ حکم قیس کے ساتھ خاص ہے، اس میں تمام نئے مسلموں کےلئے وجوبی حکم ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک یہی وجوب کا حکم ہے کیونکہ یہاں پر امر (حکم)وجوب کا تقاضاکرتا ہے۔

اسی طرح حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کے وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں غسل دینے کا حکم دیا تھا چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ، فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ(مسند احمد:8037)

ترجمہ:انہیں فلاں آدمی کے باغ میں لے جاؤ اور انہیں غسل کرنے کا حکم دو۔

متعدد اہل علم نے اس کی سند کو قوی کہا ہے کیونکہ اس کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ متعدد احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لانے والے خود ہی غسل کرلیتے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاتے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا قبول اسلام ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَى الْبَابِ، فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ، فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ، فَقَالَتْ: مَكَانَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، قَالَ: فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا، فَفَتَحَتِ الْبَابَ، ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ قَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَكَ وَهَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: خَيْرًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ، وَحَبِّبْ إِلَيْهِمُ الْمُؤْمِنِينَ، فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي ".(صحیح مسلم:2491)

ترجمہ: میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا اور وہ مشرک تھی۔ ایک دن میں نے اس کو مسلمان ہونے کو کہا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار گزری۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف بلاتا تھا وہ نہ مانتی تھی، آج اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں مجھے وہ بات سنائی جو مجھے ناگوار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت کر دے۔“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے خوش ہو کر نکلا۔ جب گھر پر آیا اور دروازہ پر پہنچا تو وہ بند تھا۔ میری ماں نے میرے پاؤں کی آواز سنی۔ اور بولی کہ ذرا ٹھہر جا۔ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی، غرض میری ماں نے غسل کیا اور اپنا کرتہ پہن کر جلدی سے اوڑھنی اوڑھی، پھر دروازہ کھولا اور بولی کہ اے ابوہریرہ! ”میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشی سے روتا ہوا آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! خوش ہو جائیے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول کی اور ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفت کی اور بہتر بات کہی۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ عزوجل سے دعا کیجیے کہ میری اور میری ماں کی محبت مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دے۔ اور ان کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اپنے بندوں کی یعنی ابوہریرہ اور ان کی ماں کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور مومنوں کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے۔“ پھر کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرے بارے میں سنا یا مجھے دیکھا ہو اور میرے ساتھ محبت نہ کی ہو۔

اس حدیث سے جہاں ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے کسی دوسرے کے ذریعہ  کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، خود سے شہادتین کا اقرار کرکے آدمی اسلام میں داخل ہوسکتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو کیسے معلوم ہوا کہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ کیا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ یہ معاملہ لوگوں میں عام تھا، اس وجہ سے ہرکسی کو اسلام لانے کے وقت غسل کا حکم دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ بعض لوگ اسلام لاتے وقت خود سے ہی غسل کرلیتے تھے ۔

حالت کفر اور حالت اسلام کے درمیان   صفائی ستھرائی میں بڑا واضح فرق ہے، اسلام میں جس طرح صفائی مطلوب ہے اس طرح کفار کے یہاں  استنجاءاور غسل کا تصور نہیں ہے، وہ تو باطن کے ساتھ ظاہری طور پربھی  ناپاک ہی ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض نئے مسلموں کو رسول اللہ ﷺنے بال صاف کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ چنانچہ کلیب کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: میں اسلام لے آیا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:

أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ یعنی تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کراؤ۔(: صحيح أبي داود:356)

اسلامی عبادات کے ناحیہ سے بھی نئے مسلم کے لئے غسل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے جسم کی بدبو اور ظاہری نجاست زائل کرلے اور بالکل پاک وصاف اورنشیط ہوکر عبادات کی پاسداری کرے۔

جن علماء نےغسل کو  مستحب کہا ہے انہوں نے یہ بھی لکھا ہےکہ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نئے مسلم کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی جب حالت کفر میں ہو اور بالغ ہوجائے تو اس کا جنبی ہونا یقینی ہے پھر شادی شدہ ہو تب بھی آدمی جنبی ہوتا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ کافر نہائے گا بھی تو اسلامی تعلیمات کی طرح غسل نہیں کرے گا، غسل کرکے بھی وہ ایسے رہے گا کہ اس نے غسل نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن القیم ؒ نے لکھا ہے کہ نئے مسلم کا غسل کرنا واجب ہے خواہ وہ حالت کفر میں جنابت کی حالت میں رہا ہو یا جنابت کی حالت میں نہ رہا ہو۔

اسی طرح غسل کو مستحب کہنے والے اکثر علماء یہی کہتے ہیں کہ اختلاف سے بچتے ہوئے غسل کرلینا احوط وافضل ہے۔شیخ ابن عثیمین ؒ زاد المستقنع میں کتاب الطہارہ کے تحت نئے مسلم کے غسل کو غیر واجب قرار دیتے ہیں لیکن آخر میں کہتے ہیں "والاحتیاط الوجوب" یعنی محتاط قول یہی ہے کہ نئے مسلم کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھ لیں کہ اگر کوئی کافر اسلام قبول کرتا ہے اور وہ بغیر غسل کئے نماز ادا کرتا ہے تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے یا نماز جیسی عظیم عبادت کے تئیں نئے مسلم کو کیا کرنا چاہئے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ اگر نیا مسلم غسل کرکے نماز ادا کرتا ہے تو اس کی نماز کے بارے میں ادنی بھی شبہ نہیں رہے گا لیکن بغیر غسل کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کے بارے میں تردد تو ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ جب نیا مسلم اسلام قبول کرنے لگے تو اس سے قبل غسل کرلے ، اگر ممکن ہے تو ورنہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اقرب فرصت میں اسلام لانے کے سبب غسل کرے اور اپنے جسم کو پاک کرے ۔ واضح رہے کہ غسل کے بغیر بھی شہادتین کا اقرار کیا جاسکتا ہے، اس میں مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ نیا مسلم غسل کرے خواہ اسلام لاتے وقت یا اسلام لانے کے بعد ۔

 

مکمل تحریر >>

Sunday, March 2, 2025

تقوی کی اہمیت اور اس کے مظاہر

 تقوی کی اہمیت اور اس کے مظاہر

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعدہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب


تقوی اندرون قلب کے پاکیزہ اور مخفی وصف کانام ہے مگراس  کا اثر روح کے ساتھ پورے جسم پر ظاہر ہوتا ہے کیونکہ انسانی اعمال وکردار کا مرکز دل ہے، یہیں سے اچھے برے تمام قسم کے افعال صادر ہوتے ہیں۔ جس کا دل پاکیزہ ہےگویااس میں تقوی موجود ہے اور اس تقوی کے سبب اس کےپورے  جسم سے اچھے افعال صادر ہوتے ہیں اور جس کے دل میں مرض و آلائش ہے اس سے برے کام صادر ہوتے ہیں۔

علماء نے تقوی کو مختلف پیرائے میں بیان کیا ہے ان سب باتوں کو جمع کرکے ایک مختصر جملہ میں کہاجائے تو مامورات کی انجام دہی اور منہیات کو ترک کردینے کا نام تقوی ہے یعنی جن کاموں کو اللہ تعالی نے کرنے کا حکم دیا ہے اسے عمل میں لانا اور جن باتوں سے منع کیا ہے ان سے رک جانا تقوی ہے۔ اور تقوی کا تعلق دل ہے یا یہ کہہ لیں کہ تقوی کا محل دل ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج:32)

ترجمہ:یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔

اس آیت میں شعائر کی تعظیم کو دل کا تقوی قرارد یا گیا ہے اور نبی ﷺ نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

التقوى هاهنا، ويشير إلى صدره(صحيح مسلم:2564)

ترجمہ: تقویٰ یہاں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ إلى صُوَرِكُمْ وأَمْوالِكُمْ، ولَكِنْ يَنْظُرُ إلى قُلُوبِكُمْ وأَعْمالِكُمْ(صحيح مسلم:2564)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔

معلوم ہوا کہ اعمال کا تعلق دل سے ہے اور اس دل کی پرہیزگاری کا نام تقوی ہے۔ جب تک یہ دل ٹھیک ہے ، پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب دل کو مرض لاحق ہوجاتا ہے تو پورا جسم بیمار ہوجاتا ہے چنانچہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألَا وإنَّ في الجَسَدِ مُضْغَةً: إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، ألَا وهي القَلْبُ(صحيح البخاري:52)

ترجمہ: سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں تقوی کی اس قدر اہمیت ہے کہ قرآن اور حدیث میں جابجا اس کا بیان ہے، ان سب کا احاطہ اس جگہ ممکن نہیں ہے تاہم کچھ اہم نقاط بیان کر دیتا ہوں جن سے اندازہ لگانا کافی ہوگا۔ پہلے ہم نے تقوی اور اس کا محل سمجھ لیا، اب اختصار کے ساتھ تقوی کی اہمیت وفضیلت کو واضح کرنے والے چند عناصر پر نظر ڈالیں۔

(1)تقوی کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے سب سے پہلے اس بات کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ نبی ﷺ سے جو خطبہ مسنونہ منقول ہے جسے خطبۃ الحاجہ بھی کہتے ہیں اس خطبہ میں آپ ﷺ ہمیشہ تقوی سے متعلق تین آیات کی تلاوت کیاکرتے، وہ تین آیات اس طرح سے ہیں۔

پہلی آیت :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (آل عمران:102)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے ، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔

دوسری آیت:يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء:1)

ترجمہ:اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ،اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔

تیسری آیت:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب:70-71)

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی۔

ان آیات پر گہرائی سے غور کرکے دیکھیں کہ تقوی کی اہمیت کو واضح کرنے والی  یہ کس قدر عظیم آیات ہیں اور زندگی کے کن کن امور میں تقوی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ ان آیات کی تلاوت کے بعد آپ ﷺ پھر وعظ ونصیحت فرماتے۔ گویا دین میں تقوی ہی اصل ہے اور اس کو ہرچیز پر فوقیت و ترجیح حاصل ہے۔

(2)تقوی کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے اسے اپنے نزدیک برتری و عظمت کا معیار بنایا ہے یعنی جو جس قدرآدمی  متقی ہوگا اللہ کے نزدیک وہ اسی قدر، قدر ومنزلت والاہوگا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(الحجرات:13)

ترجمہ: اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔

نبی ﷺ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور کالے و گورے کا فرق مٹاتے ہوئے بڑے خوبصورت انداز میں تقوی کی اہمیت کو واضح کیا ہے، آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

يا أيها الناسُ ! إنَّ ربَّكم واحدٌ، و إنَّ أباكم واحدٌ، ألا لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ، و لا لعجميٍّ على عربيٍّ، و لا لأحمرَ على أسودَ، و لا لأسودَ على أحمرَ إلا بالتقوى إنَّ أكرمَكم عند اللهِ أتقاكُم، ألا هل بلَّغتُ ؟ قالوا : بلى يا رسولَ اللهِ قال : فيُبَلِّغُ الشاهدُ الغائبَ( السلسلة الصحيحة:2700)

ترجمہ:لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، آگاہ ہو جاؤ! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کالے رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: اللہ تعالىٰ کے ہاں تم میں سے وہ شخص سب سے زیادہ معزز ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، خبردار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر فرمایا: حاضر لوگ یہ باتیں غائب لوگوں تک پہنچا دیں۔

(3)تقوی کے بغیر آدمی کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا یعنی جب تک اس کے دل میں عمل کے تئیں اخلاص نہیں ہوگا اور اخلاص نیت سے عمل نہیں کرے گا وہ عمل عنداللہ مقبول نہیں ہوگا، فرمان الہی ہے:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ(الحج:37)

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کا تقوی (پرہیزگاری) پہنچتا ہے ۔

ایک دوسرے مقام پر اسی بات کو اللہ تعالی اس طرح بیان کرتا ہے:إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ(المائدۃ:27)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔

(4)تقوی سفر آخرت کا سب سے بہترین توشہ ہے اس لئے اللہ نے اپنے بندوں سے تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ آخرت میں  یہ توشہ اس کے کام آسکے۔ اللہ فرماتا ہے:وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (البقرۃ:197)

ترجمہ:اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔

(5)تقوی دنیا میں بھی معاون، غم کا ساتھی ، رزق کا سبب اور پریشانی سے نکلنے کا راستہ ہے تو آخرت میں بھی اسی میں کامیابی اور اسی بنیاد پرنجات بھی موقوف ہے، اللہ رب العزت کا فرمان ہے:ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (مریم:72)

ترجمہ:پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے:إن للمتقين مفازا (النبا:31)

ترجمہ: بے شک تقوی والوں کے لئے کامیابی ہے۔

(6)اور تقوی کا سب سے بڑا انعام حصول جنت ہے، جو آدمی تقوی سے لیس ہوگا،وہ آخرت میں کامیاب ہونے والوں میں ہوگا اور اسے جنت نصیب ہوگی۔ اللہ نےجابجاقرآن میں اس بات کا ذکر کیا ہےچنانچہ  ایک مقام پرفرمان الہی ہے:

وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ (ق:31)

ترجمہ:اور جنت پر ہیز گاروں کے لئے بالکل قریب کردی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی۔

ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے:

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن:46)

ترجمہ:اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں۔

اسی طرح نبی ﷺ نے متعدد احادیث میں تقوی کی فضیلت کا بیان کیا ہے حتی کہ آپ نے اسے دخول جنت کا سبب قرار دیا ہے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں:

سُئِلَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ عن أَكْثرِ ما يُدخلُ النَّاسَ الجنَّةَ ؟ فقالَ : تَقوى اللَّهِ وحُسنُ الخلُقِ، وسُئِلَ عن أَكْثرِ ما يُدخِلُ النَّاسَ النَّارَ، قالَ : الفَمُ والفَرجُ(صحيح الترمذي:2004)

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: منہ اور شرمگاہ۔

تقوی سے متعلق یہ چند اہم فوائد بیان کیا ہوں جس سے اس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اب اس کے بعد اختصار سے تقوی کے مظاہر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کے فوائدوبرکات جو اوپر بیان کئے گئے ہیں ان  کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

تقوی کے مظاہر کی بات کی جائے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ  ایمان کے سارے شعبے تقوی کے مظاہر ہیں بلکہ سارے اعمال خیر تقوی میں داخل وشامل ہیں۔ آئیے پہلے ایمان کے شعبوں سے متعلق حدیث پر نظر ڈالتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الإِيمانُ بضْعٌ وسَبْعُونَ، أوْ بضْعٌ وسِتُّونَ، شُعْبَةً، فأفْضَلُها قَوْلُ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وأَدْناها إماطَةُ الأذَى عَنِ الطَّرِيقِ، والْحَياءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإيمانِ(صحيح مسلم:35)
ترجمہ:ایمان کے ستر سے اوپر (یا ساٹھ سے اوپر) شعبے (اجزاء) ہیں۔ سب سے افضل جز لاالہ الا اللہ کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت (دینے والی چیز) کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیابھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے۔

مذکورہ بالا حدیث میں ایمان کے جن شعبوں کی بات کی گئی ہے یہ سب تقوی والے  اعمال اوراس کے  مظاہر ہیں چنانچہ لاالہ الااللہ کہنا تقوی ہے، راستے سے موذی چیز کوہٹادینا تقوی ہے اور حیا کرنا بھی تقوی ہے۔امام ابوبکربیہقی ؒ نے ان ستر شاخوں کا تذکرہ فرمایا ہے جس کے لئے شعب الایمان اوردوسری کتابوں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔تقوی کے بڑے   مظاہر میں سے وہ سارے اعمال بھی ہیں جو قیامت کے دن عرش الہی کے تلے سایہ پانے کا سبب بننے والے ہیں۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى في ظِلِّهِ يَومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلُّهُ: إمَامٌ عَدْلٌ، وشَابٌّ نَشَأَ في عِبَادَةِ اللَّهِ، ورَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ في المَسَاجِدِ، ورَجُلَانِ تَحَابَّا في اللَّهِ، اجْتَمعا عليه وتَفَرَّقَا عليه، ورَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وجَمَالٍ فَقالَ: إنِّي أَخَافُ اللَّهَ، ورَجُلٌ تَصَدَّقَ بصَدَقَةٍ فأخْفَاهَا حتَّى لا تَعْلَمَ شِمَالُهُ ما تُنْفِقُ يَمِينُهُ، ورَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ(صحيح البخاري:1423)

ترجمہ: سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو، وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے، دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں، اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔

اس حدیث کی روشنی میں عدل کرنا، نوجوانی میں عبادت کرنا، مسجد سے دل اٹکا رہنا، اللہ کی محبت میں جمع اور جدا ہونا، برائی کی دعوت ملنے پر اللہ کا خوف کھانا، چھپاکر صدقہ کرنا اور تنہائی میں اللہ کو یاد کرکے رونا تقوی کے مظاہر ہیں۔ جو کوئی ان میں سے ایک عمل میں اپنے اندر پیدا کرلے اس کی نجات کے لئے آخرت میں کافی ہے کیونکہ یہ تقوی کامظہرہے اور تقوی کی بنیاد پرہی کسی کو نجات ملے گی ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سات میں سے صرف کوئی ایک کام کرنا چاہئے، نہیں ہرگز نہیں۔ ایک مومن کو یہ سارے کام کرناہے اور تقوی نام ہے اللہ کے جمیع اوامر کی بجاآوری اور جمیع منہیات سے رکنے کا۔ صحابہ کرام ایمان کے اعلی درجات پر فائر تھے، ان کی زندگی میں تقوی شعاری کا پرتو بڑے نمایاں طور پر نظر آتا ہے ،اس لئے ہمیں اپنے اندر تقوی پیدا کرنے کے لئےجہاں  سیرت نبوی پڑھنے کی ضرورت ہے وہیں صحابہ کرام کی پاکیزہ زندگی کا مطالعہ بھی  کرنا چاہئے، اس سے ایمان کو مہمیز ملے گی اور عمل وتقوی کا جذبہ بیدار ہوگا۔

دین میں غلو کرنا تقوی نہیں ہےجیساکہ صوفیاء اور اہل بدعت کرتے ہیں۔ عبادت کے ذریعہ جسم کو تکلیف پہنچانا، غیرمسنون طریقہ پر اعمال کا ڈھیرلگانا اور جو عمل شریعت محمدمیں نہ ہواسے انجام دینا تقوی نہیں ہے ۔ دین پر سنت کے مطابق اعتدال ووسطیت سے عمل پیرا ہونا تقوی ہے ۔ صحیح بخاری میں تین صحابہ کا واقعہ ہے، ان لوگوں نے زیادہ عبادت کرنے کا ارادہ کیا، ایک یہ نیت کی کہ رات میں نہیں سوئے گا، ایک نے نیت کی وہ مسلسل روزہ رکھتا رہے گا اور ایک نے نیت کی وہ شادی نہیں کرے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے ان تینوں کو اپنے ارادہ سےمنع کیا اور یہ کہا کہ میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والاہوں  مگر روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں سوتا بھی ہواور شادی بھی کرتا ہوں ۔ پھر آپ نے عمل میں سنت کی تابعداری کا حکم دیا جیساکہ بخاری کے الفاظ ہیں۔

أَمَا واللَّهِ إنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وأَتْقَاكُمْ له، لَكِنِّي أصُومُ وأُفْطِرُ، وأُصَلِّي وأَرْقُدُ، وأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فمَن رَغِبَ عن سُنَّتي فليسَ مِنِّي( صحيح البخاري:5063)

ترجمہ:سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔

گویا معلوم یہ ہوا کہ سنت کے مطابق عمل کرنے کا نام تقوی ہے ، خودساختہ طریقوں پر چلنا، دین میں حد سے تجاوز اور غلو کرنا اور بدعتی راستوں پر چلنا تقوی نہیں ہے۔

اللہ رب العالمین کا شکر واحسان ہے کہ اس نے ہمیں تقوی سے متصف ہونے سے کے لئے باضابطہ طورپر ایک ماہ کا پاکیزہ کورس مہیا فرمایا ہے ، وہ رمضان المبارک کا ایک مہینہ ہے جس میں آدمی روزہ رکھ کر اور نوع بنوع تقوی کے اعمال انجام دے کر اللہ کا پرہیزگار بندہ بن جاتا ہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 183)

ترجمہ:اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے روزہ کو تقوی پیداکرنے کا ذریعہ بتایا ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزہ حصول تقوی کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے ، جو ایک ماہ خلوص وللہیت کے ساتھ روزہ رکھ لے وہ اللہ کی توفیق سے متقی وپرہیزگار بن جائے گا۔ جس کے اندر تقوی پیدا ہوجاتا ہے وہ متقی کہلاتا ہے ، ایسا آدمی اللہ کا ولی کہلاتا ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ، الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ، لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (یونس:62-64)

ترجمہ:یاد رکھو کے اللہ کے اولیاء(دوستوں) پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ ان کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

یہاں پر اللہ نے اپنے اولیاء کی پہچان بتائی ہے اور ان کے لئے انعام کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اللہ کے ولی کی پہنچان یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لانے والا اور تقوی والا ہو۔ گویا رمضان حصول خیرکا سنہرا موقع ہے، اس  سےفائدہ اٹھاکر آدمی پرہیزگاری اور اللہ کا قرب وولایت حاصل کرسکتا ہے ۔ جو پرہیزگاری اور قرب حاصل کرلے اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے۔ جیساکہ رب فرماتا ہے: وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ (الجاثیۃ:19)
ترجمہ: اور اللہ متقیوں کا ولی ہے۔

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے اوامر کی بجاوی اور اس کی منہیات سے بچنا تقوی ہے اور یہ تقوی محمد ﷺ کی سنت کے مطابق دین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔تقوی کے مظاہر میں ایمان کی جمیع شاخیں حتی ایمان کے سارے کام اور خیروبھلائی کے تمام اعمال  شامل ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں لوگوں کے دل سے اللہ کا ڈر وخوف نکل  گیاہے، لوگ برائی کے معاملہ میں اس قدر جری ہوگئے کہ اپنے مالک ومولی کا ذرہ برابرڈر نہیں ہوتا ہے۔ آج ضرورت اس بات  کی ہے کہ ہم اپنے ایمان کی سلامتی کے لئے ، اپنے عمل کی قبولیت کے لئے اور آخرت میں نجات پانے کے لئے اپنے دل میں خوف الہی پیدا کریں اور ہرایک معاملہ میں اللہ کی رضا تلاشتے ہوئے اسے سنت رسول کے مطابق انجام دیں ۔

مکمل تحریر >>