Saturday, September 7, 2019

اہل بیت اور ان کا مقام ومرتبہ


اہل بیت اور ان کا مقام ومرتبہ

تحریر: مقبول احمد سلفی
داعی اسلامک دعوۃ سنٹر، طائف(سعودی عرب)

کائنات کی سب سے افضل ہستی، سید البشر اور امام الانبیاء کے گھرانے والوں کو اہل بیت کہا جاتا ہے ۔اس نسب اور خاندان سے ہونا دنیا کا سب سے بڑا اعزاز واکرام ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے عربی وعجمی مسلمان اس اعزاز واکرام کو پانے کے لئے بغیر ثبوت کو خود کو سیدی ، ہاشمی اور ساداتی لکھتے اور بتلاتے ہیں ۔اہل بیت کے نام پر صرف اعزازواکرام پانے کی بات نہیں ہے بلکہ مسلم سماج کو بڑے افسوسناک مسائل بھی  درپیش ہیں، آپس میں خلفشار، تنازع ، سب وشتم اور تکفیر وتذلیل کے بھیانک اثرات پائے جاتے ہیں۔میں نے اس مضمون میں اختصار کے ساتھ اہل بیت کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ، دل میں ایک چھوٹی سی نیت یہ رکھی ہے کہ لوگ اہل بیت کو جانیں اور ان کو صحیح مقام دیں اور اس بابت ناصبیت ورافضیت سے پرہیز کریں ۔ناصبیت کیا ہے ،اہل بیت کو تکلیف پہنچانا، ان کو سب وشتم کرنا اور ان کے شان میں گستاخی کرنا اور رافضیت نام ہے اہل بیت کے نام پر چند افراد کی محبت میں حد سے زیادہ غلو کرنا اور دیگر اہل بیت اور بہت سارے صحابہ کو لعن وطعن کرنا۔
اہل بیت کون ہیں پہلے یہ بات جان لیتے ہیں کیونکہ عوام کی اکثریت کو اہل بیت کا بھی صحیح علم نہیں ہے ۔ اہل بیت کا معنی گھرانے والے ، اس سے مراد نبی ﷺ کے وہ جملہ اہل خانہ جن پر صدقہ حرام ہے ۔ ان میں آپ کی اولاد(زینب، رقیہ ،ام کلثوم اور فاطمہ)، نواسے ،نواسیاں،آپ کے چچا (حمزہ وعباس)آپ کی پھوپھی(صفیہ)، آپ کی تمام بیویاں(خدیجہ،عائشہ،سودہ،حفصہ،ام سلمہ،زینب بنت خزیمہ،جویریہ،صفیہ، ام حبیبہ، میمونہ اور زینب بنت جحش) اور بنوہاشم کے سارے مسلمان مرد وعورت شامل ہیں ۔
نبی ﷺ کی بیٹیاں اہل بیت میں ہیں اس کی دلیل کی ضرورت نہیں ہے تاہم چچا بھی اہل بیت میں سے ہیں ، اس کی خاص دلیل ذکر کرتا ہوں۔ نبی ﷺ کے چچا حارث کے بیٹے ربیعہ اور ربیعہ کے بیٹے عبدالمطلب جو کہ صحابی ہیں اور ان سے حدیث بھی مروی ہے۔ یہ(عبدالمطلب بن ربیعہ ) اور نبی ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے فضل دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمیں مال صدقہ پر عامل ومزدور مقرر کرلیں تاکہ اس کمائی سے شادی کی تیاری کرسکیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: إنَّ الصَّدَقَةَ لا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ إنَّما هي أَوْسَاخُ النَّاسِ(صحيح مسلم:1072)
ترجمہ: آل محمد کے لیے صدقہ روانہیں ،یہ تو لوگوں (کے مال)کا میل کچل ہے ۔
صحیح بخاری میں ہےکہ خیبر کے خمس میں سےنبی ﷺنے بنوہاشم اور بنومطلب کو دیا اور دوسرے قریش کو نہ دیا تو جبیر بن مطعم اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپ  نے بنومطلب کو تو مال دیا مگر ہمیں نظر انداز کردیا جبکہ ہم اور وہ آپ سے ایک ہی درجے کی قرابت رکھتے ہیں ، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا بَنُو المُطَّلِبِ، وَبَنُو هَاشِمٍ شَيْءٌ وَاحِدٌ»(صحیح البخاری:3140)
ترجمہ: بنو مطلب اور بنوہاشم تو ایک ہی چیزہیں۔
ایک روایت میں یہ اضافہ ہے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے بنو شمس اور بنونوفل کو نہیں دیا تھا۔
بنوہاشم ، بنومطلب، بنوشمس اور بنونوفل یہ آپس میں چار بھائی تھے مگر آپ نے صرف دو کو خمس دیا اور ان دونوں کو ایک قرار دیا، اس وجہ سے بعض اہل علم نے یہ استدلال کیا ہے کہ اہل بیت میں جن پر صدقہ حرام ہے ان میں بنوہاشم کے ساتھ بنومطلب بھی ہیں یعنی بنوہاشم کی طرح بنومطلب بھی اہل بیت میں شامل ہیں ۔
مسلم شریف میں ایک روایت ہے جس سے شیعہ ،عوام کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ ازواج مطہرات آل بیت میں سے نہیں ہیں ۔ وہ روایت اس طرح سے آئی ہے ۔فَقُلْنَا: مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ نِسَاؤُهُ؟ قَالَ: لَا(مسلم:2408)
اس ٹکڑے کا ترجمہ کیا جاتا ہے "ہم نے کہا آل بیت کون لوگ ہیں، نبی ﷺ کی بیویاں ؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں ۔
اس کا اصل ترجمہ اور مفہوم اس طرح ہے کہ ہم نے ان سے پوچھا:آپ کے اہل بیت کون ہیں؟(صرف) آپ کی ازواج؟ توانھوں نے کہا کہ (صرف آپ کی ازواج)نہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی ازواج کے علاوہ اور دوسرے بھی آل بیت میں شامل ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہی اس سے پہلے والی حدیث کے کے الفاظ ہیں۔"فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ " یعنی اور حصین نے کہا کہ اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون سے ہیں، کیا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید ؓ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک اور روایت سے دھوکہ دیا جاتا ہے کہ قرآن میں مذکور اہل بیت کی تفسیر میں صرف چار لوگ ہی شامل ہیں، وہ علی، فاطمہ اور حسن وحسین ہیں ۔ روایت اس طرح سے ہے : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں:
خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] "(صحیح مسلم:2424)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ صبح کو نکلے اور آپ ﷺ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں سیدنا حسن ؓ آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا۔ پھر سیدنا حسین ؓ آئے تو ان کو بھی اس میں داخل کر لیا۔ پھر سیدہ فاطمۃالزہراء ؓا آئیں تو ان کو بھی انہی کے ساتھ شامل کر لیا پھر سیدنا علی ؓ آئے تو ان کو بھی شامل کر کے فرمایا کہ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرے اور تم کو پاک کرے اے گھر والو"۔
اس حدیث میں چار افراد کے ذکر کا ہرگز مطلب نہیں کہ اہل بیت میں ان چار کے علاوہ دوسرے افرادشامل نہیں ہیں ، آیت میں اصلا خطاب ازواج مطہرات کو ہے اس وجہ سے وہ قطعی طور پر اہل بیت میں شامل ہیں جیساکہ اوپر صحیح مسلم کی صریح حدیث بھی گزری ہے اور بھی دیگر دلائل وشواہد ہیں کہ آپ ﷺ کی بیویاں اور چچا سب بھی اہل بیت میں ہیں ۔ سیدہ عائشہ کے پاس خالد بن سعید نے صدقہ کے طورپر گائے بھیجی تو انہوں نے کہا کہ بے شک ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ:10708) اور عباس و ربیعہ کے بیٹوں کو نبی ﷺنے صدقہ کی کمائی سے نکاح نہ کرکے مال خمس سے نکاح کرایا تھاجس کا ذکر بھی اوپر ہوچکا ہے ۔
اہل بیت کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (الأحزاب:33)
ترجمہ: اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھروالیو! تم سے وہ ہرقسم کی گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے ۔
اس آیت کی روشنی میں اہل بیت خصوصا ازواج مطہرات کی پاکیزگی، اعلی فضیلت اور بلندمقام ومرتبہ کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
إنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنانَةَ مِن ولَدِ إسْماعِيلَ، واصْطَفَى قُرَيْشًا مِن كِنانَةَ، واصْطَفَى مِن قُرَيْشٍ بَنِي هاشِمٍ، واصْطَفانِي مِن بَنِي هاشِمٍ.(صحيح مسلم:2276)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا۔
غدیر خم کے مقام پراپنے خطاب میں کتاب اللہ کی ترغیب وتمسک کے بعد آپ ﷺ کا تین مرتبہ یہ کہنا بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔
أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتي(صحيح مسلم:2408)
ترجمہ: میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں تم کو اپنے اہل بیت کے باب میں،میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں تم کو اپنے اہل بیت کے باب میں،میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں تم کو اپنے اہل بیت کے باب میں۔
ٍصحیح مسلم میں سعد بن وقاص سے مروی ہے : وَلَمَّا نَزَلَتْ هذِه الآيَةُ: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} دَعَا رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي.(صحيح مسلم:2404)
ترجمہ: اور جب یہ آیت اتری «نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ» ”بلائیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو۔“ (یعنی آیت مباہلہ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو، پھر فرمایا: یا اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے : كلُّ سَبَبٍ و نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يومَ القيامةِ ، إلَّا سَبَبي و نَسَبي(السلسلة الصحيحة:2036)
ترجمہ: قیامت کے دن ہر واسطہ اور نسبی تعلق ختم ہوجائے گا البتہ میرا واسطہ اور نسبی تعلق قائم رہے گا۔
قرآن کی آیت سے بھی یہ مفہوم واضح ہوتا ہے ، اللہ کا فرمان ہے : فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ (المومنون:101)
ترجمہ:پس جبکہ صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے ، نہ آپس کی پوچھ گجھ ۔
اہل بیت کے بڑے فضائل ملتے ہیں ، یہ منجملہ اہل بیت سے متعلق چند فضائل تھے، اگر فردا فردا رسول کے اہل بیت کے فضائل بیان کئے جائیں تو کئی کتب تیار ہوجائیں گی ۔اہل علم نے الگ الگ طریقے سے فضائل بیان بھی کئے ہیں ۔ محدثین نے کتب حدیث میں ناموں سے باب قائم کیا ہے جبکہ سیرت نگاروں نے الگ الگ مستقل کتابیں بھی ترتیب دی ہیں ۔
بہرکیف! اہل بیت روئے زمین پر پاک ہستیوں کا نام ہے ، ان کی عزت وتوقیر، ان کا احترام وتقدس اور ان سے محبت وعقیدت مسلمانوں کا جزوایمان ہے اور جو اہل بیت میں سے کسی فرد سے بھی عداوت رکھتاہے، وہ منافق اور ناصبی ہے ۔
قالَ عَلِيٌّ: والذي فَلَقَ الحَبَّةَ، وبَرَأَ النَّسَمَةَ، إنَّه لَعَهْدُ النبيِّ الأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ إلَيَّ: أنْ لا يُحِبَّنِي إلَّا مُؤْمِنٌ، ولا يُبْغِضَنِي إلَّا مُنافِقٌ.(صحيح مسلم:78)
ترجمہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس نے گھاس اگائی) اور جان بنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مومن اور نہیں دشمنی رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔
یہ مضمون جس مقصد کے تحت لکھا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگ اہل بیت کو جانیں کہ کون کون لوگ اس میں داخل ہیں پھر ان نفوس قدسیہ کی توقیر اسی طرح بجالائیں جس طرح قرآن وحدیث میں ہماری رہنمائی کی گئی ہے ۔ نہ تو ان کی شان میں گستاخی کریں جس طرح نواصب وخوارج کرتے ہیں اور نہ ہی غلو کریں جس طرح شیعہ ورافض کرتے ہیں ۔ امت محمدیہ میں رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل ہستی ابوبکر پھر عمر پھر عثمان ہیں جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے:
كنا نقولُ ورسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم حَيٌّ : أفضلُ أمةِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم بعدَه أبو بكرٍ، ثم عمرُ، ثم عثمانُ(صحيح أبي داود:4628)
ترجمہ: ہم کہا کرتے تھے جبکہ رسول اللہ ﷺ حیات تھے : نبی کریم ﷺ کی امت میں آپ ﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر اور پھر عثمان ؓ۔
یہ عقیدہ نہ صرف عام صحابہ کا تھا بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہی مانتے اور عقیدہ رکھتے تھے چنانچہ سیدنا علی ؓ کے بیٹے محمد بن حنفیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں اپنے والد سے دریافت کیا:أَيُّ الناسِ خيرٌ بعد رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم ؟ قال : أبو بكرٍ، قال : قلتُ : ثُمَّ مَن ؟ قال : ثم عمرُ، قال : ثم خَشِيتُ أن أقولَ : ثُمَّ مَن فيقولُ : عثمانُ . فقلتُ : ثم أَنْتَ يا أَبَةِ ؟ قال : ما أنَا إلا رجلٌ من المسلمينَ(صحيح أبي داود:4629)
ترجمہ: رسول اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل کون ہے؟انہو ں نے کہا حضرت ابو بکر ؓ۔میں نے کہا :پھر کون ؟کہا حضرت عمر ؓ پھر مجھے اندیشہ ہوا اگر میں نے پوچھا ان کے بعد کون ہے تو وہ کہیں گئے حضرت عثمان ؓ تو میں نے ازخود کہ دیا:پھر تو آپ ہوں گئے ابا جان! وہ کہنے لگے کہ میں تو مسلمانوں میں سےایک عام آدمی ہوں۔
شیعہ کے یہاں یہ ترتیب نہیں ہے وہ علی رضی اللہ عنہ کو ہی پہلا نمبر دیدتے ہیں اور خلفائے ثلاثہ ابوبکروعمروعثمان کے خلاف بدزبانی کرتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں، اس قدر عداوت ہے کہ ان ناموں پر اپنے بچوں کا نام بھی نہیں رکھتے، اور چار لوگ (علی، فاطمہ ، حسن، حسین) کے علاوہ اہل بیت میں کسی کو تسلیم نہیں کرتے۔
امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیق کی اہل بیت سے محبت دیکھیں : والذي نَفْسِي بيَدِهِ لَقَرابَةُ رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أحَبُّ إلَيَّ أنْ أصِلَ مِن قَرابَتِي(صحيح البخاري:4240)
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ، اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں : اللَّهُمَّ إنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فَتَسْقِينَا، وإنَّا نَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا۔(صحيح البخاري:3710)
ترجمہ: اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا(عباس بن عبدالمطلب) کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔
اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا حال دیکھیں ، جب وہ اپنے گھر میں محصور کردئے گئےتو اس وقت وہاں حسن آپ کی دفاع کے لئے تلوار کے ساتھ موجود تھے اور لڑنا چاہتے تھے مگر حضرت عثمان نے اللہ کا واسطہ دےکر انہیں اپنے گھر بھیج دیا تاکہ ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور حضرت علی کو بھی کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ (البدایہ والنہایہ 11/193)
بلاشبہ یہ لوگ اہل بیت سے محبت کرتے اور اہل بیت بھی ان سے محبت کرتے ۔ حضرت علی کے بیٹوں میں حسن وحسین کے علاوہ ابوبکر ، عمر اور عثمان بھی ہیں ۔ حسن وحسین کی اولاد میں بھی ابوبکروعمرموجود ہیں بلکہ کربلا میں حسین کے ساتھ علی کے بیٹے ابوبکروعثمان ، حسن کے بیٹے ابوبکروعمر اور حسین کے بیٹے عمر بھی شہید ہوئے ۔
شیعہ کی تو بات چھوڑیں ، مسلمانوں کا ایک مخصوص طبقہ بھی شیعہ کی طرح حب علی اور حب حسین میں غلو کرتا ہے اور دوسرے مسلمانوں کو بالخصوص اہل حدیث کو اہل بیت کا گستاخ کہتا ہے اور اہل حدیث علماء کو ناصبی کہہ کر پکارتا ہے ۔ اہل حدیث جماعت منہج سلف پر گامزن ہے ، وہ نہ غلو کرتی ہے اور نہ ہی اہل بیت ، اولیاء ، صالحین اور ائمہ کی شان میں گستاخی کرتی ہے ۔ یہ جماعت ان لوگوں کو وہی مقام دیتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے ۔
حضرت علی کا مقام ابوبکروعمراور عثمان کے بعد ہے ، اہل حدیث وہی مقام دیتے ہیں ، یہ ایک انسان تھے ،انسان ہی مانتے ہیں جبکہ غلو کرنے والے علی کو مشکل کشا کہتے ہیں اور الوہیت کے مقام پر فائز کردیتے ہیں ، یہ سراسر شرک ہے ، ایسا عقیدہ رکھنے والا مشرک ہوجاتا ہے ۔
صحیح احادیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ہیں مگر غلو کرنے والوں نے بالخصوص روافض نے آپ کی شان میں اس قدر جھوٹی احادیث گھڑی کہ اس قدر جھوٹی احادیث کسی اور صحابی کے بارے میں نہیں گھڑی گئیں ۔ اس وجہ سے فضائل علی میں ہمیں جب بھی کوئی حدیث ملے تو پہلے اس کی صحت جانیں کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ہے ؟
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے حضرت فاطمہ اور حسن وحسین کے بارے میں نبی ﷺ فرماتے ہیں :
إنَّ هذا ملَكٌ لم ينزلِ الأرضَ قطُّ قبلَ اللَّيلةِ استأذنَ ربَّهُ أن يسلِّمَ عليَّ ويبشِّرَني بأنَّ فاطمةَ سيِّدةُ نساءِ أَهْلِ الجنَّةِ وأنَّ الحسَنَ والحُسَيْنَ سيِّدا شبابِ أَهْلِ الجنَّةِ(صحيح الترمذي:3781)
ترجمہ: یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں۔
ماں کی طرح ان کے دونوں بیٹے بھی جنتیوں کے سردار ہیں ۔ یہ بہت بڑی فضلیت ہے ۔ نیز ہمیں یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اور حسن وحسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی ترغیب دی ہے ۔ حب علی والی حدیث اوپر گزر چکی ہے ، فاطمہ سے معتلق آپ کا ارشاد گرامی ہے : إنَّما فَاطِمةُ بَضعَةٌ منِّي يؤذيني ما آذَاها وينصِبني ما أنصبَها(صحيح الترمذي:3869)
ترجمہ: فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے۔
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا:
هذانِ ابنايَ وابنا ابنتيَ ، اللَّهمَّ إنِّي أحبُّهما فأحبَّهما وأحبَّ مَن يحبُّهما(صحيح الترمذي:3769)
ترجمہ: یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے۔
ان چاروں (علی، فاطمہ، حسن ، حسین)سے جس طرح ہم محبت کریں گے اسی طرح اہل بیت کے دیگر افراد سے بھی محبت کرنا ایمان کہلائے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ ان سے محبت کے اظہار میں زمین وآسمان کی قلابیں ملادیں اور فاطمہ کے علاوہ دیگر بنات رسول ، امہات المومنین اور بنوہاشم وبنومطلب کے دیگر مسلمان کے لئے دل میں تنگی محسوس کریں ۔
اور آج ایسا ہی ہورہا ہے روافض ام المومنین سیدہ عائشہ کو گندی گالیاں دیتے ہیں فاطمہ کے علاوہ دوسری بنات رسول کی توہیں کرتے ہیں ، ابوبکروعمروعثمان اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین پر لعن وطعن کرتے ہیں ، ان سےمتاثر ہوکر بہت سارے مسلمان بھی اہل بیت کی آڑ میں صحابہ کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے بارے میں نازیبا اور گستاخانہ کلمات استعمال کرتے ہیں۔اللہ تعالی تمام صحابہ سے راضی ہوگیا تو ہمیں بھی تمام صحابہ سے محبت کرنا چاہئے خواہ اہل بیت میں سے ہوں  یا نہیں ہو ں۔
صحابہ سے محبت کرنا ایمان کی علامت وپہچان ہے اور انہیں گالی دینے والا اللہ کی لعنت کا مستحق ہے ،انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آيَةُ الإيمانِ حُبُّ الأنْصارِ، وآيَةُ النِّفاقِ بُغْضُ الأنْصارِ.(صحيح البخاري:17)
ترجمہ: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبوا أصحابي ، فوالذي نفسي بيدِه ، لو أنفقَ أحدُكم مثلَ أُحُدٍ ذهبًا ما بلغَ مدَّ أحدِهم ولا نَصِيفَه(صحيح أبي داود:4658)
ترجمہ: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے:لعَنَ اللهُ مَنْ سبَّ أصحابِي(صحيح الجامع:5111)
ترجمہ:اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔
کربلا ایک حادثہ ہے ، بلاشبہ حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے لعنت کے مستحق ہیں مگر بغیر ثبوت کے اور تخصیص کرکے کسی مسلمان پر لعنت بھیجنا روا نہیں ہے ، یزید ایک مسلمان تھا ، اس پر بھی لعنت نہیں بھیجیں گے کیونکہ وہ قاتل تھا یا حسین کے قتل کا کسی کو حکم دیا تھا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہاں اس طرح لعنت بھیج سکتے ہیں کہ قاتلوں پر اللہ کی لعنت ہو ، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔
اس سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ بہت سارے مسلمان بغیر ثبوت کے خود کو ہاشمی گردانتے ہیں اور اہل بیت سے ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ لوگ بڑی جرات دکھاتے ہیں ، انہیں نبی ﷺ کے اس فرمان سے سبق لینا چاہئے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:مَنِ ادَّعَى قَوْمًا ليسَ له فيهم، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.( صحيح البخاري:3508)
ترجمہ: جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
مکمل تحریر >>

Friday, October 19, 2018

آغاخانی شیعہ میت کو غسل دینے کا حکم


آغاخانی شیعہ میت کو غسل دینے کا حکم

سوال: ایک خاتون جو خود اہل توحید ہیں اور وہ آغا خانی مذہب سے revert ہوئی ہے جبکہ انکی والدہ اسی عقیدہ پر فوت ہوگئی ہیں جن کے متعلق کہتی ہیں کہ وہ non muslim declare نہیں ہیں۔ اور وہ اپنی والدہ کو اسلامی شریعت کے مطابق غسل دینا چاہتی ہیں۔ میری ساتھی کی یہ بھابھی ہیں توانکی نند یعنی میری ساتھی نے یہ سوال کیا ہےکہ کیا وہ لوگ انکے ساتھ مل کر غسل میں مدد کرسکتی ہیں ؟ساتھ ہی یہ بھی واضح رہے کہ میت کو آغا خانیوں کے قبرستان میں ہی شاید دفنایا جائیگا۔
سائلہ : بنت اسلام ، کراچی(پاکستان)
جواب : آغاخانی اہل تشیع ہیں ، اس کی وفات پر کسی مسلمان کے لئے جنازہ میں شرکت، کفن ودفن میں شرکت اور استغفار کرنا جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالی نے کافروں کی نمازجنازہ نہ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ (التوبة: 84)
ترجمہ: ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہوں۔
اور دفن سے پہلے ہدایت کی دعا کرسکتے ہیں مگر دفن کے بعد مشرکوں کی مغفرت سے بھی اللہ نے روک دیا ہے ، فرمان الہی ہے:
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (التوبۃ:113)
ترجمہ: پیغمبر کو اور دوسرے مسلمان کو جائز نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
قرآن کی مذکورہ دونوں آیات سے یہ بات صاف ہوگئی کہ کافر ومشرک کے لئے نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی اس کے حق میں دعائے استغفار کی جائے گی۔
کافر میت کے غسل ، تکفین اور دفن کے متعلق شریعت کے نصوص اور اہل علم کے اقوال کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان عمومی طور پر کافر کے غسل ، اس کی تکفین اور دفن کے کام میں شریک نہیں ہوگا البتہ کسی مسلمان کا کافررشتہ دار فوت ہوجائے اس حال میں کہ اس کو دفن کرنے والا کوئی دوسرا نہ ہوتو اس کو غسل دےسکتا ہے(اگراس کے یہاں غسل کا رواج ہو) ، غسل دے کر کسی کپڑے میں لپیٹ کر گڈھے میں چھپا دیا جائےگا ۔
متعدد کتب حدیث میں صحیح سند کے ساتھ یہ بات موجود ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کے والد ابوطالب کی وفات پر دفن کرنے کا حکم دیاتھا۔
عَن عليٍّ علَيهِ السَّلام ، قالَ : قُلتُ للنَّبيِّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ : إنَّ عمَّكَ الشَّيخَ الضَّالَّ قد ماتَ ، قالَ : اذهَب فوارِ أباكَ ، ثمَّ لا تُحْدِثَنَّ شيئًا ، حتَّى تأتيَني فذَهَبتُ فوارَيتُهُ وَجِئْتُهُ فأمرَني فاغتَسلتُ ودَعا لي(صحيح أبي داود:3214)
ترجمہ: سیدنا علی ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ آپ ﷺ کا بوڑھا گمراہ چچا مر گیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :جاؤ اور اپنے والد کو زمین میں دبا آؤ ، پھر کوئی کام نہ کرنا حتیٰ کہ میرے پاس آ جانا ۔ چنانچہ میں گیا اور اسے زمین میں دبا آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے غسل کیا اور آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی ۔
اس حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت علی نے اپنے والد ابوطالب کو غسل بھی دیا تھا تاہم اس حدیث کے الفاظ " فأمرَني فاغتَسلتُ" ( مجھے آپ ﷺ نے حکم دیا تو میں نے غسل کیا)سے معلوم ہوتا ہےکہ غسل میت کی تکفین پہ مشروع نہیں ہے بلکہ میت کو غسل دینے پہ غسل دینے والے کے حق میں مشروع ہے ۔ چنانچہ یہی روایت جو بیہقی میں ہے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس پہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے طرق میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ حضرت علی نے اسے غسل بھی دیا تاہم " فأمرَني فاغتَسلتُ" کے ٹکڑے سے یہ مفہوم نکلتا ہے کیونکہ غسل میت کے غسل سے ہی مشروع ہے اور اس کے دفن کرنے سے مشروع نہیں ہے ۔ بیہقی وغیرہ نے بھی غسل پر استدلال میت کے غسل سے ہی کیا ہے اور ابویعلی میں دوسرے طریق سے آخر میں مذکور ہے " وكان علي إذا غسل ميتا اغتسل" کہ علی میت کو غسل دیتے تو غسل کرتے تھے۔ (تلخيص الحبير:2/114).
بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں علامہ عینی حنفی نے ذکر کیا ہے کہ ابن ابی شیبہ میں صحیح سند سے مروی ہے : أن عليا رضي الله تعالى عنه لما غسل أباه أمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يغتسل۔(عمدۃ القاری)ترجمہ: جب علی نے اپنے والد کو غسل دیا تو نبی ﷺ نے انہیں غسل دینے کا حکم دیا۔
بیہقی میں یہ الفاظ زیادہ ہیں " اذهب فاغسله وكفنه وجننه(السنن الكبرى للبيهقي:1/305)
ترجمہ: جاؤ (میت) کو غسل دو ، اسے کفن دو اور اسے چھپادو۔
یہ ٹکڑے کی سندا تائید نہیں ملتی مگر دیگر دوسری روایات اور آثار صحابہ سے معنوی طور پر تقویت ملتی ہے۔ بیہقی میں ایک اثر بھی ہے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو جن کا باپ نصرانی ہوکر مرا تھا اسے غسل دینے ، کفن دینے اور دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حدیث پہ امام بیہقی نے باب قائم ہے"باب‏:‏ الْمُسْلِمِ يُغَسِّلُ ذَا قَرَابَتِهِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَيَتْبَعُ جَنَازَتَهُ وَيَدْفِنُهُ وَلاَ يُصَلِّى عَلَيْهِ" مسلمان کا اپنے رشتہ دارمشرک کو غسل دینے، اس کے جنازہ میں جانے اور دفن میں شریک ہونے کا باب لیکن اس پر جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کافر میت کو دفن کرنے والا کوئی نہ ہو تو اسے کسی جگہ گڈھا کھود کر اس میں دفن کردیا جائے گا ، اسے غسل دینے کی ضرورت نہیں ، اور ویسے بھی کافر نجس ہوتا ہے مگرجن کافروں کے یہاں میت کونہلانے کا رواج ہے اور اسے کوئی دفن کرنے والا بھی نہیں ہے تو مسلمان اسے نہلاکر کسی کپڑے میں لپیٹ کر ایک گڈھے میں چھپا دے گا۔ یہاں معلوم رہے کہ غسل ، تکفین اور دفن کا مطلب اسلامی طریقے سےکافوروبیری کے ساتھ غسل دینا، یا تین کپڑوںمیں کفن دینا اورقبرستان میں باقاعدہ قبرکھودکر دفن کرنا نہیں ہے بلکہ نہانے سے مراد بدن پر پانی بہانا، کفن سے مراد کسی کپڑے میں لپیٹ دینا اور دفن سے مراد کسی کھائی میں یا گڈھا کھود کر گاڑ دیناہے ۔ اسی طرح کسی مسلمان کا رشتہ دار کافر ہو تواس کی وفات پہ اسے غسل دے کردفن کرسکتا ہے لیکن اگر دوسرے کافر رشہ دار میت کے غسل اوراسکی تدفین کے لئے موجود ہوتو بہتر ہے مسلمان اس کام سے الگ رہے ۔ سوال میں مذکور ہے کہ ایک توحیدی بہن اپنی شیعہ ماں کا غسل اسلامی شریعت کی روشنی میں کرنا چاہتی ہے تو معلوم رہے کہ وہ اپنی ماں کے غسل میں شریک ہوسکتی ہے مگر اس کے لئے مسلمان میت کی طرح غسل دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اسلامی غسل صرف مسلمان میت کے ساتھ خاص ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(مسرہ)- سعودی عرب

مکمل تحریر >>

Sunday, October 14, 2018

پیارے رسول ﷺ کی چار پیاری بیٹیاں اورکذاب شیعہ آصف رضا علوی


پیارے رسول ﷺ کی چار پیاری بیٹیاں اورکذاب شیعہ آصف رضا علوی

تحقیق: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، طائف (مسرہ) سعودی عرب

اس بات میں اہل سنت والجماعت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ نبی ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں ۔ سب سے بڑی زینب، اس کے بعد رقیہ ، اس کے بعد ام کلثوم پھر فاطمہ رضی اللہ عنہما۔ بیٹیوں کی ترتیب میں اختلاف ہے مگر مذکورہ ترتیب ہی اصح ہے ، ابن عبدالبر نے لکھا ہے : والذي تسكن إليه النفس على ما تواترت به الأخبار ترتيب بنات رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن زينب الأولى ، ثم الثانية رقية ، ثم الثالثة أم كلثوم ، ثم الرابعة فاطمة الزهراء۔(الاستيعاب:ص 612) .
ترجمہ: متواتر اخبار سے بنی ﷺ کی بیٹیوں کی ترتیب میں جس بات پر نفس کو سکون ملتا ہے وہ یہ ہے کہ زینت سب سے بڑی، دوسری رقیہ ، تیسری ام کلثوم اور چوتھی فاطمہ الزاھراء۔
اس بات پہ اہل السنہ کا اجماع ہے جو اس جماع کامنکر ہے وہ گمراہ شخص ہے۔ یہاں دو تاریخی بات بھی ذہن میں محفوظ کرلیں کہ نبی ﷺ کی ساری اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھیں سوائے ابراہیم کے جو ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے اور ساری اولاد آپ کی حیات مبارکہ میں ہی فوت ہوگئیں سوائے فاطمہ کے جوآپ کی وفات کے چھ ماہ بعد انتقال فرمائیں ۔
شیعہ کے یہاں نبی ﷺ کی صاحبزادیوں کے متعلق دو موقف ہیں ۔
(1) شیعہ میں بھی یقینا بعض لوگ بعض امور میں حق بیانی سے کام لیتے ہیں ، اس معاملہ میں بھی وہ لوگ حق پر ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کی چار بیٹیاں لکھا ہے۔ متعددشیعہ کتب میں اس بات کا ذکر ہے چنانچہ شیعہ کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی کے نائب امام حسین بن روح سے پوچھا گیا:
كم بنات رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم؟ فقال: أربع، قال: فأيهن أفضل؟ فقال: فاطمة(الغيبة للطوسي:1/409)
ترجمہ:رسول الله ﷺ کی کتنی بیٹیاں تھیں؟ انہوں نے کہا چار۔ پوچھا گیا کہ سب سے افضل کون سی تھیں؟ انہوں نے کہا فاطمہ۔
یہ کتاب انٹرنیٹ پر موجود ہے ، یہاں سے عربی عبارت کاپی کرکے گوگل میں سرچ کرسکتے ہیں بلکہ اس مضمون میں پیش کئے گئے شیعہ کے تمام حوالے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں کوئی ان مراجع کی طرف التفات کرنا چاہے تو آسانی سے کرسکتاہے۔
چاروں بیٹیوں کے اسماء بھی شیعہ کتب میں موجود ہیں چنانچہ شیعہ کتاب" الخصال" میں مذکور ہے۔
ولد لرسول الله ( صلى الله عليه وآله ) من خديجة القاسم والطاهر وهو عبد الله وأم كلثوم ورقية وزينب وفاطمة(الخصال لابن بابویہ القمّي، ص : 404)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے اولاد یہ تھی: قاسم ، عبد اللہ طاہر، ام کلثوم،رقیہ،زینب اور فاطمہ۔
شیعہ عالم عبداﷲ مامقانی نبی ﷺ کی صاحبزادیوں کا اس طرح ذکر کرتا ہے:
"وولدت له اربع بنات كلهن ادرکن الاسلام وهاجرين وهن زینب وفاطمة ورقية وام کلثوم"(تنقیح المقال:3/73)
ترجمہ: اور ان (خدیجہ رضی اﷲ عنہا) سے آنجناب کی چار صاحبزادیاں پیداہوئیں تمام نے دور اسلام پائیں اور مدینہ کی طرف ہجرت بھی کیں۔ وہ زینب، فاطمہ، رقیہ اور ام کلثوم ہیں۔
اور بھی شیعہ کتابوں میں نام کے ساتھ چار بیٹیوں کا ذکر ہے ، تاہم ان چند ثبوت سے ہی میرا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
(2) شیعہ کے نزدیک دوسرا موقف یہ ہے کہ رقیہ اور زینت نبی ﷺ کی بیٹیاں نہیں ہیں بلکہ یہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں ہیں جب ان کی ماں وفات پاگئیں تو خدیجہ نے گود لے لیا ۔ شیعہ عالم ابن شہر آشوب مناقب میں نبی ﷺ کی خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی بات لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی خدیجہ سے جب شادی ہوئی تو وہ کنواری تھیں، اس بات کو تقویت پہنچانے کے لئے یہ عبارت لکھتا ہے :
يؤكد ذلك ما ذكر في كتابي الأنوار والبدع أن رقية وزينب كانتا ابنتي هالة أخت خديجة(مناقب آل أبي طالب :1 / 138)
ترجمہ: اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جو الانوار اور البدع نامی کتابوں میں مذکورہے کہ رقیہ اور زینب ،خدیجہ کی بہن ہالہ کی بیٹیاں ہیں۔
یہ دوسرا موقف جھوٹ، افتراء اور شیعی جعل سازی پر مبنی ہے ۔اس کے پردے میں اسلام پر،مقدس ہستیوں پر اور بے داغ سیرت نبوی پر انگشت نمائی کرنا چاہتا ہے ۔
میرے پاس کئی لوگوں نے کذاب شیعہ آصف رضا علوی جو اپنی شکل سے ہی منحوس ولعنتی معلوم پڑتا ہے ، کی ایک ویڈیو بھیجی ہے ، اس میں یہ منحوس نبی ﷺ کا ذکر بے غیرت والے لفظ سے کرتا ہے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔ اللہ اور اس کے فرشتوں کی بے شمار لعنتیں اس ملعون پر برسے ۔ یہ اپنے بیان میں ذکرکرتا ہے کہ 25 سال میں نبی کی شادی ہوئی، چارسال تک آپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی ، 29 سال میں پہلی اولاد قاسم پیدا ہوئی جس سے آپ ابوالقاسم مشہور ہوئے ۔ 40 سال میں نبوت ملی اور نبوت سے 5 سال پہلے 3 بیٹیوں کی شادی کردی تھی ۔ اتنا بیان کرنے کے بعدپھر یہ ملعون ریاضیات کے حساب سے نبی ﷺ کی بیٹیوں کی پیدائش اور نکاح کا حساب لگاتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ شادی اورنبوت میں 15 سال کا فاصلہ ہے ۔ 4 سال تک کوئی اولاد نہیں ،اگر پندرہ میں سے چار سال نکال دئے تو بچے 11 سال ۔ نبوت سے 5 سال پہلے ہی تین بیٹیوں کا نکاح ہوچکا تھا، اس وجہ سے 11 میں سے 5 نکال دئے تو اولاد کی پیدائش اور نکاح کا وقفہ بنا صرف 6 سال ۔ اتنا کہہ کر بے غیر ت کا لفظ استعمال کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ کس مذہب میں ہے کہ عمریں پوری کرو۔ 6 سال میں بچے بھی پیداہوگئے ، جوان بھی ہوگئے اور شادی بھی ہوگئی ۔ یہ ہے شیعہ کذاب کا علم ریاضیات سے سیرت نبی اور بنات رسول اللہ پر حملہ ۔
ہمارے لئے اللہ کے کلام میں کسی چیز کا ذکر اور فرمان رسول میں اس کا تذکرہ ہی کافی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذلك أدنى أن يعرفن فلا يؤذين وكان الله غفورا رحيما(الأحزاب :59)
ترجمہ:اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں یہ بات اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اوراللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے بنات کا لفظ ذکر کیا ہے جو ایک سے زائد پر بولا جاتا ہے ، گویا قرآن کی آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں ، صرف فاطمہ ہی اکیلی بیٹی نہیں ہے بلکہ زینت ، رقیہ اور ام کلثوم بھی آپ کی بیٹیاں ہیں۔
اور فرمان رسول میں جابجا زینت بنت رسول اللہ ، رقیہ بنت رسول اللہ ، ام کلثوم بنت رسول اللہ کا ذکر آیا ہے۔بطور مثال صرف صحیح بخاری کی صرف ایک روایت پیش کرتا ہوں جس میں تمام بیٹیوں کا ذکر اکٹھے آگیا ہے ۔
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ(صحيح البخاري:1258)
ترجمہ: حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے ایک صاحبزادی فوت ہوگئی تو آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا:اسے تین بار یا پانچ بار اوراگر مناسب خیال کرو تو اس سے زیادہ بارغسل دو۔
اس حدیث میں بنات النبی کا لفظ آیا ہے جو ایک سے زائد بیٹیوں پر بولا جاتا ہےیعنی نبی ﷺ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں۔
اب آتے ہیں شیعہ کے جھوٹے بیان کی طرف ، اس بیان میں شیعہ نے دو مفروضہ قائم کیا ہے ۔ ایک مفروضہ تو یہ ہے کہ شادی کے چار سال بعد پہلی اولاد ہوئی اس کا نام قاسم ہے جس سے آپ ابوالقاسم مشہور ہوئے ۔ دوسرا مفروضہ یہ قائم کیا ہے نبوت کے پانچ سال پہلے ہی تین بیٹیوں کا نکاح تین مشرکوں سے کردیاتھا۔انہی دونوں مفروضوں پہ شیعہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ چھ سال میں پیدائش، جوانی اور شادی کیسے ہوگئی ؟ چھ سال کی یہ مدت بتلاتی ہے کہ سیرت رسول میں چار بیٹیوں کا تذکرہ حقیقت نہیں افسانہ ہے۔
ان دونوں مفروضوں کی حقیقت جاننے کے لئے قاسم ، زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ کی پیدائش ووفات اور نکاح پر تاریخی حوالے سے نظر ڈالتے ہیں ۔
(1) قاسم بن محمد ﷺ : امام نووی رحمہ اللہ تہذیب الاسماء واللغات میں "فصل فی ابنائہ وبناتہ ﷺ" (یعنی آپ ﷺ کے بیٹے اور بیٹیوں کے بیان میں) ۔ میں ذکرکرتے ہیں ۔
كان له ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثلاثة بنين: القاسم وبه كان يُكَّنَّي، وُلِدَ قبل النبوة، وتوفي وهو ابن سنتين(تہذیب الاسماء واللغات)
ترجمہ: نبی کے تین بیٹے تھے ، ایک تھے قاسم اور اسی کی طرف نسبت کرکے آپ نے کنیت (ابوالقاسم) رکھا تھا، یہ نبوت سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور دو سال کی مدت میں وفات پاگئے ۔
قاسم کی ولادت میں شیعہ عالم نے بھی بعثت سے قبل لکھا ہے اور یہی تاریخی حوالے سے قوی موقف ہے ۔ شیعہ عالم ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی نے لکھا ہے : وتزوج خديجة وهو ابن بضع وعشرين سنة، فولد له منها قبل مبعثه عليه السلام القاسم، ورقية، وزينب، وأم كلثوم(الكافي: 1/487)
ترجمہ: نبی ﷺ نے خدیجہ سے نکاح کیا اس وقت آپ کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی پھر خدیجہ سے آپ کی اولاد بعثت سے پہلے جو پیدا ہوئی وہ قاسم، رقیہ، زینب اور ام کلثوم ہیں۔
گویا شیعہ کا یہ کہنا کہ شادی کے چار سال بعد قاسم کی ولادت ہوئی سراسر جھوٹ ہے ، سچائی ہے کہ  نبوت سے قبل قاسم کی ولادت ہوئی اور نبوت سے قبل  کہنے کا مطلب شادی کے فورا  بعد بھی ولادت ہوسکتی ہے ۔
(2) زینب بنت محمد ﷺ : آپ کی ولادت بعثت سے پہلے ہوئی ،چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : وقد ولدت قبل البعثة بمدة قيل إنها عشر سنين وتزوجها ابن خالتها أبو العاص بن الربيع العبشمي(الاصابة: 7/665)
ترجمہ: وہ (زینب) بعثت سے دس سال پہلے پیدا ہوئیں اوررسول اللہ نے ان کی شادی اپنے خالہ کے بیٹے ابوالعاص بن ربیع عبشی سے کردی۔
زینب کی شادی دس سال میں ہوئی اور آٹھ ہجری میں وفات پاگئیں (الطبقات لابن سعد: 8/32, السير للذهبي :2/250,الاصابة:4/306)
ابوالعاص نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔
(3) رقیہ بنت محمد ﷺ: ابن عبدالبر نے لکھا ہے :
وولدت رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم ابن ثلاث وثلاثين سنة( الاستيعاب:4/292)
ترجمہ: رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی جبکہ آپ ﷺ کی عمر مبارک 33 سال تھی ۔
اور ابن الاثیر نے لکھا ہے : وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد زوج ابنته رقية من عتبة بن أبي لهب، وكانت دون العاشرة( أسد الغابة :7/126)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی رقیہ کا نکاح عتبہ بن ابولہب سے دس سال سے کم میں کیا۔
علامہ ابن کثیر ؒ نے لکھا ہے: وماتت رقية ورسول الله صلى الله عليه وسلم ببدر(البداية والنهاية:5/256, الطبقات الكبري لابن سعد: 8/36) یعنی آپ ﷺ بدر (دوہجری کی جنگ)میں تھے کہ رقیہ وفات پاگئیں ۔
(4) ام کلثوم بنت محمد ﷺ : بعثت سے قبل رقیہ کی ولات کے ایک سال بعد پیدا ہوئیں اور بعثت سے قبل ہی آپ کا ابولہب کے بیٹے عتیبہ سے نکاح ہوا۔( نکاح کے لئے دیکھیں،الاستيعاب:4/294) اور نو ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ (الطبقات لابن سعد: 8/38, العبر للذهبي :1/9, الاصابة:4/466)
جب ابولہب کی بربادی کا اعلان بزبان رسالت ہوا تو اس نے اپنے دونوں بیٹوں سے اپنی اپنی بیوی کو طلاق دینے کو کہا، تو حضرت عثمان رضی اللہ سے پہلے رقیہ کا نکاح ہوا ، ان کی وفات کے بعد آپ ہی سے ام کلثوم کا بھی نکاح ہوا۔
(5) فاطمہ بنت محمد ﷺ:بعض نےلکھا ہے کہ آپ کی ولادت کے وقت نبی ﷺ کی عمر 41 سال تھی مگر اصح قول کے مطابق 35 سال تھی یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا نبوت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئیں ۔ (الطبقات الكبرى لابن سعد:8/16).
غزوہ بدر کے بعد سن دو ہجری میں حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا (الطبقات الكبرى لابن سعد8/18)
رمضان المبارک 9 ہجری میں 29 یا اس جیسی عمرمیں انتقال فرماگئیں ۔(الطبقات الكبرى:8/23)
ان تاریخی حقائق کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے شیعہ آصف رضا علوی کا پہلا مفروضہ نکاح نبوی کے چار سال بعد پہلی اولاد ہوئی بالکل جھوٹ ہےکیونکہ متعبر تاریخ میں قاسم کی ولادت کا ذکر بعثت سے قبل لکھا ہےاور قابل اعتناء یہ ہے کہ اس بابت شیعہ حوالہ بھی مذکور ہے ۔ اسی طرح دوسرا مفروضہ نبوت سے قبل تین بنات رسول کے نکاح کا ، یہ بھی جھوٹا ہے کیونکہ نبوت کے سال کے قریب تقریبا دس سال کی عمر میں زینت اور رقیہ کے نکاح کا باوثوق حوالوں سے پتہ چلتا ہے ۔ عرب تاریخ میں کم عمری میں عقد نکاح معروف تھا ، سیرت کی کتابیں پڑھنے سے معلوم ہوجائے گا، سات آٹھ سال میں بھی عقد ہوا کرتا تھا۔ عرب کی اس تاریخ کو جاننے کے لئےحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شیعہ کی کتابوں کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ شیعہ کے یہاں آپ کی تاریخ ولادت میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اکثر نے نبوت کے پانچ سال بعد لکھا ہے یعنی جب نبی ﷺ کی عمر 45 تھی اس وقت فاطمہ پیدا ہوئیں ۔ (حوالہ: کلینی کی الکافی:1/458، اربلی کی کشف الغمۃ:1/449، طبری کی دلائل الامۃ:79، ابن شہرآشوب کی المناقب: 3/357)
اور سیدہ فاطمہ کی حضرت علی سے شادی کا ذکر شیعہ کتب میں 1/ ذوالحجہ 2ہجری کو ہے ۔اسی لئےشیعہ اس تاریخ کو زواج نورین کے نام سے مناتے ہیں۔ اس حساب سے فاطمہ کی ولادت اور نکاح میں دس سال کا وقفہ ہے ۔ شیعہ یہ بات بھی مانتا ہے کہ فاطمہ کانکاح صغر سنی میں ہوا تھااور دلیل میں نسائی، ابن حبان ، مستدرک وغیرہ میں موجود صحیح سند سے مروی حدیث سے استدلال کرتا ہے ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا صَغِيرَةٌ فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا مِنْهُ(صحيح النسائي:3221)
ترجمہ: حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:وہ تو چھوٹی ہے۔پھر حضرت علی ؓ نے پیغام بھیجا تو آپ نے ان سے فاطمہ کا نکاح کردیا۔
ابوبکر وعمر سے نکاح نہ کرنے کی وجہ شیعہ نے لکھا ہے کہ اللہ نے رسول اللہ کو علی سے شادی کرنے کا حکم دیا تھا۔ (مجمع الزوائد:9/207 کی یہ روایت موضوع ہے مگر یہاں شیعہ کا موقف پیش کرنا مقصود ہے۔)
گویا یہ تقریبا وہی تاریخ نکاح ہے جو زینت ورقیہ کا ہے ۔ بھلا فاطمہ کی  مدتِ نکاح شیعہ کے یہاں قابل اعتراض نہیں تو دیگربنات رسول کے عقد پہ اعتراض کیوں کر ؟
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ پیارے رسول محمدﷺ کی چار بیٹیاں تھیں اور شیعہ کا ریاضیات کے حوالے سے اس ٹھوس تاریخی حقیقت کا انکار کرنا سراسر محمد ﷺ اور بنات رسول سے بغض کااظہار ہے ۔ اس کے پردے میں نہ صرف تاریخی حقیقت کا انکار کرتا ہے بس رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی بھی کرتا ہے۔ اللہ ایسے گستاخوں کو غارت کرے ۔
مکمل تحریر >>