Thursday, June 13, 2024

عیدالاضحی کے بعض احکام ومسائل


 
عیدالاضحی کے بعض احکام ومسائل
تحریر: مقبول احمد سلفی /جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب
 
اس تحریر میں اختصار کے ساتھ عام لوگوں کے لئے عیدالاضحی کے احکام ومسائل بیان کررہا ہوں ساتھ میں اس موقع سے معاشرے میں کچھ غلط امور بھی پائے جاتے ہیں جن پر تنبیہ بھی کروں گا۔
عیدالاضحی کے موقع پر کرنے والے کام :
٭غسل ، لباس اور خوشبو: عید کے لئے فجر کی نماز کے بعد غسل کیا جائے گا تاہم ضرورت کے پیش نظر فجر سے پہلے بھی غسل کرسکتے ہیں، غسل کے بعد نیا لباس  یا عمدہ لباس لگائیں اور بدن وکپڑے پر خوشبو لگائیں ۔
٭بغیرکھائے عیدگاہ نکلنا: عیدالاضحی کے موقع پر ایک سنت یہ ہے کہ آپ بغیر کچھ کھائے عیدکی نماز کے لئے جائیں گے اور واپس لوٹ کر اپنی قربانی سے کھائیں گے جیساکہ نبی ﷺ کا معمول رہا ہے تاہم  جس کے یہاں قربانی نہ ہو وہ عید سے پہلے بھی کھاسکتا ہے  یا جس کی قربانی میں تاخیر ہو وہ قربانی سے پہلے بھی کھاسکتا ہے۔عید سے پہلے کھانے کی ممانعت قربانی کرنے والوں کے ساتھ خاص ہے جبکہ بعض اہل علم نےیہ کہا ہے کہ جو قربانی نہ دے وہ بھی کچھ نہ کھائے کیونکہ اس کا پڑوسی کچھ نہ کچھ دے گا ہی ۔
٭ مرد اور عورت سبھی عیدگاہ پیدل جائیں : عیدگاہ پیدل جانا چاہئے اور ایک راستے سے جائیں دوسرے راستے سے واپس آئیں ۔مرد کی طرح عورتوں کو بھی عیدگاہ جانا چاہئے کیونکہ نبی ﷺ نے انہیں بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا ہے ۔ عذر کے وقت سوار ہوکر عیدگاہ جاسکتے ہیں اور کوئی بغیر عذر کے بھی سوار ہوکر جائے تو اس میں گناہ نہیں ہے  کیونکہ پیدل جانا مسنون ہے۔
٭یکم ذوالحجہ سے تیرہ ذوالحجہ تک تکبیرات کہنا: ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی بہت فضلیت ہے اور اس میں تکبیرات کہنا افضل اعمال میں سے ہے اس لئے یکم ذوالحجہ سے ہی مسلمانوں کو تکبیرات کہتے رہنا چاہئے اور عیدالاضحی کی نماز کو جاتے ہوئے اور نماز سے قبل عیدگاہ میں بھی تکبیرات پڑھتے رہنا چاہئے  اور یہ تکبیرات ایام تشریق کے آخری دن یعنی ذوالحجہ کی تیرہ تاریخ کے مغرب تک کہی جائے گی ۔ واضح رہے کہ مردوں کی طرح خواتین بھی تکبیرات کا اہتمام کریں گی ۔ آپ عید سے متعلق جمیع قسم کے مسنون تکبیر کہتے ہیں مثلا۔۔۔۔
(1)اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ لا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ وللهِ الحمدُ۔
(2) اللهُ أكبرُ كبيرًا . والحمدُ لله كثيرًا . وسبحان اللهِ بكرةً وأصيلًا۔
(3) اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ ، اللهُ أكبرُ كبيرًا۔
(4) اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا، اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا، اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا۔
٭ عیدگاہ: عید کی نماز صحرا ء میں پڑھنا چاہئے اور ضرورت کے وقت مسجد میں بھی عید کی نماز ادا کی جاسکتی ہے ۔ جب صحراء میں عید کی نماز ادا کریں گے تو عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز نہیں ہے لیکن اگر مسجد میں عید کی نماز پڑھی جائے تو مسجد میں داخل ہوتے وقت بیٹھنے سے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی جائے ۔
٭عیدکی نمازکا طریقہ: عیدین کی نماز کا اصل وقت یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوکر ایک نیزہ برابر بلند ہوجائے یعنی جونماز اشراق کا وقت ہے وہی عیدین کا وقت ہے لہذا تاخیر سے نماز ادا کرنا بہتر نہیں ہے گوکہ جائز ہے اور عید کی نماز دو رکعت ہے جو فرض کا درجہ رکھتی ہے ۔
عید کی دورکعت  نمازپڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت کے شروع میں سات تکبیرات کہی جائیں گی پھر سورہ فاتحہ اوردوسری سورت کی قرات کی جائے گی پھر سجدہ سے اٹھ کر دوسری رکعت کے شروع میں پانچ زائد تکبیرات کہی جائیں گی اور تشہد کرکے سلام پھیردیا جائے گا۔ اسی طرح عورتیں بھی عید کی نماز ادا کریں گی ۔
٭خطبہ سننا مسنون ہے: عید کی نماز کے بعد خطبہ دینا مسنون ہے اور مصلی کو چاہئے کہ خطبہ سماعت کرے پھر گھر واپس لوٹے ۔
٭ قربانی اور اس کا طریقہ: عید گاہ سے واپس لوٹ کر اپنے ہاتھوں سے قربانی کا جانور ذبح کریں حتی کہ عورت بھی ذبح کرسکتی ہے اور کوئی دوسرا بھی ذبح کرے تو حرج نہیں ہے ۔
جانور ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تیز چھری کا انتظام کریں پھر جانور کو قبلہ رخ لٹاکر بسم اللہ واللہ اکبرزبان سے بولتے ہوئے اس کی گردن پرتیزی سے  چھری چلائیں ، ذبح کرتے ہوئے گلہ یعنی سانس کی نلی اور کھانے کی رگیں کاٹیں ۔ بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر قربانی کرنا کافی ہے تاہم چاہیں تو اس کی جگہ یہ دعا پڑھ سکتے ہیں ۔
"بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ أَللهُمَّ هذا مِنْكَ وَلَكَ اَللھُم َّھذَا عَنِّيْ وَ عْن أهْلِ بَيْتِيْ "
یا چاہیں تو یہ دعا بھی پڑھ سکتے ہیں ، یہ بھی ثابت ہے ۔
"إنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَالسَّمَاْوَاتِ وَاْلأَرْضِ حَنِيْفًا وَمَاْأَنَاْمِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، إِنَّ صَلاْتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَاْيَ وَمَمَاتِيْ لِلّهِ رَبِّ اْلعَاْلَمِيْنَ، لَاْشَرِيْكَ لَه’وَبِذالِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ، بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ أَللهُمَّ هَذا مِنْكَ وَلَكَ أَللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّيْ ( وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِيْ)"
٭قربانی کا وقت :قربانی کے مکمل چار دن ہیں اس لئے آپ یوم النحر کو عید کی نماز کے بعد سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کے مغرب سے پہلے تک قربانی دے سکتے ہیں ۔ افضل تو یہی ہے کہ ہم یوم النحر کو قربانی دیں کیونکہ وہ دن عشرہ ذوالحجہ میں داخل ہے تاہم ایام تشریق میں بھی دن ہو یا رات کسی  بھی وقت قربانی کرسکتے ہیں ۔
٭ بال وناخن کاٹنا: قربانی کے بعد اب آپ اپنا بال وناخن کاٹ سکتے ہیں اوروہ لوگ جو دوسرے ملک میں قربانی دیتے ہیں ان کو بھی اپنی قربانی ہونے کے بعد ہی بال وناخن کاٹنا ہے، صرف عید کی نماز پڑھنا کافی نہیں ہے ۔ بعض ایسے بھی لوگ ہیں جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ، ایسے لوگ عشرہ ذوالحجہ میں بال وناخن کاٹنے سے رکے رہتے ہیں اور عید کی نماز کے بعد کاٹتے ہیں توان کو قربانی کا اجر ملتا ہے ۔
٭ نماز عید کے بعد مباکبادی دینا: عید کے دن صحابہ کرام ایک دوسرے کو عید کی مباکبادی دیتے تھے لہذا ہمیں بھی عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے کو ان الفاظ میں"تقبل اللہ مناومنک " عید کی مبارکباد دینا چاہئے ۔
٭ عید کے دن خوشی کا اظہار: عید کا دن مسلمانوں کے لئے ایک خوشی کا دن ہے اس دن ہم جائز حدود میں رہتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کرسکتے ہیں ۔
عیدالاصحی کے موقع سے کچھ ایسے کام دیکھنے کو ملتے ہیں جن سے ہمیں اجتناب کرنا چاہئے ، ان بعض کاموں کا تذکرہ مندرجہ ذیل سطور میں کیا جارہا ہے ۔
عیدالاضحی کے موقع پر اجتناب کرنے والے کام :
٭اللہ تعالی نے اللہ کو مال کی فراوانی دی ہے تو عیدکے موقع پر ضرور اپنے لئے اور بیوی بچوں کے لئے نیا لباس خریدیں مگر عموما دیکھا یہ جاتا ہے کہ عورتوں  کا لباس خصوصا نوجوان لڑکیوں کا لباس فیشن والا اور بہت بھڑکیلا  ہوتا ہے جس میں پردہ کی بجائے بے پردگی ہوتی ہے نیز لڑکیاں خوب  میک اپ کرکے ایسے لباس وزینت کے ساتھ نہ صرف ادھر ادھر گھومتی ہیں بلکہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھی رشتہ داروں کے درمیان پھیلاتی ہیں ، کتنی ساری لڑکیاں تو سوشل میڈیا پر نشر کرتی ہیں ۔ اس معاملے میں گھر کے گارجین کو چاہئے کہ اللہ کا خوف کھاتے ہوئے عورتوں کے لئے صحیح لباس خریدیں اور بے پردگی سے انہیں روکیں ، ورنہ اللہ کے یہاں آپ جوابدہ ہوں گے ۔
٭ عیدکی نماز کے لئے سجنے دھجنے کے چکر میں کتنے مرد لوگ جنکی قربانی ہوتی ہے و ہ مونچھ و داڑھی تراشتے ہیں جبکہ قربانی کرنے والوں کو اپنی قربانی ہونے سے پہلے بال وناخن کاٹنا منع ہے گویا لوگ ممانعت کے اس حکم کو بہت ہلکے میں لیتے ہیں جو کہ ایک بڑی جسارت اور غلطی ہے۔جس نے ایسی غلطی کی ہو وہ سچی توبہ کرے اور آئندہ اس عمل سے پرہیز کرے ۔
٭عیدگاہ میں نماز عید سے قبل مسلمانوں کے بعض طبقہ میں تقریر کی جاتی ہے، یہ سنت کی صریح مخالفت ہے ۔ نبی ﷺ عیدکے لئے جاتے تو پہلے نماز پڑھتے پھر خطبہ دیتے۔ اسی طرح عید گاہ میں لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اجتماعی ذکر کرانا بھی خلاف سنت ہے ، آپ انفرادی طور پر تکبیرات کہیں گے ۔
٭ بہت سے لوگ عید کی نماز ختم ہوتے ہی  اور خطبہ سنے بغیرفورا گھر بھاگتے ہیں تاکہ جلدی سے قربانی کریں  ، اس عمل سے خطبہ کی اہمیت جاتی رہتی ہے ۔ گوکہ خطبہ سنت ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ اسے سنے بغیر چلے جائیں جبکہ قربانی کے ایام میں وسعت ہے۔
٭عید کے دن مسلمانوں کا بدترین مظاہرہ اس وقت  ہوتا ہے جب عید کی نماز کے بعد پارکوں ، تفریح گاہوں اور ساحل سمندرپرجمع ہوتے ہیں جہاں مردوزن کا بدترین اختلاط ہوتاہے ، وہاں عریانیت اور ننگاپن ہوتا ہے اور ہم مسلمان پوری فیملی کے ساتھ بے پردگی والی جگہ کا نظارہ کرنے جاتے ہیں  جبکہ بہت سے لوگ ٹوپیاں پہن کر فلمی ہال میں بھی نظر آتے ہیں ۔ کیا ہماری ان حرکتوں  سے غیرمسلمانوں کو غلط پیغام نہیں جاتا اور کیا ایک مسلمان کے لئے عید کے موقع پر ایسا کرنا جائز ہے ۔یہ بھی ایک  افسوسناک پہلو ہے کہ مسلم خواتین  آج کل ایسے برقع زیب تن کررہی ہیں جو بطور حجاب کم ،فتنہ زیادہ نظر آتا ہے ۔اس معاملہ میں ذمہ دار کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ۔
٭ہندوستان میں بعض اسٹیٹ میں گائے کاٹی جاتی ہے مگر عموما اکثر اسٹیٹ میں گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ مخدوش وممنوع علاقوں میں گائے کی قربانی نہ دیں کیونکہ کٹرہندو موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کو قتل کرنے میں ذریع نہیں کرتے ہیں ۔ آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ گوشت لے جائیں تواس میں  بھی حددرجہ احتیاط کو مدنظر رکھیں ۔
٭قربانی کےگوشت میں غریبوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ، ہم اس کو گوشت دیتے ہیں جو ہمارے گھر گوشت بھیجتا ہے جبکہ گوشت کا اصل مستحق تووہ ہے جس کے یہاں قربانی نہیں ہوئی ہے ۔ آپ بلاشبہ اپنے رشتہ داروں  بھی کو گوشت دیں مگر غریبوں کو نظر انداز نہ کریں ۔ طے کرلیں کہ ہمیں کچھ فقیرومسکین افرادکو مثلا آٹھ دس لوگ ہی سہی قربانی کا گوشت ضرور ان کے گھر پہنچائیں گے ۔
٭جس قوم میں صفائی ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اس قوم کی عیدالاضحی کے موقع پر مسلم علاقوں میں قربانی کی وجہ سے گندگی کا ناپسندیدہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے ، یہ بڑے دکھ کی بات ہے ۔ آئیے اس غلطی کی اصلاح کرتے ہیں اور ایک پاکیزہ قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔ جب ہم قربانی دیں گے اور گوشت کھائیں گے تو پاس پڑوس میں یا جہاں تہاں  گندگی نہیں پھیلائیں گے بلکہ مناسب جگہ ہڈیوں اور فضلات کو ڈالیں گے ۔
٭عید کے دن ہم  سب سے خوش ہوکر ملتے ہیں مگر جن سے رشتہ توڑنا عبادتوں کو بھی متاثر کرتا ہے ان سے عید کے دن بھی نہیں ملتے ہیں  کیونکہ ہم نے ان سےرشتہ توڑ رکھا ہوتاہے ،  آئیے اس عید سے نفرتوں کو بھلاکر سب سے خوشی کے ساتھ ملیں گے ۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, February 1, 2023

صدقہ میں بکرا دینے کا حکم


 صدقہ میں بکرا دینے کا حکم

مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب
 
اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی مُسَلّم بکرا غریب و محتاج پر صدقہ کرے یا پھر بکرا/بکری اور کسی قسم کا حلال جانور ذبح کرکے اسے فقراء ومساکین میں تقسیم کرے ۔ اس کے متعدد دلائل ہیں ، چند ایک آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ۔
پہلے عمومی دلائل پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہوگا کہ کھانے پینے کی کوئی چیز صدقہ کرسکتے ہیں ، جیسے آپ ﷺ کا یہ فرمان دیکھیں :
إنْ أردتَ أنْ يَلينَ قلبُكَ ، فأطعِمْ المسكينَ ، وامسحْ رأسَ اليتيمِ(صحيح الجامع:1410)
ترجمہ: اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مساکین کو کھلانا پلانا اجر کا کام ہے اور یہ دلوں کو نرم کرتاہے ، کھلانے پلانے میں آپ جو چاہیں کھلائیں، اس میں گوشت بھی شامل ہے۔ اسی طرح عمومی دلیل کے تحت یہ حدیث بھی دیکھیں ۔عبد اللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ(صحيح مسلم:2347)
ترجمہ: تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطا عت رکھے چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے(صدقہ) کے ذریعہ کیوں نہ ہو وہ ضرور ایسا کرے ۔
کھجور کا تعلق کھانے سے ہے اور یہاں  کہاگیا ہے کہ کھجور کا ایک ٹکڑا کسی کو صدقہ کرکے  جہنم سے بچ سکتے ہو تو اس سے بچو۔
عمومی دلائل کے بعد اب خصوصی دلائل ذکر کرتا ہوں جن میں بطور صدقہ جانور ذبح کرنے اور گوشت کھانے کھلانے کا ذکر ملتاہے ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے:
أنَّهم ذبحوا شاةً فقالَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ ما بقيَ منْها ؟ قلت ما بقيَ منْها إلَّا كتفُها . قالَ : بقيَ كلُّها غيرَ كتفِها(صحيح الترمذي:2470)
ترجمہ:صحابہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس میں سے کچھ باقی ہے؟عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بکری ذبح کرکے اس کا جتنا حصہ فقراء ومساکین میں صدقہ کردیا گیا وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے اور بکری کا جو دستی حصہ صدقہ نہیں کیا جاسکا وہ باقی رہنے والا نہیں ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کا اشارہ اللہ کے اس کلام کی طرف ہے :مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ ۖ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ(سورہ النحل:96) ترجمہ: تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث اس طرح مروی ہے ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَهُمْ.(صحیح البخاری:2576)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے کھاتے۔
صدقہ کے گوشت سے متعلق ایک تیسری حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ: هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ(صحیح البخاری:2577)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے (جب ان کے یہاں سے پہنچا تو) ہدیہ ہے۔
صدقہ کے بکرا سے متعلق ایک چوتھی حدیث بھی دیکھیں ۔
عن ام عطية، قالت:دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عائشة رضي الله عنها، فقال: عندكم شيء؟ قالت: لا، إلا شيء بعثت به ام عطية من الشاة التي بعثت إليها من الصدقة، قال: إنها قد بلغت محلها(صحیح البخاری:2579)
ترجمہ:ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا، کیا کوئی چیز (کھانے کی) تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جو آپ نے صدقہ کی بکری بھیجی تھی، اس کا گوشت انہوں نے بھیجا ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ چکی۔
دلائل سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ صدقہ کے طور پر کھانے پینے کی کوئی چیز خواہ کھجور ہو، گوشت ہو یا بکرا وبکری اور کوئی حلال جانور ہو فقراء ومساکین کو دے سکتے ہیں ، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ۔
جانور صدقہ کرنےسے متعلق چند مسائل واحکام
اب یہاں آپ کے سامنے جانور صدقہ کرنے سے متعلق چند مسائل واحکام بھی بیان کردیتا ہوں تاکہ اس باب میں صدقہ کی اصل حقیقت کو سمجھیں اور غیرشرعی امور سے پرہیز کریں ۔
پہلامسئلہ : یونہی بغیر کسی حاجت وضرورت کےبھی  فقراء ومساکین کی امداد کے طور پر جانور ذبح کرکے صدقہ کرسکتے ہیں یا بغیر ذبح کئے مکمل جانور کسی مسکین، یتیم خانہ یا  خیراتی اداروں کو محتاجوں کے واسطے دے سکتے ہیں ۔
دوسرامسئلہ : بسا اوقات گھر میں کوئی بیمارہو تو اس کی شفا یابی کی نیت سے بھی جانور صدقہ کرسکتے ہیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقةِ(صحيح الجامع:3358)ترجمہ:صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو۔
تیسرا مسئلہ : جانور ذبح کرتے وقت نیت اللہ کا تقرب ہو، بیمار کی طرف سے جانورذبح کرتے وقت بھی تقرب الہی مقصد ہو یعنی یہ نیت نہ ہوا کہ جانور ذبح کرنے سے ہی فائدہ ہوجائے گا۔ نہیں ۔ نیت یہ ہو کہ یہ جانور اللہ کی رضا کے لئے ذبح کررہا ہو، اللہ کی توفیق سے فائدہ ہوگا۔
چوتھا مسئلہ : صدقہ کا اصل مستحق تو فقیر ومحتاج ہے تاہم صدقہ مالدار کو بھی دے سکتے ہیں اس لئے صدقہ کا گوشت کسی مالدار کو بھی دے دیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
پانچواں مسئلہ : جب گھر میں صدقہ کی نیت سے ایک جانور ذبح کیا جائے تو کیا اس میں سے گھر والے کھاسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ نیت کرکے جانور ذبح کیا جائے کہ اس میں سے گھر والے بھی کھائیں تو بالکل گھر والے بھی اس گوشت سے کھاسکتے ہیں لیکن اگر گھروالوں کی نیت نہ کی گئی ہو تو پورا بکرا صدقہ کردیا جائے ۔
چھٹامسئلہ : فقراء ومساکین کی پیسوں سے مدد کرنا افضل ہے یا بکرا دینا افضل ہے ؟ اس سلسلے میں ظاہر سی بات ہے کہ پیسوں سے مدد کرنا افضل ہے کیونکہ پیسوں سے مختلف قسم کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہے تاہم صدقہ میں گوشت دینے یا جانور دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، جائز ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کتنے سارے کفارات ہیں جن میں مسکینوں کو کھلانے کا حکم ہے، وہاں نقدی کفایت نہیں کرے گی ، کھلانا ہی ہے تو کھلانے میں بھی اپنی جگہ مصلحت ہے ۔
جانور ذبح کرنے سے متعلق کچھ باطل  اعتقادات
(1)کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ بیماری جنات یا گھر پر کسی موذی سایہ کی وجہ سے ہے لہذا جانور ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون بہاتے ہیں اس اعتقاد کے ساتھ اس کی وجہ سے جنات یا موذی چیز کاشر دور ہوجائے گا اور تکلیف رفع ہوجائے گی ۔ یہ اعتقاد باطل ہے ۔
(2)اسی طرح کچھ لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر جنات اور موذی چیز کے شر سے بچنے کے لئے گھر میں جانورپالتے ہیں یا جانور اس غرض سے ذبح کرتے ہیں ،یہ اعتقاد بھی باطل ومردود ہے ۔
(3) ایسے بھی کچھ لوگ پائے جاتے ہیں جو نئے گھر میں داخل ہوتے وقت گھر اور گھر والوں کی سلامتی کے طورپر جانور ذبح کرتے ہیں یا جنات کے شر سے نئے گھر کی حفاظت کے لئے جانور ذبح کرتے ہیں ،یہ سب بے دینی اور شرک کے قبیل سے ہیں ، ہاں اگر کوئی گھر کی نعمت ملنے پر خوشی سے لوگوں کو دعوت دیتا ہے یا جانورذبح کرتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

 

مکمل تحریر >>

Thursday, July 16, 2020

دودھاری اور حاملہ جانور کی قربانی کا حکم


دودھاری اور حاملہ جانور کی قربانی کا حکم

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، مسرہ ۔ طائف

جانور کا دودھاری یا حاملہ ہونا قربانی سے مانع نہیں ہے اس لئے بلاشبہ دودھاری اور حاملہ اونٹنی، گائے اور بکری بطور قربانی ذبح کرسکتے ہیں ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
عن أبي سعيدٍ الخدري قالَ سألتُ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ عنِ الجنينِ فقالَ كلوهُ إن شئتُم . وقالَ مسدَّدٌ قلنا يا رسولَ اللَّهِ ننحرُ النَّاقةَ ونذبحُ البقرةَ والشَّاةَ فنجدُ في بطنِها الجنينَ أنلقيهِ أم نأْكلُهُ قالَ كلوهُ إن شئتُم فإنَّ ذَكاتَهُ ذَكاةُ أمِّهِ(صحيح أبي داود:2827)
ترجمہ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھا لو۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو اسے کھا لو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے۔
اس حدیث سے ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ حاملہ جانور (اونٹنی ،گائے،بکری)کی قربانی کرنا جائز ہے اور دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ حاملہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد پیٹ سے جو بچہ نکلے گا اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ماں کا ذبح کرنا گویا بچے کا بھی ذبح کرنا ہےاس لئے بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، بغیر ذبح کے اسے کھاسکتے ہیں خواہ پیٹ سے زندہ باہر نکلے یا مردہ ۔
اسی طرح دودھاری جانور کی قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، بلا شک وشبہ دودھاری جانور کی قربانی کرسکتے ہیں ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
أمرت بيوم الأضحى عيدا جعله الله عز وجل لهذه الأمة قال الرجل أرأيت إن لم أجد إلا أضحية أنثى أفأضحي بها قال لا ولكن تأخذ من شعرك وأظفارك وتقص شاربك وتحلق عانتك فتلك تمام أضحيتك عند الله عز وجل(سنن أبي داود:2789)
ترجمہ: مجھے اضحیٰ کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے کہ اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے ۔ ایک شخص کہنے لگا : بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، تم اپنے بال کتر لو ، ناخن تراش لو ، مونچھ کتر لو ، اور زیر ناف کے بال لے لو ، اللہ عزوجل کے نزدیک ( ثواب میں ) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے ۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے ایک راوی عیسی بن ہلال صدفی کی وجہ سے ضعیف کہا ہے مگر دوسرے محدثین سے ان کی توثیق بھی ثابت ہے ۔
اس حدیث میں " أضحية أنثى" یعنی مادہ قربانی کا ذکر ہے جبکہ سنن نسائی میں دودھاری قربانی کا ذکر ہے ۔ الفاظ اس طرح وارد ہیں ۔
أرأيتَ إن لم أجِدْ إلَّا مَنيحةً أنثى أفأُضحِّي بِها ؟(سنن النسائي:4370)
ترجمہ:اگر میرے پاس سوائے ایک دو دھاری بکری کے کچھ نہ ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں اس کی قربانی کروں؟
ان دونوں حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھاری بکری کی قربانی سے منع کیا ہے مگر بات ایسی نہیں ہے ۔ آپ نے صرف اس صحابی کو (جس کے پاس گزربسرکے لئے ایک ہی مادہ یعنی دودھاری جانور تھا ) منع کیا تاکہ وہ اس جانور کے دودھ سے فائدہ اٹھائے ۔ اگر اس کے پاس دوسرا جانور بھی ہوتا یا دوسری قربانی خریدنے کی وسعت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ضرور دوسرے جانور کی قربانی کا حکم دیتے ۔ تو یہ ایک خاص واقعہ ہے جو ایک خاص صحابی سے متعلق ہے ، آج بھی کسی کے ساتھ ایسی صورت حال ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہوگا۔
بعض لوگوں کو شبہ ہوتا ہے کہ شریعت نے حاملہ جانور کی قربانی کی اجازت دی ہے جبکہ دودھاری جانور سے منع کیاہے ، یہ حقیقت نہیں ہے اور مذکورہ حدیث سے یہ مفہوم نہیں نکلتا ہے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس ایک ہی جانور ہو جو اس کی ضرورت کے لئے ہو تو اس کی قربانی دینا اس کے ضروری نہیں ہےاور دودھاری جانور کی قربانی بالکل جائز ہے ۔
اللہ کی راہ میں پسندیدہ جانورقربان کرنا تو بہت اعلی معیار ہے ، اور دودھاری جانور انسانی سماج میں قیمتی مانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کا ہدیہ دخول جنت کا سبب قرار دیا ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
أرْبَعُونَ خَصْلَةً أعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ العَنْزِ، ما مِن عَامِلٍ يَعْمَلُ بخَصْلَةٍ منها رَجَاءَ ثَوَابِهَا، وتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا، إلَّا أدْخَلَهُ اللَّهُ بهَا الجَنَّةَ(صحيح البخاري:2631)
ترجمہ:چالیس خصلتیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہد یہ کرنا ہے۔ ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے ایک خصلت پر بھی عامل ہوگا ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حاملہ اور دودھاری جانور کی قربانی کرنا جائز ومشروع ہے اور حاملہ قربانی کے بچے کو ذبح کرنے یا نہ کرنے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے تاہم اللہ کے رسول کےفرمان سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو ذبح کرنا ضروری نہیں ہے ، اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی کافی ہے اور بغیرذبح کے اس بچے کا گوشت کھاسکتے ہیں ۔
مکمل تحریر >>

Saturday, July 11, 2020

کورونا وائرس کے پیش نظرقربانی کا مسئلہ


کورونا وائرس کے پیش نظرقربانی کا مسئلہ

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر ، مسرہ ۔ طائف

کوروناوائرس کے پیداکردہ سنگین مسائل میں ایک مسئلہ لوگوں کی محتاجگی میں شدید اضافہ ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں لوگ وبائی مرض کا شکار ہوکر بڑی تعداد میں دم توڑ رہے ہیں وہیں کثرت اموات بھوک وتنگی کی وجہ سے ہورہی ہیں ۔ یہ اس وقت کا انتہائی سنگین مسئلہ ہے ، سماجی اور انفرادی طور پر خدمت خلق کا فریضہ دیا جارہاہے تاکہ  کورونا متاثرین اوربھوک سے مرنے والوں پرقابو پایا جاسکے ۔ اللہ تعالی ہرطرح سے ہماری حفاظت فرمائے اور صاحب ثروت کو رضاکارانہ خدمات کی مزید توفیق بخشے ۔ آمین
ہم نے رمضان کی مبارک ساعات لاک ڈاون میں گزاری ، اب عیدالاضحی کی نمازوقربانی کا مسئلہ درپیش ہے ۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی مومنوں پر رحمت برسائے گا اور عیدالاضحی کی نماز ایک ساتھ عید گاہ میں ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائےگا، ان شاء اللہ ۔ قربانی کے تعلق سے بریلوی مکتب کے ادارے "جامعہ نظامیہ ، حیدرآباد کا ایک فتوی ان دنوں سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے وائرل ہے ، تصدیق کے لئے میرے پاس بھی یہ فتوی کافی مرتبہ بھیجا ، جواب جواب دیتے دیتے تھک گیا بالآخر مختصر تحریری جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ میں ان دنوں گھریلو کام کی وجہ سے کافی الجھن کا شکار ہوں ۔
مذکورہ فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا ہی بہتر ہے لیکن اگر آپ قربانی کے دنوں میں قربانی نہ کرسکیں تو اس کے بعد قربانی کا جانور یا اس کی قیمت فقراء ومساکین پر صدقہ کردیں ۔ دراصل اس فتوی سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ان دنوں لاک ڈاون کی وجہ سے محتاجگی زیادہ ہے اس لئے قربانی کی بجائے اس کی قیمت محتاجوں پر صدقہ کردی جائے حالانکہ فتوی میں یہ بات نہیں ہے ۔ فتوی میں بارہ ذوالحجہ (احناف کے یہاں تین دن اور قرآن وحدیث کی روشنی  میں چار دن قربانی جائز ہے) قربانی کے اسباب نہ بن پڑیں تب قیمت صدقہ کرنےکی بات کہی گئی ہے ۔ ان حالات کے تناظر میں اس قسم کا فتوی دارالعلوم دیوبند کا بھی ہے ۔
فتوی سے ہٹ کر یہ بحث لوگوں میں بھی عام ہے کہ ان دنوں قربانی کی جگہ اس کی قیمت محتاجوں پر صدقہ کرنا کیسا ہے ؟
قربانی کا دوسرا کوئی بدل نہیں ہے ، متعین وقت میں مشروع طریقے پرجانور ذبح کرکے اس سے اللہ کا تقرب حاصل کرنا قربانی کہلاتی ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ(الحج:37)
ترجمہ:اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح اللہ نے جانوروں کو تمہارا مطیع کردیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
اس آیت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا مقصد جانور ذبح کرکے اللہ کا تقرب حاصل کرنا اور اپنے اندر پرہیزگاری پیدا کرنا ہے ۔ اس آیت سے تین آیت پہلے اللہ نے یہ بھی کہا ہے "وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا" کہ ہم نے ہر امت میں منسک(قربانی) مقرر کئے اور منسک کہتے ہیں اللہ کے تقرب کے لئے جانور ذبح کرنا اسی لئے آگے چویایوں (بهيمة الأنعام) کا ذکرہے ۔
قربانی عبادت ہے اور عبادت توقیفی ہوتی ہے ، اس میں اپنی طرف سے قیاس کا کوئی دخل نہیں ہے ، اس لئے قربانی اسی شکل میں انجام دی جائے گی جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں تعلیم دی ہے ۔ قربانی کا جانور وہی ہونا چاہئے جو منصوص ہے ، قربانی میں دوسرا جانور نہیں چلے گا حتی کہ جانور کے صفات بھی متعین ہیں اوراسی وقت قربانی کرنا جائز ہے جو شریعت کی طرف سے متعین ہے ، اپنی طرف سے آگے پیچھے  بھی نہیں کرسکتے ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
مَن صَلَّى صَلَاتَنَا، ونَسَكَ نُسُكَنَا، فقَدْ أصَابَ النُّسُكَ، ومَن نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فإنَّه قَبْلَ الصَّلَاةِ ولَا نُسُكَ له(صحيح البخاري:955)
ترجمہ: جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔
اس حدیث نے بالکل واضح کردیا کہ قربانی اسی صورت میں پیش کی جائے گی اور اللہ کے یہاں مقبول ہوگی جو رسول اللہ کی سنت کے مطابق ہوگی ، ورنہ وہ قربانی نہیں جانور کا گوشت ہے جیساکہ ایک صحابی نے نمازعید سے پہلے قربانی کرلی تو آ پ نے کہا :" شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ" کہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی ۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ قربانی میں جب معمولی وقت کی تقدیم وتاخیر نہیں کرسکتے ہیں تو اس کی قیمت ادا کرنا قربانی کیسے کہلائے گی ؟ کورونا وائرس جیسے محتاجگی کے وقت بھی قربانی کی قیمت ادا کرنا قربانی نہیں ہوگی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی تنگی کا موقع آیا لیکن آپ نے قربانی کے موقع پر اس کی قیمت صدقہ کرنے کو نہیں کہا ، صحیح بخاری کی اس حدیث سے اندازہ لگائیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن ضَحَّى مِنكُم فلا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثالِثَةٍ وبَقِيَ في بَيْتِهِ منه شيءٌ فَلَمَّا كانَ العامُ المُقْبِلُ، قالوا: يا رَسولَ اللَّهِ، نَفْعَلُ كما فَعَلْنا عامَ الماضِي؟ قالَ: كُلُوا وأَطْعِمُوا وادَّخِرُوا، فإنَّ ذلكَ العامَ كانَ بالنَّاسِ جَهْدٌ، فأرَدْتُ أنْ تُعِينُوا فيها(صحيح البخاري:5569)
ترجمہ:جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا(کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قربانی میں جانور ذبح کرنا ہی مقصود ہے لہذا جن کو اللہ نے قربانی کی وسعت دی ہے وہ سنت کے مطابق جانور کی قربانی کریں ۔ جہاں تک کورونا وائرس کے مسائل کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں ۔
*پہلےجو لوگ ایک فیملی کی طرف سے کئی کئی قربانی کرتے تھے وہ امسال پورے گھرانہ کی طرف سے ایک ہی جانور کی قربانی کریں، یہ سب کی طرف سے کفایت کرجائے گا اور بقیہ پیسوں کو محتاجوں پر صدقہ کردیں ۔ ایک جانور کی قربانی پورے گھرانہ کی طرف سے امسال کے لئے نہیں ہمیشہ کے لئے مشروع ہے۔
*کچھ لوگ بڑے جانور میں کئی کئی حصے لیتے ہیں وہ امسال ایک ہی حصہ گھر کے سرپرست کی طرف سے لیں اور باقی پیسوں کو صدقہ کردیں ۔
*میت کی طرف سے قربانی مشروع نہیں ہے پھر بھی بہت سے لوگ میت کی طرف سے قربانی کرتے ہیں ان لوگوں سے گزارش ہے کہ میت کی طرف سے مالی صدقہ کریں اور کورونا سے متاثر افراد کی مدد کریں ۔
*اگر آپ قربانی کرکے اس کا سارا گوشت محتاجوں میں تقسیم کردیتے ہیں تو بھی آپ کی قربانی صحیح ہے حتی کہ آپ اپنی قربانی دوسرے محتاج کو دے سکتے ہیں یا دوسری جگہوں میں بھی بھیج سکتے ہیں تاکہ وہ آپ کی قربانی کے گوشت سے فائدہ اٹھا سکیں  خصوصا جب آپ کے یہاں ذبح پر پابندی یا قانونی دشواری ہو۔
*جو لوگ ہرسال قربانی کرتے تھے مگر امسال قربانی دینے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں  انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ، اللہ کا فضل عام ہے اور اس کے فضل سے کوئی محروم نہیں ہوسکتا۔ نیت کا پایا جانا حصول ثواب کے لئے کافی ہے جبکہ اس عمل کی استطاعت نہ ہو۔ ساتھ ہی جو لوگ ایک ذوالحجہ سے نماز عید تک اپنے بال وناخن نہ کاٹیں انہیں بھی قربانی کا اجر ملتا ہے ۔
*وقتی محتاج اس محتاجگی کے دور میں قرض لیکر قربانی کرسکتے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ قرض کی ادائیگی آسان ہو۔
*محتاجوں کی مدد کرنا ایک الگ چیز ہے اور قربانی کرنا ایک الگ چیز ہے۔ قربانی کے ذریعہ بھی ہم محتاجوں کی مد د کرسکتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا ہوں اور نفلی وواجبی صدقات کے ذریعہ بھی مدد کرسکتے ہیں لیکن تعاون کے لئے قربانی کی صورت بدل نہیں سکتے ہیں ۔  
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس عالمی وبا سے نجات دے،ہمارے  رزق میں کشادگی اور برکت دے  اورہرقسم کی  عبادات کی ادائیگی میں ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے ۔ آمین
مکمل تحریر >>

Wednesday, February 6, 2019

کیا نبی ﷺ نے نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا تھا؟


کیا نبی ﷺ نے نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا تھا؟



مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف (مسرہ) سعودی عرب

اس مختصر مضمون میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ نبی ﷺ نے اپنا عقیقہ کیا یا نہیں ؟ چنانچہ السنن الکبری للبیہقی کی روایت سند ومتن کے ساتھ پیش ہے ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ ، أنبا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ الطُّوسِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الأَبْيُورْدِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنبا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرَّرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنْ نَفْسِهِ بَعْدَ النُّبُوَّةِ ( السنن الكبرى» كتاب الضحايا»جماع أبواب العقيقة» باب العقيقة سنة، رقم:18678)
ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنا عقیقہ نبوت کے بعد کیا ۔
بیہقی کی اس روایت پر بہت سارے محدثین نے ضعف کا حکم لگا ہے کیونکہ اس میں ایک راوی عبداللہ بن محرر کے ضعف پہ سب کا اتفاق ہے ۔ بیہقی ، نسائی، ابن ابی حاتم رازی(ایک قول)، ابن حجر، دارقطنی(ایک قول)، علی بن جنید رازی، عمر وبن علی فلاس نے متروک الحدیث کہا ہے۔ ابوزرعہ رازی اور ابن ابی حاتم زاری(دوسرا قول) نے ضعیف الحدیث کہا ہے۔ امام بخاری، ابن ابی حاتم رازی(تیسرا قول) اور ہلال بن علاء رقی نے منکر الحدیث کہا ہے ۔ ابونعیم اصبہانی، دارقطنی(دوسرا قول)،محمد بن سعد کاتب الواقدی ، یحی بن معین اور یعقوب بن سفیان الفسوی نے ضعیف کہا ہے ۔
اب چند اہل علم کے حکم بیان کردینا یہاں کافی ہوگاکیونکہ راوی کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔
٭ بیہقی نے کہا یہ حدیث منکر ہے اور وہ عبدالرزاق کے طریق سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی مروی ہے قتادہ کے طریق سے اور انس کے طریق سے ۔ ان تمام طرق سے یہ روایت باطل ہے ۔
٭ امام نووی نے بیہقی کی روایت عن عبد الله بن محرر بالحاء المهملة والراء المكررة عن قتادة عن أنس والی روایت کو باطل قرار دیا ہے ۔(المجموع:8/431)
* امام احمد نے بیہقی کی روایت عبد الله بن محرر عن أنس والی روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
٭ ابن العراقی کہتے ہیں کہ اس کی سند میں عبداللہ بن محرر ہے جس کے متعلق امام نووی نے کہا کہ اس کے ضعیف پہ اہل علم کا اتفاق ہے ۔ (طرح التثريب:5/209)
٭ حافظ ابن حجر نے اس روایت پہ کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بزار نے کہا کہ اس میں عبداللہ منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ (فتح الباری)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ابوالشیخ نے اس روایت کو مزید دو سندوں سے ذکر کیا ہے ۔
پہلی سند اسماعیل بن مسلم عن قتادہ سے مروی ہے اور اسماعیل ضعیف ہے ۔
دوسری سند أبي بكر المستملي عن الهيثم بن جميل وداود بن محبر قالا حدثنا عبد الله بن المثنى عن ثمامة عن أنس ہے ۔ اس سند میں داؤد ضعیف ہے مگر ان کے ساتھ اسی طبقہ میں ہیثم بن جمیل ثقہ ہیں اور عبداللہ بن مثنی سے امام بخاری نے استدلال کیا ہے ۔ اس وجہ سے اس سند سے یہ روایت صحیح ہے، اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں ۔
أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عقَّ عنِ نفسِهِ بعدَ ما بُعِثَ نبيًّا.
ترجمہ: نبی ﷺ نے بعثت کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا ۔
ہیثمی نے کہا کہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے ہیثم بن جمیل کے کہ وہ ثقہ ہیں یعنی ہیثمی کی نظر میں یہ سند بالکل صحیح ہے ، اس میں کوئی ضعیف راوی نہیں ہے ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ  نے عقیقہ والی روایت پہ سلسلہ صحیحہ میں طویل بحث کی ہے ، اس کا خلاصہ وہی ہے جو اوپر پیش کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن محرر کے طریق سے آنے والی روایت ضعیف ہے تاہم ہیثم بن جمیل کے طریق سے آنے والی روایت قوی الاسناد ہے اور شیخ نے اس سند کو حسن کا درجہ دیا ہے ۔ (السلسلة الصحيحة: 2726)
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ بات نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے بنوت کے بعد اپنا عقیقہ خود کیا تھا۔ اس حدیث کی بنیاد پر ہم یہ مسئلہ استنباط کر سکتے ہیں کہ بڑی عمر میں بھی عقیقہ دیا جاسکتا ہے یعنی ساتویں دن  جس کا عقیقہ نہ ہوسکے،بعد میں جب سہولت ہو  اس کی طرف سے عقیقہ دیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح یہ مسئلہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جانب سے خود بھی عقیقہ کرسکتا ہے یعنی اگر کسی کی جانب سے اس کے والد یا سرپرست نے عقیقہ نہ کیا ہو تو وہ خود ہی اپنی جانب سے عقیقہ کرسکتا ہے ۔
یہاں دو اشکال کا جواب بھی جان لینا ضروری ہے ۔
پہلا اشکال :اس حدیث سے بعض لوگ میلاد النبی منانے کی دلیل پکڑتے ہیں جبکہ یہ حدیث عقیقہ سے متعلق ہے ، میلاد اور عقیقہ میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔ یہ حدیث ہرگز میلاد کی دلیل نہیں بن سکتی ہے۔ عقیقہ میں مولود کی جانب سےجانور ذبح کیا جاتا ہے جبکہ میلادالنبی میں شرکیہ اور بدعیہ اعمال انجام دئے جاتے ہیں ۔
دوسرا اشکال : بعض اہل علم نے نبی ﷺ کے اس عمل کو آپ کے ساتھ خاص مانا ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ خصوصیت کی دلیل چاہئے اور نبوت کے بعد آپ ﷺ کا عقیقہ کرنا آپ کے ساتھ خاص ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

مکمل تحریر >>

Saturday, August 18, 2018

عقیقہ کے جانور میں اشتراک کا شرعی حکم

عقیقہ کے جانور میں اشتراک کا شرعی حکم

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوہ سنٹر،شمالی طائف (مسرہ)

عقیقہ کے مسائل میں لوگوں کی طرف سے یہ سوال بار بار دہرائے جاتے ہیں کہ کیا عیدالاضحی کے وقت یا دوسرے کسی مواقع سے بڑے جانور کی قربانی کرتے وقت اس میں عقیقہ کا حصہ لینا درست ہے یا نہیں ؟
اس سوال کا جواب نیچے سطور میں دلائل کی روشنی میں دیا جارہاہےاس سے پہلے ہم عقیقہ اور اشتراک کو جان لیتے ہیں ؟
عقیقہ کسے کہتے ہیں ؟ امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عقیقہ وہ ذبیحہ ہے، جو نو مولود کی خاطر ذبح کیا جاتا ہے۔ اصل میں عَقَّ کا معنی پھاڑنا اور کاٹنا ہے اور عقیقہ کو عقیقہ کہنے کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ذبح کے وقت ذبیحہ کا حلق کاٹا جاتا ہے، نیز کبھی عقیقہ کا اطلاق نومولود کے بالوں پر بھی ہوتا ہے۔(نیل الأوطار : 5/140)
اشتراک کسے کہتے ہیں ؟ اشتراک یہ ہے کہ قربانی کے بڑے جانور میں نومولود کی جانب سے عقیقہ کے طور پر حصہ لینا ۔
عقیقہ اور اشتراک دونوں الفاظ کی حقیقت جان لینے کے بعد عرض ہے کہ عقیقہ کا اصل مقصد خون بہانا ہے جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
معَ الغُلامِ عقيقةٌ فأَهريقوا عنهُ دَمًا وأميطوا عنهُ الأذَى۔
ترجمہ: لڑکے کےساتھ عقیقہ ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے گندگی دور کرو۔
تخریج : صحيح النسائي:4225،صحيح الترمذي:1515،سنن أبي داود:2839، مجمع الزوائد:4-61،صحيح ابن ماجه:2579، صحيح الجامع:5877، صحيح ابن خزيمة:2067، السنن الكبرى للبيهقي:9/298، المعجم الأوسط:2/247، سنن الدارمي:1967، مسند الإمام أحمد:25542۔
جس طرح یہاں عقیقہ کی بابت شریعت نے صراحت کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ بچہ کی طرف سے (ساتویں دن) خون بہاکر اسے گندگی سے پاک کیا جائے ، اس طرح قربانی کے لئے وضاحت نہیں آئی ہے۔ حالانکہ دونوں قربانی ہیں مگر دونوں کے احکام مختلف ہیں ۔ عقیقہ کے لئے خون بہانے کے متعلق یہاں تک وضاحت کردی گئی کہ لڑکا کی جانب سے دو خون یعنی دو جانور اور لڑکی کی جانب سے ایک خون یعنی ایک جانورذبح کیا جائے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : عنِ الغُلامِ شاتانِ مُكافئتانِ وعنِ الجاريةِ شاةٌ(صحيح أبي داود:2842)
ترجمہ: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابراور لڑکی کی طرف سے ایک بکری(عقیقہ کرو)۔
قربانی عبادت کے قبیل ہے اور عبادت کے امور توفیقی ہیں یعنی عبادت کی جو صورت جس طرح وارد ہے اسی کیفیت وانداز میں ادا کی جائے گی ۔ مختصرا یہ کہا جائے گا کہ چونکہ عقیقہ کے لئے مستقل طور پر جانور ذبح کرنے کا ذکر ہےاس لئے کسی جانور میں عقیقہ کا حصہ لینا جائز نہیں ہے بلکہ مستقل طور پر لڑکا کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔
اشتراک کے مسئلہ سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بڑے جانور میں عقیقہ کرنا درست ہے ؟
جمہور علماء کا قول ہے کہ اونٹ اور گائے میں عقیقہ دینا جائز ہے ، ان کی دلیل ایک ضعیف روایت  اوربعض صحابہ کا عقیقہ کے طور پر اونٹ ذبح کرنا ہے ۔ وہ مندرجہ ذیل روایات ہیں ۔
پہلی روایت : مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلامٌ فَلْيَعُقَّ عنْهُ مِنَ الإبِلِ والبقرِ والغنمِ(أخرجه الطبراني في المعجم الصغير:229)
ترجمہ: جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ عقیقہ میں اونٹ، گائے یا بکری ذبح کرے۔
اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے (ارواء الغلیل:1168)
دوسری روایت : عن قتادة:أن أنس بن مالك كان يعق عن بنيه الجزور( رواه الطبراني)
ترجمہ: قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ انس بن مالکؓ اپنے بچوں کا عقیقہ اونٹ سے کیا کرتے۔
ہیثمی نے کہا کہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔(مجمع الزوائد:4-62)
تیسری روایت : عن أبي بكرة أنه نحر عن ابنه عبد الرحمن جزوراً فأطعم أهل البصرة(تحفة المودود ص :65)
ترجمہ: ابو بکرہؓ سے مروی ہےکہ انہوں نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے عقیقہ پر اونٹ ذبح کیا تھا اوراس سے اہل بصرہ کی دعوت کی تھی۔
علامہ ابن القیم  رحمہ اللہ نے ان دونوں روایات کو اپنی کتاب "تحفۃ المودود فی احکام المولود "میں ذکر کرنے کے بعد اس عمل پہ بعض صحابہ کرام سے انکار کرنا ذکر کیا ہے یہ کہتے ہوئے کہ لڑکا کی طرف سے دو بکری اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری دینا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہےاس کے علاوہ دوسرے کا عقیقہ جائز نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی انکار پہ یوسف بن ماھک سے ایک اثر بھی ذکر کئے ہیں کہ جب انہوں نے حفصہ بنت عبدالرحمن سے لڑکے کی پیدائش پہ اونٹ ذبح کرنے کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ میری پھوپھی (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ لڑکا کی طرف سے دوبکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔یہ روایت ترمذی (ح:1513)میں ہے مگر وہاں اونٹ کا ذکر نہیں ہے البتہ سنن کبری میں اس کا ذکر ہے روایت دیکھیں :
عن ابن أبي مليكة قال: نفس لعبد الرحمن بن أبي بكر غلام فقيل لعائشة - رضي الله عنها -: يا أم المؤمنين، عقي عنه جزورا، فقالت: معاذ الله، ولكن , ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: شاتان مكافأتان (سنن البيهقي الكبرى:19063)
ترجمہ: عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو عائشہؓ صدیقہ سے کہا گیا :اے امّ المومنین!اسکی طرف سے ایک اونٹ عقیقہ کریں، اس پر اُنھوں نے کہا : معا ذ اللہ ! بلکہ ہم وہ ذبح کریں گےجو رسول ﷺ نے فرمایا ہے:"لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے ( ارواء الغلیل: 1168)
ان ساری روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں بڑے جانور کا ذبح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتا ہے جہاں تک صحابہ کا عمل ہے تو اس بابت دوسرے صحابہ سے انکار ثابت ہے جس کی وجہ سے اونٹ میں عقیقہ کا جواز نہیں نکلتا ہے اور رہا جمہور اہل علم کا قول تو اس کی کوئی صحیح دلیل نہ ہونے کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
متعلقہ چند مسائل واحکام
٭ جن علماء نے بڑے جانورمیں عقیقہ کا جواز پیش کیا ہے اس پہ ٹھوس دلیل وارد نہیں ہونے کی وجہ سے افضل واولی یہی ہے کہ آدمی چھوٹے جانور میں ہی عقیقہ کرے اور جنہیں چھوٹے جانور میں عقیقہ کرنے کی طاقت نہیں وہ اللہ کی طرف سے وسعت کا انتظار کرے تاوقتیکہ کوئی سبیل پیدا ہوجائے اور چھوٹے جانور میں عقیقہ کرے خواہ عمر طویل ہی کیوں نہ ہوجائے۔
٭ قربانی کے بڑے جانور مثلاگائے، بیل ، اونٹ وغیر میں عقیقہ کا حصہ لینا جائز نہیں ہے کیونکہ جب بڑے جانور میں عقیقہ کا ثبوت نہیں ہے تو پھر اس میں اشتراک کیسے جائز ہوگا؟ اگر تھوڑی دیر کے لئے بعض آثار کو بطور دلیل مان بھی لیتے ہیں تو اشتراک کی کوئی دلیل نہیں ہے ، عقیقہ کا مقصد خون بہانا اور فدیہ دینا ہے ،یہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب نومولود کی جانب سے مستقل طور پر جانور ذبح کیا جائے گا۔ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں کہ عقيقہ ميں شراكت كفایت نہيں كرتى چنانچہ دو بچوں كى جانب سے نہ تو اونٹ كفائت كرتا ہے اور نہ ہى گائے اور بالاولى تين اور چار بچوں كى جانب سے كفایت نہيں كريگا، اس كى وجہ يہ ہے كہ:
اول:اس ميں شريك ہونا ثابت نہيں، اور عبادات توقيف پر مبنى ہوتى ہيں.
دوم:يہ فديہ ہےاور فديہ كے حصے نہيں ہوتے؛ چنانچہ يہ جان كى طرف سے فديہ ہے، تو جب جان كى جانب سے فديہ ہوا تو پھر ضرورى ہے كہ وہ بھى جان ہى ہو، اور پہلى علت بلا شك زيادہ صحيح ہے، كيونكہ اگر اس ميں شركت ثابت ہوتى تو دوسرى تعليل باطل تھى، تو اس كا ثبوت نہ ملنا ہى حكم بر مبنى ہے(بحوالہ الاسلام سوال وجواب)
٭ جن بعض علماء نے بڑے جانور میں عقیقہ کو جائز کہا ہے ان میں اکثر اشتراک کو جائز نہیں کہتے ہیں چنانچہ عبداللہ ناصح علوان فرماتے ہیں کہ عقیقہ میں اشتراک درست نہیں ہے جیساکہ سات افراد اونٹ میں اشتراک کرتے ہیں کیونکہ اگر اس میں اشتراک صحیح مان لیا جائے تو بچہ کی طرف سے '' إهراقة الدم'' کا مقصد پورا نہیں ہوتا،وجہ یہ ہے کہ عقیقہ کا ذبیحہ مولود کی جانب سے بطورفدیہ ہوتا ہے۔ بھیڑ، بکری کی جگہ اونٹ / گائے ذبح کرنا درست ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ ذبیحہ ایک مولود کے لئے ایک جانور کی صورت میں ہو۔ (تربیة الأولاد في الإسلام : 1/98)
٭ بہت سے لوگ باوجودیکہ وقت پر عقیقہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر بلاوجہ اسے کسی خاص موقع یا عموما عیدالاضحی تک موخر کرتے ہیں اور بڑے جانور میں حصہ لیکر قربانی کے ساتھ عقیقہ  کرتے ہیں ۔ اولا :بغیر عذر ساتویں دن کے بعد عقیقہ کرنا خلاف سنت ہے، ثانیا:بڑے جانور میں عقیقہ کا ثبوت نہیں ہے ، ثالثا: بڑے جانور میں اشتراک بالکل جائز نہیں ہے ۔
٭ اگر کسی کو لڑکا کی جانب سے عقیقہ کے وقت دو جانور میسر نہیں ہوسکا تو پہلے ایک ہی  جانورعقیقہ کرلے اور جب بعد میں ایک دوسرا جانور مل جائے تو اس وقت دوسرا جانور ذبح کرلے۔
اس پورے مضمون کا خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عقیقہ میں چھوٹا جانور ہی ذبح کیا جائے ، اگر کسی نے بڑے جانور میں عقیقہ کرلیا تو بعض اہل علم کے قول کی روشنی میں جائز ہے مگر اس کی ٹھوس دلیل وارد نہیں ہونے کی وجہ سے آئندہ بڑے جانور میں عقیقہ کرنے سے بچنا افضل واولی ہے اورجس نے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ لیکر کیا وہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ عقیقہ کے جانور میں اشتراک کی دلیل نہیں ہے ۔


مکمل تحریر >>