Sunday, March 2, 2025

پب جی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں


 پب جی: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

تحریر: مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر،حی السلامہ – سعودی عرب

 

مختلف قسم کے ویڈیو گمیز میں ایک نام پب جی(PUBG) کا  بھی آتا ہےجسے بچے ، جوان بوڑھے سبھی بڑے شوق سے کھیلتے ہیں ۔ پب جیPlayer Unknown’s Battlegrounds)) کا مخفف ہے یعنی یہ ایک فرضی جنگ والی ویڈیوگیم ہے۔اس گیم کے بارے میں اس کے کھیلنے والے سے سنیں یا اس کھیل کے کھلاڑی کا حال جانیں تو معلوم ہوگا کہ اس گیم میں مثبت پہلو رتی برابر بھی نہیں ہے مگر منفی اثرات بڑے گہرے اور وسیع ہیں ۔

چونکہ یہ  ایک فرضی جنگی گیم ہے جیساکہ نام سے بھی ظاہر ہے اس وجہ سے اس میں مارنا، قتل کرنا، ہتھیار چلانا ، ایک دوسرے کو مٹانا اور برباد کرنا یہی سارے کام انجام دئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کھیل سے  سماج پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں حتی کہ کھیلنے والے آدمی کو ذہنی مریض تک بنادیتا ہے اسی کا اثر ہے کہ پپ جی کھیلنے والوں میں سے کتنے لوگوں نے خود کو ہی ماردیا تو کسی نے اپنے ہی گھر کے لوگوں کا قتل کردیا یا اپنے دوستوں کو نقصان پہنچایا۔ عام طور سے ماہرین نفسیات اس کھیل کے منفی اثرات ہی بیان کرتے ہیں ۔ حد تک یہ ہے کہ  گھریلو اور معاشرتی نقصان کی وجہ سے ملکی سطح پر اس کھیل پر پابندی لگانے کا مطالبہ تک کیا جاتا ہے۔پب جی کھیلنے والوں نے کہاں کہاں کس کس کا قتل کیا اس کو ذکر کرنا یہاں مفید نہیں ہے، یہ انٹرنیٹ پہ بڑی تعداد میں موجود ہے تاہم یہاں یہ جانتے چلیں کہ اس کھیل کے کھیلنے کی وجہ سے کھلاڑی پر کیا کیانفسیاتی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل سطور میں آدمی پر مرتب ہونے والے چند اہم نفسیاتی اثرات ملاحظہ کریں۔

٭یوں تو تمام انٹرنیٹ گیموں کا حال یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آدمی لوگوں سے لاتعلق ہوجاتا ہے مگر پب جی کا معاملہ کچھ زیادہ ہی سنگین ہے۔ اس کھیل کا نشہ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ ہرکسی سے کنارہ کش ہوجاتا ہےاور ایک کمرہ تک یا دوسروں سے تنہائی اختیار کرلیتا ہے ۔ پب جی جنگ کا مشن تمام فائٹر کو ختم کرکے اکیلا زندہ رہنا ہے ، یہی اکیلاپن زندگی میں آجاتا ہے اور لوگوں میں رہنا، کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں آتا۔وہ اپنا وقت صرف پب جی کو دینا چاہتا ہے، یہی اس کا ساتھی، دوست اور دنیا ہے۔

٭اس کھیل میں نشہ اس قدر حاوی ہوتا ہے کہ آدمی  زندگی جینے کا سلیقہ کھودیتا ہے۔ کب سوناہے، کب جاگناہے، کب کھانا ہے ، کب  گھر اور باہر کی ذمہ داری ادا کرنا ہے ، اس سے بے پرواہ ہونے لگتا ہے  حتی کہ سامنے لذیذ کھانا پڑا ہو مگر دھیان پب جی کی طرف ہوتاہے۔ اس وجہ سے صحت کا نقصان ہوتا ہے  کیونکہ اس کے کھانے پینے اور سونے جاگنے اور آرام وراحت کے ترتیب یکسر بدل جاتے ہیں۔

٭اس کھیل کا منفی اثر براہ راست آدمی کی عقل پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی اور ذہنی مریض بن جاتا ہے اور آج نفسیاتی مریضوں کی بڑی تعداد اس گیم کی بدولت ہے، جب انسان کی عقل  ہی سلامت نہ رہےپھر اس کے جسم کا کوئی عضو سلامت نہیں ہے۔

٭ہندی فلموں نے لوگوں میں آج تک جتنا تشدد نہیں پھیلایا اس سے زیادہ تشدد بہت کم وقتوں میں پپ جی اور اس جیسے دیگرگیموں نے پھیلایا ہے یہی وجہ ہے کہ  پب جی نے  لوگوں میں  چڑچڑاپن، بدمزاجی ، غصہ، لاتعلقی ، دشمنی، بدتمیزی  اور تشدد کے دیگرعناصر پیدا کئے  نتیجتا ایسے لوگ بسا اوقات خود کو بھی مارلیتے ہیں اور کبھی اپنے قریب سے قریب آدمی کو قتل کردیتے ہیں حتی کہ  مارنے میں ماں باپ یا بہن بھائی  تک کی تمیز کھوبیٹھتے ہیں۔

٭اس گیم کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ یہ آدمی کو اپنا اسیر بناکراسے اپنے فرض منصبی سے دور کردیتا ہے ۔ بایں سبب جو طالب علم ہوگااس کی تعلیم کا نقصان ہوگا، جو نوکری پیشہ ہوگا وہ اس میں کوتاہی کرے گا، جو استاد ہوگا وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہ بن جائے گا اور جوسماج یا گھر کا ذمہ دار ہوگا وہ اپنی ذمہ داری صحیح سے نہیں اداکرپائے گا۔

پب جی کھیلنے کے یہ چند بڑے اہم منفی اثرات ہیں جو اس کے کھیلنے سے آدمی پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ تو دنیاوی لحاظ سے پب جی کا نقصان آپ کے سامنے بیان کیا گیا ۔ اب اس گیم کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھتے ہیں تاکہ اس کی شرعی حیثیت جان سکیں اور اس سے دوری اختیار کریں۔

اسلام نے ہمیں پانچ چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا ہےجنہیں ضرورات خمسہ کہا جاتا ہے۔وہ پانچ چیزیں، دین، جان، عقل، نسب اور مال ہیں۔اس گیم کے ذریعہ ان پانچ چیزوں میں سے چار چیزوں کا نقصان نظر آتا ہے۔

پب جی اور دین کا نقصان:  یہ ایک لایعنی کھیل ہے، اس سے کافی وقت ضائع ہوتا ہے اور نفسیاتی طور پر آدمی اس کے سبب فرض منصبی میں کوتاہی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز جیسی عظیم عبادت سے غافل ہوسکتا ہے ۔ یہ عمومی نقصان ہے جبکہ اس میں دین کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ سنا گیا ہے اس کھیل میں ایک ایسا بھی مرحلہ آتا ہے جہاں پاور حاصل کرنے کے لئے بت کے سامنے جھکنا پڑتا ہے ۔ اگر واقعی اس کھیل میں یہ مرحلہ بھی  آتاہے تو یہ کھیل آدمی کو کفر میں داخل کررہا ہے جس سے اس کے دین کا بڑا نقصان ہورہا ہے۔

پب جی اور جان کا نقصان: چونکہ یہ جنگی گیم ہے اس سے لڑنے اور قتل کرنے کی عادت ڈالی جاتی ہے اس کے سبب حقیقت میں لوگوں کا قتل بھی ہورہا ہے ۔کھیلنے والا خود کا بھی نقصان کرتا ہے اور دوسروں کا بھی نقصان کرتا ہے، گویا اس سے انسانی جان کوخطرہ ہے اور یہ جانی نقصان کا سبب ہے اور اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جو جانی نقصان کا سبب بنے بلکہ ادنی نقصان پہنچنے والی چیزوں سے بھی  منع کرتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ(البقرۃ:195)

ترجمہ:اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا ضررَ ولا ضِرارَ( صحيح ابن ماجه:1910)

ترجمہ: نہ (پہلے پہل) کسی کو نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا اور تکلیف دینا۔

اس حدیث میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے کہ نہ خود کو نقصان پہنچانا ہے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاناہےبلکہ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ اوراس کی  زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

المُسْلِمُ مَن سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِن لِسانِهِ ويَدِهِ، والمُهاجِرُ مَن هَجَرَ ما نَهَى اللَّهُ عنْه( صحيح البخاري:6484)

ترجمہ:مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔

پب جی اور عقل کا نقصان:ماہرین طب و نفسیات کے تجربہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پب جی کا انسانی عقل پر برا اثرپڑتا ہے جس سے آدمی ذہنی مریض بن جاتا ہے بلکہ یہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے ۔ ہم آئے دن اپنی آنکھوں سے اس گیم سے لوگوں کی عقل خراب ہوتے اسی طرح دیکھ رہے ہیں  جیسے شراب سے عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ اسلام عقل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اس وجہ ہے جس کام سے بھی عقل کو نقصان پہنچے اس سے بچا جائے گا لہذا جیسے شراب یا نشہ آور چیزوں سے عقل کا نقصان ہوتا ہے اس سے بچنا ہے ویسے ہی پب جی سے بچنا ہے کیونکہ اس  کے کھیلنےمیں عقل کا نقصان ہے۔

پب جی اور مال کا نقصان: پپ جی ایسا کھیل ہے جس میں پیسہ لگاکر اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے ، پھر پیسہ لگاکریاکویزخرید کر ہار جیت والا جوا کھیلا جاتا ہے ۔ اس میں ایک طرف بلاوجہ پیسہ ضائع کیا جاتا ہے تو دوسری طرف اس میں جوا بھی پایا جاتا ہے اور اسلام میں جوا کھیلنا حرام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ:90)

ترجمہ:اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔

اور نبی ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ(صحيح البخاري:1477)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا۔ بلاوجہ کی گپ شپ، مال کی بربادی اور لوگوں سے بہت مانگنا۔

آپ نے اندازہ لگایا کہ  اسلام نے جن پانچ اہم چیزوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے ان میں سے چار چیزوں کا نقصان پب جی سے ہورہا ہے  اور حقیقت بھی یہی ہےکہ  پب جی  ایک ایسا کھیل ہے جس میں  بے شمار نقصانات ہیں مگر اس میں ادنی سا بھی فائدہ نہیں ہے ، نہ عقل و ذہانت کا اور نہ ہی صحت وجسم کا بلکہ الٹاؤ نقصان ہی ہوتا ہے۔یہ  لایعنی ، فضول ، وقت ضائع کرنے والے اور فرائض وواجبات سے غافل کردینے والا   اور لہوو لعب میں مشغول کردینے والاکام ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ایسے فضول ولایعنی کاموں سے منع فرماتا ہے، اس سلسلے میں نصیحت حاصل کرنے کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے چند فرامین ملاحظہ فرمائیں۔اللہ تعالی مومنوں کی صفات بتاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ، وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المومنون:1-3)

ترجمہ:یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں اور جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ فرماتا ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ(لقمان:6)

ترجمہ: اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من حسنِ إسلامِ المَرءِ تركُه ما لا يعنيه(صحيح الترمذي:2317)

ترجمہ:کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے۔

وقت کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے  نبی ﷺ نے ہمیں پانچ باتوں کی  بڑی قیمتی نصیحت فرمائی ہے، آپ ﷺ فرماتے ہیں:

اغْتَنِمْ خَمْسًا قبلَ خَمْسٍ : شَبابَكَ قبلَ هِرَمِكَ ، وصِحَّتَكَ قبلَ سَقَمِكَ ، وغِناكَ قبلَ فَقْرِكَ ، وفَرَاغَكَ قبلَ شُغْلِكَ ، وحَياتَكَ قبلَ مَوْتِكَ(صحيح الترغيب:3355)
ترجمہ:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔

جو اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے اور خود کو رب العالمین کی عبادت کے لئے متفرغ نہیں کرتے ایسے لوگوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے، حدیث قدسی میں ہے۔

يقولُ اللَّهُ سبحانَه يا ابنَ آدمَ تفرَّغْ لعبادتي أملأْ صدرَك غِنًى وأسدَّ فقرَك وإن لَم تفعَلْ ملأتُ صدرَك شُغلًا ولم أسدَّ فَقرَكَ(صحيح ابن ماجه:3331)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا۔

شرعی ناحیہ سے پب جی کی ایک غلطی یہ  بھی ہے کہ یہ جاندار لوگوں کا کارٹون والا گیم ہےیہاں تک کہ اس میں عورتوں کے عریاں کارٹون بھی ہوتے ہیں ۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ اسلام میں جاندار کی تصویر استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری سے دو حدیث ملاحظہ فرمائیں۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یقیناً یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس کو زندہ بھی کرو۔(بخاری:5951)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب والے لوگ وہ ہوں گے جو اللہ تعالی کے تخلیق میں مقابلہ بازی کرتے تھے۔(بخاری:5954)

اب پب جی سے متعلق تمام اہم باتیں  آپ کے سامنے آگئیں ہیں۔ آپ نے  اس گیم سے ہونے والے  نفسیاتی نقصانات  اور مقاصد شریعت کے تحت آنے والے ضرورات خمسہ کے نقصانات کو پڑھ لیا ۔ان نقصانات کے سبب یہ گیم اسلامی اصول"لاضررولاضرار" ( نہ تکلیف دینا ہے اور نہ تکلیف مول لیناہے) کے خلاف ہے  ۔نیز یہ فضول لہوولعب ہے جووقت ومال ضائع کرنے والا ، عبادات سے غافل کرنے والا اور حرام تصویر کے زمرے میں آنے والا گیم ہے ۔بنابریں یہ کہنے میں قعطا کوئی ترددنہیں کہ پب جی کھیلنا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائز نہیں ہے۔ مسلم لڑکے اور لڑکیوں کو اس کھیل سے باز آجانا چاہئے  خصوصا گھر کے ذمہ دار کو چاہئے کہ اپنے ماتحتوں کی اچھی نگرانی کرے اور اپنے گھر والوں کو پب جی کھیلنے سے روکے۔

مکمل تحریر >>

Monday, September 2, 2024

خواتین کی تصاویروویڈیوز اور سوشل میڈیا

 خواتین کی تصاویروویڈیوز اور سوشل میڈیا
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر(حی السلامہ ) سعودی عرب
 
مختلف مواقع پر میرے پاس مردوخواتین کی جانب سے عورتوں کی تصاویر اور ویڈیوزبنانے اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے سے متعلق متعدد طرح کے استفسار آئے ، ان لوگوں کے استفسارکا جو جواب دیا گیا انہیں ایک جگہ جمع کردیا گیا اور یہ عصر حاضر کے کافی اہم مسائل ہیں اس لئےاب افادہ عام کی غرض سے جمع شدہ استفسار وجواب قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں ۔
سوال(1): میں نے ایک تصویر بھیجی ہے جس میں دو لڑکیاں آپس میں گلے مل رہی ہیں ، خواتین کا مین روڈ پر اس طرح ایک دوسرے کو گلے ملنا اور تصویر بناکرشیئرکرنا کیسا ہے جبکہ وہ پردے میں ہوں، نیز عورت پردہ میں رہتے ہوئے مرد کے ساتھ کبھی پارک، کبھی راستے پر تو کبھی سیروتفریح کی جگہ پر تصویر و ویڈیوز بناتی ہے ایسی باحجاب لڑکی کی تصویر مرد کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کرنا کیسا ہے؟
جواب: عورت سراپا پردہ ہے اسے اپنے آپ کو اجنبی مردوں سے چھپانا ہے۔ جو تصویر آپ نے بھیجی ہے اس تصویر کو بنانے والی عورت نے اس لیے بنایا اور شیئر کیا ہوگا تاکہ لوگ اسے دیکھیں اور پسند کریں۔ ظاہر سی بات اس مقصد کے لئے تصویر لینا اور لوگوں سے پسند کروانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہےبلکہ ایک طرح سے لوگوں کو گناہ کی  دعوت دینا ہوا اور یہ بدترین عورت کی خصلت ہے جو لوگوں کی طرف مائل ہوتی یا دوسروں کو اپنی طرف مائل کرتی ہےاور جاندار تصویر کا مسئلہ بھی اپنی جگہ کافی خطرناک ہے کہ بلا ضرورت جاندار کی تصویر نکالنا اسلام میں حرام ہے لہذا عورتوں کو خاص طور پر اپنی تصویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ عورت کی تصویر اکیلی ہو یا مرد کے ساتھ ہو دونوں صورتیں جائز نہیں ہیں خواہ عورت حجاب ہی کیوں نہ پہنے ہوئی ہو۔
سوال(2): بعض عورتیں کہتی ہیں کہ چلتے ہوئے یا گلے ملتے ہوئے پردہ کے ساتھ تصویر اور ویڈیوز بناکر لوگوں میں اس لئے نشر کرتے ہیں تاکہ دوسری خواتین کو پردہ کرنے کی ترغیب ملے ، کیا اس مقصد سے باحجاب تصویر بنانا اور شیئر کرنا جائز ہے؟
جواب: آپ کے اس دوسرے سوال سے متعلق جواب کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں جنہیں مندرجہ ذیل نکات کی صورت میں بیان کرتا ہوں ۔
٭جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ کسی جاندار کی تصویر کھیچنا اور اس کو شیئر کرنا حرام ہے تو پھر تمام قسم کے جاندار کی تصویر خواہ چلتے ہوئے ہو، بیٹھے ہوئے ہو، سوئے ہوئے ہو یا گلے ملتے ہوئے ہو اسے شیئر کرنا حرام ہے۔
٭جاندار کی تصویروں میں عورت کی تصویر مزید گناہ کا باعث ہے کیونکہ عورت سراپا پردہ ہے، اسے ہمیشہ اور ہرحال میں اجنبی مردوں سے اوپر سے نیچے تک اپنے آپ کو ڈھک کر اور چھپا کر رکھنا ہے۔
٭آج کل کے اکثر و بیشتر نقاب اور برقع بطور حجاب نہیں بطور فتنہ ہیں کیونکہ یہ سب جاذب نظر اور دلکش و پر فتن ہوتے ہیں اور عموما لڑکیاں اسی قسم کے جاذب نظرنقاب کی تصویر لیتی ہیں اور شیئر کرتی ہیں ، ایسی تصویروں سے فتنہ تو پھیل سکتا ہے مگر فائدہ لاحاصل ہوگا۔
٭برقع کے تعلق سے ایک بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ پڑھی لکھی خاتون بلکہ آپ کہہ لیں عالمہ اور فاضلہ، وہ بھی جو دعوت کے میدان میں ہیں اور اپنے بیانات کی ویڈیوز بناتی ہیں وہ اپنے چہرے کا شرعی طور پردہ نہیں کرتی ہیں، آپ دیکھیں گے ان کی پیشانی اور آنکھوں کے ساتھ چاروں طرف کا حصہ کھلا ہوا ہوتا ہے اور ان عالمہ و فاضلہ کو دیکھ کر ان کی طالبات اور ان کو سننے والی عورتیں اسی طریقے سے پردہ کرتی ہیں ۔ الحفظ و الاماں
٭ خواتین کا اپنے بیانات کی ویڈیوز بنانا درست نہیں ہے ، اہل علم نے سختی سے اس عمل سے منع کیا ہے اس کے باوجود متعدد خواتین کثرت کے ساتھ بیانات رکارڈ کرواتیں ہیں اور سوشل میڈیا پر نشر کرواتی ہیں اور اس وقت افسوس زیادہ ہوتا ہے جب بعض سلفی اداروں کے ذمہ دار اپنے اسٹوڈیومیں خواتین سے مسلسل پروگرام کرواتے ہیں اور اپنے چینل کو پروموٹ کرتے ہیں جبکہ ایسی خواتین کا پردہ تک صحیح نہیں ہوتا یعنی پردہ میں وہی خامی پائی جاتی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔
٭اگر کوئی عورت نقاب یا برقع لگا کر وہ بھی ایسا نقاب جو فتنے کا سبب ہو اس مقصد سے تصویر کھینچ کر انٹرنیٹ پہ ڈالے کہ اس سے لوگوں کو حجاب کے لئے نصیحت ملے گی، کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ مقصد صحیح ہونے کے ساتھ طریقہ بھی سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی آدمی نیت کرے کہ صدقہ کرے گا لیکن وہ چوری کر کے صدقہ کرے تو ایسا صدقہ حرام ہے، ٹھیک یہی مسئلہ مذکورہ بالا تصویر سے بھی متعلق ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین صحابہ کو نیک عمل کرنے سے منع کردیا تھا جو عمل سنت کے خلاف تھا حالانکہ وہ عمل اپنی جگہ عظیم اور صالح تھا۔
آخری پوائنٹ: اپنی اس تحریر میں آخری نصیحت یہ کرتا ہوں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ جاندار کی تصویر حرام ہے اور لڑکی کی تصویر میں مزید شدت حرمت ہے تو کسی بھی طرح کی تصویر سوتے، جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، بلاگ بناتے، یوٹیوب چینل کے لئےویڈیوزبناتے، کھانا بناتے یا اور کسی کام کاج کی تصویر وویڈیوزعورت کو سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی اس بارے میں الگ الگ سوال پوچھنا چاہیے کیونکہ ان سارے سوال کا یہی جواب ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
سوال(3): اکثر ہم عورتیں کسی مرد سکالر کی ویڈیوز یا پوسٹ واٹس ایپ سٹیٹس پر یا خواتین گروپ میں شیئر کرتے ہیں تاکہ دوسری خواتین فائدہ اٹھائیں تو کیا سٹیکر وغیرہ سے چہرہ ڈھک دینا چاہئے یا ویسے ہی شیئر کریں تو عورتوں کی نظر اس طرح غیر محرم پہ پڑنے سے شئیر کرنے والے کو گناہ ہوتا ہے؟
جواب: اللہ تعالی نے عورتوں کو اپنا چہرہ چھپانے کا حکم دیا ہے بلکہ عورت چہرہ سمیت پورا جسم چھپائے گی لیکن اللہ نے مردوں کو اپنا چہرہ چھپانے کا حکم نہیں دیا ہے یہ الگ مسئلہ ہے کہ راہ چلتے مرد کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے لیکن چہرے کا پردہ کرنے کا اسے حکم نہیں دیا گیاہے اس لئے مردوں کی جو دعوتی ویڈیوز آپ، خواتین کے درمیان شیئر کرتے ہیں ان میں چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک مرد اجنبی عورت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا ہے لیکن عورت اجنبی اور غیرمحرم مرد کا چہرہ دیکھ سکتی ہے ، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے ہیں۔ میں حبشہ کے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں (جنگی) کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے، آخر میں ہی اکتا گئی۔ اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشہ دیکھنے کا بڑا شوق ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہی ہو گی۔(صحیح بخاری:5236)
اس حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی زوجہ کو مردوں سے چھپایا جبکہ آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ نے مردوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا گویا ایک عورت اجنبی مردوں کو دیکھ سکتی ہے اس میں حرج نہیں ہے۔
ایک دوسرا مسئلہ یہاں پر یہ بھی ہے کہ موبائل کی تصویر اور ویڈیو بھی ممنوع تصویر میں داخل ہے لیکن وقت اور حالات کی ضرورت کی وجہ سے علماء کرام دینی بیانات ریکارڈ کرتے ہیں جو وقت کی بہت بڑی ضرورت اور لوگوں کے لیے باعث رحمت ہے۔اگر علماء کرام بیانات ریکارڈ نہ کرتے اور یہ بیانات سوشل میڈیا پر نشر نہ ہوتے تو آج عام لوگ یوٹیوب اور دیگر سوشل پلیٹ فارم پر محض گانے سنتے، فلمیں دیکھتے، سیریل میں لگے رہتے اور نہ جانے کون کون سی بےحیائی کی چیزوں میں مصروف رہتے ۔ الحمدللہ دینی بیانات سے لوگ گھر بیٹھے دین سیکھ رہے ہیں۔
سوال(4): خوشی کے موقع پر بچیاں ڈانس(رقص) کرسکتی ہیں، کیا اس کی اجازت ہے؟
جواب:رقص مسلم ماں بہن، بیٹی کے لئے کسی طور جائز نہیں ہےو چاہے خوشی کا موقع ہو یا کوئی اور موقع ہو،یہ فساق و فجار کی مشابہت اور فتنے کا سبب ہے اس فتنے سے ہم اپنے گھر اور سماج کو بچائیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل مسلم بچیاں اسکولوں میں رقص کرتی نظرآتی ہیں، جابجا سوشل میڈیا پر اس قسم کی ویڈیوز نظر آتی ہیں اور والدین  ذمہ دارکو اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ یاد رکھیں ایسی بچیاں آگے چل کر کبھی باحیا نہیں بن سکتیں ، اس عمل سےممکن ہے بچیوں میں بے حیائی کو فروغ ملے اور یہاں رقص کرتے کرتے   ٹک ٹاک اور دوسری جگہوں  پر رقص کرنے لگے پھرانہیں  ذرہ برابر بھی شرم محسوس نہیں ہوگی ۔ آج کل دینی مدارس میں بھی ایکشن نظم کے نام پر بچیاں رقص کی طرح حرکات کرتی ہیں جو بیحد شرمناک ہے، اہل مدارس کو اپنے یہاں سے اس قسم کی بے ہودہ حرکتوں کو ختم کرنا چاہئے۔
سوال(5): کسی خاتون کا سوشل میڈیا پر اپنی خوبصورت آواز میں نظم وغیرہ پڑھ کر اپلوڈ کرنا شرعی نقطہ نظر سے کیساہے؟
جواب:عورت سراپا پردہ ہے، اسے اپنا بدن چھپانا ہے اور فتنے کی چیز سے بچنا ہے ، عورت اگر اپنے بدن کے ساتھ ویڈیو بناتی ہے تو وہ گنہگار ہوگی کیونکہ وہ اپنی طرف لوگوں کو دیکھنے کی دعوت دے رہی ہے اورصرف آواز کے ساتھ نظم رکارڈ کرے تویہ بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ نے عورتوں کو بات کرنے میں لچک ، نرمی اور شیرینی سے منع کیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا(الأحزاب:32)
ترجمہ:اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔
نظم پڑھنے میں آواز کوسردینا پڑتا ہے ، آواز میں کشش پیدا کرنی پڑتی ہے ، ظاہر سی بات ہے اللہ کے مذکورہ کلام کی روشنی میں ایسی سریلی ، شیرینی اور پرکشش آواز بناکر ویڈیو بنانا یا آواز رکارڈ کرنا جائزنہیں ہے ۔یہ فتنے کا باعث ہے اس لئے لڑکیوں کو اس عمل سے باز رہنا چاہئے۔
سوال(6)کیا چھوٹی بچیوں کا رقص کرتے ہوئے نظم پڑھنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟
جواب : آجکل مسلمانوں کے یہاں اسٹیج پروگراموں میں بچیاں بدن کو حرکت دیتے ہوئے نظم پڑھتی ہیں ، بعض مقامات پر ایسی حرکات کے ساتھ قرآن بھی تلاوت کرتے ہوئے نظر آتی ہیں ۔ رقص کوئی اچھی چیز نہیں ہے کہ ہم مدرسوں اور اسکولوں میں مسلم بچیوں کو تلاوت اور اناشید کے ساتھ رقص بھی کروائیں ۔یہ چیز ناظرین کو بھاتی ضرور ہے مگر یہ غیرقوم کی نقالی کے ساتھ سراپا فتنے کا باعث ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأما الرقص من النساء فهو قبيح لا نفتي بجوازه لما بلغنا من الأحداث التي تقع بين النساء بسببه ، وأما إن كان من الرجال فهو أقبح ، وهو من تشبه الرجال بالنساء ، ولا يخفى ما فيه ، وأما إن كان بين الرجال والنساء مختلطين كما يفعله بعض السفهاء : فهو أعظم وأقبح لما فيه من الاختلاط والفتنة العظيمة لا سيما وأن المناسبة مناسبة نكاح ونشوة عرس (فتاوى إسلامية: 3/187).
اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ رقص کرنے میں قباحت ہے اس وجہ سے ہم اس کے جواز کا فتوی نہیں دے سکتے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس کے سبب عورتوں میں فتنہ برپا ہوا ہے ۔ اگر مرد رقص کرے توعورت کے رقص سے بھی قبیح ہے کیونکہ اس میں عورتوں کی مشابہت ہے اور اس کی قباحت سب پر عیاں ہے۔ اگر مردوعورت کے ساتھ مخلوط رقص ہو جیساکہ بعض بے وقوف کرتے ہیں تو یہ مردوں کے رقص سے بھی قبیح اور عظیم گناہ ہے کیونکہ اس میں اختلاط کے ساتھ بڑا فتنہ پایا جاتا ہے بطور خاص نکاح اور شادی کی مناسبت سے ہو۔
اس لئے ذمہ داران ادارہ و تنظیم سے گزارش ہے کہ بچیوں سے رقص کراکر ان کا مستقبل خراب نہ کریں ، یہ کل گھروں کی مالکن بنیں گی ، اگر اس نہج پہ بچیوں کی تربیت کی گئی تو اپنے گھروں میں اور معاشرہ میں یہی چیز پھیلائے گی اور فتنے کا سبب بنیں گی ، اس وقت فتنے کا اصل ذمہ دار مربی ہوں گے ۔
سوال(7): نکاح مسجد میں ہو اور لیڈیز کے پورشن میں تمام لیڈیز ہوں اور دلہن بھی ہو پھر نکاح کے بعد دولہا بھی لیڈیز کے پورشن میں آجائے اور دلہن کے ساتھ پکچرز اینڈ موویز بنائے موبائل سے مسجد میں تو یہ صحیح ہے یا اللہ کو ناراض کرنے اور غصہ دلانے والا کام ہے؟
جواب: معاشرے میں ایک غلط بات یہ پھیلی ہوئی ہے کہ مسجد میں نکاح کرنا سنت ہے، یہ صحیح بات نہیں ہے۔حقیقت یہ ہےکہ  آپ نکاح کہیں بھی کر سکتے ہیں نکاح کے لیے مسجد کو سنت کہنا غلط ہےاور مسجد میں بھی نکاح ہوسکتا ہے مگر مسجد کے نکاح کوسنت کہنا غلط ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح سے آپ نے نکاح کا منظر ذکر کیا کہ عقد نکاح میں بہت ساری خواتین مسجدمیں علاحدہ جگہ پر ہیں اور ظاہر سی بات ہے مرد بھی مسجد میں بڑی تعداد میں ہوں گے، اس شکل میں مسجد میں نکاح کرنا بالکل بھی غیر مناسب اور مسجد کے ادب کے خلاف ہے۔
عورت و مرد کی اس طرح بڑی بھیڑ نکاح کے نام پر مسجد میں جمع کرنا بالکل بھی صحیح نہیں ہے، مسجد صرف اور صرف اللہ کی بندگی کے لیے ہے۔ ہاں اگر لڑکا کے ساتھ چند مرد حضرات بیٹھ کرمسجد میں  عقد نکاح کر لیتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے لیکن عورت و مرد کی بڑی بھیڑ مسجد میں جمع کرنا بالکل غلط ہے۔
جب مسجد میں اس طرح کی بھیڑ جمع کرنا غلط ہے تو اس سے زیادہ کہیں غلط یہ ہے کہ دولہا خواتین کے حصے میں جائے اور وہاں فوٹو اور ویڈیو بنائے، یہ انتہائی غلط اور ناجائز و حرام ہے بلکہ بڑے فتنے کا سبب ہے۔
آپ لوگوں کو چاہیے کہ مسجد انتظامیہ سے گفتگو کر کے اس طرح کے نکاح کو مسجد میں انجام دینے سے روکنے کی کوشش کریں تاکہ کسی قسم کا غیر شرعی کام مسجد میں نہ ہواور لوگوں میں فتنہ نہ پھیلے ۔
سوال(8): کیا عورت کے لئے کھانا بنانے کی ویڈیوز بناکر یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا اور اس سے کمائی کرنا جائز ہے جبکہ ان ویڈیوز میں عورت کی تصویر نہ ہو محض آواز ہو گلفس وغیرہ کے ساتھ؟
جواب:کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ یوٹیوب پر اپنا چینل بنائے اور اپنی آواز میں کھانے پینے کی ویڈیوز بنا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کرے اور اس سے پیسہ کمائے۔ عورت کی یہ کمائی جائز نہیں ہے بلکہ حرام کمائی ہے۔
ویڈیو میں چاہے عورت اپنی تصویر دکھائے یا نہیں دکھائے، آواز کے ساتھ ویڈیوز بنانا بھی غیر شرعی عمل ہے جو فتنے کا سبب ہے۔
اللہ رب العالمین نے عورت کو غیر مردوں سے بلا ضرورت بات کرنے سے منع کیا ہے اور عورت ضرورت پڑنے پر غیر مردوں سے تصنع، لچک، نرم اور سریلی آواز میں بات نہیں کر سکتی ہے ۔
عورت کے کھانا بنانے والی محض آواز والی ویڈیوز پہ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ ویڈیوز عورت کی ضرورت میں شامل نہیں ہے یعنی یہ بلا ضرورت ویڈیوز بنانا ہے اور پھر اس میں عورت کی جو آواز ہوگی اس میں لچک، نرمی، تصنع اور سریلی پن بھی پائی جائے گی۔ یہ سب غیر شرعی عمل ہے ۔
مزید براں یوٹیوب سے جو کمائی آتی ہے وہ پرچاروں کے ذریعہ آتی ہے اور پرچاروں میں بہت ساری غیر شرعی چیزیں داخل ہوتی ہیں اس لئے ایک مسلمان مرد اور عورت کو اس طرح کے غیر شرعی پرچاروں کی کمائی کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
سوال(9): ایک لڑکی کے لئے یہ جائز ہے کہ جب وہ عالمہ کا کورس مکمل کرے تو مخصوص کیپ کے ساتھ تصویر بنا کر اسے شئیر کرے نیز عالمہ کا کورس مکمل ہونے پر گل پوشی اور دعوت کرنا کیسا ہے؟
جواب: اگر کسی لڑکی نے عالمہ کا کورس مکمل کیا اور اس کے گھر والے خوشی میں اپنی بچی کو اچھا کھانا کھلائے، گفٹ دے اور اس جیسی دوسری قسم کی حوصلہ افزائی کرے تو شرعی حد میں رہتے ہوئے حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن تقریب عام کی شکل میں گاؤں والوں کو اور پورے رشتہ داروں کو جمع کرنا اور پھر لڑکی کو پھولوں کا مالا پہنانا یہ اسلامی طریقہ نہیں ہے بلکہ پھولوں کا مالا یہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار کے مشابہ ہے، وہ لوگ مورتیوں کی پھول مالا سے عبادت کرتے ہیں لہذا ہمیں مشابہت کی وجہ سے اس عمل سے پرہیز کرنا چاہیے اور جہاں تک مخصوص کیپ لگاکر اس طرح کی ویڈیو یا تصویر بنا کر لوگوں میں نشر کرنا ہے تو یہ بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ جاندار کی تصویر ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ عورت حیا اور پردے کی چیز ہے عورت کو پردے میں رہنا چاہیے نہ کہ اپنے آپ کو لوگوں میں ظاہر کرنا چاہیے لہذا فارغ ہونے والی طالبات کو نہ ایسی تصاویر کھچوانی چاہیے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر نشر کرنا چاہیے ، نہ رستہ داروں کے مابین شیئر کرنا چاہیے ۔
آپ اس قسم کی تصویر رشتہ داروں کو بھیجیں گے اور آپ کے رشتہ دار دوسروں کو شیئر کریں گے جن میں غیر محرم مرد بھی ہوسکتے ہیں حتی کہ بعض لوگ سوشل میڈیا پر بھی نشر کرسکتے ہیں کیونکہ اس وقت ہرکوئی سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے اور اس طرح آپ کی تصویر سوشل میڈیا کی زینت بنے گی اور گناہ کے مرتکب ہوں گے۔
سوال(10): خواتین کا آن لائن درس دینا یا اپنے دروس وبیانات کی ویڈیوز بناکرلوگوں میں نشرکرنا کیسا ہے ؟
جواب: یہ ایک انتہائی اہم سوال ہےجس کا اختصار کے ساتھ جواب یہ ہے کہ اولا مرد علماء کی کمی نہیں ہیں ، الحمدللہ کثیرتعداد میں سلفی علماء امت مسلمہ کی ہرطرح سے اور ہرپلیٹ فارم پر رہنمائی کررہے ہیں بلکہ یہ کہہ لیں کہ زمانے کے تقاضہ کے مطابق آج بہت سارےجید علماء سوشل میڈیا کا بھی سہارا لے رہے ہیں اور وقت کی ضرورت کے حساب سے آج سوشل میڈیا کے ذریعہ دعوت وتبلیغ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ جب کثیر تعداد میں علماء موجود ہیں اور تمام ترمواد وموضوعات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں تو ایسے میں کسی خاتون کے سوشل میڈیا پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ پھر جب شرعی نقطہ نظر سے خاتون کی آواز ، حجاب اور فتنہ کو دیکھتے ہیں تو عورتوں کی ویڈیوز میں متعدد شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ما تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أضَرَّ علَى الرِّجالِ مِنَ النِّساءِ(صحيح البخاري:5096)
ترجمہ: میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے۔
اس حدیث پر غور فرمائیں کہ عورت کا فتنہ مردوں کے لئے کس قدر شدید ہے اور آج ہم جب شدیدقسم کے فتنے والے دور میں ہیں ، ایسے میں عورت کا فتنہ اور بھی شدید ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے عورتوں کو گھروں میں سکونت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، ان کے لئے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر گھر میں نماز پڑھنا ہے اور اگر وہ مردوں کے ساتھ نماز میں ہوتی ہے تو امام کی غلطی پہ تنبیہ کے لئے عورت کو تالی بجانے(ہاتھ پر ہاتھ مارنے) کو کہاگیا ہے، منہ سے آواز نکالنا منع ہے۔ ذرا اس نکتہ پر غور کریں ، مزید برآں اللہ نے لوگوں کی رہنمائی اور دعوت کے لئے مردوں کا انتخاب کیا ہے جبکہ زمانے میں ایک سے ایک عالمہ وفقیہ گزری ہوں گی مگر کسی ایک عورت کو اللہ نے نبی اور رسول نہیں بنایا۔
خلاصہ یہ ہے کہ عورت پردہ کی چیز ہے اسے پردہ میں ہی رہنا چاہئے ، نہ وہ بلاضرورت گھر سے نکلے گی اور نہ ہی بلاضرورت مردوں سے کلام کرے گی۔
آپ جب عورتوں کی ویڈیوز پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بلاضرورت ویڈیوز ہیں کیونکہ مردعلماء کے بیانات عورت ومرد سب کےلئے کافی ہیں ۔ پھر عورت جو گھر کی چیز ہے وہ اپنے آپ کو ویڈیوز کے ذریعہ باہرنکال رہی ہے اور جب لوگ عورت کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو اس عورت کے تمام خدوخال ، حرکات وسکنات ، آواز واسلوب اور نازوادا ساری باتوں پر توجہ ہوتی ہے کیونکہ ویڈیوٹکٹکی باندھ کر دیکھنے اور سننے والی چیز ہے ۔ اس سے قطع نظر کہ عورت ویڈیو میں کیا کہہ رہی ہے کسی مرد کے لئے جائزنہیں کہ اس کے جسم وبدن پرٹکٹکی لگاکر غور سے کردیکھے ۔ ایک مرتبہ قبیلہ خثعم کی عورت نبی ﷺسے مسئلہ دریافت کررہی تھی ، فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ٹھوڑی پکڑ کرفضل کا چہرہ دوسری طرف گھمادیا۔(بخاری:6228)
آج کل زیادہ تر لوگ کان کے ذائقہ کے لئے تقریرسنتے ہیں اس لئے لوگ تقریر میں اسلوب ، جاذبیت، تصنع،اسٹائل، شیرینی اور انداز بیاں پر دھیان رکھتے ہیں جبکہ اسلام نے عورت کو لچک اور تصنع کے ساتھ مردوں سے بات کرنے سے منع کیا ہے پھر عورتوں کا شیریں بیان، تصنع اور اسٹائل سے بھرا خطاب ، سریلی اور خوش الحانی والی تقریر اور نرم گداز اندازبیان ویڈیوکی شکل میں کیسے جائز ہوگا؟
المہم عورت اگر معلمہ اور عالمہ ہے تو عورتوں کے حلقہ میں درس وبیان دے اور عورت عورتوں میں دعوت کا کام کرے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے لیکن ویڈیوز نہ بنائے اور نہ سوشل میڈیا پر نشر کرے اور آج کل بعض خواتین داعیہ بن کرشہردرشہر تبلیغ کے لئے جاتی ہیں ، یہ عمل بھی سلفی منہج کے خلاف ہے ۔ ایک عورت اپنے حلقہ میں اور شرعی حدود میں رہ کر درس وخطاب کا اہتمام کرے ۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, June 11, 2024

عالم سے سوال پوچھنے کے آداب

 
عالم سے سوال پوچھنے کے آداب
 
علم شرعی، نبوت کا علم ہے اور جب ہم کسی عالم دین سے کوئی شرعی مسئلہ پوچھتے ہیں تو یقینا اس کے لئے آداب اپنانے کی ضرورت ہے۔ بنابریں حالات و ظروف کے تئیں کچھ رہنما اصول آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔
(1)سلام کے ساتھ مسئلہ کا آغاز:
بہت سے لوگ بغیر سلام کئے اپنی بات شروع کردیتے ہیں، یہ غلط ہے ہمیں پہلے سلام لکھنا چاہئے اور صحیح سے سلام لکھنا چاہئے ۔ بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ یا تو انگلش میں مخفف سلام کرتے ہیں یا اردو میں غلط لکھتے ہیں ۔آپ تین طرح سے سلام لکھ سکتے ہیں ۔
السلام علیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
(2) تخاطب میں احترام : ہم جب کسی دنیاوی بڑے آدمی سے بات کرتے ہیں تو بڑی عزت واحترام سے بات کرتے ہیں ، ان کے مقام ومرتبہ کا خیال کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ عالموں سے مسئلہ پوچھتے وقت آداب بھول جاتے ہیں ۔ ہمیں عالم سے سوال کرتے وقت ان کے مقام ومرتبہ کا خیال کرنا چاہئے جیسے مولانا یا شیخ جیسے مناسب لفظ کے ذریعہ مخاطب کریں اور ادب واحترام سے سوال کریں ، عالم کو سر یا جناب کہہ کر مخاطب کرنا غلط کرنا ہے۔
(3) سوال مختصر اور واضح ہو: ہم اپنی بات کو لمبی کردیتے ہیں مگر بسا اوقات مسئلہ واضح نہیں ہوتا اس لئے جب سوال کریں تو پہلے سوچ لیں اور پھر مناسب الفاظ کا انتخاب کرکے واضح انداز میں اور مختصر سوال کریں ۔ خود بھی باربار سوال پڑھ کر دیکھیں کہ کیا مسئلہ واضح ہے پھر عالم کو بھیجیں ۔
(4)وقت کی قدر کریں: صرف ضروری سوال کریں اور فضول سوال ، بلامقصد سوال ، ادھرادھر کی الٹی سیدھی پوسٹ بھیج کر عالم سے چیک کروانا سوائے ضیاع وقت کے اور کچھ نہیں ہے جبکہ وقت بہت قیمتی ہے ، آپ بھی اس کی حفاظت کریں اور دوسروں کا بھی وقت بچائیں ۔
(5) ایک بار میں ایک مسئلہ پوچھیں : ہم ایک ساتھ علماء سے بہت سارے سوالات کرتے ہیں جبکہ یہ بڑی خطا ہے۔ آپ کو سوشل میڈیا کی سہولت میسر ہوئی ہے جس کے ذریعہ بڑے سے بڑے عالم سے رابطہ ہوجاتا ہے تو یہ ایک بڑی نعمت ہے ۔ الحمدللہ۔ اس سے مناسب طور پر فائدہ اٹھائیں ۔ کسی عالم سے کبھی کوئی مسئلہ پوچھیں تو ایک بار میں ایک سوال پوچھیں کیونکہ جو علماء سوشل میڈیا پر لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ان کے پاس آپ جیسے بہت سارے لوگوں کے سوال آتے ہیں ان سب کو جواب دینا ہوتا ہے پھر ان کے پاس اپنے مشاغل و ضروریات ہوتے ہیں ۔
(6) سوال پوچھتے وقت جلدبازی سے گریز کریں: عموما سوشل میڈیا نے لوگوں کو جلدباز بنادیا ہے اور لوگ دینی مسئلہ بھی جلدبازی میں پوچھنا چاہتے ہیں ، یہ علم وادب کے خلاف ہے ۔ ویسے جلدبازی کسی معاملہ میں ٹھیک نہیں ہے لیکن شرعی مسئلہ پوچھنے میں جلدبازی کرنا بالکل غلط ہے ۔
(7) ایمرجنسی سوال کے لئے قریبی عالم سے رابطہ کریں: بسا اوقات بہت ضروری مسئلہ ایمرجنسی کی صورت میں پیش آتا ہے ، ایسا کوئی مسئلہ سوشل میڈیا پر کسی عالم کو بھیج کر انتظار نہ کریں یا کبھی اس طرح سوال نہ کریں کہ یہ ایمرجنسی مسئلہ ہے اس کا فوری جواب چاہئے ۔ اس طرح کے مسئلہ میں آپ اپنے علاقہ کے معتبر عالم سے بذریعہ فون رابطہ کریں اور ان سے براہ راست مسئلہ پوچھیں ۔
(8)مسئلہ بیان کرنے میں حق نہ چھیائیں : کبھی کبھی اپنے فیور میں فتوی حاصل کرنے کے لئے بعض لوگ چالاکی سے سوال کرتے ہیں اور اصل حقیقت چھپاکر اس طرح سوال کرتے ہیں تاکہ اسے اپنے من مطابق جواب مل جائے ، یاد رہے اللہ آپ کی نیت اور آپ کے عمل کو دیکھ رہا ہے  اس لئے آپ سوال کرتے وقت حق بات ہی  لکھیں یا بولیں ۔
(9) حق ملنے پر تسلیم کریں: آپ نے کسی عالم سے کوئی فتوی حاصل کیا اور فتوی قرآن وحدیث کی روشنی میں ہو تو آپ اس پر عمل کریں بھلے وہ آپ کے من موافق نہ ہو، کوئی مسئلہ شریعت سے ثابت ہوجائے اس پر ہمیں عمل کرنا چاہئے اور اس میں کسی قسم کا تعصب نہیں برتنا چاہئے ۔
(10) جس نے رہنمائی کی ان کا شکرگزار بنیں : جن سے آپ دین پوچھتے ہیں اور وہ اپنا وقت نکال کر آپ کو جواب دیتے ہیں تو جواب ملنے پر ان کا شکریہ ادا کریں یعنی بدلہ میں کم ازکم جزاک اللہ خیرا کہیں ۔
(11) جواب نہ ملنے پہ  دوسرے عالم سے رابطہ کریں: ممکن ہے کہ کبھی آپ کو کسی عالم سے پوچھنے پر اپنے سوال کا جواب نہ ملے ، اس کے متعدد وجوہات ہوسکتے ہیں ، یہاں ہمیں چاہئے کسی دوسرے معتبر عالم سے وہ مسئلہ پوچھ لیں ، آج زمانہ گلوبل ہوگیا ہے اور دنیا کے کسی کونے میں موجود عالم سے مسئلہ پوچھنا اور جاننا آسان ہوگیا ہے ۔
(12)تحریری اہم مسئلہ مستند ادارہ سے حاصل کریں: کسی کو تنازع کے حل کے لئے تحریری فتوی کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ وہ اسے  سماج یا فریق مخالف کو دکھاسکے  مثلا طلاق ، خلع، وراثت ، تجارت اور مالی حقوق وغیرہ جیسے مسائل ۔ ایسی صورت میں  اپنے علاقہ کے سلفی ادارہ سے رابطہ کریں اور ان سے فتوی حاصل کریں وہ آپ کو ادارہ کے لیٹرپیڈ پر دستخط ومہرکے ساتھ فتوی دیں گے ۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں ادب واحترام کے ساتھ علماء سے علم سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم جو علم حاصل کریں اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
 

مکمل تحریر >>

Wednesday, November 22, 2023

لڑکیوں کی عمرکے لحاظ سے روزوں کی قضا سے متعلق غلط امیج


 لڑکیوں  کی  عمرکے لحاظ سے روزوں کی قضا سے متعلق غلط امیج
 
سوشل میڈیا پر ایک امیج(پیغام ) گردش میں دیکھا جو رمضان کے روزں کی قضا سے متعلق ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ حیض کی وجہ سےزندگی میں  جو روزے چھوٹ گئے ہیں ان کا اندازہ کیسے لگائیں اور کیسے قضا کریں ۔ اس امیج کی حقیقت نیچے بیان کی جاتی ہے۔
یہ نقشہ  مکمل طور پر غلط ہے ۔ اس میں سب سے پہلی خرابی تو یہ ہے کہ اس سے یہ میسیج جارہا ہے کہ عورت  رمضان کے چھوٹے روزے عمر میں کبھی بھی رکھ سکتی ہے  جبکہ معلوم ہونا چاہئے کہ رزوں کی قضا رمضان سے رمضان تک ہی ہونا چاہئے مگر شرعی عذر ہو تو اور مسئلہ ہے  بلکہ بعض اہل علم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ روزوں کی قضا میں تاخیر ہوتو قضا کے ساتھ فدیہ بھی ہے ۔میرے نزدیک فدیہ کی دلیل نہیں ہےبس قضا کرنا ہے۔  
دوسری بات یہ ہے کہ ہر عورت کا حیض مختلف ہوتاہے کسی کو ایک دن، کسی کو تین دن، کسی کو سات دن یعنی مختلف عورتوں کے مختلف ایام ہوتے ہیں ان سب کے لئے کوئی ایک  ٹیبل نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ ایک ماہ میں حیض کی وجہ سے 23 روزے کبھی بھی قضا نہیں ہوسکتے ہیں ، اگرکسی کو زیادہ دن خون آئے تو بھی پندرہ دن سے زیادہ حیض نہیں مانا جائے گا، پندرہ دن کے بعد والا خون استحاضہ کا مانا جائے گااور استحاضہ میں عورت کو نماز و روزہ کی پابندی کرنی ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اس میں جو ہرسال کے قضا روزے کے الگ الگ ایام بتائے گئے ہیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، جس عورت کو جتنا روزہ شرعی عذر کی وجہ سے چھوٹا ہوگا اتنا ہی قضا کرے گی اور قضا کے معاملہ میں ہرعورت کا معاملہ الگ ہوگا حیض کے فرق کی وجہ سے۔
 آخری بات یہ ہے کہ بارہ سال بلوغت کی عمر متعین نہیں ہے ، بلوغت کی نشانی ظاہر ہونے سے لڑکی بالغ ہوجائے گی، چاہے حیض شروع ہوجائے یا بغل وزیر ناف کے بال آجائے یا احتلام ہونے لگے ، اس اعتبار سے آٹھ  سال کی بچی بھی بالغ ہوسکتی ہے تو بلوغت کا اعتبار عمر سے نہیں، نشانی سے ہوگا۔
 
واللہ اعلم
مقبول احمد سلفی 

مکمل تحریر >>

Wednesday, October 11, 2023

سوشل میڈیاکے دور میں خواتین کی معاشی جدوجہد


سوشل میڈیاکے دور میں مسلم خواتین کی معاشی جدوجہد
تحریر:مقبول احمدسلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب

اسلام ایک فطری دین ہے جو انسان کے تمام فطری تقاضوں کو من وعن پورا کرتا ہے ۔بھاگ دوڑ، جدوجہد، انتظام وانصرام اور محنت ومزدوری ایک مرد کے شایان شان تھی تو اسلام نے انتظامی امور سے لے کر کسب معاش تک کی ذمہ داری مردوں کے سپرد کی تاکہ عورتوں کو گھر سے نہ نکلنا پڑے اور ان کو گھریلو ذمہ داری دیگر اسی مقام کو لازم پکڑنے کا حکم دیا ۔
اس تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا آج کے مسلم معاشرہ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ دیگر اقوام کی طرح مسلم عورتیں بھی ہرمیدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں ۔ وہ کون سا کام رہ گیا ہے جسے ایک عورت انجام نہیں دے رہی ہے ۔ قطع نظر اس سے کہ عورت بھی ہر کام کرسکتی ہے دینی نقطہ نظر سے دیکھیں کہ کیا اسلام عورت کو ہر کام کرنے کی چھوٹ دیتا ہے ، عورت کو ہرمیدان میں نکل کر مردوں کے ساتھ کام کرنا چاہئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ۔ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے اور ہرمیدان میں عورتوں کے کام کاج کی وجہ سے زمانے میں جو فتنےاور برائیاں عام ہیں ہماری نظروں سے مخفی نہیں ہیں اس لئے مسلم خواتین کو چاہئےکہ اپنی ذمہ داری اور اپنی حدود کو سمجھے اوراسی حد میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے ۔
کسب معاش کے تعلق سے مسلم خواتین اب اپنے شوہروں پر منحصر نہیں رہنا چاہتی ہیں ، بلکہ مغربی تہذیب میں جس طرح آزاد ہوکر عورتوں کو کماتے ہوئے دیکھا جارہا ہے اس کی نقالی مشرقی ممالک کی مسلم عورتیں بھی کررہی ہیں جو بیحد افسوسناک اور اسلام مخالف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کردار والے مسلمان نہیں ، صرف نام والے مسلمان بنتے جارہے ہیں اور غیروں کی مشابہت اختیار کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کررہے ہیں ، دراصل اس طرح کے کھلے ماحول نے مسلمانوں میں الحادوارتداد کا دروازہ کھولا اور آج بے شمار مسلم لڑکیاں اغیار کی گود میں جابیٹھی ہیں، روزبروز یہ سلسلہ بڑھتا جارہاہے اورجو کبھی اسلام کے پاسبان ومحافظ تھے وہی اسلام پر انگشت نمائی کرکے اپنوں اور غیروں کے لئے فسق وفجور اور کفر وضلالت کا سبب بن رہے ہیں ۔ العیاذ باللہ
مندرجہ بالا پس منظر میں کہنا چاہتاہوں کہ مسلم عورتوں کو ہوش کا ناخن لینا اور آزادی کے نام پر عزت وآبرواور دین وملت کا نقصان نہیں کرنا چاہئے ، اس سلسلے میں خواتین کے سرپرست اصل ذمہ دار ہیں، انہیں اپنے گھر کی بہن ، بیٹی ،بیوی اور بہو ؤں کو فتنے کی آماجگاہوں سے دور رکھنا چاہئے خصوصا کسب معاش کے لئے بلاضرورت گھر سے باہر نہیں جانے دینا چاہئے ۔
بلاشبہ سماج میں ایسی بھی خواتین ہیں جن کو مزدوری کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کوئی ان کا کفیل نہیں ہوتا ہے ایسی خواتین شرعی حدود میں رہتے ہوئے گھر میں یا گھر سے باہر رہتے ہوئے مزدوری کرسکتی ہیں ۔ وہ مزدوری کرتے ہوئے ہمہ وقت یہ احساس رکھے کہ وہ مسلمان ہے تاکہ اسے کیسے اور کس طرح مزدوری کرنا ہے یہ پاس ولحاظ رہے ۔ اسی طرح وہ خواتین جن کو نوکری کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی نوکری کرنا چاہتی ہیں تو نوکری کرنا عورت کے لئے جائز ہے تاہم حالات کا دراسہ کرے کہ جو نوکری کرنا چاہتی ہے وہ اسلامی اعتبار سے جائز ہےیا نہیں، یا اس نوکری کی وجہ سے کہیں وہ فتنے میں مبتلا تو نہیں ہوگی یا کیا شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے وہ نوکری کرسکتی ہے؟ ان ساری باتوں کا اندازہ لگائے ۔ اگر عورت کو حلال نوکری ملتی ہے اور اس کے کرنے میں شرعی طور پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور اس میں عورت کے لئے دینی اعتبار سے کوئی نقصان نہیں ہے تو ایسی نوکری کرنے میں حرج نہیں ہے۔
اب چلتے ہیں مضمون کے اصل حصہ سوشل میڈیا کے دور میں "ورک فرام ہوم "(گھربیٹھے کام)سے جڑ کر کمانے والی مسلم خواتین کی طرف ۔چونکہ خواتین گھر میں ہوتی ہیں اور بہت سی خواتین کو گھریلو کام کرنے کے بعد کافی وقت مل جاتا ہے یا گھریلو کام سے فرصت نہ بھی ملتی ہو تو بھی اس وقت سوشل میڈیا کے توسط سے پیسہ کمانا چاہتی ہیں ۔ اس بابت دو قسم کی خواتین پائی جاتی ہیں ۔
پہلی قسم : ایک قسم کی خواتین وہ ہیں جو سوشل میڈیامثلا یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ پر ناچ گانے، فحش ویڈیوزاورجنسی مسائل کی ویڈیوز بناکر نشر کرتی ہیں اور عوام کی ویوز کی بدولت پیسہ کمانے کا سستا موقع ہاتھ آجاتا ہے ۔یاد رکھیں ، آپ اس طرح سے پیسے تو کمالیں گے مگر ایک ایک حرکت کا اللہ کے یہاں آپ کو حساب دینا ہوگا اور یہی نہیں بلکہ جتنے لوگ اور جب تک آپ کی پوسٹ اور ویڈیوز دیکھتے اور شیئر کرتے رہیں گے ان سب کا گناہ آپ کے سر جائے گا۔
کچھ مسلم لڑکیاں جن میں پڑھی لکھی خواتین بھی شامل ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی ویڈیوز میں کوئی حرج نہیں ہیں اور لوگوں کی دیکھا دیکھی قسم قسم کی ویڈیوز بنابناکر سوشل میڈیا پہ مشہور ہونے اور پیسے کمانے کی غرض سے نشر کرتی ہیں آپ بھی ان کاموں سے رک جائیں ۔
چاہے شعروشاعری کی ویڈیوہو، کھانے بنانے کی ویڈیوہو، طبی نسخے کی ویڈیو ہو، گھریلوکام کاج کی ویڈیو ہو، جنسی مسائل کی ویڈیوہو، پڑھنے پڑھانے کی ویڈیو ہو، یہ ساری ویڈیوز آپ کے لئے تباہی کا سبب ہیں ۔ یاد رکھیں کہ ایک عورت سراپا فتنے کا باعث ہے ، آپ ویڈیو میں اپنا ہاتھ دکھاتے ہیں یاچہرہ دکھاتے ہیں یاپورا بدن دکھاتے ہیں یا بغیر جسم کے صرف آواز رکارڈ کرتے ہیں ، یہ سب فتنہ سامانی ہیں ۔ ایک عورت کو بغیر ضرورت کےاجنبی مردوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے پھر پرکشش انداز میں ویڈیو بناکر سوشل پلیٹ فارم پر جہاں پوری دنیا کے لوگ دیکھ اور سن سکتے ہیں نشر کرنے کی کیسے اجازت ہوگی ؟ اے کاش میری اس بات سے کسی بہن کو نصیحت مل جائے ۔
دوسری قسم: سوشل میڈیا کے توسط سے کمانے والی ایک قسم کی خواتین وہ ہیں جن کو ویڈیوز بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی ، نہ اس میں آواز رکارڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ صرف کچھ دیکھنے یا پیسہ لگانے یا اسائنمنٹ بنانے جیسے کام کرنے ہوتے ہیں ۔
گھر بیٹھے خواتین بالخصوص ضرورت مند خواتین اس دوسری قسم سے فائدہ اٹھاکر پیسہ کماسکتی ہیں مگر اس قسم کی نوعیت کے کام کےلئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے ۔ آپ اس طرز کا کوئی کام کرنا چاہتی ہیں تو پہلے اس کام کی مکمل تفصیل جانیں پھر اس کے بارے میں علماء سے رہنمائی حاصل کریں اور جب آپ کو معلوم ہو کہ یہ کام اسلامی اعتبار سے کرنا جائز ہے پھر اس کام کوکرنا شروع کریں ۔ اس سلسلے میں کچھ مفید باتوں سے آپ کو آگاہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔
(1) ویڈیودیکھنے والاکام : بہت سارے کام ایسے ملیں گے جن میں آپ سے کہاجائے گا کہ آپ کو کچھ نہیں کرنا ہے ، بس ویڈیوز دیکھنا ہے، وہ دراصل مختلف قسم کے پرچار ہوتے ہیں ، ان ویڈیوز کو دیکھیں، لائک کریں اور دوسروں کو شیئر بھی کریں ساتھ ہی اس کے چینل کو سبسکرائب بھی کرنا ہوتا ہے ۔ اس قسم کے کام سے جڑنے کے لئے پہلے آپ سے ایک بڑی رقم وصول کی جاتی ہے ۔
اس کام کے بارے میں آپ کو صحیح بات بتادوں کہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس میں آپ کو ویڈیوز دیکھنی پڑے، لائک کرناپڑے اور شیئر کرنا پڑے اور سبسکرائب کرنا پڑے ۔ویسے بھی یہ فضول ولغو کام ہے مزید برآں یہ ویڈیوز دراصل تجارتی اداروں کے پرچار ہوتے ہیں اور آپ نہیں جانتے ہیں کہ کون سی تجارت حلال ہے اور کون سی حرام ، اسی طرح ان میں کون فرضی تجارت ہےاورکون فریبی ہے یا سود وحرام کام میں ملوث ہے پتہ نہیں چلے گا ، نیز پرچار میں کتنی غیراخلاقی وفحش تصویر، موسیقی اور جاندار کی تصاویر ہوں گی ۔ آپ اگر ان ویڈیوز کو دیکھتی ہیں، لائک کرتی ہیں ، شیئر کرتی اور چینل سبسکرائب کرتی ہیں توان ویڈیوز سے متعلق گناہگاہوں کے گناہ میں آپ بھی شریک ہوتی ہیں بلکہ شیئر کرکے دوسروں کو بھی گناہوں کی دعوت دیتی ہیں اس لئے ویڈیوز دیکھنے والے کاموں سے دور رہیں ۔
(2) اسائنمنٹ ورک: آج کل بہت ساری خواتین اسائنمنٹ ورک کرتی ہیں ، اس میں پہلے ایک موٹی رقم رجسٹریشن کے نام پر طلب کی جاتی ہے پھر مخصوص تعداد میں ممبر کو جوڑنا بھی ہوتا ہے مثلا سات ممبر کو اس ادارہ سے جوڑنا ہوگا اور پھر کچھ لکھنے کا کام دیا جاتا ہے ، اس کو تیار کرکے ادارہ کو دینا ہے ، اس لے بدلے ادارہ معمولی پیسہ دیتا ہے ۔
آپ اس طرح کا کوئی بھی اسائمنٹ والا کام نہ کریں جس میں آپ کو پہلے موٹی رقم دینا پڑے اور سات یا دس افراد کو جوڑنا بھی پڑے ۔ آپ سے جو رقم لی جاتی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ کے ساتھ سات لوگوں کی رقم مل کر کتنی رقم بن جاتی ہے آپ نے اندازہ لگایاہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارہ آپ کے پیسے سے کماتا ہے اور اسی کمائی سے تھوڑا آپ کو دیتا ہے ۔
آپ اسائنمنٹ کا صرف وہی کام کریں جس میں کوئی رقم لگانی نہ پڑے اور کوئی ممبر ایڈ نہ کرنا پڑےاور وہ اسائنمنٹ ورک فی نفسہ حلال بھی ہو، اگر ایسا کام نہ ملے تو اس کام کو چھوڑ دیں ۔
(3)خریدوفروخت کا کام : بہت ساری آن لائن تجارت اور آن لائن دوکانیں ہیں ۔ یہ تجارتی ادارے لوگوں کو موقع فراہم کرتے ہیں کہ ان سے جڑ کر کام کیا جائے یعنی ان کے سامان کو فروخت کریں یا ان کے سامان کا پرچار کریں ۔ اس قسم کی تجارت میں حرام وحلال کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں اس لئےآپ جو کام کرنا چاہتی ہیں پہلے اس کی نوعیت جانیں پھر کسی عالم سے رہنمائی لے کر ہی شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں ۔
بنیادی طور پر یہ معلوم رہے کہ حرام چیز کا پرچار کرنا جائز نہیں ہے اور حلال چیز کا پرچار بھی غلط طریقے سے یعنی جھوٹ بول کر یا غلط وصف بتاکر بیچنا جائز نہیں ہے لہذا ایسے پرچاروالا کام نہ کریں جس میں غیرشرعی پہلو ہو۔ اسی طرح آن ئن خریدوفروخت میں ایک چیزبیچنے کے بعد جب تک خریدار اس پہ قبضہ نہ کرلے دوسرے سے بیچنا جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح یاد رہے کہ جب آپ کسی ادارہ سے نہیں جڑے ہیں اور لوگوں کواس ادارے کا سامان دکھاکر بیچتے ہیں تو لوگ سمجھیں کہ آپ ان چیزوں کے مالک ہیں ، اسلام کی رو سے یہ عمل جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ نے ایسی چیز کو بیچنے سے منع کیا ہے جو ہماری ملکیت نہیں ہے ۔ ہاں کسی ادارے سے جڑے ہیں تو ادارے کا وکیل بن کر جس قیمت میں بیچنے پراتفاق ہوا ہے بیچ سکتے ہیں ۔دکیل کے لئے منافع لینے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ مالک کہے میرا فلاں سامان اتنے کا ہے ، اس میں تم اپنا منافع رکھ کرآگے بیچو، مجھے فلاں سامان کی اتنی قیمت چاہئے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مالک کہے تو
میرے متعین قیمت پر سامان بیچو میں تمہیں ہر سامان پر اتنا منافع الگ سے دوں گا۔یہ دونوں صورتیں جائز ہیں ۔
(4) ذاتی ایپس یا بلاگ وویب کے ذریعہ کمانا: بہت سی خواتین ٹکنالوجی کا استعمال جاتی ہیں تو خود کی کوئی اپلیکیشن بنالیتی ہیں یا ویب و بلاگ بناکر ایڈسن سے پرچار لے کر کماتی ہیں ۔ اس معاملہ میں اتنا کہوں گا اور آپ بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ گوگل کے ذریعہ آپ پرچار لیتے ہیں تو عموماآپ کو نہیں معلوم ہوگا کہ جس تجارت کے بارے میں پرچار ہے اس تجارت کی کیا حقیقت ہے، اس میں حرام وحلال کا کیا پہلو ہےبلکہ اپنی آنکھوں سے اس پرچار میں ہی متعدد خامیاں اور اسلام مخالف امور کا مشاہدہ کرتی ہوں گی جیسے موسیقی ، جاندار کی تصویر، غیرشرعی تجارت کا پرچار اور فحش تصاویر وغیرہ اس لئے گوگل سے پرچار لے کر کمانے کی کبھی نہ سوچیں ۔ اس سے بہتر ہے محنت ومزدوری کرکے کمائیں اگر آپ کوگھریلو اعتبار سے کمانے کی ضرورت ہے ،اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے میرے بلاگ پرمیرا ایک مضمون "یوٹیوب کی کمائی پر نوجوانوں کی فریفتگی اور اسلام" سے مطالعہ کریں ۔
(5) انوسٹمنٹ پلان:کمائی کرنے کے بہت سارے مواقع انوسٹمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں ۔مختلف قسم کے اداروں میں پیسے لگاکر روزانہ یا ماہانہ کی بنیاد پر عمومامتعین منافع دیا جاتا ہے ۔ اس قسم سے متعلق جو بھی آن لائن انوسٹمنٹ ادارے ہیں آپ آنکھ بند کرکے اس میں پیسہ لگاکر کمائی کرنا شروع مت کریں ، پہلے اس ادارہ کی مکمل جانکاری حاصل کریں پھر ان ساری تفصیل کو مستند عالم سے بتاکر رہنمائی حاصل کریں تاکہ آپ کا پیسہ حلال جگہ انوسٹ ہو اور آپ کی کمائی حلال ہو۔ بہت سارے فراڈی ادارے ہوتے ہیں جو آپ سے پیسہ لے کر غائب ہوجائیں گے، پتہ بھی نہیں چلے گا اور بہت سارے ادارے حرام تجارت یا سودی لین دین میں ملوث ہوتے ہیں ان سے کمائی کرنا جائز نہیں ہے اور اسی طرح بہت سارے تجارتی ادارے حلال چیزوں کی تجارت تو کرتے ہیں مگر لین دین ، معاملات، طریق کار اور منافع میں شرعی قباحتیں ہوتی ہیں اس لئے کسی بھی انوسٹمنٹ پلان سے جڑنے سے قبل اس کے بارے میں آگاہی ضروری ہوتی ہے اور آگاہی کے ساتھ اس ادارہ میں رقم لگانا شرعا جائز ہے کہ نہیں یہ بھی جاننا ضروری ہے۔
(6) نٹورکنگ مارکیٹ سے کمائی کرنا: بہت قسم کے اداروں میں پیسہ کمانے کا ایک طریقہ ممبرسازی ہے ۔ پہلے آپ ایک مخصوص رقم دے کر اس میں شامل ہوتے ہیں پھر آپ کو ضروری طورپر چند ممبر بنانے ہوتے ہیں ، پھر جڑنے والے وہ سارے بھی اپنے اپنے لئے چند ممبر بناتے ہیں اس طرح ممبروں کا ایک جال بنتے جاتا ہے اسی سبب اس کو نٹورکنگ مارکیٹ کہا جاتا ہے جیسے انڈیا میں ویسٹیج مارکیٹنگ ہے۔ اس طرح کے کسی ادارہ سے جڑکر کمائی کرنا جائز نہیں ہے، اس میں متعدد قسم کی شرعی خامیاں ہیں، ان کوجاننے کے لئے محرر کے بلاگ پر نٹورک مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت کا مطالعہ کریں ۔
(7) سوشل میڈیا پر ذاتی تجارت : بہت سی خواتین سوشل میڈیا پرآن لائن اپنی تجارت بھی کرتی ہیں جیسے کپڑوں کی اور کاسمیٹک سامانوں کی۔اگر تجارت حلال ہےیعنی آپ حلال چیزوں کی تجارت کرتے ہیں اور تجارت کے اصول بھی جائز ہیں تو اس طرح سوشل میڈیا پر تجارت کرنے میں حرج نہیں ہے تاہم اتنا ضرور یاد رکھیں کہ آپ ایک عورت ہیں، عورت فتنے کا سبب ہے، جیسے تیسے اپنی تجارت کا پرچار نہ کریں، جیسے تیسے تمام لوگوں سے بے تکلف رابطہ اور بات چیت نہ کریں اور دولت کے حصول کے لئے دنیا کی دیکھادیکھی کچھ بھی نہ کرتے جائیں بلکہ جو بھی کریں سوچ سمجھ کر اور اسلامی حدود میں کریں ۔
میں نے یہاں پر صرف سات قسم کے ذرائع آمدنی کا ذکر کیا ہے جبکہ آج دنیا میں گلوبلائزیشن کی وجہ سے ہزاروں ذرائع معیشت پائے جاتے ہیں ، ان سب کو یہاں ذکر نہیں کیا جاسکتا ہے ، ہمارا اصل مقصود وہ مسلم خواتین ہیں جو گھروں میں فارغ البال ہونے کی وجہ سے اور لوگوں کی دیکھادیکھی کسی بھی طرح سے پیسے کمانے کی ہوڑ میں لگی ہوئی ہیں ، مقصد ہوتا ہے پیسہ آنا چاہئے، چاہے جس طرح سے ہو۔ یہ غلط سوچ ہے ۔ اللہ تعالی نے آپ پر کس قدر مہربانی کی ہے، اس نے آپ کو فکرمعیشت سے آزاد کیا ہے تو اس کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ اپنی فرصت کو رب کی طرف سے غنیمت جان کر دین وایمان کے لئے محنت کریں ۔ آپ واجبات کی ادائیگی (جن میں گھریلو اور فرائض دین دونوں شامل ہیں ) کے بعد دینی کتابوں کا مطالعہ کریں ، جید علماء کے علمی بیانات سے مستفید ہوں ، خود کو عبادت وذکر کے لئے متفرغ کریں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی علم وعمل کی طرف راغب کرنے کی جدوجہد کریں ۔آج سوشل میڈیا کی بدولت عورتوں میں بہت بے راہ روی پائی جاتی ہے ، ان کو راہ راست کی طرف رہنمائی کا کام کریں ۔ آپ روزانہ کا ایک منظم شیڈول بنالیں جس میں گھریلوکام وکاج سے لے کر علم وعمل اور دعوت وتبلیغ سارے امور درج ہوں اور اس شیڈول کے مطابق اپنے شب وروز گزاریں ۔ اس طرح آپ کے اوقات بھی عمدگی سے گزریں گے اور آخرت بھی سنورتی رہے گی۔ ہم سب کو خصوصا عورتوں کو ہمہ وقت یہ حدیث دھیان میں رہنا چاہئے ۔نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں پاؤں نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں ختم کیا، اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا۔(صحیح الترمذی:2417)
اللہ تعالی سے دعا کرتاہوں کہ امت کی بہنوں کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرما اور ان علم کے مطابق عمل کی توفیق دے ۔ آمین  

مکمل تحریر >>

Wednesday, December 28, 2022

سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ایموجی کا استعمال کیسا ہے ؟


 سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ایموجی کا استعمال کیسا ہے ؟

مقبول احمد سلفی /جدہ دعوہ سنٹر

 

ایموجی (Emoji) ایسی تصویر یا شبیہ کو کہتے ہیں جو مختلف قسم کے خیالات اور احساسات و جذبات کی ترجماتی کرتی ہے، ایموجی کا استعمال سوشل میڈیا پر کیا جاتا ہے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ ۔ایموجی میں جاندار و غیرجاندار دونوں قسم کی تصویر آتی ہیں ۔ یہاں ہمیں یہ جاننا ہے کہ جاندار پر مشتمل ایموجی استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

ایموجی میں عموما جاندار کی ادھوری تصویر ہوتی ہے جیسے چہرہ ،ہاتھ، پیر،ہونٹ، کان ، دل وغیرہ تاہم مکمل تصویربھی ہوتی ہے اور غیرجانداربھی ہوتی ہے۔ان مختلف قسم کے ایموجی  کے ذریعہ انسان مختلف قسم کے دلی خیالات اور  قلبی احساسات کا اظہار کرتا ہے جیسے پسندکرنا، ناپسندکرنا، غصے کا اظہار کرنا، خوشی کا اظہارکرنا، غم کا اظہارکرنااورمحبت کا اظہار کرنا وغیرہ ۔ خیالات وجذبات کے اظہار کے لئے ان ایموجی کے استعمال کا حکم جاننے اور سمجھنے کے لئے پہلے یہ جان لیں کہ اسلام میں ہرقسم کے جاندار کی تصویر حرام ہے خواہ وہ ڈیجیٹل تصویر ہو یا ہاتھ سے بنائی گئی تصویر ہو۔ اس کے بعد مندرجہ ذیل دو احادیث پر غور فرمائیں ۔

پہلی حدیث:سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصُّورَةُ الرَّأْسُ ، فإذا قُطِعَ الرَّأْسُ ، فلا صُورَةَ(السلسلة الصحيحة:1921)

ترجمہ:تصویر (‏‏‏‏کا تعلق) سر سے ہے، اگر سر کاٹ دیا جائے تو تصویر (‏‏‏‏کا حکم) نہیں رہتا۔

دوسری حدیث:ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أتاني جبريلُ فقالَ : إنِّي كنتُ أتيتُكَ البارحةَ فلَم يمنعني أن أَكونَ دخلتُ عليكَ البيتَ الَّذي كنتَ فيهِ إلَّا أنَّهُ كانَ في بابِ البيتِ تمثالُ الرِّجالِ ، وَكانَ في البيتِ قِرامُ سترٍ فيهِ تماثيلُ ، وَكانَ في البيتِ كَلبٌ، فمر برأسِ التِّمثالِ الَّذي بالبابِ فليُقطعْ فيصيَّر كَهَيئةِ الشَّجرَةِ، ومُر بالسِّترِ فليُقطَعْ ويجعلُ منهُ وسادتينِ منتبذَتينِ تُوطآنِ ، ومُر بالكلبِ فيُخرَجُ( صحيح الترمذي:2806)

ترجمہ:میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر مردوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے پردے پر بھی تصویریں تھیں۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، تو آپ ایسا کریں کہ دروازے کی «تماثیل» (مجسموں) کے سر کو اڑوا دیجئیے کہ وہ مجسمے پیڑ جیسے ہو جائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئےجو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چنانچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔

ان دونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر میں سب سے اصل و اہم "سر "ہوتا ہے۔ اگر تصویر سے "سر "کاٹ دیا جائے تو پھر وہ تصویرکے حکم میں نہیں ہے یا اس بات کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ تصویر سے ایسا حصہ نکال دیا جائے جس سے روح ختم ہوجائے تو پھر وہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے کیونکہ اب اس تصویر میں جان نہیں بچی ، بے جان چیز ہوگئی اور بے جان چیز جیسے درخت، پہاڑ ، سمندر کی تصویر ہے اسی کے مانند ہوگئی۔لہذا اس قسم کی تصویر جس میں جان نہ ہو یا جس تصویر سے سرکاٹ کر ہٹادیا جائے تو اس کے استعمال میں حرج نہیں ہے ۔

چونکہ ایموجی میں مکمل تصویر نہیں ہوتی بلکہ تصویر کا بعض جزء یاحصہ ہوتا ہے اس وجہ سے بعض علماء ایموجی کے استعمال کو جائز کہتے ہیں مگر میں ایموجی کی فہرست میں شامل تمام قسم کےایموجی پر غور کرتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ  ایموجی کو علی الاطلاق جائز نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس میں ایسی بھی ایموجی موجود ہیں جن میں قباحت معلوم ہوتی ہے ۔قباحت والے چندقسم کے ایموجی کو آپ کے سامنے بیان کرتاہوں ،اس سے پہلے نبی ﷺکا یہ فرمان جان لیں ۔ ارشاد نبوی ہے :

دع ما يَريبكَ إلى ما لا يَريبُكَ ، فإنَّ الصِّدقَ طُمأنينةٌ وإنَّ الكذبَ رِيبةٌ(صحيح الترمذي:2518)

ترجمہ:اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں ایسی کوئی چیز جس کے استعمال میں شک پیداہوجائے یاترددمعلوم ہو اس کا نہ استعمال کرنا ہی بہتر ہے ۔ اب ذرا ایموجی کی فہرست میں شامل ان ایموجی پرغورکریں جن کے بارے میں دل کھٹکتاہے اور استعمال میں حرج معلوم ہوتا ہے۔

(1)ایموجی میں مختلف قسم کے چہرے ہیں جن میں باقاعدہ سر، آنکھ، ناک اور کان وغیرہ بھی ہوتے ہیں ۔ ایسے میں یہ مکمل تصویر تو نہیں مگر تصویر کا اہم حصہ تو ضرور ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ تصویر سر کا نام ہے ۔

(2)چہرہ اور ہاتھ کی مختلف تصاویر میں بعض تصاویر قابل اعتراض ہیں جیسے غصہ کا اظہارکرنا، رونا، مکا مارنا، عشق ومحبت کااظہارکرنا، ڈرانا، تالی بجانا حتی کہ  ہاتھ جوڑنے(نمستے) کی بھی تصویر ہے جو ہندؤں کے یہاں عبادت کی علامت ہے ، ایک مسلمان کے لئے اس کا استعمال کرناجائز نہیں ہے۔

(3)انسانی جذبات کی ترجمانی بلی اور بندر کی شکل میں بھی کی گئی ہے حتی شیطانی اور ڈرانی اشکال بھی پائی جاتی ہیں۔

(4)ان ایموجی میں بعض  عیب دار اور ناپسندیدہ چیزیں بھی ہیں مثلا قے کرنا، ناک سے دھواں نکالنا، مذاق اڑانا،نجاست اور جھینک کی علامت وغیرہ

(5)ایموجی والے چہروں میں عورتوں کے بھی مختلف قسم کے چہرے شامل ہیں بلکہ چہروں کے علاوہ ان کے ہونٹ ، ہونٹوں کی مختلف کیفیات ،عورت کی مکمل تصویر ، نیم عریاں تصویر اورعورت ومرد کی اکٹھی تصویریں بھی ہیں۔

مذکورہ بالا امور کے علاوہ اور بھی قابل اعتراض امور ہیں جن سب کا ذکر یہاں نہیں کیاگیا ہےتاہم سمجھنے کے لئے یہی کافی ہیں۔

(6)ایموجی میں فحش علامات بھی بہت ہیں جیسے عشق ومحبت کے اظہار کے لئے مختلف قسم کے دل ، مختلف قسم کے ہونٹ ، بوسہ لینااور آنکھ مارنا وغیرہ

ان سارے امور پر غورکرکے دیکھیں  اور فیصلہ کریں کہ کیا ایموجی کوعلی الاطلاق جائز کہہ سکتے ہیں ؟ بالکل نہیں ۔ ان میں بہت ساری چیزیں حیاکے خلاف ہیں، بہت ساری چیزیں فحش ہیں اور بہت ساری چیزیں بری صفات میں داخل ہیں اوربہت سارے احساسات اس قبیل سے ہیں جن کا اظہار ہمیں دوسروں کے سامنے نہیں کرنا چاہئے بلکہ چھپانا چاہئے ۔سمجھنے کے لئے ایک بات ہی  کافی ہے کہ ایک مسلمان اپنے جذبات واحساسات کے اظہار میں پوری طرح آزاد نہیں ہے ۔بہت ساری چیزیں اظہار کے قابل ہوتی ہیں اور بہت ساری چیزیں اظہار کے قابل نہیں ہوتی ہیں یا چھپانے کے قابل ہوتی ہیں اور بہت ساری چیزیں صرف عورتوں کے درمیان یا صرف مردوں کے درمیان ہوتی ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن ایموجی میں قباحت نہیں ہے ان کے استعمال میں حرج نہیں ہے جیسے پسند و ناپسندکرناتاہم  علی الاطلاق ایموجی کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح ایموجی کا استعمال کرنے سے ، ان ایموجی میں جو قبیح قسم کے ایموجی ہیں ان کی قباحت بھی ذہن سے نکل جائے گی پھرشعوری یالاشعوری طورپر کسی  وقت کچھ بھی علامت استعمال کرسکتے ہیں اور کسی کے لئےبھی  استعمال کرسکتے ہیں ۔

اپنی بات کہنے اور جذبات کا اظہارکرنے کے لئے کلام کا سہارا لیں اور اس وقت ہرقسم کے تحریری اسٹیکر زبھی دستیاب ہیں، چاہیں تو ان کا استعمال کریں بلکہ ان اسٹیکرز میں اچھے اچھے دعائیہ کلام بھی ہوتے ہیں ان کا استعمال کرنا اور بھی اچھا ہے ، کسی کو دعا بھی دے سکتے ہیں اور بدلہ میں آپ کو بھی دعاملے گی ۔

مکمل تحریر >>