Tuesday, July 2, 2024

مسجد عائشہ اور عمرہ کا احرام


مسجد عائشہ اور عمرہ کا احرام

تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب

مسجد عائشہ ، مکہ مکرمہ کی ایک معروف مسجد ہے جہاں سے حرم مکی میں رہنے والے احرام باندھ کر عمرہ کرتے ہیں ۔ اس مسجد سے احرام باندھنے کے متعلق عوام میں کافی بےچینی پائی جاتی ہے حتی کہ بہت سارے علماء بھی مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں ۔ اس تحریر میں اسی مسئلے کی وضاحت پائیں گے ۔
حدودحرم مکی :
مسجدحرام کے چاروں اطراف کچھ مسافت کی حدود کو حدودحرم کہا جاتا ہے اور جتنا اجر مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ہے اتنا ہی اجرحدود حرم میں کہیں بھی نماز پڑھنے کا ہے ۔ نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :صلاةٌ في المسجدِ الحرامِ أفضلُ من مائةِ ألفِ صلاةٍ فيما سواهُ(صحيح ابن ماجه:1163)
ترجمہ:مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ آج کل مسجد حرام کی چار سمتوں میں حدود حرم کی علامت نصب کی گئی ہے ۔ جہاں حرم کی حد ختم ہوتی ہے وہاں پر ستون قائم کیا گیا ہے ،جس ستون پر اندر سے عربی میں نهاية حد الحرم اور انگلش میں(END OF HARAM BOUNDARY) لکھا ہوا ہے اور باہر سے عربی میں بداية حد الحرم اور انگلش میں (BEGINNING OF HARAM BOUNDARY) لکھا ہوا ہے تاکہ لوگوں کو حدود حرم کی تمیز ہوسکے ۔ حدود حرم کی حد بندی سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جبریل علیہ السلام کے ذریعہ کی ، پھر محمد ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر تمیم بن اسد خزاعی کو حرم کی علامت تجدید کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد پھر عمررضی اللہ عنہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تجدید فرمائی اور آج بھی یہ حدودواضح ہیں ۔ (دیکھیں : شرح المہذب7/463)
حکومت سعودی عرب کی وزارۃ الحج والعمرۃ نےچاروں جانب حدود حرم کی جغرافیائی حد بندی مندرجہ ذیل اعتبار سے کی ہے ۔
(1)شمال مکہ:مکہ کے اترجانب پانچ کلومیٹرمسجد عائشہ تک۔(یہ مسجد مکہ ومدینہ راستہ پر ہے)
(2) جنوب مکہ:مکہ کے دکھن جانب مشعر عرفہ کی طرف بیس کلومیٹر تک ۔(مکہ وطائف کے راستے پر)
(3) غرب مکہ:مکہ کے پچھم جانب جدہ سمت میں حدیبیہ کے مقام پر اٹھارہ کلو میٹر تک ۔(آج کل حدیبیہ کو شمیسی کہتے ہیں )
(4) شرق مکہ: مکہ کے پورب جانب جعرانہ کے مقام پر ساڑھے چودہ کلو میٹرتک ۔(یہاں مسجد جعرانہ ہے طائف کے راستے پر)
کلومیٹر میں لوگوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور میں نے یہاں پر آپ کو وزارت حج وعمرہ کی معلومات دی ہے ۔جو حصہ ان چاروں جانب قائم باؤنڈری کے اندر ہے وہ حدود حرم کا حصہ ہے اور جو باؤنڈری سے باہر کا حصہ ہے وہ حل کہلاتا ہے اور وہ حدود حرم میں داخل نہیں ہے ۔
احرام باندھنے کی جگہیں :
حدود حرم کی جانکاری کے بعد اب عمرہ کے لئے احرام باندھنے کے مقامات کا علم حاصل کریں ۔ عمرہ کے لئے احرام باندھنے کی تین جگہیں یا تین حالتیں ہیں ۔
پہلی جگہ: جو لوگ میقات (قرن المنازل، جحفہ، یلملم، ذات عرق اور ذوالحلیفہ) سے باہر ہیں وہ جب عمرہ کا ارادہ کریں گے تو وہ اپنی میقات سے احرام باندھ کر مکہ آئیں گے اور عمرہ کریں گے جیسے ہندوپاک والے بذریعہ جہاز جدہ لینڈ کریں گے تو طائف کی میقات (قرن المنازل ) سے احرام باندھیں گے ۔
دوسری جگہ: جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں وہ لوگ اپنی رہائش سے ہی احرام باندھیں گے جیسے جدہ، شرائع، ثول ، بحرہ وغیرہ والے ، یہ لوگ جہاں رہائش پذیر ہیں عمرہ کرنے کے لئے اسی جگہ سے احرام باندھیں گے ۔
تیسری جگہ: اوپر حدود حرم کی وضاحت کی گئی ہے ، جو لوگ اس حد میں رہتے ہیں وہ حدود حرم سے باہر نکل کر حل کے کسی مقام سے احرام باندھیں گے جیسے مسجد عائشہ، جعرانہ، عرفات یا حدیبیہ وغیرہ سے ۔
مسجد عائشہ اور عمرہ کا احرام :
مسجد عائشہ جو مسجد تنعیم اور مسجد عمرہ کے نام سے بھی موسوم ہے ، یہ مسجد حرام کے شمال میں مکہ ومدینہ روڈ پر پانچ کلو میٹرکی دوری پر حی التنعیم میں واقع ہے ۔یہ بڑی عالیشان مسجد چھ ہزار مربع میٹرکشادہ تقریبا پندرہ ہزار نمازی کی وسعت رکھتی ہے ۔ یہ مسجد حرام کی سب سے قریبی حدہے اوریہاں احرام باندھنے کے اچھے انتظام کے ساتھ آمد ورفت کی بھی بہت بہتر سہولت ہے اس لئے عام طور سے حدود حرم میں رہنے والے مسجد عائشہ سے عمرہ کے لئے احرام باندھتے ہیں ۔
یہ مسجد عائشہ سے اس لئے مشہور ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسی جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں یہاں مسجد تعمیر کی گئی اور یہ مسجد عائشہ سے مشہور ہوگئی ۔ آئیے اس حدیث کو بھی دیکھ لیتے ہیں جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہاں سے عمرہ کا احرام باندھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ طوالت کی وجہ سے صرف ترجمہ پیش کرتا ہوں ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج مفرد کا احرام باندھ کر چلے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عمرہ کا احرام باندھ کر چلیں، حتی کہ جب ہم سرف مقام پر پہنچ گئے، انہیں حیض آنا شروع ہو گیا، حتی کہ جب ہم مکہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہیں ہے، وہ احرام کھول دے تو ہم نے پوچھا، حلال ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل حلت۔“ تو ہم بیویوں کے پاس گئے اور خوشبو لگائی اور اپنے کپڑے پہن لیے، ہمارے اور عرفہ کے درمیان چار دن باقی تھے، پھر ہم نے ترویہ کے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے تو انہیں روتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے جواب دیا، میری حالت یہ ہے، میں حائضہ ہوں، لوگ احرام کھول چکے ہیں اور میں نے احرام نہیں کھولا اور نہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کے لیے جا رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کی فطرت میں رکھ دی ہے، تم غسل کر کے، حج کا احرام باندھ لو۔“ تو میں نے ایسے ہی کیا اور تمام مقامات پر وقوف کیا، (ٹھہری) حتی کہ جب پاک ہو گئی تو کعبہ اور صفا اور مروہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئی ہو۔“ تو اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے دل میں کھٹک محسوس کر رہی ہوں کہ میں حج سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی، (حالانکہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن! اسے لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔“ اور یہ مَحصَب کی رات کا واقعہ ہے۔(صحیح مسلم:1213، ترجمہ از مولانا عبدالعزیز علوی)
علمی نکتہ: عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا تھا مگرمکہ پہنچنے سے قبل راستے میں حیض آگیا اور وہ یوم الترویہ سے قبل پاک نہیں ہوسکیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں یوم الترویہ کوغسل کرکے حج کا احرام باندھنے کا حکم دیاگویا انہوں نے عمرہ کو حج میں داخل کرلیا اور یہ حج قران کہلاتا ہےاسی لئے نبی ﷺ نے پاک ہونے پر طواف وسعی کرلینے کے بعد ان سے کہا کہ" تم حج وعمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہو"۔اس سے ایک مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ جو عورت حج تمتع کی نیت کرتی ہے اور عمرہ کرنے سے پہلے حائضہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ یوم الترویہ سے قبل پاک نہیں ہوپاتی ہے تو انہیں یوم الترویہ کو اپنی نیت بدل کرحج قران کی کرلینی ہے اور اس دن حج کا احرام باندھنا ہے اور جب وہ پاک ہوکر طواف وسعی کرے گی ، اس سے حج وعمرہ دونوں ہوجائے گا۔اس کو حج قران کہتے ہیں ۔
خارج سے مکہ آنے والوں کا مسجد عائشہ سے احرام باندھنا:
جو لوگ حدود حرم میں کام کرتے ہیں یا وہاں مقیم ہیں وہ مسجد عائشہ سےاحرام باندھیں گے اس مسئلہ میں اختلاف نہیں ہے تاہم اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ جو لوگ اپنی میقات سے احرام باندھ کرمکہ آتے ہیں اور پہلا عمرہ کرلیتے ہیں تو دوسرے عمرہ کے لئے مسجد عائشہ سے احرام باندھ سکتے ہیں یا نہیں ؟
اصل سوال کا جواب دینے سے قبل یہ مسئلہ بیان کردیتا ہوں کہ ایک سفر میں ایک عمرہ کرنا ہی مسنون وافضل ہے کیونکہ اسی بات کی دلیل ملتی ہے لیکن اس معاملہ میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر مکہ میں قیام طویل ہوا تو کچھ دنوں کے وقفہ کے ساتھ دوسرا عمرہ کرسکتے ہیں ، جلدی جلدی اور ایک ہی دن میں باربار عمرہ کرنا سنت کی خلاف ورزی ہے ۔ اور اسی طرح جس کا قیام مختصر ہو اور وہ دوبارہ مکہ نہیں آسکتا ہے ایسا شخص اپنے میت والد یا میت والدہ کی طرف سے عمرہ کرنا چاہے تو بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے ۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ جب کوئی خارجی آدمی (جومیقات سے احرام باندھ کر پہلے عمرہ کرچکا ہے) مکہ کے قیام کے دوران دوسرا عمرہ کرتا ہے تو اس کو میقات پر جانے کی ضرورت ہے یا مسجد عائشہ سے وہ احرام باندھ سکتا ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جو آدمی اس وقت مکہ یعنی حدود حرم میں ہے ، اس نے پہلے عمرہ کرلیا ہے اور دوبارہ عمرہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو میقات پر جانے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ حل میں جاکر کسی بھی مقام سےعمرہ کا احرام باندھ سکتا ہے مثلا جعرانہ سے یا مسجد عائشہ سے ۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ مسجد عائشہ سے احرام نہیں باندھ سکتے ہیں ، یہ حکم خاتون ہونے کی حیثیت سے سیدہ عائشہ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ ان کو حیض آیا ہوا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ احرام باندھنے کی جگہ سے متعلق عورت ومرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور حیض وعدم حیض میں بھی احرام باندھنے کا فرق نہیں ہے ۔ اوپر میں نے احرام باندھنے کی تین حالتیں ذکر کی ہیں ، یہ حالتیں ان جگہوں پر موجود لوگوں سے متعلق ہیں ۔ اس بارے میں کچھ دلائل واستدلال بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
(1)پہلی دلیل تو یہی ہے کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ کو تنعیم سے عمرہ کرنے کا حکم دیا تھا جو حدیث اوپر موجود ہے ،اس میں کہیں یہ نہیں ہے کہ عمرہ کے لئے احرام باندھنے کی یہ جگہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص ہے ۔
(2)آٹھ ہجری کو فتح مکہ کے بعد نبی ﷺ نے اپنے بعض اصحاب کے ساتھ جعرانہ سے احرام باندھ کر عمرہ کیاتھا ۔سنن ابی داؤد، سنن الترمذی، سنن النسائی ، مسند احمداور ابویعلی وغیرہ میں یہ روایت موجود ہے، میں ابوداؤد کے حوالہ سے حدیث پیش کرتا ہوں ۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ وأصحابَهُ اعتمَروا منَ الجِعْرانةِ فرمَلوا بالبيتِ ثلاثًا ومشوا أربعًا( صحيح أبي داود:1890)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔
اس حدیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ جوحدود میں داخل ہوجائے اور وہ عمرہ کرنا چاہے تو حل میں نکل کر احرام باندھے گا مثلا کوئی ڈائیور کسی کام سے مکہ گیا ، پہلے عمرہ کی نیت نہیں تھی مگر مکہ پہنچ کر عمرہ کا ارادہ بن گیا تو آدمی حل میں جاکر عمرہ کا احرام باندھے گا۔ اسی طرح کوئی آدمی سعودی عرب کے کسی شہر سے کام کی غرض سے جدہ گیا اور وہاں جاکر عمرہ کا ارادہ بن گیا تو یہ اپنی رہائش سے ہی عمرہ کا احرام باندھے گا۔ گویا میں نے اوپر احرام باندھنے کی جو تین حالتیں ذکر کی ہیں احرام باندھنے میں اسی طرح عمل کیا جائے گا۔
(3)جو لوگ میقات کے اندر مقیم ہیں یا نازل ہیں وہ عمرہ کا احرام اپنی رہائش سے ہی باندھیں گے جیسے جدہ والے ، اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ سے مروی حدیث مواقیت میں ہے، نبی ﷺ فرماتے ہیں :ومَن كان دونَ ذلك فمِنْ حيثُ أنشَأَ، حتى أهْلُ مَكَّةَ مِن مَكَّةَ(صحيح البخاري:1524)
ترجمہ:جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے، یہاں تک کہ مکہ کے لوگ، مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
اس حدیث میں جہاں یہ کہا گیا ہے کہ میقات کے اندر والے اپنے سفرشروع کرنے کی جگہ یعنی اپنی رہائش سے احرام باندھیں گے ، وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں گے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حج افراد یا قران کی نیت کرتے وقت مکہ والے اپنی رہائش سے ہی احرام باندھیں گے لیکن مکہ میں جو حدود حرم میں رہتے ہیں وہ عمرہ کرنے کے لئے حرم سے باہر نکل کر حل سے احرام باندھیں گے مثلا مسجد عائشہ سے اور اس بات پر اجماع منقول ہے ۔ ابن عبدالبر نے کہا کہ امام مالک کا قول "مکہ میں رہنے والا احرام نہیں باندھے گا یہاں تک کہ حل کی طرف نہ چلاجائے اور پھر وہاں سے احرام باندھے" اس بات پر علماء کا اجماع ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ، الحمدللہ۔(الاستذكار:4/79)
اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ کا احرام باندھنے کے لئے حل کی طرف لےجانے کا حکم دیا گیا، دراصل یہ حکم مکہ میں رہنے والے سب کے لئے ہے خواہ وہ مقیم ہو یا نازل و مسافر ہو۔ یہ سیدہ عائشہ کے ساتھ خاص نہیں ہے جیساکہ سمجھا جاتا ہے ۔ اگر عمرہ کا احرام باندھنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے مخصوص طور پر آسانی کا حکم ہوتا تو نبی ﷺ ان سے کہتے ہیں کہ مکہ میں جہاں پر ہو، وہیں سے عمرہ کا احرام باندھ لو ، اس میں ان کے لئے آسانی ہوتی مگر آپ نے انہیں حل کی طرف جانے کا حکم دیا ،یہ رات کا وقت تھا ، آپ نے عبدالرحمن اور عائشہ دونوں سے کہا کہ تم لوگ عمرہ کے بعد مجھ سے فلاں جگہ ملو، گویا یہ مشقت والا معاملہ ہے پھر اس میں سیدہ عائشہ کے لئے کیسے راحت اور خصوصیت ہے؟
 اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حدود حرم میں رہنے والے سب کے لئے یہی حکم ہے کہ جب وہ عمرہ کرنا چاہے وہ حدود حرم سے نکل کر حل کی طرف جائے اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آئے حتی کہ جو حدود حرم میں کسی غرض سے داخل ہوا اور اسے عمرہ کا ارادہ ہوگیا اس کے لئے بھی یہی حکم ہے اور جو لوگ عمرہ کی غرض سے باہری ملک یا باہری شہر سے مکہ آئے ، وہ حدود حرم میں ابھی قیام پذیر ہیں ، اگر وہ دوبارہ عمرہ کرتے ہیں تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے یعنی وہ بھی حل مثلا مسجد عائشہ جاکر احرام باندھیں گے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ : عوام میں ایک غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ جو کسی غرض سے مکہ آیا یا جدہ آیا اور یہاں آنے کے بعد عمرہ کا خیال پیدا ہوا تو کچھ دن اسے قیام کرنا ہوگا مثلا تین دن یا دس پندرہ دن ، اس کے بعد وہ عمرہ کرسکتا ہے ۔ یہ غلط خیال ہے ۔ صحیح بات یہ ہے کہ جو کسی کام سے یا رہائش کی غرض سے حدود حرم میں داخل ہوتا ہے اور پھر کچھ دیر بعد عمرہ کا خیال پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی وقت حدود حرم سے باہر نکل کر عمرہ کا احرام باندھ سکتا ہے اور اسی طرح جو کسی غرض سے یا رہائش کی نیت سے جدہ آتا ہے اور یہاں آکر عمرہ کا خیال پیدا ہوتا ہے تو جس وقت یا جس دن عمرہ کا ارادہ بن جائے اسی وقت وہ اپنی رہائش سے احرام باندھ کر عمرہ کرسکتا ہے ۔ کچھ دن گزارنے والا خیال غلط ہے ۔
یہاں پر ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی دھیان رہے کہ جومیقات سے باہر رہتا ہواوروہ عمرہ کی غرض سے مکہ یا جدہ آئے تو ان کو لازما اپنی میقات سے احرام سے باندھ کر آنا ہوگا، بہت سے عمرہ کرنے والے جدہ آکر ، یہاں آرام کرکے پھر یہیں سے عمرہ کا احرام باندھتے ہیں ، یہ غلط ہے اور اگر کسی نے اس طرح عمرہ کیا تو اس کو دم دینا ہوگا۔ اسی طرح اہل جدہ ، اپنی رہائش سے احرام نہ باندھ کر مسجد عائشہ سے احرام باندھے یا گھر سے نکل کر آگے جاکر احرام باندھے تو اس صورت میں بھی دم لازم آئے گا ، اس لئے اہل جدہ اپنی رہائش ہی سے احرام باندھے ۔
مسجد عائشہ سے احرام باندھنے سے متعلق عرب علماء کے بعض فتاوے :
اس مسئلہ میں اختلاف نہیں ہے کہ جو مکہ میں مقیم ہو وہ حل جاکر عمرہ کا احرام باندھے گا تاہم بعض لوگوں نے اس بابت اختلاف کیا ہے کہ جو عمرہ کرنے مکہ آیا وہ دوبارہ عمرہ کے لئے مسجد عائشہ سے احرام باندھے یا میقات پر جائے جبکہ میں نے اوپر واضح کردیا ہے کہ وہ دوبارہ عمرہ کے لئے مسجد عائشہ یا کسی دوسرے حل کی طرف جاکر احرام باندھے گا۔ اس سلسلے میں دوچندعلمائے عرب کے فتاوے نقل کردیتا ہوں تاکہ موضوع سے متعلق کچھ تائید ہوجائے ۔
(1)شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی ریاض سے ایک عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ گیا پھر عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کا خیال پیدا ہوگیا تو کیا اس کے لئے دوسرا عمرہ کرنا جائز ہے اور وہ کہاں سے احرام باندھے گا؟
شیخ نے اس پہ جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر اس نے عمرہ کرلیا اور پھر اپنے میت باپ یا ماں یا اسی طرح دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنا چاہے تو تنعیم یا جعرانہ یا عرفات کی طرف یعنی حل کی طرف جائے اور حدود حرم کے باہر حل سے نئے عمرہ کا احرام باندھے جیسے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے حکم سے تنعیم سے عمرہ کیا تھا۔(بن بازڈاٹ آرگ ڈاٹ ایس اے /فتوی سرخی: هل يجوز تكرار العمرة؟ ومن أين يحرم؟)
(2)شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی عورت نے اپنا عمرہ کرلیا پھر اپنے باپ یا اپنے چچا کی طرف سے عمرہ کرنا چاہے تو میقات سے پہلی بار جو احرام باندھا اسی احرام میں ان دونوں میں سے ہر ایک کی طرف سے طواف وسعی کرنا کافی ہوگا یا میقات کی طرف لوٹنا اور ان میں سے ہر ایک کی طرف سے احرام باندھنا ضروری ہوگا؟
اس پر شیخ نے جواب دیا کہ پہلی بات یہ ہے کہ متقارب وقت میں تکرار کے ساتھ عمرہ کرنے میں توقف اختیار کرنا چاہئے کیونکہ قریبی وقت میں تکرار کے ساتھ عمرہ کرنے پر بعض علماء نے نکیر کی ہے گویا شیخ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کچھ دنوں کے فاصلہ کے بعد دوبارہ عمرہ کرسکتے ہیں ۔ آگے شیخ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان عمرہ کرے اور وہ اپنے طواف وسعی میں والدین واقارب کے لئے دعا کرے اور اس کے علاوہ مسجد حرام میں دعا کرے تو یہی کافی ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ اس کا اجر و نفع ان کو پہنچے گا ، ان شاء اللہ ۔ لیکن اگر تم نے مکرر عمرہ کرلیا اپنے والد کی طرف سے پھر اپنے چچا کی طرف سے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ یہ خلاف اولی ہے۔ ہاں اگر تم عمرہ کرتی ہو تو ہر ایک عمرہ کے لئے مستقل احرام باندھنا ضروری ہے ، اس طرح کہ تم حل کی طرف نکلو جیسے تنعیم یا عرفات یا جعرانہ اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھو اور تم مکہ سے احرام نہیں باندھوگی اور نہ ہی تم کو میقات کی طرف لوٹنا ہے ۔(اسلام وے ڈاٹ نٹ/ موضوع:حكم أداء أكثر من عمرة)
اس فتوی میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیخ نے دوسرے عمرہ کے لئے میقات جانے سے منع کیا ہے یعنی دوسرا عمرہ کرتے وقت فقط حدود حرم سے باہر نکلنا ہے اور کسی بھی جگہ جاکر حل سے عمرہ کا احرام باندھ سکتے ہیں ۔
(3) لجنہ دائمہ سے سوال کیا گیا کہ تین عورتوں نے حج کے بعد کدی سے عمرہ کا احرام باندھا اور عمرہ کیا ، کیا ان کا عمرہ جائز ہے تو لجنہ نے جواب دیا کہ کدی حدود حرم میں داخل ہے اس لئے ان کو تنعیم یا جعرانہ جانا تھا جیساکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تنعیم سے اور نبی ﷺ نے جعرانہ سے احرام باندھا تھا۔ بہرحال ان کا عمرہ صحیح ہے لیکن ان سب پر دم لازم ہے کیونکہ انہوں نے حرم سے احرام باندھا ہے۔(یہ فتوی کا خلاصہ اور مفہوم ہے / اللجنة الدائمة/الفتوى رقم: 5830 )
(4) شیخ محمد صالح المنجد کہتے ہیں :"جمہور اہل علم نے اپنے سفر میں ایک عمرہ کرنے والے کیلئے دوسرا عمرہ کرنے کی رخصت دی ہے، خصوصی طور پر اگر عمرہ کیلئے آنے والا شخص آفاقی ہو، دور سے سفر کر کے آیا ہو، اور اس کیلئے دوبارہ مکہ پہنچنا مشکل ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص کیلئے قریب ترین حِل کی طرف جانے کی ضرورت ہوگی، اور پھر وہ وہیں سے دوسرے عمرے کا احرام باندھے گا"۔(موقع اسلام سوال وجواب، سوال نمبر: 180123)
مسجد عائشہ سے باربار عمرہ کرنا:
یہاں پر اس بات کا ذکر کردینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ بعض اہل علم ایک سفر میں بس ایک ہی عمرہ کے قائل ہیں کیونکہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب سے یہی منقول ہے جیسے شیخ البانی ؒ اور شیخ ابن عثیمین ؒ وغیرہما تاہم بعض اہل علم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ مکہ میں قیام طویل ہو تو کچھ دنوں کے وقفہ کے بعد دوسرا عمرہ کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح کوئی ایک سفر میں کسی قریبی میت کی طرف سے عمرہ کرنا چاہے تو عمرہ کرسکتا ہے خصوصا اس وقت جب دوبارہ مکہ آنے کی امید نہ ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا( صحيح البخاري:1773)
ترجمہ:ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
اس حدیث سے باربار عمرہ کرنے کی دلیل ملتی ہے ،اسی طرح جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج قران ادا فرمالیا تو آپ نے انہیں یہ بشارت دی کہ اس سے حج وعمرہ دونوں ہوگیا، آپ نے فرمایا:قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا(صحیح مسلم:1213)
ترجمہ:تم اپنے حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئی ہو۔
اس کے باوجود آپ نے انہیں پھر سے دوبارہ الگ اور مستقل عمرہ کرنے کی اجازت دی اور ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا:فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ۔(مصدرسابق)
ترجمہ:اے عبدالرحمٰن! اسے لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔
تاہم یہاں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ایک دن میں کئی عمرہ کرنا یا روزانہ عمرہ کرنا یا باربار عمرہ کرنا بلاشبہ غلط ہے اور افضل و اولی یہی ہے کہ ایک سفر میں ایک ہی عمرہ پر اکتفا کیا جائے گا۔
 

مکمل تحریر >>

Friday, June 21, 2024

حجاج ومعتمرین کے لئے سعودی عرب کی خدمات بے مثال ہیں


 
حجاج ومعتمرین کے لئے سعودی عرب کی خدمات بے مثال ہیں
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ – سعودی عرب
 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حج ایک مشقت انگیز عبادت ہے اس لیے اس عبادت کی انجام دہی کے واسطے جس طرح مالی استطاعت کی ضرورت ہے وہیں پر جسمانی استطاعت بھی شرط ہے ۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کو دیکھنے لگے اور وہ فضل رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، اس عورت نے کہا کہ اللہ کا فریضہ (حج) نے میرے بوڑھے والد کو اس حالت میں پا لیا ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں، آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔(صحیح بخاری:1855)
اس حدیث کی روشنی میں واضح طور پر ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ جس پر حج فرض ہو گیا ہو لیکن اسے حج کرنے کی جسمانی استطاعت نہ ہو تو ایسا آدمی حج کے لیے نہ آئے بلکہ وہ اپنی طرف سے کسی اور کو حج کرنے کے لئے بھیجےجبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ  بہت سارے ممالک کے لوگ بطور خاص ہندوستان، پاکستان ،بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ سے حج کرنے والوں میں  بڑی تعداد بوڑھوں کی ہوتی ہے یعنی جن میں جسمانی کمزوری ، بڑھاپا، بیماری اور ضعیفی و لاغر پن ہوتا ہے ایسے لوگ بڑی تعداد میں حج کو آتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایسے لوگوں میں سے کتنے سارےحجاج  کی  دوران حج مکہ ومدینہ یا پھر سفر میں ہی وفات ہو جاتی ہے۔امسال  ہم لوگوں نے بعض ویڈیو زمیں حاجیوں کی بعض  لاشیں دیکھی ہیں اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ صرف امسال ہی  حجاج میں سے بعض کی وفات ہوئی ہے بلکہ ہر سال کچھ نہ کچھ حجاج کی وفات ہوتی ہےجن کی معلومات ہر ملک والے اپنے سفارتخانہ سے حاصل کرسکتے ہیں ۔
وفات کی مذکورہ بالا مرکزی اسباب کے علاوہ امسال گرمی کی شدت بھی ایک بڑی وجہ رہی خصوصا ان لوگوں کے حق میں جو بغیر پرمٹ حج کررہے تھے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو بغیر پرمٹ حج کرتے ہیں وہ غیرقانونی ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ چوری چھپے حج کرتے ہیں ۔ ان کے پاس کھانے پینے ، چلنے پھرنے اورنیندو آرام حاصل کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے وہ چھپتے چھپاتے اور جیسے تیسے حج کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ زیادہ پریشان ہوتے ہیں اور دوسرے حجاج کے لئے بھی پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور انتظامی امور میں یہ بڑا خلل ہوتا ہے اس وجہ سے بغیر پرمٹ حج کرنے والوں کے لئے قانونی سزا متعین ہے ۔
موت تو اللہ کی طرف سے اٹل ہے، جس کے مقدر میں جب اور جس جگہ موت  لکھی ہوئی ہو وہ ا س کے حق میں وہاں آکر رہے گی ، اس بات پر ایمان رکھتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ   اللہ رب العالمین نے ہمیں ہلاکت میں اپنے آپ کو ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔ اور جب ہمیں معلوم ہے کہ حج مشقت انگیز عبادت ہے تو ایسی صورت میں جو لوگ  بیماری یا ضعیفی کے سبب حج کی استطاعت نہیں رکھتے  انہیں حج پر نہیں آنا چاہئے اور اسی طرح  سعودی عرب کا مقیم یا باہری ملک سے آنے والا بغیر پرمٹ کے ہرگز ہرگزحج نہیں کرے ۔
جو لوگ آج الکٹرانک میڈیااور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ بعض حجاج کرام کی وفات پر سعودی حکومت کو انتظامی حیثیت سے کوس رہے ہیں ان کی یہ تنقید بے جا ہے کیونکہ سعودی حکومت جس طرح حجاج کی خدمت پر توجہ دیتی ہے شاید دنیا کی کوئی حکومت ایسی توجہ کسی طرف نہ دیتی ہو۔سڑک، رہائش، بجلی، اے سی ، آمدورفت ، پانی، دوا ،  خوراک ، پولس وسکوریٹی اور انتظامی امورمیں حاجیوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑھ سکتی ہے اور سعودی حکومت کی طرف سے ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے جس حد تک سہولت اور جدید ٹکنالوجی دستیاب ہے ان تمام حیثیت سے حجاج کی خدمت کی جاتی ہے۔  جس کی بنا پر ہم یہ یقینی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ سعودی حکومت حجاج کی خدمت میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اس وجہ سے بھی ہے کہ زمانہ جاہلیت ہی سے حجاج کے تئیں اہل عرب کی خدمت کا جذبہ رہا ہے جو آج تک چلا آرہا ہے اور ان شاءاللہ قیامت تک حجاج کی بہترین خدمت کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ اسلام نے حجاج کی خدمت کی طرف بہترین رہنمائی کی ہےاس وجہ سے حاجیوں کی خدمت کرنا ایک بڑے شرف کا کام ہے اس لئے ہرکوئی حج میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتا ہے اور کھلانے پلانے والے لوگ گاڑی بھربھرکر حاجیوں کو کھلاتے پلاتے ہیں  ۔ انتظامی کمیٹی والے پل پل ایک ایک حاجی پر اپنی جان نچھاور کرتے ہیں ۔ سعودی حکومت خصوصی اہتمام کے ساتھ حجاج کی تمام تر نقل وحرکت پہ نظر رکھتی ہےبلکہ حج کے دنوں میں حکومت کی پوری توجہ حج پر ہی مرکوز ہوتی ہے اس لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ جہاں ملک کا حاکم، شاہ  سلمان اپنے لیڈروں کو حاجیوں کی خصوصی خدمت کی تاکید کررہے ہوتے ہیں وہیں شہزادہ محمد بن سلمان نے اس جانب توجہ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ  انہوں نے حج کی اہمیت کے پیش نظر اٹلی میں ہونے  والی جی 7 کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے ۔ یہ اپنے آپ میں سعودی عرب سمیت تمام مسلمانوں کے لئے  بڑے فخر کی بات ہے ۔
امسال تقریبا دو ملین  کے قریب لوگوں نے حج کیااور اس مرتبہ گرمی کی شدت بھی اپنے شباب پر تھی ایسے میں کچھ جانی نقصان ہونایا کچھ لوگوں کا کچھ دیر کے لئے گم ہوجانا زیادہ حیرتناک نہیں ہے ۔پھربھی مسلمانوں کے بعض طبقات میں اس بات پر سعودی حکومت کو کوسا جارہا ہے اور  بدانتظامی کی شکایت کی جارہی ہے ۔
پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ دوران حج وفات پانا ایک بڑی سعادت ، باعث اجروثواب اور حسن خاتمہ کی علامت ہے ، ایمان والے ایسی موت کی تمنا کرتے ہیں ۔ میدان عرفات میں سواری سے گر کر ایک صحابی کی موت ہوگئی تو آپ ﷺ نے ان کے تعلق سے ارشاد فرمایا: پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اوراحرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔( صحيح البخاري:1849)
اگر حج کرتے ہوئے کسی کی وفات ہوجائے تو اس پہ افسوس کرنے کا مقام ہی نہیں ہے ، یہ تو رشک کرنے والی بات ہے ۔ جیسے کوئی نماز پڑھتے ہوئے، سجدہ کرتے ہوئے، تلاوت کرتے ہوئے اور دعا کرتے ہوئے وفات پاجائے تو ایسی موت پر رشک کرتے ہیں ۔ بر صغیرکے بہت سارے حجاج اپنے ساتھ کفن تک لاتے ہیں پھر بھی امسال بعض حجاج کی وفات کی وجہ سےکچھ لوگ سعودی حکومت پر تنقید کیوں کررہے ہیں ، اس کی اصل وجہ کیا ہے؟
اس پہلو پر غور  کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ تقلید کرتے ہیں ، تصوف کی راہ چلتے ہیں اور شرک وبدعت میں ملوث ہیں ان کو اہل توحید سے دشمنی ہے ۔ ایسے لوگ ہمیشہ تاک میں لگے رہتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے اہل توحید کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ سعودی عرب کے دشمن چینلوں  اور  باطل تحریکوں نے جب اس حکومت کو بدنام کرنے کے لئے حج سے متعلق بدنظمی اور اموات کی جھوٹی خبریں نشر کرنا شروع کیا ، فوراصوفی جماعت ، اخوانی وتحریکی کارندے اور بدعتی ٹولوں کو موقع مل گیا اور یہ بھی سعودی حکومت کے انتظام وانصرام پر سوال کھڑے کرنے لگے ۔ ان لوگوں کو حاجیوں کی مشقت  اور اموات سے تکلیف نہیں ہے بلکہ ان کو خالص توحید پر قائم سعودی حکومت سے تکلیف ہے ۔کب سے ان لوگوں کی خواہش ہے اور ناروا کوشش بھی  کررہے ہیں کہ سعودی حکومت کا خاتمہ ہوجائے اور حرمین شریفین پر بدقماشوں اوربدعتیوں کا قبضہ ہوجائے ۔ ہمیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ اللہ نے خانہ کعبہ کی چابھی، حجاج کی خدمت اور حرمین شریفین کی حفاظت اہل توحید کے ہاتھ میں سونپی ہے جن کی کوشش سے سعودی عرب میں توحید کا بول بالا ہے ۔ اگر یہ مملکت اہل بدعت کے ہاتھوں میں چلی جائے تو یہ لوگ یہاں پر شرک وبدعت کے اڈے قائم کردیں گے اور اللہ کے گھر میں ہی اللہ کو  چھوڑ کر   عبدالقادر جیلانی اور معین الدین چشتی وغیرہ کو پکارنے لگیں گے ۔ الحمد للہ جن اہل توحید کے ہاتھوں میں حرمین کی سیادت وقیادت ہے ان کے ذریعہ ہمارا ایمان وعقیدہ محفوظ ہے ۔ اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اہل توحید اور مملکت سعودی عرب کی حفاظت فرما اور اس جانب اٹھنے والی میلی نظر پھوڑ دے ۔ آمین
آئیے امسال کے حج سے کچھ سبق لیتے ہیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آئندہ ہمارے لئے آسانی رہے ۔
٭جو لوگ معمروضعیف ہیں ،  جسمانی طور پر سفر کرنے اورمناسک حج ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ایسے لوگ قطعا حج پر نہ آئیں وہ اپنا حج دوسرے سے کروالیں ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جن لوگوں پر حج جوانی میں ہی فرض ہوجاتا ہے اور بڑھاپے میں حج کرتے ہیں وہ حج کی ادائیگی میں غفلت برتتے ہیں انہیں چاہئے کہ جب حج فرض ہوجائے بلاتاخیر حج کریں ۔
٭حج ایک فریضہ ہے یہ اس کے اوپر فرض ہے جو حج کرنے کی مالی اور جسمانی طاقت رکھتا ہے لہذا آپ اسی وقت حج کریں جب دونوں حیثیت سے استطاعت حاصل ہو۔ اور پرمٹ حاصل کئے بغیرحج نہ کریں چاہے آپ سعودی میں رہتے ہوں یا سعودی عرب سے باہر۔
٭حج کرنے کے لئے حج کی تعلیم بہت ضروری ہے ، بسا اوقات عدم واقفیت اور لوگوں کی دیکھا دیکھی خود سےخود کو نقصان پہنچتا ہے ۔ حج میں الحمد للہ بہت ساری سہولیات اور آسانیاں بھی ہیں ، بوقت ضرورت سہولت پر عمل کرنے میں عافیت ہے مثلا مریض کے لئے یوم النحر کی رمی کےلئے آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے جمرات کی طرف جانا، عذر کے وقت رمی جمار کے لئے دوسرے کو وکیل بنانا، دوپہر کے وقت رمی باعث مشقت ہو تو عصر کے بعدرمی کرنا حتی کہ مجبوری میں  مغرب یا عشاء کے بعد بھی رمی کرسکتے ہیں ۔یوم النحر کو طواف افاضہ نہ کرسکیں تو ایام تشریق کے لئے موخر کرلینا  اور طواف وداع سے پہلے بھی وقت نہ ملے تو ایک طواف میں طواف افاضہ اور طواف وداع کی نیت کرسکتے ہیں ۔چل کر طواف وسعی کرنے کی طاقت نہ ہو تو گاڑی کے ذریعہ طواف وسعی کرلینا۔ ان سہولتوں کا ہمیں علم ہونا چاہئے۔
٭حج کی ادائیگی میں آپ کے لئے جن سہولت کی اجازت ہے اور جن  حفاظتی اقدامات کی طرف حکومت توجہ دلاتی ہے ان سب باتوں کو عمل میں لانا جیسےعمل کے مناسب اوقات ،  چھتری، ماسک، پانی ، دوا اور حاجت کی دیگر چیزیں وغیرہ ۔
٭ آپ سمجھتے ہیں کہ اکیلے حج پر جانے میں کسی قسم کا خدشہ ہے تو طاقتورمدد گار کا انتظام کرلیں تاکہ وہ ہرجگہ آپ کا ساتھ دے ۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ آپ کسی کو پیسہ دے کر ہی حج کروائیں ، مختلف علاقوں سے حج پہ لوگ جاتے ہیں ان میں سےکوئی ساتھی چن لیں یا دوران حج ہی کسی جانکار کی معانت حاصل کریں ۔
ان باتوں کے علاوہ مزید کچھ باتیں ایسی ہیں جن کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے جیسے جب ہم حج کا پروگرام بناتے ہیں اور ہمارا حج کنفرم ہو جاتا ہے توگاؤں محلے میں اس دن سے لے کر حج سے واپسی تک ایسی ایسی رسم و رواج اور ایسے ایسے شہرت اور دکھاوا کے کام کرتے ہیں جو حج جیسی عبادت کے اخلاص میں رخنہ ڈالنے والے ہیں۔خدارا عبادت کو عبادت ہی رہنے دیں اسے شہرت وریا کا ذریعہ نہ بنائیں ۔اسی طرح دوران حج  تصویروویڈیوکے لئےموبائل اور کیمرے کا اس قدر استعمال ہوتا ہے گویا ہم عبادت  کرنے نہیں ،لوگوں کو اپنا کام دکھانے آئے ہیں ۔ ایسا حج اللہ کے یہاں مقبول نہیں ہے اس لئے حج میں سیلفی سے پرہیز کریں ۔نیز حج کرنے والوں کے کچھ ایسے برے مناظر بھی سامنے آرہے ہیں جن سے حج اور شعائرمقدسہ کی بے حرمتی ہورہی ہےاور حج کی غلط تصویر لوگوں میں پہنچ رہی ہے اس لئے حج کے ذمہ داروں سے گزارش ہے کہ لوگوں  کے دلوں میں حج کی اہمیت اور شعائرمقدسہ کی عظمت وہیبت بٹھائیں ۔ آئیے ہم عزم کرتے ہیں کہ حج کے تحفظات اپنائیں گے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں اور حرمین شریفین کی سلامتی کے لئے دعا اور دفاع کریں گے ۔
 

مکمل تحریر >>

Monday, May 20, 2024

بغیر عمرہ کی نیت کے احرام کی چادر لگاکر طواف کرنا

 بغیر عمرہ کی نیت کے احرام کی چادر لگاکر طواف کرنا

مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ -سعودی عرب

 
حکومت نے ان دنوں انتظامی امور کو منظم رکھنے کے لئے  مطاف میں بغیر احرام  کے داخل ہونے سے منع کیا ہواہے ۔عوام کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کے انتظامی امور میں مدد کرے اور بغیر عمرہ کی نیت کے مطاف میں داخل نہ ہو۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سارے لوگ جن کو عمرہ نہیں کرنا ہوتا ہے وہ  احرام کی چادر لگاکر مطاف میں جاتے ہیں اور نفلی طواف کرتے ہیں۔ ایسے وہ تمام  لوگ جو عمرہ نہیں کرتے ہیں ، صرف احرام کا لباس لگاکر مطاف میں داخل ہو جاتے ہیں یہ حکومت کے ساتھ دھوکہ ہے بلکہ دیکھا جائے تو اللہ کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔ طواف کرنا عبادت ہے مگر طواف کرنے والا عبادت کے لئے جو ہیئت اختیار کررکھا ہے وہ اصلا فرضی ہے اس لئے یہ اللہ کے ساتھ بھی دھوکہ ہے بنابریں لوگوں کو اس دھوکے والے عمل سے پرہیز کرنا چاہیے ۔طواف ہم اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں تو اس کے لئے ہیئت بھی صحیح ہونا ضروری ہے ۔
جو لوگ باہر سے عمرہ کی نیت سے حرم آتے ہیں اور عمرہ کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں ، یہ ان کے لئے کافی ہےکیونکہ ایک سفر میں ایک ہی عمرہ مسنون ہے ۔ اب اگر مکہ مکرمہ  میں مزید ایام ٹھہرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ حرم شریف میں نماز یں پڑھنے کی کوشش کرے ، نماز کے علاوہ وہاں تلاوت اورذکر واذکار کیا کرے ۔ اور ان اعمال کو معمولی نہ سمجھے ، آپ یہ سمجھیں کہ حرم شریف تک آجانا بڑی سعادت کی بات ہے اور وہاں ایک نماز ادا کرنا ایک لاکھ نماز کے برابر ہے جو دوسری جگہ پچپن سال کی عبادت کے برابر ہے۔ سبحان اللہ
ہاں آپ کو چھت پر طواف کرنے کی استطاعت ہے تو آپ عادی لباس میں چھت پر ابھی بھی نفلی طواف کرسکتے ہیں اور استطاعت نہیں ہے تو کچھ ایام کے وقفہ کے بعد مثلا ہفتہ دس دن کے بعد دوبارہ عمرہ کرلیں اس کی گنجائش ہے ، اس طرح آپ کو پھر سے طواف کرنے کا موقع مل جائے گاتاہم دکھاوالے کے طور پر احرام کی چادر لگاکر طواف کرنا قطعا درست نہیں ہے، جس کے لئے آپ طواف کررہے وہ آپ کو دیکھ رہا ہے یہ خیال رہے۔
یہی بات میں ان لوگوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں جو سعودی عرب میں رہتے ہیں کہ آپ  ان دنوں نفلی طواف کے خواہشمند ہیں تو مکمل عمرہ کرلیں ، اس سے آپ کو زیادہ اجر بھی ملے گا اور دکھاوے والی عبادت  (بغیر عمرہ کی نیت کے احرام کی چادر لگاکر طواف کرنا)سے بھی بچ جائیں گے ۔  اور عمرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں تو حرم جاکر وہاں نماز ہی ادا کرلیں ، وہاں نماز ادا کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اور چھت پر نفلی طواف کرنے کی استطاعت ہو تو وہاں نفلی طواف کرلیں مگر مطاف میں فرضی ہیئت بناکر طواف نہ کریں ۔ یاد رکھیں فرضی ہیئت بناکر نفلی طواف کرنے سے بہتر ہے آپ طواف ہی نہ کریں ، جب طواف کی خواہش پیدا ہو تو عمرہ کرلیا کریں ۔
 
مکمل تحریر >>

Sunday, February 5, 2023

عمرہ کا مسنون طریقہ اور اس کے مسائل

 
عمرہ کا مسنون طریقہ اور اس کے مسائل

تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ ، سعودی عرب

عمرہ ایک عظیم اور بڑے اجر والی  عبادت ہے جس کا کوئی وقت متعین نہیں ہے ، سا ل میں کسی بھی وقت ادا کرسکتے ہیں لہذا جس مرد یا عورت کو اللہ نے عمرہ کرنے کی طاقت و سہولت دی ہے اسے مکہ پہنچ کر عمرہ کی سعادت حاصل کرنا چاہئے ۔گوکہ  عمرہ کے حکم کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ واجب کہ نہیں لیکن صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ حج کی طرح عمرہ بھی  زندگی میں ایک بار استطاعت رکھنے والے مرد اور استطاعت رکھنے والی عورت پر واجب ہے۔
عمرہ کا طریقہ بہت آسان ہے پھربھی  لوگ جہالت کی وجہ سے عمرہ کی ادائیگی میں بہت غلطیاں کرتے ہیں اس لئے میں آسان طریقے سے عمرہ کا مسنون طریقہ بیان کرتا ہوں ساتھ ہی احکام ومسائل کے ساتھ عوام کی غلطیوں پر بھی تنبیہ کروں گا۔
عمرہ کی ادائیگی میں محض چار کام ہیں ۔ پہلا کام میقات سے احرام باندھنا ، دوسرا کام مکہ پہنچ کر کعبہ کا سات چکر طواف کرنا (ساتھ میں دوگانہ نماز طواف پڑھنا)، تیسرا کام صفا ومروہ کی سات چکر سعی کرنا  اور چوتھا و آخری کام سر کا بال کٹانا۔ ان چار کاموں کے احکام جاننے سے قبل عمرہ کے ارکان ، واجبات اور سنن کو جاننا ضروری ہے تاکہ اس بات کا یقین کیا جاسکے کہ آپ نے واقعی سنت کے مطابق عمرہ کیا ہے، اس میں نہ کوئی رکن چھوٹا، نہ کوئی واجب ترک کیا اورسنت چھوٹ جانے سے عمرہ کی صحت پر اثر نہیں پڑتا پھربھی سنت کو بغیرعذر کے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
عمرہ کے تین ارکان ہیں ۔
(1)احرام باندھنا(2) طواف کرنا(3) سعی کرنا
عمرہ کے دو واجبات ہیں ۔
(1)میقات سے احرام باندھنا(اہل مکہ حدودحرم سے باہرنکل کراحرام باندھیں گے اور میقات کے اندر والے مثلا جدہ والے اپنی رہائش سے احرام باندھیں گے )
(2)مردوں کے حق میں بال منڈوانا یا پورے سر سے بال چھوٹا کروانا اور عورتوں کے حق میں انگلی کے ایک پوربرابر بال کاٹنا۔
عمرہ کی سنتیں متعدد ہیں ۔
ارکان اور واجبات کے علاوہ جو بھی اعمال عمرہ ہیں وہ سنت میں داخل ہیں جیسے احرام کے وقت غسل کرنا(عورت و مرد سب کے لئے حتی کہ حائضہ و نفساء کے حق میں بھی)،جسم میں  خوشبو لگانا،  احرام کا لباس سفید پہننا(مردوں کے لئے)، احرام باندھ کر تلبیہ پکارنا، طواف میں اضطباع(دایاں کندھا کھلا) کرنا،  طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل (تیزتیزچلنا) کرنا، رکن یمانی کا استلام کرنا، حجراسود کا بوسہ یا اشارہ یا استلام کرنا،  سعی میں مردوں کا ہری بتی کے درمیان دوڑنا، دوران عمرہ  طواف و سعی میں ذکر اور دعا میں مشغول رہنا بطور خاص رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان "ربناآتنا۔۔۔الخ "پڑھنا اور صفا و مروہ پر دعا کرنا۔وغیرہ
ترک اعمال عمرہ سے متعلق احکام
٭اگر کسی نے عمرہ میں کوئی رکن چھوڑدیا تو اس کا عمرہ نہیں ہوگا۔
٭ اگر کسی نے عمرہ میں کوئی واجب چھوڑدیا تو دم دینے سے عمرہ صحیح ہوجائے گا۔
٭ اور کوئی کوئی سنت چھوٹ جائے تو عمرہ صحیح ہے  پھربھی کوشش یہ ہو کہ مکمل سنت کے مطابق عمرہ کریں ۔
ممنوعات احرام
حالت احرام میں دس کام ممنوع ہیں جنہیں محظورات احرام کہاجاتاہے ۔ (1)بال کاٹنا(2)ناخن کاٹنا(3)مردکاسلاہواکپڑا پہننا (4)خوشبولگانا (5)مردکاسرڈھانپنا(6)عورت کے لئے دستانہ اور برقع ونقاب لگانا(منع ہے تاہم اجنبی مردوں سے دوپٹہ کے ذریعہ اپنے ہاتھ و چہرہ کا پردہ کرےگی)(7)بیوی کو شہوت سے چمٹنا(8)عقد نکاح کرنا(9) جماع کرنا(10) اور شکار کرنا۔
ارتکاب ممنوعات کا حکم
ایک سے لے کر سات ممنوعات کا حکم یہ ہے کہ جو لاعلمی (انجانے) میں ان سات ممنوعات میں سے کسی کا بھی ارتکاب کرلے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر عمدا(جان بوجھ کر) کسی کا ارتکاب کیا توفدیہ دینا ہوگا۔فدیہ میں یا تو تین روزہ رکھنا ہے یا  مکہ میں ایک ذبیحہ دینا ہے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔
عقد نکاح میں کوئی فدیہ نہیں ہے لیکن دوران عمرہ یعنی احرام کی حالت میں جماع کرنے سے عمرہ فاسد ہوجاتا ہے، وہ فی الحال اپنا عمرہ مکمل کرے گا بعد میں اس عمرہ کی قضا کرے گا اور ایک بکری ذبح کرے گا۔شکار کرنے کی صورت میں اسی کے مثل جانور ذبح کرناہوگا۔
مناسک عمرہ کا طریقہ
اب آپ کے سامنے عمرہ کا طریقہ بیان کرتے ہیں ۔ آپ کو مختصرا یہ معلوم ہوگیا ہے کہ عمرہ چار کاموں پر مشتمل ہے احرام ، طواف ، سعی اور حلق یا قصر۔ ان چار کاموں کو یعنی عمرہ کے طریقہ کو تفصیلا نیچے بیان کیا جاتا ہے ۔
عمرہ کا پہلا کام :میقات سے احرام باندھنا
پہلے احرام سمجھ لیں پھر میقات سے احرام باندھنے کا طریقہ جانیں۔ احرام کہتے ہیں حج یا عمرہ کی نیت کرنا جیسے کوئی میقات پر غسل کرکے احرام کی چادر لگاکر اپنی زبان سے کہے "لبیک عمرۃ"۔ یہ الفاظ کہتے ہی احرام میں داخل ہوجائے گااور وہ محرم کہلائے گا اور احرام کی ممنوعات سے پرہیزکرے گا۔
میقات سے احرام باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےدنیا بھر سے حج و عمرہ کے واسطے  آنے والوں کے لئے  مکہ کے چاروں طرف پانچ میقات متعین فرمائی ہے ، حج یا عمرہ کرنے والا ان میقات میں سے جو اس کے لئے قریب میقات ہے وہاں سے احرام باندھے گا۔ان پانچوں میقات کی تفصیل آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ۔
(1)یلملم: یہ انڈیا، پاکستان ، چین ، یمن اور ان لوگوں کے لئے ہے جو اس راستے سے گزرے ، یہ جدہ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔
(2)ذوالحلیفہ:  یہ مدینہ سے تقریبا نو کلو میٹرکے قریب ہےاور یہ اہل مدینہ اور اس راستے سے گزرنے والوں کی میقات ہے ۔مدینہ سے مکہ کے لئے ٹرین بھی آتی ہے ، احرام باندھ کر ٹرین سے بھی مکہ آسکتے ہیں کیونکہ میقات قریب ہے۔
(3)ذات عرق: یہ عراق اور اس جانب سے آنے والوں کی میقات ہے ۔
(4)جحفہ(رابغ): یہ شام ، مصر اور دیار مغرب والوں کی میقات ہے ۔
(5)قرن المنازل(السیل الکبیر):یہ طائف میں واقع ہے اور یہ اہل نجد اور اس جانب سے گزرنے والوں کی میقات ہے۔ طائف والے، قصیم کے علاقہ والے، ریاض والے ، دمام والے ، خبروالے ، جبیل والے، احساء اور قطیف والے سب یہیں سے احرام باندھیں گے ۔
احرام باندھنے کا طریقہ : ان پانچ مواقیت میں سے جو آپ کی قریبی میقات ہے وہاں پہنچ کر غسل کریں ، اعضائے بدن پر خوشبولگائیں (احرام کی چادر پر نہیں) اور سفید و صاف ستھری دو بغیرسلی ہوئی چادر پہن لیں اور زبان سے کہیں "لبیک عمرۃ" ۔ اب آپ احرام میں داخل ہوگئے۔ عورتیں غسل کرکے اپنا لباس بدل لیں جو پہننا چاہیں تاہم دستانہ اور نقاب نہ استعمال کریں ، عبایا کے ساتھ ایک بڑی اوڑھنی استعمال کریں جس سے چہرہ اور ہاتھ بھی ڈھک سکیں اور پھر زبان سے کہیں "لبیک عمرۃ"۔اب آپ  عورتیں بھی احرام میں داخل ہوگئیں۔
جن کے لئے میقات پرغسل کرنا اور احرام کی چادرپہننا کسی سبب مشکل ہے وہ اپنے گھر سے غسل کرکے احرام کی چادر پہن کر میقات سے گزرتے وقت زبان سے نیت کرلیں  یعنی لبیک عمرہ کہہ لیں، احرام میں داخل ہوجائں گے اور اسی طرح جو لوگ کسی دوسرے ملک یا دوسرے شہرسے  بذریعہ فلائٹ (جہاز) عمرہ کے لئے آرہے ہیں وہ اپنے گھر میں ہی غسل کرکے احرام کی چادر لگالیں اور جب آپ کی فلائٹ(جہاز) میقات کے قریب آئے تو اپنی زبان سے "لبیک عمرۃ" کہیں ۔
احرام سے قبل غیرضروری بالوں کی صفائی اور ناخن کاٹنا ضروری نہیں ہے ، ضرورت ہوتو ان کی صفائی کریں اور غسل کرنا بھی ضروری نہیں ہے مسنون ہے ، کوئی عذر ہو تو غسل چھوڑ سکتے ہیں ۔احرام کی کوئی مخصوص نماز نہیں ہے تاہم آپ نے غسل کیا ہے اوروضو بھی کیا ہے تو وضو کی دو رکعت سنت اسی جگہ اور اسی وقت اداکرلیں ۔
احرام باندھ لینے کے بعد ممنوعات احرام سے بچتے رہیں گے اور میقات سے لے کر مکہ پہنچنے تک بلند آواز سے تلبیہ پکارتے رہیں گے ، عورتیں آہستہ تلبیہ پکاریں ۔ تلبیہ کے الفاظ اس طرح ہیں۔
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ(حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں میں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں، تمام حمد تیرے ہی لیے ہے اور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں، بادشاہت تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں)
عمرہ کا ارادہ کرنے والی کسی عورت کو میقات پر یا اس سے قبل حیض  ونفاس آجائے تو وہ بھی غسل کرکے احرام باندھ سکتی ہے اور پاک ہونے تک  احرام میں باقی رہے گی، جب پاک ہوجائے تو غسل کرکے عمرہ کرے گی ،اسے میقات پر جانے اور دوبارہ احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے سے ہی احرام کی حالت میں ہے اور حالت حیض ونفاس میں ذکر ودعا ممنوع نہیں ہے لہذا تلبیہ پکارنے اور ذکر و دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جس  مردیا عورت کو کسی قسم کا خدشہ  اور ادائیگی عمرہ میں کوئی رکاوٹ محسوس ہو تو وہ احرام باندھتے وقت یہ شرط لگالے  :"إِنْ حَبَسِنِيْ حَابِسٌ فَمَحَلِّيْ حَيْثُ حَبَسْتَنِيْ" (اگر مجھے کوئی روکنے والا روک دے تو میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہو گی جہاں تو مجھے روک دے گا) ۔ بعض عورتیں حیض روکنے کے لئے گولی کھاتی ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ مذکورہ شرط لگالےکیونکہ گولی کھانے سے بسا اوقات نقصان ہوتا ہے اور حیض میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔
اس شرط کے لگانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ احرام باندھنے کے بعد آگے عمرہ کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ آجائے گی تو عمرہ کرنے والے مرد یا عورت احرام کھول کر حلال ہوجائیں گے، اس پر نہ کوئی فدیہ ہوگا، نہ عمرہ مکمل کرنا ضروری ہوگا ، نہ عمرہ کی قضا کرنا ہوگا اور نہ ہی بال کٹانا ہوگا۔
عمرہ کا دوسرا کام: بیت اللہ کا طواف کرنا
راستہ بھر تلبیہ پکارتے احرام کی حالت میں ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے ، اب تلبیہ بند کردینا ہے اور بیت اللہ میں داخل ہوکر عمرہ کا دوسرا کام یعنی طواف کرنا شروع کردینا ہے ۔ اگر اس وقت کوئی فرض نماز ہورہی ہو تو آپ فرض نماز ادا کرلیں لیکن اگر نماز کا وقت نہ ہو یا نماز  میں ابھی وقت ہو  تو آپ فوراطواف شروع کردیں گے ۔
یہاں  یہ بات جان  لیں کہ طواف کے لئے وضو ضروری ہے ، وضو ٹوٹ جائے تو پھر سے وضو کرنا ہوگا اور وضو کے بعد وہیں طواف شروع کریں جہاں سے چھوڑے تھے اور وضو سے پہلے والا چکر بھی شمار کریں گے۔
 طواف کا طریقہ کیا ہے ؟آپ اوپر والی چادر کو اضطباع کی شکل میں کرلیں یعنی  دایاں کندھا کھول لیں اور چادر کے دائیں سرے کو دائیں ہاتھ کے بغل سے نکال کربائیں کندھے پر ڈال لیں ، اس طرح دایاں کندھا کھلا اور بایاں کندھا ڈھکا ہوگا۔ پھر حجر اسود کے پاس آجائیں اور یہاں سے طواف شروع کریں ۔ طواف شروع کرتے وقت حجراسود کی طرف دایاں ہاتھ اٹھا کر اشارہ کریں اور زبان سے ایک مرتبہ "بسم اللہ اللہ اکبر"کہیں۔عورتیں بھی اسی طرح حجراسود کے پاس دایاں ہاتھ اٹھاکر زبان سے آہستہ "بسم اللہ اللہ اکبر" کہیں ۔
حجر اسود سے لے کے حجر اسود تک ایک چکر ہوتا ہے اور ہمیں اس طرح سات چکر پورا کرنا ہے ، ہرچکر میں حجراسود کے پاس دایاں ہاتھ اٹھاکر"بسم اللہ اللہ اکبر" کہنا ہے اور حجر اسود سے پہلے والا کونہ جسے رکن یمانی کہتے ہیں ، اس کو ہرچکر میں چھوسکیں(استلام کرسکیں) تو ٹھیک  ہے اور نہ چھوسکیں تو کوئی بات نہیں ہے تاہم اس رکن یمانی سے لے کر حجراسود تک یہ دعا باربارپڑھیں:رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(اے ہمارے رب ہمیں دنیا اورآخرت میں خیروبھلائي عطا فرما اورہمیں آگ کے عذاب سے نجات عطا فرما)
بقیہ جگہوں پر کوئی بھی دعا، ذکر اور تلاوت کرتے رہیں اور یاد رہے کہ ہرچکر کی الگ الگ مخصوص دعا جو عوام میں مشہور ہے وہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ نیز طواف وسعی کے دوران مسنون دعاؤں کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعا کرسکتے ہیں ۔
سات چکر طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پاس یا  حرم شریف میں جہاں جگہ ملے وہاں طواف کی دوگانہ ادا کریں ۔ نماز شروع کرنے سے پہلے مردحضرات دایاں کندھا ڈھک لیں جو طواف میں کھول رکھے تھےکیونکہ کندھا ڈھکنا نماز کی شرائط میں سے ہے ‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کاندھے پر کچھ نہ ہو۔(صحيح مسلم:516)
 پھر دو رکعت اس طرح پڑھیں  ، پہلی رکعت میں الحمد للہ کے بعد قل یاایھاالکافرون کی تلاوت کریں اور دوسری رکعت میں الحمدللہ کے بعد قل ھواللہ احد پڑھیں ۔
عمرہ کا تیسرا کام: صفاو مروہ کی سعی کرنا
طواف اور دورکعت نماز پڑھنے کے بعد صفا پہاڑ پر جائیں اور کعبہ کی طرف چہرہ کرکے پہلے یہ آیت تلاوت کریں:إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ اللّهِ [البقرة:158].
پھرتین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں۔
"لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ أنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ"۔(اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبو نہیں وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اقتدار اسی کا حق ہے، حمد و شکر کا وہی مستحق ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے تنہا تمام کافر گروہوں کو شکست دی)۔
پھر ہاتھ اٹھا کر جو چاہیں اللہ سے دعا کریں ، دعا میں کعبہ کی طرف ہی چہرہ رکھیں ۔
صفا سے اتر کر مروہ کی طرف عمومی چال میں چلیں اور چپ نہ رہیں طواف کی طرح یہاں بھی ذکر و دعا اور تلاوت وغیرہ پڑھتے رہیں ، ہری بتی کے درمیان مردوں کو چاہئے کہ وہ دوڑ لگائیں اور ہر چکر میں لگائیں لیکن عورتیں عام چال چلیں اور بوڑھا،بیمار، کمزور یامعذور جو دوڑ نہ سکے  وہ بھی عام چل چلے۔
مردہ پر پہنچ کر قبلہ رخ ہوکر وہی مذکورہ دعا (لاالہ الااللہ وحدہ ۔۔۔۔۔الخ)تین بار پڑھیں اور پھر ہاتھ اٹھاکر جو چاہیں دعا کریں ۔صفا سے مروہ ایک چکر اور مروہ سے صفا دوسرا چکر ہوتاہے ، اس طرح سات چکر پورے کرنے ہیں۔
سعی کے سات چکروں کی الگ الگ مخصوص دعا نہیں ہے ، صفا اور مروہ پر وہی دعا ہے جو اوپر بتایا ہوں جسے چھ چکر تک پڑھنا ہے، صفا و مروہ کے درمیان کوئی دعا اور کوئی بھی ذکر کرسکتے ہیں ، لوگوں میں مشہور ہے کہ سعی کےساتویں چکر میں مردہ پر دعا نہیں کریں گے(یہ شیخ ابن عثیمین ؒ کی رائے ہے)، اس کی کوئی خاص دلیل نہیں ہےاس لئے  ساتویں چکر میں بھی دعا کی جائے ۔ سعی کے لئے وضو شرط نہیں ہے ، اگر دسعی کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو سعی مکمل کرسکتے ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ سعی میں اگر آپ تھکان محسوس کرتے ہیں اور کچھ دیربیٹھ کر آرام کرنا چاہتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے ، کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرلیں ، زمزم پی کرمزید تازہ دم ہوجائیں اور وہیں سعی مکمل کریں ۔
عمرہ کا چوتھا اور آخری کام: حلق یا قصر کروانا
جب آپ صفاو مروہ کی سعی کرلیتے ہیں تو اب آپ کے ذمہ آخری کام اپنے سر کو منڈانا  یا کٹانا رہ جاتا ہے یعنی چاہے تو آپ بال منڈوالیں یا پورے سر سے بال چھوٹا کروالیں ۔ عورتیں انگلی کے ایک پور کے برابر سر کا بال  جمع کرکے اس میں سے کاٹ لیں ، وہ خود سے بھی  اپنا بال کاٹ سکتی ہیں  اور دوسرے کا بھی کاٹ سکتی ہیں ، عورت نے اپنا بال کاٹنے سے پہلے دوسری عورت کا بال کاٹ دیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح بال کٹانے کے بعد عمرہ مکمل ہوگیا ۔ اب احرام کی چادر اتار دیں اور جو پابندی احرام کی وجہ سے تھی وہ سب ختم ہوگئیں ۔ سعودی عرب میں رہنے والا اگر کسی وجہ سے مکہ میں بال نہ کٹاسکے تو راستے میں یا اپنے شہر میں جاکر بال کٹاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے احرام میں باقی رہنا ہوگا، جب اپنا بال کٹالیں پھر احرام کھول لیں ۔
عمرہ سے متعلق مزید چند مسائل وتنبیہات
(1) عمرہ کرنے والوں میں ایک ٹرینڈ چلنے لگاہے باربار عمرہ کرنے کا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ  وطن واپس ہونے پر فخریہ بیان کیاجاتا ہے کہ میں نے اتنا عمرہ کیا؟ یاد رہے ، ایک سفر میں ایک عمرہ کافی ہے ، یہی نبی ﷺ اور آپ کے پیارے اصحاب کاطریقہ رہا ہے ۔ آپ ﷺ فتح مکہ کے موقع پر انیس دن مکہ میں ٹھہرے ، آپ نے باربار عمر ہ نہیں کیا، اسی طرح عمرۃ القضا کے موقع سے تین  دن مکہ میں ٹھہرے آپ نے روزانہ یا ایک دن میں کئی کئی عمرے نہیں کئے ۔کوئی مکہ میں  ہفتہ دس دن یا کچھ دن  ٹھہرکر مدینہ چلاگیا ، وہاں سےپھر مکہ آرہاہے تو یہ ایک دوسرا سفر شمارہوگا، اس دوسرے سفر میں میقات سے دوسرے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرسکتا ہے۔
(2)     میت کی طرف سے عمرہ کرنا جائز ہے اور میت کی طرف سے عمرہ کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنا عمرہ کرچکا ہو۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک سےآیا ہے اس نے اپنا عمرہ کرلیا ہے اور دوبارہ اسےمکہ  آنے کی امید نہیں ہے اور اگر اپنے وفات یافتہ والد یا والدہ کی طرف سے عمرہ کرنا چاہے تو اسی سفر میں وفات یافتہ والد یا وفات یافتہ والدہ کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے لیکن دوبارہ آنے کی امید یا استطاعت ہو تو وہ اس سفر سے لوٹ کر پھر کبھی وفات یافتہ والد یا وفات یافتہ والدہ کی طرف سےمکہ کا سفر کرے اور میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرے ۔بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ چند دنوں کے فرق کے ساتھ ایک سفر میں ایک سے زائد عمرہ کرسکتے ہیں  مگر جلدی جلدی  اورباربار عمرہ کرنا بہرحال غلط اور سنت کی خلاف ورزی ہے۔ایک سفر میں دوسرا عمرہ کرتے وقت  مکہ میں مقیم آفاقی شخص حل جاکر یعنی حدود حرم سے باہر جاکر مثلا مسجد عائشہ سے احرام باندھے گا ۔میت سے متعلق عمرہ کی مزید تفصیل جاننے کے لئے میرے بلاگ پر مضمون"میت کی طرف سے عمرہ کا حکم" مطالعہ کریں۔
(3)مقروض شخص کے عمرہ کی تین شکلیں بنتی ہیں ۔پہلی شکل تو یہ ہے کہ وہ مقروض ہے اور اپنے پیسے سے عمرہ کررہا ہے تو ایسی صورت میں قرض دینے والا مہلت دے رہا ہوتو عمرہ کرنے میں حرج نہیں ہے لیکن قرض دینے والا قرض کا مطالبہ کررہا ہومگر اسے قرض نہ دے کر عمرہ کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ عمرہ کرنا صحیح نہیں ہے وہ پہلے قرض ادا کرے ۔ دوسری شکل یہ ہے کہ مقروض شخص کو دوسرا آدمی اپنے پیسے سے عمرہ کرارہاہو تو ایسا عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تیسری شکل یہ ہے کہ عمرہ کرنے کے لئے پیسہ نہ ہو وہ کسی سے قرض لے کر عمرہ کرنا چاہتا ہو تو دیکھا جائے گا کہ وہ قرض ادا کرنے کی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں ؟ اگر بآسانی قرض ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو قرض لے کر عمرہ کرسکتا ہے لیکن قرض ادا کرنادشوار و مشکل ہو تو قرض لے کر عمرہ نہ کرے ، جب استطاعت ہوجائے تب عمرہ کرے ۔
(4)  بچہ بھی عمرہ کرسکتا ہے، اس کواس عمرہ کا اجر ملے گا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ بچے کو غسل کراکراحرام کا لباس لگادیں اور میقات پر جیسے سب عمرہ کی نیت کرتے ہیں بچے کو بھی نیت کے الفاظ کہنے کو کہیں بطور خاص بچے کا سرپرست بچہ کی طرف سے احرام کی نیت کرلے اور اس کو ممنوعات احرام سے بچائے ، غلطی سے کسی مانع کاارتکاب کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ مکہ پہنچ کر سرپرست طواف وسعی میں ساتھ رکھےیعنی اپنے طواف و سعی کے ساتھ اس کو بھی طواف وسعی کروائے ، پھر اس کابال کاٹ دے ،بچے کا عمرہ ہوگیا۔
(5)کوئی شخص کسی کام و ضرورت سے مکہ آیا اور یہاں آکر اسے عمرہ کرنے کی خواہش ہوئی تو وہ حدود حرم سے باہر جاکر مثلا مسجد عائشہ جاکر وہاں  سےاحرام باندھ کر عمرہ کرسکتا ہے ۔ اور اگر کوئی جدہ کسی غرض سے آئے یہاں آنے کے بعد عمرہ کا ارادہ ہوجائے تو اپنی رہائش سے ہی  احرام باندھ کر عمرہ کرسکتا ہے ۔
(6)انڈیا ،  پاکستان ، نیپال اور کسی دوسرے ملک سے عمرہ کے ارادے سے جدہ آنے والے اور اسی طرح سعودی عرب کے کسی  دوسرے شہر سے عمرہ کا ارادہ کرکے جدہ آنے والے، اگر جدہ آکر احرام باندھتے ہیں تو بغیر احرام کے میقات تجاوز کرنے کی وجہ سے دم دینا پڑے گا اس لئے اس بات کا خیال رکھیں اور اپنی میقات پر ہی احرام باندھ لیں یعنی عمرہ کی نیت کرلیں ۔
(7) کسی دوسرے ملک یا شہر سے احرام باندھ کر مکہ یا جدہ آنے والے تھکے ہوں اورہوٹل میں  آرام کرنا چاہتے ہوں یا سونا چاہتے ہوں  تو احرام میں رہتے ہوئے آپ آرام کرسکتے ہیں یا سو سکتے ہیں ، نہانا چاہیں نہاسکتے ہیں ، احرام کا کپڑا دھونا یا بدلنا چاہیں تو دھو اور بدل سکتے ہیں اور جب تازہ دم ہوجائیں تو حرم جاکر عمرہ کرلیں۔یاد رہے محرم مرد کوسوتے جاگتے کسی وقت  سر نہیں ڈھکنا ہے ، غلطی سے سرڈھک جائے تو یاد آتے ہی کھول لیں ۔ غسل میں عورت ومرد دونوں کو خوشبووالے صابن وشیمپوسے بچنا ہے اور بال نہ ٹوٹے اس کا بھی خیال کرنا ہے۔ آپ خود بال گرجائے یا ناخن ٹوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں ہےاور بدن میں کہیں سےخون نکل آئے تو اس سے نہ وضو ٹوٹے گا اور نہ اس سے کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
(8)لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ حائضہ و نفساء احرام نہیں باندھ سکتی ہے ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ذوالحلیفہ کی میقات پرتوالد کی وجہ سے نفاس میں تھیں تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا: غسل کرو، لنگوٹ باندھ لو اور احرام کی نیت کرلو(مسلم:1218) اس لئے حالت حیض و نفاس میں عورت احرام باندھ سکتی ہے ، تفصیل کے لئے میرا مضمون"حیض والی عورت کاعمرہ" میرے بلاگ پر پڑھیں ۔
(9) عوام الناس میں خصوصا عورتوں میں یہ بات  بھی مشہور ہے کہ حج و عمرہ میں عورتوں کے لئے چہرے کا پردہ نہیں ہے، یہ غلط بات ہے ، صحیح بات یہ ہے عورتوں کے لئے چہرے کا پردہ جیسے حج  وعمرہ سے پہلے تھاویسےہی  حج وعمرہ کے دوران بھی ہے اور حج وعمرہ کے بعد بھی رہے گا، کبھی بھی عورت کے لئے چہرے کا پردہ منع نہیں ہے ، صحابیات احرام کی حالت میں چہرے کا پردہ کیا کرتی تھیں۔ شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں ایک اثر ذکر کیا ہے اور اس کی سند کوصحیح کہا ہے۔
عن فاطمةَ بنتِ المنذرِ أنها قالت كنا نُخمِّرُ وجوهَنا ونحن مُحرماتٌ ونحن مع أسماءَ بنتِ أبِي بكرٍ الصدِّيقِ۔(إرواء الغليل: 4/212)
ترجمہ: فاطمہ بنت منذر سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم عورتیں احرام کی حالت میں اپنے چہروں کا پردہ کیا کرتی تھیں اور ہم اسماء بنت ابی بکر کے ساتھ ہوتی تھیں۔
احرام میں عورتوں کے لئے نقاب و برقع منع ہےاس کا یہ مطلب نہیں کہ چہرہ نہیں ڈھکنا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ نقاب کے علاوہ دوسرا کپڑا مثلا دوپٹہ سے چہرہ ڈھکنا ہے۔
(10) یہ ضروری نہیں ہے کہ عمرہ کرتے وقت کوئی محرم اس کے ساتھ ہو لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرنے کے لئے آتے اور آجاتے دونوں طرف کوئی محرم ساتھ ہو۔جس عورت نے بغیر محرم کے سفر کرکے عمرہ کرلیا تو عمرہ اپنی جگہ صحیح ہے لیکن بغیر محرم کے سفر کرنے کی وجہ سے وہ گنہگار ہوگی اس کے لئے اسے توبہ کرنا چاہئے اور محرم کے ساتھ ہی عمرہ کا سفر کرنا چاہئے۔
(11)احرام کی حالت میں عورت کے لئے کان ، ناک ، گلا اور ہاتھ وپیر کی زینت کو پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے ، لباس میں برقع و نقاب اور دستانہ پہننا منع ہے تاہم پیر میں موزہ اور جوتا پہننے میں حرج نہیں ہے ۔ مردوں کے لئے انگوٹھی، گھڑی اورعینک لگانے میں حرج نہیں ہے لیکن چڈی، بنیان، موزہ اور جوتا نہیں پہننا ہے البتہ بیماری کی وجہ سے گھٹنے میں پیڈ لگا ہو یا جسم میں کہیں پٹی وغیرہ ہو تو عذر کی وجہ سے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
(12) لوگوں میں جو یہ خیال مشہور ہے کہ میت کی طرف سے عمرہ ہوتا ہے اور زندہ کی طرف سے طواف ہوتا ہے غلط ہے ۔ میت کی طرف سے عمرہ والی بات صحیح ہے مگر زندوں کی طرف سے طواف والی بات غلط ہے ۔ زندہ بدنی طوپرعاجز شخص (جس کی شفایابی کی امید نہ ہو)کی طرف سے عمرہ کرسکتے ہیں مگر تندرست شخص کی طرف سے نہ طواف کرسکتے ہیں اور نہ ہی عمرہ ۔
(13)  بعض لوگ حجر اسود کے پاس دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور بعض لوگ بار بار ہاتھ اٹھاتے ہیں پھر ہاتھوں کو چومتے ہیں ، یہ عمل صحیح نہیں ہے، صحیح عمل یہ ہے کہ حجراسود کے پاس، اس کی طرف اشارہ کرکے  صرف دائیں ہاتھ اٹھاکربسم اللہ اللہ اکبر کہیں گے اور ہاتھ کو نہیں چومیں گے ۔حجراسود کا بوسہ لینا ہےیا استلام (چھونا)کرنا ہے یا پھراشارہ کرناہےیعنی ان تین میں سے کوئی  ایک عمل کرنا ہے جبکہ آج کل عموما اشارہ ہی ممکن ہے اس لئے میں نے اشارہ کا ہی ذکر کیا ہے۔
(14) برکت اور شفا کی نیت سے مقام ابراہیم ، غلاف یا دیوار کعبہ چھونا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس کی تعلیم نہیں دی ہے ۔
(15) لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے وقت جو دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے ، اور پہلی نظر کی دعا بھی بیان کی جاتی ہے :" اللهم زد هذا البيت تشريفاً وتكريماً وتعظيماً ومهابة، وزد من شرفه وكرمه ممن حجه أو اعتمره تشريفاً وتكريماً وتعظيماً وبراً" آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ لوگوں کا مذکورہ اعتقاد بھی غلط ہے اور یہ دعا بھی ضعیف ہے اس لئے اس غلط اعتقاد کا خاتمہ کیجئے ۔اور یہ عقیدہ بنائیے کہ حج وعمرہ کرنے والا اللہ کا مہمان ہے، اس کی ہردعا قبول ہوتی ہے ،  نبی ﷺ کا فرمان ہے : الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ، وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ(صحيح ابن ماجه:2357)
ترجمہ:اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا۔
(16) لوگ غلاف کعبہ پکڑ کر اور اس کا واسطہ دے کر دعا کرنا افضل سمجھتے ہیں ، یہ صحیح عمل نہیں ہے تاہم ملتزم(کعبہ کے دروازہ اور حجر اسود کی درمیانی جگہ) میں دعا کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ۔ اس جگہ پہ نبی ﷺ سے دعا کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے البتہ بعض صحابہ کرام مثلا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہماسے ثابت ہے ۔اس لئے اگر کوئی ملتزم میں دعا کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور یہاں دعا کرنے کے لئے کوئی خاص وقت نہیں ہے ، آپ طواف کے شروع میں یا آخر میں جب سہولت ہو دعا کرلیں اور اس جگہ کی کوئی مخصوص دعا بھی نہیں ہے۔
(17) بسا اوقات طواف کرتے وقت شک ہوجاتا ہے کہ کتنا چکر ہوا، ایسے میں جس چکر میں شک ہواس کو شمار نہ کریں ، اس سے کم کو بنیاد بناکر طواف مکمل کریں مثلا کسی کو شک ہوا کہ تین چکر ہوا یا چار تو چار کو شمار نہ کرے ، تین کو بنیاد بنائےاور بقیہ چکر پورا کرے ۔
(18) یہ تو آپ جان چکے ہیں کہ طواف یا سعی میں ہرچکر کی الگ الگ مخصوص دعا ثابت نہیں ہے ، اسی طرح یہ بھی جان لیں کہ بعض لوگ نماز کی طرح طواف اور سعی کی بدعتی نیت کرتےہیں ۔طواف کی نیت کرتے ہوئے کہتے ہیں :(اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اُرِيْدَ طَوَافَ بَيْتِکَ الْحَرَامِ فَيَسِّرْهُ لِیْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّیْ سَبْعَة اَشْوَاطٍ ِﷲ تَعَالٰی عزّوجل)اور سعی کی نیت کرتے ہوئے کہتے ہیں:(اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اُرِيْدُ السَّعْیَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْ وَة سَبْعَة اَشْوَاطِ لِّوَجْهِکَ الْکَرِيْمِ فَيَسّرْهُ لِیْ وَتَقَبَّلْهُ مِنِّیْ)
طواف و سعی کے لئے ایسی نیت کرنا حدیث سے ثابت نہیں ہے ، یہ بدعتی عمل ہے اس سے باز رہا جائے۔
(19) اضطباع صرف  طواف میں ہے اس لئے سعی کرتے وقت اضطباع نہیں کرنا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کو سعی میں بھی اضطباع کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے ، ہوسکے تو آپ ایسے لوگوں کو صحیح بات بتائیں ۔
(20) طاقت رکھنے والوں کو چاہئے کہ اپنے قدموں سے چل کر عمرہ کے ارکان وواجبات پورا کریں لیکن اگر عذر کی وجہ سے ویل چیئر(سواری)  پر طواف یا سعی کرنے کی ضرورت ہو تو آپ سواری کا استعمال کرسکتے ہیں ۔
(21)عمرہ میں بال کے تعلق سے لوگوں میں مختلف قسم کی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ کتنے سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمرہ میں بال کٹاےیا نہ کٹائے کوئی مسئلہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں عورتیں بھی ہیں عمرہ کے سارے کام کرکے بال کٹائے بغیر احرام کھول دیتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگ عمرہ میں بال کٹاتے وقت سر میں کہیں کہیں سے چند بال کاٹ کر احرام کھول لیتے ہیں ۔تیسری بات یہ ہے کہ لوگوں میں یہ خیال بھی عام ہے کہ پہلی بار عمرہ کرنے پر بال منڈوانا ضروری ہے اور اس کے  بعدبال منڈوانا ضروری نہیں ہے ۔
انہی باتوں کی وجہ سے شروع میں عمرہ کے ارکان، واجبات اور سنن کا ذکر کیا ہوں تاکہ آپ کے لئے عمرہ کے مسائل سمجھنا آسان ر ہے ۔ عمرہ میں حلق(بال منڈوانا) یا قصر (چھوٹاکرنا)کروانا واجب ہے ، جو اس واجب کو ترک کرتا ہے تو اس کے ذمہ مکہ میں ایک بکری ذبح کرنا واجب ہے ۔جو لوگ کہیں کہیں سے سر سے چند بال کاٹ لیتے ہیں  اس نے بھی ایک واجب ترک کیا اور جس نے بال کٹایا ہی نہیں وہ تو واجب کا تارک ہے ہی ، ان دونوں آدمیوں کے ذمہ دم دینا ہے ۔اگر کوئی غلطی سے بال کٹانے سے پہلے ہی احرام کا لباس اتاردے پھر کچھ دیر بعد یاد آئے کہ غلطی ہوگئی تو وہ دوبارہ احرام کا لباس لگالے اور پھر بال کٹائے اس میں کوئی دم یا فدیہ نہیں ہے ۔
عمرہ پہلا ہو یا دوسرا تیسرا بال منڈوانا افضل ہے لیکن آپ بال کٹاتے ہیں تو یہ عمل بھی جائز ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم اس بات کا خیال رکھیں کہ پورے سر سے بال چھوٹا کرناہے ، کہیں کہیں سے نہیں ۔ اسی طرح عورتیں بھی پورے سر کے بال کو ایک جگہ جمع کرے اس میں سے انگلی کے ایک پور کے برابر بال کاٹ لے ۔
(22)عمرہ کے چار کام ہیں ، ان کو مکمل طورپر انجام دینے کے بعد آپ کا عمرہ پورا ہوجاتا ہے لیکن بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ عمرہ کرکے مدینہ نہیں گئے تو عمرہ نہیں ہوگا۔ یہ خیال غلط ہے، عمرہ کا مدینہ جانے سے تعلق نہیں ہے ، عمرہ ایک الگ عبادت ہے اور مسجد نبوی کی زیارت ایک الگ عمل ہے ۔ آپ نے عمرہ کا کام مکمل کرلیا ہے تو آپ کا عمرہ ہوگیا ، مدینہ جانا آپ کے لئے ضروری نہیں ہے ۔ہاں آپ مسجد نبوی کی زیارت کرنا چاہتے ہیں تو یہ بھی نیکی کاکام ہے مگر اس کا عمرہ سے تعلق نہیں ہے۔
(23) عمرہ کرنے کے بعد آپ کے پاس مزید ایام ہیں جو مکہ میں گزارناچاہتے ہیں تو ان ایام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پنچ وقتہ نمازیں حرم میں پڑھیں، وہاں تلاوت، ذکرودعا کا کثرت سے اہتمام کریں اور نفلی طواف(مع دوگانہ) ادا کریں ۔ بعض لوگ اپنے ہوٹل میں رہتے ہوئے امام حرم کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں ،یہ صحیح نہیں ہے ۔ کسی بھی مسجد کے امام کی  اقتداء مسجد میں کی جائے گی اس طرح کہ صفیں امام سے متصل ہوں ، مسجد سے باہر اپنے گھروں میں امام کی اقتداء صحیح  نہیں ہے ۔
(24) حدود حرم میں جتنی مساجد ہیں ان میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نماز کے برابر ہے حتی کہ عورتیں حدود حرم میں اپنی رہائش پر بھی نماز پڑھیں گی تو ایک لاکھ اجر ملے گا لیکن یاد رہے کہ بیت اللہ میں جاکر امام حرم کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے۔
(25) اگر کوئی کسی جگہ کا سفر کرے اور وہاں چار دن سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو تووہ اس جگہ پہنچ کر اول دن سے مقیم کے حکم میں ہے ، وہ مکمل نماز پڑھے گا لیکن اگر چار دن یا اس سے کم کسی جگہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ مسافر کے حکم میں ہے ، اپنی نماز قصر کے ساتھ ادا کرے گااور مسافر اگر مقیم کی اقتداء میں نماز پڑھے گا تو مقیم کی طرح مکمل نماز پڑھے گا۔
(26) بعض لوگ جب مکہ سے واپس جاتے ہیں تو کفن کو زمزم سے دھوکر لے جاتے ہیں ، یہ بدعتی عمل ہےاور اس سے میت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ میت کواس کا اپنا عمل فائدہ پہنچائے گالہذا کسی مسلمان بھائی یا بہن کو زمزم سے کفن دھوکر نہیں لے جانا چاہئے ، اگر کسی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اسے منع کریں ۔
(27) جب آپ اپنے ساتھ زمزم کا پانی لے جاتے ہیں تو غیرمسلم بھی مانگنے آتے ہیں، آپ غیرمسلم کو زمزم کا پانی دے سکتے ہیں ، زمزم کم ہو تو  اس میں عام پانی ملاکر لوگوں کو دے سکتے ہیں اور کسی مریض کو شفایابی کے لئے پلاسکتے ہیں ۔ زمزم بھی ایک قسم کا پانی ہے اسے بیٹھ کر پئیں ، اس کی کوئی مخصوص دعا ثابت نہیں ہے اور جو دعا عوام میں مشہور ہے(اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ عِلمًا نافعًا ورزقًا واسعًا وشفاءً من كلِّ داءٍ) یہ ضعیف ہے ۔
(28) بعض لوگ رجب میں عمرہ کرنے کو افضل سمجھتے ہیں ، یہ لوگوں کی جہالت ہے اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے ، آپ کبھی بھی عمرہ کرسکتے ہیں ، رجب کی تخصیص صحیح نہیں ہے البتہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا افضل ہے(رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرنے جیسا اجر ہے)اس لئے موقع ملے تو رمضان میں عمرہ کریں ورنہ کبھی بھی عمرہ کرسکتے ہیں ۔
آپ کو کیسے معلوم  ہوگاکہ آپ کا عمرہ قبول ہوا کہ نہیں ؟
آپ کاایمان و عقیدہ صحیح ہو(یعنی آپ دیندار ہیں اورشرک و بدعت کرنے والوں میں سے نہیں ہیں)، آپ نے کسی کی حق تلفی نہ کی ہو، آپ نے حلال پیسے سے اللہ کے گھر کا سفر کیا ہو، آپ نے اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے عمرہ کیا ہو(اس عمرہ میں لوگوں کے لئے دکھاوا، دنیا طلبی اور شہرت نہ ہو) ، آپ نے سنت کے مطابق جیسے اوپر بیان کیاگیا ہے عمرہ کیا ہو تو اپنے رب پر یقین رکھیئے کہ وہ آپ کا عمرہ قبول کرلیا ہے لیکن اگر ان باتوں میں کہیں آپ سے غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح کرکے پھر سے کامل طورپرعمرہ کریں ، بے شک اللہ قبول کرے گا۔
آج کل لوگ عمرہ پر نکلنے سے قبل عمرہ کا پرچار کرتے ہیں، دعوت پہ دعوت کھاتے ہیں، گھوم گھوم کر سب سے ملاقات کرتے ہیں ، لوگوں سے رسماًمعافی پہ معافی مانگتے ہیں ، عمرہ پہ جاتےوقت  ملاقاتیوں کا بڑا ہجوم لگارہتا ہے جو مالا پہناپہناکررخصت کرتا ہے ، واپسی پراسی طرح قطاروں میں کھڑے لوگ مالا لئے استقبال میں حاضر رہتے ہیں ۔ کیا اس طرح کا عمل ونمونہ عہد رسول اور اسلاف کی سیرت میں ملتا ہے ؟ عمرہ ایک عظیم الشان عبادت ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ بغیرہنگامہ کئے چپ چاپ اللہ کی رضا کے لئے عمرہ کریں تاکہ اللہ ہماری عبادت  قبول کرے ۔ کیا آپ کو صحیح مسلم(1905) کی وہ  حدیث یاد نہیں ہے جس میں مذکور ہےکہ  شہرت کی وجہ سے جہاد کرنے والے ، علم حاصل کرنے والے اور مال خرچ کرنے والے کو جہنم میں گھسیٹ کر پھینک دیا جائے گا۔ تو جو شہرت کے لئے عمرہ کرے گا اس کا بھی یہی حشر ہوگا، اسے بھی گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا اس لئے ہمیں عمرہ کی انجام دہی میں ایسے رسم و رواج اور اعمال سے بچنا چاہئے جو شہرت کے قبیل سے ہوں اور عبادت کے اخلاص کو ختم کرنے والے ہوں۔

مکمل تحریر >>