Saturday, December 31, 2022

مجرب وظیفہ کی شرعی حیثیت


 مجرب وظیفہ کی شرعی حیثیت
تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب
 
بیماری سے نجات پانے ، مشکل کو دور کرنے  اور اپنے کسی مقصد کو پانے کے لئے اکثر آپ نے وظیفہ کا لفظ سنا ہوگاجیسے  شادی کا وظیفہ ، اولاد کا وظیفہ، نوکری کا وظیفہ ، میاں یا بیوی کو قابو میں کرنے کا وظیفہ ، نفرت یا محبت پیدا کرنے کا وظیفہ ،ویزہ لگانے کا وظیفہ ،  پیٹ کم کرنے کا وظیفہ ، وزن بڑھانے یا گھٹانے کا وظیفہ ، خوبصورت اولاد پانے کا وظیفہ ، بیٹاحاصل کرنے کا وظیفہ، کینسر کاوظیفہ،کورونا کا وظیفہ وغیرہ  غرض ہرکام کا الگ الگ بلکہ ایک ایک کام کے سوسووظائف لوگوں میں مشہورہیں ۔
کچھ نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ بات پوری طرح واضح ہو۔ میں یہاں چھوٹے لوگوں کی بات نہیں کررہاہوں بلکہ بڑے اور عالم  طبقہ کی بات کررہا ہوں ۔پاکستان کے ایک  بڑے حنفی ادارے جامعہ نبوریہ عالمیہ کی ویب سائٹ پر مجرب وظائف کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اس میں سے چند نمونے یہاں پیش کرتا ہوں۔
٭پسند کی شادی کے لئے مجرب وظیفہ :سورہ طہ کی آیت نمبر 131، 132کسی کاغذ پر لکھ کربازو پر باندھ لیں۔
٭چوری شدہ بیک حاصل کرنے کا وظیفہ:سورہ بقرہ آیت نمبر148 کسی گول کٹے ہوئے کپڑے پر لکھ کراس پر بائک کا نام لکھ کرچوری شدہ جگہ پر کسی میخ سے لٹکادےبائک مل جائے گی ۔
٭نوکری کا وظیفہ : عشاء کی نماز کے بعد روزانہ یاوھاب 414 مرتبہ پڑھیں اور "یاوھاب ھل لی من نعمۃ الدنیا والآخرۃ انک انت الوھاب"112 مرتبہ پڑھے ۔
٭نرینہ اولاد کا مجرب وظیفہ:حمل ٹھہرنے کے بعد عورت کے پیٹ پر انگلی سے ستربارگول دارہ کھینچے اور ہردائرہ کے ساتھ "یامتین " پڑھے۔حمل کے شروع میں عورت کے داہنی پسلی پرسورہ الاعلی لکھے۔جب بچہ پیٹ میں ہو تو اس کا نام محمد تجویز کرے۔
٭جیل سے قیدی کی جلد رہائی کا وظیفہ:عصریا مغرب کے بعد سوالاکھ مرتبہ یہ آیت پڑھے "ربنااکشف عنا العذاب انامومنون"۔
٭کینسرکاوظیفہ:"اللھم صل علی محمد بعددکل داء ودواء وبارک وسلم"بعد نماز فجرومغرب دومرتبہ اس طرح پڑھےکہ سوبار پڑھنے کے بعد سات مرتبہ سورہ فاتحہ بغیر آمین اور تین مرتبہ سورہ اخلاص اور پھر سو مرتبہ مذکور درود شریف پڑھے اور اس کا ایصال ثواب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، حضرت مولانا محمدہاشمی سندھی ، اورحضرت مولانا یوسف لدھیانوی کو کرے اور مریض پر دم کرے اور پانی پر دم کرکے پلائے ۔
یہ دوچند نمونے ذکر کیا ہوں ، وگرنہ ان کے یہاں بڑی بڑی کتابیں وظائف پر موجود ہیں ۔ان سب کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے ،بس اتنا سمجھ لیں کہ  مسلمانوں کے بعض طبقات (اہل بدعت و اہل تصوف )میں ایک قسم کا دھندا ہے ، اس طبقہ کے اکثرعلماءاس کام میں ملوث ہیں ۔ کورونا کے وقت پاکستان کے ایک بڑے عالم نے ٹی وی پر آکر کورونا بھگانے کاوظیفہ بتایاتھاکہ تین مرتبہ سورہ فاتحہ ، تین مرتبہ سورہ اخلاص اور تین سو تیسرہ مرتبہ حسبنااللہ ونعم الوکیل پڑھوکورونابھاگ جائے گا۔انہوں نے رمضان المبارک 2022 کے موقع سے تیسرے رمضان کا خاص وظیفہ اس طرح بتایا کہ درورد ابراہیم گیارہ  بار، سورہ الم نشرح اکیس بار، سورہ قدر اکیس بار اور پھر درود ابراہیم گیارہ بارپڑھو ہرچھوٹابڑامرض دور ہوجائے گا ، اس قسم کے بہت سارے وظائف ان کی طرف سے منقول ہیں۔ یہ حضرت اپنے طبقہ میں شیخ الاسلام سےمشہورہیں ، جب شیخ الاسلام کا یہ حال ہے تو ان سے نیچے کا کیا حال ہوگا؟
آخر کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کہ لوگوں کے یہ بناؤٹی وظیفے شریعت کی روشنی میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ؟ شاید کم ہی لوگوں نے اس بارے میں سوچا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی یا مولوی نما لوگوں نے ہی اس کام کو بڑھاوا دیا ہےجس سے عوام کو لگتا ہے کہ یہ صحیح عمل ہے ۔ پھر مولویوں میں جب بڑے بڑے مولوی ہرہرکام کا الگ الگ وظیفہ گھڑگھڑ کر لوگوں میں پھیلائے تو چھوٹے چھوٹے مولوی اور مولوی نمامولوی پھر کیوں اس میدان میں پیچھے رہیں گے ۔ گویا بناؤٹی اور خودساختہ وظائف مولوی کی ہی دین ہے مگر یہ بدعتی مولوی ہیں ، سلف کا یہ شیوہ نہیں رہا ہےاور آج نوبت یہ آگئی ہے کہ ایک عام آدمی بھی شہرت اور مال کے لالچ میں وظائف کی دوکان اورکاروبار چلا رہا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کاروبار دین کے نام پر چل رہا ہے اور اس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ کتاب وسنت کا علم رکھنے والے بھی کچھ لوگ اس قسم کے وظائف بتانے لگے ۔ بعض علماء کی تقریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ دین بس وظائف کا نام ہے، دین کا عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بیحد افسوس کی بات ہے کہ جو دین عمل کرنے کے لئے آیاتھاآج اسے محض وظیفہ کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے اوراس کے نام سے کمائی کی جارہی ہے۔ ایسے میں غیورعلماء کوآگے آکراس قسم کے وظائف اور کاروبار پر روک لگانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے یا کم ازکم عوام کو اس کی حقیقت سے روشناس کرانا چاہئے تاکہ بدعات و خرافات سے بچ سکے۔  
آئیے میں آپ کو آج اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ مجرب وظیفہ کی کیا حیثیت ہے ؟ پہلے یہ جان لیں کہ مجرب وظیفہ کسے کہتے ہیں ۔ مجرب وظیفہ سے مرادکسی کا ایجاد اور تجربہ کیا ہوا وظیفہ یعنی کسی نے اپنی طرف سے کوئی وظیفہ ایجاد کیا ہواس کو مجرب وظیفہ کہتے ہیں ۔اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بناؤٹی وظیفہ کو مجرب وظیفہ کہاجاتا ہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین میں کسی کو وظیفہ ایجاد کرنے کی اجازت ہےاور جو متعددقسم کے مجرب وظائف بنائے گئے ہیں اور روزنئے نئے وظیفے بنائے جارہے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
اس سوال کا جواب کئی جہت سے جاننے کی کوشش کریں چنانچہ یہاں سب سے پہلی بات یہ جان لیں کہ دین اسلام، محمد ﷺ کے زمانہ میں ہی مکمل ہوگیا ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا(المائدہ:3)
ترجمہ:آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا نام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ چونکہ ہمارا دین مکمل ہوچکا ہے اس لئے کسی کو دین میں کوئی بات داخل کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے ، جو کوئی بات دین میں اضافہ کی جائے گی وہ بدعت اور مردود ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: من أَحْدَثَ في أَمْرِنَا هذا ما ليسَ فِيهِ، فَهو رَدٌّ(صحيح البخاري:2697،صحيح مسلم:1718،سنن أبي داود4606, سنن ابن ماجه:14,مشكوة المصابيح:140 )
ترجمہ: جس نے ہمارے دین میں اپنی طرف سے کوئی ایسا کام ایجادکیا جو دین میں نہیں تو وہ مردود ہے۔
اسی حدیث سے جہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دین میں جو بات داخل کردی جائے وہ مردودوباطل  ہے، اس کو بدعت کہتے ہیں ، اسی طرح ایک تیسری بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ تجربہ دین میں نہیں کیا جائے گا بلکہ دنیاوی معاملات میں تجربہ کیا جائے گا۔ دین پر ویسے ہی عمل کیا جائے گا جیساکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے چل کردکھایاہے۔
ان بنیادی تین باتوں کو جان لینے کے بعد اب یہ سمجھیں کہ وظیفہ ذکر ہے اور ذکرعبادت کی ایک قسم ہے لہذا عبادت کے باب میں جو ذکر جیسے وارد ہے اسی طرح کیا جائے گا۔ شریعت میں اذکار دوقسم کے ہیں ۔
پہلی قسم، خاص ذکر:بعض اذکار خاص ہوتے ہیں خواہ وہ  وقت کے ساتھ خاص ہویا مرض کے ساتھ خاص ہو یا ضرورت کے ساتھ خاص ہویا تعداد کے ساتھ خاص ہو جیسے  صبح وشام کے اذکار،  کسی بیماری کی خاص دعا، کسی خاص ضرورت  مثلاقرض کی دعا اور اسی طرح بعض ذکر میں تعداد متعین ہوتی ہے مثلا«لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ» دن میں سومرتبہ پڑھنا جس کی بڑی فضیلت وارد ہے ۔
دوسری قسم، عام ذکر:وہ تمام اذکار جو عام ہیں کسی خاص موقع سے نہیں ہیں وہ عام اذکار ہیں ان کو آپ کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں حتی کہ خاص اذکار بھی عام حالات میں کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ذکر کا مقصد اللہ کی بڑائی بیان کرنا ہے ۔
اب گزشتہ سوال کا جواب یہ ہوا کہ کہ دین میں وظیفہ بنانے اور ایجاد کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے ، یہ دین کا معاملہ ہے اور دین مکمل ہوچکا ہے ۔ گویا مجرب وظیفہ اسلام کی نظر میں بدعت ہےکیونکہ یہ وحی الہی نہیں ہے بلکہ انسانوں کی طرف سے ایجادکردہ ہے۔ آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ مصائب ومشکلات جیسے آج ہیں کل بھی موجود تھے ، عہد صحابہ میں بھی موجود تھے ، کیا صحابہ کرام اپنی طرف سے الگ الگ کام کا الگ الگ وظیفہ ایجادکیا کرتے تھے ۔ فلاں کام کےلئے فلاں آیت یا فلاں ذکر313 مرتبہ فلاں وقت میں پڑھو؟ کیا آپ نے کسی صحابی کا ایسا کوئی عمل سنا یا پڑھا ہے ؟ آپ نے ایسا نہیں سنا یا پڑھا ہوگا کیونکہ صحابہ کرام ایسا کرتے ہی نہیں تھے ۔ وہ اسی طرح سے ذکر کرتے تھے جیسے نبی ﷺ نے تعلیم دی ہے ۔ آخر سب سے پہلے صحابہ نے ہی نبی ﷺ سے دین سیکھا پھر دوسروں کو سکھا یا، تو صحابہ نے دین کو عین اسی طرح پہنچایاجیساکہ نبی سے سیکھا ، اپنی طرف سے کوئی نہ ذکرایجادکیا او ر نہ ہی کسی ذکر کی کوئی تعداد متعین کی ۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سونے کے وقت ایک ذکر جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی ہے اس ذکر میں ایک صحابی نےلفظ"نبی" کی جگہ رسول پڑھ دیا تو نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ نبی کہو۔ وہ حدیث دیکھیں اور عبرت حاصل کریں ۔
نبی ﷺ نے سونے کے وقت ایک دعا سکھائی ہے وہ یہ ہے:«اللهم أسلمت وجهي إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وفوضت أمري إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏وألجأت ظهري إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رغبة ورهبة إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت،‏‏‏‏ ‏‏‏وبنبيك الذي أرسلت‏»(بخاری:247، مسلم:2710)
اس دعا کے جملہ"وبنبيك الذي أرسلت" میں نبی کی جگہ صحابی نے رسول یعنی «ورسولك‏» کا لفظ کہہ دیا تو نبی ﷺنے فرمایا اس طرح کہو:"وبنبيك الذي أرسلت"۔
جب ایک ذکر میں کوئی صحابی نبی کی جگہ رسول کا لفظ استعمال نہیں کرسکتا ہے اور یہ ممانعت رسول اللہ ﷺ سے وارد ہے پھر کسی عالم یا عام آدمی کواپنی طرف سے  وظیفہ گھڑنے یا وظیفہ کی تعداد متعین کرنے یا کوئی وقت خاص کرنے یا کوئی خاص فضیلت بیان کرنے یا کسی خاص ضرورت وحاجت سے جوڑنے کی کیسے اجازت ہوسکتی ہے ؟
اس لئے جان لیں کہ کوئی عالم ہو یا غیرعالم ان  کو اجازت نہیں ہے کہ وہ
٭ کسی آیت یا ذکریادعا کو اپنی طرف سے کسی حاجت کے لئے خاص کرے جس کو شریعت نے خاص نہیں کیا ہو۔
٭کسی آیت یا ذکریادعاکی تعداد اپنی طرف سے متعین ومقررکرے جو تعداد شریعت نے نہ بتلائی ہو۔
٭کسی آیت یاذکریادعاکا وقت اپنی طرف سے متعین کرے جووقت  شریعت نے متعین نہ کیا ہو۔
٭مذکورہ تین باتوں کے علاوہ بعض ایسے بھی کلمات ذکر کے طور پر کہے جاتے ہیں جو اصلا ذکر ہیں  ہی نہیں جیسے یااللہ ، الااللہ ، یاودود، یاوھاب، یالطیف، یامتین وغیرہ ۔ اس قسم کے اذکار رسول اللہ ﷺ سے وارد نہیں ہیں ۔ ذکراس قسم کا ہوتا ہے ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر، لاالہ الااللہ ، لاحول ولاقوۃ الاباللہ  وغیرہ۔۔یعنی ذکر ایک ایسا کلمہ ہے جس سے کوئی ایک اہم بات سمجھی جاتی ہے جیسے ہم اللہ اکبر کہتے ہیں تو اس سے اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں جبکہ اللہ اللہ یا الااللہ میں بات مکمل نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کا ذکرشریعت میں وارد ہے ۔
٭کبھی کبھی لوگ کسی ذکر کو ایک لاکھ مرتبہ مل مل کر آپس میں تقسیم کرتے پڑھتے ہیں مثلا ایک لاکھ مرتبہ درود دس افراد مل کردس دس ہزار کرکے پڑھے ، اس طرح اجتماعی صورت میں ذکر کرنا بھی بدعت ہے کیونکہ شریعت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
٭کسی ذکر اور وظیفہ کو لکھ کر جسم میں کہیں لٹکانا شرک ہےکیونکہ نبی ﷺ نے ہرقسم کے تعویذکو شرک قرار دیا ہے ۔
٭ کسی عورت یا مرد کے جسم پرقرآن لکھنا قرآن کی بے حرمتی ہے ، العیاذ باللہ ۔عالمی ادارہ کیسےحاملہ  عورت کی پسلی پر سورہ الاعلی لکھنے کی تعلیم دیتا ہے اور کیسے پیٹ پر سترمرتبہ گول دائرہ بنانے اور اس پر یامتین پڑھنے کو کہتا ہے ۔دراصل ایسی ہی تعلیمات کی وجہ سے سماج میں ایمان فروش عاملین وافرمقدار میں پیداہوگئے جنہوں رقیہ کے نام پر عورتوں کی عفت وعصمت سے کھلواڑ کیا حتی کہ عورتوں کی   شرمگاہ پر بھی اشیاء رکھی جاتی ہیں ، الحفظ والاماں۔
٭ کسی مجرب وظیفہ کو انجام دینے سے اگر کچھ فائدہ نظر آئے تو اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ اسی خاص وظیفہ سے فائدہ ہوا ہے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ فائدہ پہنچانے والا اللہ ہے ، وہ بنامانگے بھی دیتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہواکہ ہر قسم کا مصنوعی اور مجرب وظیفہ  بدعتی ہے اور بدعتی وظیفہ شریعت کی نظر میں مردود وباطل  ہے لہذا آپ لوگ اس قسم کے وظائف سے دور رہیں ۔ بدعت پر عمل کرنے میں کوئی  بھلائی نہیں ہے ، بھلائی اس طریقہ میں ہے جس کو شریعت نے مقررکیا ہے ۔
یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ  جیسےہم  اپنی زبان میں اللہ سے دعا مانگ سکتے ہیں اسی طرح اپنی زبان میں بھی اللہ کی بڑائی بیان کرسکتے ہیں ،ا س میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے لیکن کسی مقصد اور ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مخصوص وظیفہ ایجاد کرنا، یا وظیفہ میں اپنی طرف سے تعداد اور وقت متعین کرنا بے دینی ، جہالت اور بدعت ہے ۔
آئیے آپ کو پریشانی کا شرعی علاج وحل بتاتاہوں ۔آپ کسی بھی معاملہ میں پریشان ہیں یا بڑی سے بڑی مصیبت میں آپ مبتلا ہیں تو پہلے ایمان درست کریں، گزشتہ برے اعمال سے توبہ کریں اور اللہ سے تعلق جوڑیں اوراس کی بندگی کریں جس کے لئےاس نے  ہمیں پیداکیا ہے ،ساتھ ہی اذکار بھی کرتے رہیں، دعابھی کریں خصوصا افضل اوقات میں اور دنیاوی اسباب بھی اپنائیں ۔اس طرح سے ہم شریعت کے دائرےمیں مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج ہمارے اعمال بدسے بدترہیں، پانچ کی نماز تک صحیح سے ادا نہیں کرتے اور دن ورات نہ جانے کتنے کفریہ عمل اور معصیت کے کام کرتے ہیں نتیجتا ہم مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو مشکل سے نکلنے کے لئے ان اسباب کودور کرنا پڑے گا جن کی وجہ سے مصیبت آئی ہے تبھی مصیبت کا صحیح علاج ہوگاورنہ ایک وظیفہ پڑھنے سے ممکن ہے کچھ جھوٹی تسلی  مل جائے مگر نجات توبالکل نہیں ملے گی خصوصا اخروی نجات۔
دین پرعمل کرنے والوں کو پریشانی لاحق ہوتی ہے اور اللہ تعالی نے جنت کو پریشانیوں سے گھیررکھا ہے اس جنت میں داخل ہونے کے لئے دنیا میں ہی پریشانی برداشت کرنی ہے اس لئے اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھی جائے ۔ دین قرآن اور حدیث کا نام ہے ، اس پورے دین  پر چلنا ہمارا کام ہے ۔اسی  پرچل کرہمیں دنیا میں  بھی اللہ کی  طرف سے نجات و نصرت ، رحمت وشفقت  اور فوزوترقی ملتی ہے اورآخرت  میں بھی ملے گی ۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, December 28, 2022

سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ایموجی کا استعمال کیسا ہے ؟


 سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ایموجی کا استعمال کیسا ہے ؟

مقبول احمد سلفی /جدہ دعوہ سنٹر

 

ایموجی (Emoji) ایسی تصویر یا شبیہ کو کہتے ہیں جو مختلف قسم کے خیالات اور احساسات و جذبات کی ترجماتی کرتی ہے، ایموجی کا استعمال سوشل میڈیا پر کیا جاتا ہے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ ۔ایموجی میں جاندار و غیرجاندار دونوں قسم کی تصویر آتی ہیں ۔ یہاں ہمیں یہ جاننا ہے کہ جاندار پر مشتمل ایموجی استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

ایموجی میں عموما جاندار کی ادھوری تصویر ہوتی ہے جیسے چہرہ ،ہاتھ، پیر،ہونٹ، کان ، دل وغیرہ تاہم مکمل تصویربھی ہوتی ہے اور غیرجانداربھی ہوتی ہے۔ان مختلف قسم کے ایموجی  کے ذریعہ انسان مختلف قسم کے دلی خیالات اور  قلبی احساسات کا اظہار کرتا ہے جیسے پسندکرنا، ناپسندکرنا، غصے کا اظہار کرنا، خوشی کا اظہارکرنا، غم کا اظہارکرنااورمحبت کا اظہار کرنا وغیرہ ۔ خیالات وجذبات کے اظہار کے لئے ان ایموجی کے استعمال کا حکم جاننے اور سمجھنے کے لئے پہلے یہ جان لیں کہ اسلام میں ہرقسم کے جاندار کی تصویر حرام ہے خواہ وہ ڈیجیٹل تصویر ہو یا ہاتھ سے بنائی گئی تصویر ہو۔ اس کے بعد مندرجہ ذیل دو احادیث پر غور فرمائیں ۔

پہلی حدیث:سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصُّورَةُ الرَّأْسُ ، فإذا قُطِعَ الرَّأْسُ ، فلا صُورَةَ(السلسلة الصحيحة:1921)

ترجمہ:تصویر (‏‏‏‏کا تعلق) سر سے ہے، اگر سر کاٹ دیا جائے تو تصویر (‏‏‏‏کا حکم) نہیں رہتا۔

دوسری حدیث:ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أتاني جبريلُ فقالَ : إنِّي كنتُ أتيتُكَ البارحةَ فلَم يمنعني أن أَكونَ دخلتُ عليكَ البيتَ الَّذي كنتَ فيهِ إلَّا أنَّهُ كانَ في بابِ البيتِ تمثالُ الرِّجالِ ، وَكانَ في البيتِ قِرامُ سترٍ فيهِ تماثيلُ ، وَكانَ في البيتِ كَلبٌ، فمر برأسِ التِّمثالِ الَّذي بالبابِ فليُقطعْ فيصيَّر كَهَيئةِ الشَّجرَةِ، ومُر بالسِّترِ فليُقطَعْ ويجعلُ منهُ وسادتينِ منتبذَتينِ تُوطآنِ ، ومُر بالكلبِ فيُخرَجُ( صحيح الترمذي:2806)

ترجمہ:میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر مردوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے پردے پر بھی تصویریں تھیں۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، تو آپ ایسا کریں کہ دروازے کی «تماثیل» (مجسموں) کے سر کو اڑوا دیجئیے کہ وہ مجسمے پیڑ جیسے ہو جائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئےجو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چنانچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔

ان دونوں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر میں سب سے اصل و اہم "سر "ہوتا ہے۔ اگر تصویر سے "سر "کاٹ دیا جائے تو پھر وہ تصویرکے حکم میں نہیں ہے یا اس بات کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ تصویر سے ایسا حصہ نکال دیا جائے جس سے روح ختم ہوجائے تو پھر وہ تصویر کے حکم میں نہیں ہے کیونکہ اب اس تصویر میں جان نہیں بچی ، بے جان چیز ہوگئی اور بے جان چیز جیسے درخت، پہاڑ ، سمندر کی تصویر ہے اسی کے مانند ہوگئی۔لہذا اس قسم کی تصویر جس میں جان نہ ہو یا جس تصویر سے سرکاٹ کر ہٹادیا جائے تو اس کے استعمال میں حرج نہیں ہے ۔

چونکہ ایموجی میں مکمل تصویر نہیں ہوتی بلکہ تصویر کا بعض جزء یاحصہ ہوتا ہے اس وجہ سے بعض علماء ایموجی کے استعمال کو جائز کہتے ہیں مگر میں ایموجی کی فہرست میں شامل تمام قسم کےایموجی پر غور کرتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ  ایموجی کو علی الاطلاق جائز نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس میں ایسی بھی ایموجی موجود ہیں جن میں قباحت معلوم ہوتی ہے ۔قباحت والے چندقسم کے ایموجی کو آپ کے سامنے بیان کرتاہوں ،اس سے پہلے نبی ﷺکا یہ فرمان جان لیں ۔ ارشاد نبوی ہے :

دع ما يَريبكَ إلى ما لا يَريبُكَ ، فإنَّ الصِّدقَ طُمأنينةٌ وإنَّ الكذبَ رِيبةٌ(صحيح الترمذي:2518)

ترجمہ:اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے اور جھوٹ دل کو بے قرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں ایسی کوئی چیز جس کے استعمال میں شک پیداہوجائے یاترددمعلوم ہو اس کا نہ استعمال کرنا ہی بہتر ہے ۔ اب ذرا ایموجی کی فہرست میں شامل ان ایموجی پرغورکریں جن کے بارے میں دل کھٹکتاہے اور استعمال میں حرج معلوم ہوتا ہے۔

(1)ایموجی میں مختلف قسم کے چہرے ہیں جن میں باقاعدہ سر، آنکھ، ناک اور کان وغیرہ بھی ہوتے ہیں ۔ ایسے میں یہ مکمل تصویر تو نہیں مگر تصویر کا اہم حصہ تو ضرور ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ تصویر سر کا نام ہے ۔

(2)چہرہ اور ہاتھ کی مختلف تصاویر میں بعض تصاویر قابل اعتراض ہیں جیسے غصہ کا اظہارکرنا، رونا، مکا مارنا، عشق ومحبت کااظہارکرنا، ڈرانا، تالی بجانا حتی کہ  ہاتھ جوڑنے(نمستے) کی بھی تصویر ہے جو ہندؤں کے یہاں عبادت کی علامت ہے ، ایک مسلمان کے لئے اس کا استعمال کرناجائز نہیں ہے۔

(3)انسانی جذبات کی ترجمانی بلی اور بندر کی شکل میں بھی کی گئی ہے حتی شیطانی اور ڈرانی اشکال بھی پائی جاتی ہیں۔

(4)ان ایموجی میں بعض  عیب دار اور ناپسندیدہ چیزیں بھی ہیں مثلا قے کرنا، ناک سے دھواں نکالنا، مذاق اڑانا،نجاست اور جھینک کی علامت وغیرہ

(5)ایموجی والے چہروں میں عورتوں کے بھی مختلف قسم کے چہرے شامل ہیں بلکہ چہروں کے علاوہ ان کے ہونٹ ، ہونٹوں کی مختلف کیفیات ،عورت کی مکمل تصویر ، نیم عریاں تصویر اورعورت ومرد کی اکٹھی تصویریں بھی ہیں۔

مذکورہ بالا امور کے علاوہ اور بھی قابل اعتراض امور ہیں جن سب کا ذکر یہاں نہیں کیاگیا ہےتاہم سمجھنے کے لئے یہی کافی ہیں۔

(6)ایموجی میں فحش علامات بھی بہت ہیں جیسے عشق ومحبت کے اظہار کے لئے مختلف قسم کے دل ، مختلف قسم کے ہونٹ ، بوسہ لینااور آنکھ مارنا وغیرہ

ان سارے امور پر غورکرکے دیکھیں  اور فیصلہ کریں کہ کیا ایموجی کوعلی الاطلاق جائز کہہ سکتے ہیں ؟ بالکل نہیں ۔ ان میں بہت ساری چیزیں حیاکے خلاف ہیں، بہت ساری چیزیں فحش ہیں اور بہت ساری چیزیں بری صفات میں داخل ہیں اوربہت سارے احساسات اس قبیل سے ہیں جن کا اظہار ہمیں دوسروں کے سامنے نہیں کرنا چاہئے بلکہ چھپانا چاہئے ۔سمجھنے کے لئے ایک بات ہی  کافی ہے کہ ایک مسلمان اپنے جذبات واحساسات کے اظہار میں پوری طرح آزاد نہیں ہے ۔بہت ساری چیزیں اظہار کے قابل ہوتی ہیں اور بہت ساری چیزیں اظہار کے قابل نہیں ہوتی ہیں یا چھپانے کے قابل ہوتی ہیں اور بہت ساری چیزیں صرف عورتوں کے درمیان یا صرف مردوں کے درمیان ہوتی ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن ایموجی میں قباحت نہیں ہے ان کے استعمال میں حرج نہیں ہے جیسے پسند و ناپسندکرناتاہم  علی الاطلاق ایموجی کا استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح ایموجی کا استعمال کرنے سے ، ان ایموجی میں جو قبیح قسم کے ایموجی ہیں ان کی قباحت بھی ذہن سے نکل جائے گی پھرشعوری یالاشعوری طورپر کسی  وقت کچھ بھی علامت استعمال کرسکتے ہیں اور کسی کے لئےبھی  استعمال کرسکتے ہیں ۔

اپنی بات کہنے اور جذبات کا اظہارکرنے کے لئے کلام کا سہارا لیں اور اس وقت ہرقسم کے تحریری اسٹیکر زبھی دستیاب ہیں، چاہیں تو ان کا استعمال کریں بلکہ ان اسٹیکرز میں اچھے اچھے دعائیہ کلام بھی ہوتے ہیں ان کا استعمال کرنا اور بھی اچھا ہے ، کسی کو دعا بھی دے سکتے ہیں اور بدلہ میں آپ کو بھی دعاملے گی ۔

مکمل تحریر >>

Thursday, December 22, 2022

ربیع الاول کے مہینے میں سیرت کا پروگرام منعقد کرنا


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میسور میں ضلعی جمعیت اہل حدیث کی کمیٹی تشکیل پائی ہے الحمدللہ۔جیسے ہی کمیٹی بنائی گئی اس کے کچھ ہی دنوں بعد دوسری میٹنگ علماء اور ضلعی جمعیت کے مابین دعوت وتبلغ کے سلسلے میں منعقد ہوئی۔تمام علماء کی اتفاق رائے سے سیرت رسول کے عنوان پر تمام ضلع کی اہلحدیث مساجد میں پروگرام منعقد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیااور وہ ربع الاول کا مہینہ تھا تو ہم 10ربع الاول سے پروگراموں کا آغاز کر نا چاہ رہے تھےلہذا 10 ربیع الاول کو مرکزی مسجد اہل حدیث میں پہلا پروگرام تھالیکن کچھ وجوہات کی بناء پر اس پروگرام کے منعقد کرنے کی اجازت نہیں مل سکی تو ہم نے 12 ربع الاول سے پروگراموں کا آغاز کیا۔واضح رہے کہ یہ پروگرام ربیع الثانی کے ابتدائی دنوں تک جاری رہیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ
ہمارا مقصد نبی اکرم کی سچی سیرت کو بیان کرنا مقصود تھا نہ کہ عید میلاد النبی کی مناسبت سے ان پروگرام کا انعقاد مقصود تھاتو اس کا حکم کیا ہے کیا ایسا کر نا بدعت ہے؟؟اور ربیع الاول کے مہینے میں سیرت النبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر بیانات اور تقاریر کرنا کیسا ہے ؟؟؟
گذارش:
آپ سے نہایت عاجزانہ گذارش ہے کہ اس سوال کا جواب جلد از تحریری شکل میں فراہم کرکے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں تاکہ یہاں کے لوگوں کو صحیح رہنمائی مل سکے اور کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء
سائل حافظ عبدالواسع بن عبدالخالق الفیضی (حال مقیم میسور کرناٹک )
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون اللہ الوھاب
عموما ماہ ربیع الاول میں علماء ، دعاۃ اور خطباء سیرت کو ہی موضوع بناکر امت کو صحیح سیرت رسول سے واقف کراتے ہیں ۔ جمعہ کے خطبات میں کہیں بدعات کا رد، کہیں اتباع سنت تو کہیں سیرت رسول ذکر کئے جاتے ہیں ، مبلغین بھی اسی طرح کا موضوع اختیار کرتے ہیں ۔ اس عمل میں کوئی حر ج نہیں ہے، ایسا بہت پہلے سے ہوتا آرہاہے ۔ تاہم یہاں ایک بات جو قابل ذکر ہے وہ شبہات سے دور رہنا ۔
سوال میں جس طرح کا منصوبہ بنایا گیا ہے شرعا اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، وہ دس یا بارہ ربیع الاول سے موقع کی مناسبت سے دروس ومواعظ ترتیب دے ۔ یہاں تاریخ متعین کرکے کوئی رسم یا کوئی خاص عمل انجام دینا نہیں ہے لیکن اہل بدعت کے لئے ہمارے خلاف ایک دلیل بن سکتی ہے کہ اب اہل حدیث بھی ہماری طرح محفل منعقد کرتے ہیں ۔ وہ بھی میلاد کا مقصد سیرت رسول بیان کرنا بتاتے ہیں اس حیثیت سے کہیں ہمارا یہ طریقہ اہل بدعت ہمارے خلاف نہ استعمال کرے، بلکہ دوسری جگہ اہل حدیث عوام کو نہ ورغلائے ۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں ایک آدھ بیان سیرت رسول پر جس طرح خطبات میں ہوتے ہیں حرج نہیں ہے لیکن منصوبہ بند طریقہ سے اس ماہ میں سیرت کو ہی بیان کرنا اہل بدعت کے واسطہ سادہ عوام کے لئے ایک دلیل بن سکتی ہے اس سے بچا جائے تو بہتر ہے ۔ آپ دروس دیں مگر سیرت کے علاوہ بہت ساری اہم چیزیں ہیں سب سے اہم توحید ہے اس سے ابتدا ء کریں ۔ اور پھر ایسا بھی نہ ہو ربیع الاول میں دروس کا منظم سلسلہ اور بعد میں سکوت کا سلسلہ ۔ یہ پروگرام تسلسل کے ساتھ ہو ، خاص ربیع الاول نہ ہو۔
ھذا ماعندی، واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی

  

مکمل تحریر >>

درس قرآن کے وقت سامعات کا نیچے بیٹھ کر ہاتھ میں قرآن لینا

 
درس قرآن کے وقت سامعات کا نیچے بیٹھ کر ہاتھ میں قرآن لینا
 
سوال :خواتین درس قرآن  کے وقت  ہاتھ میں قرآن لے کر درس سنتی ہیں جبکہ معلمہ کرسی پر بیٹھ کر درس دیتی ہیں ایسا کرنے میں کوئی حرج ہے؟
جواب:قرآن سب سے اعلی و ارفع چیز ہے اس کی بلندی کا ہمیشہ پاس ولحاظ رکھنا چاہئے ۔دینی اداروں میں قرآن وحدیث کی تعلیم دیتے وقت استاد وشاگرد برابرمیں  بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، کتاب رکھنے کے لئے سامنے ایک اونچی تپائی ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں قرآن کی تعلیم دینے پر قرآن  بلندرہتا ہے ۔اگر کوئی معلمہ کہیں پر درس قرآن دے رہی ہیں جہاں پر سامعات ہاتھ میں قرآن لے کر درس سن رہی ہیں تو معلمہ کو بھی دینی اداروں کی طرح طریقہ درس پر عمل کرنا چاہئے لیکن خود وہ کرسی پر بیٹھ رہی ہیں تو طالبات کے لئےبھی  میزکا بندوبست کرنا چاہئے ۔
علمائے کرام مساجد وغیرہ میں درس قران کا اہتمام کرتے ہیں خصوصا رمضان کے موقع پر ، اس درس میں شریک ہونے والے سامعین کی حیثیت سے شریک ہوتے ہیں وہ صرف درس سے مستفید ہوتے ہیں ، اپنے اپنے میں قرآن نہیں رکھتے ہیں ،  تو اس طرح کے درس قرآن میں بھی ہاتھ میں قرآن لینے کی ضرورت نہیں ہے ، اصل مقصد ہوتا ہے قرآن کا پیغام سننا اور سمجھنا ۔ سوال میں مذکور خواتین کا درس قرآن خاص طالبات کے لئے نہیں بلکہ عام ہے تو سامعات کا ہاتھوں میں قرآن رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ، پھر بھی کوئی مصحف اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہے تو وہ اپنے سامنے اونچی میز رکھ لے جس پر قرآن رکھے یا ہاتھ کو اوپر اٹھا کر رکھے، زمین پر مصحف نہ رکھے یا پھر موبائل اور مختلف قسم کے ٹیب فون آتے ہیں ان کا استعمال کرے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی /جدہ
 
مکمل تحریر >>

Monday, December 19, 2022

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(قسط:30)


 
بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(قسط:30)
جواب از مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ، سعودی عرب
سوال(1): کسی بہن کا رشتہ لگاہو اور شوہر چاہتا ہوں کہ لڑکی کے بارے میں جانکاری حاصل کرے کہ وہ اس کے حق میں صحیح ہے یا نہیں تو یہ جائز ہے ؟
جواب:شادی سے قبل منگیتر کو دیکھنے کی اجازت ہے ، لڑکا لڑکی کو دیکھ سکتا ہے ۔اور اس لڑکی سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کا مسئلہ ہے کہ وہ دین و اخلاق میں ٹھیک ہے کہ نہیں تو یہ معلومات بھی پاس پڑوس کے لوگوں سے یا اس کے رشتہ داروں سے لے سکتا ہے لیکن اگر لڑکی کو جاننے کا مطلب اس سے تنہائی میں ملنا، باتیں کرنا، اس کے ساتھ ڈیٹنگ کرنا، چائے پہ بلانا یا اس کے ساتھ کچھ وقت گزار کراس کو سمجھنا تو سارے کام ناجائز ہیں ۔یہ مغربی تہذیب اور فساق و فجار کا کلچر ہے ، اسلام ہمیں ان باتوں کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔نکاح سے قبل  لڑکالڑکی کو دیکھ سکتا ہے اور لوگوں سے اس کے دین واخلاق کی معلومات لے سکتا ہے ، اس کی اجازت ہےمگر لڑکی کوسمجھنے کے لئےمروجہ مغربی تہذیب کی اجازت نہیں ہے ۔
سوال(2): ایک عورت نے اپنا عمرہ کرلیا ، وہ اپنے زندہ شوہر کی جانب سے عمرہ کرنا چاہتی ہے ، کیا یہ عمل درست ہوگا؟
جواب:اگر شوہر خود سے عمرہ کرنے کی قدرت واستطاعت رکھتا ہو تو بیوی اس کی طرف سے عمرہ نہیں کرے گی لیکن اگر شوہر خود سے عمرہ کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، عاجز ہو یعنی بیماری یا بڑھاپا کی وجہ سے لاچار ہو تو پھر ایسے شوہر کی طرف سےعمرہ کرسکتی ہے ۔
عن الفضل : ان امراة من خثعم، قالت: يا رسول الله، إن ابي شيخ كبير عليه فريضة الله في الحج وهو لا يستطيع ان يستوي على ظهر بعيره، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " فحجي عنه ".(صحيح مسلم:3252)
‏‏‏‏ترجمہ: فضل سے روایت ہے کہ ایک عورت قبیلہ خثعم کی اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ بوڑھا ہے اور اس پر حج اللہ تعالیٰ کا فرض کیا ہوا ہے اور وہ سواری کی پیٹھ پر بخوبی نہیں بیٹھ سکتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ تم اس کی طرف سے حج کرو۔“
گوکہ یہ دلیل فرض حج سے متعلق ہے مگر اہل علم نفلی حج  بدل کی بھی اجازت دیتےہیں ۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ میری والدہ فرضی حج کرچکی ہیں، ان کی طرف سے حج کرنا چاہتا ہوں کیا ان سے اجازت لینا ضروری ہے تو شیخ نےجواب دیا کہ  اگر آپ كى والدہ بڑھاپہ يا لاعلاج مريض جس سے شفا ممكن ہو كى بنا پر حج كرنے سے عاجز ہيں تو ان كى جانب سے حج كرنے ميں كوئى حرج نہيں چاہے بغير اجازت ہى كيا جائے۔(فتاوى ابن باز:16/414)
سوال(3):بہت ساری عورتیں آنکھوں میں کانٹیکٹ لینس لگاتی ہیں کیا جب آنکھوں میں لینس لگے ہوں تو وضو ہو جائے گا؟
جواب:اس سوال سے متعلق ایک ذیلی سوال پیدا ہوتا ہے جس کو پہلے جاننا ضروری ہے تاکہ اصل سوال کا جواب بخوبی سمجھ میں آسکے ۔ وہ ذیلی سوال یہ ہے کہ کیا آنکھوں میں کانٹکٹ لینس استعمال کی اجازت ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک لینس ضرورت کے تحت لگایا جاتا ہے ، آنکھوں کی کمزوری کی وجہ سے ، یہ جائز ہے اس میں کوئی کلام نہیں لیکن وہ لینس جو زینت وفیشن کے طور پہ آنکھوں کا رنگ بدلنے کی خاطر استعمال کیا جاتا ہے وہ جائز نہیں ہے ۔ اب رہا اصل سوال کہ آنکھوں پر لینس لگے ہوں تو وضو ہوگا کہ نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وضو ہوجائے گا کیونکہ وضو میں آنکھوں کے داخلی حصے کو دھونے کا حکم نہیں ہے بلکہ اوپری حصہ ہی کو دھونا کافی ہے جسے آنکھوں کا پپوٹا (غلاف چشم) کہتے ہیں اس لئے کوئی مرد یا عورت ضرورت کے تحت آنکھوں میں لینس لگائے ہوئے ہو تو بغیر لینس اتارے وضو کرسکتے ہیں ، وضو ہوجائے گا حتی کہ غسل بھی ہوجائے گا کیونکہ غسل میں بھی آنکھوں کے اندرونی حصے میں پانی داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال(4): کیا چار ماہ کا بچہ گرجائے تو اس کو غسل و کفن کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گااور نام بھی رکھا جائے گا اور عقیقہ بھی کیا جائے گا؟
جواب:یہ بات صحیح ہے کہ چار ماہ بعد اگر کوئی بچہ گرجائے تو اس کو غسل دیا جائے گا ، کفن دیا جائے اور نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گا۔جہاں تک نام رکھنے اور اس کی طرف سے عقیقہ کرنے کا سوال ہے تو حدیث میں ساتویں دن نام رکھنے اور عقیقہ کرنے کا حکم ہے ، جو بچہ اس سے پہلے مرجائے تو نام رکھنے اور عقیقہ کرنے کا مسنون دن نہیں پاتا ہے اس لئے اس مردہ بچے کا نہ نام رکھا جائے گا اور نہ ہی اس کا عقیقہ کیا جائے گا۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ اگر چار ماہ کے بعد مردہ بچہ پیدا ہو تو اس کا نام بھی رکھا جائے گا اور ساتویں دن اس کی طرف سے عقیقہ بھی کیا جائے گا۔اس موقف سے مجھے اختلاف ہے ، نام کا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن عقیقہ اہم مسئلہ ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ جو میت شب عید نہیں پاتا تو اس کی طرف سے فطرانہ نہیں ہے کیونکہ اس نے وقت وجوب نہیں پایا ہے پھر جو بچہ عقیقہ کا مسنون دن نہ پائے اس کی طرف سے کیوں عقیقہ دیا جائے گا؟ شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں کہ اگر انسان چاند رات سورج غروب ہونے سے قبل فوت ہو گيا تو اس پر فطرانہ واجب نہيں كيونكہ وہ وجوب كے سبب سے قبل ہى فوت ہو گيا ہے۔(فقہ العبادات:211)فطرانہ کی طرح ٹھیک یہی حکم میت بچہ کے لئے عقیقہ کے سلسلہ میں ہے۔
سوال(5):استعمال کے زیورات میں جب زکوۃ دیں گے تو قیمت خرید کے حساب سے زکوۃ دیں گے یا قیمت فروخت کے حساب سے ؟
جواب:یہ بات واضح رہے کہ استعمال کے زیوارت پر بھی زکوۃ ہے اور سونے چاندی کے زیورات جو نصاب کو پہنچ رہے ہوں ، ان پر جب سال گزر جائے تو بازار سے ان زیورات کی موجودہ قیمت فروخت معلوم کی جائے ، جو موجودہ قیمت بنے گی اس قیمت میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ دینی ہوگی ۔
سوال(6): کیا اپنی بیٹی کا نام سدرۃ المنتہی رکھ سکتے ہیں ؟
جواب:قرآن میں سدرۃ المنتہی کا لفظ آیا ہے جو بیری کے درخت کو کہتے ہیں ، یہ درخت چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے۔ سدرہ کے ساتھ المنتہی کا جولفظ مستعمل ہے اس سے مرادفرشتوں کی آخری حد ہےیعنی فرشتے اس حد سے آگے نہیں جاسکتے ہیں۔ سدرہ ٹھیک ہے بطور نام رکھ سکتے ہیں ، اس میں المنتہی لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ویسے ناموں کےلئے صحابیات اور صالحات کے ناموں پررکھاجائے تو بہتر ہے ۔
سوال(7):ہماری ایک پڑوسن ہیں وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے دین کا علم حاصل نہیں کیا لیکن ان پر جن ہیں اور اس جن نے انہیں علم سیکھایا ہے لوگ ان کے پاس آتے ہیں اپنے مسائل لے کر وہ ان کو قرآن کی آیت یا اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام مخصوص تعداد میں پڑھنے کے لئےدیتی ہیں اور کہتی ہیں ان کو یہ علم جنات نے سیکھایا ہے اور وہ اس کو دین سمجھتی ہیں اور ایک شرف سمجھتی ہیں۔کیا جنات سے اس طرح مدد لینا جائز ہے اگر نہیں تو ان کو کس طرح نصیحت کریں ؟
جواب:اگر وہ عورت سچ بول رہی ہے تب بھی اس کے پاس جانا جائز نہیں ہے کیونکہ جنات سے مدد لینا جائز نہیں ہے اور اگر وہ جھوٹ بول رہی ہے جس کا امکان زیادہ ہے تب تو ویسے ہی اس سے دور رہنا ہے ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جس نے عالم سے کتاب و سنت کا علم نہ لیا ہو اور دعوی کرے کہ ہمیں جنات بتاتے ہیں ایسا آدمی جھوٹا، مکار اور فریبی ہے کیونکہ دین کا علم قرآن اور حدیث میں ہے جوکتاب و استاد سے حاصل کیا جاتا ہے، نبی ﷺ نے یہ بھی بتایا ہے کہ شیطان جھوٹا ہے ۔اور مجرب وظائف یعنی اپنی طرف سے وظیفہ گھڑنا کسی حاجت و ضرورت کے لئے جائز نہیں ہے، یہ بدعتیوں کا عمل ہے۔ ہم وہی اذکار کریں گے جو مسنون ہیں اور اسی طرح عمل کریں گے جو کیفیت نبی ﷺ نے بتائی ہے ۔ یہاں ہماری ذمہ داری ہے کہ دوسروں کو بھی اس قسم سے عورت سے دور رکھیں بلکہ سماج کے بااثرفردکی ذمہ داری ہے کہ اس عورت کی بےدینی وجہالت کو بندکرائے تاکہ سماج میں گمراہی نہ پھیلے ۔
سوال(8):حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے ؟
جواب:ویسے حیض کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت متعین نہیں ہے لیکن اہل علم نے قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ حیض کی مدت پندرہ دن ہوسکتی ہے ، اس سے زیادہ خون آئے تو وہ فاسد مانا جائے گا اور کم سے کم کی کوئی تحدید نہیں ہے ، ایک دن بھی حیض آسکتا ہے تو جس عورت کو جتنا وقت یا جتنا دن خون حیض کی صفات میں آئے حیض مانے اور نماز و روزہ سے پرہیز کرے اور یہ یاد رکھے کہ پندرہ دن سے زیادہ آنے پر زائد ایام کو حیض شمار نہ کرے، ان ایام میں مستحاضہ کی طرح نماز کی پابندی کرے ۔شیخ ابن باز ؒ نے ذکر کیا ہے کہ حیض کے زیادہ سے زیادہ 15 دن ہیں، ان سے زیادہ ہوں تو یہ استحاضہ ہے۔
سوال(9):میت کو نیل پالش لگی ہو اور اتارنے سے بھی نہیں اترے تو کیا کیا جائے؟
جواب:میت کو وضو بھی کرانا ہے اور غسل بھی دینا ہے اور وضو کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اعضائے وضو تک پانی پہنچ جائے اور اسی طرح غسل کی شرائط میں بھی ہے کہ پانی پورے جسم تک پہنچ جائے اس لئے اگر میت کے ناخن پر پالش لگی ہو جس سے پانی ناخن کی تہ تک پہنچنے سے مانع ہو تو نیل پالش کو کھرچا جائے گا تاکہ وضو اور غسل میں پانی جسم کی اصل تہ تک پہنچ جائے ۔ جولوگ میت کو غسل دلانے کا کام کرتے ہیں ان لوگوں کو چاہئے کہ نیل پالش زائل کرنے والا کیمیکل اپنے پاس رکھے جس سے بآسانی پالش ختم کرسکتے ہیں ۔ اگر کبھی کوشش کے باوجود کچھ نیل پالش نہ صاف ہوسکے تو حرج نہیں ہے ، اللہ کا فرمان ہے : فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ۔ (تم اللہ سے اپنی طاقت بھر خوف کھاؤ)۔
سوال(10):ایک عورت بیمارہے اس کو پین کیرنا کی شکایت ہے ،پیٹ میں پانی بھرا ہوا ہے۔ جب وہ نماز پڑھتے وقت سجدہ میں جاتی ہے تو ہوا شرمگاہ سے خارج ہونے کی طرح آواز آتی ہیں حتی کہ بغل کے لوگ بھی سن سکتے ہیں ۔ جب ہاتھوں کو زمین پر بچھاکر سجدہ کرتی ہے تو آواز نہیں آتی ہے لیکن بازو کو اٹھاکر نماز پڑھتی ہے تو آواز آتی ہے ایسی صورت میں کیا کرے اور اس کی نمازو و ضو کیا حکم ہے ؟
جواب: اللہ اس بہن کو شفا عطا فرمائے ۔ اگر عورت سے نماز کی حالت میں اگلی شرمگاہ سے ہوا خارج ہونے کی آواز آئے تو اس سے نماز اور وضو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اس لئے اس کا وضو بھی صحیح ہے اور نماز بھی صحیح ہے اور نماز پڑھتے ہوئے اسی طرح سجدہ کرے جوسجدہ کا  مسنون طریقہ ہے یعنی اپنے بازوں کو زمین سے ہٹاکر سجدہ کرے کیونکہ نبی ﷺ نے حکم دیا ہے : تم میں کوئی شخص سجدے میں اپنے دونوں بازو (زمین پر) کتے کے بچھانے کی طرف نہ بچھائے۔(صحيح النسائي:1102) ساتھ ہی گھر میں ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں اجنبی مرد نہ آئے اور نماز کے وقت لنگوٹ باندھ کر دیکھے، اگر اس سے آواز بندہوجائے تونماز کے وقت لنگوٹ باندھ لیا کرے ۔
سوال(11):کیا یہ دعا صحیح ہے ،اللھم اجعلنی من المقربین واجعل امی من الحورالعین ۔ ترجمہ : اے اللہ ! مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل فرمااور مری والدہ کو حورعین(جنتی عورتوں) کے ساتھ ملادے۔ (الادب المفرد:504)
جواب:ہاں یہ دعا صحیح ہے، اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔مذکورہ حدیث میں جس کتاب کا حوالہ دیا گیا اس کی تحقیق میں شیخ البانی ؒ نے اسے صحیح کہا ہے ، وہ الدررالسنیہ کے حوالہ سے آپ کی خدمت میں پیش کررہاہوں ۔
اللَّهمَّ اجعَلْني من المقرَّبينَ واجعلْ أمِّي من الحورِ العِينِ
الراوي : - | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح الأدب المفرد
الصفحة أو الرقم : 389 | خلاصة حكم المحدث : صحيح الإسناد
سوال(12):مجھے کہیں پر ایک سوال وجواب ملا ہےجوانگلش میں ہے ، اس کا اردو میں ترجمہ کرکے بھیج رہی ہوں کیا یہ سوال و جواب صحیح ہے؟
((سوال :کیا یہ بات صحیح ہے کہ عورت کی نمازبغیرقدم ڈھاکے قبول نہیں کی جاتی ہے؟جواب:ہاں بالکل یہ آتھینٹک بات ہے))
جواب: نماز میں عورتوں کا قدم ڈھاکنا اختلافی مسئلہ ہے، بعض اہل علم واجب مانتے جبکہ بعض اسے واجب نہیں مانتے ہیں اس لئے دوٹوک الفاظ میں یہ کہنا کہ نماز ہی نہیں قبول ہوگی محل نظر ہے ۔ ہاں احتیاط کا تقاضہ ہے اور بہتر ہے کہ عورت نماز پڑھتے وقت باقی سارے اعضاء کی طرح  دونوں قدم کو بھی ڈھک لےلیکن اگر بغیرقدم  ڈھکے کسی  عورت نے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز درست ہے۔
سوال(13): انڈیا سے عمرہ کے لئے احرام باندھنے کے بعد اگر وضو کی ضرورت پڑجائے تو کیسے مسح کرنا ہے جبکہ احرام میں بال نہیں دکھنا چاہئے؟
جواب:احرام باندھنے والی بہن یہ سمجھ رہی ہے کہ احرام باندھ لینے کے بعد بال نہیں دکھنا چاہئے جبکہ ایسی بات نہیں ہے کہ احرام کی حالت میں بال نہیں کھول سکتے ہیں یا نہیں دکھنا چاہئے ۔ بال کا مسئلہ یہ ہے کہ اجنبی مردوں سے اسے چھپانا ہے لیکن اگر وضو ٹوٹ جائے تو آپ اکیلے میں یا لوگوں کی نظروں سے چھپ کر وضو کرتے وقت بالکل اپنے بال کو کھول سکتے ہیں ، اس پر مسح کرسکتے ہیں حتی کہ غسل کی ضرورت پڑے تو غسل بھی کرسکتے ہیں ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ احرام حج وعمر ہ میں داخل ہونے کی نیت کو کہتے ہیں ، وہ کسی کپڑے اور لباس کا نا م نہیں ہے اور احرام میقات سے باندھا جاتا ہے ۔ خلامیں سفر کرنے والے میقات کے ٹھیک اوپر خلا ہی میں حج یا عمرہ کی نیت کریں گے ۔
سوال(14): ایک نکاح کو تین چارسال ہوگئے وہ انٹرنیٹ پرہوا تھا کیا اس طرح نکاح ہوجاتا ہے اور اس کی کمائی کیسی ہے ؟
جواب:نکاح کے کچھ ارکان اور شروط ہیں ، اگر ان کو پورا کیا گیا تو انٹرنیٹ پر بھی نکاح ہوسکتا ہے ۔ نکاح کے دوارکان ہیں ۔
(الف)زوجین کا وجود اور ان دونوں کا آپس میں شادی جائز ہونا یعنی شادی میں رضاعت ،نسب ،عدت ،حمل وغیرہ کی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
(ب) ولی یا اس کے وکیل کی طرف سے ایجاب یعنی تعیین کے ساتھ فلانہ کی شادی کرانے کا ذکر اور لڑکے کی جانب سے قبول کرناحاصل ہو ۔
اورنکاح کی دو شرطیں بھی ہیں ۔ایک ولی کی اجازت ورضامندی اور دوسری دو عادل گواہ کی موجود گی ہیں اور نکاح کا اعلان کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ اس لئے اس عقد میں اگر دوارکان اور دو شرطیں پائی گئیں تو نکاح درست ہے  تاہم فون اور انٹرنیٹ پہ نکاح کرکے دھوکہ دیاجاسکتا ہے ، ممکن ہے عورت کا استحصال کیاجائے ، فتنے کا زمانہ ہے کچھ بھی دھوکہ ہوسکتا ہے اس لئے مجلس میں نکاح ہو تو بہتر ہے۔
اور کمائی کا نکاح سے تعلق نہیں ہے، حلال طریقے سے کمایا ہواپیسہ حلال ہے اور جو پیسہ حرام طریقے سے کمایا جائے وہ حرام ہے ۔
سوال(15): ایک بہن کا سوال ہے کہ نماز میں زور زور سے پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب:نماز میں کیا اور کیسے پڑھنا ہے ساری باتیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں اس لئے ہمیں اپنی طرف سے کچھ ایجاد نہیں کرنا ہے ۔ کیا آہستہ پڑھنا ہے اور کیا زور سے پڑھنا ہے اس کی مکمل جانکاری کے لئے نماز کی مسنون کتاب لے کر تعلیم حاصل کرے ۔مختصر طور پر یہاں جان لیں کہ  عورتوں کوعموما اپنی آواز پست رکھنا ہےیعنی جہری نماز(فجر، مغرب اور عشاء) کو بھی ہلکی آواز میں پڑھنا ہے ، آواز تو رہے گی مگر دھیمی رہے گی تاکہ آواز دور نہ جائے اور کوئی اجنبی مردآس پاس نہ ہو تو جہری نماز کوعورت اچھی طرح جہر کے ساتھ پڑھ سکتی ہے ۔سری نماز (ظہروعصر)خاموشی سے پڑھنی ہے ۔
سوال(16):ایک عورت حمل سے ہے اور اس کو تین چار سال سے لیکوریا کی شکایت ہے، عورت بھی کمزور ہے ، حمل کی وجہ سے ڈاکٹر قوت والی دوا نہیں دیتا بلکہ نارمل دوا دیتا ہے جس سے فائدہ نہیں ہورہا ہے کیا عورت بچے کو گراکر صحیح سے اپنا علاج کراسکتی ہے، اس میں کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟
جواب: عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ حمل گراکرلیکوریا کا علاج کرائے ، حمل ایک جان اور ایک نفس ہے اس کی حفاظت کرنا عورت کی ذمہ داری ہے ، اگرحمل ضائع کرتی ہے تو گنہگار ہوگی۔
وہ جو علاج کررہی ہے اسے جاری رکھے یا دوسرے ماہرڈاکٹر سے دکھائے ، بہت ساری عورتوں کو لیکوریا کی شکایت ہوتی ہے ، علاج دیر سویر فائدہ کرتا ہے اس لئے علاج جاری رکھے ، ماہر سے ماہر طبیب کو دکھائے مگر حمل نہ گرائے ۔
سوال(17):اگر کوئی عورت انتقال کر جائے اور اس کا بہت سارا سونا ہو تو کیا اس کے حقدار اس کی بیٹیاں ہی ہوگی جبکہ کہ اس کے بیٹے بھی ہیں اور معاشرے میں مشہور یہ ہے کہ ماں کے انتقال کے بعد اس کے زیورات کے حقدار اُس کی بیٹیاں ہی ہوگی؟
جواب:ایسی بات نہیں ہے کہ ماں کے زیورات پر حق صرف بیٹیوں کا ہے بلکہ اس میں تمام وارثین شامل ہوں گے ۔ جیسے باپ کی وراثت میں بیٹا اور بیٹی دونوں حصہ دار ہوتے ہیں اسی طرح ماں کی وراثت میں بیٹی کی طرح بیٹا بھی حصہ دار ہے۔اس لئے ماں کے انتقال کے بعد ان کا کل ترکہ جمع کرکے اسے تمام وارثوں میں شرعی قانون کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا۔ استعمال کی معمولی چیزوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہےجیسے کپڑے اور کانچ کی چوڑیاں وغیرہ ۔ان کو میت کی طرف سے کسی کو صدقہ کردیں یا ضرورت منداولاد میں سے جسے چاہیں دیدیں ۔
سوال(18):کیا اگر کسی بہن کو انٹرنل الٹرا ساؤنڈ کروانی پڑے تو اس کے بعد اس پر غسل واجب ہو گا یا صرف وضو کر کے عبادت کرسکتی ہے یعنی نماز پڑھ سکتی ہے؟
جواب:اگلی شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹتا ہے اس بناپر عورت کی اگلی شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے خواہ الٹراساؤنڈ کے لئے ہو یا کسی اور کام کے لئے تو اس سے صرف وضو ٹوٹے گا ، غسل کی ضرورت نہیں ہے یعنی الٹراساؤنڈ کے بعد عورت وضو کرکے نماز پڑھ سکتی ہے ، اسے غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال(19): جس عورت کا عقیقہ نہ ہوا وہ اپنا عقیقہ شادی کے بعد خود کرے یا شوہر بھی دے سکتا ہے اور اگر کسی نے عقیقہ نہ دیا تو کیا وہ گنہگار ہوگی؟
جواب:جس عورت کا عقیقہ بچپن میں نہ ہوا تو اس کی طرف سے بعد میں بھی (حتی کہ شادی کے بعد بھی) عقیقہ کرسکتے ہیں ، بیوی اپنا عقیقہ خود کرنا چاہے تو خود بھی کرسکتی ہے یا ذمہ دار لوگوں میں سے جو بھی اس کی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے کرسکتا ہے خواہ وہ شوہر ہو یا باپ و بھائی ۔
جہاں تک ترک عقیقہ پر گناہ کا سوال ہے تو چونکہ عقیقہ سنت موکدہ ہے اس لئے اس کے ترک سے گناہ لازم نہیں آئے گا لیکن کوئی وسعت کے باوجود عقیقہ نہ کرے تووہ ایک تاکیدی سنت کا تارک ضرور ہوگا۔
سوال(20): کیا عورت دانتوں کے گیپ کو ختم کرنے کے لئے کلپ لگائے تو جائز ہے؟
جواب: اگر کسی عورت کے دانتوں میں گیپ ہو تو اس کی اصلاح کے لئے دانتوں میں کلپ لگائے یا اس کا علاج کرائے اس میں حرج نہیں ہے لیکن لوگوں کی نقالی میں دانتوں کا فیشن کروائے یہ ممنوع ہے یعنی دانتوں کی اصلاح اور اس کا علاج ممنوع نہیں ہے ، دانتوں کا جمالیاتی فیشن کروانا ممنوع ہے ۔

مکمل تحریر >>

Tuesday, December 13, 2022

زانیہ سے نکاح اور ولدالزنا کی نسبت

سوال:اگر کسی خاتون سے زنا ہوجائے اور زنا سے حمل ہوجائے تو اس زانیہ سے نکاح جائز ہے ، اس کے حمل سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ حلال ہوگااور اس بچے کی نسبت
 کس کی طرف ہوگی ، قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی کریں ؟
جواب:ایک مومن دیندار اور پاکدامن عورت سے شادی کرتا ہے لہذا کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ زانیہ عورت سے نکاح کرے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)
ترجمہ:بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زانیہ سے زانی شادی کرتا ہے، مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ زانیہ سے نکاح کرے ۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ حالت حمل میں کسی عورت سے نکاح نہیں ہوسکتا ہے یعنی حمل میں شادی کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ طلاق ، خلع اور وفات میں حمل کی عدت بیان کی گئی ہے تاکہ استبرائے رحم ہوجائے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ(الطلاق:4)
ترجمہ:اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کردیں۔
مذکورہ باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایک مومن زانیہ سے نکاح نہیں کرسکتا ہے اور زانیہ اگر حمل سے ہو توعدت میں ہونے کی وجہ سے ویسے بھی اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے ۔
ہاں اگر زانیہ اپنے گناہوں پر شرمندہ و نادم ہوکر سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالی توبہ کے سبب بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کردیتا ہے ۔ سچی توبہ کے بعد جب وضع حمل ہوجائے یعنی بچہ پیدا ہوجائے تب اس عورت سے نکاح کرنا جائز ہوگا ۔
رہازنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کا حلال ہونے اور اس کی نسبت کا مسئلہ ہے تو گوکہ بچے کو شرعی اصطلاح میں ولدالزنا کہاجاتا ہے مگر اس بچے کاکوئی قصور نہیں ہے ، زانی اور زانیہ کے جرم کا کچھ بھی حصہ اس بچے پر نہیں ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى(الأنعام:164)
ترجمہ:اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اس لئے وہ بچہ حیثیت کے اعتبار سے مسلمانوں کے عام بچوں جیسا ہی ہے، وہ بھی تقوی کی بنیاد پر اللہ کے یہاں مقرب ہوسکتا ہے اور جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔
اورجہاں تک نسبت کا معاملہ ہے تو چونکہ ولدالزنا کا زانی سے نسب ثابت نہیں ہے اس لئے بچے کی نسبت زانی کی طرف نہیں ہوسکتی ہے ، ماں کی طرف نسبت ہوگی اور اس بچے کو فلانہ کا بیٹا کہا جائے گا یعنی فلاں عورت کا بیٹا۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

مکمل تحریر >>

Monday, December 12, 2022

تال اور جھیل

 
تال اور جھیل
مقبول احمد سلفی /جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

یوں تو کائنات میں بہت سارے خوشنما مناظر پائے جاتے ہیں بلکہ قدرت کی ہر بناوٹ اپنی ایک خاص پہچان اور خوبصورتی رکھتی ہے لیکن حسین وادیاں، سہانی جھیل اور دلکش پہاڑی مناظر انسانوں کے لئے کچھ زیادہ ہی مطمح نظر ہوتے ہیں ۔میری بودوباش بھی کچھ ایسے ہی دلکش ودلفریب مناظر  سے مربوط  ہے جس پر خالق کائنات کی جتنی حمدوثنا بیان کی جائے کم ہے۔
دراصل میرا ضلع ہمالیہ پہاڑ کے دامن میں کچھ اس انداز میں بسا ہوا ہے کہ کوہ ہمالیہ اپنے حسن کے ساتھ ان علاقوں کو بھی حسین بنارہاہے۔ ظاہر سی بات ہے کوہ کا نشیبی حصہ ہی بودوباش کے قابل ہوگا اور کوہ سے متصل ہونے کے سبب وہاں پانی کے حسین وجمیل نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کوہ ہمالیہ کی دین ہے کہ اس کے نشیبی علاقوں میں کہیں پانی کے چھوٹے چھوٹے تالات تو کہیں آنکھوں کو لبھانے والے تال اور کہیں دل کو اپنی جانب کھینچنے والی جھیل نظر آتے ہیں جو نہ صرف وہاں بسنے والوں کے لئے سامان راحت وسکون ہیں بلکہ  دور بسنے والوں کو بھی اپنی طرف کھینچ کھینچ کر لانے والےہیں ۔
تالاب کی بات کریں تو یہ پانی کا وہ لمباچوڑا اور گہرا حصہ ہے جس میں برساتی پانی کے ساتھ ہمالیہ سے بہنے والے پانی اور بہنے والے چشموں  کا پانی گرتا ہےاور یہ تالاب عموما انسانی بستی کے قریب ہوتے ہیں ۔
جہاں تک تال اور جھیل کی بات ہے تویہ بھی تالاب نمامگر لمبائی ، چوڑائی اور گہرائی میں اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔یہ اس وقت وجود میں آتے ہیں جب دریا اپنی روانی  سے بہتے وقت اپنی گزرگاہ میں نشیبی علاقے کو کبھی چوڑی وادی تو کبھی جھیل بنادےجیسے نینی تال کی نینی جھیل ہے۔
تال اور جھیل دونوں ہم معنی ہیں ،  اس کو بڑا تالاب بھی کہہ سکتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں پانی کا وہ بڑا ذخیرہ جو تالاب سے بہت بڑا اور گہرا ہو، جھیل کہلاتا ہے۔عموما تال آبادی سے دور میدانی اور پہاڑ کے نشیبی علاقوں میں ہوا کرتے ہیں ۔تال میں تنے کی  بھی پیداوار ہوتی ہے جسے کھانے کے لئے ہاتھی اوردیگر جانوروہاں آیا کرتے ہیں ۔ تال اور جھیل کا پانی کہیں میٹھا تو کہیں نمکین ہوتا ہے اور جہاں نمکین ہوتا ہےوہاں ا یسی جھیلوں سے نمک بھی برآمد ہوتا ہے۔
سڑکیں اور سواریاں :
تال و جھیل والے خطے اور ضلع میں وہاں کی سڑکیں اور سواریاں مزیداس طرح حسن پیدا کررہی ہیں گویا گزرنے والا ہر راستہ اورچلنے والی ہر سواری اپنی طرف متوجہ کرتی ہو۔یہاں کےر استے بھی مختلف قسم کے ہیں اور سواریاں بھی مختلف قسم کی ہیں جن سب کی تفصیل یہاں پیش کرنا قدرے مشکل ہے اس لئے اہم سڑکوں کے وضاحت پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے اور اہم ترین سواریوں میں ٹرین، بس اور بیل گاڑیاں ہیں ۔
 
 
مکمل تحریر >>

مجلہ التوحید کے قلم کاروں کے نام



مجلہ التوحید کے قلم کاروں کے نام

اللہ رب العالمین نے جو دین ہمیں عطا فرمایا ہے اس کی عمارت  قرآن وحدیث پر  قائم ہے ، انہیں دونوں کتابوں کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے ۔ قابل مبارکباد ہیں توحید کے وہ جیالے اورمتوالے جنہوں نے مسلم طلبہ کے لئے بھیونڈی جیسے صنعتی شہر میں  جامعہ التوحید قائم کیا جو اللہ کے فضل سے علم وحکمت کی ضیاپاشی کے ساتھ فریضہ دعوت وتبلیغ اور رفاہی امور بحسن وخوبی انجام دے رہا ہے ۔   
اس موقع سے عزیز طلبہ کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئےاپنی پوری توجہ علم پرمرکوز رکھیں  اورحصول علم کو فرض منصبی سمجھ کرجامعہ کے اساطین علم وہنر سے  آخری لمحہ تک خوشہ چینی کرتے رہیں ۔آپ کے ذہن میں ہمہ وقت یہ بات رہے کہ آپ کائنات کی سب سے اعلی ہستی محمد ﷺ کے علمی سرچشمہ سے فیضیات ہورہے ہیں ۔کل آپ وارثین انبیاء کہلائیں گے اور دعوت وتبلیغ کا نبوی مشن سنبھالیں گے ۔
جامعہ التوحید کی جانب سے طلبہ کے سالانہ میگزین "التوحید" کا اجراء دراصل اس علمی صلاحیت ولیاقت کا اظہار ہے جس کے لئے جامعہ شب وروز کوشاں ہے اوراس موقع سے مجھے بیحد خوشی ہے کہ طلبہ سے بہت دور ہوتے ہوئے بھی ان کا نقش قلم اور  تحریری  جمال  دیکھ پارہاہوں ، وہ سب میری نظرمیں قابل مبارکباد ہیں ۔
مولائے کریم کی  بارگاہ میں دست بدعا ہوں ، وہ آپ سب کو ایک بے مثال عالم و داعی اور قلم کاربنائےاور آپ سب کی خدمت پرمامورجملہ اساتذہ وذمہ داران کو دونوں جہان میں فوزوفلاح عطافرمائے ۔ آمین

آپ کا دینی بھائی
مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ -سعودی عرب

جامعہ التوحید کے شعبہ جات کی تفصیل جاننے کے لئے  لال رنگ کے لفظ "لنک" پر کلک کریں۔
 
مکمل تحریر >>

Monday, December 5, 2022

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(قسط:29)

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل(قسط:29)

جواب از شیخ مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ ، سعودی عرب

سوال(1): ہم اپنے سر میں کون سا تیل لگائیں، نبی ﷺ کون سا تیل استعمال کرتے تھے ، دلیل سے بتائیں ؟
جواب : ترمذی کی ایک حدیث سے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیتون کا تیل بہت مفید ہے، وہ کھانے اور بدن دونوں میں استعمال کے قابل ہے ۔
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ( صحيح الترمذي:1851)ترجمہ:زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے۔
ویسے کوئی بھی مفید تیل آپ استعمال کرسکتے ہیں اور اگر چاہیں تو زیتون کا تیل استعمال کریں ۔
سوال(2): اگربچہ ماں کے دودھ کے علاوہ باہر کا دودھ پیتا ہوں تو اس کے پیشاب کا کیا حکم ہے ؟
جواب : شیرخوار بچہ جو ماں کا دودھ پیتا ہو اس کا حکم تو واضح ہے، لڑکا ہو تو اس کے پیشاب پر چھینٹا مارنا کافی ہے اور لڑکی کا پیشاب دھلا جائے گا لیکن ماں کے دودھ کے علاوہ باہر کا مصنوعی دودھ پیتا ہو تو اس سلسلے میں علماء کے درمیاں اختلاف ہے ۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ درست بات یہ ہے کہ اس دودھ کا بھی حکم ماں کے دودھ کی طرح ہے یعنی باہری دودھ پینے پر بھی لڑکا کے پیشاب پر چھینٹا مارنا کافی ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھلا جائے گا۔
سوال(3) : ساؤتھ افریقہ میں آب و ہوا کی وجہ سے بال جھڑ جاتے ہیں اور انڈیا میں نیچرل بال کی طرح بال ملتے ہیں تو کیا ایک شخص تجارت کی غرض سے عورت و مرد کے بال انڈیا سے لے جاکر وہاں فروخت کرسکتا ہے ؟
جواب: بالوں میں بال جوڑنا یا سر پہ مصنوعی بال اور وگ پہننا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانی والی پر لعنت بھیجی ہے حتی کہ آپ نے ایک خاتون جس کا بال بیماری سے جھڑگیا تھا اس کے شوہر کی خواہش تھی کہ وہ مصنوعی بال لگائے مگر آپ نے اسے مصنوعی بال لگانے کی اجازت نہیں دی اور فرمایاکہ مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت ہے ۔(بخاری :5935)
صحیح بخاری میں ایک دوسری حدیث ایک طرح سے آئی ہے ۔حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما حج کے سال مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔(بخاری:5932)
ان احادیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ مصنوعی بال استعمال کرنا جائز نہیں ہے ۔ جب  مصنوعی بال کا استعمال جائز نہیں ہے تو اس کی تجارت کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ بعض علماء جن میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ بھی ہیں کہتے ہیں کہ جس کے بال جھڑگئے ہوں ، دوبارہ بال آنے کی امید نہیں ہے تو اس کے لئے وگ پہننے میں حرج نہیں ہے کیونکہ یہ زینت کے لئے نہیں عیب چھپانے کے لئے ہے ۔ شیخ کے اس کلام کی روشنی میں گنجاپن دورکرنے کی حد تک مصنوعی بال کی اجازت ہے اس لحاظ سے کوئی چاہےتو ضرورت مندوں کو مصنوعی بال بیچ سکتا ہےلیکن فیشن کے طورپر بیچنا جائز نہیں ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ معلوم رہے کہ بال اگانے کے لئے متعدد دوائیں ملتی ہیں ، اس لئےبہترہے کہ  گنجاپن دور کرنے کے لئے دوا کا استعمال کیا جائے ۔
سوال(4): ایک عورت نے بچے کو جنم دیا ہے، ولادت کے ابتدائی دنوں میں پیٹ پر کچھ بھی دباؤ ہوتا ہے تو عورت کے اگلے حصے سے ہوا خارج ہوجاتی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں بھی اگلے حصے سے ہوا خارج ہوجاتی ہے ایسے میں کیا جائے ؟
جواب :جب عورت کو آگے والے حصے سے ہوا خارج ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اس لئے نماز کی حالت میں اگلے حصے سے ہوا نکلنے سے نماز میں کوئی خلل نہیں ہوگا ، پچھلے حصے سے ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے۔
سوال(5): ایک لڑکی نے بھاگ کر شادی کرلی، اس میں اس کے والدین شریک نہیں تھے، شادی کےبعد دو بچے ہوئے، ایک لڑکی اور ایک لڑکا۔ اب پیداشدہ لڑکی کی شادی ہونے والی ہے، اس لڑکی سے دوسرے لڑکے کا نکاح کیسا ہے؟
جواب : جس لڑکی کے نکاح سے متعلق سوال کیا جارہاہے اس لڑکی سے نکاح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، بالکل اس سے نکاح کیا جاسکتاہے جبکہ اس کی ماں نے بغیر ولی کے نکاح کیا ہے اس نے غلط کیا ہے ، اسے اللہ سے ڈرنا  چاہئے اور توبہ کرکےشرعی طورپرولی کی رضامندی کے ساتھ  اپنے نکاح کی تجدید کرلیناچاہئے تاکہ ازدواجی رشتہ صحیح ہوسکے ۔
سوال(6): میں نے غروب سے قبل غسل کرکے ظہر و عصر پڑھی ، پھر مغرب و عشاء کی نماز پڑھی ، رات میں قیام اللیل کے لئے اٹھی ہو تو حمام میں کچھ اسپاٹنگ دیکھتی ہوں تو مجھے نماز پڑھنا ہے یا نہیں ؟
جواب:سوال سے معلوم ہورہا ہے کہ آپ کو ماہواری آئی ہوئی تھی ، مغرب سے پہلے پاکی حاصل ہوئی تو آپ نے غسل کرکے ظہر وعصر پڑھی پھر مغرب و عشاء کی نماز بھی ادا کی لیکن رات میں حمام میں کچھ زردی محسوس ہوئی ۔ اگر ایسی ہی بات ہے تو یہ جان لیں کہ حیض سے پاکی حاصل ہونے کے بعد اگر کچھ زردی نظر آئے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا ، آپ اس حال میں نماز ادا کریں گے لیکن عادتا وہ حیض کے ایام ہوں اور حیض منقطع ہوکردوبارہ حیض جیسی   صفات کے ساتھ خون آئے تو پھر وہ حیض ہے اورعبادت سے رکنا ہے ۔
سوال(7): قرآن میں ہے کہ خبیث عورتیں خبیث مرد کے لئے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہے ۔پاک عورتیں پاک مرد وں کے لئے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہے ؟تو پھر ایسا کیوں ہے کہ  فرعون کے لئے آسیہ، لوط اور نوح کے لئے نافرمان بیوی ؟
جواب: سابقہ شریعت میں کافر کا مومنہ سے اور مومن کا کافرہ سے شادی کرنا جائز تھا اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیوی کافرہ تھیں اور فرعون کی بیوی مومنہ تھی ، شریعت محمدی میں آج بھی اہل کتاب کافرہ  سے شادی جائز ہے ۔
 سوال(8): اگر کوئی جوڑاشادی کے بعد آپس کی رضامندی سے اس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ ایک سال تک اولاد کی پیدائش نہیں چاہتے تو کیا وہ گناہ گار ہوں گے؟
جواب:رسول اللہ ﷺ نے مرد کو زیادہ بچہ پیدا کرنے والی عورت سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے ، اس کا تقاضہ ہے کہ نسل انسانی کی روک تھام کرنا حکم رسول  اورمصلحت نکاح کے خلاف ہے بلکہ شادی کے بعد ایک مدت تک بچہ کے بغیر میاں بیوی کا مستی کرنا دراصل مغربی تہذیب ہے، جو ہندی فلموں اور سیریلوں کے ذریعہ مسلمانوں میں پھیل رہی ہے ۔ ہاں اگر کچھ بچے پیدا ہوجانے کے بعد اس میں ضرورت اور مصلحت کے تحت وقفہ کرنا چاہتے ہیں تو کوئی حرج نہیں مگر شروع شادی میں وقفہ کی کوئی مجبوری نہیں سوائے مغربی تہذیب کے ۔
سوال(9): ایک بہن کا کہنا ہے کہ سونے کی ہرچیز پر زکوۃ ہے، چاہے ناک کا ایک نتھونا ہی کیوں نہ ہو یعنی مقدار ضروری نہیں ہے ، کیا یہ صحیح ہے ؟
جواب:سونے اور چاندی کی زکوۃ کے لئے دو شرطیں ہیں (1) نصاب(85گرام سونا، 595گرام چاندی) کو پہنچنا (2) ایک سال گزرنا ،، ان میں سے ایک بھی شرط کم ہوئی تو زکوۃ نہیں ہے ۔ اس لئےجس کسی مسلمان بھائی یا بہن کے پاس سونے یا چاندی کی ڈلی یا زیورات موجود ہوں اور وہ نصاب تک پہنچ رہے ہوں تو سال مکمل ہونے پراس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی لیکن جو سونا یا چاندی نصاب کو نہ پہنچے اس پر زکوۃ نہیں ہے ۔ابوداؤد(1565) کی حدیث جسے شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے اس میں ہے کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ کے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں تو آپ نے پوچھا کہ ان کی زکوۃ ادا کرتی ہوتو انہوں نے کہا کہ نہیں تو اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لئے کافی ہیں ۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چاندی کی چند انگوٹھی پر زکوۃ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ انگوٹھیاں(چاندی) نصاب کو پہنچ جائیں تو زکوۃ ادا کی جائیں لیکن سیدہ عائشہ کے پاس نصاب کے بقدر چاندی نہیں تھی اس لئے ان انگوٹھیوں کی زکوۃ نہیں ادا فرماتیں۔
سوال(10): پارکوں میں جو جھولے ہوتے ہیں، اس جگہ عورت و مرد سبھی ہوتے ہیں وہاں عورت کو جھولنا کیسا ہے؟
جواب: خواتین کو جنرل پارک میں نہیں جھولنا چاہئے کیونکہ خواتین کو اسلام نے بڑا مقام دیا ہے ، بڑی عزت دی ہے، اس کی عفت کا خاص خیال کیا ہے لہذا عورت کوئی ایسا کام نہ کرے جو اس کی حیا کے خلاف ہو۔ حیا والی عورت کبھی مردوں کے سامنے جھولا نہیں جھولے گی، اکیلے میں جھولنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اپنے گھر میں جھولا ہو یا اپنے مخصوص پارک میں جھولا ہو تو وہاں ایک عورت بالکل جھول سکتی ہے ، عورت کے لئے جھولنا منع نہیں ہے بلکہ اس کے لئے حیا کے خلاف کام کرنا منع ہے ۔
سوال(11): میں باہر ملک میں رہتی ہوں ، دوماہ قبل میں نے خلع کا کیس فائل کردیا اور اور ایک ماہ کی عدت بھی گزاری ، میرا کیس کہاں تک پہنچا پتہ نہیں، اس درمیان شوہر نے گھر پہ طلاق کی نوٹس بھیج دی اور میں جاب کرتی ہوں ، اس کو چھوڑنا مشکل ہے ، کیا کیا جائے؟
جواب:خلع کا کیس فائل کرتے ہی عدت نہیں گزارنی ہے بلکہ جب آپ کا صحیح طورپر خلع ہو یا صحیح طورپرخلع کی کاروائی کے ذریعہ آپ کو نوٹس ملے کہ  آپ کا خلع ہوگیا ہے پھر نکاح ختم ہوتا ہے اور تب سے ایک حیض عدت گزارنی ہے ۔ کیس فائل کرکے خلع کا حکم نہیں لگایا گیا ہے تو خلع ہوا ہی نہیں ۔ اور اس دوران شوہر نے طلاق دے دیا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور جب طلاق پڑگئی تو اس وقت سے تین حیض عدت گزارنی ہے ۔ رہا مسئلہ جاب کا تو اگر جاب کے لئے ہرحال میں جانا ضروری ہے تو مجبوری میں جاب پرجاسکتی ہیں۔
سوال(12) : سگی بھتیجی اور سگی بھانجی کے شوہر سے عورت پردہ کرے گی؟
جواب : ہاں بھتیجی اور بھانجی کا شوہر عورت کے لئے نامحرم ہے اس لئے اس سے پردہ کرے گی ۔
سوال(13): میں پردہ کے ساتھ گھر میں نماز پڑھ رہی ہوں ، اچانک کوئی غیرمحرم آجائے تو کیا کرنا ہے، نماز چھوڑ دینی ہے ؟
جواب:عورتوں کےلئے سب سے اندرونی جگہ نماز پڑھنا افضل بتایاگیا ہے اس لئے عورت ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں اجنبی مرد نہ آئے ، پھر بھی آپ کہیں نماز پڑھ رہی تھیں اچانک کوئی نامحرم آگیا ہے تو آپ اپنی  نماز جاری رکھیں گی  اورجو چہرہ کھلا تھا اب اسے ڈھک لینا ہے یعنی اجنبی سے پردہ کرلینا ہے  ، ساتھ ہی اپنی آواز پست رکھیں ۔یہ یاد رہے کہ نماز مکمل پردہ میں ادا کرنا ہے چاہے گھر میں ہی کیوں نہ ادا کریں حتی کہ قدم بھی چھپانا بہتر ہے اور ایسی جگہ نماز پڑھیں جہاں مردوں کا گزر نہ ہو۔
سوال(14):  zunera نام رکھ سکتے ہیں ؟
جواب:آپ نے جو انگریزی میں لفظ لکھا ہے، وہ نام نہیں رکھیں البتہ " زِنِّيرَةُ" زاء کے زیر اور نون کو شد کے ساتھ نام رکھ سکتے ہیں، اس نام کی ایک صحابیہ تھیں جنہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خریدکرآزادکیا تھا۔
سوال(15): استحاضہ میں ہر نماز کے وقت الگ الگ وضو کیا جاتا ہے لیکن اگر نماز جمع وقصر ہو تو کیا کیا جائے ؟
جواب:استحاضہ کے وقت اگر دونمازوں کو جمع و قصر کررہے ہیں تو ایک ہی وضو سے دونوں نماز ادا کریں گے۔
سوال(16): میں نے اکثر عورتوں سے سنا ہے کہ جب عورت کو غسل دے دیا جائے تو پہلے کوئی کپڑا پہنایا جائے پھر کفن پہنایا جائے ، کیا یہ بات صحیح ہے؟
جواب: نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ میت عورت ہو یا مرد اسے غسل دے کر کفن پہنا سکتے ہیں، جو بات آپ نے ذکر کی کہ پہلے دوسرا کپڑا پہنایا جائے پھر کفن ، اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
سوال(17):شہید کی بیوہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے؟
جواب:جب شوہر وفات پاجائے یا شہید ہوجائے تو اس کی بیوہ دوسرا نکاح کرسکتی ہے، ہر قسم کی بیوہ کا ایک ہی حکم ہے، شہید کی بیوہ کے لئے الگ سے کوئی حکم نہیں ہے اس لئے جس طرح ایک عام بیوہ شادی کرسکتی ہے وہ بھی شادی کرسکتی ہے۔ کہیں لوگوں میں یہ غلط فہمی ہو کہ شہید تو زندہ ہوتے ہیں پھر اس کی بیوی کیسے شادی کرے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شہید ہونے کے بعد وہ بھی وفات پانے والوں کی طرح ہیں، یعنی اس کو بھی موت آگئی البتہ برزخ میں زندگی ملتی ہے ، وہ زندگی ہر میت کو ملتی ہے تبھی تو برزخ میں مردوں کو عذاب یا نعمت ملتی ہے اس لئے تمام قسم کی بیوہ کا دنیاوی معاملہ ایک جیسا ہے ۔
سوال(18): عدت میں عورت کیسے پردہ کرے گی، اس کی دلیل بھی بتادیں؟
جواب:عدت میں پردہ کا الگ سے کوئی طریقہ نہیں ہے، عورت جس طرح پہلے پردہ کیا کرتی تھی اسی طرح عدت میں بھی پردہ کرے گی ۔ پردہ سے میری مراد اسلامی پردہ یعنی پورے جسم کو ڈھکنا ،وہی اسلامی پردہ عدت میں بھی ہے، اس کے لئے الگ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اجنبی مردوں سے پورا جسم عدت سے پہلے بھی چھپانا تھا، عدت میں بھی چھپانا ہے اور عدت کے بعد بھی چھپانا ہے ۔
سوال(19) : ایک لڑکی بول چال میں مذکر کا صیغہ استعمال کرتی ہے، گھر میں بھی اور سہیلیوں کے ساتھ بھی کیا یہ لڑکوں کی مشابہت ہے، وہ لڑکیوں کی طرح بولنے میں شرماتی ہے کیونکہ اس کی عادت نہیں ہے اور لوگ بھی عجیب محسوس کریں گے اگر لڑکیوں کی طرح بولے؟
جواب: اس بہن کو لازما لڑکیوں کی طرح بولنا چاہئےکیونکہ وہ لڑکی ہے  اور لوگ کیا کہیں گے اس کی پرواہ نہیں کرنا چاہئے، ابھی سے نئی عادت اپنائیں اور مونث کا صیغہ استعمال کرنا شروع کریں ،گھر والے اور سہیلیاں دھیرے دھیرے اس  نئی عادت جو دراصل اپنی اصل عادت ہے سے مانوس ہوجائیں گے اور کچھ دنوں بعد خاموش ہوجائیں گے ، ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کرے کہ اگر اس ماحول میں خواتین مردوں کی طرح بولتی ہیں تو ان سب کی اصلاح بھی کرے ۔ آپ جانتے ہیں یہ نیا فیشن چل پڑا ہے جبکہ  اسلام نے عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے اور مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔
سوال(20):میری بیٹی کا نکاح دوبئی میں ہوگیا ہے ، اب لڑکا والے ریسیپشن سے ایک دن پہلے انڈیا میں نکاح پڑھانا چاہتے ہیں کیا یہ شرعا جائز ہے ؟
جواب: ایک مرتبہ جب نکاح کی شرائط پورے کرکے نکاح منعقد ہوجائے تو لڑکا اورلڑکی دونوں میاں بیوی ہیں اور ایک دوسرے کے لئے حلال ہیں ، جب میاں بیوی کا رشتہ قائم ہو گیا تو پھر کس بات کے لئے دوبارہ نکاح ہوگا؟ اس لئے لڑکے والوں کو سمجھائیں کہ دین کا مذاق نہ بنائیں ، نکاح ہوچکا ہے دوبارہ اس کی ضرورت نہیں ہےالبتہ لڑکے کے ذمہ دعوت ولیمہ ہے جو باقی ہو تو اس مناسبت سے ولیمہ کرلیں ۔
سوال(21): لڑکی کا ایمان اور لڑکے کا صلاہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
جواب: لڑکی کا ایمان نام رکھنے میں حرج نہیں ہے لیکن لڑکے کا نام صلاۃ نہیں رکھیں گے ، ہاں صلاح رکھ سکتے ہیں یا ایمان کی طرح اسلام رکھ سکتے ہیں ۔
سوال(22):جس کا شوہر زندہ ہو کیا اس کا کفن لال رنگ کا ہوگا؟
جواب:میت عورت ہو یا مرد ، اسے سفید کپڑوں میں دفن کیا جائے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسی کا حکم دیا ہے ، الگ سے کسی میت کے لئے کوئی دوسرا کفن یا رنگ منقول نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ(ترمذی:994، شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
اگر مجبوری ہو تو دوسرے رنگ کا بھی کپڑا بطور کفن استعمال کرسکتے ہیں۔



مکمل تحریر >>