Tuesday, December 7, 2021

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط -24)

 
بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط -24)
جواب ازشیخ مقبول احمد سلفی / اسلامک دعوۃ سنٹر-طائف
 
(1)سوال: کیاوضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنا مردوں کے ساتھ مخصوص ہے یا اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں ؟
جواب: یہ بات ذہن نشیں رہے کہ دین کے جملہ احکام میں عورتیں بھی مردوں کی طرح ہیں یعنی جوحکم مردوں کے لئے یا مردوں کو مخاطب کرکے دیا گیا ہے وہی حکم عورتوں کے لئے بھی ہوگا ۔ ہاں اگر الگ سےمردوں کو یاالگ سے عورتوں کو مخصوص حکم دیا گیا ہو تو مردوں کے ساتھ مخصوص حکم مردوں کے لئے اور عورتوں کے ساتھ مخصوص حکم عورتوں کے لئے ہوگا۔ وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنا رسول اللہ کی سنت ہے ،اس میں خصوصیت کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لئے یہ مردوں کی طرح عورتوں کے لئے بھی ہے۔
(2)سوال: کیا بچہ کو چمچہ سے دودھ پلانے پر رضاعت ثابت ہوجائے گی؟
جواب: رضاعت کے لئے دو شرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ بچے کو دوسال کے اندر دودھ پلایا گیا ہو اور دوسری شرط یہ ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پلایا گیا ہو۔ جس بچے کو دوسال کے اندر پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ دودھ پلادیا جائے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی چاہے دودھ پستان سے لگاکر بچے کو پلایا جائے یا پھر کسی برتن /چمچہ /بوبل میں نکال کر پانچ مرتبہ پلایا جائے ۔اصل یہ ہے کہ بچے کے پیٹ میں دودھ چلا جائے ۔
(3)سوال: میک اپ والی دلہن تیمم کرسکتی ہے یا وضو کرنا پڑے گا جبکہ وضو کرنے میں سارامیک اپ چلا جائے گاجس پر محنت اور پیسہ دونوں لگے ہیں؟
جواب: میک اپ کوئی ایسا عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے دلہن تیمم کرے گی بلکہ اس پر لازم ہے کہ نماز کے لئے پانی سے وضو کرکے نماز پڑھے چاہے وضو سے میک اپ ہی کیوں نہ چلاجائے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ شوہر کے لئے میک اپ کرنا جائز ہے مگر ایسا میک اپ جس کی وجہ سے نماز چھوڑنا پڑے جائز نہیں ہے۔اس لئے دلہن ہو یا کوئی اور خاتون میک اپ نماز کے بعد کرے اور اتنی دیر کے لئے کرے جس سے نماز نہ ضائع ہویا ایسا ہلکا میک اپ کرے کہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے میں حرج محسوس نہ ہو۔
(4)سوال: ایام بیض کے دو روزےرکھنے کے بعد تیسرے دن حیض آگیا ، لہذا تیسرے روزہ کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایام بیض کا روزہ ہرماہ قمری تاریخ کے اعتبارسے تیرہ ،چودہ اور پندرہ کو رکھاجائے گا ۔اگر کسی عورت کو ان ایام میں حیض آجائے تو ماہ کے آخر میں ایام بیض کا روزہ رکھ لے یعنی ۲۷،۲۸،۲۹ کو۔ جیساکہ سوال میں مذکور ہے کہ دوروزہ رکھنے کے بعد حیض آگیا تو تیسرے کا کیا حکم ہے اس کا حواب یہ ہے کہ جیسے ہی حیض سے پاک ہو اس وقت سے لیکرآخر ماہ تک کسی بھی دن ایام بیض کی نیت سےایک روزہ رکھ سکتی ہے۔
(5)سوال: عورتوں کے لئے پراندہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر پراندہ بالوں کی حفاظت یا ضرورت مثلا چھوٹے بال کواس کی مدد سےلمبا کرنے کی غرض سے ہوتو پراندہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر وہی مقصد ہو جو نقلی بالوں کو اصلی بال میں جوڑنے کا ہوتا ہے تو جائز نہیں ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ۔
(6)سوال: میں نے سنا ہے کہ کالے عبایا پر رنگین دوپٹہ لگانا جائز نہیں ہے کیا یہ صحیح ہے ؟
جواب: عبایا اور دوپٹے کا مقصد جسم عورت کو اچھی طرح ڈھانپنا اور حجاب کرنا ہے چاہے کسی بھی رنگ کا عبایا اور کسی رنگ کا دوپٹہ ہو ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہےلیکن جس عبایا اور دوپٹہ سے مکمل پردہ نہ ہوتاہو بلکہ اس سے جسم کی ساخت نمایاں ہویالوگوں کی نظروں کو مائل کرنے والا ہوتو ایسا عبایا یا دوپٹہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔اس لئے عورتوں کو چاہئے کہ عبایا/نقاب اور دوپٹہ سادہ والا اورکشادہ والا خریدے اور نقش ونگار،جاذب نظر اور تنگ کپڑوں سے پرہیز کرے ۔
(7)سوال: اگر عورت دستانے پر گھڑی لگائے تو یہ زینت میں شمار ہوگی؟
جواب: گھڑی ضرورت کی چیز ہے اس لئے عورتیں بھی اپنی کلائی پرگھڑی باندھ سکتی ہے تاہم یہ خیال رہے کہ گھڑی ضرورت کے ساتھ زینت بھی شمار کی جاتی ہےلہذا عورتیں جب گھڑی پہنیں تو کپڑے اور دستانے کے نیچے پہنیں تاکہ اس پرغیرمحرم کی نظر نہ پڑے ۔محرموں کے درمیان جس طرح پہنے کوئی حرج نہیں ہے۔
(8)سوال: کیا شادی کے موقع پر عورتیں فلمی گانے بناموسیقی کے پڑ ھ سکتی ہیں؟
جواب: عورتیں شادی کے موقع پر ایسے نغمات پڑھ سکتی ہیں جن میں فحش اور غلط سلط باتیں نہ ہوں ۔ اس قسم کے فلمی نغمات بھی پڑھے جاسکتے ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ فلمی نغمات کی بجائے ہزاروں نغمات غیرفلمی ہیں انہیں پڑھاجائے اس کی وجہ یہ ہے کہ فلمی نغمات کا چلن بڑھنے سے عورتوں کی توجہ فلم دیکھنےاور فلمی نغمے سیکھنے کی طرف ہوگی اوراس طرح فلم میں موجود فحش باتوں کا اثر خواتین پر پڑے گابلکہ پورے مسلم گھرانے اور سماج پر پڑے گا۔
(9)سوال: اگر حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی، اس میں خیانت سے کیا مراد ہے؟
جواب: صحیح مسلم میں 3647 نمبر کی حدیث ہے، ‏‏‏‏سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا حواء لم تخن انثى زوجها الدهر.ترجمہ:اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔
چونکہ حوا علیہ السلام تمام عورتوں کی ماں ہیں اور حوا علیہ السلام نے ابلیس کے بہکاوے میں آکر آدم علیہ السلام کو اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا۔ نہ آدم وحوا اس درخت کا پھل کھاتے نہ دنیا میں اتارے جاتے اور نہ دنیا میں خیانت ظاہر ہوتی۔ یہاں شوہر کی خیانت سے بستر کی خیانت یا فحش کاموں کا ارتکاب مراد نہیں ہے بلکہ مذکورہ بالا واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
(10)سوال: عورت کو غسل دے کر کفن دینے کے بعد خون نکل آیا ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟
جواب: ایک مرتبہ میت کو غسل دینے اور کفن دینے کے بعد پھر سے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی کفن بدلا جائے گا لیکن اگر نجاست ظاہر ہورہی ہو تو فقط نجاست کا زائل کرنا کافی ہوگا۔ خون کا دھبہ نظر آرہا ہے تو تر کپڑے سے اس کو پوچھ دیا جائے کافی ہے ۔
(11)سوال: ٹھنڈا پانی کی وجہ سےرات میں پیشاب کرنے پر ٹیشوپیپر سے استنجا کرلیتی ہوں پھر فجر کے وقت وضو سے پہلے پانی سے شرمگاہ کی صفائی کرتی ہوں کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟
جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور تین پتھروں سے استنجاکرنے کی اجازت دی ہے ۔اس اعتبارسے ٹیشو پیپر پتھر کے قائم مقام ہے لہذا آپ کا ٹیشوپیپر سے استنجاکرنا کافی ہے چاہے پانی کیوں نہ موجود ہولیکن ٹیشو پیپر سے کم ازکم تین بار صفائی کریں اور پھر فجر کے وقت پانی سے صفائی کرنا ضروری نہیں ہےلیکن صفائی کرلیتی ہیں تو بہتر ہی ہے۔
(12)سوال: بازار جانے کی وجہ سے کیا ظہر کے وقت ظہروعصر کی یا عصر کے وقت عصرومغرب کی نماز جمع کرکے پڑھ سکتی ہوں کیونکہ بازار میں نماز پڑھنے کی جگہ نہیں ہے؟
جواب: بازار جانے کی وجہ سے کوئی عورت کسی دوسری نماز کو وقت سے پہلے نہیں ادا کرسکتی ہے ۔ اللہ تعالی نے نمازوں کو اپنے اپنے اوقات میں پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ اگر کوئی عورت ظہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھ کربازار جاتی ہے تو اس کے لئے عصر کا وقت جہاں ہوگا وہیں عصر کی نماز ادا کرےگی اور عصر کے وقت عصر کی نماز پڑھ کر بازار جارہی ہے تو مغرب کی نماز وہاں پڑھنی ہے جہاں مغرب کا وقت ہورہا ہے ۔اور نمازکے لئے مسجد کا ہونا بھی لازم نہیں ہے ساری زمین مسجد کے حکم میں ہے کہیں بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔کوشش کی جائے کہ ضرورت کی اشیاء جلدخریدکرگھر لوٹ آیاجائے لیکن اگر خریداری کی وجہ سے تاخیرہوجائے اور بازار میں نماز پڑھنے کا موقع نہ ملے تو گھر آکر پہلے نماز ادا کی جائے ۔
(13)سوال: اگر باپ بیمار ہوتو کیا بیٹی اپنے باپ کے ہاتھ ، پیر اور منہ وغیرہ دھل سکتی ہے؟
جواب: بیٹی اپنے باپ کے ہاتھ پیراورچہرہ دھل سکتی ہے۔کوئی بات نہیں ہے ۔
(14)سوال: دیکھنے میں آرہا ہے کہ عورتیں حالت حمل میں ایسی دوائی استعمال کرتی ہیں جن سے گمان کیا جاتا ہے کہ لڑکا پیدا ہوگا اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: اگر کہیں پر عورتیں لڑکا پیدا کرنے کے لئے کوئی مخصوص دوا استعمال کررہی ہیں تو یہ ان کے ایمان کی کمزوری اور اللہ پر توکل کی کمی ہے ۔ اولاد دینا، لڑکا اورلڑکی دینا اللہ کی صفت ہے اوریہ اسی کے اختیار میں ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ * أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (الشورى: 49-50)
ترجم: آسمان و زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے ، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ،جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کردے ، وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔
اس لئے عورتوں کو چاہئے کہ اپنے اندر سے ایمان و توکل کی کمزوری دور کرے اور اولاد کے لئے اللہ سے دعا کرے ۔
(15)سوال : اخوات مومنات سے کون مراد ہیں؟
جواب: چار مومن بہنوں کا ذکر اس حدیث میں ہے جو صحیح الجامع میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
الأخواتُ الأربعُ ، ميمونةُ ، و أمُّ الفضلِ ، و سَلمى ، و أسماءُ بنتُ عُمَيسٍ أختُهنَّ لأُمِّهنَّ مؤمناتٌ(صحيح الجامع:2763)
ترجمہ: یہ چار بہنیں مومنہ ہیں: میمونہ، ام الفضل، سلمیٰ اور اسما بنت عمیس۔ مؤخر الذکر، اول الذکر تینوں کی اخیافی (‏‏‏‏یعنی ماں کی طرف سے) بہن ہے۔
سنن کبری ، درالسحابہ، شرح مشكل الآثار اور طبرانی وغیرہ میں بایں الفاظ مروی ہے :
الأخواتُ المؤمناتُ ميمونةُ زوجُ النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ وأمُّ الفضلِ امرأةُ العبَّاسِ وأسماءُ بنتُ عُمَيسٍ امرأةُ جعفرٍ وامرأةُ حمزةَ۔
ترجمہ: یہ چار بہنیں مومنہ ہیں: میمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ، ام الفضل عباس کی زوجہ، اسما بنت عمیس جعفر کی زوجہ اور حمزہ کی زوجہ۔
(16)سوال: ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی قیامت میں سب سے پہلے حکم دے گا کہ مرد کا اس کی بیوی کے ساتھ کیسا سلوک تھا وہ تولو ۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب: میرے علم کی روشنی  میں ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ، صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ کے معاملے میں سب سے پہلے نماز کا فیصلہ ہوگا اور حقوق العباد کے معاملے میں ناحق خون کا فیصلہ ہوگا۔ کچھ حقوق شوہر پر بیوی کے واسطے اور کچھ حقوق بیوی پر شوہر کے واسطے ہیں ، جو اپنے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا قیامت میں اس کا محاسبہ ہوگا مگر سب سے پہلے مردوں کا بیوی کے ساتھ سلوک تولا جائے گا صحیح بات نہیں ہے۔
(17)سوال: ایک بہن نے پوچھاہے کہ وہ زکوۃ کی نیت سے سال بھر تھوڑا تھوڑا پیسہ فقراء ومساکین میں تقسیم کرتی رہتی ہیں کیا اس طرح زکوۃ ادا ہوجائے گی جبکہ یکبارگی زکوۃ دینا مشکل ہے؟
جواب: زکوۃ دینے کی یہ شکل جائز نہیں ہے کیونکہ زکوۃ یکبارگی ادا کی جاتی ہے ۔ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ زیورات کی زکوۃ نکالتی ہوں تو گزارش ہے کہ آپ جو تھوڑا تھوڑا زکوہ کی نیت سے رقم نکالتی ہیں وہ کسی تھیلی میں جمع کرتے رہیں اور سال پورا ہونے پر زیوارات کی جو زکوۃ بنتی ہے ادا کردیں ۔ اور سائل وغیرہ کو تھوڑا بہت صدقہ وخیرات کی نیت سے دیتی رہیں۔

 

مکمل تحریر >>

Wednesday, December 1, 2021

پہلے ظہر کی قضا یا عصر کی نماز

 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔
ایک بہت اہم سوال ہے جس کا جواب بہت جلد چاہئیے جواب کے آخر میں اپنا نام ضرور لکھیں کیونکہ یہاں کچھ لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ہے آپکے اس جواب کو آپکے نام کے ساتھ دکھانا ہے تاکہ لوگ تسلیم کر لیں۔
گزارش ہے کہ اس سوال کا جواب دے کر ہم تمام کی اصلاح کریں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کی ظہر نماز قضا ہو گئی ہو اور عصر نماز کی جماعت کھڑی ہو تو وہ شخص کیا کرے ؟ ظہر کی نیت کر کے عصر کی جماعت میں شامل ہو جائے یا پہلےعصر پڑھے پھر ظہر پڑھے ، دونوں صورتوں میں صحیح کیا ہے یا پھر ان دونوں میں افضل صورت کونسی ہے؟ آپ کے جواب کا ہمیں بہت شدت سے انتظار رہے گا۔
جزاک اللہ خیرا
سائل : ظہیراحمد نیازاحمد سلفی
الجواب بعون اللہ الوھاب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جواب : اگر عصر کی جماعت ہونے میں کچھ وقت باقی ہے تو اس دوران ظہر کی نماز ادا کرلیں اور اگر جماعت شروع ہونے والی ہے یا ہوگئی ہےتو آپ ظہر کی نیت سے امام کے ساتھ مل جائیں ۔ یہ آپ کی ظہر کی نمازہوگئی پھر بعد میں عصر کی نماز پڑھ لیں ۔ جنگ خندق کے موقع سے رسول اللہ ﷺ سے عصر کی نماز فوت ہوگئی تو آپ نے پہلے عصر کی نماز پڑھی حالانکہ مغرب کا وقت تھا اور پھر مغرب کی نماز پڑھی ۔ حدیث اس طرح سے آئی ہے ۔
أنَّ عُمَرَ بنَ الخَطَّابِ، جَاءَ يَومَ الخَنْدَقِ، بَعْدَ ما غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، قَالَ: يا رَسولَ اللَّهِ ما كِدْتُ أُصَلِّي العَصْرَ، حتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ، قَالَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: واللَّهِ ما صَلَّيْتُهَا فَقُمْنَا إلى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى العَصْرَ بَعْدَ ما غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا المَغْرِبَ.(صحيح البخاري:596)
ترجمہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک مرتبہ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اور آپ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! سورج غروب ہو گیا، اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پھر ہم وادی بطحان میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو بنایا۔ اس وقت سورج ڈوب چکا تھا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں چار نمازوں کے چھوٹنے کا ذکر ہے ، اس موقع سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے وہ نماز نہیں پڑھی جس کا وقت تھا بلکہ آپ نے فوت شدہ نمازوں کو ترتیب سے اد ا کیا۔ حدیث ملاحظہ فرمائیں ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
إنَّ المشرِكينَ شغَلوا النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ عن أربعِ صلَواتٍ يومَ الخندقِ فأمرَ بلالًا فأذَّنَ ثمَّ أقامَ فصلَّى الظُّهرَ ثمَّ أقامَ فصلَّى العصرَ ثمَّ أقامَ فصلَّى المغربَ ، ثمَّ أقامَ فصلَّى العِشاءَ(صحيح النسائي:661)
ترجمہ: جنگ خندق (احزاب) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے صحیح النسائی میں صحیح لغیرہ قرار دیا ہے ۔
اس لئے اگر کسی کی ظہر کی نماز چھوٹ گئی اور عصر کی جماعت کھڑی ہے تو وہ اس نماز میں ظہر کی نیت سے شامل ہوجائے ، یہ اس کی ظہر کی نماز ہوجائے گی پھر اس کے بعد عصر کی نماز ادا کرلے ۔ یہ افضل ہے تاہم کوئی پہلے عصر کی نماز پڑھ لے پھر بعد میں ظہر کی قضا کرے تو یہ صورت بھی جائز ہے ، یہاں یہ بھی معلوم رہے کہ امام ومقتدی کی نیت میں فرق ہوسکتا ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر طائف۔ سعودی عرب 

مکمل تحریر >>

نماز سے متعلق چند سوالوں کے جوابات

السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کی خدمت میں میرے کچھ سوالات ہیں ، قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔
(۱) اگر وضو سے پہلے بھولے سے بسم اللہ نہ پڑھے تو کیا وضو ہوجاتا ہے ؟
(۲) اگر مغرب کی فرض نماز ادا کرنے کے بعد یاد آئے کہ ہم نے تین رکعت کی جگہ دو پڑھی ہے تو کیا دوبارہ نماز پڑھی جائے گی یا صرف ایک رکعت ادا کی جائے گی اور اس ایک رکعت کا کیا طریقہ ہوگا؟
(۳) وضو کا کوئی حصہ رہ جائے بھولے سے اور وہ نماز کے بعد یاد آئے تو کیا دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنی ہوگی ؟
(۴) سورہ فلق اور سورہ ناس کی تلاوت نماز کی جاسکتی ہے ؟
جزاک اللہ خیرا
سائلہ : حفصہ عبید خان  ، پاکستان
الجواب بعون اللہ الوہاب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
(۱) اگر وضو سے پہلے بھولے سے بسم اللہ نہ پڑھے تو کیا وضو ہوجاتا ہے ؟
جواب :  وضو میں بسم اللہ پڑھنا مشروع ومسنون ہے ،واجب نہیں ہے لہذا اگر کوئی وضو کرتے وقت بسم اللہ بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے اپنا وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں جان بوجھ کر وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کا ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے ۔
(۲) اگر مغرب کی فرض نماز ادا کرنے کے بعد یاد آئے کہ ہم نے تین رکعت کی جگہ دو پڑھی ہے تو کیا دوبارہ نماز پڑھی جائے گی یا صرف ایک رکعت ادا کی جائے گی اور اس ایک رکعت کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب: شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ نماز ختم ہونے کے بعد شک ہوگیا کہ تین پڑھا یا چار تو ایسی صورت میں کیا کرے تو شیخ نے جواب دیا کہ اگر کسی کو نماز سے سلام پھیرنے کے بعد شک ہوجائے تو یہ نقصان دہ نہیں ہے اور اس کی طرف دھیان نہ دے لیکن اگر نماز کے دوران  سلام پھیرنے سے پہلےشک ہوجائے کہ تین پڑھا کہ دو تو یقین پر بنا کرے اور دو مان کر تیسری رکعت ادا کرے یا شک ہوجائے کہ تین پڑھا کہ چار تو یقین پر بنا کرےاور وہ کم پر بناکرنا ہے اس طرح تین مان کر چوتھی رکعت ادا کرے پھر سجدہ سہو کرے چاہے امام ہو یا منفرد۔ لہذا بہن آپ کو جو نماز کے بعد شک پیدا ہوگیا اس کی طرف دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہاں اگر شک نہیں بلکہ یقین ہے کہ آپ نے مغرب کی نماز دو ہی رکعت پڑھی ہے تو تکبیرتحریمہ  کہہ کر نماز میں داخل ہوجائیں اور مزید ایک رکعت ادا کرکے سجدہ سہو کریں اور سلام پھیردیں ۔
(۳) وضو کا کوئی حصہ رہ جائے بھولے سے اور وہ نماز کے بعد یاد آئے تو کیا دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنی ہوگی ؟
جواب:  یہ سوال بھی اوپر والے سوال سے ملتا جلتا ہے کہ اگر نماز کے بعد شک ہوجائے کہ وضو میں فلاں حصہ دھلا کہ نہیں تو ایسے شک کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا لیکن اگر یقین سے معلوم ہو کہ حقیقت میں آپ نے وضو میں کوئی حصہ نہیں دھلا تو پھر وضو ہی نہیں ہوا اور جب وضو نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی ۔ ایسی صورت میں آپ پھر سے وضو کریں اور مکمل نماز دہرائیں ۔
(۴) سورہ فلق اور سورہ ناس کی تلاوت نماز میں جاسکتی ہے ؟
جواب : جی ،ہاں ۔ بالکل سورہ فلق اور سورہ ناس کی تلاوت نماز میں کی جاسکتی ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
مقبول احمد سلفی /داعی اسلامک دعوۃ سنٹر طائف، سعودی عرب
 
مکمل تحریر >>

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

 
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
کل رات میں نے ہاشمی میاں کی ایک تقریر سنی جو تین مہینے قبل یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ہے ، پوری تقریر حکومت کے خلاف تھی ، اس نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان آدم علیہ السلام کی سرزمین ہے ہم لوگ انہی کی اولاد ہیں اس لئے تمہاری (ہندوں)گھر واپسی ہوگی ہماری نہیں۔ کل تک یہ حضرت حکومت کو بتلاتے رہے کہ اہل حدیث دہشت گرد ہے، دیوبندی دہشت گرد ہے ، جماعت اسلامی دہشت گرد ہے حتی کہ اس نے حکومت سے پکڑوانے کی پہچان بھی بتلائی ہے ۔پکڑوانے کا طریقہ یہ ہے کہ دہشت گردی کاموں میں ملوث افرادسے سوال کرو ماتم وعزاداری کرتے ہو کیا ؟ بولے ہاں تو سمجھو شیعہ ہے ۔ سوال کرو قبر پہ پھول چادر چڑھاتے ہو کیا ؟ بولے ہاں تو سمجھو بریلوی(سنی) ہے ۔ اور جو کہے دونوں غلط ہے ، دونوں بدعت ہے تو سمجھو وہابی ہے۔یہی دہشت گرد ہوگا کیونکہ وہابی ہی دہشت گرد ہوتا ہے۔
نوٹ: ہاشمی کی نظر میں دہشت گردی بریلویوں کی مخالفت کا نام ہے۔
بہرکیف ہاشمی کی نئی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی کانفرنس کی طرح اب کوئی کانفرنس کرانا مشکل ہوگیا ہے یا حکومت سے وفاداری کا صلہ ملنا بند ہوگیا ہے اس لئے اب حکومت کو للکاررہا ہے۔ بات تو صحیح کررہا ہے مگر پہلی جیسی نہیں ہے اس لئے سوچنے والی ہے۔
اس بیان سے ایک بات اور صاف ہوجاتی ہے کہ حکومت کے مسلم مخالف ایجنڈے میں اس وقت بریلوی بھی پوری طرح شامل ہے ، انفرادی طور پر کسی میرجعفر اور میرصادق کو کرامات سے نوازا جاتا ہو یہ بعید نہیں ہےاس لئے اب بریلویوں کو حکومت کے تئیں خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔
اس پس منظر میں مولانا کلیم صدیقی ، عمر گوتم اور ان کے بیٹے عبداللہ کی گرفتاری کو دیکھتے ہیں اورپھر دیوبندی اور بریلوی علماء کے مختلف بیانات سنتے ہیں جن میں اب ڈاکٹر ذاکر نائک کے ساتھ برے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے تو قوی امکان کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے دیوبندیوں اور بریلویوں نے حکومت کو معصوم مسلمانوں کے خلاف (بشمول ذاکر نائک) جو مواد فراہم کرنا تھا کردیا اور حکومت نے انہیں جو اکرامیہ دینا تھا دے دیا۔ اب حکومت کا منشا بلاتفریق تمام مسلمانوں پرقہر برپا کرنا ہے۔ حالات بتارہے ہیں کہ اللہ نے ڈاکٹرذاکر نائک کی حفاظت فرمائی اور مناسب وقت پر ملک سے نکل جانے کی توفیق دی ورنہ آج وہ جیل کی سلاخوں میں نہیں ہوتے بلکہ غائب کرکے قتل کردئے گئے ہوتے۔
اہم نصیحت:
سطور بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اوپر حکومت کے مظالم ہمارے اپنوں کی کرم فرمائی ہے جسے ایک مصرعہ میں اس طرح کہا جائے گا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ہمارے درمیان اتحاد ہو اور ہم میں کوئی میر جعفر کا کردار ادا نہ کرے تو کبھی دشمن ہم پر غالب نہ آئے گا۔ اللهم اهد قومي فانهم لا يعلمون
مقبول احمد سلفی طائف-سعودی عرب
 
مکمل تحریر >>