Sunday, March 22, 2015

تصویر سے بھی نظر لگ سکتی ہے

نظر حق ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَإِنْ يَكَادُ الّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمّا سَمِعُوا الذّكْرَ) (القلم : 51))

اور بالکل قریب تھا کہ کافر آپ کو اُن کی نظروں کے ساتھ پِھسلا دیں ، جب انہوں نے (یہ)ذِکر(قران کریم)سُنا۔

اور نبی ﷺ کا فرمان ہے:

"الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَىْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا"(صحیح مُسلم حدیث 5831کتاب السلام)

اور نظر بد (لگنا)حق ہے ، اور اگر تقدیر پر کوئی حاوی ہو سکتا ہوتا تو یقیناً نظربد حاوی ہو جاتی ،اور اگر تُم لوگوں کو (خُود کو)غسل دینے کا کہا جائے تو غسل دو ۔

نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ نظر کسی کو بھی لگ سکتی ہے ، مذکورہ آیت میں نبی پر نظر کے اثر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔
نظر کا اثر محض دیکھنے پر ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مجرد وصف ، حکایت اور خیال سے بھی ممکن ہے ۔

ابن القیم ؒ نے کہا ہے : نظر کا اثر صرف دیکھنے پر موقوف نہیں بلکہ بسا اوقات کسی اندھے آدمی سے کسی شی کا وصف بیان کیا جائے تو آدمی متاثر ہوسکتا ہے گرچہ اس کو نہیں دیکھا ہو۔ اور اکثر نظر بغیر رویت کے وصف سے ہی لگ جاتی ہے ۔ (زاد المعاد 4/153)
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کا محض تصویر دیکھنے ، یا موصوف کا وصف سننے سے بھی نظر لگ سکتی ہے ۔
اسلام میں نظر بد کا علاج بھی بتلایا گیا ہے ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں نظر بد سے بچائے ۔ آمین

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔