آپ کے سوالات اور ان کے
جوابات (101)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر ، حی السلامہ- سعودی عرب
سوال: میں نے سنا ہے کہ اذان
اور اقامت کے درمیان تین بار یہ دعا(اللهم إني أسالك العفو والعافية) پڑھنے سے چار انعامات
ملتے ہیں۔ اللہ وہ بیماری نہیں دے گا جس میں موت آجائے، اللہ اسے تنہائی کے گناہ
سے بچائے گا، دنیا کے ظالم لوگوں سے واسطہ نہیں پڑے گا۔اللہ کے بغیر محنت کے آسان
روزی عطا کرے گا۔ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟
جواب: اذان اور اقامت کے درمیان دنیا اور آخرت میں
عافیت کی دعا کرنے سے متعلق ترمذی میں ایک حدیث ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی
جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی یعنی قبول ہوجاتی ہے۔لوگوں نے پوچھا اس دوران ہم
کون سی دعا مانگیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: (سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ
فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) دنیا اور آخرت دونوں میں عافیت مانگو۔(ترمذی:3594)
اس حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے یعنی اذان اور اقامت کے
درمیان دعا قبول ہوتی ہےیعنی یہ بات صحیح ہے لیکن اس کے بعد والا جملہ(سَلُوا
اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) ثابت نہیں ہے، محدثین نے اس کو
ضعیف قرار دیا ہے لہذا اذان اور اقامت کے درمیان مذکورہ دعا کرنا ثابت نہیں ہے۔
اذان اقامت کے درمیان عمومی دعا کرنے میں حرج نہیں ہےکیونکہ
یہ بات ثابت ہے کہ اذان واقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی حتی کہ بلا تخصیص
مذکورہ دعا بھی کرسکتے ہیں مگر خاص کر کے اور خاص فضیلت کے لیے یہ دعا پڑھنا درست
نہیں ہے۔
سوال: میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ایک گاؤں
میں کام کرتی ہوں۔ یہاں پر غیرمسلم کی اکثریت ہے اور یہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی
شراب نوشی کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور صحت کے دیگر
مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ شراب پینے والوں کا علاج نہیں کرنا
چاہیے اس سلسلے میں رہنمائی کریں؟
جواب: ایک ڈاکٹر بیمار کی بیماری کا علاج کر سکتا ہے
خواہ وہ کیسی بھی بیماری کیوں نہ ہو۔ ڈاکٹر کا کام بیمار کا علاج کرنا ہے لہذا وہ
شراب پینے والے کا بھی علاج کر سکتا ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر کو
چاہیے کہ ایسے آدمیوں کو اس طور پر نصیحت بھی کرے کہ وہ شراب پینا چھوڑ دے۔ ڈاکٹر
کی نصیحت مریض کو بہت کام آتی ہے۔
سوال: میں نے کسی کو قرض دیا تھا اور اب
وہ واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے اور مجھے زکوۃ بھی دینی ہے مگر زکوۃ دینے
کے لیے میرے پاس اضافی رقم نہیں ہے تو کیا اس قرض کو زکوۃ میں معاف کر سکتے ہیں؟
جواب: جو آدمی قرض واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے،
اگر اس کا قرض معاف کر دیتے ہیں تو یہ اس آدمی کے ساتھ بہت بڑی بھلائی ہے، اس
بھلائی کا اللہ کے یہاں بہترین صلہ ملے گا۔ جہاں تک زکوۃ کا مسئلہ ہے تو قرض میں
دیا ہوا پیسہ زکوۃ نہیں مان سکتے یا اسے زکوۃ مان کر معاف نہیں کرسکتے ہیں۔ زکوۃ
وہ چیز ہے جسے الگ سے زکوۃ کی حیثیت سے نکالنی ہوگی۔ اور اللہ نے اس چیز میں زکوۃ
رکھا ہے جو انسان کی ملکیت میں ہو، زکوۃ دینے والی چیز ہو اور وہ نصاب تک پہنچی
ہوئی ہو پھر اس پر ایک سال گزر جائے۔ اگر آپ کو مال میں سے زکوۃ دینی ہے تو گویا
آپ کے پاس مال موجود ہے، اسی مال سے آپ کو زکوۃ دینا ہے۔آپ کے ذمہ اس چیز کی زکوۃ
نہیں ہے جو آپ کی ملکیت میں نہیں ہے۔
سوال: ایک شخص نے دوسری شادی کی ہے، اس
بیوی کے پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہیں، کیا وہ شخص اپنی زکوۃ ان بیٹیوں پر خرچ
کرسکتا ہے؟
جواب : جب ایک شخص ایک شادی شدہ عورت سے شادی کرتا ہے
اس حال میں کہ اس عورت کو پہلے شوہر سے دو بیٹیاں ہوں تو یہ بیٹیاں اس مرد کے حق
میں ربیبہ کہلاتی ہیں۔ اس مرد پر اس ربیبہ کا نفقہ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی
اپنی اولاد نہیں ہے لہذا وہ مرد اس ربیبہ کو زکوۃ دے سکتا ہے اگر وہ فقیر اور
مسکین کے زمرے میں آتی ہو بطور خاص جب وہ ربیبہ اس مرد سے الگ اور دور رہتی ہو۔
سوال: میاں بیوی کے خاص تعلق کے بعد فوری
غسل کرنا ضروری ہے یا طہارت حاصل کرنا کافی ہوگا۔ اگر بغیر طہارت حاصل کئے سو جائے
اور فجر کے وقت غسل کرے تو گناہ ملے گا؟
جواب: ہمبستری کے بعد غسل کرنا چاہیے یا کم از کم وضو
کرلینا چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو
دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔(صحیح البخاری:288)
اس لیے جماع کے بعد افضل یہ ہے کہ آدمی غسل کرے یا کم
از کم وضو کر کے سونا مسنون ہے۔ بغیر وضو کے جنابت کی حالت میں سونے کو اہل علم نے
مکروہ کہا ہے۔
مختصر یہ کہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کے جنابت کی حالت
میں سوگیا اور فجر سے پہلے غسل کرکے وقت پر فجر کی نماز ادا کیا ،ایسا شخص گنہگار
نہیں کہلائے گا۔
سوال: ایک عورت کے پاس نو(9) تولہ سونا
ہے، وہ اس کی زکوۃ دینا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سونا کا ریٹ روزانہ تبدیل ہوتا
رہتا ہے۔ کیا ایک ہی دن کے ریٹ کے مطابق زکوۃ کا حساب کر کے مکمل اسی دن ادا کرنا
ضروری ہے یا پھر اگر زکوۃ قسطوں میں ادا کی جائے تو ہر دن کے موجودہ ریٹ کے مطابق
الگ الگ حساب کیا جائے گا؟
جواب: سونا کی زکوۃ سال مکمل ہونے پر دینا ہے اور جس دن
سال مکمل ہو رہا ہو اس دن سونے کی جو قیمت ہو اس کا اعتبار کرکے اسی دن مکمل زکوۃ
الگ کر دینا ہے اور اس زکوۃ کو بالفور اور بلاتاخیر تقسیم کرنا ہے یعنی زکوۃ کو
رکھ کر قسطوں میں نہیں تقسیم کرنا ہے بلکہ زکوۃ نکال کر فوری طور پر اسے مستحق میں
تقسیم کر دینا ہے۔زکوۃ کی تقسیم میں دو چند دن تاخیر ہوجائے اس میں حرج نہیں ہے
لیکن زکوۃ نکال کر اسی دن الگ کرلینا ہے جس دن سال مکمل ہورہا ہے۔
سوال: کیا خواتین رمضان المبارک میں ہر
جمعہ، مسجد میں نماز ادا کر سکتی ہیں یا یہ عمل بدعت شمار ہوگا؟
جواب: خواتین کے اوپر پنج وقتہ نمازیں جماعت کے ساتھ
پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے اور اسی
طرح خواتین پر جمعہ کی نماز بھی فرض نہیں ہے، وہ جمعہ کے بدلے اپنے گھر میں ظہر کی
نماز ادا کریں گی تاہم اگر عورت، جمعہ کے دن مسجد میں حاضر ہوکر مردوں کے ساتھ
جمعہ ادا کرتی ہے تو اس میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔ عام دنوں میں بھی عورت
جمعہ کی نماز مسجد میں آکر پڑھ سکتی ہے اور رمضان میں بھی ہرجمعہ مسجد میں آکر
نماز پڑھنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس عمل کو بدعت نہیں کہیں گے کیونکہ
عہد رسول میں بھی خواتین مسجد میں پنج وقتہ نمازوں میں بھی حاضر ہوتی تھیں اور
جمعہ کی نماز میں بھی حاضر ہوتی تھیں۔
سوال: دو یا تین سال کے رمضان کے قضا
روزے میرے ذمہ ہیں۔ میرے ساتھ جسمانی تکلیف ہے، جب بھی روزہ رکھتی ہوں تو تکلیف
بہت بڑھ جاتی ہے اور جلدی کم بھی نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر کو دکھایا، سب نارمل ہے اور دوا
کھانے تک افاقہ رہتا ہے مگر جیسے دوا چھوڑتی ہوں، فورا تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ اگر
رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کروں تو کیا مجھے فدیہ بھی دینا پڑے گا اور فدیہ
دینے کی استطاعت نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: سوال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں رمضان کے
چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنے کی استطاعت نہیں ہے تو ایسی صورت میں آپ کے اوپر اس
وقت قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور ویسے بھی رمضان قریب ہے، آپ ابھی آنے والے رمضان
کا روزہ رکھ لیں اور پھر رمضان کے بعد جب قضا کی استطاعت وسہولت ہو جائے تو قضا روزہ بھی بلاتاخیر ادا کر لیں
اور آپ کو صرف روزوں کی قضا کرنی ہے، الگ سے فدیہ نہیں دینا ہے۔
سوال: کیا بکرے اور گائے کی اوجھڑی کھا
سکتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے مکروہ کہتے ہیں؟
جواب: حلال جانور کی اوجھڑی حلال ہے، آپ بلا شبہ اسے
کھا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اوجھڑی کی حرمت پہ کوئی دلیل نہیں ہے۔
سوال: کیا عید کے دن نئے کپڑے پہننے سے
متعلق کوئی صحیح حدیث وارد ہے؟
جواب: صحیح بخاری (948) میں ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا
کہ" عمر رضی اللہ عنہ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ لے کر رسول اللہ کی خدمت
میں حاضر ہوئے جو بازار میں بک رہا تھا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیجئے
اور عید اور وفود کی پذیرائی کے لیے اسے پہن کر زینت فرمایا کیجیے"۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کے دن زینت اختیار
کرنا اور عمدہ لباس لگانا مسلمانوں کی عادت تھی، اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ نے نیا
لباس عید کی مناسبت سے خریدنے کے لیے کہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی
اللہ عنہ سے متعلق بیہقی میں موجود ہے کہ وہ عیدین میں عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔
سوال: اگر عورت کے کپڑے یعنی شلوار میں
میانی نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی ہے؟
جواب: عورت کی شلوار میں میانی نہ ہو تو اس میں نماز
پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلاشبہ اس میں پڑھی گئی نماز درست ہے۔ اور ایسی کوئی
دلیل نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ بغیر میانی والے لباس میں نماز نہیں ہوتی
بلکہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسول میں کتنی ساری خواتین کو صرف ایک ہی لباس
ہوتا تھا اور اسی ایک لباس میں وہ نماز
پڑھ لیتی تھیں۔
سوال: اگر کوئی مرد یا عورت اکیلے رہتے
ہوں اور کسی سے ملنا جلنا نہ ہو تو کیا اس پر شیطانی اثرات ہوجاتے ہیں؟
جواب: سب سے پہلی بات یہ
ہے کہ انسان کو اس جگہ رہنا چاہئے جہاں انسانوں کی بستی ہے، اکیلے میں نہیں رہنا
چاہئے تاکہ وہ معاشرتی طور پر زندگی گزارے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بستی میں رہ کر
بھی آدمی کو لوگوں سے مل کر رہنا چاہئے کیونکہ ایک کو دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے، اسی
طرح معاشرہ چلتا ہے یہی وجہ ہے کہ آدمی کو اکیلے رات گزارنے سے منع کیا گیا ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَحْدَةِ أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ
وَحْدَهُ، أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ".(مسند احمد:5650)
ترجمہ:سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا رات گزارنے یا تنہا سفر کرنے سے منع کیا ہے۔
اکیلے رات گزارنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو
سکھ دکھ میں دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے اس لئے مل کر رہنا چاہئے۔
جو آدمی اپنے گھر میں اکیلے ہو، وہ اکیلے اپنے گھر میں
سوسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اسے لوگوں سے مل جل کر رہنا چاہئے تاکہ
جب اسے کسی کام میں دوسرے کی ضرورت پڑے اس سے مدد لے سکے۔
جہاں تک یہ مسئلہ ہے کہ اکیلے سونے سے شیطان کا اثر
ہوجاتا ہے، یہ بات صحیح نہیں ہے۔ اس تعلق سے امام طبرانی نے ایک روایت ذکر ہے، اس
طرح سے۔
يعتدى المرء عند أربعة خصال إذا نام وحده وإذا نام
مستلقيا وإذا نام في ملحفة معصفرة وإذا اغتسل بفضاء من الأرض فمن استطاع أن لا
يغتسل بفضاء من الأرض فإن كان لا بد فاعلا فليخطط خطا(المعجم الأوسط للطبرانی:1888)
ترجمہ:انسان پر چار حالتوں میں (شیطان کا) اثر ہوتا
ہے:جب وہ اکیلا سوتا ہے،جب وہ چت لیٹ کر سوتا ہے،جب وہ زعفرانی (پیلا/رنگا ہوا)
کپڑا اوڑھ کر سوتا ہے اور جب وہ کھلی زمین میں غسل کرتا ہے۔ پس جو شخص کھلی جگہ
میں غسل نہ کرے تو بہتر ہے، اور اگر اسے کرنا ہی پڑے تو (اپنے گرد) ایک لکیر کھینچ
لے۔
یہ روایت ضعیف ہے، امام طبرانی نے اس کے ضعف کی طرف
اشارہ کیا ہے، علامہ ہیثمی نے بھی اسے نقل کرکے اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے اس
لئے یہ روایت قابل حجت نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مجبوری میں اکیلے سونے میں حرج نہیں ہے
اور اس میں شیطان کا اثر ہونے والی بات درست نہیں ہے۔ ہاں جب آدمی اللہ کے ذکر اور
اس کی عبادت سے غافل ہو تو اس پر شیطان حاوی ہوسکتا ہے خواہ وہ اکیلے میں رہتا ہو
یا لوگوں کے درمیان رہتا ہو۔ اس لئے انسان جہاں بھی رہے اللہ کی عبادت کرتا رہے
اور اس کے ذکر میں لگارہے۔
سوال: دورہ قرآن کے ایام میں مسجد میں
دینی کتابوں کا اسٹال لگانے اور کتابیں بیچنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: مسجد میں کوئی چیز بیچنا جائز نہیں ہے خواہ دینی
کتاب ہی کیوں نہ ہو لہذا کسی آدمی کا مسجد میں بک اسٹال لگانا اور کتابیں فروخت
کرنا جائز نہیں ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے اور جمعہ کے
دن نماز جمعہ سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔(ترمذی:322)
سوال: میرے یہاں شیعہ کی مسجد ہے، اس میں
علم، پنجہ اور بہت سی چیزیں موجود ہیں۔ کیا اس میں ہم خواتین اپنی جماعت بنا کر
سنت کے مطابق تراویح کی نماز ادا کرسکتے ہیں؟
جواب: عورتوں کے لیے مسجد میں نماز پڑھنا ضروری نہیں
ہے، وہ اپنی نماز کہیں بھی پڑھ سکتی ہیں بلکہ عورت کی نماز اس کے اپنے گھر میں
پڑھنا افضل و بہتر ہے۔ مسلم عورتوں کے لیے شیعہ کی مسجد میں تراویح کی جماعت بناکر
نماز پڑھنا درست نہیں معلوم ہوتا ہے، ممکن ہے شیعہ ان مسلم عورتوں میں تشیع
پھیلانے کی کوشش کرےیا ان کے ساتھ کوئی دوسرا معاملہ درپیش ہوجائے۔ شیعہ حضرات ،مسلمانوں سے الگ اور کفریہ عقائد رکھنے والے ہوتے
ہیں لہذا اس قسم کی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔ عورتیں اپنے گھر میں جمع ہوکر تراویح
پڑھ سکتی ہیں یا مسلمانوں کی مسجد ہو اور وہاں پر تراویح پڑھنے کے لیے سہولت ہو تو
اس میں شریک ہو سکتی ہیں۔ یا وہ اپنے اپنے گھر میں اکیلے بھی پڑھ سکتی ہیں، تراویح
کے لیے جماعت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: لوگ اپنے گھروں میں مختلف قسم کے
جانور جیسے مچھلی، بلی، خرگوش، گھوڑا، اونٹ، باز اور چیتا وغیرہ پالتے ہیں۔ انہیں
کھلانے پلانے اور علاج و نگرانی کرنے میں اخراجات بھی آتے ہیں۔ کیا ان جانوروں کی
خرید و فروخت جائز ہے؟
جواب: جو چیزیں ہمارے
لئے حلال ہیں، ان کو خریدنے بیچنے اور اپنے گھرمیں رکھنے میں حرج نہیں ہے ۔ مچھلی
، خرگوش، گھوڑا اور اونٹ حلال جانور ہیں۔ ان کو اپنے گھر میں رکھ بھی سکتے ہیں اور
ان کی خریدوفروخت بھی کرسکتے ہیں۔ بلی تو
حرام جانور ہے مگر گھروں میں کثرت سے آنے والی ہے، اس لئے اپنے گھر میں بلی پال
سکتے ہیں مگر بلی کا کاروبار(خریدوفروخت) جائز نہیں ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے
ابو زبير رحمہ اللہ سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے جابر رضى اللہ
تعالى عنہ سے كتے اور بلى كى خريد و فروخت كے متعلق دريافت كيا تو انہوں نے
فرمايا:نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے ڈانٹا ہے۔(صحیح مسلم:1569)
بلی کے ماسوا اپنے گھر میں چیرپھاڑ کرنے والے جانور
نہیں رکھنا چاہئے۔ سعودی کے مستقل فتوى كميٹى كا کہنا ہے:بليوں اور كتوں كى خريد و
فروخت جائز نہيں اور اسى طرح دوسرے چيڑ پھاڑ كرنے والے درندے جن كى كچلى ہو كيونكہ
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا اور ايسا كرنے سے ڈانٹا ہے اور
اس ليے بھى كہ اس ميں مال كا ضياع ہے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا
كرنے سے منع فرمايا ہے۔ (فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء :13 / 37)
سوال: ایک عورت عشاء کی فرض نماز پڑھتی
ہے مگر سنت اور وتر نہیں پڑھتی ہے،کیا یہ پڑھنا ضروری ہے؟
جواب: ایک مسلمان پر فرض
نماز کا ادا کرنا ہرحال میں ضروری ہے، اس میں کوتاہی کسی صورت میں معاف نہیں ہے ۔
جہاں تک سنت اور وتر کا معاملہ ہے تو سنت
بھی وہ نماز ہے جسے نبی ﷺ برابر ادا کرتے رہے۔ سنت، کا ادا کرنا واجب نہیں ہے مگر
اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ فرض نماز میں جو نقص و کمی پیدا ہوجاتی ہے اس کی
تلافی سنت ونفل سے کی جائے گی لہذا نمازی کو سنت کی بھی پابندی کرنی چاہئے۔اگر
کبھی کسی ضرورت وحاجت کی وجہ سے سنت رہ جائے تو اس میں مسئلہ نہیں ہے لیکن مستقل
طور پر سنت کا تارک نہیں بننا چاہئے۔ وتر کی بھی اپنی جگہ بڑی اہمیت ہے، نبی ﷺ سفر
و حضر ہمیشہ وترکی پابندی فرماتے رہے لہذا
ہمیں رسول اللہ ﷺ کی طرح پانچوں نمازوں کے ساتھ سنن رواتب اور وتر کی بھی پابندی
کرنی چاہئے۔
سوال: ایک خاتون کے شوہر کی طبیعت خراب
رہنے کی وجہ سے وہ نوکری نہیں کرتے ہیں اس کو دو بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ معاشی حالت
بہت خراب ہے، گھر کا خرچ اور بنیادی ضروریات کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ وراثت میں کچھ
پیسے ملے تو اس نے اپنا قرض ادا کیا اور جو کچھ بچا اس کے بھائی نے یہ کہہ کر لے
لیا کہ اس سے اس کا گھر بنا دیں گے۔ ایسے شخص کی زکوۃ کے ذریعہ مدد کر سکتے ہیں؟
جواب: جو صورت حال مذکور
ہے اس میں اس فیملی کی ضرورت بھر زکوۃ سے
مدد کرسکتے ہیں ، بعد میں جب حالت درست ہوجائے پھر زکوۃ نہیں دینا چاہئے لیکن جب
تک مالی حالت خراب ہے، مدد کی جاسکتی ہے۔
سوال: اگر ہم کلمہ گو مشرک اور بدعتی
لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں جیسے رمضان میں دعا کریں تو کیا ہماری دعا
قبول ہوگی اور ان کی مغفرت ہو جائے گی؟
جواب: جو کلمہ پڑھنے
والے مسلمان ہیں، اللہ پر ، قرآن پر اور محمد ﷺ پر ایمان لاتے ہیں خواہ وہ بدعت کرتے ہوں یا جانے انجانے میں شرک
کرتے ہوں ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا جائز ہے۔ آپ کی دعا قبول ہوگی یا نہیں ہے، یہ
اللہ کا معاملہ ہے، اللہ کے معاملہ میں ہمیں فکرکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے ذمہ میں جو کام ہے، آپ وہ کریں۔ آپ کے لئے دعا کرنا جائز ہے ، آپ دعا کریں ، خصوصا ان(زندوں کے لئے) کی ہدایت کے
لئے دعا کریں کہ اے اللہ ! ان کو سیدھے راستے کی توفیق دے اور شرک وبدعت سے بچا۔
سوال: لوگ ایک دوسرے کو بلیک میں گیس
بیچتے ہیں تو کیا یہ عمل صحیح ہے؟
جواب: بلیک سے گیس بیچنا
قانوناجرم ہے، حکومت کے ساتھ دھوکہ ہے جبکہ ایک مسلمان کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیتا
ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: مَنْ غَشَّنَا، فَلَيْسَ مِنَّا(صحیح مسلم:101) یعنی جس نے
ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
سوال: ایک مدرسہ کرائے پر چلتا ہے، اس
میں کچھ ضرورت مند اور کچھ عام بچے پڑھتے ہیں، ان سے مناسب فیس بھی لی جاتی ہے، اس
مدرسہ میں کارپیٹ کی ضرورت ہے، کیا اس کو کارپیٹ کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں؟
جواب: مدرسہ میں زکوۃ دے
سکتے ہیں یا نہیں ، اس مسئلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔اس بارے
میں قوی موقف یہی ہے کہ مدرسہ زکوۃ کا
مصرف نہیں ہے لیکن مدرسہ میں پڑھنے والے وہ بچے جو فقیر ومسکین کے زمرے میں آتے
ہوں ان پر زکوۃ خرچ کرسکتے ہیں، اس میں کوئی دورائے نہیں ہے۔اس مدرسہ میں ضرورت
مند بچے بھی ہیں تو ان بچوں کے واسطے زکوۃ دی جاسکتی ہے مگر اس مدرسہ کے لئے اس مد
میں زکوۃ دینا جس سے سبھی بچے فائدہ اٹھائیں مناسب نہیں ہے۔ مذکورہ کام کے لئے
لوگوں سے عام صدقات اور تبرعات کی اپیل کی جائے۔ زکوۃ کو اس کے اصل مصارف میں ہی
خرچ کیا جائے۔
سوال: میری بہن نے میری خالہ کا دودھ پیا
ہے۔ اسی طرح میری امی نے بھی میری خالہ کے لڑکے کو دودھ پلایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ
میری بہن نے خالہ کا دودھ پیا تو کیا اس کے لیے خالہ کے تمام لڑکے محرم ہیں اور
اسی طرح خالہ کے بیٹے نے میری امی کا دودھ پیا ہے تو کیا وہ میرے لیے بھی محرم ہے
اور خالہ کے دوسرے بیٹے بھی میرے لیے محرم ہیں۔ نیز یہ بھی امکان ظاہر کیا جاتا ہے
کہ میں نے بھی خالہ کا دودھ پیا ہو۔ تو اس میں بھی سوال ہے کہ کیا شک کی بنیاد پر
رضاعت مانی جائے گی؟
جواب:اس مسئلہ میں سب
سے پہلے یہ بات جان لینی چاہئے کہ رضاعت دو شرطوں سے ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ دو سال کی مدت میں ہی بچے کو دودھ پلایا گیا
ہو ۔ دوسری بات یہ کہ بچے کو پیٹ بھر کر پانچ مرتبہ دودھ پلایا گیا ہو۔ اگر ان
دونوں شرطوں میں ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو رضاعت ثابت نہیں ہے۔
رضاعت کے اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے جس لڑکی نے اپنی
خالہ کا دودھ پیا، اس لڑکی کے لئے اپنی خالہ کے سارے بیٹے محرم یعنی رضاعی بھائی
ہوگئے۔ اسی طرح جس لڑکے نے اپنی خالہ کا
دودھ پیا ، وہ لڑکا اپنی خالہ کی ساری
بیٹیوں کے لئے محرم یعنی رضاعی بھائی ہوگیا۔ یہ لڑکا آپ کے لئے بھی محرم ہےاور آپ
کی ساری بہنوں کے لئے بھی مگر آپ کے لئے
آپ کی خالہ کے دوسرے بیٹے محرم نہیں ہیں کیونکہ آپ نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا
ہے۔ نیز محض شک کی بنیاد پر رضاعت ثابت نہیں ہوگی ۔ رضاعت کے ثبوت کے لئے مذکور ہ
بالا دونوں شرطیں یقینی علم کے ساتھ پائی جاتی ہوں تبھی رضاعت ثابت ہوگی۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔