Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (99)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (99)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر-سعودی عرب


سوال: میری بھانجی نے بچہ روکنے کے لیے چھلہ لگا رکھی تھی۔ پھر اس کے بعد اس کو چھ مہینے بعد حیض آیا ہے۔ اس کو چھ دن تک نارمل پیریڈ تھے، پھر اس کے بعد تین دن اس کو کوئی پیریڈز نہیں تھے پھر اس کو دس دن پھر آگئے تو اس صورت میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے اور روزہ بھی رکھ سکتی ہے؟

جواب: حیض کے خون کے مخصوص اوصاف ہوتے ہیں، لہٰذا حیض کو اس کے اوصاف سے پہچانا جائے گا جبکہ عورت سے بیماری کا خون بھی ظاہر ہوتا ہے جسے استحاضہ کہتے ہیں۔

پہلی مرتبہ جو چھ دن خون آیا اگر اس میں حیض کے صفات تھے تو اسے حیض مانا جائے گا اور نماز پڑھنے سے رکنا ہے، اسی طرح تین دن رک کر پھر دس دن جو خون آئے اگر یہ خون بھی حیض کے صفات پر مشتمل تھا تو ان دنوں میں بھی نماز سے رکنا ہے لیکن اگر پہلی بار یا دوسری بار یعنی کسی ایک میں حیض کے صفات نہ ہوں تو اس کو حیض نہیں مانیں گے بلکہ بیماری اور استحاضہ کا خون مانیں گے۔ استحاضہ کی صورت میں عورت کو ہر نماز کے وقت خون کی صفائی کرکے اور وضو بنا کرکے نماز پڑھتے رہنا ہے۔

سوال: کیا ہم اپنی زکوۃ کی رقم بھانجی کی شادی کے اخراجات کے لئے دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے والد باحیات نہیں ہیں اور کیا زکوۃ کی رقم کسی اور کی شادی کی رسومات میں استعمال کی جا سکتی ہے اور اگر دو لاکھ درہم کا قرضہ اسلامک بینک آف دبئی سے لے کر اپنے استعمال کے لئے گاڑی لی ہو تو کیا پھر بھی ہمیں اپنے مال اور زیورات کی زکوٰۃ نکالنی ہوگی؟

جواب: زکوۃ کے آٹھ مصارف ہیں، ان میں شروع کے دو مصارف فقراء اور مساکین سے متعلق ہیں۔ سماج میں جو کوئی فقیر اور مسکین کے زمرے میں آتا ہو اس کو آپ زکوۃ دے سکتے ہیں۔

جس لڑکی کی شادی کی بات کر رہے ہیں اور جس کے والد زندہ نہیں ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا یا ہوگا بھی تو وہ باپ کی طرح نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسی لڑکی کی شادی میں بلاشبہ زکوۃ دے سکتے ہیں اور اس قسم کی جو بھی لڑکی ہو یا جو بھی ضرورت مند انسان ہو اس کی شادی میں زکوۃ دی جا سکتی ہے۔

آپ نے بینک سے قرض لے کر گاڑی لی، یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور زکوۃ ایک الگ مسئلہ ہے۔ زکوۃ موجود چیز پر ادا کی جاتی ہے۔

اگر آپ کے پاس نصاب بھر نقدی رقم موجود ہے تو سال مکمل ہونے پر اس موجود پیسے کی زکوۃ ادا کرنی ضروری ہے۔ اسی طرح نصاب بھر سونے یا چاندی کے زیورات ہیں تو سات مکمل ہونے پر اس کی بھی زکوۃ ادا کرنی لازمی اور ضروری ہے اس کا قرض سے تعلق نہیں ہے۔

سوال: میرے بھائی نے کچھ سال پہلے ایک پلاٹ خریدا تھا گھر بنانے کی نیت سے لیکن بعد میں اس کا ارادہ کہیں اور ہوگیا گھر بنانے کا. بھائی کو بیرون ملک پیسوں کی ضرورت تھی تو انہوں نے وہ پلاٹ اب بیچ کر پیسے باہر منگوائے ہیں ضرورت کے لیے۔ پلاٹ چونکہ منافع پر فروخت ہوا ہے تو کیا اس رقم پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟

جواب: چونکہ یہ پلاٹ بیچنے کے لیے نہیں تھا اس لیے اس پلاٹ پر کوئی زکوۃ نہیں بنتی ہے اور اس پلاٹ کو بیچنے کی ضرورت پڑگئی تو اس پیسے میں بھی بروقت کوئی زکوۃ نہیں ہے، اور اس سے کوئی غرض نہیں کہ منافع کے ساتھ پلاٹ بکا ہے یا نقصان کے ساتھ۔

ہاں اگر یہ پیسہ ایک سال تک باقی رہے تو سال مکمل ہونے پر اس کی زکوۃ ادا کرنی پڑے گی لیکن اگر سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے یہ پیسہ ختم ہوجائے یا نصاب سے کم ہوجائے تو پھر اس میں بھی زکوۃ نہیں ہے۔

سوال: اگر کوئی عورت صرف ٹوپی پہن کر نماز پڑھے (عورتوں والی ٹوپی) بغیر دوپٹہ لئے ہوئے تو کیا بغیر دوپٹہ کے عورتوں کی نماز درست ہے؟

جواب: عورت کے لیے نماز پڑھنے سے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ پورے بدن کو چھپا کر نماز پڑھے۔ اب یہ کیفیت جس لباس میں بھی حاصل ہوجائے وہ نماز پڑھ سکتی ہے۔

عورت جب ٹوپی لگا کر نماز پڑھے گی اور دوپٹہ نہ استعمال کرے تو ایسی صورت میں بال ظاہر ہو سکتا ہے، گردن کا پیچھے والا اور آگے والا حصہ بھی ظاہر ہوسکتا ہے بلکہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے گریبان بھی کچھ نمایاں ہوسکتا ہے لہذا صرف ٹوپی پہن کر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے بلکہ نماز میں عورت لازما دوپٹے کا استعمال کرے جو کندھے سے نیچے تک ہو اور اس کے بالوں، گردن، سینہ اور گریبان وغیرہ کو ڈھک سکے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالی کسی بالغ لڑکی کی نماز دوپٹہ کے بغیر قبول نہیں فرماتا۔ (ابو داود:546، صححہ البانی)۔

سوال: ایک آدمی کا یہ روز کا معمول ہے کہ وہ سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے پورے گھر والوں پر دم کرتا ہے، اگر کبھی گھر والوں میں سے کوئی دم کے وقت موجود نہ ہو تو کیا اس پر بعد میں پھونک سکتا ہے جبکہ سورہ بقرہ اس نے پہلے پڑھی ہو، دوبارہ اسے پڑھنا زیادہ مشکل ہو کیونکہ یہ بڑی سورت ہے؟

جواب: یہاں پر آپ کو سب سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ روزانہ سورہ بقرہ پڑھ کر گھر والوں پر دم کرنے کا عمل کیسا ہے؟

سورہ بقرہ تقریباً ڈھائی پاروں پر مشتمل ہے، کون ایسا بندہ ہے جو روزانہ ڈھائی پارہ تلاوت کرکے اپنے پورے گھر والوں پر دم کرتا ہے پھر یہ کہ اس کو کس نے یہ عمل بتایا کہ سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر دم کرو؟

آپ کے سوال سے متعلق سب سے پہلی بات یہی ہے کہ یہ عمل ہی درست نہیں ہے یعنی کسی آدمی کا روزانہ سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے پورے گھر والوں پر دم کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے، ہم مسلمانوں کو وہی کام کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے۔

آپ اپنے گھر والوں کو سنت کی تعلیم دیں یعنی سوتے وقت سونے کے اذکار پڑھ کر سوئے، سونے کے اذکار میں تین سورتیں پڑھ کر روزانہ دم کرنا بھی شامل ہے، پھر صبح اٹھے تو صبح کے اذکار پڑھے پھر شام کے اذکار پڑھے نیز پانچ وقت نمازوں کا اہتمام کرے، نمازوں کے بعد کے اذکار بھی پڑھے۔ اس طرح کرنے سے کسی کو سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر پھونکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو عمل بتایا ہے، اس کے اندر خود بخود ہمارے لیے حفاظت ہے اور ہر کسی کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ قرآن اور مسنون اذکار پڑھ کر مریض پر یا اپنے بچے پر یا گھر والوں پر دم کرنے میں حرج نہیں ہے لیکن یہاں پر جو معمول بتایا گیا ہے، وہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اس کی جگہ وہ عمل کیا جائے جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی ہے۔

سوال: اگر گھر میں نماز پڑھتے ہوئے کبھی ایمرجنسی میں نماز توڑنی پڑے تو کیا دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد نماز سے نکل سکتی ہوں؟

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ جب کوئی فرض نماز ادا کر رہا ہو تو سوائے اضطراری صورت کے، محض معمولی بات کے لیے نماز نہیں توڑنا چاہیے یعنی اپنی نماز جاری رکھنا چاہیے لیکن اگر بہت ضروری اور اضطراری صورت در پیش ہو جائے تو نماز توڑی جا سکتی ہے، اس کے لیے سلام نہیں پھیرنا ہے، یونہی نماز سے اٹھ جانا ہے جیسے گھر میں سانپ دکھے یا آگ لگنے کا شور اٹھے فورا اپنی نماز چھوڑ دینا ہے۔

سوال:کسی نے ایک مصحف شروع کیا ہو، ستائیسواں پارہ تک پڑھ لیا ہو لیکن پھر دوبارہ پہلے پارہ سے شروع کر لیا جائے تو کیا ایسا کرنا گناہ کا باعث ہے یا ایک مرتبہ مکمل کرکے ہی شروع کرنا چاہیے؟

جواب: جو کوئی قرآن کی تلاوت کر رہا تھا اور ستائیسویں پارے تک پہنچا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ اس نے ترتیب سے تلاوت کی ہے تبھی جاکر ستائیس پارہ تک پہنچا ہے، اسے چاہیے کہ مکمل قرآن ختم کر لے پھر نئے سرے سے قرآن شروع کرے۔ قرآن کی تلاوت کا یہی طریقہ ہے کہ شروع سے پڑھیں، یہاں تک کہ آخر تک پہنچ جائیں۔ جب ایک ختم ہو جائے پھر ابتدا سے شروع کریں۔

اگر کسی نے ستائیس پارہ کے بعد پہلے پارے سے پھر تلاوت شروع کر دیا تو اس میں گناہ والی کوئی بات نہیں ہے، قرآن کی تلاوت کا اجر اپنی جگہ موجود ہے تاہم ترتیب سے تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

سوال: پانی کے بوتل پر دم کرتے وقت بوتل سے ڈھکن اتار دیں گے یا اگر پانی ڈھکا ہوا ہو تو بوتل پر ہی دم کرسکتے ہیں؟

جواب: قرآن اور مسنون اذکار پڑھ کر براہ راست پانی پر پھونکا جائے گا یعنی ڈھکن کھول کر پانی پر دم کرنا ہے۔ ڈھکن لگا کر بوتل اور شیشی پر دم کرنے سے دم نہیں ہوگا اور اس کو رقیہ نہیں کہا جائے گا۔

سوال : ایک عورت کی ولادت کے ایک سال بعد اسے حیض آیا لیکن تین ماہ سے یہ ترتیب ہو رہی کہ ہر ماہ کے پہلے پندرہ دن صرف داغ لگتا ہے اور آگلے پانچ یا چھ دن لگاتار حیض جاری رہتا ہے۔ سوال پہلے پندرہ دن سے متعلق ہے کہ ان دنوں نماز کا کیا حکم رہے گا؟

جواب: جن دنوں میں صرف داغ لگتے ہیں، حیض کی کیفیت اس میں نہیں ہے یعنی نہ حیض والارنگ ، نہ حیض والی بو اور نہ گاڑھا پن، نہ کمر میں درد تو اسے حیض شمار نہ کرے۔ جب اس کے بعد پانچ چھ دن حیض کے صفات والا خون آئے، بس اسی کو حیض شمار کرے اور ان دنوں نماز سے رک جائے۔ عام طور پر اکثر عورتوں کو حیض چھ سات دن ہی آیا کرتا ہے۔

سوال: ہم نو لاکھ میں بارہ سوگز زمین لئے۔ جس کمپنی کے ذریعہ ہم زمین لئے وہ لوگ دس سال تک کنٹریکٹ کر رہے ہیں کہ ہم اس زمین میں لال صندل کی لکڑی کے جھاڑ لگاںٔیں گے۔ اس کی دیکھ بھال یعنی ہرچیز وہی دیکھا کریں گے۔ اس کا منافع مثال کے طور پر اگر سو روپے ہیں تو وہ ہمیں ساٹھ روپے دیں گے اور چالیس روپے وہ کمپنی رکھ لے گی اس لیے کہ وہ ہماری زمین پر یہ درخت اگائے گی۔ کیا اس طرح کرنا جائز ہے، کہیں یہ سود میں شمار تو نہیں ہوگا؟

جواب : آپ نے کسی سے زمین خریدی یہ ایک معاملہ ہے اور زمین پر صندل کی لکڑی لگانا یہ دوسرا معاملہ ہے۔

جو آپ نے زمین خرید لی تو یہ آپ کی ملکیت ہے، اس زمین پر بیچنے والا اگر کوئی شرط لگا کر بیچتا ہے تو یہ ایک دوسرا معاملہ بیع میں داخل کر رہا ہے اس طرح کی بیع سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا۔(ترمذی:1231)

آپ کے اس معاملہ میں ایک بیع میں دوسری بیع داخل ہے اس وجہ سے یہ معاملہ کرنا درست نہیں ہے۔ بغیر شرط کے یعنی دوسرا معاملہ کئے بغیر ،صرف ایک معاملہ کرنا یعنی زمین خریدنا جائز و درست ہوگا۔

سوال: شب برات کا حلوہ کھا سکتے ہیں، اگر ننیہال سے آئے؟

جواب: شعبان کی پندرہویں تاریخ کو شب برات کہنا غلط ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں کہیں پر بھی پندرہویں تاریخ کو شب برات نہیں کہا گیا ہے۔ اور اس دن کو کوئی خصوصیت بھی حاصل نہیں ہے، اس دن روزہ رکھنا یا رات میں قیام کرنا یا اسی طرح شب برات کے نام سے جشن منانا، اس دن یا رات کو عمدہ عمدہ پکوان پکانا، یہ سارے کام بدعت میں داخل ہیں۔

اگر کوئی ہمیں اس طرح کے کاموں میں شریک ہونے کے لیے بلائے یا اس تعلق سے کھانا بھیجے تو ہمیں اسے قبول نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بدعت کے کاموں میں شریک ہونا یا بدعت کے کام سے متعلق کھانا قبول کرنا بدعت کے کام پر تعاون ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں گناہ کے کاموں پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے۔ اگر کوئی گناہ کے کام پر تعاون کرے تو اس کو گناہ کرنے جیسا گناہ ملے گا۔

سوال: جیساکہ حدیث میں قبلہ کی طرف تھوکنا منع ہے۔ گھر میں واش بیسن جس میں برش وغیرہ کرتے ہیں، قبلہ کی طرف ہو تو کیا ایسا جائز ہے؟

جواب: چاروں طرف سے گھری ہوئی جگہ پر قبلہ رخ پیشاب و پاخانہ بھی کرنے میں حرج نہیں ہے۔ منہ دھونے اور تھوکنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ اس لیے آپ اپنے واش بیسن پر، منہ دھلتے وقت قبلہ کی طرف تھوک سکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ واش بیسن تو گھر میں بنا ہوا ہے جو چاروں طرف سے ڈھکا ہوا ہوگا۔

سوال: ہم لوگ صدقہ جاریہ کے نام سے ایک گروپ چلاتے ہیں، لوگ اس میں اپنی زکوۃ کے پیسے جمع کرتے ہیں۔ اس پیسے سے نئے مسلموں کی ماہانہ امداد کرتے ہیں۔ رمضان میں بھی لوگوں کی طرف سے زکوۃ آئے گی۔ یہاں پر سوال یہ ہے کہ اس پیسے سے نئے مسلمانوں کو کپڑے خرید کر دے سکتے ہیں کیونکہ وہ لوگ عید کے موقع پر کپڑے نہیں خرید سکتے؟

جواب: زکوۃ کے تعلق سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ نقد مال کی زکوۃ ہو تو نقد مال کی شکل ہی میں مستحق کو دینا ضروری ہے۔ زکوۃ کے پیسے سے ضرورت کی چیزیں مثلا کپڑے اور راشن وغیرہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مستحق کے مال میں تصرف کہلائے گا۔

نقد مال کی زکوۃ، نقد مال سے دینے میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ضرورت مند، پیسے سے اپنی حاجت کی جو چیز چاہے، خرید سکتا ہے جبکہ سامان دینے میں یہ ممکن نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے وہ سامان اس وقت اس کی ضرورت کے لیے نہ ہو، کوئی دوسری ضرورت اس کے پاس ہو۔ پیسہ رہنے پر اپنے حساب سے اپنی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

جب کوئی خاص مصلحت ہو جیسے مستحق آدمی دیوانہ ہو یا اس قسم کا آدمی ہو کہ پیسہ دینے سے اس کو ضائع کر سکتا ہے یا اس کا صحیح سے استعمال نہیں کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی ضرورت پوچھ کر اس کی ضرورت کے حساب سے سامان خرید کر دے سکتے ہیں۔

زکوۃ کے علاوہ نفلی صدقہ و خیرات سے کچھ بھی خرید کر دے سکتے ہیں، صدقہ و خیرات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: میرے ہاتھ میں ذرا سا استحاضہ کا خون لگا رہ گیا تھا جس کے بارے میں علم نہیں تھا جبکہ ہاتھ دھویا بھی تھا۔ بعد میں دیکھا تو ہاتھ میں کچھ لگا ہوا نظر ایا۔ وہ ہاتھ کپڑے اور جسم پر بھی پھیرا تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب: نجاست کہیں پر لگی ہوئی نظر آئے تو اس کو دھونے کا حکم ہے، ہاتھ پر حیض کے معمولی دھبے اور آثار لگے ہوئے ہوں گے، اس کو آپ نے دھو لیا یہی کافی ہے۔ ہاتھ سے کپڑے اور جسم پر کہیں ٹچ ہوا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں اگر آنکھوں سے جسم کے کسی حصے پر یا کپڑے کے کسی حصے پر خون لگا ہوا نظر آئے تو بس اس جگہ کو دھو لیں اور اگر کہیں پر اس طرح کا اثر دیکھنے کو نہ ملے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال:حاشر نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب: حاشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی نام ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں کسی نے یہ نام نہیں رکھا، نہ اپنی اولاد میں سے کسی کا نام رکھا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ ابو الحاشر کنیت رکھنا کیسا ہے یا لوگ بیٹے کا نام حاشر رکھتے ہیں ، یہ کیسا ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے اور جس نے اپنے بچے کا یہ نام رکھا ہے وہ یہ نام بدل دے۔

سوال: جب کسی کو نصف شعبان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس میں جو مخصوص کام کرتے ہیں، یہ بدعت ہے تو آگے سے اس کا سوال ہوتا ہے کہ تروایح بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایجاد کی۔ ایسے لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے؟

جواب: دین میں کسی کام کے کرنے کے لیے دلیل چاہیے، اگر دلیل نہیں ہے تو وہ کام نہیں کرنا ہے۔

پندرہ شعبان کے تعلق سے لوگ جو عبادات اور رسم و رواج انجام دیتے ہیں ان باتوں کے لیے شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے لہذا پندرہ شعبان کو کوئی خصوصی عبادت انجام نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اس دن یا اس رات کوئی رسم انجام دینا ہے بلکہ پندرہ شعبان کو کوئی خصوصیت یا فضیلت حاصل نہیں ہے۔

جہاں تک تراویح کا مسئلہ ہے تو یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی وجہ سے نہیں ہے۔ تراویح دراصل تہجد اور قیام اللیل ہے جو پورے سال مشروع ہے یعنی سال بھر رات میں انجام دی جانے والی عبادت ہے جسے تہجد اور قیام اللیل کہتے ہیں، وہی عبادت رمضان میں تراویح کہلاتی ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

کیا لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے تہجد کی نماز پڑھتے ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر کی وجہ سے قیام اللیل کرتے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں، یہ عبادت، اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہے۔ حضرت عمر کے زمانے میں لوگ اکیلے اکیلے رمضان میں رات کی عبادت کرتے تھے تو انہوں نے لوگوں کو جماعت پر اکٹھا کیا حالانکہ اگر آپ دیکھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زندگی میں صحابہ کو تین دن جماعت کے ساتھ تراویح کی نماز یعنی قیام اللیل کروایا لہذا یہ کہنا کہ حضرت عمر کی وجہ سے ہم تراویح پڑھتے ہیں، یہ بات بالکل غلط ہے۔

سوال: کیا ایک بیوی اپنے شوہر کے پیر دبانے کے دوران پیار سے اس کے پیروں کو چوم سکتی ہے۔ ایسا کرنا کہیں شرکیہ عمل تو نہیں ہوگا؟

جواب: جھکنا عبادت کی کیفیت میں داخل ہے اس وجہ سے کسی کے لئے بھی جھکنا یا جھکنے کی کوئی کیفیت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ (سنن الترمذی:2728، حسنہ البانی)

ترجمہ:اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (بس اتنا ہی کافی ہے) ۔

اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی کسی سے ملاقات کے وقت یا سلام و دعا کے وقت اس سے جھک کر نہیں مل سکتا، جب جھک کر ملنا منع ہے تو جھک کر کسی کا پیر چھونا یا قدموں کا بوسہ دینا بھی جائز نہیں ہے۔

اس معاملہ میں قوی موقف یہی ہے کہ احترام کے طور پر ہاتھ یا سر اور پیشانی کا بوسہ لیا جاسکتا ہے مگر پیر کا بوسہ لینا جائز نہیں ہے۔ بعض لوگ پیر(قدم) کا بوسہ لینا جائز قرار دیتے ہیں، وہ جواز سے متعلق بعض دلائل پیش کرتے ہیں مگر اس بارے میں کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے، سب میں ضعف ہے۔

٭ ترمذی(2733) کی حدیث جس میں دو یہودیوں نے نبی ﷺ کے قدم کا بوسہ لیا، اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے۔

٭ابوداؤد(5225) میں ہے، "زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے"۔ اس روایت کے اس حصہ "ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے" کو شیخ البانی ؒنے ضعیف قرار دیا ہے۔

اور بھی روایات پیش کی جاتی ہیں مگر کوئی بھی قابل حجت نہیں ہے۔

جہاں تک مذکورہ بالا سوال ہے کہ کوئی بیوی پیر دباتے ہوئے احتراما شوہر کے پیر کا بوسہ دے سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں حرج نہیں ہے یعنی بیوی پیر دباتے وقت اپنے شوہر کے قدم کا بوسہ لے لے تو اس میں حرج نہیں ہے اور اس کو شرکیہ عمل نہیں کہا جائے گا۔

شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ والدہ کے قدم کا بوسہ لینے کے لئے کھڑے ہونے شخص کا جھکنا کیسا ہے۔ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ جھکنا جائز نہیں ہے، یہ تو اللہ تعالی کے لئے خاص ہے تاہم قدم کے علاوہ ، والدہ، والد، عالم اور حاکم کا ہاتھ چومنے میں حرج نہیں ہے مگر بغیر جھکے ہوئے۔ اگر تھوڑا بہت جھک جائے تو حرج نہیں ہے۔ کھڑے ہوئے شخص کا جھکنا اور والدہ کے قدم کا بوسہ دینا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر آدمی والدہ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور انخفاض و انحناء(جھکنا) کے بغیر بیٹھے بیٹھے بطور احترام واکرام والدہ کے قدم کا بوسہ لے لیتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

سوال: ایک عمر رسیدہ خاتون، دیگر خواتین کے گروپ کے ساتھ عمرہ کرنے جا سکتی ہے بغیر محرم کے؟

جواب: عورت کے لئے عمر کے کسی مرحلہ میں بھی بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ہے اس وجہ سے عمرہ رسیدہ خاتون کا بغیر محرم کے عمرہ کے لئے آنا خواہ عورتوں کے گروپ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ، جائز نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کے لئے سفر میں محرم کی شرط لگائی ہے لہذا عورت محرم کے ساتھ ہی حج و عمرہ یا دیگر کسی قسم کا سفر کرے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے کسی نے سوال کیا کہ میں ریاض میں مقیم ہوں ، میری والدہ جو ستر سال کی ہیں وہ حج پر عورتوں کے گروپ کے ساتھ آنا چاہتی ہیں، اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے تو شیخ نے جواب دیا کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ آپ خود ان کے پاس جائیں اور انہیں اس ملک سے لے کر آئیں جہاں وہ رہتی ہیں، اور آپ ان کے محرم ہیں۔ یا ان کا کوئی اور محرم ہو جیسے: ان کا بھائی یا چچا، یا کوئی اور بھائی، یا ان کا بھتیجا، یا نواسہ۔ بہرحال محرم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔"

سوال: ایک عورت کو نفلی روزہ رکھنا تھا مگر سحری کے لئے جب آنکھ کھلی تو فجر کی اذان ہو رہی تھی۔ اس نے اذان کے دوران جلدی جلدی سے کچھ کھاکر پانی پیا اور روزہ رکھ لیا۔ اب وہ پوچھ رہی ہے کہ میرا روزہ ہوا یا نہیں؟

جواب: روزہ رکھنے والے کے علم میں یقینی طور پر یہ بات ہونی چاہیے کہ روزہ کی ابتداء صبح صادق سے ہو جاتی ہے اور غروب آفتاب تک روزہ ہوتا ہے۔ اس درمیانی فترے میں اگر کوئی روزہ توڑنے والا عمل انجام دیتا ہے تو اس کا روزہ نہیں مانا جائے گا۔ سوال میں جس خاتون کا عمل مذکور ہے کہ اس نے فجر کی اذان ہوتے وقت کچھ کھایا پیا ہے، اس سے اس کا روزہ نہیں ہوگا کیونکہ اذان ہوتی ہی اس وقت جب سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے بلکہ اپنے علاقوں میں عام طور سے فجر کی اذان کچھ تاخیر سے ہی ہوتی ہے۔ رمضان میں فجر کی اذان تو صحیح وقت پر ہوتی ہے لیکن غیر رمضان میں عموما فجر کی اذان کچھ تاخیر سے ہی ہوتی ہے۔

بہر کیف! یہ روزہ نہیں مانا جائے گا۔

سوال: ایک بیوی کا سوال ہے کہ جس وقت اس کے شوہر اس سے ازدواجی تعلق بنانا چاہتے ہیں، وہ اس وقت جذباتی طور پر صحیح سے تیار نہیں ہوپاتی تو اس کے شوہر اس کی شرمگاہ کو انگلی سے مسلتے ہیں جس سے وہ ازدواجی تعلق کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ازدواجی تعلق سے پہلے بوس وکنار بھی کرتے ہیں لیکن جذباتی طور پر وہ تیار شوہر کے اس طرح چھونے سے ہی ہوتی ہے۔ کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب: اللہ تعالی نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے کھیتی کی طرح بنایا ہے یعنی ایک دوسرے سے جس طرح چاہیں کھیل سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایک صحابی نے شادی شدہ عورت سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ کنواری عورت سے کیوں نہیں نکاح کیا۔ تو اس کے ساتھ کھیلتا، وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔

خلاصہ یہ ہے کہ میاں بیوی شرعی آداب اور حدود کا خیال رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے جس طرح چاہیں، فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی غیر فطری طریقہ سے انزال نہ کرے خواہ ہاتھ کے ذریعہ ہو یا منہ کے ذریعہ ہو یہ جائز نہیں ہے۔ تاہم شوہر کا بیوی کی شرمگاہ پر ہاتھ لگانا یا مس کرنا یا بیوی کا شوہر کی شرمگاہ پر ہاتھ لگانا یا مس کرنا اور جماع کے لیے ایک دوسرے کو تیار کرنا اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال: ایک عورت گھر میں اپنے بیٹے کے پیچھے نماز تراویح پڑھ رہی ہے۔ جب تلاوت میں غلطی ہو تو کیا وہ لقمہ دے سکتی ہے؟

جواب: اگر گھر میں لڑکا، گھر کی عورتوں اور لوگوں کو تراویح کی نماز پڑھا رہا ہو اور قرآن پڑھتے ہوئے بھول جائے تو مردوں میں سے کوئی اس کو تلاوت یاد دلا دے۔

اگر ان میں کوئی مرد نہ ہو یا کسی مرد کو یاد نہ ہو تو عورتوں میں سے کوئی عورت، امام کو قرآنی آیت بھولنے پر لقمہ دے سکتی ہے۔ اس میں حرج نہیں ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر امام اپنی قراءت میں غلطی کر دے اور مردوں میں سے کوئی بھی اس کو درست نہ کرے، تو کیا عورتوں میں سے کوئی اسے درست کر سکتی ہے؟ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ ہاں، وہ امام کو متنبہ کرے اور آیت یاد دلا دے۔ اگر مردوں نے یاد دلا دیا تو ٹھیک، ورنہ عورت یاد دلا سکتی ہے۔ عورت کی آواز بذاتِ خود پردہ نہیں ہے، بلکہ ممنوع چیز، آواز میں لچک، نرمی اور دلکشی پیدا کرنا ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔