Sunday, February 15, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(100)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(100)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب

 

سوال: دو سجدوں کے درمیان جو دعا ہے، اگر اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجائیں تو گناہ ہوگا؟

جواب: اس میں گناہ کی کوئی بات نہیں ہے، اور جہاں تک دو سجدوں کے درمیان پڑھی جانے والی دعا کا معاملہ ہے، وہ مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ اس بارے میں کم از کم الفاظ والی سے مختصر دعا یہ ہے۔)رَبِّ اغْفِرْ لِي ، رَبِّ اغْفِرْ لِي(

اس دعا کو پڑھ لینا کافی ہے ، یہ ہلکی اور آسان بھی ہے۔

اسی طرح بعض دوسری دعائیں ہیں، جن سب کو جمع کرنے سے سات کلمات بنتے ہیں۔

بعض دعاؤں میں اکٹھے پانچ کلمات آئے ہیں جیسے ابو داؤد میں پانچ کلمات ایسے آئے ہوئے ہیں۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني» ”یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے“ کہتے تھے۔ (سنن ابي داود:850)

دعا اور اذکار وغیرہ میں ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اسی طرح سے پڑھنا چاہیے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ دونوں سجدوں کے درمیان والی دعا سے متعلق بھی افضل یہی ہے کہ جس طرح وارد ہے اسی طرح سے پڑھنا چاہیے اور یہ بھی صحیح ہے کہ بعض حدیثوں میں الفاظ آگے پیچھے آئے ہوئے ہیں، اس وجہ سے بعض علماء نے کہا ہے کہ ان الفاظ میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔ جس طرح بھی پڑھ لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شیخ صالح اللحیدان جو ہیئۃ کبار العلماء میں سے ہیں، ان کا یہی کہنا ہے۔

آسانی کے لیے چھوٹی دعا بھی پڑھی جاسکتی ہے، جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے اور پانچ کلمات والے الفاظ بھی جو ابو داؤد میں آئے ہیں وہ بھی پڑھی جا سکتے ہیں اور سات الفاظ بھی جمع کرکے پڑھیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ترتیب بدل جائے تو حرج نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی کے اوپر قرض ہے اور بینک میں جمع پیسوں میں جو سود آتا ہے اس رقم سے کیا اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے، مقروض کی مالی حالت بہت بدتر ہے؟

جواب: جو آدمی مقروض ہو اور خود سے اپنا قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جسے بیچ کر وہ اپنا قرض ادا کرسکے تو ایسی صورت میں ایسے آدمی کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔

جہاں تک بینک میں موجود سود کا مسئلہ ہے تو اس سود کے بارے میں آپ یہ سمجھیں کہ یہ حرام مال ہے، یہ نہ بینک میں پیسہ رکھنے والے کے لیے حلال ہے، نہ ہی دوسرے کسی آدمی کے لیے حلال ہے، حرام مال سب کے لیے حرام ہی ہوتا ہے۔ اسے رفاہی اور مشترکہ کام میں لگا دینا چاہیے یا اضطراری صورت میں انسانی جان بچانے کے لئے دے دینا چاہیے۔

جس آدمی سے متعلق مسئلہ پوچھا گیا ہے، اس کو زکوۃ سے تعاون کرنا چاہیے بشرطیکہ زکوۃ کا مستحق ہو جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے۔ زکوۃ نہ ہو تو نفلی صدقات اور عطیات سے مدد کرنا چاہیے اور اگر دینے کے لیے دوسرا کوئی پیسہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بینک کا سود دے سکتے ہیں۔

سوال: ایک خاتون نے زیور بنک لون پر لیا ہے، اور وہ ایک سال سے اس کی قسط بھر رہی ہے، کیا اس زیور پر زکوۃ نکالنی ہے؟

جواب: یہاں پر اصل معاملہ یہ ہے کہ زیور خریدنے کے لئے بنک سے سودی لون لیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ زیور خریدنے کے لیے بنک سے لون لینا جائز نہیں ہے کیونکہ سودی قرض لینا سود پر تعاون ہے اور یہ گناہ کا باعث ہے۔

بہر حال! اس بہن نے جو کام کیا وہ سودی اور گناہ کا کام تھا اس کے لیے اسے اللہ رب العالمین سے سچی توبہ کرنا چاہیے اور آئندہ سودی کام سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جہاں تک زیور کا مسئلہ ہے تو اگر یہ سونے یا چاندی کا زیور ہے اور نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے اور اس پر ایک سال گزر گیا ہے تو اس کی زکوۃ ادا کرنی پڑے گی۔

سوال: کیا ذکر و اذکار کرتے وقت ہونٹوں کا ہلانا ضروری ہے جیسے سونے سے پہلے کے اذکار کرنے کے بعد نیند فورا نہیں آتی ہے تو اس وقت ذکر کرتے ہوئے ہونٹ ہلانا ضروری ہے یا حرکت دئے بغیر بھی ذکر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح گھر کے کام کاج کرتے ہوئے ذکر کرتے وقت ہونٹوں کو حرکت دینا ضروری ہے؟

جواب: اذکار کسے کہتے ہیں، اس پر غور کریں تو آپ کو اس کا جواب سمجھنا آسان ہوگا۔

اذکار، الفاظ و کلام پر مشتمل ہوتے ہیں، ان اذکار کو پڑھنے کا مطلب زبان کو حرکت دینا ہے۔ جو زبان کو حرکت نہ دے وہ اذکار نہیں کہلائیں گے۔ آپ صبح و شام کے اذکار پڑھیں یا سونے جاگنے کے اذکار یا نماز کے بعد کے اذکار حتی کہ نماز کے اندر تلاوت اور اذکار وغیرہ پڑھیں، ان سب کے لیے ضروری ہے کہ زبان کو حرکت دے کر ذکر کریں، بغیر زبان کو حرکت دئے دل میں پڑھنا ذکر نہیں شمار ہوگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں قرآن کی تلاوت صرف دل میں سوچنے سے کافی ہے یا زبان سے حرکت دینی ضروری ہے؟ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ "تلاوت کے لئے ضروری ہے کہ زبان سے کی جائے، اگر انسان نماز میں صرف دل سے پڑھے تو یہ کافی نہیں ہے، اور اسی طرح باقی اذکار بھی صرف دل سے کافی نہیں ہیں، بلکہ لازمی ہے کہ انسان زبان اور ہونٹوں سے یہ الفاظ ادا کرے؛ کیونکہ یہ باتیں (کلمات) ہیں اور یہ صرف زبان اور ہونٹوں کی حرکت سے ہی مکمل ہوتی ہیں۔)مجموع فتاویٰ ابن عثیمین:13/156(

سوال: جب میرے شوہر میرے ساتھ ہوتے ہیں (عموماً ہفتہ وار تعطیلات میں) تو میں خود کو زیادہ عبادت میں مشغول، دل سے خوش اور مطمئن محسوس کرتی ہوں لیکن جب میرے شوہر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر ہوتے ہیں تو اکثر میں اپنی عبادت میں وہ دلچسپی محسوس نہیں کر پاتی اور دل میں اداسی اور بے دلی سی رہتی ہے۔ کیا یہ کیفیت نفاق میں شمار ہوتی ہے اور کیا یہ کوئی برا عمل ہے؟

جواب: یہ نفاق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ میاں بیوی کے تعلقات کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ ہر اس بیوی کے ساتھ ہے جو اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے۔ جس عورت کو اپنے شوہر سے محبت نہ ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ شوہر گھر سے باہر رہے یا گھر پر رہے لیکن جس عورت کو اپنے شوہر سے محبت ہو، اس عورت کے لیے شوہر کا گھر پر رہنا باعث سکون اور گھر سے باہر جانا باعث اضطراب ہوتا ہے۔

آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ جس عورت کا شوہر پردیس کا سفر کرتا ہے، اس عورت کے لیے وہ لمحہ کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے اور اس کے بعد کئی دن کس طرح بے چینی میں گزرتے ہیں اور پھر جب اس کے شوہر کی اپنے وطن اور اپنے گھر واپسی ہوتی ہے، عورت کے لیے کس قدر خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔آپ کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے، اس کا نفاق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنا تعلق اللہ اور اس کے دین سے گہرا بنائیں۔عبادت کو اپنے وقت پر اور مکمل ادا کریں یعنی پنج وقتہ نمازیں اول وقت پر خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں، نماز کے بعد کے اذکار کو بھی ترک نہ کریں بلکہ سنتوں کی بھی پابندی کریں۔

اسی طرح گھریلو کام کرنے کے بعد جو وقت بچتا ہے، اس کو مطالعہ، تلاوت، ذکر اور بیانات کو سننے میں لگائیں۔ جس قدر آپ کا لگاؤ دین سے ہوگا اور اپنی فرصت کے لمحات کو اچھے کام میں لگائیں گے، اسی قدر آپ کے اندر عبادت میں لذت اور چاشنی پیدا ہوگی۔

سوال: ایک شخص کا قتل ہوگیا ہے اس کے وارث میں ماں، باپ، بیوی اور اولاد ہیں۔ اولاد بالغ اور سمجھدار ہیں۔ اب بیوی اور بچے دیت لینا چاہتے ہیں جبکہ ماں اور باپ جو سمجھدار ہیں، وہ قصاص لینا چاہتے ہیں ، اب کس کی بات کو مانا جائے گا؟

جواب: اس صورت میں صرف دیت لی جائے گی اور قصاص نہیں لیا جائے گا۔ قصاص لینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ورثاء قصاص لینے پر متفق ہوں۔ اگر ایک آدمی بھی اختلاف کر جائے اور ایک وارث بھی معافی اور دیت لینے کے لیے رضامند ہوجائے تو پھر قاتل کو قصاصا قتل نہیں کیا جائے گا، صرف دیت لی جائے گی۔

سوال: ایک خاتون ہمیشہ چار روز میں حیض سے پاک ہوجاتی تھی، اس بار سات دن ہو گئے مگر اب بھی حیض کی صفات والا خون جاری ہے۔ اب وہ کیا کرے۔ اپنی عادت کا اعتبار کرتے ہوئے غسل کرکے نماز شروع کردے یا نماز سے رکی رہے اور كب تک؟

جواب : حیض میں اصل اعتبار حیض کے خون کا ہوتا ہے لہذا جس خاتون کو پہلے چار دن حیض آتا تھا لیکن اب اگر سات دن حیض کے صفات والا خون آتا ہے تو ان سات دنوں میں نماز سے رکنا پڑے گا یعنی جب جتنے دن حیض کے صفات والا خون آئے اتنے دن تک نماز سے رکنا ہے۔

سوال: ایک عورت باہری ملک سے کپڑے بھیجتی ہے، کبھی اس میں سے پیسے نکل آتے ہیں ، کیا اس کو بتانا ضروری ہے یا اس کو استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب: ظاہر سی بات ہے کسی نے کپڑے بھیج کر احسان کیا ہے ، اگر اس کے بھیجے ہوئے کپڑوں میں پیسے نکلتے ہیں تو بھیجنے والے کو بتانا ضروری ہے۔ ممکن ہے کبھی پیسے کے علاوہ کوئی دوسری قیمتی چیز نکل آئے۔ ایسے میں کپڑے سے جو بھی چیز نکلے اس کے بارے میں بھیجنے والے کو اطلاع دینا ضروری ہے۔ اگر وہ کہہ دے کہ ٹھیک ہے، وہ تم رکھ لو تو استعمال کرسکتے ہیں اور اگر کہے کہ وہ پیسے یا چیز مجھے بھیج دو تو یہ اس کی امانت ہے، اسے لوٹا دینا چاہیے۔

سوال: اگر نماز میں رکعت میں شک ہو جائے اور سجدہ سہو کرنا بھی بھول جائے ، سنت کے بعد سجدہ سہو یاد آئے اور اسی وقت کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر نماز میں شک پیدا ہو جائے مثلا رباعی نماز میں شک ہو کہ تین رکعت پڑھے ہیں یا چار رکعت، ایسی صورت میں کم پر یقین کریں اور زیادہ کو چھوڑ دیں یعنی تین رکعت مانیں اور جو باقی رکعت بچ گئی ہے، اس کو مکمل کریں پھر سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لیں۔

اگر سلام سے پہلے یا سلام کے بعد وقت پر سجدہ سہو یاد نہ رہ سکے تو جب بھی اور جیسے ہی یاد آئے فورا سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔ ہاں اگر وقت طویل ہو جائے اس کے بعد سجدہ سہو کا خیال آئے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے اور نماز اپنی جگہ درست ہے، بشرطیکہ نماز کی رکعت میں شک ہونے پر کم پر بنا کیا گیا ہو۔

سوال: میرے شوہر مرغی ذبح کرے اور ہندو سے بوٹی بنوائے تو جائز ہے ، کوئی مسلمان مل نہیں رہا ہے۔ اسی طرح بعض ہندو خود سے مرغی ذبح کرکے ہمیں اس کی بوٹی بنانے دیتے ہیں ، کیا اس طرح کر سکتے ہیں؟

جواب: جانور ذبح کرنے کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے، آپ کے شوہر خود سے ذبح کریں تو اس مرغی کی بوٹیاں کسی ہندو عامل سے کرواسکتے ہیں۔ اس کے لئے بھی مسلمان ہی رکھیں، یہی بہتر ہے لیکن جب تک مجبوری میں ہندو سے کام کرواتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے تاہم اسے اپنی نگرانی میں یعنی نظروں کے سامنے کام کروائے اور اسے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کہے۔ ہندو کھڑے کھڑے پیشاب کرتا ہے اور صفائی کا بھی خیال نہیں کرتا ہے، اس کی طرف توجہ دلائے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ کوئی ہندو خود سے مرغی ذبح کرکے آپ کی دکان پر بوٹیاں بنانے لاتا ہے، یہ کام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اپنا کاروبار مسلمان کی طرح کریں۔ جانور وہی حلال ہوتا ہے جسے شرعی طور پر ذبح کیا جائے گا۔ ہندو خود سے ذبح کرکے لاتا ہے تو وہ حرام مردار کے حکم ہے کیونکہ اس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہوگا، اس کی بوٹیاں بناکر کمائی کھانا درست نہیں ہے۔

سوال: کسی کو پیر و جمعرات کا روزہ رکھنے کا معمول ہو اور اگر اس بار تیسواں چاند ہو تو جمعہ کو پہلا روزہ ہوگا تو کیا وہ جمعرات کا روزہ رکھ سکتا ہے؟

جواب: جس کے لیے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کا معمول رہا ہو وہ شعبان کی تیسویں تاریخ کو اگر جمعرات آئے تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عادت والوں کے لیے پورے شعبان میں کبھی بھی روزہ رکھنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے ماسوا جمعہ کا روزہ کیونکہ خصوصیت کے ساتھ جمعہ کا اکیلا روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔

سوال: کیا تہجد اور چاشت کی نماز سے پہلے پہلے دو نفل وضو کے پڑھ سکتے ہیں یا تہجد اور چاشت کے نوافل میں ہی وضو کے نفل کی نیت کرلیں؟

جواب: وضو کی سنت کوئی مستقل نماز نہیں ہے، اس وجہ سے یہ نماز اس وقت پڑھنا ہے جب کوئی نماز نہ پڑھنا ہو لیکن جب آپ کوئی ایک نماز پڑھنے جارہے ہیں تو براہ راست اسی نماز کو ادا کریں گے جیسے استخارہ کی نماز پڑھنے کا ارادہ ہو تو وضو کر کے براہ راست استخارہ کی نماز پڑھیں گے یا چاشت کی نماز پڑھنا ہو تو وضو کرکے چاشت کی نماز پڑھیں گے، یہی نماز وضو کی سنت کے لیے کافی ہو جائے گی یعنی اسی میں وضو کی نیت کرسکتے ہیں۔

سوال: ایک کنواری لڑکی سے تین سال پہلے زنا ہوگیا اور اسنے پھر حمل بھی ضائع کروایا ، بقول اس کے وہ دیندار اور نمازی اور توبہ کر کے آگے بڑھنا چاہتی ہے تو وہ کیا کرے؟

جواب:  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لڑکی نے بہت بڑا جرم کیا جس سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایک طرف اس نے فحش کام کیا تو ودسری طرف حمل ضائع کیا جو کہ ایک نفس کے حکم میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جرم پر اسلام نے حد متعین کی ہے مگر اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی اس عورت پر حد قائم نہیں کرسکتا ہے لہذا اس صورت میں توبہ کی صورت نظر آتی ہے۔

اس لڑکی پر یہ ضروری ہے کہ دل سے سچی توبہ کرے، ایسی توبہ اور اس ندامت و شرمندگی کے ساتھ اس کا رب راضی ہوجائے۔ آئندہ اس قسم کے گناہ کا تصور بھی نہ کرے اور اگلی زندگی پاکدامنی کے ساتھ گزارے ، اور اپنے آپ کو اللہ کے دین کے حوالے کردے۔ نماز کی پابندی  کے ساتھ ، ذکر و اذکار ، دعاو استغفار اور تلاوت میں کثرت سے وقت گزارے۔

جہاں تک بچے کے اسقاط کا معاملہ ہے تو یہ بھی انتہائی عظیم گناہ ہےکیونکہ حمل ٹھہرنے کے بعد اس کا ضائع کرنا ایک قسم کا قتل مانا جاتا ہے، یہ الگ معاملہ ہے کہ  بچے میں روح پھونکنےسے قبل یا اس کے بعد اسقاط حمل کے مختلف احکام ہیں تاہم حمل کسی بھی مرحلہ میں ہو، اسے  ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ عہد رسول میں غامدیہ نامی عورت نے زنا کرلیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے حمل ساقط کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ بچے پیداکرنے کا حکم دیا۔ حمل زنا سے ہو یا نکاح کے سبب ہو، حمل کا اسقاط جائز نہیں ہے سوائے اضطراری صورت کے، جب عورت کی جان کو خطرہ ہو۔ اسقاط حمل پہ دیت اور کفارہ کی تفصیل میرے مضمون میں دیکھ سکتے ہیں جو میرے بلاگ پر "اسقاط حمل پہ دیت وکفارہ کا حکم " کے نام سے موجود ہے۔

سوال: آجکل پاکستان میں بڑے جوش و خروش سے بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے، میں نے سنا ہے کہ کسی ہندو کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس کا حکم بتائیں تاکہ جانے انجانے کسی گناہ میں نہ واقع ہوجائیں؟

جواب: بعض لوگ بسنت کو ایک موسمی میلہ قرار دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بسنت نامی میلہ ہندؤں کا ایک خاص تہوار ہے ، اس میں وہ لوگ مختلف قسم کے رسومات انجام دیتے ہیں بلکہ دیوی دیوتاؤں کی عبادت بھی کرتے ہیں ۔ساتھ ہی اس میں پتنگ  بازی  بھی کی جاتی ہے۔ بعض بھولے بھالے مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ ایسے ہی موسمی کلچر ہے، بسنت منانے اور اس موقع سے پتنگ بازی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے  جبکہ  حقیقت میں یہ ہندؤں کا تہوار اور مذہبی کلچر ہے۔ اس سے مسلمانوں کو ہرحال میں دور رہنا چاہئے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ(سنن ابي داود:4031)

ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں  ہندؤں اور غیراقوام کے تمام مذہبی طورطوریقوں سے پرہیز اختیار کرنا چاہئے۔

سوال: چار رکعت والی نماز میں آخری دو رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھنا ہے یا سورت بھی پڑھنا ہے؟

جواب: رباعی نماز کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا کافی ہے لیکن اگر کوئی آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی ملانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسا اوقات سورت ملانا بھی ثابت ہے تاہم اگر کوئی صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے تو اتنا ہی اس کے لیے کافی ہے۔

سوال : کیا صدقہ جاریہ کے طور پر mortuary box دے سکتے ہیں؟

جواب: پہلے ایک مسئلہ کی وضاحت ہوجائے تو اس بات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ نبی ﷺ نے میت کی تدفین میں جلدی کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ (صحيح مسلم:944)

ترجمہ: جنازے میں جلدی کرو، اگر (میت) نیک ہے تو تم نے اسے بھلائی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی تدفین میں جلدی کی جائے مگر آج کل لوگ میت کی تدفین میں تاخیر کرتے ہیں اور رشتہ داروں کی آمد کا انتظار کرتے ہیں جبکہ ہمیں اس معاملہ میں عجلت  سے کام لینا چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مردہ خانہ جسے سردخانہ بھی کہتے ہیں یعنی ایسا میت باکس جس میں میت کو اسٹور کرکے دیر تک رکھا جاتا ہے، اس قسم کا سردخانہ استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اسے صدقہ جاریہ کے طور پر بھی دیا جاسکتا ہے تاہم جس کمیٹی کے حوالے یہ باکس کیا جائے اس انتظامیہ کمیٹی کو یہ تاکید ہو کہ اس سامان کا غلط استعمال نہ کیا جائے یعنی بغیر ضرورت میت کو دیر تک نہ رکھا جائے۔ ہاں کوئی حاجت و ضرورت ہو تو اس میں مضائقہ نہیں ہے۔

سوال:اگر کسی سے  ایک  سال کے روزے  چھوٹ گئے اور اس سال میں وہ ان کی قضا نہ کر سکے اور اگلے سال قضا کرے تو کیا صرف قضا کرنی ہے یا ساتھ میں فدیہ بھی دینا ہوگا؟

جواب: جب کسی کے رمضان کا روزہ کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے تو اگلا رمضان آنے سے پہلے پہلے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کر لینا چاہیے۔ اگر کوئی رمضان سے قبل قضا نہ کر سکے تو رمضان کے بعد قضا کر لے اور اسے کوئی فدیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے تاہم یہ بات ضرور ہے کہ اگر قضا کرنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا ہو تو اللہ تعالی سے اس کے لیے توبہ کرے۔اور کسی عذر کے باعث تاخیر ہوئی ہو تو توبہ کی ضرورت نہیں ہے، بس  چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنا ہے۔

سوال: شیطان کو سخی فاسق سے زیادہ بخیل مومن پسند ہے کیونکہ سخی فاسق کبھی بھی خرچ کرکے اللہ کی طرف آسکتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: ابن ابی الدنیا نے یہ بات  اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔اسے عبد اللہ بن حبیق بیان کرتے ہیں کہ یحی بن زکریا علیہ السلام نے شیطان سے ملاقات کی۔عبداللہ بن حبیق جو تیسری صدی ہجری کے ہیں وہ یحیی بن زکریا علیہ السلام سے کیسے روایت کر سکتے ہیں۔ دونوں میں کافی دنوں کا فاصلہ ہے لہذا یہ واقعہ سندا صحیح نہیں ہے۔روایت اس طرح سے ہے۔

قال ابن أبي الدنيا: حدثنا محمد بن يحيى المروزي حدثنا عبد الله بن خبيق قال :

لقي يحيى بن زكريا عليهما الصلاة والسلام إبليس في صورته فقال له: يا إبليس أخبرني ما أحب الناس إليك وأبغض الناس إليك؟ قال: أحب الناس إلي المؤمن البخيل وأبغضهم إلي الفاسق السخي قال يحيى: وكيف ذلك؟ قال: لأن البخيل قد كفاني بخله والفاسق السخي أتخوف أن يطلع الله عليه في سخاه فيقبله ثم ولى وهو يقول: لولا أنك يحيى لم أخبرك.(كتاب مكائد الشيطان لابن أبي الدنيا)

سوال: ابن قدامہ ؒ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا قول نقل کیا ہے کہ مردار مرغی کے پیٹ میں جو انڈا ہوگا وہ نجس ہے اس کا کھانا حلال نہیں چاہے اس کا چھلکا سخت ہو گیا ہو یا سخت  نہ ہوا ہو۔کیا یہ صحیح ہے ؟

جواب: اگر مردار مرغی کے پیٹ سے انڈا نکلے اور وہ انڈا سخت ہو چکا ہو تو ایسی صورت میں اس کا باطنی حصہ پاک ہے کیونکہ چھلکا سخت ہونے کی وجہ سے نجاست کو روکنے والا ہے البتہ اس کے ظاہری حصے کو دھو لیا جائے گا۔اور اگر نکلنے والا انڈا سخت نہ ہو بلکہ نرم اور رطب ہو تو ایسی صورت میں اسے نجس مانا جائے گا۔اس مسئلہ میں راج بات یہی ہے۔

ابن قدامہ نے رحمہ اللہ نے المغنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے علاوہ تفاصیل بھی ذکر کیا ہے۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا مسئلہ ہے تو یہ محض کراہت پر محمول ہے۔

سوال: میرے محلے میں ایک مسجد ہے جو حنفی مسلک کے زیرِ انتظام ہے اور وہاں کے معمولات مثلاً عصر کے بعد فضائلِ اعمال کا درس وغیرہ دیوبندی مکتبہ فکر کے مطابق ہیں۔ میري ایک دوست نے مجھے اس مسجد کے لیے نئی چٹائیاں خریدنے میں مالی تعاون کی ترغیب دی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا میرے لیے ایسی مسجد میں چٹائی یا دیگر ضروریات کے لیے رقم دینا شرعاً درست ہے اور کیا یہ عمل صدقہ جاریہ کے زمرے میں آئے گا؟

جواب: مسجد  اللہ کا گھر ہے جو اللہ کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، اس میں ضرورت کے وقت تعاون دینا اور صدقہ جاریہ کی نیت سے ضرورت کی چیزیں مثلا چٹائی، میک ، پنکھا وغیرہ دینا بالکل درست ہے، اس میں قطعا دل میں کوئی حرج محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ دیوبندی اور تبلیغی جماعت والے بدعت کے کاموں میں ملوث ہیں اور ان کی مساجد میں عام طور سے فضائل اعمال کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت واقعات بھی درج ہیں۔ اس کے لیے ہماری یہ ذمہ داری ہو کہ ایسے آدمی سے جب بھی ہمارا سابقہ پڑے تو انہیں ان کی غلطی پر متنبہ کریں یعنی اگر بدعت کرتے دیکھیں تو اس بدعت سے منع کریں اور فضائل اعمال پڑھتے دیکھیں تو اس میں جو غلطیاں ہیں، ان غلطیوں پہ انہیں تنبیہ کرکے اصلاح کی کوشش کریں۔

سوال: روزہ کی حالت میں وائٹننگ کریم یا لوشن لگا سکتے ہیں ؟

جواب: روزہ کی حالت میں کریم یا لوشن لگا سکتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے یعنی اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

روزہ کی حالت میں ہونٹوں پر کوئی چیز لگانے سے بچیں کیونکہ بعض اوقات آدمی زبان سے ہونٹوں کو چھوتا رہتا ہے اور اس سے اس کا ذائقہ اندر جاسکتا ہے۔ویسے ہونٹوں پر بھی ضرورت کے وقت لوشن لگاسکتے ہیں ، احتیاط یہ ہو کہ اس کو زبان سے لگاکر حلق کے نیچے نہیں نگلنا ہے۔

سوال: ایک ضعیف شخص جس کو پیروں میں درد کی وجہ سے چلنے کی دقت ہے، وہ گھر کے قریب والی مسجد میں جو دوسرے مسلک کی ہے، پانچ وقت کی نماز پڑھ لیتا ہے۔اہل حدیث مسجد دور ہے جبکہ جمعہ کی نماز اہل حدیث مسجد میں پڑھتا ہے۔ دوسرے مسلک کی مسجد میں ضعیف لوگوں کے لیے تجوید کی تعلیم ہے، وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب: مسجد کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ امام کا ہے کہ جس کے پیچھے نماز پڑھی جا رہی ہے اگر وہ امام صحیح العقیدہ ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلاشبہ اس مسجد میں اس امام کے پیچھے وہ کمزور آدمی نماز پڑھ سکتا ہے۔ تاہم اس آدمی کو یہ چاہیے کہ اپنی نماز سنت کے مطابق ہی ادا کرے۔اور تجوید کا علم حاصل کرنے میں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

سوال: ایک غیر شادی شدہ شخص کا انتقال ہوا ہے۔ اس کے ورثاء میں والد ، والدہ اور ایک بہن ہیں۔اس نے وصیت کی تھی کہ میرے تمام مال کا ایک تہائی صدقہ کر دیا جائے ۔ جائیداد میں نقدی بھی ہے اور اس کے نام سے ایک پلاٹ بھی ہے، ساتھ ہی میت کے ذمہ قرض بھی ہے۔ پلاٹ کی قیمت ، قیمت خرید سے کم ہے اس لئے ورثاء کی رضامندی ہے کہ ابھی اسے نہ بیچا جائے، زیادہ قیمت پر بیچا جائے اور میت کی طرف سے صدقہ کردیا جائے گا اور قرض بھی ادا کردیا جائے گا۔ کیا وراثت کے کل مال کو جمع کر کے قرض، وصیت اور ورثا ءکے حصے نکالے جائیں گے یا نقد رقم سے الگ اور زمین کی قیمت فروخت سے الگ بھی نکالے جا سکتے ہیں؟

جواب:اصل میں وراثت تقسیم کرنے والی چیز ہے، یہ رکھنے والی چیز نہیں ہے۔وراثت تقسیم کرنے سے وارث کو وقت پر اپنا حق مل جاتا ہے۔ اگر وراثت تقسیم نہ کی جائے، اس میں تاخیر کی جائے اور کسی وارث کا انتقال ہو جائے پھر وہ اپنے حصے سے فائدہ نہیں اٹھا سکا، ایسی صورت میں اس کا کون جوابدہ اور ذمہ دار ہوگا؟

دوسری بات یہ ہے کہ وراثت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں تاخیر کرنے سے بسا اوقات ورثاء یا ان کی اولاد وغیرہ کی وجہ سے اس میں بہت سنگین اختلاف ہو جاتا ہے، قتل تک نوبت آجاتی ہے۔نیز وراثت کا معاملہ حقوق العباد سے جڑا ہوا ہے جو کافی اہم معاملہ ہے۔

میت کی جتنی بھی جائیداد ہے سب کو اکٹھا کر لیا جائے اور وصیت و قرض نکال کر باقی بچے حصے کو وارثوں میں تقسیم کیا جائے۔ اگر الگ الگ بھی تقسیم کیے جائیں مثلا پیسے کو الگ، زمین کو الگ، سامان کو الگ تو اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔میت نے نقد پیسہ بھی چھوڑا ہے تو اس میں سے قرض ادا کیا جا سکتا ہے اور اگر وہ پیسہ اب بھی پوری جائیداد (بشمول پلاٹ)کے تہائی مال کے برابر بچتا ہو تو اس کو میت کی طرف سے صدقہ بھی کیا جا سکتا ہے جیساکہ اس کی وصیت ہے۔جہاں تک زمین کا معاملہ ہے تو اسے بیچ کر تقسیم کیا جائے یا زمین ہی آپس میں تقسیم ہوسکتی ہو تو اسی کو تقسیم کر دی جائے۔

بہر کیف! حقوق العباد کا معاملہ ہے اس کو لٹکا کر رکھنا اپنے سر پر جوابدہی رکھنا ہے، بعد میں اس کی تقسیم میں خرابی پیدا ہوئی تو کوتاہی کرنے والے کا عند اللہ مواخذہ ہوگا۔

سوال: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ ، آیت الکرسی اور آل عمران کی یہ آیات (18اور 26-27) عرش سے لٹکی ہوئی ہیں، ان کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد یہ آیات پڑھے، اللہ تعالی اس سے پانچ چیزوں کا وعدہ فرماتا ہے۔

(1)جنت میں ٹھکانہ : اللہ تعالی اس کا ٹھکانہ جنت میں بنائے گا۔

(2)مقدس پناہ گاہ : اسے "قدس / Sacred Enclosure) "مقدس جگہ (میں جگہ دی جائے گی۔

(3)روزانہ ستر رحمتیں : اللہ تعالی روزانہ ستر (70) بار اپنی رحمت سے نوازے گا۔

(4)ستر حاجتوں کی پوری : اس کی ستر (70) ضرور تیں (حاجتیں) پوری کی جائیں۔

(5)دشمن سے حفاظت : ہر حاسد ( جلنے والے) اور دشمن سے حفاظت فرمائے گا اور ان پر غلبہ عطا کرے گا۔

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب: ابن السني نے"عمل اليوم والليلة" (125) اسے بیان کیا ہے:

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالْآيَتَيْنِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ: (شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ )، و ( قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ) إِلَى قَوْلِهِ: ( وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ) مُعَلَّقَاتٌ، مَا بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ، لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُنْزِلَهُنَّ تَعَلَّقْنَ بِالْعَرْشِ قُلْنَ: رَبَّنَا، تُهْبِطُنَا إِلَى أَرْضِكَ، وَإِلَى مَنْ يَعْصِيكَ.

فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: بِي حَلَفْتُ، لَا يَقْرَأُكُنَّ أَحَدٌ مِنْ عِبَادِي دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ إِلَّا جَعَلْتُ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، وَإِلَّا أَسْكَنْتُهُ حَظِيرَةَ الْقُدُسِ، وَإِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ بِعَيْنِي الْمَكْنُونَةِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ نَظْرَةً، وَإِلَّا قَضَيْتُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ حَاجَةً، أَدْنَاهَا الْمَغْفِرَةُ، وَإِلَّا أَعَذْتُهُ مِنْ كُلِّ عَدُوٍّ وَنَصَرْتُهُ مِنْهُ، وَلَا يَمْنَعُهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ۔

سند کے اعتبار سے یہ روایت باطل و موضوع ہے۔ابن الجوزی نے اسے موضوع اور جورقانی نے باطل کہا ہے۔ دیکھیں:(الموضوعات لابن الجوزي: 1/399، الأباطيل والمناكير للجورقاني : 2/338)

 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔