Wednesday, November 4, 2026

عقیقہ کا جانور کیسے ذبح کریں؟

عقیقہ کا جانور کیسے ذبح کریں؟

تحریر: مقبول احمد سلفی / جدہ

 

نومولود کی پیدائش کے ساتویں دن بچہ کی طرف سے دو مستقل جانور اور بچی کی طرف سے ایک مستقل جانور ذبح کرنا چاہئے۔ بڑے جانور میں عقیقہ مسنون نہیں ہے، چھوٹے جانوریعنی بکرابکری اور بھیڑودنبہ میں عقیقہ دینا چاہئے۔ساتویں دن عقیقہ کی استطاعت نہ ہو تو بعد میں بھی استطاعت ہونے پر عقیقہ دے سکتے ہیں۔

اس جگہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ عقیقہ میں کتنی عمر کی بکری یا بکرا ذبح کرنا چاہئے ، کیا عقیقہ کے جانور میں بھی قربانی کے جانور کی طرح شرائط پوری کرنا چاہئے؟ اس کاجواب یہ ہے کہ عقیقہ کے جانور کے لئے قربانی کے جانور کی طرح شرائظ مذکور نہیں ہے تاہم بہتر و افضل یہی ہے کہ عقیقہ کا جانور بھی عیوب سے پاک ہوں اور کم ازکم ایک سال کا ہو جو ذبح کرنے اور کھانے کے لائق ہو۔امام مالک نے کہا کہ عقیقہ، ہدی اور قربانی کے درجہ میں ہے اور امام ترمذیؒ نے علماء کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بکری کے عقیقہ میں وہی کفایت کرے گا جو قربانی میں کفایت کرتا ہے۔

عقیقہ کا جانور ذبح کرنے کا وہی طریقہ ہے جیسے ہم کھانے کے لئے شرعی طور پرعموما جانور ذبح کرتے ہیں۔ آپ دل میں اس بچے یا بچی کی جانب سے عقیقہ کی نیت کریں اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ جانور ذبح کریں۔ اس طرح ذبح کرنا کفایت کرے گا بلکہ قربانی کا جانور بھی اس طرح ذبح کرسکتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى، وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا(صحیح البخاری:5565)

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا۔

اسی طرح آپ چاہیں تو عقیقہ کا جانور ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھیں اور جانور ذبح کریں ۔ دعا ہے:

"بسم اللهِ والله أكبرُ، اللهم لك وإليكَ، هذه عقيقَةُ فلانٍ"

اس کی دلیل یہ ہے کہ بیہقی اور مصنف عبد الرزاق میں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے، آپ فرماتی ہیں:

عقّ عن الحسنِ والحسينِ وقال قولوا : بسم اللهِ والله أكبرُ، اللهم لك وإليكَ، هذه عقيقَةُ فلانٍ۔

ترجمہ:نبی ﷺ نے حسن وحسین کی جانب سے عقیقہ کیا اور فرمایا:"بسم اللهِ والله أكبرُ، اللهم لك وإليكَ، هذه عقيقَةُ فلانٍ"۔

٭ امام نووی نے اس کی سند کا جید بتلایا ہے ۔(المجموع8/428)

٭دعا میں فلاں کی جگہ جس بچہ یا بچی کی طرف سے عقیقہ ہو، اس کا نام لے لیا جائے۔

٭ذبح کرتے وقت جانور قبلہ رخ کریں، چھری تیز ہو اوربسم اللہ اللہ اکبرکہتے ہوئے ذبح کریں، ذبح میں  سانس اورکھانے کی نلی اور خون کی دونوں رگیں کاٹیں تاہم سانس  کی نلی اور کھانے کی نلی بھی کٹنے سے خون بہ جاتا ہے، یہ بھی کافی ہے۔ذبح میں اصل اللہ کا نام لینا اور کسی تیز دھاردار چیز سے خون بہانا کافی ہے۔ ایک سفر میں صحابہ نے جانور ذبح کرنے سے متعلق پوچھا کہ ہمارے پاس چھری نہیں ہے کیسے ذبح کریں تو  نبی ﷺ نے فرمایا: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ(بخاری:5503) یعنی جو (دھار دار) چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو تو (اس سے ذبح کیا ہوا جانور) کھا سکتے ہو۔ 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔