آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(114)
جواب از :شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ- سعودی عرب
سوال: اگر اپنے بچوں کے
مستقبل کے لئے سونا جمع کیا گیا ہو جو کہ ساڑھے سات تولہ سے کم ہے اور ساتھ ہی
چاندی بھی باون تولہ سے کم ہو تو کیا دونوں کی مالیت ملاکر حساب کرنا ہے یا الگ
الگ دیکھنا ہے اور اگر زکوة ادا نہیں کرسکتی تو کیا ہر دفعہ سونے میں سے کچھ بیچ
کر زکواة ادا کرنی ہوگی یہاں تک کہ وہ نصاب سے کم ہوجائے؟
جواب:اگر آپ نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سونا اور
چاندی جمع کرنا شروع کیا ہے، اس حال میں کہ نہ سونا نصاب کو پہنچ رہا ہے اور نہ
چاندی نصاب کو پہنچ رہی ہے تو ایسی صورت میں دونوں میں سے کسی کی زکوۃ نہیں نکالی
جائے گی کیونکہ ان دونوں کو ملا کر زکوۃ نہیں نکالنی ہے بلکہ سونا کی زکوۃ اس وقت
نکالنا ہے جب وہ نصاب کو پہنچ جائے اور چاندی کی زکوۃ اس وقت نکالنی ہے جب وہ زکوۃ
کے نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے۔آپ نے جو صورتحال ذکر کی ہے اس
صورتحال میں آپ کے اوپر نہ سونا میں زکوۃ ہے اور نہ ہی چاندی میں زکوۃ ہے۔
سوال:میں جوائنٹ فیملی میں رہتی ہوں، وہ
سب اپنے بچوں کا برتھ ڈے مناتے ہیں پھر میرے بچے بھی تنگ کرتے ہیں کہ ہمارا برتھ ڈے
بھی کرو۔ سوال ہے کہ کیا میں بچوں کی خوشی کے لیے اپنے گھر میں بچوں کا برتھ ڈے کرسکتی ہوں؟
جواب:پہلے آپ کو اس مسئلے میں یہ جاننا ہے کہ اسلام میں
برتھ ڈے منانے کی کیا حیثیت ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے اسلام میں برتھ
ڈے منانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ غیروں اور کفار کی مشابہت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ کسی کو خوش کرنے کے لیے ہم کبھی بھی گناہ کا کام نہیں کر سکتے ہیں، نہ شوہر کی
خوشی کے لیے، نہ والدین کی خوشی کے لیے، نہ اپنی اولاد کی خوشی کے لیے اور نہ ہی
اپنی خوشی کے لیے۔ گناہ ہر حال میں گناہ ہے، اسے کبھی نہیں کرنا چاہیے۔
یہاں ایک مشورہ ضرور دوں گا کہ اگرآپ ایسے جوائنٹ فیملی سسٹم میں ہیں جہاں پر آپ کو
آپ کے لیے دین پر عمل کرنا اور دین بچانا مشکل ہو تو ایسے سسٹم سے علاحدگی اختیار
کریں یا پھر ایسے سسٹم میں رہتے ہوئے اپنا طریقہ اور ماحول اسلامی بنائیں۔
سوال:میرے شوہر نے شادی کے اٹھائیس سال
بعد دوسری شادی کرلی ہے۔ اگر میں ان کے نکاح میں رہتی ہوں تو کیا کچھ شرائط کے
ساتھ باقی زندگی گزار سکتی ہوں جیسے گھر کے اخراجات دینے میں تنگ نہ کرے کیونکہ وہ
اس میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ اور اگر میں باقی زندگی اپنے بچوں کے ساتھ رہوں
مگر شوہر سے کوئی تعلق نہ رکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میرے سامنے آئیں تو لڑائی
جھگڑا کرلوں ۔ کیا ان دونوں باتوں کی شرطوں کے ساتھ رہنا جائز ہے؟
جواب:آپ اپنے شوہر کی زوجیت میں موجود ہیں، آپ کا نکاح
نہیں ہو رہا ہے کہ آپ اس موقع سے اپنے شوہر کے سامنے شرط رکھیں گے۔ جس عورت کا
نکاح ہو رہا ہے وہ اگر جائز شرط رکھنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ہاں یہ
بات ضرور معلوم رہے کہ دوسری شادی ہونے کے بعد اگر دو بیویوں کے درمیان عدل و
انصاف اور حقوق کی تقسیم میں عدم توازن نظر آئے تو آپ اس کی شکایت کر سکتے ہیں،
اپنا حق طلب کر سکتے ہیں، اس کے لیے بیٹھک کر سکتے ہیں اور اگر پھر بھی شوہر عدل و
انصاف نہ کرے تو ایسی صورت میں اس سے علاحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ بغیر شرعی عذر کے شوہر سے علاحدگی
اختیار کرنا جائز نہیں ہے اور اسی طرح بغیر اسباب کے شوہر سے لڑائی جھگڑا کرنا یا
شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے اس سے الگ تھلگ رہنا یہ بھی عورت کے لیے جائز نہیں
ہے۔نکاح میں رہتے ہوئے عورت کے لیے یا مرد کے لیے جائز ہی نہیں ہے کہ وہ دونوں
بغیر بات کیے، بغیر تعلقات اور بغیررابطے کے الگ الگ رہے۔ یا تو عدل و انصاف کے
ساتھ دونوں کو ایک ساتھ رہنا ہے یا الگ ہونے کے لیے شرعی عذر موجود ہو تو طلاق یا
خلع کے ذریعہ الگ ہو جانا ہے۔
سوال:مسجد کی تعمیر کی نیت سے کچھ رقم
جمع کی گئی ہے اور اب تک پندرہ لاکھ روپے جمع ہو گئے ہیں۔ یہ رقم کئی سالوں میں
جمع ہوئی ہے اور ابھی تک اس کی زکوة نہیں ادا کی گئی ہے تو کیا مسجد کے لئے جمع کی ہوئی رقم پر
زکوة ہوگی اور کیا اب تک جتنے سال ہوئے ہیں ان کی بھی زکوة دینی ہے؟
جواب:مسجد کے لیے جمع شدہ پیسے میں زکوۃ نہیں ہے کیونکہ
یہ کسی کا ذاتی نہیں ہے بلکہ مسجد کا پیسہ ہے۔ جو پیسہ انسان کا اپنا نجی ہو اس
پیسے میں سے انسان زکوۃ نکالے گا۔
سوال:اگر کپڑے آٹومیٹک مشین کے ذریعے
دھوئیں تو کپڑے دھونا درست ہے، اس طرح جو سرف وغیرہ استعمال ہوتا ہے، ہم نہیں
جانتے کہ کیسے تیار کیا ہوتا ہے یعنی پاک ہے یا ناپاک؟
جواب:آٹومیٹک مشین سے کپڑا دھلنے میں کوئی مسئلہ نہیں
ہے کیونکہ کپڑا تو اصل پانی سے دھلا جاتا ہے اور مشین میں پانی ڈال کر کپڑا دھلا
جاتا ہے، اس وجہ سے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اور سرف وغیرہ کے استعمال میں
بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہ پاؤڈر ہے اور عموما اس میں ایسی کوئی چیز نہیں
ہوتی جس کا استعمال ہمارے لیے منع ہو۔ ویسے ہر چیز کے پیکٹ پہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ
یہ کس کس چیز سے تیار کی گئی ہے۔
سوال: آج کل ہر کوئی ملاقات کے اختتام پر
اللہ حافظ ، فی امان اللہ جیسے الفاظ بولتا ہے اور سلام بہت کم بولتا ہے جبکہ اس
کا ثبوت نہیں ہے ۔ شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:ایک مسلمان کو ملاقات کرتے وقت اور جدا ہوتے وقت
اپنی بات کا آغاز سلام سے کرنا چاہیے۔ جب آپ نے ابتداء میں سلام کر لیا پھر اس کے
بعد اب حال چال پوچھنے کے لیے یا دعا دینے کے لیے جس زبان میں بھی، جو بھی الفاظ
کہتے ہیں، اس میں شرعا کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔مثلا آپ جدا ہوتے وقت سلام کر لیتے
ہیں پھر اس کے بعد عربی میں فی امان اللہ یا اللہ حافظ کہتے ہیں، اس میں کوئی حرج
نہیں یا اسی بات کو اردو زبان میں کہتے ہیں: اللہ آپ کی حفاظت کرے، اس میں بھی
کوئی حرج نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اپنی بات کا آغاز سلام سے ہو۔
سوال: کیا جمعہ کے دن ناخن کاٹنا سنت سے
ثابت ہے؟
جواب:اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے
دن ناخن کاٹا ہو یا آپ ﷺ نے جمعہ کے دن ناخن کاٹنے کا حکم دیا ہویعنی اس بارے میں قولی یا فعلی کوئی حدیث نہیں
ہے۔ ناخن کاٹنے کا تعلق سنن فطرت اور
صفائی ستھرائی سے ہے۔ جب ناخن بڑھ جائے اسے کاٹنا چاہئے خواہ کوئی بھی دن ہو۔
سوال: اگر نماز کے دوران ہوا خارج ہونے
کا یقین ہو لیکن نہ آواز ہو اور نہ ہی بدبو ہو تو بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نمازی
اپنی نماز جاری رکھ سکتا ہے؟
جواب:ہوا خارج ہونا ناقض وضو ہے، اگر کسی کو ہوا خارج
ہونے کا یقین ہوجائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، نماز توڑ دینا چاہئے خواہ اس کو
بدبو محسوس ہو یا نہ ہو یا آواز سنائی دے یا نہ دے۔ یقینی علم ہونا کافی ہے۔ ہاں اگر ہوا نکلنے کا شک ہو مگر بدبو یا آواز نہ
سنے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
سوال: اگر کسی میں اتنی طاقت
نہیں ہے کہ طواف کے سات چکر مطاف میں اپنے پیروں سے کرسکے، وہ صرف تین یا چار چکر
کرسکتا ہو اور اس کی خواہش ہو وہ تین یا چار اپنے پیروں پر کرے اور باقی چکر وہیل
چئیر پر اوپر جا کر کرے تو کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:سب سے پہلی بات یہ ہے کہ حج وعمرہ کا فریضہ اس کے
لئے ہے جو جسمانی طور پر مکہ آکر خود سے عبادت انجام دے سکے۔ جسے جسمانی طاقت نہ
ہو، اس حال میں کہ وہ حج و عمرہ کی مالی
استطاعت رکھتا ہوتو وہ کسی اور ذریعہ اپنا حج یا عمرہ کراسکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ عذر کے وقت ویل چیئر پر طواف و سعی
کرسکتے ہیں، اگر کسی چند چکر قدموں پر انجام دیا اور چند چکر کرسی پر کرے اس میں
کوئی حرج نہیں ہے۔ اور آدمی کوعبادت میں
اجر مشقت کے بقدر ملتا ہے۔
سوال: جب بچہ فوت ہوجائے اور ماں نفاس کی
حالت میں ہو تو کیا ماں بچے کو نہلا سکتی ہے یا گود میں لے سکتی ہے، یہ جائز ہے یا
ناپاکی کی وجہ سے جائز نہیں ہے؟
جواب: نفاس کی حالت میں عورت چھوٹے بچے کو یا فوت شدہ
بچے کو گود لے سکتی ہے، اسے نہلاسکتی ہے
اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نفاس میں عورت کے لئے دنیا کا سارا کام کرنا جائز ہے،
کچھ بھی منع نہیں ہے۔
سوال: اگر عورت صاحب استطاعت ہے اور شوہر
نہیں ہے تو وہ اپنے کسی محرم کے ساتھ حج کرسکتی ہے اور اگر شوہر اسکی اجازت نہ دے
تو کیا وہ اس کی بات مانے گی یا اپنے فرض کی ادائیگی کرے گی؟
جواب:اگر عورت پر حج کا فریضہ عائد ہوجائے تو اس کے لئے
حج کرنا واجب ہوجاتا ہے لیکن عورت کے لیے حج کے واسطے محرم کا ہونا بھی ضروری ہے۔
عورت کے لئے محرم نہ ہو تو اس پر حج نہیں ہے۔جہاں تک سوال میں یہ مذکور ہے کہ
استطاعت والی عورت کے پاس شوہر نہیں یا شوہر ہے مگر وہ حج کی اجازت نہ دے تو کیا
دوسرے محرم کے ساتھ حج کرسکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل حج کرسکتی ہے۔ جس
عورت پر حج فرض ہوجائے اسے اپنے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ
اللہ کا فریضہ ہے۔ یہ بندوں کا معاملہ نہیں کہ بندوں سے اجازت لی جائے گی۔ اس صورت
میں عورت کسی محرم کے ساتھ حج کرنے جاسکتی ہے اور اپنا حج کرسکتی ہے۔
سوال: اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو گاؤں
محلے کی عورتیں انکو دیکھنے جاتی ہیں، کیا اس طرح میت کو دیکھنا صحیح ہے، اسی طرح کیا
مرد حضرات بھی کسی عورت کی میت کو دیکھ سکتے
ہیں؟
جواب: عورتوں کے لئے مردوں کا چہرہ دیکھنا جائز ہے اس
میں حرج نہیں ہے۔ اس وجہ سے مرد میت کا چہرہ دیکھنے میں عورتوں کے لئے حرج نہیں
ہے۔ کیا اللہ تعالی نے مردوں کو اپنے چہرے پر نقاب لگانے اور چہرہ ڈھکنے کا حکم
دیا ہے؟اللہ نے مردوں کو اپنا چہرہ ڈھکنے کا حکم نہیں دیا ہے ، یہ حکم صرف عورتوں
کے لیے ہے۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ عورتیں مرد کو زندہ حالت میں دیکھ سکتی ہیں اور
جب وفات پا جائے تو بدرجہ اولیٰ دیکھ سکتی ہیں۔کیا عورتیں اپنے گھر میں، سماج میں
اور بازار میں آتے جاتے مردوں کو نہیں دیکھتیں؟بالکل دیکھتی ہیں اور اس میں کوئی
گناہ نہیں اور کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
اور اس بارے میں اصول یاد رکھیں کہ زندگی میں پردہ کا
جو حکم ہے وہی حکم میت سے متعلق ہے۔جیسے کوئی زندہ مرد کسی اجنبی عورت کا چہرہ
نہیں دیکھ سکتا، اسی طرح زندہ مرد کسی میت عورت (اجنبی) کا چہرہ نہیں دیکھ
سکتا۔اور زندہ عورت، زندہ مرد کا چہرہ دیکھ سکتی ہے، اسی طرح زندہ عورت، مردہ مرد
کا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔
سوال:اگر کوئی ہم سے عمرہ کرنے کے لئے
رقم ادھار لے یا ویسے بھی ادھار لے تو کیا وہ جو کچھ بھی ہمیں دے، وہ سود ہے - ہو
سکتا ہے وہ ادھار کیوجہ سے زیادہ کچھ دے دے اور رقم لوٹانے میں ابھی وقت ہو ؟
جواب:قرض لینا ایک الگ معاملہ ہے اور کسی آدمی کا اپنی
جانب سے کسی کو کچھ ہدیہ و تحفہ دینا ایک دوسرا معاملہ ہے۔قرض لینے والا اگر اس
شخص کو کوئی ہدیہ دیتا ہے جس سے قرض لیا ہے تو قرض دینے والے کو ہدیہ لینے میں
کوئی حرج نہیں ہے۔قرض دے کر شرطیہ طور پر نفع لینا سود کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ
ہے کہ اگر آپ کسی کو قرض دیتے ہیں اور شرط لگاتے ہیں کہ آپ کو کچھ تحفہ دینا ہے یا
آپ کو اس میں اتنا پیسہ مزید بڑھا کے دینا ہے، تب جا کر یہ سود میں داخل ہوگا۔
سوال:میرے پاس کچھ تولہ سونا ہے۔ میری
بھابھی اسے بنک میں گروی رکھنے کے لئے مانگ رہی ہیں مگر سود اور گناہ پر تعاون کی
وجہ سے میں نہیں دینا چاہتی ہوں۔ کیا میں ایسا کرسکتی ہوں کہ زیور دے دوں کہ آپ
بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرلیں اور بعد میں جتنا سونا لی ہیں، اتنا مجھے بناکر دے دیں؟
جواب:سودی قرضہ لینے کے لیے زیور دینا جائز نہیں ہے
کیونکہ یہ گناہ کے کام پر تعاون ہوگا۔ضرورت پوری کرنے کے لیے زیورات دے سکتے ہیں
اور بعد میں ان سے اپنے زیورات بنوا کے طلب کریں، اس میں کوئی حرج نہیں یعنی آپ نے
جو سوچا ہے وہ درست ہے، اس پر عمل کرسکتے ہیں۔
سوال: کیا نبی ﷺ کے نام سے عمرہ کرسکتے
ہیں؟
جواب:کوئی بھی کام کرنے کے لیے قرآن اور حدیث سے دلیل
چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام سے عمرہ کرنے کادوسروں
کو حکم دیا ہے یا کیا صحابہ میں سے کسی نے
بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے عمرہ کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ نہ نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام سے عمرہ کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ ہی صحابہ میں سے
کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے عمرہ کیا ہے۔ پھر ہم میں سے کوئی آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کے نام سے عمرہ کیوں کرے گا؟
مختصر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے عمرہ
نہیں کیا جائے گا۔ عمرہ ایک فریضہ ہے جس کے اوپر عمرہ فرض ہوتا ہے وہی عمرہ کرے
گا۔
سوال: اس بات کی وضاحت چاہتی ہوں کہ آپ
نے پہلے بتایا تھا کہ جب چار ماہ کا بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے ،اس میں روح پھونک
دی جاتی ہے۔سائنس بھی بتاتی ہے کہ دل کی دھڑکن اور اس کی سماعت بھی کام کرنا شروع
ہوجاتی ہے۔ آپ نے اس کے لئے یہی بتایا تھا کہ چاہے وہ زندہ پیدا ہو یا مردہ اس کا غسل، کفن، نماز جنازہ سب ہوتا ہے لیکن اس
دوسری تحریر "حاملہ میت کے پیٹ میں
زندہ بچہ کا حکم"میں چھ ماہ
تک کی بات لکھی ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ اگر چار ماہ کا بچہ ماں کے پیٹ میں زندہ ہو
اور ماں وفات پا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:پیٹ سے بچہ گرنا اور اس کی نماز جنازہ پڑھنا، یہ
ایک الگ مسئلہ ہے اور آپریشن کے ذریعے پیٹ سے بچہ نکالنا یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے
اور ان دونوں کے حالات الگ الگ ہیں۔جنازہ پڑھنے سے متعلق مسئلہ اپنی جگہ وہی ہے کہ
اگر چار ماہ کے بعد بچہ ساقط ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کیونکہ اس خلقت
پوری ہوجاتی ہے۔جہاں تک مردہ عورت کے پیٹ میں زندہ بچہ کا مسئلہ ہے۔اس بارے میں آپ
کو علم ہونا چاہیے کہ چار ماہ کا بچہ آپریشن کے ذریعہ نہیں نکالا جائے گا کیونکہ
وہ بچہ دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے اس لیے یہاں چھ
ماہ کی بات بیان کی گئی ہے کہ چھ ماہ کا بچہ آپریشن کے ذریعے اگر نکالا جائے تو وہ
زندہ رہ سکتا ہے بلکہ اس میں بھی چانس کم ہے تاہم امکان ہے۔
سوال: ہمیشہ وقت پر زکوۃ دیتے تھے، اس
بار دو تین مہینہ تاخیر ہوجائے تو کوئی مسئلہ ہے؟
جواب:زکوۃ نکالنے کا طریقہ متعین ہے، وہ یہ ہے کہ جب
نصاب کو پہنچنے والے مال زکوۃ پر سال مکمل ہو جائے تو فورا اس کی زکوۃ نکال دی
جائے۔ اس میں کچھ بھی تاخیر نہ کی جائے۔اور مال زکوۃ سے زکوۃ نکالنے میں تاخیر کی
کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ جس میں سے زکوۃ نکالنا ہے وہ چیز موجود ہوتی ہے، اسی
میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ نکالنا ہوتا ہے۔
رہا زیورات کی زکوۃ نکالنا، ممکن ہے کبھی عورت کے پاس
زکوۃ دیتے وقت پیسے نہ ہوں، جیسے ہی پیسہ آئے فورا زکوۃ دے دینی چاہیے، ساتھ ساتھ تاخیر
ہونے پراللہ تعالی سے توبہ بھی کر لینا چاہیے کیونکہ تاخیر کرنا بہر حال غلطی ہے
جبکہ زکوۃ کے لیے پہلے سے انتظام کرنا چاہیے۔
سوال:آج کل نشید اور ترانے بہت زیادہ سنے
اور گروپس میں شیئر کئے جا رہے ہیں (بنا میوزک کے، کسی کسی میں دَف کی آواز شامل
ہوتی ہے)۔ ہر موضوع پر ترانے بن رہے ہیں اور کچھ ویڈیوز میں لڑکیاں بھی نظر آتی
ہیں۔ کیا اس طرح کی نشید یا ترانے سننا اور شیئر کرنا جائز ہے؟
جواب:مختصر طور پہ یہ سمجھیں کہ کوئی بھی نشید یا ترانہ
جس میں نشید یا ترانہ کے علاوہ کوئی دوسری بھی آواز اس میں شامل ہو خواہ کسی قسم
کی آواز ہو، ایسی کسی بھی نظم کو نہ سنیں اور نہ ہی اس کو شیئر کریں، نیز جس میں
لڑکیوں کی تصویریں ہوں وہ بھی نہ سنیں اور نہ شیئر کریں۔
سوال:تئیس سال پہلے میری شادی پہ جو حق
مہر مجھے دیا گیا تھا، زیور کی صورت میں وہ شادی کے دو سال بعد میرے سسر نے یہ کہہ
کے لے لیا تھا کہ ضرورت ہے ابھی بیچنا ہے، دو چار ماہ کے بعد دوبارہ بنوا دیں گے
لیکن میرے مانگنے کے باوجود بھی کتنے سال گز گئے انہوں نے واپس کچھ نہیں دیا۔ اب
میرے بچے جوان ہیں، مجھے انکے لئے ضرورت ہے، میں نے اپنے شوہر سے حق مہر کا مطالبہ
کیا ہے، پہلے بھی کئی بار کہا لیکن وہ ہر بار کوئی نہ کوئی دھمکی دے کے چپ کروا
دیتے ہیں اس بار میں نے ان کو کہا ہے کہ اگر حق مہر نہیں دیں گے تو اپنا حق بھی نہ
مانگنا۔ ہم نے بستر الگ کر لئے ہیں۔ کیا ایسا کرنا میرے لئے جائز ہے، مالی معاملات
سب میرے سسر کے ہاتھ میں ہیں؟
جواب:اصل میں یہاں پر شوہر کی غلطی کم نظر آتی ہے
کیونکہ انہوں نے وقت پر مہر ادا کر دیا تھا۔ اس جگہ بیوی اور سسر کی غلطی ہے۔مہر
ملنے کے بعد وہ بیوی کی ملکیت تھی، سسر کے مانگنے پر اسے اختیار تھا، وہ مہر دیتی
یا نہ دیتی۔اور پھر مہر لینے والا سسر ہے تو ذمہ دار سسر ہی کہلائے گا، نہ کہ شوہر
کہلائے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ شوہر سے بستر الگ کر لینا جائز نہیں
ہے، بیوی کو اپنا حق ادا کرنا چاہیے، باقی جس نے قرض لیا ہے اس سے اپنے قرض کا
احسن طریقے سے مطالبہ کرنا چاہیے۔
سوال: میں نے ایک لڑکی کو مکمل قرآن کی
تعلیم دی، بعد میں اس کی ماں آئی اور مجھ سے کہا کہ میری بیٹی کو قرآن بخش دو، میں
نے اس کے کہنے کے حساب سے قرآن بخش دیا ۔ ایسا کہنے سے کیا میرا ثواب ختم ہوگیا،
سارا ثواب اس لڑکی کو مل گیا؟
جواب:نبی ﷺ کے زمانے سے آج تک قرآن کریم کو سیکھا اور
سکھایا جاتا رہا ہے مگر نہ نبی ﷺ نے قرآن بخشنے کا حکم دیا اور نہ صحابہ اور سلف
میں سے کسی نے اس قسم کی بات کہی ہے۔
اس وجہ سے قرآن کی تعلیم دینے والی لڑکی سے یہ کہنا کہ
قرآن بخش دو، غلط رسم ہے، اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آئندہ تعلیم دینے
والی خاتون کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے اور جو اس طرح کا مطالبہ کرے، اس سے کہنا چاہئے کہ اسلام میں اس طرح کی کوئی بات
نہیں ہے۔ باقی قرآن کی تعلیم دینے کا اجر اپنی جگہ موجود ہے بشرطیکہ اجر و ثواب کی
نیت سے اور اخلاص و للہیت کے ساتھ تعلیم دی گئی ہو۔
سوال: کیا روٹی وغیرہ دانتوں سے کاٹ کر
کھانا کتے کی طرح کھانا ہے؟
جواب:اللہ تعالی نے دانت بنایا ہی اس لئے کہ اس سے
کاٹنے والی چیز کاٹ کر کھائی جائے اور چبائی جانے والی چیز چبائی جائے۔ کھائی جانے
والی چیزوں میں بہت ساری چیزیں کاٹ کر کھائی جاتی ہیں۔ اور کاٹ کر کھانے کو کتے سے
مشابہت دینا جہالت اور بے وقوفی ہے بلکہ ایسا کہنے سے کہنے والا بھی اس فہرست میں شامل ہوسکتا ہے کیونکہ بہت ساری چیزیں
کاٹ کر ہی کھا سکتے ہیں۔ اور ایسا کہنے سےصالحین حتی کہ ہم نبی ﷺ کو بھی تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ العیاذ
باللہ ۔۔دین میں ایسا کچھ نہیں ہے، آپ اپنی آسانی کے حساب سے کاٹ کر یا توڑ کر جیسے ممکن ہے، ویسے
کھا سکتے ہیں۔
سوال: اگر ایک مرد کے پاس اتنے مالی
وسائل نہیں ہیں کہ وہ ایک ہی وقت میں اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے حقوق ادا کر
سکے تو ان حالات میں اسے پہلے کس رشتے کو مقدم رکھنا چاہیے؟
جواب:حالات کیسے بھی ہوں ، نہ بیوی بچوں کو چھوڑنا ہے
اور نہ ہی والدین کو چھوڑنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مالی حالات کمزور ہوں تو والدین
کو دیکھیں گے اور بیوی بچوں کو چھوڑ دیں گے یا بیوی بچوں کو دیکھیں گے اور والدین
کو چھوڑ دیں گے، سب کی ذمہ داری نبھانی ہے۔ والدین کے معاملہ میں یہ آسانی ہے کہ
والدین کی کفالت لڑکا اور لڑکی سب کی منجملہ ذمہ داری ہوتی ہے، تمام اولاد مل کر
والدین کی ذمہ نبھائے، صرف ایک بیٹے کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔