قرآن بھولنے کا حکم
تحریر: مقبول احمد سلفی – جدہ
قرآن کریم یاد کرنا بڑے شرف و منزلت کا مقام ہے اور جسے
قرآن یاد ہو، اسے باربار دہرانا چاہئے ورنہ بہت جلد قرآن سینے سے نکل جاتا ہے اور
بھلا دیا جاتا ہے۔
نبی ﷺ فرماتے ہیں:تَعَاهَدُوا
الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ
فِي عُقُلِهَا.(صحیح البخاری:5033)
ترجمہ:قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو۔ اس ذات کی
قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ
تیزی سے بھاگتا ہے۔
یہاں اس بات کو سمجھنا ہے کہ آدمی قرآن بھولنا کیوں ہے،
بسا اوقات یاد داشت کمزور ہوسکتی ہے اور عموما قرآن پڑھنے میں غفلت کا نتیجہ ہوتا
ہے جو اوپر والی حدیث سے واضح ہے اور مزید اس کی احادیث مروی ہیں مثلا،نبی ﷺ
فرماتے ہیں:
إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ
الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ
أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ.(صحیح البخاری:5031)
ترجمہ:حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے
مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا
کر بھاگ جائے گا۔
اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے:
وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ
وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ، وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ(صحیح
مسلم:789)
ترجمہ:جب صاحب قرآن قیام کرے گا اور رات دن اس کی قراءت
کرے گا تو وہ اسے یاد رکھے گا اور جب اس (کی قراءت) کے ساتھ قیام نہیں کرے گا تو
وہ اسے بھول جائے گا۔
کوشش کے باوجود یا یادداشت کمزور ہونے کے سبب قرآن سے کچھ حصہ بھول جائے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے
کیونکہ آدمی کی طرف سے غفلت نہیں ہے لیکن جب حقیقت میں قرآن کے تئیں غفلت برت کر
اسے بھلا دیا جائے تو اس میں گناہ ہوگا۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جو آدمی
قرآن کو چھوڑ رکھے گا، قیامت میں رسول اللہ ﷺ اس کے خلاف مقدمہ کریں گے۔
اللہ تعالی
فرماتا ہے:
وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا
هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا(الفرقان: 30)
ترجمہ:اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری
امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔
قرآن پڑھنے سے غفلت برتنا جس کے سبب آدمی قرآن بھولتا
ہے، یہ مذکورہ ہجر میں داخل ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
مَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ:نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ
بَلْ هُوَ نُسِّيَ(صحیح البخاری:5039)
ترجمہ:کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں فلاں
فلاں آیتیں بھول گیا بلکہ اسے (یوں کہنا چاہئے) کہ میں فلاں فلاں آیتوں کو بھلا
دیا گیا۔
اس حدیث کی شرح میں ایک قول یہ ذکر کیا جاتا ہے جب آدمی
قرآن یاد رکھنے میں کوتاہی اور غفلت برتتا ہے تو اس کو سزا یہ ملتی ہے کہ وہ قرآن
بھلا دیا جاتا ہے۔ اس لئے کہا گیا کہ یہ مت کہو قرآن بھول گیا بلکہ کہو قرآن
بھلادیا گیا۔
بعض علماء نے قرآن بھولنے کو گناہ کبیرہ ، بعض نے گناہ
، بعض نے مصیبت اور بعض نے سزا قرار دیا ہے جبکہ اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ صراحت
نہیں ہے تاہم نصوص سے قرآن بھولنے کی شدت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں بعض
خصوصی نص بھی وارد ہے مگر وہ ضعیف ہے مثلا
(1)نبی
ﷺ فرماتے ہیں: مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ(سنن
ابي داود: 1474، ضعفہ البانی)
ترجمہ:جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو
قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ہو کر ملے گا۔
(2)اسی
طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے:عُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ
أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ
أُوتِيَهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا[سنن ابي داود:461، ضعفہ
البانی]
ترجمہ: مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے
دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر
وہ اسے بھلا دے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں ابوالعالیہ ریاحی سے
موقوفا ایک اثر ذکر کیا ہے اور اس کی سند کو جید کہا ہے۔
كنا نعد من أعظمِ الذنوبِ أن يتعلمَ الرجلُ القرآنَ ثم
ينامُ عنهُ حتى ينساهُ(الطبقات الكبرى لابن
سعد)
ترجمہ:ہم اس بات کو بڑے گناہوں میں شمار کرتے تھے کہ
کوئی شخص قرآنِ کریم سیکھے، پھر اسے چھوڑ کر سو جائے، یہاں تک کہ اسے بھول جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کوتاہی اور غفلت برتنے سے قرآن بھولنا
گناہ کا باعث ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے بھی قرآن بھولنے کو گناہ کہا ہے لہذا
قرآن کا حفظ باقی رکھنے کے لئے برابر اسے پڑھتا رہے اور کوشش بھر اپنے تئیں اس میں
کوتاہی نہ برتے۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔