آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(90)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب
سوال: مومن مومن کا آئینہ ہے ، اس حساب
سے آئینہ سمجھ کر ہم سامنے والے پر کتنا بھروسہ کر سکتے ہیں؟
جواب: ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے، یہ ابوداؤد میں
اس طرح مروی ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا:
الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ أَخُو
الْمُؤْمِنِ يَكُفُّ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ(سنن ابي
داود:4918)
ترجمہ:مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی
ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا
ہے۔
مومن، مومن کا آئینہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن
دوسرے مومن کے لئے خیرخواہی پسند کرے یعنی سامنے والے بھائی میں کوئی عیب نظر آئے
تو اس کی رہنمائی کرے تاکہ وہ اپنی اصلاح کرلے، اپنے بھائی کا عیب اسی بھائی سے
تنہائی میں بیان کرے، نہ اس کو لوگوں کے سامنے رسوا کرے اور نہ ہی اس کی پیٹھ
پیچھے دوسروں سے عیب جوئی کرے کیونکہ اصل مقصد اصلاح و خیرخواہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
اس حدیث میں آگے رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ "مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس
کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے"۔
گویا ایک مومن اپنے بھائی کے لئے سامنے بھی خیرخواہی پسند کرے اور اس کی پیٹھ پیچھے
بھی اس کی عزت و آبرو اور مال و دولت کی حفاظت کرتا رہے۔
سوال میں جو بات ذکر کی گئی ہے کہ کس پر کتنا اعتماد
کرنا ہے، یہی مطلب نہیں ہے بلکہ یہاں اپنے بھائی کے لئے خیروبھلائی چاہنا مقصود
ہے۔
سوال:اگر کوئی شخص کسی کو ائرفون دے اور وہ شخص اس سے موسیقی ، گانے اور ڈرامے فلمیں دیکھے تو کیا دینے والے کو بھی گناہ ملے گا؟
جواب: یہ سوال اس بات پر منحصر ہے کہ ایرفون دینے والے
نے کس قسم کے انسان کو ایرفون دیا ہے۔ اگر گانا سننے والے اور فلم دیکھنے والے کو
دیا گیا ہے تو وہ آدمی وہی کرے گا جو اس کی فطرت ہے لیکن جب اچھے آدمی کو دیا جائے
گا تو وہ سامان کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔
بہرحال ! جس نے ایرفون کسی کو دیا ہے اور وہ اس سے گانا
سنتا ہے اور فلم دیکھتا ہے تو ایسے آدمی کو غلط کام سے منع کیا جائے گا اور برے
کام سے روکا جائے گا۔ یہ حکم دیگر عام مسلمانوں کے تعلق سے بھی ہے کہ جب کسی کو برائی
کرتے دیکھیں تو اسے برائی سے منع کریں بلکہ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہاتھ سے برائی سے
منع کریں۔ یہاں پر بھی زبان سے نصیحت کرکے دیکھے، جب برائی سے باز آجائے تو ٹھیک
ورنہ ایرفون لے کر توڑ ڈالے۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ جب اپنی ذمہ داری
صحیح سے ادا کرے گا تو ایرفون دینے والے کو گناہ نہیں ملے لیکن اگر وہ جانتے
بوجھتے اپنی ذمہ داری نہ نبھائے تو اسے بھی گناہ ملے گا۔
سوال: ہمارے گھر کے بڑوں کو دین کی دعوت
کیسے دی جائے مثلاً وہ شرک اور بدعتی اعمال اور ان سے متعلق مسائل کو جانتے تو ہیں
لیکن بچپن سے ان عادات کے عادی ہونے کی وجہ سے آسانی سے بات نہیں مانتے؟
جواب: خواتین کی طرف سے یہ سوال باربار آتا رہتا ہے کہ اپنے
گھر والوں کو کیسے دعوت دیں یا نہ ماننے والوں کو کس طرح برائی سے روکیں؟
ہم سب لوگوں کے علم میں یہ بات رہنا چاہئے کہ ہمارے ذمہ
کسی دوسرے کے تئیں تبلیغ اور نصیحت کرنا ہے، ہدایت دینا ، دعوت سے متاثر ہونا اور
ہدایت پانا یہ من جانب اللہ ہے۔ پیغمبر جن کا کام ہی قوم کو رہنمائی کرنا ہوتا ہے،
وہ یہ کہتے ہیں کہ میرا کام تو بس تبلیغ کرنا ہے جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (یس:17)
ترجمہ:اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
اگرہدایت رسول کے ہاتھ میں ہوتی تو محمد ﷺ اپنی چاہت سے
اپنے چچا کو کلمہ پڑھا لیتے مگر آپ ان کو کلمہ نہ پڑھاسکے۔
ایک دوسری جگہ اللہ تعالی رسول کی ذمہ داری بیان کرتے
ہوئے فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ
مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ
فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ
وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ
إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (المائدۃ:67)
ترجمہ:اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب
سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت
ادا نہیں کی اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچا لے گا۔بیشک اللہ تعالیٰ کافر
لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اس آیت میں اللہ نے رسول سے کہا کہ آپ کی طرف جو وحی
نازل کی گئی ہے اسے لوگوں سے بیان کردیں ، اگر وحی کی تبلیغ کردیتے ہیں تو رسالت کی
ذمہ داری ادا کردیتے ہیں اور پھر ایسے کام
پر اللہ کی طرف سے تحفظ بھی ملتا ہے۔
لہذا ہم گھروالوں کو سمجھائیں یا سماج اور قوم کے لوگوں
کو سمجھائیں، ہمارے ذمہ لوگوں کی رہنمائی ہے۔ لوگوں میں جس قسم کی اصلاح و دعوت کی
ضرورت ہو، اس سے متعلق باتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ ان تک پہنچادیں ، آپ کی
ذمہ داری ادا ہوگئی بلکہ اللہ تعالی سے ایسے لوگوں کی ہدایت و توفیق کے لئے دعا
بھی کریں، ممکن ہے کہ کبھی کسی کو دعوت دینے سے فائدہ ہوجائے اور کبھی ہدایت کی
دعا کرنے سے۔
اس دعوت کے لئے کوئی خاص طریقہ نہیں ہے تاہم دعوت دینے
میں نرمی، محبت اور بصیرت کی روشنی میں قرآن وحدیث سے دلائل کے ساتھ اپنی بات پیش
کریں۔
سوال: ایک خاتون رمضان المبارک میں زکوٰۃ
نکالتی ہے لیکن اسے ابھی کسی کی بڑی رقم کے ذریعہ مدد کرنی ہے تو کیا ابھی زکوٰۃ
کی نیت سے وہ بڑی رقم بطور مدد دے سکتی ہے؟
جواب:کبھی کسی خاص ضرورت اور مصلحت کی بنیاد پر وقت سے
پہلے بھی زکوۃ دے سکتے ہیں اس میں حرج نہیں ہے۔جو خاتون رمضان میں زکوۃ دیتی تھی ،
اسے کسی کے لئے ابھی زکوۃ دینے کی فوری ضرورت ہے تو وہ رمضان کی زکوۃ ابھی دے سکتی ہے،
کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال : اگر کوئی شخص حرام کماتا ہے یا
اسکی آمدنی مشکوک ہے تو اگر ایسا بندہ آپ کو کوئی کھانے کی چیز دے یا بھیجے تو کیا
اس کو کھا سکتے ہیں یا اس کھانے کو کسی غریب کو دے دے؟
جواب: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی کو سنی سنائی باتوں
پہ اعتبار کرکے یا بلاثبوت اپنے من سے سوچ کر کسی آدمی کی کمائی کو مشکوک اور حرام
سمجھنا غلط ہے۔ ایک مومن کو اپنے دوسرے بھائی کے بارے میں اچھا ہی گمان کرنا
چاہئے۔ اللہ تعالی نے برا گمان کرنے سے منع فرمایا ہے بلکہ اس میں گناہ ملے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا
مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ(الحجرات:12)
ترجمہ:اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو
کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب یقین کے ساتھ کسی کی کمائی کے
بارے میں علم ہو کہ فلاں کی کمائی سو فیصد حرام ہے تو نہ اس کی دعوت قبول کرے اور
نہ ہی اس کا ہدیہ قبول کرے۔ بعض لوگ ایسے شخص سے تحائف قبول کرلیتے ہیں اور دوسروں
کو دیدیتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ایسے شخص سے کسی قسم کا ہدیہ ہی قبول نہیں
کرنا چاہئے کیونکہ اس صورت میں اس کا ہدیہ سراپاحرام مال سے خریدا گیا ہوگا اور
حرام مال سب کے لئے حرام ہے۔
یہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی کی کمائی سوفیصد حرام
کی نہیں ہو بلکہ حرام اور حلال دونوں طرح کی کمائی ہو یعنی خالص حلال کمائی نہ ہو
، حرام و حرام مکس ہو یا تھوڑی بہت حرام کمائی بھی ہو تو ایسے شخص کا ہدیہ قبول کر
سکتے ہیں اور اس کی دعوت بھی کھاسکتے ہیں۔
سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ معراج کے وقت
بیت المقدس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اذان دی تھی؟
جواب: اس قسم کی بعض روایات ملتی ہیں کہ معراج کی رات
جبریل علیہ السلام نے اذان دی تھی جیسے ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا
مرفوعا بیان کرتی ہیں:
لمَّا أُسرِيَ بي أذَّن جِبريلُ فظَنَّت الملائكةُ
أنَّه يُصَلِّي بهم، فقَدَّمني فصَلَّيتُ۔
ترجمہ: جب رات میں مجھے لے جایا گیا ، اس وقت جبریل نے
اذان دی ، پس فرشتوں نے خیال کیا کہ وہی ان کو نماز پڑھائیں گے مگر مجھے آگے
بڑھایا گیا پس میں نے نماز پڑھائی۔
اس روایت کے بارے میں امام ذہبی کہتے ہیں کہ یہ منکر ہے
بلکہ یہ موضوع ہے۔(سبل الهدى والرشاد:3/359)
اس قسم کی اور بھی بعض روایات ملتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے
کہ ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں ہے۔ اذان اور اقامت کی مشروعیت ہجرت کے بعد مدینہ
میں ہوئی ہے یعنی معراج کے وقت اذان کی مشروعیت نہیں ہوئی ہے۔
سوال : تین یا چار سال کے بچے جو ناسمجھ
ہوتے ہیں کیا وہ بھی صف کے درمیان کھڑے ہو سکتے ہیں جیساکہ جمعہ کی نماز میں بچے
ماں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں؟
جواب: اصلا تین چار سال کے بچوں کو مساجد میں نہیں لانا
چاہئے کیونکہ ان بچوں سے دیگر نمازیوں کے لئے ان کی نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ یہ
بچے شور کرتے ہیں ، حرکات انجام دیتے اور ادھر ادھر دیکھنے کے ساتھ مسجد میں چل
پھر بھی کرتے ہیں۔ اس لئے چھوٹے بچے جو سن شعور کو نہ پہنچے ہوں یعنی جن کو نماز
کا شعور نہ ہو انہیں گھر پر ہی رکھنا چاہئے۔ اور جب بچے باشعور ہوجائیں، انہیں
نماز کا شعور ہوجائے وہ مسجد آکر نماز پڑھے۔ نبی ﷺ نے سات سال پر بچوں کو نماز
پڑھنے کا حکم دینے کو کہا ہے۔ اس سے پہلے بھی بچے نماز پڑھ سکتے ہیں تاہم وہ گھر
پر رہ کر ہی نماز پڑھا کرے۔ مسجد تب سے جائے جب وہ باشعور ہوجائے۔ جمعہ کے دن
ہرقسم کے چھوٹے بچے مساجد میں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نماز میں کافی شور ہوتا ہے
اور نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔جمعہ ایک عظیم دن ہے، اس دن چھوٹے بچوں کو مسجد
جانے سے روکنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے ۔ آج کے دن مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوتی
ہے اس سے بچوں میں دین کے تئیں حوصلہ اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
جب بچے مسجد میں ہوں خواہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں، ان کو
صف کے درمیان کھڑا کرسکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے۔ ویسے صف بندی میں بالغ اور عقل
و شعور والوں کو امام کے پیچھے رہنے کو کہا گیا ہے، پھر ان کے بعد دوسرے لوگ کھڑے
ہوں گے لیکن کوئی صف میں داخل ہوجائے تو اسے پیچھے نہیں کیا جائے گا۔
سوال: ایک بہن کا سوال ہے کہ اسے اولاد
نہیں ہے، گھر میں اکیلی ہے ، کیا وہ اپنی عدت والدین کے گھر گزار سکتی ہے یا شوہر
کے ساتھ جہاں رہتی تھی وہاں گزارے؟
جواب: بیوہ کے اوپر ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر
عدت گرازے یہی شریعت کا حکم ہے۔ آخر عدت کے بعد بھی بیوہ اسی گھر میں رہے گی پھر
عدت میں ہی چند مہیوں کے لئے والدین کے گھر جانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ شریعت میں
بیوہ کو شوہر کے گھر عدت گزارنے کا حکم ہوا ہے۔ اس عدت میں رہتے ہوئے وہ کام کاج
کرسکتی ہے، سودا کے لئے ضرورت پڑے تو کسی پڑوسی یا گھروالوں سے مدد طلب کرے اور
کوئی مدد کے لئے نہ ہو تو اس کے لئے وہ خود بھی بازار جاسکتی ہے کیونکہ اس کی
ناگزیر ضرورت ہے۔
سوال: ایک خاتون کو PCOS کا ایشو ہے جس میں حیض کبھی کبھی اپنے وقت پہ نہیں آتا۔ عادت کے
مطابق پرسوں اس کی تاریخ تھی لیکن حیض نہیں آیا۔ اب کل سے انہیں اسپاٹنگ ہورہی ہے اور شدید درد ہے۔ پوچھنا یہ چاہ رہی ہے کہ نماز پڑھی جائے گی یا
نہیں اور کیا ان ایام کو بھی حیض میں شمار کرے گی؟
جواب: جس دن سے درد کے ساتھ اسپاٹنگ ہورہی ہے اس دن سے
حیض شمار کرے گی اور اس میں نماز سے رکنا ہے، اسپاٹنگ سے پہلے والے دنوں کو حیض
نہیں شمار کرنا ہے کیونکہ ان دنوں میں حیض نہیں آیا ہے۔
سوال: جسے دعائے قنوت یاد نہ ہو وہ کیا
کرے، کیا یہ پڑھنا ضروری ہے ؟
جواب: وترکی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا چاہئے اور کبھی
کبھار چھوڑ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس کسی کو دعائے قنوت یاد نہ ہو
وہ اس دعا کو یاد کرے کیونکہ یہ نماز وتر کا ایک حصہ ہے۔ جب تک یاد نہ ہو وہ کسی
کتاب سے دیکھ کرکبھی کبھار وتر کی دعا پڑھ لیا کرے تاہم جلدی سے اس کو یاد کرنے کی
کوشش کرے اور زبانی اس دعا کو پڑھے۔ مسلسل وتر میں اس دعا کو چھوڑنا مناسب نہیں ہے
لیکن کبھی کبھار دعائے قنوت چھوڑ دے تو حرج نہیں ہے۔
سوال: میرے گاؤں والی مسجد میں ہر نماز
تقریباً تاخیر سے پڑھی جاتی ہے، وقت پر نہیں ہوتی اس لئے اگر کوئی شخص نماز کے لیے
سب سے پہلے مسجد جائے اور اذان بھی وہی دے تو اس کو ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے
کہ کب نمازی آئیں گے یا امام آئے گا خصوصاً فجر کی نماز میں۔ اس کے لیے کیا حکم ہے
، کیا وہ اکیلے نماز پڑھ سکتا ہے ؟
جواب: اس میں پہلی بات یہ ہے کہ نماز اول وقت پر پڑھی
جانی چاہئے کیونکہ اول وقت پر نماز ادا کرنا افضل ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ مسجد میں
اذان اور (کچھ وقفہ دے کر) اقامت کا وقت متعین کرنا چاہئے۔ اسی وقت کے اعتبار سے
اذان دینا چاہئے اور نماز شروع کرنی چاہئے۔ پانچوں اوقات اس پر عمل کیا جائے۔
فجر میں بھی اذان اور اقامت کا وقت متعین ہو، وقت پر
اذان ہو اور متعین وقت پر نماز شروع کردی جائے خواہ کوئی آئے یا نہ آئے۔ مسجد میں
اکیلا آدمی ہو تب بھی وہ وقت پر نماز ادا کرلے اور کسی کا انتظار نہ کرے۔
اگر مسجد میں امام مقرر ہے مگر اس میں اذان و اقامت کے
لئے وقت مقرر نہیں ہے تو یہ افسوس کی بات ہے۔ اس بات پہ مسجد کمیٹی یا نمازیوں کے
درمیان میٹنگ کرکے اذان واقامت کاوقت متعین کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔
سوال: جو مدینہ میں فوت ہو جائے اور جو
جنت البقیع میں دفنایا جائے ، کیاان دونوں کاایک جیسا معاملہ ہوتا ہے؟
جواب: ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ جو آدمی مدینہ میں
وفات پائے گا، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی یہی وجہ ہے کہ حضرت
عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اللہ تعالی سے مدینہ میں وفات پانے کی دعا مانگی
تھی۔جہاں تک بقیع میں دفن کرنے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی خصوصیت نہیں ہے، اصل
آدمی کے ایمان اور عمل کا اعتبار ہوگا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بقیع میں جہاں
صالحین کی قبریں ہیں، وہیں منافقوں کو بھی دفن کیا گیا بلکہ منافقوں کا سردار
عبداللہ بن ابی بن سلول کی بھی قبر اس میں موجود ہے۔اس وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں
کہ مدینہ میں ایمان کی حالت میں وفات پانا فضیلت کا باعث ہے مگرجو مدینہ میں وفات
نہ پائے فقط بقیع میں دفن ہو اس کا معاملہ وفات پانے والے کی طرح نہیں ہے۔
سوال: ایک خاتون نے صدقہ کی نیت سے کھانے
کی چیز اپنے پہچان والوں کو دیا اور پہچان والوں نے وہی چیز ساتھ مل کر کھانے کی
گزارش کی۔ اس بہن نے وہ چیز گزارش پہ کھالی ۔ سواک یہ ہے کہ کیا صدقہ سے کھانا
درست ہے اور یہ بطور صدقہ قبول ہوگا؟
جواب: جب ایک آدمی کسی کو صدقہ دیتا ہے، صدقہ کے بعد اب
وہ چیز اس کی ملکیت ہوگئی جس کو دیا گیا ہے۔ صدقہ قبول کرنے والا اس میں جیسے چاہے
تصرف کرسکتا ہے۔ صدقہ کئے ہوئے اس مال میں سے کسی مالدار کو بھی کھلاسکتا ہے یا جس
نے صدقہ کیا ہے اس کو بھی کھلاسکتا ہے کیونکہ اب یہ مال اس صدقہ قبول کرنے والے کا
ہے۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔بریرہ رضی اللہ عنہا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی
لونڈی تھیں جب بریرہ کے پاس کوئی صدقہ آتا ہے تو اس میں سے آپ ﷺ کو بھی بھجتی
تھیں۔ سنن نسائی کی ایک حدیث دیکھیں۔ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے کے لیے گوشت لایا گیا اور بتا بھی
دیا گیا کہ یہ اس گوشت میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں دیا گیا ہے
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے لیے صدقہ ہے،
ہمارے لیے تو ہدیہ و تحفہ ہے۔(سنن نسائي: 3480)
بہرکیف! صدقہ دینے والے کا صدقہ اپنی جگہ درست ہے اور
صدقہ لینے والے نے اس میں سے کھلایا تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور صدقہ کے اجر
پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سوال: میرے یہاں نیچے کے ٹینک کے پانی سے
گھر کے ٹینک میں پانی آتا ہے، آج نیچے کی نالی دیکھ کر ہی پانی بھرا تھا، نالی
بھرا نہیں تھا مگر پھر بھی پانی میں تھوڑی مہک آ رہی ہے تو کیا یہ پانی طہارت کے
لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جواب: جب کسی پانی میں نجاست گرنے سے اس کا رنگ ، بو
اور مزہ بدل جائے تو اس سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے لیکن ان تینوں اوصاف میں سے کوئی
نہ بدلے تو پانی پاک ہی رہتا ہے۔
ٹینک کے پانی سے بدبو آنے کے مختلف حالات ہوسکتے ہیں۔
اگر اس میں بو معمولی ہو جو ٹینک میں موجود کائی وغیرہ کی وجہ سے ہو تو پانی پاک
ہی ہے اس کو طہارے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں لیکن اگر پانی کی بو نجاست کی طرح
محسوس ہو اور لگے کہ واقعی یہ بدبو نجاست گرنے کے سبب ہے تو اس کو استعمال نہ کیا
جائے، یہ اس صورت میں ہے جب پانی باہر سے ٹینک میں آئے۔
اور ٹینک میں پانی زمین کی تہ سے آئے تو اس کو پاک ہی
مانیں گے چاہے اس میں ہلکی پھلکی بو ہی کیوں نہ محسوس نہ ہو، یہ پائپ یا ٹینک کی
کائی کے سبب ہوگا۔
سوال: کینسر مریض کے لیے کوئی پیسہ اکٹھا
کر رہا ہے، کیا ہم اس میں صدقہ دے سکتے ہیں ؟
جواب:جو کینسر کا مریض ہے، اگر وہ خود سے علاج نہیں کرا
سکتا اور اس کو علاج کی استطاعت نہیں ہے تو ایسے شخص کو صدقہ بھی دے سکتے ہیں اور
زکوۃ بھی دے سکتے ہیں۔ بہرحال ، کینسر کے مریض کے لئے صدقہ دینے میں کسی قسم کا
کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
سوال: ایسی چیز لینا جس میں جاندار کی تصاویر
بنی ہوں ،کیا انہیں خریدنا جائز ہے جیسے اسکول بیگ، بوتل اور پنسل باکس وغیرہ ؟
جواب: جن چیزوں پر جاندار کی تصاویر بنی ہوئی ہوں ان سے
پرہیز کرنا اولی و افضل ہے خواہ وہ گھریلو استعمال کی چیزیں ہوں یا بچوں کے لیے
ہوں۔
علماء نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ بچوں کی تعلیم و
تربیت کی حد تک جاندار کی تصویر استعمال کی جاسکتی ہے جیساکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ
تعالی عنہا گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں تاہم جس قدر بچوں کے لیے بھی بچتے ہیں اس میں
خیر و بھلائی ہی ہے۔
سوال: خواتین کے لیے حیض سے پاکی کے لیے
بیری کا غسل مسنون ہے اور غسل میں وضو بھی شامل ہے تو غسل کے لیے جو بیری کا پانی
لیتے ہیں اسی سے وضو کرسکتے ہیں یا وضو کے لیے سادہ پانی لینا ہوگا؟
جواب: یہ بات درست ہے کہ عورت حیض کے غسل میں بیری کا
پتا استعمال کرسکتی ہے، اسے جسم کی اچھی صفائی ہوگی اور بدبوزائل کرنے میں آسانی
ہوگی۔ اس تعلق سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا
سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَهَا فَتَطْهُرُ
فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ(سنن ابن ماجه:642)
ترجمہ:تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے،
پھر وہ طہارت حاصل کرے (یعنی شرمگاہ دھوئے) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت
میں مبالغہ کرے۔
بیری کا پتا ملے ہوئے پانی سے غسل حیض بھی ہوجائے گا
اور اس پانی سے وضو بھی ہوجائے گا کیونکہ پانی پاک ہے۔ وضو کے لئے الگ سے سادہ
پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: کیا نہاتے وقت بات کرنے سے منع کیا
گیا ہے کیونکہ اس وقت کراما کاتبین فرشتے غسل خانے سے باہر رہ جاتے ہیں ، وجہ یہ
ہے کہ غسل خانہ ناپاک جگہ ہے۔ یہ بات میں بچپن سے سنتی آرہی ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ
اگر مجبوری میں بولنا پڑجائے تو کیا اس کی اجازت ہے؟
جواب:بعض روایات میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ کراما
کاتبین قضائے حاجت کے وقت، جماع کے وقت اور غسل کے وقت انسان سے الگ ہوجاتے ہیں
جیسے ترمذی کی یہ حدیث دیکھیں۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ، فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا
يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ، وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى
أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ (سنن ترمذي:2800)
ترجمہ: تم لوگ ننگے ہونے سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ
(فرشتے) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی
پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے۔ اس لیے تم ان
(فرشتوں) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو۔
یہ حدیث سندا ضعیف ہے، شیخ البانی نے اس کو ضعیف کہا ہے
بلکہ اس بارے میں اور بھی روایات ہیں جو ضعیف ہیں ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔
اس مسئلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ فرشتے تمام حالات میں انسان کے اعمال لکھتے ہیں خواہ
انسان بیت الخلاء میں ہو، جماع کی حالت میں ہو یا غسل کررہا ہو۔
رہا مسئلہ غسل کے وقت بات کرنے کا تو نہاتے وقت انسان
کو بات کرنے کی ضرورت پڑے جیسے کوئی کسی ضروری چیز کے بارے میں پوچھے تو نہاتے
ہوئے اس کا جواب دیا جاسکتا ہے، اسی طرح نہاتے والے کو صابن ، ٹوال یا اور کسی چیز
کی ضرورت پڑے تو وہ خود بھی گھر والوں کو آواز دے سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں
ہے۔ نبی ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جب دو آدمی ستر کھولے قضائے حاجت کررہے ہوں،
وہ دونوں ایک دوسرے کے ستر دیکھتے ہوئے بات کرے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے
:
لا يخرجُ الرجلانِ يضربانِ الغائطَ كاشفَينِ عن
عوراتِهما يتحدَّثانِ ، فإنَّ اللهَ يمقُتُ على ذلك(صحیح الترغیب للالبانی: 155)
ترجمہ : دو آدمی قضاء حاجت کرتے ہوئے آپس میں باتیں نہ
کریں کہ دونوں ایک دوسرے کے ستر کو دیکھ رہے ہوں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر
ناراض ہوتے ہیں۔
پہلے زمانہ میں لوگ باہر قضائے حاجت کرنے کے لئے جاتے
تھے، اس وقت ستر کھولے دو آمیوں کو قضائے حاجت کرتے ہوئے بات کرنے سے منع کیا گیا
ہے جبکہ آج کل لوگ گھر میں عموما حمام بناتے ہیں ، اس میں بیت الخلاء کے ساتھ
نہانے کی سہولت بھی ہوتی ہے۔ یہاں ستر ننگا ہونے اور ستر دیکھنے کا امکان نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ قضائے حاجت کے وقت بات کرنے سے منع
کیا گیا ہے جبکہ ضرورت پڑے تو اس وقت بھی بات کی جاسکتی ہے کیونکہ یہاں ستر ننگا
ہونے کا امکان نہیں ہے۔
اور اصل مسئلہ جس کے بارے میں پوچھا گیا ہے کہ غسل کرتے
وقت بات کرسکتے ہیں یا نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ غسل کرتے وقت ضرورت پڑنے پر
بات کرسکتے ہیں۔ نبی ﷺ نے بھی غسل کرتے وقت بات کی ہے۔ عمر بن عبیداللہ کے غلام
ابونضر سالم بن امیہ سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ یزید نے
بیان کیا کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے یہ سنا۔ وہ فرماتی تھیں:
ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ
ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟
فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ
هَانِئٍ(صحیح البخاری:357)
ترجمہ: میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی
صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں
نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی آئی
ہو، ام ہانی۔
یہ بخاری کی حدیث ہے ، اس میں غسل کے وقت نبی ﷺ نے ام
ہانی سے علیک سلیک اور بات چیت کی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حمام میں ہوتے ہوئے قضائے حاجت یا غسل
کے وقت بلاضرورت بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے لیکن ضرورت پڑجائے تو بقدر ضرورت
بات کی جاسکتی ہے۔
سوال: موزہ پر مسح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:موزہ پر مسح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں
کو تر کریں پھر تر ہاتھوں کی انگلیاں موزہ کے اوپری حصہ پر پھیریں۔ پیر کی انگلیوں
سے شروع کرکے پنڈلی کی طرف لے جائیں۔ دائیں ہاتھ سے دائیں پیر پر مسح اور بائیں
ہاتھ سے بائیں پیر پر مسح کریں اور ایک ہی ہاتھ سے دونوں پیر پر مسح کرتے ہیں تب
بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال:کیا بیوی کا شوہر کے پیسوں پر کوئی
حق نہیں ہے جبکہ وہ وہ بات بات پر احساس دلائے اور طعنہ دے کہ پیسہ اس کا ہے اور گھر بھی اس کا ہے ۔ ایسا
کہنا کہاں تک درست ہے؟
جواب:حسب استطاعت شوہر کے ذمہ بیوی کا نفقہ اور رہائش
کے ساتھ بنیادی ضروریات کی تکمیل کرنا ہے۔ جب ایک شوہر دستور کے مطابق بیوی پر خرچ
کرتا ہے تو وہ اپنا مالی حق ادا کررہا ہے لیکن جب وہ اس میں بخیلی کرے تو بیوی کو
شوہر کے مال سے لینے کا حق ہے جیسے بخاری میں واقعہ ملتا ہے۔ ہند بنت عتبہ نے عرض
کیا: یا رسول اللہ! ابوسفیان (ان کے شوہر) بخیل ہیں اور مجھے اتنا نہیں دیتے جو
میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو سکے۔ ہاں اگر میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال
میں سے لے لوں (تو کام چلتا ہے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم
دستور کے موافق اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو سکے۔
(صحيح البخاري:5364)
حقیقت یہی ہے کہ شوہر کا مال یا اس کا ذاتی گھر اسی کی
ملکیت ہے، اس کے جیتے جی بیوی اس میں سے اپنی حصہ داری طلب نہیں کرسکتی ہے، اس کے
باوجود بیوی کے ذمہ شوہر کے مال اور اس کے گھر کی حفاظت کرنا ہے۔ اسی طرح اگر بیوی
کے پاس مال یا گھر ہو تو یہ اس کی ملکیت ہے، شوہر بیوی کی زندگی میں اس میں سے حق
لینے کا مطالبہ نہیں کرسکتا ہے۔ہاں ایک کی وفات کے بعد دوسرے کو میت کے میراث سے
حصہ ملتا ہے۔
جہاں تک طعنہ دینے کا مسئلہ ہے تو یہ بے ادبی اور
ناشائستہ کلام ہے۔ کسی شوہر کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ بیوی کو اس طرح طعنہ دیتا
رہے اور باربار احساس دلاتا رہے کہ یہ میرا پیسہ ہے یا میرا گھر ہے۔ آخر شوہر کے
ذمہ نفقہ اور رہائش تو ہے پھر وہ ایسی بات
کیسے بولے گا؟ اس طرح کی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو دین سے دور ہوتے ہیں لہذا ایسے
لوگوں کو دین سے جڑنے اوراپنے اندر دینداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
سوال:اگر میت خاتون کی ناک کی کیل کوشش
کے باوجود نہ نکال سکیں یا نہ کٹ سکے تو کیا اس کے ساتھ ہی دفنادیا جائیگا؟
جواب:میت کے حق میں اصل یہی ہے کہ غسل کے وقت ساری
چیزیں الگ کی جائیں گی۔ عورت نے جو کچھ زیورات پہنے ہوں ان سب کو نکالا جائے گا
حتی کہ جسم کے سارے لباس بھی اتارے جائیں گے، صرف ستر ڈھکا جائے گا۔ اس کے بعد غسل
دیا جائے گا تاکہ پورے جسم تک ٹھیک ٹھیک پانی پہنچ جائے۔
سوال میں پوچھا گیا ہے کہ میت عورت کی ناک سے کوشش کے
باجود کیل نہ نکل سکے تو کیا اس کے ساتھ دفن کیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ
کوشش تو یہی ہو کہ اس کو ہرحال میں نکالنے کا جتن کیا جائے۔ آج کل ایک سے ایک آلہ
دستیاب ہے، پہاڑ جیسی چیز کو چورا چورا بنایا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی جگہ بروقت
ایسی کوئی چیز میسر نہ ہو تو میت کو کیل سمیت دفن کرسکتے ہیں تاہم اولین کوشش یہی
ہو کہ اسے نکالنے کے لئے ہرممکن جتن کیا جائے۔ جتن کے باوجود کیل نہ نکل سکے تو کیل
سمیت میت کو دفن کرسکتے ہیں۔
سوال: ایک شخص ہے جو امریکہ میں غیرقانونی
طریقہ سے رہتا ہے ۔ اس کی عمر زیادہ ہورہی تھی اور شادی نہیں ہورہی تھی کیونکہ وہ قانونی نہیں ہے اس لئے اس نے انڈین لڑکی سے آن
لائن نکاح کیا مگر وہ لڑکی اس کے پاس نہیں جاسکتی تھی تو اس نے، اس کو اپنے بھائی کی بیوی بناکر
بلایا،مطلب حکومتی کاغذات پر دوسرا بھائی
شوہر ہے ۔ اس کے بھائی بھی امریکہ رہتے تھے تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟
جواب:اولا اس کا امریکہ میں غیرقانونی طور پر رہنا صحیح
نہیں ہے نیز اس نے اپنی بیوی کو بھائی کی بیوی بناکر امریکہ لایا یہ بڑا حرام کام
کیا ہے۔ جس آدمی نے اس معاملہ میں ساتھ دیا اس نے بھی حرام کام کیا۔ نکاح کوئی
کھیل نہیں ہے کہ اپنے مفاد کے لئے ایک کی بیوی کو کاغذات پہ دوسرے کی بیوی بنادے۔
یہ فریب ، فراڈ اور حرام کام ہے۔ ایک طرف حکومت کے ساتھ دھوکہ ہے تو دوسری طرف
اللہ کے دین کے ساتھ کھواڑ ہے۔
ایسے آدمی کو اللہ سے توبہ کرنا چاہئے ، ساتھ ہی جو کچھ
بھی اس نے غیرقانونی کام کیا ان سب کو ختم کرکے خود کو ملکی نظام کا پابند بنائے،
ورنہ وہ جب تک اس طرح رہے گا گناہگار ہوتا رہے گا۔ اللہ ایسے لوگوں سے ناراض رہتا
ہے۔ ممکن ہے کہ وہ حکومت کے ہتھے چڑھ جائے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے اور
اپنے کئے کی سزا دنیا میں ہی پالے اس لئے وقت رہتے توبہ کے ساتھ اپنی اصلاح کرلے۔
سوال: ایک محفل میں گفتگو کے دوران یہ
بات ہوئی کہ حالت احرام میں جو پابندیاں ہیں، اس کی دلیل کہاں سے ملے گی خاص طور
پر خوشبو کے استعمال کے بارے میں۔ کسی کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
تو خوشبو کو بہت پسند کرتے تھے؟
جواب:احرام کی جو پابندیاں ذکر کی جاتی ہے وہ قرآن و
حدیث کی روشنی میں ہی ہوتی ہے، ان کی تفصیل حج و عمرہ کے باب یا اس سے متعلق کتاب میں
پڑھ سکتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے احرام کی چند پابندیوں کا ذکر
کیا ہے جن میں خوشبو لگانے کی بھی ممانعت ہے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر
دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ: الْقَمِيصَ، وَلَا
الْعِمَامَةَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ
زَعْفَرَانٌ، وَلَا وَرْسٌ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ
النَّعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُمَا فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ
الْكَعْبَيْنِ.(صحیح البخاری:5806)
ترجمہ: محرم قمیص نہ پہنے , نہ عمامہ پہنے , نہ پاجامہ
, نہ برنس اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے
پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے (پھر
پہنے)۔
زعفران اور ورس کے رنگ سے رنگے ہوئے لباس کی ممانعت اس
لیے ہے کہ ان میں خوشبو ہوتی ہے یعنی احرام میں خوشبو لگانا ممنوع ہے۔
نبی ﷺ کو خوشبو بہت پسند تھا ، یہ ایک الگ چیز ہے اور
احرام کی پابندی الگ چیز ہے۔ ہر پسندیدہ کام ممنوع وقت میں انجام نہیں دینا ہےجیسے
روزہ رکھنا بڑا نیک کام ہے مگر بعض ایام میں یہی روزہ ممنوع ہے جیسے عید کے دن یا
خاص طور پر جمعہ کے دن۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔