Monday, January 5, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(91)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(91)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ - سعودی عرب


سوال: ایک خاتون کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، اس کے دانت کا علاج ایک غیرمحرم ڈاکٹر سے چل رہا تھا ۔ کیا وہ خاتون عدت میں اپنا علاج کرانے جاسکتی ہے؟

جواب:علاج ایک ضرورت ہے اور بیوہ اپنی عدت میں علاج کرانے ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اس قسم کی جو بھی ضرورت ہو، وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔

سوال: ایک آدمی انتقال کر جاتا ہے، اس کی ایک ہی بیٹی ہے لیکن بیوی حاملہ ہے اور شوہر کی وفات کے دو ماہ بعد وہ ایک لڑکے کو جنم دے تو ایسی صورت میں وراثت کی تقسیم کو وضع حمل تک روکنا ہے یا ابھی وراثت تقسیم کردینا ہے؟

جواب:یہ مسئلہ تو اپنی جگہ واضح ہے کہ حمل میں جو بچہ ہے وہ بھی وراثت کا حقدار ہے۔جہاں تک مسئلہ ہے کہ وراثت ابھی تقسیم کی جائے یا وضع حمل کے بعد؟اس کا جواب یہ ہے کہ بہت زیادہ شدید ضرورت ہو تو حمل والے بچے کا حصہ رکھ کر وراثت تقسیم کی جا سکتی ہے لیکن افضل اور بہتر یہی ہے کہ وراثت کی تقسیم ابھی نہ کی جائے، جب بچے کا توالد ہو جائے اس کے بعد وراثت کی تقسیم کی جائے۔

سوال: ایک خاتون جس کو ایک بیٹی ہے  اور اس کے شوہر کی دو شادیاں(دو بیویاں) ہیں۔ وہ پوچھتی ہے کہ میرے بعد میرے وارث میں میرے شوہر کے بچے بھی ہوں گے اور کیا اپنا سب زیور اور مال اپنی بیٹی کے نام وصیت لکھ دوں تاکہ کوئی اور اس میں حصہ دار نہ بن سکے؟

جواب:اس خاتون کو اپنے زیورات اور مال و دولت اپنی بیٹی کے نام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے پہلے سے منصفانہ اور عادلانہ نظام بنا رکھا ہے۔اس نظام میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے اس لئے اپنی اولاد ار جائیداد کے تئیں اس طرح کی فکرمندی کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔اس خاتون کی وراثت اس کی اپنی اولاد یا دیگر ورثاء پائیں گے لیکن اس خاتون کی وراثت میں شوہر کی دوسری بیویوں کا یا دوسری بیویاں کی اولاد کا حصہ نہیں ہوگا۔

سوال:میرے پاس سونے کی ایک مخصوص مقدار ہے جس پر ہر سال زکوٰۃ بنتی ہے۔ ہر سال سونے کی موجودہ قیمت کے مطابق زکوٰۃ کا حساب کیا جاتا ہے اور پھر اسے ادائیگی کے لیے پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔گزشتہ سال کی زکوٰۃ رمضان میں حساب کی گئی تھی تاہم ادائیگی کئی ماہ تاخیر کا شکار رہی۔ اس دوران سونے کی قیمت میں خاصا اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے صحیح زکوٰۃ کی رقم کے بارے میں دو مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔پہلی رائے یہ ہے کہ وہی زکوٰۃ کی رقم ادا کی جائے جو پہلے حساب کی گئی تھی، چاہے بعد میں سونے کی قیمت بڑھ کیوں نہ گئی ہو۔دوسری رائے یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا معیار خود سونا ہے لہٰذا زکوٰۃ کا حساب موجودہ سونے کی قیمت کے مطابق دوبارہ کیا جائے اور پھر پاکستانی روپے میں ادا کی جائے۔ اس طرح قیمت بڑھنے کی وجہ سے ادائیگی کی رقم زیادہ ہو جائے گی۔ اس میں صحیح کیا ہے؟

جواب:اس میں سب سے پہلے تو زکوۃ دینے والی کی غلطی یہ ہے کہ اس نے وقت پر زکوۃ کی ادائیگی نہیں کی اس کے لئے اللہ سے توبہ کرے۔ زکوۃ کا وقت ہوتے ہی اس کی ادائیگی بالفور ہونی چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سونا کی زکوۃ میں نفس زکوۃ بھی نکال سکتے ہیں اور کرنسی کے ذریعہ بھی نکال سکتے ہیں۔ سونا کی زکوۃ سونا سے ہی نکالیں گے تو آج بھی اس سونا میں سے ڈھائی فیصد سونا زکوۃ میں نکالیں اور کرنسی کے اعتبار سے زکوۃ نکالتے ہیں تو رمضان میں زکوۃ کا وقت ہوا تھا، اس وقت جو قیمت رہی ہوگی اس کے حساب سے زکوۃ دیں۔ آج کے وقت سے نہیں دینا ہے کیونکہ وہ ابھی زکوۃ نہیں نکال رہی ہے بلکہ اس کا وقت پہلے ہو چکا ہے۔ آج تک اس کی زکوۃ اس کے ذمہ قرض باقی ہے، اس کو بس ادا کرنا ہے۔

سوال:ایک آمی کی دوبیویاں ہیں اور دونوں بیویوں سے بچے ہیں جو اسی مرد سے ہیں۔ کیا دونوں بیویوں کے بچے آپس میں ایک دوسرے کے گھر جاسکتے ہیں جبکہ دونوں سوکن ایک دوسرے کے یہاں نہیں جاتیں۔ اسی طرح کہیں ایک بیوی اپنے شوہر کے ساتھ گھومنے جائے تو دوسری بیوی کے بچے بھی ساتھ ہوسکتے ہیں؟

جواب:جیساکہ آپ نے بتایا کہ ایک شخص کی دو بیبیاں ہیں اور ان دونوں بیوی سے اولاد ہے۔ یہ اولاد اسی مرد کی ہے۔اس اعتبار سے دونوں بیویوں کے بچے آپس میں علاتی بھائی بہن ہوئے۔ علاتی کا مطلب باپ ایک اور مائیں الگ الگ۔ ان بچوں کا آپس میں بھی کوئی پردہ نہیں ہے اور نہ ہی سوتیلی ماں سے کوئی پردہ ہے اور جبکہ باپ تو حقیقی ہے۔ گویا یہ بچے ایک دوسرے کے گھر جاسکتے ہیں اور سفر پر بھی اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ساتھ ہی یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ دو سوکنوں کا ایک دوسرے سے رشتہ توڑکراور قطع کلامی کے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ آپس میں مل جائیں اور پیارومحبت سے زندگی گزاریں ۔ یہ دنیا فانی ہے، گھڑی بھر یہاں بسیرا ہے، آخرت اصل منزل ہے، وہاں کے لئے تیاری کریں۔

سوال: ایک عورت خون بند ہونے پر نو دن کے بعد نفاس کا غسل کیا، پھر بعد میں خون شروع ہوگیا تو سوال ہے کہ کیا عورت کو چالیس دن تک رکنا پڑے گا اور ان دنوں نماز پڑھنے کی کیا صورت ہوگی، مطلب خون رک جائے تو غسل کرکے نماز پڑھ سکتی یا چالیس دن کے بعد نماز پڑھنا ہے؟

جواب:نفاس کی اکثر مدت چالیس دن ہے۔ اگر کوئی عورت چالیس دن سے پہلے پاک ہو جاتی ہے تو غسل کرکے نماز پڑھے گی۔ جیسا کہ آپ نے بتایا نو دن پہ خون رک گیا تھا، ایسی صورت میں اس نے غسل کر لیا ،ساتھ ہی اس کو نماز بھی پڑھنا چاہیے یعنی چالیس دن کے اندر جب خون کچھ دنوں کے لیے رک جائے تو اس میں غسل کر کے نماز پڑھنا ہے اور جب خون جاری ہونے لگے تو نماز سے رک جانا ہے۔ چالیس دن کے بعد غسل کر کے مسلسل نماز پڑھنا ہے کیونکہ چالیس دن کے بعد نفاس کا حکم نہیں لگے گا۔

سوال: ایک خاتون جس کے گزشتے سال کے روزے حمل کی وجہ سے چھوٹ گئے تھے اور امسال ولادت اور رضاعت کی وجہ سے قضا روزے پورے نہ ہوسکے۔ آنے والے رمضان کو بچی ایک سال کی ہوگی نیز وہ ماں کے دودھ پر ہی منحصر ہے تو کیا اس کو پچھلے رمضان کے روزوں کا فدیہ دینا کافی ہے یا قضا کرنا ضروری ہے؟

جواب:اس مسئلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ عورت کے لئے حمل اور رضاعت میں روزہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے اس وجہ سے اگر اس کے لئے روزہ رکھنا آسان ہو تو وہ رمضان میں روزہ رکھے گی لیکن اگر روزہ رکھنے میں بچے یا ماں کے لئے دشواری ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حمل یا رضاعت میں عذر کے سبب جو روزہ چھوٹ جائے ، بعد میں ان روزوں کی قضا کرنا پڑے گا، فدیہ نہیں دینا ہے۔

اب  رمضان قریب ہے، خاتون کے ذمہ جتنے روزے باقی ہیں ان کی قضا کرنے کی کوشش کرے، جتنے روزے قضا کرسکے ٹھیک ہے، اور جو روزے بچ جائیں ، رمضان کے بعد ان کی قضا کرلے۔یاد رہے کہ روزہ قضا کرنے میں سستی نہ کرے۔ روزہ ایک فریضہ ہے اس کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے حسب استطاعت اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

سوال: ایک عورت کے پاس سونا پہلے تین تولہ تھا پھر کچھ سالوں بعد چھ تولہ ہوا۔ جب سونا نصاب سے زیادہ ہوگیا تو وہ اپنے سونے کی زکوۃ رمضان میں نکالتی ہے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جب جب ضرورت مند آتے دیتی رہتی اور وہ لکھ لیا کرتی ہے ؟

جواب:زکوۃ اس طرح نہیں دی جاتی ہے کہ سال بھر تھوڑا تھوڑا ضرورت مندوں کو تقسیم کرے اور حساب لکھ لیا کرے، اس طرح دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔زکوۃ دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو مال، زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچ گیاہے، اس مال پر جب سال مکمل ہو، سال مکمل ہونے پر اسی وقت اپنے مال کی پوری زکوۃ مستحقوں میں تقسیم کردے، زکوۃ رکھ کر پورے سال نہیں تقسیم کرنا ہے اور نہ ہی وقت سے پہلے تھوڑا تھوڑا ضرورت مندوں کو دینے کو زکوۃ ماننا ہے بلکہ اس طرح تھوڑا تھوڑا دینے کو صدقہ خیال کرے۔

عموماً عورتوں کے پاس زکوۃ نکالنے کے لئے ایک ساتھ مکمل پیسے نہیں ہوتے ہیں، ایسی عورتوں کو چاہیے کہ وہ سال مکمل ہونے پر مکمل زکوۃ دینے کے لئے اپنے پاس سال بھر تھوڑا تھوڑا پیسہ جمع کرتی رہے اور جب سال مکمل ہوجائے، اس وقت پوری زکوۃ تقسیم کرے۔

سوال: اگر مسجد میں پہلی صف میں سارے عالم و حافظ ہوں تو جماعت کون کروائے گا؟

جواب:اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ جو مسجد میں متعین امام ہوگا وہی لوگوں کی امامت کرائے گا خواہ پہلی صف میں سارے عالم یا حافظ ہی کیوں نہ ہوں۔دوسری بات یہ ہے کہ ویسے تو مسجد میں مستقل طور پر امام متعین ہو لیکن کبھی کسی وجہ سے امام موجود نہ ہو تو لوگوں میں موجود جن کو سب سے زیادہ قرآن یاد ہو اور دین کا علم بھی ہو ان کو امامت کے لئے آگے بڑھانا چاہیے خواہ وہ عالم پہلی صف میں ہو یا پچھلی صف میں۔صرف حافظ ہونے کو ترجیح نہیں دی جائے گی بلکہ ساتھ ساتھ شریعت کا زیادہ علم رکھنے والے کو ترجیح دی جائے گی۔

سوال:ایک خاتون عمرہ کرنے جا رہی ہے اور اس نے کاپرٹی لگوایا ہے، کیا اس حال میں عمرہ ہو جائے گا یا کاپرٹی نکالنا پڑے گا؟

جواب:عورتوں کے لئے احرام کی حالت میں بطور لباس صرف برقع اور دستانہ لگانے کی ممانعت ہے ، باقی چیزوں کے پہننے اور استعمال میں حرج نہیں ہے لہذا اسے کاپر ٹی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اسی حالت میں عمرہ کرسکتی ہے تاہم یہاں ایک مشورہ ضروردوں گا کہ اگر یہ کاپرٹی  شرعی عذر اور مصلحت کی وجہ سے کچھ وقتوں کے لئے لگائی تو ٹھیک ہے اور اگراس مقصد سے ہے کہ  بچے کم پیدا ہوتاکہ اچھی تعلیم دلائے اور زوری روٹی میں دقت نہ ہو، تو اس وجہ سے کاپرٹی لگانا شرعا درست نہیں ہے۔ نبی ﷺ سے زیادہ بچہ پیدا کرنے والی اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔

سوال: شکرانے کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:شکر کی کوئی نماز شریعت میں ثابت نہیں ہے ، بطور شکر،فقط  سجدہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے لہذا جب کسی کو کوئی نعمت یا خوشی کا موقع ملے وہ بطور شکر اللہ کے لئے سجدہ کرسکتا ہے۔

سوال: رمضان کے کچھ روزے حیض کے سبب چھوٹ  گئے ہیں لیکن مسوڑوں کی تکلیف (خون بہنا اور درد) کی وجہ سے رمضان آگیا اور ابتک روزے نہیں رکھ پائی ہوں، نیز ابھی تک ٹھیک نہیں ہوں، خشکی سے گلے تک تکلیف بڑھ جاتی ہے اور بولنے میں بھی دشواری ہوتی ہے کیونکہ جبڑے کی ہڈی بھی جگہ سے ہٹ گئی ہے۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے، کیا فدیہ دے سکتی ہوں یا روزے ہی رکھنے ہوں گے؟

جواب:جب تک روزہ رکھنے کی طاقت ہے، چھوٹے  روزوں  کا فدیہ ادا کرنا درست نہیں ہے۔ اگر آپ  شرعی مجبوری کے تحت  آنے والے رمضان تک روزہ قضا نہیں کر سکتے ہیں  تو رمضان بعد قضا کریں  لیکن استطاعت ہونے پر چھوٹے روزے کی قضا ہی کرنا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ابھی رمضان آنے والا ہے، کیا امسال رمضان کا روزہ رکھنے کے استطاعت ہے اور کیا اس رمضان کا روزہ رکھنا ہے؟ اس کا جواب ہے ہاں، رمضان کا روزہ رکھنے کی استطاعت ہے اور رمضان کا روزہ بھی رکھیں گے۔ اسی طرح چھوٹے ہوئے گزشتہ روزوں کی قضا کرنا ہے۔

سوال: ایک عورت نے کینسر کی مریضہ کے لئے کہا ہے کہ پانی اور تیل میں کچھ مخصوص قرآنی آیات پڑھ کر دم کیا جائے ، اس سے بیماری میں فائدہ ہوگا۔ کیا اس طرح کا عمل کیا جاسکتا ہے؟

جواب: قرآن یا حدیث میں کہیں پر بھی کینسر کے لیے کوئی مخصوص علاج نہیں بتایا گیا ہے یعنی کینسر کے بارے میں کوئی مخصوص آیت نہیں ہے اور نہیں کوئی مخصوص حدیث ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ پورا قرآن شفا ہے، کہیں سے بھی قرآن پڑھ کر بیمار پر دم کیا جاسکتا ہے یا وہ مخصوص سورتیں اور آیات جن کو پڑھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے ان کو پڑھ کر دم کرسکتے ہیں۔ کھانے پینے والی چیز پر بھی دم کرکے کھا سکتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

کسی آیت کو اپنی طرف سے کینسر کے لئے خاص کرنا اور اس کو پانی میں دم کر کے یا تیل میں دم کر کے استعمال کرنا درست نہیں ہے یعنی جس چیز کو شریعت نے خاص نہیں کی ہے اس کو ہم کینسر کے لیے خاص نہیں کرسکتے ہیں۔ عمومی رقیہ کرسکتے ہیں۔

سوال: قبرستان میں لے جانے والے تابوت کے لیے صدقہ ، زکوۃ اور فطرہ کا پیسہ دے سکتے ہیں؟

جواب:میت لے جانے والے تابوت کے لیے فطرہ اور زکوۃ تو نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ فطرہ خاص فقراء ومساکین کا حق ہے، وہ بھی اناج کی شکل میں دینا ہوتا ہے ، نہ کہ رقم کی شکل میں  اور زکوۃ کے آٹھ کے مصارف ہیں، ان میں سر فہرست فقراء ومساکین ہیں جبکہ تابوت کا استعمال گاؤں کے امیر وغریب سب کے لئے ہوگااس وجہ سے تابوت میں زکوۃ نہیں دے سکتے ہیں۔صدقہ کی حیثیت سے اس میں پیسہ لگاسکتے ہیں ، کوئی حرج نہیں ہے ۔

سوال:کیا خواتین کیلئے بھی جمعہ کے وہی آداب و احکام اور فضائل ہیں جو مرد حضرات کیلئے ہیں جیسے اول وقت پر حاضر ہونے کا ثواب اور خاموشی سے خطبہ سننا وغیرہ۔ نیز جب عورتوں کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں، وہ خطبہ کے دوران روئے تو ان کو چپ کراسکتی ہیں؟

جواب:نماز جمعہ کی فضیلت مرد و عورت دونوں کے لئے یکساں نہیں ہے کیونکہ نماز جمعہ مردوں پر واجب ہے اس لئے وہ مسجد میں حاضر ہوکر جماعت سے نماز پڑھیں گے جبکہ عورتوں کے حق میں نماز جمعہ واجب نہیں ہے، نیز اس کے لئے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے، اس کے باوجود عورت اگر مسجد جاکر مردوں کے ساتھ نماز ادا کرتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ جب نماز جمعہ عورتوں پر واجب نہیں ہے تو ان کے لئے سویرے مسجد جانے میں بھی فضیلت نہیں ہے، جلدی اور سویرے مسجد جانے کی فضیلت مردوں کے لئے ہے۔

المھم! عورتوں کی افضل نماز ان کے گھر میں ہےاور عورتوں پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے لیکن مسجد جاکر مردوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے۔ نماز کے لئے غسل کرنا بھی مستحب ہے اور خطبہ کے وقت خاموش رہنا مسجد میں موجود سبھی کے لئے ضروری ہے خواہ مرد ہو یا عورت حتی کہ اگر کوئی خطبہ کے دوران کسی کو کہے چپ ہوجاؤ، یہ بھی لغو کام ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ(صحيح البخاري:934)

ترجمہ:جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہے کہ ”چپ رہ“ تو تو نے خود ایک لغو حرکت کی۔

چھوٹے بچے جو ماں کے ساتھ ہوتے ہیں، خطبہ کے دوران رونے لگے تو آواز کے ساتھ چپ کرانے کی بجائے ہاتھ کے اشارے سے چپ کرایا جائے۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ چھوٹے بچے جو خطبہ کے دوران لوگوں کے لئے تشویش کا سبب بنتے ہیں، کیا ان کو تنبیہ کی جاسکتی یا اشارہ کیا جاسکتا ہے؟ اس پر شیخ نے جواب دیا کہ جو لوگ ان کے اردگرد ہیں وہ اشارہ سے چپ کراسکتے ہیں اور اشارہ کافی ہے۔ (موقع شیخ بن باز)

سوال: بيمارى كى حالت میں بہت سارے لوگ بتاتے ہیں کہ سورة الرحمن سنیں، اس پہ بہت سی ویڈیوز ہیں کہ اس طرح اتنی بار سنیں پھر شفایاب مریضوں کے بیانات بھی ہوتے ہیں- شریعت میں اسکی کیا حقیقت ہے؟

جواب:جو ویڈیو آپ نے دیکھی اور سنی ہے ، کیا کسی ویڈیو میں بیماری میں سورہ رحمن پڑھنے کی کوئی دلیل سنی ہے؟ نہیں سنی ہوگی کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دین وہی ہے جس بات کے لئے دلیل ہے اور جس بات کے لئے دلیل نہیں ہے وہ دین نہیں ہے۔ اسی تعلق سے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:مَن عَمِلَ عَمَلًا ليسَ عليه أمْرُنا فَهو رَدٌّ(صحيح مسلم:1718)

ترجمہ:جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو (یعنی دین میں ایسا عمل نکالے) تو وہ مردود ہے۔

اصل میں دنیا میں تقلید کرنے والے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، یہ لوگ قرآن و حدیث کی بجائے امتی کے اقوال پر عمل کرتے ہیں۔ ان ہی لوگوں کے یہاں وظیفے گڑھے جاتے ہیں، ہر کام کا الگ الگ وظیفہ بلکہ ایک ایک کام کا سیکڑوں وظیفہ گھڑتے ہیں کیونکہ ان کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ مقلدوں کے یہاں جو بھی چاہے اپنی طرف سے کسی بھی بیماری کا ایک وطیفہ ایجاد کرسکتا ہے، ان کے یہاں آزادی ہے۔ اس وجہ سے آپ کو سوشل میڈیا پر بے شمار وظائف ملیں گے، بلکہ وہ لوگ اپنی جانب سے گھڑ گھڑ کر وظائف پہ ڈھیر ساری کتابیں لکھے ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ بیان کرتا ہے کہ اسے مصنوعی وظیفہ سے شفا مل گئی تو یہ دین میں دلیل نہیں ہے، دلیل فقط قرآن اور حدیث ہے اور شفا دینے والا اللہ ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اپنے بندوں کو شفا دیتا ہے۔

ہندؤں کا عقیدہ ہے کہ اسے مندر جانے سے فائدہ ملا، وہ اپنا تجربہ بتاتا ہے، بہت سے لوگ مزار پہ گئے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیماری ٹھیک ہوگئی یا اولاد مل گئی، اسی طرح کسی کو چرچ جانے سے فائدہ ہوا وغیرہ وغیرہ۔ کیا ہم یہ کہیں گے کہ ان جگہوں پہ جانے سے فائدہ ملتا ہے یا کسی کو یہ مشورہ دیں گے کہ مندرجاؤ ، یا مزار پہ جاؤ یا چرچ جاؤ، وہاں فائدہ ملے گا؟ ایسا نہیں کہیں گے ۔ اسی طرح بدعتی وظیفہ پر عمل کرنے کے لئے کسی کو نہیں کہیں گے۔ کبھی کبھی غلط راستہ اختیار کرنے سے بھی انسان کو بظاہر فائدہ مل جاتا ہے مگر اس میں ہمارے لئے آزمائش ہے، اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ صحیح کام کرکے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا غلط کام کرکے؟

حاصل کلام یہ ہے کہ بیماری کودور کرنے کے لئے وہی سبب اپنائیں گے جسے اسلام نے سبب مانا ہےاور سبب کو سبب ہی ماننا ہے، اصل فائدہ پہنچانے والا اللہ ہے ، وہ چاہے تو سبب اختیار کرنے سے فائدہ ہوجائے اور وہ نہ چاہے تو سبب اختیار کرنے سے بھی فائدہ نہ پہنچے ۔ رقیہ کرنا مسنون ہے، ہمارے لئے رقیہ کے باب میں رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہی اعلی واولی ہے۔ آپ ﷺ  بیماری میں معوذات(سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھ کر، اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک کر چہرے پر پھیر لیا کرتے تھے۔

سوال: ایک آدمی رشتہ لگانے کا کام کرتا ہے ، کیا وہ رشتہ لگانے کے بعد پیسہ لے سکتا ہے؟

جواب: جس بندہ نے رشتہ طے کرانے کوشش کی ہے اور وہ اپنی محنت کا بدلہ مانگے تو دیا جاسکتا ہے مگر اس کام کے لئے ضروری ہے کہ اس کی محنت کا بدلہ پہلے سے متعین ہو، شروع میں ہی طے کرلے۔ایسے شخص کو عربی میں دلال کہتے ہیں، دلال امین بن کر رشتہ کرائے، اس میں فریب ، جھوٹ اور غیر شرعی کام اور غیراسلامی معاہدات کرانے سے پرہیز کرے۔

سوال: طلاق کے بعد جب عدت گزر جائے اور  پھر سے دوبارہ ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو تو کیا تین طلاق کا اختیار رہتا ہے یا ایک یا دو کا ؟

جواب:اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور عدت گزر گئی تو میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے گی ۔ اب اگر دونوں چاہیں تو نئے نکاح کے ذریعہ پھر سے اکٹھا ہوسکتے ہیں۔ نئے نکاح کرنے کے بعد اسے اتنی ہی طلاق کا اختیار ہے جتنی باقی ہے یعنی اس نے پہلے ایک طلاق دی تھی تو اب دو طلاقیں باقی ہیں اور اگر پہلے دو طلاقیں دی تھی تو اب صرف ایک طلاق باقی ہے۔

سوال: اکثر لوگ آب زمزم پر دم کرنے سے منع کرتے کہ اس میں پہلے ہی سے شفا ہے اس لیے اس پر کسی قسم کا دم کرنا جائز نہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟

جواب:ویسے ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں پہ دم کرنا جائز نہیں ہے جبکہ اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں پہ دم کرسکتے ہیں اور اسے مریض کو پلا سکتے ہیں یا غسل بھی  کراسکتے ہیں۔ بلاشبہ زمزم میں بیماروں کے لئے شفا ہے ، نبی ﷺ فرماتے ہیں:
خيرُ ماءٍ على وجهِ الأرضِ ماءُ زَمزمَ، فيهِ طعامُ الطُّعمِ، وشِفاءُ السُّقمِ(صحيح الترغيب:1161)

ترجمہ:زمین پر سب سے بہتر پانی زمزم ہے جو بھوکے کا کھانا اور بیمار کی شفاء ہے۔

جہاں تک زمزم میں دم کرنے کا مسئلہ ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔ زمزم ویسے بھی بیمار کو پلا سکتے ہیں اور اس پہ دم کرکے بھی پلا سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دم کرنے میں انسانی کلام نہیں پڑھا جاتا بلکہ اللہ کا کلام پڑھ کر دم کیا جاتا ہے پھر زمزم میں اللہ کا کلام پڑھنے میں کون سی چیز مانع ہے۔ کوئی  چیز مانع نہیں ہے اور نہ ہی شریعت میں کہیں پر یہ کہا گیا ہے کہ زمزم پر دم نہیں کرسکتے ۔

سوال: کیا ayra نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب:نام رکھنے کے لئے انٹرنیٹ سے ویب سائٹ کے ذریعہ یا یوٹیوب کے ذریعہ سرچ نہ کیا کریں بلکہ سیرت کی کتاب دیکھیں اور اسلاف  کے جیسا نام رکھیں۔ یہ نام بھی انٹرنیٹ کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوگیا ہے اور بار بار اس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔

اس لفظ کو کوئی آئرہ لکھتا ہے تو کوئی عائرہ لکھتا ہے۔ آئرہ کوئی لفظ نہیں ہے اور عائرہ نام رکھنا درست نہیں ہے کیونکہ اس کا معنی درست نہیں ہے۔ بھینگی یا پریشان کو کہتے ہیں۔

سوال: کیا ایک ہی شخص کو دو یا تین افراد فدیہ دے سکتے ہیں؟

جواب: کئی افراد ایک ہی محتاج شخص کو فدیہ دے سکتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: امام جب دو خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے ہیں تو کیا اس وقت دعا قبول ہوتی ہے اور اسی طرح جمعہ کا خطبہ ہونے کے بعد اقامت ہونے تک بیٹھے رہنا چاہیے یا اقامت سے پہلے ہی اٹھ کر نماز کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں جبکہ کچھ لوگ تو دونوں خطبوں کے درمیانی  وقفہ سے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟

جواب: جمعہ کے دن کی فضیلت میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ اس دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ قبولیت کی وہ گھڑی کون سی ہے اس سلسلے میں ایک قول یہ ہے کہ خطیب کے ممبر پر چڑھنے سے لے کر نماز ختم ہونے تک ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ عصر کے بعد سے لے کر مغرب تک ہے۔ان دونوں وقتوں میں ہمیں دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔دو خطبہ کے دوران کا وقفہ بھی قبولیت کے وقت میں سے ہے اس لیے اس وقت بھی دعا کر سکتے ہیں۔

جہاں تک نماز جمعہ کے لیے کھڑے ہونے کا مسئلہ ہے تو پہلے خطبے کے بعد ہی کھڑے ہو جانا بالکل درست نہیں ہے کیونکہ ابھی دوسرا خطبہ باقی ہوتا ہے۔دوسرا خطبہ ختم ہونے کے بعد کھڑے ہونے میں حرج نہیں ہے کیونکہ جمعہ کے دن بہت سارے لوگ ہوتے ہیں، صفوں کو ترتیب دینے میں کافی وقت لگتا ہے اور اگر کوئی اقامت ہونے تک بیٹھا رہتا ہے تو اس میں بھی حرج نہیں تاہم بہتر ہے کہ خطبہ ختم ہوتے ہی صفوں کی ترتیب کے لیے کھڑا ہو جایا جائے۔

سوال: میقات سے عمرہ کا احرام باندھ کرنکل جایا جائے، اس کے بعدراستے میں  حیض  شروع ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے اور اگر عورت ، میقات پہ حیض کی حالت میں ہی ہو تو میقات پر احرام باندھنا ہوگا یا مسجد عائشہ سے احرام باندھنا ہے؟

جواب: جو عورت میقات سے پاکی کی حالت میں احرام باندھ لے پھر آگے چل کر کچھ دیر بعد حیض آنے لگے تو عورت کو پاک ہونے تک انتظار کرنا ہے۔ جب پاک ہو جائے تو اپنی رہائش سے ہی غسل کرکے مسجد حرام جاکر عمرہ کرنا ہے۔ اسی طرح عورت اگر میقات پر حیض کی حالت میں ہو تو اسی حالت میں احرام باندھ لے گی اور پاک ہونے تک احرام میں باقی رہے گی۔ جب پاک ہو جائے پھر غسل کر کے مسجد حرام جا کر عمرہ کرے۔

احرام باندھ کر مکہ آنے والی حائضہ عورت کو یاد رہےکہ حیض سے پاک ہونے پر اسے غسل کرنے کے لئے میقات پہ یا مسجد عائشہ نہیں جانا ہے بلکہ اپنی رہائش پہ غسل کرلینا ہے اور وہ پہلے سے احرام میں ہےاس لئے دوبارہ احرام باندھنے کی بھی  ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے احرام میں ممنوعات احرام سے بچتے رہنا ہے۔

سوال: کیا زکوۃ کے پیسے ایسی خاتون کو دے سکتے ہیں جو بیوہ ہو اور اس کے بھائی موجود  ہوں لیکن اس کی  مدد نہ کرتے ہوں تو ایسی خاتون کو زکوۃ کے پیسے دے سکتے ہیں ۔ اسی طرح دوسرا سوال یہ  ہےکہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی زکوۃ طلب کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارا گزرا  بہت مشکل سے ہورہا ہے اور وہ ملازمت پیشہ بھی ہو تو ان کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب: بیوہ عورت جس کی کفالت اور مدد کرنے والا کوئی نہ ہو تو ایسی عورت کو زکوۃ دے سکتے ہیں۔ دراصل ایسے ہی لوگ زکوۃ کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔اور وہ لوگ جو ملازمت کرتے ہیں پھر بھی لوگوں سے پیسے مانگتے ہیں ایسے لوگوں کو زکوۃ نہیں دینا چاہیے۔ ممکن ہے کہ کبھی ایسے لوگوں کے لیے ایسی ضرورت درپیش ہو جائے جس کے لیے اس کے پاس انتظام نہ ہو جیسے ناگہانی بیماری یا آفت یا کوئی حادثہ وغیرہ، ایسی خاص ضرورت کے پیش نظر مدد کی جاسکتی ہے ورنہ عمومی طور پر ملازمت کرنے والوں کی زکوۃ سے مدد نہیں کرنی چاہیے۔زکوۃ دینے کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : طاقت والے اور کماکر کھاسکنے والے کے لئے زکوۃ نہیں ہے۔

سوال: بڑی بہن کو دیدی کہا جاتا ہے، یہ لفظ زیادہ تر ہندو استعمال کرتے ہیں تو کیا ہم  بھی دیدی کہہ کر پکار سکتے ہیں؟

جواب: بڑی بہن کو دیدی کہنے میں شرعا کوئی مسئلہ نہیں ہے اگرچہ ہندو بھی اس لفظ کا استعمال کرتا ہو کیونکہ یہاں پر عبادت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ نام ایک تعارف کی حیثیت سے ہوتا ہے اور نام میں معنوی حیثیت سے کوئی خرابی نہ ہو مثلا شرکیہ نام نہ ہو یا اس میں اور کوئی معنوی خرابی نہ ہو تو کوئی اس میں حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال: انسان کے فوت ہونے کے بعدکیا گھر کی چیزوں کو بھی تقسیم کرنا لازم ہوتا ہے جیسے بیڈ اور صوفے وغیرہ  اور میت کی ایک ماں ،ایک بیٹا ،ایک بیٹی اور ایک بیوی ہے تو کیا گھر کے سامان میں ماں بھی وارث ہو گی؟

جواب: میت کی چھوڑی ہوئی جتنی چیزیں ہیں وہ ساری چیزیں ترکہ میں شامل ہیں اور ان میں تمام وارثوں کا حق ہوتا ہے خواہ زمین، مکان، روپیہ پیسہ یا استعمال کی چیزیں ہی کیوں نہ ہوں۔میت کے وارثوں میں اس کی ماں بھی وارث ہوتی ہے۔

استعمال کی چیزیں جیسے لباس، بستر، بیڈ اور صوفہ وغیرہ کی تقسیم کے لیے ورثاء جس پر راضی ہوں اس پر عمل کرنا چاہیے یعنی اگر ورثاء آپس میں انہیں تقسیم کرنا چاہیں تو آپس میں تقسیم کر لیں یا اگر یہ سامان میت کے نام سے فقراء و مساکین میں صدقہ کرنا چاہیں تو صدقہ کر دیں۔
بہر کیف! ورثاء جس بات پر راضی ہوں، اس اعتبار سے ان چیزوں کی تقسیم کی جائے۔

سوال: کیا ارحم نام رکھ سکتے ہیں ؟

جواب: یہ لفظ مذکر ہے، اس لیے لڑکے کا نام ارحم رکھ سکتے ہیں۔ یہ اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے زیادہ رحم دل۔

اللہ کے لیے بھی ارحم کا لفظ قرآن میں استعمال ہوا ہے لیکن تنہا ارحم کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ ارحم الراحمین آیا ہوا ہے لہذا بندوں کے لیے صرف ارحم کا لفظ استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے جیسے افضل یا اکرم نام رکھتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے حدیث میں "ارحم امتی" کا لفظ آیا ہوا ہے۔

 سوال: کبھی کبھی نزدیکی سفر میں جیسے مغرب کی نماز کا وقت کم ہوتا ہے اور کسی  مسجد میں عورتوں کے لیے مسجد کا دروازہ بند ہوتا ہے تو میں  کار کو قبلہ رخ لگا کر کار میں ہی بیٹھ کر فرض نماز پڑھ لیتی ہوں تو کیا ایسا کرنا غلط ہے؟

جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر صرف نوافل ادا کرتے تھے اور فرض نماز زمین پر ادا کرتے تھے۔ سواری پر نماز کو اپنی اصل صورت میں پڑھنا ممکن نہیں ہوتا ہے، خصوصا چلتی سواری پر۔اس لیے فرض نماز کو سواری سے اتر کر ادا کرنا چاہیے لیکن اگر سفر طویل ہو اور گاڑی سے اترنا ممکن نہ ہو  توایسی صورت میں مجبوری کے وقت گاڑی میں نماز ادا کریں گےجیسے جہازاور ٹرین وغیرہ میں لمبی مسافت طے کرتے وقت۔

آپ نے جو صورت ذکر کی ہے کہ مغرب و عشاء کے درمیان وقت کم ہوتا ہے اور کبھی گھر سے باہر ہوتے ہیں اور عورتوں کے لئےمسجد کا دروازہ بند ہوتا ہے ایسے میں اپنی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔یہ عمل درست نہیں ہے، اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی قدرت رکھتے ہیں اس لئے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھیں گے، دوسرا یہ کہ سواری رکی ہوئی ہے، اس سے اترنا ممکن ہے اس لئے بھی سواری میں بیٹھ کر نماز نہیں پڑھیں گے۔اس کا حل یہ ہے کہ گاڑی سے اتر کر کسی بھی مناسب  جگہ حتی کہ گاڑی کے پاس ہی نماز ادا کرسکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے پوری سر زمین کو ہمارے لئے مسجد بنا دیا ہے۔ساتھ میں کوئی محرم ضرور ہوگا وہ پاس کھڑے ہو جائیں گے اور کسی محفوظ جگہ پر نماز ادا کر لیں گے۔ جب گاڑی سے اتر کر زمین پر نماز پڑھنے کی استطاعت نہ ہو اور نماز کا وقت نکل جانے کا خطرہ ہو پھر ایسی صورت میں گاڑی میں بیٹھے ہوئے قبلہ رخ نماز ادا کرسکتے ہیں۔

سوال: حیض سے پاکی کے غسل میں عورت کو خوشبو استعمال کرنی ہوتی ہے مگر جو عورت احرام میں ہو اور حیض سے پاکی حاصل ہوتوحالت احرام میں پاکی کے غسل میں خوشبو استعمال کر سکتی ہے یا بغیر خوشبو والا صابن استعمال کرنے سےبھی  غسل ہو جائے گا؟

جواب: جو عورت بحالت حیض  احرام میں ہے ،وہ  احرام کی حالت میں ہوتے ہوئے احرام کی تمام پابندیوں کا خیال کرے گی یعنی خوشبو کا استعمال نہیں کرے گی حتی کہ ہاتھ دھونے کے لیے یا غسل کرنے کے لیے بھی صابن اور ایسے شیمپو کا استعمال نہیں کرے گی جس میں خوشبو ہو یا غسل کرنے کے بعد بھی خوشبو کا استعمال نہیں کرے گی۔ وہ سادہ پانی سے اچھی طرح غسل کرے گی،اس سے  غسل ہو جائے گا۔ اور اگر سادہ صابن جس میں خوشبو نہ ہو اس کا استعمال کرے تو اس میں بھی  کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال: ایک نماز کا وقت کب تک رہتا ہے، کیا  دوسری نماز کے وقت تک رہتا ہے اور نماز کب قضا کہلائے گی؟

جواب:تین نمازوں (ظہر، عصر اور مغرب) میں ہر نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب سے اگلی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔ اس دوران نماز پڑھنا، ادا نماز ہوگی اور اگلی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد نماز پڑھنا قضا کہلائے گی۔

اور نماز فجر کا آخری وقت سورج طلوع ہونے وقت تک ہے، اس کے بعد ادا کرنا قضا کہلائے گی اور عشاء کی نماز کا آخری وقت آدھی رات تک ہے، اس کے بعد ادا کرنا قضا کہلائے گی۔


0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔