Monday, January 5, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات (89)


(89) آپ کے سوالات اور ان کے جوابات 

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر-سعودی عرب


سوال: اگر اسکول سے واٹرپارک پکنک پر لے جایا جارہا ہے تو وہاں جاسکتے ہیں جبکہ وہاں پر صرف لڑکیوں کو لےجارہا ہے اور اسکول کی بچیاں ہی الاؤڈ ہیں تو کیا اس حال میں لڑکیوں کا وہاں نہانا صحیح ہے؟

جواب:اسکول کی بچیوں کو واٹرپارک میں لے جانا اور بچیوں کا وہاں پر نہانا اور تیرنا درست نہیں ہے ۔ گوکہ بچیوں کے ساتھ اسکول کی طرف سے لڑکے نہیں ہوں گے مگر وہ جگہ تو پارک والی ہے، دوسرے مرد لوگ بھی وہاں ہوں گے۔ وہاں پر اختلاط ہوگا اور ایسی جگہ بچیوں کے نہانے سے بے پردگی ہوگی بطور خاص بڑی بچیوں کے لئے کیونکہ ان میں کتنی بالغہ لڑکیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اسکول کی استانیاں اور خادمائیں الگ ہوں گی۔

یہاں یہ مسئلہ بھی ہے کہ یہ پارک قریب میں ہے یا دور، سفر کی مسافت کے بقدر ہے جبکہ لڑکیوں اور عورتوں کو بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ بچیوں کا مسئلہ حساس اور نازک ہے، ان کو پارکوں میں لے جانا، پبلک پیلیس پہ پکنک کے لئے لے جانا یا واٹرپارک میں نہانے کے لئے لے جانا بالکل درست نہیں ہے۔ آپ اسکول والوں کو اس کام سے روک سکتے ہیں تو روکیں یا کم ازکم اپنی بچیوں کو اس سے دور رکھیں۔

سوال: چار رکعت والی سنت دو دو کرکے پڑھنا زیادہ افضل ہے یا ایک ساتھ چار رکعت پڑھنا؟

جواب:ظہر کی فرض نماز سے ماقبل چار رکعت سنت ہے، اس سنت کو دو دو رکعت کرکے پڑھنا افضل ہے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : دن اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔
کوئی ایک سلام سے چار رکعت پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے مگر افضل و بہتر دو دو رکعت کرکے پڑھنا ہے۔

سوال: جب لڑکی کی شادی ہونے لگتی ہے تو اس سے دو تین دن قبل گھر کی عورتیں جمع ہوکر لڑکی کو دلہن بناتے ہیں، خوشی مناتے ہیں۔ مطلب اسے ہلدی لگاتے ہیں اور وہاں پر کوئی غیرمحرم نہیں ہوتا، صرف عورتیں ہی ہوتی ہیں تو کیا اس طرح عورتوں کا جمع ہوکر ہلدی لگانا جائز ہے؟

جواب: شادی کے موقع پر نکاح سے قبل لڑکی کو ہلدی لگانے میں حرج نہیں ہے، اگر اس کے لگانے میں کوئی فائدہ ہو مثلا اس سے خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہو۔ اور اگر اس میں بظاہر کوئی فائدہ نہ ہو، یونہی دیکھا دیکھی اور رسمی طور پر اسے نبھایا جاتا ہے تو اس سے فضول کام سے پرہیز کرنا چاہئے۔

بہت ساری جگہوں پر ہلدی لگانے کے نام پر کافی غیرشرعی اعمال انجام دئے جاتے ہیں جیسے عورتوں کا رقص وسرود، ناچ گانے، بے ہودہ ہنسی مذاق، گندے اشعار اور موسیقی کا پایا جانا وغیرہ، کہیں کہیں اس محفل میں لڑکے بھی شریک ہوتے ہیں، وہ بھی دلہن کو ہلدی لگاتے ہیں بلکہ دیگر لڑکیوں سے بھی بے ہودہ مذاق کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ایک بری رسم "رسم ہلدی" ہے جس میں گھر کی ساری عورتیں اور رشتہ دار پیلے کپڑے پہنتے ہیں اور ناچتے گاتے اور مستیاں کرتے ہیں۔ ان عملوں کی شریعت میں گنجائش نہیں ہے۔

سادگی کے ساتھ اور غیرشرعی حرکتوں سے بچتے ہوئے صرف عورتیں جمع ہوکر دلہن کو ہلدی لگادے اور اس کے لگانے میں کوئی فائدہ بھی ہو تو اس میں حرج نہیں ہے۔

سوال:کیا کوئی اپنی آئندہ دو سال کی زکاۃ کسی بہت ضرورت مند کو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتا ہے؟

جواب:زکوۃ الگ چیز ہے، قرض الگ چیز ہے۔ جو کوئی ضرورت مند کو قرض حسنہ کے طور پر ایک سال، دو سال کے لئے تعاون کرنا چاہتا ہے وہ قرض حسنہ دے گا، قرض میں زکوۃ کا پیسہ نہیں دے گا یعنی زکوۃ، قرض حسنہ دے کر واپس لینے والی چیز نہیں ہے۔ زکوۃ دینے کے بعد واپس نہیں لینا ہے۔

جس کا تعاون کیا جارہا ہے اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے تو ضرورت و مصلحت کے تئیں پیشگی ایک سال یا دو سال کی زکوۃ نکال کر اس ضرورت مند کو دے سکتے ہیں مگر زکوۃ کو قرض نہیں ماننا ہے اور نہ واپس لینا ہے۔

سوال:کیا تکبیر تحریمہ کے بعد نماز میں ہی کسی اور نماز کی نیت کر سکتے مثلا اگر کوئی فجر کی سنت کی نیت سے تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھوں کو باندھ لے پھر اسے نماز میں ہی فوراَیاد آجائے کہ اس نے وتر نہیں پڑھی ہے تو کیا وہ اس میں وتر کی نیت سے، پہلے نماز مکمل کر سکتا ہے؟

جواب: اصل یہ ہے کہ نماز کے شروع میں جس نماز کی نیت کی جائے گی، اسی نیت کے ساتھ اس نماز کو مکمل کرنا ہے یعنی نماز کے دوران نماز کی نیت نہیں بدلنا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ فجر کا وقت ختم ہونے کے بعد وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے، اب وتر کی نماز نہیں ادا کی جائے گی۔ اذان فجر کے بعد صرف فجر کی سنت اور فرض نماز ادا کرنا ہے۔
سورج نکلنے کے بعد دن میں اگر وتر کی قضا کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں اس میں حرج نہیں ہے لیکن وتر کی قضا کرتے ہوئے جفت رکعت ادا کرنا ہے مثلا رات میں ایک رکعت وتر پڑھتے تھے تو دن میں دو رکعت پڑھیں گے اور اگر تین رکعت وتر پڑھتے تھے تو قضا کرتے وقت دو دو رکعت کرکے چار رکعت پڑھیں گے۔

سوال: ناول لکھنے کی ایک جاب ہے جس میں کچھ صفحات لکھنے پڑتے ہیں جیسے نوے سو صفحات اور اس کے لکھنے پر تقریبا دس پندرہ ہزار روپئے ملتے ہیں۔ کیا یہ روپئے حلال ہیں جبکہ لکھنے میں آدمی کو محنت بھی لگتی ہے؟

جواب:ناول لکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ ناول عشق و محبت کی داستان ہوتی ہے نیز اس میں جھوٹی کہانی بیان کی جاتی ہے اس وجہ سے شرعی اعتبار سے ناول لکھنا جائز نہیں ہے۔جو کام جائز نہیں ہے اس کام کو کرکے اس کی کمائی حاصل کرنا بھی جائز نہیں ہے لہذا ناول کی کمائی ناجائز ہے۔

سوال: مہینے میں کسی بھی سوموار یا جمعرات کو تین روزہ رکھ کر ایام بیض کے روزے پورا کر کر سکتے ہیں یا ضروری ہے کہ 13/14/15 کو رکھا جائے؟

جواب:ایام بیض کے روزوں کے لیے یہی اصل صورت ہے کہ ہر ماہ قمری تاریخ کے اعتبار سے تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو ایام بیض کا روزہ رکھا جائے۔

جب کبھی کسی ماہ ان مذکورہ تاریخ میں روزہ رکھنے کے لیے کوئی رکاوٹ اور مانع آجائے تو ایسی صورت میں ایام بیض کے روزے کو آگے یا پیچھے کر سکتے ہیں یعنی شروع ماہ میں بھی رکھ سکتے ہیں یا آخر ماہ میں رکھ سکتے ہیں تاہم بغیر عذر کے وسط مہینے کو چھوڑ کر دیگر ایام میں ایام بیض کا روزہ رکھنا مناسب نہیں ہے۔

سوال:استخارہ کی نماز سے متعلق چند اکٹھے سوالات ہیں۔ کیا استخارہ کی نیت سنت نماز کے ساتھ جمع کی جا سکتی ہے اور کیا روزانہ استخارہ کے لیے دو رکعت پڑھ سکتے ہیں یا کبھی کبھی مخصوص صورتحال کے لیے پڑھنا چاہئے۔ کیا استخارہ کی دعا فرض نماز کے سجدے میں باقی دعاؤں کی طرح پڑھی جا سکتی ہے یا بالکل علاحدہ سے دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے ہی پڑھنا ضروری ہے؟

جواب:استخارہ کو ایک جملہ میں بیان کرتا ہوں اس سے استخارہ کو سمجھ سکتے ہیں، اس کے برخلاف عمل استخارہ میں داخل نہیں ہے۔

جب کبھی کسی کو کوئی اہم معاملہ پیش آئے تو اس معاملہ کے واسطے دن یا رات میں کسی بھی وقت دو رکعت نماز ادا کرے، اس میں صرف استخارہ کی نیت کریں گے اور کسی نماز کی نہیں اور نماز کے بعد استخارہ کی دعا کرے پھر اپنے معاملہ سے متعلق مشورہ کے قابل خیر خواہ لوگوں سے مشورہ طلب کرے۔ استخارہ کی یہ حقیقت ہے اور اس کے علاوہ جو باتیں سوال میں لکھی گئی ہیں ان سب کا استخارہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نہ دوسری نماز کے ساتھ استخارہ کی نیت کریں گے، نہ ہی روزانہ بلاضرورت استخارہ کریں گے اور نہ ہی صرف استخارہ کے لیے دعا پڑھیں گے اور نہ ہی استخارہ کا مطلب سجدہ میں دعا پڑھنا ہے۔

سوال: ایک خاتون کے ساتھ سحر وآسیب ہے، اس پر ایک متقی آدمی روزانہ رقیہ شرعیہ کرتے آرہے ہیں مگر فائدہ نہیں ہورہا ہے؟

جواب:رقیہ شرعیہ کے لئے تین شرطیں ہیں۔

(1)قرآن کریم، مسنون اذکار اور مسنون دعاؤں کے ذریعہ یہی رقیہ کرنا ہے۔

(2)رقیہ صرف عربی زبان میں کرنا ہے۔

(3)رقیہ کو محض ایک ذریعہ ماننا ہے اور یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ چاہے تو اس کے ذریعہ فائدہ ہوگا اور اللہ نہ چاہے تو فائدہ نہیں ہوگا اس اعتقاد کے ساتھ رقیہ کرنا ہے۔

رقیہ کے ذریعہ فائدہ ہی ہو جائے یہ کوئی ضروری نہیں ہے، اللہ جب چاہے گا فائدہ پہنچے گا اور اس کی مرضی نہیں ہوگی تو فائدہ نہیں پہنچے گا۔

یہ ہے رقیہ شرعیہ کی حقیقت، خواہ رقیہ کرنے والا کتنا بڑا متقی ہی کیوں نہ ہو۔ جس کو سحرو آسیب ہے اس پر صبح و شام مسلسل رقیہ کرتے رہیں، نیز جب وہ ٹھیک رہے تو نماز، تلاوت، دعا اور اذکار کا اہتمام کیا کرے۔

سوال: جو لوگ تہجد پڑھتے ہیں وہ اکثر شروع رات میں وتر نہیں پڑھتے.اگر کبھی ان کی تہجد چھوٹ جائے تو پھر وہ وتر کو قضا کے طور پر پڑھے یا قضا میں صرف فرض ہی پڑھنا ہے؟

جواب:عشاء کے بعد سے فجر سے پہلے تک وتر کا وقت ہے، اس دوران کوئی وتر نہ پڑھ سکے تو فجر کی اذان کے بعد وتر نہیں پڑھنا ہے بلکہ دن میں سورج نکلنے کے بعد اس کی قضا کرسکتے ہیں۔ اور فرض کی قضا سے مراد عشاء یا فجر کی نماز ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو نماز قضا ہو گئی ہے اس کو سنت سمیت ادا کریں اور وتر بھی قضا کرنا چاہتے ہیں تو دن میں وتر بھی قضا کر سکتے ہیں۔

سوال: کافی عرصہ سے واٹس ایپ گروپس میں سنت پر عمل اور اذکار پڑھنے کے لیے ووٹ دینے کا طریقہ شیئر کیا جاتا ہے کہ آج کس کس نے سنت پر عمل کیا یا اذکار پڑھ لئے ہیں، منتخب کریں۔ کیا اس طرح سنت پر عمل یا اذکار پڑھنے کے لیے گروپ ممبرز سے ووٹ لینے کا طریقہ درست ہے؟

جواب:اس طرح کا کام کرنا درست نہیں ہے، ویسے بھی خود سے اپنی عبادات بیان کرنا ریا ونمود میں داخل ہوسکتا ہے اس لئے اس عمل سے پرہیز کیا جائے۔ تلاوت کے لئے بھی عموماً خواتین اس طرح کرتی ہیں۔

ایسی خواتین کو فرائض سے کوئی سروکار اور مطلب نہیں ہے حتی کہ حقوق العباد کے معاملے میں کتنے سارے مسائل ہوں گے مگر ان کو صرف نفلی اور مسنون چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

گروپ میں شرعی اذکار، قرآن کی تفسیر اور کتاب و سنت سے متعلق مسائل و احکام شیئر کرنا چاہیے۔ روزانہ ممبروں سے عمل کے متعلق ووٹنگ کرانا درست نہیں ہے۔

سوال: بیوی کو کہیں آنے جانے سے پہلے شوہر سے اجازت چاہئے ، یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے اس کی تفصیل چاہئے کہ کبھی عورت اپنے والدین کے گھر رہنے گئی تو وہاں سے والدین کے ساتھ بازار جائے تب بھی شوہر سے اجازت لے۔ سوال یہ ہے کہ کتنی بار شوہر سے اجازت لے مثلا اسے کال کرے اور اس سے اجازت لے اور کیا بار بار اجازت لینی ہے؟

جواب:جب عورت شوہر کے گھر رہے تو وہاں سے کہیں جانے کے لئے اپنے شوہر سے اجازت لے کر جایا کرے لیکن جب شوہر کی اجازت سے اپنے میکے جائے تو پھر میکے میں ہوتے ہوئے اپنے محرم کو بتاکر جائے کہ وہ کہاں جا رہی ہے یا محرم کے ساتھ جائے یعنی میکے میں رہتے ہوئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے والدین کے گھر ہے اور والدین بھی عورت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

اگر بیوی کو یہ محسوس ہوتا ہو کہ کوئی ایسی جگہ جہاں پر جانے سے شوہر ناراض ہوگا یا کسی جگہ جانے سے شوہر نے پہلے سے منع کر رکھا ہو تو پھر ایسی جگہوں پر جانے سے پہلے شوہر کی اجازت طلب کرلے۔

مختلف طبیعت کے مرد ہوا کرتے ہیں اور بیوی اپنے شوہر کی طبیعت کو بہتر جانتی ہے، اگر کوئی ایسا شوہر ہے جو اپنی بیوی کو اپنی اجازت کے بغیر کہیں جانے سے روکتا ہو تو بیوی میکہ جانے سے قبل اپنے لیے ان ان جگہوں کی اکٹھی اجازت لے لے جہاں جہاں جانے کی اسے ضرورت ہو اور جہاں جانے سے منع کرے وہاں پر نہ جائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ شادی کے بعد بیوی کا اصل ذمہ دار اس کا شوہر ہوتا ہے لہذا اس کی مرضی اور اس کی چاہت کا خیال کرتے ہوئے کہیں آمد و رفت کرے۔

سوال: رمضان میں جو روزے چھوٹ جاتے ہیں، کیا ان کا فدیہ دے سکتی ہوں یا روزے رکھنا ضروری ہے اور اگر فدیہ دے دیا ہو تو روزے رکھ سکتی ہوں؟

جواب:رمضان کا روزہ جس آدمی سے چھوٹا ہوا ہے اگر وہ آدمی خود سے روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو اسے لازما اپنے چھوٹے ہوئے روزہ کی قضا کرنا پڑے گا، فدیہ دینے سے اس کی بھرپائی نہیں ہوگی اور اگر فدیہ دے دیا ہو تب بھی پھر سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنا پڑے گا۔

اور اگر وہ آدمی دائمی مریض ہے یا ایسا ضعیف اور کمزور آدمی ہے جس کو روزہ روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کا فدیہ دینا کافی ہوگا۔

سوال: کمرے میں اٹیچ باتھ روم ہو تو کیا اس کمرے میں نماز ہو جاتی ہے؟

جواب:نماز پڑھنے کے لیے تین چیزوں کا پاک ہونا ضروری ہے۔ ایک چیز زمین دوسری چیز جسم اور تیسری چیز کپڑا۔ یہ تین چیزیں پاک ہیں تو آدمی جہاں چاہے اس جگہ نماز پڑھ سکتا ہے۔

ایسا گھر جس کے ساتھ باتھ روم اٹیچ ہو ایسے گھر میں آدمی نماز پڑھ سکتا ہے کیونکہ باتھ روم کی جگہ الگ ہے اور گھر کا حصہ الگ ہے۔

سوال: علیہ السلام نبیوں اور فرشتوں کے نام کے آگے لگتا ہے، یہ ان کے لیے خاص ہے تو امام مہدی کو مہدی علیہ السلام کیسے بول سکتے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں؟

جواب:علیہ السلام ایک قسم کی دعا ہے جو اللہ کے مقرب بندوں کے لیے دی جاتی ہے اور عام طور سے اس کا استعمال انبیاء اور فرشتوں کے لیے کرتے ہیں مگر یہ انہی دونوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اور جیساکہ بتایا گیا کہ یہ دعائیہ کلمات ہیں، ان کا استعمال دیگر صالحین کے لیے بھی ہوسکتا ہے اس وجہ سے لقمان علیہ السلام یا خضر علیہ السلام یا مہدی علیہ السلام کہنے میں حرج نہیں ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے اور صالحین کو علیہ السلام کہنے میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

سوال: کیا فرض نماز کے بعد کے اذکار وغیرہ کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا بدعت ہے؟

جواب:فرض نماز کے بعد دعا کرنا، دعا کے افضل اوقات میں سے ہے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا دعا کے آداب میں سے ہے لہذا فرض نماز کے بعد انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ویسے بغیر ہاتھ اٹھائے بھی دعا مانگی جاسکتی ہے تاہم ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ کوئی بدعت نہیں ہے۔

ہمارے معاشرے میں فرض نماز کے بعد اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر جو دعا مانگی جاتی ہے اس کا ثبوت نہیں ہے لہذا اس عمل سے پرہیز کیا جائے گا۔

سوال: نماز کے بعد کے اذکار پڑھ کر اپنے ہاتھوں کو دم کرکے چہرے پر پھیر سکتے ہیں؟

جواب:نماز کے بعد کے اذکار کا تعلق نماز سے ہے یعنی ہم یہاں پر رقیہ کی نیت سے اذکار نہیں پڑھتے ہیں بلکہ نماز کی تکمیل کے لیے اذکار پڑھتے ہیں لہذا ان اذکار کو پڑھنے کے بعد ہاتھوں پہ پھونک کر اپنے جسم پر نہیں ملیں گے۔ اسی طرح صبح و شام کے اذکار پڑھ کر بھی اپنے ہاتھوں پر پھونک کر اپنے جسم پر نہیں ملیں گے کیونکہ یہاں پر ہم بحیثیت اذکار، اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔

جب رقیہ کی نیت سے قرآن یا اذکار پڑھیں، اس وقت اپنے ہاتھوں پر پھونک کر چہرے پر ہاتھ ملنا چاہیے۔

سوال: ایک خاتون کو کان میں درد سے بہت تکلیف رہتی تھی، علاج جاری تھا پھر بھی تکلیف کم نہ ہونے کی بناء پر ڈاکٹر نے کان کا آپریشن کرنے کو کہا۔ آپریشن کے بعد الحمد للہ تکلیف کم ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر نے اس خاتون کو سر سے نہانے کے لیے سختی سے منع کیا ہے پھر حیض کی حالت میں کیا کرے گی جبکہ خاتون کو پاکی حاصل کرنے کے لیے سر سے نہانا ضروری ہے؟

جواب:غسل طہارت میں بلاشبہ سر، بال، چہرہ، ہاتھ و پیر اور پورا جسم دھلنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب کبھی کوئی اضطراری صورت درپیش ہو تو استطاعت کے مطابق عمل کریں گے۔

جس خاتون کو کان کے آپریشن کی وجہ سے سر کے ساتھ نہانے سے ڈاکٹر نے منع کیا ہے، وہ خاتون غسل حیض کے وقت اپنے سر کو کپڑے یا پلاسٹک سے ڈھک لے اور سر کے نیچے والے حصے کو مکمل طور پر دھلے۔ نیز اپنے گیلے ہاتھ کو سر اور چہرے وغیرہ پر پھیر لے یعنی دھلنا منع ہے تو دھلنے سے رک جائے البتہ گیلے ہاتھ سر کے حصے پر مطلب پٹی کے اوپر سے پھیر لے، اس طرح کرنے سے اس کا غسل ہو جائے گا۔

پھر جب عذر ختم ہوجائے اس وقت سر کے ساتھ غسل کرے۔

سوال: میرے گھر کی کھڑکی دن میں جب کھلی ہوتی ہے تو ایک عَلَم (ستون) سیدھا نظر آتا ہے اور کعبہ کا رخ بھی یہی ہے۔ اگر ہم نماز پڑھیں تو کوئی حرج تو نہیں جبکہ ہماری نیت تو رخ کعبہ ہی ہے لیکن اپنی اصلاح کے لیے پوچھنا چاہتی ہوں؟

جواب:نماز کے لیے کعبہ کی طرف رخ ہونا کافی ہے اور اس درمیان کوئی ستون آئے یا کوئی دوسری چیز آجائے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ ہمیں قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہذا نماز میں قبلہ کی طرف اپنا چہرہ کرنا ہی ہمارے لیے کافی ہے۔

دنیا میں جہاں کہیں سے بھی لوگ نماز پڑھتے وقت قبلہ رو ہوتے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگوں کے سامنے کوئی مندر، گردوارہ، مزار، قبرستان اور نہ جانے کیا کیا چیز آجاتی ہوگی خواہ وہ نظر آئے یا نظر نہ آئے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

سوال: کیا اولاد اپنے مرحوم مشرک والدین کے لئے دعائے مغفرت کر سکتی ہے؟

جواب:اگر مشرکین سے مراد بریلوی ہے تو اس سلسلے میں پہلے یہ نصیحت کروں گا کہ آپ انہیں مشرکین کے لفظ کے ساتھ خطاب نہ کریں بلکہ بریلوی کہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ بریلوی بھی من جملہ مسلمانوں میں سے ہے یعنی وہ بھی کلمہ پڑھنے والے ہیں، گوکہ ظاہری طور پر شرکیہ اعمال کرتے ہیں مگر مطلق طور پر اس جماعت کو مشرک کہنا درست نہیں ہے، اس مسئلہ میں اہل علم نے تفصیل بیان کی ہے۔

ایسے لوگوں کے لئے مرنے کے بعد دعائے مغفرت کی جاسکتی ہے۔

اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور شرک میں واقع ہیں ایسے لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی جائے گی۔ اللہ رب العالمین نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنے مشرک باپ کی مغفرت کے لیے دعا کرنے سے منع فرمادیا۔

سوال: کیا ایک عورت سسر کے ساتھ رہ سکتی ہے، اس کے شوہر بیرون ملک جا رہے ہیں۔ گھر میں اور کوئی عورت نہیں ہے اور سسر کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ کیا اس خاتون کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ، سسر کے ساتھ ایک گھر میں رہے، بچے چھوٹے ہیں، بڑی بچی چھ سال کی ہے اور سسر اچھے انسان ہیں؟

جواب:عورت کے لیے اس کا سسر محارم میں سے ہے اس وجہ سے عورت ایک فلائٹ میں یا ایک مکان میں بچوں سمیت اپنے سسر کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس وقت زمانہ کافی پرفتن ہے اس وجہ سے جس حد تک احتیاط کے ساتھ رہے، زیادہ بہتر ہے۔

احتیاطی طور پر یہ بات ذہن میں رہے کہ سسر الگ کمرے میں رہے اور بہو الگ کمرے میں، دونوں کا ایک دوسرے کے کمرے میں آنا جانا نہ رہے تو بہتر ہے اور اسی طرح کام کاج یا کھانا پیش کرنے کے لئے بچے کو آگے بڑھائے یعنی بچوں سے اپنے سسر کی خدمت کروائے۔ یہ بات اس لئے کہی جا رہی ہے کہ سسر اور بہو کے بے شمار غیر اخلاقی واقعات سامنے آرہے ہیں۔

سوال: سردی میں سوٹ کے نیچے جو انر اکثر بڑی بچیاں پہنتی ہیں، اس پر کوئی تصویر ہو تو نماز ہوجائے گی؟

جواب:اگر کسی کپڑے میں جاندار کی تصویر ہو اور اسے پہن کر نماز پڑھ لی جائے تو نماز اپنی جگہ درست ہے یعنی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ایک مسلمان کو ایسا کپڑا کبھی بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے جس پر جاندار کی تصویر بنی ہوئی ہو۔ اگر جاندار کے علاوہ غیرجاندار کی تصویر ہو مثلا زمین، آسمان، درخت، پہاڑ وغیرہ کی تو ایسی تصویر میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم اس بات کا مزید خیال رہے کہ نماز میں نقش و نگار اور بیل بوٹے والے کپڑے پہننا یا ایسی جائے نماز پر نماز پڑھنا یا سامنے اس طرح کی چیزوں کا ہونا درست نہیں ہے اس سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے اور دھیان ادھر ادھر بھٹکتا ہے۔

سوال: صبح وشام کے اذکار پڑھ کر والدین اپنے بچوں پر بھی دم کردیں تو کیا یہ عمل بچوں کے لئے بھی ڈھال ہوگا؟

جواب:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صبح و شام کے اذکار پڑھنے سے جہاں اللہ کا حق ادا ہوتا ہے، وہیں پر ہماری حفاظت بھی ہوتی ہے بلکہ میں اس سلسلے میں لوگوں کو زیادہ ابھارتا ہوں کہ اگر آدمی پنج وقتہ نمازوں کے ساتھ، نمازوں کے بعد کے اذکار، صبح و شام کے اذکار اور سونے جاگنے کے اذکار کا اہتمام کرے تو اس آدمی پر کبھی سحر و آسیب کا اثر نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں میرا ایک مفید بیان بھی ہے جو میرے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔

جہاں تک مسئلہ ہے صبح و شام کے اذکار پڑھ کر بچوں پر دم کرنے کا تو اس کا جواب یہ ہے کہ صبح و شام کے اذکار پڑھ کر نہ اپنے اوپر دم کریں گے، نہ ہی بچوں پر دم کریں گے کیونکہ یہ وقت کے ساتھ خاص اذکار ہیں۔ اگر آپ اپنے اوپر یا بچوں پر دم کرنا چاہیں تو دم کی نیت سے معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں یا چاہیں تو اپنے بچوں پر بھی دم کریں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: اگر کسی پر جادو ہوجائے تو اس کا علاج کیا ہوگا، کیا خود سے علاج کرسکتے ہیں یا کسی اور سے کروانا ہوگا؟

جواب: عام طور سے عورتوں کے اندر سحر و آسیب کا خیالی وسوسہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے یعنی حقیقت میں سحر نہیں ہوتا لیکن کسی جسمانی پریشانی کو یا گھریلو پریشانی کو آسیب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں معاشرے میں موجود لوگوں کا مال بٹورنے والے عاملین جھوٹے آسیب کا نام دے کر مزید عورتوں کو وسوسہ میں مبتلا کرتے ہیں اس وجہ سے ہمیں اس معاملہ کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سحر بھی ایک حقیقت ہے کسی پر اس کا اثر ہو سکتا ہے اور ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سحر کا جائز علاج صرف رقیہ شرعیہ ہے۔ سحر کا علاج سحر سے کرنا یا جو لوگ اپنے قبضے میں جنات اور موکلین رکھتے ہیں ان کے پاس جاکر علاج کرانا کفر ہے۔ ممکن ہے کہ اس طریقہ سے فائدہ ہو جائے مگر کفریہ عمل کرنے کی وجہ سے گناہ ملے گا۔

جس آدمی پر آسیب ہو اور وہ اس حال میں ہو کہ اپنے اوپر رقیہ کر سکتا ہے تو خود سے اپنے اوپر رقیہ کرے اور اگر وہ اس حال میں نہ ہو کہ وہ اپنے اوپر رقیہ کر سکے تو کسی اچھے آدمی سے رقیہ کروا سکتے ہیں۔

سوال: میرا بھائی ہے، اس کی بیٹی اپنے باپ سے ایک کروڑ مانگ رہی ہے، اس کو ضرورت پڑ گئی ہے بھائی میرا اس کو اس شرط پہ دینا چاہ رہا ہے کہ جب بھی میرے بعد وراثت طور تقسیم ہوگی تو تم اس میں سے ایک کروڑ کم کر دو گی یعنی تمہارے حصے میں ایک کروڑ کم آئے گا اور اگر باپ کی زندگی میں بیٹی نہیں رہے تو پھر باپ معاف کر دے گا، ورنہ اگر بیٹی کی زندگی میں باپ نہیں رہے باپ چلا جائے تو پھر وہ وراثت میں سے بیٹی کو ایک کروڑ کم دیں گے اور ایک ہی بیٹی چار بیٹے ہیں۔ دوسرے بھائیوں کو گواہ بنا کے وہ ایک کروڑ اپنی بیٹی کو اس طرح دینا چاہ رہا ہے تو کیا طریقہ صحیح ہے؟

جواب: اگر باپ مالدار ہے اور بیٹی کو خطیر رقم کی ضرورت پڑے تو اپنے باپ سے پیسے مانگ سکتی ہے اور یہ پیسہ مانگنا بطور قرض ہوگا۔ اس کو وراثت کے طور پر لکھوانا درست نہیں ہے کیونکہ وراثت کا تعلق موت سے ہے، نہ کہ زندگی سے اور زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ پہلے باپ وفات پائے یا بیٹی۔

اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر اس مسئلہ کو لے کر اولاد میں نااتفاقی پیدا ہو رہی ہے جبکہ مال باپ کا ہے تو بیٹوں کو اعتراض کرنے کا کسی بھی قسم کا کوئی حق نہیں ہے پھر بھی باپ تمام اولاد کو اتنی رقم ہدیہ کے طور پر دے سکتا ہے پھر کسی کو رقم لوٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

بہر کیف! جس کا مال ہے وہ اپنے مال کا ذمہ دار ہے وہ اپنی مرضی سے اپنی بیٹی کو قرض دے سکتا ہے اور بیٹی اگر باپ کی زندگی میں ہی قرض واپس کر دیتی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وفات کے بعد وراثت میں یہ پیسہ بھی جوڑ کر وراثت تقسیم کی جائے گی اور سب کو اپنا اپنا حق دینے کے بعد بیٹی کو وراثت میں ملے مال سے قرض کی بھرپائی کی جائے گی۔

سوال: کیا میت کے غسل میں ملتانی مٹی استنجاء کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، اکثر جگہ کفن پیک میں رکھی ہوتی ہے؟

جواب: جب پانی موجود ہو اس وقت مٹی کے استعمال کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کو پانی سے غسل دینے کا حکم دیا ہے اور مٹی کے استعمال کرنے کا کبھی حکم نہیں دیا لہذا میت کو پانی اور صابن سے غسل دیا جائے گا۔ مختلف کتب احادیث میں یہ واقعہ موجود ہے کہ ایک صحابی حج کے دوران عرفات میں اپنی سواری سے گر کر وفات پا گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حکم فرمایا: "اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ" یعنی اسے بیری کے پتے اور پانی سے غسل دو۔

اصل میں احناف کے یہاں میت کے غسل میں مٹی سے استنجاء کرانے کا ذکر کیا گیا ہے اس وجہ سے لوگوں نے شاید کفن میں مٹی رکھنا شروع کر دیا ہو جبکہ یہ عمل ثابت ہی نہیں ہے پھر کفن میں مٹی رکھنے کا رواج بنانا غلط ہے۔

سوال: ایک حدیث میں داغنے سے منع کیا گیا ہے لیکن اس دور میں علاج کے طور پر داغا جاتا تھا، پھر کس قسم کے داغنے سے منع کیا گیاہے؟

جواب: جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں سے دم کروانے سے منع فرمایا ہے اسی طرح سے یہاں پر داغ لگانے سے بھی منع کیا ہے کیونکہ یہ کامل توکل اور کامل توحید کے منافی ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم داغ کر علاج نہیں کرسکتے ہیں یا دوسروں سے دم نہیں کروا سکتے ہیں۔ داغ کر علاج کرانا اور دوسروں سے دم کروانا جائز ہے تاہم اگر اس سے بچتے ہیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں اس انداز میں بیان کیا ہے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے، پچھنا لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں مگر میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔ (صحيح البخاري: 5681)

سوال: نکاح کے بعد ایک عورت پر بہت سی ذمہ داریاں لازم ہو جاتی ہیں جیسے شوہر کی دیکھ بھال کرنا، شوہر کے گھر کی نگرانی، اس کے والدین کی خدمت کرنا اور اولاد کی تربیت کرنا وغیرہ لیکن جو لڑکیاں ابھی غیر شادی شدہ ہیں، ان پر دینی لحاظ سے کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟

جواب: شادی سے قبل لڑکیوں کی اصل ذمہ داری شریعت کا علم اور دینی تربیت حاصل کرنا ہے۔

جیسے ایک چھوٹی بچی بولنے اور سمجھنے لگے اسی وقت سے اپنی تعلیم کی شروعات کر دے اور جب بچی کی عمر سات سال ہو جائے تو والدین کو چاہیے کہ بچی کو نماز پڑھنے کا حکم دے بلکہ اس سے پہلے ہی سے دینی تربیت کرنے لگ جائے، نماز و روزے کی تعلیم دینے لگ جائے اور سات سال سے باقاعدہ نظم کے ساتھ نماز کی پابندی کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تب اسے نماز کا حکم دو اور جب وہ دس سال کا ہوجائے اور نماز نہ پڑھے تو اسے مارو اور اس کے بستر کے درمیان تفریق کر دو۔

گویا لڑکی ایک طرف دینی تعلیم حاصل کرتی رہے، دوسری طرف دینی تربیت بھی حاصل کرتی رہے اور دین پر بھی عمل کرتی رہے۔ تعلیم حاصل کرنے کی عمر تک بچی کی اصل ذمہ داری تعلیم حاصل کرنا ہی ہے، اس میں تربیت اور دین پر عمل کرنا بھی شامل ہے۔ تعلیم سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اگر شادی سے پہلے وقت بچتا ہے تو پھر اسے اپنے علم کو سماج میں بانٹنے کی ضرورت ہے یعنی نسوانی دائرے میں رہتے ہوئے شریعت کی روشنی میں دعوت و تعلیم کا فریضہ انجام دے۔

دینی تعلیم اور تربیت کے ساتھ بچپن سے ہی حسب استطاعت گھریلو کام میں والدہ کا تعاون بھی کرتی رہے، اس سے والدہ کے تعاون کے ساتھ گھریلو کام سیکھنے میں آسانی ہوگی کیونکہ شادی کے بعد پھر اسے ایک ماں کا فریضہ انجام دینا ہوگا۔

گھریلو کام اور ماں کے ساتھ تعاون اس حد تک ہو کہ اس کی تعلیم متاثر نہ ہو نیز وہ بچپن سے والدین کا فرمانبردار بن کر زندگی گزارے یعنی ان کے کہے کے مطابق سارا کام کرتی رہے۔ غلط لڑکیوں کی صحبت، غلط ماحول اور برے کام سے دور رہے بلکہ اگر کوئی اسے غلط بات کہے یا غلط کام کا حکم دے تو اسے چاہیے کہ فورا اس بات سے اپنے والدین کو آگاہ کرے تاکہ اس معاملے میں والدین اس کا تحفظ کرسکے، نیز والدین کی اجازت اور اطلاع کے بغیر گھر سے کہیں نہ جایا کرے۔ اس طرح ایک لڑکی شادی سے قبل اپنے ایام گزارے گی۔

یہاں پر اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے اور شریعت کا مناسب علم حاصل کر لے تو والدین کو چاہیے کہ دین و اخلاق کی بنیاد پر اچھے لڑکے سے مناسب وقت پر شادی کر دے۔ بعض لڑکیاں بہت زیادہ ڈگریوں ، نوکری اور کیرئیر بنانے یا دیگر دنیاوی مقاصد کے تحت شادی میں تاخیر کرتی ہیں یہ ان کے حق میں مناسب نہیں ہے۔

سوال: ایک خاتون کہہ رہی ہے کہ میرے یہاں پورے گاؤں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کے دن میلے کپڑے دھونے سے گھر سے برکت ختم ہو جاتی ہے ، کیا یہ بات حدیث کی روشنی میں صحیح ہے؟

جواب: کپڑا دھونا پورے ہفتہ میں کسی بھی دن ممنوع نہیں ہے، جمعہ کے دن بھی کپڑا دھونے کی ممانعت نہیں ہے بلکہ احادیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن صفائی ستھرائی کرکے یعنی اچھی طرح غسل کرکے اور عمدہ و صاف ستھرا لباس لگا کر نماز پڑھنے کے لیے جانا چاہیے۔ جب نماز جمعہ کے لیے بدن کی صفائی کرنے کا خصوصی حکم دیا گیا ہے پھر لباس بھی صاف ستھرا کرسکتے ہیں تاکہ صاف ستھرا لباس پہن کر نماز جمعہ ادا کرنے جائیں۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن میلے کپڑے دھونے سے گھر میں برکت نہیں رہتی، وہ جھوٹی بات بولتے ہیں۔ اس طرح کی بات بولنا کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ہم مسلمان کو دینی اعتبار سے صرف وہی بات بولنی چاہیے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ذکر فرمایا ہے بلکہ اللہ تعالی نے ہمیں سختی سے منع فرمایا ہے کہ جس بات کا تمہیں علم نہیں ہے وہ مت بولا کرو۔ نادان اور جاہل لوگوں اس مسئلہ سے متعلق ایک جھوٹی حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے اور کہا کہ میرے گھر میں برکت نہیں رہتی ہے تو آپ نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہو کہ جمعہ کے روز کپڑا نہ دھوئے"۔

یہ حدیث کسی بھی کتاب میں موجود نہیں ہے یعنی یہ حدیث نہیں ہے، یہ سراسر جھوٹی بات ہے اور ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہم جمعہ کے دن اپنے کپڑے دھل سکتے ہیں خواہ وہ میلے ہی کیوں نہ ہوں۔ ساتھ ہی میں اس تحریر کے ذریعہ آپ سبھی کو متنبہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد اس طرح کی جھوٹی بات لوگوں میں مت پھیلائیں ورنہ آپ کو جھوٹ پھیلانے کی آخرت میں سزا ملے گی۔

سوال: کیا عام جن و شیاطین فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں، کیا صرف ابلیس دیکھ سکتا ہے جیسے جنگ بدر کے موقع پر اس نے فرشتوں کو دیکھا؟

جواب: ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ فرشتے انسانی شکل بھی اختیار کرسکتے ہیں، اس شکل میں فرشتے کو انسان بھی دیکھ سکتا ہے کیونکہ وہ انسانی شکل میں ہوتے ہیں اور اس حال میں جن و شیاطین بھی فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

رہا مسئلہ کہ جن و شیاطین فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھتے ہیں کہ نہیں تو اس سلسلے میں بدر کی مثال موجود ہے کہ ابلیس اپنے ساتھی شیاطین کے ساتھ فرشتوں کو دیکھا اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن و شیاطین فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں مگر اس موضوع سے متعلق گہرائی میں جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ غیبی معاملہ ہے اور اس بارے میں زیادہ کچھ تفصیل نہیں ملتی۔

سوال : اگر سسرالی رشتے دار میں سے کوئی ناراض ہو جائے۔ ہم اس سے دعا سلام کئے لیکن وہ جواب نہ دے یعنی وہ بولنا نہیں چاہتے ہیں اس وجہ سے اگر ہم اس سے نہ بات نہ کریں تو کیا ہم گنہگار ہونگے یا ان سے ایسی ہی صلہ رحمی کرنی چاہیے جس طرح سگے رشتے داروں سے کرنی چاہیے؟

جواب: آپ اپنی ذمہ داری نبھائیں اور اپنا رشتہ جوڑتے رہیں، ملنے پر سلام کریں، ہدیہ تحفہ دینے کا معاملہ ہو یا دعوت میں بلانے کا معاملہ ہو ان سب میں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ کسی کے غلط رویے کی وجہ سے ہم خود غلط کام نہیں کریں گے بلکہ ہمارے حصے کا اور ہماری ذمہ داری کا جو کام ہے ہمیں وہ ادا کرنا ہے۔

کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ بات چیت ترک کر دینا گناہ کا باعث ہے۔اس وجہ سے اگر ہم بھی ویسے ہی کریں جیسے وہ کرتے ہیں تو ہم اپنے حصے کا گنہگار بنیں گے۔

سوال: مجھے پاؤں پر بہت سردی لگتی ہے چنانچہ میں سردیوں میں جرابوں پر مسح کر لیتی ہوں۔ بعض اوقات ایک جراب پر دوسری پہن لگتی ہوں سردی سے بچنے کے لئے۔ اگر میں اوپر والی جراب اتار دوں اور نیچے ایک جراب رہے تو کیا میرا وضو پھر بھی ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا کیونکہ جراب کا ایک جوڑا تو پہن رکھا پھر بھی؟

جواب: جراب پر جراب لگانے میں حرج نہیں ہے لیکن اس میں کئی مسائل ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔

آپ نے وضو کرکے ایک ہی ساتھ موزہ پر موزہ لگا لیا تو مسح کرتے وقت سب سے اوپری والے موزہ پر مسح کرسکتے ہیں۔

جب آپ نے ان دونوں پہنے ہوئے موزہ میں سے ایک کو اتار دیا اس حال میں کہ کوئی بھی ناقض وضو لازم نہیں آیا ہے تو آپ پاک ہیں، اس حال میں نماز پڑھ سکتے ہیں حتی کہ دوسرا موزہ بھی اتار دیتے ہیں اور کوئی ناقض وضو درپیش نہیں ہوا ہے تو اس وقت بھی پاک ہیں آپ نماز پڑھ سکتے ہیں۔

اب جب دونوں موزہ اتار لیے تو حدث کے بعد وضو کرتے وقت پیر پر مسح نہیں کرسکتے، پیر دھونا ہی پڑے گا کیونکہ اس وقت پیر پر موزہ نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ نے وضو کرکے ایک ساتھ دو موزہ لگایا پھر آپ نے ایک اتار دیا اور پھر حدث لاحق ہوا اب دوسرا موزہ لگا کر اس پر مسح نہیں کریں گے بلکہ پہلے ہی موزہ پر مسح کریں گے۔

پہلے موزہ پر مسح کرنے کے بعد پھر اس کے اوپر دوسرا موزہ لگا سکتے ہیں۔

سوال:کسی نے اگر مہر میں بیس سال پہلے دس ہزار روپیہ رائج الوقت باندھا، اب آج کے دور میں وہ کتنا روپیہ دے گا؟

جواب: جس کی شادی میں بیس سال پہلے دس ہزار روپیہ مہر طے کیا گیا تھا۔ بیس سال کے بعد یہ مہر ادا کرتے وقت دس ہزار روپے ہی ادا کرنا ہے اس میں کمی کرنی ہے، نہ زیادتی کرنی ہے۔

سوال: کیا جائفل کا استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب: جائفل جسے عربی میں جوزۃ الطیب کہا جاتا ہے ، اس کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے کہ کیا یہ نشہ آور چیزوں میں سے ہے یا نہیں؟ چنانچہ بیشتر علماء اس جانب گئے ہیں کہ یہ مسکر اور نشہ آور میں شمار ہوتا ہے اس بنیاد پر جائفل کا استعمال کم یا تھوڑا دونوں صورتوں میں حرام ہوگا تاہم بعض علماء نے یہ ذکر کیا ہے کہ اگر کم مقدار میں استعمال کیا جائے تو اس سے نشہ نہیں پیدا ہوتا ہے اس لئے کم مقدار میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔

گوکہ کھانوں میں جائفل کا استعمال بطور خوشبو ہوتا ہے مگر طبی لحاظ سے یہ مضر صحت ہے۔ اطباء نے اس کا کثیر مقدار میں استعمال ہلاکت خیز بتایا ہے، اسی وجہ سے اکثر علماء نے اسے نشہ آور مانا ہے بلکہ اس کا زیادہ مقدار میں استعمال واقعی نشہ آور ہے لہذا جائفل کو کم یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے بچنا ہی اولی و افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : جس کا زیادہ مقدار میں استعمال نشہ آور ہے اس کا کم مقدار میں بھی استعمال کرنا حرام ہے۔

سوال: ایک آدمی کب کب ہاتھ اٹھا کر دعا کر سکتا ہے؟

جواب: نماز کا معاملہ علاحدہ ہے اس وجہ سے نماز کی تمام کیفیات اسی طرف انجام دی جائیں گی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ نماز کے باہر آدمی دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اور بغیر ہاتھ اٹھائے کسی بھی طرح دعا کرسکتا ہے۔

ہاتھ اٹھانا، دعا کے آداب میں سے ہے لہذا اگر کوئی ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا چاہے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر کوئی بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرے تو بھی اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اور کسی بھی وقت دعا کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے جس وقت آدمی کا دل کرے اس وقت دعا کرسکتا ہے۔

سوال: ایک خاتون عمرہ کرنے جا رہی ہے اور فیملی کے ساتھ ہے، اس کی بیٹی کو حیض آگیا تو کیا وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ہوٹل میں رک سکتی ہے حتی کہ وہ حیض سے فارغ ہو جائے اس کے بعد وہ اپنی بیٹی کے ساتھ عمرہ کرے، کیا یہ درست ہے؟

جواب: اگر عورت نے احرام باندھ لیا اس کے بعد حیض آیا ہے تو اسے پاک ہونے تک رکنا ہے جب پاک ہو جائے پھر غسل کر کے اپنی جگہ سے ہی عمرہ کرنے کے لیے جائے اور اپنا عمرہ مکمل کرے۔

جہاں تک ماں کا مسئلہ ہے تو اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ مکہ پہنچ کر بلا تاخیر اپنا عمرہ مکمل کرے اور بیٹی کو ہوٹل میں چھوڑ جائے۔

سوال: میں کئی سالوں سے سعودی عرب میں رہتا ہوں اور جب بھی اپنے وطن جاتا ہوں تو وہاں پر پہلے سے ایک جانور پالا جاتا ہے اس نیت سے کہ جب صحیح سلامت میری وطن واپسی ہوگی تو اسے ذبح کرکے فقراء و مساکین میں تقسیم کر دیا جائے گا اور یہ عمل کئی سالوں سے ہو رہا ہے۔ کیا یہ درست ہے اور کیا اس قسم کا پالا ہوا جانور کبھی ضرورت پڑے تو بیچ سکتے ہیں؟

جواب: یہ شریعت کے خلاف طریقہ ہے کیونکہ انسان ہمیشہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کا محتاج ہوتا ہے۔ ایک سال کے بعد جب کوئی صحیح سلامت وطن واپس آگیا تو چلو بکرا ذبح کرتے ہیں، یہ درست نہیں ہے لہٰذا اس نیت سے بکرا پالنا بند کر دیا جائے۔ ایسے پالے ہوئے بکرے کے بیچنے یا کسی کام میں لگانے سے متعلق سوال اس وقت پیدا ہوتا جب اس نیت سے جانور پالنا جائز ہوتا جبکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس نیت بکرا پالنا جائز نہیں ہے۔

آج کے بعد اپنی نیت درست کر لی جائے۔ لوگوں میں صدقہ و خیرات کریں، لوگوں کو کھلائیں، غریبوں کو دیں اور محتاجوں کو دیں اگر اللہ تعالی نے مال دیا ہے لیکن جان کے لیے صحیح سلامت گھر واپسی پر صدقہ کرنا یعنی جانور ذبح کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ آدمی پل پل اللہ کی رحمت کا محتاج ہوتا ہے جہاں پر بھی رہے، سعودی عرب میں رہے، سفر کرتا رہے، آتا رہے اور جاتا رہے۔ کسی بھی جگہ رہائش پذیر ہو ہرجگہ اللہ کی رحمت کا محتاج ہوتا ہے اور ہر جگہ بندہ اللہ کا شکر بجا لائے، اس کی حمد و ثنا کرے اور اس کی بندگی کرتا رہے، اس کو یاد کرتا رہے۔ یہ دنیا امتحان کے طور پر بنائی گئی ہے، ہم جہاں بھی رہیں ہمارا امتحان لیا جا رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم جس جگہ بھی رہیں اللہ تعالی کی بندگی کرتے ہوئے اور اس کا شکر بجا لاتے ہوئے زندگی گزاریں۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔