Monday, January 5, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(88)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(88)

جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب

 

سوال: پرانی کچھ تصاویر بچوں کی پڑی ہیں، ان کو جلا دینے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟

جواب:ہاں، گھر میں موجود بچوں، بڑوں اور عورتوں سبھی کی تصاویر ہٹا دینا چاہئے کیونکہ جاندار کی تصویر بنانے اور رکھنے میں گناہ ہے بلکہ ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک مشن پر روانہ کیا اور حکم دیا کہ کوئی تصویر اور مجسمہ دیکھنا تو اسے مٹا دینا اور کوئی اونچی قبر دیکھنا تو اسے برابر کردینا چنانچہ ابوالہیاج اسدی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا:

أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ(صحيح مسلم:969)

ترجمہ:کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔

لہذا آپ اپنے گھر سے بچوں کی تصویر ہٹا سکتے ہیں، آگ میں اسے جلا سکتے ہیں، پانی میں بہا سکتے ہیں یا دفن کرسکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: تحفہ دے کر واپس مانگنا اس کے بارے ہمارے دین میں کیا حکم ہے؟

جواب:جب کوئی کسی کو کچھ ہدیہ دیتا ہے تو وہ سامان اس کا ہوجاتا ہے جس کو ہدیہ دیا گیا ہے یعنی ہدیہ دینے والے کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے، اب اس سامان پر ہدیہ قبول کرنے کی ملکیت ہوجاتی ہے اس وجہ سے ہدیہ دے کر اسے مانگنے کا اختیار نہیں ہوتا ہے۔ پھر بھی سماج میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو ہدیہ دینے کے بعد اسے واپس مانگ لیتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری خصلت ہے، نبی ﷺ نے ایسے آدمی کے لئے انتہائی عبرت آموز مثال بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا:الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ(صحیح البخاری:4176)

ترجمہ: اپنا ہبہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے۔

اس حدیث پہ غور کریں کہ ہدیہ دے کر واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کرکے پھر سے اس قے کو نگلے۔ اغاذنا اللہ من ھذا الشر۔

بہرکیف! ایک دوسرے کو ہدیہ تحفہ دینا مومن کی ایک بہترین صفت ہے، اس سے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے، اس خوبی کا ہمیں التزام کرنا چاہئے اور ہدیہ دینے کے بعد اس کو لینے کا دل میں ارادہ بھی نہیں کرنا چاہئے۔ اگر کبھی دل میں اس قسم کا شیطانی وسوسہ پیدا ہوجائے تو اللہ کی پناہ طلب کریں۔

سوال: والدین اگر بہت کمزور ہوں جو اپنا کام نہ کرسکتے ہوں یعنی غسل واستنجاء بھی نہ کرسکتے ہوں تو کیا لڑکا والدہ اور لڑکی والد کو استنجاء اور غسل کروا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں اور وہ غسل و حاجت کے لئے مدد کے محتاج ہوں تو بیٹی والدہ کو غسل وحاجت کرائے اور بیٹا والد کو غسل وحاجت کرائے یعنی مرد، مرد کی خصوصی مدد کرے اور عورت، عورت کی مدد کرے۔

جب کبھی صورتحال یہ ہو کہ گھر میں باپ بیمار ہو اور اس کے غسل و حاجت کرانے کے لئے کوئی مرد موجود نہ ہو، بیٹی یا عورت ہو تو مجبوری میں احتیاط کے ساتھ ہاتھوں کو دستانہ لگاکر اور ستر کا ممکن خیال کرتے ہوئے عورت، گھر کے بیمار مرد کو غسل کراسکتی ہے اور حاجت بھی کراسکتی ہے۔ اور کبھی اس کے برعکس معاملہ ہوسکتا ہے کہ گھر میں ضعیف عورت ہے اور اس کو غسل و حاجت کرانے کے لئے عورت نہیں بلکہ بیٹا یا مرد ہے تو مجبوری میں بیٹا ، عورت کو غسل کراسکتا ہے اور حاجت بھی کراسکتا ہے۔ یہ عذر کا معاملہ ہے اور عذر کے وقت اس طرح کا عمل کرنے کی گنجائش ہے جیسے ایک عورت ، مجبوری میں مرد ڈاکٹر سے علاج کراتی ہے، آپریشن کراتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ پہلے کوشش یہ ہو کہ مرد، مرد کو غسل وحاجت کرائے اور عورت ، عورت کو حتی کہ اس عمل کے لئے رشتہ داروں یا نوکر سے مدد لینا پڑے تو اس کی بھی کوشش کرے لیکن اگر یہ سہولت میسر نہ ہو تو مجبوری میں بیٹا ماں کو اور بیٹی باپ کو غسل وحاجت کراسکتے ہیں۔

سوال:کیا ہمارے استعمال شدہ (دھلائی شدہ) کپڑوں میں ہماری کوئی منفی/مثبت توانائی ہوتی ہے اور کیا ہم وہ کپڑے کسی ضرورت مند کو دے سکتے ہیں؟

جواب:کپڑا جسم ڈھکنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، اس میں مثبت یا منفی کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ جس کسی کے پاس ضرورت سے زائد کپڑا ہو یا استعمال شدہ کپڑا ہو وہ ضرورت مندوں کو دے سکتا ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں کے لوگ اپنے استعمال شدہ کپڑے بڑی تعداد میں محتاجوں میں تقسیم کرتے ہیں بلکہ جگہ جگہ صندوق الملابس (کپڑوں کا صدوق) رکھا ہوا ہوتا ہے، جس میں لوگ استعمال شدہ کپڑے دھل کر رکھ دیتے ہیں جو بعد میں غریبوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں حتی کہ یہاں کے کپڑے دوسری جگہ بھی بھیجے جاتے ہیں۔

سماج میں موجود آسیب وسحر کے نام پہ ڈرانے والے عاملین لوگوں کو طرح طرح سے ڈراتے ہیں، خصوصا عورتوں کو زیادہ ڈراتے ہیں۔ یہ کہہ کر بھی ڈراتے ہیں کہ کپڑوں میں اثرات ہوتے ہیں ، اس سے جادو کئے جاتے ہیں۔ ان جھوٹے لوگوں کے پاس نہ جانا چاہئے، نہ ایسے لوگوں کی ویڈیوز سننا چاہئے اور نہ ہی اس قسم کی باتوں کو اہمیت دینا چاہئے۔

سوال: کیا مرد اپنے ہاتھ میں براسلیٹ پہن سکتا ہے؟

جواب:کسی مرد کا ااپنے ہاتھوں میں براسلیٹ   پہننا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ نے کڑا چھلا پہننے کو شرکیہ عمل قرار دیا ہے اور اس میں غیر قوم کی مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی زینت کے طور پر پہنے تب بھی اس کا استعمال جائز نہیں ہے کیونکہ یہ غیرقوم کی شناخت ہے اور اس میں عورتوں کی بھی مشابہت ہے اور بطور تعویذ پہنے تب یہ شرکیہ عمل ہے۔

سوال: کیا عورتیں دعوت کے کام کے لیے گھر گھر جا سکتی ہیں؟

جواب:عورتوں کے لئے گھر گھر جاکر دعوت و تبلیغ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ عورت پردے کی چیز ہے، وہ لوگوں کے گھر جاکر تبلیغ نہیں کرے گی، گھروں میں عورتوں کے علاوہ مرد بھی ہوتے ہیں اور پھر عورتوں کا معاملہ مردوں سے مختلف ہے، وہ بھی تبلیغ کرسکتی ہے مگر احتیاط کے ساتھ۔ تبلیغی جماعت میں عورتیں گھر گھر اور شہر شہر جماعت میں نکلتی ہیں، یہ سلف کا طریقہ کار نہیں ہے اور یہ طریقہ جائز نہیں ہے۔ عورت اپنے گھر میں یا پاس پڑوس میں دعوت کا کرے اس کے لئے اسے گھر گھر جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کسی جگہ کو منتخب کرے وہاں عورتیں جمع ہوں اور دعوت یا درس کا کام کرے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن کے بعض گھر جہاں عورتوں کے لئے مناسب انتظام ہو اور گھر والوں کی طرف سے اجازت بھی ہو وہاں شرعی حدود کے ساتھ دعوت کا کام کرسکتی ہے جیسے اس کی آواز غیر محرم کی طرف نہ جائے، پردہ کا معقول انتظام ہو، اختلاط نہ ہو اور آمد ورفت میں کوئی دشواری نہ ہو اس طرح شرعی حدود کا پاس و لحاظ ہو تو کہیں کہیں کسی گھر میں دعوت دے سکتی ہے ورنہ کوئی ایک مناسب و محفوظ جگہ خاص کرکے وہاں دعوت کے لئے عورتوں کو جمع کیا جائے۔

سوال: کیا بچے کا نام رکھنے کے بعد چینج کر سکتے ہیں اس وجہ سے کہ بچے کے اوپر نام بھاری پڑا رہا ہے کیا نام واقعی بھاری پڑتے ہیں۔ میرے بھانجے کا نام محمد معاویہ ہے، وہ بیمار رہتا ہے، کسی نے کہا ہے کہ نام بہت جلالی ہے اس کو چینج کر دیں۔ کہنے والے بھی دیندار ہیں اس لیے سوال کر رہے ہیں؟

جواب:جب کوئی نام معنوی اعتبار سے غلط ہو جیسے شرکیہ نام ہو یا معنی غلط ہو یا لفظ بے معنی ہو تب اس نام کو بدل سکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے لیکن جو بات یہاں کہی گئی ہے کہ نام بھاری ہوگیا ہے یعنی معاویہ نام جلالی ہے ، بچے پر بھاری ہوگیا ہے اس وجہ سے بیمار رہتا ہے، نام بدلنے پر ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ سراسر جہالت اور بے دینی والی بات ہے۔ جس نے یہ بات کہی ہے بھلے وہ دیندار ہو مگر اس کو علم نہیں ہے۔ دینداری الگ چیز ہے اور علم الگ چیز ہے۔

کوئی نام بچے پر یا کسی پر بھاری نہیں ہوتا یا یوں کہیں کہ نام محض تعارف کے لئے ہوتا ہے یعنی کسی کو پکارنے اور مخاطب کرنے کے لئے۔ اس میں اور کوئی تاثیر نہیں ہوتی کہ کوئی بچہ نام کی وجہ سے بیمار ہوجائے گا یا نام کی وجہ سے بہادر یا ذہین ہوجائے گا۔ نام کی حقیقت فقط تعارف کی حد تک ہے۔

سوال:کیا کوئی عورت  جھوٹا الزام لگا کر بددعا دیتی ہو کہ میں تو چار سال سے تہجد پڑھتی ہوں، میری بددعا ضرور لگے گی تو کیا ایسے لوگوں کی بددعا لگتی ہے جبکہ آپ حق پر ہوں؟

جواب:اللہ رب العالمین اپنے تمام بندوں کے لئے عادل و منصف ہے، وہ کسی کے حق میں بھی ذرہ برابر نا انصافی اور ظلم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظلِمُ النَّاسَ شَیئًا وَّ لٰکِنَّ النَّاسَ اَنفُسَہُم یَظلِمُونَ(یونس:44)

ترجمہ: یہ یقینی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

جب معاملہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت عادل و منصف ہے، اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا پھر کسی معصوم آدمی کے حق میں ناحق بددعا کیسے قبول کرسکتا ہے؟ اس بات کو یوں سمجھیں کہ جب بددعا کرنے والا حق بجانب نہیں ہے بلکہ وہ ناحق طریقے سے کسی معصوم کو بددعا دے رہا ہے تو اس کی بددعا ہرگز قبول نہیں ہوگی۔ ایسے موقع پر میں ایک جید عالم کا قول پیش کرتا ہوں تاکہ تسلی ملے۔ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"ناحق بد دعا دینے والے نہ گھبرائیں، کیونکہ دعائیں قبول کرنے والی تو اللہ کی ذات ہے، اور سبحانہ وتعالیٰ کبھی بھی ظالم کی نصرت و تائید نہیں کرتا"۔(شرح بلوغ المرام: 476/1)

خلاصہ یہ ہے کہ جس کو کسی کی بددعا سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے اسے بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنا معاملہ اللہ کے ساتھ اور بندوں کے ساتھ بہتر رکھے اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔ اللہ اس کے ساتھ کبھی نا انصافی نہیں کرے گا۔

سوال: ایک خاتون  کی بیٹی کا نام نمل ہے ،اسکی صحت اچھی نہیں ہے، وہ بہت کمزور ہے ، اس نے بیٹی کانام قرآن کی سورت پر نمل رکھا ہے، کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب:سوال معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ کو لگتا ہے کہ نام کی وجہ سے بچی بیمار ہے جبکہ نام کا بیماری یا صحت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے کسی نام کو صحت سے جوڑ کر نہ دیکھیں۔نام تو فقط تعارف اور پہچان کے لئے ہوتا ہے، اس میں بیمار کرنے یا تندرست کرنے کی تاثیر نہیں ہوتی ۔

جہاں تک مسئلہ لفظ نمل کا ہے تو یہ نام رکھنا درست نہیں لگتا کیونکہ نمل چیونٹی کو کہتے ہیں اور چیونٹی عموماً تکلیف دینے والی ہوتی ہے۔ لہذا جس کسی نے اپنی بچی کا نام نمل رکھا ہے وہ اگر نام بدلنا چاہے تو بدلا جا سکتا ہے اس میں حرج نہیں مگر یہ خیال دل سے نکال دے کہ نام کی وجہ سے بچی بیمار ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں بہت سارے الفاظ ہیں یا بہت ساری سورتیں ہیں مگر قرآن کے ہر لفظ کو نام کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے جیسے ایک سورت منافقون ہے، یہ نام نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

سوال: کیا زکوۃ کے پیسوں سے ملازم کو قرآن پڑھاسکتے ہیں یعنی قاری صاحب کو فیس دے سکتے ہیں؟

جواب:پہلے زکوۃ دینے کا طریقہ سمجھیں کہ اس کو کیسے ادا کیا جاتا ہے؟جس کو زکوۃ دینا ہے وہ آدمی مستحق آدمی کو زکوۃ ادا کر دے گا ،اب مستحق آدمی اپنی ضرورت کے اعتبار سے اس پیسے کو خرچ کرے گا۔اگر کوئی غریب فیملی ہے اس کے گھر کے بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں لیکن زکوۃ دینے والا استاد کو جاکر زکوۃ نہیں دے گا بلکہ غریب فیملی کو زکوۃ دے گا یہ فیملی اپنے حساب سے زکوۃ صرف کرے گی۔زکوۃ کی ادائیگی میں، زکوۃ  مستحق کی ملکیت میں  دینا ہوتا ہے۔

سوال: عورت کے چہرے پر تل کا نشان ہو تو کیا چہرے پر موجود تل (mole) ہٹوانا جائز ہے؟

جواب:کسی کے چہرے پر تل کا نشان ہو جو عیب دار معلوم ہوتا ہو تو اس کو زائل کرنا بلاشبہ جائز ہے کیونکہ یہاں مقصد عیب کو دور کرنا ہے جیسے کسی کے چہرے پہ کئی تل کے نشان ہوتے ہیں یا بڑے دانہ کی شکل میں کالا تل ہوتا ہے تو ایسے تل کو زائل کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہے ماہر طبیب سے مشورہ لیا جائے تاکہ تل کو زائل کرنے میں جسمانی ضرر لاحق نہ ہو۔

سوال: عورت کو سجدے کی حالت میں دونوں گھٹنوں یا رانوں کے درمیاں کتنا فاصلہ رکھنا ہے؟

جواب:نماز میں سجدہ کے درمیان دونوں گھٹنوں یا رانوں کے درمیان فاصلہ کی حد متعین نہیں ہے لیکن حدیث رسول سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کی حالت میں دونوں رانوں کے درمیان جدائی ہو یعنی دونوں رانیں  سٹی ہوئی نہ ہوں۔ اسی طرح پیٹ رانوں سے الگ ہو اور دونوں ہاتھ بھی پہلو سے جدا ہوں۔ اس کیفیت میں سجدہ کیا جائے گا خواہ مرد ہو یا عورت۔ سجدہ وہ مقام ہے جہاں کوئی رانوں کو بہت زیادہ نہیں پھیلا سکتا ہے، مناسب انداز میں ہی پھیلا سکتا ہے۔ دھیان دینے والی بات یہی ہے کہ دونوں رانوں کے درمیان فاصلہ، دونوں ران پیٹ سے الگ اور دونوں ہاتھ ، پہلو سے الگ ہوں۔

سوال: کیاچھوٹے سائز کے موزہ پر مسح ہو جائے گا؟

جواب:موزہ پر مسح کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ دونوں ٹخنوں کو ڈھکنے والا ہو۔ اگر موزہ سے دونوں ٹخنے ڈھک جاتے ہیں تو اس قسم کے موزہ پر مسح کیا جاسکتا ہے لیکن اگر موزہ ٹخنہ کو ڈھکنے والا نہ  ہویعنی ٹخنہ سے نیچے والاموزہ ہوتو اس پر مسح نہیں کیا جاسکتا ہے۔

سوال: علی گڑھ میں چندہ سے ایک مدرسہ چل رہا ہے، یہ کسی کی اپنی ملکیت میں نہیں ہے۔ اس کے رجسٹریشن کے لئے دولاکھ روپئے کی ضرورت ہے جو ابھی تک جمع نہیں ہو پائی ہے۔ بنا کمیشن دئے مدرسہ کا رجسٹریشن نہیں ہوپارہا ہے ۔ مدرسہ کا رجسٹریشن کروانے کے لئے کمیشن دینا ہی پڑے تو کیا اس میں سودی رقم دی جاسکتی ہے؟

جواب:سوال سے معلوم ہوتاہے کہ یہ غیرقانونی زمین ہے جس کے لئے رشوت دے کر مدرسہ کے نام رجسٹریشن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو یہ عمل درست نہیں ہے یعنی غیرقانونی اور سرکاری زمین کو مدرسہ کے نام رجسٹریش نہیں کروانا چاہئے۔ اور اگر یہ زمین کسی آدمی کی ملکیت ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیرمسلم، وہ مدرسہ کے نام وقف کرنا چاہے یا بیچنا چاہے تو اس صورت میں زمین کا مدرسہ کے نام رجسٹریشن کرانا جائز ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ رشوت دینا اور رشوت لینا دونوں عمل ناجائز ہیں مگر ہمارے لئے بہت سارے کاموں میں رشوت دئے بغیر معاملہ حل نہیں ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا صورت جو مدرسہ سے متعلق ہے ، اس کے رجسٹریشن کے لئے(قانونی زمین کے واسطے) رشوت دینے کی ضرورت ہے تو مجبوری میں یہ رشوت دے کر مدرسہ رجسٹرڈ کراسکتے ہیں کیونکہ ویسے بھی ہندوستان میں خصوصا یوپی میں بغیر رجسٹریشن کے مدرسہ چلانا فی الحال بہت مشکل ہے۔ اس رجسٹریشن کے لئے جو رشوت دینا پڑے گا اس میں بنک کا سود استعمال کیا جاسکتا ہے، یہاں پر کسی کا ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی معاملہ ہے۔

سوال: جمعہ کے دن تحیۃ المسجد پڑھنے کے بعد ظہر کی چار سنت پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:اس سوال کے جواب میں کئی پہلو ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ جمعہ کے دن، نماز جمعہ سے قبل ظہر کی کوئی سنت نہیں پرھنا ہے۔ بعض لوگ نماز جمعہ کے بعد چار رکعت احتیاطی ظہر پڑھتے ہیں، یہ بھی غلط ہے اسے بدعت کہیں گے۔ جمعہ کے دن صرف جمعہ کی نماز پڑھی جائے گی، نہ کہ ظہر کی نماز۔دوسری بات یہ ہے کہ جمعہ کے دن جب مسجد آئیں تو کم از کم دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھیں۔

خطبہ سے پہلے آپ دو رکعت تحیۃ المسجد پر بھی اکتفا کرسکتے ہیں اور وقت باقی ہے تو دو دو رکعت کرکے جتنا چاہیں نفل ادا کریں ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کی کوئی خاص تعداد بھی متعین نہیں ہے۔

نماز جمعہ کے طور پر بیٹھنے سے قبل دو رکعت (کم ازکم) تحیۃ المسجد پڑھیں، پھر دو رکعت نماز جمعہ فرض ہے۔ اس کے بعد دو رکعت یا چار رکعت سنت ادا کریں۔ یہ نماز جمعہ کی رکعات ہیں۔

سوال: کیا سورۃ الملک، سورۃالسجدۃ اور سورۃ الواقعہ سونے سے پہلے روز رات کو پڑھنا بدعت ہے؟

جواب:سوتے وقت سورہ الملک اور سورہ سجدہ پڑھنے سے متعلق حدیث صحیح ہے اس لئے رات میں سوتے وقت ان دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہیں، اس عمل کو بدعت نہیں کہیں گے کیونکہ یہ عمل ثابت ہے۔ جہاں تک سوتے وقت سورہ الواقعہ پڑھنے کا معاملہ ہے تو یہ حدیث ثابت نہیں ہے یعنی اس بارے میں جو حدیث ہے وہ ضعیف ہے لہذا سوتے وقت خصوصی طور پر سورہ واقعہ نہیں پڑھنا چاہئے۔

سوال: کیا عورتیں سفید کلر میں برقع پہن سکتی ہیں اس مقصد سے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ کلر بہت پسند تھا تاکہ وہ مساجدجاتے وقت  اور عیدین کے موقع پرسفیدبرقع پہن سکے؟

جواب:یہ بات بالکل درست ہے کہ نبی ﷺ کو سفید کپڑا بہت پسند تھا بلکہ آپ نے سفید کپڑا پہننے  کا حکم بھی دیا ہے۔ سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو۔ (ترمذی:2810)

یاد رہے کہ  برقع کے لئے کالا ہونا ضروری نہیں ہے، کالا کے علاوہ دوسرے رنگ  کا بھی برقع لگایا جاسکتا ہے حتی کہ سفید رنگ کا بھی برقع لگایا جاسکتا ہے کیونکہ کپڑے کا اصل مقصد سترپوشی ہے۔ کوئی عورت چاہے تو سفید لباس یا سفید برقع لگاسکتی ہے، بس اسے اس بات کا ضروری حد تک خیال کرنا ہے کہ لباس جاذب نظر نہ ہو یعنی وہ زینت کےطور پر لباس نہ لگائے بلکہ سترپوشی کے مقصد سے لباس لگائے اور کوئی ایسا لباس جو کالا یا سفید یا کسی دوسرے رنگ کا ہو مگر جاذب نظر ہو ، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والا ہو تو اس کو نہ پہنا جائے۔

سوال:کچھ لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کرنے کے بعد دلہے والوں کے پاس لڑکی والوں کی  امید کے برابر لوگوں کو ولیمہ کی دعوت کھلانے کی استطاعت نہیں ہوتی اور کچھ لوگ استطاعت کے باوجود بھی لڑکی والوں کے کم لوگوں کو ہی ولیمہ کی دعوت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ایسے میں لڑکی والے ، لڑکے والوں سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ ولیمہ کے آدھے خرچ کے پیسے دیں گے اور ہماری طرف سے اور بھی کچھ لوگوں کو ولیمہ کی دعوت میں شامل کریں گے۔ یا کچھ لڑکے والے ایسا کرتے ہیں کہ لڑکی والوں کو ایک لاکھ یا دو لاکھ یا استطاعت کے مطابق پیسے دیتے ہیں اور کبھی سارا خرچ لڑکی والے ولیمہ میں اٹھاتے ہیں۔ ایسا کرنے کا مقصد ولیمہ میں لڑکی والوں کے سبھی لوگوں کو دعوت دے سکے جس قدر لڑکی والے چاہتے ہیں۔ کیا یہ عمل  درست ہے؟

جواب:ولیمہ کرنے کا جو طریقہ آپ نے بیان کیا ہے، یہ غلط ہے اور یہ غلط رسم و رواج ہے۔ اس کو بڑھاوا دینے کے بجائے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ولیمہ جس دعوت کا نام ہے اور جس طریقہ پر محمد ﷺ کے زمانہ میں ہوا بس اسی سنت کو قائم کرنا ہے۔ نکاح منعقد ہوجانے کے  بعد ولیمہ کرنا لڑکے کا کام ہے، اس میں لڑکی والوں کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی اسے سوچنا چاہئے کہ ہمارے یہاں سے زیادہ لوگوں کو دعوت ملتی یا کم لوگوں کو۔ لڑکا اپنی استطاعت کے مطابق اپنے رشتہ داروں اور قرب و جوار والوں کو دعوت کردے ، یہ کافی ہے۔اس کے لئے پوری بستی میں دعوت کرنےیا بڑی تقریب کرنے یا لڑکی کے بہت سارے رشتہ داروں  کو دعوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔  

آج ہم نے دعوتوں کو شہرت و پہچان کا ذریعہ بنا لیا اس لئے دعوت میں من مانی اور نئے نئے رسم و رواج پیدا کئے جارہے ہیں۔ اس وجہ سے دین اٹھتا جارہا ہے اور بے دینی جگہ لیتی جارہی ہے۔ اللہ کے واسطے دین قائم کریں اور سماج سے بے دینی مٹائیں۔

سوال:نومولود (جو ماں کے پیٹ میں ہے اور وہ ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں، ڈیلیوری میں کچھ مہینوں کا وقت ہے) کا نام رکھنے میں سب سے پہلا حق کس کا ہے۔ والدین نام سوچ رہے ہیں اور مشورہ کے لیے گھر والوں کو کہا گیا ہے کہ زوجین نے فلاں فلاں نام سوچا ہے لیکن شوہر کے والدین زوجین کو نام رکھنے سے روک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بچے کے والد یا والدہ نام نہیں رہ سکتے ہیں ،  ابھی یہ دادا دادی کا حق ہے۔ ماں باپ بعد والے کام دیکھ لیں گے بلکہ دادا سے زیادہ تو دادی پیچھے پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے گھر پر کبھی لڑائی کا ماحول بن رہا ہے۔ماں کا کہنا ہے کہ سسرال کا ماحول تو دین دار ہے مگر کبھی کچھ چیزوں میں ساس ضد پر اڑ جاتی ہے۔ اولاد مجھے ہو رہی ہے، ساری حمل کی تکالیف میں برداشت کر رہی ہوں، میں اپنی  اولاد کا نام خود رکھنا چاہتی ہوں یا میرے شوہر لیکن نام سوچنے کا حق پہلے مجھے یا میرے شوہر کو کیوں نہیں ہے۔ شوہر تو اپنے والدین کی وجہ سے چپ ہے۔ اس سلسلے میں، میں کیا کروں، مجھے اس حالت میں دماغی سکون نہیں مل رہا؟

جواب:نومولود کا نام رکھنا ایسا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے گھر میں لڑائی تک کی نوبت آجائے یا اس کے لئے دادا دادی پریشان رہے یا ماں ذہنی سکون کھو بیٹھے۔ بلاشبہ بچہ پیدا کرنے کی ساری تکلیف ماں برداشت کرتی ہے، وہ اس پر حق رکھتی ہے مگر نام رکھنے میں اولیت باپ کے لئے ہے۔ بچہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتا ہے، اسی کی نسبت سے پکارا جاتا ہے، وہی اس کا کفیل و ذمہ دار ہوتا ہے لہذا نام رکھنے کا اصل حقدار بھی وہی ہے۔ ساتھ ہی نام رکھنے میں گھر کے سارے لوگوں سے مشورہ کرنے میں حرج نہیں ہے پھر جس نام پہ اکثریت کا دل مطمئن ہوجائے وہ نام رکھ لیا جائے۔ نام رکھنے میں یہی ایک عمل بہتر ہے تاہم اگر اس معاملہ میں فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو جوکہ نہیں ہونا چاہئے، اس تناظر میں ایک مشورہ دیتا ہوں۔

والدین اور دادا دادی میں سے ہر کوئی اپنی پسند کا ایک ایک نام دے، چاروں کے دئے ہوئے ناموں کی الگ الگ پرچی بنائی جائے اور کسی ایک چھوٹے بچہ کے ذریعہ ایک پرچی نکالی جائے، جو نام نکل آئے وہ نام بچے کے لئے منتخب کردیا جائے۔

سوال: میرے یہاں کچھ لوگ اس طرح کا کام کرتے ہیں کہ جس کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی زمین دے کر پیسہ لیتے ہیں اور شروع میں معاہدہ ہوتا ہے کہ جتنے سال بعد پیسہ لوٹا نا ہے ، ہر سال کے اعتبار سے تقریبا ایک ہزار روپیہ کم دینا ہے مثلا ساٹھ ہزار روپئے کے بدلے زمین دی گئی اور پانچ سال بعد پیسہ لوٹانا ہے تو صرف پچپن ہزار ہی لوٹانا ہے ، کیا یہ صورت جائز ہے؟

جواب:یہاں پر سمجھنے والی اصل بات یہ ہے کہ پیسہ کی حیثیت کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پیسہ کی حیثیت قرض کی ہے کیونکہ پیسہ دینے کے بعد پھر پانچ سال میں لوٹایا جائے گا۔ گویا بات واضح ہے کہ پیسہ قرض کی صورت میں ہے چاہے اس میں سالانہ اعتبار سے کچھ کٹوتی کی جائے گی مگر حیثیت قرض والی ہے۔ قرض دینے کی صورت میں جو زمین ملی ہے وہ بطور رہن و ضمانت ہے، اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔ زمین سے فائدہ اٹھانا سود میں داخل ہوگا۔ قرض دار کو قرض میں سے کچھ کم کردیا جائے بلکہ آدھا یا سارا قرض معاف کردیا اس میں حرج نہیں ہے تاہم قرض کے بدلے، قرض دینے والا  زمین سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ سود ہے۔اس بارے میں شریعت کا اصول ہے کہ ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے ۔اس معاملہ میں ایک جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی زمین کو کرایہ پر سال دو سال  پانچ سال کے لیے دے سکتا ہے اور جو کرایہ دیا جائے گا وہ کرایہ پھر واپس نہیں کیا جائے گا۔

سوال: ایک آدمی بجلی کا کام کرتا ہے مگر وہ جاہل ہے اس کے پاس سرٹیفیکیٹ نہیں ہے۔ وہ کہیں سے پیسہ دے کر سرٹیفیکیٹ بناکر جاب کرے تو کیا اس کی کمائی حلال ہوگی؟

جواب: کسی جگہ سے پیسہ دے کر سرٹیفیکیٹ خریدنا جائز نہیں ہے، یہ عمل سرے سے غلط ہے۔ اور یہ سرٹیفیکیٹ جعلی کہلائے گی، اس سرٹیفیکیٹ کے بدلے جو کمائی آئے وہ حرام ہوگی کیونکہ اس کی سرٹیفیکیٹ جعلی ہے۔ اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ بغیر سرٹیفیکیٹ والی جاب کرے، اس قسم کی جاب بھی بے شمار ہیں ، آزاد ہوکر خود سے بھی کام کرسکتا ہے، یا اگر محنت کرکے اور تعلیم حاصل کرکے سرٹیفیکیٹ حاصل کرلے تو اور بہتر ہے مگر پیسے سے سرٹیفیکیٹ نہ خریدے۔

سوال: ایک لڑکا پیدا ہوا اور وہ ایک سال بعد انتقال کر گیا، اس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا تو کیا اب اس کا عقیقہ کر سکتے ہیں؟

جواب: عقیقہ کرنے کا تعلق زندگی سے ہے یعنی جب تک آدمی زندہ رہتا ہے حسب سہولت کبھی بھی  اس کی طرف سے عقیقہ ہوسکتا ہے۔ویسے مسنون یہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کیا جائے مگر اس وقت عقیقہ کی  استطاعت نہ ہو تو بعد میں بھی عقیقہ دیا جاسکتا ہے۔ جب کوئی بچہ فوت ہوجائے جس کا عقیقہ نہیں ہوا یا کوئی آدمی وفات پاجائے جس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا تو اس کی وفات کے بعد عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میت کی طرف سے عقیقہ دینے کا ثبوت نہیں ملتا ہے۔

سوال: کچھ خواتین مل کر ایک گروپ بنانا چاہتی ہیں جس میں اپنے فیملی ممبرز اور پہچان والی دیگر خواتین ہوں گی ۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن کی تلات کا شوق دلانے اور قرآن سے جڑنے کے لئے روزانہ تین صفات قرآن تلاوت کرکے اس گروپ کے ذریعہ ریمانڈ کرایا جائے گا کہ آج کس کس نے تلاوت کرلی، جس کی تلاوت دن کے جس حصہ میں بھی ہوجائے وہ بتادے کہ میری تلاوت ہوگئی، اس طرح روزانہ کامعمول رہے گا اور پورا قرآن ختم کیا جائے گا پھر دوبارہ قرآن شروع کیا جائے گا۔ کیا یہ عمل درست ہے؟

جواب: لوگوں میں قرآن کا شوق دلانا اور تلاوت کی طرف مائل کرنا بہتر کام ہے مگر اس کا طریقہ بھی درست ہونا ضروری ہے۔ کوئی گروپ بناکر روانہ ہر کوئی تین صفحات تلاوت کرے اور گروپ میں بتائے کہ میری تلاوت ہوگئی ، اس طرح مل کر ایک ساتھ متعین صفحات میں تلاوت کرنا درست طریقہ نہیں ہے۔ اس کام کے لئے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ویڈیوز کی شکل میں یا تحریری شکل میں قرآن مع ترجمہ و تفسیر روزانہ گروپ میں بھیجا جائے، ہر ممبر اس کو سنے اور قرآن کا علم حاصل کرے۔ دراصل اسی مقصد کے تحت قرآن نازل ہوا تاکہ اسے سمجھ کر پڑھاجائے اور اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تبلیغ کی جائے۔ اس طرح کرنے سے نزول قرآن کا مقصد پورا ہوگا اور قرآن کے حقوق  بھی ادا ہوں گے۔ نیز قرآن سے محبت پیدا ہوگی، اس کی تلاوت کا شوق بھی پیدا ہوگا اور اپنی مرضی سے حسب سہولت تلاوت کرسکیں گے۔

سوال: فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے دو عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، ان دونوں کا نام کہیں مذکور ہے؟

جواب:فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سب کو امان دیدی تھی مگر چار مردوں اور دو عورتوں کو امان نہیں دی تھی بلکہ آپ نے حکم دیا تھا کہ ان سب کو قتل کرو خواہ ان کو کعبہ کے پردہ سے ہی چمٹا کیوں نہ پاؤ۔ چار مردوں میں عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ہیں۔ اور دو عورتوں سے مراد دو لونڈیاں ہیں۔ یہ عبداللہ بن خطل یا مقیس بن صبابہ کی لونڈیاں تھیں، یہ اشعار کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو کیا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک کانام قریبہ اور دوسری کا نام فرتنی تھا۔ قریبہ تو قتل کردی گئی اور فرتنی بھاگ گئی مگر بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔(مستفاد: الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود، تحت الحديث 2683)

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔