Monday, January 5, 2026

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(87)

آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(87)

جواب از شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب


سوال: اگر ہم غیبت کرتے ہیں اورغیبت  سنتے ہیں تو کیا سچی توبہ کافی ہے یا جس کی غیبت کی ہے یا سنی ہے ان سب سے معافی مانگی جائے کہ ہم نے آپ کی غیبت فلاں بندے سے کی تھی یا سنی تھی؟

جواب:اگر کوئی کسی کی غیبت کرے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ پہلے اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہوئے غیبت سے توبہ کرے پھر جس کسی کی غیبت کی ہے اور اس کو خبر بھی ہوگئی ہے تو لازما اس سے معافی مانگے لیکن اس کو خبر نہیں ہوئی ہے اور اس کو کہنے سے فتنہ و فساد کا ڈر ہے تو اس کے لئے مغفرت کی دعا کرے۔ساتھ ہی ایک تیسرا کام یہ ہے کہ جس محفل میں برائی کی ہے یا جن لوگوں کے درمیان غیبت بیان کی ہے ان سب سے ، اس کے بارے میں براءت و بے گناہی بیان کرے یعنی جو جھوت یا برائی یا بہتان بیان کیا تھا اس کی تردید کرے۔

یہ تو غیبت کرنے کا معاملہ تھا، جہاں تک معاملہ غیبت سننے کا ہے تو یہ بھی بڑے گناہ کا کام ہے، کوئی آپ کے سامنے کسی کی غیبت کرے تو اس کو اس عمل سے منع کریں اور وہ نہ مانے تو اس جگہ سے اٹھ کر چلے جائیں ۔ اگر کسی نے اپنے کسی بھائی کے بارے میں غیبت سنی ہو تو اس کے لئے اللہ تعالی سے سچی توبہ کرے اور جس سے غیبت سنی تھی اس کو بھی غیبت کرنے کی وجہ سے توبہ کرنے اور معافی مانگنے والا مذکورہ بالا عمل بتائے۔

سوال: ایک آدمی نے کسی ضرورت مند کو زکوۃ دی اور اس کا اکسیڈنٹ ہوگیا ، اس دوران کسی نے اس کا مال لوٹ لیا تو کیا زکوۃ دینے والے کو پھر سے اپنی زکوۃ دینی ہوگی؟

جواب:جس نے اپنی زکوۃ نکال کرمستحق کو دیدی اور زکوۃ لینے والے سےزکوۃ  چوری  ہوگئی  یا لوٹ لی گئی تو اس میں زکوۃ دینے والے کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کی زکوۃ ادا ہوگئی ہے، اسے دوبارہ زکوۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال: پیر کو روزہ رکھا گیا تھا لیکن ناپاکی (حیض) کے سبب عصر کے بعد روزہ ختم ہوگیا تو کیا اس نفل روزے کی قضا کرنی ہوگی؟

جواب:نفلی روزہ اگر عذر کے سبب ٹوٹ جائے یا توڑنا پڑجائے جیسے عورت کو روزہ کی حالت میں ماہواری جاری ہوجائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہےاور اس کی قضا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ نفلی روزہ ہے۔ جب فرض روزہ کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ جاتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی قضا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

سوال: کیا "ان صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين" یعنی اس آیت کو دعا ثنا میں پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:نبی ﷺ تہجد کی نماز پڑھتے تو اس نماز کے شروع میں یہ دعائے استفتاح پڑھتے:وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ اس دعا میں آگے مزید الفاظ ہیں۔ مکمل دعا کے لئے صحیح مسلم، حدیث نمبر(771) دیکھیں۔یہ رات کی نفل نماز میں پڑھتے تھے، آپ بھی اسے نفل نماز میں پڑھ سکتے ہیں ۔ فرض نماز پڑھتے وقت مختصر استفتاح پڑھیں جیسے "سبحانک اللھم بحمدک۔۔۔۔۔۔۔۔" یا دوسری ثنا "اللھم باعد بینی۔۔۔۔۔۔"

سوال:میری بڑی امی(تائی) عدت میں ہیں اور ان کے یعنی تائی کے ابو کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا وہ وہاں ایک رات رک سکتی ہیں؟

جواب: ویسے عدت والی عورت کا اپنے رشتے دار کے انتقال پر اس کو دیکھنے جانا ضرورت میں شامل نہیں ہے اور بغیر ضرورت کے معتدہ کا گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے اس وجہ سے رشتے دار کے یہاں میت پہ نہ جائے تو بہتر ہے لیکن اگر وہاں جانا کسی مصلحت کے تئیں ضروری معلوم ہوتا ہو تو دن میں جائے اور زیارت کرکے دن میں ہی اپنے گھر واپس لوٹ آئے اور عدت میں اس کو زینت کی چیزیں استعمال نہیں کرنی ہے ، نہ گھر میں رہتے ہوئے اور نہ گھر سے نکلتے وقت۔

سوال: کو-ایجوکیشن کے فتنہ سے بچنا بہت مشکل ہے۔ ایک وقت میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں دنیاوی تعلیم چھوڑ دوں گی کیونکہ اب میرا ڈگریوں اور کیریئرز میں ویسے بھی دل نہیں لگتا لیکن میں اپنے اس فیصلے پر ثابت قدم نہیں رہ پا رہی ہوں۔ میرا گھرانہ چاہتا ہے کہ میں پڑھ کر تعلیم یافتہ، نوکری پیشہ اور کامیاب بنوں، مگر مجھے اپنے عقیدے کے خلاف جانا مشکل لگتا ہے۔ گھروالے میری بات نہیں سمجھتے اور مثال دیتے ہیں کہ دوسری باحجاب لڑکیاں بھی یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں۔ وہ خواتین کے کالج یا مکمل آن لائن تعلیم کے خیال کو بھی قبول نہیں کرتے۔ وہ مجھ پر ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور میں خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتی ہوں اور ان کی مرضی کے خلاف گھر پر رہنا مشکل ہے، ایسی صورت حال میں میں کیا کرسکتی ہوں؟

جواب:دنیاوی تعلیم حاصل کرنا ویسے بھی ضروری نہیں ہے لیکن دنیاوی تعلیم حاصل کرنا منع بھی نہیں ہے ۔ اگر کوئی دنیاوی تعلیم حاصل کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ شرعی دائرے میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کرے۔ لڑکیوں کا معاملہ نازک ہوتا ہے اس کے لئے اجنبی مردوں سے پردہ ضروری ہے بلکہ پورے جسم کا لباس اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ کوئی لڑکی  کسی اجنبی مرد کے ساتھ خلوت بھی نہیں کرسکتی، اس کے لئے اختلاط بھی منع ہے یعنی جہاں عورت و مرد دونوں  رہتے ہوں ایسی جگہ کسی مسلمان لڑکی کو نہیں رہنا چاہئے۔ ایک اہم بات یہ جاننا ہے کہ اولاد کے لئے اپنے والدین کی فرمانبرداری صرف بھلائی کے کام میں ہے، جب والدین اور گھر والے برائی کا حکم دیں یا شریعت کے خلاف عمل کرنے کی دعوت دیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی ۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:

لا طاعةَ لِمخلُوقٍ في معصيةِ الخالِقِ(صحيح الجامع:7520)

ترجمہ: اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی بات نہیں مانی جائے گی۔

اس وجہ سے اس لڑکی کے ذمہ ہے کہ مخلوط تعلیم کا انکار کرے۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرکے دنیاوی تعلیم حاصل کرلے اور اپنی دنیا بہتر بنالے مگر اس کی آخرت اس سے خراب ہوسکتی ہے۔الحمدللہ خواتین کے لئے مخصوص ادارے بھی ہیں ، آن لائن تعلیم کی سہولت بھی ہے لہذا وہ صحیح طور پر تعلیم حاصل کرے جس میں شریعت کی مخالفت نہ ہو خواہ اس کے لئے گھروالوں کے  طعنے سہنا پڑے یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے اس کی پرواہ نہ کرے۔

سوال: کیا کوئی عورت اپنے نامحرم رشتیدار کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کرسکتی ہے یا جواب دے سکتی ہے، جب وہ گھر آئیں یا ان کے گھر جائیں۔اور صرف زبان سے سلام کرے یا ہاتھ کے اشارے سے بھی کرسکتی ہے نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ سلام میں پہل کرسکتی ہے جب نامحرم رشتیدار ہو؟

جواب:سلام کا اشارہ سے تعلق نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کرنے میں اشارہ کرنے کا کہیں پر حکم نہیں دیا ہے سوائے نماز کی حالت میں سلام کا جواب دیتے وقت۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ہاتھ کے اشارے سے  ساتھ سلام کرنے کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا کہ" ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا جائز نہیں ہے۔ سلام کرنے میں سنت یہ ہے کہ زبان سے بول کر سلام کیا جائے اور بول کر جواب دیا جائے۔ اور ہاتھوں سے اشارہ کے ساتھ سلام کرنے میں بعض قسم کے کفار کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ ہاں اگر کسی دور والے شخص کو سلام کرنا ہو تو زبان سے سلام بولتے ہوئے ہاتھ کا اشارہ کر دینے میں حرج نہیں ہے تاکہ وہ سلام کو سمجھ جائے"۔

جہاں تک مسئلہ ہے عورت کا نامحرم مردوں سے سلام کرنے کا تو عورت کے لیے ایسی جگہ پر نامحرم سے سلام کرنے میں حرج نہیں ہے جہاں پر فتنہ نہ ہو جیسے گھر میں اپنے محارم  بھی موجود ہوں تو ان کے درمیان اجنبی مرد سے سلام کرنے میں حرج نہیں ہے یا اجنبی عمر دراز مرد ہو تو اس سے بھی سلام کرنے میں حرج نہیں ہے اور جہاں سلام کا موقع ہو وہاں اس بات کا انتظار نہیں کیا جائے گا کہ کوئی ہمیں سلام کرے بلکہ ہمیں خود ہی پہل کر کے سلام کرنا چاہیے۔

سوال: ٹی شرٹ پر شیر کا نشان بناہوا ہے، کیا اس میں نماز ہوجائے گی؟

جواب:جس کپڑے میں جاندار کی تصویر ہو اگر اس میں نماز پڑھ لی جائے تو نماز اپنی جگہ ہوجائے گی لیکن کسی عورت یا کسی مرد کے لئے اس طرح کا لباس لگانا جائز نہیں ہے جس میں جاندار کی تصویر ہو یعنی اس قسم کا لباس کسی کو سرے سے پہننا ہی نہیں چاہیے۔

سوال: جو بچے، بچپن میں ہی فوت ہو جاتے ہیں وہ جنت میں ویسے ہی ہوں گے جیسے دنیا میں فوت ہوئے تھے یا ان کی عمر میں اضافہ کیا جائے گا اور انہیں قیامت کے دن کیسے اٹھایا جائے گا؟

جواب:جو بچے بلوغت سے پہلے وفات پا جاتے ہیں ان کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے خواہ وہ مسلمان کے بچے ہوں یا کافر کے بچے۔

جہاں تک مسئلہ ہے کہ ان کی عمر قیامت میں کیا ہوگی۔ اس سلسلے میں جواب یہ ہے کہ جو بچے جس عمر اور جس حالت میں وفات پائے ہوں گے، اسی حالت میں قیامت میں اٹھائے جائیں گے اور اسی حالت میں حساب و جزاء ہوگا لیکن جب یہ بچے جنت میں داخل کئے جائیں گے تو جنتی عمر کے ہوں گے یعنی تینتیس سال(33) کے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں جو بھی داخل کیا جائے گا خواہ وہ بوڑھا ہو یا بچہ، ہر کوئی تینتیس سال کا جوان ہوگا۔

سوال: سردیوں میں جو ریگزین پہنتے ہیں جیسے  چمڑے کا جیکٹ ہوتا ہے۔ اس بارے میں ہمیں علم نہیں ہوتا ہے کہ حلال  جانورکا ہے یا حرام جانورکا اور یہ پاک ہے کہ نہیں، ایسے میں  سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کا استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب:چمڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، ان تینوں کا حکم مندرجہ ذیل سطور میں بیان کیا جاتا ہے۔

(1)ایک وہ حلال جانور جس کو شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہو، اس کا چمڑا دباغت سے پہلے بھی پاک ہے اور دباغت کے بعد بھی پاک ہے۔ اس سے بنی چیزیں جیسے موزہ ، جوتا ، چپل اور جیکٹ وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں۔

(2)دوسرا وہ حلال جانور جس کو شرعی طور پر ذبح نہ کیا گیا ہو یا وہ مرگیا ہو، اس کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہے۔ اس چمڑے سے بنے ہوئے سامان بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

(3)تیسرا چمڑا حرام جانور کا ہے یعنی جو بھی جانور شریعت کی نظر میں حرام ہو جیسے کتا، بلی، سور، شیر، چیتا ، بھالو، بندر وغیرہ۔ ان جانوروں کے چمڑے سے بنے سامان جیسے پرس، بیگ، موزہ، جوتا، چپل، جیکٹ وغیرہ استعمال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حرام جانوروں کا چمڑا ہے۔ اس بارے میں علماء کا اختلاف پایا جاتا ہے کہ حرام جانوروں کا چمڑا دباغت دینے سے پاک ہوگا کہ نہیں؟ بہت سے اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ یہ چمڑا دباغت دینے کے بعد بھی پاک نہیں ہوگا لہذا حرام جانوروں کے چمڑوں سے بنے ہوئے سامان استعمال نہیں کیا جائے۔

اگر کسی کو یقینی طور پر چمڑے سے بنے سامان کے بارے میں علم نہ ہو کہ کس قسم کا چمڑا ہے تو احتیاط کا تقاضا ہے کہ ایسا سامان استعمال نہ کیا جائے۔ جس کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ اوپر بیان کئے ہوئے پہلی یا دوسری قسم کا چمڑا ہے تو اس سے بنا ہوا سامان استعمال کرسکتا ہے۔

سوال: میں چند دنوں سے ہر روز دو رکعت نفل کبھی مغرب ، کبھی عشاء تو کبھی کسی اور نماز کے وقت پڑھتی ہوں اور اللہ تعالی سے اپنے لئے ایک چیز مانگتی ہوں۔ میرا یہ ارادہ ہے کہ پوری زندگی ہرحال میں کسی بھی دن ناغہ کئے بنا ،دو رکعت ادا کرتی رہوں گی۔ کیا یہ عمل بدعت میں شمار ہوگا؟

جواب:آپ نے ذکر کیا کہ روزانہ دو رکعت نفل پڑھ کے اللہ سے ایک چیز مانگتے ہیں۔ اس سلسلے میں شریعت کا حکم جاننا چاہیے کہ کیا کوئی چیز مانگنے کے لیے دو رکعت نماز پڑھنے کی ضرورت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ سے کچھ مانگنے کے لیے دو رکعت نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب چاہیں اللہ تعالی سے اپنی زبان میں اپنی ضرورت کی چیز مانگ سکتے ہیں اس کے لیے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔پھرآپ کا ارادہ ہے کہ اس عمل کو زندگی بھر کریں گے حالانکہ اس طرح کا عمل کرنے کی دلیل نہیں ملتی ہے لہذا نماز پڑھنے کے لیے صحیح نیت اور صحیح عمل کی ضرورت ہے۔

اگر ارادہ بنانا ہو تو آپ اس طرح کا ارادہ بنائیں کہ جب بھی وضو کروں گی، اس کی سنت ادا کروں گی یا ہمیشہ مرتے دم تک وتر کی نماز نہیں چھوڑوں گی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ مرتے دم تک وتر کو نہ چھوڑنا اور انہوں نے وفات تک اس کی پابندی کی۔

اسی طرح ارادہ بنائیں کہ ہمیشہ پنج وقتہ نمازوں کے ساتھ سنت بھی ادا کریں گے یا ہمیشہ چاشت کی پابندی کریں گے یا تہجد کی پابندی کریں گے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن نمازوں کی تعلیم و ترغیب دی ہے ان کی پابندی کرنے کا عزم کریں اور اس پر عمل کریں۔

سوال: ميرى کزن نے منت مانی تھی کہ بیٹے کو بیماری کے بعد صحت ملنے پر آیت کریمہ کا ختم کروائے گی لیکن کیونکہ یہ بدعت ہے اس لیے اب منت پورا نہ  کرنے پر کوئی کفارہ دینا ہوگا یا منت پوری کرنی پڑے گی ؟

جواب:اگر کوئی منت ایسی ہو جس میں سنت کی مخالفت یا اللہ کی نافرمانی اور معصیت ہو رہی ہو تو ایسی منت پوری نہیں کی جائے گی۔ اور اس کا کوئی خاص کفارہ نہیں ہے تاہم چونکہ اس نے غلط چیز کی منت مانی اس کے لیے اللہ تعالی سے توبہ کرے کہ آئندہ اس طرح کی غلط منت نہیں مانوں گا۔

سوال: اگر لڑکیوں کا کوئی پرگرام ہو اور اس کی ویڈیو بنائی گئی ہو، اس میں بچیاں اور بڑے بھی ہوں تو کیا اس میں نعت لگاسکتے ہیں یا اس میں گناہ ملے گا۔ کسی ایک نے کہا کہ اس میں نعت مت لگاؤ، گانا لگادو کیونکہ بعض  نے دوپٹہ نہیں لگایا ہے؟

جواب:اس میں جو سب سے ضروری چیز جاننا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ لڑکیوں اور بچیوں کے پروگرام کی ویڈیو بنائے۔ عورت پردے کی چیز ہے اسے پردے میں ہی رہنے دینا چاہیے، اس کی ویڈیو بناکر اسے لوگوں کے درمیان نشر کرنا غلط کام ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ جب کوئی ویڈیو بن جاتی ہے تو پھر ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے حتی کہ لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے۔جب لڑکیوں اور بچیوں کی ویڈیو بنانا ہی غلط کام ہے پھر اس میں کوئی نظم وغیرہ سیٹ کرنا کیسے درست ہوگا اور گانا سیٹ کرنا تو اور بھی غلط ہوگا۔جس کسی کے پاس اس طرح کی ویڈیو ہو اسے اس میں کوئی چیز سیٹ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسی ویڈیو ڈیلیٹ کر دینی چاہیے اور آئندہ اس قسم کی ویڈیو بنانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

سوال: ایک خاتون امریکہ میں رہتی ہے، یہاں سے جو طلباء تعلیم حاصل کرنے کیلئے جاتے ہیں، وہ وہاں جاکر جاب بھی کرتے ہیں۔ وہاں پر طلباء اپنی سہولت کیلئے اپنے مفوضہ کام اور اسائنمنٹس دوسروں سے پیسے دیکر لکھواتے ہیں تو کیا اس طرح لکھ کر پیسے لے سکتے ہیں؟

جواب:تعلیمی اداروں میں طلبہ کا تعلیمی امور میں ایک دوسرے کی مدد کرنا یا ایک دوسرے سے مدد لینا کوئی حرج کی بات نہیں ہے حتی کہ اسکول اور کالج کی طرف سے سونپے گئے مضامین اور مقالات کی تیاری میں طلباء سے یا اساتذہ سے یا لائبریرین سے یا باہری لوگوں سے کتب و مواد کی دستیابی، مشکل چیزوں کی تفہیم، فہرست و حوالہ جات کی تیاری اور ترتیب، تزئین اور کتابت وغیرہ میں مدد لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

کالج و یونیورسٹی کی طرف سے طلبہ کو سونپے گئے مقالات کی تیاری میں آج کل ایک کام یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ طلبہ پیسہ دے کر دوسروں سے اپنا مقالہ لکھواتے ہیں یا کچھ لوگ یونیورسٹی مقالہ لکھنے کو پیشہ کے طور پر اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کا مقالہ لکھ کر اس سے کمائی کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ اگر یونیورسٹی نے کسی طالب کو اس کی صلاحیت جانچنے یا کوئی ڈگری دینے کے واسطے مقالہ لکھنے کی ذمہ داری دی ہے تو ایسے طلبہ کو اپنا مقالہ خود سے ہی لکھنا ضروری ہے کیونکہ یونیورسٹی کو یہی مطلوب ہے کہ طالب خود سے مقالہ لکھ کر ادارہ کو سونپے۔ اگر کوئی طالب یونیورسٹی کے مقالہ کو کسی اور سے لکھوا کر ادارہ کو جمع کرتا ہے تو یہ عمل ادارہ کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ ہے اور اس بنیاد پر اس کا ڈگری لینا بھی غلط ہوگا یعنی اس کی ڈگری صحیح نہیں مانی جائے گی۔ اس بات کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر یونیورسٹی کو معلوم ہوجائے کہ طالب نے یہ مقالہ خود سے نہیں بلکہ پیسہ دے کر کسی دوسرے سے لکھوایا ہے تو کیا اس کو ڈگری ملے گی تو اس کا جواب یہ کہ بالکل نہیں بلکہ اس کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے یا یونیورسٹی سے اس کا اخراج بھی کیا جاسکتا ہے۔

جیسے کسی طالب کا اپنا ذاتی مقالہ کسی اور سے لکھوانا جائز نہیں ہے، اسی طرح کسی آدمی کا کسی طالب کے لئے مفوضہ مقالہ لکھنا جائز نہیں ہے اور اگر کوئی اس طرح کا عمل کرکے پیسہ کماتا ہے تو اس کی کمائی بھی حرام ہوگی۔ جس کسی نے اپنی زندگی میں پہلے اس قسم کا عمل کیا یا کروایا اس کو توبہ کرنا چاہئے اور آئندہ کے لئے اس سے باز آجانا چاہئے۔

خلاصہ یہ ہے کہ نہ کسی طالب کو اپنا مفوضہ مقالہ کسی دوسرے سے بطور معاوضہ لکھوانا چاہیے اور نہ ہی کسی آدمی کو اجرت کے طور پر دوسروں کا مفوضہ مقالہ لکھنے کا پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔

سوال: کوئی بزرگ ضعیف ہوجائے اور ہگیز(Huggies) استعمال کرے تو وہ پہن کر نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب:اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ مریض اور ضعیف آدمی کے ساتھ نجاست سے حفاظت کے طور پر پمپر لگا ہوا رہتا ہے اس حالت میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ نماز سے پہلے وضو کیا جاتا ہے اور وضو صفائی ستھرائی کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے کسی مریض کے ساتھ نجاست والی کوئی چیز لگی ہو تو وضو سے پہلے اس کی صفائی کی جائے گی جیسے مستحاضہ ، وضو سے قبل خون کی صفائی کرتی ہے۔ نجاست صاف کرکے پھر صاف ستھرا پمپر لگایا جائے پھر وضو کرکے نماز پڑھی جائے گی۔

پمپر اگر پہلے سے صاف ستھرا ہو یعنی اس میں پیشاب یا پاخانہ نہ لگا ہو تو پھر اس کی صفائی کرنے یا بدلنے کی ضرورت نہیں ہے ، فقط وضو کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

کوئی کوئی معذور ایسا بھی ہوتا ہے جو خود سے پاکی حاصل نہیں کرسکتا اور کوئی اس کی مدد کرنے والا بھی نہیں ہوتا تو اس صورت میں جس قدر بھی صفائی ہوجائے کافی ہے حتی کہ اگر وہ نماز کے وقت صفائی کرنے کی قدرت نہ رکھے تو اسی حالت میں وضو کرکے (وضو نہ کرسکے تو تیمم کرکے) نماز پڑھ سکتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ جتنی طاقت ہو اس کے بقدر اللہ سے ڈرو۔

سوال: میں جاننا چاہتی ہوں کہ کون کون سے غسل میں بال کھولنا ضروری ہے جبکہ مضبوط چوٹی بندھی ہوئی ہو اور میں اسے کھولنا نہیں چاہتی۔اسی طرح حیض کے دوران غسل کرتی ہوں مثلا حیض کے پانچویں دن پھر تھوڑا خون دکھے تو اگلے غسل کے لیے چوٹی نہ کھولیں (سر نہ دھوئیں) تو کیا میرا غسل ہوجائے گا؟

جواب: غسل کامل کا ایک ہی طریقہ ہے جسے غسل جنابت کہا جاتا ہے، یہی غسل حیض میں ، نفاس میں ، جمعہ کے دن اور عیدین کے موقع پر کیا جاتا ہے۔اس غسل میں پہلے وضو کیاجاتا ہے پھر غسل کیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیلی معلومات کے مضمون"غسل کا مسنون طریقہ اور اس کے بعض مسائل" سے معلوم کرسکتے ہیں۔

ایک عورت کو جنابت سے یا حیض ونفاس سے غسل کرنے کی ضرورت ہو اس حال میں کہ بالوں میں  مضبوط چوٹی بندھی ہوتو اس کو کھولنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سر کے پورے بالوں کو گیلا کرنا اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچادینا کافی ہے۔ اسی طرح کسی خاتون نے دوران حیض غسل کیا پھر حیض سے پاکی کے وقت غسل کیا تو اس وقت بھی اسے چوٹی کھولنے کی ضرورت نہیں ہے، سر پہ اس طرح پانی بہائے کہ پورا بال جڑوں تک گیلا ہوجائے ، یہی کافی ہے۔

سوال:ایک عورت حاملہ ہے اور اس کے خاوند نے ایک ہی بار میں تین بار طلاقیں دے دی تو کیا طلاق واقع ہو جائیگی؟

جواب:حالت حمل میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس کی دلیل صحیح مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ اگر وہ طلاق دینا چاہے تو طہر میں طلاق دے یا حمل میں طلاق دے، حدیث اس طرح سے مروی ہے۔ابوطلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمٰن نے سالم سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی:

أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا (صحیح مسلم:1471)

ترجمہ: انہوں(ابن عمر) نے اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی، طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس (مطلقہ بیوی) سے رجوع کرے، پھر اسے حالت طہر میں یا حالت حمل میں طلاق دے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو حمل کی حالت میں طلاق دیتا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ اب جو مذکورہ بالا سوال ہے کہ ایک آدمی نے حمل کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق ایک ساتھ دی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا ہے، تو یہ ایک طلاق مانی جائے گی، تین طلاق نہیں مانے جائے گی۔ اس وجہ سے مذکورہ بالا صورت میں ایک طلاق واقع ہوگئی ہے۔ اگر اس سے پہلے کبھی طلاق نہیں ہوئی تھی تو یہ  رجعی طلاق ہے یعنی شوہر کو عدت میں رجوع کا اختیار ہوتا ہے۔ حمل کی صورت میں طلاق کی عدت، وضع حمل ہے، اگر شوہر وضع حمل سے پہلے پہلے رجوع کرلیتا ہے تو میاں بیوی کا رشتہ بحال رہے گا اور عدت میں رجوع نہیں کرتا ہے یہاں تک کہ حمل وضع ہو جاتا ہے تو میاں بیوی کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہوجائے گی ۔

سوال:کسی عورت کو کئی دنوں تک حیض رہ جاتا ہے اور صاف ہوتے ہوتے نو دس دن لگ جاتے ہیں تو کیا ان تمام دن میں نماز چھوڑ دے گی اور مجھے جاننا ہے کہ اصل میں حیض کی مدت کتنی ہوتی ہے؟

جواب:حیض کی اقل مدت  یا اکثر مدت متعین نہیں ہے، یہ حالات پہ منحصر ہے، جس عورت  کے ساتھ جو معاملہ ہوگا اس حساب سے حکم لگے گا۔ اگر کسی عورت کو نو یا دس دن تک  لگاتار حیض  آئے تو یہ سارے دن حیض کے مانے جائیں گے اور ان دنوں میں  اسے نماز سے رکنا پڑے گا۔

لگاتار حیض نہ آئے یا پاک ہونے کے بعد پھر سے حیض آئے تو پھر اس کا حکم بدل جائے گا، ایسی کوئی کیفیت آپ کے ساتھ ہے تو اس کی وضاحت کرکے اس بارے میں اپنا حکم جان سکتے ہیں ۔ احکام حیض سے متعلق تفصیلی جانکاری کے لئے میرا مضمون " حیض اوراستحاضہ کے احکام ومسائل" پڑھیں۔

سوال: میں نے پاکستان کے اپنے علاقہ میں دیکھا ہےکہ  کچھ بیوہ  عورتیں اپنے گھروں میں  اکیلے رہتی ہیں، ان کی اولاد ہیں جو شادی شدہ ہیں اور انہیں چھوڑکے دوسرے ممالک میں رہتی ہیں۔ ان کے والدین فوت ہوچکے ہیں اور یہ شادی کرنا چاہتی ہیں تنہائی کی وجہ سے پھر ولی کون بنے گا، بھائی ہیں مگر شادی کے لئے راضی نہیں ہیں؟

جواب:بیوہ عورتیں جو گھروں میں اکیلی رہی ہیں ، انہیں زندگی گزارنے کے لئے شادی کی ضرورت ہو تو وہ بلاشبہ کرسکتی ہیں۔ عمرکے کسی مرحلہ میں شادی ممنوع ہے تاہم عورتوں کے لئے خواہ مطلقہ و بیوہ یا باکرہ ہو، ان کے لئے ولی کی ضرورت ہرحال میں ہے۔ بھائی شادی کرانے کے لئے راضی نہیں ہے تو جو بیٹے گھر سے باہر رہتے ہیں ، ان کی رضامندی سے شادی کرلے، شاد ی میں ولی کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی رضامندی کافی ہے۔

سوال: ایک حنفی بھائی ہے جس کا مطلقہ خاتون سے نکاح ہوا ہے مگر اس میں ولی کوئی نہیں تھا۔ جب اس سے ولی کے بارے میں کہاگیا تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں نکاح ہوجاتا ہے بلکہ ایک دلیل بھی دی کہ سورہ بقرہ 232 نمبر آیت میں ولی کو کہا گیا ہے کہ مطلقہ کو نکاح سے مت روکو یعنی ولی کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے بھائی کو کیا جواب دیا جائے؟

جواب:نکاح کے واسطے عورت کے لئے ہرحال میں ولی کا ہونا ضروری ہے خواہ مطلقہ ہی کیوں نہ ہو ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

لا تُنكَحُ الأيِّمُ حتى تُستأمَرَ، ولا تُنكَحُ البكرُ حتى تُستأذَن. قالوا: يا رسولَ الله، وكيف إذنُها؟ قال: أن تسكُتَ(صحيح البخاري:5136)

ترجمہ: بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی۔

یہ حدیث واضح طورپر دلیل ہے کہ کنواری اور شادی شدہ دونوں قسم کی عورتوں کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے۔ سورہ بقرہ کی مذکورہ آیت میں بھی یہی مسئلہ بیان کیا گیا ہے چنانچہ پہلے آیت دیکھیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ(البقرۃ:232)

ترجمہ:اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔

اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ جب دوبارہ سابق شوہر سے نکاح کرے گی تو اس وقت بھی ولی کی رضامندی ضروری ہے تبھی تو اللہ نے ولی کو کہا کہ مطلقہ کو سابق شوہر سے نکاح کرنے سے نہ روکو ،اگر یہ دونوں رضامند ہوں ، ورنہ ولی کو یہ حکم دینے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس آیت کی شان نزول دیکھیں گے تو بات اور بھی واضح ہوجائے گی ۔

حسن بصری نے آیت «فلا تعضلوهن‏» کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص (ابوالبداح) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فلا تعضلوهن‏» کہ ”تم عورتوں کو مت روکو“ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔ (صحيح البخاري:5130)

صحیح بخاری کی اس حدیث سے بات بالکل واضح ہوگئی کہ مذکورہ بالا آیت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک صحابی نے اپنی مطلقہ بہن کو سابق شوہر سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تھاجب سابق شوہر نے پیغام نکاح دیا تھا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ، گویا ولی کی ضرورت موجود ہے تاہم یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مطلقہ اگر سابق شوہرسے نکاح کرنا چاہے تواسے نکاح سے مت روکو یعنی نکاح میں جیسے ولی کی رضامندی چاہئے ، ویسے ہی لڑکی بھی رضامندی چاہئے ، دونوں کی رضامندی کے ساتھ نکاح ہونا چاہئے۔المہم ، مطلقہ کے نکاح کے لئے بھی ولی چاہئے اور باکرہ کے نکاح کے لئے بھی ولی چاہئے، بغیر ولی کے نکاح نہیں ہوگا، یہ بات پوری طرح دلائل سے واضح ہے۔

سوال: کبھی کبھار جب ہم دودھ دور رہے ہوتے ہیں تو جانور پیشاب کر دیتا ہے جس کے چھینٹے کپڑے پر پڑ جاتے ہیں اس کے لیے کیا کپڑا بدلنا پڑے گا کیونکہ بسا اوقات نماز کا وقت ہوتا ہے؟

جواب: ماکول اللحم جانور کا پیشاب اور پاخانہ پاک ہے ، وہ اگر کپڑے میں لگ جائے تو اس سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتا ہے بلکہ پاک ہی رہتا ہے اس وجہ سے اسے بدلنے کی ضرورت نہیں ہے اور دھلنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ پیشاب میں کچھ بو ہوتی ہے پھر چھینٹے لگنے سے کپڑے پر نشان بھی پڑجاتا ہے اس لئے مثاتر اور نشان زد جگہ کواگر  دھل لیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: اگر شخص کو سردی کے موسم میں پیشاب کے قطرے نکل جاتے ہیں ، وہ کیسے پاکی حاصل کرے، کیا کپڑا بدلنا پڑے گا؟

جواب: اسے کپڑا بدلنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ وضو کرتے وقت پیشاب لگے مقام کو پانی سے دھل لے اور نیکر یا پیڈلگالے تاکہ وضو کے بعد یا دوران نماز قطرے نہ گرے۔ پھر وضو کرکے نماز پڑھے ۔

سوال: ہمارے یہاں ایک سال (دوفصل کے لئے) کی کھیتی کے لئے پچاس ہزار روپئے میں زمین دی جاتی ہے، جب سال پورا ہوجاتا ہے تو پچاس ہزار لوٹادیا جاتا ہے اور زمین لینے والا زمین واپس کردیتا ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب:یہ معاملہ قرض کا ہے اور سود پر مبنی ہے یعنی سودی قرض والا معاملہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک آدمی زمین دیتا ہے اور دوسرا آدمی، اس زمین دینے والے کو پیسہ دیتا ہے ۔پیسہ لینے والا پھر پیسہ مقررہ میعاد پرپیسہ لوٹادیتا ہے گویا اس آدمی نے قرض لیا تھا اس نے اپنا قرض لوٹادیا ۔ پیسے دینے والا زمین لے کر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اورجب  قرض لوٹا دیا جاتا ہے تو وہ زمین بھی لوٹادیتا ہے۔ یہاں پہ قرض دے کر فائدہ اٹھایاجارہا ہے جو بلاشبہ سود ہے۔ شریعت میں ایک اصولی قاعدہ ہے:"كلُّ قرضٍ جَرَّ مَنفعةً فَهوَ ربًا" کہ ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔ یہاں پر بھی وہی معاملہ ہے اس وجہ سے یہ سودی معاملہ ہے۔ مسلمانوں کو اس قسم کے سودی معاملہ سے باز رہنا چاہئے کیونکہ سود کا انجام بہت ہی برا ہے۔  

سوال:اچانک موت کے بارے میں شرعی نصوص میں بظاہر دو مختلف پہلو پائے جاتے ہیں، عبید بن خالدسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ»(سنن أبي داود، حدیث: 3110 / سنن البيهقي 3/377)

ترجمہ: اچانک موت اللہ تعالیٰ کے غضب کی ایک گرفت ہے۔

اور دوسری حدیث، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے :«مَوْتُ الْفَجْأَةِ رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ»

(مصنف ابن أبي شيبة 3/247، رقم: 10218،البيهقي في الشعب 7/255، المشكاة: 1611)

ترجمہ: اچانک موت مؤمن کے لیے راحت ہے اور فاجر کے لیے عذاب ہے۔

ان دونوں میں بظاہر تعارض لگ رہا ہے ، اس کا کیا حل ہے؟

جواب:دراصل ان دونوں  میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ان دونوں احادیث کا مطلب یہ ہے کہ اچانک موت مومن کے حق میں راحت کا سامان ہے جبکہ فاجر کے حق میں غذاب ہے۔ مومن تو اپنے اعمال کے سبب اور آخرت کی تیاری کے تئیں موت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے اس لئے اس کے واسطے اچانک موت میں کوئی دقت نہیں ہے ، دقت اس مسلمان کے لئے ہے جس کے ایمان میں کمزوری ہے اور آخرت کو بھلائے بیٹھے ہیں۔ کافر کا معاملہ تو سراسر خراب ہے، اچانک موت سے اس کی آخرت تباہ ہوجاتی ہے کیونکہ وہ توبہ کرنے اور ایمان لانے کا موقع کھو بیٹھتا ہے۔یہ موقع ہر موت سے ختم ہوجاتا ہے مگر اچانک موت مزید سنبھلنے نہیں دیتی اور اچانک موت قرب قیامت کی نشانی میں سے بھی ہے۔

سوال: وقف ترمیمی بل کے تحت امید پورٹل پر موقوفہ اراضی رجسٹر کرنا ہے۔کافی پرانی زمین ہے اورواقف کا نام معلوم نہیں ہے۔امید پورٹل پر رجسٹر کرنے کےلیے واقف کا نام ضروری ہے ورنہ زمین سرکاری ہوجائے گی۔کیا ایسی صورت میں کسی دوسرے کا نام بطور واقف کے ڈالا جا سکتا ہے موقوفہ اراضی کے تحفظ کے لیے؟

جواب:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان میں وقف اراضی کے لیے جو صورتحال  درپیش ہے، وہ  کافی ناگفتہ بہ ہے ۔اس سلسلے میں وقف کی زمینوں کو رجسٹرڈ کر لینا ہر حال میں ضروری ہے ۔ شریعت کے اندر ایک قاعدہ ہے کہ ضرورت کے وقت ممنوعہ چیزیں  جائز ہو جاتی ہیں لہذا جو پراپرٹی وقف ہے مگررجسٹرڈ نہیں ہے  اور واقف کا نام  بھی معلوم نہیں ہے تو اس سلسلے میں کسی کا نام دیا جا سکتا ہے تاکہ یہ زمین وقف کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہو جائے اور بعد میں کسی طرح کی کوئی  قانونی دقت نہیں پیش آئے۔ اس کے لیے ایک صورت یہ اپنائی جائے کہ جہاں پر یہ موقوفہ اراضی  ہے، وہاں کے لوگوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی جائے، ممکن ہے کہ کسی کے علم میں واقف کا نام ہو۔ نام کسی کو نہ بھی معلوم ہو پھربھی لوگوں کے علم میں یہ بات رہے کہ مجبوری میں کسی کا نام بحیثیت واقف دیا جارہا ہے ۔ یہ بات سب کے علم میں بھی رہے اور لوگوں کے مشورہ سے ہی مناسب نام پیش کیا جائے گا۔

سوال:ایک لڑکی ہے جس کا کسی وجہ سے بچپن میں عقیقہ نہیں ہو پایا تھا، اس لڑکی کی شادی ہو چکی ہے اور اب اس کا عقیقہ ہو رہا ہے تو کیا اس کا سر مونڈانا یا سر کے بال کا تھوڑا سا حصہ کاٹنا کافی ہوگا؟

جواب:جس لڑکی کا بچپن میں عقیقہ نہیں ہوا تھا اب اگر اس کا عقیقہ ہو رہا ہے تو اب اس کا بال کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے، بال کاٹنے کا جو مسئلہ ہے وہ ساتویں دن  سے متعلق ہے اور لڑکی کا معاملہ لڑکوں سے مزید مختلف بھی ہوتا ہے۔ لڑکیوں کا بال زینت ہے اسے بعد میں  بالکل بھی نہیں کاٹنا چاہیے ۔ ساتویں دن جب  عقیقہ کیا جاتا ہے ، اس میں بال کاٹنا چاہیے اور بال کے برابر چاندی صدقہ کرنا چاہیے اور عقیقہ کرنا چاہیے لیکن بعد میں عقیقہ ہو رہا ہے تو پھر بال کاٹنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے، تھوڑا بھی نہیں بس عقیقہ کر دیا جائے یہی کافی ہے۔

سوال:ایک شخص اپنی زمین بیچ کر حج کے لئے جا رہا ہے، زمین لینے والے نے پیسہ دے دیا ہے لیکن زمین ابھی لینے والے کے  نام نہیں ہوئی ہے۔ حج کے بعد زمین اس کے نام ہوگا تو کیا ایسی صورت میں اس پیسہ سے حج ہو جائے گا واضح رہے کہ پیسہ دینے والے کو کوئی اعتراض  نہیں ہے؟

جواب:کوئی آدمی اپنی زمین بیچ کراس پیسے سے  حج کرنا چاہے تو حج کر سکتا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور زمین ابھی نام ہوا یا نہیں ہوا  یابعد میں نام  ہوگا، اس سے حج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔زمین بیچ دیا ہے اس پیسے سے آدمی حج کر سکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس نے زمین بیچ دی اور پورا پیسہ بھی لے لیا ہے اس کے ذمہ ہے کہ جتنی جلدی ہوپیسہ دینے والے کے نام زمین رجسٹرڈ کرادے تاکہ وہ اس معاملہ میں بری ہوجائے ۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ تاخیر میں کوئی عذر اور مجبوری ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب عذر ختم ہوجائے اس وقت رجسٹرڈ کرادے۔باقی رہا حج کرنے کا مسئلہ تو اس پیسے سے حج کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوال: ابراہیم پٹھان کو ان کی بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد میں پہلے سے ایک لڑکا اور تین لڑکیاں ہیں۔ اب دو جڑواں لڑکیاں پیدا ہوئیں ہیں، ان میں سے ایک لڑکی کو ابراہیم پٹھان کے چھوٹے بھائی ماسٹر غلام دستگیر پٹھان نے گود لے لیا اور اس کا نام دانین پٹھان رکھا گیا۔ ابھی برتھ سرٹیفکیٹ بنوانا باقی ہے۔ پیشے سے ماسٹر غلام دستگیر پٹھان کی شادی کو تقریباً بارہ  سال ہوگئے ہیں اور ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے۔ کیا دانین پٹھان کے برتھ سرٹیفکیٹ پر اصلی باپ ابراہیم پٹھان کے نام کی بجائے گود لینے والے سگے بھائی ماسٹر غلام دستگیر پٹھان کا نام لکھ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ دانین ہی غلام دستگیر کی اصل وارث دار بننے والی ہے اس لئے اسلامی شرعی اور بھارتی قوانین کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ دانین پٹھان کے برتھ سرٹیفکیٹ پر اصل باپ ابراہیم پٹھان کا نام لکھنا چاہیے یا گود لینے والے سگے چچا ماسٹر غلام دستگیر پٹھان کا نام لکھنا چاہیے؟

جواب:لڑکی کا جو اصل باپ ہے برتھ سرٹیفیکیٹ میں اسی کا نام لکھا جائے گا، گود لینے والے کا نام نہیں لکھا جائے گا۔ بھارت کا کیا قانون ہے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، یہ شریعت کا قانون ہے کہ جس کی اولاد ہے اس کی طرف نسبت ہوگی اور وراثت میں بھی اصل باپ کی جائیداد سے حصہ دار ہوگی۔

جس نے بچہ گود لیا ہے اس کو کوئی اولاد نہیں ہے تو اس کی جائیداد کے لئے  بھی وارثین ہوں گے ، ان کو اپنے نصیب سے نظام وراثت کے تحت حصہ ملے گا  ۔ اگر چاہے تو اس لڑکی کے نام ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے جو ماسٹر غلام دستگیر کی وفات پر اس لڑکی کو ملے گا۔ بقیہ جائیداد سے وارثین حصہ پائیں گے۔ 

 

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔