Saturday, January 3, 2026

ڈراپ شپنگ کا شرعی حکم


 ڈراپ شپنگ کا شرعی حکم

مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ – سعودی عرب


ای کامرس(E-Commerce) کے کاروبار میں ایک کاروبار ڈراپ شپنگ  (Drop shipping) بھی ہے۔ آج کل اس کاروبار کا بہت شہرہ ہے اور بہت سارے لوگ بشمول خواتین گھر بیٹھے ڈراپ شپنگ کا کاروبار کررہے ہیں۔ چونکہ اس کاروبار میں زیادہ  کچھ انویسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے پاس سامان(مصنوعات) کا ذخیرہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ڈراپ شپنگ سے لوگوں کی دلچسپی زیادہ ہے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر اپنا ایک آن لائن اسٹور بنا لیتے ہیں اور وہاں پر اپنے حساب سے اشیاء کا اشتہار لگاتے ہیں۔ اس کو مختصر الفاظ میں ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ ڈراپ شپنگ ایک آن لائن اسٹور ہے جہاں پر فقظ مصنوعات کا اشتہار ہوتا ہے ، وہ مصنوعات بیچنے والے کے پاس دکان یا اسٹورمیں موجود نہیں ہوتے۔جیسے کوئی خریدار کسی سامان کا  آن لائن آڈر کرتا ہے تو ڈراپ شپر، اپنے سپلائر(اصل مالک/کمپنی )  جس سے معاہدہ ہوتا ہے ، اس کو مطلوبہ سامان آڈر پر روانہ کرنے کے لئے کہتا ہے  یا پھر ڈراپ شپرکسی آن لائن کمپنی سے انٹرنیٹ پر سودا کرکے، بغیر قبضہ کئے سامان طلب کرنے والے کو بھجوا دیتا ہے۔ یہاں پر ڈراپ شپر خود کو سامان کا مالک کی حیثیت سے پیش کرتا ہے جبکہ سامان کا مالک، اصل میں سپلائر ہوتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت کی  نظر میں ڈراپ شپنگ کا کاروبار جائز ہے کیونکہ اس کاروبار میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر غیرمملوکہ مصنوعات کی تجارت کی جاتی ہے۔ اسلام میں ایسی چیز کی بیع کرنا جو ملکیت میں نہ ہو ، جائز نہیں ہے۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ. فَقَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.(سنن ابي داود:3503)

ترجمہ: اللہ کے رسول! آدمی آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے سودا کر لوں، اور بازار سے لا کر اسے وہ چیز دے دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچو۔

رسول اللہ ﷺ کا واضح طور پر فرمان ہے کہ کوئی آدمی ایسی چیز نہیں بیچ سکتا ہے جو اس کے قبضہ اور ملکیت میں نہ ہو مگر ڈراپ شپنگ میں ایسی ہی اشیاء کی تجارت ہوتی ہے جو تاجر کے پاس موجود نہیں ہوتی ہے۔

عام طورپرلوگ  ڈراپ شپنگ کا کاروبار جائز وناجائز کی پرواہ کئے بغیر کرتے ہیں مگر ایک مسلم کو شریعت کی روشنی میں تجارت کرنا چاہئے تاکہ اس کی آمدنی حلال ہو اور وہ دوسروں کو بھی حلال  کاروبار مہیا کرے۔ بظاہر ڈراپ شپنگ کا کاروبار ٹھیک نہیں لگتا ہے کیونکہ یہاں ایسی چیز کی فروخت ہورہی ہے جو بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہوتی  لیکن ڈراپ شپنگ میں جائز صورتیں بھی موجود ہیں، ان کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

ڈراپ شپنگ کی جائز صورتیں :

ایک آدمی چاہے تو ڈراپ شپنگ کاکاروبار بھی حلال طریقے پر کرسکتا ہے اور ناجائز امور سے بچ سکتا ہے۔اس کی مندرجہ ذیل جائز صورتیں ہیں۔

پہلی صورت: ڈراپ شپنگ میں بیع سلم(بیع سلف) کے طرز پر حلال کاروبار کیا جا سکتا ہے۔ بیع سلم کو بیع سلف بھی کہتے ہیں، دراصل یہ بھی ایک ایسی چیز کی بیع ہے جس میں سامان پہلے سے موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ ذمہ میں ایک چیز کی بیع ہوتی ہے جو غیرمتعین ہوتی ہےتاہم اس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اصول بتایا ہے کہ تم جب کسی چیز کی بیع سلم کرو تو اس کی مقدار، اس کے مواصفات اور اس کا وقت متعین ہو۔ اس بارے میں فرمان رسول دیکھیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا:

قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ:" مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ، فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ(صحيح البخاري:2240)

ترجمہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہے، اسے مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے ٹھہرا کر کرے۔

ڈراپ شپنگ میں بیع سلم اس طرح کرسکتے ہیں کہ ڈراپ شپر ، خریدار سے ایک چیز کی بیع کرتا ہے ، اس سے اس چیز کی مقدار(کمیت)، اس کے مواصفات(کیفیت) اور میعاد(وقت) متعین کرلینا ہے اور پھر اس چیز کی مکمل قیمت پیشگی ہی لے لیناہے اور وقت مقررہ پر مذکورہ صفات کی حامل چیزخریدار کو ارسال کردینا ہے۔یاد رہے کہ پیشگی قیمت نہ لے تو یہ بیع سلم نہیں ہوگی ۔ ڈراپ شپنگ کے مروجہ طریقوں میں دیکھا جاتا ہے کہ سامان کی قیمت ڈراپ شپر کے پاس نہیں بلکہ سپلائر کے پاس جاتی ہے پھرایسی صورت میں بیع سلم نہیں ہوگی ۔ جب آپ ڈراپ شپنگ میں بیع سلم کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ سامان کی قیمت آپ کے پاس آئے ، آپ کو اس قیمت پر اسی وقت اختیار حاصل ہو، جب آپ نے بیع سلم کی ہے۔

دوسری صورت : بیع مرابحہ کی صورت اختیار کرنا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی خریدار ڈراپ شپر سے کوئی سامان طلب کرے تو اس سے اس وقت بیع کا معاملہ نہ کرے بلکہ بیع کا محض وعدہ کرے اور کہے کہ  میرے پاس یہ چیز بروقت موجود نہیں ہے، میں کچھ دنوں میں مثلا ہفتہ دن میں مہیا کرادوں گا۔ اب ڈراپ شپر اپنے پیسوں سے مطلوبہ سامان جس سپلائر سے چاہے خریدے اور پھر اس سامان کو اپنی ملکیت میں لے کر اس پر قبضہ حاصل کرے پھر خریدار کو وہ چیز ارسال کردے۔ یاد رہے کہ اس میں خریدار سے  پیشگی کچھ بھی رقم نہیں لینا کیونکہ رقم لینے کا مطلب آپ بیع کررہے ہیں جبکہ یہاں آڈر لیتے وقت بیع نہیں کرنا ہے ، فقط وعدہ بیع کرنا ہے۔

تیسری صورت: ڈراپ شپر خریدار کا ایجنٹ بن کر کام کرے جس کو عام زبان میں کمیشن ایجنٹ کہا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوگی کہ جب کوئی خریدار، ڈراپ شپر سے کسی چیز کو طلب کرے تو اس خریدار سے کہے کہ میرے پاس یہ  سامان موجود نہیں ہے مگر میں کمیشن پر آپ کو یہ چیز مہیا کرادوں گا، نیز شروع میں ہی  اپنی اجرت  طے کرلےیعنی اجرت پہلے سے طے اور معلوم ہو۔ پھر ڈراپ شپر ، خریدار کے پیسوں سے مطلوبہ چیز کسی سپلائر سے طلب کرے، یہ سپلائر براہ راست خریدار کو سامان بھیج سکتا ہے، ڈراپ شپر کو اپنے قبضہ میں یہ سامان لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس معاملہ میں ڈراپ شپر محض ، درمیان کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ خریدار، مشتری  ہے اور سپلائر، بائع ہے۔گاؤں اور شہر میں زمین یا مکان کے تعلق سے ایسے کافی ایجنٹ  کام کرتے ہیں مثلا کسی کے پاس گھریا زمین ہے، وہ کسی ایجنٹ سے کہتا ہے کہ میری یہ چیز اتنی قیمت میں بیچ دو ، میں تمہیں اتنی اجرت دوں گایا میرے لئے ایک مکان یا پلاٹ خرید دو، میں اتنی اجرت دوں گا۔ اس طرح معاملہ کرنے  میں کوئی حرج نہیں ہےبشرطیکہ معاملہ امین بن کر کیا جائے، سامان یا قیمت وغیرہ میں کسی قسم کا فریب نہ دے۔اس مقام پر یہ یاد رہے کہ ڈراپ شپر اس صورت میں سامان کی وہی قیمت بتائے گا جو کمپنی (سپلائر)کی طرف سے متعین ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ کمیشن ایجنٹ بن کر کام کررہے ہیں اور کسی سپلائر سے خریدار کے لئے اپنے پیسوں سے سامان خریدتے ہیں تو یہ شکل جائز نہیں ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ کسٹمر کا پیسہ سپلائر کے پاس جمع ہوتا ہے اور ڈراپ شپر اپنے پیسوں سے سامان خریدکر دیتا ہے تو کمیشن والی یہ صورت جائز نہیں ہوگی۔

چوتھی صورت: ڈراپ شپر، سپلائرکا ایجنٹ بن کرکام کرے۔ اس  کی صورت یہ ہے کہ آپ خریدار کے سامنے خود کو تاجر یا مالک نہیں ظاہر کریں گے بلکہ سپلائر کا ایجنٹ کی حیثیت سے پیش کریں گے۔ ایسی صورت میں کاروبارکے لئے اشیاء کا ڈراپ شپر کی ملکیت  میں ہونا ضروری نہیں ہےکیونکہ یہاں ڈراپ شپر بائع اور مشتری کے درمیان، وہ فقط  مڈل مین ہے۔ سپلائر(کمپنی) اور ڈراپ شپر کے درمیان منافع طے ہو کہ کتنا بیچنے پرکتنامنافع ملے گا۔ پھر جب کوئی خریدار، ڈراپ شپر سے سامان طلب کرے تو یہ سپلائر سے وہ ،مطلوبہ سامان آڈرکرنے والے کو اس کے پتہ پر ارسال کرنے کو کہے۔

کمیشن ایجنٹ کے منافع سے متعلق صورت واضح ہو۔یہ بھی معاملہ درست ہے کہ سپلائر کے سامان کو سپلائر کی طے کی گئی قیمت پر ڈراپ شپر آڈر لے اور منافع الگ سے طے کرلے یا پھر وہ سپلائر سے اس طرح معاہدہ کرلے کہ سامان کی اصل قیمت پر اپنا منافع رکھ کرخریدار کو بیچے ۔ جو اصل قیمت ہوگی وہ سپلائر کی اور جو اس پہ منافع ہوگا وہ ڈراپ شپر کا۔ اس طرح معاہدہ کرنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں:

 لَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ بِعْ هَذَا الثَّوْبَ، فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ(صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/بَابُ أَجْرِ السَّمْسَرَةِ:Q2274)

ترجمہ: اگر کسی سے کہا جائے کہ یہ کپڑا اتنی قیمت میں بیچ لا۔ جتنا زیادہ ہو وہ تمہارا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔