Monday, June 8, 2026

پردیسی کی اپنے ملک میں قربانی

 پردیسی کی اپنے ملک میں قربانی


بہت سارے لوگ روزگار کی تلاش میں گھروالوں اور اپنے وطن سے دور دوسرے ممالک میں اکیلے زندگی گزارتے ہیں ۔ عید الاضحی کے موقع پر وہ گھر والوں کا خیال کرکے اپنی قربانی اپنے وطن میں کرتے ہیں تاکہ اس کی طرف سے قربانی بھی ہوجائے اور گھر والے بشمول رشتہ دار حضرات قربانی سے فائدہ بھی اٹھالیں ۔ جب صورت حال ایسی ہو کہ ایک اکیلا شخص کسی دوسرے ملک میں ہو اور اس کی پوری فیملی دوسرے ملک میں ہو اور وہ اپنی قربانی اپنے اہل وعیال کے یہاں دینا چاہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔

جب پردیس میں رہنے والا اپنےرہائشی ملک میں قربانی نہ دے کر ، اپنے اہل وعیال کے یہاں اپنی جانب سے قربانی دے گا تو اس کی قربانی کا جانور اس جگہ کے اعتبار سے ذبح کیا جائے گاجہاں قربانی دی جارہی ہے یعنی اپنے اہل وعیال کے اعتبار سے۔ جیسے پردیسی کے گھر والے عید کی نماز پڑھ لیں، اس کے بعد وہ قربانی دی جاسکتی ہے۔ قربانی ذبح کرنے  میں اس شخص کی جگہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گاجس کی جانب سے قربانی دی جارہی ہے بلکہ اس کے وکیل کی جگہ کا اعتبار ہوگا جہاں اس کی قربانی ہونی ہے۔ یہاں وکیل ، موکل کے قائم مقام ہے۔

لجنہ دائمہ سے ایک شخص نے سوال کیا ہے کہ اس کا ایک رشتہ دار علاج کی غرض سے امریکہ میں مقیم ہے اور اس نے اپنی قربانی خریدنے اور ذبح کرنے کے لیے اسے سعودی عرب میں وکیل بنایا ہے۔ اب وہ پوچھتا ہے کہ کیا وہ اپنی نمازِ عید ادا کرنے کے بعد اور امریکہ میں اپنے رشتہ دار کے یہاں نمازِ عید کا وقت داخل ہونے سے پہلے، اس کی قربانی ذبح کرسکتا ہے؟

اس پر لجنہ نے جواب دیا کہ وکیل کے لیے جائز ہے کہ وہ موکل کی قربانی اپنی نمازِ عید کے بعد ذبح کردے، اگرچہ موکل کے اعتبار سے ابھی عید کا وقت نہ ہوا ہو کیونکہ وکیل اپنے موکل کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قربانی اُس ملک میں وقتِ ذبح، داخل ہونے سے پہلے کی گئی ہو جہاں موکل مقیم ہے۔

اس میں ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ موکل اپنا بال وناخن کب کاٹے گا؟ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین ؒ نے کہا کہ جب اُس ملک میں، جہاں قربانی کروانے والا شخص موجود ہے، قربانی کا وقت شروع ہو جائے تو اس کے لیے بال، ناخن اور جسم کے بال وغیرہ کاٹنا جائز ہو جاتا ہے، اگرچہ ابھی اس کی قربانی حقیقتاً ذبح نہ ہوئی ہو۔ (100 سؤال وجواب في العمل الخيري/ سوال نمبر3: شیخ کی ویب سائٹ سے منقول)

اس میں ایک  دوسراقول یہ ہے کہ جب وکیل موکل کی طرف سے قربانی ذبح کردے تب اس موکل کے لیے بال اور ناخن کاٹنا جائز ہوگا۔ گویا وکیل کے یہاں محض قربانی کا وقت داخل ہونا کافی نہیں ہے بلکہ قربانی ذبح ہونا ضروری ہے تبھی موکل اپنا بال وناخن کاٹ سکتا ہے۔ یہی دوسرا قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ بال و ناخن کاٹنے کا تعلق قربانی ہونے سے ہے، نہ کہ وقت داخل ہونے سے۔


کتبہ / مقبول احمد سلفی

جدہ دعوہ سنٹر، سعودی عرب

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔