وتر کی نماز کا حکم
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نماز وتر کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے۔ آپ ﷺ نے اس نماز کو حضر کی طرح سفر میں بھی متواتر ادا فرمایا ہے حتی کہ آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کو بھی اس پر مواظبت کی تعلیم دی ہے چنانچہ ابوھریرہ رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں:
أَوْصَانِي
خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ
أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ
أَنَامَ.(صحيح البخاري: 1981)
ترجمہ:میرے
خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت
فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ
سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔
نبی ﷺ نے نماز وتر پڑھنے کے تعلق سے اپنی امت کونماز وتر
پڑھنے کی بڑی تعلیم وترغیب دی ہے بلکہ اس
نماز کی ادائیگی کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نیند سے بیدار کرتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی
ہیں:
كَانَ
النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ
مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي
فَأَوْتَرْتُ".(صحيح البخاري: 512)
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
سامنے) بچھونے پڑ آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا
چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔
ان باتوں
سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے، ایک مومن کو اس نماز کے
تئیں ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے خواہ سفر ہو
یا حضر۔
اب سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وتر کی نماز واجب ہے یا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے؟
اس مسئلہ میں امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمدؒ اور
ایک روایت کے مطابق امام ابوحنیفہؒ کا قول
یہ ہے کہ نماز وتر مسنون ہے، واجب نہیں ہے، یہی قول امام محمدؒ اور امام ابویوسفؒ
کا بھی ہے۔ اور دلائل کی روشنی میں وتر کا سنت ہونا ہی قوی ہے جس کی تاکید آئی ہے
یعنی نماز وتر سنت موکدہ ہے۔ جن لوگوں نے وتر کی نمازکو واجب کہا ہے ان کی بات
درست نہیں ہے۔
نماز وتر مسنون ہے، اس کے چند دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔
(1) وتر
کی نماز فرض نہیں، سنت ہے، اس بارے میں سب سے اہم دلیل طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ
عنہ سے مروی یہ حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
جَاءَ
رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ
يَسْأَلُهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ
غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ
غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ
غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ
يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ، قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ.(صحيح البخاري:
2678)
ترجمہ:ایک
صاحب (ضمام بن ثعلبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کے
متعلق پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دن اور رات میں پانچ نمازیں
ادا کرنا۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ نماز اور ضروری ہیں؟ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں یہ دوسری بات ہے کہ تم نفل پڑھو۔“ پھر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور رمضان کے روزے ہیں۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے
علاوہ بھی مجھ پر کچھ (روزے) واجب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ”سوا
اس کے جو تم اپنے طور پر نفل رکھو۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے سامنے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا، کیا (جو
فرض زکوٰۃ آپ نے بتائی ہے) اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی خیرات واجب ہے؟ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، سوا اس کے جو تم خود اپنی طرف سے نفل دو۔“ اس کے
بعد وہ صاحب یہ کہتے ہوئے جانے لگے کہ اللہ گواہ ہے نہ میں ان میں کوئی زیادتی
کروں گا اور نہ کوئی کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اس نے سچ
کہا ہے تو کامیاب ہوا۔“
یہاں پر فرض نمازوں کے بارے میں نبی ﷺ نے صرف پانچ نمازوں
کا ذکر کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کہ پانچ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں جن میں
وتر بھی ہے، فرض نہیں ہیں۔ شارح بخاری حافظ ابن حجرؒ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ یہ حدیث
اس بات کی دلیل ہے کہ دن اور رات میں ان کے علاوہ کوئی دوسری نماز فرض نہیں ہے اور
اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے جو وتر یا فجر کی سنت کو واجب قرار دیتے ہیں۔نیز یہ
حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے چنانچہ صحیح مسلم کے شارح امام نووی ؒ اس حدیث کے تحت
لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر واجب نہیں ہے۔ نیز صحابہ نے بھی اس
حدیث سے یہی سمجھاہے کہ وتر واجب نہیں ہے، اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔
(2)عَنِ
ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ
إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَى
رَاحِلَتِهِ.(صحيح البخاري: 1000)
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے انہوں نےکہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی
نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم اشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی
پر پڑھ لیتے۔
اس حدیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ فرض نماز سواری پر نہیں ادا فرماتے، صرف نفل نماز سواری
پر ادا فرماتے، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سواری پر وتر کی نماز ادا فرمایا
کرتے، گویا وتر کی نماز فرض نماز میں سے نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ سواری پر ادا فرمایا
کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام بھی آپ ﷺ کی طرح وتر کی نماز سواری پر ادا
فرمالیا کرتے۔
عَنْ
سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ
فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَيْنَ
كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ عَبْدُ
اللَّهِ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ.(صحيح
البخاري:999)
ترجمہ:
سعید بن یسار نے بتلایا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے
راستے میں تھا۔ سعید نے کہا کہ جب راستے میں مجھے طلوع فجر کا خطرہ ہوا تو سواری
سے اتر کر میں نے وتر پڑھ لیا اور پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔
آپ نے پوچھا کہ کہاں رک گئے تھے؟ میں نے کہا کہ اب صبح کا وقت ہونے ہی والا تھا اس
لیے میں سواری سے اتر کر وتر پڑھنے لگا۔ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے
فرمایا کہ کیا تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اچھا نمونہ نہیں ہے۔
میں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک ہے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
تو اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
(3)صحابہ
کرام بھی نمازوتر کو پنج وقتہ نمازوں کی طرح واجب نہیں سمجھتے
تھے بلکہ اسے سنت ہی سمجھتے تھے۔ اس سلسلے
میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول دیکھیں۔
قَالَ
عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا
كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ
اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.(سنن ابن ماجه: 1169) صححہ البانی
ترجمہ:علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہےبلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے،
طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے۔
ترمذی
میں صراحت کے ساتھ سنت کا لفظ وارد ہے۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں:
الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمُ
الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ
يُحِبُّ الْوِتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ(سنن ترمذی:453)
ترجمہ:علی
رضی الله عنہ کہتے ہیں: وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا اور فرمایا: اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو
پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن! تم وتر پڑھا کرو۔
ترمذی کی
اگلی روایت ہے۔علی رضی الله عنہ کہتے ہیں:
الْوِتْرُ
لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ سَنَّهَا
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(سنن ترمذی:454)
ترجمہ: وتر لازم نہیں ہے جیسا کہ فرض صلاۃ کا
معاملہ ہے بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
کس قدر
صراحت کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وتر کا معاملہ پنج وقتہ فرض نمازوں
کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کا حکم سنت ہے۔
(4)اسی
طرح ایک دوسرے صحابی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے وتر کو واجب کہنے والے کے بارے
میں کہااس نے غلط کہا، وتر تو سنت نماز ہے۔ اس بارے میں حدیث دیکھیں۔
عَنْ
ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمَخْدَجِيّ
سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ
وَاجِبٌ، قَالَ الْمَخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ
كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ
مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ
أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ
اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ.(سنن
ابي داود: 1420)صححہ البانی
ترجمہ:
ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے
ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے
کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو
عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان
کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو
اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ
کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور
چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے۔
پنج وقتہ
فرض نمازوں والی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے صحابی رسول نے بالکل صراحت سے کہا کہ
وتر کی نماز فرض نہیں ہے یعنی یہ نماز سنت ہے۔ فرض تو صرف پانچ اوقات کی نمازیں
ہیں۔
(5) ایک
احتمال یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز
نہیں پڑھی۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے حج کا مفصل طریقہ
بیان کیا ہے۔ اس میں مزدلفہ کی رات سے متعلق جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔
حتَّى
أتى المُزدَلِفةَ، فصَلَّى بها المَغرِبَ والعِشاءَ بأذانٍ واحِدٍ وإقامَتَينِ،
ولم يُسَبِّحْ بينَهما شيئًا، ثُمَّ اضطَجَعَ رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه
وسلَّم حتَّى طَلَعَ الفَجرُ و صَلَّى الفَجرَ(صحيح مسلم:1218)
ترجمہ:
آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پڑھیں اور
ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی پھر آپ صلی
اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور
تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی۔
اس حدیث کی روشنی میں اہل علم کے درمیان اختلاف
پایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز ادا فرمائی یا نہیں ؟
ایک قول یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مزدلفہ کی رات بھی وتر کی نماز
ادا فرمائی ۔ اس بات کے لئے عمومی دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سفر وحضر
کبھی بھی وتر کی نماز نہیں چھوڑی۔ شیخ ابن عثیمین ؒ کا یہی رجحان ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ کی رات وتر کی نماز
نہیں ادا فرمائی۔ یہ موقف شیخ البانی
ؒ کا بھی ہے اور انہوں نے اس مسئلہ کو بڑی
تفصیل سے بیان کیا ہے، میں طوالت کے خوف سے متن ذکر نہیں کررہا ہوں تاہم اختصار کے
ساتھ اس کا مفہوم بیان کرتا ہوں۔ شیخ البانی ؒ بیان کرتے ہیں۔
"نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے مزدلفہ کی رات فرض نمازوں کے
جمع کرنے اور قصر کرنے کے علاوہ کوئی اور نماز ادا کی ہو۔ صحابۂ کرام جنہوں نے آپ
ﷺ کے بارے میں یہ نقل کیا کہ آپ سوئے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اس میں ایک مضبوط
اشارہ پایا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر اس رات صرف دو فرض
نمازیں ادا کیں: نمازِ مغرب اور نمازِ عشاء۔
اس روایت
سے ہم دو احکام اخذ کرسکتے ہیں:
پہلا حکم:
اللہ
تعالیٰ نے عام سفر کی حالت میں اور خاص طور پر مزدلفہ میں جمع کی حالت میں مسلمانوں
سے فرض نماز میں تخفیف فرمائی ہے۔ چنانچہ عشاء کی چار رکعتوں کو دو رکعت کردیا
البتہ مغرب کی رکعتیں اپنی اصل حالت پر برقرار رہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسافروں کے
لیے فرض نماز میں یہ تخفیف فرمائی ہے تو بدرجۂ اولیٰ نفل عبادات میں بھی تخفیف کا
معاملہ ہوگا۔
ہر وہ
شخص جو سنت کا فقیہ ہے، جانتا ہے کہ حاجی کی حالت عام مسافر سے زیادہ مشقت اور دقت
والی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی تعجب نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات
وتر کی نماز بھی ادا نہ کی ہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر مزید
آسانی اور تخفیف تھی۔
دوسرا
حکم:
نمازِ
وتر فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا
وتر بھی پانچ فرض نمازوں کی طرح واجب ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:نہیں، بلکہ یہ ایک
سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمایا ہے۔
لہٰذا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس رات وتر کو ترک کرنا اس بات پر بہت قوی دلیل ہے
کہ وتر کا حکم فرض نماز کے حکم سے مختلف ہے۔ فرض نماز کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی
لیکن وتر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات ترک فرمایا۔ اس سے ایک طرف
پہلے حکم کی وضاحت ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وتر فرض نہیں
بلکہ سنت ہے"۔(شیخ کے نام سے منسوب صوتیات والی ویب سائٹ سے ماخوذ)
میں
نےمزدلفہ کی رات سے متعلق آپ کے سامنے دونوں موقف بیان کردیا، اگر پہلا موقف
دیکھیں تب بھی وتر کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی اور اگر دوسراموقف یعنی شیخ البانیؒ کا
موقف دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز وتر سنت ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی معلوم رہے
کہ حاجیوں کے لئے مزدلفہ کی رات وتر پڑھنا مشروع ہے کیونکہ نبی ﷺ نے سفر وحضر
ہمیشہ وتر ادا فرمایا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کے یہاں وتر واجب ہے جبکہ
جمہور علماء(ایک قول کے مطابق امام ابوحنیفہؒ بھی) وتر کو سنت قرار دیتے ہیں اور
اس مسئلہ میں دلائل کی رو سے وتر کا سنت موکدہ ہونا ہی قوی اور راحج معلوم ہوتا
ہے۔
وجوب سے متعلق اشکال کا جواب
نماز وتر کے واجب ہونے سے متعلق بعض دلائل پیش کئے جاتے ہیں
اختصار کے ساتھ ان کا جائزہ بھی پیش کردیتا ہوں تاکہ قارئین پر نفس مسئلہ پوری طرح
واضح ہوجائے۔
(1) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ
أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ
بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ
فَلْيَفْعَلْ".(سنن ابي داود: 1422)
ترجمہ:
وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے
اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔
یہ حدیث سندا صحیح ہے مگر اس حدیث سےلفظ "حق" کے
ذریعہ وتر کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ
وتر کی تاکید معلوم ہوتی ہے اور میں نے پہلے ہی بتادیا ہے کہ نماز وتر کی بڑی تاکید و ترغیب آئی ہے۔
(2) بریدہ
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ
مِنَّا(سنن ابي داود:1419)
ترجمہ:وتر
حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔
اولا یہ
حدیث ضعیف ہے، شیخ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے کیونکہ اس میں عبیداللہ عتکی نامی
راوی ضعیف ہے۔ بعض نے شواہد کی بنیاد پر حسن لغیرہ بھی کہا ہے۔ ایسی صورت میں اس
حدیث کا معنی ہوگا کہ وتر حق ہے یعنی وتر پڑھنا ثابت ہے یا وتر ثابت شدہ امر ہے
اور "جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں" کا مطلب ہے وہ ہمارے طریقہ اور
ہماری سنت پر نہیں ہے۔ گویا اس سے وتر کی تاکید اور اہمیت معلوم ہوتی ہے، وجوب
ثابت نہیں ہوتا۔
(3)
سنن دارقطنی میں وتر سے متعلق ایک
روایت اس طرح مذکور ہے۔ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے
ہیں:
الوِتْرُ
حَقٌّ واجِبٌ، فمَن شاءَ أن يُوتِرَ بثَلاثٍ فلْيُوتِرْ، ومَن شاءَ أن يُوتِرَ
بواحِدةٍ فليُوتِرْ بواحِدةٍ۔
ترجمہ: وتر واجبی حق ہے، جو تین پڑھنا چاہے وہ
تین پڑھے، اور جو ایک رکعت پڑھنا چاہے وہ ایک رکعت وتر پڑھے۔
اولا یہ
مرفوع نہیں ، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے موقوفا روایت ہے ،دوسری بات یہ ہے کہ
امام بیہقی نے کہا کہ لفظ "واجب" صحیح نہیں ہے۔(الخلافيات:1412)
بلکہ ابن
المنذر نے تو اس طرح بیان کیا ہے: "الوتر حق وليس بواجب" یعنی وتر پڑھنا
تو ثابت ہے مگر واجب نہیں ہے۔ گویا یہاں پر بھی وجوب کی کوئی بات نہیں ہے۔
احناف اس
حدیث کے پہلے ٹکڑا سے وتر کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں مگر اس میں ایک رکعت وتر
پڑھنے کا ثبوت ہے وہ نہیں مانتے، کتنی حیرت کی بات ہے۔
(4) ابو سعید خدری
رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من
نامَ عن وترِهِ أو نسيَهُ فليصلِّهِ إذا ذكرَهُ(سنن أبي داود:1431)
ترجمہ: جو وتر کی نماز سے سو جائے یا بھول جائے
تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے۔
یہ حدیث
سندا صحیح ہے اور اس حدیث سے نماز وتر فوت ہونے پر قضا کرنے کا علم ہوتا ہے، اس
وجہ سے احناف اس سے استدلال کرتے ہیں کہ جو چیز واجب ہوتی ہے اسی کی قضا کا حکم
دیا جاتا ہے۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ سنت چھوٹنے پر اس کی بھی قضا کی جاسکتی ہے
جیساکہ رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ ظہر کے بعد والی سنت ایک وفد کی آمد سے چھوٹ گئی
تھی تو آپ نے عصر کے بعد اس کی قضا کیا۔ (بخاری:4370)
اس وجہ
سے یہ کہنا کہ وتر کی قضا سے اس کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہ درست نہیں ہے۔
آخری بات:
پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت
موکدہ ہے۔سنت موکدہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس نماز سے غفلت برتیں بلکہ وہ یہ
نماز ہے جس کی بڑی تاکید آئی ہوئی ہے اس لئے اس پر مواظبت کرنی چاہئے جیساکہ آپ ﷺ
کا سفر وحضر میں معمول رہا ہے اور آپ کے پیارے اصحاب نے اس پر مواظبت فرمائی ہے۔ شیخ
الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ الفتاوی الکبری میں لکھتے ہیں :"الوتر سنة مؤكدة
باتفاق المسلمين، ومن أصر على تركه فإنه ترد شهادته"یعنی وتر تمام مسلمانوں کے نزدیک متفقہ طور پر سنت
مؤکدہ ہے اور جو متواتر اسے چھوڑتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
کبھی
کبھار وتر چھوٹ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر مسلسل اس نماز کو چھوڑنابہت بڑی غفلت اور محرومی ہے۔
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔