آپ کے سوالات اور ان کے جوابات
(109)
شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر ، سعودی عرب
سوال:آج کل بعض فیمنسٹ خواتین یہ موقف
پیش کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق دئے ہیں، اس لیے وہ گھر سے
باہر نکل کر ملازمت کر سکتی ہے اور کاروبار بھی کرسکتی ہے بغیر کسی شرعی عذر کے ۔
قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح وضاحت فرمائیں کہ عورت کے لیے تعلیم،
ملازمت اور کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس کی حدود و شرائط کیا ہیں؟
جواب:عورت و مرد کے الگ الگ حقوق اور الگ الگ ذمہ
داریاں ہیں۔ اللہ نے عورت کو مردوں سے مختلف فطرت پر تخلیق فرمایا ہے۔ اس وجہ سے
دونوں کی ذمہ داریوں میں بڑا واضح فرق ہے۔
اس کے باوجود عورت تعلیم حاصل کرسکتی ہے، نوکری کرسکتی
ہے اور تجارت بھی کرسکتی ہے، اس میں شرعی طور پر حرج نہیں ہے بلکہ دینی تعلیم حاصل
کرنا تو مرد و عورت سب کے لئے یکساں فریضہ ہے۔
شرعی تعلیم کا حصول تو عورت کا بنیادی حق اور اس کی اہم
ذمہ داری ہے، دنیاوی تعلیم کا حصول ضروری نہیں ہے تاہم شرعی حدود میں رہتے ہوئے
باپردہ ہوکر اور اختلاط سے بچ کر (یعنی نسواں تعلیم گاہ میں) عصری تعلیم کا حصول
بھی جائز ہے۔
جہاں تک معیشت کا مسئلہ ہے تو اسلام نے عورت کے کندھے
پر معاشی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے، وہ اس معاملہ میں اپنے شوہر کے ماتحت ہے اس کے
باوجود کسی عورت کے لئے فتنے کی جگہوں اور اختلاط سے بچتے ہوئے حجاب میں رہ کر
حلال نوکری یا حلال تجارت کرنا ممکن ہو تو فقط عورتوں کے درمیان نوکری کرنے یا
عورتوں کے درمیان تجارت کرنے میں حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر فتنہ ہو، عفت و عصمت کو
خطرہ ہو، پردہ کے لئے رکاوٹ ہو، اختلاط والی جگہ ہو تو ایسی صورت میں عورت اس کی
قسم کی نوکری یا تجارت سے پرہیز کرے۔
سوال: کیا قسم کے کفارہ میں لگاتار روزہ
رکھنا ہے اور اسی طرح کھانا ایک ہی مسکین کو دے سکتے ہیں اور کتنا دینا ہوتا ہے؟
جواب:کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دینا ہے ، صرف ایک
مسکین کو پورا کفارہ دینے سے نہیں ہوگا۔ گویا یہ بات واضح ہوگئی کہ قسم کے کفارہ
میں تعداد کے اعتبار سے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اور یہ کھانا محض ایک وقت
کا کھلانا ہے یا نصف صاع یعنی ڈیڑھ کلو اناج تقریبا فی کس دیا جاسکتا ہے۔
جہاں تک روزہ کا مسئلہ ہے تو قسم کے کفارہ میں تین روزہ
لگاتار بھی رکھ سکتے ہیں اور الگ الگ طور پر بھی رکھ سکتے ہیں یعنی لگاتار رکھنا
ضروری نہیں ہے۔
سوال: بچے کا عقیقہ ساتویں دن نہیں کرسکے
کیونکہ اس وقت گنجائش نہیں تھی لیکن بعد میں اللہ نے عطا کیا ہو اور بچے کا عقیقہ
کرنا چاہیں تو وہ عقیقہ ہی ہوگا یا صدقہ ہوگا کیونکہ مجھ سے کسی نے کہا ہے کہ
عقیقہ صرف ساتویں دن ہی ہوتا ہے، اس کے بعد صدقہ ہوتا ہے اور کیا شوہر اپنی بیوی
کا عقیقہ کرسکتا ہے جبکہ بیوی کا باپ باحیات ہو اور صاحب استطاعت بھی ہو؟
جواب:بچپن میں جس کا عقیقہ نہیں ہوا ہو بڑی عمر میں اس
کی طرف سے عقیقہ دے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ عقیقہ ہی مانا جائے
گا۔ نبی ﷺ نے اپنا عقیقہ نبوت ملنے کے بعد کیا تھا۔ جب نبی ﷺ نے بڑی عمر میں اپنا
عقیقہ دیا ہے تو دوسرے لوگ بھی دے سکتے ہیں اور یہ عقیقہ ہی مانا جائے گا تاہم
افضل یہی ہے کہ استطاعت ہو تو عقیقہ پیدائش کے ساتویں دن دیا جائے۔
شوہر بیوی کی طرف سے عقیقہ دے سکتا ہے یا بیوی خود بھی
اپنے پیسے سے عقیقہ کرسکتی ہے یا اس کے والدین یا گھر والوں میں سے کوئی اس کی طرف
سے عقیقہ دے سکتا ہے، گویا اس معاملہ میں وسعت ہے۔
سوال:مدرسہ میں باورچی خانے کے لیے
استعمال کے سامان کی ضرورت ہے، کیا اس میں زکوۃ کا پیسہ لگا سکتے ہیں؟
جواب:مدارس میں عموما زیادہ تر غریب بچے ہوتے ہیں اور
کچھ امیر بچے بھی ہوتے ہیں، اس وجہ سے مدارس میں مطلق طور پر زکوۃ صرف کرنے سے
متعلق اختلاف پایا جاتا ہے تاہم غریب بچوں سے متعلق ان کی فیس، غذا، کتابیں، دوا
وغیرہ پر استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اختلاف اس میں ہے مشترکہ طور پر جو چیز
استعمال ہو جیسے کچن کے سامان امیر وغریب سب بچوں کے لئے استعمال ہوں گے۔ اکثریت
کا اعتبار کرکے زکوۃ دی جاسکتی ہے تاہم اس میں زکوۃ نہ دے کر صدقہ کی رقم لگاتے
ہیں تو زیادہ بہتر ہے۔
سوال: پیشاب ایک دفعہ نہ آئے بلکہ بار
بار آئے۔ جب تک مثانہ خالی نہ ہو، سکون نہیں آتا، اس میں کافی دیر لگ جاتی ہے، بسا
اوقات ایک گھنٹہ بھی۔ بچے چھوٹے ہیں، کیا میں دو نمازیں اکھٹی پڑھ سکتی ہوں؟
جواب:جس کو پیشاب کا مرض(سلسل بول) ہو اس کے لئے دین
میں سہولت ہے، وہ ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے اور وضو کے بعد اگر قطرہ آئے تو اس
کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک وضو سے ایک وقت کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔
اگر قطرہ آنے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پیشاب کے وقت ہی
پیشاب کرنے میں تاخیر ہوتی ہے اور کچھ بچوں کا مسئلہ ہے تو جمع صوری کرکے نماز پڑھ
لیں یعنی ایک نماز کو آخری وقت پر اور دوسری نماز کو اول وقت پر جیسے ظہر کو آخری
وقت پر اور عصر کو پہلے وقت پر ادا کرلیں۔ اس طرح قریب قریب دو نمازیں پڑھ سکیں
گے۔
سوال: کیا خواتین ناک میں چھوٹی سی گول
نتھلی یا نوز پن پہن سکتی ہیں؟
جواب:ناک میں گول نتھنی یا نوز پن لگانے میں عورت کے
لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عورت اپنے پورے جسم پر کہیں بھی زینت کی کوئی بھی
حلال چیز استعمال کر سکتی ہے۔
اس سلسلے میں جو اصل سوال پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ
کیا عورت زینت کی چیز پہننے کے لئے اپنی ناک میں سوراخ کروا سکتی ہے تو اس کا جواب
یہ ہے کہ ہاں عورت اپنی ناک میں سوراخ کروا سکتی اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس سلسلے میں، میں نے قدرے اختصار سے مضمون بھی لکھا ہے
اس کا مطالعہ مفید ہوگا، اسے میرے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں۔
سوال: قبرستان کے احاطے میں گھر بنے ہوتے
ہیں، عموما یہ گھر داہنے ہاتھ پر ہوتے ہیں اور قبرستان بائیں ہاتھ پر۔ اور وہاں
لوگ اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہتے ہیں۔ کیا اس طرح لوگوں کا قبرستان کے اندر رہنا
درست ہے؟
جواب: بنیادی بات یہ ہے کہ قبرستان کے احاطہ میں گھر نہیں
ہوتا ہے بلکہ اس کے باہر ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اس کے احاطے سے قریب ہو یا اس سے گھر
سٹا ہوا ہو مگر باؤنڈری کے اندر کسی کا گھر عموماً نہیں ہوتا ہے۔
اس میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ قبرستان کے احاطہ اور اس کی
باؤنڈری میں مسجد یا گھر بنانا جائز نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کو
قبرستان بنانے سے منع کیا ہے یعنی قبرستان وہ جگہ ہے جس میں گھر نہیں ہو سکتا۔ اس
وجہ سے اگر کسی کا گھر قبرستان کی باؤنڈری کے اندر ہے تو اس کو اپنا گھر توڑ کر
باؤنڈری سے باہر بنانا ہے لیکن اگر گھر قبرستان سے قریب ہو یا اس سے سٹا ہوا ہو
لیکن باؤنڈری سے باہر ہو تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ دائیں کا اور نہ بائیں
کا۔
سوال: جب ہم سفر کے دوران قصر نماز پڑھتے
ہیں تو کیا ظہر اور عصر ۔ اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھیں گے یا پھر ہر نماز کو
اس کے وقت میں پڑھنا ہے۔ اور اگر کسی کے گھر پر رکے ہیں ایک دو دن کے لیے تو قصر
کی حالت میں ظہر وعصر ملا کر پڑھنا ہے یا ہر نماز کو اس کے وقت میں پڑھنا ہے؟
جواب:اسی کلو میٹر یا اس سے زیادہ کی مسافت طے کرنے پر
آدمی مسافر کہلاتا ہے۔ ایسے آدمی کے لئے سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع کرنا جائز
ہے یعنی ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھ سکتا ہے۔
کسی کے گھر پر ایک دو دن کے لئے رکتے ہیں اور یہ گھر
اسی کلومیٹر یا اس سے زیادہ کی دوری پر ہو تو گھر پر رکتے ہوئے افضل ہے کہ ہر نماز
اپنے وقت پر قصر سے پڑھے لیکن دو نمازوں کو جمع کرنا بھی جائز ہے۔
سوال: میری ماہواری کا عام معمول ختم
ہونے کے بعد ماہواری کے آٹھویں دن میرا ایک چھوٹا سا آپریشن ہوا ہے۔ اس آپریشن کے
بعد مجھے دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا ہے۔ کیا یہ خون ماہواری کا شمار ہوگا یا
آپریشن کی وجہ سے آنے والا خون استحاضہ مانا جائے گا، اس حالت میں مجھے نمازیں ادا
کرنی چاہئے یا نمازوں سے رک جانا چاہیے؟
جواب:ماہواری والی جو عام عادت تھی اس کے ختم ہونے کے
بعد جو آپریشن ہوا اور اس کے بعد جو دوبارہ خون آنا شروع ہوا ہے، اس کو حیض شمار
نہیں کیا جائے گا۔
یہ خون فاسد ہے، مستحاضہ کی طرح ہر نماز کے وقت وضو
کرکے اس میں نماز کی پابندی کرنی ہے اور روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔
سوال:اگر ہم نیند کی وجہ سے، بھول جانے
کی بنا پر، یا لاعلمی میں نماز وقت پر ادا نہ کر سکیں اور نماز قضا ہو جائے، تو
کیا اس پر گناہ ہوگا؟ خصوصاً فجر کی نماز میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گہری نیند کی
وجہ سے وقت کا احساس نہیں رہتا اور نماز رہ جاتی ہے۔ اگر جان بوجھ کر نماز ترک نہ
کی ہو تو کیا پھر بھی گناہ ہوگا؟
جواب:اگر کبھی کوئی سویا رہ جائے، نماز کے لئے آنکھ نہ
کھل سکے تو جیسے بیدار ہو فورا چھوٹی ہوئی نماز ادا کرلے۔ اس میں کوئی گناہ نہیں
ہے۔
اگر اکثر و بیشتر آدمی فجر کی نماز سے سویا رہ جائے اور
آنکھ نہ کھلے تو یہ انسان کی غفلت و غلطی ہے، اس پر بلاشبہ گناہ ملے گا۔ ایک مومن
کو ہرحال میں فجر کے وقت اٹھنا ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا ہے۔
آج زمانہ کافی ترقی کرگیا ہے، ایک گھر میں دسیوں موبائل
ہوتے ہیں، الارم کی سہولت ہے۔ آج تو کسی بھی وقت جاگنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
بہرکیف! کبھی کبھار ایسا ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے
لیکن ہمیشہ یا اکثر فجر کے لئے نہ اٹھنا گناہ کا باعث ہے۔
سوال: قربانی کا جانور خریدنے کی طاقت
نہیں رکھتے صرف حصہ کے پیسے دینے کی طاقت رکھتے ہیں تو کیا کریں۔ یہاں بھینس کے
علاوہ کسی اور بڑے جانور میں قربانی نہیں کی جاتی؟
جواب:اللہ تعالی نے قربانی اس کے لئے رکھا ہے جو قربانی
کی استطاعت رکھتا ہو۔ جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا اس کے لئے قربانی نہیں ہے
اس لئے اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بھینس کی قربانی کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے۔ اللہ نے آٹھ
قسم کے جانور کی قربانی کی اجازت دی ہے اور ان آٹھ قسم کے جانور میں سے کئی قسم کے
جانور دنیا کے کونے کونے میں پائے جاتے ہیں۔ ان جانوروں میں سے کسی کی قربانی کی
استطاعت ہوجائے تو آدمی قربانی کرے، ورنہ قربانی نہ کرے۔
کسی کا دل بھینس کی قربانی پر مطمئن ہے تو وہ قربانی
کرلے مگر اس کی قربانی میں احتیاط کرنا بہتر ہے۔
سوال: میرا ایک کرنٹ اکاؤنٹ ہے جو صرف
اور صرف فلاحی کاموں کے لئے ہے۔ اس میں لوگ اپنے عطیات، خیرات اور زکوٰۃ کی رقم
بھیجتے ہیں جو آگے ضرورتمند لوگوں کو پہنچائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میرا اس اکاؤنٹ
سے کوئی ذاتی کام یا فائدہ نہیں ہے۔ اس اکاؤنٹ کا ایک ATM کارڈ بنا
ہوا ہے جس کی سالانہ فیس دینی ہے۔ کیا یہ فیس مجھے اپنی جیب سے ادا کرنی چاہئے یا
جو عطیات کی رقوم آتی ہیں اس میں سے ادا ہونی چاہئے؟
جواب:اس میں ایک اہم مسئلہ یہ جان لیں کہ ایک ہی اکاؤنٹ
میں صدقات اور زکوۃ کو جمع کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس سے زکوۃ اور صدقات خلط ملط
ہو جائیں گے۔ صدقات کو کہیں بھی خرچ کر سکتے ہیں جبکہ زکوۃ متعین مصارف میں ہی خرچ
کرنا ضروری ہے اس لیے زکوۃ کی رقم الگ اکاؤنٹ میں ہونی چاہیے۔ ہاں اگر زکوۃ کی رقم
کو یقینی طور پر معلوم کرکے اس کا حساب الگ سے لکھیں اور اس کو اس کے مصارف میں
خرچ کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ آپ کا ذاتی اکاؤنٹ ہے اس لیے اے
ٹی ایم کارڈ کی فیس اپنی جانب سے ادا کریں، بھلے آپ اس اے ٹی ایم کا استعمال اپنے
لیے نہ کرتے ہوں۔
اس معاملے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ سماجی کام کرنے کے
لیے رجسٹرڈ ادارہ ہو اور اس ادارے کے نام سے اکاؤنٹ ہو اور سماجی کام اس ادارہ کے
سایہ تلے، اور اس ادارے کے اکاؤنٹ سے کام کیا جائے۔ پھر اس اکاؤنٹ کے اے ٹی ایم پر
جو صرفہ آئے گا، وہ لوگوں کے عطیات سے استعمال کرسکتے ہیں۔
سوال: اگر فیملی میں کوئی قادیانی ہو تو
کیا اس سے میل جول رکھنا چاہیے یا کوئی وفات پا جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جا
سکتے ہیں رہنمائی فرمائیں؟
جواب:قادیانی مسلمان نہیں ہے، یہ کافر ہے اور اس کے کفر
پر تمام امت کا اجماع ہے۔
کافروں کے ساتھ معاملات کی حد تک جس طرح تعلق رکھنے کا
حکم ہے اسی طرح قادیانی کے ساتھ بھی تعلق رکھ سکتے ہیں مگر دوستی نہیں۔اور جب کوئی
قادیانی وفات پا جائے تو اس کے جنازے میں شرکت نہیں کرنی ہے کیونکہ اگر آپ اسے
مسلمان سمجھتے ہیں اور اس میں شرکت کرتے ہیں تو پھر اس کو مسلمان سمجھنے والا کافر
ہو جائے گا اور اگر کافر سمجھتے ہوئے کوئی شریک ہوگیا تب بھی یہ کفریہ عمل ہے اور
یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہندو کے جنازہ میں کوئی شرکت کرے۔
سوال:زکوۃ نہیں دی گئی تو قربانی کرسکتے
ہیں؟
جواب:زکوۃ کا مسئلہ الگ ہے اور قربانی کا مسئلہ الگ ہے۔
جس کے اوپر زکوۃ فرض ہوتا ہے وہ اپنی زکوۃ ادا کرے گا اور جسے قربانی کی استطاعت
ہے وہ قربانی کرے۔ان دونوں چیزوں کا آپس میں کوئی تعلق یا ٹکراؤ نہیں ہے۔
آپ کے پاس زکوۃ والی کوئی چیز نہیں ہے تو آپ زکوۃ نہیں
دیں گے لیکن اگر قربانی دینے کی استطاعت ہے تو آپ قربانی دیں اس میں کوئی مسئلہ
نہیں ہے۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔