آپ کے سوالات اور ان کے جوابات(108)
جواب از: شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ
جدہ دعوہ سنٹر، حی السلامہ- سعودی عرب
سوال: میں ایک مشترکہ تعلیمی کالج (Co-education college) میں بطور لیکچرر کام کرتی ہوں اور پردہ کرتی ہوں۔ کیا پردے میں رہ
کر لڑکوں کو پڑھانا جائز ہے؟
جواب:شرعی اعتبار سے مرد اور عورت کا اکٹھے تعلیم حاصل
کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کے بڑے مفاسد ہیں اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد مردوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے۔
اس وجہ سے کو-ایجوکیشن کالج میں مسلم خاتون کا بحیثیت
معلمہ فریضہ انجام دینا شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے کیونکہ یہ اختلاط کی جگہ ہے۔
ہونا یہ چاہیے کہ لڑکیوں کی تعلیم گاہ الگ ہو اور لڑکوں کی تعلیم گاہ الگ ہو یعنی
دونوں کے لیے حصول تعلیم کا ادارہ الگ الگ ہو۔اس مقام پر شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا
ایک فتوی دیکھیں۔
شیخ سے سوال کیا گیا کہ ہمیں مخلوط (لڑکے اور لڑکیوں کے
اکٹھے) جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کا حکم بتائیں؛ کیونکہ بعض لوگ ضرورت کے نام پر
اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اس پر شیخ نے جواب دیاکہ مخلوط جامعات میں تعلیم حاصل
کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں بہت بڑا خطرہ اور فتنہ کے اسباب پائے جاتے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اس کام کو چھوڑنے کی توفیق دے،
اور مردوں اور عورتوں کی تعلیم الگ الگ ہو؛ تاکہ فتنہ کے اسباب کا راستہ بند کیا
جا سکے، دین کی حفاظت ہو، اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون حاصل ہو۔واللہ
ولی التوفیق۔(مجموع فتاویٰ و مقالات الشیخ ابن باز: 24/42)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ جگہ مخلوط ہے، اس وجہ سے یہاں کسی
مسلم معلمہ کا پردے کے ساتھ لڑکوں کو تعلیم دینا یا بغیر پردے کے، دونوں صورت میں
جائز نہیں ہے۔
سوال: میں جس مسجد میں نمازِ تراویح پڑھنے جاتی ہوں، وہاں امام صاحب آٹھ رکعت کے بجائے بیس رکعت
تراویح پڑھاتے ہیں، اس لیے میں بھی ان کے
ساتھ بیس رکعت پڑھ لیتی ہوں۔ کیا زیادہ رکعت پڑھنے سے ہم پر کوئی گناہ تو نہیں
ہوگا۔ نیز امام صاحب وتر تین رکعت مغرب کی نماز کی طرح پڑھاتے ہیں، جبکہ ہمیں ایک
حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ وتر تین رکعت ایک ہی تشہد کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ اس لیے ہم
امام کے ساتھ وتر پڑھتے وقت دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے ہیں، پھر جب امام تیسری
رکعت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ہم ایک رکعت کی نیت سے ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں
اور امام کے ساتھ سلام پھیر دیتے ہیں۔ اس طرح ہماری تین رکعت وتر ہو جاتی ہیں۔ کیا
اس طرح وتر پڑھنا درست ہے، یا ہمیں امام کی مکمل پیروی کرنی چاہیے؟
جواب:پہلی بات یہ ہے کہ امام جیسے نماز پڑھائے ان کی
متابعت میں اسی طرح سے نماز پڑھنا ہے، آپ وتر پڑھنے کے لیے جو طریقہ اختیار کرتے
ہیں یہ امام کی مخالفت اور یہ غلط طریقہ ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسے امام کے پیچھے
آپ کو نماز ہی نہیں پڑھنا چاہیے جو سنت کے خلاف عمل کرے۔ نہ بیس رکعت تراویح صحیح
حدیث سے ثابت ہے اور نہ ہی بیس رکعت پڑھنے والے اپنی نماز سنت کے مطابق پڑھتے ہیں
بلکہ جھٹ پٹ کوے کے چونچ مارنے کی طرح پڑھتے ہیں، یہ نماز قابل قبول نہیں ہے۔آپ
اہل حدیث امام کے پیچھے نماز پڑھیں کیونکہ وہ سنت کے مطابق سکون سے نماز ادا کرتے
ہیں اور اگر اہل حدیث نہ ملے تو حنفی کے
پیچھے تراویح پڑھنے سے بہتر ہے، اکیلے اپنے گھر میں نماز پڑھیں اور عورتوں کی نماز
گھر میں ہی افضل ہے۔
سوال:ایک فوت شدہ خاتون کے بارے میں کسی
نے ورثا کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر میت کی کچھ نمازیں قضا رہ گئی ہوں تو ان کا
فدیہ ادا کیا جائے، چاہے وہ میت کی جائیداد کے ایک تہائی حصے سے ہی کیوں نہ ہو۔
اور ہر چھوٹی ہوئی نماز (وتر سمیت روزانہ چھ نمازیں شمار کر کے) کے بدلے صدقۂ فطر
کے برابر یعنی تقریباً 1.75 کلو گندم یا 3.5 کلو جو، یا اس کی قیمت بطور فدیہ دی
جائے۔کیا واقعی میت کی چھوٹی ہوئی نمازوں کا اس طرح فدیہ دینا درست ہے؟
جواب:آدمی زندہ ہو یا مردہ ہو اس کی چھوٹی ہوئی نمازوں
کا کوئی فدیہ نہیں ہے۔ اگر آدمی زندہ ہے تو چھوٹی ہوئی اپنی نمازوں کے لیے اللہ
تعالی سے سچی توبہ کر لے اور آئندہ نمازوں کی پابندی کرےلیکن اگرآدمی وفات پا گیا ہے تواس کی طرف سے کسی قسم کا کوئی
فدیہ نہیں ہے کیونکہ شریعت میں اس طرح کی کوئی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ دراصل یہ
حنفیوں کا اپنا خود ساختہ طریقہ اور نئی ایجاد بدعت ہے۔ مسلمانوں کو ایسے کام سے
دوری اختیار کرنا چاہیے۔
سوال: ایک ضعیف میاں بیوی روزوں کا فدیہ
ادا کرتے ہیں۔ کیا وہ یہ فدیہ اپنے پوتوں کو دے سکتے ہیں، جبکہ وہ مالی تنگی میں
ہیں اور مشکل سے گزارا کرتے ہیں؟
جواب:اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ دادا اپنے پوتے کو اسی
طرح فدیہ نہیں دے سکتا ہے جس طرح اپنے بیٹے کو فدیہ نہیں دے سکتا، لیکن اگر دادا
کے پاس پوتے کو دینے کے لیے فدیہ کے علاوہ دوسرا مال نہ ہو اس حال میں کہ یہ بہت
ہی غریب اور مسکین ہو تو ایسی صورت میں فدیہ دیا جا سکتا ہے۔جہاں تک دادی کا مسئلہ
ہے تو وہ اپنے پوتوں کو فدیہ دے سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ پوتے،
دادی کی کفالت میں نہ ہوں بلکہ الگ سکونت پذیر ہوں۔
سوال:ایک خاتون کے پاس پانچ تولہ سے کچھ
زیادہ سونا ہے۔ کسی نے انہیں بتایا ہے کہ اگر ایک تولہ سونا بھی ہو تو اس پر زکوٰۃ
لازم ہوتی ہے اور اس کا حساب ایک لاکھ پر ڈھائی ہزار کے حساب سے دینا چاہیے۔ اب وہ
پوچھ رہی ہیں کہ کیا واقعی ان پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اگر واجب ہے تو کتنی زکوٰۃ دینی
ہوگی۔ مزید یہ کہ اس سونے میں سے آدھا زیور انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کے لیے رکھا
ہوا ہے، لیکن بیٹی کے بالغ ہونے تک وہ خود بھی اسے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ کیا اس
صورت میں بھی زکوٰۃ لازم ہوگی اور کیا وہ اپنی زکوٰۃ اپنے بھائی کو دے سکتی ہیں
جبکہ بھائی کی اپنی کوئی آمدنی نہیں اور کھیتی باڑی بھی ابھی والد کے پاس ہے؟
جواب:سونا اور چاندی کا نصاب الگ الگ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے متعین فرمایا ہے۔ اگر کسی کے پاس سونا اس کے نصاب سے کم ہو تو
اس میں زکوۃ نہیں ہے چاہے اس سونے کی قیمت جتنی بھی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
ہے۔جس بہن کے پاس پانچ تولہ یا اس سے کچھ زیادہ سونا ہے، اس بہن کو اپنے سونا کی
زکوۃ نہیں دینی ہے چاہے اس کی قیمت جتنی بھی ہو کیونکہ یہ سونا نصاب تک نہیں پہنچ
رہا ہے۔ایک عورت اپنے غریب بھائی کو زکوۃ دے سکتی ہے مگر مذکورہ صورت میں اس خاتون
پر زکوۃ نہیں ہے۔
سوال: جنت کے سو درجات ہیں، کیا جنت
الفردوس ہی سب سے اعلیٰ درجہ ہے اسکے اوپر کوئی درجہ نہیں ہے؟
جواب:جنت کا اعلی درجہ، الفردوس سے ہے اور الفردوس میں
بھی درجات ہیں۔ ان میں سب سے اعلی درجہ الوسیلہ ہے گویا جنت کا سب سے اعلی درجہ
الوسیلہ ہے جو صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے گا اور اسی وسیلہ کی رسول اللہ
کے لیے اذان میں اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں۔ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو،
لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ جنت کا سب سے
اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔
(ترمذی:3612)
سوال:ہماری پہچان کے ایک بزرگ ہر سال
رمضان کے روزے رکھتے اور عبادت کا اہتمام کرتے تھے۔ اس سال رمضان سے پہلے انہیں
برین اسٹروک ہوا، آپریشن بھی ہوا، اور اب ان کی صحت اور ذہنی حالت پوری طرح درست
نہیں ہے۔ایسی حالت میں اگر وہ اس سال روزے نہ رکھ سکیں تو کیا انہیں ان روزوں کا
ثواب ملے گا کیونکہ وہ ہمیشہ روزے رکھتے تھے؟ یا بیماری یا عذر کی وجہ سے چھوٹ
جانے والی عبادت کا ثواب صرف نفلی عبادات کے ساتھ خاص ہے؟
جواب:ایک آدمی اپنی زندگی میں جو جو عبادت کا کام کرتا
تھا، اگر اس انسان کے ساتھ ایسا کوئی عذر لاحق ہوتا ہے جس کی وجہ سے اب وہ عبادت
کا کام نہیں کر سکتا ہے تو اس کو ان سب عبادت کا ثواب ملتا ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک
عبادت سے متعلق نہیں بلکہ جمیع قسم کی عبادت سے متعلق ہے۔نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا
مرضَ العبدُ ، أو سافرَكُتِبَ له مثلُ ما كان يعملُ مُقيمًا صحيحًا (صحيح
البخاري:2996)
ترجمہ: جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے
لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا
تھا۔
اللہ تعالی اپنے بندوں پر یہاں تک فضل نازل کرتا ہے کہ
اگر بندہ اپنے دل میں نیکی کا ارادہ کرلے تو اس کے حصہ میں اجر لکھ دیا جاتا ہے
اگرچہ وہ اس پر عمل نہ کرسکے۔
سوال:کیا قریشی کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟
جواب:پہلی بات یہ ہے کہ قریش ایک بڑا قبیلہ ہے جس سے
کئی قبائل نکلتے ہیں، ان میں ایک بنو ہاشم بھی ہے۔ جو قریش قبیلہ کے بنو ہاشم سے
ہو اس کو زکوۃ نہیں دینا ہے۔باقی، ہندو پاک میں بہت سارے لوگ یونہی نسبت کے طور پر
قریشی لکھتے ہیں، ان کا قبیلہ قریش سے تعلق نہیں ہوتا ہے۔
محقق طور پر یہ معلوم ہو کہ یہ قریش کے بنو ہاشم قبیلہ
سے ہے تو اس کو زکوۃ نہیں دینا ہے، ورنہ صرف نسبتی قریشی کو زکوۃ دینے میں حرج
نہیں ہے بشرطیکہ زکوۃ کا مستحق بھی ہو۔
سوال: کیا زکوۃ کے پیسے سے مسجد میں سولر
لگاسکتے ہیں؟
جواب:پہلی بات یہ ہے کہ نقد کی زکوۃ کو نقد کی شکل میں
دینا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ مدرسہ میں سولر سسٹم لگانے کے لیے زکوۃ نہیں دے
سکتے کیونکہ یہ زکوۃ کا مصرف نہیں ہے۔اگر کوئی مدرسہ صرف فقراء اور مساکین طلبہ پر
مبنی ہو تو ایسی صورت میں مدرسہ کے ذمہ دار کو سولر سسٹم لگانے کے لیے زکوۃ دے
سکتے ہیں۔
سوال:میرے نانا کا انتقال 1993 میں ہو
چکا ہے۔ حال ہی میں ان کے ایک دوست کے داماد کو بار بار خواب آتا ہے کہ میرے نانا
مسجد میں موجود ہیں اور جب وہ شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے تو میرے نانا اسے کہتے
ہیں: “تم جو کر رہے ہو وہ غلط کر رہے ہو۔” یہ خواب کئی مرتبہ اسی طرح آ چکا ہے، وہ
شخص کہتا ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کرتا، البتہ کئی سال سے سگریٹ نوشی کرتا ہے۔
اس خواب کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہے۔ایسی صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے؟
جواب:سب سے پہلے اس بات کے لیے معذرت کہ میں خواب کی
تعبیر نہیں جانتا ہوں اس لیے میں کسی کو خواب کی تعبیر پوچھنے کے لیے سوال بھیجنے
سے منع کرتا ہوں۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں یہ بات تعبیر کے طور پر نہیں
بلکہ نصیحت کی طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی کو اس بات کی فکر ہے کہ کوئی اسے
خواب میں یہ کہہ رہا ہے کہ تم غلط کر رہے ہو جبکہ اللہ تعالی ہمیں قرآن میں اور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حدیث میں نہ جانے کتنی باتوں کے کرنے کا حکم
دیتے ہیں اور کتنی باتوں سے منع کرتے ہیں لیکن ہمارے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ
خواب میں کوئی کیا کہہ رہا ہے یا یہ اہم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے لیے
کیا کہا ہے۔ جواب واضح ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ شیطان کسی کی بھی شکل اپنا سکتا ہے
اور کچھ بھی خواب میں آکر بک سکتا ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ توجہ اس
پر دینے کی ضرورت ہے کہ آج کوئی بھی انسان غلطی سے پاک نہیں ہے بلکہ جس دور سے ہم
گزر رہے ہیں سراپا گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ اللہ کے
دین کی طرف آئیں اور جس طرح اللہ نے دین پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اس پر عمل
کریں، اسی میں دنیا میں بھی بھلائی ہے اور اسی بات کی وجہ سے آخرت میں بھی نجات
ملے گی۔
سوال:ایک خاتون جو امارات میں رہتی ہیں،
ان کی سونے کی چین گم ہو گئی تھی۔ کافی تلاش کے باوجود نہ ملی۔ بعد میں جب وہ
انڈیا سے واپس آئیں تو انہوں نے اپنی کام والی کے پاس ویسی ہی چین دیکھی۔ غور سے
دیکھنے پر اس چین پر اسی انڈین دکان کا نشان بھی تھا جہاں سے انہوں نے اسے خریدا
تھا۔کام والی کہتی ہے کہ یہ چین اسے ایک پاکستانی خاتون نے تحفے میں دی ہے اور وہ
واپس کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ایسی صورت میں کیا یہ خاتون اپنی چین اس کے بیگ سے
چپکے سے نکال سکتی ہیں؟
جواب:اسلام میں ایک طرف چوری حرام ہے تو دوسری طرف چپکے
سے کسی کا سامان لینا بھی چوری ہے اور یہ بھی حرام ہے نیز بغیر ثبوت اور بغیر
تحقیق کے کسی چیز پر اپنا دعوی کرنا شرعی طور پر صحیح نہیں ہے۔
جس چین کے بارے میں کسی خاتون کو شبہ ہوتا ہے کہ یہ
میرا چین ہے لیکن نوکرانی کہتی ہے کہ کسی نے گفٹ دیا ہے تو اس سلسلے میں کسی کو ثالث
بناکر نوکرانی اور اس نوکرانی نے جس کے بارے میں کہا ہے، اس کو بھی ساتھ لے کر ایک
بیٹھک کرائے اور اس میں جو معاملہ تحقیق سے سامنے آئے اس پر عمل کیا جائے۔
سوال:اگر کسی نے روزے کی حالت میں آپ کا
دل دکھایا ہو اور بعد میں اس پر کوئی مصیبت آ جائے، پھر وہ آپ سے معافی مانگے مگر
آپ دل سے اسے معاف نہ کر سکیں، تو کیا اس پر اللہ کی طرف سے ہماری پکڑ ہو سکتی ہے؟
جواب:سب سے پہلی بات جو سمجھنے والی ہے، وہ یہ ہے کہ
اسلام میں کسی کے ساتھ دل میں کینہ کپٹ رکھ کر زندگی گزارنے کی گنجائش نہیں
ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی نے آپ کو تکلیف پہنچایا ہے تو شریعت میں اس کا دو
طریقہ ہے۔یا تو اس سے ظلم کے برابر بدلہ لیں یا پھر اس کے معافی مانگنے پر یا بغیر
معافی مانگے ہی خود ہی معاف کر دیں۔یہی دو راستے ہیں، اس کے بعد پھر آپس میں
مصالحت کر لینی ہے۔
کسی نے آپ پر ظلم کیا ہو اور اس کو احساس ہو گیا اور
معافی مانگ رہا ہے تو پھر اس کو معاف کر دینا چاہیے۔ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر اللہ
ہمیں معاف کرنا چھوڑ دے تو ہمارا کیا ہوگا خصوصا جب آخرت میں ہمیں معاف نہ کرے تو
پھر ہمارا کیا بنے گا۔ جبکہ ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کو معاف کیا جائے
لہذا ہم بھی دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں جس طرح خود ہم اپنے لیے معاف کرنا پسند
کرتے ہیں۔
سوال:اگر کسی کو زکوٰۃ کی رقم بیرونِ ملک
بھیجنی ہو اور ویسٹرن یونین اس میں کچھ فیس یا ٹیکس کاٹ لے تو کیا یہ رقم بھی
زکوٰۃ کے پیسوں میں سے دی جا سکتی ہے یا الگ سے ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب:زکوۃ کا پیسہ جتنا بنتا ہے، اتنا پیسہ مستحق کو
ملنا چاہیے۔ اگر آپ وسٹرن یونین سے بھیج رہے ہیں تو بھیجنے کی فیس اپنی طرف سے
لگائیں اور مستحق کو زکوۃ کا پورا پیسہ ادا کریں۔
سوال:ہم ڈیبٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں جس
پر پوائنٹس اور رعایت ملتی ہے، اس وجہ سے بعض چیزیں سستی مل جاتی ہیں۔ اگر کوئی ہم
سے کوئی چیز منگوائے تو کیا ہم اسے وہ قیمت بتائیں جو ہمیں رعایت کے بعد ادا کرنی
پڑی یا وہ قیمت بتائیں جو دکان میں لکھی ہوئی ہے؟ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
جواب:اس مسئلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ڈیبٹ کارڈ
کے استعمال سے بینک کے ذریعہ جو آپ کو پوائنٹس ملتے ہیں، دراصل یہ سود ہے اور اس
سود کا استعمال ناجائز ہے۔اس وجہ سے ان پوائنٹس کے بدلے سامان پر رعایت حاصل کرنا
دراصل سود سے فائدہ اٹھانا ہے جو کہ ناجائز ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آپ سے جو کوئی سامان منگواتا ہے
اور آپ کو ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، دراصل وہ ڈسکاؤنٹ آپ کو ان پوائنٹس کے بدلے ملتا ہے
لہذا آپ سامان منگوانے والے سے پورا پیسہ لے سکتے ہیں لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ
پوائنٹس سودی معاملہ ہے لہذا اس طرح کا پوائنٹس والا معاملہ اپنے لیے استعمال نہ
کریں، یہ کسی فقیر و مسکین کو دے دیں۔
سوال:اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں سو
جائے اور نیند میں اسے احتلام ہو جائے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ ایسی صورت
میں کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کوئی روزہ کی حالت میں دن میں سو جائے اور اس
حال میں احتلام ہوجائے تو اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ احتلام سے آدمی
ناپاک ہوجاتا ہے، اسے پاکی حاصل کرنے کے لئے غسل کرلینا چاہئے، روزہ اپنی جگہ
بالکل درست ہے۔
سوال:اگر کسی شخص کو بار بار بیت الخلا
جانا پڑتا ہو اور وضو کرنے کے بعد وہ پوری نماز بھی ادا نہ کر سکے، حتیٰ کہ تراویح
میں بھی بار بار جانا پڑے اور نماز میں خشوع و خضوع قائم نہ رہ سکے، تو اسے کیا
کرنا چاہیے؟ خصوصاً رمضان اور طاق راتوں میں عبادت کیسے کرے؟
جواب:اگر کسی کو دائمی اور مسلسل حدث کا مسئلہ ہے تو اس
کے لئے لازم ہے کہ وہ نماز کا وقت داخل ہونے کے وقت وضو کرے اور اس وضو سے ایک وقت
کی ساری نماز ادا کرسکتا ہے ، دوبارہ وضو کی ضرورت نہیں ہے یعنی دوران نماز ناپاکی
ظاہر ہوجائے تب بھی وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، ایک وضو سے ایک وقت کی ساری نماز
ادا کرسکتے ہیں ۔ پھر جب دوسری نماز کا وقت آجائے تو پھر سے نیا وضو کرنا ہے اور
ایک وضو سے ایک وقت کی تمام نمازیں یعنی سنت و فرض اور نفل ادا کرسکتے ہیں۔ اسی
طرح ہر نماز کے لئے عمل کرے۔
سوال:ایک بیوہ خاتون ہیں جن کا کوئی
کمانے والا نہیں۔ وہ کھانا بنا کر بیچتی ہیں۔ ان کی بیٹی کی اسکول فیس کے لیے کیا
انہیں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
جواب:غریب و مسکین کی بنیادی ضروریات کے لیے زکوۃ دے سکتے
ہیں، جہاں تک دنیاوی تعلیم کے لیے زکوۃ سے فیس دینے کا مسئلہ ہے تو یہ جائز نہیں
ہے ۔ شرعی تعلیم کے لیے زکوۃ سے فیس دے سکتے ہیں۔آپ اس بیوہ خاتون سے کہیں کہ اپنی
بچی کو شرعی تعلیم دیں، اس میں ثواب بھی ہے، فریضہ کی ادائیگی بھی ہے اور اس کے
لئے زکوۃ بھی دی جاسکتی ہے۔دراصل یہی تعلیم اسلام میں مطلوب ہے۔
سوال:مجھے ڈیڑھ سال سے ماہواری نہیں آئی
تھی۔ رمضان میں نویں روزے کو تھوڑا سا داغ لگا اور دسویں روزے کو رک گیا، اس کے
بعد میں نے غسل کر کے روزے رکھنا شروع کر دیا۔ لیکن آج عصر کے بعد پھر سے داغ آ
رہے ہیں۔ اس صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب:اس میں ایک سوال یہ ہے کہ کیا آپ سن یاس کو پہنچ
گئے ہیں جب حیض منقطع ہو جاتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ حیض کے لیے ضروری ہے کہ اس
میں حیض کے اوصاف پائے جائیں یعنی اس کے اندر بو، گاڑھا پن اور سیاہی مائل ہو۔اگر
اس میں ہے حیض کے صفات نہ ہوں، تو یہ حیض نہیں مانا جائے گا بلکہ دم فاسد مانا
جائے گا۔
سوال:اگر کوئی شخص عشاء کی سنتوں کے بعد
چار رکعت نفل ایک سلام سے پڑھے اور پھر رات کو آٹھ رکعت قیام اللیل (تراویح) اور
آخر میں وتر پڑھے، تو کیا یہ عمل سنت کے مطابق ہے؟
جواب: آپ رمضان میں عشاء کے بعد چار رکعت پھر دوبارہ
آٹھ رکعت، ساتھ ہی وتر کی نماز پڑھیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور اگر اس سے زیادہ
بھی پڑھتے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ رات کی نماز نفل نماز ہے جو جس قدر پڑھے
اتنا اجر ہے بلکہ آخری عشرہ میں اور شب قدر میں بکثرت عبادت پر اجتہاد کرنا چاہیے۔
سوال:اگر گھر میں اکیلے تراویح پڑھ رہے
ہوں تو کیا عشاء کی نماز کے بعد کچھ وقفہ کر کے، مثلاً آدھے یا ایک گھنٹے بعد
تراویح پڑھ سکتے ہیں؟ اور کیا یہ ترتیب درست ہے کہ عشاء اور تراویح کے بعد کچھ دیر
آرام کر کے دوبارہ قیام اللیل کیا جائے اور آخر میں وتر پڑھے جائیں؟
جواب: عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر فجر کی نماز تک
قیام اللیل کرنے کا وقت ہوتا ہے، اس دوران آدمی کبھی بھی قیام کر سکتا ہے، اس میں
کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ کوئی عشاء کی نماز کے فوراً بعد پڑھے یا کوئی کچھ دیر کے
بعد پڑھے یا کوئی رات کے آخری حصے میں پڑھے ان سب صورتوں میں کوئی مسئلہ نہیں
ہے۔نیزعشاء کی نماز کے کچھ دیر کے بعد تراویح پڑھنا پھر دوبارہ قیام اللیل کرنا
اور وتر پڑھنا درست ہے۔
سوال:ایک لڑکی ہے جس کے والد فوت ہو چکے
ہیں اور اس کا بھائی بھی چھوٹا ہے، وہ سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی ہے اور اس کی شادی
بھی نہیں ہوئی۔ کیا اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
جواب:جو یتیم لڑکی اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی ہے اس
کو زکوۃ دے سکتے ہیں کیونکہ اس کا اصل ذمہ دار یعنی باپ نہیں ہے۔
سوال: ایک خاتون ہیں جن کے پانچ بچے ہیں،
شوہر کی آمدنی صرف گھر کے خرچ تک محدود ہے اور اکثر قرض لینا پڑتا ہے۔ ان کے پاس
نصاب کے برابر سونا یا چاندی بھی نہیں ہے۔ کیا انہیں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
جواب:وہ خاتون
جس کے کئی بچے ہیں اور شوہر بنیادی ضرورت پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے،
صورتحال یہ ہے کہ وہ علاج اور بنیادی ضرورت کے لیے محتاج ہے تو ایسے حالات میں اس
کی محتاجگی دور کرنے کے لیے زکوۃ دے سکتے ہیں۔
سوال:اگر ہم رمضان کی طاق راتوں میں صدقہ
الگ الگ نکال کر رکھ لیں اور بعد میں کسی ایک مستحق کو دے دیں تو کیا ہمیں طاق
راتوں میں صدقہ دینے کا اجر ملے گا یا ہر طاق رات میں صدقہ اسی وقت دینا ضروری ہے؟
جواب:جب صدقہ دینا ہو اسی وقت نکال کر مستحق کو دے دیں
یعنی صدقہ کو الگ کرکے کسی جگہ جمع کرکے نہ رکھیں بلکہ دینے کی جب نیت پیدا ہو
جائے اسی وقت دیدیں۔اور جتنی استطاعت ہو اتنا صدقہ کریں، آپ کے لیے یا کسی کے لیے
ضروری نہیں ہے کہ ہر رات صدقہ کرے یا ہر طاق رات میں صدقہ کرے بلکہ یہ آدمی کی
استطاعت اور اپنی چاہت پر منحصر ہے۔اور پھر اللہ تعالی نیت کے مطابق اجر و ثواب
دیتا ہے یعنی بندہ روزانہ صدقہ کرنا چاہتا ہے مگر اس کی استطاعت نہیں ہے تو اللہ
اس کی نیت کے مطابق اجر دے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ ہر رات صدقہ دینے کی فکر نہ کریں
بلکہ حسب استطاعت صدقہ کریں اور اپنے صدقہ کے اندر زیادہ سے زیادہ اخلاص پیدا
کریں۔ کسی بھی عمل میں جس قدر اخلاص ہوگا اتنا اجر اللہ تعالی دیتا ہے۔ اگر کوئی
روزانہ صدقہ کرے اور اس میں اخلاص نہ ہو تو اسے ثواب نہیں ملے گا۔
سوال:وتر کی نماز میں امام صاحب ایک سجدہ
بھول گئے۔ سلام سے پہلے انہوں نے وہ سجدہ کیا اور فوراً سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر
دیا۔ کیا ان کا یہ طریقہ درست تھا؟
جواب:نماز کی ہر رکعت میں دو سجدہ کرنا نماز کا رکن ہے۔
اگر کوئی شخص کسی رکعت میں ایک ہی سجدہ کیا تو وہ رکعت نہیں مانی جائے گی، اس رکعت
کے بدلے مزید ایک رکعت پڑھنی پڑے گی۔
اگر امام صاحب کسی رکعت میں سجدہ بھول گئے اور وہ بھولا
ہوا سجدہ سلام پھیرنے کے وقت کرتے ہیں تو اس سجدہ کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ اسے اس
رکعت کو شمار نہیں کرنا ہے، اس کے بجائے مزید ایک رکعت پڑھنی ہے اور سلام کے بعد
سجدہ سہو کرنا ہے۔
سوال:جو بچے حفظِ قرآن کر رہے ہوں اور
عمر تقریباً پندرہ یا سولہ سال ہو، کیا وہ گھر میں عشاء اور تراویح کی نماز
باجماعت پڑھا سکتے ہیں؟ کیا گھر کے مرد حضرات بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب:پندرہ سولہ سال کا بچہ، بچہ نہیں ہے، لڑکا ہے اور
وہ بالغ ہے۔ اس کے اوپر جماعت سے مسجد میں نماز پڑھنا فرض ہے۔ وہ اپنی فرض نماز
چھوڑ کر عورتوں اور گھر والوں کو عشاء کی نماز نہیں پڑھائے گا۔بالغ لڑکا کے اوپر
ضروری ہے کہ وہ مسجد میں حاضر ہو کر اپنی فرض نماز ادا کرے، اسی طرح گھر کے دوسرے
مرد بھی اپنی فرض نماز مسجد میں ادا کرے۔ اپنی فرض نماز ادا کر لینے کے بعد اگر وہ
لڑکا گھر والوں کو تراویح کی نماز کی جماعت کرواتا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے حتی
کہ اگر وہ دوبارہ عورتوں کو عشاء کی نماز بھی پڑھا دیتا ہے تو بھی اس میں حرج نہیں
ہے لیکن اس کو اپنی عشاء کی نماز مردوں کے ساتھ جماعت سے پڑھنا ہے۔ دوبارہ جب
عورتوں کو عشاء پڑھائے گا تو یہ نماز اس لڑکے کے حق میں نفل ہوگی۔
دوسری بات یہ ہے کہ کوئی لڑکا اپنے گھر والوں کو تراویح
کی نماز پڑھا سکتا ہے، اس میں مرد بھی شامل ہو سکتے ہیں، عورتیں بھی شامل ہو سکتی
ہیں لیکن مسجد کی جماعت چھوڑ کر مردوں کا گھر میں نماز پڑھنے میں اجر میں کمی
ہوگی۔
سوال:اگر شوہر سے ہمبستری کے بعد بیوی کو
مکمل تسکین نہ ہو اور شوہر فارغ ہو جائے، یا بیوی کو خواہش ہو مگر شوہر کو نہ ہو،
تو ایسی صورت میں کیا بیوی کا خود اپنے آپ کو فارغ کرنا جائز ہے؟
جواب:غیر فطری طریقے سے شہوت پوری کرنا جائز نہیں ہے۔
یہ طریقہ فطرت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔شوہر کے ساتھ ہمبستری کے مسائل ہیں
تو وہ ڈاکٹر سے رجوع کرے اور اپنا علاج کرائے نیز اس معاملہ میں طبی مشورہ بھی لے
کہ میاں بیوی کے ازدواجی مسائل کو کیسے حل کیا جائے لیکن ہمبستری فطری طریقے پر ہی
ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ کا یقینا حل ہوگا اور اسے طب کی روشنی میں حل کیا جائے۔
سوال:اگر روزے کی حالت میں ڈِرِپ،
انجیکشن یا کینولا لگایا جائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:روزہ کی حالت میں غذائی انجیکشن لگانے سے روزہ ٹوٹ
جاتا ہے لیکن اگر غذائی انجیکشن نہ ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے اپنے انجیکشن
کے بارے میں اپنے طبیب سے پوچھ لیں کہ یہ کس قسم کا انجیکشن ہے۔
سوال:کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نقاب یا فیس
ماسک پہن کر نماز نہیں ہوتی۔ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب:نماز کی حالت میں چہرہ ڈھکنے کی ممانعت ہے لیکن اس
میں عورتوں کا مسئلہ مختلف ہے۔ عورت ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں اجنبی مرد ہوتو وہ
چہرہ ڈھک کر نماز پڑھے گی لیکن اجنبی مرد نہ ہوتو چہرہ کھول کر نماز پڑھ سکتی ہے
اور فیس ماسک لگانے میں کوئی حرج نہیں اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو مثبت انداز میں تبصرہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔